کل کے سبق میں مولانا صریح اور کنایہ کی فصل ہم نے شروع کی تھی بھئی۔ بتلایا تھا صریح وہ لفظ ہے جس کا معنی مراد کیا ہو؟ ظاہر ہو۔ جیسے کہ بعت اور اشتریت وغیرہ کہ ان کا معنی مراد ظاہر ہے بھئی۔ اور اس کا حکم بھی بتلایا تھا کہ یہ اپنے معنی کے کیا کر دیتا ہے؟ ثابت کر دیتا ہے بھئی، ثابت کر دیتا ہے۔ جس طریقہ پر بھی یہ آ جائے، چاہے خبر کے طریقہ پر ہو، چاہے وصف کے طریقہ پر ہو، اور چاہے نداء کے طریقہ پر ہو۔ لہٰذا کسی نے اپنی بیوی سے کہا انت طالق، وصف کے طریقہ پر۔ یا طلقتک، خبر کے طریقہ پر۔ یا پھر مولانا نداء کے طریقہ پر بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو انت طالق صفت کے طریقہ پر کہا کہ تو طلاق والی ہے، یعنی طلاق تیری صفت ہے، طلاق والی۔ اور طلقتک یہ خبر ہے، تجھے میں نے طلاق دی۔ ویا طالق اور یہ کیا ہے؟ نداء۔ تو یہ مولانا اب طلاق کا لفظ یہ طالق وغیرہ یہ صریح ہیں، لہٰذا یہ اپنے معنی کو ثابت کر دیں گے اور عورت کو کیا ہو جائے گی؟ طلاق ہو جائے گی۔ اور دوسرا حکم بتلایا تھا کہ اس میں نیت کی بھی ضرورت نہیں، تو یہاں بھی نیت کی ضرورت بھی نہیں ہوگی مولانا، طلاق واقع۔ اس لیے کہ نیت کی ضرورت تو اس لیے ہوتی ہے کہ تاکہ کئی احتمالات میں سے کسی ایک احتمال کو متعین کر دیا جائے اور یہاں تو اور دیگر احتمالات سرے سے موجود ہی لہٰذا نیت کی بھی ضرورت نہیں۔ اسی طرح کسی نے اپنے غلام سے کہا انت حر، یا حررتک، یا یا حر، تو تینوں صورتوں میں غلام کیا ہو جائے گا؟ آزاد ہو جائے گا، نیت کی ضرورت نہیں ہے بھئی۔ اور پھر اسی پر مولانا کہ کہ صریح کا جو ہوتا ہے صریح وہ ہے جس کی مراد ظاہر ہو اور وہ کیا کرتا ہے؟ اپنے معنی کو ثابت کر دیتا ہے۔ اسی بنا پر کہتے ہیں کہ ہم نے تیمم کے بارے میں کہا کہ یہ فائدہ دیتا ہے طہارت مطلق، طہارت کا بھئی۔ یہ طہارت مطلقہ ہے، اس سے کامل طہارت حاصل ہوتی ہے۔ کیوں؟ کیونکہ حاصل ہوتی ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جہاں تیمم کا حکم دیا آگے اللہ فرماتے ہیں ولکن یرید لیطہرکم۔ اللہ کیا ارادہ کرتے ہیں؟ کہ تمہیں پاک کر دیں۔ تمہیں پاک کرنے کا ارادہ کرتے ہیں، تو لیطہرکم یا تطہیر کا لفظ آ گیا مولانا اور تطہیر کس کو کہتے ہیں؟ نجاست کو دور کرنا اور پاکی کو ثابت کرنا، پاک کرنا۔ اس کا کیا معنی تطہیر کا معنی؟ پاک کرنا ہے، جس میں نجاست کو کیا کیا جائے گا؟ معلوم ہوا یہ تیمم بھی کیا کرتا ہے؟ تطہیر کا فائدہ دے گا مولانا، کس چیز کا؟ پاک کر دے گا، اس سے کس قسم کی طہارت حاصل ہوگی؟ طہارت کاملہ، طہارت مطلقہ حاصل ہو جائے گی جیسے وضو سے حاصل ہوتی ہے بھئی۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تیمم طہارت ضروریہ ہے۔ دو قول ہیں، ایک طہارت ضروریہ ہے بھئی، طہارت ضروریہ ہے بھئی۔ اور دوسرا قول ان کا کیا ہے کہ یہ جی؟ یہ ساتر للحدث ہے مولانا، حدث پر کیا کرنے والا ہے؟ حدث کو چھپا دیتا ہے، پردہ ڈال دیتا ہے، حدث کو دور نہیں کرتا، صرف اس پہ پردہ پڑ جاتا ہے۔ تو لہٰذا یہ ساتر للحدث ہوا، یہ طہارت ہے ہی نہیں سرے سے۔ اور ایک قول یہ کہ طہارت ضروریہ ہے، ضرورت کی بنا پر جائز ہوگا، بغیر ضرورت کے جائز نہیں ہوگا۔ اور ضرورت کس میں ہے؟ فرض نماز کو ادا کرنے میں بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ فرض نماز کو ادا کرنے میں۔ دلیل ان کی مولانا، ہماری دلیل تو یہ ہے مولانا، یہ جو ولکن یرید لیطہرکم یہ دلیل ہے کہ یہاں تطہیر آئی اور تطہیر کا لفظ صریح ہے، کیا ہے؟ اس کا معنی ظاہر ہے، لہٰذا یہ ثابت ہوگا اور اس سے کیا حاصل ہو جائے گی تیمم سے؟ طہارت حاصل ہو جائے گی بھئی۔ وہ کہتے ہیں بھئی کہ تیمم طہارت ضروریہ ہے۔ ضرورت کی بنا پر ہے، یا یہ ساتر للحدث ہے، یہ کیا ہے؟ ساتر للحدث۔ کہتے ہیں دیکھتے نہیں ہو کہ جب ایک شخص جس کو پانی نہیں ملا تھا، اس نے تیمم کر لیا، لیکن جیسے ہی اس کو پانی ملتا ہے، فوراً آپ حکم لگا دیتے ہیں تیمم ختم، اب کیا کرو؟ وضو کرو۔ معلوم ہوا تیمم جو ہے وہ اس نے اس حدث پر پردہ ڈال ہوا تھا اور اب جیسے ہی پانی مل گیا تو وہ پردہ ہٹ گیا اور دوبارہ کیا آپ پر حکم لگا دیا گیا کہ آپ حالت حدث میں ہیں، اب پھر کیا کر لو؟ وضو کر لو۔ معلوم ہوا کہ اگر تیمم نے طہارت کا فائدہ دیا ہوتا تو دوبارہ حدث لوٹ کر نہیں آ سکتا تھا بھئی، ایک دفعہ جب حدث چلا گیا تو خود بخود دوبارہ لیکن آپ بھی یہاں اے احناف حکم کیا لگاتے ہو کہ جیسے پانی پر انسان قادر ہو جائے گا پھر اس کو کیا کرنا پڑے گا؟ تیمم اس کا باقی نہیں رہتا، اس کو کیا کرنا پڑے گا؟ معلوم ہوا یہ ساتر للحدث ہے، یہ کیا ہے؟ ساتر للحدث ہے۔ احناف جواب دیتے ہیں کہ نہیں بھئی، یہ ساتر للحدث نہیں، طہارت مطلقہ ہے اور اس پہ جو آپ کہہ رہے ہیں کہ جب پانی پر استعمال پر قادر ہو جائے اور پھر آپ وضو کا حکم دیتے ہیں، اس کی وجہ یہ ہے مولانا کہ تیمم کی شرط مفقود ہو گئی، تیمم کے لیے شرط کیا تھی کہ پانی کے استعمال پر قادر نہ ہو اور اب تو پانی مل گیا یا پانی کے استعمال پر قادر ہو گیا، تو شرط ختم ہوئی اور جب شرط ختم تو مشروط بھی ختم ہوا بھئی۔ اس وجہ سے ہم کیا کرتے ہیں دوبارہ وضو کا حکم دیتے ہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اور اس پر کئی مسائل نکالے تھے کہ صاحب کتاب نے آپ کو بتلایا تھا کہ کئی مسائل نکالے جاتے ہیں دونوں مذہبوں پر من جوازہ قبل الوقت، یعنی کہ جائز ہونا تیمم کا وقت سے پہلے بھئی۔ ان کے نزدیک یہ طہارت ضروریہ ہے، لہٰذا ضرورت سے پہلے تیمم کی اجازت نہیں۔ ہمارے نزدیک وقت سے پہلے بھی جائز کیونکہ یہ طہارت مطلقہ ہے، وضو کی طرح جیسے وضو کسی بھی وقت کیا جا سکتا ہے، تیمم بھی جب پانی نہ ملے تو تیمم کیا جا سکتا ہے کسی وقت، وقت سے پہلے بھی۔ اور اسی طرح مولانا، جائز ہونا دو فرضوں کا بالتیمم الواحد، کس کے ساتھ؟ ایک تیمم کے ساتھ بھئی۔ ان کے نزدیک طہارت ضروریہ ہے، لہٰذا اس کے ساتھ ایک فرض ہی پڑھ سکتے ہیں، دو فرض نہیں پڑھ سکتے۔ ایک وقت میں ایک ہی فرض کی ضرورت ہے، اس کے لیے تو ضرورت کی بنا پر تیمم کریں، فرض پڑھیں۔ دوسرے فرض کے کا تو ابھی وقت ہی نہیں ہوا، جب اس کا وقت آئے گا پھر ضرورت پیش آئے گی نماز کی، پھر اس کے لیے پانی نہ ملے تو کیا کرو؟ تیمم کرو۔ اور احناف کیا کہتے ہیں بھئی؟ یہ تو طہارت مطلقہ ہے، وضو کی طرح ہے، جیسے ایک وضو سے کئی نمازیں پڑھ سکتا ہے، تو ایک تیمم سے بھی کئی فرض پڑھ سکتا ہے۔ اسی طرح مولانا، تیمم کرنے والا امامت کروا سکتا ہے یا نہیں کروا سکتا؟ عند الاحناف، وضو کرنے والوں کی امامت کروا سکتا ہے، اس لیے کہ جیسے وضو طہارت کاملہ ہے، تیمم بھی طہارت کاملہ، تو دونوں امام اور مقتدی دونوں کی طہارت کامل درجے کی ہوئی، جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک یہ کیا ہے؟ طہارت ضروریہ، اور وضو جو ہے طہارت کاملہ، اور لہٰذا جو وضو کرنے والا ہے اس کی طہارت اعلیٰ درجے کی اور تیمم کرنے والے کی طہارت ادنیٰ درجے کی، تو اس صورت میں لہٰذا تیمم کرنے والا وضو کرنے والوں کی امامت نہیں کر سکتا، ورنہ تو امام کا ادنیٰ ہونا لازم آئے گا کس سے؟ مقتدی سے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تیسرا مسئلہ یہ نکالا تھا بھئی کہ بھئی ضرورت کی بنا پر یہ طہارت ضروریہ ہے، لہٰذا اگر کسی کو اپنی جان کے جانے کا خوف ہو وضو سے، یا سردی ہے، یا مولانا اس کے اپنے عضو کے تلف ہونے کا خدشہ ہو، پھر ضرورت ہے اور اب تیمم کر سکتے ہو، کیونکہ تیمم بھی ضرورت کی بنا پر کیا جاتا ہے، طہارت ضروریہ ہے۔ ہاں، اگر بیماری بڑھنے کا خدشہ ہو یا بیمار ہونے کا خدشہ ہو تو یہ کوئی ضرورت نہیں ہے، صرف اس خوف کی وجہ سے تیمم کی اجازت جبکہ ہمارے نزدیک یہ ان کے لیے بھی کیا کیا جا سکتا ہے؟ تیمم کیا جا سکتا ہے بھئی، تیمم۔ اسی طرح بھئی، ہمارے نزدیک عید اور جنازہ، عید، نماز عید اور نماز جنازہ جو ہے اب اس کے لیے آپ عید کی نماز کا وقت ہو گیا اور آپ کا وضو نہیں، پانی نہیں ہے، تو تیمم کر کے پڑھ لو بھئی، اس لیے کیونکہ اس کا کوئی خلیفہ نہیں۔ عید کی نماز کی قضا نہیں، اسی طرح مولانا جنازہ ہے، اس کی بھی کوئی قضا نہیں، جب خلیفہ نہیں ہے تو اصل فوت ہو جائے گا، اصل بھی گیا، خلیفہ بھی کوئی نہیں ہے، لہٰذا اب ضرورت ہے تو کیا کر لو؟ وہ تیمم کر لو، وہیں پر کیا کر لو؟ تیمم کر لو اور جنازے میں شرکت کر لو، عید کی نماز میں شرکت کر لو، جبکہ وہ فرماتے ہیں نہیں، یہ ضروری یہ تو فرض ہی نہیں ہے، لہٰذا ضرورت نہیں، اور یہ تیمم تو طہارت ضروریہ ہے، ضرورت کی بنا پر طہارت کا فائدہ دے گا ورنہ ویسے طہارت کا فائدہ لہٰذا اس کے ذریعے یہ جائز نہیں ہے مولانا کہ ان کے لیے کیا کیا جائے؟ تیمم کہ ان کے لیے ان کی اجازت نہیں۔ اسی طرح مولانا، ہمارے نزدیک تیمم طہارت مطلقہ ہے، لہٰذا صرف طہارت کی نیت کرتے ہوئے بھی تیمم کرنا جائز ہے، جبکہ ان کے نزدیک یہ طہارت ضروریہ ہے، ضرورت کی بنا پر ہوگا، یعنی کسی نماز وغیرہ کے پڑھنے کی ضرورت کے لیے، لہٰذا صرف طہارت کی نیت سے تیمم صحیح نہیں، بلکہ اس نیت کے ساتھ کہ میں اس تیمم سے طہارت حاصل کرتا ہوں اس نماز کے لیے۔ سمجھ میں آیا؟ تو وہ ضرورت کی نیت کرنا بھی ضروری، کس نماز، کس فرض کے لیے کر رہے ہیں بھئی۔ مطلق نیت کرنا، پاکی کی نیت کرنا کافی نہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی سب کو؟ والکنایۃ ہی ما استتر معناہ، اور کنایہ وہ ہے کہ جس کے معنی جس کا معنی پوشیدہ ہو۔ کنایہ وہ ہے جس کا معنی کیا ہو؟ پوشیدہ ہو، پوشیدہ ہو۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ یعنی اس کے معنی میں کئی احتمالات ہوں بھئی، کئی احتمالات ہوں۔ ظاہر نہ ہو، اس کا معنی ظاہر، اس کا معنی مراد کیا ہو؟ کنایہ کس کو کہتے ہیں؟ جس کا معنی مراد ظاہر والمجاز قبل ان یصیر متعارفا بمنزلۃ الكنایۃ، اور مجاز متعارف ہونے سے پہلے کس کے درجے میں ہے؟ کنائے کے درجے میں ہے بھئی، مجاز متعارف۔ بھئی بتلایا تھا ایک لفظ کا حقیقی معنی، ایک لفظ کا مجازی معنی، اور اگر حقیقی معنی زیادہ مش مشہور، مجازی معنی حقیقت سے زیادہ مشہور ہو جائے تو پھر یہ مجازی معنی کیا کہلاتا ہے؟ مجاز متعارف کہلاتا ہے۔ اور مجاز جو ہے متعارف ہونے سے پہلے، مشہور ہونے سے پہلے کنائے کے درجے میں ہے، کس کے درجے میں ہے؟ کنایہ نہیں ہے، لیکن کنائے کے درجے میں ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ بمنزلۃ الکنایہ کہا، کیونکہ وہاں پر مولانا کئی احتم، دو احتمال آ گئے، لفظ کے حقیقی معنی کا بھی احتمال ہے اور مجازی معنی کا بھی، بھئی مجازی معنی بھی تو ہے، لفظ کا ایک حقیقی معنی ہے اور دوسرا کیا ہے؟ مجازی معنی بھی ہے، لیکن ابھی وہ متعارف نہیں ہوا، تو کتنے احتمال آ گئے؟ دو ہو گئے، دو احتمال آ گئے۔ وحکم الکنایۃ، اب کنایہ کا حکم بتلا رہے ہیں، کہتے ہیں وحکم الکنایۃ ثبوت الحکم بہا عند وجود النیۃ او بدلالۃ الحال اذ لا بد لہ من دلیل یزول بہ التردد ویترجح بہ بعض الوجوہ، بھئی یاد رکھو کنایہ وہ ہے جس کا معنی مراد، جس کے معنی جس کا معنی مراد کیا ہو؟ پوشیدہ ہو، وہاں کئی احتمال ہوں، کئی احتمال ہوں بھئی کہ پتہ نہیں یہ مراد ہے یا یہ مراد ہے یا یہ مراد ہے۔ تو لہٰذا اب جب دو تین معنی آ گئے تو اب کہ پتہ نہیں کون سا معنی ہے تو مراد ہے اس لیے کس کون سا معنی مراد ہے کس کو ترجیح دی جائے اس کے لیے دلیل چاہیے، کیا چاہیے؟ دلیل چاہیے کہ کون سے احتمال کو اس کا معنی قرار دے دیں کہ یہ مراد ہے یہاں پر اس سے، تو اس کے لیے دلیل چاہیے مولانا، اور وہ دلیل یا تو نیت ہوگی یا دلالت حال ہوگی، حال بتلا دے گا، حال دلالت کر دے گا کہ یہ والا معنی مراد ہے۔ یا نیت وہ کر لے تو نیت کی وجہ سے بھی ایک معنی کو کیا ہو گئی باقی معانی پر باقی احتمالات پر ترجیح ہو گئی بھئی، سمجھ میں آیا؟ جب اس کا معنی مراد پوشیدہ تھا تو اب اس کے لیے ترجیح کے لیے کسی ایک احتمال کو ترجیح دینے کے لیے کیا چاہیے؟ دلیل چاہیے، اور وہ دلیل کیا ہوگی؟ یا تو متکلم کی، جب اس نے نیت کر لی تو وہ احتمال کیا ہو گیا متعین ہو گیا، دوسرے احتمالات کیا ہوئے؟ ختم ہو گئے، یا دلالت حال، اس متکلم کا حال وہ ہے دلالت کر دے گا، بتلا دے گا کہ اس نے اس معنی سے اس لفظ سے کون سے معنی کا ارادہ کیا ہے، مثلاً کنائے کا لفظ بولتا ہے وہ اور کیا کہتا ہے؟ انت بائن، انت بائن۔ اب بائن کے اندر مولانا کئی احتمالات ہیں، بائن کا معنی جدا، تو جدا ہے، یا تو اس کا معنی یہ ہے مولانا کہ تو جدا ہے حسن و جمال کے اندر بھئی، کس کے اندر؟ حسن و جمال کے اندر، تیرے جیسی تو حسیں و جمیل کوئی ہے ہی نہیں، اپنی بیوی سے کہہ رہا ہے۔ یا انت بائن کا کیا معنی ہے؟ تو مجھ سے جدا ہے، یعنی تیرے اور میرے درمیان نکاح کیا ہوا؟ ٹوٹ گیا، تو مجھ سے جدا ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ جدا ہے۔ کیا بات ہو رہی تھی؟ تو مجھ سے جدا ہے بھئی، جدا ہے۔ اب یہ لفظ مولانا اس میں دونوں، اس انت بائن کے اندر بھئی یہاں دونوں احتمالات آ گئے بھئی، ایک طلاق کا بھی احتمال آ گیا اور ایک دوسرا غیر طلاق کا احتمال بھی آ گیا، لہٰذا اب کس احتمال کو ترجیح دی جائے؟ اس کے لیے دلیل چاہیے، اب متکلم کی نیت دیکھی جائے گی مولانا، اگر نیت اس شخص نے کس چیز کی کی تھی؟ حسن و جمال کے اعتبار سے، تو معلوم ہوا اب اس سے طلاق واقع نہیں، کیونکہ یہ معنی متعین ہو گیا، ترجیح ہو گئی اس معنی کو۔ یا مولانا نیت کا دلالت حال بھی دلیل بن جائے گی، مثلاً مذاکرہ طلاق ہے مولانا، بیوی کس چیز کا مطالبہ کر رہی ہے؟ طلاق کا مطالبہ کر رہی ہے، اس کو کہتے ہیں مذاکرہ طلاق، اس بات پر بحث مباحثہ جاری ہے، اس دوران خاوند نے کہا انت بائن، اب معلوم ہوا مذاکرہ طلاق میں یہ لفظ بولنا یہ دلیل ہے اس بات کی کہ اس نے اس سے کس چیز کا ارادہ کیا ہے؟ طلاق کا ارادہ کیا ہے، تو اب اس طلاق والے معنی کو کیا دے دی جائے گی؟ ترجیح دے دی جائے گی۔ سمجھ میں آیا؟ وحکم الکنایۃ، اور کنایہ کا حکم جو ہے، ثبوت الحکم بہا، حکم اس سے ثابت ہونا ہے، عند وجود النیۃ، وجود نیت کے پائے جانے کے وقت، او بدلالۃ الحال، یا دلالت دلالت حال کے، دلالت حال کے ساتھ، اذ لا بد لہ من دلیل، اس لیے کہ اس کے لیے دلیل کا ہونا ضروری ہے، یہ ایسی دلیل، یزول بہ التردد، جس سے تردد کیا ہو جائے؟ زائل، دیکھا؟ دلیل نکرہ ہے اور اس کے بعد کیا آ رہا ہے؟ فعل آ رہا ہے، اور نکرہ کے بعد فعل آئے تو کیا ترجمہ کرتے ہیں بھئی؟ موصوف صفت والا، اور موصوف سے پہلے کیا لفظ لے آتے ہیں؟ ایسا، اس لیے کہ ضروری ہے اس کے لیے ایسی دلیل کا ہونا یزول بہ التردد جس سے تردد زائد ہو، زائل ہو جائے، ویترجح بہ بعض الوجوہ، اور ترجیح پا جائے بھئی بعض وجوہ، بعض معانی، یعنی کوئی ایک معنی، میں نے بتلایا تھا بعض کی اضافت جب جمع کی طرف ہو جائے تو اس سے کیا مراد ہوتا ہے؟ ایک فرد مراد ہوتا ہے، اور ترجیح پا جائے کوئی ایک وجوہ سے مراد معانی ہیں، وجوہ بمعنی معانی، اور ترجیح پا جائے کوئی ایک معنی، ایسی دلیل چاہیے جس سے ایک معنی ترجیح پا جائے مولانا، سمجھ میں آیا بھئی؟ ولہذا المعنی، اور اسی علت کی بنا پر، معنی کا کیا ترجمہ کریں یہاں پر بھئی؟ اسی علت کی بنا پر سمی لفظ البینونۃ والتحریم کنایۃ فی باب الطلاق، بینونت اور تحریم کے لفظ کو کنایہ قرار دیا گیا ہے۔ کیا دیا گیا ہے؟ کیا کہا کیا کہا گیا ہے بینونت اور تحریم کے لفظ کو؟ کنایہ کہا گیا ہے فی باب الطلاق باب الطلاق کے اندر لمعنى التردد والاستتار، تردد اور استتار کے معنیٰ کے معنیٰ کی وجہ سے مولانا، سمجھ میں آیا؟ لا انہ یعمل عمل الطلاق، اس وجہ سے نہیں کہ یہ طلاق والا عمل کرتے ہیں بھئی۔ بھئی یہی اسی علت کی وجہ سے، کیا علت ہے کہ کنایہ کس کو کہتے ہیں؟ کنایہ کی مراد کیا ہوتی ہے؟ پوشیدہ ہوتی ہے، چھپی ہوئی ہوتی ہے۔ کنایہ کس کو کہتے ہیں؟ جس کی مراد پوشیدہ ہوتی ہے، اسی وجہ سے بینونت اور تحریم کے لفظ کو کنایہ کہا گیا ہے باب الطلاق کے اندر بھئی، فقہاء نے اس کو کیا قرار دیا ہے؟ کنایہ، مثلاً ایک شخص اپنی بیوی سے کہتا ہے انت بائن یا انت حرام، تو یہ اس کو فقہاء نے کیا قرار دیا ہے؟ کنایہ قرار دیا ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ کیوں؟ بھئی وہ علت وہ وجہ کہ کنایہ کس کو کہتے ہیں جس کے معنیٰ میں کیا پایا جائے؟ جس کا معنیٰ کیا ہو؟ پوشیدہ۔ اب یہ لفظ حقیقۃً تو کنایہ نہیں ہے لیکن ان کی یہاں مراد کیا ہو گئی؟ پوشیدہ، ان کی مراد کیا ہے؟ پوشیدہ ہے پوشیدہ ہے۔ سمجھ میں آیا؟ معنیٰ تو ان کا ظاہر ہے، بینونت کا معنیٰ کیا ہے؟ جدا ہونا۔ کوئی خفا ہے اس معنیٰ کے اندر؟ معنیٰ تو ظاہر ہے۔ حرام کا کیا معنیٰ؟ ممنوع ہونا، کوئی خفا ہے معنیٰ کے اندر؟ نہیں نہیں، لیکن جب باب الطلاق کے اندر بات آتی ہے تو چونکہ ان کے معنیٰ میں تردد آ گیا مولانا، کیا آ گیا؟ مثلاً خاوند نے کہا انت بائن، اب بائن میں پتہ نہیں کون سے جدا ہونا تو ٹھیک ہے، تو جدا ہے۔ لیکن کس چیز میں جدا ہے؟ معنیٰ تو ظاہر ہے تو جدا ہے، لیکن کس چیز میں جدا ہے؟ حسن و جمال میں جدا ہے یا تو مجھ سے جدا ہے؟ تردد آ گیا مولانا، کیا آ گیا؟ تو اس تردد کی وجہ سے اس کو کنایہ قرار دیا جا رہا ہے اگرچہ یہ حقیقۃً کنایہ نہیں ہے۔ اسی طرح مولانا، انت حرام، تو حرام ہے۔ اس کو کیا قرار دیا ہے فقہاء نے؟ حالانکہ اس کا معنیٰ ظاہر ہے، کنایہ کیوں قرار دیا گیا ہے؟ اس لیے کہ اس کے معنیٰ میں تردد آ گیا، تو حرام ہے، تو ممنوع ہے، یہ بات تو ظاہر ہے، لیکن کیا؟ ایک معنیٰ یہ، تو حرام ہے مجھ پر، تو حرام ہے مجھ پر۔ یا ایک معنیٰ یہ کہ تو حرام ہے غیر مردوں پر، کہ تو حرام کیا ہے؟ تو احتمال آیا یا نہیں دوسرا احتمال بھی؟ تو دو احتمال آ گئے، تردد آ گیا کہ پتہ نہیں کون سا معنیٰ ہے، اس لیے اس کو کیا قرار دیا ہے فقہاء نے؟ کنایہ قرار دیا ہے، سمجھ میں آیا؟ کنایہ قرار دیا ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ معنیٰ نہیں کہ یہ حقیقۃً کیا ہے کنایہ ہے طلاق سے اور طلاق والا عمل کریں گے، کیا کریں گے؟ طلاق والا ہی عمل کرتے ہیں اس لیے ان کو کنایہ قرار نہیں دیا مولانا، کیونکہ اگر یہ طلاق والا عمل کریں تو اگر خاوند نے اپنی بیوی سے کہا انت طالق، تو کون سی طلاق ہونی چاہیے؟ طلاق رجعی، کیونکہ صریح لفظ ہے مولانا اس سے کون سی طلاق واقع ہو گی؟ طلاق رجعی واقع ہو گی۔ تو اگر یہ طلاق والا عمل کرتے تو پھر تو ان سے کون سی طلاق واقع ہونی چاہیے تھی؟ طلاق رجعی واقع ہونی چاہیے تھی۔ لیکن یہ طلاق والا عمل نہیں کرتے، یہ عمل اپنے معنیٰ والا ہی کریں گے۔ کس کا کریں گے؟ اپنے معنیٰ والا ہی عمل کریں گے لیکن کنایہ ان کو صرف اس لیے کہا گیا ہے کیونکہ ان کے معنیٰ میں کیا آ گیا؟ دیگر احتمالات آ گئے، تو معنیٰ مراد کیا ہو گیا؟ پوشیدہ ہو گیا، کیا ہو گیا؟ پوشیدہ ہو گیا۔ بات سمجھ میں آئی؟ کنایہ ان کو کس لیے کہا گیا ہے؟ کہ ان کے معنیٰ مراد کیا ہو گیا؟ پوشیدہ ہو گیا، سمجھ میں آیا؟ اس میں تردد آ گیا، اس وجہ سے کنایہ نہیں کہا گیا کہ یہ کس کا عمل کرتے ہیں؟ طلاق والا عمل کرتے ہیں، یہ طلاق والا عمل نہیں کرتے، اگر یہ طلاق والا عمل کرتے پھر تو کیا ہونی چاہیے تھی مولانا؟ طلاق رجعی، حالانکہ اس سے طلاق رجعی نہیں ہوتی بلکہ کون سی طلاق ہوتی ہے؟ طلاق بائن ہوتی ہے، یہ اپنے معنیٰ والا ہی اثر عمل کریں گے اور اس اور اپنے معنیٰ کے لحاظ سے اپنے معنیٰ کو ثابت کریں گے، لہٰذا اگر اس نے انت بائن کہا اور نیت کس چیز کی کی مولانا؟ طلاق کی نیت کی، تو یہ بائن، کیا معنیٰ بائن کا معنیٰ؟ جدا، تو یہ جدا ہونے والا معنیٰ آئے گا اور جدا ہونا کس چیز کے اندر ہے؟ طلاق رجعی کے اندر ہے یا طلاق بائن کے اندر ہے بھئی؟ بائن کے اندر ہے، جدائی کا حکم ہی آ جائے گا یہاں پر، یعنی بیوی خاوند سے جدا ہو جائے گی یعنی نکاح ٹوٹ جائے گا اور نکاح طلاق بائن میں ٹوٹا کرتا ہے، طلاق رجعی کے اندر ٹوٹتا نہیں، بات سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ تو یہ اپنے معنیٰ کے اعتبار سے اپنے معنیٰ والا اثر عمل کریں گے بھئی، سمجھ میں آیا؟ اپنے معنیٰ کو ثابت کریں گے، اپنے معنیٰ کو۔ اور اسی طرح کہا انت حرام اور ارادہ کس چیز کا کیا؟ طلاق کا، تو یہ حرام کا لفظ بھی کیا کرے گا؟ اپنے معنیٰ کے اعتبار سے کیا کرے گا؟ عمل کرے گا اور وہ عورت اس شخص پر کیا ہو جائے گی؟ حرام، اور حرام کس میں ہوا جاتا کس صورت میں عورت خاوند کے لیے ممنوع اور حرام ہوتی ہے بھئی؟ طلاق بائن میں ہوا کرتی ہے، طلاق رجعی میں نہیں ہوا کرتی ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ ولہذا المعنى، اور اسی علت کی بناء پر سمی لفظ البینونۃ والتحریم کنایۃ، کہا گیا ہے لفظ بینونت اور تحریم کو کنایہ فی باب الطلاق، طلاق کے باب میں لمعنى التردد واستتار المراد، مراد کے پوشیدہ ہونے کی وجہ سے اور تردد کے ہونے کی وجہ سے، تردد کے معنیٰ کے پائے جانے کی وجہ سے۔ لا انہ یعمل عمل الطلاق، اس وجہ سے نہیں کہ یہ کس کا عمل کرتا ہے؟ کیونکہ اگر طلاق والا عمل کرے پھر تو کیا ہونا چاہیے؟ رجعی، تو یہ اپنے معنیٰ کو ثابت کرتے ہیں، اپنے مقتضیات کو ثابت کرتے ہیں۔ ویتفرع منہ، اور متفرع ہو گا اسی پر، نکلے گا اسی پر۔ کس منہ؟ اس سے، یہ جو ہم نے ذکر کیا اس سے نکلے گا۔ کیا؟ حکم الکنایات، کنایات کا حکم بھی نکلے گا۔ نکل آتا ہے فی حق عدم ولایۃ الرجح، کس چیز کے بارے میں؟ رجوع کرنے کی ولایت، پھر سے ترجمہ کرو، رجوع کرنے کی ولایت کے نہ ہونے کے حق میں۔ رجوع کرنے کی ولایت کے نہ، یعنی خاوند کو ولایت حاصل نہیں رہے گی کہ وہ رجوع کرے بیوی سے، طلاق رجعی میں تو کیا کر سکتا ہے؟ رجوع کر سکتا ہے، لیکن یہاں سے کنایات کے حکم کہتے معلوم ہو گیا کہ کنایات سے طلاق بائن، طلاق رجعی نہیں ہوتی بلکہ کون سی طلاق ہوا کرتی ہے؟ طلاق بائن ہوا کرتی ہے، اس معلوم ہوا طلاق بائن ہوئی تو خاوند کو رجوع کرنے کا حق ان میں نہیں رہتا اور خاوند کو رجوع کرنے کا حق کس صورت میں منفی ہوتا ہے؟ طلاق بائن میں یا طلاق رجعی میں بھئی؟ طلاق بائن میں بھئی، تو معلوم ہوا کنایات سے ہمیشہ کون سی طلاق ہوا کرتی ہے؟ طلاق بائن ہوا کرتی ہے، ہمیشہ یاد رکھو کنایات سے طلاق بائن ہوتی ہے۔ صرف تین کنایات ایسے ہیں جن سے طلاق رجعی ہوتی ہے، ایک کون سا ہے مولانا؟ اعتدی، اعتدی، دوسرا کیا ہے؟ استبرئی رحمک، اور دوسرا تیسرا کیا ہے؟ انت واحدۃ، انت واحدۃ، سمجھ میں آیا؟ اس لیے کہ ان تین کنایات کے اندر بھی دراصل وہ لفظ طلاق عمل کرتا ہے اور لفظ طلاق سے کیا آتی ہے؟ طلاق رجعی آتی ہے بھئی، تفصیل فقہ کی کتابوں میں ہے بھئی۔ بس آپ یہ یاد رکھیں کہ ان تین سے نہیں ہوتی بھئی، طلاق بائن نہیں ہوتی، طلاق رجعی ہوتی ہے۔ ولوجود معنى التردد فی الکنایۃ، اور بوجہ بوجہ تردد اور تردد کے معنیٰ کے پائے جانے کی وجہ سے فی الکنایۃ، کس کے اندر بھئی؟ کنایہ میں، تو کنایہ میں تردد کے معنیٰ کے پائے جانے کی وجہ سے لا یقام بہا العقوبات، عقوبات سے مراد کیا ہے مولانا؟ حدود، حدود مراد ہیں، قائم نہیں کیا جائے گا کنایات کے ساتھ حدود کو۔ حدود کو، سزائیں دو قسم پر ہیں مولانا، آپ کو میں نے بتایا تھا کچھ کو حدود کہتے ہیں اور کچھ کو تعزیر کہتے ہیں، حد وہ ہے جو من جانب اللہ مقرر ہوتی ہے، کوئی انسان اس میں کسی طرح کی کمی بیشی نہیں کر سکتا اور تعزیر قاضی کو اختیار ہوتا ہے، ایک ہی جرم پر ایک شخص کو سو، ایک شخص کو 50 کوڑے لگواتا ہے، دوسرے کو 15 لگواتا ہے، تیسرے کو 10 لگواتا ہے، قاضی کی اپنی مرضی ہے موقع محل کے مطابق، ایک کا پتہ ہے اس 50 کوڑے کم لگائے تو اس پہ اثر نہیں ہونا، دوسرے کو پتہ ہے کہ اگر میں نے 15 بھی لگا دیے تو یہ کیا ہو جائے گا؟ ٹھیک ہو جائے گا، وہ کمی بیشی کر سکتا ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ جی۔ اور حدود میں سفارش نہیں ہو سکتی بھئی، حدود میں سفارش نہیں ہو سکتی کیونکہ کوئی کمی بیشی کر ہی نہیں سکتا، وہ تو من جانب اللہ حکم ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اور یاد رکھو حدود جو ہیں الحدود، الحدود تدرء بالشبہات بھئی، حدود شبہات سے ساقط ہو جاتی ہیں، ادنیٰ شبہ بھی آ جائے حد ساقط ہو جایا کرتی ہے، حد کیا ہوتی ہے؟ ساقط ہو جایا کرتی ہے۔ ادنیٰ شبہ بھی آ جائے، الحدود تدرء بالشبہات، اندراء یندرء کا معنیٰ ہوتا ہے ساقط ہونا۔ الحدود تدرء بالشبہات، حدود ساقط ہو جاتی ہیں شبہات کی وجہ سے۔ اب مولانا بات یہ کر رہے ہیں، بات ضابطہ کیا میں نے آپ کو بتلایا کہ حدود ادنیٰ شبہ سے بھی کیا ہو جایا کرتی ہیں؟ ساقط ہو جایا کرتی ہیں، لہٰذا کنایات سے حدود ثابت نہیں ہوں گی اس لیے کہ کنایات کے معنیٰ میں کیا پایا جاتا ہے؟ جی؟ معنیٰ میں تردد اور استتار ہے، تو شبہ آ گیا یا نہیں آ گیا مولانا؟ شبہ آ جاتا ہے اور حدود تو شبہے کی وجہ سے کیا ہوتی ہیں؟ ساقط ہو جاتی ہیں۔ حتی لو أقر على نفسہ بباب الزنا والسرقۃ لا یقام علیہ الحد، یہاں تک کہ اگر کسی مقر نے اقرار کر لیا اپنے نفس پر فی باب الزنا کس کے اندر؟ باب الزنا کے اندر بھئی، یعنی زنا کے زنا میں اس نے کیا کہا؟ جامعت فلانۃ، میں نے فلانی سے کیا کیا؟ جامعت کا لفظ بولا مولانا، جامع کا معنیٰ تو جماع کرنے کے بھی ہیں اور جمع کرنے کے بھی ہیں۔ جمع جامعت، میں نے فلانی سے جمع کیا، یہ معنیٰ بھی ہے اور جامعت فلانۃ، میں فلانی کے ساتھ جمع ہوا یعنی ایک جگہ ہم اکٹھے ہوئے، ایک جگہ ہم اکٹھے ہوئے۔ تو اب مولانا اب شبہ آ گیا، لہٰذا اب وہ شخص کہہ رہا ہے قاضی کے سامنے کھڑا ہو کر جامعت فلانۃ، لیکن اس پر حد جاری نہیں ہو سکتی کیونکہ وہ کیا کر رہا ہے؟ کنائے کے ذریعے اقرار زنا کر رہا ہے، صریح لفظ سے، ہاں اگر وہ کہتا ہے زنيت بفلانۃ، اب کیا کی جائے گی اس پر حد؟ اسی طرح چوری کی مولانا اور کنائے کے ساتھ اب تسلیم، کیا کہتا ہے؟ جی؟ مال زید، زید کی مال چرایا کسی شخص نے، قاضی کے سامنے اس کو لے آئے، قاضی کے سامنے کہتا ہے مال زید عندي، زید کا مال میرے پاس ہے۔ زید کا مال میرے پاس ہے، تو یہ تو مال ہو اس کے پاس ہونے میں تو کئی احتمال ہے، ہو سکتا ہے زید نے بھئی اس کے پاس امانت رکھوایا ہو، ہو سکتا ہے اس نے غصب کیا ہو، اور یہ بھی احتمال ہے کہ اس نے چوری کی ہو، تو کئی احتمالات آ گئے یا نہیں آ گئے؟ تو یہ کنایہ ہوا اور لہٰذا اس کی وجہ سے اب حد جاری نہیں کی جائے گی، یہاں تک کہ صراحتاً وہ یہ کہ جب کہے گا کہ میں نے چوری کی ہے، زید کا مال میں نے چوری کیا ہے، تو اب کیا کیا جائے گا؟ اس پر حد جاری کی جائے گی۔ ہاں یہاں تک کہ اگر اقرار کرے یہ کہ اس نے اپنے نفس پر فی باب الزنا زنا کے باب میں والسرقۃ اور سرقہ کے باب میں لا یقام علیہ الحد اس پر حد قائم نہیں کی جائے گی ما لم یذکر اللفظ الصریح، جب تک کہ وہ صریح لفظ ذکر نہ کر دے۔ ولہذا المعنى، اور اسی علت کی بناء پر لا یقام الحد على الأخرس، حد قائم نہیں کی جائے گی گونگے پر۔ أخرس کس کو کہتے ہیں؟ گونگے کو۔ بالاشارۃ، ای بسبب الاشارۃ، اشارے کی وجہ سے، اشارے کی وجہ سے بھئی یہ گونگا ہے اشاروں سے اقرار کرتا ہے کہ میں نے زنا کیا ہے، تو اب مولانا اس پر کیا کی جائے گی؟ حد جاری نہیں کی جائے گی بھئی، سمجھ میں آیا؟ کیونکہ اور بھی کئی اشارے میں اور بھی کئی احتمال ہو سکتے ہیں، سمجھ میں آیا بھئی؟ ولو قذف رجلا بالزنا، اور اگر کسی نے بہتان باندھا دوسرے شخص پر زنا کے ساتھ، زنا بہتان لگایا دوسرے شخص پر زنا کا، فقال الآخر، دوسرے نے کہا صدقت، تو نے سچ کہا، لا يجب علیہ، ای لا يجب الحد علیہ، تو اس پر حد واجب نہیں ہوگی، ثابت نہیں ہوگی۔ لاحتمال التصدق لہ فی غیرہ، اس لیے کہ احتمال ہے کہ وہ تصدیق کر رہا ہے اس کی غیر اس قول کے علاوہ میں، اس قول کے علاوہ میں۔ بھئی ایک آدمی ہے، وہ کیا کر رہا ہے؟ کسی نے اس نے کسی پر زنا کی تہمت لگائی، کہ تو تو زانی ہے، وہ فوراً قاضی کے پاس چلا گیا اس نے مجھ پر زنا کی تہمت لگائی ہے زانی کہا ہے، اس پر حد قذف جاری کی جائے، اس کو بلایا جائے گا اور کہا جائے گا بھئی تو نے زنا کا الزام لگایا ہے چار گواہ پیش کرو نہیں تو تم پر کیا جاری کی جائے گی؟ حد قذف جاری کی جائے گی، تمہاری جرات کیسے ہوئی کہ ایک مسلمان کو تم کیا کہو؟ زانی کہو بھئی۔ اب وہ چار گواہ پیش کر دے تو الگ بات ہے مولانا، اگر چار گواہ پیش نہیں کر سکتا تو اس پر کیا جاری کی جائے گی؟ حد، اب اس نے کہا، کیا کہا؟ اس نے کہا تو، دوسرے کو کہا مثلاً تو زانی ہے، پاس ایک تیسرا آدمی بیٹھا تھا اس نے کہا صدقت، کیا کہا؟ صدقت۔ اب یہ دیکھو مولانا، اب اس اس نے بھی بہتان لگایا یا نہیں لگا دیا؟ کہ تو نے سچ کہا، لیکن مولانا اب اس تیسرے شخص پر زنا کے حد قذف نہیں لگائی جا سکتی، اس لیے کہ صدقت کے اندر کئی احتمالات ہیں، ہو سکتا ہے وہ اس کی تصدیق کر رہا ہو کسی اور بات کے اندر، اس قذف کے اندر تصدیق نہ کر رہا ہو، یا یہ کہہ رہا ہو گا کہ صدقت لا زال کذلک قبل هذا، اس سے پہلے تو تو نے سچ بولا تھا لما کذبت الان، اب تو کیوں جھوٹ بول رہا ہے؟ احتمال آیا یا نہیں آیا؟ جی، کہ یعنی سچ کہا، یہ معنیٰ نہیں یہ تو نے سچ کہا، اس سے پہلے تو نے کیا کہا تھا؟ سچ کہا تھا، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو احتمال آ گیا، لہٰذا اب اس وجہ سے اس تیسرے شخص پر کیا ہے؟ حد قذف جاری نہیں ہو سکے گی، ہو سکے گی۔ فقال الآخر صدقت، دوسرے نے کہا صدقت، لا يجب علیہ الحد، اس پر حد ثابت نہیں ہوگی، لاحتمال التصدق لہ، اس احتمال کی وجہ سے کہ وہ تصدیق کر رہا ہو اس کی فی غیرہ، ای فی غیر هذا القول، اس قول کے علاوہ میں۔ تو اس قول کے علاوہ میں اس کی تصدیق کے احتمال، ترجمہ لفظی یوں ہو گا، اس قول کے علاوہ میں اس کی تصدیق کے احتمال کی وجہ سے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ مسئلہ اچھی طرح سب کو سمجھ میں آ گیا بھئی؟ چلیے مولانا هذا هو المرام والله اعلم بحقیقۃ الکلام۔