آئیے سبق دیکھیے بھئی!‏ کرام فلا ذو الضغن یدرک تبله ولاجارم الجانی علیهم بمسلم سئمت تکالیف الحیاۃ ومن یعش ثمانین حولا لا ابالک یسئم واعلم ما فی الیوم والامس قبله ولکننی عن علم ما فی غد عم کرام فلا ذو الضغن یدرک تبله ولاجارم الجانی علیهم بمسلم کرام، کرام جمع ہے کریم کی بھئی۔ معزز، کریم کا کیا معنی ہے؟ معزز۔ فلا ذو الضغن، ضغن کہتے ہیں دل کے اندر سخت ‏دشمنی اور کینہ جو ہو اس کو کہتے ہیں ضغن۔ ضغن۔ یدرک، ادرک یدرک کے معنی ہیں پا لینا۔ تبله، تبل کہتے ہیں دشمنی ‏کو، بدلے اور انتقام کو بھئی۔ تبل کا کیا معنی؟ دشمنی بھی، بدلہ اور انتقام وغیرہ بھئی۔ ولاجارم الجانی، جاری جرم سے ‏ہے، جرم کرنے والا۔ جائم کا کیا معنی؟ جرم کرنے والا، جرم والا، جرم والا۔ جیسے لابن، تو یہ فاعل وزن ہے نسبت کے ‏لیے۔ کبھی فاعل وزن اسم فاعل کے لیے آتا ہے اور کبھی نسبت کے لیے بھی آتا ہے جیسے لابن۔ لابن، یہ لبن سے ہے، لبن ‏والا، دودھ والا۔ جیسے لاہوری کا کیا معنی؟ لاہور والا۔ پاکستانی کا کیا معنی؟ پاکستان والا۔ تو جیسے یہ یا نسبت کے لیے ‏آتی ہے، اسی طرح عربی کے اندر کبھی فاعل وزن کو بھی نسبت کے لیے لے آتے ہیں۔ جیسے لابن، لبن والا۔ تامر، تمر ‏والا یعنی کھجور والا۔ تو اسی طرح یہ جارم بھی ہے یعنی جرم والا، وہ شخص جس نے کیا کیا ہو؟ جرم کیا ہو۔ الجانی، جانی جنایت کرنے والا، جنایت کرنے والا، جرم یہ بھی اسی کی طرح ہے، جرم کرنے والا۔ جانی علیہم، اس کا ‏صلہ علیٰ آیا۔ جانی علیہم کا معنی ہے کسی کے حق میں جرم کرنا، یعنی کسی کو جرم کے ذریعے نقصان پہنچانا، نقصان ‏پہنچانا۔ مسلم، اسلم یسلم اسلام، اس کا ایک معنی تو کیا ہے؟ مسلمان ہونا، اسلام لانا، فرماں بردار ہونا۔ اسی طرح اسلم یسلم اسلام کا ‏ایک معنی ہے کسی کو دشمن کے رحم و کرم پر چھوڑ دینا، کسی کو دشمن کے رحم و کرم پر چھوڑ دینا، بے یار و ‏مددگار چھوڑ دینا۔ اسی طرح اسلم یسلم اسلام کا معنی ہے سپرد کرنا، حوالے کرنا۔ کرام فلا ذو الضغن یدرک تبله، یہ کرام، یہ صفت ہے حین کی۔ پیچھے جو آیا تھا لحین، حلال اس کی صفتِ اول اور یعصم ‏الناس صفتِ ثانی اور کرام، یہ بھی اسی کی صفت ہے بھئی۔ تو یہ مال ایک ایسے قبیلے کا ہے کرام، جو وہ سارے کیا ‏ہیں؟ بڑے، کہ وہ بڑے معزز لوگ ہیں۔ فلا ذو الضغن، ذو الضغن، ذو مال کا کیا معنی؟ مال والا۔ تو ذو الضغن کا کیا معنی؟ ‏کینے والا، دشمنی والا یعنی دشمن مراد ہے، کون مراد ہے؟ دشمن۔ فلا ذو الضغن یدرک تبله، پس جو کینے والا ہے یعنی ‏دشمنی والا ہے پس وہ نہیں پاتا تبله اپنا بدلہ۔ وہ اپنا بدلہ نہیں پاتا یعنی یہ قبیلے والے مقیم ہیں اور لوگوں کی بھی حفاظت کرتے ہیں اور بڑے معزز لوگ ہیں اور یہ ‏ایسے طاقتور ہیں کہ کینے والا اپنا بدلہ نہیں لے سکتا ان سے۔ فلا ذو الضغن یدرک تبله، کینے والا ان سے اپنا بدلہ نہیں، ‏جتنی مرضی کسی کے دل میں ان کی دشمنی ہو ان سے وہ اپنا بدلہ اور انتقام نہیں لے سکتا، ان کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ‏سکتا کیونکہ یہ بڑے طاقتور لوگ ہیں۔ کرام فلا ذو الضغن یدرک تبله ولاجارم الجانی علیهم بمسلم، اور نہ ہی جو جرم اور جنایت کرنے والا ہے ان کے خلاف جو ‏ہے بمسلم، نہ وہ حوالے کیا جاتا ہے۔ معنی یہ ہے اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں۔ ایک معنی تو یہ کہ پیچھے ذکر آیا ‏دشمنوں کا کہ ان کے جو دشمن ہیں وہ بھی ان کے، ان کو نقصان نہیں پہنچا سکتے اور دشمنوں کے علاوہ جو متعلقین ہیں ‏جن سے دشمنی نہیں ہے عام لوگ ہیں یا ان جن کے ساتھ کچھ تعلق ہے یا عام لوگ ہیں کوئی نہ دشمنی نہ تعلق وغیرہ بھی ‏نہیں، عام لوگ ہیں، وہ بھی اگر کوئی جنایت اور جرم کر کے ان کو نقصان پہنچا دیں تو اس کو بھی ذلیل و رسوا نہیں کیا ‏جاتا۔ اس کو بھی ذلیل و رسوا نہیں کیا جاتا۔ یہ یعنی دیکھو ولاجارم الجانی علیهم بمسلم، اور وہ جو جرم اور جنایت کرنے والا ‏ہے ان کے خلاف بمسلم، وہ بھی مسلم نہیں ہے یعنی وہ بھی سپرد نہیں کیا جاتا، کسی دوسرے کے حوالے نہیں کیا جاتا ‏بلکہ یہ اس کی بھی مدد اور نصرت کرتے ہیں یعنی ان کو ذلیل نہیں کرتے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو معنی کیا ہوا؟ پہلے، پہلے مصرعے میں ذکر تھا دشمنوں کا۔ دشمن ان کو کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے ‏کیونکہ یہ بڑے طاقتور لوگ ہیں اور اخلاق کے اعتبار سے اتنے اعلیٰ ہیں، اگر کوئی جرم کر کے ان کو نقصان بھی پہنچا ‏دے تو اس کو بھی یہ لوگ ذلیل نہیں کرتے، کسی کے حوالے نہیں کرتے۔ معنی سمجھ میں آیا؟ تو اس صورت میں مسلم کا کیا معنی کیا؟ ذلیل و رسوا کرنا بھئی، ذلیل و رسوا کرنا، کسی کے سپرد کرنا۔ یا معنی یہ کر ‏لیں کہ اگر کوئی ان پر بھروسہ کرتے ہوئے کسی کے خلاف جرم اور جنایت کرتا ہے۔ بھئی جانی علیہم، میں نے کیا ‏ترجمہ کیا؟ جرم کر کے کسی کو نقصان پہنچانا۔ تو دیکھو جو ان کے حلیف ہیں، جن کے ساتھ انہوں نے اتحاد کیا ہوا ہے ‏اور دونوں نے ایک دوسرے کا لڑائی میں ساتھ دینے کا معاہدہ کر رکھا ہے، اب ان کا حلیف جو ہے وہ بھی ان کے ‏بھروسے پر کسی اور کے نقصان پہنچاتا ہے، جرم کرتا ہے۔ تو ظاہر سی بات ہے نقصان ان کو بھی ہوا یا نہیں ہوا؟ وہ آپ کے اتحادی ہیں، جب لڑائی ہوگی، نقصان ہوگا تو ظاہر سی ‏بات ہے وہ نقصان آپ کو بھی پہنچے گا۔ تو اگر کوئی ان پر بھروسہ کرتے ہوئے جرم کرتا ہے، توجہ ہے؟ کوئی ان پر ‏بھروسہ کرتے ہوئے اور جرم کس کے خلاف کر رہا ہے؟ کس کو نقصان پہنچا رہا ہے؟ کسی تیسرے شخص کو، کسی ‏تیسرے قبیلے کو۔ تو اگر ان پر اعتماد کر کے، یہ تو میری پشت پر ہیں، یہ تو میری مدد کے لیے موجود ہیں، تو ان پر بھروسہ کرتے ہوئے ‏کوئی شخص کیا کرتا ہے؟ کسی تیسرے قبیلے پر جرم کرتا ہے اور ان کو نقصان پہنچاتا ہے تو بھی یہ لوگ اس شخص ‏کی مدد کرتے ہیں، اس کو دشمن کے، دشمن کے حوالے نہیں کرتے، دشمن کے مقابلے میں اس کو بے یار و مددگار نہیں ‏چھوڑتے۔ معنی سمجھ میں آ گیا۔ تو پہلے مصرعے میں کس کا ذکر؟ دشمنوں کا، کہ دشمن بھی ان کے خلاف کچھ نہیں کر سکتے اور اپنے بھی اگر کوئی ‏جرم وغیرہ ان سے ہو جائے تو اس کی بھی یہ مدد کرتے ہیں۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟ کرام فلا ذو الضغن یدرک تبله ولاجارم الجانی علیهم بمسلم، یہ مال جو ہے ایسے معزز قبیلے کا ہے کہ کینے والا جو ہے ‏وہ ان سے اپنا انتقام نہیں لے سکتا اور نہ ہی جرم اور جنایت کرنے والا ان کے خلاف، اس کو بے یار و مددگار چھوڑا ‏جاتا ہے۔ ولاجارم الجانی علیهم بمسلم، اور ان کے خلاف جرم اور جنایت کرنے والا جو ہے اس کو بھی بے یار و مددگار ‏نہیں چھوڑا جاتا۔ سئمت تکالیف الحیاۃ ومن یعش ثمانین حولا لا ابالک یسئم سئم یسئم کے معنی ہیں اکتا جانا۔ اکتا جانا، کسی کام سے تنگ آ جانا۔ اسی طرح مل یمل کے معنی بھی ہیں تنگ آ جانا، اکتا ‏جانا۔ تکالیف الحیاۃ، زندگی کی مشقتیں، زندگی کی تکالیف۔ ومن یعش، عاش یعیش کے معنی ہیں زندگی گزارنا۔ ثمانین ‏حولا، 80 سال۔ حول، سال کو کہتے ہیں بھئی۔ حول، سال کو کہتے ہیں، آپ نے بھی پڑھا ہے زکوٰۃ کے باب میں کہ ‏حولانِ حول ہوگا نصاب پر تو پھر زکوٰۃ آئے گی۔ لا ابالک، لا ابالک، تیرا باپ نہ ہو یا تیرا باپ گم ہو جائے۔ تیرا باپ نہ ہو، یہ کلمہ ہے بطور ڈانٹ کے جس سے استعمال کیا جاتا ہے بھئی۔ لیکن ایسی ڈانٹ جو شفقت والی ہو، جس ‏میں کیا ہو؟ شفقت ہو، تو کسی بات پر زور دینے کے لیے یہ کلمہ بولتے ہیں لا ابالک، تیرا باپ نہ ہو۔ اور جیسے اردو میں ‏اس کی کوئی مثال، اردو میں جیسے کم بخت وغیرہ کہہ لیں، کسی کو کوئی بات سمجھاتے ہوئے درمیان میں کوئی بڑا کیا ‏لفظ بول دے؟ کم بخت بول دے۔ اب یہاں دیکھو ڈانٹ بھی ہے لیکن ڈانٹ کس قسم کی ہے؟ شفقت والی ہے جس میں نفرت ‏نہیں ہے بھئی، بس کسی بات پر زور دینے کے لیے بعض اوقات انسان لفظ بول دیتا ہے۔ مثلاً کوئی بڑا کسی چھوٹے سے کوئی بات کہتا ہے کہ فلاں کام اس طرح کرنا اور پھر ساتھ ہی کہتا ہے، کم بخت یہ بھول ‏نہ جانا۔ دیکھو بات پر زور دینے کے لیے ڈانٹ بھی ہے اور ساتھ شفقت بھی ہے بھئی۔ تو یہ اسی طرح ہے لا ابالک، تو ‏یہ بھی، یہ کسی بات پر زور دینے کے لیے اور ڈانٹ کے طور پر، سختی کرنے کے لیے، لیکن ساتھ شفقت بھی ہو، لا ‏ابالک، تیرا باپ نہ ہو۔ ہاں پشتو میں اس کی مثال مل جاتی ہے، بہت سی ایسی چیزیں ہیں جن کی مثال اردو میں نہیں ملتی بھئی۔ پشتو میں بھئی ‏کبھی باتیں کرتے ہوئے بڑا دوسرے کو کہتا ہے کسی بات پر زور دینے کے لیے وڑک شے یا کبھی بول دیتے ہیں کور ‏دے وڑک شا، بولتے ہیں یا نہیں بولتے؟ اور شفقت کے طور پر ہوتا ہے اور کسی بات پر زور دینے کے لیے ہوتا ہے، ‏تھوڑی سختی بھی۔ وڑک شا کا معنی ہے گم ہو جاؤ۔ تو یہ بطور شفقت کے، ڈانٹ بھی ہے بات پر زور دینے کے لیے اور ساتھ شفقت بھی ہے بھئی۔ اور اسی طرح کور دے ‏وڑک شا، تمہارا گھر گم ہو جائے، تو یہ بھی بطور ڈانٹ کے بھی ہے اور اس میں شفقت بھی ہے بھئی۔ پشتو بڑی وسیع زبان ہے اور یاد رکھو کوئی بھی زبان جتنی قدیم ہوتی ہے اتنی ہی وسیع ہوتی ہے۔ پشتو کی جو قدیم تر ‏کہتے ہیں مخطوطات ملے ہیں وہ کوئی 800 سال پرانے ہیں اور اردو تو ابھی 300 سال میں ہوئے ہیں اس کو بنے ہوئے ‏اور جو کوئی زبان جتنی قدیم ہوتی ہے اتنی ہی وسیع ہوتی ہے بھئی، وسیع ہوتی ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ ہاں وہ الگ بات ہے، پٹھان اپنا مافی الضمیر اتنا بیان نہیں کر سکتا جتنا اردو والا کرتا ہے اور پھر سب سے زیادہ اپنا ‏مافی الضمیر ہندوستان والے بیان کرتے ہیں۔ ان کو، ہر قوم کی اپنی خصوصیات ہوتی ہیں تو یہ ہندوستان والوں کو اللہ نے ‏بڑی فصاحت و بلاغت دی ہے بھئی، اردو زبان میں۔ اور یہاں کے لوگ جو اردو دان ہیں یہ بھی متوسط درجے کے، اور ‏پٹھان پھر وہ بالکل اس سے کم درجے کے، یعنی کوئی کوئی بیان تو کرتے ہیں لیکن عمومی نہیں، جبکہ اردو والے یا ‏ہندوستان والے عمومی اپنا مافی الضمیر بیان کرتے ہیں۔ اور پٹھان کے پاس ایک من علم بھی ہو لیکن جب وہ بولتا ہے یوں لگتا ہے پاؤ علم ہے، لیکن جتنا بھی آپ دیکھ لیں پاکستان ‏کے اکثر مدارس میں، کراچی کے بڑے بڑے مدارس میں دیکھ لیں۔ جو بڑے بڑے مدرسین ہیں وہ پٹھان ہیں بھئی۔ سبحان ‏اللہ!‏ تو خصوصیات اپنی، ہر قوم کی اپنی اپنی خصوصیات ہوتی ہیں۔ آگے دیکھیے بھئی، یسئم، یہ وہی پیچھے ذکر ہوا سئم یسئم کا معنی اکتا جانا، کسی چیز سے تنگ ہو آ جانا۔ سئمت تکالیف الحیاۃ ومن یعش ثمانین حولا لا ابالک یسئم شاعر زہیر ابن ابی سلمیٰ یہ 80 سال کی عمر میں یہ اشعار کہہ رہا ہے بھئی اور اس کی عمر 100 سال سے زائد تھی ‏بھئی۔ تو یہ آگے ابھی اپنی زندگی کے تجربات اور قیمتی باتیں ذکر کر رہا ہے اور کچھ نصیحتیں بیان کرے گا بھئی۔ ‏دیکھیے بھئی:‏ سئمت تکالیف الحیاۃ ومن یعش ثمانین حولا لا ابالک یسئم سئمت تکالیف الحیاۃ، میں اکتا گیا ہوں زندگی کی تکلیفوں سے اور مشقتوں سے۔ ومن یعش ثمانین حولا، اور جو شخص 80 ‏سال تک زندہ رہے، 80 سال کی زندگی گزارے، لا ابالک یسئم، تیرا باپ نہ ہو، یسئم، وہ آدمی اکتا جاتا ہے۔ معنی سمجھ ‏میں آ رہا ہے؟ جو شخص 80 سال کی زندگی گزارے، تیرا باپ نہ ہو، یسئم، وہ، وہ اکتا ہی جاتا ہے بھئی، زندگی کی ‏تکالیف سے۔ جو 80 سال تک زندہ رہے وہ اکتا جاتا ہے یعنی دل برداشتہ ہو جاتا ہے، زندگی تکالیف ہی تکالیف ہیں تکالیف، لیکن یاد ‏رکھو یہ تکالیف انسان کو بہت اوپر لے جاتی ہیں۔ یہ تکالیف نہ ہوتیں اور یہاں پر کیا ہے لعمرك، میں کس کی قسم کھاتا ‏ہوں؟ تیری عمر کی یعنی تیری زندگی کی میں قسم کھاتا ہوں۔ ما جرت عليهم، جر عليهم یہ بھی اسی شعر میں آیا تھا، لعَمْرِي لَنِعْمَ الحَيُّ جَرَّ عَلَيْهِمُ، بِمَا لاَ يُؤَاتِيهِمْ حُسَيْنُ بْنُ ضَمْضَمِ۔ جر ‏عليهم کا معنیٰ میں نے کیا بتلایا تھا؟ کسی کے خلاف جنایت کرنا بھئی، کسی کے خلاف، کسی کے خلاف جرم کا ارتکاب ‏کرنا۔ رماح بھئی، نیزوں کو کہتے ہیں بھئی، نیزے۔ تو رماح جمع ہے رمح کی، نیزے کو کہتے ہیں۔ دم ابن نہيك، ابن نہیک یہ ‏آدمی کا نام ہے بھئی، نہیک کا بیٹا، او قتيل، قتیل بمعنیٰ مقتول کے ہے بھئی، مسلم، مسلم یہ جگہ کا نام ہے۔ لعمرك ما جرت عليهم رماحهم دم ابن نهيك أو قتيل المسلم یہ اب دوبارہ شاعر ان سرداروں کی تعریف کر رہا ہے جنہوں نے اس جنگ کو ختم کیا۔ لعمرك، تیری زندگی کی قسم، ما ‏جرت عليهم رماحهم، نہیں جرم کیا ان کے خلاف رماحهم ان کے نیزوں نے، توجہ ہے؟ ان کے نیزوں نے یعنی یہ جو دو ‏سردار جنایتیں ادا کر رہے ہیں، ان کے نیزوں نے ان کے خلاف، جن کو وہ دیتیں دے رہے ہیں، یہ جو دو سردار ہیں کیا ‏یہ جنگوں میں شریک تھے؟ انہوں نے کوئی جنایت کی ہے؟ کوئی جنایت نہیں کی، تو ان کے نیزوں نے ان کے خلاف ‏کوئی جنایت نہیں کی، لیکن پھر بھی یہ کیا کر رہے ہیں؟ ان کی دیتیں ادا کر رہے ہیں۔ لعمرك، تیری زندگی کی قسم، ما جرت عليهم رماحهم، نہیں کی ان کے خلاف کوئی جنایت رماحهم ان کے نیزوں نے، یعنی ‏یہ جو دو سردار ہیں اور جو ان کے معاونین ہیں، انہوں نے ان کے خلاف کوئی جنایت نہیں کی۔ اچھا جنایت نہیں کی، کس چیز کی؟ دم ابن نہيك، ابن نہیک کے بیٹے کے خون کی، او قتيل المسلم، یہ قتیل کا عطف ہے ابن ‏نہیک پر، أي دم قتيل المسلم، مقامِ مسلم کے مقتول کے خون کی۔ ان لوگوں نے جنایت نہیں کی، کس چیز کی جنایت نہیں کی؟ ‏نہیک کے بیٹے کے خون کی جنایت بھی انہوں نے نہیں کی اور مقامِ مسلم میں جو مقتول ہوا تھا، اس مقتول کے خون کی ‏جنایت بھی ان کے، ان کے نیزوں نے نہیں کی۔ معنیٰ سمجھ میں آ گیا؟ لعمرك ما جرت عليهم رماحهم دم ابن نهيك أو قتيل المسلم تیری عمر کی قسم، نہیں جنایت کی ان کے نیزوں نے ان لوگوں کے خلاف، ابن نہیک کے قتل کی اور نہ مقامِ مسلم کے ‏مقتول کے خون کی۔ ولا شاركت في الموت في دم نوفل ولا وهب منها ولا ابن المخزم شارک یشارک کے معنیٰ شریک ہونا۔ اور شارکت، ہِیَ ضمیر راجع ہے پیچھے جو رماح کا ذکر آیا تھا۔ رماح جمع ہے اور ‏جمع بتاویلِ جماعت کس کے حکم میں ہے؟ واحد مونث کے حکم میں، تو ہِیَ ضمیر راجع کی، اور وہ نیزے شریک نہیں ‏ہیں فی الموت۔ اچھا تو یہ دمِ نوفل، نوفل بھی ایک آدمی کا نام بھئی۔ ولا وهب منها، وہب بھی آدمی کا نام، ولا ابن المخزم، اور مخزم یہ ‏بھی آدمی کا نام ہے بھئی۔ ولا شاركت في الموت، اور نیز یہ نیزے شریک نہیں ہوئے فی الموت، موت میں، في دم نوفل، ‏نوفل کے خون میں، ولا وهب منها، اور نہ جو وہب تھا منها، ان میں سے۔ ہا ضمیر پھر پیچھے یہ جو مقتولین کا ذکر چل ‏رہا ہے بھئی۔ یہ مقتولین اور جمع بتاویلِ جماعت کس کے حکم میں ہے؟ واحد مونث، اسی لیے منها، ہا ضمیر ان کی ‏طرف راجع کی۔ منها، اور بعض نسخوں میں ہے منہم بھئی، منہم، کیونکہ یہ جمع ہے تو ہم ضمیر بھی لوٹا سکتے ہیں اور ‏واحد مونث کی بھی۔ ولا وهب منها، اور نہ جو وہب تھا ان میں سے، ولا ابن المخزم، اور نہ جو ابنِ مخزم تھا۔ یعنی ان ‏لوگوں کے نیزے نوفل کے خون میں بھی شریک نہیں ہوئے موت میں، ولا وهب منها، اور نہ جو وہب تھا ان میں سے اس ‏کے خون میں بھی شریک نہیں ہوئے، ولا ابن المخزم، اور ابنِ مخزم کے خون میں بھی یہ شریک نہیں ہوئے۔ معنیٰ سمجھ ‏میں آ رہا ہے؟ یہ کس کی بات چل رہی ہے؟ جنہوں نے دیتیں ادا کیں، وہ جو دو سردار ہیں اور ان کے معاونین ہیں، ان کے ‏بارے میں کہتا ہے کہ ان کے نیزوں نے، یہ جو دیتیں ادا کر رہے ہیں جن لوگوں کو، ان کے خلاف انہوں نے کوئی جرم ‏نہیں کیا، پھر بھی یہ دیتیں ادا کر رہے ہیں۔ معنیٰ سمجھ میں آ گیا؟ یہ بعض شارحین نے یہ معنیٰ کیا، توجہ ہے؟ جبکہ بعض شارحین فرماتے ہیں، توجہ ہے ادھر؟ بعض شارحین فرماتے ‏ہیں کہ یہ جو افراد ذکر ہوئے، ابنِ نہیک، مقامِ مسلم میں مقتول جو شخص ہوا جس کو قتل کیا گیا، نوفل، وہب، اور ابنِ ‏مخزم وغیرہ، یہ وہ لوگ ہیں جو اس جنگ سے پہلے مارے گئے تھے۔ ایک تو یہ جنگ ہوئی نا ان میں 30، 40 سال تک، ‏توجہ ہے؟ ایک اس جنگ سے کچھ لوگ پہلے بھی کبھی کسی لڑائی وغیرہ میں کوئی جھگڑا ہو گیا یا کچھ مارے گئے ‏تھے۔ تو ان کی دیتیں بھی یہ قبیلہ عبس والے اب وصول کر رہے ہیں۔ بھئی دیتیں وصول کرنی ہیں تو صرف ان کی ‏وصول کرو نا، یہ جو جنگ ہوئی، جنگ کے اندر جتنے افراد مارے گئے، کیا کرو؟ ٹھیک ہے آپ ان کی دیتیں وصول ‏کریں کہ ہمارے اتنے افراد اس جنگ میں مارے گئے، دیتیں دینی پڑیں گی۔ وہ جنگ سے پہلے جو لوگ مارے گئے تھے ‏کسی لڑائی وغیرہ میں، وہ کہتے ہیں ہمیں ان کی دیتیں بھی تم اب ادا کرو گے۔ معنیٰ سمجھ میں آ گیا؟ ان کی دیتیں بھی ادا ‏کر رہے ہو، اور یہ سارے افراد اس جنگ سے پہلے مارے گئے تھے، کسی لڑائی میں، کسی سے جھگڑا ہو گیا تو، اسی ‏ذبیان اور عبس میں ہی کسی ایک دو آدمیوں میں کبھی جھگڑا ہو گیا، قتل کر دیا۔ تو ان کی بھی دیتیں یہ مانگ رہے ہیں، تو ‏یہ جو شاعر کہہ رہا ہے کہ ان کے نیزوں نے ان کے خلاف جنایت نہیں کی، توجہ ہے؟ پہلے کیا کہا تھا، یہ نیزے، کس ‏کے نیزے مراد ہیں؟ وہ صلح کروانے والے، ان کے نیزوں نے کوئی جنایت نہیں کی، لیکن پھر بھی وہ کیا کر رہے ہیں؟ ‏دیتیں ادا۔ اب معنیٰ ہے قبیلہ ذبیان کے یہ جو موجودہ لوگ ہیں، قومِ ذبیان کے جو موجودہ لوگ ہیں جن پر یہ قبیلہ عبس والے دیتیں ‏ڈال رہے ہیں، اور جن لوگوں کی دیتیں ڈال رہے ہیں؟ ان لوگوں کی جو اس جنگ سے پہلے مارے گئے تھے، حالانکہ ان ‏لوگوں کے نیزوں نے تو ان کا خون نہیں بہایا بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو اب اس صورت میں اسی قبیلہ ذبیان کے یہ ‏جو جنگ، عام لوگ مراد ہیں جو جنگ میں بھی شریک تھے، لیکن بہرحال ان لوگوں کو، ان لوگوں کے قتل میں تو یہ ‏شریک نہیں تھے۔ معنیٰ سمجھ میں آ گیا؟ تو دونوں معانی شارحین نے کیے ہیں۔ دوبارہ دیکھ لیجیے بھئی، اب ترجمہ وہ کیجیے کہ یہ قبیلہ ذبیان والے ہی مراد ہیں۔ لعمرك ما جرت عليهم رماحهم دم ابن نهيك أو قتيل المسلم تیری عمر کی قسم، جنایت نہیں کی ان کے نیزوں نے ان لوگوں کے خلاف، دم ابن نهيك أو قتيل المسلم، ابن نہیک کے خون ‏کے اندر اور مقامِ مسلم کے مقتول کے خون میں۔ ولا شاركت في الموت في دم نوفل ولا وهب منها ولا ابن المخزم اور نہ ان کے نیزے شریک ہوئے ہیں موت کے اندر، في دم نوفل، نوفل کے خون میں، ولا وهب منها، اور نہ وہب کے ‏خون میں منها ان میں سے، ولا ابن المخزم، اور نہ ابنِ مخزم کے خون میں۔ معنیٰ سمجھ میں آ گیا؟ آگے دیکھیے۔ فكلا أراهم أصبحوا يعقلونه صحيحات مال طالعات بمخرم فَكُلًّا، یہ لام پر شد بھی ہونا چاہیے بھئی، شد اور تنوین، فَكُلًّا۔ یاد رکھیے، یہ كُلُّ جو ہے نا كُلُّ، یہ مضاف الیہ چاہتا ہے، ‏کل کا معنیٰ ہے سارے، کیا چیز سارے؟ آگے مضاف الیہ چاہیے، كلهم، وہ سارے کے سارے۔ تو کل کا کیا معنیٰ؟ سارے، ‏یا کل استعمال ہوتا ہے ہر ایک کے لیے، بھئی کس کا ہر ایک؟ آگے مضاف الیہ چاہیے، كل واحد، ان میں سے سارے۔ ‏لیکن کبھی کبھار یوں کرتے ہیں کہ اس کے مضاف الیہ کو حذف کر دیتے ہیں اور اس کے عوض اس پر تنوین لے آتے ‏ہیں، جیسے یہاں پر ہے، فَكُلًّا، أي فكل واحد منهم، عبارت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو یہ تنوین عوض ہے کس سے؟ مضاف ‏الیہ سے، یہ ضابطہ یاد رکھیں، یہ جگہ جگہ آپ کو عبارتوں میں کام آئے گا، جہاں بھی كُلُّ کے لفظ پر تنوین آ جائے، آپ ‏سمجھ جائیں کہ یہ تنوین عوض ہے مضاف الیہ کی بھئی۔ أراهم، أرى يرى کا معنیٰ دیکھنا۔ أصبحوا، أصبح يصبح افعالِ ناقصہ میں سے ہے اور یہاں یہ صار کے معنیٰ میں ہے، ہو ‏جانا، صار۔ يعقلونه، عقل يعقل کے معنیٰ ہوتے ہیں دیت ادا کرنا۔ اور يعقلونه، یہ ہا ضمیر پیچھے جو مقتولین آئے جن کے ‏نام ذکر ہوئے، ان کی طرف راجع ہے، وہ مراد ہیں، يعقلونه، کہ لوگ کیا کر رہے ہیں؟ ان کی دیت ادا کر رہے ہیں۔ اس پر ‏آپ کے ذہن میں اشکال آئے گا کہ يعقلونه کے آخر میں تو ہا ضمیر واحد مذکر کی ہے اور جو مقتولین ہیں وہ تو جمع ہیں؟ ‏تو جواب یہ کہ يعقلونه کی ہا ضمیر جو پیچھے آیا نا فَكُلًّا، اس کو راجع ہے، اور كُلًّا اصل میں کیا ہے؟ كل واحد، ہر ایک، ‏ان میں سے ہر ایک، تو يعقلونه، ان میں سے ہر ایک کی وہ دیت ادا کر رہے ہیں۔ تو یہ ہا ضمیر جو ہے، يعقلونه کے آخر ‏میں جو ہا ضمیر ہے، یہ فكل واحد کو راجع ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اور کل تو مضاف ہے اور واحد آگے وہ تو ‏مفرد ہے، تو مفرد کی ضمیر لوٹا دی۔ صحيحات مال، صحیحاتِ مال سے عمدہ مال مراد ہے، صحیح مال یعنی عمدہ اور اعلیٰ مال۔ طالعات، طالعات، طلع يطلع کا ‏معنیٰ ہے طلوع ہونا، طلعت الشمس، سورج طلوع ہوا۔ اور اسی طرح طلع يطلع کا معنیٰ ہے پہاڑ پر چڑھنا، کسی چیز پر ‏چڑھنا، طلع يطلع۔ مخرم، مخرم کہتے ہیں پہاڑ یا ریت میں جو راستہ ہو اس کو کہتے ہیں مخرم، مخرم۔ اسی طرح پہاڑ یا ‏کسی ٹیلے وغیرہ کے اوپر کا جو سر ہے، اوپر کی جو چوٹی ہے، اس کو بھی مخرم کہتے ہیں، مخرم۔ تو زندگی کا کوئی ‏لطف ہی نہ ہوتا بھئی۔ تکلیف آتی ہے، جیسے ہی گزرتی ہے، کتنی خوشی ہوتی ہے، کتنی راحت ہوتی ہے۔ سبق پڑھتے ہیں، جیسے ہی چھٹیاں ‏آتی ہیں، کتنی خوشی ہوتی ہے۔ اور اگر مسلسل چھٹیاں رہیں، تو کچھ دنوں میں آدمی اکتا جاتا ہے، تنگ آ جاتا ہے کہ اب ‏سبق شروع ہونے چاہئیں بھئی۔ جی، سبق سے اب مثال اچھی طرح سمجھ میں آ گئی آپ کو۔ وَأَعْلَمُ مَا فِي الْيَوْمِ وَالأَمْسِ قَبْلَهُ وَلَكِنَّنِي عَنْ عِلْمِ مَا فِي غَدٍ عَمِي علم یعلم کے معنیٰ جاننا۔ اليوم بھئی، آج، آج۔ یوم دن کو کہتے ہیں اور اليوم، الف لام ہو تو اس کا معنیٰ ہوتا ہے آج۔ ‏والأمس، امس کہتے ہیں گزشتہ دن، جو گزر گیا بھئی، گزشتہ کل۔ گزشتہ کل، بھئی اردو میں تو ہم کل کا لفظ بولتے ہیں، ‏جو گزرا ہو اس کو بھی کل کہتے ہیں، جو آنے والا ہے اس کو بھی کل کہتے ہیں۔ کل میں نے یہ کام کیا تھا، دیکھا گزشتہ ‏کل مراد ہے۔ کل میں آپ کے پاس آؤں گا، دیکھو اس کے لیے بھی کل کا لفظ ہے۔ لیکن عربی میں دونوں کے لیے الگ ‏الگ ہیں، گزشتہ کل کے لیے لفظ بولتے ہیں امس، امسِ، امسِ۔ اور آنے والے کل کے لیے لفظ بولتے ہیں غدٍ، غد بھئی۔ ‏بات سمجھ میں آ گئی؟ ولکننی عن علم ما فی غد عمي، غدٍ، غد بھئی، کل آنے والا دن جو ہے۔ عمي، اعمیٰ کا معنیٰ ہے اندھا، اندھا، اسی طرح ‏عمي، آخر میں یا ہے، عمي، اس کا معنیٰ بھی ہے اندھا۔ اسی طرح عمي کا ایک معنیٰ آتا ہے جاہل کے بھی بھئی، جاہل، نا ‏علم جس کو پتہ نہ ہو، یہاں یہ جاہل کے معنیٰ میں ہے، نا علم کے معنیٰ میں ہے۔ تو یہ شاعر زہیر اپنی، میں نے بتلایا اب کچھ نصیحتیں کر رہا ہے اور زندگی کے تجربات بیان کر رہا ہے، کہتا ہے، ‏وأعلم ما في اليوم، اور میں جانتا ہوں آج جو کچھ ہے، آج کے دن میں، والأمس قبله، اور وہ جو گزشتہ کل تھا اس سے ‏پہلے۔ آج کے دن میں جو کچھ ہے میں وہ بھی جانتا ہوں کیونکہ میں اس کا مشاہدہ کر رہا ہوں، میری آنکھوں کے سامنے ‏ہے، جو کل جو کچھ ہو چکا وہ بھی میں جانتا ہوں کیونکہ میں نے اس کو مشاہدہ کر لیا، اس کو دیکھ لیا۔ ولكنني عن علم ما ‏في غد عمي، لیکن میں، عن علم ما في غد، وہ جو کل ہوگا اس کے علم سے، عمي، میں اس سے نا علم ہوں۔ جو کچھ کل ہوگا ‏میں اس سے نا علم ہوں، مجھے کل آنے والے دن کے بارے میں کچھ پتہ نہیں کہ کل کیا ہوگا۔ آج کو بھی جانتا ہوں، ماضی ‏کو بھی جانتا ہوں، لیکن مستقبل کے بارے میں میں نہیں جانتا۔ وأعلم ما في اليوم والأمس قبله، امس کسے کہتے ہیں؟ گزشتہ کل۔ قبله، یہ اسی سے حال یا صفت ہے۔ وہ گزشتہ کل، قبله، أي ‏قبل اليوم، جو آج سے پہلے تھا۔ آج سے پہلے تھا، بھئی گزشتہ کل تو ہوتا ہی آج سے پہلے ہے، تو یہ صفت ہے تاکید کے ‏طور پر۔ کس طور پر ہے؟ مثلاً آپ کہتے ہیں جائني رجل واحد، جائني رجل واحد، اب رجل تو کہتے ہی ایک کو ہیں، تو یہ ‏واحد صفت تاکید کے طور پر لے آئے، تو کبھی صفت کس لیے لائی جاتی ہے؟ تاکید کے لیے، معنیٰ میں تاکید پیدا کرنے ‏کے لیے۔ تو یہاں پر بھی امس کے بعد جو قبل کی صفت آئی، یہ تاکید کے لیے ہے۔ وأعلم ما في اليوم والأمس قبله، اور میں ‏جانتا ہوں وہ جو آج کے دن میں ہے اور وہ جو گزشتہ کل تھا اس آج سے پہلے، ولكنني عن علم ما في غد عمي، لیکن میں ‏جو کل ہوگا اس کے علم سے، عمي، میں اس سے نا علم ہوں، میں اس سے جاہل ہوں۔ رَأَيْتُ الْمَنَايَا خَبْطَ عَشْوَاءَ مَنْ تُصِبْ تُمِتْهُ وَمَنْ تُخْطِئْ يُعَمَّرْ فَيَهْرَمِ رأیت، رأى يرأى اس کا معنیٰ ہے دیکھنا، اور یہ دیکھنا دو قسم پر ہے، ایک رؤیتِ بصری ہے، ایک رؤیتِ قلبی ہے۔ ‏رؤیتِ بصری آنکھوں سے کسی چیز کو دیکھنا، اور یہ ایک مفعول چاہتا ہے، رأيت زيدا، میں نے کس کو دیکھا؟ زید کو ‏دیکھا، اور رؤیتِ قلبی جو ہے، وہ افعالِ قلوب میں سے ہے اور وہ دو مفعول چاہتی ہے، رأيت زيدا عالما، اور یہ جاننے ‏کے معنیٰ میں ہے، رأيت زيدا عالما، میں نے زید کو عالم جانا۔ تو یہ افعالِ قلوب میں سے ہے یہاں پر بھئی شعر میں، رأيت المنايا، منایا جمع ہے منیت کی، موت کو کہتے ہیں۔ خبط ‏عشواء، عشواء یاد رکھیے وہ اونٹنی جسے رات کو دکھائی نہ دے، اسے عشواء کہتے ہیں۔ اور خبط عشواء، خبط يخبط ‏کے معنیٰ ہیں دھکے کھانا اور بے تکے پن سے چلتے رہنا، جیسے وہ اندھی اونٹنی ہو رات کو اسے کچھ دکھائی نہیں ‏دیتا، تو وہ چلتے ہوئے کبھی کسی ایک چیز سے ٹکرائے گی، کبھی دوسری چیز سے ٹکرائے گی، کبھی گڑھے میں پاؤں ‏پڑ جائے گا، کبھی کسی اور چیز پر پاؤں پڑ جائے گا، تو یہ جو اونٹنی ہے، اس کا چلنا، بے بصیرت بغیر دیکھے، یہ کیا ‏ہے؟ خبطِ عشواء ہے۔ اونٹنی کا کچھ دکھائی نہ دے رہا ہو، بے تکے پن سے اس کا چلنا، یہ کیا ہے؟ خبطِ عشواء، خبطِ ‏عشواء ہے۔ عربی میں کہتے ہیں بھئی، فلان يخبط خبط عشواء، فلان يخبط خبط عشواء، جب کوئی کام بے سوچے سمجھے، بے ترتیب ‏اور بے عقلی سے کر رہا ہو، تو پھر کہتے ہیں فلان يخبط خبط عشواء، یہ تو کس کی طرح چل رہا ہے؟ اندھی اونٹنی کی ‏طرح چل رہا ہے، یہ اس کی طرح یہ کام کر رہا ہے۔ تو یہ خبط عشواء یہ آپس میں مضاف مضاف الیہ ہیں بھئی، خبط ہے مضاف اور عشواء ہے مضاف الیہ، اور یہ عشواء ‏پر آپ کہیں گے کہ پھر نصب کیوں آ رہا ہے؟ تو جواب یہ کہ نصب نہیں ہے، یہ جر ہی ہے، یہ اصل میں غیر منصرف ‏ہے بھئی عشواء، کیونکہ آخر میں الفِ تانیث آ رہا ہے اور الفِ تانیث خود دو سببوں کے قائم مقام ہے، تو یہ غیر منصرف ‏ہے اور غیر منصرف کا جر وہ آتا ہی فتحہ کی صورت میں ہے بھئی۔ تو خبط عشواء یہ آپس میں کیا ہیں؟ مضاف اور ‏مضاف الیہ بھئی۔ من تصب، أصاب يصيب کے معنیٰ ہیں پہنچنا۔ تمته، أمات يميت کے معنیٰ ہیں موت دینا۔ ومن تخطئ، أخطأ يخطي کے معنیٰ ‏ہیں خطا کرنا، خطا کرنا۔ اور یہاں معنیٰ ہے، ایسی خطا جس سے دوسرا بچ جائے۔ ایک عام خطا ہے نا، دیکھو آپ سے ‏کسی کام میں غلطی ہو جائے، اور ایک ہے مثلاً آپ اردو میں بھی بولتے ہیں، میں نے نشانہ لگایا مگر وہ خطا ہو گیا، ‏بولتے ہیں یا نہیں؟ یہ خطا، یعنی کوئی چیز بچ جائے، خطا کر جانا، یا یوں کہیں، مس ہو جائے، کوئی چیز کیا ہو جائے؟ ‏مس ہو جائے۔ يعمر، عمر يعمر تعمیر کا معنیٰ ہے عمر دینا، طویل زندگی دینا۔ اللہ کسی کو طویل زندگی دیں، تو کہیں گے ‏عمرہ اللہ، کہ اللہ نے اس کو طویل زندگی دی۔ اور يعمر، اسے طویل زندگی دی گئی۔ فيهرم، ہرم یہرم کے معنیٰ ہیں بہت ‏بوڑھا ہو جانا، کمزور ہو جانا، ضعیف ہو جانا۔ شاعر اپنی زندگی کے تجربات بیان کر رہا ہے اور نصیحتیں ذکر کر رہا ہے، کہتا ہے، رأيت المنايا خبط عشواء من تصب ‏تمته ومن تخطئ يعمر فيهرم، کہ میں نے موتوں کو دیکھا ہے خبط عشواء، کہ وہ اندھی اونٹنی کی طرح چلتی ہیں۔ میں نے ‏موت کو دیکھا ہے کہ وہ اندھی اونٹنی کی طرح بے سوچے سمجھے بے تکے پن سے چلتی ہے، یعنی موت یہ نہیں ‏دیکھتی کہ یہ شخص بوڑھا ہو گیا ہے یا بڑا بیمار ہے لہٰذا اب اس کی جان لینی ہے، نہیں، کبھی آپ دیکھتے ہیں، کبھی ‏کوئی بچہ فوت ہو رہا ہے، کبھی کوئی لڑکا فوت ہو رہا ہے، کبھی کوئی بوڑھا فوت ہو رہا ہے، کبھی جوان فوت ہو رہا ‏ہے، کبھی مرد فوت ہو رہا ہے، کبھی عورت فوت ہو رہی ہے۔ تو موت جو ہے وہ کوئی ترتیب اس میں نہیں ہے کہ آپ بوڑھے ہوں گے پھر ہی موت آئے گی، موت بے ترتیب آتی ہے، ‏کوئی پتہ نہیں کوئی جوانی میں چلا جاتا ہے، کوئی بچپن میں چلا جاتا ہے، اور کوئی بڑھاپے میں جاتا ہے بھئی۔ بہت ‏سے مریضوں کو آپ دیکھتے ہیں وہ بستر پر پڑے ہوئے ہیں، سالہا سال تک موت آ ہی نہیں رہی، اور آس پاس کبھی ایک ‏بچہ مر رہا ہے، کبھی دوسرا بچہ مر رہا ہے، کبھی ایک لڑکا مر رہا ہے، کبھی ایک جوان مر رہا ہے۔ تو موت جو ہے ‏کس کی طرح چلتی ہے؟ اندھی اونٹنی کی طرح چلتی ہے، اس میں کوئی ترتیب وغیرہ نہیں۔ معنیٰ یہ ہے موت کی تیاری رکھو بھئی۔ رأيت المنايا خبط عشواء، میں نے موت کو دیکھا ہے کہ وہ اندھی اونٹنی کی طرح ‏بے تکے پن سے چلتی ہے، من تصب، جس کو وہ پہنچتی ہے، تمته، اس کو مار دیتی ہے، اسے موت دے دیتی ہے، ومن ‏تخطئ، اور جس سے خطا کر جاتی ہے، يعمر، تو اس کو لمبی زندگی دے دی جاتی ہے، فيهرم، تو وہ انتہائی بوڑھا اور ‏کمزور ہو جاتا ہے۔ معنیٰ سمجھ میں آ گیا؟ وَمَنْ لَمْ يُصَانِعْ فِي أُمُورٍ كَثِيرَةٍ يُضَرَّسْ بِأَنْيَابٍ وَيُؤْطَأْ بِمَنْسِمِ صانع يصانع کے معنیٰ ہیں کسی سے اچھا برتاؤ کرنا، نرمی سے پیش آنا۔ يضرث، یہ ضرس سے ہے بھئی، ضاد رے ‏ثاء، ضرس، اور ضرس کہتے ہیں داڑھ کے جو دانت ہیں، داڑھ کے دانت، اور اسی سے فعل بنا لیا، ضرس يضرث ‏تضريسا، معنیٰ ہے داڑھ کے دانتوں سے کسی چیز کو کاٹنا یا چبانا۔ اور آپ جانتے ہیں داڑھ کے دانتوں میں زیادہ قوت ‏ہوتی ہے بنسبت سامنے کے دانتوں کے، بعض چیزوں کو آپ سامنے کے دانتوں سے نہیں توڑ سکتے تو داڑھ کے دانتوں ‏سے اس کو توڑ لیتے ہیں۔ اور انیاب، انیاب جمع ہے ناب کی، ناب کہتے ہیں کچلی کے دانت کو، کچلی کے دانت جانتے ہو ‏بھئی؟ یہ سامنے کے چار دانت چھوڑ کر اطراف میں دائیں بائیں یہ جو نوکیلے دو دانت ہیں، دو اوپر ہیں، دو نیچے ہیں، ‏یہ چار دانت جو ہیں، یہ انیاب کہلاتے ہیں، کچلی کے دانت، اردو میں کیا کہتے ہیں ان کو؟ کچلی کے دانت۔ اگر آپ غور کریں، یہ جتنے، جتنے سبزی خور جانور ہیں، گائے، بیل، بکری وغیرہ، ان کے سارے دانت ہموار ہوتے ‏ہیں، کیونکہ انہوں نے چارہ اور سبزی کھانی ہے، تو اس کے لیے ہموار دانت چاہئیں، تو اللہ نے ان کو ہموار دانت دیے ‏ہیں۔ اور یہ جو گوشت خور جانور ہیں، کتا، بلی، شیر وغیرہ، ان کو، اگر آپ دانت دیکھیں، ان کے سارے دانت نوکیلے ‏ہوتے ہیں، ایک بھی ہموار نہیں ہوتا کیونکہ انہوں نے گوشت کھانا ہے اور گوشت کے لیے نوکیلے دانت چاہئیں۔ اور انسان ‏کو اللہ تعالیٰ نے دونوں طرح کے دانت دیے ہیں، اس میں اشارہ ہے کہ یہ سبزی بھی کھا سکتا ہے اور گوشت بھی کھا ‏سکتا ہے۔ تو بعض لوگ کہتے ہیں کہ بھئی صرف سبزی کھانی چاہیے، صرف وہ سبزی خور ہوتے ہیں، گوشت کھاتے ‏ہی نہیں ہیں، حالانکہ قدرت نے نشانی دے دی، بتلا دیا، علامت دے دی کہ یہ انسان گوشت بھی کھا سکتا ہے اور سبزی ‏بھی۔ آگے دیکھیے بھئی، ويؤطا، وطئ يطأ کے معنیٰ ہیں روندنا، کسی چیز کو قدموں تلے روندنا۔ منسم، منسم یہ کھر کے ‏کنارے کو کہتے ہیں بھئی، یہ اونٹ کا پاؤں اگر آپ نے دیکھا ہو، اونٹ کے پاؤں کے اگلے حصے میں دو ناخن ہوتے ہیں ‏بھئی، تو ایک ان میں سے ہر ایک کو منسم کہتے ہیں، تو یہ جو اونٹ کے پاؤں کا کنارہ ہے، اس کے کھر کا کنارہ ہے۔ ومن لم يصانع، جی، شاعر بیان کر رہا ہے، نصیحت کر رہا ہے، ومن لم يصانع في امور كثيرة، اور جو شخص اچھا برتاؤ ‏نہیں کرتا، نرمی نہیں کرتا في امور كثيرة اکثر امور کے اندر، يضرث بأنیاب، اس کو، ضرس يضرث تضريس کا معنیٰ ‏کیا تھا؟ داڑھ سے کسی چیز کو کاٹنا، داڑھ سے چبانا، لیکن یہاں صرف کاٹنے کے معنیٰ میں ہے۔ تو يضرث بأنیاب، اس ‏کو کاٹا جاتا ہے بأنیا، دانتوں کے ساتھ، تو انیاب بھی دانت کے معنیٰ میں کر لیں بس۔ تو اس کو کاٹا جاتا ہے دانتوں سے، ‏جو شخص بہت سے معاملات میں نرمی نہیں کرتا اس کو دانتوں سے کاٹا جاتا ہے، یعنی جب لوگوں کے ساتھ سختی کرتا ‏ہے تو لوگ بھی اس پر رحم نہیں کرتے، کبھی ایک تکلیف پہنچا رہا ہے اس کو، کبھی دوسرا تکلیف پہنچا رہا ہے۔ ويؤطا ‏بمنسم، اور اس کو قدموں سے، کھروں سے روندھا جاتا ہے، یعنی ذلیل کیا جاتا ہے۔ شاعر نے کہا، ومن لم يصانع في امور كثيرة، اور جو کوئی بہت سے امور میں نرمی نہیں کرتا، یہ نہیں کہا تمام امور میں، ‏کیونکہ تمام امور میں تو نرمی ہو ہی نہیں سکتی، بات سمجھ میں آئی؟ ہاں، بعض جگہ تو سختی ضروری ہوتی ہے، اس ‏کے بغیر بات ہی نہیں بنتی، لیکن اکثر امور میں انسان کو کیا کرنا چاہیے؟ نرمی سے کام لینا چاہیے۔ ومن لم يصانع في امور كثيرة، تو شاعر نصیحت کر رہا ہے بھئی، نرمی کرنا زندگی کے معاملات میں، زیادہ سختی آپ ‏کے لیے نقصان کا باعث ہوگی بھئی، کہتا ہے ومن لم يصانع في امور كثيرة، اور جو شخص نرمی نہیں کرتا بہت سے ‏امور کے اندر، يضرث بأنیاب، اس کو دانتوں سے کاٹا جاتا ہے، دانتوں کے نیچے چبایا جاتا ہے، دانتوں سے چبایا جاتا ‏ہے یعنی اس کو تکلیف دی جاتی ہے، ويؤطا بمنسم، اور اس کو کھروں تلے روندھا جاتا ہے، یعنی اس کو ذلیل کیا جاتا ہے ‏ہر مقام پر۔ معنیٰ سمجھ میں آ گیا؟ چلیے بس، هذا هو المرام، والله أعلم بحقيقة الكلام۔