نہیں کی بحث چل رہی ہے وہاں۔ اور آپ کو بتلایا تھا افعال دو قسم پر ہیں: ایک افعالِ حسیہ اور ایک افعالِ شرعیہ۔ افعالِ حسیہ وہ جن کے معنی شریعت کے آنے کے بعد بھی اسی طرح باقی ہوں، ان میں کوئی تبدیلی شریعت نے نہ کی ہو۔ اور ایک افعالِ شرعیہ کہ وہ جن کے معنی شریعت نے کیا کر دیے ہوں؟ بدل کر بدل دیے ہوں، ان کے معنی میں تبدیلی پیدا کر دی ہو۔ اور پھر آپ نے پڑھا تھا کہ جب نہیں آ جائے اگر افعالِ حسیہ میں ہو تو وہ کیا ہوگا؟ قبیح لعینہ ہی ہوگا، حرام لعینہ ہی ہوگا، ذات کے اعتبار سے حرام ہوگا۔ اور اگر نہیں کس کے اندر آ جائے؟ افعالِ شرعیہ میں آ جائے تو وہ ذات کے اعتبار سے تو مشروع ہوگا لیکن وصف کے اعتبار سے غیر مشروع ہوگا، یعنی وہ قبیح لغیرہ ہوگا، ذات کے اعتبار سے حسن اور غیر کے اعتبار سے قبیح۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ جی۔ اور اس پر گزشتہ سبق کے آخر میں مسئلہ ذکر ہوا تھا: "ویتفرع من هذا حکم البيع الفاسد والإجارة الفاسدة والنذر بصوم يوم النحر" بھئی، جی۔ اس میں بتایا تھا بھئی بیع فاسد بھی ٹھیک ہے، شرائط کے کسی شرط کے ساتھ بیع کر دی تو یہ بھی کیا ہے مولانا بیع فعلِ شرعی ہے اور اس کے اندر نہیں آ گئی، نہیں آئی ہے تو لہذا یہ کیا ہو جائے گا؟ حرام لغیرہ ہو جائے گا۔ کیا ہو جائے گا؟ حرام لغیرہ، یعنی ذات کے اعتبار سے مشروع اور وصف کے اعتبار سے غیر مشروع رہے گا بھئی۔ لہذا توڑنا واجب ان پر۔ اور اسی طرح اجارہ فاسدہ ہے، کوئی ایسی شرط لگا دی عقد کے خلاف جو مقتضائے عقد کے خلاف تھی تو اس صورت میں یہ اجارہ کیا ہوا؟ فاسد ہوا، تو ذات کے اعتبار سے مشروع ہوگا اور وصف کے اعتبار سے کیا ہوگا؟ غیر مشروع۔ اسی طرح مولانا یوم النحر کے اندر روزہ ہے بھئی، یوم النحر کے اندر اور اسی طرح ایامِ، دونوں عیدین جو ہیں اور اسی طرح ایامِ تشریق جو ہے ان میں شریعت میں نہیں آئی ہے ان ایام میں روزہ رکھنے سے بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی؟ یوم النحر اور ایامِ تشریق بھئی، اس میں تو کہ یہ کیا ہیں بھئی؟ کھانے اور پینے کے دن ہیں مولانا، کھانے اور پینے، اللہ کی مہمان نوازی ہے اللہ کی طرف سے تو لہذا اگر اس دن روزہ رکھے گا تو اعراض لازم آئے گا اللہ کی مہمان نوازی سے بھئی، لہذا اس وجہ سے یہ کیا ہے؟ جی؟ حرام لغیرہ ہوا بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اس کی اس وجہ اس وصف کی اعراض کی وجہ سے یہ کیا ہوا؟ حرام۔ تو روزے کے نہیں آئی ہے روزے سے ایامِ یوم النحر کے دن اور ایامِ تشریق۔ اور یوم اور روزہ جو ہے کیا ہے؟ فعلِ حسی ہے یا فعلِ شرعی ہے؟ فعلِ شرعی ہے اور فعلِ شرعی میں نہیں آ جائے تو وہ ذات کے اعتبار سے مشروع ہوتا ہے اور وصف کے اعتبار سے غیر مشروع غیر مشروع۔ اب یہ روزہ رکھنا ذات کے اعتبار سے مشروع ہوا یوم النحر کے دن، تو جب مشروع ہوا تو ایک مشروع چیز کی نذر منت مانتا ہے ایک شخص تو یہ منت ہر لحاظ سے صحیح ہے مولانا، ذات کے اعتبار سے بھی صحیح اور وصف کے اعتبار سے بھی۔ ہاں وہ روزہ وہ ذات کے اعتبار سے مشروع ہے اور وصف کے اعتبار سے، تو یہ منت جو مان رہا ہے ایک مشروع چیز کی ہے یا غیر مشروع چیز کی؟ بھئی وہ روزہ کیا تھا؟ ذات کے اعتبار سے کیا تھا؟ تو مشروع چیز کی منت مان رہا ہے لہذا یہ ہر لحاظ سے صحیح، لہذا ان اس مقام پر نذر کو ذکر کرنا یہ درست نہیں مولانا، سمجھ میں آیا بھئی؟ مصنف سے یہاں کیا ہوا؟ تسامح ہوا بھئی، تسامح ہوا بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ نذر ماننا، ہاں امامِ شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک منت ماننا صحیح نہیں، کیوں؟ کیونکہ ان کے نزدیک چاہے فعلِ شرعی ہی کیوں نہ ہو اس کے اندر جب نہیں آ جائے تو وہ کیا ہوتا ہے؟ ذات کے اعتبار سے ہی غیر مشروع ہوتا ہے، جب وہ ذات کے اعتبار سے غیر مشروع ہوا تو غیر مشروع چیز کی منت ماننا بھی صحیح نہیں، لہذا ان کے نزدیک منت بھی صحیح نہیں بھئی۔ ہمارے نزدیک منت ماننے میں تو کوئی مسئلہ ہی نہیں بھئی، بھئی وہ دیکھو وہ روزہ یوم النحر کے دن رکھیں گے تو اس وقت کیا ہوگا؟ وہ حرام لغیرہ کا مرتکب ہوگا، صرف منت ماننے سے تو حرام لغیرہ کا مرتکب نہیں ہوتا، سمجھ میں آیا؟ کیونکہ اس وقت کیا لازم آتا ہے؟ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو وہ وصف اعرا، وہ کس وجہ سے وہ حرام ہے بھئی وہ روزہ؟ اعراض لازم آتا ہے ضیافت اللہ سے بھئی، ضیافت اللہ سے کیا لازم آتا ہے؟ اعراض لازم آتا ہے اور وہ اعراض کب لازم آئے گا؟ جب روزہ رکھیں گے، جب اس پر عمل کریں گے، صرف منت ماننے سے، بولنے سے تو اعراض لازم نہیں آتا، لہذا منت صحیح ہے بھئی ہر لحاظ سے، تو لہذا مصنف سے تسامح ہوا بھئی یہاں۔ یا یوں کہہ لیں بھئی نذر بول کر مراد وہ کیا ہے؟ روزہ ہے، مراد کیا ہے؟ روزہ ہے، اس پر عمل مراد ہے اور عمل جو ہے ہاں ٹھیک ہے وہ اپنی ذات کے اعتبار سے مشروع اور وصف کے اعتبار سے غیر مشروع ہوا، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ "فقلنا" پس ہم کہتے ہیں بھئی: "البيع الفاسد يفيد" بھئی تو بھئی بیع کیا ہے؟ فعلِ شرعی اور فعلِ شرعی کے اندر اب شرط لگانے سے شریعت نے منع کیا، اب ایک شخص اپنی کوئی چیز دوسرے کو بیچتا ہے لیکن ساتھ کوئی شرط لگا دیتا ہے مقتضائے عقد کے خلاف، مثلاً یہ قلم میں آپ کو بیچتا ہوں 10 روپے میں اور دوسرا کہتا ہے مجھے قبول ہے لیکن یہ شرط بھی ساتھ لگاتا ہے کہ میں 10 دن تک میں استعمال کروں گا، یہ شرط مقتضائے عقد کے خلاف ہے، لہذا اس صورت میں یہ بیع کیا ہوئی؟ فاسد ہو گئی، بیع کیا ہوئی؟ فاسد، تو بیع ہے فعلِ شرعی اور شریعت میں نفی آئی ہے مولانا بیع اور شرط سے بھئی، بیع کے ساتھ شرط لگانے سے، تو لہذا یہ بیع ذات کے اعتبار سے مشروع ہوئی اور وصف کے اعتبار سے، جب ذات کے اعتبار سے مشروع ہوئی تو منعقد ہو گئی۔ کیا ہو گئی؟ منعقد ہو گئی، لہذا یہ کس چیز کا فائدہ دے دے گی؟ ملک کا فائدہ دے گی اور وہ شخص کیا بن جائے گا؟ اس کا، اس چیز کا مالک بن جائے گا جبکہ امامِ شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک مالک ہی، کیونکہ ذات کے اعتبار سے یہ مشروع نہیں ہے، صورت، ہاں اب مالک بن گیا لیکن توڑنا واجب کیونکہ اس کی وجہ سے کس چیز کا ارتکاب لازم آ رہا ہے؟ حرام کا، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ حرام لغیرہ کا ارتکاب لازم آ رہا ہے۔ مسئلہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ کوئی مشکل تو نہیں بھئی؟ نہیں، جی۔ "فقلنا" پس ہم کہتے ہیں: "البيع الفاسد يفيد الملك" کہ بیعِ فاسد فائدہ دے گی ملکیت کا "عند القبض" کب؟ جب قبضے کے وقت، جب اس پر قبضہ کر لے گا "باعتبار أنه بيع" اس اعتبار پر کہ یہ کیا ہے؟ بیع ہے "ويجب نقضه" اور واجب ہے اس کا توڑنا "باعتبار كونه حراماً لغيره" بوجہ اس کے حرام لغیرہ ہونے کے بھئی، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ "وهذا بخلاف" یہ ایک اشکال کا جواب دینا چاہتے ہیں بھئی، صاحبِ کتاب۔ اشکال یہ ہوتا ہے کہ اے احناف! تم نے ابھی بتلایا کہ فعلِ شرعی کے اندر اگر نہیں آ جائے تو وہ ذات کے اعتبار سے مشروع ہوتا ہے اور وصف کے اعتبار سے غیر مشروع ہوتا ہے بھئی، صورت سمجھ میں، یعنی ذات کے اعتبار سے، لیکن ہم آپ کو مثالیں دکھاتے ہیں کہ جہاں فعلِ شرعی کے اندر نہیں آئی ہے لیکن آپ اس میں کہتے ہیں کہ یہ ذات کے اعتبار سے مشروع نہیں، یعنی حرام لعینہ اس کو قرار دے دیتے ہیں، کیا قرار دے دیتے ہیں؟ حرام لعینہ قرار دے دیتے ہیں، حالانکہ اس کو کیا قرار دینا چاہیے؟ حرام لغیرہ قرار دینا چاہیے، جیسے نکاح ہے مولانا، نکاح فعلِ شرعی ہے یا فعلِ حسی ہے؟ جی؟ فعلِ شرعی، یا شریعت نے قیودات نہیں لگائیں نکاح کے اندر؟ دو گواہوں کا ہونا ضروری ہے، یہ پہلے کوئی کہتا تھا؟ نہیں، اور ایجاب اور قبول ہوں، ماضی کے صیغے ہوں مولانا، اور مختلف شرائط وغیرہ شریعت نے ذکر کیں، یہ پہلے لوگ جانتے تھے یہ شرائط؟ نہیں، تو یہ فعلِ شرعی ہے نکاح، اور اس نکاح کے اندر نہیں آئی ہے، کیا؟ مثلاً روکا گیا ہے کس چیز سے؟ یرحمک اللہ، مشرکہ عورتوں سے نکاح سے روکا گیا ہے، تو نکاح ہے فعلِ شرعی اور فعلِ شرعی میں نہیں آئی لہذا نہیں کیا تقاضا کرتی ہے؟ یہ ذات کے اعتبار سے مشروع اور وصف کے اعتبار سے، تو معلوم ہوا مشرکہ سے کوئی نکاح کرے منعقد ہونا چاہیے، لیکن آپ کیا کہتے ہیں؟ یہ نکاح ذات کے اعتبار سے مشروع ہو گیا ہی نہیں بھئی، تو آپ نے اے احناف خود ہی اپنا ضابطہ توڑ دیا۔ صورت سمجھ میں آئی؟ اسی طرح باپ کی منکوحہ بھئی، باپ کی منکوحہ ہے بھئی، مثلاً باپ نے دو شادیاں کی ہیں، اب وہ دوسری عورت باپ کی منکوحہ ہے، اس سے بعد میں باپ طلاق دے دیتا ہے یا انتقال ہو جاتا ہے، اس کے بعد کوئی شخص اس سے نکاح کرنا چاہے اس سے روکا گیا ہے، اس سے کیا کیا گیا ہے؟ روکا گیا ہے منکوحة الاب سے، تو لہذا نکاح سے، اس عورت کے نکاح سے روکا گیا اور نکاح ہے فعلِ شرعی اور فعلِ شرعی میں جب نہیں آئے تو وہ کس چیز کا تقاضا کرتی ہے؟ کہ ذات کے اعتبار سے کیا ہو؟ مشروع ہو، لیکن آپ یہاں کیا کہتے ہیں؟ یہ ذات کے اعتبار سے مشروع نہیں ہے۔ اسی طرح غیر کی معتدہ، ایک شخص نے عورت کو طلاق دے دی یا اس کا انتقال ہوا، عورت عدت میں ہے، عدت کے اندر اس سے کیا کرنا؟ نکاح کرنا، تو اس سے نہیں آئی ہے اور نکاح ہے فعلِ شرعی اور فعلِ شرعی میں نہیں آ جائے تو وہ کیا تقاضا کرتی ہے؟ ذات کے اعتبار سے کیا ہو؟ مشروع، وصف کے اعتبار سے، لیکن آپ کہتے ہیں یہ ذات کے اعتبار سے مشروع نہیں، یہاں نکاح منعقد ہی نہیں ہوتا۔ اسی طرح مولانا غیر کی منکوحہ ہے، غیر کا اسے نکاح ہے اس کے نکاح میں ہے، اس سے نکاح سے روکا گیا ہے، اب کوئی شخص اس سے نکاح کرتا ہے تو یہ نکاح ہے فعلِ شرعی اور اس سے روکا گیا ہے تو یہ کیا ہونا چاہیے؟ یہ ذات کے اعتبار سے مشروع ہونا چاہیے، وصف کے اعتبار سے، لیکن آپ کیا کہتے ہیں؟ یہ ذات کے اعتبار سے مشروع ہی، نکاح منعقد ہی نہیں ہوگا، اسی طرح مولانا محرم عورتوں سے نکاح سے روکا گیا ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ محرم بھئی جو ہمیشہ کے لیے انسان پر حرام ہوتی ہیں، ماں، بہن، بیٹی وغیرہ یہ، ان سے نکاح سے روکا گیا ہے اور نکاح فعلِ شرعی ہے اور فعلِ شرعی میں نہیں آئے تو وہ کس چیز کا تقاضا کرتی ہے؟ ذات کے اعتبار سے ہی مشروع، ذات کے اعتبار سے مشروع ہو، مگر آپ کیا کہتے ہیں؟ یہ ذات کے اعتبار سے ہی مشروع، نکاح منعقد ہی نہیں ہوتا، اسی طرح بغیر گواہوں کے نکاح سے منع کیا گیا ہے اور یہ تقاضا کرتا ہے کہ ذات کے اعتبار سے نکاح جائز ہو، وصف کے اعتبار سے جائز، لیکن آپ کیا کہتے ہیں؟ یہ ذات کے اعتبار سے ہی مشروع نہیں ہے، سمجھ میں آیا؟ تو آپ اسے حرام لغیرہ نہیں قرار دیتے بلکہ کیا قرار دیتے ہیں؟ حرام لعینہ قرار دیتے ہیں۔ تو جواب اس کا یہ مولانا، کہ بھئی جواب بھئی، بھئی اس وقت وہ فعل مشروع ہوتا ہے جب نہیں کے مقتضا اور اس فعلِ شرعی کے مقتضا میں منافات نہ ہو، یعنی ان کا جمع کرنا ممکن ہو بھئی، ان کا جمع کرنا کیا ہو؟ ممکن ہو۔ کیا لکھوایا میں نے بھئی؟ یہ اس کے بھئی ہم نے کیا ضابطہ لکھوایا کہ فعلِ شرعی کے اندر نہیں آ جائے تو وہ ذات کے اعتبار سے کیا ہوگا؟ مشروع ہوگا، یہ اس وقت ہے بلکہ یوں لکھو جواب، بلکہ یوں کہ بھئی ہم نے شروعات میں ضابطہ لکھوایا تھا کہ فعلِ شرعی کے اندر اگر نہیں آ جائے تو وہ کیا ہوگا؟ ذات کے اعتبار سے مشروع اور وصف کے اعتبار سے بشرطیکہ کوئی اس کے خلاف دلیل نہ ہو، یہ لکھوایا تھا یا نہیں بھئی؟ لیکن یہاں پر دلیل موجود ہے اس کے خلاف، اس وجہ سے یہ قبیح لغیرہ نہیں ہوگا بلکہ کیا ہوگا؟ قبیح لعینہ ہو جائے گا، یہاں دلیل موجود ہے مولانا، اور وہ کیا؟ کہ یہ مشروع اس وقت قرار دیا جائے گا جب نہیں کے مقتضا اور فعلِ شرعی کے مقتضا کے اندر منافات نہ ہو بھئی، یہ جملہ لکھ لیجیے بھئی، جب فعلِ شرعی کے مقتضا اور نہیں کے مقتضا میں منافات نہ ہو بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ باآسان لفظوں میں یوں کہو: منہی عنہ کی مشروعیت کا باقی رکھنا ممکن ہو، منہی عنہ کی مشروعیت کا باقی رکھنا ممکن ہو بھئی، یعنی وہ مشروع ہونا اس کا ممکن ہو بھئی، اور یہاں پر اس کا مشروع ہونا ممکن ہی نہیں ہے بھئی، کیوں ممکن نہیں ہے؟ اس لیے کہ فعلِ شرعی کے مقتضا میں، بھئی فعلِ شرعی کس چیز کا تقاضا کرتا ہے؟ نکاح کس چیز کا تقاضا کرتا ہے؟ تصرف کے حلال ہونے کا، فعلِ شرعی کیا ہے بھئی؟ نکاح، یہ کس چیز کا تقاضا کرتا ہے؟ تصرف کے حلال ہونے کا، اور نہیں تقاضا کرتی ہے تصرف کے حرام ہونے کا، روکا گیا ہے، نہیں کس چیز کا تقاضا کرتی ہے؟ حرمت کا، تو نہیں کس چیز کا، فعلِ شرعی کس چیز کا تقاضا کر رہا ہے؟ تصرف کے حلال ہونے کا، اور نہیں کس چیز کا تقاضا کر رہی ہے؟ تصرف کے حرام ہونے کا، لہذا اب ان دونوں کو جمع کرنا ممکن نہیں ہے کہ حلال بھی ہو اور حرام بھی ہو بھئی، یہ تو ممکن ہی نہیں، لہذا اس وجہ سے ہم نے اس کو کیا قرار دیا بھئی؟ حرام لعینہ قرار دیا، ذات کے اعتبار سے یہ مشروع نہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ دیکھیے بھئی: "وهذا بخلاف نکاح المشركات" اور یہ کس کے خلاف؟ بخلاف مشرکہ عورتوں کے نکاح کے خلاف ہے "ومنكوحة الاب" اور اسی طرح نکاح کس سے کرنا بھئی؟ منکوحۃ الاب سے "ومعتدة الغير" اور غیر کی معتدہ سے نکاح کرنا "ومنكوحته" اور غیر کی منکوحہ سے نکاح کرنا "ونكاح المحارم" اور اسی طرح بھئی محرم عورتوں سے نکاح کرنا "والنكا ح بغير شهود" اور اسی طرح نکاح کرنا بغیر گواہوں کے، سمجھ میں آیا بھئی؟ کیوں؟ "لأن موجب النكاح حل التصرف" موجب بمعنی مقتضا کے ہے بھئی، اس لیے کہ نکاح کا مقتضا کیا ہے؟ "حل التصرف" تصرف کا حلال ہونا "وموجب النهي حرمة التصرف" اور نہیں کا مقتضا ہے تصرف کا حرام ہونا "فاستحال الجمع بينهما" تو محال ہے جمع کرنا، جمع ہونا ان دونوں کے بیچ، ان دونوں میں جمع کرنا کیا ہے؟ محال ہوا "فيحمل النهي على النفي" تو محمول کیا جائے گا نہیں کو نفی پر مجازاً بھئی، مجازاً نہیں کو کس پر محمول کریں گے یہاں پر بھئی؟ نفی پر، یعنی بالکلیہ اب اس فعل کی نفی ہو جائے گی، کیا ہو جائے گی؟ نفی ہو جائے گی، صورت سمجھ میں آئی؟ تو یہاں پر نہیں کو محمول کریں گے نفی پر مجازاً بھئی، تو وہ فعل نہ ذات کے اعتبار سے جائز ہوگا اور نہ وصف کے اعتبار سے، یعنی سرے سے جائز ہی نہیں ہوگا بھئی، تو نہیں اپنے محل سے نکلی اور کیا بن گئی؟ نفی بن گئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ وہ نفی مراد نہیں ہے جو پہلے میں نے ذکر کی تھی اصطلاحی نفی بھئی، کیا معنی تھا اس نفی کا؟ عاجز کو منع کرنا، کیا کرنا؟ عاجز کو منع کرنا، وہ مراد نہیں ہے بلکہ نفی کے معنی نفی ہو جائے گی اس فعل کی بھئی، "فيحمل النهي، فيحمل النهي على النفي" تو محمول کیا جائے گا نہیں کو بھئی یہاں پر کس پر؟ نفی پر، یعنی نفی ہو جائے گی اس فعل کی بالکلیہ بھئی۔ بھئی اشکال یہ ہوا تھا کہ آپ نے کہا تھا فعلِ شرعی میں نہیں آ جائے تو وہ ذات کے اعتبار سے مشروع ہوتا ہے، وصف کے اعتبار سے، لیکن یہ سارے ان سب سے نکاح سے نفی آئی ہے اور نکاح ہے فعلِ شرعی اور اس میں نہیں آ جائے تو یہ تقاضا کرتا ہے ذات کے اعتبار سے مشروع اور وصف کے اعتبار سے، کہتے ہیں بھئی اس وقت ہم نے کیا کہا تھا کہ کوئی دلیل اس کے خلاف، اور یہاں دلیل موجود ہے اس لیے کہ ایک ہے فعلِ شرعی کا مقتضا اور ایک ہے نہیں کا مقتضا، فعلِ شرعی اور نہیں کے مقتضا میں آپس میں منافات نہ ہو تب وہ ذات کے اعتبار سے مشروع ہوا کرتا ہے، اور یہاں دونوں میں منافات ہے، فعلِ شرعی وہ نکاح کیا تقاضا کر رہا ہے؟ تصرف کے حلال ہونے کا، اور وہ نہیں جو آ گئی وہ کیا تقاضا کر رہی ہے؟ تصرف کے حرام ہونے کا، اور حلال اور حرام ہونا دونوں اکٹھے جمع نہیں ہو سکتے، لہذا اس وجہ سے ہم نے اس کو ذات کے اعتبار سے بھی کیا قرار دے دیا؟ غیر مشروع بھئی، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ اس پر اشکال ہوا پھر بھئی: بھئی یہ تو پھر بیع کے اندر بھی ہے! آپ نے کیا کہا ہے؟ بیعِ فاسد کس چیز کا فائدہ دیتی ہے؟ ملک کا فائدہ دیتی ہے، حالانکہ بیع تقاضا کرتی ہے ملکیت کا، بیع فعلِ شرعی اور فعلِ شرعی کا مقتضا کیا ہوا؟ ملکیت، مالک ہونا، اور نہیں کا کیا تقاضا ہے؟ حرمتِ تصرف، نہیں کس چیز کا تقاضا کرتی ہے؟ تصرف کے، تو نہیں کس چیز کا تقاضا کرتی ہے؟ تصرف کے، اور بیع کس چیز کا تقاضا کر رہا ہے؟ جی؟ سوچ میں کیوں پڑھ جاتے ہیں؟ کوئی مشکل بات ہے؟ بیع تقاضا کر رہی ہے ملکیت کا، اور نہی تقاضا کر رہی ہے حرمتِ تصرف، تو یہ دونوں بھی تو جمع نہیں ہو سکتے بھئی۔ کہتے ہیں: نہیں بھئی، یہ دونوں جمع ہو سکتے ہیں، ہم بلکہ ہم آپ کو مثال دیتے ہیں باقاعدہ، آپ خود کہیں گے کہ یہ دونوں جمع ہوئے، کہتے ہیں: دیکھو! ایک مسلمان ہے، اس کے پاس انگور کا رس یا شیرہ پڑا ہوا ہے، انگور کا رس، اب یہ اس کا مالک ہے، وہ رس اس کے پاس کچھ عرصہ پڑا رہا، پڑے پڑے وہ کس میں تبدیل ہو گیا؟ شراب میں۔ اب شراب جب بن گئی، اس میں تصرف کرنا مسلمان کے لیے جائز نہیں، کسی کو مالک بنائے، بیچے، وغیرہ ہبہ کرے، کچھ بھی تصرف کرنا اس کے لیے جائز نہیں، لیکن مالک اب بھی ہے۔ تو دیکھو! ملکیت ہے اور حرمتِ تصرف بھی ہے، دونوں جمع ہو گئیں یا نہیں بھئی؟ تو یہاں دونوں جمع ہونا ممکن ہے بھئی، اور وہاں پر حلتِ تصرف اور حرمتِ تصرف ان کا جمع ہونا ممکن ہی نہیں۔ تو یہاں فعل شرعی کا مقتضا کیا ہوا؟ ملکیت، اور نہی کا مقتضا کیا ہوا؟ حرمتِ تصرف، دونوں کا جمع ہونا ممکن ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ فَأَمَّا مُوجَبُ الْبَيْعِ فَثُبُوتُ الْمِلْكِ بیع کا موجب مقتضا وہ کیا ہے؟ ملکیت کا ثبوت ہے، وَمُوجَبُ النَّهْيِ حُرْمَةُ التَّصَرُّفِ اور نہی کا موجب کیا ہے؟ حرمتِ تصرف، وَقَدْ أَمْكَنَ الْجَمْعُ بَيْنَهُمَا اور تحقیق ممکن ہے جمع ان دونوں کے بیچ، بِأَنْ يَثْبُتَ الْمِلْكُ کہ ملک ثابت ہو جائے وَيَحْرُمَ التَّصَرُّفُ اور تصرف کیا ہو؟ ملک بھی ثابت ہو، ملکیت ہو اور تصرف حرام ہو، یہ ممکن ہے، أَلَيْسَ کَأَنَّهُ لَوْ تَخَمَّرَ الْعَصِيرُ فِي مِلْكِ الْمُسْلِمِ ایسا نہیں ہے کہ اگر عصير کیا ہے؟ وہ جو شیرہ کہہ لیں یا رس کہہ لیں، نچوڑ جو ہے اس کا، اگر وہ شراب بن جائے فِي مِلْكِ الْمُسْلِمِ مسلمان کی ملکیت میں، يَبْقَى مِلْكُهُ فِيهَا تو اس کے اندر اس کی ملکیت کیا ہے شراب میں؟ باقی رہے گی، وَيَحْرُمُ التَّصَرُّفُ اور تصرف کیا ہوگا؟ حرام ہو جائے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اب وہی یہ اوپر کی تفصیل چل رہی ہے، اوپر کیا آیا تھا؟ بیع فاسد آیا تھا اور اب آ رہا ہے آگے کیا تھا؟ نذر بصوم يوم النحر بھئی، اس کی صورت چل رہی ہے۔ وَعَلَى هَذَا اسی بنا پر قَالَ أَصْحَابُنَا ہمارے فقہاء فرماتے ہیں: إِذَا نَذَرَ لِصَوْمِ يَوْمِ النَّحْرِ جب کسی نے منت مانی یوم النحر کے روزے کی وَأَيَّامِ التَّشْرِيقِ اور ایام تشریق کی، يَصِحُّ نَذْرُهُ اس کی نذر کیا ہے؟ صحیح ہے، لِأَنَّهُ نَذْرٌ بِصَوْمٍ مَشْرُوعٍ اس لیے کہ یہ کس چیز کی نذر ہے بھئی؟ صومِ مشروع، کیونکہ روزے کی نہی آئی ہے تو وہ ذات کے اعتبار سے مشروع اور وصف کے اعتبار سے، تو جب ذات کے اعتبار سے مشروع تو ایک مشروع چیز کی نذر کیا ہے؟ صحیح ہے۔ وَكَذَلِكَ لَوْ نَذَرَ بِالصَّلَاةِ فِي الْأَوْقَاتِ الْمَكْرُوهَةِ يَصِحُّ لِأَنَّهُ نَذْرٌ بِعِبَادَةٍ مَشْرُوعَةٍ اور اسی طرح بھئی، ایک شخص کیا مانتا ہے؟ نہی حدیث میں منع کیا گیا ہے اوقاتِ مکروہہ میں نماز پڑھنے سے، تو یہ اور نماز کیا ہے؟ فعل شرعی ہے، اور فعل شرعی میں نہی آ جائے تو وہ ذات کے اعتبار سے مشروع، وصف کے اعتبار سے، تو نماز اوقاتِ مکروہہ میں یہ ذات کے اعتبار سے مشروع ہوئی، اور اس مشروع چیز کی کوئی منت مانتا ہے تو مشروع چیز کی منت تو صحیح ہے، اس میں کسی قسم کا کوئی اشکال ہی نہیں بھئی۔ وَكَذَلِكَ لَوْ نَذَرَ بِالصَّلَاةِ فِي الْأَوْقَاتِ الْمَكْرُوهَةِ اگر کسی نے منت مانی نماز کی اوقاتِ مکروہہ میں يَصِحُّ صحیح ہے لِأَنَّهُ نَذْرٌ بِعِبَادَةٍ مَشْرُوعَةٍ اس لیے کہ وہ عبادتِ مشروعہ کی نذر ہے، لِمَا ذَكَرْنَا اسی وجہ سے وہ جو ہم نے وجہ ذکر کی کہ أَنَّ النَّهْيَ يُوجِبُ بَقَاءَ التَّصَرُّفِ مَشْرُوعًا يُوجِبُ أَنْ يُثْبِتَ کہ نہی جو ہے ثابت کرتی ہے تصرف کے باقی رہنے کو، کس چیز کو ثابت کرتی ہے؟ تصرف کے باقی رہنے کو مَشْرُوعًا اس حال میں کہ وہ تصرف مشروع ہوتا ہے، یہ مشروماً حال ہے تصرف سے۔ تو افعالِ شرعیہ کے اندر نہی آ جائے تو وہ کس چیز کا تقاضا کرتی ہے؟ کہ وہ فعل کیا ہو؟ ذات کے اعتبار سے مشروع ہو اور وصف کے اعتبار سے، یہ نہی تقاضا کرتی ہے، ثابت کرتی ہے تصرف کے باقی رہنے کو اس حال میں کہ وہ تصرف کیا ہوتا ہے؟ مشروع ہوتا ہے، یعنی ذات کے اعتبار سے، کہ نہی کیا تقاضا کرتی ہے؟ تصرف کے باقی رہنے کا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اب یاد رکھو! تو لہٰذا اگر نماز کی منت مانتا ہے کوئی اوقاتِ مکروہہ میں، تو منت صحیح ہوئی، وہ کام ہو گیا، تو اس پر وہ نفل واجب ہو جائیں گے، لیکن اس وقت نہ پڑھے تاکہ حرام سے بچ جائے، بعد میں پڑھ لے۔ روزے کی بھی منت مان لیتا ہے اور منت صحیح ہے، لیکن اس وقت روزہ نہ رکھے بلکہ کیا کرے؟ بعد میں رکھ، بعد میں اس کی قضا کر لے تاکہ حرام سے کیا ہو؟ بچ جائے۔ لیکن اگر اس وقت میں اس نے روزہ رکھ دیا یا اس وقت میں اس نے نماز پڑھ لی تو اس کی نذر کیا ہو جائے گی؟ منت پوری ہو جائے گی، کیا ہو جائے گی؟ کیونکہ وہ ذات کے اعتبار سے کیا ہے؟ مشروع ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اب ایک اور بات اسی پر آپ کو بتلا رہے ہیں، یاد رکھو! نفل ویسے تو نفل ہیں، لیکن جب ایک دفعہ شروع کر دیں، پھر وہ واجب ہو جاتے ہیں۔ آپ نے نفل شروع کیے، پھر کسی وجہ سے نفل توڑ دیا، اب مولانا آپ پر واجب ہو چکا ہے، اب آپ کو یہ دو رکعت کیا کرنی پڑے گی ان کی؟ قضا کرنا پڑے گی۔ صورت سمجھ میں آئی؟ روزہ کسی نے رکھا نفلی روزہ، اب روزہ اس نے توڑ دیا، پہلے تو نفلی تھا، توڑ دیا کوئی حرج نہیں، لیکن اب اس پر کیا ہو چکا ہے یہ روزہ؟ واجب ہو چکا ہے، اس کو کیا کرنا پڑے گی؟ قضا کرنا پڑے گی۔ صورت سمجھ میں آئی؟ سمجھ میں آیا؟ دلیل جو ہے وہ قرآن میں ہے: وَلَا تُبْطِلُوا أَعْمَالَكُمْ اپنے اعمالوں کو باطل نہ کرو، سمجھ میں آیا؟ ایک دفعہ جب آپ نے شروع کر دیا ہے تو اس کو باطل اب نہ کرو، وَلَا تُبْطِلُوا أَعْمَالَكُمْ، یہ دلیل یاد رکھو ہمیشہ بھئی۔ اس کی حضرت شیخ رحمہ اللہ عجیب مثال ذکر کرتے ہیں کہ یہ نفل جب شروع کر دیے، اس کے بعد سے واجب کیوں ہوتے ہیں؟ اچھا! تو کہتے ہیں: نفل ایک زائد چیز ہے، لیکن جب شروع کر دیے واجب، یہ اسی طرح ہے، جیسے آپ کا ایک ساتھی ہے، آپ پر واجب نہیں ہے اس کو چائے پلانا، سمجھ میں آیا؟ آپ پلائیں یا نہ پلائیں، آپ کی مرضی، لیکن آپ اپنے ساتھی کو کہتے ہیں: "آؤ بھئی! آپ کو چائے پلاؤں"، اس کو لے گئے، وہ بیٹھا، اس کو چائے کا کپ لا کر دیا، اس نے ابھی ایک دو گھونٹ لیے تھے یا آدھا کپ پیا تھا، آپ نے کہا: "بس بھئی! واپس کرو، میری چائے واپس کرو"، چائے لے لی اس سے، اب ہر شخص آپ کو برا کہے گا کہ یا تو چائے پلاتے ہی نہ، اگر پلا دی تھی تو درمیان میں واپس نہ، تو نفل آپ پہ واجب نہیں تھے، لیکن جب آپ نے ایک دفعہ شروع کر دیے، اب اس کو واپس کرنا صحیح نہیں بھئی، یہ بہت برا ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو کہتے ہیں: اب یاد رکھو! اب ان اوقات میں، اوقاتِ مکروہہ میں کسی شخص نے کیا کیا بھئی؟ کیا شروع کیے بھئی؟ نفل شروع کیے، تو اب وہ نفل اس پر لازم ہوں گے یا لازم نہیں؟ کسی نے یوم النحر کے دن روزہ رکھا، کیا یہ روزہ اس پر لازم ہوگا یا نہیں؟ یاد رکھو! یہ نماز اس پر لازم ہو جائے گی، اس نے نفل شروع کیے پھر توڑ دیا بھئی اوقاتِ مکروہہ میں، نفل اس پر لازم ہیں، قضا اس پر لازم ہو جائے گی، لیکن اگر روزہ توڑ دیا تو روزے کی اس پر قضا لازم نہیں۔ ویسے نفلی روزہ رکھ دیا، سمجھ میں آیا؟ منت والا نہیں، منت والا تو ہے ہی اس پر لازم، ویسے نفلی روزہ رکھا کسی نے عید کے دن، پھر توڑ دیا، تو کیا روزے کی قضا اس پر لازم ہے؟ طرفین فرماتے ہیں کہ لازم نہیں۔ اور نماز اگر کسی نے اوقاتِ مکروہہ میں نفل شروع کی اور توڑ دی، تو کیا اس پر قضا لازم ہے ان کی یا نہیں؟ کہتے ہیں: اس کی قضا اس پر کیا ہے؟ لازم ہے۔ اس پر اشکال ہوتا ہے، بھئی! کیسے لازم ہے؟ کیونکہ نماز اس نفل جب اس نے اس وقت میں شروع کیا تو تو ایک حرام فعل کا ارتکاب کر رہا ہے۔ اور حرام کی وجہ سے نفل اس پر لازم نہیں ہونے چاہئیں۔ تو یہ تو ارتکابِ حرام سے بچ جائے گا جب توڑ دے گا۔ اسی طرح روزہ رکھتا ہے تو وہ بھی کیا کر رہا ہے؟ ایک حرام فعل کا ارتکاب کر رہا ہے، کیونکہ اللہ کی مہمان نوازی سے کیا کر رہا ہے؟ اعراض، تو لہٰذا روزہ جیسے لازم نہیں، اسی طرح نماز کو بھی لازم نہیں ہونا چاہیے۔ کہتے ہیں: نہیں بھئی، دونوں میں فرق ہے، نماز کی ادائیگی اس طرح ممکن ہے، وہ نفل کی ادائیگی اس طرح ممکن ہے کہ وہ کراہت سے بچ جائے، لیکن روزے کی ادائیگی اس طرح ممکن نہیں کہ وہ کراہت سے بچ جائے، نماز کی ادائیگی کراہت سے بچ سکتا ہے اس طرح کہ نماز شروع کی مکروہ وقت میں، لیکن نماز شروع کرتے ہی خاموش کھڑا ہو گیا۔ چند منٹ کا وقت تھا مکروہ، وہ گزر گیا، پھر اس نے باقی نماز پوری کر لی، تو دیکھو! نماز بھی ہو گئی اور ارتکابِ حرام سے بھی کیا ہوا؟ بچ گیا، لیکن روزہ جب اس نے عید کے دن شروع کر دیا، اب روزے کو اعراض سے ضیافت اللہ کے بغیر پورا کرنا ممکن ہے؟ روزہ تو اس کو صبح سے شام تک ہی رکھنا پڑے گا، اس کے علاوہ اور کوئی صورت نہیں، اور جب صبح سے شام تک رکھے گا تو کیا لازم آئے گا؟ اللہ کی مہمان نوازی سے اعراض تو لازم آئے گا، اس کے بغیر تو روزہ پورا ہی، تو نماز مکروہ سے بچتے ہوئے بھی پوری ہو سکتی ہے، لیکن روزہ کراہت سے بچتے ہوئے پورا نہیں ہو سکتا، فرق سمجھ میں آیا؟ تو لہٰذا نماز، نفل اس پر لازم ہو جائیں گے، کیونکہ کراہت کے بغیر بھی اس کو پورا کرنا ممکن تھا، لیکن روزے کی قضا اس پر لازم نہیں، کیونکہ کراہت کے بغیر اس کا پورا کرنا ممکن ہی نہیں تھا۔ وَلِهَذَا قُلْنَا اسی بنا پر ہم کہتے ہیں: لَوْ شَرَعَ فِي النَّفْلِ یہ نفل لفظ ہے، نقل نہیں ہے بھئی، اگر شروع ہوا نفلوں کے اندر فِي هَذِهِ الْأَوْقَاتِ ان اوقات میں، لَزِمَهُ بِالشُّرُوعِ تو لازم ہو جائیں گے نفل شروع کے ساتھ، وَارْتِكَابُ الْحَرَامِ لَيْسَ بِلاَزِمٍ اور حرام کا ارتکاب بھی اس کے ساتھ لازم نہیں ہوگا، کیوں؟ لِلُُزُومِ الْإِتْمَامِ اتمام کے اتمام کے لازم ہونے سے، حرام کا ارتکاب اس کے ساتھ لازم نہیں، فَإِنَّهُ لَوْ صَبَرَ اس لیے کہ اگر وہ کچھ صبر کرے، یعنی نماز شروع کر دی، نیت تحریمہ کر کے اور پھر کیا کر دیا؟ کچھ صبر کیا، حَتَّى حَلَّتِ الصَّلَاةُ یہاں تک کہ نماز کیا ہو گئی؟ جائز ہو گئی، بِارْتِفَاعِ الشَّمْسِ سورج کے بلند ہو جانے سے، وَغُرُوبِهَا اور یا سورج کے غروب ہو جانے سے، وَدُلُوكِهَا یا اس کے ڈھل جانے سے، تینوں اوقات ہیں نا، تو چند منٹ ہیں، وہ گزر گئے، أَمْكَنَهُ الْإِتْمَامُ ممکن ہوا اس کے لیے پورا کرنا بِدُونِ الْكَرَاهَةِ بغیر کراہت کے، وَبِهِ فَارَقَ صَوْمَ يَوْمِ الْعِيدِ اور اس سے جدا ہو گیا نفل، کس سے جدا ہو گیا؟ عید کے دن کے روزے سے نفل جدا ہو گئے، یعنی دونوں میں فرق آ گیا، فَإِنَّهُ لَوْ شَرَعَ فِيهِ اس لیے کہ اگر وہ شروع ہو گیا کس کے اندر؟ اس روزے میں، لَا يَلْزَمُهُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ لَا يَلْزَمُهُ، "لا" ہے آپ کی کتاب میں؟ "لا" ہونا چاہیے، اس لیے کہ اگر اس نے شروع ہوا روزے میں، لَا يَلْزَمُهُ اس پر لازم نہیں عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى طرفین رحمہ اللہ کے نزدیک، لِأَنَّ الْإِتْمَامَ لَا يَنْفَكُّ عَنْ ارْتِكَابِ الْحَرَامِ اس لیے کہ پورا کرنا جدا نہیں ہو سکتا حرام کے ارتکاب سے۔ نفل کا پورا کرنا جدا ہو جاتا تھا کس سے؟ ارتکاب نفل بھی پورے ہو جاتے تھے اور ارتکابِ حرام سے بھی بچ جاتا تھا، لیکن روزے کے پورا کرنے کے اندر ارتکابِ حرام سے نہیں بچ سکتا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ چلیے مولانا! هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔