آگے دیکھیے بھئی سبق:‏ وَاَعْلَمُ مَخْرُوْطٌ مِّنَ الْاَنْفِ مَارِنٌ عَتِیْقٌ مَتٰی تَرْجُمْ بِہِ الْاَرْضَ تَزْدَدِ وَإِنْ شِئْتُ لَمْ تُرْقِلْ وَإِنْ شِئْتُ أَرْقَلَتْ مَخَافَةَ مَلْوِيٍّ مِنَ الْقِدِّ مُحْصَدِ وَإِنْ شِئْتُ سَامَى وَاسِطَ الْكُوْرِ رَأْسُهَا وَعَامَتْ بِضَبْعَيْهَا نَجَاءَ الْخَفَيْدَدِ طرفہ ابن العبد اپنی اونٹنی کی صفات بیان کرتا جا رہا ہے۔ آگے کہتا ہے: وَاَعْلَمُ مَخْرُوْطٌ مِّنَ الْاَنْفِ مَارِنٌ، عَتِیْقٌ مَتٰی تَرْجُمْ بِہِ الْاَرْضَ تَزْدَدِ۔ اعلم، بھئی آپ جانتے ہیں عَلِمَ يَعْلَمُ کے معنی ‏ہوتے ہیں جاننا۔ اسی طرح یاد رکھو عَلِمَ يَعْلَمُ کے معنی ہیں اوپر والے ہونٹ کا پھٹا ہوا ہونا۔ اوپر والے ہونٹ کا پھٹا ہوا ‏ہونا، اس کے لیے بھی باب یہی استعمال ہوتا ہے عَلِمَ يَعْلَمُ۔ اور وہ شخص جس کا پیدائشی اوپر کا ہونٹ پھٹا ہوا ہو، درمیان ‏سے کٹا ہوا ہو اس کو کہتے ہیں اعلم، اعلم، عَلِمَ يَعْلَمُ سے اعلم۔ اسی طرح اونٹ جو ہے، اونٹ کا بھی اوپر کا ہونٹ پھٹا ہوا ‏ہوتا ہے، میں نے بتلایا تھا، اس کے اونٹ کے اوپر کے ہونٹ میں درمیان میں کٹ ہوتا ہے، کٹا ہوا ہوتا ہے، اوپر ناک ‏تک۔ تو ہر اونٹ اعلم ہے، اس کا اوپر کا ہونٹ کیا ہے؟ پھٹا ہوا ہے۔ جبکہ نچلا ہونٹ اگر پھٹا ہوا ہو، تو اسے افلح کہتے ‏ہیں، افلح۔ کوئی بھی شخص ہو یا کوئی حیوان ہے جس کا نچلا ہونٹ پھٹا ہو تو وہ افلح ہے، افلح۔ مخروط، خَرَطَ يَخْرُطُ خَرْطًا کے معنی ہیں اس کے معنی ہیں کسی چیز کو لمبائی میں پھاڑنا، چیرنا اور اسی طرح سوراخ ‏کرنا، دونوں معنی اس کے آتے ہیں۔ تو مخروط اسی سے اسم مفعول ہے خَرَطَ يَخْرُطُ سے۔ تو مخروط وہ جو پھٹا ہوا ہو یا ‏جس میں سوراخ ہو بھئی، سوراخ ہو۔ مِنَ الْاَنْفِ، انف ناک کو کہتے ہیں بھئی، ناک۔ مارن، مارن ایک تو یہ ناک کا نرم ‏حصہ بھئی، اگر آپ اپنی ناک پر ہاتھ لگائیں دیکھیں، ناک کا جو اگلا نصف ہے یہ نرم ہے اور اوپر والے اس سے اوپر ‏ہڈی ہے سخت بھئی، تو یہ جو نرم حصہ ہے ناک کا اس کو مارن کہتے ہیں، مارن۔ جبکہ اسی طرح مَرَنَ يَمْرُنُ کے معنی ‏نرم ہونے کے بھی ہیں، نرم ہونا۔ تو مارن کا معنی نرم بھی ہے۔ ناک کا نرم حصہ اس کو بھی مارن کہتے ہیں اور کوئی ‏چیز ویسے نرم ہو اس کے لیے بھی کیا لفظ بول دیتے ہیں؟ مارن کا لفظ بولتے ہیں۔ عتیق، عتیق کا معنی پچھلے ایک دو ‏ایک دو شعر قبل ذکر ہوا تھا بھئی، تَعْرِفُ الْعِتْقَ فِيْهِمَا، اچھی نسل والا، اچھے عمدہ اعلیٰ خاندان والا، تو اس کو عتیق کہتے ‏ہیں۔ اور اسی طرح عتیق کے معنی خوبصورت بھئی، خوبصورت اور حسیں و جمیل اور اعلیٰ، اعلیٰ۔ مَتٰی تَرْجُمْ بِهِ، رَجَمَ ‏يَرْجُمُ کے معنی ہیں پتھر مارنا، پتھر مارنا، یہاں ویسے مارنے کے معنی میں ہے۔ مارنا بھئی۔ تَزْدَدِ، اِزْدَادَ يَزْدَادُ کے معنی ‏ہیں بڑھ جانا، زیادہ ہو جانا۔ وَاَعْلَمُ مَخْرُوْطٌ مِّنَ الْاَنْفِ مَارِنٌ عَتِیْقٌ مَتٰی تَرْجُمْ بِہِ الْاَرْضَ تَزْدَدِ۔ یہ صفت ہے بھئی مشفر کی، مشفر کسے کہتے ہیں؟ اونٹ ‏کا جو ہونٹ ہے۔ وَلَهَا مِشْفَرٌ اَعْلَمُ، اور میری اس اونٹنی کا ایسا ہونٹ ہے اَعْلَمُ جو درمیان سے کٹا ہوا ہے۔ مَخْرُوْطٌ، یہ ‏دوسری صفت ہے بھئی، اور وہ ہونٹ جو ہے وہ اس میں شگاف ہے، وہی کٹا ہوا ہے تو اس میں کیا ہے؟ شگاف ہے، وہ ‏پھٹا ہوا ہے۔ مَخْرُوْطٌ، پھٹا ہوا ہے، مِنَ الْاَنْفِ کہاں سے پھٹا ہوا ہے؟ ناک سے، یعنی ناک سے نیچے سارا وہ پھٹا ہوا ہے۔ ‏تو ناک سے وہ پھٹا ہوا ہے، مَارِنٌ یہ ساری صفات بیان ہو رہی ہیں مشفر کی، اور وہ ہونٹ مَارِنٌ نرم ہے، نرم ہے۔ اور ‏عَتِیْقٌ بڑا خوبصورت ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ مَتٰی تَرْجُمْ بِهِ الْاَرْضَ، جب وہ اونٹنی مارتی ہے اس ہونٹ کو الْاَرْضَ ‏زمین پر، تَزْدَدِ تو وہ اونٹنی بڑھ جاتی ہے۔ تو وہ اونٹنی زیادہ ہو جاتی ہے بااعتبار چلنے کے، تَزْدَدْ سَیْرًا، کس اعتبار سے ‏بڑھ جاتی ہے؟ چلنے کے اعتبار سے بڑھ جاتی ہے، یعنی زیادہ چلتی ہے، کیا معنیٰ ہے؟ زیادہ چلتی ہے۔ صورت سمجھ ‏میں آ رہی ہے؟ جیسے عربی میں دعا دیتے ہیں: زَادَكَ اللهُ عِلْمًا، اللہ آپ کو زیادہ کر دے، کس اعتبار سے؟ علم، یعنی اللہ آپ کا علم زیادہ ‏کر دے۔ تو یہاں پر بھی اسی طرح ہے، وہ اونٹنی بڑھ جاتی ہے، کس اعتبار سے بڑھ جاتی ہے؟ چلنے کے اعتبار سے ‏بڑھ جاتی ہے، یعنی زیادہ چلتی ہے یا تیز چلتی ہے۔ تو یہ تَزْدَدِ جو ہے اس کی تمیز محذوف ہے، تَزْدَدْ سَیْرًا، وہ بڑھ جاتی ‏ہے سیر کے اعتبار سے یعنی چلنے کے اعتبار سے، وہ اونٹنی چلنے کے اعتبار سے بڑھ جاتی ہے، زیادہ چلتی ہے۔ تو اعلم یہ صفتِ اول ہے مشفر کی، مَخْرُوْطٌ مِّنَ الْاَنْفِ یہ صفتِ ثانی ہے مشفر کی، مَارِنٌ یہ صفتِ ثالث ہے مشفر کی اور ‏عَتِیْقٌ یہ صفتِ رابع ہے مشفر کی اور میری اونٹنی جو ہے اس کا ایسا ہونٹ ہے جو درمیان سے پھٹا ہوا ہے، مَخْرُوْطٌ مِّنَ ‏الْاَنْفِ اس میں شگاف ہے ناک سے لے کر ناک سے لے کر یعنی نیچے تک، اور مَارِنٌ اور وہ ہونٹ کیسا ہے؟ نرم ہے، ‏عَتِیْقٌ بڑا خوبصورت اور حسیں و جمیل ہے، مَتٰی تَرْجُمْ بِهِ الْاَرْضَ جب وہ اس کو ہونٹ کو زمین پر مارتی ہے، تَزْدَدِ تو وہ ‏زیادہ چلتی ہے، وہ زیادہ چلتی ہے۔ بھئی ہونٹ کو جب زمین پر مارتی ہے، یہ زمین پر مارنا نہیں مراد، وہ جو سر کو ‏نیچے کر لیتی ہے زمین کے قریب کر لیتی ہے تو اسی کو تعبیر کر دیا کس کے ساتھ؟ زمین پر ہونٹ مارنے کو، بات ‏سمجھ میں آ گئی؟ تو زمین کے بالکل قریب منہ لے آئی تو اس کو زمین پر مارنے کے ساتھ تعبیر کر دیا۔ ترجمہ سمجھ میں آ گیا؟ پھر سن لیں: اور میری اونٹنی جو ہے اس کا ایسا ہونٹ ہے جو درمیان سے کٹا ہوا ہے، مَخْرُوْطٌ ‏اس میں شگاف ہے مِنَ الْاَنْفِ ناک سے، مَارِنٌ وہ ہونٹ نرم ہے، عَتِیْقٌ بڑا خوبصورت ہے، مَتٰی تَرْجُمْ بِهِ الْاَرْضَ جب وہ ‏اس کو زمین پر مارتی ہے یعنی زمین کے قریب کرتی ہے، تَزْدَدِ تو وہ اور زیادہ چلتی ہے، یعنی کبھی سر جھکا دیتی ہے ‏زمین کے ساتھ کچھ لگا قریب کر لیتی ہے تو وہ اور زیادہ چلنے والی ہوتی ہے۔ جبکہ عام اردو شارحین نے اس کا اور ترجمہ کیا اس شعر کا بھئی، انہوں نے مخروط کا معنیٰ، میں نے کیا معنیٰ کیا؟ پھٹا ‏ہوا، مخروط کا ایک معنیٰ جس چیز میں سوراخ کیا گیا ہو۔ اور مارن سے مراد لیا ناک کا نرم حصہ، اونٹ اور اونٹنی کی ‏ناک کے نرم حصے میں بھی سوراخ کیا جاتا ہے، مہار ڈالی جاتی ہے بھئی، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ اور عتیق کا میں ‏نے ترجمہ کیا خوبصورت اور حسیں، جبکہ انہوں نے ترجمہ کیا ہے عتیق کا اعلیٰ نسل والی، اعلیٰ نسل والی، تو انہوں نے ‏یہ ترجمہ کیا ہے: اور میری جو اونٹنی ہے اس کا ہونٹ جو ہے وہ درمیان سے پھٹا ہوا ہے، مَخْرُوْطٌ مِّنَ الْاَنْفِ مَارِنٌ کہ ‏سوراخ کیا گیا ہے کس میں؟ مَارِنٌ اس کی ناک نرم حصے میں، مِنَ الْاَنْفِ کس میں سے؟ ناک، ناک میں سے جو اس کا ‏نرم حصہ ہے اس میں سوراخ کیا گیا ہے یعنی مہار کے لیے، عَتِیْقٌ اور وہ اونٹنی کیسی ہے؟ بڑے اعلیٰ نسل والی ہے، ‏مَتٰی تَرْجُمْ بِهِ الْاَرْضَ جب وہ اپنے منہ کو یا اپنے ہونٹ کو زمین پر مارتی ہے، تَزْدَدِ تو وہ اور زیادہ چلنے لگتی ہے، بات ‏سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ بھی میں نے بیان کر دیا کیونکہ بعد میں کوئی بات دیکھیں گے اردو شروحات تو وہاں اور طرح ‏ترجمہ ہوگا، میں نے اور طرح ترجمہ کروایا، لیکن قدیم شارحین نے اسی طرح ترجمہ کیا جو میں نے بیان کر دیا۔ انہوں ‏نے مَخْرُوْطٌ، مَارِنٌ، عَتِیْقٌ سب کو مشفر کی صفت بنایا ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ آگے دیکھیے بھئی: وَإِنْ شِئْتُ لَمْ تُرْقِلْ وَإِنْ شِئْتُ أَرْقَلَتْ مَخَافَةَ مَلْوِيٍّ مِنَ الْقِدِّ مُحْصَدِ۔ وَإِنْ شِئْتُ، شَاءَ يَشَاءُ کا معنیٰ چاہنا۔ لَمْ ‏تُرْقِلْ، أَرْقَلَ يُرْقِلُ کے معنی ہیں تیز چلنا، تیز چلنا، ایسی چال جو چلنے اور دوڑنے کے درمیان کی ہو اس کو کیا کہتے ‏ہیں؟ ارقال۔ یعنی دوڑنا بھی نہیں ہے اور آرام سے چلنا بھی نہیں، وہی تیز چال کہہ لیں یا بڑی ہلکی سی دوڑ سی کہہ لیں ‏معمولی، بات سمجھ میں آ گئی؟ تیز چلنا بھئی، تیز چلنا۔ مَخَافَةَ، خَافَ يَخَافُ خَوْفًا وَمَخَافَةً کا معنیٰ ہے ڈرنا، ڈرنا، یہ مصدر ‏ہے۔ مَلْوِيٌّ، لَوَى يَلْوِي کے معنی ہیں بل دینا، رسی وغیرہ کو بل دینا، اس کو بٹنا، لَوَى يَلْوِي لَيًّا، رسی کو بل دینا، بٹنا۔ مِنَ ‏الْقِدِّ، یہ قاف کے نیچے زیر ہونی چاہیے بھئی، مِنَ الْقِدِّ۔ قِدٌّ، قدّ کہتے ہیں عربی میں چمڑے کا باریک لمبا ٹکڑا، چمڑے کا ‏باریک لمبا ٹکڑا۔ اور اسی طرح یہ قدّ یہ کوڑے کو بھی کہتے ہیں کوڑا بھئی، وہی چمڑے کا لمبا ٹکڑا جس کے ساتھ کسی ‏کی کسی کو مارا جائے بھئی، وہ کیا ہے؟ کوڑا، اس کو بھی قدّ کہتے ہیں عربی میں، بہرحال یہاں یہ چمڑے کے لمبے ‏ٹکڑے کے معنیٰ میں ہے۔ مُحْصَدِ، أَحْصَدَ يُحْصِدُ إِحْصَادًا کا معنیٰ ہے رسی کو بل دینا، مضبوط کرنا، تو یہاں یہ مضبوط ‏کے معنیٰ میں ہے، مُحْصَدِ مضبوط بھئی، مضبوط۔ وَإِنْ شِئْتُ لَمْ تُرْقِلْ وَإِنْ شِئْتُ أَرْقَلَتْ مَخَافَةَ مَلْوِيٍّ مِنَ الْقِدِّ مُحْصَدِ۔ وَإِنْ شِئْتُ اور اگر میں چاہوں، لَمْ تُرْقِلْ تو وہ تیز نہیں چلتی۔ ‏وَإِنْ شِئْتُ اور اگر میں چاہوں، أَرْقَلَتْ تو وہ تیز چلتی ہے، یعنی جیسے میں اس کو چلانا چاہوں وہ اونٹنی ویسا ہی چلتی ہے۔ ‏وَإِنْ شِئْتُ لَمْ تُرْقِلْ اور اگر میں چاہوں، اچھا یہ وَإِنْ شِئْتُ یہ ہے شرط اور لَمْ تُرْقِلْ ہے جزا، اسی طرح آگے إِنْ شِئْتُ شرط ‏اور أَرْقَلَتْ کو کیا بناؤ؟ جزا، اب سنو ترجمہ: وَإِنْ شِئْتُ اور اگر میں چاہوں تو، لَمْ تُرْقِلْ تو وہ تیز نہیں چلتی، وَإِنْ شِئْتُ اور ‏اگر میں چاہوں تو، أَرْقَلَتْ تو وہ تیز چلتی ہے، ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟ جی، تو وَإِنْ شِئْتُ لَمْ تُرْقِلْ وَإِنْ شِئْتُ أَرْقَلَتْ اگر ‏میں چاہوں تو وہ تیز نہیں چلتی اور اگر میں چاہوں تو وہ تیز چلتی ہے، مَخَافَةَ مَلْوِيٍّ مِنَ الْقِدِّ مُحْصَدِ، مخافة کا معنیٰ خوف ‏اور یہ مفعول لہٗ ہے۔ منصوب ہے نا، یہ مفعول لہٗ ہے، مفعول لہٗ کسے کہتے ہیں؟ وہ مصدر جو ماقبل فعل کی علت بیان ‏کرے، زَرَبْتُهُ تَأْدِيْبًا میں نے اس کی پٹائی کی کس لیے؟ ادب سکھانے کے لیے، تو وہ جو تیز چلتی ہے یا آہستہ چلتی ہے ‏کس وجہ سے؟ کیونکہ اس کو خوف ہوتا ہے، کیا ہوتا ہے؟ خوف، کس چیز کا خوف ہوتا ہے وہ آگے بیان کر رہا ہے: ‏مَخَافَةَ مَلْوِيٍّ، یہ ملوِیّ صفت ہے موصوف محذوف ہے، اَیْ مَخَافَةَ صَوْتٍ مَلْوِيٍّ، صَوْتٌ، ص، و، ط، صَوْتٌ کوڑے کو ‏کہتے ہیں کوڑا، وہ چمڑے کا ٹکڑا جس کے لیے کسی کی پٹائی کی جائے، مارا جائے۔ اچھا، کس کے خوف سے؟ مَخَافَةَ ‏صَوْتٍ مَلْوِيٍّ ایک ایسے کوڑے کے خوف سے، مَلْوِيٍّ جس کو بل دیا گیا ہوتا ہے، بل دیا گیا ہوتا ہے، مِنَ الْقِدِّ اور وہ کوڑا ‏کس چیز کا بنا ہوتا ہے؟ چمڑے کے باریک لمبے ٹکڑے کا، مُحْصَدِ اور وہ کوڑا کیسا ہوتا ہے؟ مضبوط ہوتا ہے۔ تو یہ ملوی یہ صوت کی صفت اول، من القد صفت ثانی اور محصد یہ صفت ثالث۔ اور اگر میں چاہتا ہوں تو وہ تیز نہیں چلتی اور اگر میں چاہتا ہوں تو وہ تیز چلتی ہے، ایک ایسے مضبوط کوڑے کے ‏خوف سے جس کو خوب بل دیا گیا ہوتا ہے من القد، اور کس سے بنا ہوتا ہے؟ چمڑے، یہ یوں ترجمہ کر لیں۔ چمڑے سے ‏بنے ہوئے، چمڑے سے بنے ہوئے ایک ایسے مضبوط کوڑے کے خوف سے جس کو خوب بل دیا گیا ہوتا ہے۔ یہ یوں ترجمہ کر لیں۔ چمڑے کا بنا ہوا، مضبوط بل دیے ہوئے کوڑے کے خوف سے، چمڑے کے بل دیے ہوئے مضبوط ‏کوڑے کے خوف سے وہ اس طرح چلتی ہے بھئی۔ یعنی جس طرح میں اس کو چلانا چاہوں اس طرح وہ چلتی ہے بھئی۔ وَإِنْ شِئْتُ لَمْ تُرْقِلْ وَإِنْ شِئْتُ أَرْقَلَتْ مَخَافَةَ مَلْوِيٍّ مِنَ الْقِدِّ مُحْصَدِ اور اگر میں چاہتا ہوں تو وہ تیز نہیں چلتی اور اگر میں چاہتا ہوں تو وہ تیز چلتی ہے مَخَافَةَ مَلْوِيٍّ مِنَ الْقِدِّ مُحْصَدِ چمڑے ‏کے بنے ہوئے بل دیے ہوئے مضبوط کوڑے کے خوف سے، ترجمہ سمجھ میں آگیا؟ وَإِنْ شِئْتُ سَامَى وَاسِطَ الْكُورِ رَأْسُهَا وَعَامَتْ بِضَبْعَيْهَا نَجَاءَ الْخَفَيْدَدِ سامَى، سامَى يُسَامِي کے معنی ہیں بلندی میں مقابلہ کرنا۔ کسی کا بلندی میں عزت و شرافت میں مقابلہ کرنا، سامَى يُسَامِي۔ وَاسِطَ الكُورِ، كور یہ كور لکھا ہوا ہے یہ کتابت کی غلطی ہے اس پر پیش ڈالیں قاف پر، كُور۔ كُور جو ہے یہ اونٹ کے ‏کجاوے کو کہتے ہیں بھئی كُور، اونٹ کا کجاوا۔ اسی کو رحل بھی کہتے ہیں رحل۔ اور وَاسِطُ الكُورِ، كُور کا واسط۔ واسط کہتے ہیں یہ جو کجاوے کا جو اگلا حصہ ہو، کجاوے کا جو اگلا حصہ ہے، اگلے ‏حصے کی جو لکڑی ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟ واسط كور کہتے ہیں۔ وَعَامَتْ، عَامَ يَعُومُ عَوْمًا کا معنی ہے تیرنا، پانی پر تیرنا۔ عَامَ يَعُومُ عَوْمًا، پانی پر تیرنا۔ بِضَبْعَيْهَا، یہ تثنیہ ہے نون اضافت کی وجہ سے گر گیا اصل میں تھا بِضَبْعَيْنِ، نون اضافت سے گر گیا۔ اور ضَبْعٌ، ضَبْعٌ ‏ایک جانور کو بھی کہتے ہیں۔ اسی طرح یہ بازو کا اوپر والا جو نصف ہے اس کو بھی ضَبْعٌ کہتے ہیں۔ بھئی آٹھ دس ‏اشعار قبل ذکر آیا تھا:‏ أُمِرَّتْ يَدَاهَا فَتْلَ شَذْرٍ وَأُجْنِحَتْ لَهَا عَضُدَاهَا فِي سَقِيفٍ مُسَنَّدِ میں نے بتلایا تھا عَضُد کسے کہتے ہیں؟ بازو کو، کندھے سے لے کر کہنی تک جو حصہ ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟ ‏عَضُد۔ اس عَضُد کا جو نصف ہے یعنی کندھے سے لے کر نصف عَضُد تک جو حصہ ہے اوپر والا کندھے کی طرف ‏والا، اس کو ضَبْع کہتے ہیں ضَبْعٌ، کیا کہتے ہیں؟ ضَبْعٌ، تو نصف بازو، نصف بازو۔ تو بِضَبْعَيْهَا نَجَاءَ الْخَفَيْدَدِ، نَجَاءَ کا معنی ہے نَجَا يَنْجُو کا معنی ہے تیز ہونا بھئی تیز ہونا، تیز رفتار ہونا۔ الخَفَيْدَد، خَفَيْدَد یہ نر شتر مرغ کو کہتے ہیں بھئی نر شتر مرغ۔ وَإِنْ شِئْتُ سَامَى وَاسِطَ الْكُورِ رَأْسُهَا وَعَامَتْ بِضَبْعَيْهَا نَجَاءَ الْخَفَيْدَدِ اور وَإِنْ شِئْتُ اور اگر میں چاہتا ہوں، اگر میں چاہوں تو سَامَى یہ فعل ہے تو وہ مقابلہ کرتی ہے۔ تو نہیں سَامَى تو مقابلہ ‏کرتا ہے وَاسِطَ الْكُورِ یہ مفعول ہے، کجاوے کے اگلے حصے کے ساتھ۔ کجاوے کے اگلے حصے کا مقابلہ کرتا ہے، کون ‏کرتا ہے؟ رَأْسُهَا آگے فاعل آ رہا ہے، اس اونٹنی کا سر۔ اور اگر میں چاہتا ہوں تو اس اونٹنی کا سر کجاوے کے اگلے ‏حصے کا مقابلہ کرتا ہے یعنی بلند ہونے میں، کیونکہ سامَى کا کیا معنی ہے؟ کس چیز میں مقابلہ کرنا؟ بلندی میں۔ اور اگر میں چاہتا ہوں تو اس اونٹنی کا سر بلندی کے اندر کجاوے کے اگلے حصے کا مقابلہ کرتا ہے یعنی سر خوب ‏اونچا کر لیتی ہے۔ کبھی سر زمین تک لے جاتی ہے جب میں اس کی مہار چھوڑ دیتا ہوں اور کبھی میں مہار کھینچتا ہوں ‏تو سر اونچا کر لیتی ہے اور اس کا سر کجاوے کا مقابلہ کرتا ہے، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ اونچائی کے اندر۔ وَعَامَتْ اور وہ تیرنے لگتی ہے بِضَبْعَيْهَا کس کے ساتھ؟ ہاں ضَبْعٌ نصف بازو کو کہتے ہیں لیکن مراد بازو ہی ہیں بھئی، ‏وہ وہ وہ تیرنے لگتی ہے بِضَبْعَيْهَا اپنے بازوؤں کے ساتھ یعنی اگلے پاؤں کے ساتھ نَجَاءَ الْخَفَيْدَدِ یہ مفعول مفعول مطلق ‏ہے۔ تو وہ تیرنے لگتی ہے اپنے دونوں بازوؤں کے ساتھ اور تیز ہوتی ہے نَجَاءَ الْخَفَيْدَدِ جیسے کہ، ہاں وَعَامَتْ بِضَبْعَيْهَا اور وہ ‏اپنے بازوؤں کے ساتھ تیرنے لگتی ہے نَجَاءَ الْخَفَيْدَدِ نر شتر مرغ کی تیز رفتاری کی طرح۔ وہ تیرنے لگتی ہے نر شتر ‏مرغ کی کی تیز رفتاری کی طرح وہ تیرنے لگتی ہے یعنی خوب اور تیرنے سے مراد ہے دوڑنا بھئی، تیز رفتاری سے ‏دوڑنا۔ اور وہ تیرنے لگتی ہے اپنے دونوں بازوؤں کے ساتھ نَجَاءَ الْخَفَيْدَدِ جیسے کہ نر شتر مرغ تیز دوڑتا ہے۔ معنی ‏سمجھ میں آگیا؟ وَإِنْ شِئْتُ سَامَى وَاسِطَ الْكُورِ رَأْسُهَا وَعَامَتْ بِضَبْعَيْهَا نَجَاءَ الْخَفَيْدَدِ اور اگر میں چاہوں تو سَامَى تو بلندی میں مقابلہ کرنے لگتا ہے اس اونٹنی کا سر کجاوے کے اگلے حصے کا، وَعَامَتْ اور ‏وہ تیرنے لگتی ہے بِضَبْعَيْهَا اپنے دونوں بازوؤں کے ساتھ نَجَاءَ الْخَفَيْدَدِ جس طرح کہ نر شتر مرغ جو ہے تیز دوڑتا ہے، ‏اس کی طرح یہ تیز وہ تیرتی ہے یعنی تیز دوڑتی ہے۔ عَلَى مِثْلِهَا أَمْضِي إِذَا قَالَ صَاحِبِي أَلَا لَيْتَنِي أَفْدِيكَ مِنْهَا وَأَفْتَدِي عَلَى مِثْلِهَا أَمْضِي، مَضَى يَمْضِي کے معنی ہیں چلنا، جانا۔ إِذَا قَالَ صَاحِبِي، صاحب ساتھی، صاحبي میرا ساتھی۔ أَلَا لَيْتَنِي، أَلَا حرف تنبیہ ہے۔ لَيْتَ، لَيْتَ کس لیے آتا ہے؟ تمنا کے لیے۔ أَفْدِيكَ، فَدَى يَفْدِي کے معنی ہیں فدیہ دے کر قیدی کو چھڑانا، مال دے کر کسی کو قید سے چھڑانا۔ مِنْهَا، أَيْ مِنَ الْفَلَاةِ، یہ ھا ضمیر جو مؤنث کی ہے یہ راجع ہے فلاۃ کو۔ ف، ل، ا اور گول تا، ف، ل، ا اور گول تا، فلاۃ۔ ‏اور فلاۃ کہتے ہیں بیابان کو، بیابان اور ایسا ویرانہ جہاں دور دور تک پانی اور سبزے کا نام و نشان نہ ہو۔ فلاۃ کسے ‏کہتے ہیں؟ ایسا بیابان اور ویرانہ جہاں دور دور تک پانی اور سبزے کا نام و نشان نہ ہو۔ اور ذرا آپ تصور کریں، عرب کے جیسا گرم علاقہ ہو اور بیابان ہو، دور دور تک پانی اور سبزے کا نشان نہ ہو، تو سفر ‏کرنے والے کی کیا حالت ہوگی بھئی، کتنی تکلیف میں ہوگا، کتنی مشقت میں ہوگا اور کتنے خوف کے اندر ہوگا کہ کوئی ‏جانور بھی حملہ نہ کر دے اس پر بھئی، تو اس کو اب ذکر کر رہا ہے۔ تو فَدَى يَفْدِي کا کیا معنی؟ مال دے کر کسی کو چھڑانا۔ اور اِفْتَدَى يَفْتَدِي کا معنی ہے اپنی طرف سے مال دینا یعنی مال دے ‏کر اپنے آپ کو چھڑانا۔ فَدَى يَفْدِي دوسرے کو چھڑانا مال دے کر اور اِفْتَدَى يَفْتَدِي اپنے آپ کو مال دے کر چھڑانا۔ عَلَى مِثْلِهَا أَمْضِي إِذَا قَالَ صَاحِبِي أَلَا لَيْتَنِي أَفْدِيكَ مِنْهَا وَأَفْتَدِي عَلَى مِثْلِهَا اس جیسی اونٹنی پر أَمْضِي میں چل پڑتا ہوں إِذَا قَالَ صَاحِبِي جب میرا ساتھی کہتا ہے أَلَا لَيْتَنِي کہ اے کاش أَفْدِيكَ ‏کاش کہ میں تجھے مال دے کر چھڑا لوں مِنْهَا اس ویرانے اور بیابان سے۔ میں تجھے مال دے کر چھڑا لوں اس ویرانے ‏اور بیابان سے وَأَفْتَدِي اور خود بھی مال دے کر اس سے میں چھوٹ جاؤں، معنی سمجھ میں آ رہا ہے؟ شاعر کہنا یہ چاہتا ہے کہ میری اونٹنی بڑی زبردست ہے، اس کے ہوتے ہوئے مجھے کسی قسم کی پروا نہیں ہوتی۔ حتیٰ ‏کہ بیابان اور جنگل کے اندر جبکہ میرے ساتھی خوف کے مارے ان کا برا حال ہو جاتا ہے، ان کا کلیجہ منہ کو آنے لگتا ‏ہے اور اور وہ تنگ آ کر یہ کہنے لگتے ہیں، کاش کہ کہ یہ جو جنگل ہے، یہ جو ویرانہ ہے، جو ختم ہونے میں ہی نہیں آ ‏رہا، جس سے ہماری جان ہی نہیں چھوٹ رہی، یہ ہولناک ویرانہ، کاش کہ میں پیسے دے کر اپنے آپ کو بھی اس سے ‏چھڑا لیتا اور تجھے بھی اس سے چھڑا لیتا، تو اس وقت بھی میں پروا نہیں کرتا، میں اس جیسی اونٹنی پر بیٹھ کر بڑی ‏بےفکری سے چل پڑتا ہوں، یہ مجھے ہر طرح کے خطرات سے نکال کر لے جاتی ہے، معنی سمجھ میں آیا؟ عَلَى مِثْلِهَا أَمْضِي اس جیسی اونٹنی پر میں چل پڑتا ہوں إِذَا قَالَ صَاحِبِي جب میرا ساتھی کہتا ہے أَلَا لَيْتَنِي أَفْدِيكَ مِنْهَا وَأَفْتَدِي، ‏أَلَا سنو لَيْتَنِي کاش کہ أَفْدِيكَ مِنْهَا میں تجھے فدیہ دے کر چھڑا لوں مِنْهَا اس ویرانے اور بیابان سے وَأَفْتَدِي اور میں خود ‏بھی مال دے کر اس سے چھوٹ جاؤں۔ میں نے بتلایا مِنْهَا، ھا ضمیر راجع ہے فلاۃ کو بھئی، جنگل اور بیابان، ویرانہ۔ سوال پیدا ہوتا ہے، یہاں تو فلاۃ پیچھے لفظ گزرا ہی نہیں، تو یہ ضمیر بغیر مرجع کے راجع کر دی؟ مرجع پیچھے گزرا ‏ہی نہیں؟ حالانکہ مرجع کا مقدم ہونا تو ضروری ہے۔ تو جواب یہ کہ مرجع اگرچہ لفظوں میں ذکر نہیں ہوا لیکن سیاق کلام سے سمجھ میں آ رہا ہے۔ کلام کے چلاؤ سے سمجھ ‏میں آ رہا ہے۔ کلام خود اس پر دلالت کر رہا ہے۔ بھئی کلام کیسے دلالت کر رہا ہے جنگل کے اوپر؟ کہتے ہیں بھئی آپ ‏دیکھتے نہیں اونٹنی ہے اس پر سوار ہونے کا ذکر ہے اور چلنے کا ذکر ہے، تو خود بخود ذہن میں کیا آ جاتا ہے؟ جنگل ‏اور بیابان آ جاتا ہے جب اونٹنی پر جا رہا سوار ہے اور سفر کر رہا ہے تو ظاہر سی بات ہے کہاں سے گزرے گا؟ جنگل ‏اور بیابان سے گزرے گا۔ تو گویا یوں کہیں کہ مرجع جو ہے لفظاً تو نہیں مذکور لیکن معناً مذکور ہے، معنی کے اعتبار ‏سے مذکور ہے، سیاق کلام اس پر دلالت کر رہا ہے۔ یہ اسی طرح ہے جیسے قرآن کے اندر اللہ فرماتے ہیں:‏ وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ وَلِأَبَوَيْهِ اور میت کے جو والدین ہیں ان کو سُدُس ملے گا۔ کتنا ملے گا؟ وَلِأَبَوَيْهِ، تو یہ ھا ضمیر میت کو راجع۔ اس پر ‏اشکال پیدا ہوتا ہے کہ پیچھے تو کہیں میت کا ذکر نہیں آیا، تو یہ ھا ضمیر میت کو ذکر راجع ہو گئی بغیر مرجع کے۔ تو ‏جواب یہ کہ بھئی میت کا ذکر اگرچہ لفظوں میں نہیں آیا لیکن معنی کے اعتبار سے آ چکا ہے، اس لیے کیونکہ وراثت کا ‏ذکر چل رہا ہے اور وراثت وہیں پر تقسیم ہوتی ہے جب کیا ہو کوئی میت ہو، کسی کا انتقال ہوا ہو۔ تو یہ ہے مرجع کہ ‏سیاق کلام اس پر کیا کر رہا ہے؟ دلالت کر رہا ہے، وہ سمجھ میں آ رہا ہے۔ آگے دیکھیے بھئی:‏ وَجَاشَتْ إِلَيْهِ النَّفْسُ خَوْفًا وَخَالَهُ مُمَاصًّا وَلَوْ أَمْسَى عَلَى غَيْرِ مَرْصَدِ وَجَاشَتْ إِلَيْهِ النَّفْسُ جَاشَتْ يَجِيشُ جَيْشًا کا معنی ہے ابلنا، جوش مارنا۔ جیسے ہانڈی ابلتی ہے بھئی، جوش مارتی ہے۔ النَّفْسُ، نفس کے بہت سے معانی ہیں بھئی، جان، روح، دل اور بھی بہت سے معانی ہیں۔ یہاں یہ دل کے معنی میں کر لیں۔ ‏دل۔ اچھا خَوْفًا وَخَالَهُ، خَالَ يَخَالُ کے معنی ہیں خیال کرنا، گمان کرنا۔ مُمَاصًّا، مماص جس کو کوئی مصیبت پہنچی ہو، جس پر کوئی آفت آئی ہو، تکلیف آئی ہو، وہ ہے مماص بھئی، مماص۔ ‏اصاب یصیب سے۔ اس میں مفعول ہے بھئی مماص۔ وَلَوْ أَمْسَى، أَمْسَى يُمْسِي کا معنی شام کے وقت میں داخل ہونا۔ غَيْرِ مَرْصَدِ، مرصد کہتے ہیں گھات کو بھئی، گھات۔ بھئی وہ جگہ جہاں دشمن کسی کی تاک میں بیٹھا ہے، اس کے انتظار میں بیٹھا ہے کہ وہ یہاں آئے گا تو میں اس پر حملہ ‏کروں گا، تو کیا کہیں گے اس جگہ کو؟ گھات، کہ دشمن گھات میں بیٹھا ہے اور تاک میں بیٹھا ہے۔ تو وہ جگہ جہاں گھات ‏میں... گھات لگانے کی جگہ، تاک میں بیٹھنے کی جو جگہ ہے، اس کو مرصد کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ مرصد، بھئی۔ وَجَاشَتْ إِلَيْهِ النَّفْسُ خَوْفًا وَخَالَهُ مَصَابًا وَلَوْ أَمْسَى عَلَى غَيْرِ مَرْصَدِ وَجَاشَتْ إِلَيْهِ النَّفْسُ، یہ ترجمہ سمجھ لیں۔ لفظی ترجمہ یہ ہے: وَجَاشَتْ إِلَيْهِ النَّفْسُ، کہ اس کا دل ابل کر یعنی اچھل کر باہر ‏آنے لگتا ہے خَوْفًا، کس وجہ سے؟ خوف کی وجہ سے۔ یہ مفعول لہُ ہے۔ خَوْفًا علت بیان کر رہا ہے۔ جب کسی شخص کا دل خوف کی وجہ سے باہر آنے لگتا ہے، جوش مارتا ہے یعنی باہر آنے لگتا ہے۔ یہ تو عربی ہے، ‏اردو میں کہیں گے جب خوف کی وجہ سے کسی کا دل دہل جاتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ ویسے اردو میں بھی استعمال ‏کرتے ہیں آپ، کہ دل خوف کی وجہ سے اوپر کو آنے لگا۔ اردو میں کیسے کہتے ہیں؟ "میرا دل اچھل کر حلق میں آ گیا۔" ‏کہتے ہیں یا نہیں؟ کیا معنی ہوتا ہے؟ یعنی اپنی جگہ سے اوپر آ گیا، جیسے ہانڈی جوش مارتی ہے، اس کا پانی وغیرہ ہے ‏اوپر آتا ہے، تو دل بھی اوپر کی طرف آیا اور یہ خوف کی حالت میں ہوتا ہے۔ یا اردو میں دوسرا لفظ بھی بولتے ہیں ‏‏"کلیجا منہ کو آنا"۔ دیکھو، کلیجا منہ کو آنا، اوپر تک کی طرف آنا، یہ تعبیر کیا جاتا ہے سخت خوف کو بیان کرنے کے ‏لیے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ وَجَاشَتْ إِلَيْهِ النَّفْسُ، اور جوش مارتا ہے، کون جوش مارتا ہے؟ النَّفْسُ، دل جو ہے، إِلَيْهِ، کس کی طرف؟ إِلَيْهِ، یہ هـ ضمیر ‏راجع ہے نفس کو۔ إِلَيْهِ، توجہ ہے؟ یہ راجع ہے نفس کو۔ اس پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ نفس تو مؤخر ہے اور ضمیر پہلے ‏ہے، یہ تو اضمار قبل الذکر ہو گیا۔ تو جواب گزر چکا کہ نفس کا لفظ، لفظوں میں اگرچہ مؤخر ہے لیکن یہ فاعل ہے اور ‏فعل کے فوراً بعد کس کا مقام ہوتا ہے؟ فاعل کا۔ تو نفس اس وقت بظاہر یہاں پر ہے، إِلَيْهِ کے بعد ہے، لیکن رتبے اور مقام ‏کے اعتبار سے یہ إِلَيْهِ پر مقدم ہے۔ تو اس اعتبار سے ضمیر کا لوٹانا اس کی طرف ٹھیک ہے، بھئی۔ یعنی یوں کہیں، یہ ‏اضمار قبل الذکر لفظاً تو ہے لیکن رتبۃً نہیں۔ اگر ہر اعتبار سے یہ اضمار قبل الذکر ہوتا پھر جائز نہ ہوتا، لیکن یہ تو ‏صرف لفظاً اضمار قبل الذکر ہے، رتبۃً نہیں ہے، یہ جائز ہے۔ اچھا، تو جوش مارنے لگتا ہے۔ تو یوں کریں، النَّفْسُ کو ذرا إِلَيْهِ پر مقدم کر لیں۔ وَجَاشَتِ النَّفْسُ إِلَيْهِ، اور دل جو ہے جوش ‏مارتا ہے إِلَيْهِ، أي: إِلَى صَاحِبِ النَّفْسِ۔ إِلَيْهِ کی هـ ضمیر کس کو لوٹائی؟ هـ ضمیر، هـ ضمیر، نفس کو۔ دل جوش مارتا ہے، ‏کس کی طرف؟ دل کی طرف؟ بھئی یہاں مضاف محذوف ہے، أي: إِلَى صَاحِبِ النَّفْسِ۔ دل دل کی طرف جوش نہیں مارتا، ‏دل صاحبِ دل کی طرف جوش مارتا ہے، یعنی صاحبِ دل میں اوپر کو آتا ہے۔ جو میں نے تعبیر کیا، جیسے ہانڈی کیا ہے ‏ابلی ہے اس کا پانی اوپر کو آتا ہے، تو دل بھی گویا خوف کی وجہ سے اچھل کر اوپر کو آتا ہے۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟ تو إِلَيْهِ دراصل کیا ہے؟ إِلَى صَاحِبِهِ۔ اور دل جوش مارتا ہے صاحبِ دل کی طرف یعنی جوش مار کر اوپر آتا ہے خَوْفًا، ‏خوف کی وجہ سے، وَخَالَهُ، اور وہ شخص جو ہے وہ گمان کرنے لگتا ہے اپنے بارے میں، خَال َ گمان کرتا ہے، کون ‏گمان کرتا ہے؟ وہی صاحبِ دل یا وہ میرا ساتھی جس کا پیچھے ذکر ہوا، وہ وہ آدمی کیا کرتا ہے؟ خیال کرتا ہے۔ هُ، خَالَهُ، ‏یہ هـ ضمیر، یہ بھی اسی کو راجع، کس کے بارے میں گمان کرتا ہے؟ اپنے بارے میں۔ مثلاً دیکھو، خَالَ، خیال کرتا ہے، کون کرتا ہے؟ مثلاً زید کو ضمیر راجع ہے فرض کرو، زید، کون خیال کرتا ہے؟ خَالَ ‏کے اندر هُوَ ضمیر فاعل کی جو کس کو راجع؟ زید۔ اور یہ خَالَهُ، یہ هـ ضمیر جو ساتھ جڑی ہوئی ہے، یہ بھی کس کو ‏راجع؟ زید۔ تو اردو میں کیا کہیں گے؟ "زید خیال کرتا ہے هُ، اس کے بارے میں یا اپنے بارے میں؟" اپنے، اردو میں پھر ‏وہاں "اپنے" کا لفظ لے آتے ہیں۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو جب اس، جب کسی، یوں ترجمہ کر لیں: وَجَاشَتْ إِلَيْهِ النَّفْسُ خَوْفًا، اور جب کسی شخص کا دل خوف کی وجہ سے دہل ‏جاتا ہے، وَخَالَهُ، اور وہ اپنے بارے میں یہ گمان کرنے لگتا ہے مَصَابًا، کہ اس پر آفت آ گئی ہے، اس پر مصیبت آ گئی ‏ہے، وَلَوْ أَمْسَى، یہ لَوْ وصلیہ ہے، جیسے اِن وصلیہ، اس کا ترجمہ کس کے ساتھ کرتے ہیں؟ "اگرچہ"، اس کا ترجمہ بھی ‏اگرچہ کے ساتھ ہو گا۔ وَلَوْ، اگرچہ أَمْسَى، اگرچہ وہ شخص شام میں داخل ہو، شام کے وقت میں داخل ہو عَلَى غَيْرِ مَرْصَدِ، ‏ایسی جگہ پر جو کہ گھات کی جگہ بھی نہ ہو، أي: عَلَى طَرِيقٍ غَيْرِ مَرْصَدٍ، ایسا راستہ جو گھات کی جگہ بھی نہ ہو۔ شاعر کہنا یہ چاہتا ہے، ادھر سنیے، شاعر کہنا یہ چاہتا ہے کہ جب کبھی اگر ہم بیابان میں کسی، ایسا ویرانہ ہو کہ میرے ‏ساتھیوں، میرے ساتھی جو ہیں اس بیابان اور ویرانے کی ہیبت ان پر طاری ہو جائے اور وہ ڈر کر کہیں "کاش اس بیابان ‏سے جان چھڑانے کی کوئی صورت ہوتی تو میں اپنی طرف سے بھی پیسے دے دیتا، تمہاری طرف سے بھی پیسے دے ‏دیتا اور اس ویرانے سے ہم چھوٹ جاتے"، کہتے ہیں اس وقت بھی میں فکر نہیں کرتا، میں اس اونٹنی پر چل پڑتا ہوں ‏اور جب خوف کا، اسی طرح جب خوف کا ایسا عالم ہو کہ جب دل دہل جائیں، دل اچھل کر حلق میں آ جائیں خوف کی وجہ ‏سے، اور سارے ساتھی یہ سمجھنے لگیں کہ اب تو ہم پر آفت آ گئی، اب تو ہمارے بچنے کی کوئی صورت نہیں، ایسا ‏ویرانہ ایسا بیابان ہے کہ جس سے چھوٹنے کی کوئی صورت نہیں، جو ختم ہی نہیں ہو رہا، نہ کہیں سبزہ نظر آ رہا ہے نہ ‏کہیں پانی نظر آ رہا ہے، وَلَوْ أَمْسَى عَلَى غَيْرِ مَرْصَدِ، اگرچہ وہ شام کرے، اگرچہ وہ ساتھی کیا کرے؟ شام کرتا ہے، یعنی ‏شام کے وقت داخل ہوتا ہے عَلَى غَيْرِ مَرْصَدِ، کس پر؟ ایسے راستے پر جو گھات لگانے کی جگہ بھی نہ ہو، یعنی وہاں پر ‏کوئی دشمن بھی موجود نہیں ہوتا جو گھات لگا کر بیٹھا ہو کہ اس کا خوف ہو، یعنی دشمن وغیرہ کا بھی خوف نہیں ہوتا، ‏ویرانے اور جنگل کا خوف اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ ان کے دل اچھل کر حلق میں آ جاتے ہیں اور وہ کہتے ہیں "اب تو ہم ‏مصیبت میں پھنس گئے، اب تو کوئی راستہ مل ہی نہیں رہا، راستہ گم ہو چکا ہے، کہیں پانی نہیں، کہیں سبزہ نہیں"، تو ‏بھی میں اس وقت بے فکر رہتا ہوں کیونکہ میرے پاس یہ اونٹنی ہے، میں اس پر چل پڑتا ہوں۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟ تو اس شعر کو پچھلے شعر کے ساتھ جوڑیں، پورا پھر ترجمہ سمجھ میں آئے گا۔ عَلَى مِثْلِهَا أَمْضِي إِذَا قَالَ صَاحِبِي ... أَلَا لَيْتَنِي أِفْدِيِکَ مِنْهَا وَأَفْتَدِي اس جیسی اونٹنی پر میں چل پڑتا ہوں جس وقت میرا ساتھی کہتا ہے کہ سنو، کاش کہ میں فدیہ دے کر تجھے چھڑا لیتا اس ‏بیابان اور ویرانے سے اور خود بھی فدیہ دے کر چھوٹ جاتا، وَجَاشَتْ إِلَيْهِ النَّفْسُ خَوْفًا، اور جبکہ دل خوف کی وجہ سے ‏دہل جائیں، وَخَالَهُ مَصَابًا، اور وہ شخص خیال کرنے لگے اپنے بارے میں کہ اس پر تو آفت آ گئی ہے، مصیبت آ چکی ‏ہے، وَلَوْ أَمْسَى عَلَى غَيْرِ مَرْصَدِ، اگرچہ اس نے شام کی ہوتی ہے ایسے راستے پر جس پر کوئی گھات کی جگہ بھی نہ ہو، ‏تو بھی، یعنی صرف جنگل اور ویرانے کا خوف ہوتا ہے، کسی دشمن کا خوف نہیں ہوتا، تو بھی میں بے فکر رہتا ہوں۔ ‏معنی سمجھ میں آ گیا؟ وَخَالَهُ بھئی دیکھیے، خَالَ، خَالَ يَخَالُ، یہ افعالِ قلوب میں سے ہے۔ اور خَالَ کے اندر هُوَ ضمیر ہے فاعل کی، جیسے ضَرَبَ کے ‏اندر کون سی ضمیر ہے؟ هُوَ، اسی طرح خَالَ کے اندر بھی هُوَ ضمیر ہے فاعل کی، اور جو ماقبل میں وہ جو صاحبِ نفس ‏کا ذکر آیا اس کی طرف راجع ہے، یا پیچھے جو صاحِبِي آیا اس کی طرف راجع ہے۔ وہ شخص خیال کرتا ہے، یا میرا وہ ‏ساتھی خیال کرتا ہے۔ تو یہ فاعل کی ضمیر اس کو راجع، اسی طرح خَالَهُ کے ساتھ یہ جو هـ ضمیر ہے مذکر کی، مفعول کی بھئی، خَالَهُ، اس کو ‏هُو ضمیر نہ پڑھنا بھئی، عموماً طلبہ اس کو هُو ضمیر پڑھتے ہیں بھئی۔ میں نے بتایا تھا کہ وہ کلمہ جو ایک حرف پر ‏مشتمل ہو، کلمہ کسے کہتے ہیں؟ با معنی لفظ، وہ لفظ جس کا کچھ معنی ہو اس کو کیا کہتے ہیں؟ کلمہ، اور ضمیر بھی اس ‏کا بھی کوئی معنی ہوتا ہے یا نہیں؟ وہ بھی کسی ذات پر دلالت کرتی ہے۔ تو یہ خَالَهُ کے ساتھ جو هـ ضمیر ہے، یہ ضمیر ‏ہے اور یہ کلمہ ہے، اور وہ کلمہ جو ایک حرف پر مشتمل ہو، اور یہ خَالَهُ کی هـ ضمیر بھی ایک حرف پر مشتمل ہے، تو ‏جو کلمہ ایک حرف پر مشتمل ہو اور آپ اس کا نام لینا چاہتے ہوں، اسے ذکر کرنا چاہتے ہوں، تو اس کا وہ نام لیتے ہیں ‏جو حروفِ تہجی کے اندر ہے۔ تو حروفِ تہجی میں اس حرف کو کیا کہتے ہیں؟ ہا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو آپ یہ نہ ‏کہیں کہ پھر مؤنث والی بھی تو ہا ضمیر ہوتی ہے ہا اور الف کے ساتھ، اور یہ مذکر والی صرف ہا ہے، پھر تو فرق ہی ‏نہیں ہو گا۔ یہ بھی ہا اور وہ بھی ہا، بھئی فرق کیوں نہیں ہو گا؟ ہا ضمیر سامنے لکھی ہوئی ہے یا بولتے ہوئے پتہ لگ ‏جائے گا کہ مذکر کی ضمیر مراد ہے یا مؤنث کی ضمیر مراد ہے۔ جہاں ضمیر آئے گی تو سننے والے کو پتہ لگ جائے ‏گا کہ ضمیر کی بات ہو رہی ہے، مذکر کی یا مؤنث کی۔ تو یہ، تو خَالَ کے اندر هُوَ ضمیر فاعل کی ہے جو کس کو راجع؟ صاحبِ نفس کو، اور هـ ضمیر یہ بھی اسی صاحبِ نفس ‏کو راجع ہے۔ تو با الفاظِ دیگر، دیکھو خَالَ ہے افعالِ قلوب میں سے، فاعل بھی وہی ذات جو مفعول ہے۔ کیا ہے؟ خَالَ، هُوَ ‏ضمیر سے بھی وہی صاحبِ نفس مراد، اور هـ ضمیر جو مفعول کی آ گئی ساتھ اس سے بھی وہی ذات مراد ہے۔ تو یاد رکھیے، اگر کسی فعل کے اندر فاعل اور مفعول کی ضمیریں ایک ہی ذات کو لوٹ رہی ہوں یہ پسندیدہ نہیں، وہاں ‏پھر نفس وغیرہ کا لفظ لے آتے ہیں۔ کیا لے آتے ہیں؟ مثلاً آپ کہنا چاہتے ہیں کہ زید نے اپنی پٹائی کی۔ پیچھے زید کا ذکر ‏آیا تھا، آگے آپ کہنا چاہتے ہیں زید نے اپنی پٹائی کی۔ تو ضَرَبَ، اس کے اندر هُوَ ضمیر، کس کو راجع؟ زید کو۔ اور آگے ‏آپ مفعول بھی جوڑ، مفعول بھی آپ جوڑنا چاہتے ہیں، وہ بھی زید کو ضمیر لوٹانا چاہتے ہیں، تو ضَرَبَهُ، زید غائب ہے ‏نا، ہا ضمیر لوٹائیں گے۔ تو یوں نہیں کہہ سکتے عربی میں کہ ایک ہی، کہ ایک ہی ذات فاعل بھی ہو اور مفعول، یعنی دو ‏ضمیریں ہوں اور فاعل اور مفعول کی اور دونوں ایک ہی ذات کی طرف لوٹ رہی ہوں، یہ عربی میں پسندیدہ نہیں، تو اس ‏صورت میں پھر درمیان میں نفس کا لفظ لے آتے ہیں۔ تو پھر یوں کہیں گے: ضَرَبَ نَفْسَهُ، ضَرَبَ زَيْدٌ نَفْسَهُ، صورت سمجھ ‏میں آ گئی؟ دیکھو، زید نے اپنی ذات کی پٹائی کی، ضَرَبَ، پٹائی کی اس نے، یعنی کس نے؟ زید نے، کس کی؟ نَفْسَهُ، اپنی ‏ذات کی۔ تو اس، یا جیسے میں کہنا چاہتا ہوں، "میں نے اپنی پٹائی کی"، تو ضَرَبْتُ، میں نے پٹائی کی، اپنی، ضَرَبْتُنِي، ‏نہیں، یوں نہیں کہیں گے، کیونکہ تاء ضمیر جو فاعل ہے اور مفعول ہے، دونوں ایک ہی ذات مراد ہے اس سے، تو اس ‏صورت میں پھر کیا لفظ درمیان میں لے آتے ہیں؟ نفس، تو کیسے کہتے ہیں؟ ضَرَبْتُ نَفْسِي، میں نے اپنی ذات کی پٹائی ‏کی، یعنی میں نے اپنی پٹائی کی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو فاعل اور مفعول کی ضمیریں ایک ہی ذات مراد ہوں یہ پسندیدہ ‏نہیں، ہاں افعالِ قلوب میں یہ، افعالِ قلوب میں یہ جائز ہے، جیسے یہاں آپ دیکھ رہے ہیں خَالَهُ۔ تو یہ صرف افعالِ قلوب کے اندر جائز ہے بھئی، یہاں تو خَالَهُ میں هـ ضمیر جو ہے یہ اس کے لیے مفعولِ اول ہے اور ‏مَصَابًا یہ کیا ہے؟ مفعولِ ثانی ہے بھئی، مفعولِ ثانی ہے۔ تو افعالِ قلوب چونکہ دو مفعول چاہتے ہیں، تو صرف ان کے ‏اندر یہ جائز ہے کہ ایک ہی ذات کی ضمیر فاعل بھی بنے اور اسی ذات کی ضمیر مفعول بھی بن جائے، ہاں مفعول کے ‏اندر یہ جائز نہیں ہے بھئی۔ افعالِ قلوب جانتے ہیں نا، جن کا تعلق قلب سے ہوتا ہے، جن میں اعضاء کا دخل نہیں ہوتا، تو ‏خَالَ، خیال کرنا، دیکھو خیال کرنا، فکر کرنا، سوچنا، اس میں صرف ذہن کا تعلق ہے، قلب کا تعلق ہے، جوارح اور ‏اعضاء کا تعلق نہیں ہے۔ تو افعالِ قلوب دو مفعول چاہتے ہیں بھئی، تو خَالَهُ، یہ هـ ضمیر اس کے لیے مفعولِ اول ہے اور مَصَابًا یہ مفعولِ ثانی ہے۔ بات سب کو سمجھ میں آ گئی اچھی طرح؟ چلیے، بس بھئی، هذا هو المرام، والله اعلم بحقیقة الکلام۔