فصل کلمة "على" للإلزام، وأصله لإفادة معنى التفوق والتعلي، ولهذا لو قال: "لفلان علي ألف" يحمل على الدين بخلاف ما لو قال: "عندي" أو "معي" أو "قبلي". حروف معانی میں سے نوواں حرف جس کی آج مصنف بحث کریں گے، وہ "علی" ہے بھئی۔ یاد رکھو "علی" الزام کا فائدہ دیتا ہے۔ "علی" کیا ہے؟ الزام، یعنی ایک چیز کو دوسرے پر لازم کرنے کا فائدہ دیتا ہے۔ لازم۔ وجہ یہ کہ "علی" جو ہے لغت میں تفوق اور تعلی کے لیے آتا ہے۔ تفوق اور تفوق اور تعلی کا معنی ہے بلند ہونا، بلند ہونا۔ یعنی ایک چیز دوسرے پر ہو، اس پر بلند ہو، اس کے اوپر ہو، اس کے لیے کیا آیا کرتا ہے؟ "علی"۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو "علی" کیا ہے؟ الزام کا فائدہ دیتا ہے اس لیے کہ یہ کس کے لیے وضع ہے؟ تفوق اور تعلی کے لیے مولانا، تفوق اور تعلی یعنی ایک چیز دوسرے پر بلند ہے مولانا۔ پھر یہ تفوق اور تعلی دو قسم پر ہے بھئی۔ ایک تفوق اور تعلی حساً ہے اور ایک حکماً ہے۔ جیسے میں کہتا ہوں حساً کی مثال جیسے بھئی، "زيد على السطح"، "زيد" "على السطح"، زید چھت پر ہے۔ تو دیکھا زید حساً آپ دیکھ بھی رہے ہیں، کیا ہے؟ چھت کے اوپر ہے، حقیقتاً اس کے اوپر ہے، چھت اس کے نیچے ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی؟ اور ایک تعلی ہے حکماً مولانا، حکماً۔ جیسے کوئی شخص کہتا ہے "لفلان علي ألف"، فلاں کے مجھ پر کیا ہیں؟ ایک ہزار ہیں۔ تو معلوم ہوا یہ ایک ہزار جو اس پر ہیں وہ قرض کے ہیں، کس چیز کے ہیں؟ قرض کے ہیں، اور قرض حقیقتاً حساً آدمی کے اوپر نہیں ہوتا بھئی، اس کے سر پر ہوتا ہے بھئی؟ جی، دکھائی دیتا ہے کبھی؟ نہیں، ہاں حکماً اس پر ہے، اس سمجھ میں آیا؟ اس پر سوار ہے قرض بھی بھئی، اس پر بوجھ ہوتا ہے شخص پر اور سوار ہوتا ہے مولانا۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو تعلی دو قسم پر ہوئی، ایک حساً ہوئی اور ایک حکماً ہوئی، اور حکماً کی کیا مثال ہے؟ جیسے قرض بھئی، کیونکہ قرض بھی کسی شخص پر کیا ہوتا ہے؟ سوار ہوتا ہے اور اس پر بوجھ ہوا کرتا ہے بھئی۔ اس پر لازم ہوا کرتا ہے، اس پر لازم ہوا کرتا ہے، اسی لیے کہا یہ الزام کے لیے آتا ہے، لازم ایک چیز کو دوسرے پر۔ تو کہتے ہیں "کلمة على للإلزام"، کلمہ "علی" جو ہے وہ الزام کے لیے ہے یعنی ایک چیز کو دوسرے پر لازم کرنے کے لیے۔ "وأصله لإفادة معنى التفوق والتعلي"، اور اس کی اصل کیا ہے؟ یعنی معنی لغوی کیا ہے؟ فائدہ دینا ہے تفوق اور تعلی کے معنی کا۔ تفوق اور تعلی کے معنی کا فائدہ دینا اس کی اصل ہے، اس کی اصل ہے۔ تفوق اور تعلی کا کیا معنی؟ بلند ہونا، اوپر ہونا کسی چیز پر۔ "ولهذا لو قال"، اور اسی وجہ سے اگر کسی شخص نے کہا "لفلان علي ألف"، فلاں کے مجھ پر ایک ہزار ہیں۔ اب سوال پیدا ہوا اس کو کس پر محمول کیا جائے؟ قرض سمجھا جائے یا امانت سمجھی جائے؟ کہتے ہیں بھئی یہ قرض پر محمول کریں گے، یہ جو ایک ہزار ہیں اس کے اوپر یہ کیا ہیں؟ کیونکہ اس نے کلمہ "علی" ذکر کیا اپنے کلام میں بھئی، اور "علی" کس لیے آیا کرتا ہے؟ الزام میں بھئی، تفوق اور تعلی کا معنی پایا جائے جس میں، اور تفوق اور تعلی والا اور الزام والا معنی کس کے اندر آئے گا؟ قرض کے اندر آئے گا کیونکہ قرض بھی آدمی پر سوار ہوتا ہے اور اس پر کیا ہوا کرتا ہے؟ بوجھ ہوتا ہے، تو "علی" کی وجہ سے اب یہ قرض پر محمول ہوگا۔ "يحمل على الدين"، تو یہ محمول ہوگا دین پر، قرض پر۔ "بخلاف ما لو قال عندي أو معي أو قبلي"، بخلاف اس کے اگر اس نے یہ کہا "عندی" کہا، "علی" کے بجائے کیا لفظ استعمال کیا؟ "عندی"۔ سمجھ میں آیا؟ مثلاً کہتا ہے "عندي ألف لفلان" بھئی، یا "لفلان عندي ألف" بھئی، یا کہتے ہیں "لفلان معي ألف" یا "لفلان قبلي ألف"، ان ساری صورتوں میں اب یہ مولانا اس کو دین پر ہم محمول نہیں کریں گے۔ دین پر محمول، کیونکہ وہ "علی" کلمے کو اس نے ذکر نہیں کیا، تو ان صورتوں میں یہ محمول ہوگا امانت پر، یعنی اس کے پاس جو ایک ہزار ہیں وہ کس چیز کے ہیں؟ امانت کے ہیں، اگر "علی" ہوتا تو پھر تو کیا تھا؟ قرض پر محمول کرتے بھئی، جی۔ "وعلى هذا"، اور اسی بناء پر، اسی بناء پر کہ یہ جو کلمہ "علی" کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ تعلی اور تفوق کا فائدہ دیتا ہے۔ "قال في السير الكبير"، امام محمد رحمہ اللہ سیرِ کبیر میں فرماتے ہیں: "إذا قال رأس الحصن"، جب کہا قلعے کے سردار نے، "رأس" بھئی، سردار بھئی "رأس القوم"، سردار کو کیا کہتے ہیں بھئی؟ "رأس القوم" بھی کہتے ہیں بھئی، قوم کا سر ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ یعنی سردار بھئی، ان کا امیر جو ہوگا۔ بھئی مسلمانوں کے ایک لشکر نے کفار کے قلعے کا محاصرہ کر لیا بھئی۔ کفار کے سردار نے ایک پیغام بھجوایا: "آمنوني على عشرة"، مجھے امان دے دو دس آدمیوں پر، "علی" کلمہ لے کر آیا بھئی، دس آدمیوں پر بھئی، صورت سمجھ میں آئی؟ اچھا۔ ادھر مسلمانوں کے امیر نے کہا ٹھیک ہے، ہم تمہیں امان دیتے ہیں دس آدمیوں پر بھئی۔ اب اس صورت میں سردار کو بھی امان دیں گے ہم اور کتنوں کو امان دیں گے؟ دس آدمیوں کو بھی دیں گے، لیکن اس طور پر کہ ان دس آدمیوں کو چننے کا اختیار سردار کو ہوگا بھئی، وہ جن دس کو مرضی چن لے، ان کو بھی کیا حاصل ہو جائے گا؟ امان۔ کیوں؟ یہ اختیار اسے کیوں ہوگا؟ وجہ یہ کہ اس نے اپنے کلام میں "علی" کلمہ ذکر کیا ہے، اور "علی" کس لیے آیا کرتا ہے؟ تعلی اور تفوق کے لیے آیا کرتا ہے کہ ایک چیز دوسرے کے اوپر ہو مولانا، اور یہاں اس نے "علی" استعمال کیا، معلوم ہوا کہ وہ چاہتا ہے کہ اسے بھی امان ملے اور دس آدمیوں کو امان ملے، اور اس کو ان دس پر تعلی حاصل ہو۔ کیا حاصل ہو؟ تعلی اور تفوق حاصل ہو، اور تعلی اور تفوق اسی صورت میں حاصل ہوتا ہے اس کو کہ ان کو چننے کا اختیار کسے دیا جائے؟ اس کو دیا جائے۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ اس کو دیا جائے۔ جب کہا "إذا قال رأس الحصن"، جب کہا قلعے کے سردار نے "آمنوني على عشرة"، مجھے امان دے دو دس آدمیوں پر "من أهل الحصن"، قلعے والوں میں سے، " ففعلنا"، پس ہم نے ایسا کر دیا، یعنی ہم نے اس کو کیا کر دیا؟ امان دے دیا، ہم نے کہہ دیا بھئی "آمناك على عشرة"، "فالعشرة سواه"، تو دس اس کے علاوہ ہوں گے، "وخيار التعين له"، بھئی۔ تو دس اس کے علاوہ ہوں گے مولانا، اس لیے کہ کہ مستعلی اور مستعلی علیہ ایک دوسرے سے غیر ہوا کرتے ہیں۔ مستعلی جو اوپر ہو اور جس پر ہو، دونوں الگ الگ چیزیں ہوں گی، ایک ہی چیز اپنے اوپر ہو سکتی ہے؟ نہیں، معلوم ہوا تو اس نے کہا ہے مجھ کو دس پر امان دو، تو یہ ہوا مستعلی بھئی، اور وہ دس کیا ہوئے؟ مستعلی علیہ، اور مستعلی، مستعلی علیہ سے کیا ہوا کرتا ہے؟ غیر ہوا کرتا ہے، سمجھ میں آیا؟ مستعلی اوپر بھئی جو بلند ہے۔ "زيد على السطح"، زید کس پر ہے؟ چھت، تو زید کیا ہوا؟ اوپر ہے، تو وہ کیا ہوا؟ مستعلی، بلند، اور کس پر بلند ہے؟ چھت پر، وہ کیا ہے؟ مستعلی علیہ، اور مستعلی، مستعلی علیہ سے کیا ہوا کرتا ہے؟ غیر، معلوم ہوا یہ دس اس کے علاوہ ہوں گے، دس اس کے علاوہ ہوں گے۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو اسی لیے کہا "فالعشرة سواه"، دس اس کے علاوہ ہوں گے، "وخيار التعين له"، اور خیارِ تعین کس کو حاصل ہوگا؟ تعین، ان دس آدمیوں کی تعین کا اختیار کس کو حاصل ہوگا؟ اس قلعے کے سردار کو، کیوں؟ کیونکہ اس نے کیا کہا ہے؟ کلمہ "علی" کا ذکر کیا ہے، اور "علی" کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ تفوق اور تعلی کا، اور یعنی اس دس اسے بھی اور دس آدمیوں کو اور کو امان حاصل ہو، اس طور پر کہ اسے ان پر کیا حاصل ہو؟ تعلی حاصل ہو، اور تعلی حاصل ہونے کی کیا صورت ہے؟ کہ ان کو چننے کا اختیار اس کو دیا جائے۔ "ولو قال آمنوني وعشرة"، اگر اس نے یوں کلام کیا، "علی" نہیں لایا بلکہ کیا کہا؟ "آمنوني"، مجھے بھی امان دو "وعشرة"، اور دس کو بھی، یا مولانا "آمنوني فعشرة"، "ف" لے کر آیا، مجھے بھی امان دو، پس دس کو بھی، یا یوں کہا "ثم" لایا "آمنوني ثم عشرة"، "ففعلنا"، ہم نے کر دیا، یعنی اس کو امان دے دی، "فكذلك"، تو اسی طرح ہوگا، اس کے لیے بھی امان ثابت ہوگا اور دس اور آدمیوں کے لیے بھی امان ثابت ہوگا، البتہ کچھ فرق آئے گا، وہ کیا؟ کہتے ہیں "وخيار التعين للأمنين"، تعین کا اختیار اب کس کو ہوگا؟ امان دینے والے کو، سمجھ میں آیا بھئی؟ کیونکہ اس نے اب "علی" استعمال نہیں کیا، لہذا اب امان تو دے دیں گے ہم لیکن اس طور پر نہیں کہ اسے تعلی حاصل ہو بلکہ مطلق امان ہو جائے گا، اس کے لیے بھی اور دس اس کے علاوہ، اور وہ چننا اب کس کا اختیار ہوگا؟ امان دینے والے کا، جن کو چاہے دے دے۔ "وقد يكون على بمعنى الباء"، اور کبھی کبھی "علی" بمعنی "با" کے بھی آتا ہے بھئی، "علی" بمعنی "با" کے بھی آتا ہے "مجازاً"، مجازی طور پر بھئی، یہ "علی" کا کونسا معنی ہے؟ مجازی۔ کب؟ یہ کب ہوگا؟ جب یہ مولانا عوض پر داخل ہو، بھئی عوض کے لیے تو عربی میں کیا وضع ہے؟ "با"۔ "اشتريت الغلام بألف درهم"، میں نے غلام کو کتنے درہم میں خریدا؟ ہزار درہم میں خریدا، تو دیکھیے مولانا خریدا کس چیز کو؟ غلام کو، اور اس کے عوض میں آپ نے کیا دیے؟ ایک ہزار درہم، اور عوض پر یہاں کیا داخل ہو رہی ہے؟ "با"۔ "اشتريت الغلام بألف درهم"، تو یہ "با" کس پر داخل ہوا کرتی ہے؟ عوض پر داخل ہوتی ہے، سمجھ میں آیا؟ فقہ کے اندر بھی یاد رکھیں کہ "با" جو ہے ثمن پر داخل ہوتی ہے، کس پر داخل ہوتی ہے؟ ثمن پر داخل ہوتی ہے، کوئی مسئلہ ذکر ہو ایک چیز تو مبیعہ بنے گی، بیع کا مسئلہ ذکر ہو اس میں ایک مبیعہ ہوگا، ایک کیا ہوگی؟ ثمن، اب پتہ کیسے چلے گا؟ کہ ثمن کیا ہے اور مبیعہ کیا ہے؟ جبکہ وہ دونوں مثلاً سامان کی قبیل سے ہوں مثلاً، مثلاً ایک شخص کہتا ہے "اشتريت الغلام بالجارية"، میں نے غلام کو خریدا باندی کے بدلے میں، یعنی باندی دی اور غلام لے لیا، اب یہاں پر ایک طرح ایک ہے غلام ایک ہے باندی، تو ثمن کیا چیز ہے بھئی؟ جس پر کیا داخل ہو رہی ہے؟ "با" مولانا، معلوم ہوا ثمن کیا ہے؟ باندی ہے، ثمن کیا ہے؟ باندی ہے۔ تو "با" عربی میں عوض کے لیے آتی ہے، تو جب "علی" عوض پر داخل ہو تو وہاں سمجھ لینا کہ یہ "علی" کس معنی میں ہے؟ "با" کے معنی میں ہے۔ "وقد يكون على بمعنى الباء مجازاً"، اور کبھی کبھار "علی" بمعنی "با" کے ہوگا مجازاً بھئی، "حتى لو قال"، یہاں تک کہ اگر کسی نے کہا "بعتك هذا على ألف"، میں نے بیچی یہ چیز "على ألف"، کتنے پر؟ کتنے کے بدلے میں؟ ایک، تو یہاں دیکھو "علی" آیا "الف" پر داخل ہو رہا ہے، عوض پر، اور عوض کے لیے تو کیا آتی ہے؟ "با"، معلوم ہوا یہ "علی" کس معنی میں ہے؟ "با" کے معنی میں ہے، "يكون على بمعنى الباء لقيام دلالة المعاوضة"، تو "علی" بمعنی "با" کے ہوگا بمعاوضے کی دلالت کے قائم ہونے کی وجہ سے، کہ معاوضے پر داخل ہو رہا ہے یہ مولانا، اور یہ دلیل ہے اس بات کی کہ یہ "علی" کس معنی میں ہے؟ عوض پہ داخل ہو رہا ہے اور عوض پر تو کیا داخل ہوا کرتی ہے؟ "با"، اور یہاں تو آ گیا "علی"، معلوم ہوا یہ "علی" کس کے معنی میں ہے؟ "با" کے معنی میں ہے۔ "وقد يكون على بمعنى الشرط"، اور کبھی "علی" کس معنی میں ہوگا؟ شرط بھئی۔ "قال الله تعالى: يبا يعنك على أن لا يشركن بالله شيئاً"، کہ اللہ فرماتے ہیں: "يبايعنك"، وہ یہ عورتیں بیعت کرتی ہیں پیغمبر آپ کی، "على"، شرط کے معنی میں ہے، اس شرط پر "أن لا يشركن بالله شيئاً"، کہ یہ شریک نہیں کریں گی اللہ کے ساتھ کسی چیز کو بھی، کہ پیغمبر یہ عورتیں آپ کی بیعت کرتی ہیں اس شرط پر کہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو بھی شریک نہیں، تو "علی" شرط کے لیے آیا۔ "ولهذا"، اور اسی بناء پر "قال أبو حنيفة رحمه الله تعالى"، امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "إذا قالت لزوجها"، جب کہا عورت نے "لزوجه"، اپنے خاوند سے "طلقني ثلاثاً على ألف"، تو مجھے طلاق دے دے ایک ہزار کی، تین طلاقیں دے دے، تو مجھے تین طلاقیں دے دے ایک ہزار کی شرط پر، کتنے پر؟ تو امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہاں "علی" شرط کے لیے آیا بھئی، کس کے لیے آیا؟ شرط کے لیے، تین طلاقیں دے دے کس شرط پر؟ ایک ہزار کی شرط پر۔ سمجھ میں آیا؟ یعنی اگر تم مجھے تین طلاقیں دو گے تو میں تمہیں کتنے دوں گی؟ کتنے پیسے؟ ایک ہزار دوں گی بھئی، ایک ہزار درہم مثلاً دوں گی۔ تو امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہاں "علی" کس معنی کے لیے آیا؟ شرط کے معنی کے لیے آیا، جبکہ صاحبین فرماتے ہیں یہ "علی" "با" کے معنی میں ہے کیونکہ یہ عوض پر داخل ہو رہی ہے۔ اختلاف ہے، امام صاحب اس "علی" کو کس پر محمول کرتے ہیں؟ کس معنی پر؟ شرط کے معنی پر، اور صاحبین کس معنی میں لیتے ہیں اس کو؟ "با" کے معنی میں بھئی، تو "با" کے معنی میں لیتے ہیں، کیوں؟ کہتے ہیں کہ یہ کس پر داخل ہو رہی ہے؟ عوض پر بھئی، وہ عوض کو ذکر کر رہی ہے اور "علی" اس پر لائے اور "علی" تو عوض پر نہیں آتا، عوض پر تو کیا آتی ہے؟ "با"، تو یہ کس معنی میں ہوا؟ "با"۔ جبکہ امام صاحب فرماتے ہیں کہ نہیں، یہاں عوض پر محمول نہیں کریں گے اس کو، شرط کے معنی پر محمول کریں گے اس لیے کہ طلاق جو ہے وہ عموماً عوض کے بدلے نہیں دی جاتی، معزز لوگ تو طلاق میں عوض لینا پسند نہیں کرتے، طلاق عام طور پر بغیر عوض ہی کے دی جاتی ہے، لہذا اس کو یہاں "با" پر محمول نہیں، "با" کے معنی پر محمول نہیں کریں گے بلکہ کس معنی پر محمول کریں گے؟ شرط کے۔ فرق آئے گا دونوں مسئلوں میں مولانا۔ فرق یہ کہ معوض کے اندر تقسیم سے عوض میں بھی تقسیم آتی ہے، معوض میں تقسیم سے عوض کے اندر بھی کیا آیا کرتی ہے؟ تقسیم آتی ہے، مثلاً میں نے کہا کہ میں یہ تین کتابیں آپ کو تین ہزار میں بیچوں گا، بیچتا، بیچتا ہوں بھئی، کتنے پر بیچتا ہوں؟ یہ تین کتابیں میں نے آپ کو ایک ہزار، تین ہزار میں بیچیں، آپ ان میں سے صرف ایک کتاب لیتے ہیں، معوض میں آپ نے تقسیم کر دی، اور جب معوض میں تقسیم آئے تو عوض میں بھی کیا آیا کرتی ہے؟ تقسیم، تو آپ کو کتنے پیسے دینے پڑیں گے؟ ایک ہزار بھئی، ایک کتاب لینا چاہتے ہیں، تین کے تین ہزار ہیں تو ایک کا کتنا ہو جائے گا؟ کیونکہ معوض میں تقسیم سے عوض کے اندر بھی کیا آتی ہے؟ تقسیم، تو معوض تو تین کتابیں تھیں، آپ نے ان کو تقسیم کیا ایک حصہ ایک کتاب لی، تو عوض بھی اس کا تیسرا حصہ تقسیم ہو جائے گا اس کے مقابلے میں آ جائے گا، تو ایک کتاب کے مقابلے میں کتنا آ جائے گا؟ ایک ہزار، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ اور جب کہ شرط اور مشروط میں ایسا نہیں۔ شرط کی تقسیم سے مشروط میں تقسیم نہیں آتی بھئی۔ شرط میں تقسیم سے مشروط میں تقسیم نہیں آتی بھئی۔ مثلاً ایک خاوند نے بیوی سے کہا: "إن دخلت هذه الدار ثلاثا فأنت طالق ثلاثا"، "اگر تو اس گھر میں تین دفعہ داخل ہوئی تو تجھے تین طلاقیں۔" "إن دخلت هذه الدار ثلاثا فأنت طالق"، اگر تو اس گھر میں تین دفعہ داخل ہوئی تو تجھے تین طلاقیں ہیں، اب آپ مجھے بتلائیے وہ عورت صرف ایک دفعہ اس گھر میں داخل ہوتی ہے تو کیا اسے ایک طلاق واقع ہو جائے گی؟ نہیں بھئی، خاوند نے تو کیا کہا ہے؟ کہ تین دفعہ داخل ہوگی تو پھر تو شرط ہے تین دفعہ داخل ہونے کی اور شرط کے اندر تقسیم ہو تو مشروط میں تقسیم، لہذا ان طلاقوں میں تقسیم نہیں آئے گی کہ ایک دفعہ داخل ہو تو کیا ہو جائے ایک طلاق، دو دفعہ داخل ہو تو دو ہو جائیں، اور تین دفعہ ہو تو تین دفعہ۔ یہ عوض معوض نہیں، عوض معوض ہوتے پھر تو تقسیم آتی لیکن یہ تو شرط مشروط، مشروط ہیں اور شرط میں تقسیم سے مشروط کے اندر تقسیم نہیں۔ لہذا ایک دفعہ داخل ہو تو بھی کوئی طلاق نہیں، دو دفعہ داخل ہو تو بھی کوئی طلاق نہیں، ہاں تیسری دفعہ، تیسری مرتبہ جب داخل ہوگی تو اکٹھی کتنی ہو جائیں گی؟ تین طلاقیں۔ تو ضابطہ کیا نکلا مولانا؟ کہ شرط کے اندر تقسیم سے مشروط تقسیم، مشروط میں تقسیم نہیں ہوتی۔ تو لہذا اب مسئلہ جدا ہو گیا، صاحبین نے عوض سے محمول کیا، لہذا کیا کہا تھا عورت نے؟ "طلقني ثلاثا"، "تو مجھے تین طلاقیں دے دے" "على ألف"، تو صاحبین نے کس پر محمول کیا؟ عوض پر، لہذا اب خاوند ایک طلاق دے دیتا ہے۔ تو صاحبین کے نزدیک بیوی پر کتنا لازم ہو جائے گا؟ ثلث بھئی، ایک ہزار کا ثلث بھئی لازم ہو جائے گا، دو دے دیتا ہے تو دو ثلث آ جائیں گے، تین دے گا تو پھر پورا ہزار آ جائے گا۔ جبکہ امام صاحب کے نزدیک یہ شرط مشروط، یہاں "علی" شرط کے معنی کے لیے آیا، لہذا یہاں شرط کے اندر تقسیم سے مشروط میں تقسیم نہیں، لہذا خاوند صرف ایک طلاق دے دیتا ہے تو کچھ بھی نہیں آئے گا۔ اس نے تو ایک ہزار کو کتنے کے ساتھ معلق کیا ہے؟ تین طلاقوں کے ساتھ، لہذا ایک طلاق اس پر کچھ بھی نہیں، دو دے دے تو بھی کچھ نہیں، ہاں تین دے دے گا تو پھر پورا اس پر کتنا آ جائے گا؟ مسئلہ سمجھ میں آ رہا ہے بھئی؟ "ولهذا قال أبو حنيفة رحمه الله تعالى"، اور اسی لیے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "إذا قالت لزوجها"، کہ جب کہا بیوی نے اپنے خاوند سے "طلقني ثلاثا"، "تو مجھے تین طلاقیں دے دے" "على ألف"، "ایک ہزار پر"، "فطلقها واحدة"، تو خاوند نے ایک طلاق دے دی اسے، "لا يجب المال"، اب بیوی پر مال واجب نہیں، یعنی ثلث مال واجب نہیں ہوگا، "لأن كلمة "على" هاهنا تفيد معنى الشرط"، اس لیے کہ کلمہ "علی" جو ہے یہاں پر فائدہ دے گا کس کا؟ شرط کے معنی کا، "فيكون الثلاث شرطا للزوم المال"، پس تین طلاقیں شرط ہوں گی مال کے لازم ہونے کے لیے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو دیکھا، خلاصہ بحث یہ مولانا کہ کلمہ "علی" کے تین معنی بیان کیے مصنف نے، کبھی الزام کے معنی کے لیے آئے گا، عدم ال، کبھی "با" کے معنی میں آئے گا اور کبھی شرط کے معنی میں آئے گا بھئی، شرط کے معنی میں آئے گا۔ اور یہ آخری مسئلے میں امام صاحب نے اس کو محمول کیا کس پر؟ شرط کے معنی میں، اور شرط کے اندر تقسیم سے مشروط میں تقسیم نہیں، جبکہ صاحبین نے اس کو محمول کیا کس پر؟ عوض پر اور معوض کے اندر تقسیم سے عوض میں بھی کیا آ جاتی ہے؟ تقسیم آ جاتی ہے۔ فصل کلمة "في" للظرفية، وباعتبار هذا الأصل قال أصحابنا: إذا قال غصبت ثوبا في منديل أو تمرا في قوصرة لزماه جميعا. قوصرة، قوصرة مولانا، یہ ٹوکری کو کہتے ہیں، کس کو کہتے ہیں؟ ٹوکری کو بھئی، ٹوکری، کھجوروں کی ٹوکری بھئی خاص کھجوروں کی ہوتی ہے۔ اب مولانا دسواں حرف حروف معانی میں سے "في" ہے۔ "في" کے دو معنی بیان کریں گے مصنف بھئی۔ ایک معنی ہے "في" کا ظرفیت کے بھئی، "في" کس معنی کے لیے آتا ہے؟ ظرفیت کے لیے آتا ہے، بتلاتا ہے کہ ما بعد ما قبل کے لیے ظرف ہے۔ "زيد في الدار"، زید کس میں ہے؟ گھر میں ہے، معلوم ہوا یہ گھر زید کے لیے کیا ہے؟ ظرف ہے، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ ظرف کا اصل معنی کیا ہے؟ برتن، جیسے کوئی چیز برتن میں ہوتی ہے اس چیز، برتن نے اس چیز کا احاطہ کیا ہوتا ہے، اسی طرح اس دار نے بھی کیا کیا ہوا ہے زید کا احاطہ کیا ہوا ہے۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو "في" کس معنی کے لیے آتا ہے؟ ظرفیت، ایک ہے ظرفیت والا معنی، اور کبھی "في" شرط کے معنی میں آتا ہے وہ آگے چل کر مصنف بیان کریں گے بھئی۔ کلمہ "في" کے کتنے معنی بیان کریں گے بھئی؟ دو، ایک ظرفیت کے لیے کبھی آئے گا اور کبھی شرط کے لیے، اور یہ ظرفیت "في" کا حقیقی معنی ہے بھئی، جیسے کہ مولانا وہ "علی" کے اندر الزام کیا تھا اس کا حقیقی معنی تھا بھئی۔ "فصل: كلمة "في" للظرف"، کلمہ "في" جو ہے وہ ظرف کے لیے آتا ہے، ظرف کے لیے، یعنی کیا بتلاتا ہے؟ کہ ما بعد کیا ہے؟ ما قبل کے لیے ظرف، "زيد في الدار"، ما بعد کیا ہے مولانا؟ الدار، یہ دار ظرف ہے، ما بعد کیا ہوا کرتا ہے؟ ظرف ہوا کرتا ہے ماقبل یعنی کے لیے، اور یہاں ماقبل میں کون ہے؟ زید، تو یہ دار ظرف ہوا کس کے لیے؟ زید کے لیے بھئی۔ اور ضابطہ یاد رکھیں۔ ظرف جب تک ظرف ہے مظروف سے جدا نہیں ہو سکتا۔ اہم ضابطہ یاد رکھیں مولانا، ظرف جب تک ظرف ہے مظروف سے جدا نہیں ہو سکتا۔ بھئی ضابطے کا کیا معنی ہے؟ وہ چیز اس کے اندر ہے، وہ چیز کیا ہے؟ اس کے اندر، جب اس کے اندر ہے تو اس سے جدا ہو سکتی ہے؟ جی؟ وہ تو اس کے اندر ہے، معلوم ہوا وہ اس کے ساتھ ہی ہے، کیا ہے اس کے؟ اس سے الگ نہیں، میں نے کہا "زيد في الدار"، میں نے کیا بتلایا کہ یہ دار کیا ہے زید کے لیے؟ ظرف ہے، "في" نے ظرفیت کا فائدہ دیا، اور جب تک یہ دار ظرف ہے زید سے جدا نہیں ہو سکتا۔ جب جدا ہوگا زید اس سے نکل جائے گا پھر تو دار زید کے لیے ظرف ہی نہیں رہے گا۔ زید گھر سے نکل گیا، اب اپ کہہ سکتے ہیں "زيد في الدار"؟ اب نہیں کہہ سکتے کیونکہ اب دار زید کے لیے ظرف، زید اس کے اندر اب نہیں ہے۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو ضابطہ کیا ہے؟ ظرف جب تک ظرف ہے مظروف سے جدا نہیں ہو سکتا۔ لہذا اسی بناء پر اگلے مسئلے اگلا مسئلہ نکلے گا دیکھیے۔ "وباعتبار هذا الأصل"، اور اسی اصل کا اعتبار کرتے ہوئے، یعنی "في" کس لیے آتا ہے ظرفیت کا، اسی ظرفیت کے معنی کا اعتبار کرتے ہوئے "قال أصحابنا"، ہمارے فقہاء فرماتے ہیں: "إذا قال غصبت ثوبا في منديل"، جب اگر کسی شخص نے اقرار کیا دوسرے کے لیے اور کیا کہتا ہے؟ "غصبت ثوبا في منديل"، "میں نے غصب کیا، میں نے چھین لیا کپڑے کو رومال میں"، "میں نے کپڑا چھینا رومال میں"، "میں نے کپڑا غصب کیا رومال میں"، یہ اقرار کرتا ہے۔ یا یوں کہتا ہے: "غصبت تمرا في قوصرة"، "میں نے غصب کی کھجوریں ٹوکری میں"، "میں نے چھینی کھجوریں ٹوکری میں"، تو دیکھو اس نے کلمہ "في" کو ذکر کیا اور "في" کس لیے آیا کرتا ہے؟ ظرفیت کے لیے، اس نے بتلا دیا کہ "في" کا ما بعد کیا ہے؟ ظرف ہے کس کے لیے؟ ما قبل کے لیے، معلوم ہوا وہ رومال جو ہے وہ ظرف ہے کس کے لیے؟ کپڑے کے لیے بھئی، کپڑے کے لیے کیا ہے رومال؟ ظرف ہے، اور وہ ٹوکری ظرف ہے کس کے لیے؟ کھجوروں کے لیے، اور یہ غصب کا اقرار کر رہا ہے مولانا، تو اس صورت میں اس پر وہ ٹوکری بھی لازم ہوگی، کھجوریں تو ہیں ہی لازم اس کے ساتھ ساتھ ٹوکری بھی اس پر لازم ہو جائے گی، یا اقرار تو کس کا کر رہا ہے کپڑا اور ساتھ کیا اس پر واجب ہو جائے گا؟ رومال بھی واجب ہو جائے گا بھئی، یہ کیسے؟ اس لیے کہ اس نے "في" کا کلمہ استعمال کیا اور "في" کس لیے آیا کرتا ہے؟ ظرفیت کے لیے، اس نے بتلایا کہ ما بعد کیا ہے؟ ظرف ہے، اور جب وہ ظرف ہے تو مظروف سے جدا نہیں ہو سکتا، اگر جدا ہو جاتا ہے پھر تو وہ ظرف ہی نہیں رہا بھئی، صورت سمجھ میں آئی؟ تو ظرف جب تک ظرف ہے مظروف سے جدا نہیں ہو سکتا، اور یہاں تو وہ ظرف بن رہا ہے تو معلوم ہوا مظروف سے جدا نہیں، معلوم ہوا اس کو کپڑے کو رومال سمیت غصب کیا گیا ہے، کپڑے کو رومال سمیت بھئی، لہذا دونوں لازم ہو جائیں گے۔ اور کھجوروں کو ٹوکری سمیت غصب کیا گیا ہے، لہذا ٹوکری بھی اس پر کیا ہو جائے گی؟ لازم ہو جائے گی کھجوروں کے ساتھ ساتھ۔ مسئلہ سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ کس ضابطے سے؟ کہ ظرف جب تک ظرف ہے مظروف سے جدا نہیں ہو سکتا، جب جدا ہوگا پھر تو وہ ظرف ہی اور وہ "في" لے کر آیا، "في" نے کیا بتلایا کہ یہ تو ظرف ہے، تو معلوم ہوا یہ اس سے جدا نہیں، یہ بھی اسی کے ساتھ ہے۔ تو اسی لیے کہا: جب کسی نے کہا "غصبت ثوبا في منديل أو تمرا في قوصرة لزماه جميعا"، تو لازم ہو جائیں گی، "لزما"، تثنیہ بھئی، یہ دونوں چیزیں۔ "ه"، اس شخص پر، یہ دونوں چیزیں اس شخص پر، یعنی ثوب بھی اور مندیل بھی، ثوب بھی اور مندیل بھی پہلی صورت میں، یا کھجور کے ساتھ ساتھ ٹوکری بھی، دونوں چیزیں لازم ہو جائیں گی بھئی، "لزماه جميعا"، تو یہ دونوں چیزیں اس پر لازم ہو جائیں گی۔ "ثم هذه الكلمة تستعمل في الزمان والمكان والفعل"، پھر یہ کلمہ استعمال ہوتا ہے زمانے میں بھی، مکان میں بھی، اور فعل میں بھی، یعنی زمانے پر بھی داخل ہوتا ہے، مکان پر بھی داخل، یعنی ظرف زمان پر بھی داخل ہوتا ہے، ظرف مکان پر بھی داخل ہوتا ہے، "والفعل"، اور فعل پر بھی داخل ہوتا ہے۔ فعل پر بھی داخل، بھئی فعل سے مراد یہاں مصدر ہے۔ فعل سے کیا مراد ہے؟ مصدر ہے، کیونکہ مصدر کو لغت میں فعل کہتے ہیں۔ مصدر کو لغت میں کیا کہتے ہیں؟ فعل کہتے ہیں۔ فعل لغوی مراد ہے، وہ فعل اصطلاحی نہیں مراد مولانا جو آپ نے علم نحو کے اندر پڑھا ہے، بلکہ کونسا فعل مراد ہے؟ فعل لغوی، اور لغت میں فعل کس کو کہتے ہیں؟ مصدر کو کہتے ہیں، بھئی کیسے کہتے ہیں بھئی؟ بھئی آپ خود بھی تو استعمال کرتے رہتے ہیں اگرچہ آپ نے کبھی توجہ نہ کی ہوئی اس کی طرف۔ فعل کیا ہے؟ کام نا کام بھئی، میں نے کہا: آپ کدھر ہوتے ہیں؟ نظر نہیں آتے بھئی، آپ نے کہا: آج کل میں بڑا مصروف ہوں، بہت سے افعال مجھے سرانجام دینے پڑتے ہیں، کہتے ہیں یا نہیں کہتے؟ بہت سے کام مجھے ہوتے ہیں، بہت سے افعال ہوتے ہیں، میں نے کہا: کون سے افعال؟ آپ مجھے گنواتے ہیں، مثلاً بھئی کھانا ہے، پینا ہے، سونا ہے، کھیلنا ہے، گپ شپ لگانا ہے، اور ادھر ادھر گھومنا ہے، تو وقت بچتا ہی نہیں ہے اس لیے ملاقات کے لیے۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو بھئی آپ نے ذکر تو فعل کا کیا تھا کہ مجھے کیا ہوتے ہیں؟ بہت سے افعال کرنا پڑتے ہیں، اور جب میں نے پوچھا جب اپ گنوانے بیٹھے تو گنوائے مصدر ہیں: کھانا، یہ کیا ہے؟ مصدر، پینا، یہ کیا ہے؟ سونا، جاگنا، کھیلنا، گھومنا، پھرنا، یہ سارے کیا ہیں؟ بھئی ذکر فعل کا کر رہے ہیں اور گنوا کیا رہے ہیں؟ مصدر، معلوم ہوا مصدر کو لغت میں کیا کہتے ہیں؟ فعل کہتے ہیں، آپ بھی استعمال کرتے ہیں۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو لہذا یہاں سے فعل لغوی مراد ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں یہ کلمہ "في" ظرف زمان میں بھی استعمال ہوتا ہے، ظرف مکان میں بھی، اور مصدر میں بھی، یعنی ان پر بھی داخل ہوتا ہے، ان تینوں پر بھئی، آتا ظرفیت کے لیے اور ان تینوں پہ داخل ہوتا ہے، اب ان تینوں میں بتلائیں گے کیا کیا معنی مراد لیں گے، ظرف زمان پر آئے تو کیا معنی لیں گے، ظرف مکان پر آئے تو کیا معنی لیں گے، اور مصدر پر آئے تو پھر کیا معنی لیں گے، دیکھیے جی: "أما إذا استعملت في الزمان بأن يقول أنت طالق غدا أو أنت طالق في غد"۔ چلیے مولانا، هذا هو المراد، والله أعلم بحقيقة الكلام۔