فصلٌ العزيمةُ هي القصدُ إذا كان في نهاية الوكادة، ولهذا قلنا إن العزم على الوطء عودٌ في باب الظهار لأنه كالموجود، فجاز أن يعتبر موجودًا عند قيام الدلالة، ولهذا لو قال أعزم يكون حالفًا، وفي الشرع عبارةٌ عما لزمنا من الأحكام ابتداءً سميت عزيمةً لأنها في غاية الوكادة. اس فصل میں مصنف عزیمت اور رخصت کے بارے میں بتلائیں گے بھئی۔ عزیمت اور رخصت کے بارے بارے میں بتلائیں گے بھئی، آسان بحث ہے دیکھیے۔ کہتے ہیں "العزيمة هي القصد" عزیمت کسے کہتے ہیں؟ ارادے کو کہتے ہیں "إذا كان في نهاية الوكادة" جبکہ یہ تاکید میں انتہا کو پہنچا ہوا ہو۔ جبکہ یہ تاکید میں کس کو "وکادت" مصدر ہے مولانا، تاکید سے، تاکید کا مادہ کیا ہے؟ "وکد" واؤ، قاف، دال۔ سمجھ میں آئی بات بھئی؟ تو یہ اس پختہ وہ ارادہ جو انتہائی پختگی میں انتہا کو پہنچا ہوا ہو بھئی۔ بڑا پختہ، پکا ارادہ، نہ ٹلنے والا، اسے اعظم کہتے ہیں، عزیمت کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ اعظم کہتے ہیں، عزیمت۔ "ولهذا قلنا" اور اسی بنا پر "إن العزم على الوطء عودٌ في باب الظهار لأنه كالموجود" تو دیکھا بھئی، اعظم کس کو کہا؟ ایسا ارادہ جو پختگی کی انتہا کو پہنچا ہوا ہو، یعنی بڑا ہی پکا ارادہ جس میں اب ٹلنے کی گنجائش نہیں ہے۔ جی، ٹلنے، جسے عزیمت کہتے ہیں۔ اور اسی بنا پر کہ اعظم ایسے پختہ ارادے کو کہتے ہیں کہ جو اپنی انتہا کو پہنچا ہوا ہوتا ہے، تو جب کوئی شخص کسی فعل کا اعظم کر لے، پختہ ارادہ کر لے، تو یہ اسی طرح سمجھا جائے گا کہ گویا کیا کر لیا ہے؟ فعل ہی پایا گیا ہے۔ فعل ہی پایا گیا ہے، فعل ہی پایا گیا ہے۔ صورت اس نے کیا تو پختہ ارادہ ہے، فعل تو ابھی پایا نہیں گیا لیکن یہ ارادہ اتنا پختہ ہے گویا کہ فعل ہی موجود ہے۔ تو اب دیکھیے آپ نے ظہار کے بارے میں پڑھا ہے بھئی۔ جی، کیا کر لے کوئی شخص اپنی بیوی کو تشبیہ دے دے کس کے ساتھ؟ محرم عورتوں کے ساتھ بھئی۔ مثلاً بیوی سے کہہ دیتا ہے "أنت علي كظهر أمي" تو مجھ پر اسی طرح ہے جیسے میری ماں کی پشت، تو یہ ظہار کہلاتا ہے اور ظہار کا کفارہ آپ نے پڑھا ہے بھئی۔ کیا پڑھا ہے بھئی؟ کہ رقبہ آزاد کرنی پڑے گی یا پھر 60 روزے رکھنا پڑیں گے مسلسل، اگر وہ بھی نہ ہو تو 60 مسکینوں کو کھانا کھلانا پڑے گا۔ یہ ہے کفارہ۔ تو اب کوئی شخص ظہار کر لیتا ہے تو بیوی اس پر حرام ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جب تک یہ کفارہ نہیں دے دیتا۔ اب اگر وہ بیوی کے پاس دوبارہ واپس جانا چاہتا ہے، اپنے کہے ہوئے کی تلافی کرنا چاہتا ہے، تو اس کا کیا طریقہ ہے؟ کفارہ دے دے، کیا دے دے؟ کفارہ دے دے۔ اب ایک شخص ہے تو لہذا اگر بیوی کے پاس وہ واپس چلا گیا تو کفارہ اس پہ واجب ہو گیا۔ پہلے کیا دینا چاہیے؟ کفارہ، پھر جانا چاہیے، لیکن اگر پہلے چلا گیا، گناہ تو ہوا لیکن اب کفارہ اس پر کیا ہو چکا ہے؟ واجب ہو چکا ہے۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو اب اگر کوئی شخص ظہار کر لیتا ہے اور اس کے بعد بیوی کے پاس جانے کا پختہ ارادہ کر لیتا ہے، تو یہ پختہ ارادہ اعظم بھی کس کی طرح ہے؟ گویا کہ فعل ہی پایا گیا، گویا کہ وطی حقیقتاً ہی پائی گئی۔ وطی کیا ہے گویا؟ تو لہذا اس پر کفارہ واجب ہو جائے گا بھئی، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو انہوں نے کہا کہ اعظم چونکہ اس پختہ ارادے کو کہتے ہیں جو انتہا کو پہنچا ہوا ہوتا ہے پختگی میں، اسی بنا پر "قلنا" ہم کہتے ہیں "إن العزم على الوطء" اعظم، پختہ اعظم کر لینا وطی پر "عودٌ في باب الظهار" یہ لوٹنا ہے کس کے اندر؟ بابِ ظہار کے اندر، گویا وہ لوٹ رہا ہے۔ "لأنه كالموجود" اس لیے کہ وہ اعظم کس کی طرح ہے؟ موجود چیز ہی کی طرح ہے۔ "فجاز أن يعتبر موجودًا" پس جائز ہے کہ اس کا اعتبار بھی کیا جائے اس طور پر کہ وہ موجود ہے "عند قيام الدلالة" جبکہ اس پر دلیل بھی قائم ہو۔ کیا ہو؟ دلیل بھی قائم ہے کہ کیا کر لیا ہے؟ میں نے بڑا پختہ ارادہ کر لیا ہے، تو گویا وہ فعل ہی پایا گیا اور جب فعل ہی پایا گیا اب تو کفارہ اس پر کیا ہو گیا؟ واجب۔ صورت، تو بیوی حرام تھی، نہیں جانا چاہتا تو پھر ٹھیک ہے بھئی، نہیں جاتا، بیوی حرام ہی رہے گی، لیکن اگر تلافی کرنا چاہتا ہے تو پھر تو کیا کرنا پڑے گا؟ کفارہ۔ تو اگر پختہ اعظم بھی کر لیا تو گویا اس نے بیوی کے پاس چلا ہی گیا اور اب تو کفارے کے ختم ہونے کی کوئی صورت نہیں، اب تو کفارہ اس پر آ گیا بھئی۔ تو لہذا اعظم کی صورت میں بھی کفارہ اس پر واجب ہو جائے گا، صورت سمجھ میں آئی؟ "ولهذا لو قال" اور اسی طرح اگر کہا کسی شخص نے "أعزم" میں پختہ اعظم کرتا ہوں، پختہ ارادہ کرتا ہوں "يكون حالفًا" تو یہ قسم اٹھانے والا ہو گا۔ بھئی ایک آدمی کہتا ہے "أعزم على أن لا أشرب ماءً" میں پختہ ارادہ کرتا ہوں اس بات کا کہ میں پانی نہیں پیوں گا، تو بھئی یہ قسم کھانے والا شمار ہو گا۔ اب اگر اس نے پانی پی لیا تو کیا ہو جائے گا؟ حانث۔ اگرچہ اس نے قسم نہیں اٹھائی، اس نے تو کہا ہے "أعزم" بھئی، میں کیا کرتا ہوں؟ پختہ ارادہ کرتا ہوں "على أن لا أشرب الماء" اس بات کا کہ میں پانی نہیں پیوں گا۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو اب پانی پی لے تو قسم ہے تو نہیں، لیکن اعظم جو ہے پختہ ارادہ جیسے قسم کس لیے لائی جاتی ہے؟ بات کو پختہ کرنے کے لیے، تو یہاں بھی جب پختہ ارادہ ہے، یہ بھی کس کی طرح ہو گیا؟ قسم کی طرح، تو اب یہ قسم کھانے والا شمار ہو گا اور اگر وہ فعل جس سے اس نے رکنے کا ارادہ کیا تھا وہ کر لیتا ہے تو حانث شمار ہو گا اور اسے کفارۂ قسم دینا پڑے گا۔ "ولهذا لو قال أعزم يكون حالفًا، وفي الشرع عبارةٌ عما لزمنا من الأحكام ابتداءً" اور شریعت میں وہ عبارت ہے عما، ان احکام سے "لزمنا" جو ہم پر لازم ہوئے، "من" بیان ہے بھئی، دیکھا "عما"، "ما" کس چیز سے عبارت ہے؟ احکام سے، "من" بیان ہے، یعنی کہ وہ احکام، یعنی کہ احکام تو لازم ہوئے ہم پر "ابتداءً" بھئی، کس طرح؟ ابتدائً، یعنی بغیر عذر کے، بھئی دیکھو بھئی۔ احکام ہم پر جو واجب ہوتے ہیں ابتدائً کہ ان کو جیسے واجب ہوئے اسی طرح ادا کیا جائے، مثلاً روزہ ہے بھئی، ابتدائً ہم پر کیسا آیا ہے؟ رمضان میں کیا کرنا پڑے گا؟ روزہ رکھنا ہی پڑے گا، واجب ہے، فرض ہے، یہ کیا ہے؟ عزیمت۔ اور دوسرا کہ، یعنی ابتدائً کا معنیٰ یہ ہے بغیر عذر کے، بغیر جیسے شریعت نے واجب کیا اسی طرح اس کو ادا کیا جائے۔ اور رخصت یہ ہے کہ کوئی عذر پیش آ جائے، جیسے مسافر ہے بھئی، وہ اب سفر پر چلا گیا تو شریعت نے اس کو رخصت دے دی، روزہ رکھنا چاہو تو رکھ لو، نہیں رکھنا چاہتے تو نہ رکھو، تو یہ ہے رخصت بھئی، یہ کیا کہلاتی ہے؟ اور عزیمت کیا کہلاتی ہے؟ کہ ابتدائً جیسے بغیر عذر کے شریعت نے حکم ہم پر لازم کیا تھا اس کو کیا کہتے ہیں؟ عزیمت کہتے ہیں، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو کہتے ہیں "وفي الشرع عزیمت" شریعت کے اندر "عبارةٌ عما لزمنا من الأحكام" یہ عبارت ہے اس چیز سے جو ہم پر لازم ہوئی من الاحکام، یعنی کہ احکام اور کیسے لازم ہوئی بھئی؟ ابتدائً بھئی، بغیر کسی عذر کے۔ جی۔ "سميت عزيمةً" اس کو عزیمت کہتے ہیں "لأنها في غاية الوكادة" اس لیے کہ یہ پختگی میں انتہا کو پہنچی ہوئی ہوتی ہے۔ عزیمت کو عزیمت کیوں کہتے ہیں؟ یہ احکام پختگی میں انتہا کو پہنچے ہوئے ہیں بھئی، روزہ ہے عام حالت میں ٹل سکتا ہے کسی سے؟ عام حالت میں نہیں ٹل سکتا، اس پر فرض ہے، ہر حال میں رمضان کا روزہ رکھنا پڑے گا، تو یہ ان کو عزیمت اسی لیے کہتے ہیں کہ یہ پختگی میں انتہا کو پہنچے ہوئے ہوتے ہیں "لوكادة سببها" بموجب ان کے سبب کے پختہ ہونے کے، چونکہ ان کا سبب بھی انتہائی پختہ ہے اور لہذا حکم بھی کیا ہوا؟ پختہ۔ سبب کیا ہے؟ خود بتلا رہے ہیں "وهو كون الآمر مفترض الطاعة" وہ آمر کا اطاعت کو فرض کرنے والا ہونا ہے۔ آمر کون ہے بھئی؟ اللہ تعالیٰ، وہ کیا ہیں؟ ان کی اطاعت فرض ہیں، تو آمر کا اطاعت فرض کرنے والا ہونا یہ سبب ہے، تو لہذا آج جو حکم دیا اس پر عمل بھی کیا ہو گا؟ فرض ہو گا، چونکہ تو یہ سبب انتہائی پختہ، لہذا اس پر عمل بھی پختہ ہو گا، ٹل نہیں سکتا۔ جی، احکام بھی بڑے پختہ ہوں گے۔ "وهو كون الآمر مفترض الطاعة" اور وہ اس کے آمر کا اطاعت کو فرض کرنے والا ہونا ہے "بحكم أنه إلهنا" اس حکم سے کہ وہ کیا ہے؟ ہمارا معبود ہے، اس کی اطاعت فرض ہے "ونحن عبيده" اور ہم کیا ہیں؟ اس کے بندے ہیں، تو سبب ہے آمر کا اطاعت کو فرض کرنے والا ہونا، کیونکہ وہ ہمارا معبود ہے اور معبود ہونے کی وجہ سے اب اس کی اطاعت ہم پر فرض ہے، جب فرض ہے تو اس کے احکام تو اس نے جب حکم دیا تو وہ حکم بھی کیا ہو گا؟ بڑا ہی پختہ ہو گا۔ "وأقسام العزيمة ما ذكرنا من الفرض والواجب" عزیمت کی اقسام جو ہیں "ما" وہ ہیں "ذكرنا" جو ہم نے ذکر کیں، بھئی وہ کیا ہیں؟ "من" بیان ہے، یعنی کہ فرض اور واجب بھئی، عزیمت کی اقسام کیا ہیں؟ فرض اور واجب ہیں، فرض بھی دیکھو ٹلتا نہیں ادا جب تک نہیں کرو گے، واجب بھی ٹلتا نہیں جب تک ادا نہیں کرو گے، ابتدائً بھئی ابتدائً۔ اچھا، اس پر اشکال ہوتا ہے، حرام چیز، حرام کو چھوڑنا یہ بھی تو ضروری ہے، عزیمت ہے، اس کو تو ذکر ہی نہیں کیا مصنف نے۔ اور مکروہِ تحریمی ہے اس کو چھوڑنا یہ بھی تو ضروری ہے، عزیمت ہے، صورت سمجھ میں آئی؟ مثلاً دیکھو بھئی، مردار کا کھانا عام حالات میں حرام ہے، لیکن اگر کوئی شدید بھوک میں ہو یہاں تک کہ اسے یقین ہے کہ اگر اب میں نے یہ مردار نہ کھایا اور تو پھر میں مر جاؤں گا، تو اس کے لیے شریعت نے گنجائش دے دی، رخصت دے دی، تو عزیمت کیا تھی؟ اس مردار کو چھوڑنا، نہ کھانا، صورت سمجھ میں آئی؟ تو حرام کو چھوڑنا بھی تو عزیمت ہے، اسی طرح مکروہِ تحریمی کو چھوڑنا بھی تو عزیمت ہے، جبکہ مصنف نے فرض اور واجب کو صرف ذکر کیا بھئی، تو جواب یہ بھئی کہ حرام جو ہے، حرام کو چھوڑنا یہ فرض میں داخل ہے اور مکروہِ تحریمی کو چھوڑنا یہ واجب میں داخل ہے۔ دیکھو حرام اس چیز کو کہتے ہیں جس کی حرمت دلیلِ قطعی سے ثابت ہو۔ جس کی حرمت کیا ہو؟ دیکھو پہلے فرض اور واجب، فرض آپ نے پڑھا ہے جو کس سے ثابت ہو گا؟ دلیلِ قطعی سے اور واجب کس سے ثابت ہو گا؟ وہ دلیلِ ظنی سے بھئی، دلیلِ قطعی سے نہیں بھئی، دلیلِ قطعی سے جو ثابت ہو گا وہ فرض اور دلیلِ ظنی سے جو ثابت ہو گا وہ واجب ہو گا، تو فرض سے کچھ کم درجے کا۔ اب اسی طرح یاد رکھو، جو چیز حرام ہوتی ہے وہ اس وجہ سے حرام ہے کہ اس کی حرمت دلیلِ قطعی سے ثابت ہے اور اسی طرح اگر کوئی چیز کو اس سے منع کیا گیا ہو لیکن اس کی حرمت دلیلِ قطعی سے نہیں ثابت بلکہ کس سے ثابت ہے؟ دلیلِ ظنی سے ثابت ہے تو وہ کیا کہلائے گا؟ مکروہِ تحریمی کہلائے گا۔ تو قطعی دلیل سے حرمت ثابت ہوئی تو کیا کہلاتا ہے؟ حرام اور ظنی دلیل سے حرمت ثابت ہوئی تو کیا کہلاتا ہے؟ مکروہِ تحریمی کہلاتا ہے۔ تو کہتے ہیں بھئی حرام کو چھوڑنا فرض ہے، حرام کو چھوڑنا یہ فرض میں داخل ہو گیا اور مکروہِ تحریمی کو چھوڑنا اس کو ترک کرنا یہ کیا ہے؟ واجب ہے، تو یہ کس میں داخل ہو گیا؟ واجب میں، اس لیے حرام اور مکروہِ تحریمی کو الگ ذکر نہیں کیا کہ ان کو یہ فرض اور واجب میں۔ پھر اس پر اشکال ہوتا ہے کہ سنت اور نوافل بھی تو عزیمت میں داخل ہیں، کیونکہ وہ بھی ابتدائً ہی ہم پر آئے ہیں۔ کیسے آئے ہیں؟ ابتدائً، عام حالات میں کیا کرنا چاہیے؟ سنتوں پر عمل ہو اور نفل کا بھی ہمیں حکم دیا گیا ہے، نوافل پر۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو جواب یہ بھئی کہ یہاں پر اس میں علماء کے دو دو گروہ ہیں، بعض علماء فرماتے ہیں کہ سنتیں اور نوافل عزیمت میں سے ہیں، کس میں سے ہیں؟ عزیمت میں سے ہیں اور بعض علماء فرماتے ہیں کہ سنتیں اور نوافل عزیمت میں سے نہیں ہیں بھئی، اس لیے کہ ان کو تو صرف یہ تو واجب فرائض واجبات وغیرہ کی تکمیل کرتی ہیں بھئی، سنت اور نوافل کے ذریعے تو ان کی تکمیل ہوتی ہے، کوئی کمی ہوئی ہو تو اس سے وہ کمی پوری ہو جاتی ہے، تو علماء کے دو گروہ ہوئے، بعض کے نزدیک سنتیں اور نوافل عزیمت میں سے ہیں، بعض کے نزدیک عزیمت میں سے، تو مصنف کا بھی یہی مذہب معلوم ہوتا ہے کہ یہ سنتیں اور نوافل عزیمت میں سے نہیں ان کے نزدیک، یہ اس مذہب پر ہیں جن کے نزدیک سنتیں اور نوافل عزیمت میں سے نہیں، اسی لیے انہوں نے تعریف میں کہا "عما لزمنا"، "عما لزمنا" جو ہم پر لازم ہو جائیں اور سنت اور نوافل تو ہم پر لازم نہیں ہیں، لازم نہیں۔ "وأما الرخصة فعبارة" رخصت جو ہے "فعبارة عن اليسر والسهولة" یہ عبارت ہے کس سے بھئی؟ آسانی اور سہولت سے، آسانی، لغت میں کسے کہتے ہیں رخصت بھئی؟ آسانی اور سہولت کو کہتے ہیں۔ "وفي الشرع" اور شریعت میں "صرف الأمر" امر حکم کو پھیرنا ہے "من عسر إلى يسر" کس سے طرف؟ تنگی سے آسانی کی طرف "بواسطة عذر" کس کے واسطے سے؟ عذر کے واسطے سے "في المكلف" کس کے اندر؟ یہ عذر کس میں ہو گا؟ مکلف میں ہو گا۔ تو دیکھو بھئی، حکم تو تھا روزہ کے درمیان، رمضان کے مہینے میں روزے رکھے جائیں لیکن سفر ایک عذر، ایسا عذر پیش آ گیا جس کی وجہ سے شریعت نے حکم کو پھیر دیا، تنگی سے آسانی کی طرف، کیا آسانی کا حکم کیا آ گیا؟ کہ رکھو یا نہ رکھو، تو یہ کس کی وجہ سے آیا؟ عذر کی وجہ سے اور یہ عذر کس میں پایا گیا؟ اس مکلف بندے میں پایا گیا، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ اسے رخصت کہتے ہیں۔ تو شریعت میں حکم کو پھیرنا تنگی سے آسانی کی طرف "بواسطة عذر" عذر کے واسطے سے اور وہ عذر کس میں ہو گا؟ ایسا عذر "في المكلف" جو کس میں ہو؟ مکلف میں ہو۔ "وأنواعها مختلفة" اور رخصت کی انواع مختلف ہیں، رخصت بہت سی قسمیں ہیں اس کی بھئی۔ کیوں؟ "لاختلاف أسبابها" اس لیے کہ اس کے اسباب مختلف ہیں بھئی، اس کے اسباب کیا ہیں؟ کہتے ہیں "وهي أعذار العباد" بندوں کے عذر ہیں بھئی "وهي أعذار العباد" بندوں کے، بھئی بندوں کے بہت سے عذر ہیں، شمار میں نہیں آ سکتے، تو لہذا ان عذروں کی وجہ سے رخصتیں آتی جائیں گی مختلف احکام میں، تو جیسے ان عذروں کا شمار کرنا مشکل ہے، رخصتوں کا شمار کرنا بھی مشکل ہے۔ تو کہتے ہیں اس کی انواع مختلف ہیں، اس لیے کیونکہ اس کے اسباب مختلف ہیں اور وہ بندوں کے عذر ہیں ”وَفِي الْعَاقِبَةِ تَؤُولُ إِلَى نَوْعَيْنِ“ لیکن کہتے ہیں انجامِ کار کے اعتبار سے، انجام کے اعتبار سے ”تَؤُولُ“ یعنی ”تَرْجِعُ“ لوٹتی ہیں دو قسموں کی طرف۔ کس کی طرف لوٹتی ہیں؟ بھئی، ویسے تو بہت زیادہ ہیں، لیکن انجام، مآل کے اعتبار سے دیکھا جائے، نتیجے کے اعتبار سے دیکھا جائے تو کتنی قسم پر ہیں؟ دو قسم پر ہیں۔ تو کون سی دو قسمیں؟ پہلے یہ سمجھ لیں آپ بھئی۔ دیکھو بھئی! ایک یہ کہ فعل میں رخصت تو آ گئی، یعنی معافی تو آ گئی لیکن اس کی حرمت اب بھی برقرار ہو۔ اس کی حرمت کیا ہو؟ اور ایک یہ کہ رخصت آ گئی اور وہ حرام فعل حرام رہا ہی نہیں بلکہ وہ مباح بن گیا۔ کیا بن گیا؟ دیکھو! تو دیکھو مثلاً حرام سے منع کیا گیا ہے، تو ایک صورت یہ ہے کہ اس کو کرنے کی رخصت میں اس کو کرنے کی اجازت مل گئی۔ لیکن کرنے کی اجازت ملنے کے باوجود پھر وہ دو قسم پر ہے۔ اجازت ملنے کے بعد بھی وہ حرام رہے گا یا حرام مباح بن جائے گا؟ تو یہ دو قسمیں ہو گئیں۔ یا تو وہ کیا رہے گا؟ حرام ہی رہے گا کرنے کی اجازت ملنے کے باوجود، معافی ملنے کے باوجود وہ حرام کا حرام۔ یا وہ حرام اب رہا ہی نہیں، جب رخصت مل گئی تو وہ کیا بن گیا؟ مباح بن گیا۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ دیکھو مثالیں آسان سی آ رہی ہیں۔ ”وَفِي الْعَاقِبَةِ تَؤُولُ إِلَى نَوْعَيْنِ“ اور انجام کے اعتبار سے، نتیجے کے اعتبار سے ”تَؤُولُ إِلَى نَوْعَيْنِ“ یہ رخصت لوٹتی ہے دو انواع کی طرف۔ ”أَحَدُهُمَا رُخْصَةُ الْفِعْلِ“ ایک کیا ہے؟ فعل کی رخصت ملنا، رخصت کا ہونا ”مَعَ بَقَاءِ الْحُرْمَةِ“ ساتھ حرمت کے باقی رہتے ہوئے۔ حرمت بھی ہوتی ہے اور فعل کی رخصت بھی مل جاتی ہے۔ ”بِمَنْزِلَةِ الْعَفْوِ فِي بَابِ الْجِنَايَةِ“ یہ جنایت کے باب میں عفو کے درجے میں، معاف کرنے کے درجے میں ہے بھئی جنایت کے باب میں۔ دیکھو، ایک شخص نے کسی کا کیا کر دیا؟ مال ہلاک کر دیا یا اس کا کیا کیا؟ کوئی جنایت کی، ہاتھ پاؤں وغیرہ کاٹ دیا۔ اب اس پر جنایت کی وجہ سے اس پر سزا آتی تھی بھئی، لیکن اس دوسرے شخص نے اس کو معاف کر دیا۔ کیا کر دیا؟ تو اس معافی کی وجہ سے سزا تو ٹل گئی اس سے، لیکن یہ فعل جیسے پہلے حرام تھا اب بھی کیا ہے؟ یہ فعل، یہ جنایت اس کی حلال نہیں ہوئی بھئی، یہ، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ اسی طرح ہے۔ تو دیکھا! معاف کر دینے سے جنایت تو ختم ٹھیک ہے سزا تو نہیں، لیکن اس فعل کی حرمت ختم؟ اب یہ معنی نہیں ہے کہ اس نے جو کام کیا تھا وہی جائز ہو گیا، وہ جائز نہیں ہوتا۔ ”وَذَلِكَ“ مثالیں ذکر کر رہے ہیں، ”نَحْوُ إِجْرَاءِ كَلِمَةِ الْكُفْرِ عَلَى اللِّسَانِ مَعَ طُمَأْنِينَةِ الْقَلْبِ عِنْدَ الْإِكْرَاهِ“ بھئی، بھئی ایک آدمی ہے اس کو بعض لوگوں نے بھئی پکڑ لیا بھئی، کفار نے پکڑ لیا، کفار نے کہا بھئی کہ زبان سے کلمہ کفر کہو، اللہ کا انکار کرو ورنہ ہم تجھے ابھی قتل کرتے ہیں یا تیرے ہاتھ پاؤں کاٹتے ہیں۔ تو کہتے ہیں بھئی، اب شریعت نے رخصت دے دی اس عذر کی وجہ سے کہ آپ زبان سے کیا کر سکتے ہیں؟ کلمہ کفر کہہ سکتے ہیں بشرطیکہ دل میں اطمینان ہو بھئی، دل میں ایمان موجود ہو۔ اپنی جان بچانے کے لیے کیا کر سکتے ہیں؟ زبان سے کلمہ کفر کہہ سکتے ہیں۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو دیکھا، رخصت آ گئی، لیکن اس رخصت کے آنے کی وجہ سے وہ جو زبان پہ کلمہ کفر آپ نے جاری کیا وہ جائز نہیں ہوگا، وہ اب بھی کیا ہے؟ حرام ہی رہے گا، حرام کا حرام۔ ”وَذَلِكَ نَحْوُ إِجْرَاءِ كَلِمَةِ الْكُفْرِ عَلَى اللِّسَانِ“ اور وہ جیسے کلمہ کفر کا جاری کرنا زبان پر ”مَعَ طُمَأْنِينَةِ الْقَلْبِ“ ساتھ اطمینانِ قلب کے ”عِنْدَ الْإِكْرَاهِ“ اکراہ کے وقت، مجبور کیا کرنے کے وقت بھئی۔ لیکن یاد رکھو! یہ اس وقت ہے جب اکراہِ کامل ہو، اکراہِ کامل وہ ہے جس کے اندر عضو کے تلف ہو جانے کا یا جان کے جانے کا خطرہ ہو۔ خطرہ ہے کہ اگر میں نے بات نہ مانی تو یہ مجھے جان سے ہی مار دیں گے یا میرا ہاتھ پاؤں توڑ دیں گے۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو جب عضو کے تلف ہو جانے کا خطرہ ہو یا جان جانے کا خطرہ ہو تب اکراہِ کامل ہے، اور اگر صرف یہ خطرہ ہے مجھے دو چار تھپڑ مار دے گا، پھر نہیں جائز بھئی، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ ہاں، اکراہِ کامل ہونا چاہیے۔ اسی طرح بھئی ”وَسَبِّ النَّبِيِّ عَلَيْهِ السَّلَامُ“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دینا بھئی، کفار نے پکڑ لیا کسی مسلمان کو کہ پیغمبر کی شان میں گستاخی کرو ورنہ ہم تجھے کیا کر دیں گے؟ قتل کر دیں گے یا تیرا ہاتھ پاؤں توڑ دیں گے۔ تو یہ اکراہِ کامل ہے۔ لہذا اب کیا کرنا ہے؟ شریعت نے گنجائش دے دی، یہ کیا کر سکتا ہے؟ پیغمبر کو کی شان میں کوئی گستاخی کر سکتا ہے، لیکن دل میں محبت ہو اسی طرح، دل میں تصدیق اور ایمان ہو۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو فعل کے اندر رخصت تو آئی، لیکن رخصت کی وجہ سے یہ گالی دینا حلال اس کی حرمت اب بھی باقی ہے۔ صورت سمجھ میں آئی؟ آگے چل کر اس کا حکم بتائیں گے کہ فعل کی حرمت چونکہ ابھی بھی باقی ہے لہذا اس کو چاہیے یہ کہ نہ کرے۔ کیا کرے؟ محض کہ بحیثیتِ عزیمت یہ ہے کہ نہ کرے اور اس میں اگر مارا بھی گیا تو اس کو بہت اجر ملے گا۔ صورت سمجھ کیونکہ فعل حرام حلال حرمت ابھی بھی باقی ہے۔ تو شریعت نے اجازت دی بھئی، جیسے حضرت عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں آتا ہے بھئی، ان کو کفار نے پکڑ کر کلمہ کفر پہ مجبور کر دیا، انہوں نے اپنے جان کے خوف کی وجہ سے کلمہ کفر کہہ دیا بھئی، اور پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں روتے ہوئے حاضر ہوئے کہ یا رسول اللہ! مجھ سے یہ غلطی ہو گئی، میں نے غلط باتیں کچھ کر دیں بھئی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تمہارا دل مطمئن تھا؟ فرمایا: جی، میرا دل مطمئن تھا، دل میں ایمان تھا۔ تو حضور نے فرمایا: کوئی حرج نہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آیا؟ تو کوئی حرج نہیں، شریعت نے رخصت دی۔ صورت، تو یہ اکراہ، لیکن اس میں میں نے کیا بتایا؟ اکراہِ کامل ہو، یقین ہو کہ اگر میں نے ایسا نہ کیا تو میری جان چلی جائے گی یا میرا عضو تلف ہو جائے گا۔ اسی طرح ”وَإِتْلَافِ مَالِ الْمُسْلِمِ“ مسلمان کا مال تلف کرنا بھئی، ایک شخص کو کیا کر دیا؟ کسی نے پکڑ لیا بھئی، جاؤ بھئی زید کا مال تلف کرو نہیں تو تجھے میں جان سے مار دوں گا۔ اب کیا کرنا؟ اس کے لیے زید کے مال کو تلف کرنا زید رخصت آ گئی، وہ زید کے مال کو کیا کر سکتا ہے؟ تلف، تلف کر، رخصت آ گئی، لیکن اس سے وہ فعل کی حرمت نہیں ختم ہوئی، مومن کے مال کو تلف کرنا وہ حرام ہے جیسے پہلے حرام تھا اب بھی حرام ہے، ہاں رخصت آ گئی کہ اس کے لیے گنجائش ہو گئی کہ اس کو یعنی سزا نہیں ملے گی، سزا۔ جی، ”وَقَتْلِ النَّفْسِ ظُلْمًا“ اور اسی طرح کسی نفس کو قتل کرنا ظلم کرتے ہوئے، بھئی کسی کو پکڑ لیا، کفار نے پکڑ لیا بھئی اور کیا کیا؟ اس کو کہا زید کو قتل کرو، مثلاً زید کو بھی وہی پکڑ کے لے آئے اس کو کہا لو بھئی اب اس زید کو قتل کرو ورنہ ہم کیا کر دیں گے؟ تجھے قتل کر دیں گے۔ تو اس کے لیے رخصت ہے بھئی، جبکہ اکراہِ کامل ہو، جان جانے کا خطرہ ہے کہ اگر میں نے کیا کیا اس کو قتل نہیں کیا تو پھر یہ مجھے بھی کیا کر دیں گے؟ جان سے مار دیں گے۔ تو اب اس کے لیے اس کو یہ اس کو کیا کر سکتا ہے؟ قتل کر سکتا ہے، لیکن اس صورت میں یاد رکھو چونکہ ادھر بھی ایک جان جا رہی ہے اور ادھر بھی اس کی جان جا رہی ہے، لہذا اس میں اپنی جان دے دینی چاہیے، غیر کو قتل نہیں کرنا چاہیے۔ سمجھ میں آیا؟ کیونکہ پہلے تو بھئی وہ مال وغیرہ تلف کر رہا تھا ادھر اس کی جان جا رہی تھی، تو مال کا تلف کرنا اتنا بڑا نقصان نہیں جتنا جان کا، اس کی جان کا چلے جانا ہے، اور اب اس صورت میں قتل کی صورت میں تو جیسے اس کی جان جا رہی ہے ادھر دوسرے مسلمان کی بھی تو جان، دوسرے شخص کی بھی تو جان جا رہی ہے، تو معاملہ برابر کا ہے تو اس صورت کے اندر بھئی اپنی، صبر کرنا چاہیے یہاں تک کہ اس کو بے شک قتل کر دیں، لیکن اس کو دوسرے کا قتل نہیں کرنا چاہیے۔ اور اگر اس نے قتل کر دیا تو رخصت ہے، یعنی اس پہ قصاص نہیں آئے گا، دنیاوی سزا نہیں، لیکن آخرت میں گناہ ہوگا بھئی، سمجھ میں آیا؟ آخرت میں حساب ہوگا اور سزا بھی مل سکتی ہے۔ ”وَقَتْلِ النَّفْسِ ظُلْمًا“ اسی طرح کسی نفس کو قتل کرنا ظلم کرتے ہوئے، ”وَحُكْمُهُ“ اور حکم اس نوع کا یہ ہے، رخصت کی یہ نوع بھئی جس میں فعل کی تو رخصت ہوتی ہے لیکن حرمت اس فعل کی اسی طرح باقی ہوتی ہے اس کا حکم یہ ہے: ”أَنَّهُ لَوْ صَبَرَ“ کہ اگر اس شخص نے اگر صبر کیا ”حَتَّى قُتِلَ“ یہاں تک کہ اس کو قتل کر دیا گیا ”يَكُونُ مَأْجُورًا“ تو یہ کیا ہوگا؟ ماجور ہوگا یعنی اس کو اجر دیا جائے گا ”لِامْتِنَاعِهِ عَنِ الْحَرَامِ“ بوجہ حرام سے باز رہنے کے، کیونکہ یہ کس چیز سے فعل تو ابھی بھی کیا تھا وہ؟ حرام، تو یہ حرام سے روکا رہے، تو حرام سے کے روکے رہنے پر اس کو کیا ملے گا؟ اجر ملے گا ”تَعْظِيمًا لِنَهْيِ الشَّارِعِ“ تعظیم کرتے ہوئے شارع کی نہی کی بھئی، تعظیم کرتے ہوئے شارع کے، چونکہ شارع نے ان کاموں سے منع فرمایا تھا تو شارع کی نہی کی تعظیم کرتے ہوئے اس نے کیا کیا؟ وہ فعل نہیں کیا رخصت کے باوجود تو اس کو کیا ملے گا؟ اجر ملے گا۔ ”تَعْظِيمًا لِنَهْيِ الشَّارِعِ عَلَيْهِ السَّلَامُ“ شارع علیہ السلام کی نہی کی تعظیم کرتے کی وجہ سے کرنے کی وجہ سے۔ ”وَالنَّوْعُ الثَّانِي تَغْيِيرُ صِفَةِ الْفِعْلِ“ اور دوسری قسم رخصت کی یہ ہے: ”تَغْيِيرُ صِفَةِ الْفِعْلِ“ فعل کی صفت ہی کا بدل جانا، بدل دینا ”بِأَنْ يَصِيرَ مُبَاحًا“ بعین طور کہ وہ کیا بن جائے گا؟ مباح ہو جائے گا ”فِي حَقِّهِ“ اس مکلف کے حق میں، اس مکلف کے حق میں کیا بن جائے گا وہ فعل؟ اب اس کی حرمت باقی نہیں رہتی، رخصت بھی آ جاتی ہے اور فعل کی حرمت بھی ختم آ گئی۔ ”قَالَ اللَّهُ تَعَالَى“ دلیل ذکر کر رہے ہیں، اللہ تعالی قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ”فَمَنِ اضْطُرَّ فِي مَخْمَصَةٍ“ پس جو کوئی مجبور ہو گیا، مخمصہ کہتے ہیں شدید بھوک کو، پس جو کوئی مجبور ہو گیا شدید بھوک کے اندر، بھئی یاد رکھو! دیکھو مردار کا کھانا بھی حرام، خنزیر کا کھانا بھی حرام، شراب کا پینا بھی حرام، لیکن اللہ کیا فرماتے ہیں؟ اگر کوئی مجبور ہو گیا شدید بھوک کی حالت میں اور کوئی چیز نہیں مل رہی، شراب موجود ہے یا خنزیر موجود ہے یا مردار موجود ہے، تو اب اپنی جان بچانے کے لیے اتنی مقدار کھا لینا جس سے اس کی جان بچ جائے اس اس کے لیے رخصت ہے اس فعل کی، یہ کھا سکتا ہے۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ اور وہ چیز جو ہے اب اس مجبوری کی وجہ سے اب وہ حرام رہی ہی نہیں، اس کے لیے حلال ہو گئی، مباح ہو گئی۔ کیا ہو گئی؟ اب وہ شراب اس کے لیے حرام ہے ہی نہیں، وہ مردار اس کے لیے حرام ہے ہی نہیں اور وہ خنزیر اس کے لیے اب حرام ہے ہی نہیں، حرمت ہی ختم ہو گئی اس کی، وہ مباح بن گیا۔ لہذا اب اس کو کیا کرنا چاہیے؟ اس میں سے زندگی بچانے کی بقدر کھا دے، کھا سکتا ہے۔ اور کہتے ہیں اگر اس کے باوجود اس نے نہیں کھایا اس میں سے اور اس پر یہ مر گیا تو یہ خودکشی کرنے والے کی طرح ہوگا، کس کی طرح؟ اس لیے کہ ایک مباح چیز موجود تھی اور اس نے پھر بھی اس کو مباح ہو گئی تھی یا نہیں وہ چیز بھئی؟ تو وہ مباح چیز کے ہوتے ہوئے اس نے اس کو نہیں کھایا اور اپنے آپ کو مار ڈالا، تو گویا اس نے جان بوجھ کر اپنے نفس کو مارا ہے، تو یہ خودکشی کرنے والے کی طرح ہوا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو بھئی کیا دلیل ذکر کی بھئی؟ کہ یہ چیز کیا ہو جاتی ہے؟ اس کی حرمت ہی ختم ہو جاتی ہے، حرام رہتا ہی نہیں، جیسے اللہ کا قول ہے: ”فَمَنِ اضْطُرَّ فِي مَخْمَصَةٍ“ پس جو کوئی مجبور ہو گیا شدید بھوک کے اندر، لیکن یہ دلیل تام نہیں ہے، اس سے اس چیز کے کھانے کی گنجائش تو ثابت ہو رہی ہے علت تو ثابت نہیں ہو رہی، جو کوئی مجبور ہو گیا شدید بھوک میں، اس سے کیا پتہ چلا؟ اب وہ خنزیر کو کھا، مردار کو کھانے کی صرف گنجائش کا پتہ چلا، ان کے حلال ہونے کا پتہ چلا؟ کہ وہ مباح ہو گئے ہیں اس سے یہ ثابت نہیں ہو رہا، لہذا مناسب یہ تھا کہ دوسری دلیل ذکر کرتے، جیسے وہ جو قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ”وَقَدْ فَصَّلَ لَكُم مَّا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ إِلَّا مَا اضْطُرِرْتُمْ إِلَيْهِ“ ”وَقَدْ فَصَّلَ لَكُم مَّا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ إِلَّا مَا اضْطُرِرْتُمْ إِلَيْهِ“ بھئی۔ اور تحقیق ”فَصَّلَ لَكُمْ“ اللہ نے تمہارے لیے تفصیل بیان کر دی ”مَا“ اس چیز کی ”حَرَّمَ عَلَيْكُمْ“ جس کو تمہارے پر کیا گیا ہے؟ حرام کیا گیا، اللہ نے خوب تفصیل سے ہر ایک بیان کر دیا کہ کیا کیا چیز تم پر حرام ہے۔ ”إِلَّا مَا اضْطُرِرْتُمْ إِلَيْهِ“ مگر وہ کہ جس کی طرف تم مجبور ہو جاؤ، مگر وہ کہ جس کی طرف تم کیا ہو جاؤ؟ مجبور ہو جاؤ، بھئی دیکھو ماقبل میں کس کا ذکر؟ حرام کا ذکر اور ”إِلَّا“ کے ذریعے کیا کیا گیا؟ استثنا کیا گیا اور مستثنیٰ کا حکم مستثنیٰ منہ سے غیر ہوتا ہے، معلوم ہوا جس کی طرف انسان مجبور ہو گیا وہ حلال ہو گئی، مباح ہو گئی۔ ماقبل میں کن کا ذکر تھا؟ حرام کا ذکر تھا، اللہ نے تفصیل بیان کر دی ان چیزوں کو جو تمہارے اوپر حرام کی گئی ہیں ”إِلَّا مَا اضْطُرِرْتُمْ إِلَيْهِ“ مگر وہ چیزیں جن کی طرف تم مجبور ہو جاؤ، تو یہ دیکھو جن کی طرف تم مجبور ہو جاؤ یہ ”إِلَّا“ کے بعد آیا، ”إِلَّا“ کے بعد کیا آتا ہے؟ مستثنیٰ، اور مستثنیٰ کا حکم مستثنیٰ منہ سے غیر ہوتا ہے، تو ماقبل میں تو جو چیزیں تھیں ان کا حکم کیا تھا؟ حرام ہونا، اور ان کا ان حرام چیزوں سے استثنا کیا گیا جس کی طرف انسان مجبور ہو جائے، معلوم ہوا یہ کیا ہوتی ہے؟ مباح ہو جاتی ہے، حرام رہتی ہی نہیں۔ جی، ”وَذَلِكَ نَحْوُ الْإِكْرَاهِ عَلَى أَكْلِ الْمَيْتَةِ وَشُرْبِ الْخَمْرِ“ اور یہ جیسے کہ مجبور کرنا ہے مردار کے کھانے پر اور شراب کے پینے پر، جیسے کافروں نے کسی شخص کو پکڑ لیا، اس کو مجبور کر دیا کہ یہ مردار ہے اس کو کھاؤ ورنہ ہم تجھے جان سے مار دیں گے یا عضو تیرا تلف کر دیں گے، یا شراب تھی اس کے یہ شراب پیو ورنہ تجھے جان سے مار دیں گے یا عضو تلف کر دیں گے۔ تو اب بھئی، وہ جو مردار تھا وہ عذر کی وجہ سے اور اسی طرح وہ شراب جو تھی، وہ بھی عذر کی وجہ سے، دونوں حرام رہے ہی نہیں، بلکہ کیا بن گئے؟ مباح بن گئے، تو اب وہ پی سکتا ہے۔ وحكمه أنه لو امتنع عن تناوله حتى قتل يكون آثماً. اور حکم اس کا یہ ہے کہ اگر یہ شخص رکا رہا عن تناوله اس کے کھانے سے یا پینے سے حتى قتل یہاں تک کہ کیا کر دیا گیا اس کو؟ قتل کر دیا گیا، يكون آثماً یہ شخص کیا ہوگا؟ گناہگار ہوگا بامتناعه عن المباح مباح چیز سے اس کے رک جانے کی وجہ سے، وصار كقاتل نفسه اور یہ اسی طرح ہو گیا جیسے کہ اپنے نفس کو خود قتل کرنے والا ہو، جو اپنے نفس کو خود قتل کرنے والا ہو۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ لیکن اس میں یہ یاد رکھنا مولانا! یہ اس وقت مسئلہ ہے کہ جب کھانے والے کو جس پر زبردستی کی جا رہی ہے، اس کو اس مسئلے کا پتہ ہو کہ یہ چیز اکراہ کی وجہ سے میرے لیے کیا ہو چکی؟ حلال ہو چکی، یعنی اس نے اصول الشاشی پڑھی ہو، اس کی یہ بحث اس کے ذہن میں ہو یا یہ بحث اس نے دیکھی ہو، اسے علم ہو کہ یہ چیزیں جب اکراہ کامل پایا جائے تو یہ کیا ہو جاتی ہیں یہ چیزیں؟ حلال ہو جاتی ہیں۔ تو اب اس کو علم ہے کہ یہ حلال ہو چکی، تو اب اگر اس نے اپنی جان ایسے موقع پر دے دی تو یہ خودکشی کی طرح ہے۔ لیکن اگر ایک عام جاہل آدمی ہے، اس بیچارے کو اس چیز کا پتہ ہی نہیں ہے کہ یہ چیزیں کیا ہو جاتی ہیں؟ زبردستی کامل زبردستی کے موقع پر یہ چیزیں حلال ہو جاتی ہیں، تو اس بیچارے کو تو پتہ ہی نہیں ہے۔ اب اس نے تلوار نکالی ہے کہ چل یہ چیز کھا نہیں تو میں تیری گردن اڑا دوں گا، وہ سوچتا ہے بھئی! اللہ نے ان کے کھانے سے منع کیا ہوا ہے حضور علیہ السلام نے، میں اپنی جان تو دے دوں گا لیکن ان چیزوں کو نہیں کھاؤں گا، تو اب اس کو مولانا وہ گناہگار نہیں ہے بلکہ اس کو اجر ملے گا، کیونکہ کیا کیا اس نے؟ حضور علیہ السلام کی نہی کی تعظیم کی، اتنی تعظیم کی کہ اس کے خاطر اپنی جان دے دی لیکن اس چیز کو نہیں کھایا۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ فصل: الاحتجاج بلا دليل أنواع، منها الاستدلال بعدم العلة على عدم الحكم. بھئی! یہاں تک تو ابھی تک جو بحث پڑھی آپ نے بھئی، اس میں مختلف احکام کے لیے دلائل ذکر کیے بھئی۔ بعض کے لیے دلیل قرآن تھی، بعض کے لیے دلیل سنت تھی، بعض میں دلیل کیا تھی؟ اجماع، اور بعض میں قیاس تھا۔ اب کچھ ایسی چیزیں ذکر کریں گے جن میں غیر دلیل سے استدلال کیا گیا ہوگا۔ کیا کیا گیا ہوگا؟ بھئی! بظاہر ایک چیز دلیل معلوم ہوگی، لیکن درحقیقت وہ دلیل نہیں، اس کو کہتے ہیں احتجاج بلا دلیل، استدلال کرنا بغیر دلیل کے۔ یعنی جس چیز سے استدلال کیا جا رہا ہے، جس چیز کو دلیل بنایا جا رہا ہے، وہ دلیل لگ تو رہی ہے، لیکن درحقیقت وہ دلیل نہیں ہے۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو کہتے ہیں الاحتجاج بلا دليل أنواع استدلال کرنا بغیر دلیل کے، یہ کئی قسم پر ہے۔ منها الاستدلال بعدم العلة على عدم الحكم اس کی انواع میں سے ایک کیا ہے؟ استدلال کرنا عدمِ علت سے عدمِ حکم پر۔ احتجاج بلا دلیل کی ایک قسم کیا ذکر کر دی انہوں نے بھئی؟ عدمِ علت سے استدلال کرنا کس چیز پر؟ عدمِ حکم پر! بھئی! یوں کہنا، چونکہ علت نہیں پائی جا رہی، اس لیے حکم بھی نہیں پایا جا رہا، اور یہ درست نہیں بھئی۔ عدمِ علت سے عدمِ حکم پر استدلال کرنا صحیح... بھئی! علت نہیں پائی گئی تو یہ ضروری نہیں حکم بھی نہ پایا جائے، ہو سکتا ہے حکم کسی اور علت کی وجہ سے پایا جائے۔ یہ والی علت تو نہیں پائی گئی بھئی، لیکن ہو سکتا ہے کوئی اور علت... تو اس علت کے نہ ہونے سے یہ ضروری نہیں کہ حکم بھی نہ پایا جائے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ احتجاج بلا دلیل کئی قسم پر ہے، ان میں سے ایک قسم کیا ہے؟ کہ استدلال کرنا عدمِ علت سے کس پر؟ عدمِ حکم پر استدلال کرنا، یہ احتجاج بلا دلیل ہے، یہ استدلال بلا دلیل ہے مولانا! صورت سمجھ میں آرہی ہے؟ دیکھو! ایک ہے علت، ایک ہے حکم۔ علت جب بھی پائی جائے گی، حکم بھی پایا جائے گا۔ تو علت جب بھی موجود ہو، حکم پر استدلال کرنا صحیح کہ چونکہ یہ علت پائی جا رہی ہے، لہٰذا یہ حکم بھی پایا جائے گا۔ لیکن علت کے نہ پائے جانے پر یہ کہنا کہ چونکہ یہ علت موجود نہیں ہے، لہٰذا یہ حکم بھی موجود نہیں، تو عدمِ علت سے عدمِ حکم پر استدلال، یہ کیا ہے؟ استدلال بلا دلیل! کیونکہ ضروری نہیں کہ یہ علت نہیں پائی جا رہی تو یہ حکم بھی نہ ہو، ہو سکتا ہے یہ حکم کسی اور علت کی وجہ سے ہو، کسی اور دلیل کی وجہ سے ہو۔ صورت سمجھ میں آئی؟ مثلاً دیکھو مولانا! وضو کے ٹوٹنے کی ایک علت ہے خون کا نکلنا بدن سے، خون کا بدن سے... خون جب بھی بدن سے نکلے گا، کیا حکم لگائیں گے؟ وضو کے ٹوٹنے کا حکم لگائیں گے۔ جب بھی بدن سے خون نکلا، تو خون کا نکلنا ہے علت، حکم کیا آیا؟ وضو کا ٹوٹ جانا۔ اب ایک آدمی کہتا ہے، دلیل سنو بھئی! کہ بھئی! فلاں کا خون نہیں نکلا، اس لیے اس کا وضو بھی نہیں ٹوٹا۔ خون نہیں نکلا، یہ دلیل پکڑ رہا ہے، علت سے یا عدمِ علت سے؟ خون نہیں نکلا، دیکھو نفی لے کر آ رہا ہے، تو یہ عدمِ علت سے دلیل پکڑ رہا ہے، اور کس پر دلیل پکڑ رہا ہے؟ عدمِ حکم پر، کہ وضو بھی نہیں ٹوٹا۔ یہ ہے احتجاج بلا دلیل مولانا! استدلال بغیر دلیل کے مولانا! سمجھ میں آیا؟ علت کا نہ ہونا حکم کے نہ ہونے پر دلالت نہیں کرتا۔ بس خون کا نکلنا نہ پایا جائے تو یہ ضروری نہیں کہ اس شخص کا وضو بھی نہ ٹوٹے، ہو سکتا ہے اس کا وضو کسی اور وجہ سے ٹوٹ جائے، مثلاً اسے قے آ جائے مولانا! کیا آ جائے؟ قے آ جائے بھئی! تو وضو... آپ یہ کہیں جی اس کا خون نہیں نکلا، لہٰذا وضو بھی نہیں ٹوٹا، یہ بات درست نہیں ہے مولانا! کیونکہ وضو ٹوٹنے کی علت صرف خون کا نکلنا نہیں ہے، بلکہ وضو کے ٹوٹنے کی اور بھی علتیں ہیں۔ تو عدمِ علت سے استدلال کرنا کس پر؟ عدمِ حکم پر، یہ صحیح نہیں، کیونکہ ہو سکتا ہے یہ علت تو نہیں پائی جا رہی، لیکن ہو سکتا ہے کوئی اور علت، کوئی اور دلیل پائی جائے، جس کی وجہ سے کیا ثابت ہو جائے؟ حکم ثابت ہو جائے بھئی! صورت سمجھ میں آئی؟ مسئلہ سب کو سمجھ میں آیا بھئی؟ تو ان میں سے ایک استدلال کرنا ہے عدمِ علت کے ذریعے على عدم الحكم عدمِ حکم پر۔ مثالها مثال اس کی جیسے: القئ غير ناقض لأنه لم يخرج من السبيلين. جیسے کوئی شوافع میں سے کوئی استدلال کرتا ہے، کیا کہتا ہے؟ قے ناقضِ وضو نہیں، کیوں؟ کیونکہ یہ سبیلین سے، احد السبيلين سے خارج نہیں۔ کیا... کیا حکم کیا ذکر کیا؟ قے ناقض... قے ناقضِ وضو نہیں، دلیل کیا ذکر کی؟ کیونکہ یہ احد السبيلين سے خارج نہیں۔ تو دیکھو! احد السبيلين سے خارج نہ ہونا، یہ ہے عدمِ علت، اور اس کے ذریعے کس کو ثابت کیا؟ ناقضِ وضو نہ ہونا، یعنی عدمِ حکم کو۔ تو عدمِ علت کے ذریعے استدلال کر رہا ہے شوافع میں سے کوئی کس چیز پر؟ عدمِ حکم پر، اور یہ استدلال صحیح نہیں، اس لیے کہ وضو صرف احد السبيلين سے نجاست کے خارج ہونے سے تو نہیں ٹوٹتا، بلکہ وضو تو مطلقِ نجاست کے نکلنے سے کیا ہو جاتا ہے؟ ٹوٹ جاتا ہے۔ سمجھ میں آیا؟ تو مطلقِ نجاست سے ٹوٹ جاتا ہے، جیسے حدیث میں آتا ہے: الوضوء من كل دم سائل. الوضوء من كل دم سائل وضو واجب ہے ہر بہنے والے خون سے، وضو واجب ہے ہر بہنے والے خون سے۔ معلوم ہوا، دیکھا! اس میں کوئی احد السبيلين کی قید ہے؟ معلوم ہوا بدن سے جہاں سے بھی خون نکلے گا، وضو ٹوٹ جائے گا، کیونکہ خون نجس ہے۔ معلوم ہوا بدن سے کہیں سے بھی نجاست خارج ہو جائے، وضو کیا ہوگا؟ ٹوٹ جائے گا۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو دیکھا! عدمِ علت سے عدمِ حکم پر استدلال کیا گیا۔ اسی طرح وہ شوافع میں سے کوئی کہتا ہے، کہتے ہیں: والأخ لا يعتق على الأخ لأنه لا ولادة بينهما. بھئی! آزاد نہیں ہوگا، الأخ لا يعتق بھئی! عتق يعتق پڑھو بھئی، يعتق نہ پڑھو بھئی، والأخ لا يعتق على الأخ اور بھئی بھئی پر آزاد نہیں ہوگا، لأنه لا ولادة بينهما اس لیے کہ ان میں ولادت نہیں ہے، یعنی ان میں رشتہ ولادت نہیں ہے۔ کیا معنی رشتہ ولادت؟ یعنی دونوں میں سے کوئی ایک دوسرے کے لیے اصل اور فرع نہیں۔ اصل کون ہیں؟ اوپر والے باپ، دادا، پردادا، یہ کیا ہیں؟ اصل، اور فروع کسے کہتے ہیں؟ نیچے بیٹا، پوتا، پڑپوتا وغیرہ۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو امام شافعی... شوافع میں سے کوئی استدلال کرتا ہے، بھئی! ہمارے نزدیک کوئی قریبی محرم رشتہ دار دوسرے کا مالک بن جائے تو وہ فوراً آزاد ہو جائے گا۔ بھئی بھئی کا مالک بنتا ہے، فوراً آزاد ہو جائے گا۔ باپ بیٹے کا مالک بنتا ہے، یعنی کسی سے خرید لیتا ہے، فوراً خریدتے ہی، ملک میں داخل ہوتے ہی وہ کیا ہو جائے گا؟ آزاد ہو جائے گا۔ صورت سمجھ میں آئی؟ جبکہ ان کے نزدیک کیا ہے؟ اصول و فروع ہونا ضروری ہیں۔ اصول و فروع ہوں گے... یا تو خریدنے والا اصول میں سے ہو، یا خریدنے والا کس میں سے ہو؟ فروع میں سے ہو، تو پھر جس کو خریدا ہے وہ آزاد ہوگا، ورنہ آزاد نہیں ہوگا۔ صورت سمجھ میں آرہی ہے؟ تو دیکھو! شوافع میں سے کوئی استدلال کرتا ہے کہ اگر ایک بھئی نے دوسرے بھئی... ایک بھئی دوسرے بھئی کا مالک بن گیا، تو یہ دوسرا بھئی آزاد نہیں ہوگا، کیوں نہیں آزاد ہوگا؟ کہ ان میں رشتہ ولادت نہیں ہے۔ تو دیکھو! رشتہ ولادت کا نہ ہونا، یہ ہے عدمِ علت، اور اس پر حکم کیا مرتب کیا؟ آزاد نہ ہونا، یہ ہے عدمِ حکم۔ تو دیکھا! عدمِ علت کو علت... عدمِ علت کے ذریعے استدلال کیا کس چیز پر؟ عدمِ حکم پر، کہ چونکہ ان میں رشتہ ولادت نہیں، تو یہ آزاد بھی... ہم کہتے ہیں بھئی! صرف رشتہ ولادت تو علت نہیں ہے آزادی کی، بلکہ رشتہ محرمیت بھی تو آزادی کی علت ہے! حدیث میں آیا ہے: من ملك ذا رحم محرم عتق عليه. جو کوئی مالک ہوا، کس کا مالک ہوا؟ ذی رحم، یعنی قریبی رشتہ دار کا، اور ایسا قریبی رشتہ دار جو محرم بھی ہو، یعنی جس کے ساتھ نکاح کرنا بھی... دو شرطیں ہیں: ایک قریبی رشتہ دار بھی ہو، اور دوسری شرط کیا ہے؟ محرم بھی ہو، یعنی اس کے ساتھ نکاح ہمیشہ کے لیے حرام بھی ہو۔ اس قسم کے رشتہ دار کو کسی نے بھی خریدا، تو وہ اس پر کیا ہو جائے گا؟ آزاد! سمجھ میں آیا؟ تو رشتہ محرمیت تو بھئی اور بھئی کے درمیان موجود ہے، لہٰذا بھئی کیا ہو جائے گا؟ آزاد! تو انہوں نے استدلال... سنو بھئی! دوبارہ، خلاصہ بحث یہ: انہوں نے استدلال کیا تھا رشتہ ولادت کے نہ ہونے سے آزاد نہ ہونے پر، یعنی عدمِ علت سے استدلال کیا تھا کس پر؟ عدمِ حکم پر، کہ رشتہ ولادت نہیں تو آزاد بھی... ہم کہتے ہیں بھئی! صرف رشتہ ولادت تو سبب نہیں ہے، بلکہ ہو سکتا ہے... اس کی تو اور بھی علتیں ہیں بھئی! اور دوسری علت وہ کیا ہے؟ رشتہ محرمیت! محرمیت والا رشتہ تو موجود ہے، ٹھیک ہے ولادت والے کی وجہ سے آزاد نہیں، لیکن رشتہ محرمیت کی وجہ سے تو کیا ہے؟ آزاد! تو ایک علت کے ایک منتفی ہونے سے دوسری علت کا انتفاء تو لازم نہیں آتا کہ آپ کہیں حکم پایا ہی نہیں جا رہا بھئی! ایک علت نہیں ہے، تو ہو سکتا ہے دوسری علت کی وجہ سے حکم پایا جائے۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ وسئل محمد رحمه الله أَيجب القصاص على شريك الصبي؟ یاد رکھو! بچے پر قصاص نہیں ہے، بچہ کسی کو قتل کر دے تو اس پر قصاص... اس لیے کہ بچہ مرفوع القلم ہے۔ بچہ مرفوع القلم ہے، اس کے گناہ نہیں لکھے جاتے، تو بچہ اگر کسی کو قتل کر دے تو اس پر قصاص نہیں۔ اسی طرح، اگر بچے کے ساتھ کوئی شریک ہو جائے، دونوں مل کر قتل کریں، دونوں نے ایک تلوار اکٹھے پکڑی ہوئی تھی بھئی! ایک ایک... دونوں نے مل کر پکڑی ہوئی تھی، اور اس سے دوسرے آدمی کو کیا کر دیا؟ قتل کر دیا! تو اب چونکہ دونوں اکٹھے مل کر قتل کرنے والے ہیں، اور ایک قاتل پر تو قصاص نہیں، تو دوسرے قاتل پر بھی قصاص نہیں ہوگا، اس لیے کہ دونوں مل کر علت بنے ہیں قتل کی۔ ایک علت بنا ہے قتل کی یا دونوں مل کر بنے ہیں؟ دونوں مل کر علت بنے ہیں، تو علت کے دو جز ہوئے: ایک وہ بچہ، اور ایک وہ شخص۔ تو ایک جز پر جب قصاص نہیں آ رہا، تو دوسرے جز پر بھی قصاص... یہ نہیں کہ ایک جز پہ تو قصاص نہ آئے اور دوسرے جز پر کیا آ جائے؟ قصاص آ جائے۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو بچے کے ساتھ مل کر وہ قتل کرتا ہے، تو جیسے بچے پر قصاص... بچے سے قصاص ساقط ہو جاتا ہے، تو بچے کی وجہ سے اب اس شریک پر بھی قصاص نہیں آئے گا۔ اسی طرح یاد رکھو! باپ اگر بیٹے کو قتل کر دے، تو باپ پر بھی قصاص نہیں، کیوں نہیں قصاص بھئی؟ اس لیے کہ شبہِ ملک موجود ہے، کیا موجود ہے؟ شبہِ ملک موجود ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی سے فرمایا: أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيكَ تو اور تیرا مال تیرے باپ کے ہیں۔ تو دیکھو! یہاں پر اس کے مال کو بھی باپ کا قرار دیا، اور اس کے نفس کو بھی کس کا قرار دیا؟ باپ کے لیے قرار دیا، تو شبہِ ملک آ گیا، کیا آ گیا؟ اور جیسے ملک کی وجہ سے قصاص نہیں آتا، تو شبہِ ملک کی وجہ سے بھی قصاص... بھئی! ملک کی وجہ سے بھی یاد رکھو قصاص نہیں آتا، آقا نے اپنے غلام کو قتل کر دیا، اس پہ قصاص نہیں آئے گا بھئی! قصاص... قصاص کی بات کر رہا ہوں قصاص کی بات، سمجھ میں آیا بھئی؟ جی! تو اس پر قصاص نہیں آئے گا۔ کیوں؟ کیونکہ اس کا مالک ہے بھئی! تو اس وجہ سے قصاص اس سے ساقط، تو ملک کی وجہ سے جیسے قصاص ساقط ہوتا ہے، شبہِ ملک کی وجہ سے بھی قصاص کیا ہو جائے گا؟ ساقط ہو جائے گا، اور باپ کے لیے شبہِ ملک آ گیا، تو اس پر بھی قصاص نہیں، ساقط! لہٰذا، اب اگر باپ کے ساتھ ایک شخص نے مل کر قتل کیا بیٹے کو، باپ اور اس نے مل کر اکٹھے ایک ایک تلوار کو پکڑا ہوا تھا دونوں نے، اور اس با... بیٹے کو مار ڈالا، تو اب کیا ہوگا بھئی؟ باپ سے تو قصاص ساقط ہوا شبہِ ملک کی وجہ سے، تو جب باپ پر، ایک قاتل پر قصاص نہیں، تو دوسرے قاتل پر بھی... شریک پر بھی قصاص نہیں آئے گا۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ اب ایک شخص آیا، اس نے امام محمد رحمہ اللہ سے سوال کیا: کیا بچے کے ساتھ جو قتل میں شریک ہوا ہے، اس پر قصاص آئے گا؟ امام محمد رحمہ اللہ نے فرمایا: نہیں، اس شریک پر قصاص نہیں آئے گا۔ کیونکہ بچہ مرفوع القلم ہے، بچہ کیا ہے؟ مرفوع القلم ہے۔ تو علت کیا بیان کی امام محمد رحمہ اللہ نے قصاص کے نہ آنے کی بچے پر؟ مرفوع القلم ہونا! اس پر وہ شخص فوراً بولا کہ اس طرح اس کا مطلب ہے جو باپ کا شریک ہے... باپ کے ساتھ شریک ہوا بیٹے کے قتل میں، اس شریک پر قصاص آنا چاہیے، کیونکہ وہ باپ مرفوع القلم نہیں، باپ مرفوع القلم... تو عدمِ علت سے استدلال کیا عدمِ حکم پر۔ دیکھو! پہلے یوں صورت بناؤ! بیٹے پر قصاص نہیں، او بچے پر قصاص نہیں، کیوں نہیں؟ کیونکہ مرفوع القلم ہے۔ تو مرفوع القلم ہونا، یہ کیا ہے؟ علت، اور حکم کیا ہے؟ قصاص کا نہ ہونا، یہ کیا ہے؟ حکم۔ علت کیا ہوئی بھئی؟ زبان سے ادا کرو، علت کیا ہوئی بھئی؟ مرفوع القلم ہونا، اور حکم کیا ہوا بھئی؟ قصاص کا نہ ہونا۔ اب دونوں پر دونوں کا عدم کر دو۔ مرفوع القلم نہ ہونا، اور عدمِ قصاص کو عدم کرو ذرا، کیا آ جائے گا؟ قصاص آ جائے گا۔ تو مرفوع القلم نہیں تو پھر قصاص آنا چاہیے۔ تو اس نے استدلال کیا عدمِ علت سے کس چیز پر؟ عدمِ حکم پر کہ باپ مرفوع القلم نہیں تو قصاص کو آنا چاہیے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو دیکھا، کہتے ہیں یہ عدم الحكم، یہ استدلال کرنا ہے عدمِ علت کے ذریعے عدمِ حکم پر، اور یہ درست نہیں، کہتے ہیں یہ تو اسی طرح ہے جیسے کوئی شخص کہے زید مرا نہیں کیونکہ وہ چھت سے گرا نہیں۔ زید نہیں مرا کیونکہ وہ چھت سے نہیں، اور یہ بات درست ہے؟ مرتا آدمی صرف چھت سے گرنے کی وجہ سے ہے؟ مرنے کے تو بہت سے بھئی اسباب ہیں۔ تو یہ یہ اسی طرح ہے، عدمِ حکم سے عدمِ استدلال کرنا اسی طرح ہے جیسے کوئی شخص یہ کہے کہ فلاں مرا نہیں، کیوں نہیں مرا؟ کیونکہ وہ چھت سے نہیں گرا۔ تو جیسے یہ استدلال غلط ہے، اسی طرح عدمِ علت سے عدمِ حکم پر استدلال بھی صحیح نہیں۔ وسئل محمد رحمہ اللہ تعالی، اور پوچھا گیا امام محمد رحمہ اللہ سے: أیجب القصاص علی شریک الصبی؟ کیا قصاص واجب ہے بچے کے ساتھ شریک ہونے والے پر قتل میں؟ قال: لا، کہا: نہیں، لأن الصبی رفع عنہ القلم، اس لیے کہ بچہ جو ہے اس سے قلم اٹھا لیا گیا ہے، وہ مرفوع القلم ہے۔ قال السائل، تو سوال کرنے والے نے کہا: فوجب أن یجب علی شریک الأب، پس واجب ہوا کہ شریکِ اب پر کیا ہو؟ قصاص ثابت ہو، یا فوجب أی فثبت، پس یہ ثابت ہو گیا کہ أن یجب علی شریک الأب، کہ قصاص واجب ہو باپ کے ساتھ شریک ہونے والے پر، لأن الأب لم یرفع عنہ القلم، اس لیے کہ باپ سے قلم کو نہیں اٹھایا گیا، وہ مرفوع القلم، فصارت تمسک بعلم العلة علی عدم الحكم، فصار قول السائل، قول کی طرف لوٹائیں بھئی، صار کی ضمیر کس کو لوٹائیں؟ تو وہ قولِ سائل کیا بن گیا؟ التمسك بعدم العلة، وہ استدلال کرنا ہوا عدمِ علت سے علی عدم الحكم، کس پر؟ عدمِ حکم پر۔ تو اس سائل نے بھی عدمِ علت سے عدمِ حکم پر استدلال کیا۔ تو یہ عدمِ علت سے عدمِ حکم پر استدلال کرنے والا ہوا۔ هذا بمنزلة ما یقال، یہ اسی قول کے درجے میں ہے کہ لم یمت فلان، یوں کہا جائے کہ فلاں مرا نہیں، لأنه لم یسقط من السطح، اس لیے کہ وہ چھت سے گرا نہیں۔ کیونکہ وہ چھت سے گرا، تو یہ تو اسی طرح ہوا بھئی، حالانکہ یہ درست نہیں بھئی۔ إلا إذا كانت علة الحكم منحصرة فی معنی، یہ استثناء ہے بھئی۔ یہ ماقبل میں جو ذکر کیا بھئی، ماقبل میں کیا ذکر کیا تھا؟ منها الاستدلال بعدم العلة علی عدم الحكم، احتجاج بلا دلیل کی انواع میں سے ہے استدلال کرنا ہے عدمِ علت سے کس چیز پر؟ عدمِ حکم پر۔ اس سے استثناء ہے کہ بھئی عدمِ علت سے عدمِ حکم پر استدلال کرنا یہ درست نہیں ہے، مگر کس وقت؟ جب حکم کی جب ایک ہی علت ہو۔ اب جب حکم کی ایک ہی علت ہے اور وہ علت نہیں پائی جا رہی تو لازمی بات ہے کیا کہا جائے گا؟ حکم بھی نہیں پایا جا رہا۔ جب حکم کی علت بند ہو ایک ہی وصف کے اندر بھئی، حکم کی علت بند ہو کوئی ایک ہی وصف وہ ہے حکم کی علت بنتا ہے، اور کوئی وصف حکم کی علت ہی، اور وہ وصف نہیں پایا جا رہا تو اب یہ استدلال صحیح ہے، عدمِ علت سے استدلال کرنا کس پر؟ عدمِ حکم پر۔ جیسے مولانا قصاص صرف کس وجہ سے آیا کرتا ہے؟ قتل کی وجہ سے آتا ہے، اور کسی وجہ سے قصاص نہیں آتا۔ تو اب قصاص کی علت صرف قتل کرنے کا یہی وصف ہے، یہی وصف اس کی علت بنتا ہے۔ تو اب اس وصف کے ذریعے، اس وصف کے موجود ہونے پر قصاص بھی آئے گا اور اس کے منتفی ہونے پر قصاص بھی منتفی ہو جائے گا۔ تو اب اگر کسی شخص نے قتل نہیں کیا تو وہاں یہ استدلال صحیح ہے کہ فلاں سے قصاص نہیں لیا جائے گا، کیوں نہیں لیا جائے گا؟ کیونکہ اس نے قتل نہیں کیا۔ تو دیکھا، اب عدمِ علت سے استدلال کس کس پر کیا جا رہا ہے؟ عدمِ حکم پر، اور یہ استدلال کرنا صحیح ہے، کیونکہ اس حکم کی علت بند ہے ایک ہی وصف میں، اور وہ وصف نہیں تو معلوم ہوا وہ حکم بھی نہیں۔ اس کی آسان مثال میں ذکر کر دوں، جیسے دیکھو ایک آدمی کہتا ہے کہ دن نہیں ہے کیونکہ سورج نہیں نکلا۔ دن نہیں ہے کیونکہ سورج نہیں نکلا، تو اس نے دن کے نہ ہونے پر استدلال کیا کس سے؟ سورج کے نہ ہونے سے۔ دیکھو سورج کا نکلنا یہ ہے علت، اور دن کا ہونا یہ ہے حکم۔ سورج کا نکلنا علت، اور دن کا ہونا حکم ہے، اور دن کی صرف یہی ایک علت ہے یا کوئی اور علت بھی ہے؟ دن کی صرف یہی ایک علت ہے، سورج نکلتا ہے تو دن ہوتا ہے، سورج نہیں نکلے گا تو دن بھی نہیں ہو گا۔ تو لہذا سورج کا نکلنا ہے علت، اور دن کا ہونا ہے حکم۔ اب اگر علت کی نفی ہو گی تو حکم کی بھی کیا ہو جائے گی؟ نفی۔ تو ہم کہتے ہیں سورج نہیں نکلا، معلوم ہوا دن بھی نہیں ہے۔ تو یہاں مولانا عدمِ علت سے عدمِ حکم پر استدلال صحیح ہے، کیوں صحیح ہے؟ کیونکہ اس حکم کی اور کوئی علت موجود ہی، اور علتوں کا بھی امکان ہوتا پھر تو ہم کہہ سکتے تھے ہو سکتا ہے ابھی بھی دن نکل آئے بھئی کسی اور وجہ سے، لیکن دن کی تو ایک ہی علت ہے سورج کا نکلنا، اور وہ سورج نہیں تو لازمی بات ہے دن بھی، بات سب کو سمجھ میں آ گئی بھئی؟ إلا إذا كانت علة الحكم منحصرة فی معنی، مگر اس وقت جبکہ اس حکم کی علت بند ہو فی معنی، أي فی وصف، معنی سے کیا مراد ہے؟ وصف، کسی ایک وصف کے اندر، فیکون ذلك المعنی لازما للحكم، تو وہ وصف لازم ہو گا حکم کے لیے، وہ وصف پایا جائے گا مثلاً قتل کرنا پایا جائے گا تو قصاص آئے گا ورنہ نہیں، تو وہ معنی وہ وصف لازم ہو گا حکم کے لیے، فیتدل بانتفائه علی عدم الحكم، پس استدلال کیا جائے گا اس وصف کے منتفی ہونے کے ساتھ علی عدم الحكم، کس چیز پر؟ عدمِ حکم پر۔ مثاله ما روی، مثال اس استدلال کی وہ جو روایت کیا گیا ہے امام محمد رحمہ اللہ سے، أنه قال، وہ فرماتے ہیں: ولد المغصوبة لیس بمضمون، مغصوبہ کا ولد، لڑکا جو ہے، وہ مضمون نہیں، اس کی اولاد جو ہے مضمون نہیں۔ بھئی صورتِ مسئلہ یہ ہے: ایک شخص نے کسی کی باندی کو غصب کر لیا اور غصب کرنے کی وجہ سے، اور وہ باندی حاملہ تھی، وہ باندی کیا تھی؟ اس نے باندی کو غصب کر لیا، غصب کے بعد باندی نے اس غاصب کے پاس ایک بچے کو جنم دیا۔ اس ایک بچے کو کیا کیا؟ جنم دیا۔ اب یہ بچہ اگر غاصب کے پاس ہلاک ہو جائے تو اس کا ضمان غاصب پر نہیں آئے گا۔ اس کا ضمان کیا ہے؟ غاصب پر نہیں آئے گا۔ اس لیے کہ یہ جو ایک شخص پر ضمان آ رہا ہے، کس کی وجہ سے ہے؟ غصب کی وجہ سے ہے، ضمانِ غصب آئے گا، اس شخص پر کون سا ضمان آئے گا؟ بھئی اگر اس کے سوا یہ باندی ہلاک ہو جاتی ہے تو اس پہ ضمان آئے گا یا نہیں آئے گا؟ ضمان، یہ کون سا ضمان کیا کہلاتا ہے؟ ضمانِ غصب، تو اس شخص پر ضمانِ غصب آئے گا، اور ضمانِ غصب غصب کی وجہ سے آتا ہے، کسی اور چیز کی وجہ سے؟ اسی لیے میں نے غصب کی قید ساتھ بڑھا دی ہے۔ ضمانِ غصب کی علت صرف کیا ہے؟ غصب ہے۔ ضمانِ غصب کی علت صرف کیا ہے؟ غصب ہے، غصب ہے تو ضمانِ غصب بھی آئے گا، غصب نہیں تو ضمانِ غصب بھی نہیں آئے گا۔ اور اس بچے کے اندر غصب پایا جا رہا ہے؟ باندی کے اندر تو غصب پایا جا رہا ہے، بچے کے اندر غصب نہیں پایا جا رہا، اس لیے کہ غصب کسے کہتے ہیں؟ دیکھیے بھئی حاشیہ نمبر آٹھ میں تعریف کی ہوئی ہے بھئی: فإن الغصب عبارة عن إثبات الید علی مال الغير، غصب کسے کہتے ہیں؟ غصب عبارت ہے کس چیز سے؟ إثبات يد، قبضہ ثابت کرنا علی مال الغير، غیر کے مال پر۔ بھئی باندی نے بچے کو جنم دیا کس کے پاس؟ غاصب کے پاس، تو یہ بچہ کس کا مملوک ہے؟ وہ شخص جس کی باندی ہے، وہ شخص جس کی، وہ باندی جس کی ہے یہ بچہ بھی اسی کا مملوک ہوا بھئی۔ اب یہ اس بچ، تو یہ مال ہوا غیر کا، اور اس پر غاصب نے قبضہ کیا ہے، تو ٹھیک ہے، إثبات اليد علی مال الغير پایا گیا۔ اس غاصب نے کیا کیا ہے؟ اپنا قبضہ ثابت کیا ہے غیر کے مال پر، لیکن ابھی تعریف پوری نہیں ہوئی، بحيث، یہ قبضہ ثابت کرنا اس طریقے پر ہو کہ یزیل الغاصب ید المالک، کہ غاصب جو ہے زائل کر دے مالک کے قبضے کو۔ غصب کرنے والا کیا کر دے؟ مالک کے قبضے کو زائل کر دے، اور یہ بچہ پہلے مالک کے قبضے میں موجود تھا؟ نہیں، اس کے قبضے میں تو تھا ہی نہیں، تو لہذا یہاں پر بچے پر غاصب کا قبضہ تو پایا جا رہا ہے، لیکن غصب کے اندر دوسری شرط کیا ہے؟ یہ قبضہ ثابت کرنا کس طریقے پر ہو؟ کہ مالک کے قبضے کو بھی زائل کرے، اپنا قبضہ ثابت کرے اور مالک کے قبضے کو، یہاں پر اس کا اپنا قبضہ تو ثابت ہو رہا ہے بچے پر، لیکن مالک کے قبضے کو زائل کرنا نہیں پایا جا رہا، اس لیے کہ بچہ مالک کے پاس موجود ہی نہیں تھا، بچے کو تو اب اس نے جنم دیا ہے۔ تو غاصب کا قبضہ تو بچے پر ثابت ہو رہا ہے، لیکن مالک کا قبضہ زائل ہونا پایا نہیں جا رہا۔ باندی کے اندر ٹھیک ہے دونوں شرطیں پائی جا رہی ہیں، غاصب کا قبضہ بھی پایا جا رہا ہے اور مالک کے قبضے کو زائل کرنا بھی پایا جا رہا ہے۔ تو باندی ہلاک ہوئی، اس کا ضمان تو آئے گا، لیکن بچے پر غصب کی تعریف ہی نہیں صادق آتی۔ تو معلوم ہوا اس میں غصب نہیں، جب غصب نہیں تو ضمانِ غصب تو صرف کس کی وجہ سے آتا تھا؟ غصب کی وجہ سے، تو اس پر ضمانِ غصب بھی بچے کا نہیں آئے گا۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو ضمانِ غصب کی علت صرف کیا ہے؟ غصب ہے، تو اب علت کے منتفی ہونے سے حکم کے منتفی ہونے پر استدلال صحیح، تو یہاں پر چونکہ اس بچے میں غصب نہیں تو اس کا ضمانِ غصب بھی نہیں، صورت سمجھ میں آ گئی؟ جیسے وہ جو روایت کیا گیا ہے امام محمد رحمہ اللہ سے، أنه قال، وہ فرماتے ہیں: ولد المغصوبة لیس بمضمون، مغصوبہ کا کا ولد جو ہو گا، اس کی جو اولاد ہو گی، لیس بمضمون، وہ مضمون اس پر مضمون نہیں ہو گا یعنی اس کا ضمان نہیں آئے گا، لأنه لیس بمغصوب، اس لیے کہ وہ مغصوب، یہ دیکھئے یہ دلیل ذکر کی، وہ مغصوب نہیں، تو لہذا ضمانِ غصب بھی نہیں، تو عدمِ حکم سے عدمِ علت پر استدلال کیا کیونکہ ایک ہی علت تھی بھئی، وہ جب نہیں پائی گئی تو حکم بھی نہیں پایا جائے گا۔ ولا قصاص علی الشاهد، اسی طرح بھئی، بھئی دو گواہوں نے قاضی کے پاس گواہی دی کہ زید نے عمر کو قتل کیا ہے، ہم گواہ ہیں اس بات کے، قاضی نے حکم جاری کیا زید کو قصاصاً قتل کر دیا جائے، زید کو قصاصاً قتل کر دیا گیا بھئی۔ بعد میں ان دونوں گواہوں نے رجوع کر لیا، قاضی کے پاس آئے: قاضی صاحب! ہم سے غلطی ہو گئی، ہم نے جھوٹ بولا تھا۔ تو اب ان پر قتل کیا جائے گا یا قتل نہیں کیا جائے گا؟ تو ہمارے نزدیک ان گواہوں کو قتل، یہ معنی نہیں سزا نہیں دیں گے، ہم میں کیا کہہ رہا ہوں؟ ان کو قتل نہیں کیا جائے گا، کیوں نہیں قتل کیا جائے گا؟ اس لیے کہ قصاص جو ہے قصاص صرف قتل کی وجہ سے آتا ہے، قصاص کی علت صرف کیا ہے؟ قتل، اور ان دونوں نے اس کو قتل کیا ہے؟ انہوں نے تو صرف گواہی دی ہے۔ تو قتل، جب قتل نہیں تو ان سے قصاص بھی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ ولا قصاص علی الشاهد فی مسألة شهود القصاص، اور کوئی قصاص نہیں ہے گواہ پر فی مسألة شهود القصاص، قصاص کی گواہی کے مسئلے کے اندر، إذا رجعوا، جب وہ رجوع کر لیں، لأنه لیس بقاتل، اس لیے کہ وہ گواہ جو ہے قاتل، تو دیکھا وہ قاتل نہیں، اس لیے اس کے اس سے اس پر قصاص بھی، تو عدمِ علت سے کس پہ استدلال کیا؟ عدمِ حکم پر۔ وذلک لأن الغصب، خود علت بھی ذکر کر رہے ہیں صاحبِ کتاب بھی دونوں مسئلوں کی، لأن الغصب لازم لضمان الغصب، اس لیے کہ غصب لازم ہے کس کے ساتھ؟ غصب کے ساتھ، لازمی ہے بھئی کس کے لیے؟ ضمانِ، بھئی ضمانِ غصب تبھی آئے گا جب غصب پایا جائے، اور اس بچے میں غصب پایا گیا؟ تو ضمانِ غصب بھی نہیں، اور اسی طرح والقتل لازم لوجود القصاص، اور قتل لازم ہے وجودِ قصاص کے لیے، قتل کیا ہو گا تو قصاص بھی ہو گا، قتل نہیں کیا تو قصاص بھی، تو ان گواہوں نے قتل تو نہیں کیا لہذا قصاص بھی نہیں، چلیے بس مولانا، هذا هو المرام والله اعلم بحقیقة الکلام۔