فَإِنْ قِيْلَ إِنَّ الْكِتَابَ فِي مَسْحِ الرَّأْسِ يُوْجِبُ مَسْحَ مُطْلَقِ الْبَعْضِ وَقَدْ قَيَّدْتُمُوْهُ بِمِقْدَارِ النَّاصِيَةِ بِالْخَبَرِ، وَالْكِتَابَ مُطْلَقٌ فِي انْتِهَاءِ الْحُرْمَةِ الْغَلِيْظَةِ بِالنِّكَاحِ وَقَدْ قَيَّدْتُمُوْهُ بِالدُّخُوْلِ بِحَدِيْثِ امْرَأَةِ رِفَاعَةَ۔ یہاں سے مولانا، دو اعتراضات ذکر کریں گے جو شافعی، احناف پر کرتے ہیں بھئی۔ احناف نے کیا کہا تھا؟ المطلق یجری علی اطلاقہ کہ مطلق اپنے اطلاق پر جاری ہو گا، لا تجوز الزيادة علیہ بخبر الواحد او القياس، اس پر خبرِ واحد یا قیاس کے ذریعے زیادتی کرنا جائز نہیں۔ والمقید یجری علی تقییدہ، اور مقید اپنی تقیید پر جاری ہو گا بھئی۔ شوافع کہتے ہیں، اے احناف! ہم آپ کو دکھلاتے ہیں کہ آپ اپنے ضابطے کو خود ہی توڑ رہے ہیں بھئی۔ آپ اپنے ضابطے کو خود ہی خود ہی توڑ رہے ہیں۔ آپ نے کہا مطلق اپنے اطلاق پر جاری ہو گا، ہم دو ایسی مثالیں ذکر کرتے ہیں جن میں آپ نے کیا کیا؟ مطلق کو مقید کر دیا ہے خبرِ واحد کے ساتھ۔ تو خود ہی اپنے بنائے ہوئے ضابطے کو آپ نے کیا کیا؟ توڑ دیا ہے۔ پہلا اعتراض یہ کرتے ہیں کہ کتاب اللہ کے اندر مولانا، وضو میں مسحِ رأس کا ذکر آیا ہے۔ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ وامسحوا برؤوسکم، وامسحوا برؤوسکم۔ مسح متعدی ہوتا ہے کبھی بواسطة حرفِ جار کے اور کبھی بغیر بواسطة حرفِ جار کے۔ تو وامسحوا برؤوسکم، وامسحوا رؤوسکم، دونوں طرح کہنا صحیح۔ لیکن فرق یہ کہ جب مسح متعدی ہو حرفِ جار کے واسطے سے، یعنی "با" لے کر آئیں، تو اس صورت میں ممسوح کا بعض مراد ہوتا ہے۔ ممسوح کا بعض مراد، اور اگر متعدی بواسطة حرفِ جار کے نہ ہو بلکہ یوں ہو: وامسحوا رؤوسکم، تو اس صورت میں ممسوح کا کل مراد ہوتا ہے۔ تو اگر یوں کہا جائے: وامسحوا رؤوسکم، تو کیا معنی ہو گا؟ اپنے پورے سر کا مسح کرو۔ اور اگر یوں کہا جائے: وامسحوا برؤوسکم، تو اب کیا معنی ہو گا؟ اپنے بعضِ سر کا کیا کرو؟ مسح کرو۔ تو یہاں پر مولانا کتاب اللہ میں آیا: وامسحوا برؤوسکم، کہ تم مسح کرو اپنے بعضِ سر کا، کیونکہ کیا آئی ہے؟ "با" آئی ہے، "با" آئی ہے۔ اور یہ بعضِ رأس مطلق ہے مولانا، کیا ہے؟ مطلق ہے، تو قرآن میں آیا اپنے بعضِ رأس کا مسح کر لو، یہ مطلق تھا۔ لیکن آپ نے اس کو خبرِ واحد کے ذریعے مقید کر دیا مقدارِ ناصیہ کے ساتھ۔ کس کے ساتھ مقید کر دیا؟ بھئی قرآن سے صرف اتنا ثابت ہوا کہ بعضِ رأس کا مسح فرض ہے۔ لیکن آپ یہ نہیں کہتے، آپ کیا کہتے ہیں؟ ناصیہ کی مقدار فرض ہے، ناصیہ کی مقدار، جو تقریباً چوتھائی سر بنتا ہے۔ اور کس کے ذریعے یہ مقید کیا آپ نے؟ خبرِ حضرت مغیرہ ابن شعبہ رضی اللہ تعالی عنہ کی حدیث ہے۔ وہ روایت کرتے ہیں: ان النبي صلى الله عليه وسلم اتى سباطة قوم فبال وتوضأ ومسح على الناصية وخفيه والعمامة۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ایک قوم کے کوڑے کی جگہ پر اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب فرمایا، فبال، حضور نے کیا فرمایا؟ پیشاب فرمایا، وتوضأ، اور وضو فرمایا، اور وضو فرمایا، ومسح علی الناصية، اور مسح فرمایا کس پر؟ ناصیہ پر مسح فرمایا، ناصیہ پر مسح فرمایا۔ ناصیہ کہتے ہیں مولانا پیشانی کو، کس کو کہتے ہیں؟ اور مراد کیا ہے؟ سر کا اگلا حصہ پیشانی کے برابر مولانا، یہ تقریباً ربعِ رأس بن جاتا ہے، کتنا بن جاتا ہے؟ تو حضور نے سر کے اگلے حصے پر مقدارِ ناصیہ کے برابر مسح فرمایا، پر مسح فرمایا، اور موزوں پر مسح فرمایا، اور پگڑی پر مسح فرمایا۔ تو یہ حدیث ہے مولانا، یہ حدیث۔ اور اس حدیث میں ناصیہ کی مقدار کا ذکر آیا اور کتاب اللہ میں مطلق بعضِ رأس تھا، لیکن آپ نے اس کو مقید کر دیا کس کے ساتھ؟ مقدارِ اس حدیث کی وجہ سے۔ تو دیکھو آپ نے کتاب اللہ کے مطلق کو مقید کر دیا خبرِ واحد کے ساتھ، حالانکہ آپ خود ہی کہتے تھے کہ مطلق کو خبرِ واحد کے ساتھ مقید کرنا جائز نہیں، اعتراض سمجھ میں آیا بھئی؟ دوسرا، دیکھیے بھئی۔ پہلا اعتراض: فإن قيل، اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ ان الكتاب فی مسح الراس، کہ کتاب اللہ جو ہے مسحِ رأس کے بارے میں، يوجب، واجب کرتی ہے، مسح مطلق البعض، مطلق بعضِ رأس کے، مطلق بعضِ رأس کے مسح کو واجب کرتی ہے، وقد قيدتموه بمقدار الناصية بالخبر، اور تحقیق تم نے اے احناف! اس کو کیا کیا ہے؟ مقید کیا ہے مقدارِ ناصیہ کے ساتھ بالخبر، یعنی خبرِ واحد، خبرِ واحد کے ساتھ کیا ہے۔ یہ ایک اعتراض۔ دوسرا اعتراض مولانا، کہ بھئی قرآن میں آیا ہے، وہ شخص جو اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دے، اب دوبارہ اسی عورت سے نکاح کرنا چاہے، تو قرآن میں اللہ کیا فرماتے ہیں؟ فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره، کہ اس کے بعد اس کے لیے وہ عورت حلال نہیں، یہاں تک کہ وہ عورت نکاح کر لے ایک اور خاوند سے۔ حتى تنكح زوجا، یہاں تک کہ وہ نکاح کر لے زوجاً ایسے خاوند سے، غيره، جو پہلے سے کیا ہو؟ غیر ہو، یعنی پہلے کے علاوہ کسی اور سے کیا کر لے؟ تو کتاب اللہ میں کہتے ہیں مطلق یہ آیا کہ حرمتِ غلیظہ مطلقِ نکاح سے کیا ہو جائے گی؟ ختم ہو جائے گی۔ بھئی تین طلاقیں دیں تو کون سی حرمت آئی؟ حرمتِ غلیظہ، اور یہ حرمتِ غلیظہ کس سے ختم ہو گی؟ کتاب اللہ نے کیا بتلایا؟ مطلقِ نکاح کر لے عورت کس سے؟ کسی اور شخص سے، کسی اور شخص سے نکاح کر لے، تو بس۔ لیکن آپ نے امرأۃِ رفاعہ والی حدیث کے ساتھ اس پر جماع کی قید بڑھا دی۔ احناف کیا کہتے ہیں مولانا؟ احناف کیا کہتے ہیں؟ کہ اگر ایک خاوند اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دے بھئی، تین طلاقیں، تو وہ عورت اس کے بعد اس شخص کے لیے اس وقت تک حلال نہیں جب تک کسی اور شخص سے نکاح نہ کر لے اور وہ شخص اس کے ساتھ جماع نہ کر لے۔ وہ شخص اس کے ساتھ جماع، تو دیکھو کتاب اللہ میں مطلق کیا آیا تھا مولانا؟ نکاح آیا تھا، حتى تنكح زوجا غيره، مطلقِ نکاح کی بات آئی، لیکن آپ نے اس پر جماع کی قید کا اضافہ کر دیا، کس کی وجہ سے؟ خبرِ اور وہ خبرِ واحد کیا ہے؟ امرأۃِ رفاعہ والی حدیث ہے مولانا۔ حضرت رفاعہ رضی اللہ تعالی عنہ کی جو بیوی کی حدیث ہے بھئی، اس کے ذریعے تم نے کیا کیا ہے اس کو؟ اس پر، اب وہ حدیث یہ ہے کہ حضرت رفاعہ رضی اللہ تعالی عنہ نے، اپنے مفہوم سنا رہا ہوں بھئی، تو انہوں نے ان کی جو بیوی تھیں، انہوں نے اس کو طلاق دے دی تھی بھئی۔ انہوں نے کسی اور سے نکاح کر لیا اور یہ خاوند ان کو پسند نہیں آئے، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لائیں بھئی، تشریف لائیں۔ اور حضور کے پاس آ کر کیا کہا؟ اس اس نئے خاوند کے بارے میں ذکر کیا مولانا، کہ یہ ناپسندیدگی کا اظہار کہ یہ تو جماع پر قادر نہیں بھئی، یہ جماع پر قادر، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا آپ رفاعہ کے پاس واپس جانا چاہتی ہو؟ پہلے خاوند کے پاس، انہوں نے جواب دیا: ہاں، میں پہلے خاوند کے پاس واپس جانا چاہتی ہوں۔ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لا، ایسا نہیں ہو سکتا، حتى تذوقي من عسيلته ويدوق هو من عسيلتك۔ کہ ایسا نہیں ہو سکتا، یہاں تک کہ تو نہ چکھ لے اس کے شہد میں سے، اور یہ نہ چکھ لے تیرے شہد میں سے۔ یعنی تو پہلے خاوند کے پاس نہیں جا سکتی جب تک یہ نیا خاوند تیرے شہد میں سے نہ چکھ لے اور تو اس کے شہد میں سے نہ چکھ لے، اور یہ شہد چکھنے سے مراد ہے لذت حاصل کرنا، کیا مراد ہے؟ لذت حاصل، اور یہ کنایہ ہے جماع سے، کنایہ ہے جماع سے، کہ جب تک وہ تجھ سے، یہ خاوند تجھ سے جماع نہ کر لے، تو پہلے خاوند کے پاس نہیں جا سکتی۔ تو دیکھو اس حدیث میں ذکر آیا کہ پہلے خاوند کے پاس اس وقت تک نہیں جا سکتی جب تک کہ دوسرا خاوند اس کے ساتھ جماع نہ کر لے، اور یہ خبرِ واحد ہے، اور کتاب اللہ میں مطلقِ نکاح کا ذکر آیا تھا، لیکن اس حدیث کے اندر چونکہ جماع کی قید موجود تھی، تو آپ نے اس خبرِ واحد کے ذریعے کتاب اللہ پر کیا قید بڑھا دی؟ جماع کی قید بڑھا دی، تو وہ مطلق نہ رہا بلکہ کیا بن گیا؟ مقید بن گیا۔ اعتراض سمجھ میں آیا بھئی؟ دیکھیے بھئی، والكتاب، دوسرا اعتراض: والكتاب، یہ مولانا "انّ" کا اسم ہے، اس کا عطف ہو رہا ہے پہلے جو "الکتاب" گزرا۔ والكتاب مطلق فی انتهاء الحرمة الغليظة، اور کتاب اللہ مطلق ہے مولانا کس میں؟ حرمتِ غلیظہ کے ختم ہونے کے بارے میں، بالنکاح، کس کے ساتھ؟ نکاح کے ساتھ حرمتِ غلیظہ ختم ہونے کے بارے میں مطلق ہے، وقد قيدتموه بالدخول، اور احناف! تحقیق تم نے اس کو مقید کیا ہے دخول یعنی جماع کے ساتھ، بحديث امرأة رفاعة، امرأۃِ رفاعہ والی حدیث کے ساتھ بھئی، حدیث کے ساتھ۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ امرأۃِ رفاعہ والی حدیث ہے، تو یہ حضرت رفاعہ کی بیوی تھیں، انہوں نے طلاق دے دی، پھر انہوں نے نکاح کر دیا تھا حضرت عبدالرحمن ابن زبیر سے بھئی، عبدالرحمن ابن زبیر سے، حاشیہ نمبر تین میں یہ حدیث تفصیلی موجود ہے بھئی۔ قلنا، یہاں سے جواب دیں گے مولانا۔ کیا کریں گے؟ جواب دیں گے۔ جواب یہ مولانا، احناف کہتے ہیں: اے شوافع! آپ نے کیا اعتراض کیا؟ آپ نے کیا کہا؟ کہ وضو میں بعضِ رأس مطلق ہے، بعضِ رأس تم نے کیا کہا؟ بھئی یہ بات تو ثابت ہو گئی کہ بعضِ رأس مراد ہے، لیکن آپ نے کیا کہا؟ یہ بعضِ رأس مطلق ہے، اور اس کو تم نے اے احناف! مقید کیا ہے کس کے ساتھ؟ خبرِ، جواب ہم دیتے ہیں، یہ مطلق ہے ہی نہیں مولانا، یہ مجمل ہے۔ یہ مطلق ہے ہی نہیں بلکہ کیا ہے؟ مجمل ہے، مجمل ہے۔ مجمل وہ ہے کہ جس کا معنی تو معلوم ہو، مراد معلوم نہ ہو۔ مجمل کس کو کہتے ہیں؟ جس کا معنی تو معلوم ہو لیکن مراد معلوم نہ ہو۔ معنی تو ہمیں معلوم ہے، بعضِ رأس کا کیا معنی؟ سر کا کچھ حصہ، لیکن سر کا کچھ حصہ تو مولانا نصف ہے، یہ نصف بھی کیا ہے؟ سر کا کچھ حصہ، ثلث بھی کیا ہے؟ سر کا کچھ حصہ، ثلثین بھی سر کا، خمس بھی سر کا، سدس بھی سر کا، تو کیا مراد ہے اس سے؟ مراد معلوم نہیں ہے، معنی ہمیں معلوم کہ بعضِ رأس، لیکن کیا مراد ہے؟ کتنا حصہ مراد ہے؟ وہ بعض کتنا ہے؟ وہ معلوم، تو یہ کیا، مطلق نہیں ہے بلکہ کیا ہے؟ مجمل ہے، مجمل ہے۔ اور مجمل کے لیے خبرِ واحد بیان بن سکتی ہے، اس کی مراد خبرِ واحد کے ذریعے بیان ہو سکتی ہے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ مجمل تھا اور اس کے لیے بیان چاہیے بھئی، کیا مراد ہے اس سے؟ اور چنانچہ وہ حدیثِ حضرت مغیرہ ابن شعبہ والی اس کے لیے کیا بن جائے گی؟ بیان بن جائے گی۔ جواب سمجھ میں آیا؟ قلنا، جواب دے رہے ہیں مولانا، ہم کہتے ہیں: ان الكتاب ليس بمطلق فی باب المسح، کہ کتاب اللہ باب المسح میں مطلق نہیں، فإن حكم المطلق، مصنف رحمہ اللہ یہی بات کر رہے ہیں، ذرا مولانا تقریر مختلف ہے مولانا۔ جی، کہتے ہیں: فإن حكم المطلق، اس لیے کہ حکمِ مطلق کا حکم یہ ہے کہ ان يكون الآتي باي فرد كان آتيا بالمأمور به، کہ آتی بالمأمور بہ، مامور بہ کو لانے والا، مامور بہ وہ بات جس کا حکم دیا جائے، مامور بہ وہ بات جس کا، جس کا امر کیا جائے، جس چیز کا امر کیا جائے وہ کیا کہلاتی ہے؟ مامور بہ، تو یہاں کس چیز کا حکم دیا گیا ہے؟ مسحِ بعضِ رأس کا، مسحِ بعضِ رأس کا۔ تو اتیان بالمأمور بہ کا معنی ہے اس کو ادا کرنا، مامور بہ کو لانا کیا معنی؟ اس کو ادا کرنا، سمجھ میں آیا بھئی؟ ترجمہ پر نظر رکھنا، ان يكون الآتي باي فرد، آتی کا کیا ترجمہ کریں گے؟ اتیان بالمأمور بہ کا کیا معنی ہے؟ ویسے تو معنی ہے لانے والا، کیونکہ اتی یاتی کے معنی ہوتے ہیں آنا اور "با" صلہ آ گیا تو اب کیا معنی؟ لانا، لیکن مراد کیا ہے؟ ادا کرنا۔ کیا معنی ہے؟ ان يكون الآتي باي فرد، مطلق کا حکم کیا ہے؟ کہ ادا کرنے والا کسی بھی فرد کو، یعنی کسی بھی فرد کو ادا کرنے والا، كان آتيا بالمأمور به، وہ ادا کرنے والا ہے مامور بہ کو۔ مطلق کا حکم کیا بیان ہوا مولانا؟ کہ اس کے کسی بھی فرد پر عمل کر لیا جائے تو اس نے مامور بہ پر کیا کر لیا؟ عمل کر لیا، اس کے کسی بھی فرد کو ادا کرنے والے کو کہا جاتا ہے اس نے مامور بہ کو، مامور بہ کو ادا کر لیا ہے۔ مثلاً مولانا، کفارۂ ظہار اور کفارۂ یمین کیا بیان ہوا؟ تحریرِ رقبہ، کفارۂ ظہار میں کیا کرنا پڑے گا؟ گردن آزاد کرنی پڑے گی، کفارۂ یمین میں بھی کیا کرنی پڑے گی؟ اور یہ گردن کا آزاد کرنا، یہ گردن مطلق ہے یا مقید ہے؟ مطلق ہے، اس کے ساتھ ایمان کی قید موجود نہیں ہے، ایمان کی قید موجود نہیں۔ لہذا اب اس کے کسی بھی فرد پر عمل کر لیا جائے تو کہا جائے گا کہ اس شخص نے مامور بہ کو ادا کر دیا ہے۔ مثلاً آپ چھوٹا غلام آزاد کریں یا بڑا غلام آزاد کریں، کیا کہیں گے؟ اس نے تحریرِ رقبہ کر دیا، آپ کافر غلام آزاد کریں، آپ مومن غلام آزاد کریں، کیا کہا جائے گا؟ اس نے تحریرِ رقبہ کر دیا ہے، آپ مولانا مرد کو، غلام کو آزاد کریں یا باندی کو آزاد کریں، کیا کہا جائے گا؟ اس نے تحریرِ رقبہ کر دیا، تو مطلق کے کسی بھی فرد پر عمل کر لیا جائے تو یہ کہا جاتا ہے کہ اس نے مامور بہ کو کیا کر دیا ہے؟ ادا کر دیا ہے۔ سمجھ میں آیا؟ فإن حكم المطلق، اس لیے دوبارہ دیکھو، اس لیے کہ مطلق کا حکم یہ ہے: ان يكون الآتي باي فرد كان آتيا بالمأمور به، کہ ادا کرنے والا اس کے کسی بھی فرد کو ادا کرنے والا ہے مامور بہ کو، والآتي باي بعض كان هاهنا ليس بآت بالمأمور به، لیکن یہاں پر کسی بھی بعضِ رأس کو پر مسح، کسی بھی بعض کو ادا کرنے والا یہاں پر مامور بہ کو ادا کرنے والا نہیں کہلائے گا بھئی۔ مثلاً اس نے ایک شخص نے کتنے پر مسح کیا؟ نصف پر مسح کیا۔ تو کیا اس کو کہا جائے گا اس نے فرض ادا کیا ہے؟ یہ نصف فرض تھا۔ ایک کرتا ہے مثلاً نصف پر ایک آدمی کرتا ہے، ایک آدمی مولانا ثلث پہ مسح کرتا ہے، ایک آدمی ربع پر مسح کرتا ہے، ایک آدمی خمس پہ مسح کرتا ہے، تو یہ نہیں کہا جائے گا ان میں سے ہر ایک کو کہ اس نے کیا کیا ہے؟ فرض کو ادا کر لیا ہے۔ ورنہ تو ایک کے لیے کیا فرض ہوا؟ خمس۔ ایک کے لیے کیا فرض ہوا؟ ثلث۔ ایک کے لیے کیا فرض ہوا؟ ربع وغیرہ، ایک کے لیے نصف مولانا۔ تو یہ تو ہر ایک پر برابری کے ساتھ صادق نہیں آ رہا۔ حالانکہ مطلق تو اپنے تمام افراد پر برابری کے ساتھ صادق۔ تو ایک کے لیے فرض کیا بن گیا مولانا؟ نصف۔ ایک کے لیے آپ نے فرض کیا قرار دے دیا؟ ثلث۔ تو مطلق یہ ہے کہ اس کے کسی بھی فرد کو ادا کر دیا جائے، تو کیا کہا جاتا ہے؟ کہ اس شخص نے مامور بہ کو ادا کر دیا۔ لیکن یہاں پر اس کے کسی بھی فرد پر عمل کرنے والے کو یہ نہیں کہا جاتا کہ اس نے فرض کو کیا کر دیا ہے؟ ادا کر دیا ہے۔ یعنی اس ثلث کو، اس نصف کو، اس ثلثین کو، ان کو کوئی بھی فرض قرار نہیں دیتا۔ حتیٰ کہ امام شافعی رحمہ اللہ بھی ان کو فرض قرار نہیں دیتے۔ ان کے نزدیک بھی تین بالوں پر مسح فرض ہے۔ بعضِ رأس کا ادنیٰ حصہ کتنا ہے مولانا؟ تین بال۔ ان کو کیا کہہ سکتے ہیں؟ بعضِ رأس۔ کیا کہیں گے؟ بعضِ رأس۔ ہر فرد پر مطلق برابری کے ساتھ صادق آتا ہے، لیکن یہاں پر ہر فرد پر برابری کے ساتھ صادق نہیں آتا۔ ان میں سے ہر ایک کو فرض کوئی بھی قرار نہیں دیتا۔ کوئی یہ نہیں کہتا ثلث بھی فرض، نصف بھی فرض، خمس بھی فرض۔ حالانکہ یہ تمام اس کے افراد ہیں مولانا، تمام اس کے۔ معلوم ہوا یہ آیت مطلق نہیں بلکہ کیا ہے؟ مجمل ہے، اور مجمل کے لیے خبرِ واحد بیان بن سکتی ہے۔ والآتي باي بعض، اور ادا کرنے والا کسی بھی بعض کو، كان هاهنا ليس بآت بالمأمور به، وہ مامور بہ کو ادا کرنے والا نہیں ہے۔ فانه لو مسح على النصف او على الثلثين لا يكون الكل فرضا، اس لیے کہ اگر مسح کر لیا نصف پر یا ثلثین پر، تو ان میں سے سارا کا سارا ممسوح فرض نہیں۔ ہر ایک کو پورے کے پورے کو فرض، ایک پورے نصف کو فرض نہیں قرار دیا جا سکتا، پورے ثلثین کو فرض قرار نہیں دیا جا سکتا۔ حالانکہ یہ تو مطلق کے افراد ہیں، ان میں سے تو ہر ایک کو کیا قرار دینا چاہیے؟ فرض قرار دینا چاہیے۔ وبه فارق المطلق المجلمل، اور اس سے اس، یہ جو ہم نے وجہ بیان کی، اب اس وجہ سے مطلق جدا ہو گیا مجمل سے مولانا۔ مطلق جدا ہو گیا کس سے؟ مجمل سے، فرق معلوم ہو گیا دونوں کے اندر بھئی۔ معلوم ہوا یہ آیت مطلق نہیں بلکہ کیا ہے؟ مجمل ہے۔ اس پر اشکال ہوتا ہے مولانا۔ اشکال یہ کہ حدیث سے تو یہ ثابت ہوا کہ ناصیہ پر مسح فرض ہے، اے احناف! حدیث، آپ نے قید بڑھائی کس کے ذریعے؟ یہ بیان کس کو بنایا؟ حدیث کو بیان بنایا۔ اور حدیث سے کیا ثابت ہوا؟ حضور نے کہاں مسح فرمایا؟ ناصیہ، اور ناصیہ کس کو کہتے ہیں؟ سر کے اگلے حصے کو۔ تو آپ کو بھی ناصیہ کو فرض قرار دینا چاہیے، لیکن آپ ناصیہ کو فرض قرار نہیں دیتے، آپ مقدارِ ناصیہ کو فرض قرار دیتے ہیں، یعنی اتنی مقدار میں مسح کرنا فرض ہے، اب چاہے وہ سر کے دائیں طرف سے کر لیں، بائیں طرف سے کر لیں، درمیان سے کر لیں، آخر سے کر لیں۔ حالانکہ حدیث سے تو کتنا ثابت ہوا؟ کون سا حصہ ہونا چاہیے؟ ناصیہ ہونا چاہیے۔ لیکن آپ نے ناصیہ حصہ نہیں بتلایا، بلکہ مقدار، حدیث سے کیا معلوم کی بھئی؟ کس چیز کو ذکر کیا؟ مقدارِ ناصیہ۔ تو اب چاہے وہ سر کے کسی بھی حصے میں اتنے پر مسح کر لیں، آپ کہتے ہیں فرض ادا ہو گیا۔ جواب ہم احناف دیتے ہیں مولانا، کہ مسح کا مقام تو معلوم ہو چکا تھا، کتاب اللہ میں آیا تھا وامسحوا برؤوسکم، برؤوسکم۔ مسح کرو کہاں پر؟ اپنے سروں پر۔ معلوم ہوا مسح کا محل کیا ہے؟ سر۔ صرف مقدار معلوم نہیں تھی جو ہمیں حدیث سے معلوم ہو گئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو مسح کے پورا سر پر مسح ہو سکتا تھا، محل ہمیں معلوم تھا، البتہ مقدار معلوم نہیں تھی کہ وہ بعض کتنا ہے؟ کتنی مقدار ہے؟ اور وہ ہمیں حدیث سے معلوم ہو گئی کہ وہ کتنی مقدار ہے؟ ناصیہ کی مقدار ہے۔ چلیے مولانا، اب اگلے سوال کا جواب کل دیکھیں گے۔ هذا واستغفر الله، والله اعلم بحقيقة الكلام۔