وَبِاعْتِبَارِ مَعْنَى الظَّرْفِيَّةِ قُلْنَا إِذَا حَلَفَ عَلَى فِعْلٍ وَأَضَافَهُ إِلَى زَمَانٍ أَوْ مَكَانٍ فَإِنْ كَانَ الْفِعْلُ مِمَّا يَتِمُّ بِالْفَاعِلِ يُشْتَرَطُ كَوْنُ الْفَاعِلِ فِي ذَلِكَ الزَّمَانِ أَوْ الْمَكَانِ وَإِنْ كَانَ الْفِعْلُ يَتَعَدَّى إِلَى مَحَلٍّ يُشْتَرَطُ كَوْنُ الْمَحَلِّ فِي ذَلِكَ الزَّمَانِ وَالْمَكَانِ لِأَنَّ الْفِعْلَ إِنَّمَا يَتَحَقَّقُ بِأَثَرِهِ وَأَثَرُهُ فِي الْمَحَلِّ۔ کلمہ "فی" کی بحث پڑھ رہے ہیں آپ بھئی۔ صاحب کتاب نے آپ کو بتلایا کہ "فی" ظرفیت کے لیے آیا کرتا ہے، اور یہ استعمال ہوتا ہے ظرف زمان میں بھی، ظرف مکان میں بھی، اور فعل کے اندر بھی بھئی۔ ظرف زمان پر اگر یہ داخل ہو مولانا، تو اس صورت میں آپ نے پڑھا، اختلاف ہے صاحبین کا اور امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا۔ امام صاحب فرماتے ہیں جب "فی" لفظوں میں ذکر ہوگا اور ظرف زمان پر داخل ہو اور لفظوں میں ذکر ہو، تو وہ ظرف زمان کیا بنے گا ماقبل کے لیے؟ ظرف بنے گا۔ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ وہ کیا بنے گا ماقبل کے لیے؟ معیار بنے گا، معیار بنے گا۔ اور اسی طرح اگر "فی" داخل ہو مکان پر بھئی، تو اگر وہ ایسی چیز کے ساتھ ذکر ہو جو کسی مکان کے ساتھ خاص نہیں ہوتی، تو اس صورت میں "فی" کا معنی ظرفیتِ لغو چلا جائے گا۔ خاوند نے بیوی سے کہا: "أَنْتِ طَالِقٌ فِي مَكَّةَ" یا "أَنْتِ طَالِقٌ فِي الدَّارِ"۔ تو اس صورت میں بھئی طلاق تو ایسی چیز ہے جس میں کسی مکان کے ساتھ تخصیص نہیں آتی بھئی۔ تو اس عورت کو جہاں کہیں بھی ہو، اسے فوراً طلاق ہو جائے گی۔ مکہ میں یا دار میں ہونا اس کا ضروری نہیں، جہاں بھی ہو بھئی طلاق ہو جائے گی۔ اس لیے کہ طلاق میں مکان سے تخصیص نہیں آتی بھئی، کہ ایک جگہ میں تو طلاق ہو، باقی جگہوں میں نہ ہو، ایسا نہیں ہے۔ وَبِاعْتِبَارِ مَعْنَى الظَّرْفِيَّةِ، اب یہاں سے ایک اور بات بتلانا چاہتے ہیں کہ بھئی "فی" کو آپ زمانے یا مکان پر جب داخل کریں، تو ماقبل فعل کو دیکھیں بھئی، جی، فعل کو دیکھنا پڑے گا۔ فعل کے ساتھ "فی" کو استعمال کیا ہے بھئی، اور کس پر داخل ہو رہا ہے؟ ظرف زمان یا ظرف مکان پر بھئی۔ تو کہتے ہیں فعل دو قسم پر ہے۔ ایک وہ فعل ہے جو فاعل کے ساتھ تام ہو جاتا ہے۔ ایک وہ فعل ہے جو فاعل کے ساتھ تام نہیں ہوتا، بلکہ مفعول کے وجود کا بھی تقاضا کرتا ہے بھئی۔ فعل کتنی قسم پر ہے بھئی؟ دو۔ ایک وہ فعل ہے جو کس پر تام ہو جاتا ہے؟ فاعل پر تام ہو جاتا ہے، پورا ہو جاتا ہے، مفعول کے وجود کی اسے ضرورت نہیں، مفعول کے وجود کی، اور ایک وہ فعل ہے جو فاعل پر تام نہیں ہوتا، بلکہ کس کا تقاضا کرتا ہے؟ مفعول کا تقاضا کرتا ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی؟ جی۔ مثلاً گالی دینا ہے۔ گالی دینا، یہ میں مثلاً ایک کیا ہے؟ ایک شخص نے زید کو گالی دی۔ کیا کہتا ہے وہ؟ جی، شَتَمْتُ زَيْدًا، کس کو گالی دی میں نے؟ زید کو۔ تو اب یہ فعل مولانا، یہ زید کے وجود پر موقوف نہیں۔ زید ہوگا تو گالی ہوگی، زید نہیں تو گالی بھی نہ ہو، ایسا نہیں۔ بھئی زید آپ کے پاس ہو یا نہ ہو، آپ گالی دیں تو فعل پایا جائے گا یا نہیں پایا جائے گا؟ گالی دینا تو پایا جائے گا بھئی۔ زید چاہے کراچی میں بیٹھا ہے، آپ یہاں گالی دیں تو فعل پایا گیا یا نہیں پایا گیا؟ آپ کہہ سکتے ہیں شَتَمْتُ زَيْدًا، میں نے زید کو گالی دی۔ اور ایک وہ فعل ہے جو بغیر مفعول کے وجود کے پایا ہی نہیں جا سکتا، مثلاً ضرب ہے۔ ضَرَبْتُ زَيْدًا، یہ اسی وقت ہوگی ضرب جبکہ زید پر ضرب واقع ہو۔ اگر زید کراچی میں ہے، تو یہاں آپ ضرب کا فعل کر سکتے ہیں زید پر؟ زید پر ضرب کا فعل واقع ہی نہیں کر سکتے بھئی، صورت سمجھ میں آئی؟ تو دیکھو ضَرَبْتُ زَيْدًا اب صحیح نہیں، کیونکہ یہ ضرب ایسا فعل ہے جس کا، جو کس کا تقاضا کرتا ہے؟ مفعول کا تقاضا کرتا ہے، مفعول کے پائے جانے کے بغیر اس کا، اس کے وجود کا تحقق نہیں ہو سکتا، یہ پایا نہیں جا سکتا۔ یہ بات سمجھ میں آگئی یہاں تک بھئی؟ تو اب ان دو مثالوں سے آپ کو یہ بھی پتہ چل گیا کہ یہ وہ نحوی فعلِ لازم اور فعلِ متعدی کی بات نہیں کر رہا، کیونکہ شَتَمْتُ زَيْدًا، یہ فعلِ لازم تو نہیں ہے، زَيْدًا کیا بن رہا ہے شَتَمْتُ کے لیے؟ مفعول بن رہا ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ وہ نحوی فعلِ لازم نہیں ہے کہ جس میں مفعول آتا ہی نہیں ہے، جس میں مفعول نہیں نہیں، وہ مراد نہیں ہے۔ بس ایسا فعل جو اپنے وقوع میں مفعول کا محتاج نہ ہو، چاہے لفظوں کے اعتبار سے اس کا مفعول آتا ہو۔ لفظوں کے اعتبار سے، تو شَتَمْتُ زَيْدًا یہاں مفعول لفظوں کے اعتبار سے تو آ رہا ہے، لیکن یہ گالی دینا زید کے وجود پر موقوف نہیں۔ اور ایک ہے ضَرَبْتُ زَيْدًا، یہ کیا ہے؟ اس کا وجود زید کے وجود پر، زید ہوگا تو ضرب پائی جائے گی، زید نہیں تو ضرب ضَرَبْتُ زَيْدًا بھی زید کی پٹائی، زید، آپ کہہ بھی نہیں سکتے کہ میں نے زید کی پٹائی کی تھی بھئی۔ تو معلوم ہوا وہ نحوی فعلِ لازم اور فعلِ متعدی مراد نہیں ہیں بھئی۔ تو اب اگر فعل ایسا ہو جو فاعل پر تام ہو جاتا ہے اور اس کی اضافت ہو جائے زمانے یا مکان کی طرف "فی" کے ذریعے، اگر فعل کونسا ہو بھئی؟ جو کس پر تام ہو جائے؟ فاعل پر تام ہوتا ہو، اور اس کی نسبت کس کی طرف کی جائے؟ زمانے یا مکان کی طرف، تو کہتے ہیں شرط لگائی جائے گی فاعل کے اس زمانے یا مکان میں ہونے کی، فعل کس قسم کا ہے؟ جو صرف کس پر پورا ہو رہا ہے؟ فاعل پر، اور اس کی اضافت کس کی طرف ہو جائے؟ زمانے یا مکان کی طرف، تو کس کا اس زمانے یا مکان میں ہونا ضروری؟ فاعل کا اس زمانے یا مکان میں ہونا ضروری ہوگا، اور اگر فعل ایسا ہے کہ جس کے، جس کا وجود کس پر موقوف ہے؟ مفعول پر، اور اس فعل کی اضافت ہو جائے زمانے یا مکان کی طرف، تو اب اس مفعول کا اس زمانے یا مکان میں ہونا ضروری ہوگا بھئی، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ دیکھیے بھئی، ساری یہ بات متن میں آ رہی ہے: وَبِاعْتِبَارِ مَعْنَى الظَّرْفِيَّةِ، اور ظرفیت کے معنی کا اعتبار کرتے ہوئے، قُلْنَا، ہم کہتے ہیں: إِذَا حَلَفَ عَلَى فِعْلٍ، اگر کسی نے قسم اٹھائی کسی فعل پر، وَأَضَافَهُ إِلَى زَمَانٍ أَوْ مَكَانٍ، اور اس کی اضافت کر دی، نسبت کر دی، إِلَى زَمَانٍ أَوْ مَكَانٍ، زمانے یا، فَإِنْ كَانَ الْفِعْلُ مِمَّا يَتِمُّ بِالْفَاعِلِ، پس اگر فعل ان افعال میں سے تھا جو تام ہو جاتا ہے کس کے ساتھ؟ فاعل کے ساتھ، جو تام ہو جاتے ہیں ان افعال میں سے ہے، يُشْتَرَطُ كَوْنُ الْفَاعِلِ فِي ذَلِكَ الزَّمَانِ أَوْ الْمَكَانِ، تو شرط لگائی جائے گی فاعل کے اس زمانے یا مکان میں ہونے کی، کہ فاعل کو اس زمانے یا مکان میں ہونا چاہیے۔ وَإِنْ كَانَ الْفِعْلُ يَتَعَدَّى إِلَى مَحَلٍّ، اور اگر فعل متعدی ہوتا ہے کسی محل کی طرف، مراد کیا ہے؟ مفعول، اگر فعل متعدی ہوتا ہے کسی مفعول کی طرف، یعنی اس فعل کا وجود موقوف ہے کس پر؟ مفعول کے وجود پر، يُشْتَرَطُ كَوْنُ الْمَحَلِّ فِي ذَلِكَ الزَّمَانِ وَالْمَكَانِ، تو شرط لگائی جائے گی محل کے اس زمانے یا مکان میں ہونے کی، اس محل، یعنی اس مفعول کے اس زمانے یا مکان میں ہونے کی شرط لگائی جائے گی۔ کیوں؟ کہتے ہیں: لِأَنَّ الْفِعْلَ إِنَّمَا يَتَحَقَّقُ بِأَثَرِهِ، اس لیے کہ فعل جو ہے، اس کا تحقق ہوتا ہے، وہ پایا جاتا ہے، بِأَثَرِهِ، اپنے اثر کے ساتھ بھئی، فعل اپنے اثر کے ساتھ پایا جاتا ہے، بات سمجھ میں آئی یہاں تک؟ فعل اگر کس کے ساتھ تام ہوتا ہے؟ صرف فاعل کے ساتھ، تو ایک شخص کسی ایسے فعل پر قسم اٹھا لیتا ہے اور زمانے یا مکان کی طرف نسبت کرتا ہے، تو کس کا اس زمانے یا مکان میں ہونا شرط ہوگا؟ فاعل کا، اور اگر فعل ایسا ہے جو مفعول کا تقاضا کرتا ہے، مفعول کے بغیر اس کا وجود نہیں پایا جا سکتا، اور کسی شخص نے ایسے فعل پر قسم اٹھا لی اور اس کی نسبت کس کی طرف کر دی؟ زمانے یا مکان کی طرف، تو اس مفعول کا اس زمانے یا مکان میں ہونا ضروری، کیوں؟ اس کی کیا وجہ ہے؟ وجہ بتلا رہے ہیں، کہتے ہیں: لِأَنَّ الْفِعْلَ إِنَّمَا يَتَحَقَّقُ بِأَثَرِهِ، اس لیے کہ فعل جو ہے، وہ پایا جاتا ہے اپنے اثر کے ساتھ ہی، اپنے اثر کے ساتھ، بھئی دیکھو، اثر، فعل کا دارومدار اثر پر ہے، اثر بدلے گا تو فعل بھی بدل جائے گا۔ فعل کا دارومدار کس پر ہے؟ اثر پر ہے، جو اس کا اثر ظاہر ہوگا، اگر اثر بدلے گا تو فعل بھی بدل جائے گا، اس کا نام بدل جائے گا، دیکھیے مولانا! آپ نے ایک شخص کو جوتا لگایا بھئی، سمجھ میں آیا؟ کوئی حکومت کا آدمی تھا، آپ نے اس کو جوتا لگایا، وزیر تھا بھئی، وزیر، بڑا وزیر، سمجھ میں آیا؟ اور، اور جوتے سے تسلی نہیں ہوئی، پھر آپ نے ایک لاٹھی سے پکڑ کر اس کی پٹائی کی بھئی، آپ اگر وہ زخمی، خون وغیرہ نہیں نکلا، نہیں، اگر لاٹھی سے آپ نے پٹائی کی، تو یہ فعل کیا کہلائے گا؟ ضرب، کیا کہلائے گا؟ ضرب کہلائے گا۔ اور اب اگر اس کا خون بھی نکل آیا، تو یہی فعل کیا کہلائے گا؟ شج کہلائے گا، کیا کہلائے گا؟ شج، شج، زخمی کرنا، سمجھ میں آیا؟ سر پہ آپ نے دو تین لاٹھیاں برسائیں، خون کے فوارے چھوٹ پڑے، اب کیا کہلائے گا؟ یہی فعل مولانا، فعل وہی ہے، اثر بدلا تو نام بھی بدل گیا، شج، زخمی کرنا، شج زخمی، زخمی کرنے کو کہتے ہیں، اور یا سر پہ زخم لگانا یا عام زخم میں بھی استعمال ہو جاتا ہے بھئی، سر پر جو زخم ہو اس کو شجة کہتے ہیں بھئی۔ تو اگر اب یہی فعل تھا، اب خون بھی نکل پڑا، زخمی ہو گیا، اثر بدلا فعل کا تو نام بھی، اور اگر آپ نے ذرا زور دار لگائی تھیں، تھوڑی دیر بعد اس کی روح بھی پرواز کر گئی، اور دنیا کو اس سے نجات ملی، تو اب یہی فعل قتل کہلائے گا۔ اب یہی فعل کیا کہلائے گا؟ قتل کہلائے گا۔ تو دیکھا! وہی فعل ہے، اثر بدل رہا ہے تو نام بھی بدل رہا ہے، وہی پانچ لاٹھیاں، لاٹھیاں آپ برساتے ہیں، خون نہیں نکلا تو کیا کہلائے گا؟ ضرب، اور اگر خون نکلا بھئی، زخمی ہو گیا، تو یہ کیا کہلائے گا؟ شج کہلائے گا، اور اگر اس سے اس کی منحوس روح بھی پرواز کر گئی، تو اب یہ کیا کہلائے گا؟ قتل کہلائے گا بھئی، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو کہتے ہیں اس لیے کہ ف، لِأَنَّ الْفِعْلَ إِنَّمَا يَتَحَقَّقُ بِأَثَرِهِ، اس لیے کہ فعل وہ پایا جاتا ہے اپنے اثر کے ساتھ، وَأَثَرُهُ فِي الْمَحَلِّ، اور اس کا اثر کس میں ہوتا ہے؟ محل میں ہوگا، وہ مفعول میں ہوگا مولانا، یہ خون کا نکلنا، روح کا نکلنا، یہ سارے، یہ درد کا پایا جانا، ضرب میں صرف درد پایا گیا، زخم کے ہونے میں خون بھی نکلا، اور تیسرا کیا تھا؟ روح بھی نکل گئی، تو یہ اثر کس میں پایا جا رہا ہے فعل کا؟ مفعول کے اندر پایا جا رہا ہے، اس لیے وہ فعل جو اپنے وجود میں مفعول کا تقاضا کرتا ہے، اس پر کسی نے قسم اٹھائی اور زمانے یا مکان کی طرف نسبت کی، تو مفعول کی کیا کیا جائے گا؟ پایا جانا ضروری ہے، تو فعل، کیونکہ یہ فعل کا تعلق اس، فعل کا تحقق اس کے اثر سے ہوتا ہے، اور وہ اثر مفعول میں پایا گیا، تو رعایت بھی کس کی رکھی جائے گی؟ مفعول کی رکھی جائے گی کہ وہ اس زمانے یا مکان میں ہونا چاہیے، یہ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ آگے مسئلہ آسان ہے، مثالیں ہیں بڑی آسان بھئی: قَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى فِي الْجَامِعِ، امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں جامع کبیر کے اندر: إِذَا قَالَ، کسی شخص نے اگر کہا: إِنْ شَتَمْتُكَ فِي الْمَسْجِدِ فَكَذَا، اگر میں نے تجھے گالی دی مسجد میں فَكَذَا تو ایسا ہو، یعنی مثلاً کہتا ہے: فَعَبْدِي حُرٌّ، اگر میں نے تجھے گالی دی، شتم کس کو کہتے ہیں؟ گالی دینا، اگر میں نے تجھے گالی دی مسجد میں فَكَذَا، فَعَبْدِي حُرٌّ، تو میرا غلام آزاد ہے، فَشَتَمَهُ، پس اس متکلم نے اس شخص کو گالی دے دی، وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ، اس حال میں کہ گالی دینے والا مسجد میں ہے، وَالْمَشْتُومُ، جس کو گالی دی گئی، شاتم گالی دینے والا، مشتوم جس کو گالی دی، وَالْمَشْتُومُ خَارِجَ الْمَسْجِدِ، اور مشتوم کیا تھا؟ جی، اور مشتوم گالی، مسجد سے خارج تھا، يَحْنَثُ، تو مشتوم مسجد سے باہر تھا، يَحْنَثُ، وہ شخص کیا ہو جائے گا؟ حانث، کیوں؟ اس نے کونسا فعل ذکر کیا؟ گالی دینے کا، اور گالی دینے کا فعل کیا ہے؟ صرف فاعل پر ہی تام ہو جاتا ہے، اور جو وہ فعل جو فاعل پر تام ہو جائے، اس کی نسبت زمانے یا مکان کی طرف ہو، تو کس کا اس زمانے یا مکان میں ہونا شرط ہوگا؟ فاعل کا ہونا، تو لہٰذا اس نے کہا تھا: إِنْ شَتَمْتُكَ فِي الْمَسْجِدِ، فِي الْمَسْجِدِ کی طرف اضافت کر دی اس فعل کی، تو اب مسجد میں کس کا ہونا ضروری؟ فاعل ہوگا پھر حانث ہوگا، اگر مشتوم تو مسجد میں ہے، شاتم مسجد سے خارج ہے، پھر حانث نہیں، تو کہتے ہیں وہ مسجد میں تھا اور مشتوم مسجد سے باہر تھا، يَحْنَثُ، وہ حانث ہو جائے گا، وَلَوْ كَانَ، اگر اس کا عکس ہوا، وَلَوْ كَانَ الشَّاتِمُ خَارِجَ الْمَسْجِدِ، اگر شاتم کیا رہا؟ مسجد سے باہر تھا، وَالْمَشْتُومُ فِي الْمَسْجِدِ، اور مشتوم مسجد میں تھا، لَا يَحْنَثُ، پھر حانث نہیں، کیونکہ اعتبار کس کا ہے اس میں؟ فاعل کا ہے، اور وہ مسجد میں نہیں ہے۔ وَلَوْ قَالَ إِنْ ضَرَبْتُكَ أَوْ شَجَجْتُكَ فِي الْمَسْجِدِ فَكَذَا، اگر اس کے بجائے اس نے دوسرا فعل استعمال کیا بھئی جس کا وجود کس پر موقوف ہے؟ مفعول پر، یوں کہتا ہے: اگر میں نے تیری پٹائی کی، أَوْ شَجَجْتُكَ، یا میں نے تجھے زخمی کیا، فِي الْمَسْجِدِ، کس میں؟ مسجد میں، فَكَذَا، تو ایسا ہو، مثلاً یعنی فَعَبْدِي حُرٌّ مثلاً کہتا ہے، میرا غلام آزاد ہے، يُشْتَرَطُ كَوْنُ، اب بتائیے بھئی، کس کا مسجد میں ہونا شرط ہے حانث ہونے کے لیے؟ مفعول، مفعول کا، فَكَذَا يُشْتَرَطُ كَوْنُ الْمَضْرُوبِ وَالْمَشْجُوجِ فِي الْمَسْجِدِ، تو مضروب اور مشجوج کا مسجد میں ہونے کی شرط لگائی، مضروب پہلی صورت میں جب اس نے کہا: إِنْ ضَرَبْتُكَ فِي الْمَسْجِدِ فَعَبْدِي حُرٌّ، تو اب مضروب کے مسجد میں ہونے کی شرط لگائی جائے گی حانث ہونے کے لیے، یا دوسری صورت میں اگر اس نے شج کا فعل استعمال کیا یوں کہا: إن شججتك في المسجد فعبدي حر، تو اب اس مشجوج کے مسجد میں ہونے کی شرط لگائی جائے گی۔ عبارت سمجھ میں آ رہی ہے؟ جی۔ ولا يشترط كون الضارب والشاكي فيه، ضارب اور شاج، پٹائی کرنے والے اور زخمی کرنے والے کی شرط مسجد میں ہونے کی شرط نہیں لگائی۔ ولا يشترط كون الضارب والشاكي فيه، اور شرط نہیں لگائی جائے گی ضارب اور شاج کی مسجد میں ہونے کی۔ ولو قال: إن قتلتك في يوم الخميس فكذا، اگر کسی نے یوں کہا: اگر میں نے تجھے قتل کر دیا في يوم الخميس جمعرات کے دن فكذا، تو ایسا ہو، یعنی فعبدي حر مثلاً। اگر میں نے تجھے جمعرات کے دن قتل کر دیا تو میرا غلام آزاد ہے۔ فجرحه قبل يوم الخميس، بھئی! اب فتویٰ، اب مسئلہ آپ مجھے بتلائیں۔ ایک آدمی نے دوسرے کو کیا کہا، "اگر میں نے تجھے جمعرات کو قتل کر دیا تو میرا غلام آزاد ہے"؟ غلام آزاد ہے۔ اب یہ قتل کرنا کیسا فعل ہے؟ مفعول پر موقوف ہے یا نہیں بھئی؟ جی؟ مفعول پر موقوف ہے۔ مفعول ہوگا تو مقتول کوئی ہوگا تو قتل پایا جائے گا، ورنہ تو قتل ہی نہیں۔ تو لہذا اب اعتبار بھی کس کا کیا جائے گا؟ مفعول کا اعتبار کیا جائے گا۔ لہذا اب اگر اس نے زخمی تو پہلے کیا تھا، پیر، منگل کو آپ نے زبردست جوتے لگائے تھے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ اور وہ وزیرِ مردار کس دن ہوا بھئی؟ جمعرات کے دن مردار ہوا بھئی۔ تو اب آپ کیا فتویٰ دیں گے؟ حانث ہو گیا یا نہیں ہوا؟ حانث ہو گیا، کیونکہ قتل کس دن پایا گیا؟ جمعرات کے دن پایا گیا۔ اس کی روح کس دن نکلی؟ جمعرات کے دن بھئی۔ تو قتل اس دن پایا گیا۔ کیونکہ قتل کس کو کہتے ہیں؟ کہ روح نکلے۔ اچھا بھئی! فجرحه قبل يوم الخميس قبل يوم الخميس، پس اس کو زخمی کر دیا جمعرات کے دن سے پہلے ہی، ومات يوم الخميس، اور وہ مر گیا خمیس جمعرات کے دن، يحنث، تو وہ کیا ہو جائے گا؟ حانث ہو جائے گا۔ ولو جرحه يوم الخميس ومات يوم الجمعة لا يحنث، اور اگر اس کو جمعرات کے دن زخمی کیا اور وہ جمعے کے دن مر گیا لا يحنث، تو یہ حانث نہیں ہو گا، کیوں؟ کیونکہ جمعرات کے دن تو قتل کرنا نہیں پایا گیا، صرف کیا پایا گیا ہے؟ زخمی کرنا پایا گیا ہے، اور قتل تو جمعے کے دن پایا گیا بھئی۔ ولو دخلت الكلمة في الفعل تفيد معنى الشرط، یہاں مولانا "في" کا وہ دوسرا معنی بیان کر رہے ہیں کہ "في" کبھی کس معنی کے لیے آتا ہے؟ شرط کے معنی کے لیے۔ اور یہ کب آئے گا؟ جب یہ کس پر داخل ہو؟ فعل پر داخل ہو۔ انہوں نے کہا تھا نا زمانے پر داخل ہوتا ہے یا مکان پر یا فعل پر، اور فعل سے کیا مراد تھا؟ فعلِ لغوی یعنی مصدر مراد تھا بھئی۔ تو اب اگر مصدر پر داخل ہو تو پھر "في" کس چیز کا فائدہ دے گا؟ شرط کا فائدہ دے گا۔ کیونکہ جیسے ظرف مظروف کے اندر مولانا مقارنت ہوتی ہے، اتّصال ہوتا ہے، اسی طرح شرط اور مشروط کے اندر بھی کیا ہوتا ہے؟ اتّصال اور مقارنت ہوتی ہے۔ تو کہتے ہیں ولو دخلت الكلمة في الفعل، اور اگر کلمہ یہ کلمۂ "في" داخل ہو جائے فعل میں، تفيد معنى الشرط، تو یہ فائدہ دے گا شرط کے معنی کا۔ قال محمد رحمه الله تعالى، امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: إذا قال، جب کسی نے کہا بیوی سے: أنت طالق في دخولك الدار في دخولك الدار، "تجھ کو طلاق ہے في دخولك الدار"۔ "في" لایا اور "دخول" مصدر پر داخل کیا تو یہ شرط کے معنی کا فائدہ دے گا اور کیا معنی کریں گے؟ اگر تو گھر میں داخل ہوئی، شرط والا معنی کر لیں گے۔ تو أنت طالق إن دخلت الدار، "تجھ کو طلاق ہے اگر تو گھر میں داخل ہوئی"، گویا اس نے یوں کہا۔ تو اس صورت میں بمعنی الشرط، کس معنی میں ہوگا؟ شرط کے معنی میں ہوگا۔ فلا يقع الطلاق قبل دخول الدار، لہذا گھر میں داخل ہونے سے پہلے طلاق واقع نہیں ہوگی۔ ولو قال: أنت طالق في حيضتك إن كانت في الحيض، اگر بیوی سے یوں کہا کسی نے: أنت طالق في حيضتك، تو حیضۃ کیا ہے؟ مصدر ہے اور اس مصدر پر اس نے کیا داخل کیا؟ "في" داخل کیا۔ اور "في" مصدر پر داخل ہو تو کس معنی میں ہوگا؟ شرط کے معنی کا فائدہ دے گا، تو گویا اس نے یوں کہا: أنت طالق إن حضت، "تجھ کو طلاق ہے اگر تجھے حیض آیا"۔ إن حضت، اگر تجھے حیض آیا۔ تو کہتے ہیں اس وقت اگر وہ حیض میں ہوئی تو فوراً طلاق ہو جائے گی اور اگر اس وقت حیض میں نہیں ہے تو جیسے ہی حیض شروع ہوگا، حیض آئے گا فوراً اسے کیا ہو جائے گی؟ طلاق ہو جائے گی۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو "في" شرط کے معنی کا فائدہ دے رہا ہے۔ ولو قال: أنت طالق في حيضتك، تجھے طلاق ہے حیض کے اندر، إن كانت في الحيض، اگر وہ عورت حیض ہی میں تھی، وقعت الطلاق في الحال، طلاق فی الحال واقع ہو جائے گی۔ وإلا، ورنہ، يتعلق الطلاق بالحيض، ورنہ طلاق معلق ہو جائے گی کس کے ساتھ؟ حیض کے ساتھ، جیسے ہی حیض آئے گا فوراً کیا ہو جائے گی؟ طلاق۔ وفي الجامع، اور اسی طرح امام محمد کی کتاب جامعِ کبیر کے اندر ہے: لو قال: أنت طالق في مجيء يوم، کسی خاوند نے بیوی سے کہا: أنت طالق تجھے طلاق ہے في مجيء يوم دن کے آنے میں، دن کے آنے میں۔ تو یہاں "في" کو "مجيء" پر داخل کیا، فعل پر، مصدر پر، اور مصدر پر داخل ہو تو "في" کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ شرط کا۔ گویا اس نے یوں کہا: أنت طالق إن جاء يوم، أنت طالق تجھے طلاق ہے اگر دن آیا۔ اور دن کہتے ہیں طلوعِ فجر سے طلوعِ فجر سے غروبِ آفتاب تک بھئی۔ دن کسے کہتے ہیں؟ تو جیسے ہی اگلا دن آئے گا، شروع ہوگا اس عورت کو فوراً کیا ہو جائے گی؟ طلاق ہو جائے گی۔ تو کہتے ہیں یوں کہا تو لم تطق، وہ عورت کو طلاق نہیں ہوگی، حتى يطلع الفجر، یہاں تک کہ کیا طلوع ہو جائے؟ فجر، کیونکہ فجر طلوع ہوئی تو دن کیا ہوا؟ آ گیا، اور جب دن آیا تو فوراً کیا ہو گئی؟ طلاق۔ ولو قال: في مضي يوم، اگر خاوند نے یوں کہا: أنت طالق في مضي يوم، تجھے طلاق ہے دن کے گزرنے میں۔ "مضي" کا معنی گزرنا۔ تو گویا اس نے یوں کہا: أنت طالق إن مضى يوم، تجھے طلاق ہے اگر دن گزرا، اگر دن گزرا۔ تو "يوم" کا لفظ استعمال کیا۔ تو کہتے ہیں اگر کہ اس شخص نے یہ کلام رات کو کیا ہوگا یا دن کے اندر ہی کیا ہوگا، دو ہی صورتیں ہیں نا؟ یا اس نے یہ کلام کس وقت کیا؟ رات کو، یا کس وقت کیا؟ دن کو۔ تو اس نے کہا ہے: "اگر جب اگر دن گزرا تو تجھے کیا ہے؟ طلاق"، تو "يوم" کا لفظ استعمال کیا۔ اور "يوم" کا لفظ آیا مطلق، والمطلق إذا يطلق يراد به الفرد الكامل، مطلق کا جب بولا جائے تو اس سے کیا مراد ہوتا ہے؟ فردِ کامل مراد ہوتا ہے بھئی۔ تو لہذا یہاں پر دن کا اب جز وغیرہ مراد نہیں ہوگا ادنٰی دن، بلکہ پورا دن مراد ہوگا۔ کیا مراد ہوگا؟ پورا دن مراد ہوگا، پورا دن مراد۔ لہذا اگر رات کو کہا ہے اس نے، کیا کہا؟ "تجھے طلاق ہے اگر دن گزرا"، تو اگلے دن کب ہوگی طلاق؟ جب پورا دن گزر جائے گا اور شام کو آفتاب غروب کرے گا بھئی۔ آفتاب جیسے ہی غروب ہوگا فوراً اس عورت کو کیا ہو جائے گی؟ کیونکہ اس نے رات کو کہا ہے اور اب طلوعِ فجر سے لے کر غروبِ شام تک پورا دن کیا ہوا؟ گزر گیا۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ پورا دن گزر گیا۔ اور اگر اس نے یہ کلام دن کو کہا تھا، مثلاً دوپہر کو کہہ دیا، ظہر کے وقت کہہ دیا، تو اب کہتے ہیں اب غروبِ شام کے وقت اسے طلاق نہیں ہوگی، کیونکہ غروبِ شام تک پورا دن گزرا ہے؟ نہیں۔ ابھی تو آدھا گزرا ہے۔ لہذا آدھا یہ ہو گیا اور اگلے دن بعینہٖ وہی گھڑی آ جائے گی جس میں اس نے کلام کیا تھا تو اب آدھا پچھلا دن اور آدھا یہ والا دن کیا ہو گیا؟ دن پورا ہو گیا، تو پورا دن کے پورے دن کا گزرنا پایا گیا، اب اس وقت عورت کو کیا ہو جائے گی؟ طلاق ہو جائے گی۔ کہتے ہیں: ولو قال: في مضي يوم، اگر کیا کہا: في؟ بھئی! باقی کلام حذف کر دیا، ماقبل اس پہ دلالت کر رہا ہے، یوں کہا: أنت طالق في مضي يوم۔ کہتے ہیں: إن كان ذلك في الليل، اگر یہ کلام رات میں تھا، وقعت الطلاق عند غروب الشمس من الغد، تو طلاق واقع ہو جائے گی غروبِ شمس کے وقت اگلے دن میں سے، اگلے دن جب سورج غروب کرے گا، لوجود الشرط، بوجہ شرط کے وجود کی وجہ سے، شرط کے ہونے پائے، وجودِ شرط پائی گئی مولانا، پورا دن گزر گیا۔ وإن كان في اليوم، اور اگر یہ کلام کس وقت تھا؟ دن میں تھا، تطلق، تو طلاق ہوگی اس عورت کو، حين تجيئ من الغد تلك الساعة، جب آ جائے گی اگلے دن میں سے وہی گھڑی، اگلے دن میں سے جب، جب وہی گھڑی آ جائے گی تو اس عورت کو طلاق ہو جائے گی، کیونکہ اب کیا ہوا ہے؟ پورا دن پایا گیا۔ وفي الزيادات، اور امام محمد رحمہ اللہ کی کتاب زیادات میں ہے: لو قال، اگر کسی نے کہا بیوی سے: أنت طالق في مشيئة الله تعالى، "تجھے طلاق ہے اللہ کی مشیت میں"، أو في إرادة الله تعالى، یعنی "تجھے طلاق ہے اللہ کے ارادے میں"۔ تو "في" کو داخل کیا مشیت پر، یہ بھی مصدر، یا ارادے پر داخل کیا، یہ بھی کیا ہے؟ مصدر، اور طلاق مصدر پر داخل ہو تو کس چیز کا فائدہ دے گی؟ شرط کا فائدہ دے گی، تو گویا اس نے یوں کہا: أنت طالق إن شاء الله تعالى، "تجھے طلاق ہے اگر اللہ، اگر اللہ نے چاہا"، یا "تجھے طلاق ہے إن أراد الله تعالى، اگر اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا"۔ سمجھ میں آیا؟ تو اس نے طلاق کو معلق کر دیا اللہ کی مشیت پر، اللہ کے چاہنے پر، اور اللہ کے ارادے پر، اور اللہ کی مشیت اور ارادے کا علم ہو سکتا ہے؟ اللہ کی مشیت اور ارادے کا علم تو نہیں ہو سکتا، لہذا اب شرط کے پائے جا شرط نہیں پائی گئی مولانا، شرط کا پتہ ہی نہیں بھئی۔ تو جب شرط نہیں پائی گئی تو مشروط بھی نہیں پایا جائے گا، لہذا طلاق واقع نہیں ہوگی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ "إن شاء اللہ" بھئی بڑی تلوار ہے بھئی، یہ کلام کو کیا کر دیتا ہے؟ طلاق کی دي اور ساتھ "إن شاء اللہ" کہہ دیا تو طلاق کیا ہو جائے گی؟ لغو ہو جائے گی، واقع نہیں ہوگی، اس لیے کہ مشیتِ الٰہی کا پتہ نہیں چل سکتا بھئی۔ تو کہتے ہیں: وفي الزيادات لو قال: أنت طالق في مشيئة الله تعالى أو في إرادة الله تعالى كان ذلك بمعنى الشرط، تو یہ کس معنی میں ہوگی؟ شرط کے معنی میں ہوگی، حتى لا تطلق، یہاں تک کہ اس عورت کو طلاق نہیں ہوگی۔ چلیے بھئی! هذا ما أردنا، والله أعلم بحقيقة الكلام۔