آگے سبق دیکھیے۔ فقَضَّوْا مَنَايَا بَيْنَهُمْ ثُمَّ أَصْدَرُوا إِلَى كَلَإٍ مُسْتَوْبَلٍ مُتَوَخَّمِ لَعَمْرُكَ مَا جَرَّتْ عَلَيْهِمْ رِمَاحُهُمْ دَمَ ابْنِ نَهِيكٍ أَوْ قَتِيلِ الْمُسَلَّمِ وَلَا شَارَكَتْ فِي الْمَوْتِ فِي دَمِ نَوْفَلٍ وَلَا وَهَبٍ مِنْهَا وَلَا ابْنِ الْمُخَزَّمِ فَقَضَّوْا، قَضَى يَقْضِي اور قَضَّى يُقَضِّي دونوں کا معنی ہے پورا کرنا، تکمیل تک پہنچانا، پورا کرنا۔ مَنَايَا، مَنَايَا جمع ہے مَنِيَّةٌ کی اور مَنِيَّةٌ موت کو کہتے ہیں۔ ثُمَّ أَصْدَرُوا، اَصْدَرَ يُصْدِرُ اِصْدَارٌ کا معنی ہے پانی پلا کر حیوان کو واپس لانا۔ گزشتہ شعر میں کیا ایا تھا؟ اَوْرَدَ، اَوْرَدَ کا ‏کیا معنی؟ حیوان کو پانی پر لانا اور اَصْدَرَ اس کی ضد ہے، یعنی حیوان کو پانی پلا کر واپس لے جانا۔ إِلَى كَلَإٍ، كَلَاٌء گھاس کو کہتے ہیں بھئی، گھاس۔ مُسْتَوْبَلٍ، مُسْتَوْبَلٍ یہ وَبِيْلٌ سے ہے بھئی، وَبِيْلٌ سے۔ اور وَبِيْلٌ کا معنی ہے سخت، سخت، اور اسی طرح وَبِيْلٌ کا معنی ہے ‏نقصان دہ چراگاہ، یعنی ایسی چراگاہ جس کا سبزہ حیوانات کو نقصان دیتا ہے، اس کو وَبِيْلٌ کہتے ہیں۔ تو اِسْتَوْبَلَ يَسْتَوْبِلُ ‏اِسْتِیْبَالٌ کا معنی ہے کہ کسی چیز کو وَبِيْلٌ پانا۔ اِسْتَوْبَلَ کا کیا معنی؟ کسی چیز کو وَبِيْلٌ پانا۔ وَبِيْلٌ کا معنی میں نے بیان کر ‏دیا سخت، یا اسی طرح نقصان دہ جو چراگاہ ہو۔ تو اِسْتَوْبَلَ کا معنی چراگاہ کو نقصان دہ پانا۔ تو مُسْتَوْبَلٌ اسم مفعول ہے، ‏جس کو نقصان دہ پایا گیا۔ مُتَوَخَّمِ، یہ کتابت کی غلطی ہے مُتَوَخِّمٍ نہیں ہے بھئی، یہ مُتَوَخَّمٍ ہے، خا پر زبر ہونا چاہیے شد اور زبر۔ مُتَوَخَّمٍ یہ وَخِيْمٌ ‏سے ہے بھئی، وَخِيْمٌ، طَعَامٌ وَخِيْمٌ عربی میں ایسے کھانے کو کہتے ہیں جو ہضم نہ ہو بھئی، جو ہضم نہ ہو یا دیر سے ‏ہضم ہو یا ایسا کھانا جو طبیعت کے موافق نہ ہو یا یوں کہیں جو کھانا نقصان دہ ہو، اس کو کیا کہتے ہیں؟ وَبِيْلٌ، طَعَامٌ ‏وَبِيْلٌ۔ اور اسی سے تَوَخُّمٌ کا معنی ہے کسی کھانے کو کھانے کو وَخِيْمٌ سمجھنا، وَخِيْمٌ پانا۔ تَوَخُّمٌ کا کیا معنی؟ کھانے کو ‏وَخِيْمٌ سمجھنا، وَخِيْمٌ پانا۔ تو مُتَوَخَّمٌ اسی سے اسم مفعول ایا، وہ کھانا جس کو کیا پایا جائے؟ وَخِيْمٌ پایا جائے جو نقصان دہ ‏ہو، ناقابل ہضم ہو، طبیعت کے موافق نہ ہو۔ الفاظ کے معنی سمجھ میں اگئے؟ فَقَضَّوْا مَنَايَا بَيْنَهُمْ تو انہوں نے پورا کیا مَنَايَا موتوں کو، اموات کو بَيْنَهُمْ اپس میں۔ ان لشکروں نے، ان قبیلے والوں نے اپس ‏میں موتوں کو پورا کیا۔ کیا معنی موتوں کو پورا کیا؟ یعنی بھئی معنی یہ ہے کہ خوب قتل و قتال کیا۔ سالہا سال تک ان ‏کے درمیان جنگ رہی تو انہوں نے خوب قتل و قتال کیا، یعنی موتوں کو خوب اچھی طرح پورا کیا بھئی، معنی سمجھ میں ‏اگیا؟ فَقَضَّوْا مَنَايَا بَيْنَهُمْ تو انہوں نے موتوں کو خوب پورا کیا، یعنی خوب قتل و قتال کیا۔ ثُمَّ أَصْدَرُوا پھر وہ حیوانات کو، اپنے ‏اونٹوں کو واپس لائے پانی پلا کر إِلَى كَلَإٍ کس کی طرف؟ ایسی گھاس کی طرف مُسْتَوْبَلٍ جو جو نقصان دہ تھی مُتَوَخَّمِ اور ‏طبیعت کے موافق نہیں تھی بھئی، معنی سمجھ میں ارہا ہے؟ بھئی گزشتہ سبق میں ایا تھا ذرا پچھلے شعر پہ نظر رکھیں، رَعَوْا زِمْئَهُمْ حَتَّى إِذَا تَمَّ أَوْرَدُوا، رَعَوْا زِمْئَهُمْ انہوں نے اپنے ‏حیوانات کو چرایا زِمْئَهُمْ دو پانی کی باریوں کے دو پانی پلانے کے درمیان کا جو وقت ہے اتنی مقدار اپنے حیوانات کو ‏چرایا، حَتَّى إِذَا تَمَّ یہاں تک کہ جب وہ وقت پورا ہو گیا أَوْرَدُوا غِمَارًا تو وہ اپنے حیوانات کو لائے غِمَارًا، غِمَارٌ کہتے ہیں ‏مَاءٍ كَثِيرٍ کو یعنی زیادہ پانی، زیادہ پانی، تو پھر وہ اپنے حیوانات کو مَاءٍ كَثِيرٍ پر لے کر ائے۔ مَاءٍ كَثِيرٍ پر۔ اور مَاءٍ كَثِيرٍ ‏پر لانا یہ کنایہ ہے، پانی کے پاس حیوان کو لانا یہ کنایہ ہے جنگ کرنے سے۔ پانی پلانے کے لیے حیوان کو لانا اس کو ‏کنایہ بنایا کس چیز سے؟ جنگ کرنے سے، یعنی پہلے پانی پلایا یعنی خوب جنگ کی، پھر درمیان میں تھوڑا وقفہ کیا اور ‏پھر دوبارہ پانی پلانے کے لیے مَاءٍ كَثِيرٍ پر حیوان کو لائے، یعنی دوبارہ جنگ کے لیے کیا ہو گئے؟ امادہ ہو گئے، معنی ‏سمجھ میں ارہا ہے؟ اور تَتَفَرَّعُ وہ ایسا کثیر پانی تَتَفَرَّعُ جو پھٹ رہا تھا یا پھٹ گیا تھا بِالسِّلَاحِ وَبِالدَّمِ اسلحے اور خون کی وجہ سے، دم سے ‏مراد خون سے مراد ہے خون کا بہانا۔ خون بہانا، یعنی خوب قتل و قتال، دم سے کیا مراد ہے؟ خوب قتل۔ رَعَوْا زِمْئَهُمْ انہوں ‏نے اپنے حیوانات کو دو پانی پلانے کے وقت کے درمیان کے برابر چرایا، حَتَّى إِذَا تَمَّ یہاں تک کہ جب وہ وقت پورا ہو ‏گیا أَوْرَدُوا غِمَارًا تو وہ اپنے اونٹوں کو لے کر ائے ایسے کثیر پانی پر تَتَفَرَّعُ جو پھٹ رہا تھا بِالسِّلَاحِ اسلحے کی وجہ سے ‏وَبِالدَّمِ اور قتل و قتال کی وجہ سے۔ تو یہ پانی پر لانا کنایہ ہے کس سے؟ جنگ سے۔ اب اسی کو اگے ذکر کر رہے ہیں، فَقَضَّوْا مَنَايَا بَيْنَهُمْ تو انہوں نے اپس ‏میں خوب قتل و قتال، انہوں نے اپس میں اموات کو اپس میں موتوں کو پورا کیا، یعنی خوب قتل و قتال کیا ثُمَّ أَصْدَرُوا پھر ‏وہ پھر اپنے حیوانات کو کہاں لے گئے؟ إِلَى كَلَإٍ کس کی طرف؟ گھاس کی طرف اور وہ گھاس کیسی تھی؟ مُسْتَوْبَلٍ مُتَوَخَّمِ ‏وہ نقصان دہ تھی اور طبیعت کے موافق نہیں تھی بھئی، طبیعت کے موافق نہیں تھی۔ معنی یہ ہے، ایسی گھاس جو نقصان دہ ہے اور طبیعت کے موافق نہیں ہے، اس کی طرف لے گئے حیوانات کو، یہ کنایہ ‏ہے دوبارہ جنگ کے لیے تیاری سے۔ مراد کیا ہے؟ وہ کیا کر رہے تھے؟ دوبارہ جنگ کے لیے تیاری، یہ درمیان میں ‏کچھ وقفہ دیا اور پھر دوبارہ جنگ کے لیے تیار ہوئے یا نہیں؟ تو یہ جو درمیان میں ایا گویا یہ بھی وہ جنگ کی تیاری ‏کے اندر مصروف تھے، اور جنگ کی تیاری میں مصروف ہونا اتنے زیادہ نقصانات اٹھانے کے بعد، یہ پسندیدہ ہے یا ‏ناپسندیدہ ہے؟ یہ ظاہر سی بات ہے یہ ناپسندیدہ ہے، ابھی تم نے اتنے سال جنگ کی ہے، تمہارے خاندان کے خاندان اجڑ ‏گئے، تمہارے سارے بڑے چلے گئے، پھر دوبارہ تم کس کی تیاری کر رہے ہو؟ جنگ کی تیاری کر رہے ہو، تو معلوم ‏ہوا یہ جو درمیان میں تھوڑا وقفہ دیا، یہ جو چراگاہ میں حیوان کو لے کر بھی ائے، یہ کس قسم کی چراگاہ تھی؟ یہ جو ‏تیاری تھی پسندیدہ تھی یا سخت ناپسندیدہ تھی؟ سخت ناپسندیدہ تھی، تو اس کو تعبیر کیا کس کے ساتھ؟ نقصان دہ اور ناقابل ‏ہضم گھاس کے ساتھ، یعنی اس کی طرح حیوانات کو لائے، معنی سمجھ میں بھی ارہا ہے کہ نہیں؟ یہ جو جنگ کی تیاری ‏کر رہے تھے یہ حیوانات کو یعنی کہاں پر لے کر ائے؟ چراگاہ میں، اور اس دوران وہ کیا کر رہے تھے؟ تیاری کر رہے ‏تھے، وہ ناپسندیدہ ہے تو معنی تو گویا اس چراگاہ کو اور اس کی گھاس کو کیا قرار دے دیا؟ نقصان دہ اور ناقابل ہضم ‏قرار دیا کہ درمیان میں جو پانی سے حیوانات کو واپس بھی لائے تو ایسی چراگاہ میں لے کر ائے جو نقصان دہ تھی اور ‏ناقابل ہضم تھی بھئی، معنی سمجھ میں اگیا؟ جبکہ بعض شارحین فرماتے ہیں کہ حیوانات کو پھر چراگاہ میں لے کر ائے، ایسی چراگاہ جو نقصان دہ تھی اور ناقابل ‏ہضم تھی۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اس خوب قتل و قتال کے بعد اب صلح کی بات چیت چل رہی ہے، اب دیتیں وصول کر ‏رہے ہیں اور مال حاصل ہو رہا ہے، لیکن یہ مال پسندیدہ نہیں، کیونکہ اپنے کتنے ہی قیمتی لوگ چلے گئے ان کے بدلے ‏میں یہ مال لے رہے ہیں، تو یہ کوئی اچھا اور پاکیزہ مال نہیں ہے بھئی، بڑے ہی نقصانات کے بعد ملا ہے بھئی، بات ‏سمجھ میں اگئی؟ تو اب اس صورت میں اس نقصان دہ گھاس اور ناقابل ہضم گھاس سے کیا مراد ہے؟ وہ جو دیتیں لے ‏رہے ہیں اپنے مقتولین کی اور یقیناً وہ کوئی پسندیدہ مال نہیں، اچھے طریقے سے ہاتھ میں نہیں ایا، معنی سمجھ میں اگیا؟ اگے دیکھیے بھئی، لَعَمْرُكَ مَا جَرَّتْ عَلَيْهِمْ رِمَاحُهُمْ دَمَ ابْنِ نَهِيكٍ أَوْ قَتِيلِ الْمُسَلَّمِ، لَعَمْرُكَ یہ ابھی چند اشعار پہلے گزرا تھا ‏بھئی لَعَمْرِي، لَعَمْرِي لَنِعْمَ الْحَيُّ جَرَّ عَلَيْهِمُ بِمَا لَا يُؤَاتِيهِمْ حُسَيْنُ بْنُ ضَمْضَمِ، اور میں نے بتلایا تھا یہ کلام عرب میں اس طرح ‏عام استعمال کیا جاتا ہے، عمر کی قسم اٹھائی جاتی ہے، کلام کو حسین بنانے کے لیے۔ عمر کسے کہتے ہیں؟ وہ عرصہ ‏حیات جو انسان نے دنیا میں گزارا ہو، وہ اس کی عمر ہے، اور اسی پر اسی کی قسم اٹھاتے ہیں تو قسم کے اندر پھر عمر ‏میں عین پر ضمہ کے بجائے فتحہ پڑھتے ہیں تخفیف کے لیے، لَعَمْرِي، سمجھ میں ایا بھئی؟ اور یہاں پر کیا ہے لعمرك، میں کس کی قسم کھاتا ہوں؟ تیری عمر کی یعنی تیری زندگی کی میں قسم کھاتا ہوں۔ ما جرت عليهم، جر عليهم یہ بھی اسی شعر میں آیا تھا، لعَمْرِي لَنِعْمَ الحَيُّ جَرَّ عَلَيْهِمُ، بِمَا لاَ يُؤَاتِيهِمْ حُسَيْنُ بْنُ ضَمْضَمِ۔ جر ‏عليهم کا معنیٰ میں نے کیا بتلایا تھا؟ کسی کے خلاف جنایت کرنا بھئی، کسی کے خلاف، کسی کے خلاف جرم کا ارتکاب ‏کرنا۔ رماح بھئی، نیزوں کو کہتے ہیں بھئی، نیزے۔ تو رماح جمع ہے رمح کی، نیزے کو کہتے ہیں۔ دم ابن نہيك، ابن نہیک یہ ‏آدمی کا نام ہے بھئی، نہیک کا بیٹا، او قتيل، قتیل بمعنیٰ مقتول کے ہے بھئی، مسلم، مسلم یہ جگہ کا نام ہے۔ لعمرك ما جرت عليهم رماحهم دم ابن نهيك أو قتيل المسلم یہ اب دوبارہ شاعر ان سرداروں کی تعریف کر رہا ہے جنہوں نے اس جنگ کو ختم کیا۔ لعمرك، تیری زندگی کی قسم، ما ‏جرت عليهم رماحهم، نہیں جرم کیا ان کے خلاف رماحهم ان کے نیزوں نے، توجہ ہے؟ ان کے نیزوں نے یعنی یہ جو دو ‏سردار جنایتیں ادا کر رہے ہیں، ان کے نیزوں نے ان کے خلاف، جن کو وہ دیتیں دے رہے ہیں، یہ جو دو سردار ہیں کیا ‏یہ جنگوں میں شریک تھے؟ انہوں نے کوئی جنایت کی ہے؟ کوئی جنایت نہیں کی، تو ان کے نیزوں نے ان کے خلاف ‏کوئی جنایت نہیں کی، لیکن پھر بھی یہ کیا کر رہے ہیں؟ ان کی دیتیں ادا کر رہے ہیں۔ لعمرك، تیری زندگی کی قسم، ما جرت عليهم رماحهم، نہیں کی ان کے خلاف کوئی جنایت رماحهم ان کے نیزوں نے، یعنی ‏یہ جو دو سردار ہیں اور جو ان کے معاونین ہیں، انہوں نے ان کے خلاف کوئی جنایت نہیں کی۔ اچھا جنایت نہیں کی، کس چیز کی؟ دم ابن نہيك، ابن نہیک کے بیٹے کے خون کی، او قتيل المسلم، یہ قتیل کا عطف ہے ابن ‏نہیک پر، أي دم قتيل المسلم، مقامِ مسلم کے مقتول کے خون کی۔ ان لوگوں نے جنایت نہیں کی، کس چیز کی جنایت نہیں کی؟ ‏نہیک کے بیٹے کے خون کی جنایت بھی انہوں نے نہیں کی اور مقامِ مسلم میں جو مقتول ہوا تھا، اس مقتول کے خون کی ‏جنایت بھی ان کے، ان کے نیزوں نے نہیں کی۔ معنیٰ سمجھ میں آ گیا؟ لعمرك ما جرت عليهم رماحهم دم ابن نهيك أو قتيل المسلم تیری عمر کی قسم، نہیں جنایت کی ان کے نیزوں نے ان لوگوں کے خلاف، ابن نہیک کے قتل کی اور نہ مقامِ مسلم کے ‏مقتول کے خون کی۔ ولا شاركت في الموت في دم نوفل ولا وهب منها ولا ابن المخزم شارک یشارک کے معنیٰ شریک ہونا۔ اور شارکت، ہِیَ ضمیر راجع ہے پیچھے جو رماح کا ذکر آیا تھا۔ رماح جمع ہے اور ‏جمع بتاویلِ جماعت کس کے حکم میں ہے؟ واحد مونث کے حکم میں، تو ہِیَ ضمیر راجع کی، اور وہ نیزے شریک نہیں ‏ہیں فی الموت۔ اچھا تو یہ دمِ نوفل، نوفل بھی ایک آدمی کا نام بھئی۔ ولا وهب منها، وہب بھی آدمی کا نام، ولا ابن المخزم، اور مخزم یہ ‏بھی آدمی کا نام ہے بھئی۔ ولا شاركت في الموت، اور نیز یہ نیزے شریک نہیں ہوئے فی الموت، موت میں، في دم نوفل، ‏نوفل کے خون میں، ولا وهب منها، اور نہ جو وہب تھا منها، ان میں سے۔ ہا ضمیر پھر پیچھے یہ جو مقتولین کا ذکر چل ‏رہا ہے بھئی۔ یہ مقتولین اور جمع بتاویلِ جماعت کس کے حکم میں ہے؟ واحد مونث، اسی لیے منها، ہا ضمیر ان کی ‏طرف راجع کی۔ منها، اور بعض نسخوں میں ہے منہم بھئی، منہم، کیونکہ یہ جمع ہے تو ہم ضمیر بھی لوٹا سکتے ہیں اور ‏واحد مونث کی بھی۔ ولا وهب منها، اور نہ جو وہب تھا ان میں سے، ولا ابن المخزم، اور نہ جو ابنِ مخزم تھا۔ یعنی ان ‏لوگوں کے نیزے نوفل کے خون میں بھی شریک نہیں ہوئے موت میں، ولا وهب منها، اور نہ جو وہب تھا ان میں سے اس ‏کے خون میں بھی شریک نہیں ہوئے، ولا ابن المخزم، اور ابنِ مخزم کے خون میں بھی یہ شریک نہیں ہوئے۔ معنیٰ سمجھ ‏میں آ رہا ہے؟ یہ کس کی بات چل رہی ہے؟ جنہوں نے دیتیں ادا کیں، وہ جو دو سردار ہیں اور ان کے معاونین ہیں، ان کے ‏بارے میں کہتا ہے کہ ان کے نیزوں نے، یہ جو دیتیں ادا کر رہے ہیں جن لوگوں کو، ان کے خلاف انہوں نے کوئی جرم ‏نہیں کیا، پھر بھی یہ دیتیں ادا کر رہے ہیں۔ معنیٰ سمجھ میں آ گیا؟ یہ بعض شارحین نے یہ معنیٰ کیا، توجہ ہے؟ جبکہ بعض شارحین فرماتے ہیں، توجہ ہے ادھر؟ بعض شارحین فرماتے ‏ہیں کہ یہ جو افراد ذکر ہوئے، ابنِ نہیک، مقامِ مسلم میں مقتول جو شخص ہوا جس کو قتل کیا گیا، نوفل، وہب، اور ابنِ ‏مخزم وغیرہ، یہ وہ لوگ ہیں جو اس جنگ سے پہلے مارے گئے تھے۔ ایک تو یہ جنگ ہوئی نا ان میں 30، 40 سال تک، ‏توجہ ہے؟ ایک اس جنگ سے کچھ لوگ پہلے بھی کبھی کسی لڑائی وغیرہ میں کوئی جھگڑا ہو گیا یا کچھ مارے گئے ‏تھے۔ تو ان کی دیتیں بھی یہ قبیلہ عبس والے اب وصول کر رہے ہیں۔ بھئی دیتیں وصول کرنی ہیں تو صرف ان کی ‏وصول کرو نا، یہ جو جنگ ہوئی، جنگ کے اندر جتنے افراد مارے گئے، کیا کرو؟ ٹھیک ہے آپ ان کی دیتیں وصول ‏کریں کہ ہمارے اتنے افراد اس جنگ میں مارے گئے، دیتیں دینی پڑیں گی۔ وہ جنگ سے پہلے جو لوگ مارے گئے تھے ‏کسی لڑائی وغیرہ میں، وہ کہتے ہیں ہمیں ان کی دیتیں بھی تم اب ادا کرو گے۔ معنیٰ سمجھ میں آ گیا؟ ان کی دیتیں بھی ادا ‏کر رہے ہو، اور یہ سارے افراد اس جنگ سے پہلے مارے گئے تھے، کسی لڑائی میں، کسی سے جھگڑا ہو گیا تو، اسی ‏ذبیان اور عبس میں ہی کسی ایک دو آدمیوں میں کبھی جھگڑا ہو گیا، قتل کر دیا۔ تو ان کی بھی دیتیں یہ مانگ رہے ہیں، تو ‏یہ جو شاعر کہہ رہا ہے کہ ان کے نیزوں نے ان کے خلاف جنایت نہیں کی، توجہ ہے؟ پہلے کیا کہا تھا، یہ نیزے، کس ‏کے نیزے مراد ہیں؟ وہ صلح کروانے والے، ان کے نیزوں نے کوئی جنایت نہیں کی، لیکن پھر بھی وہ کیا کر رہے ہیں؟ ‏دیتیں ادا۔ اب معنیٰ ہے قبیلہ ذبیان کے یہ جو موجودہ لوگ ہیں، قومِ ذبیان کے جو موجودہ لوگ ہیں جن پر یہ قبیلہ عبس والے دیتیں ‏ڈال رہے ہیں، اور جن لوگوں کی دیتیں ڈال رہے ہیں؟ ان لوگوں کی جو اس جنگ سے پہلے مارے گئے تھے، حالانکہ ان ‏لوگوں کے نیزوں نے تو ان کا خون نہیں بہایا بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو اب اس صورت میں اسی قبیلہ ذبیان کے یہ ‏جو جنگ، عام لوگ مراد ہیں جو جنگ میں بھی شریک تھے، لیکن بہرحال ان لوگوں کو، ان لوگوں کے قتل میں تو یہ ‏شریک نہیں تھے۔ معنیٰ سمجھ میں آ گیا؟ تو دونوں معانی شارحین نے کیے ہیں۔ دوبارہ دیکھ لیجیے بھئی، اب ترجمہ وہ کیجیے کہ یہ قبیلہ ذبیان والے ہی مراد ہیں۔ لعمرك ما جرت عليهم رماحهم دم ابن نهيك أو قتيل المسلم تیری عمر کی قسم، جنایت نہیں کی ان کے نیزوں نے ان لوگوں کے خلاف، دم ابن نهيك أو قتيل المسلم، ابن نہیک کے خون ‏کے اندر اور مقامِ مسلم کے مقتول کے خون میں۔ ولا شاركت في الموت في دم نوفل ولا وهب منها ولا ابن المخزم اور نہ ان کے نیزے شریک ہوئے ہیں موت کے اندر، في دم نوفل، نوفل کے خون میں، ولا وهب منها، اور نہ وہب کے ‏خون میں منها ان میں سے، ولا ابن المخزم، اور نہ ابنِ مخزم کے خون میں۔ معنیٰ سمجھ میں آ گیا؟ آگے دیکھیے۔ فكلا أراهم أصبحوا يعقلونه صحيحات مال طالعات بمخرم فَكُلًّا، یہ لام پر شد بھی ہونا چاہیے بھئی، شد اور تنوین، فَكُلًّا۔ یاد رکھیے، یہ كُلُّ جو ہے نا كُلُّ، یہ مضاف الیہ چاہتا ہے، ‏کل کا معنیٰ ہے سارے، کیا چیز سارے؟ آگے مضاف الیہ چاہیے، كلهم، وہ سارے کے سارے۔ تو کل کا کیا معنیٰ؟ سارے، ‏یا کل استعمال ہوتا ہے ہر ایک کے لیے، بھئی کس کا ہر ایک؟ آگے مضاف الیہ چاہیے، كل واحد، ان میں سے سارے۔ ‏لیکن کبھی کبھار یوں کرتے ہیں کہ اس کے مضاف الیہ کو حذف کر دیتے ہیں اور اس کے عوض اس پر تنوین لے آتے ‏ہیں، جیسے یہاں پر ہے، فَكُلًّا، أي فكل واحد منهم، عبارت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو یہ تنوین عوض ہے کس سے؟ مضاف ‏الیہ سے، یہ ضابطہ یاد رکھیں، یہ جگہ جگہ آپ کو عبارتوں میں کام آئے گا، جہاں بھی كُلُّ کے لفظ پر تنوین آ جائے، آپ ‏سمجھ جائیں کہ یہ تنوین عوض ہے مضاف الیہ کی بھئی۔ أراهم، أرى يرى کا معنیٰ دیکھنا۔ أصبحوا، أصبح يصبح افعالِ ناقصہ میں سے ہے اور یہاں یہ صار کے معنیٰ میں ہے، ہو ‏جانا، صار۔ يعقلونه، عقل يعقل کے معنیٰ ہوتے ہیں دیت ادا کرنا۔ اور يعقلونه، یہ ہا ضمیر پیچھے جو مقتولین آئے جن کے ‏نام ذکر ہوئے، ان کی طرف راجع ہے، وہ مراد ہیں، يعقلونه، کہ لوگ کیا کر رہے ہیں؟ ان کی دیت ادا کر رہے ہیں۔ اس پر ‏آپ کے ذہن میں اشکال آئے گا کہ يعقلونه کے آخر میں تو ہا ضمیر واحد مذکر کی ہے اور جو مقتولین ہیں وہ تو جمع ہیں؟ ‏تو جواب یہ کہ يعقلونه کی ہا ضمیر جو پیچھے آیا نا فَكُلًّا، اس کو راجع ہے، اور كُلًّا اصل میں کیا ہے؟ كل واحد، ہر ایک، ‏ان میں سے ہر ایک، تو يعقلونه، ان میں سے ہر ایک کی وہ دیت ادا کر رہے ہیں۔ تو یہ ہا ضمیر جو ہے، يعقلونه کے آخر ‏میں جو ہا ضمیر ہے، یہ فكل واحد کو راجع ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اور کل تو مضاف ہے اور واحد آگے وہ تو ‏مفرد ہے، تو مفرد کی ضمیر لوٹا دی۔ صحيحات مال، صحیحاتِ مال سے عمدہ مال مراد ہے، صحیح مال یعنی عمدہ اور اعلیٰ مال۔ طالعات، طالعات، طلع يطلع کا ‏معنیٰ ہے طلوع ہونا، طلعت الشمس، سورج طلوع ہوا۔ اور اسی طرح طلع يطلع کا معنیٰ ہے پہاڑ پر چڑھنا، کسی چیز پر ‏چڑھنا، طلع يطلع۔ مخرم، مخرم کہتے ہیں پہاڑ یا ریت میں جو راستہ ہو اس کو کہتے ہیں مخرم، مخرم۔ اسی طرح پہاڑ یا ‏کسی ٹیلے وغیرہ کی کے اوپر کا جو سر ہے، اوپر کا جو، اوپر کی جو چوٹی ہے، اس کو بھی مخرم کہتے ہیں، مخرم۔ فکلًّا ارائہم أسبحوا یعقلونہ۔ فکلًّا، وہ سارے کے سارے، ای فکلّ واحدٍ منھم، وہ سارے کے سارے، کون سارے کے ‏سارے؟ جو پیچھے مقتولین ذکر ہوئے۔ فکلًّا، یعنی یہ سارے کے سارے جو مقتولین ہیں، ارائہم، میں ان کو دیکھتا ہوں، ‏أسبحوا، کہ وہ ہوگئے ہیں، یعقلونہ، یہ لوگ کیا کر رہے ہیں؟ ان کی دیتیں ادا کر رہے ہیں۔ وہ سارے کے سارے مقتولین میں ان کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ کیسے ہوگئے ہیں کہ یہ یہ یہ لوگ کیا کر رہے ہیں؟ ان کی ‏دیتیں ادا کر رہے ہیں، حالانکہ وہ تو اس جنگ سے پہلے مارے گئے تھے، ان کی دیت تو یہاں، ان کی دیت تو اس جگہ پر ‏نہیں ہونی چاہیے تھی۔ فکلًّا ارائہم أسبحوا یعقلونہ، ان سارے مقتولوں کو میں دیکھتا ہوں کہ وہ ایسے ہوگئے ہیں کہ یہ لوگ ان کی دیتیں ادا کر ‏رہے ہیں۔ دیتیں، اور کیا ادا کر رہے ہیں؟ صحیحاتِ مالٍ، عمدہ قسم کا مالٍ، طالعاتٍ بمخرمی، عمدہ قسم کا مال۔ اور وہ مال ‏کیا ہے؟ طالعاتٍ، وہ مال یعنی وہ اونٹ وغیرہ، طالعاتٍ بمخرمی، پہاڑ کے راستے پر چڑھ رہے ہیں۔ بھئی ان اونٹوں کو لے جایا جا رہا ہے، ریوڑوں کی صورت میں، ادائیگی کے لیے۔ کہاں پر لے جا رہے ہیں؟ پہاڑ کے ‏اندر جو راستہ ہے چڑھائی کی طرف، اس راستے پر لے جا رہے ہیں۔ ان سارے مقتولین کی دیتیں ادا کی جا رہی ہیں۔ ‏معنی سمجھ میں آگیا۔ فکلًّا ارائہم أسبحوا یعقلونہ صحیحاتِ مالٍ طالعاتٍ بمخرمی، پس وہ سارے مقتولین جو ہیں، ان کو میں دیکھتا ہوں کہ وہ ‏ایسے ہوگئے ہیں کہ یہ لوگ ان کی دیتیں ادا کر رہے ہیں عمدہ قسم کا مال، طالعاتٍ بمخرمی، جو پہاڑ کے راستوں میں ‏چڑھ رہے ہیں، بلندی کی طرف جا رہے ہیں، یعنی ادائیگی کے لیے ان کی طرف لے جائے جا رہے ہیں۔ لحیٍّ حلالٍ یعصم الناس أمرھم، إذا طرقت إحدى اللیالی بمعظمی۔ لحیٍّ حلالٍ، یہ کتابت کی غلطی درست کرلیجیے۔ لحیٍّ، یہاں ‏تنوین آئے گی بھئی، تنوین۔ لحیٍّ، دو زیریں۔ اور یہ لحیٍّ موصوف ہے، اور حلالٍ اس کی صفت ہے بھئی۔ لحیٍّ حلالٍ۔ تو لحیٍّ حلالٍ یعصم الناس أمرھم إذا طرقت إحدى اللیالی بمعظمی۔ لحیٍّ، حیٌّ کہتے ہیں قبیلے کو۔ حلال، حلال جمع ہے حلّۃٍ ‏کی، حلّۃٍ۔ اور یہ حلّۃٍ حلول سے ہے بھئی، حلول سے۔ پڑاؤ ڈالنا، کہیں پر اترنا، نازل ہونا، آنا۔ تو حلّۃٍ کہتے ہیں پڑاؤ ڈالے ہوئے، یعنی مقیم لوگ۔ جو مقیم لوگ ہیں، ان کو کیا کہتے ہیں؟ حلّۃٍ۔ وہ لوگ جو پڑاؤ ڈالے ‏ہوئے، ایک جگہ پر مقیم ہوں، ان کو حلّۃٍ کہتے ہیں۔ اور علماء فرماتے ہیں کہ حلّۃٍ کم از کم دو سو گھر پڑاؤ ڈالے ہوئے ‏ہوں، تو ان کو حلّۃٍ کہتے ہیں بھئی۔ کم از کم کتنے گھر ہوں؟ کم از کم دو سو گھر پڑاؤ ڈالے ہوئے ہوں، تو ان کو حلّۃٍ کہتے ‏ہیں، اور اسی کی جمع ہے خلال، تو اس میں اور بھی کثرت آگئی بھئی۔ لحیٍّ خلالٍ، تو وہ کیا ہیں؟ مقیم قبیلے ہیں بھئی، مقیم ‏قبیلے۔ اور اس سے مراد وہ دو سردار جو دیت اپنی جانب سے ادا کر رہے ہیں، اور جو ان کے معاونین ہیں، وہ قبیلے مراد ہیں ‏اس سے۔ یعصم، عاصم، یعصم کا معنی ہے حفاظت کرنا۔ أمرھم، ان کا امر، ان کا ان کا حکم۔ یا ان کا فیصلہ۔ إذا طرقت، طرق یطرق ‏کا معنی ہے، رات کو آنا۔ رات کو آنا۔ اسی طرح طرق یطرق کے معنی ہیں دروازہ کھٹکھٹانا۔ دروازہ کھٹکھٹانا۔ جی، تو طرق یطرق کا ایک معنی کیا ہے؟ رات کو آنا۔ اور اس کا ایک معنی کیا ہے؟ دروازہ کھٹکھٹانا۔ اور طارق، طارق ‏کا معنی ہے رات کو آنے والا یا دروازہ کھٹکھٹانے والا۔ جیسے ایک شاعر کہتا ہے: طرقت الباب حتّی کلّمتنی، ولما کلّمتنی ‏کلّمتنی۔ طرقت الباب، شاعر کہتا ہے میں اپنی معشوقہ سے ملنے آیا، طرقت الباب، تو میں نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ حتّی ‏کلّمتنی، یہاں تک کہ کلّمتنی، کلّ یا کلّ کے معنی تھکا دینا۔ متن کہتے ہیں کمر کو۔ حتّی کلّمتنی، یہاں تک کہ اس نے میری ‏کمر تھکا دی، یعنی مجھے خوب انتظار کروایا۔ حتّی کلّمتنی، یہاں تک کہ اس نے مجھے تھکا دیا۔ ولما کلّمتنی، اور لیکن ‏جب اس نے میرے ساتھ باتیں کیں، کلّمتنی، تو مجھے زخمی کر دیا، یعنی میرے دل کو زخمی کر دیا۔ یہ ہے صنعتِ جناس ‏بھئی۔ صنعتِ جناس اسے کہتے ہیں؟ کہ ایسے الفاظ کلام میں لائیں، جن کا تلفظ ایک جیسا ہو اور معنی الگ الگ ہوں۔ دیکھو ‏طرقت الباب حتی کلّمتنی ولما کلّمتنی کلّمتنی۔ تین لفظ ہیں کلّمتنی لیکن تینوں کا معنی الگ۔ پہلا کیا ہے؟ کلّ، متنی۔ کلّ الگ ‏ہے اور متنی الگ۔ لیکن بولیں گے تو اکٹھا پڑھا جائے گا کلّمتنی۔ تھکا دینا۔ اور دوسرا ہے کلّمتنی، کلام کرنا۔ جب اس نے ‏میرے ساتھ کلام کیا۔ اور تیسرا وہی کلّم، اس کا معنی ہے زخمی کر دینا تو اس نے مجھے، یعنی میرے دل کو زخمی کر ‏دیا۔ جی، یہ طرق یطرق کا معنی میں نے بیان کر دیا۔ إحدى اللیالی، راتوں میں سے کوئی ایک۔ بمعظمی، یاد رکھیے معظم و ‏شے کہتے ہیں کسی چیز کا بڑا یا اکثر حصہ۔ معظم و شے، کسی چیز کا بڑا یا اکثر حصہ۔ اسی طرح کوئی اہم یا سنگین ‏معاملہ ہو، اس کو بھی معظم کہتے ہیں، یعنی کوئی مصیبت وغیرہ ہو، اس کو بھی کیا کہتے ہیں؟ معظم۔ اور یہاں یہ ‏مصیبت کے معنا میں ہے۔ کوئی بڑی مصیبت۔ لحیٍّ حلالٍ یعصم الناس أمرھم، شاعر نے کیا کہا؟ کہ میں دیکھ رہا ہوں ان سارے مقتولین کی دیتیں ادا کی جا رہی ہیں۔ عمدہ ‏قسم کے اونٹ ہیں، پہاڑوں کے اندر راستوں پر چڑھ رہے ہیں، ان قبیلے والوں کی طرف لے جائے جا رہے ہیں۔ اور یہ ‏سارا مال کس کا ہے؟ لحیٍّ حلالٍ، ایک ایسے قبیلے کا ہے، خلالٍ، جو سارے مقیم ہیں۔ ایک ایسے قبیلے کا ہے جو مقیم ‏ہیں، بھئی آپ جانتے ہیں عرب کے لوگ خانہ بدوش تھے بھئی۔ جہاں کہیں پانی اور سبزہ وغیرہ ہوتا، وہاں خیمے لگا لیتے، کچھ عرصہ قیام کرتے، اور جب سبزہ اور پانی وغیرہ ختم ‏ہوتا، تو وہاں سے خیمے اکھاڑتے، کسی دوسری جگہ کا رخ کرتے۔ یعنی یوں کہیں، مفلس لوگ تھے جو جگہ جگہ مارے ‏مارے پھرتے تھے۔ لیکن یہ جو قبیلے ہیں، ان کے بارے میں شاعر کیا کہہ رہا ہے؟ لحیٍّ خلالٍ، یہ بڑے مالدار لوگ ہیں، یہ مارے مارے ‏پھرنے والے لوگ نہیں ہیں۔ لحیٍّ خلالٍ، یہ مال ایسے قبیلے کا ہے، خلالٍ، کہ وہ مقیم ہیں۔ وہ آسودہ حال ہیں، ان کی تمام ‏ضروریات یہیں پوری ہو جاتی ہیں۔ ان کو پانی اور سبزے کی تلاش کے لیے مارا مارا پھرنا نہیں پڑتا، بلکہ یہیں پر ان ‏کے لیے سارے اسباب موجود ہیں، یعنی خوب مالدار لوگ ہیں۔ معنی سمجھ میں آیا؟ حیٍّ خلالٍ، حیٌّ ہے موصوف، خلالٍ اس کی صفتِ اول ہے، اور یعصم الناس نکرہ کے بعد فعل آیا، تو یہ بھی اس کی صفت ‏بنے گا، تو یہ صفتِ ثانی ہے۔ وہ مال ایسے مقیم قبیلے کا ہے، یعصم الناس، جو لوگوں کی حفاظت کرتا ہے، أمرھم، ان کا فیصلہ۔ ان کا فیصلہ لوگوں کی ‏حفاظت کرتا ہے، کب؟ إذا طرقت إحدى اللیالی بمعظمی، جب کوئی ایک رات آ جائے بمعظمی، کس کے ساتھ؟ کسی بڑی ‏مصیبت کے ساتھ۔ یہ ایسے لوگ ہیں، بھئی تعریف کر رہا ہے شاعر ان لوگوں کی جنہوں نے دیتیں ادا کردیں اپنی طرف سے، حالانکہ ان ‏کے ذمے نہیں بنتا تھا۔ اور کہتا ہے یہ ایسے مقیم، یہ مقیم قبیلے والے ہیں، یعنی بڑے آسودہ حال ہیں، اور یہ ایسے لوگ ‏ہیں کہ جب لوگوں پر کوئی آفت آتی ہے، کوئی مصیبت آتی ہے، تو لوگ ان کے پاس پناہ کے لیے آتے ہیں۔ ان کا فیصلہ ‏لوگوں کی حفاظت کرتا ہے۔ جیسے اس جنگ کے اندر انہوں نے کیا کیا؟ اس جنگ کو ختم کر کے لوگوں کو بچا لیا بھئی، ‏لوگوں کی حفاظت کی۔ لحیٍّ خلالٍ، یہ مال جو ہے ایسے مقیم قبیلے کا ہے، یعصم الناس أمرھم، کہ یہ لوگوں کی حفاظت کرتا ہے، أمرھم، ان کا ‏فیصلہ۔ إذا طرقت إحدى اللیالی بمعظمی، طرقت کا کیا معنی تھا؟ رات کو آنا۔ رات کا تو خود ذکر آ رہا ہے، تو یہاں طرقت کا ‏معنی صرف کر لیں: آنا۔ إذا طرقت إحدى اللیالی، جب آ جائے راتوں میں سے کوئی ایک رات بمعظمی، کس کے ساتھ؟ کسی ‏بڑی مصیبت کے ساتھ۔ تو یہ باء کو بمع مع کے لیے ہے، جب کوئی ایک رات آ جائے مع بمعظمی، کس کے ساتھ؟ کسی بڑی مصیبت کے ساتھ۔ یا ‏یہ باء تعدیہ کے لیے بنا لیں۔ آپ جانتے ہیں، کبھی فعل کو متعدی بنانے کے لیے با لاتے ہیں۔ جیسے ذہبا کا معنی جانا، اور ‏ذہبا بہ کا معنی لے جانا۔ تو إذا طرقت إحدى اللیالی بمعظمی، جب لے آئے کوئی ایک رات کسی بڑی مصیبت کو۔ جب کوئی ‏رات کسی بڑی مصیبت کو لے آئے، تو یہ ایسا قبیلہ ہے کہ ان کا فیصلہ لوگوں کی حفاظت کرتا ہے، لوگ ان کے پاس پناہ ‏حاصل کرتے ہیں۔ معنی سمجھ میں آگیا؟ لحیٍّ حلالٍ یعصم الناس أمرھم إذا طرقت إحدى اللیالی بمعظمی۔ یہ مال جو ہے ایسے مقیم قبیلے کا ہے، یعنی ایسے آسودہ ‏حال قبیلے کا ہے، کہ لوگوں کی حفاظت کرتا ہے ان کا فیصلہ إذا طرقت إحدى اللیالی بمعظمی، جب کوئی ایک رات لے ‏آئے کوئی بڑی مصیبت۔ مصیبت کے ساتھ رات کو ذکر کیا بالخصوص، کیونکہ رات کے اندر بھی ہر طرف تاریکی ‏چھائی ہوتی ہے، اور انسان کو کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ تو اسی طرح مصیبت بھی کیا ہے؟ انسان کے لیے تکلیف کا باعث ‏ہے، تو اس لیے مصیبت کے ساتھ رات کو ذکر کیا کہ رات کی مناسبت ہے تکلیف کے ساتھ بھئی۔ معنی سمجھ میں آگیا۔ تو جیسے رات کے اندر تاریکی ہوتی ہے اور تاریکی بھی کوئی پسندیدہ چیز نہیں، اس لیے مصیبت کے ساتھ کس کو ذکر ‏کیا؟ رات کو ذکر کیا۔ تو یہ حیٍّ خلالٍ سے کون سے قبیلے مراد ہیں؟ وہ جو دو سردار جنہوں نے دیتیں ادا کی تھیں اپنی طرف سے، اپنی طرف ‏سے جو دیتیں جنہوں نے ادا کی تھیں، وہ ان کے قبیلے مراد ہیں کہ یہ بڑے زبردست لوگ ہیں، اور لوگ مالدار ہیں، آسودہ ‏حال ہیں، اور لوگ مصیبت کے وقت ان کے پاس پناہ پکڑتے ہیں۔ چلیے بس بھئی، ھذا ھو المرام، واللہ أعلم بحقیقۃ الکلام۔