والخامسُ والخامسُ قد تُترك الحقيقةُ بدلالة محل الكلمِ بأن كان المحل لا يقبل حقيقة اللفظ. ان قرائن کا ذکر چل رہا ہے جن کی وجہ سے حقیقی معنی کو ترک کر دیا جاتا ہے بھئی۔ کل پانچ تھے جن میں سے چار ذکر ہو چکے، پانچواں بھئی آج ذکر ہو گا۔ والخامسُ اور پانچواں قرینہ جو ہے جس کی وہ کیا ہے قد تُترك الحقيقةُ بدلالة محل الكلمِ۔ کبھی کبھار چھوڑ دیا جاتا ہے حقیقت کو محلِ کلام کی دلالت کی وجہ سے۔ محلِ کلام کیا ہے؟ دلالت کرتا ہے کہ یہاں حقیقی معنی مراد نہیں ہے۔ بأن كان المحل لا يقبل حقيقة اللفظِ۔ بعینہٖ طور کہ وہ جو محل ہوتا ہے وہ مولانا لفظ کی حقیقت کو قبول ہی نہیں کرتا بھئی، لفظ کے حقیقی معنی کو قبول ہی؟ جب وہ حقیقی معنی کو قبول ہی نہیں کر رہا تو پھر یقینی بات ہے حقیقی معنی مراد بھی نہیں لیا جائے گا بھئی۔ ومثالهُ مثالوں سے دیکھو بات سمجھ میں آئے گی۔ ومثالهُ انعقادُ النكاحِ الحرةِ بلفظ البيعِ والبهةِ والتمليكِ والصدقةِ۔ نكاح آزاد عورت کا منعقد ہونا لفظِ بیع، ہبہ، تملیک اور صدقہ کے ساتھ یہ اس کی مثال ہے۔ مثال کے طور پر ایک آزاد عورت ہے اس نے دو گواہوں کی موجودگی کے اندر ایک شخص کو کیا کہا؟ بیع بيعت نفسي منك، میں نے اپنے نفس کو تم پر بیچ دیا بھئی۔ بعتُ کا صلہ من آتا ہے، بيعت نفسي منك۔ تو اب یہ آزاد عورت کی بیع ہو سکتی ہے بھئی؟ جی؟ آزاد عورت کی بیع ہو ہی نہیں سکتی تو یہ محل ہی حقیقی معنی کو قبول نہیں کر رہا۔ تو اب یقیناً کس کی طرف ہم جائیں گے؟ مجازی معنی کی طرف جائیں گے اور معلوم ہوا کہ یہ بیع سے یہاں کیا مراد ہے؟ نکاح مراد ہے۔ یا اسی طرح ایک آزاد عورت ہے، ایک شخص سے کہتی ہے وهبتُ لك نفسي، میں نے تجھے کیا کر دیا اپنا نفس؟ ہبہ۔ اب آزاد عورت ہبہ کی جا سکتی ہے؟ وہ ہبہ نہیں کی جا سکتی تو یہ عورت جو آزاد عورت ہے یہ محل ہی نہیں ہے ہبہ کا۔ تو یہاں ہبہ کے حقیقی معنی مراد ہی، محل ہی حقیقی معنی کو قبول نہیں کر رہا تو اس سے کون سا معنی مراد لیا جائے گا؟ مجازی یعنی وہ اپنا نکاح کرنا چاہ رہی ہے۔ والتمليكِ يا تملیک کا لفظ بولتی ہے۔ عورت آزاد عورت ہے، وہ ایک شخص سے کیا کہتی ہے؟ ملكتك نفسي، میں نے تجھے کیا کر دیا؟ میں نے اپنا نفس تجھے، اپنے نفس کا تجھے مالک بنا دیا بھئی۔ اب یہاں آزاد عورت کا کسی کو مالک بنانا ممکن ہے؟ جی؟ نہیں، تو ممکن نہیں تو معلوم ہوا یہ محل ہی حقیقی معنی کو قبول نہیں کر رہا، تو مجازی معنی کی طرف جائیں گے اور وہ کیا مراد دیا جائے گا اس سے؟ نکاح بھئی۔ یا عورت کسی شخص کو کہتی ہے تصدقتُ لك نفسي، میں نے کیا کر دیا اپنے نفس کو تجھ پر صدقہ کر دیا۔ اور آزاد عورت کا صدقہ ہو سکتا ہے؟ نہیں، تو یہ محل ہی حقیقی معنی کو قبول نہیں کر رہا تو مجازی معنی کی طرف جائیں گے اور مجازی معنی کیا ہے؟ نکاح مراد ہے بھئی، نکاح کرنا چاہتی ہے وہ۔ اسی طرح واس کی مثال جو ہے قولهُ لعبدهِ أعتقك کسی آقا کا اپنے غلام سے یہ کہنا وهو معروفُ النسبِ من غيرهِ اس حال میں کہ وہ غلام معروف النسب ہے غیرِ آقا سے۔ آقا کے علاوہ کسی اور سے اس کا نسب معروف ہے کہ فلاں کا بیٹا ہے۔ آپ کا ایک غلام ہے اور وہ سب کو پتہ ہے کہ وہ زید کا بیٹا ہے، سب کو پتہ ہے؟ تو وہ معروف النسب ہے مولانا، اور کس سے ہے؟ آقا سے ہے یا غیرِ آقا سے؟ غیرِ آقا کا، تو مالک نہیں بن سکتا۔ مالک بنے گا، فوراً آزاد ہوتا ہے۔ تو وہ غیر سے کیا ہے؟ معروف النسب ہے، اس کو آقا کہتا ہے هذا ابني، یہ کیا ہے؟ یہ میرا بیٹا ہے۔ تو دیکھئے مولانا، یہ جب یہ معروف النسب ہے، کہ زید کا بیٹا ہے، تو آقا کا بیٹا ہو سکتا ہے؟ آقا کا بیٹا ہو ہی؟ تو یہ دیکھو، یہ محل ہی حقیقی معنی کو قبول نہیں کر رہا، تو اب مجازی معنی کی طرف جائیں گے اور وہ غلام کیا ہو جائے گا؟ آزادی مراد ہے تو وہ آزاد ہو جائے گا۔ اسی طرح وكذا إذا قال لعبدهِ وهو أكبرُ سناً من المولى کسی نے اپنے غلام سے کہا اس حال میں کہ وہ عمر میں آقا سے بڑا ہے، کیا کہا آقا نے اپنے غلام سے؟ هذا ابني، یہ کیا ہے؟ میرا بیٹا ہے۔ اب مولانا، یہ محل ہی حقیقی معنی کو قبول نہیں کر رہا، وہ بیٹا ہو سکتا ہے جو عمر میں بڑا ہو؟ وہ عمر میں جو بڑا ہے وہ تو بیٹا ہو ہی نہیں سکتا، لہٰذا اب یہاں حقیقی معنی مراد لئے ہی نہیں جا سکتے، تو کس کی طرف جائیں گے؟ مجازی معنی، اور مجازی معنی کیا مراد ہیں؟ آزاد، تو وہ غلام کیا ہو جائے گا؟ آزاد۔ تو کہتے ہیں كان مجازاً عن العتقِ عند أبي حنيفةَ رضی اللہ تعالیٰ عنہُ، تو یہ عتق مجاز ہو جائے گا آزادی سے، یہ قول مجاز ہو جائے گا آزادی سے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ رحمتہً واسعہ کے نزدیک। خلافاً لهما بخلاف صاحبین کے، صاحبین کے نزدیک یہاں مجازی معنی کی طرف نہیں جائیں گے، کیوں نہیں جائیں گے؟ کیونکہ ان کے نزدیک مجاز خلیفہ ہے حقیقت کا حکم میں۔ انہوں نے کیا بتلایا تھا بھئی، آپ نے کیا پڑھا؟ کہ مجاز خلیفہ ہے حقیقت کا حکم میں، تو حقیقی معنی ممکن ہو تو پھر مجازی معنی کی طرف جایا جائے گا، اگر حقیقی معنی ممکن ہی نہ ہو تو مجازی معنی کی طرف بھی؟ تو یہاں حقیقی معنی ممکن ہی نہیں ہے، لہٰذا مجازی معنی یعنی آزادی بھی ثابت نہیں ہو گی، جبکہ امام صاحب کے نزدیک مجاز خلیفہ ہے حقیقت کا لفظوں میں، تو لفظ صحیح ہے، عبارت صحیح ہے عربی اعتبار سے هذا ابني، تو لہٰذا جب لفظ صحیح ہے تو اب کیا کیا جا سکتا ہے؟ مجازی معنی کی طرف جایا جائے، لہٰذا ان کے نزدیک آزاد ہو جائے گا۔ صاحبین بخلاف صاحبین کے، بناءً بناء پر اس کے جو ہم نے ذکر کرنا، وہ جو ہم نے ذکر کیا تھا کہ أن المجاز خلفٌ عن الحقيقةِ في حقِ اللفظِ عندهُ کہ مجاز خلیفہ ہے حقیقت کا لفظوں کے اعتبار سے امام صاحب کے نزدیک، وفي حقِ الحكمِ عندهما اور حکم کے اعتبار سے صاحبین کے نزدیک۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی سب کو؟ فصلٌ في متعلقاتِ النصوصِ نعني بها عبارةَ النصِ وإشارتهُ ودلالتهُ واقتضاءهُ۔ جی، یہ مولانا وہ پانچویں تقسیم آ گئی بھئی جو میں نے آپ کو شروع کتاب میں لکھوائی تھی کہ کتاب اللہ نام ہے لفظ اور معنی دونوں کا، اور لفظ اور معنی میں پانچ قسم کے تعلقات ہیں بھئی۔ ایک تعلق ہے وضع کا کہ لفظ کس معنی کے لئے وضع ہے بھئی، اس اعتبار، دوسری کیا تھا؟ استعمال کہ لفظ کس معنی میں استعمال ہو رہا ہے۔ تیسرا؟ ظهور۔ چوتھا؟ خفاء اور پانچواں؟ دلالت، دلالت کے اعتبار سے۔ تو وضع کے اعتبار سے بھی چار قسمیں آپ نے پڑھی تھیں، کون کون سی؟ خاص، عام، مشترک اور مؤول۔ استعمال کے اعتبار سے بھی آپ نے چار قسمیں پڑھیں، کون کون سی؟ حقیقت، مجاز، صریح اور کنایہ۔ ظهور کے اعتبار سے بھی چار قسمیں آپ نے پڑھیں بھئی، ظاہر، نص، مفسر، محکم۔ اور خفاء کے اعتبار سے بھی چار قسمیں پڑھیں، خفی، مشکل، مجمل اور متشابہ۔ اور اب پانچویں تقسیم جو تھی دلالت کے اعتبار سے کہ وہ لفظ اس معنی پر، اس معنی پر لفظ کی دلالت کی کیفیت کیا ہے بھئی، کس کیفیت کے ساتھ اس پر دلالت کر رہا ہے، اس اعتبار سے بھی چار قسمیں ہیں مولانا۔ ایک ہے عبارۃ النص، اشارۃ النص، دلالۃ النص اور اقتضاء النص بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ عبارت میں آ گئے، عبارۃ النص، اشارۃ النص، هٰذہ ضمیر کس کو راجع ہے؟ نص، تو اشارۃ النص اور دلالۃ النص اور اقتضاء النص بھئی، یہ چار ہیں بھئی، بات سمجھ میں آئی سب کو؟ وجہِ حصر یہ ہے مولانا۔ وجہِ حصر لکھ لیجئے مختصر جلدی جلدی بھئی۔ جی، وجہِ حصر لکھ لیجئے۔ حکم ثابت ہو گا، یاد رکھو پہلے ایک بات یاد رکھو، میں پہلے بھی بتلا چکا ہوں پھر بتلا دیتا ہوں بھئی۔ قرآن کے جو الفاظ ہیں ان کے لئے نظم کا لفظ بولا جاتا ہے، کیا بولا جاتا ہے؟ نظم کا لفظ بولا جاتا ہے، لفظ نہیں استعمال کیا جاتا ادب کے طور پر، ادب کے طور پر۔ کیونکہ لفظ کا لفظ أیلفظُ کا معنی ہے پھینکنا، پھینکنا، سمجھ میں آیا؟ تو اور جبکہ نظم کا معنی ہے پرونا، پرونا۔ ٹھیک ہے بھئی؟ پرونا۔ تو اس کے لئے نظم کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے ادب کے طور پر کہ قرآن کے الفاظ بھی ایسے ہیں جیسے ایک ہار کے اندر موتی پروئے ہوئے ہوتے ہیں، اسی طرح حسیں اور جمیل ہیں، ادب کے طور پر نظم کا لفظ بولا جاتا ہے۔ تو وجہِ حصر بھئی، حکم ثابت ہو گا يا تو نظم سے یا معنی سے۔ حکم ثابت ہو گا نظم سے یا معنی سے۔ اگر نظم سے ثابت ہو تو وہ دو حال سے خالی نہیں۔ تو وہ دو حال سے خالی نہیں۔ یا تو نظم کو اسی مقصد کے لئے چلایا گیا ہو گا یا اسی مقصد کے لئے نہیں چلایا گیا ہو گا۔ یا تو نظم کو اسی مقصد کے لئے چلایا گیا ہو گا یا نہیں؟ نظم کو اسی مقصد کے لئے چلایا گیا ہو گا یا نہیں؟ اگر نظم کو اسی مقصد کے لئے چلایا گیا ہو تو وہ عبارۃ النص ہے۔ تو وہ عبارۃ النص ہے۔ اور اگر نظم کو اسی مقصد کے لئے نہ چلایا گیا ہو، اور اگر نظم کو اسی مقصد کے لئے نہ چلایا گیا ہو، تو وہ اشارۃ النص ہے۔ تو وہ اشارۃ النص ہے۔ اور اگر حکم معنی سے ثابت ہو، اور اگر حکم معنی سے ثابت ہو، تو وہ معنی، اگر باعترافِ لغت ہی کے سمجھ میں آ رہا ہو، اگر وہ معنی، باعتبارِ لغت ہی کے سمجھ میں آ رہا ہو، تو وہ دلالۃ النص ہے۔ تو وہ دلالۃ النص ہے۔ ورنہ، اقتضاء النص۔ ورنہ اقتضاء النص۔ جی، وجہِ حصر سمجھ میں آئی بھئی؟ بھئی، حکم یا تو ثابت ہو گا نظم سے یا معنی سے۔ اگر نظم سے ثابت ہے تو پھر اسی مقصد کے لئے نظم کو چلایا گیا ہو گا يا نہیں۔ اگر اسی مقصد کے لئے چلایا گیا ہے تو عبارۃ النص، اگر اسی مقصد کے لئے نہیں چلایا گیا تو اشارۃ النص۔ اور اگر حکم ثابت ہو رہا ہے معنی سے، تو اگر وہ معنی مفہوم ہو رہا ہے لغت ہی کے اعتبار سے تو وہ کیا ہے؟ دلالۃ النص، اور اگر لغت کے اعتبار سے مفہوم نہیں ہو رہا تو پھر وہ کیا ہے؟ اقتضاء النص بھئی، وجہِ حصر سمجھ میں آئی بھئی؟ یہ یاد رکھنا خوب اچھی طرح بھئی۔ فصلٌ في متعلقاتِ النصوصِ یہ فصل ہے نصوص کے متعلقات کے بیان میں بھئی۔ متعلقاتِ نصوص بھئی۔ نعني بها عبارةَ النصِ ہماری مراد اس سے عبارۃ النص ہے وإشارتهُ اور اشارۃ النص ہے ودلالتهُ واقتضاءهُ اور دلالۃ النص ہے اور اقتضاء النص ہے۔ فأما عبارةُ النصِ پس باقی عبارۃ النص جو ہے فهو ما سيق الكلامُ لأجلهِ وہ ہے جس کے لئے کلام کو چلایا گیا ہو وأريدَ بهِ قصداً اور ارادہ کیا گیا ہو اس کے ساتھ کلام کا قصداً۔ جی؟ قصداً ارادہ، قصد کرتے ہوئے۔ ارادہ کیا گیا ہو قصد کرتے ہوئے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ عبارۃ النص کسے کہتے ہیں بھئی؟ جس کے لئے کلام کو چلایا گیا ہو اور اس کا ارادہ کیا گیا ہو قصداً بھئی، اس کا ارادہ کیا گیا ہو قصداً بھئی۔ یاد رکھو یہ تعریف جو مصنف نے فرمائی یہ عبارۃ النص کی تعریف نہیں ہے، یہ اس حکم کی تعریف کر دی جو عبارۃ النص سے کیا ہوتا ہے؟ معلوم ہوتا ہے، ثابت ہوتا ہے۔ عبارۃ النص تو وہ عبارت ہے مولانا، وہ کیا ہے؟ وہ نظم، وہ نظم، وہ کیا، اس کا کیا نام ہے؟ عبارۃ النص، اور اس سے جو حکم معلوم ہو رہا ہے جس کے لئے اس نظم کو چلایا گیا، اس کی تعریف کر دی، کیا کر دی؟ تعریف اس کی کی بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اس، تو تعریف اس حکم کی کر دی جو عبارۃ النص سے مفہوم ہو رہا ہے، اور اسی سے عبارۃ النص کی تعریف بھی سمجھ میں آ گئی۔ کیا آ گئی؟ بھئی، تعریف کس کی کی؟ جس مقصد کے لئے کلام کو چلایا جائے، وہ حکم ہے نا؟ وہ کیا چیز ہے؟ تو وہ حکم ہے، جس کے لئے کلام کو چلایا گیا، اور وہ عبارت، وہ کیا ہے؟ عبارۃ النص، وہ کیا ہے؟ تو عبارۃ النص نام ہے اس عبارت کا، اس نظم کا، جبکہ جو حکم اس سے معلوم ہو رہا ہے اس کے لئے اس نظم کو چلایا گیا ہے۔ اس نظم کو کیا کیا گیا ہے؟ چلایا گیا ہے، تو تعریف کر دی حکم کی جو عبارۃ النص سے کیا ثابت ہو رہا ہو، کیونکہ اسی سے عبارۃ النص کی تعریف بھی سمجھ میں آ، ا، آ رہی ہے، سب کو بات سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ وأما إشارةُ النصِ اور اشارۃ النص جو ہے فهي ما ثبتَ بنظمِ النصِ وہ ہے جو ثابت ہو نص کی نظم سے، لفظ سے بھئی، نظم سے من غيرِ زيادةٍ بغیر کسی زیادتی کے وهو غيرُ ظاهرٍ من كلِ وجهٍ اور وہ جو حکم ہے، غیرِ ظاہر ہو مولانا ہر اعتبار سے، یعنی من کل، من کل وجہ ظاہر نہ ہو، من وجہ ظاہر ہو اور من وجہ پوشیدہ ہو بھئی، سمجھ میں آیا؟ بھئی، حکم معلوم ہو رہا ہے نص سے، لیکن نص کو اس کے لئے چلایا نہیں گیا، اشارۃً مفہوم ہو رہا ہے، کیا ہو رہا ہے؟ اشارۃً مفہوم ہو رہا ہے۔ تو من وجہ ظاہر ہے وہ حکم اور من وجہ خفی ہے، من وجہ خفی ہے۔ تو یہ، تو یہ ظاہر سے فرق آگیا بھئی۔ ولم یسق الکلام لاجلہ اور کلام کو اس کے لیے چلایا بھی نہیں گیا۔ مثالہ مثال سے بات سمجھ میں آئے گی، دیکھیے بھئی۔ مثالہ فی قولہ تعالی، مثال اس کی اللہ کے اس قول میں ہے: للفقراء المہاجرین الذین اخرجوا من دیارہم۔ بھئی یہاں غنیمت کا استحقاق، مال کا استحقاق بیان ہو رہا ہے کہ مال غنیمت کے مستحق کون لوگ ہیں؟ تو کہا کون ہیں؟ للفقراء المہاجرین، ان فقراء کے لیے جو مہاجرین ہجرت کرنے والے ہیں، الذین اخرجوا من دیارہم جو نکالے گئے اپنے گھروں سے بھئی۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم انہوں نے ہجرت کی مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ ہجرت کی مولانا، سارا مال وہی چھوڑ آئے، کچھ بھی نہیں تھا پاس۔ تو اب مال غنیمت کے استحقاق میں، میں یہ بتلایا گیا کہ یہ بھی کیا ہیں؟ مال غنیمت کے مستحق ہیں، ان کو بھی مال غنیمت دیا جائے، یہ اپنا سارا کچھ اللہ کے راستے میں کیا ہیں؟ چھوڑ آئے ہیں بھئی۔ تو دیکھا، یہ آیت چلائی گئی کس لیے؟ استحقاق غنیمت بتلانے کے لیے کہ غنیمت کے مستحق کون لوگ ہیں۔ اسی لیے چلائی گئی ہے نا بھئی؟ ظاہر ہو رہی ہے یہ بات یا نہیں؟ یہ بات ظاہر ہو رہی ہے، اسی لیے یہ آیت چلائی گئی بھئی۔ اچھا، الایۃ، الایۃ بھی پڑھ سکتے ہیں، الایۃ بھی پڑھ سکتے ہیں۔ سمجھ میں آیا؟ یعنی تھوڑی سی آیت ذکر کر دی اور آگے الایۃ معلومۃ، خبر محذوف ہے کہ آیت کیا ہے؟ معلوم ہے آپ کو بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ آیت، تو یہ مبتدا ہے، خبر محذوف الایۃ معلومۃ۔ یا مولانا، یہ منصوب ہے، مفعول بہ ہے اقرا الایۃ، یعنی پوری آیت پڑھ لیجیے۔ یہ ہم نے کچھ ذکر کر دی۔ اچھا، فانہ سیق، اس لیے کہ یہ جو نظم ہے سیق، اس کو چلایا گیا ہے لبیان استحقاق الغنیمۃ، غنیمت کے استحقاق کو بیان کرنے کے لیے، فصار نصا فی ذلک، تو یہ اس میں کیا ہوئی مولانا؟ نص ہوئی مولانا، نص بھئی۔ تو یہ عبارت النص ہے۔ وقد ثبت فقرہم، لیکن مولانا ایک اور بات بھی معلوم ہو رہی ہے اس نص سے جو ہر لحاظ سے ظاہر بھی نہیں اور ہر لحاظ سے خفی بھی نہیں، وہ کیا؟ اللہ نے فقراء کا لفظ فرمایا بھئی، فقراء المہاجرین، وہ مہاجرین کیسے ہیں؟ فقراء ہیں، معلوم ہوا ان کے پاس مال نہیں ہے۔ بھئی مال تو ان کے پاس بڑا ہے، وہ تو بڑے اپنے جائداد چھوڑ کر آئے ہیں، وہ ساری چیزیں ان کی ہیں، ان کے کھیت، تجارت، دکانیں، پتہ نہیں کیا کچھ چھوڑ کر اللہ کے راستے میں وہ چھوڑ کر گئے بھئی ساری جائدادیں، مال۔ تو وہ سارا کچھ، لیکن اللہ فقراء فرما رہے ہیں ان کو، معلوم ہوا وہ چیز ان کی ملکیت سے نکل چکی ہے، اسی لیے تو فقیر ہیں۔ اگر ان کی ملکیت میں ہوتی تو فقراء تھے یہ؟ یہ فقراء نہیں تھے مولانا۔ معلوم ہوا فقراء سے اشارہ ہو گیا اس بات کی طرف کہ وہ جو مال تھا، وہ ان کی ملکیت سے نکل چکا ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ بات سمجھ میں آئی سب کو بھئی؟ وقد ثبت فقرہم بنظم النص اور تحقیق ان کا فقر ثابت ہو رہا ہے کس سے؟ نظم نص سے ثابت ہو رہا ہے، فکان اشارۃً، تو یہ اللہ کا قول یہ فقراء اشارہ ہے الی ان استیلاء الکافرین، استیلاء کا معنی غلبہ پانا، غلبہ حاصل کرنا۔ کہ کافروں کا، کافر کا غلبہ پانا علی مال المسلم، کس پر؟ مسلمان کے مال پر، سبب، یہ سبب ہے ثبوت الملک الکافر، کافر کے لیے ملکیت کے، معلوم ہوا وہ جو یہ اپنا مال وہاں چھوڑ کر آئے تھے، وہ کفار ان کے مالک بن گئے۔ کیا بن گئے؟ مالک بن گئے۔ اذ لو کانت الاموال باقیۃ علی ملکہم، اس لیے کہ اگر وہ مال مسلمانوں کے وہ جو مال تھے، وہ باقی ہوتے انہی کی ملکیت، مسلمانوں کی ملکیت میں باقی ہوتے، لا یثبت فقرہم، پھر تو ان کا فقر ثابت ہی نہیں ہوتا، لیکن اللہ ان کو کیا فرما رہے ہیں؟ فقراء، معلوم ہوا وہ مال ان کی ملکیت سے نکل گیا ہے اور کس کی ملکیت میں چلا گیا؟ اب کافر ان کے مالک بن گئے باقاعدہ بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ مالک بن گئے۔ یہ بات سب کو سمجھ میں آئی؟ اس پر اشکال ہوتا ہے کہ بھئی فقراء کہنے سے یہ تو پتہ چل گیا کہ مال ان کی ملکیت سے نکل گیا، یہ کافروں کا مالک ہونا کہاں سے ثابت ہوا؟ یہ تو پتہ چل گیا فقراء جب ان کو کہا معلوم ہوا ان کا مال اب ان کی ملک میں نہیں، معلوم ہوا ان کے نکل گیا، لیکن یہ کفار مالک بن گئے، یہ کہاں سے ثابت ہوا؟ تو جواب یہ ہے مولانا، الشیء اذا ثبت ثبت بجميع لوازمہ، جب کوئی ایک چیز ثابت ہوتی ہے تو اپنے سارے لوازمات کے ساتھ ثابت ہوتی ہے۔ تو یہاں پر جب مال ان کی ملکیت سے نکلا تو لازم ہے کہ وہ مال کسی اور کی ملکیت میں جائے۔ لازم ہے یا نہیں مولانا؟ اس لیے کہ اگر ایسا نہ مانا جائے تو پھر زوالِ شئے لا الی مالک لازم آئے گا۔ کیا لازم آئے گا؟ زوالِ شئے لا الی مالک بھئی، کوئی چیز کسی کی ملکیت سے نکلی ہے اور کسی دوسرے کی ملکیت میں داخل بھی نہیں ہوئی، ولا نظیر لہ فی الشرع، شریعت میں اس کی کوئی نظیر نہیں ہے کہ کوئی مال کسی کی ملکیت سے نکلے اور دوسرے کی ملکیت میں داخل بھی نہ ہو۔ آپ کی ملک سے نکلتا ہے تو لازمی ہے کہ وہ کسی اور کی ملک میں داخل ہو۔ تو لہٰذا کافروں کا مالک ہونا کس سے ثابت ہوا؟ کیونکہ الشیء اذا ثبت ثبت بجميع لوازمہ، تو سارے لوازم کے ساتھ ثابت ہوتی ہے، جب ان کی ملکیت سے نکل گیا معلوم ہوا ان کی ملکیت میں چلی گئی۔ دیکھیے استاد تو نہیں آئے۔ ویخرج منہ الحكم فی مسئلۃ الاستیلاء، اور نکالا جائے گا اس سے، جی؟ اچھا۔ چلیے بس مولانا، هذا هو المرام، باقی کل پڑھیں گے بھئی، هذا هو المرام والله اعلم بحقيقة الكلام۔