LEC 71 وهما سواء في إيجاب الحكم إلا أن الأول أحق عند التعارض، يعني أن كلا من العبارة والإشارة قطعي الدلالة على المراد، لكن ترجح العبارة على الإشارة وقت التعارض. وهما سواء في إيجاب الحكم، "وهما سواء في إيجاب الحكم"، اور یہ دونوں برابر ہیں ایجابِ حکم کے اندر بھئی۔ حکم کے واجب کرنے میں یہ دونوں برابر ہیں، یعنی عبارۃ النص اور اشارۃ النص، یہ حکم کے واجب کرنے میں برابر ہیں۔ یعنی جس طرح عبارۃ النص کے ذریعے جو حکم معلوم ہوتا ہے وہ قطعی ہوتا ہے، اسی طرح اشارۃ النص کے ذریعے جو حکم معلوم ہو گا وہ بھی قطعی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: "وهما سواء في إيجاب الحكم"، اور یہ دونوں، یعنی یہ عبارۃ النص اور اشارۃ النص برابر ہیں حکم کے واجب کرنے میں، "إلا أن الأول أحق عند التعارض"، مگر یہ کہ پہلا جو ہے وہ زیادہ لائق ہے تعارض کے وقت۔ یعنی بھئی، یہ دونوں اگرچہ قطعی ہیں، ان کے ذریعے جو حکم معلوم ہو گا وہ دونوں میں کیا ہو گا؟ قطعی ہو گا۔ اشارۃ النص سے جو حکم معلوم ہوا وہ بھی قطعی، عبارۃ النص سے جو حکم معلوم ہوا وہ بھی قطعی ہے، لیکن تعارض کے وقت اگر ان دونوں میں تعارض آ گیا، مثلاً عبارۃ النص سے ایک حکم معلوم ہو رہا ہے اور اشارۃ النص سے اس کی ضد معلوم ہو رہی ہے، تو پھر ترجیح عبارۃ النص کو ہو گی۔ کس کو ترجیح ہو گی؟ عبارۃ النص کو، یہی بات بیان کر رہے ہیں کہ یہ دونوں حکم کے واجب کرنے میں برابر ہیں، "إلا أن الأول أحق عند التعارض"، لیکن پہلا جو ہے وہ زیادہ لائق ہے تعارض کے وقت۔ "يعني أن كلا من العبارة والإشارة قطعي الدلالة على المراد"، یعنی دونوں میں سے ہر ایک عبارۃ النص اور اشارۃ النص، ان دونوں میں سے ہر ایک جو ہے "قطعي الدلالة على المراد"، مراد پر دلالت کرنے میں قطعی ہیں، قطعی ہیں اپنی مراد پر دلالت کرنے میں۔ "لكن ترجح العبارة على الإشارة وقت التعارض"، لیکن ترجیح پا جائے گی عبارت اشارہ پر، عبارۃ النص ترجیح پا جائے گی اشارۃ النص پر وقتِ تعارض، تعارض کے وقت بھئی۔ "مثاله قوله عليه الصلاة والسلام في حق النساء"، مثال اس کی وہ حضور علیہ السلام کا قول ہے عورتوں کے حق میں، آپ نے فرمایا: "إنهن ناقصات عقل ودين"، کہ یہ عورتیں جو ہیں، یہ ناقصاتِ عقل، "ناقصات العقل"، اور "ناقصات الدين" ہیں۔ یعنی دین اور عقل دونوں اعتبار سے ناقص ہیں، کم ہیں بھئی، کم کمی ہے ان میں۔ "قلنا"، تو ان عورتوں نے کہا: "وما نقصان عقلنا وديننا"، کہ اے اللہ کے پیغمبر! ہمارے عقل اور دین میں کا نقصان کیا ہے؟ کیا کمی ہے ہماری عقل میں اور ہمارے دین میں؟ "قال عليه السلام"، حضور علیہ السلام فرمانے لگے: "أليس شهادة النساء مثل نصف شهادة الرجال"، کیا عورتوں کی شہادت مردوں کی شہادت کے نصف کے برابر نہیں ہے؟ "قلنا: بلى"، انہوں نے کہا: کیوں نہیں! "قال: فذلك من نقصان عقلها"، حضور علیہ السلام فرمانے لگے کہ یہ ان کی عقل میں نقصان کی وجہ سے ہے۔ "ثم قال عليه السلام"، پھر حضور علیہ السلام فرمانے لگے، یہ تو عقل کا نقصان بیان ہوا کہ بھئی دیکھو، عورتوں کی گواہی مردوں سے نصف قرار دی گئی ہے۔ اور یہ تو تھا عقل میں نقصان، اور دین میں کیا نقصان ہے وہ بیان فرمانے لگے: "ثم قال عليه الصلاة والسلام"، پھر حضور علیہ السلام فرمانے لگے: "تقعد إحداكن شطر دهرها في قعر بيتها لا تصوم ولا تصلي"، کہ بیٹھ جاتی ہے تم میں سے کوئی ایک، "شطر دهرها"، شطر کہتے ہیں نصف کو، دہر کہتے ہیں زمانے کو۔ "دهرها"، اس کا اس عورت کا زمانہ، کوئی ایک تم میں سے جو ہے وہ اپنا زمانہ، اپنا نصف زمانہ بیٹھ جاتی ہے "في قعر بيتها"، قعر ویسے کہتے ہیں تہ کو، کسی چیز کا نچلا حصہ، تہ۔ "في قعر بيتها"، یہاں مراد ہے گھر کے اندر بھئی، "في قعر بيتها"، اپنے گھر کے اندر۔ حضور علیہ السلام فرمانے لگے: "تقعد إحداكن شطر دهرها في قعر بيتها"، بیٹھ جاتی ہے تم میں سے کوئی ایک اپنے زمانے کا نصف اپنے گھر کے اندر، اپنے زمانے کا نصف اپنے گھر کے اندر بیٹھی رہتی ہے، "لا تصوم ولا تصلي"، نہ نماز پڑھتی ہے اور نہ روزہ رکھتی ہے۔ بھئی، وہ حیض کے ایام مراد ہیں جن میں وہ نہ روزہ رکھتی ہے اور نہ نماز پڑھتی ہے۔ تو کیا ایسا نہیں ہوتا کہ تم میں سے کوئی ایک جو ہے وہ بیٹھی رہتی ہے؟ "قلنا: بلى"، انہوں نے کہا: کیوں نہیں! "قال: فذلك من نقصان دينها"، یہ ان کے دین کا نقصان ہے یا اس میں یعنی دین میں کمی اس کی وجہ سے ہے۔ "فالحديث وإن كان مسوقاً لنقصان دينهن"، یہ حدیث اگرچہ اس کو چلائی گئی ہے ان کے دین کے نقصان کے لیے، یعنی اس کو بیان کرنے کے لیے، "ولكنه يفهم منه إشارة أن أكثر الحيض خمسة عشر يوماً"، لیکن اس حدیث سے مفہوم ہوتا ہے بطورِ اشارہ کے کہ "أن أكثر الحيض خمسة عشر يوماً"۔ بھئی، دیکھیے، عورتیں کچھ ایام جو ان کے حیض کے ہیں اس میں نہ نماز پڑھتی ہے اور نہ روزے رکھتی ہے، ان دنوں میں نہ نماز پڑھ سکتی ہے اور نہ روزے۔ نمازوں کی تو قضا بھی نہیں اس پر، ہاں روزوں کی اس پر قضا ہے۔ اور آیا اپنے زمانے کا نصف، زمانے کا نصف بھئی مراد ہے کچھ حصہ مراد ہے، لفظی ترجمہ تو نصف ہے لیکن مراد کیا ہے؟ کچھ حصہ وہ بیٹھی رہتی ہے اپنے زمانے کا، اپنے عمر کا۔ تو کہتے ہیں، یہ حدیث اگرچہ چلائی گئی ہے عورتوں کے دین کے نقصان کو بیان کرنے کے لیے، "ولكنه يفهم منه إشارة أن أكثر الحيض خمسة عشر يوماً"، لیکن اس سے یہ بات مفہوم ہوتی ہے بطورِ اشارہ کے کہ حیض کی زیادہ سے زیادہ مدت 15 دن ہے۔ یہ اشارہ کے طور پر معلوم ہو رہا ہے، کیوں؟ "لأن لفظ الشطر موضوع للنصف في أصل اللغة"، اس لیے کیونکہ شطر کا لفظ، یہ وضع کیا گیا ہے نصف کے لیے اصلِ لغت میں۔ عربی زبان میں اس لفظ کو کس کے لیے وضع کیا گیا ہے؟ نصف کے لیے، تو معلوم ہوا آدھی زندگی گویا ہر مہینے کا آدھا، اور ہر مہینے کا آدھا کتنا ہے؟ 15 دن، معلوم ہوا 15 دن حیض کی زیادہ سے زیادہ مدت ہے بھئی، یہ اشارۃ النص سے معلوم ہوا ۔ "وبه تمسك الشافعي رحمه الله في أن أكثر الحيض خمسة عشر يوماً"، اور اسی سے استدلال کیا ہے امام شافعی رحمہ اللہ نے کہ حیض کی زیادہ سے زیادہ مدت 15 دن ہے۔ جبکہ ہمارے نزدیک 10 دن ہے زیادہ مدت۔ تو وہ آپ احناف کا مذہب بھی اب آگے بیان کر رہے ہیں: "ولكنه معارض بما روي أنه عليه السلام قال: أقل الحيض للجارية البكر والثيب ثلاثة أيام ولياليهن وأكثره عشرة أيام"، لیکن یہ حدیث معارض ہے اس حدیث سے روایت کی گئی ہے کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا: "أقل الحيض للجارية البكر والثيب"، کہ کم سے کم حیض جو ہے باکرہ اور ثیبہ لڑکی کا، "ثلاثة أيام ولياليهن"، جاریہ جیسے باندی کو کہتے ہیں اسی طرح لڑکی کو بھی کہتے ہیں، جیسے غلام جیسے غلام کو کہتے ہیں اسی طرح لڑکے کو بھی کہتے ہیں۔ حضور علیہ السلام نے فرمایا: "أقل الحيض للجارية البكر والثيب ثلاثة أيام ولياليهن وأكثره عشرة أيام"، کہ کم سے کم حیض جو ہے باکرہ اور ثیبہ لڑکی کا وہ تین دن ہے، تین دن اور اس کی راتیں بھئی، اور زیادہ سے زیادہ 10 دن ہے۔ تو اس یہ حدیث اس کے معارض آئی۔ اب اس حدیث کو چلایا ہی کس مقصد کے لیے گیا؟ حیض کی کم سے کم اور زیادہ سے زیادہ مدت بیان کرنے کے لیے، تو یہ اس اعتبار سے اکثرِ مدت میں یہ ہوئی عبارۃ النص، اور اوپر والی حدیث سے اشارۃ النص کے طور پر معلوم ہو رہا تھا کہ 15 دن ہے، تو تعارض آیا اشارۃ النص میں اور عبارۃ النص میں، تو ترجیح کس کو ہو گی؟ عبارۃ النص کو۔ تو یہ معارض ہے اس حدیث کے، "لأنه عبارة في هذا المعنى فرجحت على الإشارة"، کیونکہ یہ عبارت ہے اس معنی کے اندر، یعنی زیادہ سے زیادہ مدت کے اندر، "فرجحت على الإشارة"، تو یہ جو ہے راجح ہو جائے گی اشارہ، یہ راجح ہو گئی اشارہ پر، یعنی اشارۃ النص پر۔ یعنی عبارۃ النص کیا ہوا؟ راجح ہو گیا اشارۃ النص پر۔ "وللإشارة عموم كما للعبارة"، اور اشارے کے لیے بھی عموم ہوتا ہے جیسے کہ عبارت کے لیے، یعنی اشارۃ النص میں بھی اسی طرح عموم ہوتا ہے جیسے کس کے اندر ہوتا ہے؟ عبارۃ النص میں۔ بھئی کیوں؟ "لأن كلا منهما ثابت بالنص"، "بنفس"، "بالنص النظم"، اس لیے کیونکہ ان دونوں میں سے ہر ایک جو ہے نفسِ نظم کے ذریعے ثابت ہے۔ "فيحتمل أن يكون كل منهما خاصاً وأن يكون عاماً مخصوص البعض وغيره"، پس یہ احتمال رکھتا ہے کہ ان میں سے ہر ایک خاص ہو، اور یہ احتمال رکھتا ہے کہ ہر ایک ان میں سے کیا ہو؟ عام مخصوص البعض ہو یا عام غیر مخصوص البعض ہو۔ "غيره"، یہ ضمیر راجع ہے مخصوص البعض کو، "عاماً مخصوص البعض و غير مخصوص البعض" بھئی۔ عبارت سمجھ میں آ گئی؟ بھئی، دیکھیے، یہ جو عموم اور خصوص جو ہے، عام اور خاص ہونا، یہ لفظ کی صفت ہے بھئی، لفظ کو کہتے ہیں یہ عام ہے یا خاص، معنی کی صفت نہیں بھئی۔ اور یہ دونوں عبارۃ النص اور اشارۃ النص، یہ بھی کس کی قسمیں ہیں؟ نظم کی قسمیں ہیں، اور نظم کے اندر ہی تو تقسیم آپ پڑھ چکے ہیں، عام بھی ہو سکتا ہے اور خاص بھی۔ تو لہٰذا جیسے عبارۃ النص کے اندر عموم اور خصوص ہو گا، اسی طرح اشارۃ النص میں بھی عموم اور خصوص آ سکتا ہے، کیونکہ دونوں نظم کی قسمیں ہیں۔ "لأن كلا منهما ثابت بنفس النظم فيحتمل أن يكون كل منهما خاصاً وأن يكون عاماً مخصوص البعض وغيره"، پس یہ احتمال رکھتا ہے کہ ان دونوں میں سے ہر ایک خاص ہو، اور یہ بھی کہ وہ عام مخصوص البعض ہو یا غیر مخصوص البعض ہو۔ "مثال الإشارة المخصوص البعض"، مثال اس اشارے کی جو مخصوص البعض ہے، "قوله تعالى: ولا تقولوا لمن يقتل في سبيل الله أموات"، اور اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے: "وَلَا تَقُولُوا لِمَن يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتٌ"، اور تم نہ کہو ان لوگوں کو جو قتل کیے جائیں اللہ کے راستے میں "أموات"، مردہ، جو اللہ کے راستے میں قتل کیے جائیں ان کو مردہ مت کہو۔ "فإنه سيق لعلو درجات الشهداء"، پس یہ جو آیت ہے اس کو چلایا گیا ہے شہداء کے بلند درجات کو بتلانے کے لیے، "ولكنه يفهم منه إشارة أن لا يصلى عليه"، لیکن مفہوم ہوتا ہے اس سے بطورِ اشارہ کے کہ اس پر نماز نہ پڑھی جائے۔ کیوں؟ کہتے ہیں: "لأنه حي"، کیونکہ وہ کیا ہے؟ اللہ فرما رہے ہیں ان کو مردہ مت کہو، معلوم ہوا وہ زندہ ہیں، جب زندہ ہیں تو معلوم ہوا ان پر نمازِ جنازہ بھی یہ اشارۃ النص سے بات معلوم ہوئی۔ "والحي لا يصلى عليه"، اور جو زندہ ہوتا ہے اس پر نمازِ جنازہ نہیں پڑھی جاتی۔ "ثم خص منه حمزة رضي الله تعالى عنه"، پھر اس سے تخصیص کر لی گئی حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی، "فإنه صلي عليه سبعين صلاة"، اس لیے کیونکہ ان پر 70 مرتبہ نماز پڑھی گئی بھئی، 70 نمازیں پڑھی گئیں۔ "وهذا كله على رأي الشافعي رحمه الله"، اور یہ سارا امام شافعی رحمہ اللہ کی رائے پر ہے بھئی، وہ فرماتے ہیں کہ اشارۃ النص سے یہ بات ثابت ہوتی ہے، اور یہ عام ہے اور پھر اس سے کس کی تخصیص کر لی گئی؟ حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی، جو کہ ہمارے نزدیک پڑھی جائے گی بھئی شہید کی نمازِ جنازہ پڑھ پڑھی جائے گی بھئی۔ "وأما على رأينا فمثاله ما قيل"، باقی ہماری رائے پر، تو اس کی مثال وہ ہے جو کہا گیا ہے "أنه خص من عموم قوله تعالى: وعلى المولود له"، کہ تخصیص کی گئی ہے اللہ تعالیٰ کے قول کے عموم سے، کون سا اللہ تعالیٰ کا قول؟ "وَعَلَى الْمَوْلُودِ لَهُ"، الایۃ، یہ جو آیت ہے بھئی، "وَعَلَى الْمَوْلُودِ لَهُ" والی، اس آیت کے عموم سے تخصیص کی گئی ہے۔ کس چیز کی تخصیص؟ "وطء الأب جارية ولده"، باپ کا صحبت کرنا اپنے بیٹے کی باندی سے۔ باپ اپنے بیٹے کی باندی سے، بھئی دیکھیے، اوپر یہ مسئلہ ذکر ہوا تھا کہ لامِ اختصاص آیا ہے بھئی، لامِ اختصاص۔ اور لامِ اختصاص نے کیا فائدہ دیا؟ کہ بیٹے کو کیا ہونا چاہیے؟ باپ کا مملوک، لیکن بیٹے میں تو اثر ظاہر نہیں ہو گا، لیکن کس میں اثر ظاہر ہو گا؟ باپ کے بیٹے کے مال میں، اور باپ ضرورت کے وقت اسے استعمال کر سکتا ہے، کیونکہ باپ کا وہ مال باپ کا مملوک ہے، لامِ اختصاص نے بتلایا۔ لیکن اس سے تخصیص کر لی گئی بیٹے کی باندی کی، کہ باپ کے لیے اس سے صحبت کرنا جائز نہیں، ہاں اگر کرے گا تو پھر باپ پر اس کا ضمان آ جائے گا، بیٹے کو باندی کی قیمت دینا پڑے گی اسے بھئی۔ باپ اس کا مالک تو بن جائے گا باندی کا، لیکن اب کیا دینا پڑے گی اسے؟ قیمت، تو دیکھو اس نے بتلایا تھا لامِ اختصاص نے کہ ہر چیز کا مالک کون ہے؟ باپ، لیکن اس میں سے تخصیص کر لی گئی اس کی باندی کی۔ یہی بات بیان کر رہے ہیں: "أنه خص من عموم قوله تعالى: وعلى المولود له الأية"، کے تخصیص کر لی گئی اللہ تعالیٰ کے یہ جو قول ہے "وَعَلَى الْمَوْلُودِ لَهُ"، الایۃ، اس کے عموم سے تخصیص کر لی گئی "وطء الأب جارية ولده"، باپ کا صحبت کرنا اپنے بیٹے کی باندی سے، "فإنه لا يحل لها"، پس یہ جو ہے باپ کے لیے حلال نہیں ہے، جائز نہیں ہے، "حتى وجبت عليه قيمتها"، یہاں تک کہ اس پر واجب ہو جائے اس باندی کی قیمت، "على ما عرف"، بناء بر اس کے جو کہ جانا گیا ہے، یعنی فقہ کے اندر۔ "وأما الثابت بدلالة النص فما ثبت بمعنى النص"، باقی وہ جو ثابت ہو دلالۃ النص کے ذریعے، "فما ثبت بمعنى النص"، پس وہ معنی ہے جو ثابت ہوتا ہے معنیِ نص کے ذریعے، "لغة لا اجتهاداً"، باعتبار لغت کے، نہ کہ باعتبار اجتہاد کے۔ "عدل هاهنا عن طريق العبارة والإشارة"، بھئی دیکھیے، مصنف نے اپنا طریقہ بدل لیا، پہلے کہا تھا "وأما الاستدلال بعبارة النص"، پھر کہا "وأما الاستدلال بإشارة النص"، تو یہاں بھی یہی کہنا چاہیے تھا "وأما الاستدلال بدلالة النص"، لیکن یہاں وہ کہتے ہیں: "وأما الثابت بدلالة النص"، بھئی اس کو بیان کر رہے ہیں شارح۔ کہتے ہیں: "عدل هاهنا عن طريق العبارة والإشارة"، عدول کیا مصنف نے یہاں پر عبارۃ النص اور اشارۃ النص کے طریقے سے عدول کیا، یعنی اس کو چھوڑ دیا، "وكان ينبغي أن يقول: وأما الاستدلال بدلالة النص فالعمل بما ثبت"، اور مناسب یہ تھا کہ وہ یوں کہتے: "وأما الاستدلال بدلالة النص فالعمل بما ثبت"، اس طرح کی عبارت لے کر آتے۔ "لكن هذه مسامحة قديمة من فخر الإسلام"، لیکن کہتے ہیں: یہ پرانی مسامحت ہے علامہ فخر الاسلام کی، یہ ان کی پرانی مسامحت ہے، وہ اسی طرح چشم پوشی سے کام لیتے ہیں اور وسعت سے کام لیتے ہوئے کبھی کیسی عبارت لے آتے ہیں اور کبھی کیسی عبارت۔ "حيث يذكر تارة الاستدلال أو الوقوف"، اس حیثیت سے کہ وہ علامہ فخر الاسلام وہ ذکر کرتے ہیں کبھی کبھار کیا ذکر کرتے ہیں؟ "الاستدلال أو الوقوف"، استدلال اور وقوف یعنی واقف ہونا، وقوف کا کیا معنی؟ واقف ہونا، وہی استدلال بھئی، واقف استدلال میں کیا ہوتا ہے؟ مجتہد حکم پر مطلع ہوتا ہے، حکم نکالتا ہے، وہی وقوف ہے واقف ہونا۔ کہ کبھی کبھار تو وہ استدلال اور وقوف کو ذکر کرتے ہیں، "وهو فعل المجتهد"، اور یہ کس کا فعل ہوتا ہے؟ استدلال اور واقف ہونا یہ تو مجتہد کا فعل ہے۔ "وتارة العبارة والإشارة"، اور کبھی کبھار وہ عبارت اور اشارہ کو ذکر کرتے ہیں، استدلال کو ساتھ ذکر کرتے ہی نہیں۔ بلکہ براہِ راست کس کو ذکر کر دیتے ہیں؟ عبارۃ النص کو اور اشارۃ النص کو، "وهو من أقسام النظم"، اور یہ کس میں سے ہیں؟ نظم کی اقسام میں سے، "حقيقة"، باعتبار حقیقت کے، یہ حقیقتاً نظم کی اقسام ہیں۔ "وتارة الثابت بالعبارة والإشارة"، اور کبھی کبھار "الثابت بالعبارة والإشارة"، وہ کیا ذکر کرتے ہیں؟ وہ جو ثابت ہے عبارۃ النص سے، وہ جو ثابت ہے جیسے ابھی اس متن میں کہا "وأما الثابت بدلالة النص"، دیکھو کیا لفظ لے آئے؟ ثابت۔ بھئی، عبارۃ النص سے کیا ثابت ہے؟ حکم۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ کبھی استدلال ذکر کر دیتے ہیں، استدلال وہ مجتہد کا وصف ہے۔ کبھی براہِ راست عبارۃ النص، اشارۃ النص کو ذکر کر دیتے ہیں اور وہ نظم کی قسمیں ہیں، اور کبھی کبھار وہ "الثابت بإشارة النص" وغیرہ کہہ دیتے ہیں، اور "الثابت بإشارة النص" یا "الثابت بعبارة النص"، یہ تو کیا ہے؟ یہ تو حکم ہے، تو یہ تین طرح کی عبارتیں لاتے ہیں بھئی، تینوں الگ چیزیں ہیں، لیکن کہتے ہیں: کوئی حرج نہیں بھئی، جب مقصد واضح ہے تو عبارت کے اس طرح لانے میں اور وسعت سے کام لینے میں کوئی حرج نہیں۔ تو کہتے ہیں: "وتارة الثابت بالعبارة والإشارة"، اور کبھی کبھار وہ لے کر آتے ہیں "الثابت بالعبارة والإشارة وهو من صفات الحكم"، اور یہ کس کی صفات میں سے ہے "الثابت بالعبارة"؟ یہ حکم کی صفات میں سے ہے، "ولا ضير فيه"، اور اس میں کوئی حرج نہیں ہے "بعد وضوح المقصود"، بعد جبکہ مقصد واضح ہے۔ "وعلى كل تقدير خرجت من قوله: بمعنى النص"، اور ہر تقدیر پر بھئی نکل گیا مصنف کے قول "بمعنى النص"، جب مصنف نے کہا نا، کیا کہا متن میں؟ "فما ثبت بمعنى النص"، پیچھے کیا آیا تھا؟ "فما ثبت بنظمه"، آیا تھا اشارۃ النص میں بھئی، اور اس سے پیچھے کیا آیا تھا؟ "ما سيق الكلام له"، تو کلام اور نظم کی قید وہاں ذکر کی تھی، یہاں معنی کی قید، تو جب معنی کے ذریعے کی قید لگا دی، تو عبارۃ النص بھی خارج اور اشارۃ النص بھی خارج ہوئے بھئی۔ تو کہتے ہیں: "وعلى كل تقدير خرجت من قوله بمعنى النص"، نکل گئے مصنف کے قول "بمعنى النص" کے ذریعے، "العبارة والإشارة"، عبارۃ النص بھی نکل گیا، اشارۃ النص بھی۔ "وليس المراد به معناه اللغوي الموضوع له بل معناه الالتزامي"، اور اس کے ذریعے "معناه اللغوي الموضوع له"، وہ معنیِ لغوی جس کے لیے اس لفظ کو وضع کیا گیا ہے، وہ مراد نہیں ہے، بلکہ معنیِ التزامی مراد ہے، "كالإيلام من التأفيف"، جیسے کہ ایلام، تکلیف دینا "من التأفيف"، اف کہنے سے۔ بھئی، قرآن میں اللہ کیا فرماتے ہیں: "فَلَا تَقُل لَّهُمَا أُفٍّ"۔ لغوی معنی تو کیا ہے اس کلام کا؟ والدین کو اف نہ کہو، یہ لغوی معنی ہے۔ لیکن لغوی معنی نہیں مراد، بلکہ کون سا معنی مراد ہے؟ التزامی، یعنی جو اس کے ساتھ لازم ہے۔ کیا لازم ہے؟ اف کہیں گے تو والدین کو کیا ہو گی؟ تکلیف ہو گی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو وہ تکلیف جو ہے، تکلیف، اف کہنے سے روکنے روکا گیا ہے، کیونکہ اف کہنے سے کیا ہو گی والدین کو؟ تکلیف، تو یہ جو تافیف ہے، تافیف کا معنی ہے اف کہنا، اس اف کہنے سے کون سا معنی سمجھ میں آیا؟ تکلیف دینے والا معنی سمجھ میں آیا، یہ اس کے ساتھ لازم ہے، جب اف کہیں گے، تو اف تو ہے ہی جب انسان کسی سے تنگ آتا ہے تب کہتا ہے نا اف! تو لہٰذا اس میں ت، تو اس میں کیا ہے ان کی؟ تکلیف، تو اف کہنے کے ساتھ کیا لازم ہے؟ ان کو تکلیف دینا، تو یہ جو معنیِ التزامی ہے، اس سے آگے جو بات معلوم ہو گی وہ ہے دلالۃ النص، وہ کیا ہے؟ دلالۃ النص۔ قرآن میں تو آیا والدین کو اف نہ کہو، یہ لغوی معنی ہے، والدین کو اف بھی نہ کہو۔ اس سے التزاماً کیا بات معلوم ہوئی؟ کہ ان کو تکلیف نہ دو، اس سے التزاماً ایک اس کے سے ایک اور بات معلوم ہوئی کہ جب اف کہنے سے روکا گیا کیوں؟ کیوں روکا گیا؟ کہ اس سے ان کو تکلیف ہوتی ہے، جب اس ادنیٰ درجے کی تکلیف سے روکا گیا ہے اور یہ حرام ہے، یہ اف کہنا، تو اس سے اعلیٰ درجے کی تکلیف بطریقِ اولیٰ حرام ہے بھئی۔ معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ تو کہتے ہیں: یہ "بل كالإيلام من التأفيف"، یعنی جیسے کہ تکلیف دینے کا معنی تافیف سے، جیسے وہ معلوم ہوا، وہ معنیِ التزامی۔ تو تافیف کیا ہوا؟ اف کہنا، معنیِ لغوی، اور ایلام کیا ہے؟ معنیِ التزامی۔ "وقوله لغة تمييز عن معنى النص"، اور "لغة" جو ہے یہ تمیز ہے "معنى النص" سے۔ نص کا معنی کس اعتبار سے؟ لغت کے اعتبار سے۔ "ويخرج به الاقتضاء والمحذوف"، اور اس کے ذریعے اقتضاء اور محذوف خارج ہوئے۔ وہ معنی جو نص سے معلوم ہو رہا ہے باعتبار لغت کے، باعتبار لغت کے۔ بھئی، عربی زبان جاننے والا کوئی بھی شخص جب اس کلام کو سنے گا، خود بخود سمجھ جائے گا کہ والدین کو تکلیف دینا جائز نہیں، نہیں، والدین کو تکلیف دینا جائز ہے، اور جب اف کہنے سے بھی منع کیا گیا ہے تو پٹائی اور گالی دینے سے بطریقِ اولیٰ منع کیا گیا ہے۔ یہ ہر عربی زبان جاننے والا اس سے سمجھ جائے گا، اس میں کسی قسم کی اجتہاد کی ضرورت نہیں، بعض معنی ہیں ان پر تو صرف مجتہد مطلع ہوتا ہے، لیکن کہتے ہیں: یہ جو دلالۃ النص ہے، ہر عربی زبان جاننے والا اس پر مطلع ہو جاتا ہے، آپ بھی مطلع ہو گئے اس پر بھئی کہ بھئی، جب ادنیٰ درجے کی تکلیف سے روکا گیا تو ظاہر سی بات ہے، اعلیٰ درجے کی تکلیف سے بطریقِ اولیٰ روکا گیا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ جیسے اس کے اندر پڑھا بھئی، چور کیا چوری کرنے والے مرد اور عورت کا ہاتھ کاٹ دو، قرآن میں اللہ فرماتے ہیں، تو اب ایک جیب کترا ہے، چور تو غفلت کی حالت میں مال لے جاتا ہے، جب انسان سویا ہوتا ہے، اور جیب کترا تو بیداری کی حالت میں مال لے جاتا ہے، تو یہ جرم اس سے بڑا ہوا، تو چور کا جرم جب چھوٹا ہے اس کے لیے ہاتھ کاٹنے کی سزا ہے، تو اس سے خود بخود آپ کو پتہ چل گیا کہ جب ادنیٰ جرم والے کی ہاتھ کاٹا جائے گا، تو بڑے جرم والے کا بطریقِ اولیٰ ہاتھ کاٹا جائے گا، یہ کیا ہے؟ دلالۃ النص کے طریقے پر بھئی۔ تو کہتے ہیں: یہ جو "لغة" ہے، یہ تمیز ہے "معنى النص" سے، "ويخرج به الاقتضاء والمحذوف"، اور اس کے ذریعے اقتضاء اور محذوف خارج ہوئے۔ اقتضاء بھئی، جس کا پتہ کس سے چلتا ہے؟ شریعت بتلاتی ہے، آپ نے کہا تھا: "أَعْتِقْ عَبْدَكَ عَنِّي بِأَلْفٍ"، آپ کے اس کلام کے نے اپنے صحیح ہونے کے لیے تقاضا کیا کہ مجھ سے پہلے کیا مان لو؟ بیع بھی اور توکیل بھی، بیع و توکیل وہ مقتضىٰ ہوئے، لیکن یہ کس نے بتلایا؟ شریعت نے بتلایا کہ یہ چیزیں ماننا پڑیں گی، پھر آپ کا یہ کلام صحیح ہو جائے گا، اس پر عمل ہو سکے گا، اگر یہ چیزیں نہ مانی جائیں تو پھر یہ غلام آپ کی طرف سے آزاد بھی نہیں ہو سکتا، بیع کو بھی ماننا پڑے گا اور توکیل، یعنی وکیل بنانے کو بھی ماننا پڑے گا۔ تو اس یہ جو اقتضاء النص ہے، اس کا پتہ شریعت سے چلتا ہے۔ اسی طرح آپ عبارت میں کبھی محذوف وغیرہ نکالتے ہیں، اس کا پتہ عقل سے چلتا ہے، اور انہوں نے اوپر قید کون سی لگائی متن میں؟ پتہ کس سے چلے؟ لغت، عربی زبان کے اعتبار سے علم ہوتا ہو، تو لہٰذا جب زبان کی قید لگا دی، تو اقتضاء النص بھی خارج اور محذوف جو آپ نکالتے ہیں وہ بھی اس سے کیا ہوا؟ خارج، کیونکہ ان کا پتہ زبان کے اعتبار سے نہیں، کسی عرب کو پتہ نہیں ہو گا کہ آپ مثلاً کہتے ہیں کہ "زيد في الدار"، أي "زيد ثابت في الدار"، یہ آپ محذوف نکالتے ہیں بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ کسی جس نے جس عرب نے نحو نہیں پڑھی، اگرچہ وہ پوری عربی زبان اس کی مادری زبان ہے، لیکن اس کو ان چیزوں کا پتہ نہیں ہو گا بھئی۔ تو لہٰذا اقتضاء النص اس کا پتہ شریعت سے چلتا ہے، محذوف کا پتہ عقل سے چلتا ہے، تو لہٰذا انہوں نے تو قید لگا دی کہ لغت عربی زبان کے اعتبار سے اس کا پتہ چلتا ہو، تو لہٰذا اقتضاء اور محذوف خارج ہوئے، "لأنهما ثابتان شرعاً أو عقلاً"، اس لیے کیونکہ وہ ثابت ہیں باعتبار شریعت یا باعتبار عقل کے۔ "وقوله لا اجتهاداً تأكيد لقوله لغة"، اور اوپر ماتن نے متن میں جو قید بڑھائی "لا اجتهاداً"، کہ وہ باعتبار لغت کے معلوم ہو، اجتہاد کے طور پر اجتہاد کے طور پر معلوم نہ ہو، کہتے ہیں: "تأكيد لقوله لغة"، یہ بھی اسی "لغة" کے تاکید ہے بھئی، کیونکہ "لغة" کی جب قید لگا دی، معلوم ہوا وہ عربی زبان کے اعتبار سے اس کا علم ہوتا ہے، اجتہاد کے اعتبار سے علم نہیں ہوتا، اسی میں تاکید آ گئی۔ "وفيه رد على من زعم أن دلالة النص هو القياس ولكنه خفي والدلالة جلي"، اور اس کے اندر رد ہے ان پر جنہوں نے یہ گمان کیا کہ "أن دلالة النص هو القياس"، کہ دلالۃ النص وہ بھی قیاس ہے، "ولكنه خفي والدلالة جلي"، بعض علماء کہتے ہیں کہ دلالۃ النص وہ بھی قیاس ہے، لیکن قیاس یہ ہے بس خفی ہوتا ہے اور دلالۃ النص جلی ہے، ظاہر ہے بھئی، ہے یہ بھی قیاس، یہ بھی کیا ہے؟ قیاس ہے۔ مجتہد اجتہاد کے ذریعے ایک چیز کی علت نکالتا ہے، اگر یہ قیاس جو کر رہا ہے وہ خفی ہے تو اس کو قیاس کہیں گے، اگر یہی قیاس ظاہر ہو تو اس کو کیا کہیں گے؟ دلالۃ النص بھئی۔ کہتے ہیں کہ یہ جو اوپر ماتن نے قید لگائی "لا اجتهاداً"، اس کے ذریعے ان کا رد ہو گیا بھئی، کیونکہ اگر قیاس اس کو قرار دیا جائے، تو قیاس تو کس کا کام ہے؟ مجتہد کا کام ہے، تو انہوں نے کہہ دیا لغت کے اعتبار سے اس کا پتہ چلتا ہے، اجتہاد کے اعتبار سے پتہ، اجتہاد کی نہیں اس میں ضرورت بھئی۔ تو کہتے ہیں: "وفيه رد على من زعم"، اس میں رد ہے ان پر جو انہوں نے یہ گمان کیا "أن دلالة النص هو القياس ولكنه خفي والدلالة جلي"، کہ دلالۃ النص وہ بھی قیاس ہے، لیکن وہ خفی ہے "والدلالة جلي"، "والدلالة جلي"، "دلالة النص" پر عطف کر لیں۔ اور دلالت جو ہے وہ جلی ہے۔ "وكيف يكون هذا"، اور یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ دلالۃ النص بھی کیا ہو؟ قیاس ہو، یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ "والقياس ظني لا يقف عليه إلا المجتهد"، حال یہ ہے کہ قیاس جو ہے وہ ظنی ہے، اس پر واقف نہیں ہوتا مگر مجتہد ہی، "والدلالة قطعية يعرفها كل من كان من أهل اللسان"، اور دلالۃ النص جو ہے، دلالت جو ہے وہ قطعی ہے، اس کو جان لیتا ہے ہر وہ شخص جو اہل زبان ہو، "وأيضاً كانت هي مشروعة قبل شرع القياس"، اور نیز یہ جو ہے یہ دلالۃ النص دلالت جو ہے، یہ مشروع ہے قیاس کے مشروع ہونے سے پہلے ہی، "ولا ينكرها منكر القياس"، اور نیز اس دلالت کا انکار منکرینِ قیاس بھی نہیں کرتے۔ چار فرق بتلا دیے بھئی، بعض علماء نے کیا کہا کہا تھا کہ دلالۃ النص وہ بھی قیاس ہے، لیکن یہ قیاس کون سا ہے؟ قیاسِ جلی ہے، باقی قیاس جو ہیں وہ قیاسِ خفی اور دلالت قیاسِ جلی۔ ماتن نے رد کر دیا "لا اجتهاداً" کی قید لگا کر کہ وہ معنی لغت کے اعتبار سے معلوم ہوتے ہیں، اجتہاد کے اعتبار سے نہیں، اگر اس کو بھی قیاس قرار دیا جائے تو قیاس پر تو صرف کون مطلع ہوتا ہے؟ مجتہد مطلع ہوتا ہے، تو یہ اجتہاداً معلوم نہیں ہوتا، بلکہ لغتاً یہ معنی معلوم ہوتا ہے، اور چار فرق بیان کر دیے دلالۃ النص اور قیاس میں: پہلا: کہ قیاس ظنی ہے، دلالۃ النص قطعی ہے۔ دوسرا فرق: قیاس پر صرف مجتہد مطلع ہوتا ہے، جبکہ دلالۃ النص پر ہر اہل زبان اس پر مطلع ہو جاتا ہے۔ تیسری بات یہ ذکر کی کہ دلالۃ النص وہ قیاس اس کا مش، اس کی مشروعیت قیاس کی مشروعیت سے پہلے ہے بھئی، وہ اس پر مقدم ہے۔ اور چوتھی بات کہ قیاس اس کا تو بعض لوگوں نے انکار بھی کیا ہے، لیکن دلالۃ النص کا کسی نے بھی انکار نہیں کیا بھئی۔ چلیے بس بھئی، "هذا هو المرام، والله أعلم بحقيقة الكلام"۔