وأما الماء الجاري إذا وقعت فيه نجاسة جاز الوضوء منه إذا لم ير لها أثر، لأنها لا تستقر مع جريان الماء. والغدير العظيم الذي لا يتحرك أحد طرفيه بتحريك الطرف الآخر إذا وقع في أحد جانبيه نجاسة جاز الوضوء من الجانب الآخر، لأن الظاهر أن النجاسة لا تصل إليه. گذشته سبق میں آپ نے پڑھا تھا بھئی، کہ غسل کو واجب کرنے والے اسباب چار ہیں بھئی، چار چیزیں ہیں جن کی وجہ سے کسی آدمی پر غسل فرض ہو جاتا ہے، کسی انسان پر غسل فرض ہو جاتا ہے، مولانا! اول کیا تھا؟ انزالِ منی، خروجِ منی پایا جائے شہوت کے ساتھ، مولانا! اور دوسرا سبق کیا تھا؟ دونوں شرمگاہوں کا آپس میں مل جانا اگرچہ بغیر انزال ہی کے کیوں نہ ہو، میں نے آپ کو بتلایا تھا صرف مل جانا یہ سبب نہیں ہے وجوبِ غسل کا، بلکہ کچھ دخول بھی پایا جائے، پھر اس کے بعد غسل واجب ہو جائے گا، چاہے انزال ہو، خروجِ منی ہو، یا خروجِ منی نہ ہو۔ تیسرا سبب ذکر ہوا تھا حیض بھئی، یہ عورت کو ہر مہینے چند ایام خون آتا ہے، وہ حیض کہلاتا ہے، تو اس سے پاک ہونے کے بعد غسل کیا ہے؟ ضروری ہے اس پر، فرض ہے، اسی طرح نفاس وہ خون جو بچے کی پیدائش کے بعد آئے بھئی، اس کے بعد بھی غسل کرنا ضروری تو وہ جب رک جائے ختم ہو جائے غسل کرنا فرض ہے بھئی۔ اس کے بعد سنت بتلائی تھی بھئی کہ غسل چند مواقع پر غسل سنت ہے، ایک تو کس وقت بھئی؟ جمعہ کے دن، کب سے کب تک بھئی؟ فجر کے وقت سے لے کر جمعہ کی نماز تک بھئی، اور دوسرا ہے عیدین، دونوں عیدیں بھئی! عیدین تسمیہ ہے، دو عیدیں، کون سی دو عیدیں ہیں ہماری بھئی؟ عید الفطر اور عید الاضحی۔ अच्छा! اسی طرح احرام بھئی حجِ عمرے کے لیے کوئی جائے تو احرام باندھتے ہوئے سنت ہے، غسل کرے، اور عرفہ کے دن، بھئی میں نے بتلایا یومِ عرفہ، نویں ذی الحجہ لوگ حج ادا کرتے ہیں، میدانِ عرفات میں سارے حاجی اکٹھے ہوتے ہیں بھئی، پچیس تیس لاکھ حاجی بھئی، اور یہ فرض ہے، میدانِ عرفات میں جمع ہونا، جو میدانِ عرفات میں نہ جائے اس دن اس کا حج ہی نہیں ہوا بھئی۔ تو اس دن، یا وہ رات جو آ رہی ہے اگلی اس میں، اور اس میں زوال کے بعد غسل کرنا سنت، زوال کے بعد یعنی دوپہر کے عین سورج جب سر سے ڈھل جائے اس کے بعد بھئی۔ اس کے بعد یہ مسئلہ آیا تھا کہ مزی اور ودی کے اندر غسل نہیں ہے، بلکہ ان کے اندر صرف کیا کرنا کافی ہے؟ وضو کر لینا کافی ہے، مزی میں نے بتلایا تھا، منی تو معروف جانتے ہیں بھئی، اور مزی جو ہے شہوت کے وقت بھئی قطرات وغیرہ کچھ خارج ہوتے ہیں، ان سے غسل واجب نہیں ہوتا، بلکہ صرف وضو ٹوٹے گا بھئی۔ اور اسی طرح ودی ہے بھئی، یہ بھی کچھ گاڑھے قسم کے قطرے جو پیشاب کے بعد نکلتے ہیں، اس سے بھی غسل نہیں ہوتا واجب، بلکہ صرف وضو کو توڑنے والی چیزوں میں سے ہے، ان دونوں میں وضو ہے۔ اور پھر یہ مسئلہ ذکر ہوا تھا کس قسم کے پانی سے غسل اور وضو جائز ہے، اور کس قسم کے پانی سے غسل اور وضو جائز نہیں، تو بتلایا تھا بارش کا پانی ہو، وادیوں کا پانی ہو، چشموں کا پانی ہو، کنوؤں کا پانی ہو اور سمندروں کا پانی، ان سب سے وضو اور غسل کرنا جائز ہے، لیکن ایسے پانی کے ساتھ وضو کرنا جائز نہیں جسے کسی درخت یا پھل سے نچوڑا گیا ہو، یا اس کے ساتھ کوئی غیر چیز مل گئی، جس نے اس کو اس کی طبیعت سے ہی کیا کر دیا؟ وہ چیز اس پر غالب آئی، اس نے پانی کو اس کی طبیعت سے نکال دیا، یعنی کوئی شخص پانی ہی کہتا، ہم لوگ اب اس کو پانی، وہ ایسا بدل گیا کہ اس کو عوام لوگ پانی نہیں کہتے بھئی، نام بدل گیا، یا وہ کیا ہو گیا؟ گاڑھا ہو گیا بھئی۔ جیسے مشروبات ہیں، مولانا! سمجھ میں آیا بھئی؟ شربت پڑا ہوا ہو، کوئی اس کو پانی نہیں کہتا بھئی، اسی طرح شوربہ پڑا ہے، اب تھا تو پہلے یہ پانی ہی، لیکن اب چیزیں ایسی مل گئیں اور پک گئیں کہ اب اس کو کوئی پانی نہیں کہتا بھئی، اسی طرح سرکہ ہے، لوبیے کا پانی وغیرہ ہے بھئی۔ پھر یہ مسئلہ ذکر ہوا تھا بھئی کہ اگر پانی کے اندر کوئی پاک چیز مل جائے تو کیا اس سے وضو کر سکتے ہیں یا نہیں؟ بتلایا تھا اگر تھوڑی سی چیز ملی ہے، جس کی وجہ سے پانی کے تین اوصاف جو ہیں رنگ، بو، ذائقہ، ان تین میں سے صرف ایک کے اندر تبدیلی آئی ہے، تھوڑا سا زعفران مل گیا، یا تھوڑا سا صابون مل گیا، یا اشنان بوٹی اس کے ساتھ تھوڑی سی مل گئی، یا زردچ وغیرہ کا پانی جو ہے، معمولی سا جس میں رنگ ہے، تو پانی کا صرف ایک وصف بدلا ہو، تو اس سے وضو اور غسل جائز ہے، اور اگر دو وصف بدل جائیں، پھر جائز نہیں بھئی۔ اور یہ مسئلہ بھی آپ نے پڑھا تھا کہ پانی کے اندر جب نجاست گر جائے، تو وہ پانی کیا ہو جاتا ہے؟ نجس ہو جاتا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں وأما الماء الجاري، جی! اور باقی جاری پانی جو ہے بھئی، جی، بہتا ہوا پانی جو ہے، جی، ماء جاری جانتے ہیں یا نہیں؟ بھئی بہتا ہوا پانی، إذا وقعت فيه نجاسة، جب اس کے اندر کوئی نجاسة گر پڑے، جاز الوضوء منه، تو اس سے وضو کرنا جائز ہے، اس میں کوئی نجاست گر پڑے، بہتا پانی ہے مولانا، تو پھر بھی وضو جائز، کیوں جائز بھئی؟ کیونکہ وہ نجاست کو بہا کر آگے لے گیا۔ ہاں، اگر نجاست کا اثر نظر آ رہا ہے اس میں بھئی، اور تینوں میں سے کوئی وصف بدل گیا ہے، تو اب اس کے ساتھ وضو اور غسل جائز نہیں بھئی، معلوم پھر تو یہ بہتا پانی نہیں ہے، اگر بہتا ہوا پانی ہوتا تو ضرور کیا ہو جاتا؟ یا ہے بھی تو اتنا آہستہ بہہ رہا ہے کہ وہ نجاست وہیں پر ہے، نظر آ رہی ہے بھئی، رنگ وغیرہ ہے، جی۔ تو عام جاری پانی جو بہا کر لے جاتا ہے، اس سے وضو جائز ہے، کب؟ إذا لم ير لها اثر، جب دکھائی نہ دے اس کا اثر بھئی، اس نجاست کا اثر دکھائی نہ دے، إذا لم ير لها اثر۔ لأنها، بھئی کیوں جائز ہے؟ وجہ ذکر کر رہے ہیں کہ بہتے پانی میں نجاست گر پڑے، تو پھر بھی اس سے وضو جائز ہے، جب تک کہ اس کا اثر دکھائی نہ دے، کیوں؟ لأنها لا تستقر، اس لیے کہ ٹھہرتی نہیں ہے، مع جريان الماء، وہ نجاست ٹھہرتی نہیں ہے، ساتھ پانی کے بہنے کے۔ پانی کے بہنے کے ساتھ وہ نجاست ٹھہرتی نہیں، یعنی وہ پانی اس نجاست کو بہا کر لے جاتا ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو یہ تو تھا مسئلہ بھئی، مسئلہ آپ نے پڑھا پانی کے اندر اگر نجاست گر جائے، عام پانی، ماء جاری کی بات نہیں کر رہا، عام پانی کے اندر نجاست گر جائے، تو سارا پانی کیا ہو جائے گا؟ نجس۔ یہ اس وقت ہے پانی تھوڑا ہو۔ اور اگر پانی زیادہ ہے، تو پھر یاد رکھیے، اس صورت میں ایک جانب نجاست گر پڑے، تو دوسری جانب سے وضو کرنا جائز، مثلاً ایک تالاب ہے، ایک طرف نجاست گر پڑی، تو دوسری طرف سے وضو کرنا جائز، کیونکہ ظاہر یہی ہے کہ نجاست کا اثر دوسری طرف اتنی دور تک نہیں پہنچا ہوگا بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ نہیں پہنچا ہوگا۔ اب بھئی کون سا تالاب ہے، کتنا تالاب ہو اس کو ہم شمار کریں گے یہ بڑا ہے، کم ہو تو چھوٹا ہے بھئی، کہ متاخرین احناف بھئی کہتے ہیں ان کا فتویٰ وہ جو فتویٰ جس قول پر دیتے ہیں کہ وہ تالاب کم از کم دس در دس ہو بھئی، دس در دس۔ یعنی دس گز ضربِ دس گز، دس گز ضربِ دس گز بھئی۔ یعنی اس کی چوڑائی بھی دس گز ہو، اور لمبائی بھی کم از کم کتنی ہو؟ دس گز ہو، یا اس سے زیادہ ہو۔ اور یاد رکھیے، یہ گز وہ والا نہیں مراد جو آج کل آپ دیکھتے ہیں دکانوں میں، شرعی گز مراد ہے، شرعی گز۔ شرعی گز اس کا نصف ہے بھئی، عام گز دو شرعی گز کے برابر ہے۔ عام گز کتنے فٹ کا ہے بھئی؟ تین فٹ۔ تین فٹ کا، بھئی۔ عام گز کتنے فٹ کا ہوتا ہے؟ دکانوں میں آپ کپڑا لینے جاتے ہیں، گز ہوتے ہیں، مولانا، یہ کتنے فٹ کا ہوتا ہے؟ تین فٹ، تین فٹ کا، لیکن شرعی گز یاد رکھیے، ڈیڑھ فٹ کا ہے بھئی، ڈیڑھ فٹ کا۔ تو یعنی دس در دس، دس ضربِ دس مولانا، یعنی کتنے فٹ بھئی، کتنے فٹ ہوگا بھئی؟ پندرہ فٹ، بھئی، ضرب پندرہ فٹ، بھئی، اتنا تالاب ہو۔ مسئلہ سمجھ میں آیا؟ اتنی چوڑائی ہو، دس پندرہ فٹ چوڑائی ہو اور پندرہ فٹ لمبائی ہو، اور گہرائی کتنی ہو؟ کہتے ہیں گہرائی کم از کم اتنی ہو کہ چلو بھریں تو زمین نہ کھل جائے۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ اگر اتنا تھوڑا پانی ہے، یعنی ایک دو انچ اس کی گہرائی ہے بھئی، آپ جیسے چلو بھرتے ہیں بھئی، وہ زمین نیچے سے کیا ہو جاتی ہے؟ نظر آنے لگ جاتی ہے، کھل جاتی ہے، تو یہ درست نہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی؟ کچھ نہ کچھ گہرائی بھی ہو۔ تو دس ضربِ دس گز ہے، اور گز کون سا مراد ہے؟ عام انگریزی گز یا شرعی گز بھئی؟ اور انگریزی گز کتنے فٹ کا ہوتا ہے؟ اور شرعی گز کتنے فٹ؟ ڈیڑھ فٹ کا بھئی۔ شرعی گز، اس کو ذراع بھی کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ ذراع بھی کہتے ہیں، ذراع، ذال کے ساتھ بھئی، آگے آ بھی جائے گا بھئی، اچھا۔ یہ مولانا اتنا ہے شرعی گز، یہ کہنی سے لے کر، کہنی سے لے کر ہاتھ سیدھا رکھیں تو کہنی سے لے کر یہ درمیانی انگلی کے سرے تک مولانا، یہ ایک شرعی گز ہے، اور یہ ڈیڑھ فٹ ہے، کتنا ہے؟ ڈیڑھ فٹ ہے، یہ ذراع کہلاتا، ذراع ہے۔ अच्छा भाई! مسئلہ بتائیے مولانا! دس در دس گز کا ایک تالاب ہے، ایک جانب اس میں نجاست گر پڑی، دوسری جانب سے کوئی وضو کرنا چاہتا ہے، آپ کیا کہیں گے؟ وضو جائز ہے یا جائز نہیں ہے؟ وضو کیا ہے؟ جائز ہے۔ بشرطیکہ اس دوسری جانب نجاست کا اثر نہ پہنچے۔ اگر پہنچا ہے، پانی نظر آ رہا ہے بھئی پانی میں، تو پھر اس صورت میں وہاں سے بھی وضو جائز نہیں ہوگا۔ اچھا، اور کتنا ہونا چاہیے کم از کم؟ بھئی بڑا تالاب کتنا ہے کم از کم؟ دس در دس، دس در دس بھئی، جی۔ اور اچھا اب ایک تالاب ہے، چلیے ویسے، دیکھو دس گز چوڑائی اور دس گز لمبائی، دس ضربِ دس کتنا ہوا؟ سو۔ دس ضربِ دس کتنا ہوا؟ سو۔ معلوم ہوا جو تالاب دس ضربِ دس گز ہوگا، وہ کہلاتا ہے سو مربع گز۔ یہ تالاب کتنا ہوا؟ سو مربع گز۔ زمین بھی اسی طرح ناپتے ہیں مولانا، کوئی آپ سے کہے سو مربع فٹ زمین میں آپ کو بیچتا ہوں، تو آپ یہ نہ کہیں پتہ نہیں کتنی بڑی زمین ہوگی، بلکہ یہ کیا معنی ہے؟ دس فٹ چوڑائی ہے اور دس فٹ لمبائی ہے۔ یہ کتنی ہو گئی زمین؟ سو مربع فٹ، بھئی۔ समझ में आया؟ سو مربع فٹ آپ ایک ایک گز کے چکور چکور ڈبے اس میں بناتے جائیں مولانا، پورے سو ڈبے بن جائیں گے اس کے اندر۔ ہر ایک چوڑائی بھی ایک گز اور لمبائی بھی ایک گز، تو یہ سو مربع فٹ ہوا۔ اچھا! مولانا ایک تالاب ہے، معلوم ہوا تالاب سو مربع گز ہو تو پھر وہ بڑا تالاب ہے، دس در دس ہے۔ اچھا، ایک تالاب ہے بھئی، چار گز چوڑا ہے، پچیس گز لمبا ہے۔ کتنے گز چوڑا؟ چار گز چوڑا۔ صرف چار گز چوڑا، اور کتنا لمبا؟ پچیس گز۔ پچیس گز۔ جی، مولانا! کیا حکم لگائیں گے؟ یہ دس در دس ہے کہ نہیں؟ نہیں۔ کیسے؟ پچیس چوک سو۔ پچیس چوک سو۔ معلوم ہوا یہ بھی دس در دس ہے۔ لہذا ایک جانب نجاست گر پڑے، تو دوسری جانب سے کیا کر سکتے ہیں؟ وضو کر سکتے ہیں۔ اچھا۔ ایک تالاب ہے مولانا! بیس گز لمبا ہے اور پانچ گز چوڑا ہے۔ کیا حکم لگائیں گے آپ؟ کیونکہ بیس پنجے سو۔ سو مربع گز کا ہے۔ تو کہتے ہیں والغدیر العظيم، غدیر کہتے ہیں مولانا تالاب کو، جوہڑ وغیرہ کو، اور بڑا تالاب جو ہے، الذي وہ جو کہ لا، وہ بڑا تالاب الذي لا يتحرك أحد طرفيه بتحريك الطرف الآخر، یہ حرکت نہیں کرتی اس کی ایک جانب، بتحريك الطرف الآخر، دوسری جانب کو حرکت دینے سے۔ بھئی یاد رکھیے! مولانا بڑا تالاب ہے، یہ اس لیے کہ اس کے اندر ایک جانب کا پانی ہلائیں، تو دوسری جانب کا پانی نہیں ہلتا، معلوم ہوا یہاں کا اثر وہاں نہیں پہنچتا۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ آپ ایک جانب سے وضو کر کے دیکھیں مولانا! آپ پانی وضو کے لیے لے رہے ہیں، ہل رہا ہے پانی، لیکن اس پانی کا، دوسرے کنارے کا پانی ہلے گا؟ نہیں ہلتا۔ پانی کی حرکت مراد ہے، لہریں نہیں مراد۔ آپ دیکھتے ہیں یعنی کنکر آپ پانی میں پھینکتے ہیں، لہریں اوپر بنتی ہیں یا نہیں؟ وہ لہریں بن جاتی ہیں جو بڑی دور تک جاتی ہیں، لہریں نہیں مراد، لہریں تو ضرور دوسرے کنارے تک پہنچ جائیں گی، وہ تو بڑی دور تک چلی جاتی ہیں، بلکہ پانی کی باقاعدہ کیا ہو؟ حرکت ہو، یہاں پانی ہلاتے ہیں، تو دوسری جانب بھی پانی ہلتا ہو، پھر کہیں گے کہ حرکت کا اثر وہاں جا رہا ہے، بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ یہ یاد رکھنا قیمتی بات بتا رہا ہوں آپ کو، لہروں پر نہ جانا بھئی، لہروں کا اعتبار نہیں، لہریں تو بڑی دور تک چلی جاتی ہیں بھئی۔ تو ایک جانب پانی ہلائیں تو دوسری جانب کا پانی باقاعدہ کیا ہو؟ ہلتا ہے، وہاں بھی اتنا اثر زیادہ پہنچ جاتا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں والغدير العظيم الذي، اور وہ بڑا تالاب کہ لا يتحرك أحد طرفيه کہ اس کی طرفینی، یہ تثنیہ نون اضافت کی وجہ سے گر گیا، طرفینی، اس کی دو جانبوں میں سے کوئی ایک حرکت نہیں کرتی، دو جانبوں میں سے ایک ہر ہاں! حرکت نہیں کرتی بتحريك الطرف الآخر، دوسری طرف کو حرکت دینے سے، تو یہ جو بڑا تالاب ہے، إذا وقعت في أحد جانبيه نجاسة جب گر پڑے اس کی کسی ایک جانب میں، دو جانبوں میں سے احادی، جانبی، جانبینی، یہ بھی تثنیہ تھا، نون اضافت کی وجہ سے کیا ہوا؟ گر گیا۔ زیادہ دو سے جانب سے وہ دوست جائز ہے۔ اور یہ یاد رکھیے مولانا یہ وہ اس نجاست کے بارے میں بتلا رہے ہیں جس کا کوئی ظاہری جسم ہو، دکھائی دے مولانا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ میں نے اپ کو بتلایا دس در دس ہونا چاہیے بھئی۔ دس ضرب دس شرعی گز مولانا۔ اور ایک شرعی گز کتنے فٹ کا ہے؟ ڈیڑھ فٹ کا اور عام گز جو استعمال ہوتا ہے، تین فٹ یعنی عام گز میں دو شرعی گز ہیں بھئی۔ مان لو پندرہ فٹ ضرب پندرہ فٹ کا ایک تالاب ہے اور کم از کم اتنا گہرا ہو کہ چلو بھریں تو زمین نظر نہ آئے۔ زمین نہ کھلتی ہو اس کی۔ تو یہ نجاست ظاہری کا حکم ہے، نجاست جس کا جسم ہے، مثلاً ایک طرف اس تالاب کے اندر دس در دس کے اندر مولانا ایک طرف مردہ کتا پڑا ہے، دوسری طرف سے آپ وضو کرنا چاہتے ہیں تو وضو کیا ہوگا؟ جائز ہوگا۔ جبکہ اس پانی کی دوسری طرف اس کا کوئی اثر معلوم نہ ہو بھئی، سمجھ میں آیا۔ اوصاف ثلاثہ جو اس کے ہوئے رنگ، بو، ذائقہ اس میں کسی میں تبدیلی نہ آئی ہو۔ اور اگر اس میں ایسی نجاست گر پڑے جو دکھائی نہیں دیتی مولانا، مثلاً پیشاب ہے یا شراب تھوڑی سی گر گئی یا خون تھوڑا سا گر گیا وہ مل گیا نظر ہی نہیں آتا۔ تو اس صورت میں اب چاروں طرف سے وضو جائز ہے۔ جس جانب گرا ہے، اس جانب بھی کیا ہے؟ وضو جائز ہے کیونکہ میں نے بتلایا یہ کس کے حکم میں ہے؟ ماء یہ ماء جاری کے حکم میں ہے بھئی۔ سمجھ میں آئی صورت بھئی؟ تو ایسی نجاست گرے جو دکھائی نہیں دیتی بھئی تو اس صورت میں چاروں طرف سے اس کے وضو کرنا جائز ہے۔ وموت ما ليس له نفس سائلة في الماء لا يفسد الماء۔ اور موت ما ایسی چیز کی لیس لہو کہ نہیں ہے اس کا نفس خون سائله بہنے والا۔ موت وموت ما ليس له نفس سائلة اور موت ایسی چیز کی کہ نہیں ہے جس کا بہنے والا خون فی الماء موت کس چیز کے اندر بھئی؟ پانی میں لایفسد الماء یہ پانی کو فاسد نہیں کرتا۔ بھئی ایسی چیز بھئی جی بہتا ہوا تو خون تو نجس ہے، آپ نے وضو کی بحث میں پڑھا تھا اگر خون بدن سے نکل آئے تو اس سے وضو کیا ہوگا؟ ٹوٹ جائے گا۔ لیکن شرط لگائی تھی یہ خون کس قسم کا ہو؟ بہنے والا یعنی اتنا ہو کہ بہ سکے معلوم ہوا بہتا ہوا خون نجس ہے تو ہر وہ جانور جس کے جسم میں بہتا ہوا نہ ہو مولانا قید لگا دی۔ تو جب خون اس کے جسم میں نہیں ہے تو وہ پانی کے اندر مر جائے تو اس کی وجہ سے پانی نجس نہیں ہوگا۔ بھئی نجاست تو تھی خون اور خون تو اس کے بدن کے اندر ہے ہی نہیں۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو اسی لیے کہا وموت ما اور موت ایسے جانور کی لیسل ایسی چیز کہ جانور وغیرہ کی لیسلہو نفس سائلہ کہ نہیں ہے اس کا ایسا خون جو بہنے والا ہو۔ نفس خون کو کہتے ہیں، سائلہ بہنے والا۔ تو ایسے جانور کی موت جس کا خون بہنے والا نہیں ہے فی الماء یہ موت کس چیز میں؟ پانی میں۔ تو پانی میں ایسے جانور کی موت جس کا بہنے والا خون نہیں ہے لا یفسد الماء یہ پانی کو فاسد نہیں کرتی۔ کلبقی جیسے کہ کھٹمل ہے بھئی۔ بک، کھٹمل اور پسو کو کہتے ہیں بھئی۔ کھٹمل اور پسو۔ کلبقی جیسے کہ کھٹمل یا پسو، والذباب اور مکھی بھئی۔ عام یہ جو مکھی ہے مولانا، اس کو کیا کہتے ہیں عربی میں؟ ذباب بھئی ذباب۔ یہاں آپ کو ایک ادبی نکتہ بھی بتلا دیں بھئی۔ ذباب کو ذباب اس لیے کہتے ہیں کیونکہ کلما زب آبا۔ ذباب کو ذباب کیوں کہتے ہیں؟ سمی الذباب ذبابا لانه کلما زب آبا۔ کیونکہ جب بھی اس کو زبا دور کیا جائے آبا یہ پھر آ جاتی ہے۔ جتنی دفعہ اڑاؤ یہ پھر کیا ہوتی ہے؟ آ جاتی ہے۔ تو زبا کا معنی ہوتا ہے دور کرنا، آبا کا معنی واپس آنا تو اسی سے اس کا نام ہی کیا رکھ دیا؟ ذباب بھئی سمجھ میں آیا؟ جتنی دفعہ اس کو اڑاؤ گے یہ پھر آ جاتی ہے، پھر تنگ کرتی ہے۔ کلبقی جیسے کہ کھٹمل ہے، والذباب اور بھئی ان کا اب دیکھو بہنے والا خون نہیں، والذباب اور مکھی ہے، والزنابیر، زنابیر جمع ہے زنبور کی۔ زنبور بھڑ کو کہتے ہیں بھئی، یہ آپ نے دیکھا ہوگا بھئی یہ زرد رنگ کے جو کاٹنے والے بھئی یہ بھڑ وغیرہ۔ مختلف قسمیں ہیں اس کی بھئی۔ والعاقارب جمع ہے عقرب کی، بچھو کو کہتے ہیں مولانا۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ یہ کچھ مثالیں ذکر کر دیں بھئی، اب اور بھی کوئی چیز پانی میں مرتی ہے آپ دیکھیں اس میں بہنے والا خون ہے تو پانی نجس، بہنے والا خون نہیں تو پانی بھی نجس نہیں۔ وموت ما یعيش فی الماء اور موت ایسے جانور کی یعيش فی الماء جو پانی میں زندگی گزارتے ہیں، ہاں شعیعوش کا معنی زندگی گزارنا، اور موت ایسے جانور کی یعيش فی الماء جو کس کے اندر زندگی گزارتے ہیں؟ پانی میں۔ جیسے آگے مثالیں آ جائیں گی، لایفسد الماء تو ایسے جانور کی پانی میں موت لایفسد الماء یہ پانی کو فاسد نہیں کرتی۔ کالسماکی جیسے کہ مچھلی ہے بھئی۔ مچھلی پانی میں ہی زندگی گزارتی ہے، اب وہ پانی کے اندر مر گئی تو آپ یہ حکم نہ لگانا پانی نجس ہوا بلکہ اس کی وجہ سے پانی نجس نہیں ہوا۔ وزفدیعی، زفدیع پڑھنا بھی صحیح، زفدع پڑھنا بھی صحیح بھئی۔ وزفدیعی اور مینڈھک ہے بھئی، مینڈھک بھی کہاں پانی زندگی گزارتا ہے بھئی؟ پانی کے اندر۔ پانی میں پیدائش ہوتی ہے، پانی میں زندگی گزارتا ہے۔ والسرطان اور کیکڑا ہے بھئی۔ کیکڑا جتنی بھی پیدائش کس کے اندر بھئی؟ پانی میں اور زندگی بھی کہاں گزارتا ہے؟ پانی میں۔ تو یہ یہ چیزیں پانی میں اگر گیر پانی میں اگر یہ مر بھی جائیں تو پانی نجس نہیں ہوگا۔ والماء المستعمل لا يجوز استعماله في طهارة الأحداث۔ اچھا بھئی، مائے مستعمل، ایک شخص نے وضو کیا، وضو کے بعد یہ جو استعمال شدہ پانی ہے، یہ مائے مستعمل ہے۔ یہ کیا ہے؟ مائے مستعمل۔ یعنی وہ پانی جس کے ذریعے کیا کی گئی ہے؟ پاکی ہاں وضو کیا گیا، پاکی حاصل کی گئی ہے۔ سمجھ میں نجاست نہیں ہے اس پانی کے اندر بھئی۔ ایک آدمی نے کیا کیا اس سے وضو کیا؟ بھئی نجاست کو اگر اس سے دھویا ہے پھر تو وہ نجس ہے، اس میں تو کوئی شک ہی نہیں۔ عام پانی کی بات کر رہے ہیں، جس کے ذریعے کسی نے پاکی حاصل کی، لیکن اس کے اندر کسی قسم کی کوئی نجاست نہیں ہے۔ ہاں یہ مائے مستعمل ہے، کیا اب اس سے پھر کوئی وضو کر سکتا ہے؟ کہتے ہیں نہیں مولانا، اس سے پھر کوئی وضو یا غسل نہیں یہ پانی استعمال ہو چکا ہے۔ اب اس کے ذریعے پھر پاکی حاصل نہیں کی جا سکتی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ اس پانی میں کوئی نجاست ہے؟ نجاست ہو تو پھر مسئلہ ہی نہیں وہ تو تفصیل آپ پڑھ چکے ہیں چاہے اس آدمی کے بدن پہ کوئی نجاست تھی وہ بھی پانی کے اندر آ گئی پھر تو پانی ہے ہی نجس مولانا، اس کی تو بحث ہی نہیں۔ عام استعمال شدہ پانی، آپ نے وضو کر لیا، کوئی نجاست نہیں ہے صرف وہ استعمال شدہ پانی ایک برتن میں اکٹھا ہو گیا، تو کیا اب اس سے پھر پاکی حاصل کی جا سکتی ہے؟ وضو کیا جا سکتا ہے؟ کہتے ہیں یہ مائے مستعمل ہے، استعمال شدہ ہے، لہذا اس کے ذریعے پاکی حاصل نہیں کی جا سکتی۔ تو کہتے ہیں والماء المستعمل لا يجوز استعماله في طهارة الأحداث اور مائے مستعمل جو ہے جائز نہیں ہے اس کا استعمال کرنا فی طهارة الأحداث کس سے پاکی حاصل کرنے میں؟ تمام حدثوں سے پاکی حاصل کرنے میں اس کا استعمال جائز نہیں ہے بھئی چار۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ ہاں اس پانی کے ذریعے آپ کے کپڑوں پر تھوڑی سی نجاست لگ گئی تھی اس کو دھونا جائز ہے۔ اس کو دھونا جائز ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ والماء المستعد، تو حدث کا تو پتہ ہے بھئی میں نے بتلایا تھا دو حدث دو قسم پر ہے، ایک حدث اصغر اور ایک حدث اکبر۔ بے وضو ہونا کیا کہلاتا ہے؟ حدث اصغر اور جنابت میں ہونا یہ حدث اکبر ہے۔ جی جنبی ہونا یہ حدث اکبر ہے۔ تو ہر قسم کی تمام حدثوں سے پاکی جائز نہیں اس کے ذریعے۔ وال اچھا بھئی، آپ نے یہ تو صاحب قدوری بتلا دیا کہ مائے مستعمل کے ذریعے پاکی حاصل کرنا جائز مائے مستعمل کہتے کس کو ہیں؟ صاحب قدوری اب خود آپ کو بتانے لگے ہیں۔ کہتے ہیں والماء المستعمل اور مائے مستعمل جو ہے کل ماء ہر وہ پانی ہے، ازیل به حدث جس کے ذریعے زائل کیا گیا ہو کسی حدث کو۔ جس کے ذریعے کسی حدث کو کیا کیا گیا ہو؟ بھئی آپ کو حدث اصغر لاحق تھا، آپ بے وضو تھے، آپ نے اس پانی سے وضو کیا ہے۔ جب وضو کر لیا تو حدث زائل ہو گیا یا نہیں ہوا؟ ہوا تو ہر وہ پانی جس کے ذریعے کسی حدث کو دور کیا گیا ہو، زائل کیا گیا ہو وہ کیا ہے؟ مائے مستعمل۔ تو کہتے ہیں والماء المستعمل اور مائے مستعمل جو ہے کل ماء ہر ایسا پانی ہے ازیل به حدث جس کے ذریعے دور کیا گیا ہو کسی حدث کو۔ اوبستعمل فی البدنی یا اس کو استعمال کیا گیا ہو بدن میں علی وجه القربۃ قربت کے طریقے پر بھئی۔ یعنی اللہ کی قربت حاصل کرنے کے لیے۔ بھئی یہ تو جائز ہے کہ ایک آدمی فجر کے وقت وضو کرتا ہے اور ساری نمازیں اسی ایک ہی وضو سے پڑھ لیتا ہے۔ کیا کرتا ہے؟ اس کا وضو برقرار رہتا ہے اور وہ پانچوں نمازیں اسی ایک وضو سے پڑھ لے، لیکن افضل کیا ہے؟ ہر نماز کے لیے علیحدہ وضو کرے، علیحدہ۔ صورت سمجھ میں آگئی۔ اب آپ نے کیا کیا، عصر کی نماز کے لیے وضو کیا، اس سے آپ نے نماز پڑھ لی، مغرب کے وقت آپ کا ابھی وضو ہے، لیکن آپ کیا کرتے ہیں؟ دوبارہ وضو کر لیتے ہیں تو کیا یہ جو وضو پر وضو کیا مولانا، یہ بھی مائے مستعمل ہوا یا مائے مستعمل نہیں؟ کہتے ہیں یہ بھی کیا ہے؟ مائے مستعمل۔ یہ وضو آپ نے کس لیے کیا تھا مولانا؟ اللہ کا قرب حاصل کرنے کے لیے، فضیلت حاصل کرنے کے لیے کہ اس سے اللہ زیادہ خوش ہوتے ہیں، زیادہ فضیلت ہے اس لیے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو یہ قربت ہے، قرب الہی حاصل کرنے کے لیے۔ تو ہر ایسا پانی جس کے ذریعے کسی حدث کو زائل کیا جائے یا اس کو استعمال کیا جائے بدن میں علی وجه القربي کس لیے؟ قربت کے طریقے پر بھئی یعنی قربت حاصل کرنے کے لیے۔ دیکھو اب اس پانی کے ذریعے کوئی حدث نہیں زائل کیا گیا کیونکہ حدث تو آپ کو لاحق ہی نہیں ہوا تھا، لیکن قربت کے لیے استعمال کر لیا گیا، تو بھی یہ مائے مستعمل بن گیا۔ چلیے مولانا، بس بھئی ہذا هو المرام، واللہ أعلم بحقيقۃ الكلام۔