LECTURE-22 1 فَصْلٌ: التَّنْوِينُ نُونٌ سَاكِنَةٌ تَتْبَعُ حَرَكَةَ آخِرِ الكَلِمَةِ لَا لِتَأْكِيدِ الفِعْلِ. تنوین مولانا، تنوین کس کو کہتے ہیں؟ نُونٌ سَاكِنَةٌ، ایسا نون ہے جو کیا ہوتا ہے؟ ساکن ہوتا ہے۔ تَتْبَعُ حَرَكَةَ آخِرِ الكَلِمَةِ، جو تابع ہوتا ہے، پیچھے آتا ہے کلمے کی آخری حرکت کے، کلمے کی آخری حرکت کے بعد آتا ہے۔ ضَارِبٌ، جَاءَ زَيْدٌ، دال پر کیا ہے؟ رفع۔ دال پر کیا ہے؟ رفع۔ اور اس رفع کے بعد پھر کیا آرہی ہے؟ نونِ ساکن آرہا ہے۔ یہ کیا کہلاتا ہے؟ تنوین کہلاتا ہے۔ تو آخری جو حرکت کلمے، آخری کلمے کی کلمے کے جو آخری حرکت ہوتی ہے اس کے تابع ہوتا ہے۔ لَا لِتَأْكِيدِ الفِعْلِ، نہ کہ تاکیدِ فعل۔ جی، یہ قید نکال کر مولانا نونِ تاکید کو نکال دیا، نونِ ثقیلہ، خفیفہ کو، نونِ خفیفہ کو نکال دیا کیونکہ وہ بھی کیا ہوتا ہے؟ نونِ ساکن ہوتا ہے اور آخر میں آتا ہے۔ وَهِيَ خَمْسَةُ أَقْسَامٍ، اور نون تنوین جو ہے، یہ پانچ قسم پر ہے۔ الأَوَّلُ لِلتَّمَكُّنِ، پہلی کیا ہے؟ تنوینِ تمکن ہے، وَهُوَ مَا يَدُلُّ، اور وہ وہ ہے جو دلالت کرتی ہے عَلَى أَنَّ الإِسْمَ، اس بات پر كَه أَنَّ الإِسْمَ مُتَمَكِّنٌ، اسم بڑا پکا ہے، بڑا پختہ ہے فِي مُقْتَضَى الإِسْمِيَّةِ، کس میں؟ مقتضائے اسمیت کے اندر، أَيْ أَنَّهُ مُنْصَرِفٌ، یعنی کہ وہ کیا ہے؟ منصرف ہے۔ بھئی دیکھو، غیر منصرف پر کیا تنوین اور کسرہ؟ نہیں۔ کیوں؟ کیونکہ اس کی مشابہت کس سے آگئی؟ فعل کے ساتھ، اور فعل کے اندر بھی کسرہ اور تنوین نہیں، تو اب اسم سے بھی ہم نے جب مشابہت آگئی تو اس میں بھی کسرہ اور تنوین نہ ہونے کا ہم نے حکم لگا دیا۔ لیکن یہ تنوین جس پر آئے، معلوم ہوا اس کی فعل کے ساتھ مشابہت نہیں۔ معلوم ہوا یہ اسم ہونے کے اندر یہ بڑا پکا ہے، مقتضائے اسمیت کے اندر یہ بڑا پکا ہے۔ تو یعنی یہ منصرف ہے، نَحْوُ زَيْدٍ، جیسے زید، یہ زید پر تنوین کون سی ہے مولانا؟ تنوینِ تمکن ہے، جو بتلا رہی ہے کہ یہ غیر منصرف نہیں ہے بلکہ اس میں متمکن ہے۔ وَرَجُلٍ، رجل پر بھی تنوین کون سی ہے؟ تمکن والی، جو بتلا رہی ہے کہ یہ منصرف ہے، غیر منصرف نہیں ہے۔ وَالثَّانِي لِلتَّنْكِيرِ، اور ثانی کیا ہے؟ تنوین بھئی، تنکیر، نکرہ بنانے کے لیے آتی ہے۔ وَهُوَ مَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّ الإِسْمَ نَكِرَةٌ، وہ تنوین ہے جو دلالت کرتی ہے کہ اسم نکرہ ہے، تو وہ تنوین جس اسم پہ آئے گی بتلائے گی وہ نکرہ ہے، جس پہ نہیں آئے گی بتلائے گی کہ وہ نکرہ نہیں، نَحْوُ، اور یہ اسمِ فعل میں آتی ہے، کس میں آتی ہے مولانا؟ اسمِ فعل میں آتی ہے، سمجھ میں آیا؟ صَوت اور اسمِ فعل دونوں میں آتی ہے۔ تو جیسے صَهٍ مولانا، صَهْ کا معنی ہے: خاموش ہوجا ابھی۔ ابھی خاموش ہوجا، چپ کرجا ابھی بس، آپ عربی میں کیا کہیں گے؟ صَهْ۔ اور ایک ہے صَهٍ، تنوین کے ساتھ بھئی، اس کا معنی ہے: کسی وقت تو خاموش ہوجا، کسی وقت تو خاموش ہوجا۔ تو ایک میں ہے: ابھی ابھی خاموش ہوجا، یہ معرفہ ہے، ابھی، اور ایک نکرہ ہے: کبھی کسی، کبھی کسی وقت کیا ہوجا؟ خاموش ہوجا، تو اس میں تعین ہے خاموش کس وقت ہو؟ نہیں۔ تو یہ وہ تنوین، یہ کس نے بتایا مولانا؟ تنوین نے بتایا، کس نے بتایا؟ تو صَهٍ تنوین آجائے تو وہ عام، وہ نکرہ ہے اور تنوین نہ آئے تو وہ نکرہ نہیں بلکہ کیا ہے؟ تو یہ اسمِ فعل اور آواز صَوت وغیرہ میں آتی ہے تنوین، بس یہ تنکیر والی۔ نَحْوُ صَهٍ أَيْ أُسْكُتْ سُكُوتًا مَا فِي وَقْتٍ مَا، یعنی خاموش ہوجا کوئی خاموشی فِي وَقْتٍ مَا، کسی وقت کے اندر، کسی بھی قسم کی خاموشی ہو اور کسی بھی وقت میں ہو، خاموش ہوجا کسی طرح بھئی۔ وَأَمَّا صَهْ، باقی صَهْ جو ہے بِالسُّكُونِ، سکون کے ساتھ، فَمَعْنَاهُ أُسْكُتْ السُّكُوتَ الآنَ، اس کا معنی ہے: خاموش ہوجا ایسا خاموش ہونا الآنَ، جو کیا ہو؟ ابھی ہو، ابھی ہو۔ سمجھ میں آیا؟ تو رَجُلٌ میں کون سی تنوین مولانا؟ تمکن، تنکیر والی نہیں۔ یہ نہ کہنا یہ تنکیر والی ہے۔ کیوں؟ ایک آدمی کا نام رجل رکھ دو، تنوین ختم ہوجائے گی یا پھر بھی رہے گی تنوین؟ تنوین تو پھر بھی، معلوم ہوا اب تو یہ معرفہ بن گیا، اگر یہ تنکیر والی تنوین ہوتی تو پھر نہ آتی، اب تو معرفہ بن گیا اب نہیں آنی چاہیے، اب بھی آرہی ہے، معلوم ہوا یہ تعریف والی تنکیر تنوین نہیں، تنکیر والی تنوین نہیں بلکہ یہ تنوینِ تمکن ہے۔ وَالثَّالِثُ لِلْعِوَضِ، اور ثالث تنوین کون سی ہے؟ عوض، وَهُوَ مَا يَكُونُ عِوَضًا عَنِ المُضَافِ إِلَيْهِ، وہ ہے جو کس کے عوض میں آئے؟ جو عوض ہو مضاف الیہ سے، جیسے حِينَئِذٍ، وَسَاعَتَئِذٍ، وَيَوْمَئِذٍ، اصل میں کیا کہا تھا؟ حِينَ إِذْ كَانَ كَذَا، سَاعَتَ إِذْ كَانَ كَذَا، يَوْمَ إِذْ كَانَ كَذَا، يَوْمَ إِذْ كَانَ كَذَا، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو إِذْ مضاف تھا کس کی طرف؟ كَانَ كَذَا کی طرف، تو كَانَ كَذَا کو حذف کیا اور اس کے عوض میں إِذْ کو کیا دے دی؟ تنوین، تو حِينَئِذٍ ہوا، کیا ہوا؟ اور آپ کو یہ، آپ نے یہ بھی پڑھا تھا مولانا جب إِذْ کی طرف کوئی ظرف مضاف ہوجائے تو اس کو مبنی علی الفتح پڑھنا بھی جائز۔ إِذْ کی طرف کیا ہوجائے کوئی؟ تو دیکھو یہ سَاعَتَ، حِينَ، يَوْمَ، یہ کس کی طرف مضاف ہیں؟ إِذْ کی طرف، اور إِذْ کس کی طرف مضاف تھا؟ جملے کی طرف، اس جملے کو حذف کیا اور إِذْ پر کیا لے آئے؟ تنوین، اور آپ نے پڑھا تھا جو ظرف إِذْ کی طرف مضاف ہو، اس کو مبنی علی الفتح پڑھنا بھی جائز، لہٰذا يَوْمَئِذٍ، یہ یوم پہ بھی آپ کہہ سکتے ہیں یہ اس وقت مبنی علی الفتح میں نے پڑھا ہے۔ یا آپ کہہ سکتے ہیں یہ یوم پر فتحہ کون سا ہے مولانا؟ ظرفیت والا ہے، اعراب ہے، معرب ہے، ہم نے مبنی اس کو نہیں، تو فتحے کی کتنی حالتیں ہوگئیں اس کی؟ دو۔ کیا کہہ سکتے ہیں آپ؟ یہ کون سا فتحہ ہے؟ بناء والا ہے کیونکہ اس کو مبنی علی الفتح بھی پڑھ سکتے ہیں، اور آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ فتحہ، یہ کون سا ہے؟ اعراب والا ہے کیونکہ یہ ظرف ہے اور ظرف کیا ہوتا ہے؟ منصوب، معرب ہوتا ہے، منصوب ہے، اور منصوب ہوتا ہے تو اس پر یہ نصب آیا۔ ہاں، پتہ چلے گا جر، اس پہ مثلاً حِينَ پہ مِنْ آگیا، کیا آگیا؟ اب کیا پڑھنا چاہیے؟ مِنْ حِينِئِذٍ، مِنْ يَوْمِئِذٍ، کیا پڑھنا چاہیے؟ تو مِنْ کیونکہ مِنْ کیا دیتا ہے؟ جر، لیکن آپ فتحہ بھی پڑھ سکتے ہیں، مبنی علی الفتح بھی پڑھ سکتے ہیں، مِنْ يَوْمَئِذٍ، مِنْ حِينَئِذٍ، سمجھ میں آیا؟ تو فرق کس حالت میں آرہا ہے؟ جر والی حالت میں، کیونکہ اعراب کی صورت میں جر آئے گا اور مبنی کی صورت میں، دونوں جائز ہیں۔ لیکن اگر فتحہ ہی پڑھیں آپ تو پھر، فتحہ مِنْ پہلے نہیں ہے، اگر مِنْ، آپ اس کو معرب بھی بنانا چاہتے ہیں تو بھی فتحہ پڑھنا پڑے گا، مبنی بنانا چاہتے ہیں تو بھی کیا پڑھنا پڑے گا؟ فتحہ، تو اس صورت میں پھر دونوں احتمال آگئے اس کے، دونوں ہیں۔ اچھا، تو یا، تو مولانا تو کیا کرتے ہیں؟ کبھی کبھی مضاف الیہ کو حذف کرکے، مضاف کو اس کے عوض میں کیا دے دیتے ہیں؟ تنوین دے دیتے ہیں، جیسے حِينَئِذٍ، اصل میں کیا تھا؟ حِينَ إِذْ كَانَ كَذَا، یاد رکھو بڑی قیمتی بات یہ، کہ یہ جو تنوین مضاف الیہ کے عوض میں آتی ہے یہ ہر جگہ نہیں آئے گی، یہ صرف چار جگہ آئے گی۔ یہ کتنی جگہ آئے گی؟ چار کلموں پر آسکتی ہے، چار قسم کے کلموں پر، بس۔ نمبر ایک: كُلٌّ۔ نمبر دو: بَعْضٌ۔ نمبر تین: أَيٌّ اور أَيَّةٌ۔ اور نمبر چار کیا ہے؟ بعض ظروف، بعض ظروف جیسے یہ إِذْ ہے بھئی، جیسے یہ إِذْ ہے۔ بھئی کتنی جگہ تنوینِ عوض آئے گی؟ اول: كُلٌّ، بھئی کبھی، کبھی آپ عبارت میں پڑھیں گے كُلٌّ، بھئی كُلُّ تو ہمیشہ اضافت کے ساتھ استعمال ہوتا ہے، تنوین کیوں آرہی ہے؟ آپ سمجھ جائیں یہ تنوین کس کے عوض میں آئی ہے؟ مضاف الیہ کے عوض میں، تو كُلُّهُمْ ہے یا كُلُّ وَاحِدٍ ہے، سمجھ میں آیا؟ اور اسی طرح بَعْضٌ آئے گا بعض جگہ، بھئی بَعْضٌ بھی ہمیشہ کس طرح استعمال ہوتا ہے؟ اضافت کے ساتھ، تو بھئی مضاف الیہ کدھر ہے؟ یہ تنوین کہاں سے آرہی ہے؟ سمجھ جائیں یہ تنوین کس کے عوض میں آئی ہے؟ مضاف الیہ، اصل میں کیا ہے؟ بَعْضُهُمْ، سمجھ میں آیا؟ اور اسی طرح أَيٌّ اور أَيَّةٌ بھی کیا ہے؟ اس پر بھی تنوین آئے تو سمجھ جائیں یہ کس کے عوض میں ہے؟ مضاف الیہ کے عوض میں ہے۔ اور بعض ظروف، جیسے إِذْ ہے مولانا، کیا ہے؟ إِذْ، إِذْ اس پہ تنوین آئے، حِينَئِذٍ۔ وَالرَّابِعُ لِلْمُقَابَلَةِ، اور چوتھی تنوین جو ہے وہ مقابلے کے لیے ہے، وَهُوَ التَّنْوِينُ الَّذِي فِي جَمْعِ المُؤَنَّثِ السَّالِمِ، جو کس میں آتی ہے؟ جمع مؤنث سالم میں آتی ہے، مُسْلِمَاتٍ، یہ تنوینِ مقابلہ کہلاتی ہے، کیا کہلاتی ہے؟ تنوینِ مقابلہ کہلاتی ہے۔ مولانا، یہ نہ تنوینِ تمکن ہے، نہ یہ تنوینِ تنکیر ہے، نہ یہ تنوینِ عوض ہے، اور نہ ہی تنوینِ ترنم ہے، پانچویں قسم جو ابھی آئے گی۔ تو چار قسموں میں سے کوئی بھی نہیں ہے، معلوم ہوا یہ تنوینِ مقابلہ ہے، کیا ہے؟ دیکھو، تنوینِ تمکن نہیں، تنوینِ تمکن نہیں، کیوں؟ تنوینِ تمکن نہیں، بھئی مُسْلِمَاتٍ کسی عورت کا نام رکھو ذرا، رکھ دیا؟ جی، اب اس کو پڑھو، کیا پڑھیں گے؟ جَاءَ مُسْلِمَاتٌ، پڑھیں گے یا نہیں پڑھیں گے؟ تنوین پھر بھی آرہی ہے، تنوین، معلوم ہوا یہ تمکن والی تنوین نہیں تھی جو پہلے تھی، اگر یہ تمکن والی ہوتی اب نہیں آنی چاہیے تھی کیونکہ وہ غیر منصرف بن چکا ہے۔ کیسے غیر منصرف بنا؟ علمیت بھی آگئی، نام رکھ دیا ہم نے، اور تانیث بھی ہے، تو کیا پڑھنا چاہیے تھا؟ مُسْلِمَاتُ، لیکن ابھی بھی آپ کیا پڑھ رہے ہیں؟ معلوم ہوا جو مُسْلِمَاتٍ نام رکھنے سے پہلے جو اس پہ تنوین آرہی ہے وہ تمکن والی، ورنہ تو جب نام رکھ دو پھر اس کو نہیں آنا چاہیے، صورت سمجھ میں آرہی ہے؟ کہ نہیں آرہی؟ معلوم ہوا یہ تنوینِ تمکن، معلوم ہوا، اور نیز مولانا تنکیر کے لیے بھی نہیں ہے، کیونکہ اگر یہ نکرہ ہونے کی وجہ سے تنوین آرہی ہے مُسْلِمَاتٍ پر، تو جب نام رکھا پھر اس کو نہیں آنا چاہیے، لیکن یہ پھر بھی آرہی ہے، معلوم ہوا کہ یہ نکرہ والی تنوین بھی، عوض؟ بھئی عوض کا بھی یہاں احتمال نہیں ہے کہ یہاں کوئی مضاف الیہ حذف ہوا اور اس کے عوض میں کیا آئی؟ تنوین آئی، کہیں، معنیٰ، کہیں ایسا ہوتا ہے؟ مضاف الیہ، وہ کو حذف ہوتا ہے اور وہاں اس میں مضاف الیہ حذف ہونے کا احتمال تو ہے ہی نہیں، پھر؟ تو سمجھ رہے ہیں؟ مضاف الیہ کے عوض میں بھی نہیں آسکتی کیونکہ وہ ہر جگہ نہیں آتی، میں نے بتایا کتنی جگہ آتی ہے؟ چار، اور یہ كُلُّ ہے؟ یہ بَعْضُ ہے؟ یہ أَيٌّ، أَيَّةٌ ہے؟ یہ ظروف میں سے ہے؟ یہ تو ہے ہی نہیں چاروں میں سے، تو اس میں تو آہی نہیں سکتی مضاف الیہ سے عوض، پھر تنوینِ ترنم ہوگی؟ بھئی تنوینِ ترنم تو بھئی اشعار میں آتی ہے، کس میں آتی ہے؟ اور یہ مُسْلِمَاتٍ لفظ اشعار میں آرہا ہے؟ نہیں، معلوم ہوا چاروں قسموں میں سے کوئی بھی نہیں، پھر کیا کریں؟ یہ تو کسی میں بھی نہیں، مجبور ہوگئے نحویوں نے ایک الگ قسم بنا ڈالی اور اس کا نام ہی کیا رکھ دیا؟ تنوینِ مقابلہ، اور کہتے ہیں یہ تنوینِ مقابلہ ہے بس، یہ ایک تنوین، جو کس میں آتی ہے؟ جمع مؤنث سالم۔ بھئی مقابلہ کیوں نام رکھا؟ کہتے ہیں بھئی دیکھو، یہ جمع مذكر سالم کے اندر جو نون آیا تھا، ادھر نون آیا تو ادھر تنوین والا نونِ ساکن ہم لے آئے، یہ اس کے مقابلے میں آئی، یہ کیا ہے اس کے؟ مقابلے میں آئی، دیکھو مولانا، وہاں کیا تھا؟ وہاں واؤ لے کر آئے تھے مولانا، کس کے لیے؟ جی؟ وہ واؤ دلالت کر رہا تھا، جی؟ جمعیت پہ دلالت کر رہا تھا، جمع ہونے پر دلالت کر رہا تھا۔ تو یہاں پر الف اور تا، واؤ دلالت کر رہا تھا کہ وہ کہ کس کی جمع ہے؟ تذکیر کی ہے۔ تو جمعیت اور تذکیر، دو چیزوں پہ دلالت کر رہا تھا وہ واؤ، سمجھ میں آیا؟ تو مُسْلِمُونَ کے اندر واؤ تذکیر اور جمعیت، دو چیزوں پہ دلالت کر رہا تھا، تو مُسْلِمَاتٍ کے اندر الف اور تا، یہ دونوں مولانا کس پہ دلالت کر رہے ہیں؟ جمعیت اور تانیث پر، اب وہاں نون زائد آرہا ہے مولانا، اس کے مقابلے میں یہاں کچھ نہیں تھا، آتا ہے یا نہیں مُسْلِمُونَ؟ تو واؤ کے مقابلے میں تو الف تا آگئے، تو نون کے مقابلے میں تو کچھ نہ تھا یہاں پر، لہٰذا یہاں تنوین دے دی، کیا دے دی؟ کیونکہ تنوین بھی کس کا نام ہے؟ نونِ نون کا نام ہے، نونِ ساکنِ آخر، جیسے وہ نون آخر میں آیا، یہاں بھی ہم نے آخر میں کیا ملا دیا؟ نون، تو یہ اس کے مقابلے میں آئی، تو یہ نہ تنوینِ تمکن ہے، نہ یہ تنوینِ تنکیر ہے، نہ یہ تنوینِ عوض ہے، نہ تنوینِ ترنم ہے بلکہ یہ کیا ہے؟ تنوینِ مقابلہ ہے۔ بات سمجھ میں آگئی؟ وَالرَّابِعُ لِلْمُقَابَلَةِ، چوتھی قسم تنوین کے مقابلہ کے لیے ہے، وَهُوَ التَّنْوِينُ الَّذِي فِي جَمْعِ المُؤَنَّثِ السَّالِمِ، وہ تنوین ہے جو جمع مؤنث سالم میں آتی ہے، جیسے نَحْوُ مُسْلِمَاتٍ، وَهَذِهِ الأَرْبَعَةُ تَخْتَصُّ بِالإِسْمِ، اور یہ چاروں خاص ہیں اسم کے ساتھ، یہ چار تنوینیں: تمکن، تنکیر، عوض اور مقابلہ، یہ چار خاص ہیں اسم کے ساتھ، وَالخَامِسُ لِلتَّرَنُّمِ، پانچویں قسم تنوینِ ترنم ہے، ترنم کے لیے ہے، وَهُوَ الَّذِي يَلْحَقُ آخِرَ الأَبْيَاتِ وَالمَصَارِيعِ، ابیات جمع ہے بیت کی، شعر کو کہتے ہیں، مصاریع جمع ہے مصرع کی، ایک حصے کو شعر، نصف شعر کو کہتے ہیں مصرع، تنوینِ ترنم ہے اور وہ ہے جو ملتی ہے شعر اور مصرعوں کے آخر کے ساتھ بھئی، کس کے ساتھ ملتی ہے؟ شعر ہوں یا مصرعے ہوں، ان کے آخر سے ملتی ہے، وزنِ شعری کو برابر کرنے کے لیے، ترنم کے لیے اس میں مولانا، کیوں؟ کیونکہ یہ نون میں آواز ناک میں جاتی ہے، کیا جاتی ہے؟ اور آپ نے دیکھا ہے مولانا، یہ جو اشعار پڑھنے والے ہیں، گانا گانے والے ہیں، آواز ناک میں لے کر جاتے ہیں اس میں ترنم پیدا کرنے کے لیے، کیا پیدا کرنے کے لیے؟ ترنم پیدا کرنے کے لیے، اس کو لمبا کرنے کے لیے، سمجھ میں آیا؟ تو لہٰذا اشعار کے آخر میں کیا کیا جاتا ہے؟ نون کو مصرعوں، اشعار کے آخر میں ملایا جاتا ہے تاکہ اس کی وجہ سے شعر کیا پیدا کیا جائے یہاں؟ ترنم پیدا کیا جائے، آواز ناک میں جائے گی اور اس میں ترنم پیدا ہوگا، آواز لمبی بھی کی جائے گی وغیرہ، حسن پیدا ہوگا، سمجھ میں آیا بھئی؟ وَهُوَ الَّذِي يَلْحَقُ، كَقَوْلِ الشَّاعِرِ، جیسے شاعر کہتا ہے: أَقِلِّي اللَّوْمَ عَازِلَ وَالعِتَابَنْ وَقُولِي إِنْ أَصَبْتُ لَقَدْ أَصَابَنْ أَقِلِّي، کون سا صیغہ ہے مولانا؟ امر، کون سا امر؟ کس باب سے؟ آپ نے کیا پڑھا؟ آپ نے کیا پڑھا ہے؟ أَمِدَّ، أَمَدَّ پڑھا ہے آپ نے باب بھئی؟ جی، أَمَدَّ پڑھا ہوگا، تو أَمَدَّ، امر کیا آئے گا؟ أَمِدَّ، أَمِدَّا، أَمِدُّوا، أَمِدِّي، تو أَقِلِّي، یہ جمع، واحد مؤنث مخاطب امر کا صیغہ ہے۔ أَقِلِّي، تو واحد مؤنث سے خطاب ہے، تو اپنی ملامت کو کم کر، قلت سے ہے یہ مولانا، قلیل کر، کس چیز کو؟ اللَّوْمَ، کس کو؟ ملامت، لوم کس کو کہتے ہیں؟ ملامت کو، اے مخاطبہ! تو ملامت کو کم کر۔ عَازِلُ، عَازِلَ، دونوں طرح پڑھنا جائز بھئی، اصل میں تھا يَا عَازِلَةُ، کیا تھا؟ يَا عَازِلَةُ، یہ منادیٰ ہے عَازِلَةُ، عازلہ کہتے ہیں ملامت... 2 مت کرنے والی۔ ملامت کرنے والی، عاذلۃ۔ پھر کیا کیا گیا مولانا؟ یا حرفِ ندا کو گرا دیتے ہیں، آپ نے پڑھا ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ قرینہ ہو وہاں تو گرا دیتے ہیں۔ اور اس کے بعد منادیٰ میں آپ نے پڑھا تھا، کبھی ترخیم کرتے ہیں۔ ترخیم کس کو کہتے ہیں؟ آخر سے ایک یا زائد حروف کو گرا دینا۔ تو عاذلۃ کے آخر سے کیا گرا دی؟ تا۔ اور پھر جب اس تا کو گرا دیں تو اس سے ماقبل والے حرف پر، آخر حرف کو جب گرا دیں تو اس سے ماقبل والے حرف پر حرکتِ اصلیہ پڑھنا بھی جائز اور اس کو مبنی مستقل منادیٰ قرار دیتے ہوئے مبنی علی الفتح پڑھنا بھی تو یا عاذلۃ، لام پر کیا تھا؟ فتحہ۔ تو ابھی بھی فتحہ، یا عاذلَ پڑھ لیں۔ گویا تا ابھی بھی موجود ہے۔ اور چاہے تو تا نسیاً منسیاً ہوئی، ختم ہو گئی اور عاذلُ پورا اسم ہوا اور اسم جب منادیٰ بنائیں تو کیا ہوتا ہے؟ مبنی علی الضم ہوتا ہے مفرد ہو تو، تو یہ مفرد ہے تو یا عاذلُ بھی پڑھ سکتے ہیں، عاذلُ۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو کم کر اپنی ملامت اے ملامت کرنے والی! والعتابا، عتاب کہتے ہیں ناراضگی کو مولانا۔ کس کو کہتے ہیں؟ ناراضگی۔ اور اس کے آخر میں جو نون آ رہا ہے یہ تنوینِ ترنم ہے۔ کیا آ رہا ہے؟ یہ تنوینِ ترنم ہے۔ تو یہ تنوینِ ترنم ہے مولانا، یہ معرف باللام پر بھی آ جاتی ہے، دیکھ رہے ہیں آپ؟ جب حالانکہ جب الف لام آ جائے تو تنوین نہیں آیا کرتی لیکن یہاں پر معرف باللام ہونے کے باوجود کیا آ رہی ہے؟ تنوینِ ترنم آ رہی ہے۔ تو تو کم کر ملامت کو بھی، والعتابا اور ناراضگی کو بھی، غصے اور غضب کو بھی کم کر اے ملامت کرنے والی! تو عتاب ناراضگی، غضب، غصے کو کہتے ہیں۔ وقولی، یہ کون سا صیغہ ہے؟ امر۔ قل قولا قولوا قولی، اور اے مخاطبہ تو کہہ دے۔ کیا کہہ دے؟ آگے آ رہا ہے لقد اصابا، کیا کہہ دے؟ یہ مقولہ ہے قول کا۔ کیا کہہ دے؟ لقد اصابا۔ یہ تنوین بھی کون سی آ رہی ہے مولانا؟ تنوینِ ترنم ہے اور دیکھیں آپ فعل کے آخر میں تنوین آئی، اصابا کیا ہے؟ فعل۔ تو تنوینِ ترنم معرف باللام میں بھی آ جایا کرتی ہے جیسے العتاب کے آخر میں آئی، فعل پہ بھی آتی ہے، اسم پہ بھی آتی ہے اور حرف پہ بھی آ جاتی ہے جیسے کل کے سبق میں آپ نے پڑھا تھا کأن قدن، پڑھا تھا یا نہیں پڑھا تھا؟ تو وہ قد کے آخر میں کیا آ گئی تھی؟ تنوینِ ترنم آئی تھی۔ تو لقد اصابا اور تو کہہ دے لقد اصاب، تحقیق یہ صحیح ہے، اصابا کا معنی ہے صحیح حق کو پہنچنا، کس کو پہنچنا؟ حق کو، یعنی صحیح ہونا، صحیح ہونا، کسی چیز کا صحیح ہونا تو اس کو کہتے ہیں یہ مصیب ہے، صحیح ہے بھئی یہ، کیا ہے؟ حق پر ہے، درست راستے پر ہے۔ اور تو کہہ دے لقد اصابا، اصابن ہے نا نون ہٹا دو تنوینِ ترنم، لقد اصابا کہ تحقیق یہ کیا ہے؟ صحیح ہے، مصیب ہے، کیا ہے؟ صحیح ہے، درست ہے، غلطی پر نہیں ہے، ایک شخص ہوتا ہے غلطی پر، ایک ہے صحیح ہے، درست راستے طریقے پر ہے، بات پر ہے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ مصیب کہتے ہیں، کس کیا کہتے ہیں؟ مصیب ص کے ساتھ۔ تو کہہ دے، إن اصبتُ اگر میں مصیب ہوں، اگر میں حق پر ہوں، درست طریقے اور درست بات پر ہوں تو تو کیا کہہ دے؟ لقد اصابا کہ یہ کیا ہے؟ یہ صحیح ہے واقعی۔ سمجھ میں آیا؟ تو إن اصبتُ درمیان میں شرط ہے اور اس کی جزا محذوف ہے، وہ ہے فصوبی بی۔ إن اصبتُ فصوبی بی، اگر میں حق پر ہوں، اگر میں مصیب ہوں، فصوبی بی امر آ گیا، تو تو بھی میری تصویب کر، تو بھی میری کیا کر؟ تصویب، یعنی مجھے مصیب قرار دے دے۔ ترجمہ سمجھ میں آیا؟ آگے دوبارہ سنو، عذل اللوم عذل والعتابا، وقولی إن اصبتُ لقد اصابا۔ ملامت کو کم کر دے اے ملامت کرنے والی! والعتابا اور غصے اور غضب اور ناراضگی کو، وقولی اور تو کہہ دے إن اصبتُ اگر میں مصیب ہوں، اگر میں مصیب ہوں فصوبی بی تو تو بھی میری کیا کر؟ تصویب کر، وقولی اور کہہ دے لقد اصابا کہ یہ کیا ہے؟ حق پر ہے، صحیح بات پر ہے۔ یعنی اے ملامت کرنے والی تو ہر بات میں میری مخالفت کرتی ہے، مجھے ملامت کرتی ہے، ہر بات میں مجھے کیا کہتی ہے یہ غلط ہے یہ غلط ہے، کم از کم اتنا تو کر لے کہ جب غلط ہوں تو غلط کہہ لیکن جب میں صحیح ہوں تو مجھے کیا کہہ دیا کر؟ صحیح ہے، لیکن تو تو کیا کرتی ہے جب میں صحیح ہوں تب بھی مجھے کیا قرار دیتی ہے؟ غلط۔ تو تو غصے اور ناراضگی کو کم کر اور اگر میں مصیب ہوں تو میری تصویب کر اور وقولی اور کہہ دے لقد اصابا کہ یہ کیا ہے؟ صحیح ہے، درست ہے۔ وکقولہ، اور جیسے یہ شاعر کا قول، یا ابتا علک أو عساکا، علک أو عساکا، علک لغت ہے لعل کے اندر مولانا، آپ نے پڑھا تھا یا نہیں بھئی؟ لعل میں کئی لغات ہیں، ایک علا تھی۔ أو عساکا مولانا، عساک، یہ وہ ہے عسیٰ بھئی، یہ کاف کے آخر میں کیا آئی مولانا؟ تنوینِ، تو دیکھو ضمیر کے ساتھ تنوینِ تمکن مل گئی بھئی، تو تنوینِ تمکن ہر چیز سے مل جاتی ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ وقد يحذف من العلم، اور کبھی کبھی تنوین، بھئی دیکھو مولانا عربی میں ایک چیز بڑی کثرت سے استعمال ہوتی ہے، مثلاً میں کہتا ہوں زید بن بکر۔ زید بن بکر، زید آیا درمیان میں کیا آیا؟ ابن آیا اور بعد میں کیا آیا؟ بکر آیا۔ تو یہ نام اور ان کے درمیان ابن کا لفظ یہ بڑی کثرت سے استعمال ہوتا ہے۔ تو یاد رکھو یہ جب ابن کا لفظ درمیان میں آئے دو علموں کے، ابن سے پہلے بھی کیا؟ زید علم، اور ابن کے بعد کیا ہے؟ بکر، وہ بھی کیا ہے؟ علم، تو جب ابن کا لفظ جو علم دو ابن کا لفظ آئے تو ابن کا لفظ یاد رکھو مولانا جب دو علمین کے درمیان میں آئے، تو ما پہلے علم سے تنوین کا حذف کرنا جائز ہے۔ پہلے علم سے تنوین کا حذف کرنا اور یاد رکھو یہ جو ابن کا لفظ ہے ماقبل کے لیے صفت ہوتا ہے، مابعد کے لیے مضاف ہوتا ہے۔ ابن کا لفظ ماقبل کے لیے کیا ہوتا ہے؟ صفت اور مابعد کے لیے مضاف ہوتا ہے۔ ابن کا لفظ کیا ہوتا ہے؟ مضاف ہوتا ہے۔ زید بن بکر کیا پڑھیں گے؟ زیدٌ مرفوع لفظاً موصوف، ابنُ مرفوع لفظاً، زید مرفوع ہے تو ابن اس کی صفت وہ بھی کیا ہو جائے گی مولانا؟ مرفوع، اور مابعد کے لیے مضاف، تو بکرٍ پہ کیا آ جائے گی؟ بکرٍ پہ کسرہ آ جائے گا، جر آ جائے گا، لہٰذا بکرٍ مجرور لفظاً مضاف الیہ، پھر مضاف مضاف الیہ مل کر یہ صفت ہو جائیں گی کس کے لیے؟ زید کے لیے۔ ترکیب سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو چونکہ یہ کثرت سے استعمال ہوتا ہے مولانا، تو یاد رکھو جب بھی ابن کا لفظ دو علمین کے درمیان آئے، کس کے درمیان آئے؟ تو پہلے علم سے تنوین گرا دیا کرتے ہیں۔ ورنہ کیا پڑھنا چاہیے تھا؟ زیدٌ ابنُ بکرٍ، ذرا اس کو ملاؤ، نونِ ساکن ہے نا تنوین اس کو بھی کسرہ دو، کیا پڑھیں گے؟ زید نبن بکرٍ، کیا پڑھنا چاہیے؟ زید نبن، تو ضابطے کے مطابق پڑھنا چاہیے زید نبن بکرٍ، لیکن کیا کرتے ہیں؟ کہ چونکہ کثرت سے استعمال ہوتی ہے اس قسم یہ چیز اور کثرت چاہتی ہے خفت کو، لہٰذا پہلے علم سے کیا کر دیتے ہیں؟ تنوین کو، تو کیا پڑھیں گے؟ زید بن بکرٍ، کیا پڑھیں گے؟ اور نیز مولانا! ابن کے ہمزہ کو گرا دیں گے، ہمزہ کون سا ہے ابن کا؟ وصلی، اور ہمزۂ وصلی درجِ عبارت میں کیا ہو جاتا ہے؟ گر جاتا ہے، لیکن ہمزۂ وصلی تلفظ سے گرتا ہے رسم الخط سے نہیں گرتا، عبارت کے آپ لکھ رہے ہیں، لکھا جاتا ہے، لیکن یہ والا جو ابن ہے جو دو علمین کے بیچ میں آیا اس کے ہمزۂ وصلی کو لکھا بھی نہیں جاتا، لفظاً تو گرا ہے خطاً بھی کیا ہو جاتا ہے؟ گر جاتا ہے، یہ بھی خفت کی وجہ سے، کیونکہ یہ کثرتِ استعمال کی وجہ سے یہ کیا چاہتا ہے؟ خفت، لہٰذا گرا دیا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ وقد يحذف من العلم، اور کبھی کبھی یہ تنوین کو حذف کر لیا جاتا ہے من العلم علم کے آخر سے، إذا كان موصوفاً جبکہ وہ کیا ہو مولانا؟ موصوف ہو، بإبن أو إبنة، ابن یا ابن یا ابنة کے ساتھ موصوف ہو، جی کیسے پڑھیں گے؟ إذا كان موصوفاً، پڑھو ذرا عبارت کیسے پڑھیں گے؟ إذا كان موصوفاً ببنز نہیں پڑھنا مولانا۔ کیا پڑھنا ہے؟ بإبن پڑھنا ہے، کیونکہ یہاں لفظِ ابن مراد ہے، کیا مراد ہے؟ لفظِ ابن مراد ہے، کیا مراد ہے؟ ابن، تو وہ جو عبارتوں میں ابن کا لفظ آتا ہے اس کا نام ہی ہم نے کیا رکھ دیا؟ ابن رکھ دیا، تو اب یہ علم بن چکا ہے اور علم کے اندر جب یہ علم بن گیا اب اس کا ہمزہ وہ وصلی نہ رہا، کیا بن گیا؟ قطعی بن گیا، تو اب یہ نام بن گیا۔ تو جب موصوف ہو بإبن أو إبنة، ابن لفظ کے ساتھ موصوف ہو یا ابنة لفظ مؤنث کے لیے بھی آتا ہے، ابنة لفظ کے ساتھ موصوف ہو، مضافاً إلى علم آخر، اور مضاف ہو کس کی طرف؟ دوسرے علم کی طرف، نحو جاءني زيد بن عمرو، آیا میرے پاس زید ابنِ عمرو، تو دیکھو زید سے تنوین گر گئی اور ابن کے ہمزہ کو رسم الخط سے بھی گرا دیا، وهند بنة بکر، اور ہند بنتِ بکر، اس کا الف نہیں گرے گا کیونکہ اتنا زیادہ کثیر الاستعمال نہیں۔ سمجھ، بھئی یہ کیوں نہیں گرے گا ابنة کا الف؟ کہتے ہیں اس لیے کہ اگر یہ الف گر گیا تو اس کا التباس لازم آئے گا بنت کے ساتھ، کس کے ساتھ لازم آئے گا؟ بنت کے ساتھ، تو کوئی اس کو بنت نہ پڑھ لے لہٰذا ہم الف اب بھی لکھیں گے، تاکہ پتہ چلے یہ بنت لفظ نہیں ہے بلکہ کیا ہے؟ ابنة لفظ ہے، ابنةٌ۔ فصلٌ نون التأکید، فصل ہے نونِ تاکید کے بارے میں، وهي وضعت، یہ وہ نون ہے جس کو وضع کیا گیا ہے، لتأکید الأمر والمضارع، امر اور مضارع، فعلِ امر اور فعلِ مضارع کے تاکہ ان میں تاکید پیدا کرتے ہیں۔ إذا كان فيه طلب، جب اس کے اندر کیا ہو مضارع میں؟ طلب ہو، بإزاء قد لتأکید الماضي، إزاء کا معنی مقابلہ، بإزاء قد قد کے مقابلے میں، لتأکید الماضي جو کس کے لیے تھا؟ ماضی کے، بھئی ماضی کی تاکید کے لیے قد آتا تھا تو مضارع اور امر کی تاکید کے لیے ہم کیا لے آئے؟ نون لے آئے۔ وهي على ضربين، یہ دو قسم پر ہے مولانا، نونِ تاکید، خفيفة، ایک خفیفہ ہے، أي ساكنة أبداً، یعنی ہمیشہ ساکن رہتا ہے، نحو إضربن إضربن إضربن بھئی۔ وثقيلة، اور ایک نونِ ثقیلہ ہے، أي مشددة مفتوحة أبداً، یعنی یہ مشدد ہوگا اور ہمیشہ مفتوح ہوگا، کب مفتوح ہوگا؟ إن لم يكن قبلها ألف، اگر اس سے پہلے الف نہ ہو تو یہ مفتوح ہوگا، إضربَنَّ إضربُنَّ إضربِنَّ۔ ومكسورة إن كان قبلها ألف، اور اگر اس نونِ ثقیلہ سے پہلے الف آیا تو یہ مکسور ہوگا، جیسے إضربانِ اور إضربنانِ، یہ مکسور اس لیے ہوگا کہ اب اس کی مشابہت آ گئی الفِ ت، نونِ تثنیہ سے۔ تو رجلانِ نونِ تثنیہ جیسے مکسور ہوتا ہے، یہ نونِ ثقیلہ کو بھی کیا دے دیا؟ کسرہ دیا۔ وتدخل في الأمر والنهي والاستفهام والتمني والعرض جوازاً، یہ نونِ تاکید داخل ہوتا ہے امر کے اندر بھی اور نہی کے اندر بھی آتا ہے، استفہام میں بھی آتا ہے، تمنا میں بھی آتا ہے اور عرض کے اندر بھی آتا ہے جوازاً، اس کا لانا جائز ہے، لأن في كل منها طلباً، اس لیے کہ ان میں سے ہر ایک کے اندر کیا ہوتی ہے؟ طلب، امر میں بھی، نہی، استفہام، تمنا سب میں طلب ہے، نحو إضربن یا إضربَنَّ۔ ہاں، إضرب، سمجھ میں آیا؟ إضرب امر کے آخر میں آیا، تو یہ امر کی مثال نونِ خفیفہ بھی بنا سکتے ہیں، نونِ ثقیلہ، إضربن یا إضربَنَّ، اچھا آگے نہی کے اندر بھی لا تضربن یا لا تضربَنَّ، هل تضربن استفہام میں بھی یا هل تضربَنَّ، تمنا میں بھی ليتك تضربن یا ليتك تضربَنَّ، اور عرض میں بھی ألا تنزلَنَّ یا ألا تنزلن بنا فتصيب خيراً۔ وقد تدخل في القسم وجوباً، اور تحقیق یہ داخل ہوتا ہے قسم کے اندر وجوباً بھئی۔ قسم میں کیا ہوتا ہے؟ وجوباً داخل ہوتا ہے، لوقوعه على ما يكون مطلوباً للمتكلم غالباً، اس لیے کہ قسم واقع ہوتی ہے اس چیز پر جو متکلم کو غالباً مطلوب ہوتا ہے، قسم کس چیز کی عموماً کھائی جاتی ہے؟ جو چیز آپ کو مطلوب ہوگی، آپ کہتے ہیں واللہ میں یہ کام ضرور کروں گا، معلوم ہوا یہ کام کیا ہے؟ مطلوب ہے۔ تو جب، تو مولانا میں نے کہا میں یہ کام کروں گا، اب میں اس کام میں خوب تاکید پیدا کرنا چاہتا ہوں تو شروع میں کیا لے آؤں گا؟ قسم، تو قسم سے اس میں کیا آ گئی؟ تاکید آ گئی، تو جب شروع میں قسم سے تاکید لے آئے تو آخر میں بھی تاکید لانی چاہیے، جب شروع میں لے آئے تو آخر میں بھی کیا آنی چاہیے؟ تو شروع میں قسم لائے ہو اور آخر میں کیا لے آؤ؟ نونِ تاکید لے آؤ۔ فأرادوا، تو ارادہ کیا، تو قسم بھی چونکہ ایسے مطلوب کے لیے آتی، جو چیز مطلوب ہوتی ہے اکثر اس کے لیے آتی ہے، فأرادوا أن لا يكون آخر القسم أن لا يكون آخر القسم خالياً، تو ارادہ کیا کہ خالی نہ ہو قسم کا آخر بھی، خالياً عن معنى التأكيد، تاکید کے معنی سے خالی نہ ہو، كما لا يخلو أوله، جیسے کہ اس کا اول خالی نہیں۔ كما لا يخلو أوله منه، جیسے کہ اس کا اول تاکید سے خالی نہیں، نحو والله لأفعلن كذا، تو دیکھو لأفعلن کے اندر شروع میں واللہ سے تاکید لائے ہیں تو آخر میں کس سے لائے؟ نون سے لائے۔ واعلم، اور جان لے تو، أنه يجب ضم ما قبلها في جمع المذكر، کہ یہ واجب ہے ضمہ ماقبل، فی جمع المذکر۔ نحو إضربُنَّ۔ بھئی مولانا، نونِ ثقیلہ آپ لے کر آئے آخر میں، تو جمع مذکر کے صیغے میں نونِ ثقیلہ سے ماقبل کو ضمہ دینا واجب۔ نونِ ثقیلہ کو کیا دینا واجب؟ ضمہ دینا واجب، کیا پڑھیں گے؟ إضربُنَّ، تاکہ یہ با پر ضمہ دلالت کرے کہ یہاں پر کیا حذف ہوا ہے؟ واؤ حذف ہوا ہے۔ فی جمع المذکر جمع مذکر کے اندر، نحو إضربُنَّ ليدل تاکہ وہ دلالت کرے على الواو المحذوفة واؤِ محذوفہ پر۔ وجب كسر ما قبلها في المخاطبة، اور واجب ہے کسرہ ماقبلہا فی المخاطبہ، مخاطبہ کے اندر نونِ ثقیلہ سے ماقبل کیا واجب ہے؟ نحو إضربِنَّ، کیوں بھئی؟ ليدل على الياء المحذوفة، تاکہ یہ دلالت کرے کس پر؟ یائے محذوفہ پر۔ إضرب إضربا إضربوا إضربي، تو با کے بعد کیا آ رہی تھی؟ یا، تو جب نون ملائیں گے تو یہ یا گر جائے گی، تو کیا بن جائے گا؟ إضربِنَّ، یہ کسرہ دلالت کر رہے گا کہ یہاں پر کیا حذف ہوئی ہے؟ یا۔ وفتح ما قبلها فيما عداهما، ان کے علاوہ باقی ساری صورتوں میں کیا ہوگا ماقبل؟ ہاں، وفتح ما قبلها اور ماقبل کا فتحہ واجب ہے فيما عداهما ان دو صورتوں کے علاوہ، کون سی دو صورتیں؟ جمع مذکر اور واحد مخاطبہ سے، أما في المفرد، بھئی فتحہ کیوں واجب ہے؟ أما في المفرد مفرد میں فتحہ اس لیے واجب فلأنه لو ضم، اس لیے کہ بھئی إضرب، إضرب میں کیا پڑھیں گے؟ إضربَنَّ، با پر کیا پڑھیں گے؟ فتحہ، بھئی فتحہ کیوں پڑھا؟ ضمہ کیوں نہیں پڑھا؟ کسرہ کیوں نہیں؟ کہتے ہیں ضمہ پڑھیں گے 3 تو جمع کے ساتھ التباس لازم آئے گا، کسرہ پڑھیں گے تو واحد مخاطبہ کے ساتھ۔ لہٰذا اس پر کیا پڑھیں گے؟ فتحہ۔ سمجھ میں آیا؟ امّا فی المفردِ مفرد کے اندر، و لاَنَّهُ لَوْ ضُمَّ اگر اس پر ضمہ دیا جائے، لَلْتَبَسَ بِجَمْعِ الْمُذَكَّرِ تو اس کا التباس لازم آئے گا کس کے ساتھ؟ جمع مذکر کے ساتھ۔ وَ لَوْ كُسِرَ اور اگر اس کو کسرہ دیا جائے، لَلْتَبَسَ بِالْمُخَاطَبَةِ تو اس کا التباس کس کے ساتھ لازم آئے گا؟ مخاطبہ کے صیغے کے ساتھ۔ وَ أَمَّا فِي الْمُثَنَّى وَ جَمْعِ الْمُؤَنَّثِ باقی رہ گئے تثنیہ اور جمع مونث مولانا، تثنیہ اور جمع مونث جو ہیں، ان میں کیا ہوگا مولانا؟ جی؟ بھئی اس میں ماقبل فتحہ آئے گا، اس لیے کہ وہاں پر ہم نونِ ثقیلہ سے پہلے الف لے آئے ہیں۔ کیا لے آئے ہیں؟ الف۔ تثنیہ میں کیا کہتے ہیں؟ اِضْرِبْ اِضْرِبَا، اس کے آخر میں نونِ ثقیلہ لگاؤ، کیا بنے گا؟ اِضْرِبَانِّ، تو یہ تو الف موجود۔ اور دوسرا کیا ہے؟ اِضْرِبْنَ، اِضْرِبْ اِضْرِبَا اِضْرِبُوْا اِضْرِبِیْ اِضْرِبَا اِضْرِبْنَ، اب نونِ ثقیلہ لاؤ گے تو درمیان میں الف لے آؤ تاکہ تین نون جمع نہ ہو جائیں، کیا بن گیا؟ اِضْرِبْنَانِّ۔ تو نونِ ثقیلہ کا ماقبل کیا ہے؟ مفتوح ہے۔ یعنی الف سے پہلے کیا ہے؟ فتحہ۔ کیوں فتحہ ہے؟ کیونکہ الف آ گیا ہے بیچ میں اور الف اپنے سے ماقبل کیا چاہتا ہے؟ فتحہ چاہتا ہے۔ بھئی یہ آپ الف کیوں لے کر آئے بھئی؟ کیونکہ تاکہ تین نون جمع نہ ہو جائیں، اِضْرِبْنَانِّ۔ اور تثنیہ میں الف کیوں ہے؟ جی؟ اشکال ہوتا ہے نہ مولانا، اِضْرِبَانِّ، یہ تو اجتماعِ ساکنین علیٰ غیرِ حدہٖ لازم آ رہا ہے۔ کیا؟ الف بھی ساکن اور اِضْرِبَانِّ کا نون بھی، پہلا نون ساکن ہے۔ اِضْرِبْنَانِّ میں بھی اسی طرح، کہتے ہیں بھئی یہاں مجبوری ہے، یہاں کیا ہے؟ اگر ہم یہاں الف گراتے ہیں تو اب پتہ نہیں چلے گا، کیا بن جائے گا؟ اِضْرِبَنَّ، یہ تو مفرد بھی کیا تھا؟ اِضْرِبَنَّ، تثنیہ بھی کیا ہوا؟ اِضْرِبَنَّ، تو پتہ ہی نہیں چلے گا، اس کا التباس کس سے لازم آ جائے گا؟ مفرد سے، التباس سے بچنا تو بہت ضروری ہے لہٰذا کیا کیا بھئی؟ الف کو یہاں برقرار رکھا، اور اِضْرِبْنَانِّ وہاں بھی اجتماعِ ساکنین علیٰ غیرِ حدہٖ آیا اور وہاں بھی ہم نے کیا کیا اس کو؟ باقی رکھا کیونکہ مجبوری ہے، مجبوری کیا ہے مولانا؟ کہ تین نون جمع ہو جائیں گے تو کلمے میں بڑا ثقل آ جائے گا لہٰذا مجبوری کی وجہ سے ہم نے اجازت دی۔ کدھر گیا بھئی؟ وَ أَمَّا فِي الْمُثَنَّى وَ جَمْعِ الْمُؤَنَّثِ تثنیہ اور جمع مونث کے اندر اس کا نون کا ماقبل مفتوح ہوگا یعنی الف سے ماقبل مفتوح ہوگا، کیوں؟ فَلِأَنَّ مَا قَبْلَهَا أَلِفٌ اس لیے کہ ان سے نونِ ثقیلہ سے پہلے کیا آ رہا ہے؟ الف آ رہا ہے اور الف اپنے سے ماقبل فتحہ چاہتا ہے۔ نَحوُ اِضْرِبَانِّ وَ اِضْرِبْنَانِّ وَ زِيْدَتْ أَلِفٌ قَبْلَ النُّوْنِ فِيْ جَمْعِ الْمُؤَنَّثِ بھئی یہ الف بڑھایا جاتا ہے نونِ جمع سے پہلے، جمع مونث سے پہلے، لِكَرَاهَةِ اجْتِمَاعِ ثَلَاثِ نُوْنَاتٍ اس لیے کہ تین نونوں کا جمع ہونا ناپسندیدہ ہے، کون سے تین نون بھئی؟ کہتے ہیں نُوْنُ الضَّمِيْرِ ایک تو نون کون سا ہے؟ ضمیر والا، وَ نُوْنَا التَّأْكِيْدِ اور دو نون کون سے ہیں؟ نونانِ التاکید یعنی تثنیہ تھا مولانا، دو نون تاکید کے یعنی وہ مشدد جو ہے وہ دو نون ہیں۔ وَ نُوْنُ الْخَفِيْفَةِ لَا تَدْخُلُ فِي الْمُثَنَّى أَصْلًا بھئی نونِ خفیفہ تثنیہ میں کبھی نہیں آتا، وَ لَا فِيْ جَمْعِ الْمُؤَنَّثِ اور نہ ہی جمع مونث میں، کیوں نہیں آتا بھئی؟ جی؟ اِضْرِبَانْ، یہ اجتماعِ ساکنین لازم آئے گا۔ اِضْرِبْ اِضْرِبَا، نونِ ساکن ملاؤ کیا بنے گا؟ اِضْرِبَانْ۔ اچھا، اور ملاؤ، اِضْرِبْ اِضْرِبَا اِضْرِبُوْا اِضْرِبَا اِضْرِبِیْ اِضْرِبَا اِضْرِبْنَ، اِضْرِبْنَ کے آخر میں نونِ ثقیلہ لاؤ ذرا بھئی، کیا لے آئیں گے؟ الف لے آئیں گے، اِضْرِبْنَانْ، کیا لے آئیں گے؟ الف لے آئیں گے۔ بھئی الف کیوں لے کر آئے؟ یہاں تو تین نون جمع نہیں ہو رہے، جی؟ یہاں تو تین نون جمع نہیں ہو رہے بھئی، وہاں تو تین نون جمع ہو رہے تھے الف لائے تھے، تو یہاں الف کیوں لے کر آئے ہو اِضْرِبْنَانْ اس جمع کے اندر، جمع کے صیغے میں؟ اعتراض سمجھ میں آ رہا ہے؟ جواب یہ ہے مولانا کہ وہ اصل ہے نونِ ثقیلہ اور یہ فرع ہے، اور جب اصل میں الف لے کر آئے ہیں تو فرع کے اندر بھی کیا کریں گے؟ الف لے کر آئیں گے، سمجھ میں آیا؟ تو اِضْرِبْنَانْ ہوا۔ لیکن یہ تو میں ویسے سمجھانے کے لیے بتا رہا ہوں، یہ آتا ہی نہیں ہے، جمع مونث تو آتا ہی نہیں ہے۔ تو لہٰذا الف لائے اور جب الف لائیں گے تو کیا آئے گا؟ اجتماعِ ساکنین آئے گا، اور جب اجتماعِ ساکنین آئے گا تو وہ تو علیٰ غیرِ حدہٖ ہے، جائز ہی نہیں، سمجھ میں آیا؟ جائز نہیں۔ سمجھ میں آیا؟ بھئی عجیب بات ہے، وہاں ثقیلہ کے اندر بھی تو اجتماعِ ساکنین علیٰ غیرِ حدہٖ تھا، وہاں آپ اجازت دیتے ہیں، یہاں اجازت نہیں دیتے، کیا بات ہے؟ وہاں ثقیلہ میں آپ اجازت دیتے ہیں اور یہاں پر اجازت نہیں دیتے، کہتے ہیں بھئی فرق ہے دونوں میں، وہ دو نون ہیں اور ان دو میں سے بھی ایک کیا ہے؟ مشدد ہے نہ، دو نون کیا ہیں؟ وہ دو نون ہیں، اور مشدد دو نون ہوتے ہیں، تو دو نون ہیں اور ان میں سے ثانی کیا ہے؟ متحرک ہے، ثانی کیا ہے؟ متحرک ہے، اور یہ جو حرفِ مشدد ہوتا ہے یہ زبان کی ایک ہی حرکت سے ادا ہوتے ہیں۔ ایک ہی حرکت سے ادا ہوتے ہیں، ایک ہی تلفظ ہوتا ہے ان پر، بھئی آپ کہیں ذرا دَوَابَّ، تو آپ بتائیں مولانا دو باء مشدد کتنی باء ہوتی ہیں؟ دو باء، ایک باء ذرا ادا کریں، باء، اَبْ، ہونٹ کتنی دفعہ ملے؟ ایک، تو دَوَابَّ میں تو باء مشدد ہے ہونٹ کتنی دفعہ ملنے چاہییں؟ دو، لیکن ملے ایک ہی دفعہ، دَوَابَّ، ایک دفعہ ملے یا نہیں؟ اچھا اور تجربہ کر لیں، جس حرفِ مشدد کو بھی آپ ادا کریں گے آپ دیکھیں گے ایک ہی حرکت سے دونوں ادا ہو رہے ہیں، ایک ہی حرکت سے کیا ہے؟ دونوں ادا ہو رہے ہیں۔ تو نونِ ثقیلہ دراصل دو نون ہیں اور ان میں سے ثانی کیا ہے؟ متحرک ہے اور وہ دونوں ادا ہوتے ہیں ایک ہی حرکت سے، کس سے ادا ہوتے ہیں؟ ایک ہی حرکت سے، تو ان میں سے چونکہ ایک متحرک ہے تو گویا کہ اور چونکہ ایک ہی حرکت سے ادا ہوتے ہیں، ایک ہی تلفظ سے، تو گویا کہ یہ ایک ہی کلمہ ہے، گویا کہ یہ کیا ہے؟ ایک ہی کلمہ ہے، ایک کلمہ ہے کیونکہ دونوں ایک ہی حرکت سے کیا ہوتے ہیں؟ ادا ہوتے ہیں، اور ان میں سے بھی ایک متحرک ہے تو گویا کہ یہ ایک ہی کلمہ ہے اور اس پہ حرکت ہے۔ گویا کہ یہ ایک ہی کلمہ ہے اور اس پر کیا ہے؟ حرکت ہے، جب اس پہ حرکت ہے تو معلوم ہوا یہ ساکن ہی نہیں، جب ساکن ہی نہیں تو اجتماعِ ساکنین ہے ہی نہیں وہاں، وہاں تو دراصل اجتماعِ ساکنین ہے ہی نہیں، سمجھ میں آیا بھئی؟ سب کو بات سمجھ میں آ گئی؟ جی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ کہ نہیں آئی صورت؟ اچھا پھر اشکال ہوتا ہے، اچھا بھئی چلو گرا دو الف کو گرا دو صیغہ تو آنے دو، آپ تثنیہ کا صیغہ ہی نہیں آنے دے رہے، اِضْرِبَانْ الف کو گرا دو اِضْرِبَنْ، اِضْرِبْنَانْ بھئی الف کو گرا دو اِضْرِبْنَنْ، کہتے ہیں بھئی دیکھو بات سنو، اصل کون ہے؟ جی؟ باقی باتیں چھوڑو، التباس لازم آئے گا التباس اس کو ابھی فی الحال چھوڑو بس، حالانکہ التباس بھی لازم آئے گا، اِضْرِبَانْ سے اگر الف گرا دو گے کیا بن جائے گا؟ اِضْرِبَنْ، اور مفرد کا صیغہ بھی کیا تھا؟ اِضْرِبَنْ، تو پتہ چلے گا یہ تثنیہ ہے یا مفرد ہے؟ دوسری بات، اچھا چلو اس میں تو نہیں گراتے، اس میں تو تو اِضْرِبْنَانْ کے اندر گرا دو، کہتے ہیں بھئی نہیں الف کو گرا نہیں سکتے، کیونکہ یہ نونِ خفیفہ ہے یہ ہے فرع، اور وہ نونِ ثقیلہ ہے وہ ہے اصل، اور اصل میں ہم نے الف کو نہیں گرایا تھا تو فرع میں بھی نہیں گرا سکتے۔ چلیے جی۔ وَ نُوْنُ الْخَفِيْفَةِ اور نونِ خفیفہ جو ہے، لَا تَدْخُلُ فِي الْمُثَنَّى أَصْلًا وہ تثنیہ میں کبھی بھی داخل نہیں ہوتا، وَ لَا فِيْ جَمْعِ الْمُؤَنَّثِ اور نہ ہی جمع مونث میں، لِأَنَّهُ لَوْ حَرَّكْتَ اس لیے کہ اگر آپ نے اس کو لَوْ حَرَّكْتَ النُّوْنَ اگر آپ نے نون کو کیا دے دی؟ حرکت دے دی، لَمْ تَبْقَ خَفِيْفَةً پھر تو یہ خفیفہ رہے گا ہی نہیں، کیونکہ نونِ خفیفہ کس کو کہتے تھے؟ وہ تو نونِ ساکن تھا، آپ نے تو اس کو کیا دے دی؟ حرکت، لہٰذا حرکت بھی نہیں دے سکتے، فَلَمْ تَكُنْ عَلَى الْأَصْلِ تو یہ اپنی اصل پر باقی نہیں رہے گا، وَ إِنْ أَبْقَيْتَهُ سَاكِنَةً اور اگر آپ اس کو کیا باقی رکھیں؟ اس باقی رکھیں اس حال میں کہ یہ ساکن ہی ہو، يَلْزَمُ الْتِقَاءُ السَّاكِنَيْنِ تو کیا لازم آئے گا؟ اجتماعِ التقائے ساکنین علیٰ غیرِ حدہٖ لازم آئے گا، وَ هُوَ غَيْرُ حَسَنٍ اور وہ اچھا نہیں۔ وہ اچھا بھئی کہنا چاہیے یہ تھا اجتماعِ ساکنین علیٰ غیرِ حدہٖ جائز ہی نہیں، کیا ہے؟ لیکن انہوں نے کیا کہا؟ اچھا نہیں، تو سب سے نرم لفظ جس میں کسی کو رد کیا جا سکتا تھا اس کو استعمال کیا۔ سمجھ میں آیا؟ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو سب سے نرم یہ ہے، کسی کو روکنا ہے کسی کام سے کیا کہو؟ یہ اچھا ہاں، ایک یہ ہے کہ کر نہیں سکتے، یہ نرم لفظوں کے اندر اس کو رد کر دیا، چلیے مولانا۔ ھٰذَا ھُوَ الْمَرَامُ وَ اللهُ اَعْلَمُ بِحَقِیْقَةِ الْكَلَامِ۔ چلیے جی، آپ سب حضرات کو بھی مبارک ہو بھئی، دو کتابیں آج ختم ہوئیں۔ اور بڑی مبارک کتابیں ہیں، چلیے بھئی، دعا کر لیں بھئی، ختمِ مبارک کتابیں جن کی ختم ہوئیں دعائیں قبول ہوتی ہیں مولانا، اور دعا کا طریقہ یہ ہے مولانا، شروع میں الحمد للہ رب العالمین پڑھا جائے اور اس کے بعد درود شریف پڑھا جائے اور پھر آخر میں بھی آمین اور کہا جائے اور درود شریف پڑھا جائے، اس سے دعا قبولیت کے قریب تر ہو جاتی ہے بھئی۔ الحمد للہ رب العالمین، اللہم صل علی محمد۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما، اے اللہ! ہماری تمام حاجات پوری فرما، اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما، اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما، اے اللہ! یہ دو دین کی مبارک کتابیں ختم ہوئی ہیں، اے اللہ! ان کا ختم ہمارے لیے مبارک فرما، اے اللہ! ہمارے لیے مبارک فرما، اے اللہ! ہم سب کے لیے اس کو مبارک فرما، اے اللہ! ہماری تمام حاجات پوری فرما، اے اللہ! اس کے ان کتابوں کے پڑھنے پڑھانے میں اے اللہ! کوئی غلطی ہوئی ہو، کوئی کوتاہی ہوئی ہو اے اللہ! غلطیاں ہوئی ہوں گی اے اللہ! یقیناً کوتاہیاں ہوئی ہوں گی، بے ادبیوں، گستاخیاں ہوئی ہوں گی، اے اللہ! اپنے فضل و کرم سے سب کو معاف فرما، اے اللہ! ہمارے تمام گناہوں کو معاف فرما، اے اللہ! ہمارے تمام گناہوں کو معاف فرما، اے اللہ! ہمارے تمام گناہوں کو معاف فرما، اے اللہ! ہم سب کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں پر عمل کرنے والا بنا دے، اے اللہ! سنتوں کی بے انتہا محبت ہمارے سینوں میں پیدا فرما دے، اے اللہ! سنتوں پر عمل کو ہمارے لیے بے انتہا آسان بنا دے، اے اللہ! ہماری تمام حاجات پوری فرما، اے اللہ! جتنے حاضرین ہیں اے اللہ! سب کی تمام حاجات پوری فرما، اے اللہ! سب کی تمام تکالیف دور فرما، اے اللہ! سب کی پریشانیاں دور فرما، اے اللہ! جتنے حاضرین ہیں اے اللہ! سب کی حاجات پوری فرما، اے اللہ! جن کے گھروں میں کوئی پریشانیاں ہیں اے اللہ! ان پریشانیوں کو دور فرما، اے اللہ! ان پریشانیوں کو دور فرما، اے اللہ! جو کچھ بیمار ہیں اللہ یا گھروں میں کوئی بیمار ہیں اللہ سب کو شفاء نصیب فرما، اے اللہ! صحت و عافیت نصیب فرما، اے اللہ! اے اللہ! ان سب سے اے اللہ! جتنے حاضرین ہیں اے اللہ! سب کو عافیت و معافات نصیب فرما، اے اللہ! سب کو عافیت و معافات نصیب فرما، اے اللہ! سب کو عافیت و معافات نصیب فرما، اے اللہ! ہمارے دلوں کو اپنی طرف پھیر دے، اے اللہ! ہمارے دلوں میں اے اللہ! آخرت کا شوق پیدا فرما، اے اللہ! دنیا کی نفرت ہمارے دلوں میں پیدا فرما، اے اللہ! اے اللہ! اے اللہ! مسلمانوں کی حفاظت فرما، اے اللہ! مسلمانوں کو پھر غلبہ نصیب فرما، اے اللہ! کفار کو ذلیل و رسوا فرما، اے اللہ! ان کے ٹکڑے ٹکڑے فرما، اے اللہ! ان پر اپنا عذاب نازل فرما، اے اللہ! ان کی جمعیت کو پارہ پارہ فرما، اے اللہ! ان کی سازشوں کو انہی اور ان کے مکر و فریب کو انہی پر لوٹا دے، اے اللہ! میرے جتنے تلانہذا ہیں اللہ ان سب کو خوشیاں نصیب فرما، اے اللہ! سب کی پریشانیاں دور فرما، اے اللہ! ان میں سے ہر ایک کو اے اللہ! ان میں سے ہر ایک کو علم و عمل کا پہاڑ بنا دے، اے اللہ! جس کے اے اللہ! علم و عمل کا پہاڑ بنا دے، اے اللہ! ان سے اے اللہ! ہم سب کی اوقات کو دین کے لیے قبول فرما، اے اللہ! ہم سے اپنی ساری زندگیاں دین کی خدمت ہم سب سے دین کی خدمت لے لے، اے اللہ! ہمیں اپنے تمام اوقات دین کے لیے وقف کرنے کی توفیق نصیب فرما، اے اللہ! دنیاوی پریشانیاں اور تکالیف سے ہم سب کی حفاظت فرما، اے اللہ! ہم سب کی حفاظت فرما، اے اللہ! ہم سب کے گناہوں کو معاف فرما، اے اللہ! ہمارے جو عزیز اقارب ہم سے رخصت ہو چکے ہیں اے اللہ! اس دنیا سے چلے گئے، اے اللہ! سب کی مغفرت فرما، اے اللہ! سب کی لغزشوں سے درگزر فرما، اے اللہ! سب کے درجات بلند فرما، اے اللہ! اے اللہ! ان کے درجات بلند فرما، اے اللہ! جو ہمارے اساتذہ اے اللہ! اس دنیا سے چلے گئے، اے اللہ! تو ان سب کی مغفرت فرما، اے اللہ! ان کی لغزشوں سے درگزر فرما، اے اللہ! ان کے درجات بلند فرما، اے اللہ! ان کی اولاد باقی ہیں ان کو خوشیاں نصیب فرما، اے اللہ! ان کو وسیع حلال رزق نصیب فرما، اے اللہ! ان کی تکلیف اور پریشانیوں کو دور فرما، اے اللہ! جو ہمارے اساتذہ زندہ ہیں ان کو بھی خوشیاں نصیب فرما، اے اللہ! ان کی تکالیف اور پریشانیوں کو دور فرما، اے اللہ! ان کی پریشانیوں کو دور فرما، اے اللہ! ان کو وسیع حلال رزق نصیب فرما، اے اللہ! ان کو اطمینان و سکون و مسرت نصیب فرما، اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما، اے اللہ! اے اللہ! ہمارے سینوں کو قرآن و حدیث کے نور سے منور فرما، اے اللہ! ہمیں علم و عمل کے ساتھ ہمارے جسموں کو منور فرما، اے اللہ! ہمارے سینوں میں قرآن کا نور ہو، اے اللہ! آپ کی محبت کا نور ہو، اے اللہ! آپ کے قرآن کی محبت کا نور ہو، اے اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا نور ہو، اے اللہ! صحابہ کرام سے محبت کا نور ہو، اے اللہ! تابعین، تبع تابعین کی محبت کا نور ہو، اے اللہ! ائمہ فقہاء کی محبت کا نور ہو، اے اللہ! مفسرین، محدثین کی محبت کا نور ہو، اے اللہ! شہداء کی محبت کا نور ہو، اے اللہ! علماء، اولیاء، طلباء، خواص کی محبت کا نور ہو، اے اللہ! ہم سب کے سینوں کو منور فرما، اے اللہ! ہم سب کے سینوں کو منور فرما، اے اللہ! ہمیں نیک عمل کرنے کی توفیق نصیب دینے، نیک عمل کرنے کی توفیق نصیب فرما، اے اللہ! ہمیں نیک اور سیدھے راستے پر چلنا ہمارے لیے آسان فرما، اے اللہ! اس زمانے میں ہم سب کی حفاظت فرما، اے اللہ! اے اللہ! ہم سب کے ایمان کی بھی حفاظت فرما، اے اللہ! ہم سب کا خاتمہ ایمان پر فرما، اے اللہ! ہم سب کی قبروں کو منور فرما، اے اللہ! قبر میں جائیں ایمان کو لے کر کے جائیں، اے اللہ! ہم سب کی قبروں کو منور فرما، اے اللہ! قیامت کے دن کی شرمندگی اور رسوائی سے ہماری حفاظت فرما، اے اللہ! قیامت کے دن ہماری ملاقات آپ سے اس حال میں ہو کہ آپ بھی ہم سے راضی ہوں، آپ کے رسول بھی ہم سے راضی ہوں، اے اللہ! اے اللہ! ہمیں جنت الفردوس نصیب فرما، اے اللہ! ہمیں جنت الفردوس نصیب فرما، اے اللہ! ہمیں جنت الفردوس نصیب فرما، اے اللہ! جہنم کی آگ سے ہماری حفاظت فرما، اے اللہ! جہنم سے ہماری حفاظت فرما، اے اللہ! جہنم سے ہماری حفاظت فرما، اے اللہ! ہم جتنے حاضرین ہیں اللہ سب کو حلال رزق نصیب فرما، اے اللہ! جو رزق کے معاملے میں پریشان۔ 4 ایم کو وسیع حلال رزق نصیب فرما۔ اے اللہ، کشادہ حلال رزق نصیب فرما۔ اے اللہ، اے اللہ، حرام کے ذرے ذرے سے ہماری حفاظت فرما۔ اے اللہ، ہماری بھی، ہمارے گھر والوں کی بھی حفاظت فرما۔ اے اللہ، ہماری بھی، ہمارے گھر والوں کی اور قیامت تک ہماری نسلوں کی بھی حرام سے حفاظت فرما۔ اے اللہ، قیامت تک ہماری نسلوں کی بھی ایمان کی حفاظت فرما۔ اے اللہ، ہم سب کے سینوں کو منور فرما۔ اے اللہ، ہم سب کے سینوں کو منور فرما۔ اے اللہ، دین کے کاموں کے سلسلے میں، اے اللہ، اے اللہ، ہمیں ہمت اور قوت نصیب فرما۔ اے اللہ، ہمیں صحیح سمجھ اور فہم نصیب فرما۔ اے اللہ، ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ، جن حضرات نے دعاؤں کے لیے کہا ہے، چاہا ہے، اے اللہ، ان کی حاجات کو بھی پورا فرما۔ اے اللہ، ان کی تکلیف اور پریشانیوں کو دور فرما۔ اے اللہ، اس دین کی نسبت سے انہوں نے ہمیں دعاؤں کا کہا ہے، اے اللہ، ہماری دعاؤں کو رد نہ فرما۔ اے اللہ، ہم سب کی دعاؤں کو قبول فرما۔ اے اللہ، ہم سب کی دعاؤں کو قبول فرما۔ اے اللہ، میرے جتنے تلامذہ ہیں، اے اللہ، اے اللہ، ان کو دنیا میں بھی معزز و محترم فرما۔ اے اللہ، دنیا میں بھی ان کو خوب عزتیں نصیب فرما۔ اے اللہ، ان کو آخرت میں بھی معزز و محترم فرما۔ اے اللہ، آخرت میں بھی ان کو خوب عزتیں نصیب فرما۔ اے اللہ، ان سے ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ یا ارحم الراحمین، یا ارحم الراحمین، یا ارحم الراحمین، اے اللہ، ہماری دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ، آپ کی رحمت تو بڑی وسیع ہے۔ اے اللہ، آپ کے خزانے بڑے وسیع ہیں۔ اے اللہ، آپ کی ذات کی قسم، آپ کے خزانے بڑے وسیع ہیں۔ آپ خود فرماتے ہیں، اے اللہ، آپ کے پیغمبر نے فرمایا ہے کہ اللہ فرماتے ہیں، اور یقیناً آپ کے پیغمبر کا کلام آپ ہی کا کلام ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب سے میں نے یہ کائنات بنائی ہے اور میں تقسیم کر رہا ہوں، اور آج تک میرے خزانوں میں مچھر کے پر کے برابر کمی نہیں آئی۔ اے اللہ، آپ کے خزانے تو بہت وسیع ہیں۔ اے وسیع خزانوں والے، اے اللہ، ہماری دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ، ہم ہماری دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ، ہماری اس مجلس کو مبارک فرما۔ اے اللہ، خسارے والی نہ بنا۔ اے اللہ، ہماری اس مجلس کو مبارک فرما۔ اے اللہ، ہماری مجلس ان مجالس میں سے بنا دے، اے اللہ، جس کے گرد اس وقت فرشتے، اے اللہ، صفیں بنائے ہوئے کھڑے ہوں۔ اے اللہ، صفیں بنائے ہوئے آسمان تک کھڑے ہوں۔ اے اللہ، آپ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے، اور یقیناً ان کی بات آپ ہی کی بات ہے، وہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے نیک فرشتے نیک مجالس کی تلاش میں رہتے ہیں، اور زمین پر جب انہیں کوئی نیک مجلس ملتی ہے، تو سارے اس کے گرد کھڑے ہو جاتے ہیں اور ایک دوسرے کو بلاتے ہیں اس طرف۔ یہاں تک کہ ان کی صفیں بنتی چلی جاتی ہیں اور آسمان تک اس ساری مجلس والوں کو گھیر لیتے ہیں اور ان پر صفیں بنا لیتے ہیں۔ اے اللہ، ہماری مجلس بھی ان مجالس میں سے بنا۔ اے اللہ، مبارک فرما ہماری اس مجلس کو بھی۔ اے اللہ، ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ، ہر شر اور فتنے سے ہماری حفاظت فرما۔ اے اللہ، تمام عالم کے مسلمان اس وقت تکلیف میں ہیں۔ اے اللہ، سب کی مدد و نصرت فرما۔ اے اللہ، سب کو ہمت اور قوت نصیب فرما۔ اے اللہ، مسلمانوں کو پھر غلبہ نصیب فرما۔ اے اللہ، ہمیں تمام، ہم سب کو، اے اللہ، پھر اسلام کی طرف پھیر دے۔ اے اللہ، اسلام کے ہر ہر، اس تمام اسلام پر عمل کرنے کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ، اسلام کے پر مکمل طور پر عمل کرنے کی ہمیں توفیق نصیب فرما۔ مجاہدین کے لیے بھی خصوصی دعا کرو۔ اے اللہ، ان تمام مجاہدین، مبلغین کی حفاظت فرما۔ اے اللہ، ان سب کو ہمت اور قوت نصیب فرما۔ اے اللہ، دشمنوں پر ان کا، پر ان کا رعب طاری فرما۔ اے اللہ، جو مجاہدین پریشان ہیں، اے اللہ، سب کی جو بھی، مسلمان دینی کام میں مصروف جس انداز میں بھی وہ پریشان ہیں، اے اللہ، سب کی مدد فرما۔ اے اللہ، سب کی نصرت فرما۔ اے اللہ، سب کی نصرت فرما۔ اے اللہ، سب کی حفاظت فرما۔ اے اللہ، سب کو ہمت اور قوت نصیب فرما۔ اے اللہ، سب کو ہمت اور قوت نصیب فرما۔ اے اللہ، ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ یا ارحم الراحمین، یا اکرم الاکرمین، اے اللہ، ہمارے ہاتھوں کو خالی نہ لوٹا۔ اے اللہ، ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ، ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ، اے اللہ، آپ فرماتے ہیں کہ جب میں کسی کو کچھ عطا کرتا ہوں، کسی کی دعا قبول کرتا ہوں، تو مجھے کچھ کرنا نہیں پڑتا، صرف "کن" کہنا پڑتا ہے اور وہ ہو جاتا ہے۔ تو اے اللہ، اے اللہ، ہمارے ہاتھوں کو خالی نہ لوٹا۔ اے اللہ، ہماری دعاؤں پر بھی "کن" فرما دیجیے۔ اے اللہ، ہماری دعاؤں پر بھی "کن" فرما دیجیے۔ اے اللہ، ہماری دعاؤں پر بھی "کن" فرما دیجیے۔ اے اللہ، ہمارے سینوں کو اپنی طرف پھیر دیجیے۔ اے اللہ، ہمارے سینوں میں اپنی محبت بھر دیجیے۔ اے اللہ، صحابہ و انبیاء کی محبت بھر دیجیے۔ اے اللہ، عمل کو ہمارے لیے آسان بنا دیجیے۔ اے اللہ، گناہوں کو معاف فرما دیجیے۔ اے اللہ، ہماری بھی حفاظت فرما، ہمارے گھر والوں کی بھی حفاظت فرما۔ اے اللہ، گناہوں والی مجالس سے ہم سب کی حفاظت فرما۔ اے اللہ، ہم جس طرف، اے اللہ، جتنے حاضرین ہیں، میرے جتنے تلامذہ بھی ہیں، اے اللہ، جُدھر کا رخ کریں، اے اللہ، انوارات، آپ کے انوارات ساتھ ہوں۔ اے اللہ، آپ کی رحمتیں ساتھ ہوں۔ اے اللہ، آپ کی برکتیں ساتھ ہوں۔ ان کو، اے اللہ، ایسا منور فرما دے کہ جہاں جائیں اس پورے علاقے کو منور فرما دیں۔ اے اللہ، ان کے کاموں میں بھی انتہائی برکت پیدا فرما۔ اے اللہ، ہمیں ہمت اور قوت نصیب فرما۔ اے اللہ، ہم نے آپ کے دین کی دو عظیم کتابیں آج ختم کی ہیں۔ اے اللہ، ان کی برکت سے، ان کے وسیلے سے ہم آپ سے دعا کرتے ہیں، اے اللہ، ہماری دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ، ہماری دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ، ہماری دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ، اے اللہ، آپ تو رحیم و کریم ہیں۔ اے اللہ، آپ تو رحیم و کریم ہیں۔ اور کسی رحیم و کریم سے سوال کیا جائے وہ کبھی کسی کو خالی ہاتھ نہیں لوٹاتا۔ اے اللہ، آپ بھی ہمارے ہاتھوں کو خالی نہ لوٹائیے۔ اے اللہ، ہماری دعائیں قبول فرما لیجیے۔ اے اللہ، میرے جتنے تلامذہ ہیں، ان میں سے ہر ایک کو بڑا عالم بنا۔ اے اللہ، ان میں سے ہر ایک کو علمائے کبار میں سے بنا۔ اے اللہ، ہر ایک کو علم سے بھی منور فرما۔ اے اللہ، ہر ایک کو عمل سے بھی منور فرما۔ اے اللہ، ان سے دین کا کام لے۔ اے اللہ، کفر و شرک اور بدعات کو ختم کرنے کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ، ان میں سے ہر ایک کو کفر و شرک اور بدعات کے سامنے ایک عظیم جبل بنا دے، ایک عظیم پہاڑ بنا دے۔ اے اللہ، ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ میرے لیے بھی آپ حضرات سے دعاؤں کی خصوصی درخواست ہے۔ دعا فرمائیں اللہ تعالی صحت اور عافیت نصیب فرمائے۔ اللہ تکالیف اور پریشانیوں کو دور فرمائے۔ اللہ صحت اور عافیت نصیب فرمائے۔ اللہ جنت الفردوس نصیب فرمائے۔ اور تمام پریشانیوں، ان پریشانیاں وغیرہ کو دور فرمائے۔ ہر شر، فتنے اور آزمائش سے حفاظت فرمائے اور قبولیت نصیب فرمائے۔ اے اللہ، ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اب میری والدہ کے لیے بھی آپ حضرات سے دعاؤں کی درخواست ہے۔ وہ بیمار ہیں، دعا فرمائیں اللہ ان کو صحت اور عافیت نصیب فرمائے۔ ان کا سایہ ہمارے سروں پر تا دیر، تا دیر، خوشی اور مسرت کے ساتھ اللہ قائم و دائم رکھے۔ تکالیف اور پریشانیوں سے اللہ حفاظت فرمائے۔ اے اللہ، اطمینان و سکون نصیب فرما۔ اے اللہ، جتنے، اے اللہ، حاضرین ہیں، اے اللہ، ان جن کے والدین زندہ ہیں، اے اللہ، سب کو صحت اور عافیت نصیب فرما۔ اے اللہ، ان کے والدین کا سایہ ان کے سروں پر تا دیر قائم و دائم رکھ۔ اے اللہ، خوشیاں نصیب فرما۔ اے اللہ، اور ہمیں والدین کی خدمت کرنے کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ، اے اللہ، ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ، ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ میری ہمشیرہ نے بھی آپ حضرات سے دعاؤں کی درخواست کے لیے پیغام بھجوایا۔ ان کے لیے بھی دعا کریں، والد صاحب کی وفات کے بعد وہ بڑی پریشان رہتی ہیں۔ دعا فرمائیں اللہ ان کی پریشانیوں کو دور فرمائے۔ اللہ ان کو اطمینان و سکون نصیب فرمائے۔ اللہ ان کو عزت نصیب فرمائے۔ اے اللہ، ان کی ہر شر اور فتنے سے حفاظت فرما۔ اے اللہ، ان کا خاتمہ ایمان پر فرما۔ ان کے بچوں کے لیے بھی، انہوں نے بچوں کے لیے بھی اپنے دعا کا کہا ہے۔ دعا فرمائیں اللہ ان کو صحت اور عافیت نصیب فرمائے۔ اللہ ان کو علمائے کبار میں سے بنائے۔ اے اللہ، دین کے بڑے علماء میں سے بنا۔ اے اللہ، ان کے فیض کو عام فرما۔ اے اللہ، ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ، ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ، ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ، ہر شر اور فتنے سے حفاظت فرما۔ اے اللہ، جتنے حاضرین ہیں، سب کی تمام حاجات پوری فرما۔ اے اللہ، ہم سب کی تمام حاجات پوری فرما۔ صلی اللہ تعالیٰ علی... آپ حضرات میں سے بھئی کسی کو میں نے سختی کی ہو، پٹائی کی ہو سال میں اگر کسی کی، تو آپ حضرات سے میں معافی مانگتا ہوں۔ للہ للہ مجھے معاف کر دینا۔ آپ کی بہتری کے لیے ہو سکتا ہے کبھی سختی کی ہو۔ چلیے جی، اللہ آپ سب کو بڑا عالم بنائے۔