چھلو بھئی! آج ہم تیسرا معلقہ پڑھیں گے، معلقۃ زہیر بن ابی سلمیٰ۔ زہیر ابن ابی سلمیٰ بھئی، ان کے والد کا نام ربیعہ ہے، ربیعہ اور ان کی کنیت ہے ابی سلمیٰ۔ سین کے ضمہ کے ساتھ۔ اور ‏یہ عجیب نام ہے کہ پورے عرب میں اس کی کوئی نظیر نہیں بھئی اور کسی کا ایسا نام نہیں سنا گیا کہ سین کے ضمہ کے ‏ساتھ ہو بھئی سلمیٰ۔ اور یہ زہیر ابن ابی سلمیٰ جو ہے، عرب کے چوٹی کے شعراء میں شمار ہوتا ہے۔ اور علماء نے لکھا ہے، عرب کے تین ‏چوٹی کے شعراء، سب سے بڑے تین شاعر عرب کے، ان میں اس کو شمار کیا ہے۔ ایک امرؤ القیس، ایک زہیر ابن ابی ‏سلمیٰ اور ایک نابغہ ذبیانی۔ یہ تین شاعر بھئی، امرؤ القیس، زہیر ابن ابی سلمیٰ اور نابغہ ذبیانی، یہ تین عربی زبان کے، ‏شاعری کے بے تاج بادشاہ ہیں بھئی۔ پھر ان میں سے کس کا مقام اونچا ہے؟ تو بعضوں نے امرؤ القیس کا مقام بتلایا کہ وہ اونچا ہے، جبکہ بہت سے علماء نے ‏زہیر ابن ابی سلمیٰ کو سب سے بڑا شاعر قرار دیا ہے عربی زبان کا۔ اور اس کا تعلق مزینہ قبیلے سے تھا بھئی، اسی لیے اس کے نام کے ساتھ آپ دیکھ رہے ہیں المزنی، تو یہ قبیلہ مزینہ ‏سے اس کا تعلق تھا۔ البتہ اس کی پرورش جو ہے، وہ اس کے والد کے ماموں، جو قبیلہ غطفان سے ان کا تعلق تھا، ان کے ‏پاس اس کی پرورش ہوئی اور وہ بڑے ہی سمجھدار، نیک اور بہت بڑے شاعر تھے بھئی۔ تو ان کا اثر ان پر بھی پڑا اور ‏یہ بھی زبردست شاعر بن گئے۔ اور عجیب بات یہ، صرف یہی شاعر نہیں تھے، ان کے والد بھی بہت بڑے شاعر تھے بھئی، ربیعہ جو ہیں، ابی سلمیٰ۔ ‏اسی طرح ان کی دو بہنیں بھئی، سلمیٰ اور خنساء، وہ بھی عرب کی چوٹی کی شاعرات ہیں بھئی۔ پھر یہ زہیر بھی عرب ‏کا سب سے بڑا شاعر بعضوں نے کہا بھئی۔ اور اسی طرح اس کے دو بیٹے بھئی، کعب اور بجیر رضی اللہ تعالیٰ عنہما، ‏یہ دونوں صحابی ہیں بھئی، دونوں صحابی ہیں۔ اور دونوں عرب کی چوٹی کے شعراء میں شمار ہوتے ہیں، کعب بھی اور ‏بجیر بھی۔ تو ایسا خاندان کہ جس کے اتنے افراد بڑے بڑے شعراء ہوں، ایسی کوئی اور نظیر نہیں۔ اور یہ زہیر ابن ابی سلمیٰ، یہ بڑا ہی نیک انسان تھا، بڑا ہی صلح پسند، صلح اور سلامتی کو پسند کرنے والا۔ اور اس کا ‏کلام حکمت کی باتوں سے بھرا ہوتا ہے، یہ غیر مانوس الفاظ نہیں استعمال کرتا، مشکل اور پیچیدہ الفاظ نہیں استعمال ‏کرتا، اور شاعروں کی نقل نہیں کرتا، ان کے راستے پر نہیں چلتا۔ کسی کی تعریف میں حد سے زیادہ مبالغہ نہیں کرتا، جو ‏صفت ہوتی ہے وہی بیان کرتا ہے، بے جا چیزوں میں مبالغہ نہیں کرتا، ورنہ شاعر کو آپ جانتے ہیں، جب کسی کی ‏تعریف کرتے ہیں تو رائی کو پہاڑ بنا کر پیش کرتے ہیں اور جس کے ساتھ مخالفت اور ضد ہو تو اس کے پہاڑ جیسی ‏صفت کو بھی رائی بنا کر پیش کر دیتے ہیں۔ تو شاعر جو ہیں اس طرح بے جا مبالغے کرتے ہیں۔ لیکن یہ جو زہیر ابن ‏ابی سلمیٰ ہے، یہ کسی کے بے جا مبالغہ وغیرہ نہیں کرتا، جو صفت ہوتی ہے، جس درجے میں ہوتی ہے، اسی طرح اس ‏کو ذکر کرتا ہے۔ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے ایک مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ شاعر ‏الشعراء کا کوئی کلام تو سناؤ بھئی، شاعروں کا جو شاعر ہے، شاعر الشعراء۔ تو انہوں نے پوچھا: یا امیر المؤمنین! اس ‏سے کون مراد ہے؟ تو حضرت عمر نے زہیر ابن ابی سلمیٰ کا ایک شعر پڑھا کہ یہ۔ انہوں نے کہا: یہ تو زہیر ابن ابی ‏سلمیٰ کا شعر ہے، تو فرمایا: ہاں، میری یہی مراد ہے۔ تو انہوں نے بھی حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی اس کو ‏شاعروں کا شاعر قرار دیا، یعنی سب سے بڑا شاعر قرار دیا۔ اور پھر حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے ان سے پوچھا کہ یا امیر المؤمنین! کس وجہ سے آپ نے اس کو ‏شاعروں کا شاعر قرار دیا؟ تو فرمایا: کیونکہ یہ اور شاعروں کی نقل نہیں کرتا اور یہ جو کسی میں صفت ہوتی ہے وہی ‏بیان کرتا ہے اور یہ اپنے اشعار کے اندر مشکل اور پیچیدہ الفاظ بیان نہیں کرتا، اور اس طرح اس کی صفات ذکر کیں ‏حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھئی۔ تو یہ اس کے اشعار میں بھی آپ کو حکمت کی باتیں ملیں گی اور بےہودہ گوئی اس کے اشعار میں آپ کو نہیں ملے گی، ‏جیسے کہ اور عرب شاعر کرتے ہیں عموماً، تو بےہودہ گوئی، فحش گوئی اس کے کلام میں آپ کو نہیں ملے گی۔ اور یہ جو قصیدہ ہے، یہ اس نے دو سردار تھے بھئی، حریم ابن سنان، یہ آپ کے یہ جو مقدمہ ہے شروع میں، اس میں ‏دیا ہوگا نام، حریم، را کے کسرہ کے ساتھ ہے، حریم ابن سنان، اور اس طرح حارث ابن عوف بھئی، حارث ابن عوف۔ ان ‏دو، یہ دو سردار بڑے نیک اور سخی اور صلح پسند، اچھے انسان تھے، ان کی تعریف میں یہ قصیدہ اس نے کہا ہے ‏بھئی، ان کی تعریف کی ہے۔ اور ہوا یہ، ہوا یہ تھا کہ عرب کے دو قبیلے تھے، عبس اور ذبیان، بنو عبس اور بنو ذبیان۔ ان کے دو سرداروں کے ‏درمیان شرط لگ گئی بھئی گھڑ دوڑ کے مقابلے پر، کہ جس کا گھوڑا جیتے گا اس کو سو اونٹ دوسرا شخص انعام کے ‏طور پر دے گا بھئی۔ تو سو اونٹوں کی شرط لگ گئی، گھڑ دوڑ ہوئی اور وہ گھڑ دوڑ میں ایک نے جہاں نشان تھا ‏پہنچنے کا، یہاں جو پہلے پہنچا جس کا گھوڑا، وہ جیت جائے گا۔ اس کے قریب اس نے کچھ اپنے آدمیوں کو چھپا دیا کہ ‏دیکھو اگر مخالف کا گھوڑا جیت رہا ہوا، تو تم نے اس کو ایک دم بھگا دینا ہے تاکہ یہ نشان تک پہلے نہ پہنچے۔ چنانچہ ایسے ہی ہوا، وہ داحس گھوڑا جو تھا، وہ جیت رہا تھا، تو وہ لوگوں نے اس کے اٹھے اور اس کو دوڑا دیا اور ‏دوسری طرف بھگا دیا۔ چنانچہ وہ شکست ہو گئی اس کو بھئی۔ اب انہوں نے دیکھو، شرارت بھی کی سردار نے اور پھر ‏اپنے آدمی کو بھیجا، اپنے بیٹے کو بھیجا کہ جاؤ بھئی، میں دوڑ جیت گیا ہوں، ان سے جا کر سو اونٹ لے کر آؤ۔ اور عرب تو بڑے غیرت والے تھے، بڑے غصے والے، بڑے جنگجو لوگ تھے، ان کو پہلے ہی غصہ تھا کہ ہمارے ‏ساتھ انہوں نے اس طرح کیا ہے۔ چنانچہ اس کا بیٹا جو اونٹ لینے کے لیے پہنچا تو انہوں نے انکار کر دیا، کس چیز کے ‏اونٹ بھئی؟ تم نے تو شرارت کی ہے۔ بلکہ اتنے غصے میں تھے کہ انہوں نے اس کے بیٹے کو ہی قتل کر دیا بھئی۔ ‏چنانچہ اس پر یہ بنو عبس اور بنو ذبیان کے اندر جنگ چھڑ گئی بھئی، اور چالیس سال تک یہ جنگ ہوتی رہی بھئی۔ ‏بڑے بڑے لوگ ان کے قتل ہو گئے بھئی۔ اور پھر بالاخر ان کے درمیان صلح ہوئی اور صلح کے اندر یہ حارث ابن عوف اور حریم ابن سنان نے، ان کی کوششوں ‏سے صلح ہوئی بھئی۔ بعضوں نے تو لکھا ہے انہی کی کوششوں سے صلح ہوئی۔ اور انہوں نے کہا کہ بھئی، ایک ‏دوسرے کے جتنے مقتول ہوئے ہیں، وہ دیت ہم ادا کرتے ہیں، تم آپس میں صلح کر لو۔ یہ دونوں بھی بڑے سردار تھے، ‏بڑے مالدار تھے، لیکن نیک لوگ تھے، تم صلح کر لو بھئی، کیوں جنگ کر رہے ہو ایک دوسرے کے ساتھ، ختم کر ‏دیے تم نے خاندان کے خاندان اجاڑ دیے، بچوں کو یتیم کر دیا، عورتوں کو بیوہ کر دیا، جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، آپس میں ‏صلح کر لو، جتنا تاوان بنتا ہے، جتنے دیت، اونٹ وغیرہ بنتے ہیں ہم اپنی طرف سے ادا کریں گے۔ چنانچہ انہوں نے دیت ‏اپنے سر لے لی اور وہ دیت تقریباً تین ہزار اونٹ بنتے تھے بھئی، انہوں نے اپنی طرف سے ادا کر دیے۔ جبکہ بعضوں نے کہا کہ صلح ہوئی تھی، درمیان میں پھر اور کچھ لڑائی وغیرہ ہونے لگی، کچھ لوگوں نے صلح کو بعد ‏میں خراب کرنے کی کوشش کی، پھر کسی کے ایک آدھ صلح کے بعد بھی ایک آدمی کو قتل کر دیا، تو پھر اس موقع پر ‏بھی انہوں نے، اس موقع پر انہوں نے کیا کیا؟ دیت وغیرہ ادا کی اور وہ لڑائی نہیں ہونے دی بھئی۔ تو زہیر ابن ابی سلمیٰ ‏ان کے اس فعل پر بڑا ہی خوش ہوا اور پھر اس نے ان کی تعریف میں یہ قصیدہ کہا ہے بھئی، قصیدہ کہا ہے۔ اور خاص طور پر زہیر ابن ابی سلمیٰ جو ہے، وہ حریم ابن سنان کی تعریف میں تو اس نے بڑے ہی قصیدے کہے ہیں ‏بھئی، بہت قصیدے کہے ہیں۔ دو سردار تھے نا، حارث ابن عوف اور حریم ابن سنان، تو یہ خصوصاً حریم ابن سنان، جس ‏کا تعریف اس قصیدے میں بھی کرتا ہے، اس کے علاوہ بھی اس نے اس کی تعریف میں بہت زیادہ قصیدے کہے ہیں ‏بھئی۔ اور حتیٰ کہ، اور عرب کی سخاوت تو مشہور ہے آپ جانتے ہیں بھئی۔ تو حریم ابن سنان بھی جو تھا، وہ بھی ہمیشہ اس ‏کو انعام دیتا تھا بھئی۔ حتیٰ کہ اس نے اپنے اوپر لازم کر لیا تھا کہ زہیر ابن ابی سلمیٰ اگر کبھی مجھے سلام بھی کرے گا ‏تو بھی میں اس کو کوئی گھوڑا دوں گا یا اونٹ دوں گا یا باندی دوں گا یا غلام دوں گا بھئی۔ اور غلام اور باندی اور گھوڑا وغیرہ، یہ تو عرب میں بے انتہا قیمتی چیزیں تھیں بھئی۔ جیسے آج کے زمانے میں دیکھ ‏لو، ایک عام گاڑیاں ہیں اور ایک مرسڈیز گاڑی ہے بھئی۔ اب عام گاڑی تو اکثر لوگ لے لیتے ہیں، لیکن مرسڈیز گاڑی ‏والا کوئی کوئی ہوگا اتنا مالدار جو اتنی قیمتی گاڑی لے۔ تو غلام، باندی اور گھوڑے وغیرہ تو اسی طرح قیمتی مال تھے، ‏عام اونٹ وغیرہ تو لوگوں کے پاس ہوتے تھے، لیکن یہ غلام اور باندی یہ تو اسی طرح قیمتی مال سمجھ لیں جیسے آج کل ‏مرسڈیز گاڑی ہے، کوئی کوئی لے سکتا ہے۔ آپ سوچیں تو سہی، غلام یا باندی ہو اور وہ دن رات آپ کی خدمت میں مصروف ہو، آپ جو کہیں وہ کرے گا اور آپ کا ‏خادم دن رات آپ کی خدمت کر رہا ہے، زندگی میں کتنی سہولت ہو جائے گی بھئی! تو یہ کہاں ہر آدمی کو کہاں یہ چیزیں ‏میسر تھیں؟ گھوڑا، گھوڑے تو عرب میں بڑے کم تھے بھئی، اونٹ تو عام تھے۔ لیکن گھوڑے تو بہت ہی کم تھے۔ تو اس نے اپنے اوپر لازم کیا تھا کہ یہ جب بھی مجھے سلام کرے گا، میں اس کو یا باندی یا غلام یا گھوڑا تحفے کے ‏طور پر، انعام کے طور پر دوں گا۔ یا اسی طرح اگر اس نے کبھی مجھ سے مانگا کچھ، تو یہ ضرور میں دوں گا۔ اور یا ‏اس نے میرے بارے میں کوئی قصیدہ کہا تو کچھ نہ کچھ ان میں سے میں ضرور دوں گا، کوئی گھوڑا، غلام یا باندی ‏بھئی۔ اور یہ زہیر ابن ابی سلمیٰ چونکہ یہ بھی بڑا معزز شاعر تھا، یہ بھی اس سے تحفے لے لے کر حیا کرنے لگا، شرم آنے ‏لگی اس کو کہ اتنے تحفے اس نے مجھے دے دیے! چنانچہ اگر کبھی وہ کسی ایسی مجلس پر گزرتا تھا جس میں حریم ابن ‏سنان ہوتا، تو اب وہ سلام جب سب کو کرے گا تو حریم کو بھی سلام ہوگا، وہ تو انعام کے طور پر پھر فوراً کیا دے گا؟ یا ‏گھوڑا دے گا یا باندی وغیرہ دے گا کوئی چیز۔ تو وہ جب ایسی مجلس سے گزرتا جس میں حریم ابن سنان بھی ہوتا، تو ان ‏کو جا کر کہتا تھا کہ: تم سب پہ سلام ہو سوائے حریم ابن سنان کے! اور پھر کہتا: اور جس کا میں نے استثناء کیا ہے، وہ ‏تم سب سے افضل ہے، یاد رکھنا! تو بڑے اشعار اس نے کہے، بڑے قصیدے کہے حریم ابن سنان کی مدح میں۔ پھر یہ ہے زہیر ابن ابی سلمیٰ، اس کا انتقال ہوا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے کوئی تقریباً ایک سال قبل ‏بھئی۔ حضور کو نبوت ملنے سے کوئی ایک سال قبل اس کا انتقال ہوا اور کہتے ہیں اس کی کوئی سو سال عمر تھی ‏بھئی۔ اور اس نے کوئی خواب دیکھا تھا، عرب کے لوگ کیسے ماہر تھے دیکھو! اس نے کوئی خواب دیکھا کہ آسمان تک میں ‏پہنچا، میرا ہاتھ لگا یا کچھ اور میں وہ پھر وہ جو اوپر جانے کے راستے تھے وہ بند ہو گئے، ختم ہو گئے۔ تو اس خواب ‏سے وہ سمجھ گیا کہ کچھ نہ کچھ ہونے والا ہے۔ چنانچہ اپنے بیٹوں کو، یہی کعب اور اور بجیر سے کہا کہ دیکھو، مجھے لگتا ہے کوئی بڑی اہم اور نیکی اور بڑا کام ‏ہونے والا ہے اللہ کی طرف سے اور کوئی بڑی خیر آنے والی ہے، لیکن مجھے لگتا ہے میں اس کو پا نہیں سکوں گا۔ ‏خواب میں دیکھا تھا نا کہ پہنچا ہوں تو وہ راستے کیا ہو گئے؟ ختم ہو گئے پہنچنے کے۔ تو لگتا ہے لیکن میری آخری ‏عمر ہے، مجھے لگتا ہے میں پا نہیں سکوں گا، تو تم اگر اس خیر کو پا لینا تو اس کو پھر قبول کر لینا، اس کو تسلیم کر ‏لینا۔ اور تو حضور کی نبوت سے ایک سال قبل اس کا انتقال ہوا اور یہ موحد تھا بھئی، یہ بعض اشعار میں اللہ کے ذکر ‏کرتا ہے اور قیامت کے دن پر بھی ایمان رکھتا تھا، اس کا بھی ذکر کرتا ہے بعض اشعار کے اندر وہ۔ چنانچہ بھئی، یہ بعد میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ، اس نے میں نے بتایا حریم ابن سنان کے بارے میں بڑے ‏قصیدے کہے، بڑے اشعار کہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں ایک مرتبہ حریم ابن سنان کے بیٹے ‏سے، ایک بیٹے سے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ زہیر نے جو تمہارے بارے میں، تمہارے والد کے ‏بارے میں اشعار کہے تھے، کچھ اشعار مجھے سناؤ۔ چنانچہ ان کے بیٹے نے، حریم ابن سنان کے بیٹے نے کچھ اشعار ‏سنائے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمانے لگے کہ زہیر نے تم لوگوں کی خوب تعریف کی ہے بھئی، کمال کر دیا ‏ہے اس نے تم لوگوں کی تعریف میں!‏ تو حریم ابن سنان کا بیٹا فوراً بولا: اور واللہ! ہم نے بھی اس کو بہت خوب انعامات دیے ہیں، بڑے انعامات دیے ہیں۔ ‏حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عجیب جواب دیا، فرمایا: تم نے جو کچھ دیا تھا وہ ختم ہو گیا، اس نے جو تمہیں دیا ‏وہ آج بھی باقی ہے بھئی! بلکہ آج 1400 سال، 1500 سال گزر گئے، آج بھی وہ باقی ہے جسے آپ پڑھیں گے بھئی۔ وہ ‏چیزیں ختم ہو گئیں، یہ چیزیں آج بھی ہیں بھئی۔ تو یہ ہے زہیر ابن ابی سلمیٰ بھئی۔ اور اس کو حکیم الشعراء بھی کہتے ہیں بھئی، حکیم الشعراء، شاعروں میں سب سے ‏دانا شاعر بھئی، عقل مند شاعر۔ دیکھیے بھئی کتاب پر: معلقۃ زہیر بن ابی سلمیٰ المزنی۔ وقال زہیر بن ابی سلمیٰ المزنی:‏ أَمِنْ أُمِّ أَوْفَى دِمْنَةٌ لَمْ تَكَلَّمِ بِحَوْمَانَةِ الدَّرَّاجِ فَالْمُتَثَلَّمِ وَبَدَارٌ لَهَا بِالرَّقْمَتَيْنِ كَأَنَّهَا مَرَاجِيعُ وَشْمٍ فِي نَوَاشِرِ مِعْصَمِ بِهَا الْعِينُ وَالْآَرَامُ يَمْشِينَ خِلْفَةً وَأَطْلَاؤُهَا يَنْهَضْنَ مِنْ كُلِّ مَجْثَمِ یہ قصیدے کے ابتدائی اشعار ہیں اور تشبیب ہے بھئی۔ تشبیب میں نے بتایا تھا کسے کہتے ہیں؟ کہ شاعر قصیدوں کی ‏ابتداء میں اپنے عشق اور محبت کی کچھ باتیں ذکر کرتے ہیں اور اپنے معشوقہ کے حسن و جمال کو یا اپنی جوانی کے ایام ‏کا کچھ ذکر کرتے ہیں، تو وہ یہاں پر بھی ہے۔ أَمِنْ أُمِّ أَوْفَى دِمْنَةٌ لَمْ تَكَلَّمِ بِحَوْمَانَةِ الدَّرَّاجِ فَالْمُتَثَلَّمِ یہ حمزہ استفہام کے لیے ہے۔ امِ اوفی، امِ اوفی یہ شاعر کی معشوقہ، اور یہ یاد رکھیے یہ اس کی بیوی تھی بھئی، جس کو ‏اس نے بعد میں طلاق دے دی تھی۔ طلاق دی تھی، یا تو بعض نے لکھا کہ یہ سوکنوں کے معاملے میں بڑی غیرت کھانے ‏والی تھی، یعنی اس معاملے میں بہت معلوم ہوا جھگڑنے والی ہوگی خاوند کے ساتھ۔ تو اس وجہ سے طلاق دی یا جبکہ ‏بعضوں نے لکھا کہ اس سے چونکہ اس کی کوئی مذکر اولاد نہیں تھی، اس لیے طلاق دے دی بھئی۔ کچھ بیٹے ہوئے ‏تھے، لیکن وہ شروع ہی میں، بچپن ہی میں فوت ہو گئے، تو چنانچہ اس وجہ سے اس نے اس کو طلاق دے دی اور پھر ‏دوسری شادی کر لی بھئی۔ تو اس کو طلاق دے دی، لیکن بعد میں اس پر ہمیشہ افسوس کرتا تھا طلاق دینے پر بھئی۔ تو یہاں پر بھی اسی کے ذکر کر ‏رہا ہے اور بھی بعض قصیدوں میں وہ اسی طرح اس کا ذکر کرتا ہے۔ أَمِنْ أُمِّ أَوْفَى تو امِ اوفی، یہ اس کی بیوی تھی۔ اور یہ ‏اس کی کنیت ہے۔ اس کا نام لیلیٰ تھا بھئی، لیلیٰ۔ أَمِنْ أُمِّ أَوْفَى دِمْنَةٌ لَمْ تَكَلَّمِ بِحَوْمَانَةِ الدَّرَّاجِ فَالْمُتَثَلَّمِ دِمْنَةٌ، دمنہ کہتے ہیں بھئی لوگوں کے چھوڑے ہوئے، لوگوں کے چھوڑے ہوئے سیاہ آثار کہہ لو، سیاہ نشانات کہہ لو۔ ‏بھئی انسان جہاں رہتا ہے، یہ عرب خانہ بدوش لوگ تھے، جہاں رہتے تھے خیمے وغیرہ، جہاں سبزہ پانی ہوتا خیمے ‏وغیرہ لگا لیتے اور آپ جانتے ہیں کہ پھر خیمے کی حفاظت کے لیے اس کے ساتھ تھوڑی سی کچھ اینٹیں وغیرہ لگا لیں، ‏کچھ بنیري سی سطح بنا لی تاکہ بارش وغیرہ کا پانی اندر نہ آئے اور پھر وہیں پر وہ جانور وغیرہ بھی ان کے ہوتے تھے ‏ان کے ساتھ۔ اسی طرح وہیں پر وہ کھانا وغیرہ بھی بناتے تھے، تو جب وہاں سے جاتے تو یہ کچھ تھوڑی سی وہ جو ‏بنیري وغیرہ کچھ نشانات کھنڈر سے رہ گئے اور اسی طرح وہ جانوروں کی جو گوبر ہے اور ان کی مینگنیاں اور اسی ‏طرح راکھ وغیرہ سے وہ جگہ کچھ میلی سی معلوم ہوتی تھی، کچھ سیاہ سی معلوم ہوتی تھی۔ تو اس کو کہتے ہیں دِمْنَةٌ۔ سمجھ میں آئی بات؟ دیکھیے یہ آپ کے حاشیے میں بھی دیا ہوا ہے، اَلدِّمْنَةُ: مَسْوَدَّةٌ مِنْ آثَارِ الدَّارِ بِالْبَعْرِ وَالرَّمَادِ وَغَيْرِهِمَا۔ ‏رماد راکھ کو کہتے ہیں راکھ۔ مَسْوَدَّةٌ مِنْ آثَارِ الدَّارِ بِالْبَعْرِ وَالرَّمَادِ وَغَيْرِهِمَا، وہ جو سیاہ ہو گئے ہوں یعنی کہ گھر کے آثار ‏کس کی وجہ سے؟ بالبعر، مینگنیوں وغیرہ کی وجہ سے، والرماد، اور راکھ وغیرہ، وغیرہا، اور راکھ وغیرہ کی وجہ سے ‏بھئی۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟ تو گھر کے جو لوگوں کے چھوڑے ہوئے نشانات جو سیاہ ہیں راکھ، گوبر اور جانوروں کی مینگنیوں وغیرہ کی وجہ ‏سے، یعنی کچھ گندگی وغیرہ جو پھیلی ہوئی ہے۔ بِحَوْمَانَةِ الدَّرَّاجِ فَالْمُتَثَلَّمِ، اچھا دِمْنَةٌ ان نشانات کو کہتے ہیں اور اس کی ‏جمع آتی ہے دِمَنٌ، دِمَنٌ یا دِمْنٌ، میم پر فتحہ بھی ہے اور سکون بھی، دونوں طرح لغتیں ہیں اس میں، دِمْنٌ اور دِمَنٌ۔ حَوْمَانَةٌ، ‏حومانہ کہتے ہیں سخت زمین کو بھئی، سخت زمین کو۔ اور دراج اور متسلم، یہ جگہوں کے نام ہیں۔ یہ جگہوں کے نام ہیں ‏بھئی نام۔ تو بِحَوْمَانَةِ الدَّرَّاجِ فَالْمُتَثَلَّمِ، کیا معنی ہوا؟ دراج اور پھر متسلم کی سخت زمین، سخت زمین۔ جبکہ بعضوں نے لکھا ہے ‏جیسے یہاں بھی محشی لکھتے ہیں علامہ زوزنی کہ حَوْمَانَةُ الدَّرَّاجِ یہ پورا ایک جگہ کا نام ہے، ویسے تو حومانہ سخت ‏زمین کو کہتے ہیں لیکن حَوْمَانَةُ الدَّرَّاجِ یہ سارا ہی کیا ہے؟ جگہ کا نام ہے بھئی۔ تو جیسے بھی آپ کر لیں، جبکہ بعضوں نے میں نے بتایا صرف دراج اور متسلم کو جگہ کا نام لکھا ہے۔ اچھا، کہتے ہیں ‏أَمِنْ أُمِّ أَوْفَى دِمْنَةٌ لَمْ تَكَلَّمِ۔ اصل میں عبارت یوں ہے: أَمِنْ دِمَنِ أُمِّ أَوْفَى دِمْنَةٌ، امِ اوفی کے چھوڑے ہوئے نشانات میں سے کیا ‏یہ ایک نشان ہے؟ کیا اثرات میں سے اس کے گھروں کے میلے جو آثار ہیں ان کے آثار میں سے یہ ایک اثر ہے، لَمْ تَكَلَّمِ، ‏جو بول نہیں رہا۔ لَمْ تَكَلَّمِ اصل میں ہے لَمْ تَتَكَلَّمِ، اور آپ نے صرف میں ضابطہ پڑھا ہے کہ باب تفعل اور باب تفاعل میں اگر شروع میں دو ‏تائے مفتوحہ آ جائیں، دو تا آ جائیں اور دونوں پر فتحہ یعنی زبر ہو تو ایک تا کو حذف کرنا جائز ہے۔ تو یہاں بھی اسی ‏طرح ہے، اصل میں کیا تھا؟ تَتَكَلَّمِ، لیکن ایک تا کو حذف کر دیا تو کیا رہ گیا؟ تَكَلَّمِ۔ جیسے قرآن میں کیا آتا ہے؟ تَنَزَّلُ، ‏اصل میں کیا ہے؟ تَتَنَزَّلُ۔ تو یہاں بھی تتکلم ہے۔ تو أَمِنْ دِمَنِ أُمِّ أَوْفَى دِمْنَةٌ، کیا امِ اوفی کے چھوڑے ہوئے آثار میں سے دِمْنَةٌ یہ ایک ایسا اثر ہے لَمْ تَكَلَّمِ جو جواب نہیں دے ‏رہا، جو بول نہیں رہا؟ معنی سمجھ میں آ رہا ہے؟ بھئی یہ شاعر گزرا کسی جگہ پر اور وہاں پر اس امِ اوفی کے گھر کے کچھ نشانات تھے، کچھ کھنڈرات تھے بھئی۔ وہی ‏جو میں نے بتایا، خیمے کے لیے کچھ اینٹیں لگا لیتے تھے اور وہ جانوروں وغیرہ کی وجہ سے وہ جگہ کچھ گندگی ہو ‏گئی، میلی ہو گئی۔ تو وہ اس کو نظر آئے بھئی، تو اس پر وہ یہ اشعار کہہ رہا ہے۔ کیا یہ امِ اوفی کے جو نشانات ہیں ‏چھوڑے ہوئے، انہی نشانات میں سے ایک یہ بھی ہے لَمْ تَكَلَّمِ جو جواب نہیں دے رہا؟ جو جواب نہیں دے رہا وہ گھر جواب نہیں دے رہا؟ یعنی اس گھر والے جواب نہیں دے رہے۔ گھر تو جواب نہیں دیتا، بلکہ ‏مراد کیا ہے؟ اہل دار مراد ہیں کہ اس کے گھر والوں، یہاں کے رہنے والوں میں سے کوئی جواب نہیں دے رہا۔ ترجمہ ‏سمجھ بھی آ رہا ہے کہ نہیں؟ أَمِنْ دِمَنِ أُمِّ أَوْفَى، کیا امِ اوفی کے چھوڑے ہوئے آثار میں سے دِمْنَةٌ یہ ایک ایسا اثر ہے، یعنی ‏ایک ایسا وہ کھنڈر ہے لَمْ تَكَلَّمِ جو بول نہیں رہا، جو جواب نہیں دے رہا؟ وہ جواب نہیں دے رہا یعنی اہل دمنہ جو ہیں یا اہل ‏دار جو ہیں وہ جواب نہیں دے رہے بھئی۔ اور کہاں پر ہے یہ گھر؟ بِحَوْمَانَةِ الدَّرَّاجِ فَالْمُتَثَلَّمِ، دراج اور پھر متسلم کی سخت زمین میں ہے۔ تو با بمعنی فی کے ہے، فِي ‏حَوْمَانَةِ الدَّرَّاجِ فَالْمُتَثَلَّمِ۔ دراج اور متسلم کی سخت زمین میں، دراج اور متسلم کی سخت زمین میں کیا یہ امِ اوفی کے چھوڑے ‏ہوئے نشانات میں سے ایک اثر ہے، ایک کھنڈر ہے، ایک نشان ہے لَمْ تَكَلَّمِ جو جواب نہیں دے رہا بھئی، نہیں دے رہا۔ تو اور چاہیں آپ تو حَوْمَانَةُ الدَّرَّاجِ کو سارے کو ہی نام بنا دیں۔ یہ تجاہل العارف ہے بھئی، تجاہل العارف۔ ظاہر سی بات ‏ہے، وہ گھر وہ تو کھنڈر ہو چکا، وہاں کوئی رہتا ہی نہیں ہے تو وہ جواب کیا دے گا؟ یا وہاں کوئی شخص ہی نہیں، اس ‏کے رہنے والے جواب کیا دیں گے؟ اس وقت تو وہاں کوئی رہنے والا ہی نہیں۔ تو اس کو کہتے ہیں تجاہل العارف بھئی۔ عارف کا معنی جاننے والا، جاننے والا۔ اور تجاہل کا معنی بتکلف جاہل بننا۔ ‏ایک شخص کو پتہ ہو لیکن بتکلف جاہل بن جائے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ تجاہل العارف بھئی، تجاہل العارف بھئی۔ اور تو یہاں بھی شاعر تجاہل عارف سے کام لے رہا ہے۔ اس کو بھی پتہ ہے کوئی نہیں ہے، کھنڈر ہیں، سارا کچھ ہے، ‏لیکن پھر کہہ رہا ہے کہ یہ جواب نہیں دے رہے، جواب نہیں دے رہے۔ گویا بتکلف اپنے آپ کو کیا کر رہا ہے؟ جاہل بنا ‏رہا ہے کہ مجھے تو پتہ ہی نہیں ہے، میں تو پوچھ رہا ہوں، یہ جواب ہی نہیں دے رہے، جواب نہیں دے رہے۔ اور یاد رکھیے اس میں کوئی نقطہ ہوتا ہے، تجاہل عارف کے اندر ہمیشہ کوئی نہ کوئی نقطہ ہوتا ہے کہ انسان بلا وجہ ‏ایسا نہیں کرتا۔ تو یہاں کیا نقطہ ہے؟ نقطہ یہ ہے شاعر اپنے غم کا اظہار کر رہا ہے کہ جب وہ یہاں آیا، اب اس کو اپنے ‏وہ محبت کے ایام یاد آئے، اس پر غم کی کیفیت طاری ہو گئی اور اتنا غم کے اندر وہ ڈوب گیا کہ اس کے آگے مجھے پتہ ‏ہی نہیں چلا کہ میں کہ یہاں یہ تو یہاں تو کوئی نہیں ہے، مجھے پوچھنا نہیں چاہیے، لیکن میں پھر بھی کیا کر رہا ہوں؟ ان ‏سے پوچھ رہا ہوں، تو وہ غم کا گویا اظہار کر رہا ہے یہاں پر۔ أَمِنْ أُمِّ أَوْفَى دِمْنَةٌ لَمْ تَكَلَّمِ بِحَوْمَانَةِ الدَّرَّاجِ فَالْمُتَثَلَّمِ حومانۃ الدراج اور پھر متسلم کے اندر کیا یہ امِ اوفی کے چھوڑے ہوئے کھنڈرات میں سے کھنڈر، ایک سیاہ کھنڈر ہے لَمْ ‏تَكَلَّمِ جو بول نہیں رہا، جو جواب نہیں دے رہا۔ وَبَدَارٌ لَهَا بِالرَّقْمَتَيْنِ كَأَنَّهَا مَرَاجِيعُ وَشْمٍ فِي نَوَاشِرِ مِعْصَمِ وَذُؤَارٌ لَهَا، یاد رکھیے یہ دار کا عطف ہے دِمْنَةٌ پر۔ دِمْنَةٌ پر، تو عبارت یوں بن گئی: أَمِنْ دِيَارِ أُمِّ أَوْفَى دَارٌ، کیا یہ امِ اوفی ‏کے گھروں میں سے ایک گھر ہے؟ بات سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ اچھا رقمطین، رقمطین تثنیہ ہے رقمۃٌ کی اور رقمۃٌ سے انہوں نے لکھا ہے مراد حَرَّةٌ ہے، حَرَّةٌ بھئی، حَرَّةٌ۔ اور حرہ دو ‏ہیں، کہتے ہیں ایک بصرہ کے نزدیک عراق میں اور ایک مدینہ منورہ کے نزدیک بھئی، مدینہ منورہ کے نزدیک۔ اگر ‏آپ مدینہ منورہ جائیں، اللہ سب کو بار بار وہاں کا سفر نصیب فرمائے۔ تو وہاں پر مدینہ منورہ کے بالکل ساتھ، چند ‏کلومیٹر ذرا پہلے، ہر طرف سیاہ پتھر پھیلے ہوئے ہیں۔ اتنے سیاہ پتھر پھیلے ہوئے ہیں، ان کی ڈھیریاں بنی ہوئی ہیں اور ‏پھیلے ہوئے ہیں کلومیٹروں تک پھیلے ہوئے ہیں۔ ایسے ہیں سیاہ ہیں جیسے کسی نے ان کو جلایا ہو بھئی، بالکل جلے ‏ہوئے، کالے۔ تو اس کو حرہ کہتے ہیں، حرہ۔ اسی طرح بصرہ کے نزدیک بھی ایک جگہ ہے، اس کا نام بھی کیا ہے؟ ‏حرہ، سیاہ پتھر ہیں بھئی وہاں۔ تو رقمہ سے وہ حرہ مراد ہے اور یہ دو ہیں، اس لیے الرقمتین کہا، دو حرہ جو ہیں۔ دو ‏سیاہ پتھروں والی زمینیں۔ كَأَنَّهَا مَرَاجِيعُ، مراجیع جمع ہے مرجوع کی، مرجوع کی اور مرجوع رجوع سے ہے، لوٹانا، لوٹانا، پھر دوبارہ ایک چیز ‏کا وہ چیز جس کو لوٹایا گیا ہو، دوبارہ کیا گیا ہو۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ جیسے آپ ایک وضو کر لیں، پھر دوبارہ ویسے ہی ‏وضو پر کیا کر رہے ہیں؟ وضو کو آپ دہرا رہے ہیں، تو یہ کیا ہوا وضو؟ مرجوع ہوا، اس کو یوں کہیں تازہ کر رہے ‏ہیں وضو کو تازہ۔ وَشْمٌ، وشم یشم کے معنی آتے ہیں گدوانے کے بھئی، کھال گدوانا۔ آپ جانتے ہیں کہ یہ کھال میں بعض اوقات سوئی کے ‏ذریعے سوراخ کر کے ان میں سیاہی وغیرہ، نیلا رنگ یا سبز رنگ یا سیاہ رنگ بھر کر نقش و نگار بنائے جاتے ہیں ‏کھال پر، جو پھر مٹتے نہیں ہیں بھئی، اکثر دراز تک بھئی۔ یہ ہے وشم بھئی، وشم، کھال گدوانا۔ اور حدیث میں اس پر ‏لعنت آئی ہے، لعنت آئی ہے کہ گدوانے والی اور گودنے والی پر اللہ کی لعنت ہو بھئی۔ فِي نَوَاشِرِ مِعْصَمِ، نواشر جمع ہے ناشر کی یا ناشرۃٌ کی، اور یہ رگوں کو کہتے ہیں، رگیں بھئی، جن کے اندر خون چلتا ‏ہے۔ مِعْصَم، معصم کلائی کو کہتے ہیں بھئی، کلائی۔ یہ ہاتھ میں جہاں کنگن پہنے جاتے ہیں، جہاں چوڑیاں پہنی جاتی ‏ہیں، یہ کلائی بھئی، معصم۔ تو کہتا ہے: وَبَدَارٌ لَهَا بِالرَّقْمَتَيْنِ كَأَنَّهَا مَرَاجِيعُ وَشْمٍ فِي نَوَاشِرِ مِعْصَمِ اور کیا یہ امِ اوفی کے گھروں میں سے اس کے دو گھر ہیں بِالرَّقْمَتَيْنِ کہاں پر؟ دو حروں میں، دو حروں کے، بِالرَّقْمَتَيْنِ أَيْ ‏فِي الرَّقْمَتَيْنِ، دو حروں میں۔ بھئی دو حروں میں ایک مکان تو نہیں ہو سکتا، ایک بصرہ کے پاس ہے، ایک مدینہ منورہ ‏کے پاس ہے، سینکڑوں میل کا سفر ہے درمیان میں، تو دار مراد یہاں دو گھر ہیں، دو گھر ہیں اور لیکن مفرد پر اکتفا کر ‏لیا، کیونکہ یہ بات خود بخود سمجھ میں آ جاتی ہے کہ دو جگہ پر ایک گھر نہیں ہو سکتا، دونوں جگہ الگ الگ ہوں گے۔ ‏تو شعر کی ضرورت کی وجہ سے تثنیہ کا لفظ نہیں لائے، کیونکہ تثنیہ لاتے تو شعر کا وزن ٹوٹ جانا تھا، تو اس لیے ‏مفرد لائے بھئی۔ اور کیا یہ دو گھر جو ہیں، امِ اوفی کے گھروں میں سے ہیں بِالرَّقْمَتَيْنِ کہاں پر؟ دو حروں میں۔ بھئی عرب خانہ بدوش لوگ ‏تھے، میں نے بتایا جہاں سبزہ نظر آتا، جہاں پانی کچھ نظر آتا، وہاں خیمے لگا لیتے، پھر وہ جب ختم ہوتا پانی یا سبزہ ‏وغیرہ، تو وہاں سے خیمے اکھاڑتے کسی دوسری جگہ جہاں پانی اور سبزہ ملتا وہاں خیمے لگا لیتے، تو اسی طرح یہ ‏بھی کیا کرتے ہوں گے؟ ایک وقت میں ایک جگہ خیمے لگائے ہیں، پھر دوسرے وقت میں اس جہاں پہلے خیمے لگائے ‏تھے، پھر دوبارہ ادھر چلے گئے، تو اس طرح کرتے ہوں گے بھئی۔ كَأَنَّهَا مَرَاجِيعُ وَشْمٍ، گویا کہ وہ دوبارہ کھال گدوانے کے نشانات ہیں۔ کس کی طرح ہے؟ کھال گدوانے کے نشانات جن کو ‏دہرایا گیا ہو، جن کو دوبارہ تازہ کیا گیا ہو۔ بھئی ایک دفعہ نشان لگوائے، کچھ سالوں بعد آہستہ آہستہ وہ ختم ہوتے گئے، ‏مدہم ہوتے گئے۔ تو پھر ان کو دوبارہ تازہ کروا لینا، دوبارہ گدوا لینا۔ ان گھروں کو کس کی طرح قرار دیا؟ کھال میں جو دوبارہ کھال کو گدوا لینے کی طرح قرار دیا، بھئی دوبارہ گدوا لینا کیا ‏معنی؟ بھئی معنی یہ ہے کہ یہ گھروں کے نشانات تھے، آپ کو پتہ ہے عرب کا ریتلا علاقہ ہے، ہوا چلتی ہے، وہ ریت ‏اڑتی ہوئی چیزوں پر پڑتی رہتی ہے اور آہستہ آہستہ چیزیں ریت کے اندر چھپ جاتی ہیں، پتہ ہی نہیں چلتا۔ تو وہ مکانات ‏وہ کھنڈر وغیرہ بھی کیا ہوتے؟ ریت کے اندر چھپ جاتے، لیکن پھر بارش ہوتی، پانی آتا، وہ پھر اوپر سے ریت اور مٹی ‏وغیرہ پانی کے ساتھ چلی جاتی، وہ نشانات پھر ظاہر ہو جاتے گھر کے، تو ان کو تشبیہ دی کس کے ساتھ؟ دوبارہ کھال ‏گدوانے، جیسے دوبارہ کھال گدوانے سے وہ نشانات بالکل واضح ہو گئے، اسی طرح سیلاب سے بھی یہ نشانات کھنڈر ‏کے جو ہیں، دوبارہ کیا ہو گئے ہیں؟ واضح ہو گئے ہیں۔ فِي نَوَاشِرِ مِعْصَمِ، کلائی کی رگوں میں۔ یہ کھال گدوانے کے نشانات کہاں پر؟ کلائی کی، کلائی پر، اب دیکھیں بھئی اوپر ‏کی طرف بھی رگیں ہیں کچھ اور نیچے کی اندر ظاہر کی طرف بھی اور باطن کی طرف بھی، تو یہ مراد ہیں بھئی، ان ‏میں جو یعنی مراد کلائی ہی ہے بھئی۔ وَبَدَارٌ لَهَا بِالرَّقْمَتَيْنِ كَأَنَّهَا مَرَاجِيعُ وَشْمٍ فِي نَوَاشِرِ مِعْصَمِ کیا امِ اوفی کے گھروں میں سے یہ اس کے دو گھر ہیں دو حروں کے اندر، گویا کہ یہ کلائی کی رگوں میں دوبارہ کھال ‏گدوانے کے نشانات کی طرح ہیں یہ کھنڈر؟ چلیے بس کریں بھئی بس، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔ معنی سمجھ میں آ گیا اچھی طرح؟