کل مولانا ہم نے خاص کی مثال شروع کی تھی بھئی۔ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ۔ طلاق والی عورتیں اپنے نفسوں کو روکے رکھیں تین قروء تک۔ اور قروء کا لفظ عربی میں مشترک ہے مولانا بين الطهر والحيض۔ طہر پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے اور حیض کا بھی بھئی۔ اب اس سے کیا مراد ہے؟ تو اس میں صحابہ کے بھی دو گروہ تھے۔ بعض اس عدت کو کس سے شمار کیا انہوں نے بعضوں کو؟ حیض اس سے مراد لیا، بعضوں نے طہر کو عدت شمار کیا۔ معلوم ہوا اس کے دونوں معانی آتے ہیں۔ طہر بھی آتا ہے اور حیض بھی اس کا معنی آتا ہے۔ اب فقہی مسئلہ اس میں یاد رکھو، احناف کا مسلک یہ ہے کہ جب عورت کو طلاق دی جائے تو وہ اپنی عدت کو حیض کے ساتھ شمار کرے گی اور تین حیض عدت کے گزارے گی۔ تیسرا حیض جب پورا ہو جائے گا تو اس کی عدت کیا ہو جائے گی؟ ختم ہو جائے گی۔ اور جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک عدت کس کے ساتھ گزارے گی؟ طہر کے ساتھ گزارے گی۔ اور یہ بھی یاد رکھیں طلاق کا شرعی طریقہ کیا ہے؟ کس میں دی جائے طلاق؟ طہر میں دی جائے مولانا، ایسا طہر جس میں جماع نہ کیا ہو مولانا۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وہ طہر جس کے اندر طلاق دی ایک وہ ہوا اور دو اس سے اگلے طہر آئے تو مولانا عدت پوری ہو جائے گی۔ تو وہ تین طہر شمار کرتے ہیں۔ ہم تین حیض شمار کرتے ہیں اور وہ تین طہر۔ ایک وہ طہر شمار کرتے ہیں جس میں طلاق ہوئی اور دو اس کے علاوہ، دو اس کے علاوہ۔ اب احناف کی دلیل ہے مولانا، احناف دلیل یہ دیتے ہیں کہ قرآن میں لفظ آیا ہے "ثَلاثَة"۔ اور ثلاثہ ایک عددِ معلوم ہے جس کا اطلاق کتنے پر ہے؟ کس کو کہتے ہیں مولانا؟ تین کو۔ تین سے کم ہو تو وہ ثلاثہ نہیں کہلاتا مولانا، تین سے زیادہ ہو تو وہ بھی ثلاثہ نہیں کہلاتا بھئی۔ تو یہ ایک عددِ معلوم ہے تو یہ خاص ہے مولانا جس کا معنی معلوم ہے بھئی، معنی معلوم ہے۔ اور اس پر عمل کرنا خاص، اور ضابطہ پڑھا آپ نے کہ کتاب اللہ کے خاص پر عمل کرنا واجب ہے۔ اور اس تین پر اسی صورت میں عمل ہو سکتا ہے کہ جب ہم اس سے کیا مراد لے لیں؟ حیض مراد لے لیں۔ اگر طہر مراد لیں تو اس خاص پر عمل نہیں ہو سکتا۔ دیکھو! ایک طہر کے اندر اس نے کیا دی خاوند نے؟ طلاق دی۔ اب اطمینان سے مولانا تین حیض، اگلا حیض آیا وہ بھی ایک پورا شمار ہوا، اس سے اگلا حیض آیا وہ بھی پورا شمار ہوا، اس سے اگلا حیض آیا وہ بھی پورا شمار ہوا۔ تو کل کتنے حیض شمار ہوئے؟ تین پورے حیض شمار ہوئے یا کم ہوئے بھئی؟ پورے تین حیض شمار ہوئے تو ثلاثہ پر عمل ہو گیا۔ ثلاثہ پر کیا ہوا؟ عمل ہو گیا۔ ثلاثہ پر عمل ہو گیا بھئی۔ شوافع، اب شوافع کی دلیل مولانا۔ شوافع فرماتے ہیں کہ اس سے مراد، قروء سے مراد کیا ہے؟ طہر مراد ہے بھئی، طہر مراد ہے۔ تو دراصل "ثَلاثَةَ أَطْهارٍ" کے معنی میں ہے عبارت بھئی، ثلاثۃ اطہار۔ اب ان کی دو تقریریں ہیں مولانا، دو تقریریں علماء کرتے ہیں دونوں ہو سکتی ہیں کہ انہوں نے کیا مراد لیا مولانا قروء سے؟ طہر۔ دلیل ان کی ثلاثہ کے میں تاء آ رہی ہے مولانا، دلیل ان کی کیا ہے کہ ثلاثہ کے اندر تاء آ رہی ہے اور نحوی قانون ہے کہ ثلاثہ سے لے کر عشرۃ تک جو ہے عدد کیا آتا ہے مولانا؟ خلافِ قیاس آتا ہے، مذکر کے لیے بالتاء اور مؤنث کے لیے بغیر تاء کے۔ اور تو مذکر کے لیے تاء کے ساتھ اور مؤنث کے لیے بغیر تاء کے مولانا۔ اور یہاں قرآن میں کس کے ساتھ آیا ہے مولانا؟ تاء کے ساتھ آیا ہے۔ معلوم ہوا کہ اس کی جو تمیز ہے جو آگے وہ جمع آ رہی ہے وہ مذکر ہے یا مؤنث ہے مولانا؟ وہ کیا ہے؟ مذکر ہے، کیونکہ تاء کس کے لیے آتی ہے عدد کے اندر؟ تذکیر کے لیے، مذکر کے لیے آتی ہے بھئی۔ مذکر کے لیے آتی ہے۔ تو معلوم ہوا اس سے طہر مراد ہیں کیونکہ طہر مذکر ہے اور حیض مؤنث ہے عربی میں، حیض کا لفظ کیا ہے؟ مؤنثِ سماعی ہے، مؤنث استعمال ہوتا ہے۔ اور ثلاثہ کے اندر تاء آئی تو معلوم ہوا اس سے کیا مراد ہے؟ طہر مراد ہے۔ سمجھ میں آیا؟ دوبارہ سنو بھئی یہ شوافع کی دلیل بھئی۔ شوافع دلیل پکڑتے ہیں ثلاثہ کی تاء سے مولانا۔ وہ کہتے ہیں نحوی قانون ہے کہ ثلاثہ سے لے کر عشرۃ تک جو عدد آتا ہے وہ خلافِ قیاس آتا ہے، مذکر کے لیے تاء کے ساتھ اور مؤنث کے لیے بغیر تاء کے آتا ہے، اور قرآن میں آیا ہے تاء کے ساتھ، معلوم ہوا آگے تمیز کس قسم کی ہے؟ مذکر ہے یا مؤنث ہے؟ مذکر ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ مثلاً آپ کہنا چاہتے ہیں تین آدمی، کیا کہیں گے؟ ثلاثۃ رجالٍ۔ اور آپ کہنا چاہتے ہیں تین کاپیاں یا تین عورتیں کہنا چاہتے ہیں تو کیا کہیں گے؟ ثلاث نسوۃٍ بھئی۔ تو دیکھا مؤنث کے لیے بغیر تاء کے اور مذکر کے لیے تاء، اور قرآن میں آیا ہے تاء کے ساتھ، معلوم ہوا آگے جو تمیز ہے وہ کیا ہے؟ مذکر، اور طہر اور حیض میں سے طہر مذکر ہے اور حیض کیا ہے؟ مؤنث، معلوم ہوا کہ یہاں کیا مراد ہے؟ طہر مراد ہے، طہر مراد ہے۔ یہ بات سمجھ میں آ گئی؟ اب ہاں، اب اس میں دو تقریریں ہو سکتی ہیں مولانا کہ آپ نے، کہ انہوں نے جو مراد لیا قروء سے کیا مراد لیا؟ طہر مراد لیا، یا تو اس وجہ سے مراد لیا کہ قروء بایں اعتبار کہ قروء کا معنی طہر لیا انہوں نے۔ قروء کے بارے میں نہیں کہا کہ قروء کس کی جمع ہے؟ قرءٍ کی، کس کی جمع ہے؟ تو وہ یہ نہیں کہہ رہے کہ قرءٍ کا لفظ مذکر ہے۔ بلکہ وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ قرءٍ کا معنی ہے حیض، اگر حیض لیں تو حیض کیا ہے؟ مؤنث، اور قرءٍ کا معنی طہر لیں تو یہ کیا معنی؟ یہ کیسا ہے؟ یہ مذکر ہے بھئی، یہ کیسا ہے؟ تو اب اس سے کیا مراد لیں گے مولانا؟ مذکر لیں گے مراد یا مؤنث بھئی؟ تاء کی طرف دیکھتے ہوئے بتائیں بھئی! مذکر۔ تو شوافع یا تو یہ کہنا چاہتے ہیں کہ قرءٍ کا معنی یہاں مذکر والا لیں گے تاکہ تاء جو آئی ہے اس کے ساتھ مطابقت ہو جائے بھئی۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تاء کے ساتھ کس طرح مطابقت ہو گی کہ قرءٍ کا کون سا معنی مراد لیں؟ مذکر معنی مراد لیں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ یا مولانا یہ ایک تقریر ہوئی کہ اس کا معنی انہوں نے کیا لیا؟ مذکر۔ یا وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ قرءٍ کا لفظ ہی مذکر ہے۔ کب؟ جبکہ اس کا معنی کس کے لیے لیا جائے؟ طہر کے لیے لیا جائے۔ اور اگر اس کا معنی حیض کے لیے لیا جائے تو یہ لفظ ہی کیا بن جائے گا؟ مؤنث بن جائے گا بھئی۔ پہلی صورت میں تو وہ کیا کر رہے ہیں مولانا؟ کہ قرءٍ کا لفظ ٹھیک ہے مذکر ہے۔ قرءٍ کا لفظ کیا ہے؟ مذکر ہے۔ لیکن اس مذکر کے دو معانی آتے ہیں مولانا، ایک ہے طہر اور ایک کیا ہے؟ حیض۔ اگر اس کا معنی طہر لیں تو یہ معنی کیسا ہے؟ مذکر، اور اگر اس کا معنی حیض لیں تو یہ معنی کیسا ہے؟ مؤنث ہے۔ تو وہ معنی کی طرف دیکھتے ہوئے کہ قرءٍ کا معنی یہاں طہر کے کر سکتے ہیں، حیض کے اس سے مراد نہیں لے سکتے، کیوں نہیں لے سکتے؟ اس لیے کہ حیض تو ہے مؤنث، اور پیچھے کیا آ رہی ہے؟ تاء آ رہی ہے، لہٰذا اس کا معنی کیا ہونا چاہیے؟ مذکر ہونا چاہیے۔ تو یعنی معنی کی بات کر رہے ہیں، لفظ کی بات نہیں کر رہے۔ دوسری تقریر یہ ہو سکتی ہے جو بعض بعض علماء یہ کرتے ہیں کہ وہ قرءٍ لفظ، لفظ ہی کے بارے میں کہہ رہے ہیں کہ یہ لفظ مذکر بھی ہو سکتا ہے اور اگر اس کا معنی کیا لیں؟ طہر لیں، تو طہر کیا ہے؟ مذکر، تو یہ لفظ بھی کیا ہے؟ مذکر۔ اور اگر اس کا معنی حیض لیں، تو حیض کیا ہے؟ مؤنث، تو جب حیض مؤنث ہے تو حیض کا دوسرا نام کیا ہے؟ قرءٍ، وہ بھی کیا بن جائے گا؟ مؤنث۔ بات سمجھ میں آئی؟ جی؟ جی۔ پہلی صورت میں وہ قرءٍ کے وہ نہیں چھیڑتے، کہتے ہیں قرءٍ کیا ہے مولانا؟ مذکر ہی ہے، لیکن اس کے معانی کون سے ہیں؟ دو، تو اب معنی کون سا والا مراد لیں گے؟ مذکر والا مراد لیں گے، مؤنث والا معنی نہیں لے سکتے، کیونکہ پیچھے کیا آ رہی ہے؟ تاء آ رہی ہے۔ دوسرے میں اس لفظ ہی سے بات کر رہے ہیں گویا کہ وہ کہ یہ لفظ ہی مولانا قرءٍ مذکر نہیں ہے، یہ مذکر بھی ہو سکتا ہے اور مؤنث، معنی کو دیکھیں گے۔ اگر معنی اس کا حیض لے لیں تو حیض مؤنث ہے، تو لہٰذا یہ لفظ بھی کیا بن جائے گا؟ مؤنث ہو گا۔ اور اس کا معنی کیا ہے؟ مذکر طہر لیں تو یہ لفظ بھی کیا ہے؟ مذکر ہے، کیونکہ حیض اور قرءٍ ایک ہی چیز کے نام ہوئے اور جب ایک مؤنث ہے تو دوسرا بھی کیا ہوا؟ مؤنث، اور اگر اس کا معنی طہر کے لیں تو طہر اور قرءٍ ایک چیز کے نام ہوئے، قرءٍ مذکر ہے تو طہر طہر مذکر ہے تو قرءٍ بھی کیا ہوا؟ مذکر ہوا! ان کی تقریر سمجھ میں آئی بھئی؟ دو طریقے سمجھ میں آ گئے سب کو؟ جواب ہم دیتے ہیں شوافع کو، کہ اگر آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ قرءٍ کا معنی مذکر والا لینا پڑے گا، قرءٍ کا معنی کیوں مذکر کیوں مذکر والا لینا پڑے گا؟ کیونکہ پیچھے کیا آ رہی ہے؟ تاء، تو جواب یہ مولانا کہ یہ جو تاء آئی ہے، تاء آئی ہے، یہ قرءٍ لفظ کے لحاظ سے آئی ہے اس کے معنی کے اعتبار سے نہیں آئی، کیونکہ یہ نحوی قانون ہے مولانا اور نحوی بحث کرتا ہے لفظوں سے نہ کہ معنی سے، اور لفظوں کے اعتبار سے قرءٍ کیا ہے؟ مذکر ہے، تو لہٰذا اس کے لیے کیا لائی گئی؟ تاء لائی گئی۔ جواب سمجھ میں آیا؟ انہوں نے صرف معنی کو دلیل بنایا تھا نا، قرءٍ لفظ کے بارے میں تو ٹھیک ہے، قرءٍ ہے ہی مذکر، وہ بھی نہیں کوئی بات کرتے اس بارے میں۔ لیکن قرءٍ کا معنی وہ کیا کہتے ہیں؟ کیا کرو؟ معنی بھی مذکر والا کرو، کیونکہ پیچھے کیا آ رہی ہے؟ تاء آ رہی ہے، اگر آپ حیض لیں گے تو حیض معنی ہے مؤنث، تو اس تاء کے ساتھ اس کی مطابقت نہیں ہوئی۔ تو ہم کہتے ہیں کہ نحوی بحث کرتے ہیں لفظوں سے، اور یہاں پر ثلاثہ کی تمیز آ رہی ہے قرءٍ، معنی کی طرف نہیں دیکھے گا نحوی، نحوی قرءٍ کے لفظ کو دیکھے گا تو اس کے مطابق کیا آنی چاہیے؟ تاء آنی چاہیے، اور اگر قرءٍ کا لفظ مؤنث ہو تو پھر کیا آ سکتی ہے؟ تاء نہیں۔ تو نحوی بحث کرتا ہے لفظوں سے اور لہٰذا لفظِ قرءٍ کیا ہے قرآن کے اندر جو آیا؟ مذکر ہے، لہٰذا اس کے لیے کیا لائی گئی؟ تاء لائی گئی۔ اور اگر آپ دوسری تقریر کہ آپ نے کیا کیا، وہ دراصل کیا کہنا چاہتے ہیں؟ انہوں نے اس سے طہر کیوں مراد لیا؟ اگر آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ بھئی حیض اس سے مراد نہیں ہو سکتا، طہر، اس لیے کہ قرءٍ کا معنی کیا ہے؟ حیض بھی اور، تو جب یہ قرءٍ کس معنی میں ہوا؟ حیض کے معنی میں ہوا تو حیض اور قرءٍ ایک ہی چیز کے نام ہوئے، اور حیض مؤنث ہے تو معلوم ہوا اب قرءٍ بھی کیا ہے؟ قرءٍ بھی مؤنث ہے، اور جب یہی قرءٍ کس کے معنی میں ہوا؟ طہر، تو طہر اور قرءٍ ایک ہی چیز کے نام ہوئے تو جب طہر مذکر ہے تو قرءٍ بھی کیا ہے؟ مذکر ہے۔ تو آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ایک ہی چیز کے نام ہونے کی وجہ سے مذکر ہوں گے یا مؤنث ہوں گے تو یہ بات بھی آپ کی درست نہیں ہوئی۔ یہ ضروری نہیں کہ ایک چیز کا ایک نام مؤنث ہو تو دوسرا بھی مؤنث ہو گا، ایک نام مذکر ہو تو دوسرا بھی مذکر ہو گا، جیسے مولانا گندم کو حنطۃ بھی کہتے ہیں، حِنْطَةٌ، اور یہ مؤنث ہے، تاء آ رہی ہے، اور گندم کو بُرٌّ بھی کہتے ہیں اور یہ کیا ہے؟ مذکر ہے۔ سمجھ میں آئی بات بھئی؟ جواب سمجھ میں آئے بھئی؟ دوبارہ سنو مولانا! ہم احناف کیا دلیل ذکر کرتے ہیں؟ ہم کہتے ہیں ثلاثہ کا لفظ خاص ہے، اس پر عمل کرنا واجب، اور اس پر عمل اسی صورت میں ہو سکتا ہے جبکہ عدت کس کو شمار کیا جائے؟ حیض کو، کیونکہ طلاق دی جائے گی طہر میں اور طہر میں، تو لہٰذا کیا ہو گا؟ اگلے تین پورے پورے حیض شمار ہو جائیں گے، تو ثلاثہ پر عمل ہوا یا نہ ہوا مولانا؟ وہ حیض جو آپ نے شمار کیے پورے تین ہیں یا تین سے کم یا زیادہ ہیں؟ پورے تین ہیں، تو ثلاثہ پر کیا ہوا؟ اور امام شافعی رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ طہر مراد لیں گے۔ کیا مراد لیں گے؟ طہر مراد لیں گے، کیوں طہر کیوں مراد لیں گے؟ اور طہر کون سے مراد لیتے ہیں؟ ایک وہ طہر جس کے اندر انہوں نے کیا کی ہے؟ طلاق دی ہے اور اگلے دو طہر، اور ہم کہتے ہیں اس صورت میں تو ثلاثہ پر عمل نہیں ہو رہا، کیونکہ ایک طہر کا کچھ حصہ گزر چکا، بھئی جس میں طلاق دی ہے اس کا کچھ حصہ گزر چکا ہے یا نہیں؟ بھئی دو چار لمحے گزر چکے ہیں کم از کم، یا مولانا دو چار دن گزر چکے ہیں یا ہفتہ دو ہفتے گزر چکے ہیں، جب بھی دے گا مولانا کچھ وقت گزر چکا ہے یا نہیں گزر چکا مولانا؟ پورے، تو پورے تین طہر شمار ہو سکتے ہیں؟ نہیں! تو ثلاثہ پر عمل باقی نہ رہا، حالانکہ ثلاثہ تو خاص ہے اور کتاب اللہ کے خاص پر عمل کرنا کیا ہے؟ واجب ہے۔ سمجھ میں آیا؟ اور انہوں نے دلیل کس سے بنائی تھی مولانا؟ ثلاثہ سے، ثلاثہ کے اندر کیا آ رہی ہے؟ تاء آ رہی ہے، اور تاء آتی ہے کس کے لیے؟ مذکر کے لیے، معلوم ہوا قرءٍ سے کیا مراد لیں گے؟ طہر جو مذکر ہے، حیض مراد نہیں لے سکتے کیونکہ وہ کیا ہے؟ مؤنث ہے۔ سمجھ میں آیا؟ اب انہوں نے اس سے جو طہر مراد لیا اس کی پھر دو صورتیں بن سکتی ہیں۔ یا تو وہ کہنا یہ چاہتے ہیں کہ قرءٍ کا معنی کیا ہے؟ مذکر والا کرنا پڑے گا، مؤنث والا معنی نہیں کر سکتے، معنی کی بات کرتے ہیں، ہم کہتے ہیں نہیں بھئی نحوی کس سے بحث کرتا ہے؟ لفظ سے کرتا ہے، معنی سے بحث نہیں کرتا۔ یا وہ مولانا معنی کی طرف نہیں جاتے، لفظ ہی کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ لفظ ہی اگر کس معنی میں ہو جائے؟ حیض کے معنی میں، تو یہی لفظ کیا ہو گا؟ کیونکہ دونوں کس چیز کے نام ہیں؟ ایک ہی چیز کے مولانا، اب معنی کی بات نہیں کر رہے اسی لفظ کی بات کر رہے ہیں، یہ لفظ ہی کیا بن گیا ہے؟ مؤنث، کب؟ جبکہ یہ کس چیز کا نام ہو؟ حیض کا، اور یہ لفظ ہی مذکر ہو گا جب یہ کس چیز کا نام ہو؟ طہر کا، جب یہ طہر کا نام ہو گا تو یہ مذکر ہو گا، جب حیض کا نام ہو گا تو مؤنث، ہم کہتے ہیں نہیں بھئی یہ بھی بات درست نہیں ہے مولانا، اس لیے کہ ایک ہی چیز کے دو نام ہو جائیں تو ضروری نہیں کہ ایک نام مؤنث ہے تو دوسرا بھی مؤنث ہو، یا ایک مذکر ہے تو دوسرا بھی مذکر ہو، ایک مذکر ہو سکتا ہے اور ایک کیا ہو سکتا ہے؟ مؤنث ہو سکتا ہے۔ دلیل سمجھ میں آئی بھئی؟ ذرا تھوڑی سی باریک سی بات جو فرق میں نے سمجھایا بھئی، وہ سمجھ میں آ گیا سب کو؟ تو ہم کہتے ہیں اگر آپ کے اس سے طہر مراد لیے جائیں تو ثلاثہ پر پوری ثلاثہ پر عمل باقی نہ رہا، حالانکہ ثلاثہ تو خاص ہے، اس کا معنی تو معلوم ہے اور یہ تین سے کم پر بھی نہیں بولا جائے گا، تین سے واجب ہے۔ بھئی بعض صورتوں میں تو آپ ہی نہیں عمل کرتے۔ ایک آدمی ہے اس نے اپنی بیوی کو حیض میں طلاق دے دی۔ کس میں دے دی؟ آپ اس حیض کو شمار نہیں کرتے۔ اگلے تین شمار کرتے ہیں۔ تو یہ والا بھی حیض کچھ ہو گیا یا نہیں ہوا؟ اور اگلے تین بھی ہوئے۔ تو کتنے بن گئے؟ ساڑھے تین بن گئے۔ تین سے مطلب زائد ہو گئے مولانا۔ تین تو تین پر اب ثلاثہ پر عمل آپ کا بھی باقی نہ رہا۔ اعتراض سمجھ میں آیا؟ وہ کہتے ہیں اس ثلاثہ پر آپ کے نزدیک عمل واجب ہے تو بعض صورتوں میں تو آپ ہی عمل نہیں کرتے کہ وہ صورت جب خاوند نے طلاق دی بیوی کو حیض کے اندر تو آپ کیا کرتے ہیں؟ اگلے تین حیض شمار کرتے ہیں، تو کچھ حصہ اس کا ہو گیا، تو یہ تین ثلاثہ سے زائد ہو گئے، ثلاثہ پر عمل باقی نہ رہا، آپ کہتے ہیں اگلے تین حیض شمار ہوں گے، تو ثلاثہ پر آپ بھی عمل نہیں کرتے۔ جواب ہم دیتے ہیں مولانا۔ جوابِ اول یہ دیتے ہیں کہ بات ہماری چل رہی ہے شرعی طریقے میں طلاق کے مولانا۔ صحیح طریقہ جو ہے، اور شرعی طریقہ کیا ہے طلاق کس کے اندر دی جائے؟ اطہر میں، اور اس کے اندر ہمیشہ ثلاثہ پر عمل ہوتا ہے۔ یہ تو طریقہ غیر شرعی ہے۔ طریقہ ہی کیا ہے؟ غیر شرعی ہے۔ تو اس میں تو ضرورت کی بناء پر کیا کرنا پڑا ہمیں؟ تین سے زائد حیض شمار کرنے پڑے۔ تین سے زائد حیض کو کیا کرنا پڑا؟ ضرورت کی بناء پر۔ اور یہ تین سے زائد بھی ہم نے اس لیے کیے مولانا تاکہ ثلاثہ پہ عمل ہو جائے۔ تیسرا اگلے تین کیوں کیے مولانا تاکہ ثلاثہ پر کیا ہو جائے؟ عمل ہو جائے، عمل ہو جائے۔ اس لیے کہ تین سے زائد بھی ہو گئے تو مولانا مثلاً ساڑھے تین ہے، ساڑھے تین کے اندر تین موجود ہے یا نہیں موجود؟ کمی کی صورت میں تو نقصان بہت، نقصان کسی طرح عمل نہیں، لیکن اگر زائد ہو جائے تو پھر بھی مولانا ثلاثہ پر کیا ہو گیا؟ عمل ہو گیا۔ تو زیادہ کی صورت میں کوئی ایسا نقصان نہیں ہے، کیونکہ ساڑھے تین، پونے چار جتنا بھی ہو بن جاتا ہے تین سے زائد، اس میں پھر بھی کیا موجود ہے درمیان میں؟ تین تو موجود ہے۔ سمجھ میں آیا؟ اور یہ زائد ہمیں مجبوری کی وجہ سے کرنا پڑا بھئی۔ مجبوری یہ کہ حیض کی تجزی نہیں مولانا۔ حیض کی تقسیم نہیں۔ یاد رکھو جیسے باندی کا حکم آدھا ہے، آزاد عورت سے آدھا ہے۔ جیسے حدیث میں آتا ہے: طَلَاقُ الْأَمَةِ ثِنْتَانِ، باندی کی کتنی طلاقیں ہیں؟ دو۔ طَلَاقُ الْأَمَةِ ثِنْتَانِ وَعِدَّتُهَا حَيْضَتَانِ، اور اس کی عدت کتنی ہے؟ دو حیض ہیں۔ تو دو حیض ہیں مولانا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ دو حیض ہیں۔ دیکھو، اب آزاد عورت کی کتنی طلاقیں ہیں؟ تین۔ اور باندی کی کتنی ہونی چاہیے؟ نصف، ڈیڑھ ہونی چاہیے۔ لیکن طلاق کی تجزی ہے؟ طلاق تقسیم ہوتی ہے؟ طلاق تو تقسیم نہیں ہوتی، تو پھر ہم، کیا کہا گیا؟ کہ دو ہیں۔ اس آدھے کو پورا کر لیا گیا، دو ہیں۔ اسی طرح مولانا، نیز حدیث سے ہماری تائید بھی ہو گئی کہ باندی کی وَعِدَّتُهَا حَيْضَتَانِ، اس کی عدت کتنے ہیں؟ دو حیض ہیں۔ تو حدیث سے پتہ چل گیا کہ باندی کی عدت حیض سے شمار ہو گی، اور باندی کا حکم ہوتا ہے آزاد سے آدھا۔ معلوم ہوا آزاد عورت کی عدت بھی کس سے شمار ہو گی؟ حیض سے۔ اور وہاں دو اس لیے کہا گیا کہ مولانا حیض کی بھی تجزی نہیں، تقسیم نہیں ہو سکتی کہ کب آدھا ہے اور کب آدھا نہیں ہے، تقسیم نہیں ہو سکتی۔ تو اس آدھے کو بھی، تو ڈیڑھ حیض ہونا چاہیے تھا، لیکن اس کی چونکہ تجزی نہیں تو اس کو پورا کر لیا گیا اور کیا کہا گیا اس کی عدت کتنی ہے؟ دو حیض ہیں۔ تو یہاں بھی اسی طرح خاوند نے بیوی کو طلاق دے دی، اس کی عدت تیسرے حیض میں جا کر مثلاً دیکھو، اس حیض میں ایک شخص نے اپنی بیوی کو طلاق دی۔ آدھا گزر چکا ہے، کتنا؟ آدھا۔ آدھا باقی ہے۔ یہ آدھا ہو گیا، اگلے دو حیض پورے ہو گئے، کتنے بن گئے؟ اس سے اگلا تیسرا جو ہے جب آدھا گزر جائے گا مولانا تو عدت پوری ہو جائے گی۔ عورت کی عدت کیا ہو جائے گی؟ لیکن طلاق حیض کی تجزی ہے؟ نہیں۔ تو جب تجزی نہیں ہو سکتی تو عدت تو اس کی درمیان میں پوری ہو رہی تھی، لیکن تجزی ہو نہیں سکتی تو ہم نے مجبورا ً کیا کہا کہ تیسرے کو کیا کرے؟ پورا کر لے۔ مسئلہ سب کو سمجھ میں آ گیا بھئی؟ دوبارہ سن لو بھئی اچھی طرح، سمجھ لو بھئی۔ قرآن میں آیا ہے: وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ کہ مطلقہ عورتیں اپنے آپ کو تین قروء تک روکے رکھیں۔ اب قروء سے کیا مراد ہے؟ یہ لفظ مشترک ہے اطہر میں بھی اور حیض میں بھی۔ احناف کس سے حیض عدت شمار کرتے ہیں؟ حیض سے۔ شوافع کس سے شمار کرتے ہیں؟ اطہر سے، اور وہ اطہر بھی شمار کرتے ہیں جس میں طلاق دی گئی۔ احناف دلیل یہ دیتے ہیں کہ قرآن میں لفظ ثلاثہ آیا ہے، اور ثلاثہ ایک عددِ معلوم ہے، تین سے کم کو بھی تین نہیں کہتے، تین سے زیادہ کو بھی تین نہیں کہتے۔ اور یہ ثلاثہ کا لفظ خاص ہے، اور خاص پر عمل کرنا واجب ہے مولانا۔ اور اس پر عمل تبھی ہو سکتا ہے پوری طرح جب کہ قروء سے کیا مراد لیے جائیں؟ حیض مراد لیے جائیں، کیونکہ طلاقِ شرعی کیا ہے کس میں دی جائے؟ اطہر میں، تو اگلے آنے والے تین پورے حیض شمار ہو جائیں گے اور ثلاثہ پر عمل ہو جائے گا۔ شوافع فرماتے ہیں کہ کیا مراد ہے اس سے؟ اطہر مراد ہے مولانا، اطہر مراد ہے۔ اور وہ اس اطہر کو بھی شمار کرتے ہیں جس میں طلاق دی ہے مولانا۔ ہم کیا کہتے ہیں اس صورت میں تو ثلاثہ جو خاص ہے اس پر عمل باقی نہیں رہا، اس لیے کہ دو اور اطہر پورے ہوئے اور تیسرا جس میں طلاق دی تھی اس کا کچھ حصہ ہے مولانا۔ اور وہ دلیل کس سے دیتے ہیں مولانا؟ ثلاثہ کی تا کو دلیل بناتے ہیں، عدد سے عدد کو مولانا دلیل۔ کہتے ہیں یہاں تا آئی ہے اور یہ تا ثلاثہ سے لے کر عشرہ تک یہ تا کس کے لیے آتی ہے؟ مذکر کے لیے آتی ہے۔ معلوم ہوا اس سے کیا، قروء سے کیا مراد لیں گے؟ دلیل یہ ہے۔ دلیل کیا ہے؟ کہ ثلاثہ میں کیا آئی؟ تا۔ لہٰذا قروء سے کیا مراد لینا پڑے گا؟ اطہر مراد لینا پڑے گا۔ اب اس کی دو صورتیں ممکن ہیں میں نے بتایا۔ کہ وہ یا تو یہ کہنا چاہتے ہیں چونکہ قروء کا معنی، قروء کا معنی مذکر والا کرنا پڑے گا۔ قروء کا معنی کون سا کرنا پڑے گا؟ مذکر والا کرنا پڑے گا، کیونکہ ثلاثہ کی تا کیا ہے؟ مذکر کے لیے آئی ہے۔ ہم کہتے ہیں نہیں بھئی، معنی مذکر والے کی بات نہ کریں مذکر والا کرنا پڑے گا یا مونث والا کرنا پڑے گا، کیونکہ یہ نحوی قانون ہے اور نحوی بحث کس چیز سے کرتے ہیں؟ لفظوں سے کرتے ہیں، معنی سے بحث نہیں کرتے، اور لفظِ قرء کیا ہے؟ مذکر ہے، تو اس لیے تا لائی گئی۔ یا وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ قرء کا لفظ خود کبھی مذکر ہوتا ہے کبھی، وہ بھی نحوی قانون کے مطابق بات کر رہے ہیں، ہاں نحوی کس سے بحث کرتا ہے؟ لفظوں سے۔ لیکن یہ لفظ ہے کبھی مذکر ہوتا ہے اور کبھی کیا ہوتا ہے؟ کب؟ جب یہ کس چیز کا نام ہو؟ اطہر کا، تو اطہر بھی مذکر، یہ لفظ بھی کیا ہو گا؟ قرء بھی مذکر ہو جائے گا۔ اور جب یہ حیض کے معنیٰ، یہ جب کس چیز کا نام ہو؟ حیض کا نام ہو، تو حیض مونث، تو یہ قرء بھی کیا ہوا؟ مونث ہوا مولانا۔ تو یہاں پر کیا آئی، کیا آئی ہے مولانا قروء کے ساتھ؟ تا آئی ہے، معلوم ہوا یہ کس کا نام ہے؟ اطہر مذکر کا نام ہے مولانا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ جواب بھی سمجھ میں آ گئے بھئی؟ اور پھر انہوں نے اعتراض کیا کہ ثلاثہ، آپ کہتے ہیں ثلاثہ پہ خاص ہے، اس پہ عمل کرنا واجب ہے، آپ بھی تو کبھی کبھی اس پہ عمل نہیں کرتے۔ جیسے ایک شخص اپنی بیوی کو حیض میں طلاق دیتا ہے، تو آپ کیا کہتے ہیں؟ کہ اس حیض کے علاوہ آگے پورے تین کیا کریں؟ حیض شمار کریں۔ تو یہ تو تین سے زائد ہو گئے مولانا، ثلاثہ پہ عمل آپ کا باقی نہیں رہا۔ ہم جواب دیتے ہیں مولانا ہماری بحث چل رہی ہے کس طریقے کے اندر؟ شرعی طریقے کے اندر، اور شرعی طریقہ کیا ہے؟ اطہر میں طلاق دی جائے، غیر شرعی طریقے کے اندر ہماری بحث ہی نہیں چل رہی۔ نیز وہاں ہمیں مجبوری کی وجہ سے شمار کرنا پڑا مولانا۔ کس کی وجہ سے؟ مجبوری کی وجہ سے۔ اس لیے کہ مجبوری کی وجہ سے۔ مجبوری کیا؟ حیض کی تجزی نہیں۔ اور اس شخص کے، اس عورت کی عدت تو کس میں ہو رہی تھی؟ آگے آنے والا جو چوتھا حیض تھا، بھئی ایک میں طلاق دی، اس کے بعد کیا؟ دو پورے گزرے، اور تیسرے میں جا کر مولانا۔ تو پہلے میں سے بھی آدھا اور چوتھے میں سے بھی آدھا، یہ کتنے بن گئے؟ تین۔ تو اس چوتھے کے نصف میں جا کر اس کی کیا ہو رہی تھی؟ عدت پوری ہو رہی تھی۔ لیکن طلاق کی تج، عدت کی، حیض کی تجزی اور جب تجزی نہیں تو مجبورا ً ہمیں کیا کرنا پڑا اس کو پورا ہی پورا شمار کرنا پڑا۔ جیسے باندی کی، حکم کیا ہوتا ہے؟ آزاد عورت سے آدھا ہوتا ہے۔ تو آزاد عورت کے لیے تین طلاقیں ہیں تو باندی کے لیے کتنی ہونی چاہیے؟ ڈیڑھ ہونی چاہیے، لیکن چونکہ طلاق کی بھی تجزی نہیں، تو وہاں بھی کیا کرتے ہیں مولانا؟ پورا شمار کرتے ہیں۔ تو یہاں بھی مولانا تجزی نہیں اور اسی تو مجبورا ً کیا کرنا پڑا؟ پورا شمار کرنا پڑا۔ سمجھ میں آیا؟ اور حدیث میں نے آپ کو سنائی مولانا، حدیث بھی یاد ہونی چاہیے آپ کو۔ کیا ہے؟ طَلَاقُ الْأَمَةِ ثِنْتَانِ ثا کے ساتھ، طَلَاقُ الْأَمَةِ ثِنْتَانِ وَعِدَّتُهَا حَيْضَتَانِ۔ نیز اس حدیث سے ہماری مزید تائید بھی ہو گئی مولانا، باندی کی عدت کس کے ساتھ ذکر کی گئی؟ حیض کے ساتھ۔ معلوم ہوا آزاد کی بھی کس سے شمار کرنی چاہیے؟ حیض ہی سے شمار کرنی چاہیے، اطہر سے نہیں مولانا۔ چلئے مولانا، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام