گزشتہ سبق میں ہم پڑھ رہے تھے نصوص کی مراد کو پہچاننے کے طریقے بھئی۔ کل آپ نے پڑھا تھا کہ نص جب پڑھی جاتی ہو دو قراتوں کے ساتھ یا روایت کی جاتی ہو دو روایتوں کے ساتھ، آیت ہو یا حدیث ہو، تو ایسے طریقے پر عمل کرنا جس سے دونوں قراتوں یا دونوں روایتوں پر عمل ہو جائے یہ اولىٰ ہے۔ بجائے اس کے کہ ایک پر عمل کیا جائے، یہ اولىٰ ہے کہ ایسی صورت اختیار کی جائے کہ دونوں پر عمل ہو جائے، چنانچہ اس سلسلے میں دو مثالیں ذکر کیں بھئی مصنف نے۔ ایک وَأَرْجُلَكُمْ، کہ وَأَرْجُلَكُمْ پر جیسے نصب آیا ہے ایک قرات میں، اسی طرح ایک قرات میں وَأَرْجُلِكُمْ پر جر بھی آیا ہے بھئی۔ تو اگر نصب پڑھیں تو اس کا عطف ہوگا اعضائے مغسولہ پر بھئی، جو ایدی اور وجوہ ہیں، اور ان کو دھویا جاتا ہے تو پاؤں کا بھی کیا حکم ہے؟ کہ اس کو بھی دھویا جائے۔ اور وَأَرْجُلِكُمْ پڑھا جائے تو اس کا عطف رؤوسكم پر ہوگا جو با کے تحت ہے مجرور ہے اور رؤوس پر کیا کیا جاتا ہے؟ مسح، تو اس صورت میں سر پر بھی کیا لازم ہوگا؟ مسح۔ تو نفع نصب والی قرات تقاضا کر رہی ہے کہ پاؤں کو ہمیشہ دھویا جائے اور نصب جر والی قرات تقاضا کر رہی ہے کہ پاؤں کو کیا کیا جائے؟ پاؤں پر مسح کیا جائے، ہم ایسا طریقہ اختیار کرتے ہیں، دیکھا احناف کا مذہب کتنا پیارا مذہب ہے بھئی، دونوں ہر دونوں پر عمل ہم کرتے ہیں۔ وہ اس طرح کہ نصب والی قرات میں کو ہم محمول کرتے ہیں اس حالت پر جب انسان نے موزے نہ پہنے ہوئے ہوں تو اس وقت کیا کیا جائے پاؤں کو؟ دھویا جائے۔ اور جر والی قرات کو ہم محمول کرتے ہیں اس حالت پر کہ جبکہ انسان نے کیا پہنے ہوئے ہوں؟ موزے، تو اس وقت پاؤں پر کیا کیا جائے گا؟ مسح۔ چنانچہ اسی وجہ سے ہمارے بعض فقہاء پھر فرماتے ہیں کہ مسح على الخفين جو ہے یہ کس سے ثابت ہے؟ کتاب اللہ سے ثابت ہے۔ لیکن ہمارے اکثر مشائخ کا مذہب یہ ہے کہ یہ جو مسح على الخفين ہے، یہ سنت کتاب اللہ سے نہیں ثابت بلکہ سنت مشہورہ، حدیث مشہور سے ثابت ہے بھئی حدیث مشہور سے۔ 70 80 صحابہ سے روایات آتی ہیں بھئی اس سلسلے میں مسح على الخفين کے بارے میں بھئی۔ تو پھر وہ یہ جر والی قرات کا یہ جواب دیتے ہیں جو کہتے ہیں کہ یہ سنت مشہورہ سے ثابت ہے، کہ یہ جر جو ہے یہ جر جوار ہے بھئی، میں نے بتلایا تھا جر جوار کسے کہتے ہیں کہ ایک لفظ ہوتا ہے اس کا اصل اعراب تو نصب یا رفع ہوتا ہے لیکن وہ کسی مجرور کے پڑوس میں واقع ہوتا ہے تو اس کی وجہ سے اس کو بھی کیا دے دیا جاتا ہے؟ جر، تو أرجُلكُم سے پہلے چونکہ برؤوسكم، رؤوس مجرور آ رہا تھا تو أرجُل پر بھی کیا پڑھ دیا گیا؟ جر پڑھ دیا گیا، حالانکہ دراصل یہ کیا ہے؟ منصوب ہے بھئی، صورت سمجھ میں آئی؟ اور اس کی مثال یہ اکثر ایسا عربی میں ہوتا ہے، میں نے مثال ذکر کی تھی جیسے مَن مَلَكَ ذَا رَحِمٍ مَحْرَمٍ، یہ محرمًا ہونا چاہیے تھا، اس پر بھی جو جر آیا ہے وہ کون سا ہے؟ جر جوار ہے بھئی، رَحِمٍ پر جر آیا تو مَحْرَمٍ پر بھی کیا پڑھ دیا گیا؟ جر جی، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ اس کے بعد دوسری مثال ذکر کی تھی کہ ولا تقربوهن حتى يطهرن، ایک بغیر ایک تخفیف کے ساتھ ہے قرات اور ایک قرات آئی ہے تشدید ط اور ح دونوں کی تشدید کے ساتھ، حتى يطهرن۔ تو ولا تقربوهن، خاوند قریب نہ جائیں ان اپنی بیویوں کے، حتی يطهرن، کا تخفیف کے ساتھ پڑھا جائے تو معنی کیا ہوگا؟ یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائیں۔ اور يطهرن پڑھا جائے تو کیا معنی ہے؟ یہاں تک کہ وہ خوب پاک ہو جائیں، کثرت حروف دلالت کرتے ہیں کس پر؟ کثرتِ معانی پر بھئی۔ تو لہذا اب وہ جو تخفیف والی قرات ہے، وہ تقاضا کرتی ہے کہ مطلق پاکی عورت کو حاصل ہو جائے، حیض اس کا رک جائے، خون رک جائے تو خاوند کے لیے صحبت کرنا جائز۔ اور تشدید والی قرات تقاضا کرتی ہے کہ خوب پاکی حاصل ہو جائے پھر خاوند کے لیے کیا ہے؟ صحبت کرنا جائز ہے ورنہ جائز، اور خوب پاکی کس سے حاصل ہوگی؟ غسل کے ساتھ۔ تو تخفیف والی قرات تقاضا کرتی ہے کہ حیض کے رکتے ہی، بند ہوتے ہی بغیر غسل کے صحبت کرنا جائز، اور تشدید والی قرات تقاضا کرتی ہے کہ حیض کے رکنے کے بعد صحبت جائز نہیں جب تک کہ عورت غسل نہ کر لے۔ ہم احناف بھئی ایسی حالت پر اس کو محمول کرتے ہیں ایسی صورت اختیار کرتے ہیں کہ دونوں قراتوں پر عمل ہو جاتا ہے، اور وہ اس طرح کہ تشدید والے، کہ حیض کے زیادہ سے زیادہ کتنے دن ہیں؟ 10 دن ہیں، تو تو اگر عورت کا حیض یا تو 10 دن سے کم میں بند ہوگا یا پورے 10 دن میں کیا ہوگا؟ بند، تو تخفیف والی قرات محمول ہے اس حالت پر کہ جبکہ عورت کا حیض 10 دن کے پورے ہونے پر بند ہو، تو اب ہے ولا تقربوهن قریب نہ جاؤ یہاں تک حتی يطهرن یہاں تک کہ وہ کیا ہو جائیں؟ پاک ہو جائیں، اور 10 دن پورے ہو چکے اب مطلق پاکی حاصل ہو چکی اب بغیر غسل کے ہی خاوند کے لیے قربت کرنا جی، صحبت کرنا جائز ہے۔ اور اگر 10 دن سے کم میں حیض بند ہو تو پھر تو تشدید والی قرات کو اس حالت پر محمول کرتے ہیں جب 10 دن سے کم میں کیا ہو؟ حیض بند ہو تو پھر اس صورت میں خوب پاکی جب تک حاصل نہ کر لے اس وقت تک خاوند کے لیے صحبت کرنا جائز نہیں، اور خوب پاکی کس سے حاصل ہوگی؟ غسل سے کہ غسل بھی کر لے۔ اس لیے وجہ اس کی یہ ہے کہ بھئی ابھی حیض کے 10 دن ہیں زیادہ سے زیادہ وہ پورے نہیں ہوئے تو خون کے دوبارہ لوٹنے کا امکان ہے، تو تاکہ پوری طرح یقین ہو جائے کہ حیض کیا ہے؟ بند ہو چکا ہے۔ اور اسی پر پھر ایک مسئلہ بھی اور مسئلہ بھی بتلایا تھا کہ اگر عورت کا حیض 10 دن کے پورے ہونے پر بند ہوا اور اس کے پاس اتنا وقت نہیں ہے، نماز کا آخری وقت میں وہ پاک ہوئی ہے اتنا وقت نہیں جس میں وہ غسل کر سکے اور نماز تحریمہ کہہ سکے، لیکن اس کے باوجود چونکہ اسے مطلق پاکی حاصل ہو چکی ہے، 10 دن پورے ہو چکے ہیں، اب اس نے اس نماز کے آخری وقت کو پا لیا اور نماز کا وقت کیا ہے؟ وجوب کا سبب ہے، تو اس کی وجہ سے اس پر کیا آ جائے گا نماز کا وجوب آ جائے گا، تو اب اس کو بعد میں قضاء ادا کرے قضاء پڑھنی پڑے گی بھئی، صورت سمجھ میں آئی؟ اور اگر اس نے کا حیض 10 دن سے پہلے بند ہوا ہے، تو اب نماز کا اتنا وقت پا لے جس میں غسل کر کے تحریمہ کہہ سکے بھئی تکبیر تحریمہ، تو پھر اس صورت میں وہ نماز اس پر فرض ہوگی، اگر اتنا وقت نہیں ہے پانچ سات منٹ ہیں تو پھر اس صورت میں اس پر وہ نماز فرض نہیں ہوئی۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ ثم نذكر طرقا من التمسكات الضعيفة ليكون ذلك تنبيها على موضع الخلل في هذا النوع۔ اب مولانا تمسک کا معنی ہوتا ہے دلیل پکڑنا بھئی، دلیل پکڑنا، تمسک کا کیا معنی ہے؟ دلیل پکڑنا، استدلال کرنا، استدلال کرنا۔ اب مصنف آپ کو کچھ استدلالاتِ ضعیفہ بتلائیں گے۔ کیا بتلائیں گے؟ استدلالاتِ ضعیفہ، جو ہمارے نزدیک ضعیف ہیں، فاسد ہیں، اگرچہ دیگر ائمہ کے نزدیک وہ صحیح ہیں بھئی۔ تو اب کچھ استدلالاتِ ضعیفہ بتلائیں گے تاکہ ان میں جو ضعف آیا، ان میں جو خلل آیا، کس وجہ سے آیا؟ اس کا پتہ چلے بھئی آپ کو۔ سمجھ میں آیا؟ بعض مسائل میں دیگر ائمہ دلیل پکڑتے ہیں نص سے، تو اور ہمارے نزدیک اس سے دلیل اس مسئلے میں پکڑنا صحیح نہیں، ان میں خلل ہوتا ہے، خرابی ہوتی ہے، اب ان اس خرابی پر اس اس خرابی اور خلل پر کیا کریں گے؟ وہ اس پر آپ کو مطلع کرنا چاہتے ہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ کہتے ہیں ثم نذكر طرقا من التمسكات الضعيفة، پھر ہم ذکر کرتے ہیں کچھ طریقے تمسکاتِ ضعیفہ میں سے، یعنی استدلالاتِ ضعیفہ میں سے، ليكون ذلك تنبيها، تاکہ یہ ذکر تنبیہ ہو جائے، على موضع الخلل، خلل کی جگہوں پر، خلل پر، خلل کی جگہوں پر، في هذا النوع، اس قسم کے اندر، اس قسم کے اندر جو خلل آ رہا ہے جس جگہ پر، اس پر کیا ہو جائیں انسان متنبہ ہو جائے، آپ متنبہ ہو جائیں اس پر بھئی۔ منہا، ان میں سے ایک یہ ہے، أن التمسك بما روي عن النبي صلى الله عليه وسلم، أنه قاء فلم يتوضأ۔ دیکھیے ہمارے اور امام شافعی رحمہ اللہ کے درمیان اختلاف ہے، ہمارے نزدیک قے ناقضِ وضو ہے، قے کی تو وضو کیا ہو جائے گا؟ ٹوٹ جائے گا، طہارت زائل ہو جائے گی۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک قے ناقضِ وضو نہیں، اس سے وضو نہیں ٹوٹے گا۔ دلیل کس سے وہ پکڑتے ہیں؟ وہ دلیل اس حدیث سے پکڑتے ہیں کہ حضور علیہ السلام سے روایت کیا گیا ہے، أنه قاء، کہ حضور علیہ السلام نے قے کی، فلم يتوضأ، پس وضو نہیں فرمایا۔ قے کی، پس وضو نہیں فرمایا، کہتے ہیں دیکھا حدیث میں آ رہا ہے حضور نے قے کی اور وضو نہیں فرمایا، معلوم ہوا قے ناقضِ وضو نہیں ورنہ حضور علیہ السلام کیا فرماتے؟ وضو فرماتے اگر ناقضِ وضو ہوتی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ احناف جواب دیتے ہیں کہ بھئی اس اس حدیث میں قے کے ناقض ہونے یا نہ ہونے کا ذکر ہی نہیں ہے، اس حدیث سے تو صرف اتنا پتہ چل رہا ہے کہ قے کے فوراً بعد وضو کرنا ضروری نہیں۔ کیا پتہ چل رہا ہے بھئی؟ کہ قے کے فوراً بعد وضو کرنا ضروری نہیں، یہی ہے نا؟ حضور علیہ السلام نے قے کی اور وضو نہیں فرمایا، یعنی فوری طور پر وضو کرنا ضروری یہ مسئلہ اس حدیث سے ثابت ہو رہا ہے کہ قے کے بعد فوراً وضو کرنا ضروری نہیں، اور اس مسئلے میں تو آپ کا اور ہمارا کوئی اختلاف نہیں، آپ کے نزدیک بھی قے کے بعد وضو کرنا ضروری نہیں، ہمارے نزدیک بھی قے کے فوراً بعد وضو کرنا ضروری اختلاف تو اس مسئلے میں ہے کہ قے سے وضو ٹوٹتا ہے یا وضو نہیں ٹوٹتا، اور یہ مسئلہ حدیث میں ذکر ہی نہیں، تو جو مسئلہ حدیث میں ذکر ہے اس میں اختلاف نہیں، اور جس مسئلے میں اختلاف ہے وہ حدیث میں ذکر ہی نہیں ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ صرف اتنا ثابت ہوا حدیث سے کہ حضور نے قے کی اور وضو کیا معنی؟ یعنی فوراً وضو کرنا ضروری نہیں، یہ تو ہم بھی مانتے ہیں، جیسے آپ کہہ رہے ہیں ہم بھی یہی کہتے ہیں کہ قے کے بعد وضو کرنا ضروری نہیں فوری طور پر، ہاں جب نماز کا وقت آ جائے، نماز کے لیے اٹھنے لگے، پھر وضو کرنا ضروری ہے۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو اس حدیث میں یہ جو جس مسئلے میں اختلاف ہے، وہ اس حدیث میں ذکر ہی نہیں، اور جس جو مسئلہ حدیث میں ذکر ہے، اس کے اندر اختلاف ہی نہیں ہے بھئی۔ منہا، ان تمسکاتِ ضعیفہ میں سے ایک یہ ہے کہ میں سے أن التمسك، وہ استدلال کرنا ہے، بما، اس حدیث سے، روي عن النبي صلى الله عليه وسلم، جو روایت کی گئی ہے نبی کریم صلى الله عليه وسلم سے، کہ أنه قاء، کہ حضور علیہ السلام نے قے کی، فلم يتوضأ، پس وضو نہیں فرمایا۔ تو اس سے أن التمسك، استدلال کرنا، اوپر کیا آیا تھا؟ استدلال کرنا اس حدیث سے لاثبات، اس بات کو ثابت کرنے کے لیے، کہ أن القاء غير ناقض، کہ قے کیا ہے؟ غیر ناقض ہے، اس کے اثبات کے لیے استدلال کرنا، ضعيف، یہ کیا ہے؟ ضعیف ہے، یہ أن کی خبر آ گئی ضعیف۔ لأن الأثر يدل، اس لیے کہ اثر حدیث کو کہتے ہیں، حدیث کا نام ہے۔ اس لیے کہ حدیث یہ دلالت کرتی ہے، على أن القاء لا يوجب الوضوء في الحال، کہ قے واجب نہیں کرتی وضو کو فی الحال، یعنی فوری طور پر۔ فی الحال وضو کو واجب نہیں کرتی، ولا خلاف فيه، اور اس میں تو کوئی اختلاف ہی نہیں، ونما الخلاف في كونه ناقضا، اور اختلاف تو اس قے کے ناقض للوضوء ہونے میں ہے۔ سمجھ میں آیا؟ اور اس کا اس حدیث میں ذکر ہی تو جس جو مسئلہ نص میں ذکر ہے، اس میں اختلاف ہی نہیں، اور جس مسئلے میں اختلاف ہے، وہ نص میں ذکر ہی نہیں۔ وكذلك التمسك بقوله تعالى: "حرمت عليكم الميتة" لاثبات۔ آگے ایک اور مسئلہ، امام شافعی رحمہ اللہ اور ہمارا اختلاف ہے بھئی، ان کے نزدیک ماء قلیل کے اندر مکھی مچھر گر جائے، مر جائے اس میں تو ان کے نزدیک وہ ماء قلیل نجس ہو جاتا ہے، جبکہ ہمارے نزدیک مکھی مچھر ماء قلیل میں گر جائیں تو وہ نجس نہیں ہوتا بھئی۔ مسئلہ سمجھ میں آیا بھئی اختلاف؟ ان کے نزدیک ماء قلیل نجس ہو جائے گا، ہمارے نزدیک ماء قلیل نجس نہیں ہوتا۔ دلیل ان کی، دلیل وہ استدلال کرتے ہیں اس قرآن کی اس آیت سے، حرمت عليكم الميتة، حرام کر دیا گیا ہے تمہارے اوپر میتہ مردار کو بھئی، کس کو؟ مردار کو حرام کر دیا گیا ہے، کہتے ہیں دیکھا مکھی بھی مردار ہے اور یہ حرام ہے، اور جب حرام ہے تو معلوم ہوا یہ نجس ہے، اور جب نجس ہے چیز، پانی میں گری ہے، پانی میں آئی ہے نجس چیز، تو اب وہ پانی بھی کیا ہو جائے گا؟ نجس ہو جائے گا، طاہر نہیں رہے گا۔ ہم کہتے ہیں کہ بھئی اس آیت سے صرف اتنا ثابت ہو رہا ہے کہ مردار مکھی بھی حرام ہے، ہر مردار کیا ہے؟ حرام ہے، تو اور تو یہ ثابت ہو رہا ہے، اور اس مسئلے میں کوئی اختلاف نہیں، جیسے آپ کہتے ہیں کہ مردار مکھی حرام، ہمارے نزدیک بھی مردار مکھی اب تو آیت میں جو مسئلہ ذکر ہے، اس کے اندر تو اختلاف ہی نہیں، اختلاف اس بات کے اندر ہے کہ مکھی پانی میں گر کر مر جائے تو پانی نجس ہوگا یا نجس نہیں، اور اس مسئلے کا اس آیت میں ذکر ہی نہیں، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ اس مسئلے کا آیت میں ذکر ہی نہیں ہے بھئی۔ تو حرام ہونے سے اس کا نجس ہونا لازم نہیں آتا بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ کہ جس کی وجہ سے پانی بھی کیا ہو جائے نجس بھئی۔ دیکھو مٹی بھی حرام ہے کھانا، لیکن کیا وہ نجس ہے؟ پانی میں گرے گی تو پانی نجس ہوگا؟ نہیں، اس میں تو آپ بھی کہتے ہیں کہ پانی میں مٹی گرے تو وہ نجس، حالانکہ وہ بھی حرام ہے۔ تو یہ حرام ہونے سے اس کا نجس ہونا لازم نہیں آتا، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو نجس، وہ نجاست کا سبب وہ دم مسفوح ہوا کرتا ہے، بہنے والا خون، بہنے والا خون بھئی، اور مکھی میں تو بہنے والا خون ہی نہیں ہے، لہذا اس کی وجہ سے وہ پانی نجس بھی نہیں ہوگا، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو نص میں جو مسئلہ ذکر ہے اس میں اختلاف ہی نہیں، مردار مکھی حرام، آپ کی مردار ہر مردار حرام، جیسے آپ کے نزدیک، ہمارے نزدیک بھی اسی طرح، تو نص میں جو مسئلہ ذکر اس میں اختلاف ہی نہیں، اور جس مسئلے میں اختلاف ہے آپ کہہ رہے ہیں کہ مکھی کے گرنے سے ماء قلیل نجس ہوگا، ہمارے نزدیک نجس نہیں، اس مسئلے میں اختلاف ہے اور اس کا نص کے اندر اس مسئلے کا ذکر ہی نہیں ہے۔ وكذلك التمسك بقوله تعالى، اور اسی طرح دلیل پکڑنا اللہ کے اس قول کے ساتھ، حرمت عليكم الميتة، حرام کر دیا گیا ہے تمہارے اوپر مردار کو، دلیل پکڑنا کس کے لیے؟ لاثبات فساد الماء، پانی کے فاسد ہونے کو ثابت کرنے کے لیے، بموت الذباب، مکھی کی موت کے ساتھ، مکھی کی موت کے ساتھ پانی کے فساد کو ثابت کرنے کے لیے استدلال کرنا، ضعيف، یہ استدلال کیا ہے؟ استدلال کرنا ضعیف ہے، لأن النص يثبت حرمة الميتة، اس لیے کہ نص جو ہے وہ ثابت کرتی ہے میتہ کی حرمت، مردار کی حرمت، نص صرف مردار کی حرمت کو ثابت کرتی ہے، ولا خلاف فيه، اور اس میں تو کوئی اختلاف ہی نہیں، وإنما الخلاف في فساد الماء، اور اختلاف تو کس چیز میں ہے؟ پانی کے فاسد ہونے میں، اور اس کا اس کا اس آیت میں ذکر ہی نہیں۔ وكذلك التمسك بقوله عليه السلام: "حطيه ثم اقرصيه ثم اغسليه بالماء" بھئی۔ دیکھو حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ تعالی عنہا رضی اللہ تعالی عنہما، یہ حضور علیہ السلام کے پاس تشریف لائیں اور مسئلہ دریافت فرمایا کہ اگر کپڑے کو حیض کا خون لگ جائے تو کیا حکم ہے؟ کیسے پاک کیا جائے گا؟ تو حضور نے فرمایا: خُضِِّیْهِ! اسے کیا کر؟ رگڑ دو۔ حت حت کا کیا معنی؟ جی؟ رگڑنا بھئی رگڑنا بھئی، سمجھ میں آیا؟ جی، رگڑ دے۔ اور قرض کہتے ہیں قَرَصَ یَقْرُصُ، اس کے معنی ہوتے ہیں کھرچنا، ناخن وغیرہ سے یا لکڑی سے کھرچنا بھئی۔ حت کس کو کہتے ہیں بھئی؟ رگڑنا، ملنا۔ اور قرض کس کو کہتے ہیں؟ کھرچنا۔ تو مسئلہ پوچھا، حضور نے فرمایا: خُضِِّیْهِ، کیا کرو اس کو؟ اس کپڑے کو؟ رگڑ دو، مل دو۔ ثُمَّ اقْرُصِیْهِ، پھر اس کو کھرچ دو۔ ثُمَّ اغْسِلِیْهِ بِالْمَاءِ، پھر اس کو تو پانی سے دھو لے، اسے تو مل لے، پھر تو اسے کھرچ لے، پھر اسے تو پانی سے دھو لے، مونث، امر مونث کے صیغے آ رہے ہیں بھئی سارے۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ پھر اسے پانی سے دھو لے۔ جی۔ اب امام شافعی رحمہ اللہ کا اور ہمارا اختلاف ہے، امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک اگر نجاست کسی چیز پر لگی ہوئی ہو تو ان کے نزدیک پانی سے دھونا واجب ہے، پانی کے علاوہ کسی اور چیز سے دھوئیں گے تو وہ پاک صاف نہیں ہوگا، سمجھ میں آیا بھئی؟ مثلاً کپڑے وغیرہ پر نجاست لگی ہو، ان کے نزدیک پانی وغیرہ سے، پانی کے ساتھ ہی دھونا واجب ہے، پانی کے ساتھ دھونے سے ہی وہ پاک ہوگا، کسی اور پاک بہنے والی چیز سے اس کو دھو لیا جائے تو وہ پاک جبکہ احناف کے نزدیک اس کو کسی پاک چیز، بہنے والی چیز کے ساتھ دھو لیا جائے جس سے وہ نجاست زائل ہو جائے تو وہ چیز کیا ہو جائے گی؟ پاک ہو جائے گی۔ اختلاف سمجھ میں آیا؟ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک پانی سے دھونا ضروری، اور کسی چیز سے وہ پاک نہیں، دلیل ان کی یہ حدیث ہے کہ جس میں حضور نے فرمایا: ثُمَّ اغْسِلِیْهِ بِالْمَاءِ، تو اس کو دھو لے کس سے؟ پانی سے، تو پانی سے دھونے کا امر فرمایا حضور نے، اور اغْسِلِیْ امر کا صیغہ آیا اور امر کس کے لیے آیا کرتا ہے؟ وجوب کے لیے، معلوم ہوا پانی کے ساتھ دھونا واجب ہے، واجب ہے۔ تو احناف جواب دیتے ہیں کہ جس جو مسئلہ حدیث میں ذکر ہے، نص میں ذکر ہے اس میں اختلاف ہی نہیں، اور جس مسئلے میں اختلاف ہے اس کا نص میں ذکر ہی نہیں، ہمارے نزدیک بھی اگر نجاست لگی ہوئی ہو کسی چیز پر تو کس کے ساتھ دھونا واجب ہے؟ پانی کے ساتھ دھونا واجب ہے، لیکن اگر نجاست زائل کر دی جائے کسی اور چیز کے ساتھ تو وہ چیز پاک ہوگی یا پاک نہیں ہوگی؟ ہمارے نزدیک وہ کیا ہو جائے گی؟ پاک ہو جائے گی، ان کے نزدیک وہ پاک نہیں، اور اس کا اس حدیث میں ذکر ہی نہیں ہے کہ کسی اور پاک چیز سے بھی دھونے سے وہ پاک ہوگا یا پاک نہیں ہوگا۔ سمجھ میں آیا؟ بھئی دیکھو کپڑا ہے اس پہ نجاست لگی ہوئی ہے، آپ اس کو کہتے ہیں یہ نجس کپڑا ہے، یہ کیا ہے؟ نجس کپڑا ہے، کیوں نجس کہتے ہیں؟ کیونکہ اس پہ نجاست لگی ہوئی ہے، جب آپ نے اس کو مثلاً پاک کے، سرکے وغیرہ سے دھو لیا تو اب نجاست ہے؟ جی؟ اب تو نجاست وہاں رہی نہیں تو کیا کہیں گے ہم؟ کہ کپڑا کیا ہے؟ پاک ہو چکا، اب اس کو پانی سے دھونے کی ضرورت نہیں، تو نجاست جب ہو تو ضروری ہے پانی سے دھو صاف ہو جائے، لیکن اگر کسی اور چیز سے دھو لیا تو پھر بھی نجاست ختم ہو جائے تو کیا ہو جائے گا کپڑا؟ پاک ہو جائے گا، صورت سمجھ میں آئی؟ وَكَذٰلِكَ التَّمَسُّكُ، اسی طرح استدلال کرنا بِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ، حضور علیہ السلام کے اس قول کے ساتھ: خُضِِّیْهِ، تو اس کو مل لے ثُمَّ اقْرُصِیْهِ، پھر تو اس کو کھرچ دے ثُمَّ اغْسِلِیْهِ بِالْمَاءِ، پھر تو اس کو پانی سے دھو ڈال، اس سے استدلال کرنا لِإِثْبَاتِ أَنَّ الْخَلَّ لَا يُزِيْلُ النَّجَسَ ضَعِيْفٌ، اس اس بات کو ثابت کرنے کے لیے کہ سرکہ وہ نجاست کو زائل نہیں کرتا، یہ استدلال کرنا یہ ضعیف ہے، اس کو ثابت کرنے کے لیے استدلال کرنا ضعیف ہے لِأَنَّ الْخَبَرَ يَقْتَضِيْ وُجُوْبَ غَسْلِ الدَّمِ بِالْمَاءِ، اس لیے کہ حدیث، خبر کس کا نام ہے بھئی؟ حدیث کا نام ہے بھئی، اس لیے کہ حدیث تقاضا کرتی ہے وُجُوْبَ غَسْلِ الدَّمِ بِالْمَاءِ کہ خون کا پانی کے ساتھ دھونا واجب ہے، اس پانی کے ساتھ خون کے دھونے کے وجوب کا تقاضا کرتی ہے فَيُتَقَيَّدُ بِحَالِ وُجُوْدِ الدَّمِ عَلَى الْمَحَلِّ، تو اس کو مقید کیا جائے گا اس حال میں کہ جبکہ خون محل پر موجود ہو، خون محل پر کیا ہو؟ اس جگہ پر خون موجود ہوگا اس حالت کے ساتھ مقید کیا جائے گا اس کو، اس وقت پانی کے ساتھ دھونا واجب ہے کیونکہ خون موجود ہے، جب تک دھوئیں گے نہیں کپڑا پاک لیکن اگر آپ نے کسی اور چیز سے دور کر دیا تو پھر سوال ہے ابھی بھی نجاست زائل ہوئی یا نہیں؟ کپڑا پاک ہوا یا؟ ہمارے نزدیک نجاست ہے ہی نہیں، نجاست ختم ہو گئی، چلی گئی بھئی، اب تو کپڑا کیا ہو چکا ہے؟ پاک ہو چکا ہے، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو یہ استدلال ضعیف ہے، سمجھ میں آیا؟ یہ تو بھئی دیکھو کہ آپ کہتے ہیں کہ پانی کے ساتھ ہی دھو گے تو کپڑا پاک ہوگا، پانی سے نہیں دھو گے تو کپڑا پاک ہی، حالانکہ بالاجماع اگر اس نجس حصے کو کاٹ کر کپڑے سے پھینک دیا جائے تو باقی کپڑے پر کیا حکم لگایا جائے گا؟ کہ وہ پاک ہے، یہ تو آپ بھی تسلیم کرتے ہیں، پھر تو یہاں بھی حالانکہ پانی سے دھونا نہیں پایا گیا لیکن آپ بھی پھر بھی کہہ رہے ہیں کہ کپڑے کیا ہو چکا ہے؟ پاک ہو چکا ہے، معلوم ہوا پانی کے ساتھ دھونا واجب نجاست کا زائل کرنا ضروری ہے، اور اس سرکے وغیرہ سے بھی دھو لو تو پھر بھی کپڑا کیا ہو جائے گا؟ پاک ہو جائے گا، اور تو جس جس مسئلے میں اختلاف ہے اس کا نص میں ذکر ہی اور جس مسئلے کا نص میں ذکر ہے اس میں اختلاف ہی نہیں۔ تو کہتے ہیں اس کو مقید کیا جائے گا بھئی، محل پر خون کے موجود ہونے کی حالت کے ساتھ، ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے بھئی؟ وَلَا خِلَافَ فِيْهِ، اور اس میں کوئی اختلاف نہیں وَإِنَّمَا الْخِلَافُ فِيْ طَهَارَةِ الْمَحَلِّ بَعْدَ زَوَالِ الدَّمِ بِالْخَلِّ، اور اختلاف تو محل کے پاک ہونے میں ہے بعد زوال الدم بالخل، سرکے کے ساتھ خون کے زائل ہو جانے کے بعد کے سرکے کے ساتھ خون کو زائل کر دینے کے زائل ہو جانے کے بعد محل طاہر ہوگا، پاک ہوگا یا پاک نہیں ہوگا اس میں اختلاف ہے، اور وہ حدیث میں ذکر نہیں۔ وَكَذٰلِكَ التَّمَسُّكُ بِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ، اور اور اسی طرح استدلال کرنا حضور علیہ السلام کے اس قول کے ساتھ: فِيْ أَرْبَعِيْنَ شَاةً شَاةٌ، چالیس بکریوں میں ایک بکری ہے بھئی۔ بھئی دیکھو اختلاف اس مسئلے کے اندر بھئی، بکریاں چالیس بکریاں، بکریوں کا نصاب کتنا ہے؟ کم از کم کتنی بکریوں میں زکوۃ آئے گی؟ چالیس، چالیس بکریاں ہو گئیں تو ان میں ایک بھیڑ بکریاں، سمجھ میں آیا؟ شات کا لفظ بھیڑ بکری دونوں پر بولا جاتا ہے بھئی، بھیڑ بکریاں چالیس ہو گئیں تو ان پر کیا آ جائے گی؟ ایک بھیڑ بکری ان پر زکوۃ آ جائے گی، تو چالیس بکریوں پر ایک بکری زکوۃ آ گئی۔ آپ ہمارا اور امام شافعی رحمہ اللہ کا اختلاف ہے اس مسئلے میں، ہم کہتے ہیں اگر بکری دینے کے بجائے وہ شخص جو ہے اس کی قیمت دے دیتا ہے زکوۃ کے طور پر تو بھی زکوۃ ادا ہو جائے گی، اس کے کیا جو اس پر واجب ہے وہ ادا ہو جائے گا، جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نہیں، قیمت دینے سے وہ زکوۃ کی ادائیگی نہیں ہوگی، یہاں کیا دینا پڑے گا؟ بکری، بھیڑ بکری ہی دینا پڑے گی، دلیل کیا ہے؟ دلیل کہتے ہیں حدیث میں آیا ہے: فِيْ أَرْبَعِيْنَ شَاةً شَاةٌ، چالیس چالیس بکریوں میں ایک بکری ہے، حدیث میں آیا ہے بکری ہے بھئی، بکری دینی پڑے گی بھئی، قیمت دینے سے وہ زکوۃ ادا نہیں، ہم کہتے ہیں نہیں بھئی، اس حدیث میں جو مسئلہ ہے اس میں تو اختلاف ہی نہیں، اور جس مسئلے میں اختلاف ہے وہ حدیث میں ذکر ہی نہیں، ہمارے نزدیک، جیسے آپ کے نزدیک چالیس بکریوں میں ایک بکری واجب ہوتی ہے، ہمارے نزدیک بھی چالیس بکریوں میں ایک بکری واجب، اس میں تو اختلاف ہی نہیں، اختلاف تو اس میں ہے کہ اب وہ ادائیگی بکری ہی کے ساتھ ضروری ہے یا قیمت دینے سے بھی زکوۃ ادا ہو جائے گی؟ اس کا اس حدیث میں کوئی ذکر ہی نہیں ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ بلکہ یہاں تو بکری دی جاتی ہے، زکوۃ کس لیے دی جاتی ہے؟ تاکہ محتاج کی، فقیر کی حاجت پوری ہو جائے بھئی، اور وہ بکری دینے کے اندر اس کی حاجت اچھی طرح پوری ہوگی یا قیمت دینے کے ساتھ اچھی طرح حاجت پوری ہوگی؟ قیمت دینے کے ساتھ بھئی، بکری تو صرف اس کے ایک آدھ کام، یا دودھ دے گی یا پھر اس کے گوشت کھا سکتا ہے یا یا اس کو بیچے گا تو پتہ نہیں کس قیمت پر وہ بیچ سکتا ہے یا نہیں، صحیح طرح بیچتا ہے، صحیح قیمت اس کو ملتی ہے یا نہیں، لیکن جب آپ اس کو پوری قیمت دے دیں گے بکری کی تو پھر وہ اس کے ذریعے کیا کر سکتا ہے؟ اپنی ہر حاجت کو پورا کر سکتا ہے۔ تو اس میں زیادہ اس کے لیے فائدہ ہے۔ تو اسی طرح استدلال کرنا حضور علیہ السلام کے اس قول کے ساتھ کہ: فِيْ أَرْبَعِيْنَ شَاةً شَاةٌ، چالیس بکریوں میں ایک بکری ہے، استدلال کرنا کس چیز کے لیے؟ لِإِثْبَاتِ عَدَمِ جَوَازِ دَفْعِ الْقِيْمَةِ، اس بات کو ثابت کرنے کے لیے کہ قیمت کا دینا جائز نہیں ہے بھئی، ترجمہ آخر سے میں کر رہا ہوں، قیمت، دفع کا کیا معنی؟ حوالے کرنا، سپرد کرنا، قیمت کا حوالے کرنا جائز نہیں ہے اس بات کو ثابت کرنے کے لیے استدلال کرنا، یہ لِإِثْبَاتِ جہاں بھی آ رہا ہے یہ ماقبل میں جو تمسک کا لفظ آتا ہے اس کے ساتھ متعلق ہوتا ہے، سمجھ میں آیا؟ تمسک کا کیا معنی؟ استدلال کرنا۔ استدلال کرنا جی، یہ استدلال کرنا ضَعِيْفٌ، کیا ہے؟ ضعیف ہے۔ لِأَنَّهُ يَقْتَضِيْ وُجُوْبَ الشَّاةِ، اس لیے کہ یہ حدیث تقاضا کرتی ہے بکری کے واجب ہونے کا وَلَا خِلَافَ فِيْهِ، اور اس میں تو کوئی اختلاف ہی نہیں، ہمارے نزدیک بھی چالیس بکریوں میں ایک بکری واجب، وَإِنَّمَا الْخِلَافُ فِيْ سُقُوْطِ الْوَاجِبِ بِأَدَاءِ الْقِيْمَةِ، اور اختلاف تو واجب کے ساقط ہونے میں ہے قیمت کی ادائیگی کے ساتھ کہ قیمت کی ادائیگی سے بھی وہ زکوۃ، وہ جو واجب ہے وہ ادا ہوگا یا ادا نہیں؟ اور اس کا حدیث میں ذکر ہی نہیں۔ وَكَذٰلِكَ التَّمَسُّكُ بِقَوْلِهِ تَعَالَى، اور اسی طرح استدلال کرنا اللہ کے اس قول کے ساتھ، بھئی یاد رکھو ہمارے نزدیک مالدار پر، صاحب نصاب پر حج ایک مرتبہ زندگی میں فرض ہے بھئی، لیکن اور عمرہ کرنا فرض نہیں، سنت ہے بس، اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جیسے حج فرض ہے زندگی میں ایک مرتبہ اسی طرح عمرہ کرنا بھی ایک مرتبہ انسان پر ایک عمرہ بھی فرض ہے حج کی طرح، وہ استدلال کرتے ہیں اس آیت سے: وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ، اور پورا کرو تم لوگ حج کو اور عمرے کو اللہ کے لیے بھئی۔ تو کہتے ہیں دیکھو یہاں عمرے کا ذکر آیا اور حج کے ساتھ اور أَتِمُّوا، پورا کرو، امر آیا اور امر کس لیے آیا کرتا ہے؟ وجوب اور فرضیت کے لیے آتا ہے، معلوم ہوا جیسے حج کرنا فرض ہے اسی طرح عمرہ کرنا بھی فرض ہے۔ ہم جواب دیتے ہیں کہ اس آیت میں عمرے کی فرضیت کا ذکر ہی نہیں ہے بھئی، اس آیت میں تو ہے کہ پورا کرو، کیا کرو؟ اور ہمارے نزدیک عمرہ سنت ہے، نفل ہے بھئی، اور تو نفل ہمارے نزدیک بھی جب شروع کر دیے جائیں تو کیا ہو جاتا کرتے ہیں؟ واجب، بھئی نفل نماز ویسے تو نفل ہیں، آپ پڑھیں یا نہ پڑھیں آپ کی مرضی، لیکن جب ایک دفعہ آپ نے شروع کر دی، نیت باندھ لی، اب وہ آپ پر واجب ہو چکا ہے، اگر آپ کو درمیان میں توڑنا پڑا تو کیا کرنی پڑے گی اس کی؟ قضا کرنا پڑے گی، روزہ نفلی رکھتے ہیں، ہے تو نفلی، آپ رکھیں یا نہ رکھیں، لیکن ایک دفعہ جب شروع کر دیا اب وہ آپ پر کیا ہو چکا ہے؟ اس کو پورا کرنا واجب ہے، اگر آپ توڑ دیتے ہیں درمیان میں تو کیا کرنا پڑے گی اس کی؟ قضا کرنا پڑے گی، اور دلیل کیا ہے؟ وَلَا تُبْطِلُوا أَعْمَالَكُمْ بھئی، اپنے عملوں کو باطل نہ کرو، تو ایک مرتبہ یہ عمل شروع کر دیا تو اب اس کو توڑنا صحیح نہیں، صورت سمجھ میں آئی؟ یہ مسئلہ ہے، تو عمرہ بھی ہمارے نزدیک سنت ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو سنت ہے۔ اور ایک مرتبہ، تو جب شروع کر دیا تو پھر کیا ہو جائے گا؟ واجب ہو جائے گا۔ کیا ہو جائے گا؟ واجب ہو جائے گا۔ اس سے پہلے واجب... اور آیت میں بھی یہی آ رہا ہے: ’أَتِمُّوا‘ پورا کرو۔ معلوم ہوا پورا کرنا کب ہوتا ہے؟ جب ایک دفعہ شروع کر دیا جائے، اور شروع کرنے کے بعد تو ہمارے نزدیک بھی واجب ہے۔ تو جو مسئلہ آیت میں ذکر ہے اس میں تو اختلاف ہی نہیں۔ کیونکہ شروع کرنے کے بعد جیسے آپ کے نزدیک واجب ہے، ہمارے نزدیک بھی واجب ہے۔ اختلاف تو اس میں ہے کہ ابتداءً پہلے سے، شروع سے ہی کیا ہے؟ عمرہ فرض ہے ابتداءً، یا فرض نہیں؟ اور اس کا اس آیت میں ذکر ہی... اس میں تو پورا کرنے کا ذکر ہے، اور پورا کرنا کب ہوتا ہے؟ جب کوئی چیز شروع کر دی جائے۔ اسی طرح استدلال کرنا اللہ کے اس قول کے ساتھ: ’وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ‘ کہ پورا کرو حج کو اور عمرے کو اللہ کے لیے، ’لِإِثْبَاتِ وُجُوبِ الْعُمْرَةِ ابْتِدَاءً ضَعِيفٌ‘ یہ استدلال کرنا کس کے لیے؟ ’لِإِثْبَاتِ وُجُوبِ الْعُمْرَةِ‘، وجوبِ عمرہ کو ثابت کرنے کے لیے ابتداءً بھئی، شروع سے ہی، ’ضَعِيفٌ‘ یہ استدلال کرنا ضعیف ہے، ’لِأَنَّ النَّصَّ يَقْتَضِي وُجُوبَ الْإِتْمَامِ‘ اس لیے کہ نص تو تقاضا کرتی ہے اتمام کا واجب کے وجوب کا، یعنی پورا کرنا کیا ہے؟ واجب ہے۔ اور یہ تو ہمارے نزدیک بھی جب ایک دفعہ شروع کر دیا تو پورا کرنا واجب ہے۔ ’وَذَلِكَ إِنَّمَا يَكُونُ بَعْدَ الشُّرُوعِ‘ اور اتمام تو کب ہوگا؟ پورا کرنا کب ہوگا؟ شروع کرنے کے بعد ہوگا، ’وَلَا خِلَافَ فِيهِ‘ اور اس میں کوئی اختلاف ہی نہیں، ’وَإِنَّمَا الْخِلَافُ فِي وُجُوبِهَا ابْتِدَاءً‘ اور اختلاف تو اس کے واجب ہونے میں ہے ابتداءً، شروع سے ہی، اور اس کا اس آیت میں ذکر ہی... تو وہ مسئلہ جس میں اختلاف ہے وہ نص کے اندر ذکر ہی نہیں، اور نص میں جو مسئلہ ہے اس کے اندر اختلاف ہی نہیں۔ ’وَكَذَلِكَ التَّمَسُّكُ بِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ‘ اور اسی طرح استدلال کرنا حضور علیہ السلام کے قول کے ساتھ، اس حدیث کے ساتھ: ’لَا تَبِيعُوا الدِّرْهَمَ بِالدِّرْهَمَيْنِ‘ نہ بیچو تم لوگ ایک درہم کو دو درہم کے بدلے میں، ’وَلَا الصَّاعَ بِالصَّاعَيْنِ‘ اور نہ ایک صاع کو دو صاع کے بدلے میں۔ دیکھیے بھئی! حضور علیہ السلام نے منع فرمایا ہے۔ اب مسئلہ یہ ہے، ہمارا اور امام شافعی رحمہ اللہ کا اختلاف ہے۔ ان کے نزدیک بیعِ فاسد جو ہو وہ ملکیت کا فائدہ نہیں دیتی بھئی، کیونکہ شریعت میں اسے منع کیا گیا ہے تو وہ بیع حرام ہوئی اور لہٰذا وہ ملکیت کا فائدہ... اس لیے کہ ملکیت تو ایک نعمت ہے۔ سمجھ میں آیا؟ نعمت ہے، اور حرام کام پر نعمت مرتب نہیں ہو سکتی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ آپ ایک چیز کے مالک بن جاتے ہیں، یہ نعمت ہے یا نہیں بھئی؟ تو یہ نعمت ہے، لیکن یہ حرام کام پر مرتب... لہٰذا اگر بیعِ فاسد کی کسی نے، تو وہ اس کا مالک، اس مبیع کا مالک نہیں بنے گا۔ جبکہ ہمارے نزدیک، احناف کے نزدیک جب مشتری اور بائع ثمن اور مبیع کا آپس میں تبادلہ بیعِ فاسد کا کریں، اور اس تبادلہ کر کے بائع کیا کر لے؟ ثمن پر قبضہ کر لے، اور مشتری مبیع پر قبضہ کر لے، تو بیعِ فاسد میں بھی قبضے کے بعد یہ دونوں کیا بن جایا کرتے ہیں؟ مالک بن جایا کرتے ہیں۔ سمجھ میں آیا؟ مالک، کیوں؟ کیونکہ بیع کیا ہے؟ فعلِ شرعی ہے، اور فعلِ شرعی کے اندر نہی آئے تو آپ نے کیا مسئلہ پڑھا تھا؟ کہ وہ ذات کے اعتبار سے کیا ہوتا ہے؟ مشروع، اور وصف کے اعتبار سے؟ غیر مشروع۔ جب ذات کے اعتبار سے مشروع ہوا تو اب یہ کس چیز کا فائدہ دے دے گا؟ ملکیت کا فائدہ دے گا، ہاں البتہ چونکہ یہ وصف کے اعتبار سے غیر مشروع ہے لہٰذا اس بیع کا توڑنا ان دونوں پر واجب ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ واجب ہے۔ تو ان کے، امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک یہ دونوں مالک ہی نہیں بنیں گے ان چیزوں کے، جبکہ ہمارے نزدیک وہ کیا بن جائیں گے؟ ان چیزوں کے مالک بن جائیں گے بھئی، سمجھ میں آیا؟ ان کی دلیل کیا ہے؟ کہ وہ کہتے ہیں حضور... حدیث میں آیا ہے: ’لَا تَبِيعُوا الدِّرْهَمَ بِالدِّرْهَمَيْنِ وَلَا الصَّاعَ بِالصَّاعَيْنِ‘ نہ بیچو تم ایک درہم کو دو درہم کے بدلے، اور نہ ایک صاع کو دو صاع کے بدلے۔ حدیث میں منع کیا گیا ہے، جب منع کیا گیا ہے تو یہ بیع کیا ہوئی؟ حرام ہوئی، جب حرام ہوئی تو یہ ملکیت کا فائدہ نہیں دے گی۔ ہم کہتے ہیں بھئی! ٹھیک ہے، اس کے... جی حدیث میں جو مسئلہ ذکر ہو رہا ہے اس میں تو ہمارا اختلاف ہی نہیں ہے۔ حدیث سے تو اتنا پتہ چل رہا ہے کہ بیعِ فاسد حرام ہے، اور ہمارے نزدیک بھی کیا ہے؟ بیعِ فاسد حرام ہے۔ اختلاف اس چیز میں ہے کہ یہ بیعِ فاسد ملکیت کا فائدہ دے گی یا ملکیت کا فائدہ... اور اس کا اس حدیث میں ذکر ہی... تو وہ مسئلہ جس میں... جو حدیث میں ذکر ہے اس میں تو اختلاف ہی نہیں، اور جس مسئلے میں اختلاف ہے وہ اس حدیث کے اندر ذکر ہی نہیں! ’وَكَذَلِكَ التَّمَسُّكُ بِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ‘ اور اسی طرح استدلال کرنا حضور علیہ السلام کے اس قول کے ساتھ: ’لَا تَبِيعُوا الدِّرْهَمَ بِالدِّرْهَمَيْنِ‘ نہ بیچو تم ایک درہم کو دو درہموں کے بدلے، ’وَلَا الصَّاعَ بِالصَّاعَيْنِ‘ اور نہ ایک صاع کو دو صاع کے بدلے، اس سے استدلال کرنا ’لِإِثْبَاتِ‘ یہ ثابت کرنے کے لیے کہ ’أَنَّ الْبَيْعَ الْفَاسِدَ لَا يُفِيدُ الْمِلْكَ‘ کہ بیعِ فاسد ملکیت کا فائدہ نہیں دیتی، یہ ثابت کرنے کے لیے استدلال کرنا ’ضَعِيفٌ‘ یہ کیا ہے؟ ضعیف ہے، ’لِأَنَّ النَّصَّ يَقْتَضِي تَحْرِيمَ الْبَيْعِ الْفَاسِدِ‘ اس لیے کہ نص تو تقاضا کرتی ہے بیعِ فاسد کے حرا... کے حرام کرنے کا، حرام ہونے کا، ’وَلَا خِلَافَ فِيهِ‘ اور اس میں تو کوئی اختلاف ہی نہیں، ’وَإِنَّمَا الْخِلَافُ فِي ثُبُوتِ الْمِلْكِ وَعَدَمِهِ‘ اور اختلاف تو ملکیت کے ثبوت اور عدمِ ثبوت میں ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ ’وَإِنَّمَا الْخِلَافُ فِي ثُبُوتِ الْمِلْكِ وَعَدَمِهِ‘ اور اختلاف تو کس چیز میں ہے؟ ثبوتِ ملکیت میں ہے کہ یا عدمِ ثبوتِ ملکیت میں ہے کہ ملکیت آئے گی یا ملکیت نہیں آئے گی۔ ہمارے نزدیک ملکیت آ جائے گی، آپ کے نزدیک ملکیت... اس مسئلے میں اختلاف ہے، اور اس کا تو اس حدیث کے اندر ذکر ہی نہیں۔ ’وَكَذَلِكَ التَّمَسُّكُ بِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ‘ اور اسی طرح استدلال کرنا حضور علیہ السلام کے اس قول کے ساتھ: ’أَلَا لَا تَصُومُوا فِي هَذِهِ الْأَيَّامِ فَإِنَّهَا أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ وَبِعَالٍ‘۔ بھئی دیکھو! ایامِ تشریق، یوم النحر اور ایامِ تشریق کے اندر روزہ رکھنے سے منع کیا گیا ہے۔ روزہ رکھ... کیا حدیث میں آتا ہے؟ ’أَلَا‘ خبردار! ’لَا تَصُومُوا فِي هَذِهِ الْأَيَّامِ‘ مت روزے رکھو تم لوگ، روزہ رکھو تم لوگ ان ایام کے اندر، ’فَإِنَّهَا أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ وَبِعَالٍ‘ اس لیے کہ یہ کھانے اور پینے اور جماع کے دن ہیں۔ تو یہ ضیافت اللہ کے ایام ہیں بھئی، اللہ کیا فرماتے ہیں؟ اپنے بندوں کی مہمان نوازی فرماتے ہیں بھئی۔ تو اب اگر اس میں روزہ رکھا جائے گا تو کیا لازم آئے گا؟ ضیافت اللہ سے اعراض لازم آئے گا، لہٰذا ان دنوں میں روزہ رکھنے سے منع کیا گیا ہے۔ اور روزہ ہے ایک فعلِ شرعی۔ اچھا، یہ آگے آ رہی ہے بات۔ تو دیکھو! اب ہمارا امام شافعی رحمہ اللہ کا اختلاف ہے اس مسئلے میں، کہ اگر کسی نے یوم النحر کے دن یا ایامِ تشریق میں روزہ رکھنے کی منت مانی تو کیا یہ منت صحیح ہے یا نہیں؟ ہمارے نزدیک منت صحیح ہے، امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک یہ منت ہی صحیح... اس لیے کہ ایامِ تشریق میں اور ایام النحر میں روزہ رکھنے سے منع کیا گیا ہے، منع کیا گیا ہے۔ تو ان ایام میں روزہ رکھنا حرام ہوا، اور ایک حرام چیز کی منت ماننا صحیح نہیں، اس لیے کہ حدیث میں آیا ہے: ’لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ‘ اللہ کی معصیت میں نذر، منت نہیں ہے، منت نہیں ہے، درست نہیں ہے، سمجھ میں آیا؟ جائز نہیں ہے اللہ کی معصیت میں۔ تو یہاں پر بھی حرام ہے، اور حرام کی منت صحیح نہیں ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ ہم کہتے ہیں کہ بھئی دیکھو! ان ایام میں روزہ رکھنے سے منع کیا گیا ہے، اور روزہ ہے ایک فعلِ شرعی، اور فعلِ شرعی کے اندر نہی آ جائے تو وہ کیا تقاضا کرتی ہے؟ کہ وہ ذات کے اعتبار سے مشروع ہو، اور وصف کے اعتبار سے... تو یہ روزہ ذات کے اعتبار سے مشروع ہوا، جائز ہوا، اور جب ذات کے اعتبار سے مشروع ہوا، جائز ہوا، تو ایک جائز چیز کی منت ماننا بھی صحیح، جائز، سمجھ میں آیا؟ تو ہمارے نزدیک منت ماننا صحیح، ان کے نزدیک منت ماننا صحیح... ان کی دلیل کیا ہے؟ ان کی دلیل یہ حدیث ہے، حدیث میں آیا ہے: ’أَلَا لَا تَصُومُوا فِي هَذِهِ الْأَيَّامِ‘ خبردار! نہ روزہ رکھو تم لوگ ’فِي هَذِهِ الْأَيَّامِ‘ ان ایام میں، ’فَإِنَّهَا أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ وَبِعَالٍ‘ اس لیے کہ یہ کھانے اور پینے اور جماع کے دن ہیں۔ سمجھ میں آیا؟ ہم جواب دیتے ہیں کہ بھئی! جو اس حدیث میں جس مسئلے کا ذکر ہے اس میں تو اختلاف ہی نہیں، اور جس مسئلے میں اختلاف ہے اس کا اس حدیث میں ذکر ہی نہیں! اس حدیث میں ذکر ہے کہ ان ایام میں روزہ رکھنا حرام ہے، اور ہمارے نزدیک بھی ان ایام میں روزہ رکھنا حرام ہے، سمجھ میں آیا؟ ذات کے اعتبار سے مشروع ہے لیکن وصف کے اعتبار سے حرام ہے، غیر مشروع ہے، سمجھ میں آیا؟ لیکن اختلاف اس میں ہے کہ اب اس کی منت ماننا صحیح ہے... منت سے تو وہ رکھنا تو لازم نہیں آیا، ہم بھی کہتے ہیں منت ماننا صحیح ہے لیکن اس دن پھر رکھے نہ، کیا کرے؟ بعد میں اس کی قضا کر لے۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو منت سے کوئی رکھنا تو لازم نہیں آتا، منت تو ایک الگ چیز ہے، بات کر رہا ہے زبان سے اپنے اوپر لازم کر رہا ہے، لیکن لازم کر لیتا ہے، پوری ہو جاتی ہے منت، تو پھر کیا کرنا چاہیے؟ اس دن نہ رکھے بلکہ بعد میں رکھے۔ تو اس حدیث سے استدلال کرنا ’لِإِثْبَاتِ‘ یہ بات ثابت کرنے کے لیے کہ ’أَنَّ النَّذْرَ بِصَوْمِ يَوْمِ النَّحْرِ لَا يَصِحُّ‘ کہ یوم النحر کے روزے کی منت صحیح... اس بات کو ثابت کرنے کے لیے کہ یوم النحر کے روزے کی منت صحیح نہیں ہے، ’ضَعِيفٌ‘ یہ استدلال کرنا کیا ہے؟ ضعیف ہے، ’لِأَنَّ النَّصَّ يَقْتَضِي حُرْمَةَ الْفِعْلِ‘ اس لیے کہ نص تقاضا کرتی ہے فعل کے حرام ہونے کا، یعنی روزے کے ان دنوں میں، ’وَلَا خِلَافَ فِي كَوْنِهِ حَرَامًا‘ اور اس کے روزے کے ان ایام میں حرام ہونے میں کوئی اختلاف... کوئی اختلاف نہیں، ’وَإِنَّمَا الْخِلَافُ فِي إِفَادَةِ الْأَحْكَامِ مَعَ كَوْنِهِ حَرَامًا‘ اور اختلاف تو کس چیز میں ہے؟ ’فِي إِفَادَةِ الْأَحْكَامِ‘ احکام کا فائدہ دینے میں، یعنی احکام کے اس پر مرتب ہونا، اس میں اختلاف ہے ’مَعَ كَوْنِهِ حَرَامًا‘ باوجود اس کے... باوجود اس کے حرام ہونے کے وہ احکام کا فائدہ دے گا یا نہیں۔ یعنی بھئی دیکھو! بھئی روزہ ان ایام میں کیا ہے؟ حرام، ہمارے نزدیک بھی حرام اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک بھی... البتہ فرق یہ ہے، ہمارے نزدیک حرام لغيره ہے، ان کے نزدیک حرام لعينہ۔ جب حرام لعينہ ہوا تو ان کے نزدیک منت ماننا بھی صحیح نہیں، اور ہمارے نزدیک حرام لغيره ہے تو منت ماننا... تو ذات کے اعتبار سے ہمارے نزدیک مشروع ہے، وصف کے اعتبار سے غیر مشروع ہے۔ اب اس کا بھی حرام... یہ تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ تو حرام فعل ہے، اور روزہ رکھنا ان ایام میں، لہٰذا اس پر احکام مرتب نہیں ہو سکتے۔ ایک حرام فعل پر شرعی احکام مرتب... آپ کہہ رہے ہیں منت مان لے، تو یہ منت کا ماننا، اس کا منعقد ہو جانا، یہ فعلِ شرعی ہے یا نہیں ہے فعلِ شرعی؟ تو فعلِ شرعی ہے۔ تو یہ فعلِ شرعی حرام کام پر مرتب ہوگا یا مرتب... ان کے نزدیک مرتب نہیں ہوگا، ہمارے نزدیک مرتب ہو جائے گا۔ صورت سمجھ میں آئی؟ ہم کہتے ہیں ایک فعل کا حرام ہونا اس پر فعلِ شرعی کے مرتب ہونے کے خلاف نہیں، ایک فعل حرام بھی ہوگا اور اس پر فعلِ شرعی بھی کیا ہو جائے گا؟ مرتب ہو جائے گا، اور اس کی کئی نظیریں پیش کرتے ہیں ہم بھئی، سمجھ میں آیا؟ مثلاً ایک شخص نے کسی کا پانی غصب کیا، اب یہ پانی غصب... یہ پانی استعمال کرنا اس کے لیے حرام ہے، لیکن اگر وضو کر لے گا تو طہارت کیا ہوگی؟ حاصل... تو دیکھو فعل حرام ہے، اس کا استعمال کرنا حرام ہے اس کے لیے، لیکن پھر بھی اس پر ایک شرعی حکم مرتب ہوا اور اسے پاکی حاصل... ایک آدمی نے دوسرے کی چھری غصب کر لی، اب یہ چھری اس کے لیے استعمال کرنا کیا ہے؟ حرام ہے، لیکن اس کے ذریعے وہ کیا کر لیتا ہے؟ بکری ذبح کرتا ہے تو وہ شرعی حکم مرتب ہوگا اور وہ جانور کیا ہو جائے گا؟ حلال ہو جائے گا۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو کئی اس پر ذکر کر رہے ہیں، دیکھیے۔ تو اس میں تو کوئی اختلاف نہیں ہے، اس روزے کے... ’وَلَا خِلَافَ فِي كَوْنِهِ حَرَامًا‘ اور اس یوم النحر کے روزے کے حرام ہونے میں تو کوئی اختلاف نہیں ہے، ’وَإِنَّمَا الْخِلَافُ فِي إِفَادَةِ الْأَحْكَامِ مَعَ كَوْنِهِ حَرَامًا‘ اور اختلاف تو کس چیز میں ہے؟ ’فِي إِفَادَةِ الْأَحْكَامِ‘ احکام کا فائدہ دینے میں، یعنی احکام کے اس پر مرتب ہونا، اس میں اختلاف ہے ’مَعَ كَوْنِهِ حَرَامًا‘ باوجود اس کے حرام ہونے کے، وہ احکام کا فائدہ دے گا یا نہیں۔ ’وَحُرْمَةُ الْفِعْلِ لَا تُنَافِي تَرَتُّبَ الْأَحْكَامِ‘ اور فعل کا حرام ہونا یہ منافی نہیں ہے احکام کے مرتب ہونے کے، ’فَإِنَّ الْأَبَ لَوْ اسْتَوْلَدَ جَارِيَةَ ابْنِهِ يَكُونُ حَرَامًا وَيَثْبُتُ بِهِ الْمِلْكُ لِلْأَبِ‘۔ دیکھو! بھئی بیٹے کی باندی ہے، باپ کے لیے اس سے وطی کرنا حرام ہے، لیکن اگر باپ اس سے وطی کرتا ہے، اسے امِ ولد بنا دیتا ہے، تو اب یہ فعل تو حرام تھا لیکن اس پر شرعی حکم مرتب ہوا اور باپ کو شریعت نے اس کا مالک قرار دے دیا۔ کہ اب یہ کیا ہے؟ باندی کس کے... کا مالک کون ہو چکا ہے؟ باپ مالک ہو چکا ہے، اور بیٹے کو اب اس کی قیمت ادا کرے گا۔ بیٹے کو کیا کرے اس کی؟ قیمت ادا... صورت سمجھ میں آئی؟ بیٹے کی باندی ہے، باپ اس کو کیا بنا دیتا ہے؟ امِ ولد، تو اس پر شرعی حکم مرتب ہوتا ہے اور باپ کو شریعت کیا قرار دے دیتی ہے؟ کہ یہ کیا ہوا؟ باندی کا مالک بن گیا، اور اب بیٹے کو کیا کرے؟ قیمت اس کی ادا کرے، سمجھ میں آیا؟ وہ ایک بیٹا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تھا ایک شخص، اور اس نے کہا تھا کہ میرا باپ میرا مال خرچ کرتا ہے۔ حضور علیہ السلام نے باپ کو بلوايا، تو باپ نے کہا کہ اس طرح میں نے تکلیفیں اٹھائیں، میں... جو کچھ ہوتا تھا میں اس کے خوشی کے لیے اس کو دیتا تھا، اپنا مال اس سے روکتا نہیں تھا، اور آج جب میں بوڑھا ہو گیا ہوں، ضعیف ہو گیا ہوں، تو یہ اپنا مال میرے سے چھپا چھپا کر رکھتا ہے۔ حضور علیہ السلام بھی اس کی بات سن کر آبدیدہ ہو گئے، اور پھر کہا: ’أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيكَ‘ تو اور تیرا مال کس کے ہیں؟ تیرے باپ کے ہیں۔ سمجھ میں آیا؟ تو یہاں بھی باپ نے جب باندی کو امِ ولد بنا دیا تو وہ باپ اس کا کیا بن جائے گا؟ مالک بن جائے گا۔ دیکھو! اب وہ نظیریں پیش کر رہے ہیں کہ احکام... فعل حرام ہے لیکن اس پر کیا ہو رہا ہے؟ شرعی حکم... شرعی احکام مرتب ہو رہے ہیں۔ ’فَإِنَّ الْأَبَ لَوْ اسْتَوْلَدَ جَارِيَةَ ابْنِهِ يَكُونُ حَرَامًا وَيَثْبُتُ بِهِ الْمِلْكُ لِلْأَبِ‘ اس لیے کہ باپ نے اگر امِ ولد بنا دیا بیٹے کی باندی کو ’يَكُونُ حَرَامًا‘ تو یہ کیا ہے؟ امِ ولد بنانا حرام ہے، ’وَيَثْبُتُ بِهِ الْمِلْكُ لِلْأَبِ‘ اور اس سے باپ کے لیے ملکیت ثابت ہو جائے گی، تو دیکھا شرعی حکم مرتب ہوا۔ ’وَلَوْ ذَبَحَ شَاةً بِسِكِّينٍ مَغْصُوبَةٍ يَكُونُ حَرَامًا‘ اگر ذبح کیا ایک بھیڑ بکری کو کس سے؟ ’بِسِكِّينٍ‘، سکین کس کو کہتے ہیں؟ چھری، غصب چھینی ہوئی، غصب کی ہوئی چھری، چھینی ہوئی چھری کے ساتھ، ’يَكُونُ حَرَامًا‘ تو یہ ذبح کرنا حرام ہے، ’وَيَحِلُّ الْمَذْبُوحُ‘ اور مذبوح جانور، ذبح شدہ جانور کیا ہو جائے گا؟ حلال ہو جائے گا۔ ’وَلَوْ غَسَلَ ثَوْبًا نَجِسًا بِمَاءٍ مَغْصُوبٍ يَكُونُ حَرَامًا‘ اگر دھویا کپڑے نجس کپڑے کو غصب شدہ پانی کے... غصب کیے ہوئے پانی کے ساتھ، ’يَكُونُ حَرَامًا‘ تو یہ دھونا حرام ہے، ’وَيَطْهُرُ بِهِ الثَّوْبُ‘ اور اس سے کپڑا کیا ہو جائے گا؟ پھر بھی پاک، تو دیکھا شرعی حکم مرتب ہوا۔ ’وَلَوْ وَطِئَ امْرَأَةً فِي حَالَةِ الْحَيْضِ يَكُونُ حَرَامًا‘۔ دیکھیے! ایک شخص نے ایک عورت سے نکاح کیا، اور جب پہلی مرتبہ اس سے صحبت کی تو وہ حالتِ حیض میں تھی۔ اس نے اسی حالت میں اس سے وطی کر لی، تو اب اس شخص کا احصان ثابت ہو جائے گا، وہ محسن بن جائے گا مولانا، محسن! اب اگر اس نے کیا کیا؟ زنا کیا اس نے، تو اس کو کیا کیا جائے گا؟ رجم کیا جائے گا۔ تو دیکھو، حیض کی حالت میں وطی کرنا کیا تھا؟ حرام، لیکن اس پر کیا فعلِ شرعی مرتب ہوا اور اس رجل کا محسن ہونا ثابت ہو گیا۔ سمجھ میں آیا؟ اسی طرح ایک شخص نے بیوی کو تین طلاقیں دے دی تھیں، سمجھ میں آیا؟ اب اس بیوی کا اس شخص کے پاس ساتھ دوبارہ نکاح بغیر حلالہ شرعی کے جائز نہیں، اب اس عورت نے ایک شخص سے کیا کیا؟ ایک شخص سے کیا کیا؟ کہ نکاح کر لیا، اور اس نے اس کے ساتھ نکاح کے بعد... اس سے جب صحبت کی وہ کس میں تھی؟ حالتِ حیض میں تھی۔ تو اب اس حال... حالتِ حیض میں وطی حرام ہے، لیکن جب یہ اس کے ساتھ صحبت کر لے گا تو یہ اب پہلے خاوند کے لیے اس وطی کے ذریعے کیا ہو جائے گی؟ حلال ہو جائے گی۔ تو دیکھو، یہ حالتِ حیض میں وطی حرام تھی لیکن اس پر ایک فعلِ شرعی مرتب ہوا اور پہلے خاوند کے لیے وہ کیا ہو گئی؟ حلال ہو گئی۔ ’وَلَوْ وَطِئَ امْرَأَةً فِي حَالَةِ الْحَيْضِ‘ اور اگر وطی کی بیوی کے ساتھ حالتِ حیض میں، ’يَكُونُ حَرَامًا‘ تو یہ وطی حرام ہوگی، ’وَيَثْبُتُ بِهِ إِحْصَانُ الْوَاطِئِ‘ اور ثابت ہو جائے گا اس کے ساتھ وطی کرنے والے کا محسن ہونا، ’وَيَثْبُتُ الْحِلُّ لِلزَّوْجِ الْأَوَّلِ‘ اور ثابت ہو جائے گی حلت پہلے خاوند کے لیے۔ جب اس نے کتنی طلاقیں دی تھیں۔3 طلاقیں چلیے ھذا ھو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام