آگے سبق دیکھیے بھئی۔ وقال الا ماذا ترون بشارب شدید علینا بغیہ متعمدی۔ وقال ذروہ انما نفعہا لہ والا تکف قاسی البرک یزددی۔ فضل الایماء یمتل النحووارہا ویسعی علینا بالصدید المسرحدی۔ طرفہ بن العبد کا معلقہ چل رہا ہے، اور گزشتہ سبق کے آخر میں وہ ذکر کر رہا تھا کہ میں اپنے دوستوں کے لیے، اپنے ‏ہم نشینوں کے لیے، اونٹ ذبح کرنے کے لیے، ننگی تلوار لے کر اونٹوں کے گلے میں کی طرف گیا، اور گلے کی جو ‏اگلی صفوں کے اونٹ ہیں، وہ ننگی تلوار دیکھ کر ڈر گئے اور ادھر ادھر دوڑنے لگے، اور پھر میرے پاس سے ایک ‏موٹی اونٹنی گزری، جو کہ ایک بوڑھے شخص کا، جو کہ سخت جھگڑالو تھا، اس کا نفیس اور عمدہ مال تھا، تو اس کو ‏پھر اس نے کیا کیا؟ اس کی ٹانگیں کاٹ دیں، عرب کا میں نے بتلایا طریقہ تھا، ٹانگوں پر وار کرتے، اونٹ وغیرہ گر ‏جاتا اور پھر اس کو فورا ذبح کر لیتے ہیں۔ تو میں نے اس کو اپنے ساتھیوں کے لیے ذبح کر دیا اور وہ بوڑھا جو تھا وہ مجھے برا بھلا کہنے لگا اور کہنے لگا کہ ‏تو ہمارے اوپر ایک بہت بڑی مصیبت لے آیا ہے، تو نے ہمارا اتنا قیمتی مال جو ہے اتنی قیمتی اونٹنی جو ہے اس کو ذبح ‏کر دیا۔ اب آگے کہتا ہے: وقال الا ماذا ترون بشارب شدید علینا بغیہ متعمدی۔ شارب پینے والا بھئی، مراد یہاں شراب پینے والا ہے۔ شدید، شدید سخت ہے۔ علینا بغیہ۔ بغی کہتے ہیں، سرکشی کو بھئی، ‏حد سے تجاوز کرنا۔ متعمد، تعمد کا معنی ہے ارادہ کرنا بھئی، ارادے سے کوئی تو متعمد ارادہ کرنے والا، قصداً کوئی کام کرنے والا۔ وہ بوڑھا کہنے لگا وقال اور اس بوڑھے نے کہا، الا کہ سنو، ماذا ترون، کہ تم لوگوں کی کیا رائے ہے؟ تم لوگوں کی کیا، ‏ماذا ترون تم کیا دیکھتے ہو یعنی تمہاری کیا رائے ہے، تم کیا، تم کیا مجھے کیا مشورہ دیتے ہو، بشارب ایک ایسے ‏شخص کے بارے میں جو شراب پینے والا ہے۔ وہی اپنے بیٹے کے بارے میں لوگوں سے کیا کر رہا ہے؟ لوگوں کے ‏سامنے ذکر کر رہا ہے کہ دیکھو یہ شراب پینے والا ہے اور ہمیں تنگ کرنے والا ہے، تو وہی ذکر کر رہا ہے، کہتا ہے ‏وقال اور اس بوڑھے نے کہا، الا سنو، ماذا ترون بشارب، کہ تم لوگوں کی کیا رائے ہے ایک شرابی کے بارے میں، تم ‏لوگ کیا مشورہ دیتے ہو ایک ایسے شرابی کے بارے میں، شدید، جو سخت ہے ہمارے اوپر، کیا چیز سخت ہے ہمارے ‏اوپر؟ بغیہ، یہ فاعل ہے شدید کا، میں نے آپ کو بتلایا تھا جیسے فعل کے لیے فاعل یا نائی فاعل چاہیے، اسی طرح صفت ‏کے صیغوں کے لیے بھی ہمیشہ فاعل یا نائی فاعل چاہیے ہوتا ہے، تو شدید یہ صفتِ مشبہ ہے، اور بغیہ، یہ اس کا فاعل ‏ہے اس لیے یہ مرفوع ہے۔ شدید علینا بغیہ کہ سخت ہے ہمارے اوپر بغیہ اس کی سرکشی، متعمدین، اور وہ قصْد کرنے والا ہے یعنی اپنے ارادے ‏سے ہمارے اونٹ اور اونٹنیوں کو ذبح کرنے والا ہے، اپنے ارادے سے ہم پر سختی کرنے والا ہے، ہمیں تکلیف دینے ‏والا ہے۔ وقال الا ماذا ترون بشارب شدید علینا بغیہ متعمدی، اور وہ کہنے لگا کہ سنو، تم لوگوں کی کیا رائے ہے ایک ایسے شرابی ‏کے بارے میں کہ جس کی سرکشی ہمارے اوپر بڑی شدید ہے، متعمدین اور وہ، اور وہ متعمد ہے بالارادہ یہ کرنے والا ‏ہے، یعنی بالارادہ یہ اونٹنی وغیرہ ذبح کرنے والا ہے۔ وقال ذروہ انما نفعہا لہ والا تکف قاسی البرک یزددی۔ وزرا یذرو کے معنی ہیں چھوڑ دینا۔ ذروہ، یہ امر ہے۔ ذرو، جمع کا امر، جمع، مذکر حاضر۔ جیسے اذرب، اضربا، اضربوا، تو یہاں وزرا یذرو سے امر کیا آئے گا؟ زر، زرا، ذرو، تو یہ جمع کا صیغہ ہے، اور یہ ہا ‏ضمیر مفعول کی ہے۔ والا تکف، یہ الا اصل میں ان اور لا سے مرکب ہے، ان اور لا، ان حرفِ شرط اور لا نفی کے لیے، تو یہ نون کو بھی لام ‏کر کے لام ادغام کیا تو الا ہوا بھئی، کیونکہ آپ پڑھ چکے ہیں کہ حروفِ یرملون سے پہلے اگر نون ساکن آجائے، تو اس ‏نون کو بھی اسی حرف کی جنس سے بدل کر اس میں ادغام کرتے ہیں۔ ان لا، دیکھو نون ساکن کے بعد لام آ رہا ہے، اور ‏لام کس میں سے ہے؟ یرملون، دیکھو یرملون میں لام ہے؟ جی تو لام موجود ہے، تو اس نون کو بھی لام کر کے لام میں ‏ادغام کیا تو الا ہوا۔ تو یہ اکثر عبارتوں میں آتا ہے بھئی، اکثر عبارتوں میں۔ اور یاد رکھیں الا سے پہلے اگر و آ جائے، تو پھر وہ حرفِ ‏استثناء الا نہیں ہوتا، ایک تو حرفِ استثناء ہے نا الا، اور کبھی کبھار ان اور لا یہ مرکب ہوتا ہے، تو اس کی ایک بڑی ‏نشانی یہ ہے کہ اگر الا سے پہلے و آ جائے تو سمجھ جائیں کہ یہ الا حرفِ استثناء نہیں ہے بلکہ یہ ان اور لا سے مرکب ‏ہے۔ لہذا اگر سے کوئی یہاں پوچھ لے، الا، یہ کون سا استثناء ہو رہا ہے بھئی؟ الا تو استثناء کے لیے آتا ہے، یہ مستثنیٰ منقطع ‏ہے یا مستثنیٰ متصل ہے؟ تو آپ فورا کہیں کہ نہیں بھئی، یہ الا حرفِ استثناء ہے ہی نہیں، یہاں استثناء نہیں ہو رہا بلکہ ‏یہ ان اور لا سے مرکب ہے۔ تو جہاں عبارتوں میں آئے وہاں عموماً پھر یہ ہوتا ہے واللم یكن كذالك، اور اگر ایسا نہ ہو، ‏لیکن یہاں پر تو فعل باقاعدہ خود ذکر ہے، والا تکف، کف یكف کا معنی ہے روکنا، باز رکھنا، منع کرنا۔ قاسی البرک۔ قاسی کہتے ہیں دور کا، دور۔ قفا یقصو کا معنی ہے دور ہونا، دور جانا۔ اور برک، وہ اونٹوں کا گلہ۔ یزدد، ازداد یزداد کے معنی ہیں بڑھ جانا، زیادہ ہونا۔ وقال ذروہ انما نفعہا لہ والا تکف قاسی البرک یزددی، اور وہ بوڑھا کہنے لگا، ذروہ، کہ اس کو چھوڑ دو۔ پہلے کیا کہا کہ ‏تم مجھے کیا مشورہ دیتے ہو ایک شرابی کے بارے میں جو ہم پر بڑی سختی کرتا ہے اور بالارادہ یہ سب کچھ کرتا ہے، ‏پھر لوگوں سے کہتا ہے وہ بوڑھا شخص، ذروہ، اس کو کیا کرو؟ چھوڑ دو۔ انما نفعہا لہ، کہ ان کا نفع تو اسی کے لیے ‏ہے۔ اونٹنیوں وغیرہ کا نفع تو اسی کے لیے ہے، کیونکہ یہی میرا وارث ہے بھئی، یہ میرا بیٹا ہے، سارا مال تو اسی کی طرف ‏ہی منتقل ہونا ہے، تو اگر یہ ان کو ذبح بھی کر رہا ہے، یہ اپنا خود نقصان کر رہا ہے، کسی اور کا نقصان نہیں کر رہا۔ تو ‏وہ کہنے لگا وقال اور اس نے کہا، ذروہ، اس کو چھوڑ دو، یعنی طرفہ کو چھوڑ دو، انما نفعہا لہ، کہ ان اونٹنیوں کا نفع تو ‏اسی کے لیے ہے کیونکہ یہ میرا وارث ہے، والا تکف، اور اگر تم لوگ روکو گے نہیں، قاسی البرک۔ قاسی البرک، گلے کے دور کے جو اونٹ ہیں۔ قاسی کا کیا معنی؟ دور۔ قاسی البرک، گلے کے دور کے اونٹ ہیں۔ والا تکف قاسی البرک، اور اگر تم گلے کے دور کے ‏اونٹوں کو روکو گے نہیں، روکو گے نہیں، یعنی اس طرفہ سے نہیں روکو گے، اس ان اونٹوں کو اس سے نہیں بچاؤ گے، ‏یزددی، تو یہ طرفہ بڑھ جائے گا، یعنی یہ اور بھی اونٹ اور اونٹنیوں کو ذبح کر دے گا۔ معنی سمجھ میں آ رہا ہے؟ ‏یزددی، کون بڑھ جائے گا؟ طرفہ بڑھ جائے گا، کس چیز میں؟ ان اونٹوں اور اونٹنیوں کو ذبح کرنے میں۔ بھئی وہ اونٹوں کے پاس گیا تلوار لے کر، اونٹ بدک کر ادھر ادھر بھاگے، دور چلے گئے، تو وہ بڑا کہتا ہے کہ دیکھو، ‏قریب جو اونٹنی آئی، اس کو اس نے ذبح کر دیا، اب ذرا دور والی اونٹوں کا خیال رکھو، اس کو اس سے بچاؤ، اگر تم نہیں ‏بچاؤ گے، تو ان دور والی باقی اونٹنیوں، باقی اونٹوں کو بھی یہ ذبح کر دے گا۔ تو کہتا ہے وقال ذروہ انما نفعہا لہ والا ‏تکف قاسی البرک یزددی۔ اور وہ اس بوڑھے نے کہا کہ اس طرفہ کو چھوڑ دو، ان اونٹنیوں کا نفع اسی کے لیے ہے، والا تکف قاسی البرک، اور ‏اگر تم گلے کے دور کے اونٹوں کو روکو گے نہیں، روکو گے نہیں، یعنی اس طرفہ سے نہیں روکو گے، ان اونٹوں کو ‏اس سے نہیں بچاؤ گے، یزددی، تو یہ طرفہ بڑھ جائے گا، یعنی اونٹوں کو ذبح کرنے میں اور نحر کرنے میں بڑھ جائے ‏گا۔ جبکہ بعض روایات میں یزدد کے بجائے تزدد آیا ہے۔ تزدد۔ یزدد تھا تو ضمیر کس کو راجع؟ کون بڑھ جائے گا؟ طرفہ۔ اور اگر تزدد ہو، تو پھر اس صورت میں ہیا ضمیر ہے، اور ‏یہ وہ اونٹنیوں اور گلے کی طرف راجع ہے بھئی۔ والا تکف قاسی البرک، اور اگر تم نے وہ دو گلے کے دور کے اونٹ اور اونٹنیوں کو نہ روکا، تزدد، تو وہ اور بڑھ جائیں ‏گے۔ یعنی طرفہ ننگی تلوار لے کر ان کے پاس آیا، تو اونٹ جو ہیں وہ بھڑک اٹھے، اور بدکنے لگے، ادھر ادھر دوڑنے لگے، ‏تو وہ بوڑھا کہہ رہا ہے کہ یہ جو اونٹ اور اونٹنیاں دور بھاگ گئے ہیں، ان کو روکو، اگر ان کو نہیں روکو گے تزدد، تو ‏یہ اور زیادہ بدکیں گے، اور زیادہ دور چلے جائیں گے۔ بھئی، معنی سمجھ میں آیا؟ والا تکف قاسی البرک، اور اگر تم نہیں روکو گے گلے کے دور کے اونٹوں کو، تو تزدد، تو وہ اور بڑھ جائیں گے،ینی ‏طرفہ ننگی تلوار لے کر ان کے پاس آیا، تو اونٹ جو ہیں وہ بھڑک اٹھے، اور بدکنے لگے، ادھر ادھر دوڑنے لگے، تو ‏وہ بوڑھا کہہ رہا ہے کہ یہ جو اونٹ اور اونٹنیاں دور بھاگ گئے ہیں، ان کو روکو، اگر ان کو نہیں روکو گے، تزدد، تو یہ ‏اور زیادہ بدکیں گے، اور زیادہ دور چلے جائیں گے بھئی، معنی سمجھ میں آ گیا؟ وقال ذروہ انما نفعہا لہ والا تکف قاسی البرک یزددی، اور وہ اس بوڑھے نے کہا کہ اس طرفہ کو چھوڑ دو، ان اونٹنیوں کا ‏نفع اسی کے لیے ہے، والا تکف قاسی البرک، اور اگر تم گلے کے دور کے اونٹوں کو روکو گے نہیں، روکو گے نہیں، ‏یعنی اس طرفہ سے نہیں روکو گے، ان اونٹوں کو اس سے نہیں بچاؤ گے، یزددی، تو یہ طرفہ بڑھ جائے گا، یعنی اونٹوں ‏کو ذبح کرنے میں اور نحر کرنے میں بڑھ جائے گا۔ جبکہ بعض روایات میں یزدد کے بجائے تزدد آیا ہے۔ تزدد۔ یزدد تھا تو ضمیر کس کو راجع؟ کون بڑھ جائے گا؟ طرفہ۔ اور اگر تزدد ہو، تو پھر اس صورت میں ہیا ضمیر ہے، اور ‏یہ وہ اونٹنیوں اور گلے کی طرف راجع ہے بھئی۔ والا تکف قاسی البرک، اور اگر تم نے وہ دو گلے کے دور کے اونٹ اور اونٹنیوں کو نہ روکا، تزدد، تو وہ اور بڑھ جائیں ‏گے۔ یعنی طرفہ ننگی تلوار لے کر ان کے پاس آیا، تو اونٹ جو ہیں وہ بھڑک اٹھے، اور بدکنے لگے، ادھر ادھر دوڑنے لگے، ‏تو وہ بوڑھا کہہ رہا ہے کہ یہ جو اونٹ اور اونٹنیاں دور بھاگ گئے ہیں، ان کو روکو، اگر ان کو نہیں روکو گے، تزدد، ‏تو یہ اور زیادہ بدکیں گے، اور زیادہ دور چلے جائیں گے۔ بھئی، معنی سمجھ میں آیا؟ فضل الایماء یمتل النحووارہا ویسعی علینا بالصدید المسرحدی۔ ضلّہ کے معنی ہیں دن گزارنا۔ باتا کے معنی ہیں رات گزارنا۔ بات زید کاتبان۔ بات زید کاتبان، زید نے کتابت کرتے ہوئے رات گزاری۔ ضل زید کاتبان، زید نے کتابت کرتے ہوئے دن گزارا۔ تو ضلہ کا کیا معنی ہے؟ دن گزارنا۔ تو یہ افعالِ ناقصہ میں سے ‏ہے۔ اور افعالِ ناقصہ ایک دوسرے کے معنی میں بھی استعمال ہوتے ہیں، تو ضلہ کو چاہے اپنے ہی معنی میں رکھیں، چاہے ‏اس کو صارا کے معنی میں کر لیں، صارا وہ ہو گئے، معنی سمجھ میں آ رہا ہے؟ الایماء، اماء جمع ہے امۃ کی۔ امۃ باندی بھئی باندی۔ تو أمۃٌ کی جمع إماء بھی آتی ہے اور آمٍ، آمٍ، الف مد اور میم کے نیچے تنوین، آمن بھی آتی ہے۔ يَمْتَلِلْنَا، اِمْتَلَّ يَمْتَلُّ کے معنی ہیں: کويلوں پر کسی چیز کو پکانا۔ کويلوں پر کسی چیز کو پکانا۔ حُوَارَهَا، حُوَار کہتے ہیں: ‏اونٹنی کا جو بچہ ہے، پیدائش سے لے کر دودھ چھڑانے تک اس کو حُوَار کہتے ہیں، چاہے مذکر ہو چاہے مؤنث ہو، ‏حُوَار۔ حُوَارَهَا، اس اونٹنی کا بچہ۔ وَيُسْعَى عَلَيْنَا، سَعَى يَسْعَى کے معنی ہیں: کوشش کرنا۔ کوشش کرنا۔ کسی کوئی کام کرنا، ‏کسی کام میں لگنا۔ بِالصَّدِيفِ، صَدِيف کا معنی ہے: کوہان کا گوشت بھئی۔ صَدِيف، کوہان کا گوشت۔ مُسَرَّحَد، مُسَرَّحَد، سَرَّحَدَ ‏يُسَرِّحِدُ کا معنی ہے: کوہان کو کاٹنا۔ تو مُسَرَّحَد، وہ جو کوہان جس کو کاٹا گیا ہے، کاٹا ہوا کوہان، اس کے ٹکڑے بھئی۔ ‏مُسَرَّحَد، اس کاٹے ہوئے کوہان کو بھی کہتے ہیں، اسی طرح مُسَرَّحَد کا معنی ہے موٹا اور فربہ، دونوں معنی ہیں بھئی، ‏یہاں جو بھی آپ کو مناسب لگے۔ فَظَلَّ الْإِمَاءُ يَمْتَلِلْنَ حُوَارَهَا وَيُسْعَى عَلَيْنَا بِالصَّدِيفِ الْمُسَرَّحَدِ، فَظَلَّ الْإِمَاءُ تو باندیوں نے دن ‏گزارا، يَمْتَلِلْنَ حُوَارَهَا کہ وہ کويلوں پر بھون رہی تھیں، پکا رہی تھیں حُوَارَهَا اس اونٹنی کے بچے کو۔ وہ کويلوں پر اس ‏اونٹنی کے بچے کو پکا رہی تھیں۔ معلوم ہوا جس اونٹنی کو اس نے ذبح کیا، وہ حاملہ تھی بھئی۔ کیا تھی؟ حاملہ تھی تو ‏اونٹنی بھی ذبح کی اور پیٹ میں سے بچہ نکلا، اس بچے کو وہ اب باندیاں وغیرہ پکا رہی ہیں۔ اور اس کو عرب لوگ ‏کھانا پسند نہیں کرتے تھے بھئی، اونٹنی کے پیٹ سے جو بچہ نکلے اس کو کھانا پسند نہیں کرتے تھے، تو اسی لیے ‏شاعر نے کہا: فَظَلَّ الْإِمَاءُ يَمْتَلِلْنَ حُوَارَهَا، کہ باندیاں جو تھیں وہ اس اونٹنی کے بچے کو کويلوں پر پکا رہی تھیں یعنی وہ ‏باندیاں وغیرہ اور غلام کھا رہے تھے، ہم لوگ اس میں سے نہیں کھا رہے تھے۔ وَيُسْعَى عَلَيْنَا، اور ہمارے اوپر لائے جا ‏رہے تھے بِالصَّدِيفِ، کوہان کا گوشت الْمُسَرَّحَدِ جو کہ موٹا تھا، اور ہمارے پاس کوہان کا موٹا اور فربہ گوشت لایا جا رہا ‏تھا یا وَيُسْعَى عَلَيْنَا بِالصَّدِيفِ الْمُسَرَّحَدِ ہمارے اوپر کوہان کا گوشت الْمُسَرَّحَد جس کو کاٹا گیا تھا، ہمارے پاس کوہان کا کٹا ‏ہوا گوشت لایا جا رہا تھا۔ معنی سمجھ میں آیا؟ فَظَلَّ الْإِمَاءُ يَمْتَلِلْنَ حُوَارَهَا وَيُسْعَى عَلَيْنَا بِالصَّدِيفِ الْمُسَرَّحَدِ تو باندیوں نے دن ‏گزارا اس اونٹنی کے بچے کو کويلوں پر بھونتے ہوئے۔ وَيُسْعَى عَلَيْنَا بِالصَّدِيفِ الْمُسَرَّحَدِ اور ہمارے پاس کوہان کا فربہ ‏گوشت لایا گیا۔ وَيُسْعَى عَلَيْنَا بِالصَّدِيفِ الْمُسَرَّحَدِ اور ہمارے پاس کوہان کا فربہ گوشت لایا جا رہا تھا یا ہمارے پاس کوہان ‏کا کٹا ہوا گوشت لایا جا رہا تھا یعنی ہم تو عمدہ گوشت میں سے کھا رہے تھے اور جو ردی گوشت تھا وہ باندیاں اور غلام ‏وغیرہ اپنے لیے پکا رہے تھے۔ فَإِنْ مُتُّ فَانْعِينِي بِمَا أَنَا أَهْلُهُ وَشُقِّي عَلَيَّ الْجَيْبَ يَا ابْنَةَ مَعْبَدِي. مات يَمُوتُ کے معنی ہیں: مرنا۔ فَانْعِينِي، نَعَى يَنْعَى کا معنی ہے: ‏کسی کو کسی کی موت کی خبر دینا۔ موت کی خبر دینا۔ فَانْعِي، یہ امر کا صیغہ ہے اور صیغہ بھی مؤنث کا ہے۔ نَعَى يَنْعَى ‏اس سے امر کا صیغہ کیا بنے گا؟ انْعَ، انْعَ، انْعَ، انْعَ، انْعُو، انْعِي۔ تو یہ مؤنث کا صیغہ ہے، فَانْعِي۔ فَانْعِينِي، یہ یا متکلم کی ‏ہے۔ بِمَا أَنَا أَهْلُهُ، فَانْعِينِي پس تو میری موت کی خبر دے، میری موت کی اطلاع دے بِمَا أَنَا أَهْلُهُ وَشُقِّي، شَقَّ يَشُقُّ کے معنی ‏ہیں: کسی چیز کو پھاڑنا۔ کسی چیز کو پھاڑنا۔ الْجَيْب، جیب کہتے ہیں گریبان کو۔ گریبان کو۔ يَبْنَةَ مَعْبَدِي، ابنٌ بیٹے کو کہتے ‏ہیں تو ابنتٌ بیٹی، اور معبد اس کا ذکر پیچھے بھی ہوا، یہ طرفہ کا بھئی تھا بھئی، اس کا نام تھا معبد، تو يَبْنَةَ مَعْبَدِي اے ‏معبد کی بیٹی! یعنی اے میری بھتیجی! معنی سمجھ میں آ رہا ہے؟ تو شاعر کہता‏ ہے: فَإِنْ مُتُّ فَانْعِينِي بِمَا أَنَا أَهْلُهُ وَشُقِّي عَلَيَّ ‏الْجَيْبَ يَا ابْنَةَ مَعْبَدِي، پس اگر میں مر گیا فَانْعِينِي تو میری موت کی خبر تو دینا بِمَا أَنَا أَهْلُهُ ایسی چیز کے ساتھ جس کا میں ‏اہل ہوں۔ جس کا میں اہل ہوں، یعنی میری موت کی خبر اسی طرح دینا جس لائق میں ہوں، جس قابل میں ہوں، وَشُقِّي عَلَيَّ ‏الْجَيْبَ اور میرے اوپر اپنا گریبان چاک کرنا يَبْنَةَ مَعْبَدِي اے معبد کی بیٹی! اے میری بھتیجی! عرب کے ہاں طریقہ تھا ‏بھئی، کہ ان کے ہاں کسی شخص کا انتقال ہوتا تھا تو خوب نوحہ کیا جاتا، گریبان پھاڑے جاتے، غم کا اظہار کیا جاتا، ‏سروں پر مٹی ڈالی جاتی اور جس جس طریقے سے غم کا اظہار ہو سکتا تھا کیا جاتا تھا، اور جو شخص جتنا بڑا ہوتا تھا ‏اس کے خاندان والے اس پر اتنے ہی زیادہ نوحے غم وغیرہ کا اظہار کرتے اور باقاعدہ اجرت پر نوحہ کرنے والی ‏عورتوں کو بلایا جاتا تھا اور بسا اوقات کئی کئی ماہ تک، بلکہ بسا اوقات سال سال تک یا اس سے بھی زیادہ وہ غم کا ‏اظہار کیا جاتا تھا، گریبان پھاڑے جاتے، رویا جاتا، اشعار کہے جاتے اور نوحے کیے جاتے تھے بھئی۔ تو جتنا بڑا آدمی ‏ہوتا، اتنا ہی زیادہ نوحہ کروایا جاتا، غم کا اظہار کروایا جاتا۔ طرفہ نے اپنی صفات ذکر کر دیں اور بتلایا کہ میں کوئی ‏عام انسان نہیں ہوں، میں بہت بڑا انسان ہوں، میری یہ یہ صفات ہیں۔ میں بہادر بھی ہوں، میں دوسروں کی مدد کرنے والا ‏بھی ہوں، میں ہم مجلس ہوں، میں حاضر ہونے والا بھی ہوں، میں دوستوں کی مدد کرنے والا بھی ہوں، اب آگے اپنی موت ‏کا ذکر کر رہا ہے، تو اپنی بھتیجی سے کہता‏ ہے کہ جب میں مر جاؤں تو میرے مرنے کی خبر اسی طریقے پر دینا جس ‏کے میں لائق ہوں، میں جس قابل ہوں، یعنی خوب نوحہ کرنا، خوب رونا چلانا اور اپنا گریبان پھاڑنا، غم کا اظہار کرنا ‏اے میری بھتیجی! معنی سمجھ میں آ گیا؟ فَإِنْ مُتُّ فَانْعِينِي بِمَا أَنَا أَهْلُهُ وَشُقِّي عَلَيَّ الْجَيْبَ يَا ابْنَةَ مَعْبَدِي، پس اگر میں مر جاؤں ‏تو تو میری موت کی خبر دینا بِمَا أَنَا أَهْلُهُ اسی طور پر جس کا میں اہل ہوں، وَشُقِّي عَلَيَّ الْجَيْبَ اور تم پھاڑنا عَلَيَّ میرے ‏اوپر الْجَيْبَ اپنے گریبان کو شُقِّي یہ مؤنث کا امر ہے بھئی، شَقَّ يَشُقُّ سے امر کیا بنے گا؟ شُقَّا، شُقَّا، شُقُّوا، شُقِّي تو یہ واحد ‏مؤنث کا امر ہے۔ وَشُقِّي عَلَيَّ الْجَيْبَ اور تو میرے اوپر اپنے گریبان کو پھاڑنا يَبْنَةَ مَعْبَدِي اے معبد کی بیٹی! اے میری ‏بھتیجی!‏ وَلَا تَجْعَلِينِي كَمْرِئٍ لَيْسَ هَمُّهُ كَهَمِّي وَلَا يُغْنِي غَنَائِي وَمَشْهَدِي. وَلَا تَجْعَلِينِي، اور تو مجھے نہ بنا دینا، تو مجھے نہ کر دینا ‏كَمْرِئٍ لَيْسَ هَمُّهُ، همّ کہتے ہیں حوصلے، ہمت اور ارادے کو۔ حوصلہ، ہمت، ارادہ، عزم، یہ همّ کا معنی۔ کا همّي، یہ کاف ‏جار رہا ہے، همّي اور آخر میں یہ یا متکلم کی ہے، همّي میری ہمت، میرا عزم، میرا حوصلہ۔ وَلَا يُغْنِي غَنَائِي، أغْنَى يُغْنِي ‏کے معنی ہیں: کافی ہو جانا، کسی کو فائدہ پہنچانا۔ غَنَائِي یہ مفعول مطلق ہے، میرے فائدے کی طرح۔ وَلَا يُغْنِي غَنَائِي، جو ‏فائدہ نہ پہنچائے غَنَائِي میرے فائدے جیسا، یعنی جو میری طرح لوگوں کے لیے فائدہ مند نہ ہو۔ وَمَشْهَدِي، مشهد جو ہے اس ‏کا معنی ہے حاضری، موجودگی اور یہ یا متکلم کی ہے، مشهدی میرا حاضر ہونا، میرا موجود ہونا۔ اسی طرح غَنَائِي اس ‏میں بھی یہ یا متکلم کی ہے، غَنَائِي میری طرح کا فائدہ، فائدہ دینا۔ وَلَا تَجْعَلِينِي كَمْرِئٍ لَيْسَ هَمُّهُ كَهَمِّي وَلَا يُغْنِي غَنَائِي ‏وَمَشْهَدِي، طرفہ کہہ رہا ہے کہ اگر میں مر جاؤں تو میرے مرنے کی خبر اسی طریقے پر دینا جس کا میں اہل ہوں، خوب ‏رونا پیٹنا، گریبان چاک کرنا اے میری بھتیجی! وَلَا تَجْعَلِينِي كَمْرِئٍ لَيْسَ هَمُّهُ كَهَمِّي، اور اے میری بھتیجی! تم مجھے ایسے ‏نہ کر دینا، کمری ان اس شخص کی طرح نہ کر دینا لَيْسَ هَمُّهُ كَهَمِّي جس کا عزم اور حوصلہ میرے عزم اور حوصلے ‏جیسا نہ ہو۔ یعنی مجھے عام لوگوں کی طرح معمولی نہ سمجھ لینا، مجھے اس شخص کی طرح نہ کر دینا جس کا عزم اور ‏حوصلہ میرے عزم اور حوصلے جیسا نہ ہو۔ بلکہ مجھے اپنے عزم اور حوصلے کے مطابق میرے اوپر غم کا اظہار ‏کرنا۔ تو وَلَا تَجْعَلِينِي كَمْرِئٍ لَيْسَ هَمُّهُ كَهَمِّي وَلَا يُغْنِي غَنَائِي وَمَشْهَدِي، اور تو مجھے نہ بنا دینا اس شخص کی طرح جس کی ‏ہمت اور حوصلہ میری ہمت اور حوصلے جیسا نہیں ہے اور جو میری طرح فائدہ نہیں دیتا، اور جو میری طرح حاضر نہ ‏ہو، وَلَا يُغْنِي غَنَائِي وَمَشْهَدِي، اور جو فائدہ نہیں دیتا غَنَائِي میرے فائدے کی طرح، جو میری طرح فائدہ نہیں دیتا اس کی ‏طرح مجھے نہ کرنا، بلکہ میں جس لائق ہوں اسی قدر غم کا اظہار کرنا۔ وَلَا يُغْنِي غَنَائِي وَمَشْهَدِي، اي ولا يشهد مشهدي، ‏اور جو شخص حاضر نہیں ہوتا یعنی جنگوں میں کس میں؟ جنگوں میں یا ضرورت کے وقت جو حاضر ہو، میں جنگوں ‏میں بھی حاضر ہوتا ہوں، جہاں میری قوم کو ضرورت ہوتی ہے یا کسی کمزور کو ضرورت پڑتی ہے میں فوراً وہاں ‏پہنچ جاتا ہوں نہ جنگوں کی پروا کرتا ہوں، نہ مشکلات اور تکلیفوں کی پروا کرتا ہوں۔ تو اس شخص کی طرح مجھے نہ ‏کر دینا کہ جو کہ میری طرح جنگوں میں اور مصیبتوں میں حاضر نہ ہوتا ہو۔ میں تو جنگوں اور مصیبتوں میں ہر جگہ ‏حاضر ہوتا ہوں، مدد کے لیے پہنچتا ہوں اور جو میری طرح نہ ہو، اس کی طرح، اس کی طرح مجھے نہ بنانا، اس کی ‏طرح تھوڑا غم کا اظہار مجھ پہ نہ کرنا بلکہ خوب غم کا اظہار کرنا۔ معنی سمجھ میں آگیا؟ یہ معنی وَلَا يُغْنِي غَنَائِي ‏وَمَشْهَدِي، اور جو میری طرح فائدہ نہ دیتا ہو وَمَشْهَدِي اور میری طرح حاضر نہ ہوتا ہو۔ وَلَا تَجْعَلِينِي كَمْرِئٍ لَيْسَ هَمُّهُ كَهَمِّي ‏وَلَا يُغْنِي غَنَائِي وَمَشْهَدِي، اور تو مجھے اس شخص کی طرح نہ کرنا جس کی ہمت اور حوصلہ میری ہمت اور حوصلے ‏جیسا نہ ہو اور جو میری طرح فائدہ نہ پہنچائے اور جو میری طرح حاضر نہ ہو۔ بَطِيءٌ عَنِ الْجُلَّى سَرِيعٌ إِلَى الْخَنَا دَلُولٌ بِأَجْمَاعِ الرِّجَالِ مُلَحَّدِي. بَطِيءٌ کا معنی ہے: سست، سست، تاخیر کرنا۔ جُلَّا، جُلَّا کا لفظ ‏پہلے بھی گزرا ہے، بڑی مصیبت کو کہتے ہیں۔ اسی طرح کوئی بڑا واقعہ ہو، بڑا معاملہ ہو، اس کو بھی جُلَّا کہتے ہیں، ‏تو یہاں یہ بڑے معاملے کے معنی میں ہے، کوئی بڑا معاملہ۔ سری ، سریع کا معنی تیز ، جلدی کرنے والا۔ خنا، خنا کا معنی ہے بد زبانی کرنا، بیہودہ گوئی کرنا۔ ذلول ، ذلول اور بعض اشعار میں ذلیل آیا ہے، ذلیل۔ ذلیل کا معنی حقیر بھئی حقیر۔ اسی طرح ذلول کا معنی بھی جو کمزور ہے، قابو میں آیا ہوا ہے جو حقیر ہے، کمزور ہے اور قابو میں آیا ہوا ہو اس کو ‏ذلول کہتے ہیں۔ بی اجمع الرجال ذلول بی اجمع الرجال۔ جی اجمع جمع ہے جمع یا جمع کی جمع اور جمع۔ اس کا معنی ہے پورا، سارا کا سارا، کل۔ اور عربی میں کہتے ہیں ضربہ بجمع یدیہ۔ اس نے اس کو مارا بجمع یدیہ اپنے پورے ہاتھ سے، پورے ہاتھ سے یا یوں کہیں کہ مکّے کے ساتھ، اس ‏کو مکّا مارا۔ یا اس کو پورا ہاتھ مارا۔ ایک یہ ہے نا کسی کو مارتے ہیں آپ تھوڑا سا ہاتھ لگا دیا۔ انگلیاں لگا دیں یہ ہاتھ اور ایک ہے پورے ہاتھ کے ساتھ کسی کو مارنا یا مکّے کے ساتھ مارنا جس کے لیے عربی میں ‏کہتے ہیں ضربہ بجمع یدیہ، اس نے اس کو اپنے پورے ہاتھ کے ساتھ مارا۔ تو یہ اسی جمع کی جمع ہے اجمع بھئی، اجمع۔ مملہد، مملہد کا معنی بھی کمزور اور حقیر جسے دھکے دیے جاتے ہوں، مجلسوں سے نکال دیا جاتا ہو، دروازے سے ‏دھکے دیے جاتے ہوں، اس شخص کو کہتے ہیں رجل مملہد بھئی، رجل مملہد۔ بطیء عن الجلا سریع الی الخنا ذلول با اجمع الرجال مملہدی۔ تم مجھے اس شخص کی طرح نہ کر دینا جس کی ہمت میری ہمت جیسی نہ ہو اور جو میری طرح فائدہ نہ پہنچائے اور جو ‏میری طرح ہر جگہ موجود نہ ہو اور وہ ایسا آدمی ہو بطیء عن الجلا یعنی مجھے اس شخص کی طرح نہ کر دینا جو کہ بطیء عن الجلا جو کہ بڑے معاملات میں سستی کرنے والا ہو، سریع ‏الی الخنا اور بیہودہ گوئی کی طرف جلدی جانے والا ہو۔ مجھے اس شخص کی طرح نہ کرنا، میں تو بڑے معاملات میں فورا پہنچتا ہوں، قوم کی مدد کرتا ہوں اور میں بیہودہ گوئی ‏نہیں کرتا۔ تو مجھے اس شخص کی طرح نہ کر دینا جو کیا کرتا ہو بڑے معاملات میں سستی کرتا ہو، اپنی جان چھڑاتا ہو کہ کسی ‏طرح میں بیچ میں پھنس نہ جاؤں بڑے معاملات سے اپنے آپ کو بچا کر دور رکھتا ہو، ان میں سستی کرتا ہو، مجھے اس ‏کی طرح نہ کرنا اور نہ اس جو و سریع الی الخنا اور وہ شخص جو بیہودہ گوئی کی طرف، بد زبانی کی طرف جلدی ‏جانے والا ہو اس کی طرح مجھے نہ کرنا۔ ذلول با اجمع الرجال وہ شخص جو کہ کمزور ہے اور قابو میں ہے با اجمع الرجال لوگوں کے پورا ہاتھ مارنے کی وجہ ‏سے، یعنی لوگ اس کو مارتے ہیں اور وہ حقیر ہے لوگوں کے قابو میں ہے، مجھے اس کی اس شخص کی طرح نہ کرنا، ‏میں تو بڑا آدمی ہوں، مملہدی اور وہ ایسا شخص ہو جس کو دروازوں سے دھکے دیے جاتے ہوں میرے اوپر اس کی طرح نہ کرنا، میرے اوپر ‏میرے شایانِ شان غم کا اظہار کرنا۔ معنی سمجھ میں آیا۔ تو یہ ساری صفات ہیں کمری ان کی، وہ شخص جس کی ہمت میری طرح نہ ہو، جو میری طرح لوگوں کے کام نہ آتا ہو، میری طرح ہر جگہ ‏حاضر نہ ہوتا ہو اور وہ شخص جو کہ بڑے معاملات میں سستی کرتا ہو، بیہودہ گوئی میں جلدی کرتا ہو اور وہ شخص ‏ذلیل با اجمع الرجال جو لوگوں کے مارنے کی وجہ سے وہ قابو میں ہے، کمزور ہے، حقیر ہے، مملہدی اور ایسا ذلیل ہے ‏جس کو دروازوں سے دھکے دیے جاتے ہوں، اس کی طرح نہ کرنا۔ معنی سمجھ میں آرہا ہے بھئی۔ بطیء عن الجلا سریع الی الخنا ذلول با اجمع الرجال مملہدی۔ مجھے اس شخص کی طرح نہ کرنا جو بڑے معاملات میں ‏سستی کرنے والا ہو، سریع الی الخنا بیہودہ گوئی کی طرف جلدی کرنے والا ہو، ذلول با اجمع الرجال لوگوں کے ہاتھ ‏مارنے کی وجہ سے وہ ذلیل اور حقیر ہو، مملہدی اور جس کو دروازوں سے دھکے دیے جاتے ہوں، مجھے اس کی طرح ‏نہ کرنا۔ فلو کنتو وغلاً فی الرجال لضرنی عداوت ذی الاصحاب والمتوحدی۔ فلو کنتو وغلاً، وغلاً کا معنی ہے کمزور، کمزور۔ تو وغلاً کا معنی ہے کمزور بھئی، ضعیف اور اسی طرح وغلاً کا معنی ‏ہے کمینہ، کمینہ، گھٹیا شخص۔ ضرّ یضر کا معنی تکلیف دینا۔ عداوت، عداوت کہتے ہیں دشمنی کو۔ ذل الاصحاب ساتھیوں والا، ذو مال کا کیا معنی؟ مال والا، تو ذو الاصحاب ساتھیوں والا۔ والمتوحد، متوحد کا معنی ہے تنہا، اکیلا۔ فلو کنتو وغلاً فی الرجال اگر میں کمزور ہوتا لوگوں میں، لضرنی تو البتہ مجھے تکلیف پہنچاتے۔ مجھے تکلیف پہنچاتی ‏عداوت ذی الاصحاب ساتھیوں والے کی دشمنی بھی، والمستوحدی اور اکیلے شخص کی دشمنی بھی۔ طرفہ کہتا ہے کہ اگر میں کمزور یا کمینہ آدمی ہوتا لوگوں میں سے، تو مجھے ان لوگوں کی دشمنی بھی تکلیف پہنچاتی ‏جن کے بڑے جتھے ہیں، جن کے اور ساتھی مددگار موجود ہیں اور مجھے وہ شخص جو اکیلا ہے، اکیلا ہی اپنے اوپر ہی ‏اعتماد کرتا ہے، ساتھیوں کی ضرورت ہی نہیں، خود ہی اتنا طاقتور ہے، اس اکیلے آدمی کی دشمنی بھی مجھے نقصان ‏پہنچاتی لیکن میں کمزور آدمی نہیں ہوں۔ اگر میں کمزور اور گھٹیا ہوتا تو ان لوگوں کی دشمنی بھی مجھے نقصان پہنچاتی ‏جن کی بڑی جماعتیں ہیں، جن کے بڑے ساتھی ہیں اور وہ لوگ ان لوگوں کی دشمنی بھی مجھے نقصان پہنچاتی جن کو ‏ساتھیوں کی ضرورت نہیں، جو اکیلے ہیں اور اکیلے ہی سب کچھ کرنے والے ہیں، ان کی دشمنی بھی مجھے نقصان ‏پہنچاتی لیکن میں کمزور اور کمینہ آدمی نہیں ہوں، ان کی دشمنی مجھے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ فلو کنتو وغلاً فی الرجال لضرنی عداوت ذی الاصحاب والمتوحدی۔ اگر میں لوگوں میں کمزور ہوتا، کمینہ ہوتا، لضرنی تو ‏البتہ مجھے تکلیف پہنچاتی، نقصان دیتی عداوت ذی الاصحاب ساتھیوں والے کی دشمنی بھی والمستوحدی اور اکیلے آدمی ‏کی دشمنی بھی۔ ولکن نافع عنی الرجال جرائتی علیہم واقدامی وصدقی ومحتبدی۔ نفا ینفی، نفا ینفی کا ایک معنی ہے جلاوطنا کرنا، اسی طرح اس کا معنی ہے دور کرنا، دور ہٹانا۔ جرأت، جرأت اور جرأت کا ایک ہی معنی ہے بھئی دلیری، شجاعت، جرأت۔ اقدامی، اقدم یقدم اقدام کا معنی ہے پیش قدمی کرنا۔ پیش قدمی کرنا، آگے بڑھنا، کسی کام کو خود سر انجام دینا۔ وصدقی، صدقی میری سچائی۔ ومحتبدی، یہ محتبدی کے آخر میں بھی یا متکلم کی ہے۔ محتبد کا معنی ہے اصل، اصل۔ کسی چیز کی اصل جو ہو کوئی آدمی معزز بڑے خاندان سے تعلق رکھتا ہو تو عربی میں کہتے ہیں ہو کریم المحتبد ہو کریم ‏المحتبد وہ شریف نسل والا ہے، یعنی معزز خاندان والا ہے، معزز نسل والا ہے، کریم المحتبد۔ تو محتبد کا معنی اصل اور ‏نسل بھئی۔ تو طرفہ کہتا ہے ولکن نافع عنی الرجال جرائتی علیہم واقدامی وصدقی ومحتبدی۔ ولکن نافعی لیکن مجھ سے دور کر دیا ہے ‏الرجال لوگوں کو، مجھ سے دور کر دیا ہے لوگوں کو جرائتی میری جرأت اور دلیری نے علیہم ان کے اوپر واقدامی اور ‏میری پیش قدمی نے وصدقی اور میری سچائی نے ومحتبدی اور میری اصل نے۔ ولکن نافعی لیکن مجھ سے دور کر دیا ہے مجھ سے لوگوں کو میری جرأت نے ان کے اوپر واقدامی اور میری پیش قدمی ‏نے، یعنی جنگوں میں میری پیش قدمی نے، جنگوں میں جو میرا آگے بڑھنا ہے، اس نے لوگوں کو مجھ سے دور کر دیا ‏ہے وصدقی اور میری سچائی نے اور میری۔ سچائی، یعنی میرے عزم کی سچائی نے، میں عزم میرا عزم بڑا پختہ ہوتا ‏ہے تو میرے عزم کی پختگی نے لوگوں کو مجھ سے کیا کر دیا ہے؟ دور کر دیا ہے ومحتبدی اور میری اصل نے، یعنی ‏میں بڑے اونچے خاندان والا ہوں، بڑی اونچی اصل والا ہوں، اس نے لوگوں کو مجھ سے دور کر دیا ہے، کسی کی ہمت ‏نہیں ہوتی کہ مجھے نقصان پہنچائے، میں بڑی جرأت والا ہوں، جنگوں میں شریک ہونے والا ہوں، بڑے اونچے عزم اور ‏ارادے والا ہوں اور میں بڑے اونچے خاندان والا ہوں، اس بات نے لوگوں کی تکلیف کو مجھ سے دور کر دیا ہے، کسی ‏کی ہمت نہیں ہوتی مجھ پر، مجھے میری طرف اپنا ہاتھ بڑھائے اور مجھے تکلیف وغیرہ دے۔ ولکن نافع عنی الرجال جرائتی علیہم واقدامی وصدقی ومحتبدی۔ لیکن دور کر دیا ہے مجھ سے لوگوں کو میری جرأت نے ‏ان کے اوپر واقدامی اور میری پیش قدمی نے، یعنی جنگوں میں میری پیش قدمی نے وصدقی اور میری سچائی نے، یعنی ‏ارادوں کے اندر میری سچائی نے اور پختگی نے ومحتبدی اور میری اصل نے، یعنی میرے خاندان کے بلند و اعلٰی ہونے ‏نے۔ معنی سمجھ میں آگیا؟ چلیے بس بھئی ہذا ہو المرام، واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔