بِهَا العِيْنُ وَالأَرْآمُ يَمْشِيْنَ خِلْفَةً وَأَطْلاَؤُهَا يَنْهَضْنَ مِنْ كُلِّ مَجْثَمِ وَقَفْتُ بِهَا مِنْ بَعْدِ عِشْرِيْنَ حِجَّةً فَلَأْياً عَرَفْتُ الدَّارَ بَعْدَ تَوَهُّمِ أَثَافِيَّ سُفْعاً فِي مُعَرَّسِ مِرْجَلٍ وَنُؤْياً كَجِذْمِ الحَوْضِ لَمْ يَتَثَلَّمِ کل ہم نے یہ معلقہ شروع کیا تھا، اور آپ نے پڑھا کہ شاعر کا گزر ہوا اس مقام سے جہاں پر کسی زمانے میں اس کی ‏عاشقہ کا، جو کہ اس کی بیوی بھی تھی پہلے، اس کا گھر تھا، اور اب وہاں پر وہ صرف اس کے نشانات، کچھ کھنڈرات ‏اور سیاہی مائل کھنڈرات، راکھ، گوبر اور مینگنیوں وغیرہ سے اٹے ہوئے وہ نشانات باقی ہیں۔ تو شاعر کہتا ہے:‏ أَمِنْ أُمِّ أَوْفَى دِمْنَةٌ لَمْ تَكَلَّمِ بِحَوْمَانَةِ الدَّرَّاجِ فَالْمُتَثَلَّمِ کہ اے امِ، دِمنِ امِ اوفیٰ یا ام یا امِ منازلِ امِ اوفیٰ، جو بھی موقع کے مطابق آپ نکال لیں۔ کیا یہ امِ اوفیٰ کے چھوڑے ہوئے ‏میلے آثار میں سے ایک اثر ہے یا اس کے گھروں میں سے ایک چھوڑا ہوا اثر ہے، لَمْ تَكَلَّمِ، جو جو بول نہیں رہا، یعنی ‏جواب نہیں دے رہا، بِحَوْمَانَةِ الدَّرَّاجِ فَالْمُتَثَلَّمِ، دراج اور متسلم کی سخت زمین میں۔ وَدَارٌ لَهَا بِالرَّقْمَتَيْنِ كَأَنَّهَا مَرَاجِيعُ وَشْمٍ فِي نَوَاشِرِ مِعْصَمِ اور کیا یہ اس کے گھروں میں سے ایک گھر ہے بِالرَّقْمَتَيْنِ، کہاں پر؟ دو حراوں کے بیچ، یا دو حراوں میں، یعنی یہ اس ‏کے گھروں میں سے دو گھر ہیں۔ دار بول کر کیا مراد ہے؟ دو گھر، کیونکہ یہ ظاہر سی بات ہے، دو حرے ہیں تو دو ہی ‏گھر ہوں گے، ایک گھر دونوں جگہ نہیں ہو سکتا۔ تو اور کیا یہ امِ اوفیٰ کے گھروں میں سے دو گھر ہیں دو حراوں میں، كَأَنَّهَا مَرَاجِيعُ وَشْمٍ فِي نَوَاشِرِ مِعْصَمِ، گویا کہ یہ گھر ‏جو ہیں مَرَاجِيعُ وَشْمٍ، دوبارہ گدوانے کے نشانات ہیں فِي نَوَاشِرِ مِعْصَمِ، کلائی کی رگوں میں، یعنی کلائی کے ظاہر میں۔ تو یہ گھر کس کی طرح ہیں؟ کلائی میں دوبارہ گدوائی کے نشانات کی طرح ہیں، یعنی ان کو سیلاب وغیرہ نے ظاہر کر ‏دیا ہے۔ اور كَأَنَّهَا، یہ ہا ضمیر کس کو راجع ہے؟ دار کو۔ گویا کہ یہ گھر جو ہے کس کی طرح ہے؟ ان گدوانے کے نشانات، تو ‏گھر تو نہیں ہے، گھر کے تو صرف نشانات ہیں، تو یہاں مضاف محذوف نکال لیں گے: كَأَنَّ رُسُومَهَا، گویا کہ اس گھر ‏کے جو نشانات ہیں، وہ کلائی میں دوبارہ گدوانے کے نشانات کی طرح ہیں۔ آگے دیکھیے:‏ بِهَا العِيْنُ وَالأَرْآمُ يَمْشِيْنَ خِلْفَةً وَأَطْلاَؤُهَا يَنْهَضْنَ مِنْ كُلِّ مَجْثَمِ عین جو ہے نا عين، یہ جنگلی گائے کو کہتے ہیں بھئی، جنگلی گائے، جمع ہے یہ بھئی۔ اعین اور اس کا مفرد کیا ہے؟ ‏اعین، جیسے اسود بھئی، اسود۔ تو اعین اور اسی کے مونث ہے عینا بھئی۔ جنگلی گائے کو اعین اور عینا کہتے ہیں۔ اور یہ عینٌ سے ہے، عین کس کو کہتے ہیں؟ آنکھ کو، تو ان کی بھی چونکہ ‏آنکھیں بڑی خوبصورت اور موٹی ہوتی ہیں، تو اس لیے ان کو کیا کہتے ہیں؟ اعین اور عینا کہتے ہیں بھئی۔ تو عین جمع ہے بھئی۔ وَالأَرْآمُ، یہ لفظ پہلے بھی گزرا ہے بھئی، کہاں پر؟ ترى بعر الأرآم۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا یہ آرام یا ارام دونوں طرح دو ‏لغتیں ہیں اس کے اندر، اور یہ جمع ہے ریمٌ کی، اور ریم کسے کہتے ہیں؟ ہرن کو، جبکہ بعضوں نے کہا خالص سفید ہرن ‏جو ہے، ہرن کی ایک خاص قسم ہے۔ اور یہ سفید خاص ہرن ہوتے ہیں عرب کے ریگستانوں میں پائے جاتے ہیں، اور ان ‏کی آنکھیں بے انتہا حسین و جمیل ہوتی ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں، تو یہاں یہ لفظ آرام پڑھیں بھئی آرام، ارام نہ پڑھیں آرام، زیادہ تر نسخوں میں آرام ہی ہے بھئی۔ اچھا، بِهَا العِيْنُ وَالأَرْآمُ يَمْشِيْنَ، مشى يمشي کے معنی چلنا۔ خِلْفَةً، خلفہ کا معنی ہے یکے بعد دیگرے آنا، ایک کے بعد ‏دوسرے کا آنا، ایک کے پیچھے دوسرے کا آنا۔ وَأَطْلاَؤُهَا، طلا جمع ہے طلا کی بھئی طلا، اور طلا یہ جانوروں کے بچے، ہرن یا گائے وغیرہ کے جو بچے ہیں ان کو ‏کہتے ہیں، اسی طرح انسان کے بچے کے لیے یہ لفظ استعمال کر لیا جاتا ہے۔ تو بچہ جب بہت چھوٹا ہو، بڑا کمزور ہو، ‏ابتدائی کچھ مدت، اس وقت اس کے لیے الطلا کا لفظ بولا جاتا ہے۔ نہض ينہض کے معنی ہیں اٹھنا، اٹھنا، کھڑے ہونا۔ مِنْ كُلِّ مَجْثَمِ، مجثم اسم ظرف کا صیغہ ہے۔ اور یہ جسوم سے ہے ‏جسوم۔ بھئی آپ نے اگر دیکھا ہو اونٹ بیٹھتے ہوئے اپنا سینہ زمین پر رکھتا ہے۔ کیا کرتا ہے؟ سینہ زمین پر رکھتا ہے، اور تو ‏اس کو اس اونٹ کے بیٹھنے کو بروک کہتے ہیں بروک۔ اور اسی کے مثل یہ جسوم بھی ہے، تو اور جو حیوانات جانور ‏وغیرہ ہیں جب وہ زمین پر بیٹھتے ہیں وہ اپنے سینے کو جو زمین کے ساتھ لگاتے ہیں، اس کو کیا کہتے ہیں؟ جسوم ‏کہتے ہیں۔ یہ جیسے پرندہ، چڑیا وغیرہ، کبوتر، اب جب وہ زمین پر ویسے تو پاؤں پر کھڑا ہے، لیکن جب وہ بیٹھے گا تو ‏سینہ کیا ہوگا اس کا؟ زمین پر لگے گا، تو اس پرندے یا جانور وغیرہ کے بیٹھنے کے لیے جسوم بولتے ہیں۔ تو سینے کو زمین کے ساتھ لگانا، چاہے پرندہ ہو، چاہے کوئی وحشی جانور ہو، اور چاہے کوئی انسان ہو بھئی، انسان ‏کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ تو مجثم زمین پر سینہ لگانے کی جگہ، یعنی بیٹھنے کی جگہ کہہ لیں بیٹھنے کی۔ بِهَا العِيْنُ وَالأَرْآمُ يَمْشِيْنَ خِلْفَةً، اس کو آرام یہ پڑھنا ہے آپ نے، ارام نہیں آرام۔ حالانکہ لغتیں دونوں ہیں اس میں۔ اچھا، بِهَا ‏العِيْنُ وَالأَرْآمُ يَمْشِيْنَ خِلْفَةً، اس جگہ میں جنگلی گائے اور جو ہرن، سفید ہرن ہیں، يَمْشِيْنَ، چل رہے ہیں، چلتے ہیں یا چل ‏رہے ہیں خِلْفَةً، ایک دوسرے کے پیچھے۔ یعنی کبھی جنگلی گایوں کا ریوڑ یہاں سے گزرتا ہے، تو کبھی ہرنوں کا ریوڑ ‏یہاں سے گزرتا ہے۔ وَأَطْلاَؤُهَا، اور ان کے جو بچے ہیں، يَنْهَضْنَ مِنْ كُلِّ مَجْثَمِ، وہ اٹھ رہے ہیں مِنْ كُلِّ مَجْثَمِ، ہر بیٹھنے کی جگہ سے، یعنی ہر ‏طرف سے، ایک طرف سے بچے اٹھ رہے ہیں اپنی ماں کی طرف دودھ پینے کے لیے دوڑ رہے ہیں، تو دوسری طرف ‏سے بھی بچے اٹھ رہے ہیں۔ معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ تو کہتے ہیں:‏ بِهَا العِيْنُ وَالأَرْآمُ يَمْشِيْنَ خِلْفَةً وَأَطْلاَؤُهَا يَنْهَضْنَ مِنْ كُلِّ مَجْثَمِ اس گھر میں جنگلی گائے اور سفید ہرن جو ہیں وہ ایک دوسرے کے پیچھے چل رہے ہیں، وَأَطْلاَؤُهَا يَنْهَضْنَ مِنْ كُلِّ مَجْثَمِ، ‏اور ان کے بچے جو ہیں وہ اٹھ رہے ہیں ہر بیٹھنے کی جگہ سے، یعنی ہر طرف سے۔ تو شاعر کہنا یہ چاہتا ہے کہ غم کا اظہار کر رہا ہے کہ ایک زمانہ تھا یہ آباد جگہ تھی، میری عاشقہ یہاں رہتی تھی، لیکن ‏اب دیکھو کیا زمانہ آ گیا ہے، یہ کیسا اجاڑ اور بیابان ہو گیا ہے کہ جنگلی گائے اور ہرن، جو انسانوں سے بہت دور ‏بھاگتے ہیں، اور انہوں نے بھی اس جگہ کو اپنا مسکن بنا لیا ہے، یعنی اتنی اجاڑ جگہ ہو گئی کہ انہوں نے اس جگہ کو کیا ‏کر لیا؟ اپنا مسکن بنا لیا ہے، تو اس پر اظہارِ غم کر رہا ہے۔ نیز اس میں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ یہ بڑا ہی پرامن مکان ہے بھئی۔ تمام جانور اپنے بچوں کی حفاظت ‏کرتے ہیں، اپنی جان دے دیتے ہیں لیکن اپنے بچوں کی حفاظت کرتے ہیں، اور ان کو ہمیشہ اپنے ساتھ رکھتے ہیں۔ اور ‏اپنے بچوں کو وہیں چھوڑیں گے، ان سے الگ ہوں گے، جس جگہ پر ان کا بے انتہا اعتماد ہوگا کہ یہاں کسی قسم کا کوئی ‏خطرہ نہیں، وہاں بچے ایک طرف بیٹھے بھی ہوئے ہیں، یہ چرتے چرتے دائیں بائیں ذرا دور بھی نکل جائیں انہیں کوئی ‏پروا نہیں ہوتی۔ تو یہ جگہ جو ہے، میری عاشقہ کا جو مکان ہے، یہ اجڑ چکا ہے، لیکن یہ ایسی امن کی جگہ ہے، ایسی ‏سکون کی جگہ ہے کہ حیوانات کے بچے یہاں دائیں بائیں بیٹھے ہوئے ہیں، اور وہ ان کو یہیں پر چھوڑ کر چرتے ہوئے ‏دائیں بائیں دور نکل گئے ہیں، پھر ان میں سے کوئی واپس مڑ کر آتا ہے، تو بچے جو ہیں ماں کا دودھ پینے کے لیے ‏کبھی ایک طرف سے ایک بچہ دوڑ کر اپنی ماں کی طرف جا رہا ہے، کبھی دوسری طرف اپنی ماں کی طرف دوڑتا ہوا ‏جا رہا ہے، تو یہ بڑی ہی امن کی جگہ ہے بھئی، معنی سمجھ میں آیا؟ وَقَفْتُ بِهَا مِنْ بَعْدِ عِشْرِيْنَ حِجَّةً فَلَأْياً عَرَفْتُ الدَّارَ بَعْدَ تَوَهُّمِ وقف یقف کا کیا معنی ہے؟ کھڑے ہونا، ٹھہرنا، کہاں پر یہ گزرا ہے؟ وقوفاً بها صحبي علي مطيهم يقولون لا تهلك أسى وتجمل عِشْرِيْنَ حِجَّةً، حجہ سال کو کہتے ہیں، سال کو، سال کو، اور اس کی جمع آتی ہے حجج بھئی حجج۔ اسی طرح حَجة حج کو ‏بھی کہتے ہیں بھئی حج، حِجة اور حَجة بھئی، ایک مرتبہ کا حج بھئی، ایک مرتبہ۔ اور حُجة دلیل کو کہتے ہیں، تو یہاں ‏بہرحال حِجة ہے، سال مراد ہے، سال کو کہتے ہیں بھئی۔ فَلَأْياً، لاعیاً، یہ فا تو عاطفہ ہے، لاعیاً بھئی، لاعیاً کا معنی ہے مشقت سے، تکلیف سے، مشکل سے۔ عَرَفْتُ الدَّارَ، عرف ‏کے معنی پہچاننے کے۔ بَعْدَ تَوَهُّمِ، توہم کا معنی ہے غور و فکر، بَعْدَ تَوَهُّمِ، غور و فکر کے بعد، بڑی سوچ بچار کے بعد۔ وَقَفْتُ بِهَا مِنْ بَعْدِ عِشْرِيْنَ حِجَّةً فَلَأْياً عَرَفْتُ الدَّارَ بَعْدَ تَوَهُّمِ وَقَفْتُ بِهَا، میں وہاں پر ٹھہرا، میں وہاں پر رکا مِنْ بَعْدِ عِشْرِيْنَ حِجَّةً، بیس سال کے بعد۔ شاعر کتنے عرصے کے بعد وہاں ‏سے گزر رہا ہے؟ بیس سال بعد وہاں سے گزر رہا ہے، تو میں وہاں پر ٹھہرا، میں وہاں پر بیس سال کے بعد، فَلَأْياً عَرَفْتُ ‏الدَّارَ، تو بڑی مشقت سے میں نے اس گھر کو پہچانا، بیس سال پرانے نشانات، معمولی سے کچھ تھوڑے بہت باقی ہوں ‏گے، تو اور اتنا عرصہ لمبا طویل عرصہ گزر چکا ہے، تو میں نے اس جگہ کو بڑی مشقت سے پہچانا بَعْدَ تَوَهُّمِ، بڑے ‏غور و فکر کے بعد، بہت سوچنے کے بعد اور بہت غور و فکر کرنے کے بعد میں نے اس مکان کو پہچانا۔ تو چونکہ اتنا لمبا عرصہ گزر چکا ہے اور نشانات زیادہ تر مٹ چکے ہیں، اس لیے مجھے بڑی مشقت کرنا پڑی، بہت ‏غور و فکر کرنا پڑا، پھر جا کر میں نے اس جگہ کو پہچانا۔ أَثَافِيَّ سُفْعاً فِي مُعَرَّسِ مِرْجَلٍ وَنُؤْياً كَجِذْمِ الحَوْضِ لَمْ يَتَثَلَّمِ اثافی، یہ جمع ہے اسفیۃ یا اسفیۃ، ہمزہ کے کسرہ اور ضمہ دونوں کے ساتھ یہ لفظ ہے بھئی، اسفیۃ یا اسفیۃ، یا مشدد ہے۔ ‏اور اثافی یہ ان پتھروں کو کہتے ہیں جن پر ہانڈی رکھی جاتی ہے، وہ چولہے کے لیے استعمال کرتے ہیں تین پتھر بھئی، ‏اور پھر نیچے لکڑیاں رکھ کر آگ جلاتے ہیں، تو وہ جو تین پتھر ہیں جن پر ہانڈی رکھ کر آگ جلائی جاتی ہے، وہ ‏چولہے کے طور پر استعمال ہوتے ہیں ان کو اثافی کہتے ہیں۔ سُفْعاً، سفعٌ جمع ہے اسفع کی۔ اسفع، جیسے اسود کی جمع سود، اسی طرح اسفع کی جمع سفعٌ، سودٌ سفعٌ۔ اسود جیسے سیاہ کو ‏کہتے ہیں، اسفع بھی سیاہ کو کہتے ہیں، لیکن ایسی سیاہی جس کے ساتھ کچھ سرخی بھی ملی ہوئی ہو۔ کالا رنگ ہے لیکن ‏اس میں کچھ سرخی کی بھی آمیزش ہو، اس کو کہتے ہیں اسفع بھئی اسفع۔ معرس، عرس يعرس تعریس کہتے ہیں رات کے آخری حصے میں مسافروں کا پڑاؤ ڈالنا آرام کے لیے، رات کے آخری ‏حصے میں کہیں پر اقامت اختیار کرنا آرام کے لیے، تو اس کو تعریس کہتے ہیں۔ اور اسی سے معرس، تعریس کی جگہ، ‏اسم ظرف کا صیغہ ہے۔ مرجل جو ہے وہ ہانڈی کو کہتے ہیں، وہ برتن جس میں کھانا بنایا جائے، چاہے مٹی کی ہو، لوہے ‏تانبے وغیرہ جس چیز کی بھی ہو بھئی، تو مرجل۔ وَنُؤْياً، نؤیٌ جو ہے، نؤیٌ چھوٹی سی نالی جو خیمے کے ارد گرد کھودی جاتی ہے تاکہ بارش کے وقت اگر دائیں بائیں ‏سے کچھ تھوڑا بہت پانی بھی آنے لگے، تو وہ خیمے کے اندر نہ داخل ہو، اس نالی کے ذریعے ہی ایک طرف کو نکل ‏جائے بھئی، اس کو نؤیٌ کہتے ہیں۔ جیسے خیمے کے گرد ایک چھوٹی سی بَنیری سی بھی بنا لی جاتی ہے تاکہ پانی اندر ‏نہ آئے، اور ساتھ اس کے ساتھ مزید حفاظت کے طور پر کیا کیا جاتا ہے؟ ایک چھوٹی سی نالی بھی کھود دی جاتی ہے ‏پانی سے حفاظت کے لیے، اس کو نؤیٌ کہتے ہیں۔ کَجِزْمِ الْحَوْضِ۔ حوض کہتے ہیں پانی کا تالاب بھئی، پانی کا تالاب۔ وہ جگہ جو پانی کے لیے جس میں جمع ہو بھئی، پانی ‏کے لیے بنائی جائے۔ اچھا! اور جِزْمٌ، جسم کا معنی ہے تہہ بھئی، تہہ۔ نیچے والا حصہ۔ جِزْمِ الْحَوْضِ، حوض کی تہہ ‏بھئی۔ حوض کا نچلا حصہ، زمین جو ہے اس کے نیچے کی۔ لَمْ یَتَسَلَّمِ، تسلم کا معنی ہے ٹوٹنا بھئی، ٹوٹنا۔ لَمْ یَتَسَلَّمِ جو ٹوٹا نہیں بھئی۔ أَثَافِیَّ سُفْعًا فِی مُعَرَّسِ مِرْجَلِ، یہ اثافی منصوب ہے بھئی اور یہ بدل ہے الدار سے۔ عرفت الدار، میں نے اس گھر کو پہچانا ‏بعد التوہم بڑی غور و فکر کے بعد۔ میں نے پہچانا، یعنی کس کو پہچانا؟ أَثَافِیَّ سُفْعًا وہ سرخی مائل سیاہ پتھروں کو، وہ ‏چولہے کے پتھر، یہ صفت ہے نہ سفعا اثافی کی۔ وہ چولہے کے پتھر کون سے جو کس رنگ کے تھے؟ سرخی مائل سیاہ ‏رنگ کے تھے ان کو میں نے پہچانا۔ کس جگہ پر؟ فِی مُعَرَّسِ مِرْجَلِ، معرس کیا معنی؟ رات کے آخری حصے میں پڑاؤ ‏ڈالنا، یعنی نازل ہونے کی جگہ، مسافروں کی اقامت کی جگہ۔ لیکن یہاں صرف اقامت کی جگہ کے معنی میں ہے۔ مرجل ‏ہانڈی، ہانڈی کے نازل ہونے کی جگہ۔ ہانڈی کہاں پر ہوتی ہے؟ وہی چولہے پر رکھی جاتی ہے یا اس کے ساتھ اتار کر ‏رکھی جاتی ہے، تو اسی مقام پر تھے یہ پتھر جو سیاہی مائل جو سرخی مائل سیاہ رنگ کے پتھر تھے بھئی، ان کو بڑے ‏میں نے بڑی مشقت سے پہچانا جو کس جگہ پر تھے؟ ہانڈی کے اترنے کی جگہ میں۔ وَ نُئْیًا، اس کا عطف اسی اثافی پر ہے اور میں نے پہچانا نئیاً ایسی نالی کو كَجِزْمِ الْحَوْضِ، یہ صفت ہے نئیاً کی، صفت ‏اول۔ نکرہ کے بعد جار مجرور آ جائے اور کسی سے جڑ نہ رہا ہو تو وہ اس کے لیے کیا بنتی ہے؟ صفت۔ اسی طرح لَمْ ‏یَتَسَلَّمِ فعل آ گیا اور نکرہ کے بعد فعل آئے تو وہ بھی اس کے لیے صفت بنتا ہے، تو یہ دو صفتیں آ گئیں نئیاً کی۔ ایسی نالی ‏كَجِزْمِ الْحَوْضِ جو حوض کی تہہ کی طرح تھی۔ جیسے حوض کی تہہ ہوتی ہے، نچلا حصہ ہوتا ہے، اس کو بڑا پکا اور ‏مضبوط بنایا جاتا ہے بھئی۔ پانی کے لیے بنا رہے ہیں نا، تو نچلے حصے کو کیا کرتے ہیں؟ خوب پکا اور مضبوط ‏بناتے ہیں، تو یہ نالی بھی اسی حوض کی تہہ کی طرح مضبوط تھی۔ لَمْ یَتَسَلَّمِ اور ٹوٹی نہیں تھی بھئی۔ تو میں نے اس کو ‏پہچانا، میں نے کس کو پہچانا؟ میں نے اس گھر کو بڑی مشقت کے بعد، بڑی سوچ و بچار کے بعد پہچانا، یعنی میں نے ‏پہچانا ان سرخی مائل سیاہ چولہے کے پتھروں کو جو ہانڈی کے اترنے کی جگہ میں تھے ان کو پہچانا اور ایسی نالی جو ‏کہ حوض کی تہہ کی طرح تھی اور ٹوٹی نہیں تھی اس کو میں نے پہچانا۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟ تو اس گھر کو پہچانا، بھئی گھر تو نہیں تھا وہاں پر، گھر تو ختم ہو چکا تھا۔ پھر کیا معنی؟ بتلا دیا میری مراد یہ ہے کہ ‏وہ جو وہاں پر چولہے کے پتھر پڑے ہوئے تھے، وہ جو پانی کی نالی تھی، ان چیزوں کو میں نے بڑی مشقت سے پہچانا ‏اور اس سے مجھے پتہ چلا کہ یہاں تھا وہ خیمہ اور گھر۔ تو یہ ساری چیزیں بتلا رہی تھیں، ان ساری چیزوں سے پتہ چلا ‏کہ یہ ام اوفىٰ کا گھر یہی ہے بھئی۔ فَلَمَّا عَرَفْتُ الدَّارَ قُلْتُ لِرَبْعِهَا أَلَا انْعَمْ صَبَاحًا أَيُّهَا الرَّبْعُ وَاسْلَمِ فَلَمَّا عَرَفْتُ الدَّارَ، پس جب میں نے اس گھر کو پہچان لیا، قُلْتُ لِرَبْعِهَا، ربع بھی گھر کو کہتے ہیں بھئی۔ ربع گھر کو، منزل ‏کو۔ أَلَا، حرف تنبیہ ہے۔ انعم، انعم صباحاً، یہ ان کا سلام کا طریقہ تھا بھئی عربوں کا دور جاہلیت میں۔ صبح کا سلام یعنی ‏ان کا، جیسے انگلش میں کہتے ہیں نہ گڈ مارننگ اور گڈ نائٹ، گڈ آفٹر نون، تو ہر وقت کے الگ الگ سلام ہیں۔ گڈ ‏مارننگ، صبح تمہاری اچھی ہو۔ اور کیا ہے؟ گڈ آفٹر نون، دوپہر تمہاری اچھی ہو۔ گڈ نائٹ، رات تمہاری اچھی ہو۔ گڈ ‏ایوننگ بھی ہے۔ اسی طرح عرب کے بھی تھے بھئی، انعم صباحاً تمہاری صبح اچھی ہو۔ صبح کو بالخصوص، معلوم ہوا ‏یہ انگریزوں نے بھی عربوں سے ہی لیا ہو گا بھئی، عربوں سے لیا ہو گا یہ۔ صبح کے لیے خاص طور پر صبح کو ‏کیوں ذکر کیا؟ کہتے ہیں وجہ یہ ہے کہ صبح عموماً جو جنگیں کی جاتی تھیں، حملے کیے جاتے تھے وہ صبح کے وقت ‏ہوتے تھے۔ تو صبح کو خاص طور پر ذکر کیا کہ تمہاری صبح اچھی ہو، تمہاری صبح خوشگوار ہو۔ تو جب صبح کے ‏وقت صبح اچھی ہوئی معلوم ہوا کوئی حملہ، کوئی لوٹ مار وغیرہ نہیں ہوئی، معلوم ہوا پھر باقی دن بھی کیا ہو گا؟ خیر ہی ‏کے ساتھ گزرے گا بھئی۔ تو جب صبح خوشگوار ہوئی تو یقیناً پھر باقی دن بھی کیا ہو گا؟ خوشگوار ہی ہو گا کیونکہ ‏حملوں کا وقت تو یہی ہے اور جنگوں کا وقت یہی ہے بھئی۔ ہمارے ہاں تو اسلام میں عجیب بھئی! السلام علیکم، ایسا سلام کہ جس کی کوئی مثال نہیں بھئی۔ اس میں کسی وقت کی قید ‏نہیں ہے کہ صبح تم پہ سلامتی ہو یا شام کو یا رات کو، نہیں! معنی یہ ہر وقت تم پر سلامتی ہو بھئی۔ جبکہ باقی قوموں ‏کے اندر عموماً ایسے سلام تھے صبح کے لیے اور، دوپہر کے لیے اور، شام کے لیے اور۔ تو صبح کے لیے یہ کیا کہتے ‏تھے؟ انعم صباحاً۔ تو أَلَا انْعَمْ صَبَاحًا، یہ ہمزہ گر جائے گا بھئی، أَلَا انْعَمْ صَبَاحًا أَيُّهَا الرَّبْعُ، اے گھر! تمہاری صبح اچھی ‏ہو اے گھر، وَاسْلَمِ اور تم سلامت رہو، تم سلامت رہو۔ فَلَمَّا عَرَفْتُ الدَّارَ قُلْتُ لِرَبْعِهَا أَلَا انْعَمْ صَبَاحًا أَيُّهَا الرَّبْعُ وَاسْلَمِ رَبْعٌ، رَبْعٌ گھر کو بھی کہتے ہیں اور اسی طرح گھر کے ارد گرد جو کھلی جگہ ہو اس کو بھی رَبْعٌ کہتے ہیں، رَبْعٌ کہتے ‏ہیں۔ تو اگر گھر کے معنی میں یہاں لیں تو لِرَبْعِهَا، سو میں نے کہا اس کے گھر کو، یعنی ھا ضمیر راجع ہے معشوقہ کو، ‏اس کے گھر سے میں نے کہا قُلْتُ لِرَبْعِهَا۔ اور اگر رَبْعٌ سے آپ مراد لیتے ہیں گھر کے ارد گرد کی کھلی جگہ، تو پھر ھا ‏ضمیر راجع ہو گئی پیچھے جو دار گزرا ہے اور دار کیا ہے؟ مونث سماعی۔ تو میں نے اس گھر کے ارد گرد کی کھلی ‏جگہ سے کہا، یعنی مراد ہے اسی گھر کو کہا، لیکن ساتھ کس کو شامل کر لیا؟ ارد گرد کی کھلی جگہ کو شامل کر لیا۔ فَلَمَّا عَرَفْتُ الدَّارَ قُلْتُ لِرَبْعِهَا أَلَا انْعَمْ صَبَاحًا أَيُّهَا الرَّبْعُ وَاسْلَمِ پس جب میں نے اس گھر کو پہچان لیا تو میں نے اس گھر سے کہا کہ تمہاری صبح خوشگوار ہو اے گھر! وَاسْلَمِ اور تم ‏سلامت رہو۔ تَبَصَّرْ، جی آگے دیکھیے بھئی۔ تَبَصَّرْ خَلِيلِي هَلْ تَرَى مِنْ ظَعَائِنٍ تَحَمَّلْنَ بِالْعَلْيَاءِ مِنْ فَوْقِ جُرْثُمِ تبصر کا معنی ہے غور سے دیکھنا۔ بصر کا معنی دیکھنا اور تبصر کا معنی غور سے دیکھنا۔ خَلِيلِي، خلیل کہتے ہیں ‏گہرے دوست کو، عام دوست کو نہیں، گہرے دوست کو کیا کہتے ہیں؟ خلیل بھئی۔ ظَعَائِنٍ، ظعائن جمع ہے ظعینۃ کی، اور ‏ظعینہ کہتے ہیں اس عورت کو جو ہودج میں سوار ہے۔ میں نے بتلایا تھا آپ کو کہ عرب کیا کرتے تھے؟ اونٹ کے اوپر ‏لکڑیاں نصب کر کے ان پر کپڑا ڈال لیتے اور ایک کمرا چھوٹا سا اوپر ہی بنا لیتے تھے تاکہ دھوپ وغیرہ سے حفاظت ‏ہو، اس کو ہودج کہتے تھے بھئی۔ تو اس کے اندر جو بیٹھی ہوئی عورت ہو اس کو کیا کہیں؟ کیا کہتے ہیں؟ ظعینہ کہتے ‏ہیں بھئی ظعینہ۔ اور اسی کی جمع ظعائن ہے بھئی، اور آپ دیکھ رہے ہیں ظَعَائِنٍ، اس کے اس پر کسرہ اور تنوین آ رہی ‏ہے حالانکہ یہ غیر منصرِف ہے۔ یہ کون سا وزن ہے؟ جمع منتہی الجموع، اور یہ دو سببوں کے قائم مقام ہوتا ہے، لیکن ‏یہاں اس پر ضرورتِ شعری کی بنا پر کسرہ اور تنوین پڑھی گئی کیونکہ اس کے بغیر شعر کا وزن صحیح نہیں بنتا ‏بھئی۔ تَحَمَّلْنَا، تحمل کا کیا معنی؟ کوچ کرنا، کوچ کرنا۔ آپ نے پڑھا ہے کہیں پر بھئی؟ کہاں؟ جیسے ہے پہلا شعر کیا ‏ہے؟ كَأَنِّي غَدَاةَ الْبَيْنِ يَوْمَ تَحَمَّلُوا لَدَى سَمُرَاتِ الْحَيِّ نَاقِفُ حَنْظَلِ۔ بِالْعَلْيَاءِ، علیاء کہتے ہیں أي الأرض علیاء، اونچی زمین ‏بھئی، اونچی جگہ۔ مِنْ فَوْقِ جُرْثُمِ، اور جرثم جو ہے یہ بنو اسد قبیلہ جو ہے ان کا کوئی پانی کا تالاب وغیرہ تھا یا کنواں ‏تھا بھئی، اس کو اس کا نام جرثم تھا۔ تو بہرحال یہ کسی تالاب جرثم کسی تالاب وغیرہ یا کنویں وغیرہ کا نام تھا۔ تو شاعر کہتا ہے: تَبَصَّرْ خَلِيلِي، اے میرے گہرے دوست! ‏जरा‏ غور سے دیکھ، هَلْ تَرَى مِنْ ظَعَائِنٍ، کیا تجھے دکھائی دے ‏رہی ہیں کچھ ہودج میں بیٹھی ہوئی ایسی عورتیں، تَحَمَّلْنَ بِالْعَلْيَاءِ، جو اونچی زمین میں سفر پر نکل رہی ہیں، سفر پر روانہ ‏ہو رہی ہیں، مِنْ فَوْقِ جُرْثُمِ، جرثم تالاب یا جرثم کنویں کے اوپر۔ جرثم کنویں کے اوپر جو زمین ہے، جو جگہ ہے، اس مقام ‏پر کیا تمہیں ہودج میں بیٹھی ہوئی کچھ عورتیں دکھائی دے رہی ہیں جو کہ سفر پر روانہ ہو رہی ہیں، جو یہاں سے کوچ ‏کر رہی ہیں؟ معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ بھئی دیکھیے! شاعر نے اپنی بات شروع کی تھی، ایک مقام سے گزرا اور وہاں پر اسے کچھ کھنڈرات نظر آئے، تو وہ ‏غور کرنے لگا اور کہتا ہے: میں نے بڑے غور و فکر کے بعد پہچانا کہ یہ امِ اوفىٰ کا گھر ہے اور یہ کوئی جواب نہیں ‏دے رہا۔ اور یہ یہاں پر یہ جگہ اتنی اجاڑ و بیابان ہو چکی ہے کہ جنگلی گائے اور ہرن یہاں سے گزرتے ہیں اور ان کے ‏بچے یہاں پر بیٹھے ہوتے ہیں، انہیں کوئی کسی قسم کا خوف نہیں ہوتا۔ اور میں نے بڑے غور و فکر کے بعد وہ چولہے ‏کی جگہ رکھے ہوئے پتھروں سے اور وہ نالی وغیرہ جو اس گھر کے ارد گرد تھی جو ابھی ٹوٹی نہیں تھی، اس کے اس ‏کے ذریعے میں نے اس گھر کو پہچانا۔ اب شاعر پر غم کی کیفیت طاری ہے اور انہی چیزوں کو دیکھتے دیکھتے وہ اپنے ماضی کے اندر ڈوب گیا بھئی، اور ‏اس کو وہ زمانہ یاد آیا، وہ زمانہ اپنی معشوقہ جب وہ یہاں رہتی تھی۔ چنانچہ جب اس گھر کو پہچان لیا تو وہی زمانہ ‏ماضی کا اس کی نگاہوں کے سامنے آ گیا اور وہ اب اس گھر کو کہتا ہے: أَلَا انْعَمْ صَبَاحًا أَيُّهَا الرَّبْعُ وَاسْلَمِ، کہ تیری صبح ‏خوشگوار ہو اے گھر! اور تو سلامت رہے۔ اور تو سلامت رہے، حالانکہ وہ تو کیا بن چکا؟ دمنہ بن چکا یا نہیں بن چکا؟ ‏ہاں! تو یہ اس کو دعا دے رہا ہے، وہی منظر سامنے آ گیا، ایک یہ حال ہے دمنہ بن چکا ہے، ایک وہ ماضی کا ہے کہ ‏گھر آباد ہے اور بنا ہوا ہے، تو وہ منظر سامنے آیا اور اس گھر کو دعا دے رہا ہے کہ اے گھر! تیری صبح خوشگوار ہو ‏اور تو اس طرح دمنہ بننے سے محفوظ رہے۔ اور پھر اپنے ساتھی کو بھی کہتا ہے کہ اے میرے ساتھی! ذرا غور سے ‏دیکھو، وہ اونچی جگہ پر تمہیں کچھ عورتیں جو ہیں ہودج کے اندر سوار یہاں سے کوچ کرتی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں یا ‏نہیں دکھائی دے رہیں؟ یہ میری نظروں کا دھوکہ ہے یا حقیقت میں وہ اس وقت یہاں سے چل رہی ہیں اور مجھے دکھائی ‏دے رہی ہیں؟ تم بھی ذرا غور کر کے مجھے بتلاؤ بھئی۔ تو یہ کیا کر رہا ہے؟ اسی زمانے کو اس نے وہی زمانہ اس ‏کے سامنے آ گیا حالانکہ اس کو گزرے ہوئے کتنا طویل عرصہ گزر چکا ہے۔ 20 سال گزر چکے ہیں۔ تو یہ معنی ہے: تَبَصَّرْ خَلِيلِي هَلْ تَرَى مِنْ ظَعَائِنٍ تَحَمَّلْنَ بِالْعَلْيَاءِ مِنْ فَوْقِ جُرْثُمِ کہ اے میرے گہرے دوست! ذرا غور سے دیکھ، هَلْ تَرَى مِنْ ظَعَائِنٍ تَحَمَّلْنَ بِالْعَلْيَاءِ مِنْ فَوْقِ جُرْثُمِ، کیا تجھے دکھائی دے ‏رہی ہیں کچھ ایسی ہودج نشین عورتیں جو کوچ کر رہی ہیں، جو سفر پر نکل رہی ہیں، بِالْعَلْيَاءِ أي بالارض العلیاء، اس ‏اونچی زمین میں مِنْ فَوْقِ جُرْثُمِ، جو جرثم تالاب یا جرثم کنویں کے اوپر جو جگہ ہے اس جگہ پر۔ چلیے! بس کرتے ہیں بھئی، بس بھئی۔ هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔ لأیاً، لأیٌ کہتے ہیں مشقت سے، تکلیف سے۔ فَعَلْتُ هٰذَا الْفِعْلَ بَعْدَ لَأْيٍ، میں نے یہ کام بڑی مشقت کے بعد کیا۔ أَثَافِیَّ سُفْعًا، یہ بدل ہے الدار سے۔ میں نے اس گھر کو پہچانا، کیا معنی اس گھر کو پہچانا؟ یعنی وہ جو سرخی مائل سیاہ ‏چولہے کی جگہ رکھے ہوئے چولہے کے پتھر تھے، جو کس مقام پر تھے؟ ہانڈی کے اترنے کی، ہانڈی کے نازل ہونے ‏کی جگہ میں جو سیاہی مائل سرخ پتھر تھے ان کو میں نے بڑی مشقت سے پہچانا، اور اس نالی کو جو ٹوٹی نہیں تھی اور ‏حوض کے پیندے کی طرح پختہ اور مضبوط تھی اس کو میں نے بڑی مشقت سے پہچانا۔ تو یہ بدل ہے کس سے؟ عرفت ‏الدار سے۔ میں نے اس گھر کو پہچانا یعنی اس، ان نشانات کو میں نے پہچانا بھئی، جو آگے وہ ذکر کر رہا ہے۔