قضا اور ادا کے مباحث چل رہے ہیں۔ ادا کس کو کہتے تھے؟ سپرد کرنا عین واجب کو مستحق کے، تو عین واجب کو مستحق کے سپرد کرنا یہ ادا کہلاتا ہے۔ اور مثل واجب کو مستحق کے سپرد کرنا یہ قضا کہلاتا ہے۔ اور پھر یہ ادا اور قضا دونوں دو دو قسم پر ہیں، کامل اور قاصر بھئی۔ اداۓ کامل کس کو کہتے ہیں؟ کہ عین واجب کو سپرد کرنا مشروع طریقے کے مطابق۔ مشروع طریقے کے مطابق سپرد کرنا، یعنی اس کی صفات بھی اسی طرح ہوں جس طرح کے ہونی چاہئیں بھئی۔ انہی صفات کے ساتھ جس طرح وہ واجب ہوا ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ جن صفات کے ساتھ واجب ہوا ہے، انہی صفات کے ساتھ ادا کرنا۔ اور اگر صفات کے اندر کوئی کمی آ جائے تو پھر یہ اداۓ کامل نہیں رہی، بلکہ کیا بن گئی؟ اداۓ قاصر بن گئی اور اداۓ قاصر کا حکم آپ نے پڑھا تھا کہ اس میں اگر ممکن ہو نقصان کی تلافی کرنا مثل کے ساتھ، یعنی اس کا کوئی مثل عقلی یا مثل شرعی موجود ہو تو نقصان کی تلافی اس کے ساتھ کی جائے گی۔ اور اگر اس کا کوئی مثل ہی موجود نہ ہو تو پھر نقصان کا حکم ساقط ہو جائے گا، البتہ وہ شخص کیا ہو گا؟ گناہ گار ہو گا، گناہ باقی رہے گا اس کے ذمے میں۔ گناہ اس کے ذمے میں باقی رہے گا۔ جی۔ اور اس پر کئی مسائل کل ہم نے پڑھے تھے بھئی۔ ایک مسئلہ یہ پڑھا تھا کہ اگر کسی شخص نے دوسرے کے کھوٹے، کھَرے درہم ادا کرنے تھے لیکن وہ کھَروں کے بجائے کیا ادا کر دیتا ہے؟ کھوٹے ادا کر دیتا ہے اور قبضہ کرنے والے کو پتا نہیں اور وہ اس کے پاس ہلاک ہو گئے وہ درہم، ہلاکت کے بعد اس کو کس نے بتایا کہ اس کو پتا چلا کہ یہ جو اس نے مجھے درہم دیے تھے کس قسم کے دیے تھے؟ کھوٹے دیے تھے، تو کہتے ہیں نہیں بھئی، اب مدیون پر دائن کے لیے کوئی چیز نہیں ہے۔ اس لیے کہ یہ جو کھَرا پن ہے اس کو علیحدہ اس کا کوئی مثل نہیں، نہ مثل صوری ممکن ہے نہ مثل معنوی ممکن ہے، یعنی نہ مثل عقلی ممکن ہے نہ مثل شریعت نے بھی اس کا کوئی مثل قرار نہیں دیا اور مثل عقلی بھی اس کا کوئی نہیں ہے کہ آپ علیحدہ سے کھَرا پن کو حوالے کر دیں، یہ بھی ممکن نہیں، لہٰذا اس پر گناہ ہو گا البتہ اس کا مثل کوئی نہیں تو اس کی تلافی بھی نہیں ہو سکتی۔ اور اسی طرح بتلایا تھا کہ اگر کوئی شخص کسی کے ساتھ بیع کرتا ہے اور بیع کرتا ہے سلیم غلام کی جس میں کوئی، لیکن جب وہ ادا کرتا ہے سپرد کرتا ہے تو کس قسم کا غلام سپرد کرتا ہے؟ مباح الدم کرتا ہے۔ اور یا مولانا کسی کا کوئی غلام غصب کرتا ہے، جب غصب کیا وہ مباح الدم نہیں تھا لیکن جب غصب کیا غلام نے اس کے پاس کسی کا قتل کر دیا تو وہ کیا بن گیا؟ مباح الدم بن گیا، اب اس مباح الدم غلام کو حوالے کرتا ہے تو یہ کیا ہے؟ اداۓ قاصر ہے۔ اب یہاں پر اگر وہ غلام اس کے پاس خود بخود ہلاک ہو گیا تو اس صورت میں اس کے کوئی اس پر دوسرے پر کوئی ضمان لازم نہیں آئے گا کیونکہ اس کا کوئی مثل نہیں۔ ہاں اگر وہ غلام اس کے پاس مالک کے پاس پہنچا اور پھر یا مشتری کے پاس پہنچا اور پھر جنایت کی وجہ سے اس کو قتل کر دیا گیا، تو یہاں پر چونکہ غلام کے قتل کا سبب کیا ہے؟ وہ قصاص ہے، لیکن قصاص کا سبب کیا ہے؟ وہ جنایت ہے اور وہ جنایت کس کے پاس ہوئی ہے؟ غاصب کے پاس ہوئی ہے یا بائع کے پاس ہوئی ہے، تو یہ گویا اسی طرح ہو گا گویا کہ اس نے غلام ادا ہی نہیں کیا۔ جب غلام ادا ہی نہیں کیا تو اب اس کو کیا اب کیا کرے گا؟ اس پر غلام کا ضمان آ جائے گا، اس کو ادا کرنا پڑے گا۔ اسی طرح اگر کسی نے باندی غصب کی بھئی اور باندی غصب کرنے کے بعد غاصب کے پاس وہ زنا کی وجہ سے حاملہ ہو گئی، اب اس نے حاملہ باندی واپس کی مالک کو اور ولادت کے سبب سے مالک کے پاس وہ مر گئی، تو اب دیکھو اس کی موت کا سبب ولادت ہے لیکن ولادت کا سبب کیا ہے؟ حاملہ ہونا ہے، وہ فعل زنا ہے بھئی اور وہ فعل زنا کہاں پر پایا گیا ہے؟ غاصب کے پاس پایا گیا، تو گویا کہ تو اس سبب سے باندی مری ہے، گویا کہ اس نے باندی ادا ہی نہیں کی، باندی حوالے نہیں کی، لہٰذا اس صورت میں اس پر کیا آئے گا؟ ضمان آئے گا، یہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک، جبکہ صاحبین کے نزدیک اس نے باندی ادا کر دی ہے، اب باندی کی ہلاکت کی نسبت ولادت ہی کی طرف کی جائے گی بھئی، اس فعل زنا کی طرف نہیں کی جائے گی۔ جی۔ پھر بتلایا تھا کہ بھئی کہ اس باب کے اندر قضا اور ادا کے باب میں اصل ادا ہی ہے، جب تک ادا پر عمل ہو سکے قضا کی طرف نہیں، چاہے اداۓ قاصر ہو، چاہے اداۓ کامل ہو، چاہے اداۓ قاصر ہو اصل ادا ہی ہے اور قضا کی طرف اس وقت جائیں گے جبکہ ادا ممکن نہ رہے۔ جب ادا اور جب ایک مرتبہ قضا کی طرف چلے جائیں تو پھر اس کے بعد دوبارہ ادا کی طرف رجوع نہیں کیا جائے گا۔ اسی اور مسئلہ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ بھئی کہ عقد کے اندر یہ جو درہم و دنانیر ہیں یہ متعین نہیں ہوتے۔ درہم و دنانیر متعین نہیں ہوتے بھئی، لیکن ودیعت ہے، وکالت ہے اور غصب ہے ان کے اندر درہم و دنانیر کیا ہو جاتے ہیں؟ متعین ہو جاتے ہیں۔ لہٰذا اگر کسی نے کسی کے پاس امانت رکھوائی تو جو دراہم امانت رکھوائے ہیں وہی اس کو واپس کرنا پڑیں گے، کسی کو وکیل بنایا کہ درہم و دنانیر حوالے کیے تو اس کو کیا کرنا پڑیں گے؟ وہی درہم و دنانیر واپس اس سے لیتا ہے تو وہی درہم و دنانیر کیا کرنا پڑیں گے؟ واپس کرنا پڑیں گے، یا کسی نے غصب کیے تو پھر کیا کرتا ہے؟ وہی درہم و دنانیر اس کو کیا کرنا پڑیں گے؟ واپس کرنا پڑیں گے، واپس کرنا پڑیں گے۔ لہٰذا اگر وہ درہم و دنانیر اس کے پاس موجود ہیں اور یہ اسی جیسے اور دینا چاہتا ہے تو یہ جائز نہیں، اس لیے کہ یہ بعینہٖ واجب کو نہیں سپرد کر رہا بلکہ یہ کس کو سپرد کر رہا ہے؟ مثل واجب کو، اور مثل واجب تو قضا ہے اور قضا کی طرف اس وقت جاتے ہیں جب ادا ممکن نہ ہو اور یہاں تو ادا ممکن ہے، لہٰذا قضا کی طرف نہیں جائیں گے۔ اسی طرح اگر کسی نے کسی پر کوئی چیز بیچی اور وہ چیز اس کو سپرد کر دی بھئی مشتری کے، پھر مشتری کو پتا چلا اس میں تو عیب ہے، میں نے تو اس سے شے سلیم کی بیع کی تھی اس نے مجھے کس قسم کی شے معیوب واپس کی ہے عیب والی، تو اب اس پر اب وہ یہ اس کو نہیں کہہ سکتا، تو اس کے لیے دو ہی صورتیں ہیں یا اسی کو اسی ثمن کے اندر رکھ لے یا اس کو چاہے تو کیا کر دے؟ واپس کر دے، اسی کو رکھ لے اس لیے کہ وہ عین شے کو اس نے ادا کر دیا ہے اور واپس اس لیے کر دے کیونکہ صفت کے اندر کیا آ چکی ہے؟ کمی آ چکی ہے۔ ہاں یہ اس کو یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ چیز لے لو اور مجھے اس کی مثل دے دو، کیا دے دو؟ اس کی مثل دو، اس جیسی اور چیز دو اس میں تو عیب ہے میں عیب والی نہیں لیتا، اس جیسی مجھے اور دو، اس لیے کہ مثل دینا یہ تو قضا ہے اور قضا کی طرف اس وقت جاتے ہیں جب ادا ممکن نہ ہو اور یہاں پر تو ادا ممکن ہے، عین شے وہ موجود ہے اگرچہ تو ادا ہو سکتی ہے اگرچہ اداۓ قاصر ہی کیوں نہ ہے، اگرچہ یہاں پر کیا ہے اداۓ قاصر ہی ہے۔ یاد رکھو جب کوئی شخص کسی چیز کو غصب کر لیتا ہے تو تین صورتوں میں اس کا وہ مالک بن جاتا ہے۔ تین صورتوں میں کیا بن جاتا ہے؟ مالک بن جاتا ہے۔ دیکھیے یہ آپ کی کتاب میں حاشیہ نمبر 8 میں اس کی ساری تفصیل لکھی ہوئی ہے بھئی، کہ بھئی کسی نے کسی کی کوئی چیز غصب کی تو تین صورتوں کے اندر مالک کا حق اس سے منقطع ہو جائے گا اور غاصب کیا بن جائے گا اس کا؟ مالک بن جائے گا۔ ایک صورت یہ کہ وہ عین ہی بدل جائے بھئی، اس میں کیا آ جائے تغیر فاحش آ جائے، بہت زیادہ تبدیلی آ جائے یہاں تک کہ اس کا نام ہی زائل ہو جائے اور اس کے اعظم منافع، بڑے منافع بھی کیا ہو جائیں؟ زائل بدل جائیں بھئی، بات سمجھ میں آ گئی بھئی وہ زائل ہو جائیں اس کے بڑے منافع۔ تو اب دیکھو جیسے مثلاً کسی نے کیا کی کسی کی بکری غصب کی، غصب کرنے کے بعد ذبح کر دیا، ذبح کرنے کے بعد اس کو پکا لیا، اب دیکھیے بھئی کیا صورت ہو گئی؟ بدل گئی یا نہیں بھئی ساری؟ اور تغیر فاحش آیا، لہٰذا اس صورت میں کیا ہے یہ اس کا مالک بن گیا غاصب اور اس پر اب ضمان آ گیا اس کو کیا کرنا پڑے گا؟ اس کا ضمان دینا پڑے گا۔ اور اسی طرح دوسری صورت یہ ہے کہ غاصب نے کوئی چیز غصب کی لیکن وہ شے مغصوب اس کی چیزوں کے ساتھ ایسی مل گئی کہ اب اس کو جدا کرنا ممکن ہی نہیں رہا۔ کسی کے مثلاً اس نے ہزار روپے غصب کیے لیکن اس کے وہ ہزار روپے اس کے اپنے نوٹوں کے اندر اس طرح مل گئے کہ اب وہ نوٹ ڈھونڈنا اور جدا کرنا ممکن ہی نہ رہا، کوئی نشانی نہیں رکھی تھی تو وہ تو اب پتا ہی نہیں چلے گا یہ وہی نوٹ ہے یا وہ نوٹ نہیں ہے۔ تو دوسری صورت یہ ہے مولانا، تو اب اس صورت میں بھی یہ اس کا مالک بن گیا اور اس پر اس کا ضمان آئے گا، اس کو دینا پڑے گا بھئی اس کی قیمت بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو اب دوسرے دے سکتا ہے ہزار۔ اور تیسری صورت کیا ہے بھئی؟ کہ وہ چیز جو ہے وہ جو چیز اس نے غصب کی وہ اس کی چیزوں کے ساتھ مل گئی، اس طور پر ملی ہے کہ جدا کرنا اب بھی ممکن ہے اب بھی پتا ہے یہ ہے وہ مغصوب چیز، لیکن اب اگر اس کو جدا کرتے ہیں تو حرج عظیم لازم آتا ہے اس کا بہت نقصان ہوتا ہے، تو اس صورت میں بھی ہم کیا حکم لگاتے ہیں کہ یہ اس کا مالک بن گیا اور اس کو اب کیا دینا پڑے گا اس کا؟ ضمان دینا پڑے گا۔ کتنی صورتوں میں غاصب مالک بنا کرتا ہے بھئی؟ تین صورتیں۔ پہلی صورت کیا کہ اس میں کیا آ جائے تغیر فاحش آ جائے یعنی اتنی زیادہ تبدیلی آ جائے کہ اس کا نام ہی بدل جائے اور اس کے اعظم منافع بھی کیا ہو جائیں؟ زائل ہو جائیں۔ اور دوسری صورت کیا تھی کہ اس کے مال کے ساتھ اس کی چیزوں کے ساتھ وہ اس طرح مل جائے کہ اس کو جدا کرنا ممکن ہی نہ رہے، تیسری صورت کیا کہ جدا کرنا ممکن تو ہے لیکن کیا خرابی لازم آتی ہے؟ حرج عظیم لازم آتا ہے اس کا بڑا نقصان لازم آتا ہے، تو اس صورت میں بھی ہم کیا حکم لگاتے ہیں کہ یہ اس کا مالک بن گیا۔ تو ان یاد رکھو اور یہ یاد رکھو مالک بننے کا یہ معنی نہیں کہ اب یہ ان سے نفع اٹھا سکتا ہے، مالک تو بن گیا لیکن اس کے لیے شرعاً نفع اٹھانا اس کے لیے جائز نہیں جب تک بدل نہ دے دے، جب تک ان کا بدل قیمت وغیرہ ادا نہ کر دے بھئی۔ یہ مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟ تو تین صورتیں ہوئیں۔ تو ان میں سے پہلی صورت سے متعلقہ مسئلے اب چلنے لگے ہیں بھئی، کیا؟ کہ جب کیا آ جائے؟ تغیر فاحش آ جائے تو غاصب کیا بن جایا کرتا ہے چیز کا؟ مالک بن جاتا ہے۔ اچھا، یہ یاد رکھنا بس۔ اب دیکھیے وہ بات جو بحث کتاب میں چل رہی تھی بھئی، کتاب میں یہ بحث چل رہی تھی کہ قضا اور ادا کے اندر اصل کیا ہے؟ ادا ہے، جب تک ادا ممکن ہو قضا کی طرف جانا جائز نہیں ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کہ چونکہ اس میں ادا قضا میں سے اصل ادا ہے، جب تک ادا ممکن ہے قضا کی طرف نہیں جائیں گے لہٰذا اگر کسی نے کسی کی کوئی چیز غصب کر لی اور غصب کرنے کے بعد اس میں تغیر فاحش بھی آ جائے پھر بھی مولانا وہ چیز تو موجود ہے اس کا وجود تو ہے، لہٰذا اسی چیز کو واپس کرنا پڑے گا۔ اب اس کے مثل یا مثلِ مثل یعنی قیمت وغیرہ نہیں دے سکتا کیونکہ ابھی ادا ممکن ہے بھئی، بات سمجھ میں آئی؟ ہم کہتے ہیں نہیں یہاں تغیر فاحش آ چکا بھئی، اب اس کا نام ہی بدل چکا ہے اس کے اعظم منافع ہی بدل چکے ہیں، لہٰذا اب یہ مالک بن گیا ہے اب اس کو کیا دینا پڑے گا اس کی؟ قیمت وغیرہ دینی پڑے گی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ دیکھیے بھئی۔ وباعتبار أن الأصل هو الأداء، اور اسی اعتبار کے کہ اصل جو ہے وہ ادا ہی ہے، يقول الشافعي رحمه الله تعالى رحمة واسعة، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: الواجب على الغاصب رد العين المغصوبة، کہ غاصب پر واجب کیا ہے؟ اس عینِ مغصوبہ کو کیا کرنا؟ واپس کرنا، وإن تغيرت في يد الغاصب تغيرا فاحشا، اگرچہ وہ بدل جائے غاصب کے قبضے میں تغیر کس طریقے پر بدلنا؟ تغیر فاحش، اگرچہ اس میں بہت زیادہ تبدیلی آ جائے بھئی، یعنی کہ بہت زیادہ تبدیلی سے کیا مراد ہے بھئی؟ کہ اس کا نام ہی بدل جائے، اس کے اعظم منافع فوت ہو جائیں۔ تو وہ فرماتے ہیں تو بھئی یہ جو اس نے نام ہی بدل گیا بکری لی اس کو ذبح کیا، اس کا گوشت بنا دیا بھئی، اس کو يا پکا لیا بھئی، تو اب کہتے ہیں بھئی اب بھی وہی چیز دینا پڑے گی، ہاں جو نقصان ہوا مثلاً زندہ بکری کی قیمت تھی 1500 اور اب جو گوشت بنا ہے وہ 1200 کا ہے تو اس کو کیا کرنا پڑے گا؟ یہ نقصان کی تلافی کرنا پڑے گی اور 300 اس کو ادا کرنا پڑیں گے، بات سمجھ میں آئی بھئی؟ تو کہتے ہیں تو عینِ مغصوبہ ہی کو واپس کرنا پڑے گا اگرچہ وہ غاصب کے قبضے میں بہت زیادہ تغیر فاحش اس میں آ جائے، ويجب الأرش بسبب النقصان، ارش بھئی ضمان تاوان، اور اس پر ضمان واجب ہو گا نقصان کے سبب سے، یعنی جتنا نقصان آیا ہے وہ نقصان بھی ساتھ اس کو دینا پڑے گا، مسئلہ سمجھ میں آیا بھئی؟ وعلى هذا، اور اسی بنا پر لو غصب حنطة، اگر غصب کی کسی نے بھئی کسی کی گندم، فظحنها، تو اس کو کیا کر لیا؟ پیس لیا بھئی، أو ساجة، بھئی ساجہ کہتے ہیں لکڑی ہے مولانا خاص ساگوان یا ساگھو کی لکڑی بھئی، قیمتی لکڑی ہے اس سے کیا کرتے ہیں شہتیر وغیرہ بناتے ہیں مضبوط لکڑی ہے بھئی۔ تو کسی نے أو ساجة، کیا غصب غصب حنطة أو غصب ساجة، کسی کی ساگوان کی لکڑی ساگوان کا شہتیر کسی نے غصب کیا، فبنى عليها دارا، پس اس پر کیا تعمیر کر لیا؟ گھر تعمیر کر لیا، أو شاة، أي غصب شاة، حنطۃ پہ عطف ہو رہا ہے اس کا بھی، یا کسی نے کسی کی بکری شاة میں نے بتلایا مولانا بھیڑ بکری دونوں کو کہتے ہیں بھئی اس میں جنس ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ صرف بکری نہیں ہے اس کا معنی، یا کسی نے کسی کی بھیڑ بکری غصب کر لی، فذبحها، پس اس کو ذبح کر لیا، اور صرف ذبح نہیں کیا مولانا کیونکہ صرف ذبح کرنے سے اس کا نام نہیں بدلتا، بکری پہ چھری چلا دی تو کیا کہلائے گی؟ پھر بھی بکری ہے البتہ ذبح شدہ ہے، کیا ہے؟ ذبح۔ ہاں وشواها، اس کو کیا کر لیا؟ بھون بھی لیا، پکا بھی لیا مولانا، أو عنبا، یا اس کا بھی عطف حنطۃ پہ ہے، کیا غصب کر لیے کسی نے کسی کے؟ انگور غصب کر لیے، فعصرها، ان کو نچوڑ لیا، ان کا رس نکال لیا، أو حنطة، یا بھئی کیا غصب کیا؟ گندم، لیکن اوپر تھا فظحنها اس کو پیس لیا وہ ایک صورت تھی، دوسری صورت گندم غصب کی فزرعها، اس کو کیا کر لیا؟ کاشت کر لیا، ونبت الزرع، اور کھیتی اگ آئی، كان ذلك ملكا للمالك عنده، تو یہ مغصوب جس میں تبدیلی آ چکی یہ ابھی بھی ملک ہے مالک کی عندہٗ، کن کے نزدیک بھئی؟ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک۔ ہم کہتے ہیں ان ساری صورتوں میں یہ چیزیں غاصب کی ہو گئیں کیونکہ ان سب میں کیا آ گیا؟ تغیر فاحش آ گیا۔ اور اس پر کیا پھر واجب ہے؟ مالک بن گیا اب ان کی قیمت دے دے گا۔ وقلنا جميعها للغاصب، یہ ساری مذکورہ چیزیں جو ہیں مولانا غاصب کے لیے ہو گئیں، ويجب عليه رد قيمة، اور اس پر واجب ہے قیمت کا لوٹانا۔ ولو غصب فضة، اب کچھ اور صورتیں بنائیں گے بھئی جن کے اندر تبدیلی تو آئی لیکن تبدیلی فاحش، تغیر فاحش نہیں آیا، مثلاً: ولو غصب فضة، کسی نے غصب کی بھئی کسی کی چاندی بھئی، چاندی بھئی بات سمجھ میں آئی بھئی؟ فضربها دراهما، ڈھال لیا ان کو دراہم میں بھئی۔ ڈھالنا بھئی، ضرب کا ایک معنی کیا ہے؟ ڈھالنا بھی ہے بھئی۔ فضربها دراهما، ڈھال لیا ان کو دراہم میں، یعنی ان سے دراہم بنا لیے، چاندی کا ٹکڑا وغیرہ غصب کیا تھا اور اس سے کیا بنا لیے؟ أو تبرا، تبراً کہتے ہیں ٹکڑا ڈلی سونے کا، یا سونے کا ٹکڑا۔ یا ڈلی اس نے غصب کی، فاتخذھا دنانیرا پس اس کو کیا بنا لیا؟ دینار بنا لیے بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ جی دینار بھئی۔ بھئی، آپ کو ایک عجیب فائدہ بھی بتلا دیں چلو بھئی۔ یاد رکھو یہ دینار، دینار، اصل میں تھا دن نار۔ اصل میں کیا تھا؟ دن نار۔ یہ یا جو تھی، یہ بھی نون تھی بھئی دن نار۔ پھر اس جب دو حرف ایک جنس کے ہوں تو عرب یوں کر دیا کرتے ہیں بعض اوقات کہ ایک کو ماقبل، ایک کو حرفِ علت سے بدل دیا کرتے ہیں۔ کیا کرتے ہیں؟ حرفِ علت سے۔ تو یہاں پر بھی دو نون تھے، تو اول کو کس سے بدل دیا؟ ماقبل کی حرکت کے موافق حرفِ علت سے بدل دیا۔ تو دن نار سے کیا بن گیا؟ دینار بن گیا۔ بھئی، دلیل کیا ہے اس بات کی کہ دینار اصل میں دن نار تھا؟ بھئی، دلیل اس کی جمع ہے۔ جمع بناؤ ذرا، التکسیر یرد الاشیاء الی اصولھا، جمع تکسیر کس کی طرف لوٹاتی ہے چیزوں کو؟ ان کی اصل کی طرف۔ آپ نے ضابطہ پڑھا ہے یا نہیں نحو کے اندر التکثیر والتصغیر یردان الاشیاء الی اصولھا۔ تکسیر، جمع تکسیر بنا لیں یا تصغیر کسی کی بنا لیں، تو وہ اس چیز کی اصل کی طرف اس کو لوٹا دیتے ہیں بھئی۔ تو یہاں بھی اس کی، دینار کی جمع کیا ہے؟ دنانیر۔ کتنے نون آئے بھئی؟ دو نون، یا چلی گئی۔ معلوم ہوا یہ دینار اصل میں کیا تھا؟ دن نار تھا۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ اسی طرح قراط ہے قراط، اصل میں کیا تھا؟ قرراط، اصل میں کیا تھا؟ قرراط۔ جمع کیا ہے؟ اس کی جمع آتی ہے قرارط، قرارط۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ جی۔ تو چنانچہ اس نے کیا کیا بھئی؟ اس نے اس سونے کی ڈلی سے کیا بنا لیے؟ دینار بنا لیے، او شاةً يا کس کی کیا غصب کی؟ بکری غصب کی، فذبحھا اس کو کیا کر ڈالا؟ ذبح کر دیا۔ لا ینقطع حق المالک فی ظاہر روایۃ، تو ظاہرِ روایت کے مطابق کیا ہے؟ مالک کا حق اس سے منقطع نہیں ہو گا، غاصب اس کا مالک نہیں بنے گا، اس لیے کہ تغیر تو آیا لیکن تغیرِ فاحش نہیں۔ بکری صرف ذبح کی ہے تو اب بھی وہ کیا کہلاتی ہے؟ بکری ہی کہلائے گی البتہ پہلے زندہ تھی، اب کیا کہلائے گی؟ ذبح شدہ بکری بھئی۔ یا مثلاً درہم، درہم، چاندی غصب کی تھی اور اس کو کیا بنا ڈالا ہے اس نے؟ درہم بنا دیے، تو کیا ہوا؟ درہم کو بھی کیا کہہ دیا کرتے ہیں اکثر؟ چاندی کہہ دیتے ہیں بھئی، درہم کس کا ہوتا ہے؟ چاندی کا، تو درہم ہوتے ہیں تو وہ ایک شخص کہتا ہے دوسرے کو: "میرے پاس چاندی ہے بھئی۔" تو درہم پر بھی کس کا اطلاق ہوتا ہے؟ فضہ کا، معلوم ہوا اس کا ابھی نام بھی زائل نہیں ہوا، اسی طرح سونا ہے اس سے کیا بنا لیے؟ دینار، دینار کے اوپر بھی سونے کا لفظ بولا جاتا ہے ایک شخص دوسرے کو عربی میں کہتے ہیں: "میرے پاس کیا ہے؟ ذہب ہے، سونا ہے۔" اور ہوتے کیا ہیں اس کے پاس؟ دینار ہوتے ہیں، معلوم ہوا ابھی بھی اس کا نام زائل نہیں ہوا۔ نیز پہلے چاندی کی جیسے قیمت تھی دراہم کی بھی اسی طرح اب بھی قیمت ہے بھئی، اور اس وہی قیمت ہے، اور اسی طرح سونے کی جو قیمت تھی اب بھی اس کی وہ قیمت برقرار ہے بھئی۔ تو لہذا ظاہرِ روایت کے مطابق اب مالک کا حق، کی ملکیت ابھی بھی اس سے منقطع نہیں ہوئی، لہذا انہی کو واپس کرنا پڑے گا بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ ظاہرِ روایت کسے کہتے ہیں بھئی؟ جانتے ہو یا نہیں جانتے؟ فققہ کے ہر طالبِ علم کو آنا چاہیے، معلوم ہونا چاہیے ظاہرِ روایت۔ یاد رکھو امامِ محمد رحمہ اللہ کی چھ ایسی کتابیں ہیں جن میں کوئی مسئلہ آ جائے تو کہتے ہیں: "ظاہرِ روایت میں مسئلہ یوں ہے۔" ان کے اندر کوئی مسئلہ آ جائے تو کیا کہلاتا ہے؟ ظاہرِ روایت، سمجھ رہے ہو؟ ان کی بہت زیادہ تصانیف ہیں لیکن ان چھ کے اندر اگر مسئلہ ذکر ہو تو کیا کہلاتا ہے؟ ظاہرِ روایت۔ اور آسان نام ہیں، یہ آپ کو یاد ہونے چاہئیں۔ ایک ہے سیرِ کبیر، ایک ہے سیرِ صغیر، ایک ہے جامعِ صغیر، ایک ہے جامعِ کبیر، کتنی ہو گئیں؟ چار، اور ایک کیا ہے؟ زیادات، اور ایک کیا ہے؟ مبسوط۔ تو چھ کتابیں امامِ محمد کی، امامِ محمد کی بہت سی تصانیف لیکن چھ کتابیں ہیں جن کے اندر کوئی مسئلہ ذکر ہو جائے تو کیا کہا جاتا ہے کہ ظاہرِ روایت میں یہ مسئلہ یوں ہے اور وہ چھ کون سی ہیں؟ سیرِ صغیر، سیرِ کبیر، جامعِ صغیر، جامعِ کبیر، اور مبسوط اور زیادات، مبسوط اور زیادات، یہ چھ کتابیں ہیں یہ یاد رکھنا بھئی ہمیشہ، سمجھ میں آئی؟ جگہ جگہ آتا ہے بھئی، اکثر امتحانات میں پوچھ لیا کرتے ہیں ممتحن کوئی آتا ہے تو دیکھتے ہیں بھئی اس کو پتا ہے یا نہیں کہ ظاہرِ روایت سے کیا مراد ہے، تو بتلائیے آپ کہ یہ چھ کتابوں میں کوئی مسئلہ ذکر ہو تو وہ کیا کہلاتا ہے؟ ظاہرِ روایت۔ وکذلک، اور اسی طرح لو غصب قطناً، اگر کسی نے کیا غصب کیا ہے؟ روئی، قطن روئی کپاس کو کہتے ہیں، کپاس کو بھی اور روئی بھئی۔ کپاس غصب کی، فغزلہ، پس اس کو کات لیا، کیا کیا؟ اس کو کات لیا یعنی اس سے وہ دھاگا بنا لیا، سوت بنا لیا بھئی۔ او غزلاً، یا کسی نے کیا غصب کیا؟ غزلاً کا عطف قطناً پر ہے، کیا غصب کیا؟ وہ سوت وہ دھاگا جو روئی سے بنا ہوا تھا اس کو کیا کر لیا؟ غصب کر لیا، فنسجہ، پس اس کو بن لیا، کیا کر لیا؟ بن کر اس سے کپڑا بنا لیا۔ روئی یا کپاس غصب کی اور اس سے کیا بنایا؟ دھاگا، یا دھاگا غصب کیا اور اس سے کیا بنا لیا؟ کپڑا۔ لا ینقطع حق المالک فی ظاہر روایۃ، تو مالک کا حق منقطع نہیں ہوگا ظاہرِ روایت میں بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ مالک کا حق منقطع نہیں ہوگا بھئی، اس لیے کہ اعظمِ منافع فوت نہیں ہوئے بلکہ حاصل ہو گئے ہیں۔ روئی ہوتی کس لیے ہے؟ اس سے کیا بنایا جاتا ہے؟ دھاگا، سوت بنایا جاتا ہے، اور دھاگا ہوتا ہی کس لیے ہے؟ اس کا بڑا نفع ہی کیا ہے کہ اس سے کیا بنایا جاتا ہے؟ کپڑا بنایا جاتا ہے۔ ویتفرع من ھذا مسئلۃ المضمونات بھئی، مضمون وہ چیز جس کا ضمان آئے بھئی، تو اسی پر متفرع ہو گا، اسی سے نکل نکلیں گے بھئی، وہ چیزیں جن کا ضمان ہوتا ہے ان کا مسئلہ بھی اسی سے نکلے گا بھئی، اسی ضابطے سے نکلے گا، یہ جو ہم نے ضابطے بیان کر دیے۔ یعنی ضمان کب آئے گا؟ جب اس میں کیا آ جائے؟ تغیرِ فاحش آ جائے، صورت سمجھ میں آئی؟ جب تغیرِ فاحش آ جائے تو اس صورت میں کیا آئے گا؟ ضمان آئے گا، اور مالک کا حق منقطع ہو جائے گا، لیکن اگر تغیرِ فاحش نہیں آتا تو پھر تو حق منقطع نہیں ہوتا۔ ولذا، اور اسی بناء پر قال، فرماتے ہیں کون بھئی؟ امامِ شافعی رحمہ اللہ، اور اسی بناء پر امامِ شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: لو ظھر العبد، صورتِ مسئلہ یہ ہے، بھئی دیکھو ایک آدمی نے دوسرے کا غلام غصب کیا بھئی، اچھا، کہ ایک آدمی نے دوسرے کا کیا کیا؟ غلام غصب کیا، یہ اس سے کیا کر رہا ہے؟ مثلاً غلام اس سے بھاگ گیا، غلام کیا ہوا اس سے؟ بھاگ گیا، اب مالک اس سے کیا کہتا ہے بھئی؟ "میرا غلام حوالے کرو۔" اب وہ غلام حوالے کر سکتا ہے؟ غلام اس کے پاس ہے؟ غلام تو بھاگ چکا ہے، لہذا اب کیا کرنا پڑے گا اس کو؟ اس کی قیمت دینا پڑے گی۔ تو ادا تو ممکن نہ تھی، کس کی طرف چلے گئے؟ قضاء کی طرف چلے گئے، کس کی طرف چلے گئے؟ بعد میں وہ غلام ظاہر ہوا، اس نے ظاہر کر دیا بھئی یا خود چھپایا تھا یا غلام پکڑا گیا بھئی، اس کے غاصب لے آیا کہیں سے، غلام ظاہر ہوا، تو امامِ شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اصل چونکہ ادا ہے اور ادا ممکن ہے، لہذا اب وہ جو اس نے غلام کی قیمت دی تھی وہ مالک اس کو واپس کرے گا اور اس سے کیا کرے گا؟ اپنے غلام کو لے لے گا۔ ہم کہتے ہیں: نہیں، ایک مرتبہ ہم قضاء کی طرف جا چکے ہیں اور جب قضاء کی طرف ایک دفعہ چلے جائیں تو پھر دوبارہ ادا کی طرف نہیں آتے، لہذا اب یہ غاصب ہی اس غلام کا مالک بن گیا اور وہ ثمن کیا ہے؟ وہ قیمت جو ہے، وہ قیمت کس کی ہو گئی؟ اس مالک کی ہے، اب دوبارہ اس سے غلام کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔ ولذا قال، اسی بناء پر امامِ شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: لو ظھر العبد المغصوب، اگر ظاہر ہو گیا وہ وہ مغصوب غلام، بعد ما اخذ المالک ضمانہ من الغاصب، بعد اس کے کہ جب لے لیا تھا مالک نے ضمان کو کس سے؟ غاصب سے، کان العبد ملکاً للمالک، تو امامِ شافعی فرماتے ہیں اب بھی غلام ملک ہے کس کی؟ مالک ہی کی ملک ہے، والواجب علی المالک رد ما اخذ من قیمۃ العبد، اور مالک پر کیا واجب ہے؟ کہ واپس کرنا اس اس کا، وہ جو اس نے لیا تھا قیمۃ العبد یعنی غلام کی قیمت، وہ جو اس نے غلام کی قیمت لی تھی وہ کیا ہے؟ اس پر واپس مالک واپس کرے گا اور کس کو لے لے گا؟ کیونکہ اصل قضاء اور ادا میں سے کیا ہے؟ ادا، تو قضاء کی طرف گئے تھے لیکن ادا اب ممکن ہے لہذا ادا کرے گا اس عینِ واجب کو اور اس مثلِ واجب کو اس سے واپس لے لے گا۔ ہم کہتے ہیں: نہیں، ایک مرتبہ قضاء کی طرف جا چکے اب دوبارہ ادا کی طرف لوٹنا نہیں ہے۔ چلیے بس ہذا ہو المراد واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔