مولانا، کتاب اللہ کے خاص کی بحث ہو رہی ہے۔ ایک مثال گزر گئی، آج دوسری مثال ذکر کریں گے۔ خاص کے بارے میں آپ نے پڑھا کہ اس پر عمل کرنا واجب ہے قطعی طریقہ پر، اور اگر اس کے مقابلے میں خبرِ واحد یا قیاس آ جائے تو پھر تو اگر تطبیق کی کوئی صورت ہوئی کہ دونوں پر عمل ہو جائے تو دونوں پر عمل کیا جائے گا ورنہ خاص پر عمل کیا جائے گا اور خبرِ واحد اور قیاس کو چھوڑ دیا جائے گا۔ آج بھی ہم پڑھیں گے دوسری مثال مولانا۔ اللہ قرآن میں فرماتے ہیں: "قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَيْهِمْ فِي أَزْوَاجِهِمْ"۔ تحقیق، ہم جانتے ہیں وہ جو کہ ہم نے مقرر کیا ہے، "فَرَضْنَا" مقرر کیا ہے، جو ہم نے مقرر کیا ہے ان خاوندوں پر ان کی بیویوں کے بارے میں بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو یہ زوج کا لفظ میاں بیوی دونوں پر بولا جاتا ہے بھئی۔ دونوں پر بولا جاتا ہے۔ تو بھئی، مسئلہ یہ ہے، مسئلہ یہ چل رہا ہے، عورت کے مہر بھئی، اس میں کوئی مقدار مقرر ہے شریعت کی جانب سے یا مقرر نہیں ہے بھئی؟ تو یاد رکھو، احناف کے نزدیک مہر جو ہے جانبِ زیادت میں تو کوئی حد نہیں ہے، جتنا بھی آپ عورت کا مہر مقرر کرنا چاہیں آپ کر سکتے ہیں بھئی۔ جانبِ زیادت میں کوئی حد نہیں مولانا، لیکن جانبِ قُلت کے اندر کم سے کم 10 درہم مہر ہوگا، اس سے کم مہر نہیں ہو سکتا بھئی۔ اس سے کم مہر نہیں ہو سکتا۔ جبکہ امامِ شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مہر میں کوئی حد مقرر نہیں، نہ جانبِ زیادت میں نہ جانبِ قلت میں بھئی۔ زیادہ سے زیادہ کی جیسے کوئی حد نہیں، اسی طرح کم سے کم مہر کی بھی کوئی حد نہیں۔ کوئی حد نہیں۔ جو بھی میاں بیوی آپس میں عقد کرنے والے جس پر بھی متفق ہو جائیں، وہ مہر ہو جائے گا۔ وہ مہر ہو جائے گا، چاہے ایک مٹھی گندم ہی کیوں نہ ہو مولانا۔ اختلاف سمجھ میں آیا بھئی؟ ہماری جانب، جانبِ زیادت میں تو کوئی حد نہیں، لیکن جانبِ قلت میں حد ہے۔ کتنی، کم سے کم کتنا مہر ہوگا؟ 10 درہم۔ اس سے کم نہیں ہو سکتا بھئی۔ کم کریں گے بھی تو بھی 10 ہی درہم ہوگا، اس سے کم نہیں ہو سکتا۔ جبکہ امامِ شافعی رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ نہ جانبِ زیادت میں کوئی حد مقرر ہے اور نہ جانبِ قلت میں۔ ہماری دلیل یہ "مَا فَرَضْنَا" ہے، "فَرَضْنَا" بھئی۔ اللہ کیا فرما رہے ہیں؟ تحقیق، ہم جانتے ہیں وہ جو کہ "فَرَضْنَا" ہم نے کیا کیا؟ مقرر کیا ہے بھئی۔ مقرر کیا ہے۔ معلوم ہوا من جانبِ اللہ مہر کی کوئی مقدار متعین ہے بھئی۔ اب اس بات میں تو مجتہدین کا اتفاق ہے کہ جانبِ زیادت میں کوئی حد نہیں۔ معلوم ہوا کہ یہ جو حد مقرر کی گئی ہے، یہ کس جانب ہوگی؟ جانبِ قلت کے اندر ہوگی۔ جانبِ قلت کے اندر ہوگی۔ لیکن وہ کتنی ہے مولانا، وہ قرآن میں بیان نہیں ہوئی۔ قرآن میں صرف یہ آیا کہ ہم جانتے ہیں جو ہم نے ان پر مقرر کیا۔ معلوم ہوا آیت مجمل ہے مولانا۔ آگے آپ پڑھیں گے، مجمل آئے گا۔ اور مجمل کے لیے بیان چاہیے ہوتا ہے بھئی، کیا مراد ہے، کیا معنی ہے اس کا۔ تو قرآن میں تو ہمیں اس کا بیان نہیں ملا، چنانچہ ہم حدیث کی طرف گئے، حدیث کے اندر ہمیں اس کا بیان مل گیا مولانا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: "لا مَهْرَ لأَقَلَّ مِنْ عَشَرَةِ دَرَاهِمَ"۔ "لا مَهْرَ لأَقَلَّ مِنْ عَشَرَةِ دَرَاهِمَ"۔ 10 درہم سے مہر کم نہیں ہے بھئی۔ مہر جو ہے وہ 10 درہم سے کم نہیں ہے۔ تو معلوم ہوا مولانا کہ کم سے کم کتنی مقدار ہے مہر کی؟ 10 درہم۔ تو دیکھو، یہاں "فَرَضْنَا" خاص ہے مولانا۔ امامِ شافعی رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ تو دیکھو، یہاں اللہ نے فرمایا، تو یہ ہماری دلیل یہ ہے، یہ "فَرَضْنَا" کا لفظ بھئی۔ کیا معلوم ہوا؟ "فَرَضْنَا" مقرر کیا، کس نے مقرر کیا؟ اللہ نے اس کی نسبت اپنی طرف کی ہے کہ ہم نے مقرر کیا ہے۔ ہم نے مقرر کیا ہے۔ یہ خاص ہوا۔ معلوم ہوا، یہ مقرر ہونا کس کی طرف سے ہے؟ اللہ کی جانب سے۔ اب جانبِ زیادت میں تو کوئی حد نہیں۔ معلوم ہوا جانبِ قلت میں ہوگی کوئی حد بھئی۔ اور یہ خاص ہے مولانا، اس پر عمل کرنا کیا ہے؟ واجب ہے۔ البتہ یہ مجمل ہے، اس کے لیے بیان چاہیے بھئی۔ اور قرآن میں اس کا بیان نہیں کہ کیا مراد ہے اس سے، تو ہم حدیث کی طرف گئے۔ حدیث میں ہمیں کیا ملا مولانا؟ "لا مَهْرَ لأَقَلَّ مِنْ عَشَرَةِ دَرَاهِمَ"۔ 10 درہم سے کوئی کم مہر نہیں ہے مولانا۔ समझ में आया؟ یہ تھی ہماری دلیل بھئی۔ امامِ شافعی رحمہ اللہ اس کو قیاس کرتے ہیں عقدِ مالی کے ساتھ بھئی۔ وہ نکاح کو قیاس کرتے ہیں کس کے ساتھ؟ عقدِ مالی کے ساتھ، مال والا عقد بھئی جس میں مال ہو۔ وہ فرماتے ہیں جیسے دیکھو عقدِ، یہ نکاح بھی عقدِ مالی کی طرح ہے۔ عقدِ مالی میں جیسے جانبین سے عوض دیا جاتا ہے مولانا۔ آپ مثلاً مبیع خریدتے ہیں تو وہ بائع آپ کو مبیع دے گا اور آپ کیا حوالے کریں گے؟ ثمن حوالے کریں گے بھئی۔ اسی طرح یہ نکاح بھی، یا جیسے مولانا، اجارہ ہے۔ اجارے میں ایک اپنی محنت آپ کو کرکے دے گا اور آپ اس کے مقابلے میں پھر کیا دیں گے؟ اجرت دیں گے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو وہ عمل کے بدلے آپ، آپ اجرت دیں گے۔ تو وہ بھی عقدِ مالی ہے۔ اور مبیع کے اندر مولانا، بتائیے کوئی حد مقرر ہے کمی یا زیادتی میں؟ بھئی، یہ کتاب ہے آپ کے اور آپ کے ساتھی میں جتنے میں بھی عقد ہو جائے۔ 100 روپے میں ہو جائے چاہے دو روپے میں ہو جائے بھئی۔ کوئی آپ کو کچھ کہہ سکتا ہے بھئی؟ شریعت کی جانب سے کوئی پابندی ہے؟ نہیں۔ تو یہ عقدِ مالی ہی کی طرح ہے اور عقدِ مالی کے اندر جانبین جس عوض پر بھی راضی ہو جائیں مولانا، وہ ثمن بن جایا کرتا ہے۔ وہ عوض بن جایا کرتا ہے۔ سمجھ میں آیا؟ چاہے کم ہو چاہے زیادہ ہو۔ اسی طرح نکاح بھی وہ فرماتے ہیں امامِ شافعی رحمہ اللہ عقدِ مالی کی طرح ہے۔ اور عقدِ مالی میں جانبین اپنی مرضی سے جو مقرر کرنا چاہیں کر سکتے ہیں، تو نکاح میں بھی اپنی مرضی سے جو مقرر کرنا چاہیں میاں بیوی مقرر کر سکتے ہیں۔ چاہے کم کا مقرر کریں، چاہے زیادہ۔ 10 مہر، 10 درہم وغیرہ کی کوئی حد متعین نہیں ہے۔ سمجھ میں آیا؟ کہتے ہیں عقدِ مالی کی طرح اس میں بھی جانبین سے عوض ہے مولانا۔ نکاح ہوا، عورت اپنے ایک مخصوص عضو کو مرد کے حوالے کرے گی اور مرد اس کے عوض میں مہر دے گا، تو دیکھو عوض آ گیا۔ لہٰذا یہ کس کی طرح ہوا؟ عقدِ مالی کی طرح ہوا، جانبین سے عوض آ گیا مولانا۔ جانبین سے عوض آ گیا۔ اور عقدِ مالی میں کیا ہوتا ہے مولانا؟ عوض کتنا ہونا چاہیے؟ یہ کس کی سپرد ہے مولانا؟ عقد کرنے والوں کے۔ وہ جتنا مرضی چاہے مقرر کر لیں۔ تو یہاں بھی جتنا مرضی چاہے وہ مقرر کر لیں۔ سمجھ میں آیا؟ امامِ شافعی رحمہ اللہ کی دلیل سمجھ میں آئی بھئی آپ کو؟ ہم جواب دیتے ہیں کہ نہیں، "مَا فَرَضْنَا" خاص ہے مولانا کتاب اللہ میں۔ اور خاص پر عمل کرنا واجب ہے۔ اور آپ اس کو مقابلے میں قیاس لے کر آ رہے ہیں، آپ قیاس کر رہے ہیں۔ اور ضابطہ ہم نے پڑھا ہے کہ قیاس کس کے مقابلے میں آ جائے؟ کتاب اللہ کے خاص کے مقابلے میں آئے تو اس کو کیا کر دیا جائے گا؟ ترک کر دیا جائے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی سب کو بھئی؟ تو قیاس خاص کے مقابلے میں آیا، ہم اس کو، قیاس کو ترجیح نہیں دے سکتے بھئی۔ کتاب اللہ کے خاص پر عمل کرنا واجب ہوگا۔ سمجھ میں آیا؟ بلکہ قیاس بھی ہمارا مؤید ہے، ہماری تائید کرتا ہے مولانا۔ قیاس بھی ہماری تائید کرتا ہے۔ تائید کرتا ہے۔ کہ ہم اس نکاح کو قیاس کرتے ہیں سرقہ پر، چوری پر مولانا چوری۔ اور کتنی چوری میں ہاتھ کاٹا جائے گا مولانا؟ 10 درہم یا اس سے زیادہ میں۔ تو کم سے کم 10 درہم کی چوری ہو تو ہاتھ کاٹا جائے گا، اس سے چوری کم ہو تو پھر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ معلوم ہوا ایک انسانی عضو کی کم سے کم قیمت کتنی ہے مولانا؟ 10 درہم ہے۔ اور نکاح میں بھی مولانا، عورت بضع حوالے کرتی ہے اور وہ بھی ایک انسانی عضو ہے، لہٰذا اس کی کم سے کم قیمت 10 درہم ہوگی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ جی۔ اس پر کئی مسائل متفرع ہوتے ہیں بھئی۔ چلیے، وہ آگے آئیں گے بھئی۔ عبارت دیکھیے مولانا۔ مسئلہ سمجھ میں آیا بھئی؟ وَكَذَالِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى، اور اسی طرح ہے اللہ کا یہ قول۔ سمجھ میں آیا؟ تو "فَرَضْنَا" بھی ثلاثہ کی طرح خاص ہے۔ اسی طرح ہے۔ "قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَيْهِمْ فِي أَزْوَاجِهِمْ"، تحقیق ہم جانتے ہیں وہ جو کہ ہم نے مقرر کیا ان خاوندوں پر ان کی بیویوں کے بارے میں۔ تو یہ خاص ہے آیت مولانا، یعنی اس کے اندر یہ "فَرَضْنَا" کیا ہے؟ خاص ہے۔ فِي التَّقْدِيرِ الشَّرْعِيِّ أَيْ فِي التَّعْيِينِ الشَّرْعِيِّ مولانا۔ تقدیر کس معنی میں ہے؟ تعیین میں۔ یعنی شریعت کی جانب سے تعیین ہے، ایسی تعیین جو کس کی جانب سے ہے؟ شریعت کی جانب سے۔ تو یہ مولانا "فَرَضْنَا" خاص ہے تعیینِ شرعی کے اندر۔ فَلَا يُتْرَكُ الْعَمَلُ بِهِ، لہٰذا اس پر عمل کو ترک نہیں کیا جائے گا۔ بِاعْتِبَارِ، اعتبار کا معنی یہاں قیاس کے کریں مولانا۔ پس اس پر عمل کو ترک نہیں کیا جائے گا اس قیاس کے ساتھ کہ أَنَّهُ عَقْدٌ مَالِيٌّ، کہ یہ کیا ہے؟ عقدِ مالی۔ تو جب عقدِ مالی ہے، فَيُعْتَبَرُ بِالْعُقُودِ، یہ امامِ شافعی کی ساری دلیل آگے انہی کی چلتی رہے گی، دیکھتے جائیے۔ تو یہ قیاس کرتے ہوئے کہ یہ عقدِ مالی ہے، فَيُعْتَبَرُ بِالْعُقُودِ الْمَالِيَّةِ، پس اس کا قیاس کیا جائے گا کس کے ساتھ؟ عقودِ، امامِ شافعی رحمہ اللہ فرما رہے ہیں کہ یہ کیا ہے، عقدِ مالی ہے، پس اعتبار کیا جائے گا کس کے ساتھ اس کا؟ عقودِ مالیہ کے ساتھ بھئی۔ فَيَكُونُ تَقْدِيرُ الْمَالِ فِيهِ مَوْكُولًا إِلَى رَأْيِ الزَّوْجَيْنِ، پس مال کی تعیین اس کے اندر موکولاً، موکول کا معنی سپرد کیا گیا، مال کی تعیین اس میں سپرد کی جائے گی "إِلَى رَأْيِ الزَّوْجَيْنِ" کس کی طرف؟ زوجین کے رائے کی طرف۔ وہ اپنی رائے سے جو بھی مقرر کرنا چاہیں کیا کر سکتے ہیں؟ مقرر کر سکتے ہیں۔ ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے سب کو بھئی؟ کَمَا ذَكَرَهُ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى، جیسے کہ ذکر کیا کس نے؟ امامِ، امامِ دنیا مولانا امامِ شافعی رحمہ اللہ نے۔ وَفَرَّعَ عَلَى هَذَا، اور وَفَرَّعَ عَلَى هَذَا۔ اور اس پر وہ تفریع کرتے ہیں۔ أَنَّ التَّخَلِّيَ لِنَفْلِ الْعِبَادَةِ أَفْضَلُ مِنَ الاِشْتِغَالِ بِالنِّكَاحِ۔ امامِ شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں بھئی یہ نکاح کس کی طرح ہے؟ عقدِ مالی کی طرح۔ عقد ہے، مباح ہے، اس کو کوئی ثواب وغیرہ نہیں ہے، کچھ بھی نہیں ہے۔ اب بیع و شراء کرتے ہیں، کوئی ثواب ہوتا ہے بیع و شراء کا؟ جی؟ بیع و شراء؟ نہیں بھئی، یہ تو عقد ہے عام سا، اس کے کوئی ثواب، یہ عبادت ہے بیع و شراء کرنا؟ نہیں، ثواب تو عبادت ہو۔ تو وہ فرماتے ہیں کہ یہ عقدِ مالی ہے، لہٰذا عبادت نہیں تو ثواب بھی اس کا نہیں بھئی۔ ثواب بھی نہیں۔ اور جب ثواب نہیں ہے اس کا، تو آپ بتائیے، ایک ہے، ایک شخص خلوت اختیار کرتا ہے، نکاح نہیں کرتا مولانا۔ خلوت، تنہائی۔ خلوت اختیار کرتا ہے، نکاح نہیں کرتا۔ کیوں؟ نفل تاکہ نفل عبادات زیادہ کر سکے۔ کیا کر سکے؟ بھئی، نکاح کرے گا تو بیوی کے خرچے پورے کرنے ہوں گے، بچے ہوں گے، بچوں کا خیال رکھنا پڑے گا۔ تو یہ وغیرہ، بہت سی چیزوں میں مشغول ہونا پڑے گا بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو وہ فرماتے ہیں نکاح کے امور میں مشغول ہونا، نکاح میں مشغول ہونا، نفل عبادت، خلوت اختیار کرنا نفل عبادت کے لیے یہ بہتر ہے نکاح میں مشغول ہونے سے بھئی۔ کیونکہ نفل عبادت میں کیا ملے گا؟ ثواب ملے گا۔ اور اشتغال، نکاح میں اشتغال ہوگا تو ثواب ہے؟ جی؟ ثواب نہیں۔ تو کون سا بہتر ہوا بھئی؟ نفل عبادت کے لیے خلوت کو اختیار کرنا یہ کیا ہے؟ بہتر ہے، بہتر ہے۔ ہم کہتے ہیں نہیں۔ یہ اختلاف، اختلافی مسئلہ۔ ہم کہتے ہیں نہیں۔ نکاح کرنا عبادت ہے، کیونکہ حضور نے فرمایا ہے، ایک حدیث میں ہے: "النِّكَاحُ مِنْ سُنَّتِي" نکاح کس میں سے ہے؟ میری سنت سے۔ دوسری حدیث میں آتا ہے: "فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي"۔ جس شخص نے میری سنت سے اعراض کیا وہ مجھ سے نہیں، یعنی میرے ساتھ اس کا تعلق نہیں ہے۔ میری سنت سے جو منہ پھیرتا ہے۔ تو معلوم ہوا سنت، یہ نکاح کیا ہے؟ سنت ہے مولانا، سنت۔ اور جب سنت ہے تو معلوم ہوا عبادت ہے۔ اور جب عبادت ہے تو پھر یہ کیا ہوئی مولانا؟ جی؟ افضل ہوئی۔ تو ہمارے نزدیک یہ افضل ہے مولانا۔ سمجھ میں آیا؟ نیز اس میں مولانا، انسان، جہاد کی تیاری بھی ہے مولانا۔ بھئی، اولاد حاصل ہوگی یا نہیں ہوگی بھئی؟ جی؟ ہاں، اولاد بھی حاصل ہوگی۔ سمجھ میں آیا؟ ذمہ داریاں آئیں گی بھئی، بیوی کے حقوق پورے کرے گا، ان پہ بھی بے انتہا ثواب ہے، بہت زیادہ ثواب ہے۔ بچوں کی ضروریات پوری کرے گا، بہت زیادہ ثواب ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو ہمارے نزدیک اشتغال بالنکاح جو ہے، وہ بہتر ہے کس سے؟ تخلئ، خلوت اختیار کرنے سے نفل عبادت کے لیے۔ وہ تو نفل ہے مولانا، اور یہ تو سنت ہے، کس کا درجہ اونچا ہے؟ لازمی بات ہے سنت کا اونچا ہے بھئی۔ اور تفریع کی ہے اس پر: أَنَّ التَّخَلِّيَ لِنَفْلِ الْعِبَادَةِ أَفْضَلُ، کہ خلوت اختیار کرنا نفل عبادت کے لیے أَفْضَلُ یہ زیادہ افضل ہے، یہ زیادہ بہتر ہے۔ یہ بہتر ہے مولانا "مِنَ الاِشْتِغَالِ بِالنِّكَاحِ"، نکاح میں مشغول ہونے سے۔ وَأَبَاحَ، یہ ایک مسئلہ ہوا اس اختلاف پر متفرع ہوا۔ وَأَبَاحَ إِبْطَالَهُ بِالطَّلَاقِ، اور انہوں نے مباح قرار دیا ہے اس نکاح کو باطل کرنا طلاق کے ساتھ۔ مباح قرار دیا ہے۔ كَيْفَمَا شَاءَ الزَّوْجُ، جیسے بھی خاوند چاہے مولانا۔ مِنْ جَمْعٍ وَتَفْرِيقٍ، چاہے جمع کرے طلاقوں کو، چاہے جدا جدا دے مولانا۔ بھئی ہمارے نزدیک تو یہ سنت ہے، وہ کہتے ہیں بھئی یہ عقدِ مالی ہے، بس اس میں کوئی ثواب نہیں۔ اور جب عقدِ مالی ہے، تو عقدِ مالی عقد کی طرح ہے عام سی۔ لہٰذا جب ایک عام عقد ہے یہ تو اس کو انسان فسخ بھی کر سکتا ہے، ان کی اس کی اپنی مرضی ہے بھئی۔ اس کو ختم بھی کر سکتا ہے جیسے چاہے۔ طلاق دے کر، مولانا! اب چاہے۔ خاوند کی مرضی ہے، اکٹھی تین طلاقیں دے دے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ جمع کر دیا اس نے تین طلاقوں کو اکٹھا۔ یا دیں تو الگ الگ، لیکن ایک ہی طہر میں دے دیں! ایک آج دی، ایک کل دی، ایک پرسوں دے دی بھئی۔ تو یہ بھی کیا ہے؟ ایک ہی طہر میں جمع کر دیا۔ جبکہ ہمارے نزدیک مولانا یہ نکاح تو سنت ہے، تو اور اس کے لیے پھر طلاق کا بھی مسنون طریقہ ہے کہ یا کیا کرو، ایسے طہر میں بیوی کو طلاق دے دو جس میں جماع نہ کیا ہو اور پھر اس کو عدت پوری کر لینے دو، وہ بائنہ ہو جائے گی، جدا ہو جائے گی آپ سے۔ یا اگر تین دینی ہیں تو ایک ایک طہر میں ایک ایک طلاق دیتے جاؤ، تین طہروں میں تین طلاقیں دے دو بھئی۔ اور اگر کوئی اکٹھی دیتا ہے وغیرہ، دوسرا طریقہ ان کے علاوہ اختیار کرتا ہے، تو یہ بدعت ہے مولانا، گناہ ہے، گناہ ہے۔ سمجھ میں آیا؟ شریعت میں جب ایک طریقہ بتلایا گیا ہے تو پھر اس کے خلاف کیا جا رہا ہے، تو یہ بدعت ہوئی مولانا۔ مسئلہ سمجھ میں آ رہا ہے سب کو بھئی؟ تو وہ تو کہتے ہیں یہ تو عقدِ مالی کی طرح ہے بھئی، اب خاوند کی مرضی ہے اس کو ختم کرنا چاہتا ہے چاہے اکٹھی تین طلاقیں دے دے، چاہے الگ الگ دے دے، ایک ایک طہر میں ایک دے، چاہے ایک ہی طہر میں تینوں دے دے، چاہے ایک اکٹھی دے دے، ایک ہی وقت میں تینوں دے دے بھئی۔ وَأَبَاحَ، اور انہوں نے مباح قرار دیا ہے إِبْطَالَهُ، اس نکاح کو باطل کرنے کو بِالطَّلَاقِ، طلاق کے ساتھ كَيْفَ مَا شَاءَ الزَّوْجُ، جیسے بھی خاوند چاہے مِنْ جَمْعٍ وَتَفْرِيقٍ، یعنی کہ جمع کرنے اور تفریق، جدا جدا، چاہے اکٹھی طلاقیں دے دے، ایک ہی لفظ کے ساتھ دے دے، یا ایک طہر میں جمع کر کے دے دے، یا التفریق، الگ الگ مولانا، کیا کر دے، جدائی کے ساتھ بھئی، فرق ڈال کر۔ وَأَبَاحَ إِرْسَالَ الثَّلَاثِ جُمْلَةً وَاحِدَةً، اور انہوں نے مباح قرار دیا ہے بھیجنا تین طلاقوں کا اکٹھا، جُمْلَةً وَاحِدَةً، اکٹھا، جی؟ اکٹھا مولانا، ایک ہی وقت کے اندر بھئی۔ تین آپ ایک ہی وقت میں، کوئی شخص اپنی بیوی کو کہتا ہے: "میں تجھے تین طلاقیں دیتا ہوں۔" جبکہ ہم کیا کہتے ہیں؟ نہیں بھئی، یہ کیا ہے؟ بدعت ہے مولانا، بدعت ہے۔ تین مسئلے ہو گئے بھئی؟ تو مِنْ جَمْعٍ وَتَفْرِيقٍ کا پھر یہ معنیٰ، یہ آگے الگ مسئلہ آ گیا تو یوں کر لو، جمع سے مراد یہ ہے کہ ایک ہی طہر میں جمع کر دے، اکٹھی نہیں دے رہا ایک لفظ سے، آج ایک دے دی، کل دے دی، پرسوں دے دی مولانا۔ سمجھ میں آیا؟ تو جمع کر دے ایک ہی طہر میں، وَتَفْرِيقٍ، اور چاہے جدا جدا کر دے مولانا، ایک ایک طہر میں کیا کر دے، ایک ایک طلاق دے دے۔ ایک یہ صورت اور اسی طرح وَأَبَاحَ إِرْسَالَ الثَّلَاثِ جُمْلَةً وَاحِدَةً، اور مباح قرار دیا ہے تین طلاقوں کو تین طلاقیں اکٹھی بھیجنے، اکٹھی دینے کو مولانا ایک ہی وقت میں، کہ میں تجھے، کیا کہے خاوند بیوی سے؟ "میں تجھے تین طلاقیں دیتا ہوں۔" وَجَعَلَ عَقْدَ النِّكَاحِ قَابِلًا لِلْفَسْخِ بِالْخُلْعِ، اور اسی طرح انہوں نے قرار دیا ہے عقدِ نکاح کو کہ وہ قبول کرنے والا ہے فسخ کو، قَابِلًا، قبول کرنے والا ہے لِلْفَسْخِ، فسخ کو بِالْخُلْعِ، کس کے ساتھ؟ خلع۔ امامِ شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "یہ عقدِ مالی ہے مولانا، خلع کر لو، وہ فسخ ہو جائے گا بالکل، یہ تو عقدِ مالی ہے۔" تو اس کو فسخ کس کے ساتھ کیا جا سکتا ہے؟ خلع۔ تو خلع دے دو، یوں ہو جائے گا جیسے نکاح ہوا ہی نہیں تھا، فسخ ہو گیا، ختم ہو گیا۔ بیع جیسے آپ میں ہوئی ہے مولانا، آپ پھر فسخ کر دیتے ہیں، گویا کہ ہوئی ہی نہیں، ختم کر دی آپ نے۔ تو لہٰذا خلع بھی کر سکتے ہیں، یہ فسخ ہو جائے گا، فسخِ نکاح ہے۔ ہم کہتے ہیں نہیں، خلع فسخِ نکاح نہیں ہے، یہ طلاقِ بائن ہے۔ کیا ہے؟ اس لیے کہ نکاح عبادت ہے اور عبادت میں فسخ نہیں ہوتا مولانا، عبادت میں فسخ نہیں ہوتا، تو وہاں لہٰذا خلع طلاقِ بائن کے حکم میں ہے، یعنی جس سے جدائی آ جائے اور جدائی کس سے آ جاتی ہے؟ طلاقِ بائن سے جدائی آ جاتی ہے بھئی۔ سارا مسئلہ سب کو سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ خاص کی دوسری مثال تھی، دوبارہ سن لو خلاصہ کلام مولانا۔ ہمارا اور امامِ شافعی رحمہ اللہ کا اختلاف ہے، ہمارے نزدیک مہر کی کم سے کم مقدار دس درہم ہے، زیادہ کی کوئی حد نہیں، امامِ شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں نہ زیادہ کی حد ہے اور نہ کم کی۔ ہماری دلیل مولانا کتاب اللہ کی یہ آیت ہے: "قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا"، یعنی ہم کہتے ہیں یہاں "فَرَضْنَا" خاص ہے۔ مقرر کرنے کی نسبت کس کی طرف کی اللہ تعالیٰ نے؟ اپنی طرف، تو یہ خاص ہوئی مولانا نسبت کہ اللہ فرما رہے ہیں: "ہم مقرر کرنے والے ہیں"، معلوم ہوا کچھ مقرر ہے شریعت کی جانب سے۔ کیا مقرر ہے؟ مجمل ہے، بیان نہیں مولانا۔ مجمل ہے، بیان نہیں، اور کتاب اللہ میں بیان ملا نہیں، حدیث کی طرف ہم گئے، حدیث میں بیان مل گیا: "لَا مَهْرَ أَقَلُّ مِنْ عَشَرَةِ دَرَاهِمَ"، دس درہم سے کم مہر نہیں، بیان آ گیا مولانا۔ سمجھ میں آیا؟ اور امامِ شافعی رحمہ اللہ تو وہ اس کو قیاس کرتے ہیں کس پر؟ عقدِ مالی۔ جیسے عقدِ مالی کے اندر مولانا دونوں جانبین سے عوض آتا ہے جس پر بھی وہ راضی ہو جائیں، ایک چیز کا عوض دیا جاتا ہے جس پر بھی وہ راضی ہو جائیں، یا عمل کی اجرت دی جائے گی یا مبیع وغیرہ کوئی چیز دی جائے گی، اس کی اجرت دی جائے گی، اور جس پہ بھی راضی ہو جائیں، ثمن کم، زیادہ جتنے بھی طے کر لیں مرضی ہے۔ تو یہ بھی عقدِ مالی کی طرح ہے، وہاں جیسے مرضی ہوتی ہے عقد کرنے والوں کی، یہاں بھی میاں بیوی کی آپس میں مرضی ہے، نکاح کرنے والوں کی کہ وہ جس پر بھی راضی ہو جائیں مولانا، ان کی مرضی، ان کے سپرد ہے، کتنا مقرر کرنا چاہتے ہو؟ ہم کہتے ہیں نہیں، یہاں "مَا فَرَضْنَا" آیا، اور "فَرَضْنَا" کیا ہے؟ خاص ہے، اور خاص پر عمل کرنا واجب، اور آپ قیاس کر رہے ہیں، اور قیاس اس کے مقابلے میں آ جائے، خاص کے مقابلے میں، تو قیاس کو کیا کیا جاتا ہے؟ ترک کیا جاتا ہے مولانا، تو یہ خاص پر عمل کریں گے۔ سمجھ میں آیا؟ جی۔ "مَا فَرَضْنَا"، ہم کہتے ہیں کہ نیز مولانا... ہم اس، قیاس بھی ہمارا مؤید ہے، ہم اس کو قیاس کس پر کرتے ہیں؟ سرقہ پر، چوری پر مولانا۔ سرقہ بھی کم سے کم کتنے سرقہ پر ہاتھ کاٹا جاتا ہے؟ دس درہم، معلوم ہوا انسانی عضو کی کم سے کم قیمت کتنی ہے؟ دس درہم ہے، اور نکاح میں بھی اسی طرح ہے، عورت بضع حوالے کرتی ہے اور مرد اس کے عوض میں کیا دیتا ہے؟ مہر دیا کرتا ہے، تو لہٰذا وہ بھی ایک انسانی عضو ہے، اس کی کم سے کم قیمت کتنی ہو گی؟ دس درہم ہو گی مولانا۔ اس پر پھر سمجھ میں آیا؟ کئی مسائل متفرع ہوئے۔ نیز مولانا یہ بھی میں نے بتایا کہ نکاح ہمارے نزدیک سنت ہے مولانا، کیا ہے؟ سنت ہے بھئی، سنت۔ اس لیے کہ حضور، حدیث میں کیا ہے: "النِّكَاحُ مِنْ سُنَّتِي"، دوسری حدیث میں کیا ہے: "فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي"۔ تو چنانچہ اس پر چار مسائل انہوں نے ذکر کیے، امامِ شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نفل عبادت کے لیے خلوت اختیار کرنا یہ نکاح سے افضل ہے کیونکہ نکاح کیا ہے؟ عقدِ مالی ہے، وہ تو ایک مباح چیز ہے اور یہ نفل ہے اور نفل عبادت ہے اور عبادت میں ثواب ہے، لہٰذا یہ کیا ہے؟ افضل۔ ہم کہتے ہیں اگر یہ نفل ہے تو وہ سنت ہے اور سنت کا درجہ اعلیٰ، لہٰذا اس میں وہ زیادہ وہ بہتر ہے مولانا۔ اسی طرح وہ کہتے ہیں بھئی یہ تو عقدِ مالی ہے، جیسے چاہے خاوند ختم کرنا چاہے اس کو، باطل کرنا چاہے، چاہے اکٹھی ایک ہی طہر کے اندر تین طلاقیں دے دے، چاہے الگ الگ طہروں کے اندر دے۔ ہم کہتے ہیں نہیں مسنون طریقہ، عبادت ہے، مسنون طریقہ اس کا موجود ہے باطل کرنے کا، اور وہ یہ وہ جو ذکر ہوا مولانا۔ اسی طرح وہ کہتے ہیں یہ بھی مباح ہے کہ اکٹھی ایک ہی وقت میں تین دے دے، ہم کہتے ہیں نہیں نہیں، یہ بھی کیا ہے؟ بدعت ہے مولانا اور اس میں بھی آدمی کیا ہو گا؟ گناہ گار ہو گا مولانا۔ اور چوتھا مسئلہ یہ نکلا، وہ فرماتے ہیں کہ یہ نکاح عقدِ مالی کی طرح ہے، لہٰذا اس کو فسخ بھی کیا جا سکتا ہے، کس کے ذریعے؟ خلع کے ذریعے، ہم کہتے ہیں نہیں یہ عبادت ہے اور عبادت فسخ کو قبول نہیں کرتی، لہٰذا اس کو خلع کو کس کے حکم میں؟ فسخِ نکاح کے حکم میں ہم نہیں لیتے بلکہ کس کے حکم میں لیتے ہیں؟ طلاقِ بائن کے حکم میں لیتے ہیں۔ چلیے مولانا! هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام بھئی۔ بھئی، عبارت ترجمہ سب کو سمجھ میں آیا؟ دیکھو، یہ ذرا مشکل جگہ ہے، یہ دیکھ لو، فَلَا يُتْرَكُ الْعَمَلُ بِهِ، پس اس، پس اس کتاب اللہ کے خاص پر عمل کو ترک نہیں کیا جائے گا اس قیاس کے ساتھ، اور آگے پھر امامِ شافعی رحمہ اللہ کی پوری دلیل ہے، کہاں تک؟ كَمَا ذَكَرَهُ الشَّافِعِيُّ، دو سطریں۔ دیکھو، اب ترجمہ یوں ہو گا، ذرا مشکل با محاورہ ترجمہ۔ بس یہ دیکھو مولانا، فَلَا يُتْرَكُ الْعَمَلُ بِهِ، اس کا ترجمہ آخر میں کرو، پھر با محاورہ ہو جائے گا۔ پہلے یوں کرو، بِاعْتِبَارِ سے ترجمہ شروع کرو: اس قیاس کے ساتھ کہ یہ عقدِ مالی ہے، پس اس کو قیاس کیا جائے گا عقودِ مالیہ کے ساتھ، پس اس میں مال کی تعیین سپرد کی جائے گی کس کے، کس کی طرف؟ میاں بیوی کی رائے کی طرف، اس قیاس کے ساتھ، لَا يُتْرَكُ الْعَمَلُ بِهِ، اس خاص پر عمل کو ترک نہیں کیا جائے گا اس قیاس کے ساتھ۔ عبارت سب کو سمجھ میں آ گئی؟ جیسے کہ امامِ شافعی رحمہ اللہ نے ذکر کیا ہے۔ چلیے مولانا! هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔