آگے دیکھیے۔ فَمَا لِيَ أَرَانِي وَابْنَ عَمِّيَ مَالِكًا ... مَتَى أَدْنُ مِنْهُ يَنْأَ عَنِّي وَيَبْعُدِ يَلُومُ وَمَا أَدْرِي عَلاَمَ يَلُومُنِي ... كَمَا لاَمَنِي فِي الحَيِّ قُرْطُ بْنُ مَعْبَدِ وَأَيْأَسَنِي مِنْ كُلِّ خَيْرٍ طَلَبْتُهُ ... كَأَنَّا وَضَعْنَاهُ إِلَى رَمْسِ مُلْحَدِ شاعر کہتا ہے: فَمَا لِيَ، فَمَا لِيَ أَرَانِي وَابْنَ عَمِّيَ مَالِكًا مَتَى أَدْنُ مِنْهُ يَنْأَ عَنِّي وَيَبْعُدِ۔ یہاں سے شاعر، طرفہ بن العبد جو ہے، اس ‏کو رشتہ داروں کی طرف سے جو تکلیف وغیرہ پہنچی تھی، اس کا ذکر کر رہا ہے۔ خاص طور پر اس کے چچا کا بیٹا ‏ہے مالک بھئی، اس مالک کی طرف سے اس کو جو تکلیف پہنچی اور اس نے اس کا مذاق اڑایا اور وہ اس سے دور ہوتا ‏ہے، یہ اس کے قریب ہونے کی کوشش کرتا ہے، یہ تعلق کو جوڑنے کی کوشش کرتا ہے اور وہ تعلق کو توڑنے کی ‏کوشش کرتا ہے، تو اس پر شاعر غم کا اظہار کر رہا ہے اور اسے بیان کر رہا ہے اور کہتا ہے: فَمَا لِيَ أَرَانِي وَابْنَ عَمِّيَ ‏مَالِكًا مَتَى أَدْنُ مِنْهُ يَنْأَ عَنِّي وَيَبْعُدِ۔ فَمَا لِيَ، کہ مجھے کیا ہوا ہے؟ أَرَانِي، میں دیکھتا ہوں اپنے اپ کو، میں دیکھتا ہوں اپنے اپ کو، وَابْنَ عَمِّيَ، اور اپنے چچا ‏کا بیٹا جو ہے، مَالِكًا، جس کا نام مالک ہے، کہ میں اس کو دیکھتا ہوں، مَتَى أَدْنُ مِنْهُ، دَنَا يَدْنُو کے معنی ہیں قریب ہونا، ‏قریب ہونا۔ اور يَنْأَ، نَأَى يَنْأَى کے معنی ہیں دور ہونا، دور ہونا۔ مَتَى أَدْنُ مِنْهُ، جب میں اس کے قریب ہوتا ہوں، يَنْأَ عَنِّي، تو وہ مجھ ‏سے دور ہوتا ہے، وَيَبْعُدِ، اس کا بھی وہی معنی ہے، مجھ سے دور ہوتا ہے۔ تو يَنْأَ عَنِّي، یہ بھی، اس کا معنی بھی، تو يَنْأَى کا معنی بھی دور ہونا اور يَبْعُدُ کا معنی بھی دور ہونا، تو گویا یہ اسی کی ‏تاکید ہے، تاکید ہے، یہ يَبْعُدُ اسی يَنْأَى کی تاکید ہے۔ شاعر کہتا ہے: فَمَا لِيَ، مجھے کیا ہوا ہے؟ أَرَانِي، کہ میں دیکھتا ہوں اپنے اپ کو، یعنی کیا بات ہے، کیا وجہ ہے کہ میں ‏دیکھتا ہوں اپنے اپ کو وَابْنَ عَمِّيَ اور اپنے چچا کے بیٹے مالک کو دیکھتا ہوں، مَتَى أَدْنُ مِنْهُ يَنْأَ عَنِّي وَيَبْعُدِ، میں جب بھی ‏اس کے قریب ہونے کی کوشش کرتا ہوں تو وہ مجھ سے دور ہوتا ہے۔ بات سمجھ میں اگئی؟ تو شاعر جو چچا کا بیٹا اس ‏سے قطع تعلق اختیار کر رہا ہے، اس پر غم کا اظہار کر رہا ہے۔ تو فَمَا لِيَ کا کیا معنی؟ مجھے کیا ہوا، یعنی مراد ہے کہ کیا وجہ ہے، کیا بات ہے؟ أَرَانِي، کہ میں دیکھتا ہوں، کیا وجہ ہے ‏کہ میں دیکھتا ہوں کہ میں اور میرے چچا کا بیٹا مالک جو ہے کہ جب میں اس کے قریب ہوتا ہوں، وہ مجھ سے دور ہوتا ‏ہے۔ آگے دیکھیے بھئی: يَلُومُ وَمَا أَدْرِي عَلاَمَ يَلُومُنِي كَمَا لاَمَنِي فِي الحَيِّ قُرْطُ بْنُ مَعْبَدِ۔ لَامَ يَلُومُ کا معنی ہے ملامت کرنا۔ وَمَا ‏أَدْرِي، دَرَى يَدْرِي کا معنی ہے جاننا، جاننا۔ اور یہ مَا نفی کے لیے ہے، مَا أَدْرِي، کہ مجھے معلوم نہیں، میں نہیں جانتا۔ عَلاَمَ، اچھا یہ عَلاَمَ اصل میں تھا عَلاَ مَا، یہ مَا استفہامیہ ہے، بمعنی أَيِّ شَيْءٍ کے، عَلاَ مَا يَلُومُنِي، عَلاَ مَا، أَيْ عَلاَ أَيِّ شَيْءٍ ‏يَلُومُنِي، وہ کس بات پر مجھے ملامت کرتا ہے؟ تو یہ عَلاَمَ کے آخر میں یہ مَا تھا اور اس مَا پر یہ عَلاَ حرفِ جار داخل ‏ہوا، توجہ ہے؟ یہ عَلاَ کیا ہے؟ حرفِ جار، اور آگے جو میم ہے صرف، یہ دراصل مَا تھا، مَا استفہامیہ أَيِّ شَيْءٍ کے معنی ‏میں، مَا استفہامیہ ہے، اس پر جب کوئی حرفِ جار داخل ہو تو اس کا الف گر جاتا ہے۔ اسی لیے عَلاَمَ، أَيْ عَلاَ أَيِّ شَيْءٍ ‏يَلُومُنِي، معنی سمجھ میں اگیا؟ جیسے عَمَّ يَتَسَاءَلُونَ، اصل میں کیا تھا؟ عَنْ مَا، عَنْ مَا، یہ مَا استفہامیہ تھا اور اس پر عَنْ ‏حرفِ جار داخل ہوا، تو وہ آخر سے الف گر گیا اور نون کو میم کرکے میم میں ادغام کر دیا گیا، تو کیا بن گیا؟ عَمَّ، تو ‏اصل میں تھا عَنْ مَا۔ تو عَلاَمَ، أَيْ عَلاَ أَيِّ شَيْءٍ۔ فِي الحَيِّ، حَيٌّ کہتے ہیں قبیلے کو بھئی، قبیلے کو۔ قُرْطُ بْنُ مَعْبَدِ، یہ کسی شخص کا نام ہے، ‏قبیلے کا کوئی شخص ہے، اس کا نام ہے قرط بن معبد بھئی۔ شاعر کہتا ہے: يَلُومُ، کہ میرا چچا کا وہ بیٹا مالک جو ہے وہ مجھے ملامت کرتا ہے، وَمَا أَدْرِي، اور مجھے معلوم نہیں ‏ہے، عَلاَمَ يَلُومُنِي، کہ وہ مجھے کس بات پر ملامت کرتا ہے۔ بات سمجھ میں ارہی ہے؟ شاعر افسوس اور غم کا اظہار کر ‏رہا ہے کہ میرے چچا کا بیٹا مجھے ملامت کرتا ہے، وَمَا أَدْرِي عَلاَمَ يَلُومُنِي، اور میں نہیں جانتا کہ وہ کس بات پر مجھے ‏ملامت کر رہا ہے، کس بات پر مجھے برا بھلا کہتا ہے، كَمَا لاَمَنِي، جیسے کہ مجھے ملامت کیا تھا، فِي الحَيِّ، قبیلے کے ‏اندر، قُرْطُ بْنُ مَعْبَدِ، قرط بن معبد نے جیسے مجھے ملامت کیا تھا، میرے چچا کا بیٹا بھی مجھے اسی کی طرح ملامت کرتا ‏ہے، قرط بن معبد اس نے بھی مجھے ملامت کیا تھا اور مجھے وجہ نہیں معلوم کہ کیوں اس نے مجھے ملامت کیا تھا، ‏کیوں برا بھلا کہا تھا، اسی طرح یہ چچا کا بیٹا مجھے برا بھلا کہہ رہا ہے، لیکن مجھے نہیں معلوم کہ یہ کیوں مجھے برا ‏بھلا کہہ رہا ہے، میں نے کیا جرم کیا ہے، میں نے کیا گناہ کیا ہے اور کیا غلطی کی ہے بھئی۔ يَلُومُ وَمَا أَدْرِي عَلاَمَ يَلُومُنِي كَمَا لاَمَنِي فِي الحَيِّ قُرْطُ بْنُ مَعْبَدِ، کہ میرے چچا کا بیٹا مجھے ملامت کرتا ہے اور میں نہیں ‏جانتا کہ وہ کس بات پر مجھے ملامت کرتا ہے، جیسے کہ مجھے ملامت کیا تھا قبیلے میں قرط بن معبد نے، یعنی جیسے ‏اس نے مجھے بغیر وجہ کے ملامت کیا تھا، یہ بھی مجھے اسی طرح بغیر وجہ کے ملامت کرتا ہے۔ وَأَيْأَسَنِي مِنْ كُلِّ خَيْرٍ طَلَبْتُهُ كَأَنَّا وَضَعْنَاهُ إِلَى رَمْسِ مُلْحَدِ۔ يَأْسٌ کہتے ہیں ناامیدی کو، يَأْسٌ، اور اسی سے فعل ہے يَئِسَ يَيْأَسُ، ‏ناامید ہونا، يَئِسَ يَيْأَسُ، اسی کو بابِ افعال میں لے گئے، أَيْأَسَ يُؤْئِسُ، اس کا معنی ناامید کرنا، ناامید کرنا، تو یہ متعدی ہو ‏گیا۔ وَضَعْنَاهُ، وَضَعَ کا معنی رکھنا، رکھنا۔ إِلَى رَمْسِ مُلْحَدِ، رَمْسٌ کہتے ہیں قبر کو، رَمْسٌ کسے کہتے ہیں؟ قبر، اور مُلْحَدٌ، أَلْحَدَ ‏يُلْحِدُ إِلْحَادٌ کا ایک معنی ہے کسی شخص کے لیے لحد بنانا، لحد میں اس کو دفن کرنا۔ لحد کہتے ہیں بھئی بغلی قبر کو، بغلی قبر جس میں وہ قبر جس میں لحد بنائی جائے۔ ہمارے ہاں تو عموماً بھئی قبریں ‏سیدھی بنائی جاتی ہیں، ایک پانچ چھ فٹ کا سیدھا گڑھا کھود دیا اور اسی کے اندر نیچے میت کو رکھا اور اوپر پھر وہ ‏سلیب وغیرہ کے ذریعے اس کو بند کر دیتے ہیں۔ جبکہ بعض علاقوں میں جہاں زمین سخت ہو، تو وہاں پر کیا کرتے ہیں، ‏ایک سیدھا پانچ چھ فٹ کا گڑھا کھودتے ہیں، پھر اس کی ایک جانب کی دیوار میں نچلے کنارے کے پاس وہاں پر ایک ‏خانہ بنا لیتے ہیں، سمجھ میں ایا؟ جیسے الماری کا خانہ ہوتا ہے نا دیوار میں، اس طرح وہ قبر کی دیوار میں ایک جانب ‏کو خانہ بنا لیتے ہیں لمبا سا میت کے برابر، پھر اس خانے کے اندر میت کو رکھتے ہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں اگئی؟ تو اس کو کہتے ہیں لحد بھئی، یہ جو دیوار کے اندر خانہ سا بنایا گیا۔ تو اس جیسی قبر بنانے کو ‏یا اس جیسی قبر میں کسی کو دفن کیا جائے، تو اس کے لیے عربی میں کہتے ہیں أَلْحَدَ يُلْحِدُ، لحد لحد ہے نا، تو لحد میں ‏کسی کو دفنانا یا لحد کسی کے لیے تیار کرنا، تو اس کے لیے فعل ہے أَلْحَدَ يُلْحِدُ، تو مُلْحَدٌ، وہ شخص جس کو لحد میں دفن ‏کیا گیا ہے، اسمِ مفعول ہے، أَلْحَدَ يُلْحِدُ إِلْحَادًا فَهُوَ مُلْحِدٌ، لحد میں دفن کرنے والا ہوا مُلْحِدٌ اور جس کو دفن کیا وہ کیا ہوا؟ ‏مُلْحَدٌ، تو یہاں پر بھی رَمْسِ مُلْحَدِ، مُلْحَدِ کی قبر، یعنی بغلی قبر میں دفن کیے ہوئے آدمی کی قبر، یہ مضاف مضاف الیہ ہیں ‏اپس میں، ترجمہ سمجھ میں ارہا ہے؟ شاعر کہتا ہے: وَأَيْأَسَنِي مِنْ كُلِّ خَيْرٍ طَلَبْتُهُ كَأَنَّا وَضَعْنَاهُ إِلَى رَمْسِ مُلْحَدِ۔ وَأَيْأَسَنِي، اور میرے اس چچا کے بیٹے نے مجھے ‏مایوس کر دیا، مِنْ كُلِّ خَيْرٍ، خیر نکرہ ہے اور طَلَبْتُهُ اس کے بعد فعل ایا، تو یہ اس کے لیے کیا بنے گا؟ صفت، اور ‏موصوف سے پہلے ہر یا ایسی کا لفظ لے آتے ہیں۔ اور مجھے میرے چچا کے بیٹے نے مایوس کر دیا مِنْ كُلِّ خَيْرٍ طَلَبْتُهُ، ‏ہر اس خیر سے جو میں نے اس سے طلب کی۔ اس نے ہر اس خیر سے مجھے مایوس کر دیا، كَأَنَّا وَضَعْنَاهُ، گویا کہ ہم نے ‏اس کو رکھ دیا، یہ ہا ضمیر راجع ہے خیر کو، گویا کہ ہم نے اس خیر کو رکھ دیا، یہ إِلَى بمعنی فِي کے ہے، فِي رَمْسِ ‏مُلْحَدِ، کہاں پر خیر کو رکھا؟ أَيْ رَمْسِ رَجُلٍ مُلْحَدٍ، رجلِ ملحد کی قبر میں، وہ شخص جس کو بغلی قبر میں دفن کیا گیا ہے، ‏اس کی قبر میں ہم نے اس خیر کو رکھ دیا ہو۔ كَأَنَّا وَضَعْنَاهُ إِلَى رَمْسِ مُلْحَدِ، گویا کہ وہ اس خیر کو ہم نے کہاں رکھ دیا ہو؟ بغلی قبر والے کی قبر میں۔ بات سمجھ میں ‏ارہی ہے؟ إِلَى رَمْسِ رَجُلٍ مُلْحَدٍ، وہ رجل جس کو لحد میں دفن کیا گیا ہے، اس کی قبر میں ہم نے اس خیر کو رکھ دیا ہو، ‏یعنی شاعر اپنی مایوسی کا اظہار کر رہا ہے کہ جیسے کسی مردے سے خیر کی امید نہیں رکھی جاتی بھئی کہ وہ اکر اپ ‏کے کسی کام ائے گا، کوئی مدد کرے گا۔ اسی طرح چچا کے بیٹے سے جو بھی میں نے خیر مانگی اس نے مجھے مایوس ‏کیا اور یوں معلوم ہوتا تھا گویا کہ اس خیر کو ہم نے کہاں رکھ دیا ہے؟ کسی شخص کی قبر کے اندر اس خیر کو رکھا ہوا ‏ہے، وہاں پر وہ خیر ہے اور اس کو تو کوئی بھی پھر حاصل نہیں کر سکتا، یعنی اس میت سے تو کسی کو خیر نہیں پہنچ ‏سکتی بھئی، بات سمجھ میں اگئی؟ کہتا ہے: وَأَيْأَسَنِي مِنْ كُلِّ خَيْرٍ طَلَبْتُهُ كَأَنَّا وَضَعْنَاهُ إِلَى رَمْسِ مُلْحَدِ، اور میرے چچا کے بیٹے نے مجھے مایوس کر دیا ہر اس ‏خیر سے جو میں نے اس سے طلب کی، گویا کہ ہم نے وہ خیر جس کو ہم طلب کر رہے تھے، اس کو ہم نے رکھ دیا فِي ‏رَمْسِ مُلْحَدِ، لحد والے آدمی کی قبر کے اندر بھئی، وہاں ہم نے رکھ دیا ہے، یعنی اب وہاں سے اس کے ملنے کی کوئی ‏امید نہیں۔ عَلَى غَيْرِ ذَنْبٍ قُلْتُهُ غَيْرَ أَنَّنِي ... نَشَدْتُ فَلَمْ أُغْفِلْ حَمُولَةَ مَعْبَدِ عَلَى غَيْرِ ذَنْبٍ قُلْتُهُ۔ ذَنْبٌ کہتے ہیں گناہ کو، گناہ۔ نَشَدْتُ، نَشَدَ يَنْشُدُ کا معنی ہے گم شدہ چیز کو تلاش کرنا، گمی ہوئی چیز کو ‏تلاش کرنا، نَشَدَ يَنْشُدُ۔ فَلَمْ أُغْفِلْ، بھئی یہ بعض روایتوں میں ایا ہے فَلَمْ أَغْفُلْ، توجہ ہے؟ أَغْفُلْ، غَفَلَ يَغْفُلُ، یعنی مجرد سے ‏ہے، اور بعض روایتوں میں ایا ہے فَلَمْ أُغْفِلْ، بابِ افعال سے، أَغْفَلَ يُغْفِلُ۔ غَفَلَ يَغْفُلُ جو ثلاثی مجرد سے ایا ہے، اس کا معنی ہے غافل ہونا بھول کر، غافل ہونا یعنی کوئی شخص کسی چیز سے ‏غافل ہو گیا، یعنی بھول گیا، ذہن میں ہی نہیں رہی، تو ہم کہیں گے وہ غافل ہو گیا، اس نے غفلت کی۔ اور ایک ہے بابِ ‏افعال سے أَغْفَلَ يُغْفِلُ، اس کا معنی بھی غافل ہونا، لیکن وہاں غافل ہونا ہے جان بوجھ کر، چیز یاد ہے پھر بھی پروا نہ کر ‏رہا ہوں، اس کو چھوڑ دینا، تو اس کے لیے لفظ بولتے ہیں أَغْفَلَ يُغْفِلُ، تو یعنی معنی اس کا ہو گیا چھوڑ دینا، کیا معنی کر ‏دیں گے؟ چھوڑ دینا بھئی، اسی لیے نیچے علامہ زوزنی نے بھی اس کا معنی چھوڑ دینے کے کیے ہیں۔ حَمُولَةَ مَعْبَدِ، ‏حَمُولَةٌ کہتے ہیں وہ اونٹ جس پر سامان وغیرہ لادا جا سکے، جس پر سواری کی جا سکے، یعنی بڑا ہو گیا۔ ایک تو اونٹ ‏کا بچہ ہے نا چھوٹا، جس پر سامان نہیں لادا جاتا، سواری نہیں کی جاتی، اس کو کہتے ہیں فَرْشٌ، فَرْشٌ، اور جس پر بوجھ ‏وغیرہ لادا جائے، سامان لادا جائے، اس کو حَمُولَةٌ کہتے ہیں، حَمُولَةٌ۔ اور مَعْبَدٌ، یہ نام ہے بھئی، یہ شاعر کا بھئی ہے، طرفہ بن العبد کا بھئی ہے، اس کا نام ہے معبد، معبد۔ تو شاعر کہتا ہے: عَلَى غَيْرِ ذَنْبٍ قُلْتُهُ غَيْرَ أَنَّنِي نَشَدْتُ فَلَمْ أُغْفِلْ حَمُولَةَ مَعْبَدِ۔ عَلَى غَيْرِ ذَنْبٍ، ذَنْبٍ نکرہ ہے اور قُلْتُهُ اس کے ‏بعد فعل ایا، تو اس کے لیے کیا بن جائے گا؟ صفت۔ شاعر کہتا ہے کہ میرا چچا کا بیٹا مجھے ملامت کرتا ہے عَلَى غَيْرِ ‏ذَنْبٍ، بغیر کسی ایسے گناہ کے قُلْتُهُ جو میں نے کہا ہو، یعنی جو میں نے کیا ہو، قُلْتُ بَمعنَى فَعَلْتُ کے ہے، جو میں نے کیا۔ ‏تو وہ مجھے ملامت کرتا ہے عَلَى غَيْرِ ذَنْبٍ قُلْتُهُ، بغیر کسی ایسے گناہ کے جو میں نے کیا ہو، یعنی میں نے کوئی گناہ ‏نہیں کیا، وہ پھر بھی مجھے ملامت کرتا ہے، غَيْرَ أَنَّنِي، علاوہ اس کے کہ نَشَدْتُ، کہ میں نے میں نے تلاش کیا، کس چیز ‏کو تلاش کیا؟ حَمُولَةَ مَعْبَدِ، اپنے بھئی کے اونٹ جو تھے جو گم ہو گئے تھے، میں نے ان کو تلاش کیا۔ فَلَمْ أُغْفِلْ، پس میں ‏نے چھوڑا نہیں، یا فَلَمْ أَغْفُلْ، میں غافل نہیں ہوا، کس چیز سے؟ حَمُولَةَ مَعْبَدِ، اپنے بھئی کے اونٹوں سے۔ توجہ ہے؟ نَشَدْتُ کا کیا معنی؟ گم شدہ چیز کو تلاش، یہ بھی مفعول چاہتا ہے، فَلَمْ أُغْفِلْ یا فَلَمْ أَغْفُلْ، یہ بھی کیا چاہتا ہے؟ ‏مفعول، تو اور حَمُولَةَ اگے ایک مفعول ا رہا ہے، تو یہ تنازع الفعلین کے باب سے ہے۔ نَشَدْتُ چاہتا ہے حَمُولَةَ کو میں ‏نصب دوں اور فَلَمْ أُغْفِلْ چاہتا ہے میں نصب دوں، دونوں مفعول چاہتے ہیں، تو یہ شعر کس باب سے ہے؟ تنازع الفعلین ‏کے باب سے، اور یاد رکھیے، شاعر نے فَلَمْ أُغْفِلْ کو عمل دیا۔ کس کو؟ فَلَمْ أُغْفِلْ کو عمل دیا اور حَمُولَةَ مَعْبَدِ کو اس کے لیے مفعول بنا دیا اور نَشَدْتُ کے لیے مفعول کو حذف کر دیا۔ کیا کر دیا؟ حذف، ہے وہی مراد وہی تھا، ضمیر چاہیے تھی، پھر ایک کے لیے ظاہر کو بنا دیا تو دوسرے کے لیے ‏ضمیر چاہیے اس کو۔ صورت سمجھ میں اگئی؟ تنازع الفعلین کی بات اگئی۔ یاد رکھو، اگر تنازع ہو، جھگڑا ہو دو فعلوں کا مفعول کے بارے میں، کس کے بارے میں؟ مفعول کے بارے میں، تو اس ‏صورت میں اپ پہلے کو بھی عامل بنا سکتے ہیں، دوسرے کو بھی عامل بنا سکتے ہیں، دوسرے کو بھی، اور اگر اپ ‏پہلے کو عامل بنائیں، توجہ ہے؟ تو فَلَمْ أُغْفِلْ، اس کے مفعول کو حذف بھی کر سکتے ہیں اور ضمیر بھی لا سکتے ہیں فَلَمْ ‏أُغْفِلْهَا، یہ ہا ضمیر اسی حمولہ کو راجع کرنی ہے، دونوں کے لیے مفعول چاہیے نا، اور اپ نے فرض کریں حمولہ کو ‏کس کے لیے مفعول بنایا؟ نشطتُ کے لیے تو دوسرے کے لیے بھی مفعول چاہیے یا نہیں؟ تو اس کے لیے پھر "ہا" ضمیر لاتے ہیں۔ کیا لاتے ہیں؟ ‏‏"ہا" ضمیر لاتے ہیں، اور اس کو حذف بھی کر سکتے ہیں۔‏ بہرحال یہ بات نحو کی آگے لمبی ہو جائے گی۔ بس اتنا یاد رکھیں۔ یہاں پر شاعر نے اگر پہلے کو عامل بنایا ہوتا، نشطتُ ‏کو، تو فَلَمْ أُغْفِلْهَا کہنا چاہیے تھا۔ کیا کہنا چاہیے تھا؟ فَلَمْ أُغْفِلْهَا کہنا چاہیے تھا، کیونکہ اعلٰی صورت یہ ہے۔ مفعول کو ‏حذف کرنا بھی جائز اور اس کو ضمیر کی صورت میں ذکر کرنا بھی جائز۔ صورتیں دونوں جائز تھیں، لیکن اعلٰی کیا ‏تھی؟ کہ ضمیر کو ذکر کرتا، ضمیر کو ذکر کرتا۔ تو شاعر نے ضمیر کو ذکر نہیں کیا۔ معلوم ہوا اس نے پہلے کو عامل نہیں بنایا۔ کیونکہ شاعر عربی زبان کا فصیح و بلیغ ‏شاعر ہے۔ اگر وہ پہلے کو عامل بناتا تو دوسرے کے لیے اعلٰی صورت کو اختیار کرتا، اور اعلٰی صورت تو کیا تھی؟ کہ ‏وہاں پر ضمیر ذکر کرتا، اگرچہ جائز دونوں ہیں، جائز دونوں ہیں۔ اچھا، واقعہ اس کا یہ ہوا تھا، کہتے ہیں یہ شاعر جو تھا طرفہ، اور اس کا بھئی جو ہے معبد ابن طرفہ، یہ دونوں اونٹ ‏چراتے تھے بھئی۔ تو ایک دن اونٹوں کو طرفہ چراتا اور دوسرے دن معبد چراتا تھا۔ تو ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ طرفہ اونٹ ‏چرانے کے لیے آیا ہی نہیں۔ تو اس کے بھئی نے پھر اگلے دن اس سے کہا کہ: "تم بھئی اونٹ چرانے نہیں آئے، اگر ان اونٹوں کو کوئی لے گیا، تو ‏پھر ان کو واپس کیسے لائیں گے؟ پھر ان کو تلاش کیسے کریں گے؟ تمہارا خیال ہے کہ تم جو یہ اشعار کہتے ہو، یہ ‏تمہارے اشعار اونٹوں کو واپس لے آئیں گے؟ تمہارا یہ خیال ہے، لیکن ایسا نہیں ہے۔ اشعار کی وجہ سے اونٹ واپس نہیں ‏ملیں گے۔" طرفہ بھئی اشعار کہتا تھا، مجلسوں میں جاتا ہوگا، لوگ بھی بلاتے ہوں گے بھئی اشعار ہمیں سناؤ۔ تو بھئی ‏اس کو گویا ملامت کر رہا تھا کہ تو اپنا وقت ضائع کر رہا ہے، اشعار وغیرہ کہتا ہے، اور اونٹ چرانے بھی نہیں آیا، اگر ‏یہ اونٹ گم ہو گئے تو پھر ہم ان کو کیسے تلاش کریں گے؟ یہ تمہارے اشعار کی وجہ سے تو اونٹ واپس نہیں آ سکتے۔ تو کہتے ہیں طرفہ نے اس کے بعد قسم اٹھا لی کہ: "اب میں اونٹ چرانے آؤں گا ہی نہیں اس دن تک، جب تک میں تمہیں ‏دکھا نہ دوں کہ میرے اشعار اونٹوں کو واپس لے آئیں گے۔" اور پھر ایسا ہی ہوا کہ جب یہ جاتا ہی نہیں تھا، وہ اونٹ بعض ‏اوقات بغیر کسی کے، اکیلے چر رہے ہیں، تو کوئی ان اونٹوں کو لے گیا۔ اور پھر یہ طرفہ جو ہے، ان اونٹوں کو تلاش کرتا پھر رہا تھا بھئی کے ساتھ۔ ایک جگہ پوچھ رہا ہے، دوسری جگہ پوچھ ‏رہا ہے، اور پھر اپنے چچا زاد بھئی کے پاس بھی آیا کہ: "ہماری مدد کرو، اونٹوں کو ہمارے ساتھ تلاش کرو، پتہ ‏کرواؤ۔" تو چچا زاد بھئی نے اس موقع پر اس کو ملامت کی۔ اور کہتا ہے کہ: "پہلے تم نے خود ہی اونٹوں کو گما دیا، ‏اشعار وغیرہ کہنے میں مشغول رہے، اور اب میرے پاس مدد کے لیے آئے ہو؟" تو خوب برا بھلا کہا اور ملامت کیا۔ تو ‏اسی کو طرفہ یہاں ذکر بھی کر رہا ہے۔ اور پھر کہتے ہیں طرفہ نے اس بارے میں بھی کچھ اشعار وغیرہ کہے اور وہ اشعار اس علاقے کے بادشاہ تک پہنچے، ‏اور پھر بالآخر ان اشعار کی وجہ سے اس کو وہ اونٹ واپس مل گئے، بادشاہ نے وہ اونٹ واپس دلا دیے بھئی۔ صورت ‏سمجھ میں آ گئی؟ تو اسی کو شاعر ذکر کر رہا ہے۔ کہتا ہے:‏ عَلَى غَيْرِ ذَنْبٍ قُلْتُهُ کہ میرا چچا زاد مجھے ملامت کرتا ہے بغیر کسی ایسے گناہ کے جو میں نے کیا ہو۔ غَيْرَ أَنَّنِي نَشَطْتُ فَلَمْ أُغْفِلْ حُمُولَةَ مَعْبَدِ سوائے اس کے کہ میں اپنے بھئی کے گم شدہ اونٹوں کو تلاش کرتا رہا، پس میں نے اس کے اونٹوں کو چھوڑا نہیں، میں ‏ان سے غافل نہیں ہوا—شاید میرا یہی گناہ ہے جس پر وہ مجھے ملامت کر رہا ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ میں اس کے پاس گیا تھا، اس نے تو میری مدد نہیں کی۔ تو میں نے تو اور تو اس کو کچھ نہیں ‏کہا، میں نے تو اور کوئی گناہ وغیرہ نہیں کیا۔ ہاں، میں نے اپنے بھئی کے اونٹ گم ہوئے تھے، میں نے ان کو—میں ان ‏کو تلاش کرتا رہا اور میں ان سے غافل نہیں ہوا، میں نے ان کو چھوڑا نہیں، شاید میرا یہی گناہ ہے، اسی پر وہ مجھے ‏ملامت کرتا ہے، مجھے برا بھلا کہتا ہے اور میرے ساتھ قطع تعلق اختیار کرتا ہے۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟ تو کہتا ہے:‏ عَلَى غَيْرِ ذَنْبٍ قُلْتُهُ غَيْرَ أَنَّنِي نَشَطْتُ فَلَمْ أُغْفِلْ حُمُولَةَ مَعْبَدِ کہ بغیر کسی ایسے گناہ کے جو میں نے کیا ہو، علاوہ اس کے کہ میں نے اپنے بھئی کے گم شدہ اونٹوں کو تلاش کیا۔ فَلَمْ ‏أَغْفُلْ، تو میں ان سے غافل نہیں ہوا، یا فَلَمْ أُغْفِلْ، میں نے ان کو چھوڑا نہیں، یعنی ان کی تلاش کو چھوڑا نہیں۔ فَلَمْ أُغْفِلْ، پس میں نے ان کو چھوڑا نہیں، ترک نہیں کیا کہ میں ان سے غافل ہو جاؤں۔ وَقَرَّبْتُ بِالْقُرْبَى وَجَدِّكَ إِنَّنِي مَتَى يَكُ أَمْرٌ لِلنَّكِيسَةِ أَشْهَدِ وَقَرَّبْتُ بِالْقُرْبَى وَجَدِّكَ إِنَّنِي مَتَى يَكُ أَمْرٌ لِلنَّكِيسَةِ أَشْهَدِ قَرَّبَ يُقَرِّبُ تقریب کا معنی ہے قریب کرنا، قریب کرنا۔ بِالْقُرْبَى، قربٰی کہتے ہیں قرابت اور رشتہ داری۔ وَجَدِّكَ، یہ لفظ پہلے ‏بھی گزرا ہے، جد کہتے ہیں نصیب کو، قسمت کو، اور یہ واؤ قسم کے لیے ہے، اسی لیے یہ جار دے رہا ہے بھئی، ‏وَجَدِّكَ، اور قسم ہے تیرے نصیب کی!‏ مَتَى يَكُ أَمْرٌ لِلنَّكِيسَةِ أَشْهَدِ مَتَى يَكُ، اصل میں تھا یکن، کَانَ يَكُونُ، اور یہ حالتِ جزمی میں اس کے نون کو بھی بعض اوقات حذف کر لیا جاتا ہے ‏تخفیف کے لیے۔ نکیسہ، نکیسہ کہتے ہیں بڑا ہی مشکل کام جس میں پوری طاقت لگے اور انسان مشکل میں پھنس جائے۔ کوئی ایسا کام جس ‏میں انسان کو پوری طاقت لگانی پڑے، پورا زور لگانا پڑے اور وہ مشکل کے اندر، مشکل میں پھنس جائے، تکلیف میں ‏واقع ہو جائے، اس کو کہتے ہیں نکیسہ۔ شَهِدَ يَشْهَدُ کے معنی ہیں حاضر ہونا۔ شاعر کہتا ہے:‏ وَقَرَّبْتُ بِالْقُرْبَى وَجَدِّكَ إِنَّنِي مَتَى يَكُ أَمْرٌ لِلنَّكِيسَةِ أَشْهَدِ وَقَرَّبْتُ، اور میں نے قریب کیا، یعنی نفسِی، کس کو؟ اپنے آپ۔ میں نے اپنے آپ کو قریب کیا بِالْقُرْبَى، یہ با سببیہ ہے، یعنی ‏بِسَبَبِ الْقَرَابَةِ، قرابت اور رشتہ داری کی وجہ سے۔ میں نے اپنے آپ کو اپنے چچا زاد بھئی کے قریب کیا، کس وجہ سے؟ ‏یعنی میں اس کے پاس گیا تھا، میں نے اس سے مدد مانگی تھی اور اس کے سامنے میں نے ضد کی تھی، جیسے کسی ‏سے تعلق ہوتا ہے، محبت ہوتی ہے، رشتہ داری ہوتی ہے، تو انسان جو ہے محبت میں آ کر کچھ مچلتا ہے، کوئی ضد کرتا ‏ہے، کسی بات پر زور دیتا ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو وہ مراد ہے کہ وَقَرَّبْتُ بِالْقُرْبَى، میں چچا کے بیٹے کے سامنے میں کچھ مچلا تھا، کچھ ضد کی تھی قرابت کی وجہ ‏سے، میں نے کی تھی رشتہ داری کی وجہ سے کی تھی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے وَقَرَّبْتُ نَفْسِي بِالْقُرْبَى، میں نے ‏اپنی ذات کو قریب کیا تھا قرابت کی وجہ سے، یعنی میں نے ضد وغیرہ کی تھی، زور لگایا تھا رشتہ داری کی وجہ سے۔ وَجَدِّكَ، اور تیرے نصیب کی قسم! اے میرے چچا کے بیٹے! اب اس کو خطاب کر رہا ہے، وَجَدِّكَ، تو نے تو اس وقت ‏میری مدد نہیں کی، لیکن وَجَدِّكَ، تیرے نصیب کی قسم! إِنَّنِي مَتَى، کہ میں جو ہوں، مَتَى يَكُ أَمْرٌ، جب بھی کوئی بات ایسی ‏ہوگی، کوئی معاملہ ایسا ہوگا لِلنَّكِيسَةِ، جس میں انسان کا پورا زور لگ جائے، جس میں انسان مشکل اور تکلیف میں پھنس ‏جائے، نہ وہ کام ہوتا ہے اور نہ اس سے جان چھوٹتی ہے، مصیبت میں پھنس جاتا ہے، پورا زور لگا رہا ہے، پوری ‏کوشش کر رہا ہے لیکن وہ معاملہ حل نہیں ہو رہا، تو اس طرح کا جو معاملہ اس کو کہتے ہیں نکیسہ۔ مَتَى يَكُ أَمْرٌ لِلنَّكِيسَةِ، جب بھی کوئی ایسا مشکل کام آن پڑے گا جس میں پورا زور لگ رہا ہو، أَشْهَدِ، تو میں بھی حاضر ہو ‏جاؤں گا۔ اے میرے چچا کے بیٹے! تو نے تو میری مدد نہیں کی مشکل کے وقت، لیکن میں تیری نصیب کی قسم کھا کر کہتا ہوں، ‏جب بھی تجھ پر کوئی مشکل وقت آیا اور تو کسی سخت معاملے کے اندر پھنس گیا، تو اس وقت میں حاضر ہوں گا اور ‏میں ضرور تیری مدد کروں گا، میں تجھے اس طرح بے یار و مددگار نہیں چھوڑوں گا۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟ وَقَرَّبْتُ بِالْقُرْبَى وَجَدِّكَ إِنَّنِي مَتَى يَكُ أَمْرٌ لِلنَّكِيسَةِ أَشْهَدِ اور میں نے قریب کیا اپنی ذات کو قرابت کی وجہ سے، اور تیرے نصیب کی قسم کہ جب بھی کوئی ایسا معاملہ ہوا جو ‏تکلیف اور مشکل کا باعث ہوا، أَشْهَدِ، تو میں حاضر ہوں گا، میں اس وقت ضرور آؤں گا۔ وَإِنْ أُدْعَ لِلْجُلَّى أَكُنْ مِنْ حُمَاتِهَا وَإِنْ يَأْتِكَ الأَعْدَاءُ بِالْجَهْدِ أَجْهَدِ دَعَا يَدْعُو کے معنی ہیں پکارنا، بلانا۔ جلّٰی، جلّٰی کہتے ہیں کسی بڑے معاملے کو، بڑی مصیبت کو کہتے ہیں جلّٰی۔ یہ مؤنث ہے اجلّ کی، اجلّ۔ أَكُنْ مِنْ حُمَاتِهَا، حَمَى يَحْمِي کا معنی ہے حفاظت کرنا۔ اسی سے اسمِ فاعل ہے حَامِي، حَمَى يَحْمِي حَمْيًا فَهُوَ حَامِي، اور حَامِي ‏کی جمع ہے حُمَاة۔ حَامِي کہتے ہیں حفاظت کرنے والا۔ اور یہ "ہا" ضمیر راجع ہے جلّٰی کو، وہ بڑی مصیبت۔ وَإِنْ يَأْتِكَ الأَعْدَاءُ بِالْجَهْدِ، جَهَدَ يَجْهَدُ کا معنی ہے کوشش کرنا، کوشش کرنا۔ وَإِنْ أُدْعَ لِلْجُلَّى، اور اگر مجھ کو بلایا گیا کسی بڑی مصیبت کے لیے، أَكُنْ مِنْ حُمَاتِهَا، تو میں اس کے محافظوں میں سے ‏ہوں گا، یعنی میں اس مصیبت سے تمہاری حفاظت کرنے والا ہوں گا۔ معنی سمجھ میں آ رہا ہے؟ اور وَإِنْ أُدْعَ لِلْجُلَّى، اے میرے چچا کے بیٹے! تو نے تو میری مدد نہیں کی، لیکن وَإِنْ أُدْعَ لِلْجُلَّى، اگر مجھے کسی بڑی ‏مصیبت کے لیے پکارا گیا، یعنی تم نے پکارا، أَكُنْ مِنْ حُمَاتِهَا، تو میں اس مصیبت میں تمہارا محافظ ہوں گا۔ معنی سمجھ ‏میں آ رہا ہے؟ تو میں اس کے محافظ، یعنی اس سے تمہاری حفاظت کرنے والا ہوں گا۔ اس کے مقابلے میں تمہارا دفاع ‏کرنے والا ہوں گا۔ وَإِنْ يَأْتِكَ الأَعْدَاءُ بِالْجَهْدِ، اور اگر تمہارے دشمن تمہارے پاس آئے بِالْجَهْدِ، کوشش سے۔ کوشش کر کے اگر تمہارے دشمن ‏تمہارے پاس آئے، أَجْهَدِ، تو میں بھی کیا کروں گا؟ کوشش کروں گا، یعنی میں بھی تمہارے ساتھ مل کر ان کو دفع کرنے ‏کی، ان کو دور کرنے کی کوشش کروں گا اور ان کا مقابلہ کروں گا۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟ تو بِالْجَهْدِ متعلق ہے يَأْتِكَ سے، وَإِنْ يَأْتِكَ، اگر آئیں تمہارے پاس دشمن بِالْجَهْدِ، کس طرح سے؟ کوشش کر کے۔ جبکہ بعضوں نے کہا، بعض شارحین فرماتے ہیں کہ بِالْجَهْدِ، اس میں یہ با جارہ زائدہ ہے، یہ زائد ہے، اور اَلْجَهْدَ، یہ ‏مفعولِ مطلق ہے أَجْهَدِ کے لیے۔ ضَرَبْتُ ضَرْبًا، یہ ضَرْبًا کیا ہے؟ مفعولِ مطلق۔ یہاں پر بھی اسی طرح ہے، أَجْهَدِ اَلْجَهْدَ، ‏أَجْهَدِ اَلْجَهْدَ، یہ مفعولِ مطلق ہے، پھر اس کو کیا کر دیا؟ فعل پر مقدم کر دیا اور اس پر با جارہ زائدہ داخل کر دی۔ تو یہ ہے ‏دراصل کیا؟ مفعولِ مطلق، تو یعنی میں کوشش کروں گا۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟ اور مفعولِ مطلق کا پھر ترجمہ نہیں کیا جاتا بھئی، ضَرَبْتُ ضَرْبًا، کیا معنی؟ میں نے مارا۔ ضَرْبًا کا الگ ترجمہ نہیں ‏کریں گے، میں نے مارا، مارنا، نہیں بھئی یوں نہیں۔ ضَرَبْتُ ضَرْبًا، میں نے مارا۔ تو یہاں بھی اسی طرح ہے۔ وَإِنْ أُدْعَ لِلْجُلَّى أَكُنْ مِنْ حُمَاتِهَا وَإِنْ يَأْتِكَ الأَعْدَاءُ بِالْجَهْدِ أَجْهَدِ اور اگر مجھے کسی بڑی مصیبت کے لیے پکارا گیا تو میں اس کے دفاع کرنے والوں میں سے ہوں گا، وَإِنْ يَأْتِكَ الأَعْدَاءُ ‏بِالْجَهْدِ أَجْهَدِ، اور اگر تمہارے پاس دشمن آئے تو میں بھی کوشش کروں گا، یعنی ان کا مقابلہ کروں گا۔ آگے کہتا ہے:‏ وَإِنْ يَقْذِفُوا بِالْقَذْعِ عِرْضَكَ أَسْقِهِمْ بِكَأْسِ حِيَاضِ المَوْتِ قَبْلَ التَّهَدُّدِ قَذَفَ يَقْذِفُ کے معنی پھینکنا، پھینکنا۔ عربی میں کہتے ہیں: قَذَفْتُهُ بِالْحَجَرِ، میں نے اس کی طرف پتھر پھینکا، میں نے اس ‏کو پتھر مارا۔ تو قَذَفَ يَقْذِفُ استعمال ہوتا ہے۔ اور بِالْقَذْعِ، قَذْعٌ کہتے ہیں گالی کو بھئی، بےہودہ بات، فحش بات، بری بات، اس کو قَذْعٌ کہتے ہیں۔ عِرْضَكَ، عِرْضٌ جو ہے، یہ عزت اور آبرو کو کہتے ہیں، عزت اور آبرو۔ اسی طرح یہ جان اور نفس کو بھی کہتے ہیں۔ أَسْقِهِمْ، أَسْقَى يُسْقِي کا معنی ہے سیراب کرنا، پانی پلانا۔ بِكَأْسِ حِيَاضِ المَوْتِ، كَأْسٌ شراب کا جام یا مشروب کا جام جب وہ بھرا ہوا ہو بھئی۔ حِيَاضِ المَوْتِ، حِيَاضٌ جمع ہے حَوْض ‏کی، حَوْض کی۔ حوض پانی کا تالاب بھئی، پانی کا تالاب۔ قَبْلَ التَّهَدُّدِ، تہدد کا معنی ہے دھمکی دینا، دھمکانا کسی کو۔ تو طرفہ کہتا ہے:‏ وَإِنْ يَقْذِفُوا بِالْقَذْعِ عِرْضَكَ أَسْقِهِمْ بِكَأْسِ حِيَاضِ المَوْتِ قَبْلَ التَّهَدُّدِ پیچھے ذکر آیا تھا کہ اگر دشمن تجھ تک پہنچے تو میں ان کا مقابلہ کروں گا۔ آگے کہتا ہے: وَإِنْ يَقْذِفُوا بِالْقَذْعِ عِرْضَكَ، اور ‏اگر انہوں نے بےہودہ کلام پھینکا عِرْضَكَ، تیری عزت پر، تیری آبرو پر، یعنی تیری عزت اور آبرو کے بارے میں انہوں ‏نے بےہودہ کلام کرنے کی کوشش کی اور فحش کلام اور گالیاں دینے کی کوشش کی، تو أَسْقِهِمْ بِكَأْسِ حِيَاضِ المَوْتِ، تو ‏میں ان کو پلاؤں گا، بِكَأْسِ میں با جارہ زائدہ ہے۔ اصل میں یہ كَأْسَ مفعول ہے أَسْقِهِمْ کے لیے، میں ان کو پلاؤں گا، کیا ‏پلاؤں گا؟ كَأْسَ حِيَاضِ المَوْتِ، موت کے حوضوں کا پیالہ، موت کے تالاب کا پیالہ میں ان کو پلاؤں گا قَبْلَ التَّهَدُّدِ، دھمکی ‏دینے سے پہلے۔ توجہ ہے؟ دھمکی دینے سے پہلے ہی میں ان کو موت کے حوض کا پیالہ پلا دوں گا۔ شاعر کہنا یہ چاہتا ہے کہ اگر ‏دشمنوں نے، اے میرے چچا زاد بھئی! تو نے تو میری مدد نہیں کی، لیکن میں ہر مقام پر تیری مدد کے لیے موجود ہوں ‏گا اور تیری مدد و نصرت کروں گا، حتیٰ کہ اگر دشمنوں نے تیری نسبی شرافت اور تیری عزت و آبرو میں انہوں نے ‏بےہودہ گوئی کی تو میں ان کو موت کے حوض کا پیالہ پلا دوں گا دھمکی دینے سے پہلے ہی۔ یعنی میرے دھمکی دینے سے پہلے، کہ میں ان کو پہلے دھمکیاں دینا شروع کر دوں اور دھمکیوں میں وقت ضائع کرتا ‏رہوں، نہیں نہیں! میں دھمکی دینے میں وقت ضائع نہیں کروں گا، دھمکیاں دینے سے پہلے ہی میں ان کو کیا کر دوں گا؟ ‏موت کے حوض کا پیالہ پلا دوں گا، یعنی انہیں موت کے گھاٹ اتار دوں گا، ان کو قتل کر دوں گا۔ معنی سمجھ میں آیا؟ ‏ہاں، تو تہدد سے مراد یہ شاعر کی اپنی دھمکیاں ہیں، دشمن کی دھمکیاں نہیں کہ دشمن دھمکائے گا۔ نہیں نہیں! میں خود ان ‏کو دھمکانے سے پہلے ہی، دھمکانے میں وقت ضائع نہیں کروں گا، دھمکانے میں مشغول نہیں ہوں گا، بلکہ فوراً ہی کیا ‏کر دوں گا؟ ان پر ٹوٹ پڑوں گا، ان کو قتل کر دوں گا۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟ وَإِنْ يَقْذِفُوا بِالْقَذْعِ عِرْضَكَ أَسْقِهِمْ بِكَأْسِ حِيَاضِ المَوْتِ قَبْلَ التَّهَدُّدِ اور اگر ان دشمنوں نے پھینکا فحش اور بےہودہ کلام کو تیری عزت و آبرو کے بارے میں، یعنی تیری عزت اور آبرو ‏کے بارے میں انہوں نے بےہودہ کلام کیا، تو أَسْقِهِمْ بِكَأْسِ حِيَاضِ المَوْتِ، تو میں ان کو پلا دوں گا موت کے حوض کا ‏پیالہ، قَبْلَ التَّهَدُّدِ، دھمکی دینے سے پہلے ہی۔ بِلا حَدَثٍ أَحْدَثْتُهُ وَكَمُحْدَثٍ هِجَائِي وَقَذْفِي بِالشَّكَاةِ وَمُطْرَدِي بِلا حَدَثٍ، حدث کہتے ہیں واقعہ اور بات۔ کوئی واقعہ ہو، کوئی بات ہو، اس کو حدث کہتے ہیں، حدث۔ اور یہاں یہ ناگوار بات، ناگوار واقعے کے معنی میں ہے۔ ناپسندیدہ بات کے معنی میں ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ ‏ویسے تو حدث کس کو کہتے ہیں؟ کوئی بھی واقعہ ہو، کوئی بھی بات ہو، نئی چیز ہو، نئی بات ہو اس کو حدث کہتے ہیں۔ لیکن یہاں ہے ناگواری، ناپسندیدہ۔ احدثتہ، احدث یحدث کا معنی ہے ایجاد کرنا، وجود دینا، سبب بننا۔ وکمحدث، کمحدث یاد رکھیے یہاں دو روایتیں ہیں اس شعر میں۔ بعض روایات میں محدَث دال کے فتحہ کے ساتھ آیا ہے ‏اور بعض روایات میں محدِث دال کے کسرہ کے ساتھ آیا ہے۔ اگر یہ محدِث ہو دال کے کسرہ کے ساتھ، تو یہ اسمِ فاعل ہے احدث یحدث سے۔ احدث یحدث میں نے ابھی معنی بتائے، احدث الشئی، کیا معنی؟ کسی نئی چیز کو وجود دینا، کوئی نئی چیز ایجاد کرنا، کسی ‏نئی چیز کا سبب بننا، کسی واقعے کا سبب بننا۔ تو اسی سے اسمِ فاعل ہے، احدث یحدث احداثا فھو محدِث۔ وہ جو نئی بات کو وجود دینے والا ہے، وہ نئی بات کا سبب بننے ‏والا ہے۔ اور نئی بات سے کیا مراد ہے یہاں؟ ناگوار بات، وہ جو مراد کیا ہے؟ وہ جو نئی ناگوار، ناپسندیدہ بات ہو اس کو ‏وجود دینے والا یہاں مراد ہے۔ جب یہ محدِث ہو۔ اور اگر یہ محدَث ہو دال کے فتحہ کے ساتھ، تو پھر یہ کیا ہوگا؟ تو پھر یہ اسمِ مفعول بھی ہو سکتا ہے، اور اسمِ مفعول ہو تو محدَث کا معنی ہے نئی بات، نئی بات۔ بات کرنے وال، نئی بات ‏کو وجود دینے والا ہوا محدِث، اور جس بات کو وجود دیا وہ کیا ہے؟ محدَث ہے بھئی۔ نئی بات، لیکن میں نے بتایا یہاں ‏ناگوار بات، ناگوار واقعے کے معنی میں ہے، عام نئی، ویسے تو یہ لفظ عام ہے، چاہے بات ناگوار ہو یا نہ ہو سب کو ‏شامل ہے، لیکن یہاں کیا مراد ہے؟ ناگوار بات، ناگوار واقعات۔ یا یہ محدَث کیا ہے؟ مصدر ہے بمعنی احداث کے۔ تو محدَث بمعنی احداث کے ہوگا، محدَث بمعنی احداث کے ہوگا۔ تو یہ ‏مصدرِ میمی ہے بھئی، مصدرِ میمی۔ یہ ثلاثی مزید فیہ میں جو اسمِ مفعول کا وزن آتا ہے، اسمِ مفعول کا وزن، اسی وزن پر ‏ظرف بھی آتا ہے اور اسی وزن پر ان افعال کے عموماً مصادر بھی آتے ہیں، جن کو مصادرِ میمی کہتے ہیں بھئی۔ تو اکرم یکرم اکراما فھو مکرم، وکرم یکرم اکراما فذاک مکرم، دیکھا یہ مکرم اسمِ مفعول کا بھی یہ وزن، ظرف کا بھی یہی ‏وزن اور بعض اوقات اسی وزن پر مصدر بھی آتے ہیں جن کو مصدرِ میمی کہتے ہیں۔ ہجائی، ہجاء کہتے ہیں مذمت کرنا، کسی کی عیب گیری کرنا، عیب بیان کرنا۔ ہجو بیان کرنا کسی کی، برائی بیان کرنا۔ تو ‏ہجاء اور ہجو کا ایک معنی، اور ہجائی، یہ یا ضمیر متکلم کی ہے مضاف الیہ ہے۔ ہجائی، میری مذمت کرنا، میری ہجو ‏بیان کرنا۔ وقذفی بالشکاة، قذف ابھی گزرا بھئی، قذف یقذف کا معنی ہے پھینکنا۔ قذفی، میرا پھینکنا یعنی مجھ پر پھینکنا، یہ مفعول کی ‏طرف اضافت ہو رہی ہے جیسے ہجائی میں بھی مفعول کی طرف۔ ہجائی، کیا معنی؟ میری ہجو کرنا، یعنی کوئی دوسرا کیا ‏کرے؟ میری ہجو کرے، تو یہ مفعول کی طرف اضافت ہے۔ وقذفی، کوئی دوسرا کیا کرے؟ میرے اوپر پھینکے بالشکاة، ‏شکاة بمعنی شکایت کے ہے، شکاة اور شکایت کا ایک معنی ہے، یعنی مجھ پر شکایت پھینکے یعنی میرے بارے میں ‏شکایتیں کرے، میرے بارے میں شکایتیں۔ ومتردی، اطراد یطرد اطراد کا معنی ہے دور کرنا، جلا وطن کرنا، نکالنا، ‏دھتکارنا، نظر انداز کرنا۔ تو متردی، یہ مترد یہاں یہ بھی مصدر ہے بھئی، مصدر ہے۔ ای اطرادی، مجھے دھتکارنا، مجھے نظر انداز کرنا کہ ‏کوئی شخص مجھے کیا کرے؟ نظر انداز کرے، تو یہ اضافت مفعول کی طرف ہے، تو ہجائی، قذفی، متردی، ان سب میں ‏مصدر کی اضافت ہو رہی ہے یاءِ متکلم کی طرف اور یہ یاء کیا ہے؟ مفعول ہے بھئی، مفعول ہے۔ شاعر کہتا ہے: بلا حدث احدثتہ وکمحدث ہجائی وقذفی بالشکاة ومتردی۔ یہ شعر ذرا مشکل ہے، توجہ سے سمجھ لیں۔ شاعر کہتا ہے: بلا حدث احدثتہ۔ حدث نکرہ ہے اور نکرہ کے بعد احدث فعل ‏آیا تو اس کے لیے کیا بنے گا؟ صفت، اور موصوف صفت کا ترجمہ کیسے کرتے ہیں کہ موصوف سے پہلے کیا لے آتے ‏ہیں؟ ایسا یا ایسی کا لفظ۔ شاعر کہتا ہے کہ میرے چچا زاد بھئی نے میرے ساتھ یہ معاملہ کیا، میرے ساتھ یہ معاملہ کیا بلا ‏حدث احدثتہ، بغیر کسی ایسی ناگوار بات کے جو میں نے کی ہو۔ بغیر کسی ایسی ناگوار بات کے جو میں نے کی ہو، یعنی میں نے تو کوئی ایسی ناپسندیدہ، میں نے کوئی ایسا ناپسندیدہ کام ‏نہیں کیا جس پر اس نے یہ معاملہ میرے ساتھ کیا ہو۔ بلا حدث احدثتہ، تو یہاں فعل محذوف نکال لیں گے عملنی، اس نے میرے ساتھ معاملہ کیا، یہ والا بلا حدث احدثتہ، بغیر ‏کسی ایسے نئے ناگوار کام کے احدثتہ جو میں نے کیا ہو، معنی سمجھ میں آ گیا؟ وکمحدث ہجائی، اس کو اچھی طرح سمجھ لیں بھئی۔ یہاں دو ترکیبیں ہو سکتی ہیں، دو ترکیبیں۔ ایک یہ کہ پہلے اس کو ‏پڑھیں محدِث، کمحدِث، اس صورت میں یہ کمحدِث ہے خبر، اور اس کے لیے مبتدا محذوف نکال لو، وھو کمحدِث۔ وھو، ‏اور وہ میرا چچا کا بیٹا کمحدِث ای کرجل محدِث، اس آدمی کی طرح ہے جو ایک ناگوار بات کو وجود دے رہا ہو۔ ترکیب سمجھ میں آ رہی ہے؟ ھو کمحدِث ای کرجل محدِث، وہ میرا چچا کا بیٹا کرجل محدِث، اس شخص کی طرح ہے، اس ‏شخص کی طرح ہے محدِث، جو وجود دے رہا ہے، جو سبب بن رہا ہے کس چیز کا؟ ہجائی، آگے مفعول آیا، وقذفی ‏بالشکاة، یہ بھی اسی پر عطف ہے، یہ بھی مفعول ہے، ومتردی، یہ بھی اسی پر عطف، یہ مفعول ہے۔ کہ میرا چچا کا بیٹا ‏اس شخص کی طرح ہے جو وجود دینے والا ہے میری ہجو کو، میری مذمت کو یعنی میری مذمت کرنے والا ہے، وقذفی ‏بالشکاة، اور میری شکایت مجھ پر پھینکنے والا ہے یعنی میری شکایتیں کرنے والا ہے، ومتردی، اور مجھے دھتکارنے ‏والا یعنی نظر انداز کرنے والا ہے، وہ مجھے نظر انداز کرتا ہے۔ ترکیب سمجھ میں آ رہی ہے؟ قذفی بالشکاة، اس کا عطف کس پر ہے؟ ہجائی پر، اور اسی طرح متردی کا عطف بھی کس ‏پر ہے؟ ہجائی پر، اور ہجائی کیا بن رہا ہے؟ مفعول، ھو کرجل محدِث، میرا چچا کا بیٹا اس شخص کی طرح ہے جو وجود ‏دینے والا ہے کس چیز کو؟ ہجائی، میری مذمت کو، وقذفی بالشکاة، اور میری جو شکایتیں لگانے کو، ومتردی، اور ‏مجھے نظر انداز کرنے کو، ان کام، ان چیزوں کا وہ سبب بن رہا ہے، ان چیزوں کو وہ وجود دے رہا ہے، ترکیب سمجھ ‏میں آ گئی؟ دوسرا، پہلی ترکیب کیا تھی؟ مبتدا کیا نکالا؟ ھو۔ اسی ترکیب میں ھو کے بجائے انا نکال لیں۔ انا کمحدِث ہجائی وقذفی ‏بالشکاة ومتردی۔ اور میں، ترکیب وہی ہے، مبتدا ھو کے بجائے کیا نکال لو؟ انا۔ میں جو ہوں کرجل محدِث، اس شخص کی طرح ہوں جو ‏وجود دینے والا ہے ہجائی، میری مذمت، یعنی اپنی مذمت کو۔ میں اس، توجہ ہے؟ میں انا، میں اس شخص کی طرح ہوں جو وجود دیتا ہے ہجائی، کس چیز کو وجود دیتا ہے؟ میری ‏مذمت کو یعنی اپنی مذمت کو، میں اس شخص کی طرح ہوں جو اپنی ہی مذمت کو وجود دے رہا ہے یعنی اپنی ہی مذمت کر ‏رہا ہے۔ توجہ ہے؟ جو اپنی ہی مذمت کر رہا ہے، وقذفی بالشکاة، اور جو اپنی ہی شکایتیں لگا رہا ہے، ومتردی، اور جو خود ہی ‏اپنے آپ کو کیا کر رہا ہے؟ دھتکار رہا ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ بھئی یہ کیا معنی؟ کہ میں اس شخص کی ‏طرح ہوں جو اپنے آپ کو دھتکار رہا ہے، اپنی ہجو خود بیان کر رہا ہے؟ شاعر کہنا یہ چاہتا ہے کہ میرے چچا زاد بھئی نے مجھے یہ سمجھ لیا ہے، کیا سمجھ لیا ہے؟ میرا چچا زاد بھئی شاید یہ ‏سمجھتا ہے کہ میں اس کی ہجو کر رہا ہوں، میں اس کو نظر انداز کر رہا ہوں، میں اس کے بارے میں شکایتیں لوگوں میں ‏لگا رہا ہوں، وہ یہ سمجھتا ہے، حالانکہ ایسا نہیں ہے، کیونکہ وہ میرے چچا کا بیٹا ہے، کوئی دور، کوئی غیر آدمی نہیں ‏ہے، میرا اپنا ہے۔ تو چچا کے بیٹے کی اور کسی اپنے کی ہجو بیان کرنا، اس کی شکایت کرنا، اس کو دھتکارنا، یہ گویا ‏اپنے آپ کو دھتکارنا ہے، اپنی مذمت کرنا ہے، اپنی شکایت کرنا ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو میرے چچا کا یہ خیال ہے کہ میں اس کے بارے میں ہجو کرتا ہوں یا اس کی مذمت کرتا ہوں، حالانکہ ایسا نہیں ہے، ‏اگر میں ایسا کرنے والا ہوں تو گویا میں تو اپنی ہی کیا کر رہا ہوں؟ مذمت کر رہا ہوں، اپنی ہجو کر رہا ہوں، اپنی ہی ‏شکایتیں لگا رہا ہوں، اپنے آپ کو ہی نظر انداز کر رہا ہوں اور دھتکار رہا ہوں۔ اگر میں چچا کے بیٹے کی ہجو کرتا ہوں ‏تو یہ اسی طرح ہے کہ میں اپنی ہجو کر رہا ہوں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو شاعر کہنا یہ چاہتا ہے: میرے چچا کا بیٹا مجھے یہ سمجھتا ہے کہ میں اپنی ہجو کر رہا ہوں، میں ‏اپنی شکایتیں لگا رہا ہوں، میں اپنے ہی آپ کو نظر انداز کر رہا ہوں، دھتکار رہا ہوں، میرے چچا کا بیٹا یہ سمجھتا ہے۔ کیوں یہ سمجھتا ہے؟ یعنی بات سمجھ بھی آ رہی ہے کہ نہیں؟ یعنی چچا کا بیٹا تو یہ سمجھتا ہے کہ میں اس کی ہجو وغیرہ ‏کر رہا ہوں، لیکن اس کو پتہ نہیں کہ اس کی ہجو کروں تو دراصل یہ کس کی ہجو ہے؟ میری اپنی ہجو ہے کیونکہ وہ میرا ‏اپنا ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ معنی ہے، انا، وانا کرجل محدِث ہجائی وقذفی بالشکاة ومتردی، اور اس نے مجھے یوں گمان کر لیا کہ گویا میں اس ‏شخص کی طرح ہوں جو وجود دینے والا ہے، جو وجود دینے والا ہے اپنی ہجو کے ناگوار کام کو اور اپنی شکایتیں ‏کرنے کو اور اپنے آپ کو دھتکارنے اور نظر انداز کرنے کو وجود دینے والا شخص ہوں۔ اس کا یہ گمان ہے، اس نے ‏مجھے اس درجے میں اتار دیا ہے، اس نے مجھے یوں سمجھا ہے، معنی سب کو سمجھ میں آ گیا؟ یہ تو ایک ہی ترکیب تھی کہ مبتدا محذوف نکالیں اور کمحدِث کو اس کی خبر بنائیں اور ہجائی وغیرہ کو اس کے لیے ‏مفعول بنائیں۔ دوسری ترکیب یہ ہے، دوسری ترکیب میں کمحدَث، دال پر فتحہ پڑھیں، دال پر فتحہ، اور اس صورت میں یہ خبرِ مقدم ہے ‏کمحدَث، اور ہجائی یہ مبتداِ مؤخر ہے۔ ہجائی، مبتداِ مؤخر ہے، تو گویا عبارت یوں ہے: ہجائی، میری ہجو بیان کرنا کمحدَث، کمحدَث کس کی طرح ہے؟ اس صورت میں محدَث اسمِ مفعول بھی بنا سکتے ہیں اور مصدر بھی بنا سکتے ہیں۔ تو ہجائی کمحدَث، میری مذمت کرنا، ‏وہ جو میرا چچا کا بیٹا میری کیا کرتا ہے؟ مذمت کرتا ہے، کمحدَث ای کامر محدَث، کس کی طرح ہے؟ ایک نئے ناگوار ‏کام کی طرح ہے، نئے کا لفظ نکال دو، کس کی طرح ہے؟ ایک ناگوار کام جیسا کام ہے۔ ہجائی، اس کا میری ہجو کرنا، ‏میری مذمت کرنا وقذفی بالشکاة، اور اس کا میری شکایت کرنا ومتردی، اور اس کا مجھے نظر انداز کرنا کمحدَث ای کامر ‏محدَث، کس کی طرح ہے؟ ایک نئے ناگوار کام کی طرح ہے، یا یوں کہو ایک ناگوار بات کی طرح ہے، ایک ناگوار ‏واقعے جیسا ہے۔ تو اس صورت میں محدَث اسمِ مفعول ہوا۔ اور یا اس کو، اس کو مصدر بنا لیں کإحداث، کس کی طرح ہے؟ ایک نئے کام کو وجود دینے کی طرح ہے، کإحداث، کس ‏کی طرح ہے؟ ایک ناگوار کام کو وجود دینے کی طرح ہے، یعنی ایک ناگوار کام کو وہ کیا کر رہا ہے؟ وجود دی، ایک ‏ناگوار کام کر رہا ہے، مرادی معنی یہ ہے کہ وہ ایک ناگوار کام کر رہا ہے۔ ہجائی کمحدَث ای ہجائی کإحداث، کس کی ‏طرح ہے؟ اس کا میری ہجو کرنا کس کی طرح ہے؟ ناگوار کام کرنے کی طرح ہے کہ وہ ایک ناگوار کام کر رہا ہے، ‏ترکیب سمجھ میں آ گئی؟ ترجمہ سمجھ میں آیا؟ اب دیکھیے بھئی: بلا حدث احدثتہ وکمحدث ہجائی وقذفی بالشکاة ومتردی، کہ میرے چچا کے بیٹے نے میرے ساتھ یہ ‏معاملہ کیا بغیر کسی ایسے ناگوار کام کے جو میں نے کیا ہو، وکمحدث ہجائی ای ھو کا، وہ اس شخص کی طرح ہے جو ‏میری ہجو کو اور میری شکایت کرنے کو اور مجھے نظر انداز کرنے جیسے ناگوار کام کرنے والے آدمی کی طرح ہے ‏وہ، یا میں، انا کمحدِث، اور میں جو ہوں، مجھے اس نے اس شخص کے درجے میں کر دیا ہے کہ جو اپنی ہی ہجو کرنے ‏والا ہے، اپنی ہی شکایت کرنے والا ہے اور اپنے آپ ہی کو نظر انداز کرنے والا ہے۔ اگر اس کا یہ خیال ہے کہ میں اس ‏کے بارے میں یہ کرتا ہوں تو دراصل گویا اس کا یہ خیال ہے کہ میں اپنے بارے میں یہ کر رہا ہوں بھئی، معنی سمجھ ‏میں آیا؟ جو اس کا یہ خیال ہے کہ میں اس کے بارے میں یہ چیزیں کر رہا ہوں تو بالفاظِ دیگر گویا میں اپنے بارے میں یہ چیزیں ‏خود کرنے والا ہوں، اپنی ہجو کر رہا ہوں، اپنی شکایت کر رہا ہوں اور اپنے آپ کو ہی نظر انداز کر رہا ہوں۔ وکمحدث ہجائی، اسمِ مفعول بھی ہو سکتا ہے اور مص، اسمِ مفعول ہو تو ابھی بتایا محدَث کسے کہتے ہیں؟ نئی، نئی بات ‏جو کی ہو کسی نے، جو کرنے والا ہے وہ ہے محدِث، اور جو نئی بات کی، جو ناگوار واقعہ، جو ناگوار کام اس نے کیا وہ ‏کیا ہے؟ محدَث، اور نیز یہ میں نے بتلایا کہ یہ مصدر بھی ہے بھئی۔ تو محدَث مصدر بھی ہے۔ تو ہجائی کامر محدَث، اور اس کے میری ہجو کرنا وہ ایک، وہ ایک نئے ناگوار کام کی طرح ‏ہے، نئے کا لفظ بلکہ نکال دیں، اس کا میری ہجو کرنا، میری شکایت کرنا اور مجھے نظر انداز کرنا ایک ناگوار کام جیسا ‏کام ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یا محدَث کو احداث کے معنی میں لے لیں، ترجمہ پھر بھی اسی طرح ہوگا کہ اس کا میری ہجو کرنا، میری شکایت کرنا ‏اور مجھے نظر انداز کرنا کإحداث، کس کی طرح ہے؟ ایک ناگوار کام کرنے کی طرح ہے، معنی سمجھ میں آ گیا؟ چلیے بس بھئی، ھذا ھو المرام واللہ اعلم بحقیقة الکلام۔ بس سب کو سمجھ میں آ گئی؟ اچھی طرح؟ ہاں یہ شعر ذرا مشکل تھا، تو اس کی میں نے خوب تشریح کر دی بھئی، اچھی ‏طرح حل ہو گیا؟