دِیكھِیئے بَھائِی آگے سَبَق۔ كَہتے ہیں: "فَإِذَا أُضِيفَ إِلَى الْمُظْهَرِ الَّذِي هُوَ الْأَصْلُ رُوعِيَ جَانِبُ لَفْظِهِ الَّذِي هُوَ الْأَصْلُ وَأُعْرِبَ بِالْحَرَكَاتِ الَّتِي هِيَ الْأَصْلُ لٰكِنْ تَكُونُ حَرَكَاتُهُ تَقْدِيرِيَّةً لِأَنَّ آخِرَهُ أَلِفٌ تَسْقُطُ بِالْتِقَاءِ السَّاكِنَيْنِ نَحْوُ جَاءَنِي كِلَا الرَّجُلَيْنِ وَرَأَيْتُ كِلَا الرَّجُلَيْنِ وَمَرَرْتُ بِكِلَا الرَّجُلَيْنِ"۔ گُزَشتَہ سَبَق میں اَسمائے سِتَّہ مُكَبَّرَہ کے بارے میں ہَم نے پڑھا اور اِسِی طَرَح تَثنِيَہ، كِلَا اور اِثنَانِ کے اِعراب کے بارے میں پڑھا۔ صاحِبِ جامِی نے آپ کو بَتلایا كہ یہ جو اَسمائے سِتَّہ مُكَبَّرَہ ہیں، اِن کو اِعراب بِالحَرف اِس لِئے دِیا گِیا كیونكہ تَثنِيَہ اور جَمع کو اِعراب بِالحَرف دِیا گِیا تھا، تو كُچھ حُرُوف کو بھی اِعراب بِالحَرف دے دِیا گِیا تاكہ تَثنِيَہ اور جَمع اور مُفرَدوں کے دَرمَیان جو ہے، وَحشَت اور مُنافَرَتِ تامَّہ نہ ہو جائے بَھائِی۔ تو اِن میں كُچھ مُناسَبَت پَیدا ہو جائے۔ پھِر چھَ اِسموں کو مُنتَخَب كِیا گِیا اِعراب بِالحَرف کے لِئے، وَجَہ اِس کی یہ كہ تَثنِيَہ اور جَمع کے اِعراب کے اِعتبار سے كُل چھَ حالَتیں بَنتِی ہیں: رَفع، نَصب اور جَر۔ تَثنِيَہ میں بھی تِین اور جَمع میں بھی تِین، تو كُل چھَ حالَتیں ہو گئیں تو ہَر حالَت کے مُقابَلے میں ایک ایک اِسم کو اِعراب دے دِیا گِیا۔ اور پھِر یہ بھی بَتلايا تھا كہ اِنہی چھَ کا اِنتِخاب كِیوں كِیا، تو اُس کی دو وَجَہیں ذِكر كِیں۔ ایک تو یہ كہ اِن کی تَثنِيَہ اور جَمع کے ساتھ مُشابَہَت ہے، كیونكہ جَیسے تَثنِيَہ اور جَمع تَعَدُّد پر دَلالَت كَرتے ہیں، یہ جو ہے، یہ اَسمائے سِتَّہ بھی تَعَدُّد کی خَبَر دیتے ہیں بَھائِی، تَعَدُّد کی خَبَر دیتے ہیں۔ جَیسے اَخٌ، یہ بَتلاتا ہے كوئِی اور اَخ ہے جِس کا یہ بَھائِی ہے۔ اَبٌ، یہ خبر دیتا ہے بَیٹا یا بَیٹِی ہے جِس کی وَجَہ سے اِس کو اَب كَہا جا رہا ہے۔ اِسِی طَرَح حَمٌ كَہا گِیا، تو حَم نے عَورت کی خَبَر دِی كہ كِسی عَورت کا یہ حَم ہے۔ اور اِسِی طَرَح فَمٌ اور ہَنٌ جو ہے، اِنھوں نے صاحِبِ فَمٌ اور صاحِبِ ہَنٌ کی خَبَر دِی بَھائِی۔ اور ذُو مَالٍ نے آگے مُضاف اِلَیِہ یَعنِی مَا يُصَاحِبُهُ کی خَبَر دِی بَھائِی، كِس کے؟ ذُو کا مَعنَى صاحِب، تو اِس نے مَا يُصَاحِبُهُ کی خَبَر دِی، تو یہ سَب جو ہیں تَعَدُّد کی خَبَر دیتے ہیں۔ تو اِن کی مُشابَہَت ہے۔ اور نِیز اِس وَجَہ سے اِن کو اِعراب بِالحَرف دِیا گِیا اِنہی چھَ کو كیونكہ اِن کے آخِر میں اَیسے حَرف مَوجُود تھے جو اِعراب بَننے کی صَلاحِیَّت رَكھتے تھے، جِس وَقت اِن کو اِعراب دِیا جاتا ہے، عَرَبوں سے سُننے کے اِعتبار سے۔ ہَم نے عَرَبوں سے اِسِی طَرَح سُنا ہے كہ اِعراب کے مَوقَع میں اِن کے ساتھ واؤ، اَلِف اور يا پڑھتے ہیں اور واؤ، اَلِف اور يا یہ حُرُوفِ مَدَّہ ہیں، یہ اِعراب بَننے کی صَلاحِیَّت رَكھتے ہیں۔ جَبكہ اِن کے عِلاوہ باقِی جو اَسماء ہیں مَحذُوفَةُ الاَعجاز، اُن میں ہَم نے عَرَبوں سے نہیں سُنا كَبھی كہ وہ جو حَرف حَذف ہوئے ہیں وہ واپَس آ جائیں، تو اُن کے آخِر میں اَیسے حُرُوف نہیں تھے جو اِعراب بَننے کی صَلاحِیَّت رَكھتے بَھائِی۔ اُس کے بَعد تَثنِيَہ اور اُس کے مُلحَقات کا اِعراب آیا تھا كہ تَثنِيَہ، كِلَا جَب وہ مُضاف ہو ضَمِير کی طَرَف اور اِثنَانِ وَغَيرَہ، اِن کا رَفع اَلِف کے ساتھ آئے گا، نَصب اور جَر يا کے ساتھ۔ اور كِلَا اور اِثنَانِ، اِن کو تَثنِيَہ نہیں كَہا بَلكہ مُلحَق بِالتَّثنِيَہ كَہا كہ یہ تَثنِيَہ کے ساتھ مُلحَق ہیں۔ وَجَہ یہ، میں نے آپ کو بَتلايا تھا تَثنِيَہ اُس کو كَہتے ہیں كہ جِس کا كوئِی مُفرَد ہو اور اُس مُفرَد کے آخِر میں اَلِف نُون مِلا كَر پھِر اُس سے تَثنِيَہ بَنایا جائے۔ تو كِلَا اِس کے آخِر میں تو اَلِف نُون ہی نہیں ہے اور اِثنَاتَانِ اُس کے آخِر میں بَیشَك اَلِف نُون ہے، لَیكِن اُس کا مُفرَد اِستِعمال نہیں ہوتا، تو یہ اِصطِلاحِی تَثنِيَہ نہیں ہیں۔ تو یہ مُلحَق بِالتَّثنِيَہ ہو گئے۔ اور پھِر یہ بھی بَتایا كہ ماتِن نے كِلَا کو ذِكر كِیا، حالانكہ كِلْتَا بھی ہے، اُس کو بھی ذِكر كَرنا چاہئے تھا، تو بَتلايا كہ اَصل كِلَا ہے، مُذَكَّر ہے، تو جَب اَصل کو ذِكر كَر دِیا تو فَرع کا ذِكر بھی آ گِیا تو فَرع بھی ضِمنًا آ گئی بَھائِی۔ اُس کے بَعد صاحِبِ كافِیَہ نے كِلَا کے ساتھ قَيد لَگائِی تھی كہ كِلَا جَب وہ مُضاف ہو ضَمِير کی طَرَف۔ تو یہ قَيد كِیوں لَگائِی؟ میں نے آپ کو بَتلايا تھا كہ كِلَا کے اِستِعمال کے دو طَرِیقے ہیں، يا یہ ضَمِير کی طَرَف مُضاف ہوتا ہے يا پھِر یہ اِسمِ طاہِر کی طَرَف جو مُعَرَّف بِاللام ہو، اُس کی طَرَف مُضاف ہوتا ہے۔ تو تو جَب یہ ضَمِير کی طَرَف مُضاف ہو تو پھِر اُس وَقت اِس کا اِعراب اَلِف اور يا کے ساتھ آتا ہے۔ اور جَب یہ اِسمِ طاہِر مُعَرَّف بِاللام کی طَرَف مُضاف ہو تو پھِر اِس کا اِعراب بِالحَرَكات ہوتا ہے اور تِینوں حالَتوں میں تَقدِيرِی ہوتا ہے: جَاءَنِي كِلَا الرَّجُلَيْنِ، رَأَيْتُ كِلَا الرَّجُلَيْنِ، مَرَرْتُ بِكِلَا الرَّجُلَيْنِ۔ یہ اَلِف اُسِی طَرَح رہتا ہے، بَدَلتا نہیں بَھائِی اور اَلِف ہے آخِر میں اور اَلِف پر تو رَفع، نَصب، جَر نہیں آ سَكتا، تو پھِر اِعراب تَقدِيرِی ہوگا۔ اُس کے بَعد یہ ذِكر كَر رہے تھے كہ یہ جو ماتِن نے قَيد لَگائِی كہ یہ كِلَا جَب مُضاف ہو ضَمِير کی طَرَف، اُس وَقت اِس کو اِعراب بِالحَرف دیتے ہیں، یَعنِی اَلِف اور يا والا۔ اِس کی كیا وَجَہ ہے؟ تو نُكتہ بَیان فَرماتے تھے صاحِبِ جامِی بَھائِی۔ اور فَرمایا كہ دیكھو، یہ جو كِلَا ہے، اِس میں دو حالَتیں ہیں۔ لَفظوں کے اِعتبار سے یہ مُفرَد ہے كیونكہ اَلِف نُون آخِر میں نہیں ہے اور مَعنَى کے اِعتبار سے یہ تَثنِيَہ ہے، دو پر دَلالَت كَرتا ہے۔ تو اِس کا جو لَفظ ہے، وہ تَقاضا كَرتا ہے اِعراب بِالحَرَكات کا اور اِس کا مَعنَى تَقاضا كَرتا ہے اِعراب بِالحُرُوف کا، تو ہَم نے دونوں کی رِعايَت رَكھِی۔ طَبَعی سِی بات ہے، اِسمِ طاہِر اَصل ہے اور ضَمِير فَرع۔ میں نے آپ کو بَتلايا تھا كہ اِسمِ طاہِر اَصل ہے اور ضَمِير فَرع۔ وَجَہ یہ كہ اِسمِ طاہِر اَپنے مَعنَى پر خُود دَلالَت كَرتا ہے، یہ مَكنِیّ عَنہُ کا مُحتاج نہیں، جَبكہ ضَمِير جو ہوتی ہے، وہ مَكنِیّ عَنہُ کی مُحتاج، مَكنِیّ عَنہُ وہ چِیز جِس سے كِنايَہ كِیا گِیا۔ مَكنِیٌّ عَنْهُ، وہ چِیز جِس سے كِنايَہ كِیا گِیا۔ تو كِنايَہ كِسی چِیز سے كِیا جائے گا نا، تو وہ چِیز بھی چاہئے بَھائِی، اُس کے بَغَير تو كِنايَہ نہیں ہو سَكتا۔ میں نے آپ کو بَتلايا تھا كہ كِنايَہ كَہتے ہیں مَلزُوم بول كَر لازِم کا اِرادَہ كَرنا، یَعنِی مَعنَى غَيرِ مَوضُوع لَہُ کا اِرادَہ كَرنا۔ اور مَجاز اور كِنايے میں فَرق بھی بَتلايا تھا كہ مَجاز میں بھی مَعنَى غَيرِ مَوضُوع لَہُ کا اِرادَہ ہوتا ہے اور كِنايے میں بھی مَعنَى غَيرِ مَوضُوع لَہُ کا اِرادَہ ہوتا ہے، لَیكِن فَرق یہ كہ مَجاز کے اَندر مَعنَى حَقِیقِی کا اُسِی جَگَہ پر اِرادَہ نہیں كَر سَكتے، جَبكہ كِنايے کے اَندر مَعنَى حَقِیقِی کا اِرادَہ بھی وہاں دُرُوست بَنتا ہے۔ تو كِنايَہ كِسے كَہتے ہیں؟ مَلزُوم بول كَر لازِم کا اِرادَہ كَرنا، یَعنِی ایک چِیز بول كَر دُوسرے مَعنَى کا اِرادَہ كَرنا۔ ضَمِير میں بھی اِسِی طَرَح ہے، مَثَلاً میں نے كَہا: جَاءَنِي زَيْدٌ اور دُوسرِی دَفعَہ اَب آگے میں كَیا كَہتا ہوں؟ وَهُوَ صَدِيقِي، اَب اِس هُوَ سے كَون مُراد ہے؟ زَيد مُراد ہے، تو ایک اِسم بول كَر دُوسرے اِسم کا اِرادَہ كِیا۔ اِس کو كَہتے ہیں كِنايَہ۔ كِنايَہ كَہتے ہیں، تو یہ ضَمِير مُحتاج ہے كِس کی؟ مَكنِیّ عَنہُ، كِس سے كِنايَہ كِیا ہے بَھائِی، زَيد چاہئے يا نہیں؟ زَيد کے بَغَير هُوَ کا مَعنَى تو سمجھ میں نہیں آئے گا بَھائِی۔ تو ضَمِير مُحتاج ہُوئِی مَكنِیّ عَنہُ کی۔ جَبكہ اِسمِ طاہِر مَكنِیّ عَنہُ کا مُحتاج نہیں، تو مَعلُوم ہُؤا اِسمِ طاہِر اَصل ہے اور ضَمِير فَرع ہے۔ اَب اِدھَر دیكھیئے، اِسمِ طاہِر اَصل ہے، تو جَب كِلَا کی اِضافَت كَرتے ہیں اِسمِ طاہِر کی طَرَف، تو پھِر كَہتے ہیں ہَم نے لَفظوں کی رِعايَت رَكھِی، كیونكہ لَفظ اَصل ہے، مَعنَى فَرع ہے۔ میں لَفظ بولُوں گا تو مَعنَى آپ کو سمجھ میں آئے گا، اَگَر میں لَفظ نہیں بولُوں گا تو مَعنَى سمجھ میں آ سَكتا ہے آپ کو؟ جِی؟ نہیں، جَب تک لَفظ میں بولُوں گا نہیں، مَعنَى آپ کو سمجھ میں نہیں آئے گا۔ یہ میں تَقریر كَر رہا ہوں تو آپ سمجھتے جا رہے ہیں، اَگَر میں تَقریر نہ كَروں، خامُوشِی سے بَیٹھ كَر صِرف مَعانِی سوچتا رہوں، تو آپ کو كُچھ بات سمجھ میں آئے گی؟ نہیں، تو لَفظ ہُؤا اَصل اور مَعنَى ہُؤا فَرع۔ مَعلُوم ہُؤا اِسمِ طاہِر اَصل ہے اور ضَمِير فَرع۔ اِسِی طَرَح لَفظ اَصل ہے اور مَعنَى فَرع۔ اِسِی طَرَح اِعراب بِالحَرَكات اَصل ہے اور اِعراب بِالحَرف فَرع۔ تَوَجُّہ ہے؟ پھِر دُہراؤ، اِسمِ طاہِر اَصل اور ضَمِير فَرع۔ اِسِی طَرَح لَفظ اَصل اور مَعنَى فَرع۔ اور اِعراب بِالحَرَكات اَصل اور اِعراب بِالحَرف فَرع ہے۔ اِسی لِئے، اِسی لِئے تو جَمع تَثنِيَہ اور جَمع کو اِعراب بِالحَرف دِیا گِیا۔ تَثنِيَہ اور جَمع کو اِعراب بِالحَرف دِیا گِیا كیونكہ تَثنِيَہ اور جَمع كِس سے بَنتے ہیں؟ مُفرَد سے، تو مُفرَد ہُؤا اَصل اور تَثنِيَہ جَمع ہوئے فَرع۔ اور مُفرَد کو كَونسا اِعراب دِیا ہے؟ اِعراب بِالحَرَكات، تو فَرع کو كَونسا دِیا ہے؟ اِعراب بِالحَرف دِیا ہے۔ تو اِعراب بِالحَرَكات اَصل ہے اور اِعراب بِالحَرف فَرع ہے۔ تو لِہٰذا جَب كِلَا کی اِضافَت ہُوئِی مُعَرَّف بِاللام کی طَرَف یَعنِی اِسمِ طاہِر کی طَرَف، تو كِس کی طَرَف اِضافَت ہو رہی ہے؟ اَصل کی طَرَف۔ تو كِس کا لِحاظ رَكھو؟ كِلَا کی لَفظ کا، كیونكہ لَفظ بھی كیا ہے؟ اَصل۔ ایک كِلَا کا لَفظ ہے، ایک مَعنَى، جَب كِلَا کی اِضافَت كِس کی طَرَف ہُوئِی؟ مُعَرَّف بِاللام کی طَرَف، یَعنِی اِسمِ طاہِر کی طَرَف، تو اِسمِ طاہِر اَصل ہے۔ تو ہَم نے بھی كِلَا کے اَندر اَصل کی رِعايَت رَكھِی اور كِلَا ایک ہے لَفظ، ایک ہے مَعنَى، اَصل كیا؟ لَفظ۔ تو ہَم نے كِلَا کے لَفظ کی رِعايَت رَكھِی كیونكہ وہ اَصل ہے اور اِس کو اِعراب بِالحَرَكَت دِیا كیونكہ وہ بھی اَصل ہے۔ تَوَجُّہ ہے؟ پھِر دُہراؤ، جَب كِلَا کی اِضافَت ہُوئِی كِس کی طَرَف؟ مُعَرَّف بِاللام کی طَرَف اور مُعَرَّف بِاللام تو كیا ہے؟ اَصل۔ تو ہَم نے بھی اِس كِلَا کے اَندر اَصل کی رِعايَت رَكھِی اور اَصل كِلَا میں كیا ہے؟ لَفظ ہے، لَفظ کی رِعايَت رَكھِی اور اِس کو ہَم نے اَصل والا اِعراب دِیا اور وہ كَونسا ہے؟ اِعراب بِالحَرَكَت ہے۔ اور جَب كِلَا کی اِضافَت ضَمِير کی طَرَف ہُوئِی اور ضَمِير تو كیا ہے؟ فَرع، تو ہَم نے بھی كِلَا میں مَعنَى کی رِعايَت رَكھِی اور مَعنَى تو كیا ہے؟ فَرع۔ اور اِس کو اِعراب بھی فَرع والا دِیا، وہ بھی كیا ہے؟ اِعراب بِالحُرُوف دے دِیا۔ بات سمجھ میں آئی؟ نئِی تَوَجُّہ۔ تِین چِیزیں ہیں اَصل اور تِین چِیزیں ہیں فَرع۔ اِسمِ طاہِر ہے اَصل اور ضَمِير ہے فَرع۔ اور اِسِی طَرَح لَفظ ہے اَصل اور مَعنَى ہے فَرع۔ اور اِعراب بِالحَرَكَت ہے اَصل اور اِعراب بِالحَرف ہے فَرع۔ تو جَب كِلَا کی اِضافَت ہُوئِی اِسمِ طاہِر کی طَرَف، تو كِس کی طَرَف اِضافَت ہو رہی ہے؟ اَصل کی طَرَف۔ تو كِس کا لِحاظ رَكھو كِلَا کی لَفظ کا كیونكہ لَفظ بھی كیا ہے؟ اَصل۔ اور لَفظ کے اِعتبار سے تو كِلَا كیا ہے؟ مُفرَد، جَب مُفرَد ہے تو كَونسا اِعراب آنا چاہئے؟ اِعراب بِالحَرَكَت آنا چاہئے، تو ہَم نے اِس کو اِعراب بِالحَرَكَت دِیا۔ تو كِلَا الرَّجُلَيْنِ، تِینوں حالَتوں میں اِعراب بِالحَرَكَت ہے، اَلبَتَّہ اِعراب تَقدِيرِی ہے كیونكہ كِلَا کے آخِر میں اَلِف مَوجُود ہے۔ كَونسا اِعراب دِیا؟ بِالحَرَكَت۔ اور جَب یہ ضَمِير کی طَرَف مُضاف ہُؤا تو ضَمِير كیا ہے؟ فَرع، اور جَب فَرع ہے، تو ہَم نے كِلَا میں بھی فَرع کی رِعايَت کی، یَعنِی اُس کے مَعنَى کی۔ كِلَا کے مَعنَى کی رِعايَت کی كیونكہ مَعنَى بھی كیا ہے؟ فَرع۔ اور اِس کو اِعراب بھی فَرع والا دِیا، كَونسا؟ اِعراب بِالحُرُوف دے دِیا، اِسِی لِئے كِلَاهُمَا اور كِلَيْهِمَا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ دیكھیئے كِتاب پر۔ كَہتے ہیں: "فَإِذَا أُضِيفَ إِلَى الْمُظْهَرِ الَّذِي هُوَ الْأَصْلُ"، جَب كِلَا کی اِضافَت کی گئی اُس اِسمِ طاہِر کی طَرَف جو اَصل ہے، اِسمِ طاہِر كیا ہے؟ اَصل ہے۔ "رُوعِيَ جَانِبُ لَفْظِهِ الَّذِي هُوَ الْأَصْلُ"، تو پھِر كِلَا کے لَفظ کی جانِب کی رِعايَت کی گئی، وہ لَفظ جو كہ اَصل ہے۔ "وَأُعْرِبَ بِالْحَرَكَاتِ الَّذِي هِيَ الْأَصْلُ"، اور اِس کو اِعراب بِالحَرَكات دِیا گِیا جو كیا ہے؟ اِعراب بِالحَرَكات بھی اَصل ہے۔ "لٰكِنْ تَكُونُ حَرَكَاتُهُ تَقْدِيرِيَّةً"، لَیكِن اِس کی یہ جو حَرَكات ہیں، یہ تَقدِيرِی ہیں بَھائِی۔ اِس کی یہ حَرَكات تَقدِيرِی ہیں، كِیوں؟ "لِأَنَّ آخِرَهُ أَلِفٌ"، كیونكہ اِس کے آخِر میں اَلِف ہے۔ "تَسْقُطُ بِالْتِقَاءِ السَّاكِنَيْنِ"، اور وہ اَلِف گِر گِیا كِس کی وَجَہ سے؟ اِلتِقائے ساكِنَین کی وَجَہ سے۔ دیكھو كِلَا اور آگے آیا الرَّجُلَيْنِ۔ الرَّجُلَيْنِ کے شُرُوع میں ہَمزَہ وصلی وہ گِر گِیا اور لام جو ہے، اُس کو را كَر کے را میں كیا كَر دِیا گِیا؟ اِدغام كَر دِیا گِیا۔ تو اَب پَہلِی را بھی ساكِن اور كِلَا کے آخِر میں اَلِف بھی ساكِن، تو اَلِف اور را دو ساكِن جَمع ہوئے اِلتِقائے ساكِنَین آیا۔ اور اِلتِقائے ساكِنَین میں دو ہی صُورتیں ہیں، اَگَر اَوَّل حَرفِ مَدَّہ ہو تو اُس کو گِرا دیتے ہیں، ورنہ اُس کو كَسرَہ والی حَرَكَت دے دیتے ہیں۔ تو كِلَا اَلِف بھی ساكِن، را بھی ساكِن، تو اِلتِقائے ساكِنَین آیا، اِن میں سے اَوَّل كَون؟ اَلِف اور وہ كیا ہے؟ حَرفِ مَدَّہ، تو اُس کو گِرا دِیا تو كیا بَن گِیا؟ كِلَا الرَّجُلَيْنِ۔ اَب اَلِف نہیں پڑھنا، كِلَا الرَّجُلَيْنِ، طَرِیقَہ سمجھ میں آ گِیا۔ تو كَہتے ہیں: "لِأَنَّ آخِرَهُ أَلِفٌ تَسْقُطُ بِالْتِقَاءِ السَّاكِنَيْنِ"، كیونكہ اِس كِلَا کے آخِر میں اَیسا اَلِف ہے، دیكھو "أَلِفٌ" نَكِرَہ آیا اور اِس کے بَعد فِعل آیا تو یہ اُس کے لِئے كیا بَنے گا؟ صِفَت اور مَوصُوف صِفَت کا تَرجَمَہ كَیسے كَرتے ہیں؟ مَوصُوف سے پَہلے اَیسا يا اَیسِی کا لَفظ لاتے ہیں۔ تو كَہتے ہیں: "لِأَنَّ آخِرَهُ أَلِفٌ تَسْقُطُ بِالْتِقَاءِ السَّاكِنَيْنِ"، اِس لِئے كِیونكہ اِس كِلَا کے آخِر میں اَیسا اَلِف ہے جو گِر جاتا ہے اِلتِقائے، اِلتِقائے ساكِنَین کی وَجَہ سے۔ یَعنِی اِس کی وَجَہ سے اِعرابِ تَقدِيرِی آیا۔ "نَحْوُ جَاءَنِي كِلَا الرَّجُلَيْنِ"، دیكھو تِینوں حالَتوں میں كِلَا ہی رہے گا، كِلَے نہیں بَنے گا۔ "جَاءَنِي كِلَا الرَّجُلَيْنِ وَرَأَيْتُ كِلَا الرَّجُلَيْنِ وَمَرَرْتُ بِكِلَا الرَّجُلَيْنِ"، دیكھو تِینوں حالَتوں میں اِعراب تَقدِيرِی ہے۔ جَاءَنِي كِلَا الرَّجُلَيْنِ، یہ مَرفُوع ہے تَقدِیراً، ضَمَّہ تَقدِيرِی ہے یہاں پر۔ اور رَأَيْتُ كِلَا الرَّجُلَيْنِ، یہاں فَتحَہ تَقدِيرِی ہے، تو یہ مَنصُوب ہے تَقدِیراً۔ اور مَرَرْتُ بِكِلَا الرَّجُلَيْنِ، جَر كِس کے ساتھ آتا ہے؟ كَسرَہ کے ساتھ، تو یہاں كَسرَہ تَقدِيرِی ہے۔ تَلَفُّظ میں ضَمَّہ، فَتحَہ، كَسرَہ آئے؟ نہیں، تو اِعراب تَقدِيرِی ہیں بَھائِی۔ سَب کو بات سمجھ میں آ گئی۔ آگے دیكھیئے: "وَإِذَا أُضِيفَ إِلَى الْمُضْمَرِ الَّذِي هُوَ الْفَرْعُ"، اور جَب اِس كِلَا کی اِضافَت کی گئی اُس ضَمِير کی طَرَف "الَّذِي هُوَ الْفَرْعُ" جو كہ فَرع ہے، "رُوعِيَ جَانِبُ مَعْنَاهُ الَّذِي هُوَ الْفَرْعُ"، تو رِعايَت کی گئی اِس كِلَا کے مَعنَى کی جانِب کی "الَّذِي هُوَ الْفَرْعُ" وہ مَعنَى جو فَرع ہے، "وَأُعْرِبَ بِالْحُرُوفِ"، اور اِس کو اِعراب بِالحُرُوف دِیا گِیا "الَّتِي هِيَ الْفَرْعُ"، وہ اِعراب بِالحُرُوف جو فَرع ہے بَھائِی۔ "نَحْوُ جَاءَنِي كِلَاهُمَا وَرَأَيْتُ كِلَيْهِمَا وَمَرَرْتُ بِكِلَيْهِمَا"، بات سَب کو سمجھ میں آ گئی اَچّھی طَرَح؟ آگے دیكھیئے بَھائِی۔ كَہتے ہیں: "فَلِذٰلِكَ قَيَّدَ كَوْنَ إِعْرَابِهِ بِالْحُرُوفِ بِكَوْنِهِ مُضَافًا إِلَى مُضْمَرٍ"، اِسِی وَجَہ سے صاحِبِ كافِیَہ نے كِلَا کو مُقَيَّد كِیا تھا۔ تو مَعلُوم ہُؤا یہ جو تَثنِيَہ کا اِعراب كِس کے ساتھ آتا ہے؟ اَلِف اور يا۔ كِلَا میں بھی اِعراب اَلِف اور يا کے ساتھ آئے گا۔ لَیكِن مُطلَقاً يا جَب وہ ضَمِير کی طَرَف مُضاف ہو؟ جَب ضَمِير کی طَرَف مُضاف ہو، تو یَہی بات ذِكر كَر رہے ہیں۔ كَہتے ہیں: "فَلِذٰلِكَ" اِسِی وَجَہ سے "قَيَّدَ كَوْنَ إِعْرَابِهِ بِالْحُرُوفِ"، ماتِن نے مُقَيَّد كِیا اِس کے اِعراب بِالحُرُوف ہونے کو، اِس كِلَا کے اِعراب بِالحُرُوف ہونے کو مُقَيَّد كِیا "بِكَوْنِهِ مُضَافًا إِلَى مُضْمَرٍ"، اِس کے مُضاف اِلَى مُضمَر ہونے کے ساتھ۔ كہ یہ كیا ہونا چاہئے؟ مُضاف اِلَى ضَمِير ہونا چاہئے، پھِر اِس کا اِعراب بِالحُرُوف آئے گا، وَیسے نہیں آئے گا۔ "وَاثْنَانِ وَكَذٰلِكَ اثْنَتَانِ وَسِنْتَانِ"، اور اِسِی طَرَح ہے اِثنَانِ بھی۔ "وَكَذٰلِكَ اثْنَتَانِ وَسِنْتَانِ"، اور اِسِی طَرَح ہے اِثنَتَانِ بھی اور سِنتَانِ بھی۔ میں نے بَتایا اِثنَانِ کا مَعنَى دو، لَیكِن یہ مُذَكَّر کے لِئے اِستِعمال ہوتا ہے۔ اِثنَتَانِ اور سِنتَانِ کا مَعنَى بھی دو، لَیكِن یہ مُؤَنَّث کے لِئے اِستِعمال ہوتا ہے۔ ایک اور قِیمتِی بات یاد رَكھنا۔ یاد رَكھو یہ جو اِثنَانِ اور اِثنَتَانِ ہے، اِس کے شُرُوع میں جو ہَمزَہ ہے، یہ ہَمزَہ وصل ہے۔ یہ دَرجِ عِبارَت میں گِر جاتا ہے۔ لَیكِن یہاں نہیں گِرے گا: "وَاثْنَتَانِ"، یُوں پڑھیں گے، "وَسْنَتَانِ" نہ پڑھنا بَھائِی۔ "وَسْنَتَانِ" نہ پڑھنا، كیا وَجَہ ہے؟ وَجَہ میں بَتلا چُكا ہوں پَہلے ہی بَھائِی۔ كیا وَجَہ؟ دیكھو عِبارَت كَیسے پڑھیں گے: "الْمُثَنَّى وَكِلَا مُضَافًا إِلَى مُضْمَرٍ وَاثْنَانِ"۔ "وَاثْنَانِ"، ہَمزَہ کو نہیں گِرانا۔ كِیوں نہیں گِرانا؟ وَجَہ یہ، وَجَہ یہ كہ یہاں یہ لَفظ عَلَم کے دَرجے میں ہے، لَفظ بول كَر لَفظ مُراد ہے۔ اِثنَانِ کا مَعنَى تو دو ہے، لَیكِن یہاں جو بھی اِس کا تَرجَمَہ كَرے گا، اِس کا تَرجَمَہ دو کے ساتھ نہیں كَرے گا۔ پھِر سُنو: "الْمُثَنَّى وَكِلَا مُضَافًا إِلَى مُضْمَرٍ وَاثْنَانِ"۔ جِی كَیسے تَرجَمَہ كَریں گے؟ "الْمُثَنَّى" تَثنِيَہ، "وَكِلَا" اور كِلَا، دیكھو كِلَا کا تَرجَمَہ ہَم نہیں كَر رہے، مَعلُوم ہُؤا لَفظ مُراد ہے۔ كِلَا سے لَفظ۔ "مُضَافًا إِلَى مُضْمَرٍ" اِس حال میں كہ یہ كِلَا مُضاف ہو ضَمِير کی طَرَف، "وَاثْنَانِ" اور... دیكھو "وَاثْنَانِ"، دیكھو آپ اِس کا تَرجَمَہ نہیں كَر رہے۔ "دو اور دو" یُوں نہیں كَہ رہے اور اِثنَانِ۔ تو جَب لَفظ بول كَر لَفظ کا اِرادَہ كِیا جائے، تو وہ عَلَم کے دَرجے میں ہوتا ہے۔ تو یہ اِثنَانِ بھی كیا ہے؟ عَلَم ہے۔ جَب یہ عَلَم بَن گِیا، تو اَب وہ ہَمزَہ قَطعِی بَن گِیا، وہ وصلی نہ رہا۔ تو وہ جو عِبارَتوں میں اِثنَانِ اور اِثنَتَانِ آتا ہے، اُس کا نام ہی اِثنَانِ اور اِثنَتَانِ رَكھ دِیا، تو اَب اِس میں ہَمزَہ نہیں گِرے گا بَھائِی۔ تو كَہتے ہیں: "وَاثْنَانِ وَكَذٰلِكَ اثْنَتَانِ وَسِنْتَانِ"، اور اِسِی طَرَح ہے اِثنَتَانِ اور سِنتَانِ بھی كیونكہ یہ مُؤَنَّث ہیں، تو یہ فَرع ہے، تو وہ جَب اَصل کا ذِكر آ گِیا تو فَرع اُس کے تابِع ہے، وہ بھی آ گئی بَھائِی۔ "فَإِنَّ هٰذِهِ الْأَلْفَاظَ"، اَب وَجَہ ذِكر كَرنے لگے ہیں كہ یہ اِثنَانِ اور اِثنَتَانِ وَغَيرَہ کو اِن کو یہ تَثنِيَہ والا اِعراب كِیوں دِیا؟ حالانكہ یہ تو تَثنِيَہ نہیں ہیں۔ كَہتے ہیں وَجَہ یہ كہ یہ تَثنِيَہ اِصطِلاحِی تو نہیں ہیں كیونكہ اِن کا مُفرَد اِثنٌ اِستِعمال نہیں ہوتا، حالانكہ تَثنِيَہ میں تو ضَرُورِی ہے كہ اُس کا مُفرَد بَغَير اَلِف، اَلِف نُون کے بھی اِستِعمال ہوتا ہو۔ تو اِن کا تو مُفرَد اِثنٌ اِستِعمال نہیں ہوتا۔ ہاں، اَلبَتَّہ اِن کی صُورَت تَثنِيَہ جَیسِی ہے جَیسے تَثنِيَہ کے آخِر میں اَلِف نُون آتا ہے، اِن کے آخِر میں بھی كیا ہے؟ اَلِف نُون۔ نِیز اِن کا مَعنَى بھی تَثنِيَہ والا ہے، تَثنِيَہ کا مَعنَى بھی ہوتا ہے دو اور اِن کا مَعنَى بھی ہے دو۔ تو چُونكہ اِن کی صُورَت بھی تَثنِيَہ جَیسِی، مَعنَى بھی تَثنِيَہ جَیسا، اِس لِئے اِن کو بھی تَثنِيَہ والا اِعراب دے دِیا گِیا۔ كَہتے ہیں: "فَإِنَّ هٰذِهِ الْأَلْفَاظَ وَإِنْ كَانَتْ مُفْرَدَةً"، كیونكہ یہ اَلفاظ جو ہیں، اَگَرچِہ مُفرَد ہیں، كَونسے اَلفاظ؟ اِثنَانِ، اِثنَتَانِ اور سِنتَانِ۔ یہ اَلفاظ جو ہیں "وَإِنْ كَانَتْ مُفْرَدَةً" اَگَرچِہ یہ مُفرَد ہیں "لٰكِنْ صُورَتُهَا صُورَةُ التَّثْنِيَةِ"، لَیكِن اِن کی صُورَت تَثنِيَہ کی صُورَت ہے، یَعنِی اِن کے آخِر میں اَلِف نُون جُڑا تو ہوا ہے، صُورَت تو اُس جَیسِی ہے۔ "وَمَعْنَاهَا مَعْنَى التَّثْنِيَةِ"، اور اِن کا مَعنَى بھی تَثنِيَہ والا مَعنَى ہے كیونكہ اِن کا مَعنَى بھی ہے دو۔ "فَأُلْحِقَتْ بِهَا"، تو اِن کو بھی تَثنِيَہ کے ساتھ مِلا دِیا گِیا۔ آگے دیكھیئے، كَہتے ہیں: "بِالْأَلِفِ"۔ یہ تَثنِيَہ اور كِلَا جَب مُضاف ہو ضَمِير کی طَرَف اور اِثنَانِ، اِن تِینوں کا اِعراب بَتانے لگے ہیں۔ تو یہ تِین قِسموں کا اِعراب بَتانے لگے ہیں، كَونسِی تِین قِسمیں؟ نَمبَر ایک: تَثنِيَہ۔ نَمبَر دو: كِلَا، نہ، صِرف كِلَا نہیں كَہنا، كِلَا جَب وہ مُضاف ہو كِس کی طَرَف؟ ضَمِير کی طَرَف، یہ قَيد ساتھ ضَرُور لَگانی ہے، ورنہ تو آپ تَفصِيل آپ نے پڑھ لِی بَھائِی كہ ہَمیشَہ اَلِف يا يا کے ساتھ كِلَا کا اِعراب نہیں آتا ہَمیشَہ۔ تو تَثنِيَہ، كِلَا جَب وہ مُضاف ہو ضَمِير کی طَرَف اور اِسِی طَرَح اِثنَانِ وَغَيرَہ، اِن سَب کا اِعراب كِس کے ساتھ آئے گا؟ اَلِف اور يا کے ساتھ، اَب وہ بَتانے لگے ہیں۔ كَہتے ہیں: "بِالْأَلِفِ"، اِن کا اِعراب اَلِف کے ساتھ ہوگا "رَفْعًا"، "أَيْ حَالَةَ الرَّفْعِ"، رَفع کی حالَت میں۔ "وَالْيَاءِ"، اور يا کے ساتھ آئے گا "الَّتِي الْمَفْتُوحِ مَا قَبْلَهَا"، جِس کا ماقَبل مَفتُوح ہو۔ اِدھَر دیكھیئے، تَثنِيَہ کا اِعراب كَیسے آتا ہے؟ حالَتِ رَفعِی میں اَلِف اور نَصبِی جَرِّی میں يا ماقَبل مَفتُوح۔ حالَتِ نَصبِی جَرِّی میں يا ماقَبل مَفتُوح، يا ماقَبل مَفتُوح۔ تو وُہِی بَیان كَر رہے ہیں۔ كَہتے ہیں: "بِالْأَلِفِ رَفْعًا"، كہ اِن کا اِعراب اَلِف کے ساتھ آئے گا "رَفْعًا"، "أَيْ حَالَةَ الرَّفْعِ"، رَفع کی حالَت میں۔ "وَالْيَاءِ"، اور يا کے ساتھ آئے گا "الْمَفْتُوحِ مَا قَبْلَهَا"، اَیسِی يا جِس کا ماقَبل مَفتُوح ہو "نَصْبًا وَجَرًّا"، "أَيْ حَالَةَ النَّصْبِ وَالْجَرِّ"، نَصب اور جَر کی حالَت میں، يا کے ساتھ آئے گا۔ بَھائِی "وَالْيَاءِ"، یہ ہے مَوصُوف اور "الْمَفْتُوحِ"، یہ ہے اِس کی صِفَت۔ "الْمَفْتُوحِ"، یہ كیا ہے اِس کی صِفَت؟ اور یہ صِفَت بِحالِ مُتَعَلِّقِهِ ہے۔ یہ صِفَت بِحالِ مُتَعَلِّقِهِ ہے، زَبان سے دُہراؤ: صِفَت بِحالِ مُتَعَلِّقِهِ۔ یاد رَكھو صِفَت دو قِسم پر ہوتی ہے، ایک صِفَت بِحالِهِ ہے، ایک صِفَت بِحالِ مُتَعَلِّقِهِ ہے۔ جَیسے مَثَلاً: زَيْدٌ قَائِمٌ۔ زَيْدٌ ہے مُبتَدا اور قَائِمٌ ہے اِس کی خَبَر۔ یہ جو خَبَر ہوتی ہے، یہ بھی صِفَت ہی ہوتی ہے۔ زَيْدٌ قَائِمٌ، زَيد كَھڑا ہے، جِی قِیام كِس کی صِفَت ہے؟ زَيد کی صِفَت ہے، تو یہ خَبَر بھی كیا ہے؟ صِفَت ہی ہوتی ہے۔ تو یہاں پر، یہ قِیام كِس کے لِئے ہے؟ زَيد کے لِئے، تو اِس کو كَھیں گے صِفَت بِحالِهِ، یَعنِی یہ اَیسِی صِفَت ہے جو اَپنے مَوصُوف کی حالَت بَیان كَر رہی ہے، تَوَجُّہ ہے؟ یہ قَائِمٌ خَبَر كِس کی؟ زَيد کی اور قائِم بھی كَون ہے؟ زَيد ہے، تو اِس کو كیا كَھیں گے؟ صِفَت بِحالِهِ، یَعنِی اَیسِی صِفَت جو اَپنے مَوصُوف کی حالَت کو بَیان كَرے، بِحالِهِ أَيْ بِحالِ المَوصُوفِ، ہا ضَمِير مَوصُوف کو راجِع۔ تو زَيْدٌ قَائِمٌ، قَائِمٌ كِس کی صِفَت؟ قَائِم كَون ہے؟ زَيد ہے یا كوئِی اور ہے؟ زَيد ہے، تو یہ قائِم اَیسِی صِفَت ہے جو بِحالِهِ ہے، یَعنِی اَپنے مَوصُوف کی حالَت بَیان كَر رہی ہے، زَيد کے لِئے خَبَر ہے اور زَيد ہی کی حالَت بَیان كَر رہی ہے، كِسی اور کی حالَت بَیان نہیں كَر رہی۔ دُوسرِی مِثال لے لو: زَيْدٌ قَائِمٌ أَبُوهُ۔ یہ أَبُوهُ كیا بَن رہا ہے؟ زَيْدٌ قَائِمٌ أَبُوهُ، زَيْدٌ ہے مُبتَدا۔ تَركِیب كَرو، زَيْدٌ مَرفُوع لَفظاً، مُبتَدا۔ قَائِمٌ مَرفُوع لَفظاً، صِیغَہ اِسمِ فاعِل۔ جِی آگے أَبُوهُ آ رہا ہے، اَب هُوَ ضَمِير نِكالنے کی ضَرُورَت نہیں ہے۔ آگے أَبُوهُ، أَبُو مَرفُوع لَفظاً، مُضاف۔ مَرفُوع كِیوں؟ كیونكہ یہ فاعِل ہے قَائِمٌ کے لِئے۔ تو اور ہا ضَمِير مَجرُور مَحَلًّا، مُضاف اِلَیِہ۔ مُضاف، مُضاف اِلَیِہ مِل كَر یہ فاعِل ہُؤا كِس کے لِئے؟ قَائِمٌ کے لِئے۔ اور اِسمِ فاعِل اَپنے فاعِل سے مِل كَر شِبہَہ جُملَہ ہو كَر خَبَر۔ اور اِس میں جو أَبُوهُ کے آخِر میں ہا ضَمِير تھی، وہ رَبَط دے رہی ہے، وہ كِس کو راجِع ہے؟ زَيد کو، زَيد کو۔ قَائِمٌ أَبُوهُ، یہ شِبہَہ جُملَہ بَنے گا نا سارا، اور شِبہَہ جُملَہ کو بھی كِسی چِیز سے جوڑنے کے لِئے كیا چاہئے؟ رَبَط چاہئے، تو یہ أَبُوهُ کی ہا ضَمِير رَبَط دے رہی ہے۔ زَيْدٌ قَائِمٌ أَبُوهُ، تَرجَمَہ كِیجِیئے۔ زَيد كہ اُس کے اَبُّو كَھڑے ہیں۔ قَائِمٌ أَبُوهُ، قَائِمٌ ہُؤا ہے، زَيد ہے يا أَبُوهُ ہے؟ أَبُوهُ قائِم ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔ اَب دیكھو، غَور كَرو ذَرا لَفظوں پَر، قَائِمٌ لَفظوں میں خَبَر كِس کی؟ زَيد کی، یُوں یُوں كَہو قَائِمٌ لَفظوں میں صِفَت كِس کی؟ زَيد کی اور مَعنَى میں صِفَت زَيد کی يا زَيد کے، زَيد کے باپ کی؟ زَيد کے باپ کی۔ تو یہ ہے صِفَت بِحالِ مُتَعَلِّقِهِ۔ صِفَت بِحالِ كہ لَفظوں میں صِفَت ہو ایک کی، مَعنَى میں صِفَت ہو اُس کے مُتَعَلِّق کی۔ زَيد کا باپ زَيد کا مُتَعَلِّق ہے بَھائِی۔ تو صِفَت بِحالِهِ كِسے كَہتے ہیں؟ صِفَت بِحالِهِ كہ لَفظوں میں جِس کی صِفَت ہو، مَعنَى میں بھی اُسِی کی صِفَت ہو۔ اور صِفَت بِحالِ مُتَعَلِّقِهِ كہ لَفظوں میں صِفَت ہو ایک کی، مَعنَى میں صِفَت ہو اُس کے مُتَعَلِّق کی، تَوَجُّہ ہے؟ پھِر سُنو، زَيْدٌ قَائِمٌ، قَائِمٌ لَفظوں میں صِفَت كِس کی؟ زَيد کی۔ یَعنِی خَبَر ہے، خَبَر بھی صِفَت کے دَرجے میں، تو قَائِمٌ لَفظوں میں خَبَر زَيد کی، لَفظوں میں صِفَت زَيد کی، تو اور مَعنَى میں بھی صِفَت كِس کی ہے؟ زَيد کی ہے، قِیام كِس کے لِئے ثابِت ہے؟ زَيد کے لِئے۔ اور زَيْدٌ قَائِمٌ أَبُوهُ، یہ قَائِمٌ لَفظوں میں صِفَت كِس کی؟ زَيد کی، لَیكِن مَعنَى میں صِفَت زَيد کی نہیں ہے بَلكہ زَيد کے مُتَعَلِّق کی ہے، اُس کے باپ کی، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو یہ دو قِسم کی صِفات ہوتی ہیں۔ یہاں پر بھی، یہاں پر دیكھیئے كِتاب پر: "وَالْيَاءِ"، یہ ہے مَوصُوف۔ "الْمَفْتُوحِ"، یہ اِس کی صِفَت ہے۔ مَوصُوف صِفَت کا اِعراب ایک ہوتا ہے، "وَالْيَاءِ" مَجرُور ہے، تو "الْمَفْتُوحِ" یہ بھی كیا ہوگا؟ مَجرُور۔ اِدھَر دیكھیئے، مُجھے بَتائیے، تَثنِيَہ میں رَفع كِس کے ساتھ؟ اَلِف کے ساتھ اور نَصب اور جَر، يا کے ساتھ۔ یہ يا مَفتُوح ہوتی ہے يا اِس يا کا ماقَبل مَفتُوح ہوتا ہے؟ يا کا ماقَبل مَفتُوح ہوتا ہے، رَجُلَيْنِ، يا تو ساكِن ہے بَھائِی۔ تو یہاں پر بھی دیكھو: "وَالْيَاءِ"، كہ اِن تِینوں کا اِعراب جو ہے، حالَتِ نَصبِی جَرِّی میں كِس کے ساتھ آئے گا؟ "وَالْيَاءِ"، اَیسِی يا "الْمَفْتُوحِ" كہ مَفتُوح ہو، كیا چِیز مَفتُوح ہو؟ "مَا قَبْلَهَا"، "أَيْ مَا قَبْلَ الْيَاءِ"۔ یہ نائِب فاعِل ہے "الْمَفْتُوحِ" کا بَھائِی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ كہ مَفتُوح "مَا قَبْلَهَا"، "أَيْ مَا قَبْلَ الْيَاءِ"، يا کا ماقَبل مَفتُوح ہوتا ہے، تو "الْمَفْتُوحِ" لَفظوں میں صِفَت كِس کی؟ يا کی۔ يا مَوصُوف مَجرُور، "الْمَفْتُوحِ" صِفَت بھی مَجرُور۔ لَیكِن وہ يا مَفتُوح ہوتی ہے يا اُس کا ماقَبل؟ اُس کا ماقَبل۔ تو یہ صِفَت بِحالِ مُتَعَلِّقِهِ ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو كَہتے ہیں: "وَالْيَاءِ"، اور اِن کا اِعراب جو ہوگا وہ اَیسِی يا کے ساتھ ہوگا "الْمَفْتُوحِ مَا قَبْلَهَا"، كہ جِس کا ماقَبل مَفتُوح ہوگا "نَصْبًا وَجَرًّا"، "حَالَةَ النَّصْبِ وَالْجَرِّ"، نَصب اور جَر کی حالَت میں اَیسِی يا آئے گی بَھائِی۔ "كَمَا سَيَأْتِي"، جَیسے كہ عنقَرِیب آ جائے گا۔ جَیسے كہ عنقَرِیب آ جائے گا، اَبھی آگے جَمع کے اَندر جا كَر یہ بَتلائیں گے كہ اِن کو یہ اِعراب كِیوں دِیا گِیا۔ حالَتِ رَفعِی میں اَلِف کے ساتھ اور نَصبِی جَرِّی میں يا کے ساتھ كِیوں دِیا گِیا، اَب وہ تَفصِيل آگے جَمعِ مُذَكَّرِ سالِم کا جَب اِعراب ذِكر كَریں گے، تو وہاں ذِكر كَریں گے۔ تو كَہتے ہیں: "كَمَا سَيَأْتِي"، جَیسے كہ عنقَرِیب آ جائے گا۔ "جَمْعُ الْمُذَكَّرِ السَّالِمُ"، "جَمْعُ الْمُذَكَّرِ السَّالِمُ"، "جَمْعُ" مُضاف، "الْمُذَكَّرِ" مُضافٌ اِلَيه۔ "جَمْعُ الْمُذَكَّرِ"، كیا تَرجَمَہ ہُؤا؟ مُضاف مُضاف اِلَیِہ ہیں۔ مُذَكَّر کی جَمع، "جَمْعُ الْمُذَكَّرِ"، مُذَكَّر کی جَمع اور آگے جو "السَّالِمُ" آیا، یہ مُذَكَّر کی صِفَت نہیں ہے۔ اَگَر یہ مُذَكَّر کی صِفَت ہوتی تو "الْمُذَكَّرِ"، وہ تو مَجرُور ہے، مُضاف اِلَیِہ ہے، تو "السَّالِمِ" اِس کو بھی كیا ہونا چاہئے تھا؟ مَجرُور ہونا چاہئے تھا۔ یہ كِس کی صِفَت ہے؟ یہ جَمع کی صِفَت ہے اور جَمع مَرفُوع ہے۔ "جَمْعُ الْمُذَكَّرِ"، تو "السَّالِمُ" اُس کی صِفَت بھی كیا آ گئی؟ مَرفُوع۔ تو تَرجَمَہ كیا ہُؤا؟ "جَمْعُ الْمُذَكَّرِ السَّالِمُ"، مُذَكَّر کی وہ جَمع جو سالِم ہو۔ مُذَكَّر کی وہ جَمع جو سالِم ہو۔ تو اِس سے تو مَعلُوم ہُؤا كہ وہ جَمعِ سالِم نِكل گئی جو مُؤَنَّث کی ہو۔ یاد رَكھو یہ جو واؤ نُون کے ساتھ اور يا نُون کے ساتھ جَمع आती ہے، مُسلِمُونَ اور مُسلِمِینَ۔ یہ مُذَكَّر کی بھی جَمع आती ہے اور بَعض اَوقات مُؤَنَّث کی بھی یَہی جَمع आती ہے۔ مُسلِمٌ مُذَكَّر ہے۔ كوئِی عَلامَتِ تَاثنِیث جُڑِی ہُوئِی ہے؟ مُسلِمٌ کا لَفظ كیا ہے؟ مُذَكَّر ہے اور اِس کی جَمع آئی مُسلِمُونَ اور مُسلِمِینَ۔ تو یہ مُذَكَّر کی جَمعِ سالِم ہے، كِس کی؟ مُسلِمٌ مُذَكَّر تھا، اُس کی یہ جَمعِ سالِم۔ اور كَبھی یہ مُؤَنَّث کی جَمعِ سالِم بھی आती ہے، جَیسے سَنَةٌ، سَنَةٌ سال کو كَہتے ہیں۔ آپ اُردُو میں بھی اِستِعمال كَرتے ہیں كہ كِس سَن میں آپ کی پَیدائِش ہُوئِی ہے؟ تو سَنَةٌ كِسے كَہتے ہیں؟ سال۔ اور اِس کی جَمع عَرَبِی میں اِستِعمال ہوتی ہے سِنُونَ اور سِنِينَ، حالَتِ رَفعِی میں سِنُونَ، نَصبِی جَرِّی میں سِنِین۔ تو یہ سَنَةٌ کے آخِر میں تو گول تا جُڑِی ہُوئِی ہے۔ تو یہ تو مُؤَنَّث ہے یہ لَفظ۔ تو دیكھو مُؤَنَّث کی جَمع بھی كیا آئی؟ واؤ نُون کے ساتھ آ گئی۔ اِسِی طَرَح الاَرضُ ہے۔ اَرض آپ نے پڑھا ہے كہ یہ مُؤَنَّثِ سِماعِی ہے، كیونكہ اِس کی تَصغِير نِكال لو، تَصغِير كیا ہے؟ أُرَيْضَةٌ، تو وہاں پر گول تا مَوجُود ہے، مَعلُوم ہُؤا كہ یہ اَرض کا لَفظ مُؤَنَّث ہے، تو عَرَب اِس کو مُؤَنَّث اِستِعمال كَرتے ہیں۔ اور اِس کی جَمع الاَرْضُونَ आती ہے واؤ نُون کے ساتھ اور حالَتِ نَصبِی جَرِّی میں الاَرْضِينَ۔ تو دیكھو، مُسلِمٌ مُذَكَّر لَفظ تھا، اُس کی بھی جَمع واؤ نُون کے ساتھ اور سَنَةٌ اور اَرضٌ مُؤَنَّث ہیں اور اِن کی بھی جَمع واؤ نُون کے ساتھ۔ لَیكِن اِنھوں نے كیا كَہا؟ "جَمْعُ الْمُذَكَّرِ السَّالِمُ"، مُذَكَّر کی وہ جَمع جو سالِم ہو۔ تو مُؤَنَّث کی بھی یَہی جَمع आती ہے یا نہیں؟ سَنَةٌ اور اَرضٌ کی بھی आती ہے، وہ تو نِكل گئی اِس حُكم سے۔ آپ نے تو كیا كَہا؟ مُذَكَّر کی جَمع ہو، یَعنِی مُفرَد كیا ہونا چاہئے؟ مُذَكَّر ہونا چاہئے، مُذَكَّر کی جَمعِ سالِم۔ مُؤَنَّث کی جَمعِ سالِم وہ تو نِكل گئی اِس سے۔ نہیں تَوَجُّہ، نہیں بات سمجھ میں آئی، اِنھوں نے كیا كَہا؟ مُذَكَّر کی جو جَمعِ سالِم ہے۔ مَعلُوم ہُؤا جو مُؤَنَّث کی جَمعِ سالِم ہے، سَنَةٌ اور اَرضٌ کی، وہ تو نِكل گئی اِس حُكم سے۔ تو آپ کو صاحِبِ جامِی بَتلائیں گے كہ بَھائِی لَفظوں کو نہ دیكھیں، یہ اُس کا نام ہے، یہ كیا ہے؟ یہ اُس جَمع کا نام ہے جو واؤ نُون کے ساتھ آئے۔ جو بھی جَمع واؤ نُون کے ساتھ آئے، اُس کا نام كیا ہے؟ "جَمْعُ الْمُذَكَّرِ السَّالِمُ"۔ چاہے اُس کا مُفرَد مُذَكَّر ہو، چاہے اُس کا مُفرَد مُؤَنَّث ہو، تو سَب اِس میں آ گئے۔ آپ یہ نہ كَھیں صِرف مُذَكَّر کی جَمع آ گئی، مُؤَنَّث کی جَمع نہیں، بَلكہ یہ "جَمْعُ الْمُذَكَّرِ السَّالِمُ" سے نَحوِیوں کی اِصطِلاح میں یہ ہَر اُس جَمع کو كَہتے ہیں جو واؤ نُون کے ساتھ آئے، چاہے اُس کا مُفرَد مُذَكَّر ہو، چاہے مُذَكَّر نہ ہو۔ جَیسے "جَمْعُ الْمُؤَنَّثِ السَّالِمُ"، وہاں بھی یَہی شُبہَہ پڑتا تھا۔ كہ مُؤَنَّث کی جَمعِ سالِم۔ تو مُسلِمَةٌ اِس کی جَمع بھی كیا आती ہے؟ مُسلِمَاتٌ، دیكھو مُسلِمَةٌ مُؤَنَّث ہے۔ لَیكِن مُذَكَّر لَفظ لے آؤ، مَجرُورٌ، مَنصُوبٌ، مَفتُوحٌ، اِن کی جَمع بھی كیا आती ہے؟ مَجرُورٌ کے آخِر میں تو كوئِی عَلامَتِ تَاثنِیث کی نہیں ہے، لَیكِن اِس کی جَمع اَلِف تا کے ساتھ آ رہی ہے، مَجرُورَاتٌ، مَنصُوبَاتٌ۔ تو مَعلُوم ہُؤا یہ جَمع مُذَكَّر کی بھی आती ہے اَلِف تا کے ساتھ اور مُؤَنَّث کی بھی۔ تو جَب آپ نے كَہا تھا "جَمْعُ الْمُؤَنَّثِ السَّالِمُ"، مُؤَنَّث کی جَمعِ سالِم، تو مُذَكَّر تو نِكل گئے اِس میں سے، وہ بھی حالانكہ اَلِف تا کے ساتھ آتے ہیں۔ تو وہاں بھی صاحِبِ جامِی نے كیا بَتلايا تھا؟ كہ اِس سے اِصطِلاحِی جَمعِ مُؤَنَّثِ سالِم مُراد ہے اور لَفظوں پر نہ دیكھو، بَس اُس کا نام ہی یہ ہے۔ جو جَمع بھی اَلِف تا کے ساتھ آئے، اُس کا نام ہے جَمعِ مُؤَنَّثِ سالِم۔ اور جو بھی جَمع واؤ نُون کے ساتھ آئے، اُس کا نام ہی كیا ہے؟ جَمعِ مُذَكَّرِ سالِم۔ دیكھیئے بَھائِی، كَہتے ہیں: "جَمْعُ الْمُذَكَّرِ السَّالِمُ وَالْمُرَادُ بِهِ مَا سُمِّيَ بِهِ اصْطِلَاحًا"، اور مُراد اِس جَمعِ مُذَكَّرِ سالِم سے مَا، وہ جَمع ہے "سُمِّيَ بِهِ" جِس کو جَمعِ مُذَكَّرِ سالِم كَہتے ہیں، جِس کا نام جَمعِ مُذَكَّرِ سالِم رَكھا گِیا ہے "اصْطِلَاحًا"، اِصطِلاح میں، یَعنِی نَحوِیوں کی اِصطِلاح میں جِس کو جَمعِ مُذَكَّرِ سالِم كَہتے ہیں وہ یہاں مُراد ہے۔ آپ لَفظوں کی وَجَہ سے دھوکے میں نہ پڑھیں كہ صِرف یہ مُذَكَّر کی جَمعِ سالِم مُراد ہے، مُؤَنَّث کی نہیں، بَلكہ اِصطِلاحِی جَمعِ مُذَكَّرِ سالِم مُراد ہے اور وہ عام ہے، چاہے اُس کا مُفرَد مُذَكَّر ہو يا نہ ہو، اِس سے كوئِی فَرق نہیں پڑتا۔ تو كَہتے ہیں: "وَالْمُرَادُ بِهِ مَا سُمِّيَ بِهِ اصْطِلَاحًا"، اور اِس سے مُراد جو ہے، وہ جَمع ہے جِس کو جَمعِ مُذَكَّرِ سالِم کے نام کے ساتھ مَوصُوم كِیا گِیا ہے بَاعِتِبار اِصطِلاح کے، "وَهُوَ الْجَمْعُ بِالْوَاوِ وَالنُّونِ"، اور یہ وہ جَمع ہے جو واؤ اور نُون کے ساتھ آئے، جو بھی جَمع واؤ اور نُون کے ساتھ آئے، وہ سَب اِس میں آ گئے۔ "فَيَدْخُلُ فِيهِ نَحْوُ سِنِينَ وَأَرَضِينَ"، تو اِس کے اَندر سِنِینَ اور اَرضِینَ جَیسے کی جَمع بھی داخِل ہو گئیں "مِمَّا لَمْ يَكُنْ وَاحِدُهُ مُذَكَّرًا"، یَعنِی كہ وہ جِن کا واحِد مُذَكَّر نہیں ہے۔ وہ جِن کا واحِد مُذَكَّر نہیں، وہ بھی اِس میں داخِل ہو گئے "لٰكِنْ يُجْمَعُ بِالْوَاوِ وَالنُّونِ"، لَیكِن اُن کو جَمع كِیا جاتا ہے واؤ اور نُون کے ساتھ۔ عِبارَت سمجھ میں آئی؟ اِس میں سِنِینَ اور اَرضِینَ بھی داخِل ہو گئے، یَعنِی كہ وہ جِن کا واحِد مُذَكَّر تو نہیں ہے، لَیكِن اُن کی جَمع كِس کے ساتھ आती ہے؟ واؤ اور نُون کے ساتھ۔ كَہتے ہیں: "وَمَا أُلْحِقَ بِهِ وَهُوَ أُولُو"، جِی، یہ جَمعِ مُذَكَّرِ سالِم بھی ہے اور جو اِس کے ساتھ مُلحَق ہیں، وہ بھی اِس کے اَندر داخِل ہو گئے۔ مُلحَق كیا كیا ہیں؟ آپ کو بَتائیں گے ایک ہے أُولُو اور ایک ہے عِشرُونَ وَاَخَواتُہا، عِشرُونَ اور اُس کے جو اَخَوات ہیں۔ مُسلِمُونَ، اِس کا اِعراب كیا؟ حالَتِ رَفعِی میں واؤ کے ساتھ اور نَصبِی جَرِّی میں يا کے ساتھ۔ اِسِی طَرَح أُولُو ہے، حالَتِ رَفعِی میں أُولُو كَھیں گے، نَصبِی جَرِّی میں أُولِي كَھیں گے۔ یاد رَكھو یہ جو أُولُو ہے نا أُولُو، یہ جَمع ہے ذُو کی، میں پَہلے بَیان كَر چُكا ہوں۔ ذُو کی جَمع ہے، ذُو کی ایک جَمع आती ہے ذَوُونَ اور ایک جَمع كیا اِستِعمال ہوتی ہے؟ أُولُو۔ تو یہ لَفظوں کے اِعتبار سے أُولُو کی جَمع نہیں ہے كہ اُس سے جَمع بَنا لِی گئی، نہیں نہیں۔ أُولُو کا مَعنَى ہے والا، ذُو مَالٍ، مال والا۔ اور أُولُو کا مَعنَى ہے والے، جَمع کے لِئے: أُولُو مَالٍ، مال والے۔ تو یہ مَعنَى کے اِعتبار سے اُس کی جَمع ہے، لَفظوں کے اِعتبار سے اُس کی جَمع نہیں، یَعنِی وہ ذُو جَیسے مُفرَد کے لِئے اِستِعمال ہوتا ہے، أُولُو وُہِی مَعنَى اَدا كَرتا ہے لَیكِن كِس کے لِئے اِستِعمال ہوتا ہے؟ جَمع کے لِئے اِستِعمال ہوتا ہے۔ اور أُولُو کے رَسمُ الخَط میں ایک اور بات یاد رَكھنا بَھائِی، أُولُو۔ أُولُو، آپ کی كِتابوں میں أُولُو كِس طَرَح لِکھا ہے؟ اَلِف، لام اور واؤ ہے؟ اَلِف کے بَعد واؤ ہے كہ نہیں؟ واؤ ہونا چاہئے۔ اَلِف کے بَعد یَعنِی ہَمزَہ، ہَمزَہ کے بَعد واؤ ہونا چاہئے اور پھِر لام واؤ۔ صَحِیح رَسمُ الخَط اِس کا یہ ہے بَھائِی۔ وَجَہ یہ كہ أُولُو حالَتِ رَفعِی میں كَیسے كَھیں گے؟ أُولُو مَالٍ، مال والے۔ اور حالَتِ نَصبِی جَرِّی میں كَیسے پڑھیں گے؟ أُولِي مَالٍ۔ اَگَر ہَمزَہ کے بَعد واؤ نہیں لِکھو گے، تو ہَمزَہ، لام، يا، اِس طَرَح لِکھنا پڑے گا، تَوَجُّہ ہے؟ تو یہ بَالكُل إِلَى جَیسِی صُورَت بَن جائے گی، تو پڑھنے والے کو نہیں پَتا چَلے گا إِلَى مَالٍ ہے يا أُولِي مَالٍ ہے۔ تو اِلتِباس سے بَچنے کے لِئے ہَمزَہ کے بَعد كِس کو لِکھتے ہیں؟ واؤ، تَوَجُّہ ہے؟ اور كِس حالَت میں اِلتِباس آ رہا تھا؟ حالَتِ نَصبِی جَرِّی میں۔ حالَتِ نَصبِی جَرِّی میں اِلتِباس آتا تھا، جَب اُس میں واؤ لِکھتے ہیں، تو اَب حالَتِ رَفعِی میں بھی واؤ لِکھتے ہیں تاكہ ہَر جَگَہ ایک جَیسے، ایک جَیسِی صُورَت بَن جائے لَفظ کی بَھائِی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ دیكھیئے بَھائِی اَب كِتاب پر۔ كَہتے ہیں جَمعِ مُذَكَّرِ سالِم جو ہے "وَمَا أُلْحِقَ بِهِ"، اور جو اِس کے ساتھ مُلحَق ہے بَھائِی، كیا كیا مُلحَق ہیں؟ كَہتے ہیں "وَهُوَ أُولُو"، وہ أُولُو ہے، "جَمْعُ ذُو"، یہ ذُو کی جَمع ہے "لَا عَنْ لَفْظِهِ"، لَیكِن ذُو کے لَفظ سے نہیں ہے۔ ذُو کے بَتلانا یہ چاہتے ہیں كہ لَفظوں کے اِعتبار سے یہ اُس کی جَمع نہیں ہے، مَعنَى کے اِعتبار سے جَمع ہے، ذُو کا مَعنَى ہے والا اور أُولُو کا مَعنَى والے بَھائِی۔ "وَعِشْرُونَ وَأَخَوَاتُهَا"، اور اِسِی طَرَح عِشرُونَ اور جو اِس کے اَخَوات ہیں۔ اَخَوات سے كیا مُراد؟ كَہتے ہیں اَخَوات جو اِس کے مُشابِہ ہیں، اُس کے جو مِثل ہیں، یَعنِی ثَلاثُونَ، اَربَعُونَ، خَمسُونَ وَغَيرَہ، یہ یہ سَب مُراد ہیں۔ اور اِن کو اَخَوات كَہا، یہ اُس کے مُشابِہ ہیں، چُونكہ بَہنیں بھی ایک دُوسرے کے مُشابِہ ہوتی ہیں اِس لِئے اَخَوات كَہا۔ اور نِیز اَخ نہیں كَہا بَلكہ اَخَوات كَہا، اُخت کی تأوِیل میں لِیا، یَعنِی عِشرُونَ کی تأوِیل كَر لِی كَلِمَةٌ کے اِعتبار سے۔ یَعنِی عِشرُونَ كَلِمَہ ہے اور كَلِمَہ کے آخِر میں گول تا ہے، تو یہ مُؤَنَّث ہے، تو اِس لِئے اُختٌ سے اُس کو تعَبِیر كِیا۔ تو كَہتے ہیں عِشرُونَ اور اِن کے اَخَوات جو ہیں، بَھائِی اَخَوات سے كیا مُراد؟ كَہتے ہیں: "أَيْ نَظَائِرُهَا السَّبْعُ"، جو اِس کی سات نَظِیریں ہیں۔ سات نَظِیریں جو اِس کے ساتھ مِثل ہیں، كَونسِی كَونسِی؟ عِشرُونَ تو گُزَر گِیا۔ اِس کی سات نَظِیریں ہیں: نَمبَر ایک: ثَلاثُونَ، نَمبَر دو: اَربَعُونَ، نَمبَر تِین: خَمسُونَ، نَمبَر چار: سِتُّونَ، نَمبَر پانچ: سَبعُونَ، نَمبَر چھَ: ثَمانُونَ اور نَمبَر سات: تِسعُونَ، تو دیكھو یہ سات نَظِیریں ہیں، یہ عِشرُونَ کے مِثل ہیں۔ تو كَہتے ہیں: "أَيْ نَظَائِرُهَا السَّبْعُ"، یَعنِی اِس کی سات نَظِیریں جو ہیں، نَظِیر کا مَعنَى ہے مِثل، جو اِس کے ساتھ اِس جَیسے كَلِمے ہیں۔ "وَهِيَ ثَلَاثُونَ إِلَى تِسْعِينَ"، اور یہ ثَلاثُونَ سے لے كَر تِسعِینَ تک ہیں۔ "وَلَيْسَ عِشْرُونَ جَمْعَ عَشَرَةٍ وَلَا ثَلَاثُونَ جَمْعَ ثَلَاثَةٍ"۔ یہ ایک سَوال کا جَواب دے رہے ہیں۔ سَوال یہ كہ آپ نے تِین قِسمیں ہَمیں شُمار كَروائیں۔ ایک جَمعِ مُذَكَّرِ سالِم، ایک أُولُو اور ایک عِشرُونَ وَاَخَواتُہا۔ بَھائِی عِشرُونَ کو اَلَگ كِیوں شُمار كِیا آپ نے؟ یہ تو جَمعِ مُذَكَّرِ سالِم میں داخِل ہو رہا تھا، كِس میں؟ جَمعِ مُذَكَّرِ سالِم میں داخِل ہو رہا ہے۔ كَہتے ہیں نہیں بَھائِی، یہ جَمع نہیں ہے۔ عِشرُونَ جَمع آپ کے ذِہن میں ہوگا، شایَد یہ عِشرُونَ عَشَرَةٌ کی جَمع ہے۔ اَگَر یہ عَشَرَةٌ کی جَمع ہوتی، تو پھِر اِس کا اِطلاق 30 پر ہونا چاہئے تھا۔ 30 پر، جَیسے مُسلِمٌ، مُسلِمٌ کا كیا مَعنَى؟ ایک مُسلِمان اور مُسلِمُونَ، یہ كَم اَز كَم كِتنے پر بولا جائے گا؟ تِین پر، مَعلُوم ہُؤا اُس کو تِین گُنا كَرو پھِر اُس پر بول، تِین مِقدار ہو پھِر اُس پر بولا جاتا ہے۔ تو اَگَر یہ عِشرُونَ عَشَرَةٌ کی جَمع ہوتی، تو عَشَرَةٌ كِتنے کو كَہتے ہیں؟ 10 کو، تو اُس 10 کی تِین مِقداریں كَرو، اُس کو عِشرُونَ كَہنا چاہئے تھا، یَعنِی 30 کو۔ حالانكہ یہ 30 کو تو نہیں كَہتے، یہ تو 20 کو كَہتے ہیں۔ اِسِی طَرَح ثَلاثُونَ، آپ یہ نہ سمجھنا یہ ثَلاثَةٌ کی جَمع ہے۔ اَگَر ثَلاثَةٌ کی جَمع ہوتی تو ثَلاثَةٌ کو تِین دَفعَہ كَرو، كِتنا بَنا؟ نو، تو نو کو بھی ثَلاثُونَ كَہنا چاہئے تھا۔ اِسِی طَرَح اَربَعُونَ کو آپ اَربَعَةٌ کی جَمع نہ سمجھو، ورنہ تو اَربَعَةٌ کو تِین دَفعَہ كَر دو، كِتنا بَن گِیا؟ 12، تو 12 کو بھی اَربَعُونَ كَہنا چاہئے تھا۔ اِسِی طَرَح خَمسُونَ ہے، خَمسُونَ کو خَمسَةٌ کی جَمع نہ سمجھو، ورنہ تو خَمسَةٌ کو تِین دَفعَہ كَر دو، كِتنا بَن گِیا؟ 15، 15 کو بھی خَمسُونَ كَہنا چاہئے تھا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو كَہتے ہیں: "وَلَيْسَ عِشْرُونَ جَمْعَ عَشَرَةٍ وَلَا ثَلَاثُونَ جَمْعَ ثَلَاثَةٍ"، اور عِشرُونَ جو ہے وہ عَشَرَةٌ کی جَمع نہیں ہے اور نہ ثَلاثُونَ ثَلاثَةٌ کی جَمع ہے۔ دیكھو "وَلَيْسَ عِشْرُونَ جَمْعَ عَشَرَةٍ"، جَمَعَ پڑھا بَھائِی، میں نے مَنصُوب پڑھا كیونكہ یہ لَیسَ کی خَبَر ہے اور لَیسَ كیا كَرتا ہے؟ اَپنے اِسم کو رَفع دیتا ہے اور خَبَر کو نَصب۔ اور عَشَرَةَ، میں نے اِس کو عَشَرَةَ پڑھا۔ یہ وَجَہ یہ كہ یہ غَيرِ مُنسَرِف ہے۔ یہ كیا ہے؟ غَيرِ مُنسَرِف اور غَيرِ مُنسَرِف اَگَرچِہ دیكھو عَشَرَةَ یہاں مُضاف اِلَیِہ بَن رہا ہے، لَیكِن یہ غَيرِ مُنسَرِف ہے اور غَيرِ مُنسَرِف پر كَسرَہ اور تَنوِین نہیں آتے، اِس لِئے تَنوِین بھی نہیں آئی اور كَسرَہ بھی نہیں آیا۔ ہے یہ مَجرُور اِس وَقت مُضاف اِلَیِہ ہے۔ بَھائِی غَيرِ مُنسَرِف كِیوں ہے؟ كَونسے دو سَبَب ہیں؟ جِی؟ ایک تو تَاثنِیث ہے، تائے تَاثنِیث جُڑِی ہُوئِی ہے ساتھ۔ دُوسرا سَبَب، ہاں دُوسرا عَلَم ہے، عَشَرَةَ بول كَر عَشَرَةَ کا لَفظ مُراد ہے، اُس کا مَعنَى یَعنِی 10 مُراد نہیں ہے۔ تو لِہٰذا یہ غَيرِ مُنسَرِف ہے۔ تو كَہتے ہیں "وَلَيْسَ عِشْرُونَ جَمْعَ عَشَرَةٍ وَلَا ثَلَاثُونَ جَمْعَ ثَلَاثَةٍ"، اور عِشرُونَ عَشَرَةٌ کی جَمع نہیں ہے اور نہ ثَلاثُونَ ثَلاثَةٌ کی جَمع ہے۔ اِسِی طَرَح وہ جو اُوپر آیا تھا "وَاثْنَانِ وَاثْنَتَانِ وَسِنْتَانِ"، وہ بھی غَيرِ مُنسَرِف ہیں بَھائِی۔ دو سَبَب كیا؟ ایک عَلَم ہے، دُوسرا سَبَب اَلِف نُون زائِدَتان بَھائِی۔ لِہٰذا آپ غَيرِ مُنسَرِف والا اِعراب بھی اُس پر پڑھ سَكتے ہیں: "وَاثْنَانُ وَاثْنَتَانُ وَسِنْتَانُ"۔ بات سمجھ میں آ گئی، اور آپ چاہیں تو جَیسے اِن کو لَفظوں میں پڑھا جاتا ہے، وہاں تو نُون پر زِیر ہوتا ہے، تو آپ یہاں نُون پر زِیر بھی پڑھ سَكتے ہیں، دونوں طَرَح صَحِیح ہے۔ تو كَہتے ہیں: "وَلَيْسَ عِشْرُونَ جَمْعَ عَشَرَةٍ وَلَا ثَلَاثُونَ جَمْعَ ثَلَاثَةٍ"، اور عِشرُونَ عَشَرَةٌ کی جَمع نہیں ہے اور نہ ثَلاثُونَ ثَلاثَةٌ کی جَمع ہے۔ "وَإِلَّا تَصِحُّ إِطْلَاقُ عِشْرِينَ عَلَى ثَلَاثِينَ"، ورنہ صَحِیح ہوتا عِشرِینَ کا اِطلاق ثَلاثِینَ پر۔ ورنہ تو عِشرُونَ کا اِطلاق 30 پر بھی ہونا چاہئے تھا۔ "لِأَنَّهُ ثَلَاثَةُ مَقَادِيرِ الْعَشَرَةِ"، كیونكہ وہ، كیونكہ وہ عَشَرَةٌ کی تِین مِقداریں ہیں۔ ثَلاثِینَ 30 جو ہے، اُس میں كِتنے 10 ہیں؟ تِین 10 ہیں، تو اُس کو بھی عِشرُونَ كَہنا چاہئے تھا۔ "لِأَنَّهُ ثَلَاثَةُ مَقَادِيرِ الْعَشَرَةِ"، كیونكہ وہ 10 کی تِین مِقداریں ہیں۔ اُوپر كیا آیا؟ "وَإِلَّا تَصِحُّ إِطْلَاقُ عِشْرِينَ عَلَى ثَلَاثِينَ"، ورنہ تو عِشرِینَ کا اِطلاق ثَلاثِینَ پر صَحِیح ہوتا اور ہَم نے كَبھی عَرَبوں سے بھی سُنا ہوتا كہ وہ ثَلاثِینَ کو عِشرِینَ كَہہ رہے ہیں، لَیكِن ہَم نے كَبھی عَرَبوں سے نہیں سُنا۔ "وَإِطْلَاقُ ثَلَاثِينَ عَلَى التِّسْعَةِ"، اور اِس کا عاطَف پِیچھے جو آیا تھا نا "إِطْلَاقُ عِشْرِينَ"، اُس پر كَریں۔ اور ورنہ صَحِیح ہوتا ثَلاثِینَ کا اِطلاق تِسعَہ پر، كِتنے پر؟ ثَلاثِینَ کا اِطلاق نو پر صَحِیح ہوتا، اَگَر یہ ثَلاثِینَ كِس کی جَمع ہوتی؟ ثَلاثَةٌ کی، كیونكہ نو ثَلاثَةٌ سے تِین گُنا ہے، تو اِس کو بھی ثَلاثِینَ كَہنا چاہئے تھا۔ لَیكِن ہَم نے عَرَبوں سے كَبھی نہیں سُنا كہ اُنھوں نے تِسعَہ پر ثَلاثِینَ کا اِطلاق كِیا ہو، نو کو اُنھوں نے كیا كَہا ہو؟ 30 كَہا ہو، اَیسا ہَم نے كَبھی نہیں سُنا۔ عِبارَت سمجھ میں آئی؟ پھِر ایک دَفعَہ عِبارَت دیكھ لیں: "وَإِلَّا تَصِحُّ إِطْلَاقُ عِشْرِينَ عَلَى ثَلَاثِينَ لِأَنَّهُ ثَلَاثَةُ مَقَادِيرِ الْعَشَرَةِ وَإِطْلَاقُ ثَلَاثِينَ عَلَى التِّسْعَةِ لِأَنَّهَا ثَلَاثَةُ مَقَادِيرِ الثَّلَاثَةِ"، ورنہ صَحِیح ہوتا عِشرِینَ کا اِطلاق ثَلاثِینَ پر كیونكہ ثَلاثِینَ جو ہے وہ تِین مِقدار ہے عَشَرَةٌ سے اور صَحِیح ہوتا ثَلاثِینَ کا اِطلاق تِسعَہ پر "لِأَنَّهَا ثَلَاثَةُ مَقَادِيرِ الثَّلَاثَةِ"، كیونكہ نو جو ہے وہ تِین مِقداریں ہیں ثَلاثَةٌ کی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ "وَعَلَى هٰذَا الْقِيَاسِ الْبَوَاقِي"، اور باقِی بھی اِسِی قِیاس پر ہیں، اِسِی طَرِیقے پر ہیں، یَعنِی اَربَعُونَ اَربَعَةٌ کی جَمع نہیں ہے اور خَمسُونَ خَمسَةٌ کی جَمع نہیں ہے۔ "وَأَيْضًا هٰذِهِ الْأَلْفَاظُ تَدُلُّ عَلَى مَعَانٍ مُعَيَّنَةٍ وَلَا تَعْيِينَ فِي الْجُمُوعِ"، اور نِیز اِس لِئے بھی، دُوسرِی دَلِیل دے رہے ہیں۔ پَہلِی دَلِیل كیا دِی؟ بات یہ کی كہ یہ عِشرُونَ عَشَرَةٌ کی جَمع نہیں اور ثَلاثُونَ ثَلاثَةٌ کی جَمع نہیں، ورنہ نو پر بھی اِس کا اِطلاق صَحِیح ہوتا اور نِیز اِس لِئے بھی كہ یہ عَدَد جو ہیں، یہ جَمع نہیں ہیں۔ یہ جَمع جَمع نہیں ہیں، كیونكہ یہ مُعَيَّن عَدَد پر دَلالَت كَرتے ہیں۔ عِشرُونَ کا كیا مَعنَى؟ 20، ثَلاثُونَ کا كیا مَعنَى؟ 30، اَربَعُونَ کا كیا مَعنَى؟ 40۔ یہ مُعَيَّن عَدَد پر دَلالَت كَر رہے ہیں اور جَمع مُعَيَّن عَدَد پر دَلالَت نہیں كَرتِی، جَمع کا اِطلاق ہوتا ہے تِین سے اُوپر، كِسی بھی عَدَد پر، تِین بھی مُراد لے سَكتے ہو، چار بھی، پانچ بھی، چھَ، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو جَمع کا اِطلاق كِسی مُعَيَّن عَدَد پر ہوتا ہے يا تِین يا تِین سے اُوپر پر اِطلاق ہوتا ہے؟ تو جَمع جو ہے، جَمع مُعَيَّن عَدَد پر دَلالَت نہیں كَرتا، جَمع جَب آپ مَثَلاً میں نے كَہا: رِجَالٌ۔ جَمع ہے يا نہیں؟ كِتنے رَجُل مُراد ہیں؟ تِین؟ چار؟ پانچ؟ نہیں۔ تِین بھی لے سَكتے ہو، چار بھی، پانچ، سَب جَمع کا میں كوئِی مُعَيَّن عَدَد نہیں ہوتا۔ رِجَالٌ کا مَعنَى كُچھ آدَمِی۔ تو بات سمجھ میں آ گئی، بات یہ ہُوئِی تھی كہ عِشرُونَ وَغَيرَہ تو صِرف جَمعِ مُذَكَّرِ سالِم میں ہی داخِل ہو رہے تھے، اِن کو عَلیحِدَہ ذِكر كَرنے کی كیا ضَرُورَت ہے؟ تو جَواب دِیا كہ نہیں، یہ جَمع نہیں ہیں، اِن کے آخِر میں واؤ نُون آیا، اِس کا یہ مطلب نہیں كہ یہ جَمع ہیں۔ دو وَجَہیں ذِكر كِیں، ایک تو یہ كہ اَگَر یہ عَشَرَةٌ کی جَمع ہوتی تو پھِر تو اِس کا اِطلاق پھِر 30 پر بھی ہونا چاہئے تھا اور اِسِی طَرَح ثَلاثُونَ کا اِطلاق نو پر ہونا چاہئے تھا۔ اور دُوسرِی وَجَہ یہ كہ یہ جَمع نہیں ہیں كہ جَمع کا اِطلاق كِسی مُعَيَّن عَدَد پر نہیں ہوتا، بَلكہ تِین اور تِین سے اُوپر پر اُس کا اِطلاق ہوتا ہے اور وہ كوئِی مُعَيَّن عَدَد نہیں ہے بَھائِی۔ یہ مَعنَى ہے: "وَأَيْضًا هٰذِهِ الْأَلْفَاظُ تَدُلُّ عَلَى مَعَانٍ مُعَيَّنَةٍ"، اور نِیز یہ اَلفاظ دَلالَت كَرتے ہیں مُعَيَّن مَعانِی پر، یَعنِی مُعَيَّن عَدَد پر۔ "وَلَا تَعْيِينَ فِي الْجُمُوعِ"، اور جَمعوں میں تَعيِین نہیں ہوتی۔ "بِالْوَاوِ رَفْعًا وَالْيَاءِ الْمَكْسُورِ مَا قَبْلَهَا نَصْبًا وَجَرًّا"، اَب اِعراب بَتا رہے ہیں كہ یہ جو تِینوں گُزَر گئے، كَونسے؟ جَمعِ مُذَكَّرِ سالِم، أُولُو اور عِشرُونَ وَاَخَواتُہا، یہ جو ہیں، اِن کا اِعراب "بِالْوَاوِ"، واؤ کے ساتھ آئے گا "رَفْعًا"، حالَتِ رَفعِی میں "وَالْيَاءِ"، اور يا کے ساتھ اَیسِی يا "الْمَكْسُورِ مَا قَبْلَهَا"، جِس کا ماقَبل مَكسُور ہو، جِس کا ماقَبل كیا ہو؟ مَكسُور ہو "نَصْبًا وَجَرًّا"، "حَالَةَ النَّصْبِ وَالْجَرِّ"، كِس حالَت میں؟ نَصبِی اور جَرِّی حالَت میں بَھائِی۔ تو اِن کا اِعراب واؤ کے ساتھ آئے گا حالَتِ رَفعِی میں۔ اور حالَتِ نَصبِی جَرِّی میں اَیسِی يا جِس کا ماقَبل مَكسُور ہو۔ يا مَكسُور ہوگی يا ماقَبل مَكسُور ہوگا؟ ماقَبل۔ تو یہ بھی صِفَت بِحالِ مُتَعَلِّقِهِ ہے بَھائِی، یہ مَا قَبْلَهَا اِس کے لِئے فاعِل بَن رہا ہے۔ "وَالْيَاءِ الْمَكْسُورِ"، اور اَیسِی يا كہ مَكسُور ہو "مَا قَبْلَهَا"، اُس يا کا ماقَبل۔ اِس کا اِعراب آئے گا اَیسِی يا جِس کا ماقَبل مَكسُور ہو "نَصْبًا وَجَرًّا"، حالَتِ نَصبِی میں اور حالَتِ جَرِّی میں بَھائِی۔ اَچّھا چَلِیے بَس كَریں بَھائِی، بات سمجھ میں آ گئی۔ چَلِیے بَس بَھائِی، هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔