آگے دیکھیے بھئی سبق۔ وَمَنْ یَّجْعَلِ الْمَعْرُوفَ مِنْ دُونِ عِرْضِهِ یَفِرْهُ وَمَنْ لَّا یَتَّقِ الشَّتْمَ یُشْتَمِ وَمَنْ یَّكُ ذَا فَضْلٍ فَیَبْخَلْ بِفَضْلِهِ عَلَى قَوْمِهِ یُسْتَغْنَ عَنْهُ وَیُذْمَمِ وَمَنْ يُّوفِ لَا يُذْمَمْ وَمَنْ يُّهْدَ قَلْبُهُ إِلَى مُطْمَئِنِّ الْبِرِّ لَا يَتَجَمْجَمِ تو شاعر نے اپنے اس قصیدے کے اندر شروع میں تشبیب کی بھئی۔ اور اپنے عشق و محبت کو ذکر کیا، اور جوانی کے ‏ایام کا ذکر کیا۔ پھر اس کے بعد دو سرداروں کی تعریف شروع کی، جنہوں نے جنگ کو ختم کروا دیا تھا عبس اور ذبیان ‏کے درمیان۔ ان کی مدح و تعریف کی اور پھر اس کے بعد جنگ کی ہولناکیاں ذکر کیں اور لوگوں کو منع کیا کہ دیکھو، اب ‏تم میں سے کوئی غداری نہ کرے، پھر جنگ کی آگ نہ بھڑکائے۔ جنگ کی خوفناک شعلوں کا تم اپنی آنکھوں سے مشاہدہ ‏کر چکے ہو۔ اور پھر اس کے بعد اب اپنی زندگی کے کچھ قیمتی تجربات جو ہے، ان کو ذکر کر رہا ہے، نصیحتیں کر رہا ‏ہے، کچھ قیمتی باتیں بیان کر رہا ہے۔ آگے کہتا ہے:‏ وَمَنْ یَّجْعَلِ الْمَعْرُوفَ مِنْ دُونِ عِرْضِهِ یَفِرْهُ وَمَنْ لَّا یَتَّقِ الشَّتْمَ یُشْتَمِ معروف بھئی، معروف نیکی کو کہتے ہیں، نیکی، احسان۔ احسان، اردو میں تو احسان کا لفظ عموماً بڑی نیکی کے لیے ‏استعمال ہوتا ہے بھئی، بڑی نیکی نہیں، احسان ہر نیکی کو احسان کہتے ہیں بھئی، ہر نیکی کو۔ معروف اور احسان۔ مِنْ دُونِ عِرْضِهِ، دُونَ کئی معانی کے لیے آتا ہے بھئی، غیر اور علاوہ کے معنی کے لیے بھی آتا ہے، غیر یا اسی طرح ‏علاوہ۔ اسی طرح دُونَ کا معنی ہے سامنے یا پہلے یا راستے میں۔ عِرْضٌ، عِرْض کہتے ہیں عزت کو بھئی، عزت۔ یَفِرْهُ، وَفَرَ یَفِرُ کے معنی ہیں بڑھنا، بڑھنا، کسی چیز کا زیادہ ہونا۔ اور یہ متعدی بھی استعمال ہوتا ہے، اس کا معنی بڑھنا ‏بھی اور بڑھانا بھی۔ تو لازمی بھی استعمال ہوتا ہے اور متعدی بھی۔ اور یہاں پر کیا استعمال ہو رہا ہے، لازم ہے یا ‏متعدی ہے؟ جی؟ بھئی دیکھو فوراً یہ ہَا ضمیر ساتھ جڑی ہوئی ہے، فوراً پتہ چل گیا کہ یہاں متعدی استعمال ہو رہا ہے۔ لغت بھی اپ اٹھائیں گے، اکثر جگہ اس طرح ہَا ضمیر ساتھ جوڑ دیتے ہیں، بتلانا یہ ہوتا ہے کہ یہ فعل متعدی ہے۔ یہ فعل ‏کیا ہے؟ ہاں، تو لغت میں بھی کبھی کسی فعل کا معنی ڈھونڈتے ہیں، ساتھ ضمیر جڑی ہوتی ہے، وہ بتلانا مقصد یہی ہوتا ‏ہے کہ یہ فعل متعدی ہے، اس کے لیے مفعول آتا ہے۔ وَمَنْ لَّا یَتَّقِ الشَّتْمَ یُشْتَمِ، اِتَّقَى یَتَّقِي کے معنی بچنا، ڈرنا۔ شَتْمٌ، شَتَمَ یَشْتُمُ شَتْمًا کے معنی ہیں گالی دینا۔ باب نَصَرَ سے ہے، شَتَمَ ‏یَشْتُمُ۔ وَمَنْ یَّجْعَلِ الْمَعْرُوفَ مِنْ دُونِ عِرْضِهِ یَفِرْهُ وَمَنْ لَّا یَتَّقِ الشَّتْمَ یُشْتَمِ شاعر زہیر ابن ابی سلمیٰ نصیحتیں کر رہا ہے بھئی، قیمتی باتیں بیان کر رہا ہے۔ وَمَنْ یَّجْعَلِ الْمَعْرُوفَ مِنْ دُونِ عِرْضِهِ، ‏اور جو کر دیتا ہے نیکی کو مِنْ دُونِ عِرْضِهِ، میں نے بتلایا دُونَ کا کیا معنی ہے؟ علاوہ اور غیر بھی اور پہلے یا راستے ‏میں یا سامنے۔ تو یہاں ترجمہ کر لیں سامنے، مِنْ دُونِ عِرْضِهِ، اپنی عزت کے سامنے۔ جو نیکی کو کر دیتا ہے اپنی عزت ‏کے سامنے، یا اس کا معنی کر لیں راستے میں، اور جو کوئی نیکی کو کر دیتا ہے اپنی عزت کے راستے میں، یا اپنی ‏عزت سے پہلے، یا اپنی عزت کے سامنے، یعنی نیکی کو آڑ اور رکاوٹ بنا دیتا ہے اپنی عزت کے لیے۔ معنی سمجھ میں ‏آیا؟ نیکی کو آڑ اور رکاوٹ بنا دیا اپنی عزت کے لیے، یعنی عزت سے پہلے کیا لے آیا؟ اپنی عزت کے لیے درمیان میں ‏کس کو لے آیا؟ نیکی کو لے آیا، تو دیکھا، عزت سے پہلے، عزت کے سامنے کس کو لے آیا؟ نیکی کو۔ تو کہتے ہیں: وَمَنْ یَّجْعَلِ الْمَعْرُوفَ مِنْ دُونِ عِرْضِهِ، اور جو کوئی نیکی کو کر دیتا ہے اپنی عزت کے سامنے یا اپنی یعنی ‏اپنی عزت کے لیے آڑ بنا لیتا ہے، یَفِرْهُ، تو وہ اپنی اس عزت کو بڑھا لیتا ہے۔ وہ اپنی عزت کو بڑھا لیتا ہے۔ معنی یہ ہے، ‏جو شخص لوگوں کے ساتھ نیکیاں کرتا ہے، اچھائیاں کرتا ہے، حسنِ سلوک کرتا ہے، تو اس نے گویا اپنی عزت کے لیے ‏نیکیوں کو رکاوٹ بنا لیا۔ ہر شخص پر اس کے احسانات ہیں، ہر شخص کے ساتھ اس نے نیکی کی ہے، تو ہر شخص اس ‏کی عزت کرے گا۔ دیکھا، اس نے اپنی عزت کے لیے کس کو آڑ بنا لیا؟ نیکیوں کو آڑ بنا لیا، اب کوئی اس کی بے عزتی ‏نہیں کرے گا، کوئی اس کو برا بھلا نہیں کہے گا، ہر شخص اس کی تعریف کرے گا۔ یہ معنی ہے نیکیوں کو عزت کے ‏لیے آڑ بنا لینا۔ یعنی ہر ایک کے ساتھ کیا کرنا؟ اچھا سلوک کرنا تاکہ وہ اس کی عزت کرے، اس سے محبت کرے۔ وَمَنْ یَّجْعَلِ الْمَعْرُوفَ مِنْ دُونِ عِرْضِهِ یَفِرْهُ، اور جو کوئی نیکی کو اپنی عزت کے لیے آڑ بنا لیتا ہے، یَفِرْهُ، تو وہ اپنی اس ‏عزت کو بڑھا لیتا ہے، وَمَنْ لَّا یَتَّقِ الشَّتْمَ یُشْتَمِ، اور جو کوئی بچتا نہیں ہے گالی دینے سے، یُشْتَمِ، تو اس کو گالی دی جاتی ‏ہے۔ جو دوسروں کو گالی دینے سے نہیں بچتا، اس کو گالیاں دی جاتی ہیں۔ جو دوسروں کی بے عزتی کرتا ہے، تذلیل کرتا ‏ہے، برا بھلا کہتا ہے، گالیاں دیتا ہے، لوگ بھی اس کے لیے دل میں نفرتیں رکھتے ہیں، اس کو برا بھلا کہتے ہیں، اس ‏کی بے عزتی کا موقع ڈھونڈتے ہیں۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟ وَمَنْ یَّجْعَلِ الْمَعْرُوفَ مِنْ دُونِ عِرْضِهِ یَفِرْهُ وَمَنْ لَّا یَتَّقِ الشَّتْمَ یُشْتَمِ، اور جو کوئی نیکی کو اپنی عزت کے لیے رکاوٹ بنا لیتا ‏ہے، یَفِرْهُ، وہ اپنی عزت کو بڑھا لیتا ہے، وَمَنْ لَّا یَتَّقِ الشَّتْمَ یُشْتَمِ، اور جو کوئی گالی دینے سے نہیں بچتا، یُشْتَمِ، اس کو ‏گالی دی جاتی ہے۔ وَمَنْ یَّكُ ذَا فَضْلٍ فَیَبْخَلْ بِفَضْلِهِ عَلَى قَوْمِهِ یُسْتَغْنَ عَنْهُ وَیُذْمَمِ وَمَنْ یَّكُ ذَا فَضْلٍ، فضل کہتے ہیں مقام اور مرتبے کو۔ مقام اور مرتبے کو۔ لیکن آگے آ رہا ہے فَیَبْخَلْ بِفَضْلِهِ، وہ اپنے فضل ‏میں بخل کرتا ہے۔ اب مقام اور مرتبے میں تو بخل نہیں ہو سکتا، معلوم ہوا یہاں فضل کا دوسرا معنی کرنا پڑے گا۔ فضل ‏کا ایک معنی آتا ہے ضرورت سے زائد مال، جو ضرورت سے بچ جائے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ فضل।‏ معلوم ہوا یہ معنی ‏یہاں کرنا پڑے گا۔ عَلَى قَوْمِهِ یُسْتَغْنَ عَنْهُ، اِسْتَغْنَى یَسْتَغْنِي کے معنی ہیں بے نیاز ہونا، بے پروا ہونا۔ یُذْمَمْ، ذَمَّ یَذُمُّ کے معنی ہیں مذمت کرنا، ‏مذمت کرنا، برائی، خرابی بیان کرنا۔ وَمَنْ یَّكُ ذَا فَضْلٍ، وَمَنْ یَّكُ، یہ اصل میں تھا مَنْ یَّكُنْ، کَانَ یَکُونُ۔ اور کَانَ یَکُونُ پر جزم آ گیا، تو نون بھی ساکن ہوا۔ اور واؤ ‏تو پہلے ہی ساکن تھا، مَنْ یَّکُونْ۔ تو اجتماعِ ساکنین آیا عَلَى غَیْرِ حَدِّهِ، اور اس صورت میں اگر اول مدہ ہو، اس کو حذف ‏کرتے ہیں۔ اور اگر مدہ نہ ہو، تو پھر اس کو حرکت دیتے ہیں۔ تو یہاں اول مدہ واؤ حرفِ مدہ تھا، اس کو گرا دیا، تو کیا بن ‏گیا؟ مَنْ یَّکُنْ۔ اور پھر یہ جو نون آخر میں ساکن ہو، اس کو کبھی کبھار تخفیف کے طور پر حذف بھی کر لیتے ہیں، ‏کیونکہ یہ کثیر الاستعمال ہے۔ کلامِ عرب میں کثرت سے استعمال ہوتا ہے، اور کثرتِ استعمال تقاضا کرتی ہے خفت کا، ‏کہ لفظ کو ہلکا ہونا چاہیے، آسانی سے ادا ہونا چاہیے، بار بار اس کو ادا کرنا پڑتا ہے۔ تو لہٰذا پھر کبھی کبھار نون کو بھی ‏حذف کر دیتے ہیں، تو کیسے پڑھیں گے؟ وَمَنْ یَّكُ ذَا فَضْلٍ۔ لیکن یاد رکھیے، یہ نون، یہ نون کب حذف کریں گے، میں نے کیا بتلایا؟ جزم کی حالت میں۔ لیکن جزم کی حالت کے ساتھ ‏ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ اس نون پر عارضی حرکت بھی نہ آئے۔ اگر عارضی حرکت بھی آ رہی ہو، تو بھی اس کو ‏حذف کرنا جائز نہیں۔ مثلاً اگر آگے اَلرَّجُلُ ہوتا، الف لام والا کوئی بھی لفظ آتا، تو پھر الف لام میں ہمزہ وصلی ہے، وہ گر ‏جائے گا۔ تو آگے لام بھی ساکن اور ماقبل میں نون بھی ساکن، تو پھر کیا کریں گے؟ حرکت دینی پڑے گی۔ تو کیسے ‏پڑھیں گے؟ مثلاً کوئی اور مثال لے رہے ہیں، لَمْ یَکُنِ الرَّجُلُ قَائِمًا۔ لَمْ یَکُنِ الرَّجُلُ، دیکھو یہاں نون کو کسرہ کی حرکت دینا ‏پڑی، تو جب حرکت دینا پڑے، تو پھر اب اس نون کو حذف کرنا جائز نہیں۔ تو حذف صرف اسی وقت کریں گے جب یہ ‏ساکن مجزوم ہو، ساکن ہو، اور کسی قسم کی کوئی حرکت اس پر نہ ہو۔ وَمَنْ یَّكُ ذَا فَضْلٍ، اور جو شخص جو ہے فضل والا ہو، یعنی ضرورت سے زائد مال والا ہو، جس کے پاس ضرورت سے ‏زائد مال ہو، یعنی جس کے پاس کثیر مال ہو۔ کیا مراد ہے؟ کیا معنی ہے؟ جس کے پاس کثیر مال ہو۔ ضرورت سے زائد ‏مال اسی کے پاس ہو گا نا جس کے پاس کیا ہو؟ کثیر ہو۔ وَمَنْ یَّكُ ذَا فَضْلٍ فَیَبْخَلْ بِفَضْلِهِ، اور جو شخص کثیر مال والا ہو، فَیَبْخَلْ بِفَضْلِهِ، پھر وہ بخل کرے اپنے کثیر مال میں۔ ایک ‏تو کثیر مال ہے، پھر اس میں کیا کرتا ہے؟ بخل بھی کرتا ہے عَلَى قَوْمِهِ، اپنی قوم پر، اپنے لوگوں پر وہ بخل بھی کرتا ‏ہے، خرچ بھی نہیں کرتا، کوئی حاجت مند ہے، کوئی ضرورت مند ہے، کسی کے کام نہیں آتا، کسی کی مدد نہیں کرتا۔ یُسْتَغْنَ عَنْهُ، تو اس سے بے نیازی کی جاتی ہے، بے پروائی اس کی کی جاتی ہے، وَیُذْمَمِ، اور اس کی مذمت کی جاتی ہے۔ ‏بھئی، جس شخص کے پاس کثیر مال ہے اور پھر بھی وہ بخل کرتا ہے اپنے لوگوں پر، کسی بھی موقع پر خرچ نہیں ‏کرتا، یُسْتَغْنَ عَنْهُ، لوگ بھی اس سے کیا کرتے ہیں؟ بے نیازی کرتے ہیں، اس کی پروا ہی نہیں کرتے بھئی، اور دوسرے ‏لوگوں کی طرف رخ کرتے ہیں۔ وَیُذْمَمِ، اور اس کی مذمت کرتے ہیں، برائی کرتے ہیں کہ دیکھو کیسا آدمی ہے، اللہ نے ‏مال دیا ہے سارا کچھ، لیکن مجال ہے کہ کسی اور پر خرچ کر دے، کسی اور کے کام آ جائے بھئی۔ معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ وَمَنْ یَّكُ ذَا فَضْلٍ فَیَبْخَلْ بِفَضْلِهِ عَلَى قَوْمِهِ یُسْتَغْنَ عَنْهُ وَیُذْمَمِ اور جو کوئی کثیر مال والا ہو، پس وہ بخل کرے اپنے کثیر مال میں عَلَى قَوْمِهِ، اپنی قوم پر، یُسْتَغْنَ عَنْهُ، تو اس سے بے ‏نیازی کی جاتی ہے، اس کی پروا بھی نہیں کی جاتی، وَیُذْمَمِ، اور اس کی مذمت کی جاتی ہے۔ وَیُذْمَمِ، آپ نے پڑھا ہے کہ مضاعف کے اندر، مضاعف کے اندر جہاں جزم آئے، وہاں فتحہ بھی پڑھ سکتے ہیں، کسرہ ‏بھی پڑھ سکتے ہیں اور فکِ ادغام بھی۔ جیسے فَرَّ یَفِرُّ، فَرَّ یَفِرُّ امر اس سے کیا آئے گا؟ فِرَّ، فِرِّ اور اِفْرِرْ۔ فتحہ بھی پڑھیں ‏گے، کسرہ بھی اور فکِ ادغام بھی۔ فکِ ادغام کا معنی ادغام کو توڑ دینا، ادغام کو توڑ دیا بھئی، اِفْرِرْ۔ فتحہ پڑھا، کیونکہ ‏فتحہ اَخَفُّ الْحَرَکَاتِ ہے۔ اور بھئی دیکھیے، فتحہ کیوں پڑھا؟ اصل میں تھا اِفْرِرْ، فَرَّ یَفِرُّ ہے نا، ضَرَبَ سے ہے۔ اِضْرِبْ، اِضْرِبْ۔ پھر دو حرف ‏ایک جنس والے آئے، اور پہلی را کیا ہے؟ متحرک۔ اس را کی حرکت فا کو دے دی، اور را کا را میں ادغام کر دیا۔ اب ‏جب فا متحرک ہو گئی، اب شروع میں ہمزہِ وصل کی ضرورت رہی؟ نہیں، تو وہ گرا دیا۔ اب فِرّ، فِرّ بن گیا اور دو را ہیں، ‏اجتماعِ ساکنین آ رہا ہے اور کون سا اجتماعِ ساکنین ہے؟ عَلَى غَیْرِ حَدِّهِ ہے، تو اس صورت میں ایک کو پھر حرکت دیتے ‏ہیں۔ تو لہذا یہاں پہلی راء کو تو حرکت نہیں دے سکتے کیونکہ پھر تو ادغام ٹوٹ جائے گا، تو دوسری راء کو حرکت دیں گے ‏اور فتحہ دے دیں گے کیونکہ فتحہ اخف الحرکات ہے، سب سے آسانی سے زبان سے ادا ہو جاتا ہے۔ تو کیسے پڑھیں ‏گے؟ فِرَّ، فِرَّ۔ اور کسرہ بھی دے سکتے ہیں کیونکہ الساکن اذا حرک حرک بالکسر، فِرِّ بھی پڑھ سکتے ہیں اور آپ چاہیں تو اسی طرح ‏برقرار رکھیں اِفْرِرْ۔ راء کی حرکت فاء کو دینے کی ضرورت نہیں اور پھر ادغام کرنے کی ضرورت نہیں، تو اِفْرِرْ۔ تو یہ تینوں طرح کی لغات ہیں اور اگر ماقبل ضمہ ہو تو پھر ضمہ بھی جائز ہے جیسے مَدَّ یَمُدُّ۔ یَمُدُّ میں پھر چار طرح پڑھ ‏سکتے ہیں؛ مُدَّ، مُدِّ، مُدُّ، دال پر پیش بھی پڑھ سکتے ہیں ماقبل کی کیونکہ ماقبل کی موافقت کے لیے کیونکہ میم پر ضمہ تو ‏دال پر بھی کیا پڑھ دیا؟ ضمہ۔ تو مُدَّ، مُدِّ، مُدُّ اور اُُمْدُدْ۔ تو وجہ سمجھ میں آ گئی؟ فتحہ کیوں پڑھتے ہیں؟ اخف الحرکات۔ کسرہ کیوں؟ الساکن اذا حرک حرک بالکسر۔ اور ضمہ ‏کیوں پڑھتے ہیں؟ ماقبل کی موافقت کے لیے اور فکِ ادغام کیوں؟ کیونکہ وہ اس کی اصل حالت ہے، اُُمْدُدْ، اُُنْصُرْ۔ ‏صورت سمجھ میں آ گئی؟ معلوم ہوا یہ مضاعف کے اندر جہاں جزم آئے کم از کم تین طرح، تین لغتیں ہیں اس میں۔ فَرَّ، فِرِّ اور اِفْرِرْ، تین کم از کم ‏لغتیں ہیں اور ضمہ ہو تو ضمہ چوتھی لغت بھی ہے۔ تو یہاں پر وَیُذْمَمِ فکِ ادغام کے ساتھ پڑھا گیا بھئی، یہ مجزوم ہے نا جزا ہے۔ وَمَنْ یَکُ یہ ہے شرط اور یُسْتَغْنَ عَنْہُ وَیُذْمَمِ ‏یہ کیا ہے؟ جزا ہے جزا، تو شرط مجزوم ہے وَمَنْ یَکُ تو جزا بھی کیا ہے؟ مجزوم۔ تو یہاں پر یہ اہل حجاز کی لغت ہے بھئی فکِ ادغام، حجاز والے یہ مکہ مدینہ والے یہ کیا پڑھتے ہیں یہاں پر؟ یہ تین ‏چار لغتیں ہیں نا فِرَّ، فِرِّ، اِفْرِرْ۔ مختلف قوموں کی مختلف لغات ہیں بھئی اس میں۔ تو یہ فکِ ادغام والی کس کی لغت ہے؟ ‏اہل حجاز کیے۔ وَمَنْ یَکُ ذَا فَضْلٍ فَیَبْخَلْ بِفَضْلِہِ عَلَی قَوْمِہِ یُسْتَغْنَ عَنْہُ وَیُذْمَمِ اور جو کوئی کثیر مال والا ہو پھر وہ بخل کرے اپنے کثیر مال کا اپنی قوم کے بارے میں، یعنی ان پر خرچ نہ کرے تو ‏اس سے بے پروائی اس سے بے نیازی کی جاتی ہے یعنی اس کی پروا بھی نہیں کی جاتی وَیُذْمَمِ اور اس کی مذمت کی ‏جاتی ہے۔ تو بخل بڑی بری صفت ہے بھئی، اس سے اپنے آپ کو بچاؤ بھئی۔ اپنے آپ کو سخاوت کا خوگر بناؤ بھئی، ابھی سے ‏ابھی سے اپنی یہ صفات اپناؤ بھئی صفات اپناؤ اور دوسروں کی جس قدر ہو سکے مدد کرو بھئی۔ آپ یہ نہ کہیں کہ ہمارے پاس تو مال ہی نہیں ہے، مال ہو گا خوب کثیر مال ہو گا پھر ہم کیا کریں گے سخاوت کریں گے، ‏نہیں بھئی! سخاوت کے لیے مال ہونا ضروری نہیں بس سخاوت کے لیے تو دل چاہیے بھئی دل! بعض لوگ بڑے غریب ‏ہوتے ہیں لیکن ان کی سخاوت انسان دیکھتا ہے تو حیران رہ جاتا ہے۔ جہاں ضرورت پیش آتی ہے سارا کچھ دوسرے پر ‏خرچ کر دیا یا جس قدر ہو سکا دوسرے پر خرچ کر دیا اپنی آگے آنے والی تکلیف کے بارے میں پروا بھی نہیں کی۔ اور عموماً مالدار جو ہوں گے ان کو آپ دیکھیں گے جتنا بھی کثیر مال ہو ایک ایک روپیہ خرچ کرتے ہوئے ان کی جان ‏جاتی ہے بھئی۔ اس مال کا کیا فائدہ کہ جو آپ کے پاس ہے اور کسی کے کام بھی نہیں آ سکتا بھئی، آپ کے پاس بھی ‏زائد ہے بھئی۔ کسی شخص نے کیا خوب کہا ہے بھئی؛ جو کھا گئے وہ اڑا گئے، جو جوڑ گئے وہ چھوڑ گئے، جو دے گئے وہ لے ‏گئے۔ جو کھا گئے وہ اڑا، جو آپ نے کھا لیا وہ اڑا دیا، ختم ہو گیا۔ اور جو جوڑ گئے وہ چھوڑ گئے، جو جمع کرتے رہے ‏ایک ایک پیسہ جمع کرتے رہے وہ سارا کچھ یہی رہ جائے گا، انسان اچانک کسی وقت چلا جائے گا بھئی، جو جوڑ گئے ‏وہ چھوڑ گئے۔ اور جو دے گئے وہ لے گئے، جو کسی کی مدد کی، جو کسی کو دیا وہ اپنے ساتھ لے گئے اپنا آخرت کا ‏سامان تیار کر لیا بھئی۔ تو ابھی سے اپنے آپ کو سخاوت کا خوگر بناؤ، اس ہاتھ کو کسی کو دینا بھی سکھائیں بھئی اور اس کا عادی اس کو ‏بنائیں! علماء نے لکھا ہے اگر کسی کے پاس اور کچھ بھی نہ ہو مال ایک پائ بھی اس کے پاس نہیں ہے تو بھی اس کو ‏اپنے ہاتھ کو سخاوت کا خوگر بنانا چاہیے، اور کچھ نہیں کر سکتا تو کم از کم کسی درخت سے کوئی مسواک وغیرہ توڑ ‏کر مسواک بنا کر ہی کسی کو دے دے تاکہ اس ہاتھ کو دینے کی عادت پڑے۔ علماء فرماتے ہیں کہ خود بھی سخاوت کا وصف انسان کو اپنانا چاہیے اور اپنے بچوں کی بھی ایسی ہی تربیت کرنی ‏چاہیے بھئی، کبھی کسی کو کوئی چیز وغیرہ دینی ہو تو بچے کے ہاتھ بھجوا دی جائے، بچہ بھی آہستہ آہستہ اس صفت کو ‏سیکھتا چلا جائے گا بھئی۔ والد صاحب رحمہ اللہ، اللہ نے ان کو عجیب سخاوت نصیب فرمائی تھی، انسان حیران رہ جاتا ہے بھئی! شب و روز ان کی ‏سخاوت ہم دیکھتے حیران رہ جاتے تھے۔ ان کی سخاوت کا عجیب عالم تھا بھئی، جیب میں ہاتھ ڈالتے جو کچھ ہاتھ میں آتا وہ سارا دوسرے کو دے دیتے چاہے 200 ‏ہیں، 500 ہیں، 1000 ہے، 2000 جتنے جیب ہاتھ میں آ گئے سارے دوسرے کو دے دیتے تھے اور ہمیں بھی اس کا ‏خوگر بنانے کی کوشش کرتے بھئی، کبھی کوئی چیز وغیرہ دینی ہوتی تو بعض اوقات ہمیں دے دیتے کہ جاؤ یہ چیز اس ‏کو دے آؤ یا کسی کے گھر کوئی چیز بھجوا رہے ہیں جاؤ بھئی یہ چیز فلاں کو دے آؤ بھئی تاکہ بچوں کی بھی تربیت ‏ہوتی رہے۔ اور طلباء کے ساتھ خصوصاً ان کی محبت، شفقت اور سخاوت انسان دیکھتا تھا حیران رہ جاتا تھا! بہت سے طلباء کا ماہانہ ‏وظیفہ دیتے تھے اور دیتے بھی خفیہ طور پر تھے، کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہونے دیتے تھے۔ وفات کے بعد بہت ‏سے طلباء آ کر بتلاتے کہ ہم یہاں اتنے سال پڑھتے رہے اور ہر مہینے باقاعدگی سے ہمیں حضرت کی طرف سے اتنا ‏وظیفہ ہمیں بھی ملتا اور پتہ نہیں کتنے ہی طلباء کا ذکر کرتے کہ ان کا تو مجھے پتہ ہے باقیوں کا مجھے پتہ نہیں اتنے ‏اتنے طلباء کو ہر مہینے باقاعدگی سے وظیفہ دیا کرتے تھے بھئی، باقاعدگی سے۔ اور پھر طلباء کے ساتھ محبت اور شفقت اتنی، طلباء کے لیے دارالحدیث کے اندر بھئی دورۂ حدیث کے تمام طلباء جن کی ‏تعداد سینکڑوں میں ہوتی، ان کے لیے روشنائی کا انتظام خود فرماتے بھئی اور دو قسم کی روشنائی رکھتے بھئی، نیلے ‏رنگ کی بھی اور کالے رنگ کی بھی تاکہ کوئی طالب علم نیلی روشنائی سے لکھنا پسند کرتا ہے، کوئی کالی روشنائی ‏سے تو دونوں قسم کی روشنائیوں کی بوتل بڑی بوتلیں ہر وقت دارالحدیث میں موجود رہتی ہیں اور جوں ہی ختم ہونے ‏لگتیں پھر حضرت کو طلباء اطلاع دیتے اور پھر نئی منگوا دیتے!‏ اسی طرح اس وقت دارالحدیث میں ٹھنڈے پانی وغیرہ کا کوئی انتظام نہیں تھا تو ہر روز طلباء کے لیے اپنی جیب سے ‏برف منگواتے تھے تاکہ طلباء کے لیے ٹھنڈا پانی موجود ہو، عجیب سخاوت تھی ان کی بھئی عجیب سخاوت!‏ اور پھر طلباء میں پیسے بھی تقسیم فرماتے بھئی، جماعت کے اندر بھی بعض اوقات پیسے لے آتے اور تمام طلباء میں ‏تقسیم فرماتے، اس زمانے میں ایک روپیہ یا دو روپے یا پانچ روپے وغیرہ تو یہ نئے نوٹوں کی گڈیاں منگوا لیتے اور ‏پھر تمام طلباء میں یہ پیسے تقسیم ہوتے تھے بھئی!‏ اور طلباء کی حضرت سے محبت انسان دیکھتا ہے حیران رہ جاتا ہے، من کان للہ کان اللہ لہ۔ ایسی محبت تھی کہ بیان سے ‏باہر بھئی! آج بھی طلباء ان میں سے کوئی حضرت کے شاگردوں میں سے ملتا ہے تو بتلاتا ہے کہ جب میں پڑھتا تھا تو ‏حضرت نے سال میں کئی مرتبہ یہ پیسے تقسیم فرمائے اور وہ نوٹ آج بھی میں نے اپنے پاس محفوظ رکھے ہوئے ہیں ‏بھئی، یعنی اتنی محبت اور عقیدت کہ وہ نوٹ بھی اپنے پاس سنبھال کر رکھتے تھے محبت کی وجہ سے خرچ نہیں کرتے ‏تھے ان کو، خرچ نہیں کرتے تھے۔ اور بعض طلباء پھر عجیب ہوتے بھئی، وہ کہتے کہ حضرت کے پاس پیسے زیادہ ہیں اس لیے تقسیم فرماتے ہیں۔ دیکھو ‏ایک ہی چیز کا منفی پہلو، ایک ہے کوئی آپ کے ساتھ احسان کرے، اچھا سلوک کرے آپ اس کو اچھے انداز میں دیکھیں ‏اور ایک ہے اس کو منفی انداز میں دیکھنا کہ حضرت کے پاس پیسے زیادہ ہیں اس لیے، اچھا بھئی جس کے پاس پیسے ‏زیادہ ہوں وہ بانٹتا ہے؟ جی؟ وہ پیسے زیادہ ہوتے ہی عموماً اس لیے ہیں کہ وہ ایک ایک پائی جوڑ کر رکھتا ہے، وہ ‏کہیں خرچ ہونے ہی نہیں دیتا بھئی سوائے شدید ضرورت کے! تو کوئی نیکی کرے اس کو مثبت انداز میں دیکھنا چاہیے ‏بھئی، منفی انداز میں نہ دیکھیں اس کو کبھی بھی۔ والد صاحب رحمہ اللہ کی سخاوت دیکھیں، انسان حیران ہوتا ہے۔ حالانکہ ابتدائی زندگی بڑی مشقتوں اور تکالیف والی ‏گزاری۔ والد صاحب رحمہ اللہ چھوٹے سے ہی تھے جب میرے دادا اور ان کے والد رحمہ اللہ کا انتقال ہوا بھئی، پانچ چھ ‏سال کے تھے تو یتیمی کے حالت میں انہوں نے زندگی گزاری بھئی اور خود وفات کے بعد میں ان کی کاپیاں دیکھ رہا ‏تھا، کبھی خود ذکر تو نہیں کیا لیکن کسی زمانے میں کسی کاپی میں کوئی چھوٹی سی مجھے ایک تحریر مل گئی، شاید ‏کسی وقت لکھا ہو گا تو بہت پرانی۔ لکھا ہوا تھا، یعنی اس کا خلاصہ کہ مجھے چائے بڑی پسند تھی طالب علمی کے زمانے میں اور چائے کا بڑا شوقین تھا، ‏میرے طالب علمی کے زمانے میں میری جیب میں ایک پائی نہیں ہوتی تھی لیکن چائے مجھے بڑی پسند تھی، میں چائے ‏کا انتظام کسی نہ کسی طرح ضرور کر لیتا تھا۔ اور پھر آپ جیسی چائے بھی نہیں بھئی، آپ تو چائے میں صائب نکالتے ‏ہیں زبردست چائے ہوتی ہے، دودھ والی چائے ہوتی ہے اور اس میں پھر زغار پتی تیز ہو تو آپ کہتے ہیں پتی تیز ہے، ‏کبھی کہتے ہیں میٹھا کم ہے کئی عیب اس میں نکالتے ہیں اور وہاں دودھ کا تو تصور ہی نہیں تھا بھئی! یعنی وہی پتی ‏پانی میں ابال کر وہی قہوہ سا بنا کر وہ پیتے تھے بھئی۔ اور وہ بھی دودھ تو ہوتا نہیں تھا، چینی یا گڑ وغیرہ بھی نہیں ہوتا تھا، وہی پھیکی چائے پی لیا کرتا تھا میں! اور پھر یہ ‏بھی نہیں کہ چائے بنا لی پتی ضائع کر دی، نہیں نہیں! اس پتی کو میں دوبارہ خشک کر لیتا تھا اور پھر اس سے دوبارہ ‏میں چائے بناتا تھا، اس طرح تین تین چار چار مرتبہ ایک ہی پتی سے میں چائے بناتا تھا۔ تو اتنی غربت گزارنے کے باوجود فرماتے تھے؛ کبھی دل میں خیال بھی نہیں آیا، شکوہ تو دور کی بات ہے اللہ کی ذات ‏سے، کبھی خیال بھی نہیں آیا کہ میرے پاس مال نہیں ہے بلکہ یہ مال کا نہ ہونا کہتے ہیں میرے لیے تحصیلِ علم میں بڑا ‏معاون ثابت ہوا، میری ساری توجہ علم کی طرف رہی بھئی! اور دیکھا پھر علم انسان کو کہاں سے کہاں اٹھا دیتا ہے، آج ‏دنیا کے جس کونے میں بھی آپ چلے جائیں ان سے ان کو جاننے والے اور ان سے انتہا درجے کے محبت اور عقیدت ‏رکھنے والے لوگ آپ کو ملیں گے بھئی، جس کونے میں بھی آپ دنیا کے چلے جائیں!‏ اللہ! تو آپ اندازہ لگائیں وہ کس قسم کی غربت ہو گی کہ اس غربت کے عالم میں زندگی گزاری، ابتدائی زندگی، لیکن اس ‏کے باوجود سخاوت انسان دیکھے تو حیران رہ جاتا ہے! حالانکہ یہ تجربہ ہے، جو شخص غربت کی زندگی گزارتا ہے ‏عموماً اور تنگدستی کی زندگی گزارتا ہے اس کے پاس مال آ بھی جائے تو ہاتھ کو چونکہ خرچ کرنے کی عادت ہی نہیں ‏ہے تو وہ خرچ کرتا بھی نہیں، اپنے اوپر بھی زیادہ نہیں کرتا بس جوڑتا ہی چلا جاتا ہے بھئی، جوڑتا ہی اور سب کچھ ‏پھر چھوڑ کر چلا جاتا ہے۔ لیکن وہ ان کی سخاوت ہم دیکھتے حیران رہ جاتے بھئی!‏ تو سخاوت کا وصف اپناؤ بھئی، بڑے لوگوں کے وصف اپناؤ گے اللہ آپ کو بھی بڑا بنا دے گا، اللہ آپ میں سے ہر ایک ‏کو بڑا آدمی بنائے بھئی، بڑا مدرس بنائے!‏ آگے دیکھیے بھئی؛ وَمَنْ یُّوْفِ لَا یُذْمَمْ وَمَنْ یُّھْدَ قَلْبُہٗ اِلٰی مُطْمَئِنِّ الْبِرِّ لَا یَتَجَمْجَمِ وَمَنْ یُّوْفِ، اَوْفٰی یُوْفِیْ کا معنی ہے پورا کرنا، اَوْفَی الْعَہْدَ اس نے عہد کو پورا کیا، اَوْفَی الْوَعْدَ اس نے وعدے کو پورا کیا۔ لَا یُذْمَمْ، ذَمَّ یَذُمُّ کا معنی مذمت کرنا۔ وَمَنْ یُّھْدَ قَلْبُہٗ، ہَدٰی یَہْدِیْ کے معنی ہیں رہنمائی کرنا، راستہ دکھانا۔ اِلٰی مُطْمَئِنِّ الْبِرِّ، اِطْمَاَنَّ یَطْمَئِنُّ کے معنی ہیں پرسکون ہونا، مطمئن ہونا۔ برٌّ نیکی کو کہتے ہیں بھئی، نیکی۔ لا یتجمجمی۔ جمجمہ، جمجمہ یجمجمو جمجمتان، اور اسی طرح تجمجمہ یتجمجمو تجمجمان، دونوں کا معنی ہے صاف بات نہ کرنا، غیر ‏واضح بات کرنا بھئی۔ تو تجمجم کا کیا معنی؟ غیر واضح بات کرنا بھئی۔ ومن یوف لا یذمم ومن یھدا قلبہ إلی مطمئن البر لا یتجمجمی۔ ومن یوف، اور جو شخص عہد پورا کرتا ہے، وعدہ پورا کرتا ہے، یا یوں کہیں جو شخص ذمہ داری پوری کرتا ہے، لا ‏یذممی، اس کی مذمت نہیں کی جاتی، اس کی برائی نہیں کی جاتی۔ ومن یھدا قلبہ، اور جس کے دل کی رہنمائی کر دی جائے ‏إلی مطمئن البر، اس نیکی کی طرف جو سکون والی ہے، اطمینان والی ہے، لا یتجمجمی، تو وہ غیر واضح بات نہیں کرتا۔ جس کے دل کی رہنمائی کر دی جائے إلی مطمئن البر، مطمئن البر، مطمئن مضاف ہے البری مضاف الیہ، اور یہ صفت ‏کی اضافت ہو رہی ہے موصوف کی طرف۔ اصل میں ہے البر المطمئنی، وہ نیکی المطمئنی جو اطمینان والی ہے، جو سکون والی ہے، یعنی جو انسان کے دل کو ‏اطمینان دینے والی ہے، سکون دینے والی ہے۔ یاد رکھیے بھئی، آپ خوشی چاہتے ہیں تو آپ دوسروں کی مدد کریں۔ آپ دیکھیں گے جب کبھی آپ کسی کے کام آتے ہیں، ‏کوئی بے انتہا مشکل میں ہو اور آپ اس کی مدد کریں اور وہ اس تکلیف اور پریشانی سے نکل جائے تو آپ کا دل خوشی ‏سے بھر جاتا ہے بھئی، اور جب کبھی وہ تصور بھی آئے تو دل پھر خوشی سے بھر جاتا ہے۔ اللہ نے عجیب نظام بنایا ‏ہے۔ انسان آج خوشی تلاش کرتا ہے بھئی، خوشی اگر آپ چاہتے ہیں خوشی خوشی حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بہترین طریقہ، ‏آسان طریقہ یہ ہے دوسروں کی مدد کرو، دوسروں کے کام آؤ۔ جتنا آپ دوسروں کے دل کو خوشی سے بھریں گے، آپ کا ‏اپنا دل خوشی سے بھرتا چلا جائے گا۔ خوشی سے بھرتا چلا جائے گا۔ تو یہ اللہ کا عجیب نظام ہے بھئی۔ ہر شخص اس کا مشاہدہ بھی کرتا ہے لیکن توجہ نہیں ہوتی۔ تو دوسروں کے ساتھ نیکیاں کریں، دوسروں کے کام آئیں، دوسروں کی خدمت کریں، اور آپ دیکھیں گے کہ آپ کا دل ‏خوشی سے لبریز ہوتا چلا جا رہا ہے۔ نیکی سکون کا باعث ہے بھئی، انسان جب نیکی کرتا ہے تو سکون محسوس ہوتا ہے یا نہیں، خوشی محسوس ہوتی ہے یا ‏نہیں؟ یہ اللہ نے عجیب نظام بنایا ہے انسان تو جو شخص چاہتا ہے اس کو وہ خوش رہے اور خوشی کو حاصل کرنا چاہتا ‏ہے، دوسروں کے زیادہ سے زیادہ کام آؤ، آپ دیکھیں آپ کا دل خوشی سے بھرتا چلا جا رہا ہے اور پھر لوگوں کی ‏دعائیں اور اللہ کی رحمت وہ الگ آپ کے ساتھ ہوگی بھئی۔ تو وہ نیکی جو اطمینان والی ہے، اور وہ یا یوں ترجمہ کرلیں وہ نیکی جو سکون والی ہے۔ تو کہتے ہیں ومن یھدا قلبہ إلی مطمئن البر لا یتجمجمی، اور جس کے دل کی رہنمائی کر دی گئی سکون والی نیکی کی ‏طرف، اطمینان والی نیکی کی طرف لا یتجمجمی، تو وہ غیر واضح بات نہیں کرتا۔ وہ مجمع میں، وہ لوگوں کے سامنے، ‏وہ مجلس میں جب بھی بولتا ہے، اس کی باتیں خوب واضح ہوتی ہیں۔ اور ہر ایک توجہ سے اس کی باتوں کو سنتا ہے۔ اور جو شخص، جو شخص اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرتا، دل میں کسی قسم کا میل ہو، اور کھوٹ ہو، یقیناً وہ جب مجمع ‏کے اندر، مجلس کے اندر اس کو بولنا بھی پڑے، تو وہ دوسروں سے نظریں چرا کر بات کرے گا۔ کھل کر بات نہیں کر ‏سکے گا، واضح بات نہیں کر سکے گا بھئی کیونکہ اس کے دل میں چوری ہے اور اسے خوف ہے کہیں میری چوری ‏کھل نہ جائے، کوئی مجھ پر اشکال نہ کر دے، کوئی اعتراض نہ کر دے، تو وہ واضح بات سے واضح بات بھی نہیں کر ‏سکتا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ ومن یوف لا یذمم ومن یھدا قلبہ إلی مطمئن البر لا یتجمجمی، اور جو ذمہ داری پوری کرتا ہے، اس کی مذمت نہیں کی جاتی ‏اور جس کے دل کی رہنمائی کر دی جائے اطمینان والی نیکی کی طرف لا یتجمجمی، تو وہ غیر واضح بات نہیں کرتا۔ یعنی ایسی باتیں نہیں کرتا جو کسی کے سمجھ میں ہی نہ آئیں، بلکہ واضح باتیں کرتا ہے، اس کو کسی کا خوف نہیں ہوتا، ‏کوئی پریشانی نہیں ہوتی، واضح بات کرتا ہے اور لوگ اس کی بات توجہ سے سنتے ہیں۔ ومن یھاب أسباب المنایا ینلھو وإن یرقا أسباب السماء بسلمی۔ ھاب یھاب ھب و مھابۃً، اس کا معنی ہے کسی کی تعظیم کرنا، کسی سے ڈرنا، بچ کر رہنا۔ أسباب المنایا، المنایا جمع ہے منیّۃٍ کی، موت کو کہتے ہیں۔ ینلھو، نالا ینالو کے معنی ہیں پانا، حاصل کر لینا، اور یہ جمع ‏مؤنث غائب کا صیغہ ہے ینلھنا، وہ اس کو پا لیں گی، اور ضمیر راجع ہے منایا کو، وہ موتیں اس کو پا لیں گی۔ وإن یرقا، رقی یرقا کا معنی ہے چڑھنا بھئی، اوپر چڑھنا سیڑھی وغیرہ پر۔ أسباب السماء، أسباب جمع ہے سبب کی، سبب ‏کہتے ہیں رسی کو، اسی طرح ذریعہ اور راستہ، اس کو بھی کیا کہتے ہیں؟ سبب۔ اور اسباب السموات کہتے ہیں آسمان کے ‏کنارے یا آسمان کے دروازے۔ کیونکہ وہ بھی ذریعے ہیں آسمان پر چڑھنے کا۔ سلم، سلم سیڑھی کو کہتے ہیں بھئی، سیڑھی۔ ومن یھاب أسباب المنایا ینلھو وإن یرقا أسباب السماء بسلمی، اور جو کوئی ڈرتا ہے، بچتا ہے أسباب المنایا، موتوں کے ‏اسباب سے۔ جو شخص موتوں کے اسباب سے بچتا ہے، یعنی اپنے آپ کو بچا کر رکھتا ہے کہ موت کا کوئی ذریعہ، کہ موت کسی ‏طرح مجھ تک نہ پہنچے، ینلھو، تو وہ موتیں اس کو پا لیں گی۔ موتیں اس، وہ موت اس تک پہنچ جائے گی بھئی۔ معنی سمجھ میں آرہا ہے؟ ومن یھاب أسباب المنایا ینلھو، اور جو کوئی ڈرتا ہے موتوں کے اسباب سے، ینلھو، تو وہ اس کو پا لیں گی، وإن یرقا ‏أسباب السماء بسلمی، اگرچہ وہ آسمان کے کناروں پر چڑھ جائے سیڑھی کے ذریعے، یعنی وہ شخص چاہے آسمان کے ‏کناروں پر یا آسمان کے دروازوں میں ہی کیوں نہ چڑھ جائے، پھر بھی یہ موت اس کو پا لے گی اور اس تک پہنچ جائے ‏گی۔ جیسے قرآن میں بھی اللہ فرماتے ہیں:‏ أینما تكونوا یدرکكم الموت ولو كنتم في بروج مشیدة، جہاں کہیں بھی تم ہو تمہیں موت پا لے گی اگر تم اگرچہ تم کیا ہو ‏مضبوط محلوں کے اندر ہی کیوں نہ ہوں، مضبوط قلعوں کے اندر ہی کیوں نہ ہوں، یہ موت تمہیں پھر بھی پا لے گی۔ ومن یھاب أسباب المنایا ینلھو وإن یرقا أسباب السماء بسلمی، اور جو شخص موت کے اسباب سے، موت کے ذرائع سے ڈرتا ‏ہے، بچتا ہے ینلھو، تو وہ موتیں اس کو پا لیں گی، وإن یرقا أسباب السماء بسلمی، اگرچہ وہ آسمان کے کناروں پر چڑھ ‏جائے سیڑھی کے ذریعے، سمجھ میں آیا بھئی! موت سے مفر نہیں، موت ہر شخص کو آنی ہے۔ ہاں جو شخص چاہتا ہے میں زندہ رہوں، دوسروں کے کام آئے، دوسروں کے ساتھ نیکی کرے، جتنا مرضی مال ہو کسی ‏کے پاس، یہ دنیا اس کو یاد نہیں رکھتی۔ اور جس نے دوسروں کے لیے جو جتنا کر جاتا ہے، زمانہ اس کو یاد رکھتا ہے ہمیشہ بھئی۔ ومن یجعل المعروف في غیر أهله یكن حمدہ ذمما علیه ویندمی۔ معروف نیکی کو کہتے ہیں۔ ویندمی، ندیما یندمو کے معنی ہیں شرمندہ ہونا، نادم ہونا۔ ومن یجعل المعروف، اور جو شخص نیکی کرتا ہے في غیر أھله، کس میں؟ أی في غیر أھل المعروف یہ أهله کی ال ضمیر ‏کس کو راجع؟ معروف۔ اور جو شخص نیکی کرتا ہے یا نیکی کو رکھتا ہے في غیر أھل المعروف، ایسے لوگوں میں جو ‏نیکی کے أہل نہیں ہیں، یعنی ادنیٰ ہیں، گھٹیا ہیں، کمینے لوگ ہیں، اگر کوئی شخص ان کے ساتھ نیکی کرتا ہے یكن حمدہ ‏ذمما علیه، تو اس کی حمذ جو ہے وہ اس پر مذمت بن جائے گی، اس کی حمد بھی کس سے بدل جائے گی؟ مذمت میں بدل ‏جائے گی، لوگ اس کی مذمت کریں گے اور اس کو کہیں گے کہ یہ تمہاری وجہ سے یہ لوگ جو ہیں، یہ اس مقام پر ‏پہنچے، تم نے ان کے ساتھ نیکی کی اور ان کو اونچے مقام پر لے آئے، حالانکہ یہ تو ادنی، گھٹیا اور کمینے لوگ ہیں، یہ ‏قابل ہی نہیں تھے کہ ان کے ساتھ نیکی کی جائے بھئی۔ اور نیز، ادنی اور گھٹیا شخص بھئی، اس کے ساتھ آپ نیکی کریں گے بھئی، ہونا تو یہ چاہیے نیکی کا بدلہ نیکی کے ‏ساتھ ہونا چاہیے، اگر نیکی کے ساتھ نہ ہو تو کم از کم جس نے ایک شخص کے ساتھ نیکی کی ہے اس کو، اسے اس کو ‏نقصان نہیں پہنچانا چاہیے، تکلیف نہیں پہنچانی چاہیے بھئی، اگر کسی کے ساتھ آپ نیکی کریں اور وہ بدلے میں آپ کو ‏نقصان اور تکلیف پہنچائے تو سمجھ جائیں کہ یہ بڑا ادنی اور گھٹیا آدمی ہے بھئی۔ نیکی کا بدلہ تو نیکی ہونی چاہیے بھئی، اور اگر نیکی نہیں کر سکتے تو کم از کم تکلیف تو نہیں دینی چاہیے اپنے محسن ‏کو بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی، اور محسن یہ معنی نہیں کہ کوئی بڑی نیکی کرے، نہیں، چھوٹی نیکی بھی جو آپ کے ساتھ کرے، ‏اچھے طریقے سے پیش آئے، آپ کی عزت کرے، تو یہ سب احسان کے اندر شامل ہیں بھئی، انسان کو بھی اسی طرح ‏کرنا چاہیے۔ شاعر کہتا ہے ومن یجعل المعروف في غیر أهله، اور جو کوئی نیکی کو نا ایسے لوگوں میں رکھتا ہے جو نیکی کے أہل ‏نہیں ہوتے، نیکی کے لائق نہیں ہوتے یكن حمدہ ذمما علیه، تو اس کی مدح بھی، حمد بھی اس کے لیے مذمت ہو جاتی ہے، ‏یعنی وہ لوگ بجائے اس کی نیکی کو ماننے کے، اس کی حمد وغیرہ مدح نہیں کرتے، اس کی مذمت کرتے ہیں، کیونکہ ‏گھٹیا لوگ جو ہوئے۔ ویندمی، اور وہ شخص بعد میں کیا ہوتا ہے؟ وہ شرمندہ ہوتا ہے کہ میں نے کیوں ان لوگوں کے ساتھ نیکی کی، ان کے ‏ساتھ اچھا سلوک کیا بھئی۔ تو ادنی اور نااہل آدمی، وہ جو نیکی کے لائق نہ ہو، اس کے ساتھ نیکی نہیں کرنی چاہیے۔ جیسے ٹیپو سلطان کے بارے میں آتا ہے بھئی، ٹیپو سلطان کے ساتھ جو غداری کی، اس کا وزیراعظم تھا میر صادق ‏بھئی۔ اور میر صادق بڑا سمجھدار اور بڑا ذہین آدمی تھا بھئی۔ ٹیپو سلطان اس پر بڑا اعتماد کرتا تھا اور اس نے جب انگریزوں کے ساتھ جنگ ہو رہی تھی، عین موقع پر اس نے غداری ‏کی اور انگریزوں کے لیے اپنی فوج کو ہٹایا، قلعے کے راستے کھول دیے اور پھر اس کی وجہ سے سیکڑوں، ہزاروں ‏مسلمان جو فوج، فوج والے جو تھے وہ شہید ہو گئے اور ٹیپو سلطان شہید ہو گیا اور پورا برصغیر انگریزوں کے ہاتھ آ ‏گیا بھئی۔ اور حالانکہ یہ جو میر صادق تھا، جس نے یہ غداری کی، یہ کوئی پہلی مرتبہ نہیں تھا، اس سے پہلے بھی دو تین مواقِع ‏پر ٹیپو سلطان اس کو اس طرح کی کوئی شرارت میں پکڑ چکا تھا جہاں اس نے کوئی نقصان وغیرہ کا کام کرنے کی ‏کوشش کی تھی، لیکن اس کی سمجھداری کی وجہ سے ٹیپو سلطان نے پھر اس پر دوبارہ اعتماد کر لیا اور دوبارہ اس کو ‏اسی وہی عہدہ دے دیا وزیراعظم والا اور کوئی سزا وغیرہ نہیں دی۔ حالانکہ جو ادنی اور گھٹیا آدمی ہو، اس کے ساتھ کہتے ہیں نیکی نہیں کرنی چاہیے، وہ اس قابل ہی نہیں ہے کہ اس کے ‏ساتھ نیکی کی جائے بھئی، دیکھو نیکی کی اور اس کا نتیجہ کیا نکلا کہ پوری فوج کو شکست ہو گئی، بادشاہ شہید ہو گیا ‏اور پورا ملک جو ہے وہ انگریزوں کے ہاتھ چلا گیا بھئی۔ تو کہتے ہیں ومن یجعل المعروف في غیر أهله یكن حمدہ ذمما علیه ویندمی، اور جو کوئی نیکی کرتا ہے ایسے لوگوں میں ‏جو نیکی کے أہل نہیں، نیکی کے قابل نہیں ہیں تو اس کی حمد بھی اس پر مذمت ہو جاتی ہے اور ویندمی اور وہ بعد میں ‏نادم ہوتا ہے، شرمندہ ہوتا ہے۔ معنا اچھی طرح سمجھ میں آگیا؟ چلیے بس بھئی، ھذا ھو المرام، واللہ أعلم بحقیقۃ الکلام۔