، مولانا، آج ہم مسئلہ ظہار پڑھیں گے، اور کفارہ ظہار اور یمین وغیرہ کا مسئلہ آئے گا اگے۔ جی، وہ تو مختصر سا ہے دوسرا مسئلہ۔ پہلا مسئلہ جو ہے مسئلہ ظہار، وہ تھوڑا سا تفصیل چاہتا ہے۔ تو اس میں ترتیب یوں ہوگی مولانا: سب سے پہلے آئے گی آیت، بھئی۔ مختصر اشارات لکھو، جلدی جلدی بس۔ یہ اشارات یاد کر لو، مسئلہ خود ہی یاد ہو جاتا ہے۔ آیت، اس کے بعد نمبر دو تعریف ظہار، نمبر دو تعریف ظہار، نمبر تین حکم ظہار، نمبر تین حکم ظہار، نمبر چار کفارہ ظہار، کفارہ ظہار، نمبر پانچ صورت مسئلہ، صورت مسئلہ، نمبر چھ مذاہب آئیں گے مولانا، نمبر چھ مذاہب، نمبر سات دلیل احناف، نمبر سات دلیل احناف، نمبر آٹھ دلیل ائمہ ثلاثہ، دلیل ائمہ ثلاثہ، نمبر نو جواب از طرف احناف، جواب از طرف احناف۔ یہ ہے پورا سارا مسئلہ، بھئی۔ سمجھ میں آیا، بھئی؟ خلاصہ مسئلہ سمجھ میں آیا؟ سب سے پہلے آیت آ جائے گی، آیت کے بعد مولانا تعریف ظہار کہ ظہار کس کو کہتے ہیں، اس کے بعد بیان ہوگا اس کا حکم کیا ہے، اس کے بعد مولانا اس کا کفارہ کیا ہے، اس کے بعد مولانا صورت مسئلہ آئے گی کہ کیا مسئلہ کس طرح ہے، اور پھر مذاہب بیان ہوں گے کہ کس کا کیا مذہب ہے، اور پھر اس کے بعد مولانا احناف کی دلیل آ جائے گی، اور پھر اس کے بعد ائمہ ثلاثہ کی دلیل ذکر ہوگی، پھر ہم ان کا جواب دے دیں گے، بھئی۔ سمجھ میں آیا، بھئی؟ جی۔ اچھا، آیت ظہار مولانا، قرآن میں اللہ سورۂ مجادلہ میں فرماتے ہیں، بھئی: وَالَّذِيْنَ يُظٰهِرُوْنَ مِنْ نِّسَاءِهِمْ، بھئی۔ وَالَّذِيْنَ يُظٰهِرُوْنَ مِنْ نِّسَاءِهِمْ... اچھا، ثُمَّ يَعُوْدُوْنَ لِمَا قَالُوْا... لکھ رہے ہو، بھئی؟ لکھنا یہ آیت بعد میں لکھ لیجئے گا، بھئی۔ تو آیت سن لیجئے، بھئی: وَالَّذِيْنَ يُظٰهِرُوْنَ مِنْ نِّسَاءِ... حافظ ہوں گے آپ میں سے اکثر، بھئی۔ جی؟ جی۔ اچھا۔ وَالَّذِيْنَ يُظٰهِرُوْنَ مِنْ نِّسَاءِهِمْ ثُمَّ يَعُوْدُوْنَ لِمَا قَالُوْا فَتَحْرِيْرُ رَقَبَةٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّتَمَاسَّا، ذٰلِكُمْ تُوْعَظُوْنَ بِهٖ، وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرٌ، فَمَنْ لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ يَّتَمَاسَّا، فَمَنْ لَّمْ يَسْتَطِعْ فَاِطْعَامُ سِتِّيْنَ مِسْكِيْنًا، ذٰلِكَ لِتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ، وَتِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ، وَلِلْكٰفِرِيْنَ عَذَابٌ اَلِيْمٌ۔ جی، ترجمہ البتہ لکھ لیجئے، مولانا۔ ترجمہ لکھ لیجئے، آیت بعد میں آپ لکھ لیجئے گا۔ وقت تھوڑا ہے۔ جی، وَالَّذِيْنَ يُظٰهِرُوْنَ مِنْ نِّسَاءِهِمْ: اور وہ لوگ جو ظہار کر لیتے ہیں اپنی بیویوں سے، اور وہ لوگ جو ظہار کر لیتے ہیں اپنی بیویوں سے، ثُمَّ يَعُوْدُوْنَ لِمَا قَالُوْا: پھر وہ اپنے کہے ہوئے کی تلافی کرنا چاہتے چاہیں، پھر وہ اپنے کہے ہوئے کی تلافی کرنا چاہیں، فَتَحْرِيْرُ رَقَبَةٍ: تو ایک گردن کا آزاد کرنا ہے، ایک غلام کا آزاد کرنا ہے، تو ایک رقبہ کا آزاد کرنا ہے، مِنْ قَبْلِ اَنْ يَّتَمَاسَّا: اس سے قبل کہ میاں بیوی باہم اختلاط کریں، وہ دونوں باہم اختلاط کریں، بھئی۔ وہ دونوں میاں بیوی باہم اختلاط کریں اس سے پہلے، ذٰلِكُمْ تُوْعَظُوْنَ بِهٖ: اس سے تمہیں نصیحت ہوگی، اس سے تمہیں نصیحت ہوگی، وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرٌ: اور اللہ باخبر ہے جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ باخبر ہے اس سے جو کچھ تم کرتے ہو، فَمَنْ لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ: پس جو غلام نہ پائے، پس جو غلام نہ پائے تو روزے رکھنا ہے پے در پے دو ماہ کے، تو روزے رکھنا ہے लगातार دو ماہ کے، مِنْ قَبْلِ اَنْ يَّتَمَاسَّا: اس سے قبل کہ باہم اختلاط کریں، اس سے قبل کہ باہم اختلاط کریں، فَمَنْ لَّمْ يَسْتَطِعْ: پس جو اس کی استطاعت نہ رکھے، پس جو اس کی استطاعت نہ رکھے، فَاِطْعَامُ سِتِّيْنَ مِسْكِيْنًا: تو کھانا کھلانا ہے 60 مسکینوں کو، تو کھانا کھلانا ہے 60 مسکینوں کو، ذٰلِكُمْ لِتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ: یہ اس لیے تاکہ تم کامل طور پر ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر، یہ اس لیے تاکہ تم کامل طور پر ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر، وَتِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ: اور یہ اللہ کی بنائی ہوئی حدود ہیں، یہ اللہ کی بنائی ہوئی حدیں ہیں، یہ اللہ کی بنائی ہوئی حدیں ہیں، وَلِلْكٰفِرِيْنَ عَذَابٌ اَلِيْمٌ: اور انکار کرنے والوں کے لیے دردناک عذاب ہے، اور انکار کرنے والوں کے لیے دردناک عذاب ہے۔ سمجھ میں آیا، بھئی؟ جی۔ قرآن میں اللہ کیا فرماتے ہیں: وہ لوگ جو ظہار کر لیتے ہیں اپنی بیویوں سے پھر تلافی کرنا چاہتے ہیں اپنے کہے ہوئے کی، تو ایک گردن کا آزاد کرنا ہے باہم اختلاط سے پہلے۔ میاں بیوی آپس میں ان کا صحبت کرنے سے پہلے کیا ضروری ہے؟ گردن آزاد کرنا۔ اچھا، اور وہ جو جی پوری تفصیل آیت میں، ترجمے میں آ گئی، بھئی۔ تعریف ظہار کس کو کہتے ہیں، بھئی؟ ظہار اس کو کہتے ہیں کہ ایک شخص اپنی بیوی کو تشبیہ دے، کہ ایک شخص اپنی بیوی کو تشبیہ دے محرمات ابدیہ، محرمات ابدیہ کہ کسی ایسے عضو کے ساتھ، کہ کسی ایسے عضو کے ساتھ جس کی طرف دیکھنا حرام ہو، جس کی طرف دیکھنا حرام ہو، سمجھ میں آیا؟ جی۔ یعنی وہ عورتیں جو انسان پر ہمیشہ کے لیے حرام ہوتی ہیں، بھئی؛ ماں ہے، بہن ہے، پھوپھی ہے، یہ اور اس قسم کی عورتیں۔ یہ انسان پر کیا ہوتی ہیں، ہمیشہ کے لیے؟ حرام ہوتی ہیں۔ تو اپنی بیوی کو تشبیہ دینا ان محرمہ عورتوں میں سے کسی کے ایسے عضو کے ساتھ جس کی طرف دیکھنا حرام ہو۔ جیسے انسان کہے اپنی بیوی سے: اَنْتِ عَلَیَّ کَظَهْرِ اُمِّیْ۔ تو مجھ، اَنْتِ عَلَیَّ: تو مجھ پر اسی طرح ہے، کَظَهْرِ اُمِّیْ: جیسے کہ میری ماں کی پشت ہے، بھئی۔ جیسے کہ میری ماں کی پشت ہے۔ تو دیکھو، تشبیہ دے دی۔ تشبیہ دے دی ایسے عضو کے ساتھ جس کی طرف دیکھنا حرام ہے، بھئی۔ حکم ظہار: ظہار کرنے سے انسان پر اس کی بیوی حرام ہو جاتی ہے اور اس وقت تک حلال نہیں ہوتی جب تک کفارہ ادا نہ کرے، کفارہ ادا نہ کرے۔ کفارہ ظہار کیا ہے مولانا؟ کفارہ ظہار تین چیزیں ہیں مولانا، علی الترتیب تین چیزیں ہیں۔ پہلے کیا ہے؟ سب سے پہلے غلام کا آزاد کرنا ہے۔ نمبر دو: اگر غلام کو نہ پائے تو پھر دو مہینے کے لگاتار روزے رکھنا ہے۔ اگر غلام کو نہ پائے تو دو مہینے کے لگاتار روزے رکھنا ہے۔ اور نمبر تین: اگر روزے رکھنے کی استطاعت نہ ہو تو پھر 60 مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے، تو پھر 60 مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے، بھئی۔ سمجھ میں آیا، بھئی؟ 60۔ یاد رکھو مولانا، یہ جو... بس ہر بات اپنا لکھو، بھئی، وقت نہیں ہے اتنا۔ بس اشارات لکھ لو۔ یہ جو ہے، یہ ظہار زمانہ جاہلیت میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے... اس جاہلیت میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ جب انسان ظہار کر لیتا ہے تو اس کی بیوی اس پر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے حرام ہو گئی، اب حلال ہونے کی کوئی صورت ہی نہیں۔ لیکن اسلام نے اللہ کی طرف سے حکم آیا، بھئی، کہ اس اس کہ اب اس کہ اس کا حکم کیا ہے مولانا؟ شریعت نے اس پہ کیا حکم بتلایا کہ ہمیشہ کے لیے حرام نہیں ہوتی، البتہ حرام ہو گئی، جب تک کفارہ ادا نہ کرے۔ کفارہ ادا کر دیں گے تو پھر بیوی کیا ہو جائے گی؟ حلال ہو جائے گی۔ سمجھ میں آیا؟ آپ نے غلط بات کی، اے شخص، کہ آپ نے اپنی بیوی کو تشبیہ دی محرم عورت کے ایسے عضو کے ساتھ جس کی طرف دیکھنا حرام ہے، لہٰذا اب اس کی سزا شریعت نے یہ مقرر کی کہ یا تو ایک غلام آزاد کرو، اب عورت حلال ہوگی، یا 60 روزے رکھو پے در پے لگاتار، پھر عورت حلال ہوگی، یا پھر کیا کرو، 60 مسکینوں کو کھانا کھلاؤ، بھئی، سمجھ میں آیا؟ کھانا کھلانا دو وقت کا ہوگا دن میں، کیونکہ انسان کی ایک دن میں کتنی ضرورت ہوتی ہے؟ دو وقت کے کھانے کی، بھئی، سمجھ میں آیا؟ دو وقت، اس کے بغیر اس کی ضرورت نہیں پوری ہوئی۔ اچھا، اب صورت مسئلہ یہ ہے مولانا، کہ دیکھو، اللہ نے قرآن میں کیا ذکر فرمایا کہ گردن کا آزاد کرنا ہے مِنْ قَبْلِ اَنْ يَّتَمَاسَّا: قبل اس کے کہ میاں بیوی باہم کیا کریں؟ اختلاط کریں اور صحبت کریں۔ تو صحبت سے پہلے پہلے کیا کرنا ہے، ایک مکمل غلام کو کیا کرنا ہے؟ آزاد کرنا۔ آپ نے آدھا غلام صبح آزاد کر دیا۔ سمجھ میں آیا؟ جی۔ اور پھر ایک شخص نے آدھا غلام صبح آزاد کیا، بیوی سے جماع کر لیا، پھر مولانا نئے سرے سے پورا غلام آزاد کرنا پڑے گا، وہ آدھا کیا ہوا؟ ختم۔ اب نئے کی اور آدھا آزاد کر دے تو مولانا پورا غلام بن گیا، اب بیوی اب نہیں حلال ہوگی، کیونکہ اللہ نے قرآن میں کیا ذکر فرمایا ہے: مِنْ قَبْلِ اَنْ يَّتَمَاسَّا، کہ تحریر رقبہ، پوری ایک رقبہ آزاد کرنی ہے، ایک پورے غلام کو آزاد کرنا ہے کس سے پہلے؟ باہم اختلاط سے پہلے پہلے۔ اگر غلام نہ ملے، چاہے آدمی غریب ہو، چاہے مولانا آج کا زمانہ ہے کہ غلام ہیں ہی نہیں، تو پھر کیا کرنا پڑے گا؟ 60 روزے رکھنا پڑیں گے دو مہینے کے پے در پے لگاتار مسلسل۔ اب اس میں بھی اگر ایک شخص ایک ماہ کے روزے رکھ چکا ہے، بیچ میں ایک چھوڑ دیا، بیچ میں کیا کیا مولانا اس نے، ایک رات جماع کر لیا، لیکن قرآن میں آیت میں کیا آیا: فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ يَّتَمَاسَّا، باہم اختلاط سے پہلے 60 روزے رکھنے ہیں، اور یہاں تو اس نے کیا کر دیا؟ اختلاط کر دیا، تو وہ 60 روزے مولانا دوبارہ نئے سرے سے اس کو پھر رکھنا پڑیں گے، بھئی۔ وہ پہلے والے اب 30 شمار نہیں، کیونکہ یہ 60 کے 60 مِنْ قَبْلِ اَنْ يَّتَمَاسَّا سے پہلے نہیں پائے گئے، یہاں تو صرف 30 پہلے پائے گئے اور 30 کے بعد تو اس نے کیا کر لیا تھا، بیوی سے جماع کر لیا تھا۔ سمجھ میں آیا، بھئی؟ جماع کر لیا تھا۔ تو اس بات میں تو تمام ائمہ کا اتفاق ہے مولانا، کہ پورے غلام کا آزاد کرنا بھی مِنْ قَبْلِ اَنْ يَّتَمَاسَّا ہو، جماع سے پہلے پہلے ہو، اور 60 روزے پورے کے پورے رکھنا بھی کیا ہو؟ جماع سے پہلے، اور اگر درمیان میں ان کے کر لیا جماع تو پھر کیا کرنا پڑے گا؟ نئے سرے سے وہ کفارہ ادا کرنا پڑے گا، سمجھ میں آیا، بھئی؟ نئے... مثلاً 30 روزے رکھے تھے، جماع کر لیا، اب وہ 30 ختم مولانا، پھر کیا کرو، نئے سرے سے... اور وہ جس نے ایسا کیا، بڑا سخت گناہ گار ہوگا، اور کفارہ بھی پھر نئے سرے سے۔ لیکن اس بات میں اختلاف ہے کہ یہ 60 مسکینوں کو جو کھانا کھلانا ہے، اس کے بیچ میں اگر کوئی چند مسکینوں کو کھانا کھلا چکا ہے، 30، 40، 50 کو اس نے کھلایا... اطعام کیا جائے گا یا نئے سرے سے اطعام نہیں کیا جائے گا، اس میں اختلاف۔ احناف کا مذہب یہ ہے کہ نہیں، نئے سرے سے کرنے کی ضرورت نہیں، بلکہ جتنے باقی رہ گئے تھے ان کو کھلا دے، 60 پورے کر لے۔ جبکہ ائمہ ثلاثہ یہ فرماتے ہیں کہ نہیں، کیا کرنا پڑے گا؟ نئے سرے سے کھلانا پڑے گا، بھئی۔ احناف کی دلیل مولانا یہ ہے۔ احناف کہتے ہیں دیکھو، کہ یہاں پر تین چیزیں ذکر ہوئیں۔ ایک ہوئی تحریرِ رقبہ، ایک صیامُ شہرینِ متتابعین، اور ایک کیا ہے، اطعامُ ستینَ مسکیناً۔ اس میں احناف کہتے ہیں، پہلے دو مقید ہیں اور تیسرا مطلق ہے۔ پہلے دو میں آیا ہے مولانا، فَتَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَاسَّا، کہ جماع سے پہلے پہلے کیا کرنا ہے، تحریرِ رقبہ ہو۔ دوسری چیز کیا ذکر ہوئی؟ صیامُ شہرینِ متتابعین، وہاں بھی یہ قید لگی ہوئی ہے، کیا؟ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَاسَّا، کہ جماع سے پہلے پہلے کیا کرنا ہے، 60 روزے؟ تو یہ دونوں ہیں مقید۔ لیکن 60 مسکینوں کو آگے جو اطعامُ ستینَ مسکیناً آ رہا ہے، وہاں یہ قید نہیں ہے، آپ دیکھیں آیت کے اندر، مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَاسَّا وہاں ذکر نہیں۔ معلوم ہوا، یہ 60 مسکینوں کو روزے کھلانا اطعام... جماع سے پہلے ضروری نہیں۔ بلکہ اگر شروع کر دیا ہے، درمیان میں بھی جماع کر لیا ہے، تو باقی کو ادا کر دے، کیا ہو جائے گا؟ ادا ہو جائے گا۔ یہ احناف کی دلیل، کیونکہ ہم کیا ضابطہ بیان کرتے ہیں؟ المطلقُ يجري على اطلاقهِ والمقيدُ يجري على... جو دو مقید ہیں، وہ اپنی تقیید پر جاری ہوں گے، ان میں قید کا لحاظ رکھا جائے گا، اور یہ مطلق ہے، تو یہ اپنے اطلاق پر جاری ہو گا، سمجھ میں آیا؟ تو چاہے جماع سے پہلے 60 کو کھلا دے، یہ بھی ٹھیک ہے۔ چاہے کھانا شروع کروا دے، اور درمیان میں اس نے جماع کر لیا، 15-20 کو کھلا چکا ہے، اور پھر اس نے جماع کر لیا، تو مطلق دونوں صورتوں کو شامل ہے۔ تو جو صورت بھی وہ اختیار کر لے، کفارہ ادا ہو جائے گا، نئے سرے سے دوبارہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ ائمہ ثلاثہ، جی، ائمہ ثلاثہ کہتے ہیں، کہتے ہیں دیکھو، یہ جو تحریرِ رقبہ ہے، یہ جو صیامُ شہرینِ متتابعین ہے، اور یہ جو اطعامُ ستینَ مسکیناً ہے، یہ سارے کفارے کی انواع ہیں۔ کیا ہیں؟ یہ سب نوعِ کفارہ سے ہیں، اور تمام کفارات ایک جنس سے ہوتے ہیں۔ کیا ہیں؟ تمام کفارات ایک جنس سے ہیں، لہذا ایک میں جو قید ہو، باقیوں میں بھی وہ قید معتبر ہو گی، چاہے ذکر ہو، چاہے ذکر نہ ہو۔ تو دو کے اندر مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَاسَّا کی قید اللہ نے ذکر فرما دی، اور وہ ہیں کفارے، اور اطعامُ ستینَ مسکیناً، یہ بھی ہے کفارہ، تو اس کے اندر بھی اس قید کو کیا کیا جائے گا؟ معتبر، اس کا بھی اعتبار کیا جائے گا، کیونکہ یہ، یہ بھی کیا ہے، کفارے کی نوع، کفارے کی جنس ہے۔ تو جب ایک جگہ قید ذکر، تو معلوم ہوا دوسری جگہ بھی وہ معتبر ہے، قیاساً ہم اس کو بڑھائیں گے مولانا، سمجھ میں آیا؟ لہذا، وہ کہتے ہیں 60 مسکینوں میں بھی مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَاسَّا کی قید کیا ہو گی، معتبر ہو گی۔ احناف جواب دیتے ہیں مولانا، کہ یہ تو آپ نے کیا کر دیا، مطلق کو مقید کر دیا۔ کتاب اللہ میں کیا ذکر ہوا تھا؟ اطعامُ ستینَ مسکیناً مطلقا، اور آپ نے مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَاسَّا کی قید قیاس کے ذریعے بڑھا دی، اور قیاس ہے ظنی، اور کتاب اللہ ہے قطعی، اور ظنی کے ذریعے قطعی پر کوئی زیادتی نہیں کی جا سکتی، کیونکہ اس سے تو کتاب اللہ کا وصفِ اطلاق کیا ہو جائے گا، فوت ہو جائے گا، سمجھ میں آیا؟ تو دیکھو، اللہ تعالیٰ نے دو جگہ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَاسَّا فرمایا، تیسری جگہ ایۃً مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَاسَّا نہیں فرمایا۔ اگر مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَاسَّا کی قید یہاں معتبر ہوتی، تو پھر تو اللہ روزوں کے ساتھ ذکر نہ فرماتے۔ صرف تحریرِ رقبہ کے ساتھ اللہ فرما دیتے کہ تحریرِ رقبہ کس سے پہلے ہونا چاہیے؟ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَاسَّا، جماع سے پہلے پہلے ہونا چاہیے۔ روزوں میں بھی اللہ ذکر نہ فرماتے، کیوں؟ کہ جب ایک جگہ ذکر ہو گیا، تو خود بخود دوسری جگہ بھی معتبر ہے، تیسری جگہ بھی معتبر۔ لیکن اللہ دو جگہ تو فرما رہے ہیں، تیسری جگہ نہیں فرما رہے۔ اگر یہ قید کا اعتبار، یہ قید معتبر ہوتی، تو اللہ ایک ہی جگہ ذکر فرما دیتے، وہ کافی تھا ہر ایک کے لیے۔ لیکن اللہ نے پہلے کے لیے ذکر کیا، پھر روزوں کے لیے بھی ذکر کیا، معلوم ہوا کہ پہلے کافی نہیں تھا، دوسرے کے لیے، دوسرے کے لیے کافی نہیں تھا۔ پہلے کے صرف پہلے کے ساتھ اعتبار ہو گا، دوسرے کا صرف دوسرے کے ساتھ۔ تو اللہ نے دو جگہ ذکر فرما دیا، لیکن تیسری جگہ ذکر نہیں فرمایا، سمجھ میں آیا، بھئی؟ جی۔ چلیے مولانا، ہاں، دیکھیے بھئی، ترجمہ دیکھیے۔ قَالَ اَبُوْ حَنِيْفَةَ رَضِيَ اللّٰهُ تَعَالٰى عَنْهُ: وَالْمُظَاهِرُ اِذَا جَامَعَ امْرَاَتَهٗ فِيْ خِلَالِ الْاِطْعَامِ لَا يَسْتَاْنِفُ الْاِطْعَامَ۔ امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، اللہ ان سے راضی ہو، کہ وَالْمُظَاهِرُ اِذَا جَامَعَ، ظہار کرنے والا، اِذَا جَامَعَ، جب وہ جماع کرے، امْرَاَتَهٗ، اپنی بیوی سے، فِيْ خِلَالِ الْاِطْعَامِ، کھانا کھلانے کے دوران۔ اطعام کا معنی کھانا کھلانا، اور خلال کا کیا معنی، درمیان۔ کھانا کھلانے کے درمیان جماع کر لے، لَا يَسْتَاْنِفُ الْاِطْعَامَ، استئناف کس کو کہتے ہیں؟ نئے سرے سے کرنا۔ تو نئے سرے سے اطعام نہیں شروع، نہیں کرے گا۔ لِاَنَّ الْكِتَابَ مُطْلَقٌ فِيْ حَقِّ الْاِطْعَامِ، اس لیے کہ کتاب اللہ مطلق ہے کس بارے میں؟ اطعام کے بارے میں۔ فَلَا يُزَادُ عَلَيْهِ شَرْطُ عَدَمِ الْمَسِيْسِ، تو اس پر بڑھائی نہیں جائے گی شرط عدمِ مسیس کی، عدمِ جماع کی شرط مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَاسَّا، بھئی، وہی عدمِ مسیس، مراد جماع ہے۔ سمجھ میں آیا، ویسے مس کا معنی ہوتا ہے چھونا، لیکن کیا مراد ہے بھئی چھونا؟ جماع مراد ہے، سمجھ میں آیا، بھئی؟ اچھا جی۔ تو، تو شرط، پس نہیں بڑھائی جائے گی اس پر شرط نہ چھونے کی، بِالْقِيَاسِ، قیاس کرتے ہوئے، عَلَى الصَّوْمِ، کس پر؟ صوم پر قیاس کرتے ہوئے۔ بَلِ الْمُطْلَقُ يَجْرِيْ عَلٰى اِطْلَاقِهٖ وَالْمُقَيَّدُ عَلٰى تَقْيِيْدِهٖ، بلکہ مطلق اپنے اطلاق پر جاری ہو گا، اور مقید اپنے تقیید پر۔ وَكَذٰلِكَ قُلْنَا، اور اسی طرح ہم کہتے ہیں، الرَّقَبَةُ... بھئی، مسئلہ یہ، بھئی۔ کفارہ ظہار میں بھی تحریرِ رقبہ کا ذکر آیا، اللہ کیا فرماتے ہیں، فَتَحْرِيْرُ رَقَبَةٍ۔ کفارہ یمین، قسم توڑنے کے بارے میں بھی کیا ذکر آتا ہے قرآن میں، فَتَحْرِيْرُ... کوئی قسم توڑ دے تو کیا کرے؟ ایک گردن کو آزاد کرے۔ لیکن جہاں پر قتل کا ذکر آتا ہے، وَمَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَاً فَتَحْرِيْرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ، باقی دو میں مومنہ کی قید تھی؟ نہیں۔ وہاں ظہار میں آیا صرف تحریرِ رقبہ، گردن آزاد کرو۔ قسم کے بارے میں بھی کیا آیا، گردن آزاد کرو۔ لیکن قتلِ خطا کے بارے میں اللہ فرما رہے ہیں، فَتَحْرِيْرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ۔ تو معلوم ہوا کہ وہاں پر ظہار کے اندر، چاہے آپ کافر غلام ہی آزاد کر دیں، کافی۔ مسلمان کر دیں، تو بھی کافی۔ یمین کے اندر بھی صرف گردن آزاد کرنی ہے، رقبہ مطلق ہے، چاہے مومن کا رقبہ ہو، چاہے کافر غلام آزاد کریں، چاہے مومن آزاد کریں، مولانا۔ لیکن قتلِ خطا میں اللہ فرما رہے ہیں، فَتَحْرِيْرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ، کس قسم کی گردن آزاد کرنی ہے؟ مومن ہو، جس میں، کس وصف کے ساتھ موصوف ہو؟ ایمان کے ساتھ۔ لہذا قتلِ خطا کے اندر کافر غلام کو آزاد کرنا کافی نہیں، بلکہ صرف کس کو آزاد کیا جائے گا؟ مومن غلام کو۔ تو دیکھو، یہ جو قتلِ خطا میں آیا تحریرِ رقبہ، یہ ہے مقید، کس کے ساتھ؟ ایمان کے ساتھ۔ اور باقی کفارہ ظہار اور کفارہ یمین میں وہ کیا آیا؟ مطلق آیا، اور المطلقُ يجري على اطلاقهِ والمقيدُ يجري على تقییدِہ۔ لہذا احناف کے نزدیک ظہار اور یمین کے کفارے کے اندر، جس غلام کو بھی آزاد کر دیا، کفارہ ادا ہو جائے گا۔ اور، لیکن قتلِ خطا کے اندر کس قسم کا مسلمان آزاد کرنا پڑے گا؟ مومن غلام کو ہی آزاد کرنا پڑے گا، کافر کو ادا کیا تو کفارہ ادا نہیں۔ جبکہ باقی، شوافع، امام شافعی رحمہ اللہ، وہی دلیل دیتے ہیں کہ دیکھو، یہ سارے کفارے کی انواع سے ہیں۔ تحریرِ رقبہ کیا ہے سب میں؟ یہ سب کفارات ہیں، مولانا۔ اور یہ ایک نوع، یہ ایک جنس ہیں، مولانا، کیا ہیں؟ ایک جنس، اور جب ایک جنس ہیں، تو جو ایک میں جو قید لگے گی، باقیوں میں بھی وہ معتبر ہو گی۔ لہذا ایک میں ایمان کی قید آ گئی، تو باقی سب میں بھی کیا ہے، ایمان کی قید معتبر ہو گی۔ لہذا چاہے کفارہ قتلِ خطا ہو، چاہے کفارہ یمین ہو، چاہے کفارہ ظہار ہو، سب کے سب میں کون سا غلام آزاد کرنا پڑے گا؟ مومن ہی آزاد کرنا پڑے گا۔ ہم کہتے ہیں، یہ تو آپ نے کیا کر دیا، مطلق کو مقید کر دیا، قیاس کے ساتھ، سمجھ میں آیا، بھئی؟ حالانکہ المطلقُ يجري على اطلاقهِ والمقيدُ يجري على تقییدِہ۔ وَكَذٰلِكَ قُلْنَا، اور اسی طرح ہم کہتے ہیں، الرَّقَبَةُ فِيْ كَفَّارَةِ الظِّهَارِ وَالْيَمِيْنِ مُطْلَقَةٌ، کہ رقبہ کس کے اندر، مولانا؟ کفارہ ظہار اور کفارہ یمین میں مطلق ہے، فَلَا يُزَادُ عَلَيْهِ شَرْطُ الْاِيْمَانِ، پس اس پر ایمان کی شرط کو بڑھایا نہیں جائے گا، بِالْقِيَاسِ عَلٰى كَفَّارَةِ الْقَتْلِ، کس پر قیاس کرتے ہوئے، کفارہ قتل پر قیاس کرتے ہوئے، کہ وہاں ایمان ہے، تو ان میں بھی ایمان معتبر۔ تو یہ درست نہیں، مولانا، سمجھ میں آیا، بھئی؟ عِندَ الْاَحْنَافِ، بھئی۔ چلیے، مولانا، هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ، وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِحَقِيْقَةِ الْكَلَامِ۔