أَصَاحِ تَرَى بَرْقًا أُرِيكَ وَمِيضَهُ كَلَمْعِ اليَدَيْنِ فِي حَبِيٍّ مُكَلَّلِ يُضِيءُ سَنَاهُ أَوْ مَصَابِيحُ رَاهِبٍ أَمَالَ السَّلِيطَ بِالذُّبَالِ المُفَتَّلِ قَعَدْتُ لَهُ وَصَحْبَتِي بَيْنَ ضَارِجٍ وَبَيْنَ العُذَيْبِ بَعْدَمَا مُتَأَمَّلِ امرؤ القيس کا معلقہ ہم پڑھ رہے ہیں۔ شروع میں امرؤ القيس نے اپنے عشق و محبت کو بیان کیا، اپنے معشوقہ کے حسن و ‏جمال کو بیان کیا اور اس کو کیا کہتے ہیں؟ تشبیب، کیا کہتے ہیں؟ تشبیب۔ یہ بار بار میں ذکر کرتا ہوں، یہ آپ کو ہر وقت ‏یاد ہونا چاہیے بھئی، ہر وقت۔ سبق کے لیے نہیں، ہر کتاب... کتابوں میں جگہ جگہ آ جائے گا بھئی تشبیب ہے یہ یا ‏تشبیب لفظ آ جائے گا، وہ شرح نہیں کریں گے تو آپ کو پہلے سے علم ہو کہ تشبیب کسے کہتے ہیں۔ اس کے بعد امرؤ القيس نے ایک اپنے اوپر آنے والے غموں کو ذکر کیا اور ایک اسی طرح ایک رات کا ذکر کیا جو ایک ‏غم ناک رات کا ذکر کیا، اس کے بعد امرؤ القيس نے اپنے گھوڑے کی صفات ذکر کرنا شروع کر دیں۔ اور گھوڑے کی ‏صفات ذکر کرتا رہا۔ اور اب آگے وہ ایک بارش کا منظر ذکر کرے گا، بجلی کی چمک کو بیان کرے گا۔ تو کہتا ہے "أَصَاحِ تَرَى"، تو یہ وہ ‏عام اور سادہ چیزیں ہیں دیہات والوں کی زندگی کی۔ دیکھو یہ عام چیزیں ہیں، یہی جانور، حیوانات ان کے استعمال میں ‏رہتے ہیں، انہی چیزوں کا وہ مشاہدہ کرتے ہیں، اسی طرح کبھی انسان پریشان ہوتا ہے، پریشانی کی حالت میں رات ‏گزارتا ہے اور اسی طرح بارش وغیرہ یہ چیزیں آتی ہیں۔ تو انہی کو دیکھو بڑے پرلطف انداز میں بیان کرتا جا رہا ہے ‏اور ان کا صحیح لطف وہی شخص اٹھا سکتا ہے جو دیہات میں رہنے والا ہو، ان چیزوں کا مشاہدہ کرنے والا ہو۔ تو عام ‏چیزیں ہیں، لیکن تشبیہات وغیرہ کے ذریعے وہ کتنا خوبصورت انداز سے، کتنے خوبصورت انداز سے ان کو بیان کر ‏رہا ہے۔ دیکھیے آگے کہتا ہے: "أَصَاحِ تَرَى بَرْقًا أُرِيكَ وَمِيضَهُ كَلَمْعِ اليَدَيْنِ فِي حَبِيٍّ مُكَلَّلِ"۔ "أَصَاحِ"، یہ ہمزہ ندا کے لیے ہے۔ ‏آپ نے پڑھا کہ حروفِ ندا کتنے ہیں؟ پانچ ہیں۔ ان میں سے "یا" جو ہے، قریب اور بعید دونوں کے لیے آتا ہے، ہمزہ اور ‏‏"أَيْ" یہ قریب کے لیے آتا ہے اور "أَيَا" اور "هَيَا" بعید۔ تو یہ جو ہمزہ ہے، یہ ندا کے لیے ہے۔‏ اور "صَاحِ"، یہ اصل میں تھا "صَاحِبُ"، "يَا صَاحِبُ"۔ اور صاحب منادیٰ ہے، ساتھی۔ تو اس میں ترخیم کی گئی۔ آپ ‏جانتے ہیں ترخیم کسے کہتے ہیں؟ منادیٰ کے آخر سے ایک یا زائد حرف اڑا دیے جاتے ہیں۔ ترخیم کیوں کی جاتی ہے؟ ‏دیکھو بھئی، ایک ہے ندا، ایک ہے جوابِ ندا۔ میں زید کو آواز دیتا ہوں: "اے زید! میرے لیے پانی لے کر آؤ۔" اب مجھے ‏بتاؤ، میرا مقصد کیا تھا؟ "یا" "اے زید" کہنا مقصد تھا یا "پانی لے آؤ" وہ مقصد تھا؟ ہاں، تو آگے جو جوابِ ندا ہوتا ہے، ‏وہ ہوتا ہے مقصد۔ ندا تو صرف اس کو متوجہ کرنے کے لیے ہے، تو یہ غیرِ مقصود ہوئی۔ تو انسان اس میں ترخیم کرتے ‏ہیں عرب، تاکہ جلدی سے جلدی اس غیرِ مقصود سے گزریں اور کہاں تک پہنچ جائیں؟ مقصد۔ اس لیے ترخیم کی جاتی ‏ہے۔ تو یہاں اور پھر آپ کو میں نے یہ بھی بتایا تھا کہ جب آخر سے ایک یا زائد حروف اڑا دیے جائیں، تو باقی جو حرف بچ ‏گئے، جو آخری حرف پر جو حرکت پہلے تھی، چاہے وہی برقرار رکھو۔ تو "يَا صَاحِبُ"، باء کو ختم کر دیا، حاء پر کیا ‏تھی؟ زیر، اس کو اسی طرح برقرار رکھیں۔ "يَا صَاحِ"، اور چاہیں تو اس کو ایک پورا نام بنا لیں اور یہ منادیٰ مفرد ہے ‏اور منادیٰ مفرد کیا ہوتا ہے؟ مبنی علی الضم، تو "يَا صَاحُ"۔ تو دونوں طرح پڑھنا جائز ہوتا ہے۔ جی، "أَصَاحِ"، جی۔ "تَرَى بَرْقًا"، برق کہتے ہیں بجلی کو بھئی، یہ جو آسمان پر بجلی چمکتی ہے، اس کو برق کہتے ہیں۔ ‏یہ عام بجلی جس سے بلب وغیرہ روشن ہوتے ہیں، پنکھے چلتے ہیں، اس کو برق نہیں کہتے بھئی، اس کو الکہرباء ‏کہتے ہیں، عربی میں کیا کہتے ہیں؟ الکہرباء۔ تو برق، بجلی بھئی بادل میں چمکنے والی۔ ‏"أُرِيكَ"، أَرَى يُرِي کا معنی ہے دکھانا۔ "وَمِيض"، وميض کہتے ہیں چمک کو بھئی، چمک، روشنی۔ "كَلَمْعِ اليَدَيْنِ"، لَمْعٌ، ‏لمع کا معنی بھی ہے چمک، چمک۔ لیکن لمع کا معنی حرکت کے بھی آتے ہیں بھئی۔ عربی میں کہتے ہیں: "لَمَعَ بِيَدِهِ"، اس ‏نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا، یعنی ہاتھ کو حرکت دی۔ "لَمَعَ بِيَدِهِ"۔ تو یہاں "كَلَمْعِ اليَدَيْنِ" کیا مراد ہے؟ ہاتھوں کی حرکت ‏مراد ہے، ہاتھوں کا اشارہ۔ "فِي حَبِيٍّ مُكَلَّلِ"، حَبِيٌّ کہتے ہیں تہہ بہ تہہ گہرے بادل کو، تہہ بہ تہہ گہرے بادل۔ بھئی گہرے ‏بادلوں، تو آپ بھی دیکھتے ہیں، ہر طرف بادل چھائے ہوتے ہیں اور ایک بادل کے پیچھے دوسرا بادل نظر آ رہا ہوتا ہے، ‏یوں لگتا ہے کئی تہیں ہیں بادل کی بھئی، خوب گہرے بادل ہوتے ہیں۔ تو اس کو حَبِيٌّ کہتے ہیں۔ اور مُكَلَّل، مکلل اکلیل سے ہے، اکلیل تاج کو کہتے ہیں بھئی، تاج، جو بادشاہ سر پر پہنتے ہیں۔ تو اکلیل، اسی سے ہے ‏مکلل، جس کو تاج پہنایا گیا ہو۔ تو بادل کو مکلل کہا بھئی، مکلل۔ کیونکہ جیسے میں نے بتایا تہہ بہ تہہ بادل... گہرے بادل ‏ہوں تو تہہ بہ تہہ ہوتے ہیں، تو ایک بادل کے پیچھے دوسرا بادل، یوں معلوم ہوتا ہے جیسے اس بادل نے تاج پہنا ہو، ‏معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ ‏"أَصَاحِ تَرَى بَرْقًا أُرِيكَ وَمِيضَهُ"، اے میرے ساتھی! "تَرَى بَرْقًا"، جی، معنی تو بن رہا ہے "تَرَى بَرْقًا" تو بجلی کو دیکھ رہا ‏ہے، آسمان پر چمکنے والی کو دیکھ رہا ہے، لیکن یہاں بتلانا، خبر دینا مقصد نہیں ہے، یہاں استفہام ہے، سوال ہے، یعنی ‏‏"هَلْ تَرَى بَرْقًا"، کیا تو بجلی کو دیکھ رہا ہے؟ یا یہ امر ہے کہ تو بجلی کو دیکھ، تو یہ خبر بمعنی انشاء کے ہے۔ اے ‏میرے ساتھی! تو بجلی کو دیکھ، "أُرِيكَ وَمِيضَهُ"، میں تمہیں اس کی چمک دکھلاتا ہوں۔ اس بجلی کی میں تمہیں چمک ‏دکھلاتا ہوں۔ "كَلَمْعِ اليَدَيْنِ"، اچھا، اس کو ذرا چھوڑ دیں۔ "فِي حَبِيٍّ مُكَلَّلِ"، میں تمہیں اس بجلی کی چمک دکھاتا ہوں کہاں پر؟ ‏‏"فِي حَبِيٍّ مُكَلَّلِ"، تہہ بہ تہہ تاج پہنائے ہوئے بادلوں میں یا یوں کہو تاج پہنے ہوئے۔ تہہ بہ تہہ تاج پہنے ہوئے... یا یوں ‏کہو سہرا باندھے ہوئے۔ "فِي حَبِيٍّ مُكَلَّلِ"، تہہ بہ تہہ سہرا باندھے ہوئے بادلوں میں۔ اے میرے ساتھی! کیا تجھے بجلی ‏دکھائی دے رہی ہے؟ میں تجھے اس کی چمک دکھاتا ہوں کہاں پر؟ "فِي حَبِيٍّ مُكَلَّلِ"، تہہ بہ تہہ سہرا باندھے ہوئے بادلوں ‏کے اندر یا تہہ بہ تہہ تاج پہنے ہوئے بادلوں میں، "كَلَمْعِ اليَدَيْنِ"، جیسے کہ ہاتھوں کی حرکت ہوتی ہے، جیسے کہ کیا ‏ہوتی ہے؟ بھئی دیکھیے، بجلی جب آسمان پر چمکتی ہے تو ایک جگہ ہوتی ہے یا یوں پھیلتی ایک طرف تو پھیلتی جاتی ‏ہے یا کئی طرف پھیل جاتی ہے؟ تو وہ کئی طرف پھیل جاتی ہے۔ اسی طرح جب انسان ہاتھ سے کسی کو اشارہ کر رہا ‏ہے، تو ہاتھ کبھی ایک طرف حرکت کرتا ہے اور کبھی دوسری طرف حرکت کرتا ہے، تو اس کے ساتھ تشبیہ دے رہا ‏ہے کہ بجلی آسمان پر اس طرح کبھی ایک طرف چمکتی ہوئی پھیل جاتی ہے، کبھی چمکتی ہوئی دوسری طرف، جیسے ‏ہاتھ کے ذریعے اشارہ کیا جائے تو ہاتھ کبھی ایک طرف کو حرکت کرتا ہے اور کبھی دوسری طرف کو حرکت کرتا ہے۔ ‏"أَصَاحِ تَرَى بَرْقًا أُرِيكَ وَمِيضَهُ كَلَمْعِ اليَدَيْنِ فِي حَبِيٍّ مُكَلَّلِ"، "كَلَمْعِ اليَدَيْنِ"، اس کا ترجمہ سب سے آخر میں کریں، پھر ‏بات واضح ہوتی ہے۔ اے میرے ساتھی! کیا تو بجلی کو دیکھ رہا ہے؟ میں تجھے اس کی چمک دکھاتا ہوں تہہ بہ تہہ تاج ‏پہنے ہوئے بادلوں میں، جیسے کہ ہاتھوں کی حرکت ہوتی ہے۔ ‏"يُضِيءُ سَنَاهُ أَوْ مَصَابِيحُ رَاهِبٍ أَمَالَ السَّلِيطَ بِالذُّبَالِ المُفَتَّلِ"، أَضَاءَ يُضِيءُ کا معنی ہے روشن ہونا۔ سَنَا، سنا چمک کو ‏کہتے ہیں، روشنی کو۔ سَنَاهُ، اس بجلی کی چمک، اس کی روشنی۔ "أَوْ مَصَابِيحُ رَاهِبٍ"، مصابیح جمع ہے مصباح کی، ‏چراغ کو کہتے ہیں۔ راہب، یہ لفظ پہلے بھی گزرا ہے، کہاں پر بھئی؟ جی؟ کیسے ہے؟ کیا ہے؟ "تُضِيءُ الظَّلَامَ بِالْعِشَاءِ ‏كَأَنَّهَا مَنَارَةُ أَمْسَى رَاهِبٍ مُتَبَتِّلِ"۔ اچھا جی۔ تو وہ حضور... یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے قبل کا زمانہ ہے اور اس زمانے میں دینِ عیسوی حق تھا اور ان ‏میں سے بعض لوگ کیا کرتے تھے؟ اللہ کی عبادت کے لیے اپنے آپ کو سب سے الگ تھلگ کر لیتے، جنگلوں میں رہتے ‏اور شب و روز اللہ کی عبادت میں مصروف رہتے، ان کو راہب کہتے تھے، راہب۔ "أَمَالَ السَّلِيطَ"، أَمَالَ يُمِيلُ کا معنی ہے ‏مائل کرنا، جھکانا، جھکانا۔ سَليط بھئی، سلیط کہتے ہیں زیتون کے تیل کو، یا اسی طرح یہ تلوں کا جو تیل ہے، اس کو ‏بھی سلیط کہتے ہیں۔ "بِالذُّبَالِ"، ذبال جمع ہے ذبالۃ کی اور یہ چراغ کی بتی کو کہتے ہیں بھئی، چراغ کی بتی۔ مُفَتَّل، مَفتل ‏کا کیا معنی؟ بٹی ہوئی۔ جی، کہاں گزرا یہ؟ ہاں شاباش، "فَظَلَّ العَذَارَى يَرْتَمِينَ بِلاَحْمِهَا وَشَحْمٍ كَهُدَّابِ الدِّمَقْسِ المُفَتَّلِ"۔ ‏"يُضِيءُ سَنَاهُ أَوْ مَصَابِيحُ رَاهِبٍ"، چمک رہی ہے سَنَاهُ اس کی روشنی، يُضِيءُ یہ اس کی روشنی چمک رہی ہے اس بجلی ‏کی، "أَوْ مَصَابِيحُ رَاهِبٍ"، یا یہ راہب کے چراغ ہیں۔ یہ بادل میں جو بجلی چمک رہی ہے، تو کیا یہ اس کی روشنی ہے "أَوْ ‏مَصَابِيحُ رَاهِبٍ"، یا کیا ہیں؟ راہب کے چراغ۔ اور بتلایا تھا میں نے آپ کو کہ راہب شام کے وقت چراغ کو کسی اونچی ‏جگہ پر روشن کر دیتے تھے تاکہ دور سے کوئی مسافر وغیرہ دیکھے تو اس کو پتہ لگ جائے کہ یہاں میں رات گزار ‏سکتا ہوں اور اس کو خوب روشن کرتے تھے تاکہ دور تک نظر آئے، اسی لیے راہب کا ذکر کیا چراغ کے ساتھ۔ یہ اس ‏بجلی کی چمک ہے یا راہب کے چراغ ہیں کہ "أَمَالَ السَّلِيطَ بِالذُّبَالِ المُفَتَّلِ"، کہ جھکا دیا ہو السليط اس کے تیل کو "بِالذُّبَالِ ‏المُفَتَّلِ"، بٹی ہوئی چراغ کی بتی پر۔ کہ جس کے تیل کو کیا کر دیا ہو اس نے؟ بٹی ہوئی چراغ کی بتی پر جھکا دیا ہو۔ بھئی، تیل کے ذریعے ہی چراغ روشن ‏ہوتا ہے، اب ظاہر سی بات ہے جب چراغ کو جھکا دیا تو وہ اس طرف تیل زیادہ پہنچے گا، روشنی زیادہ ہوگی بھئی۔ تو ‏معنی یہ ہے کہ جھکا دیا ہو اس کے تیل کو کس کی طرف؟ بٹی ہوئی چراغ کی... توجہ ہے معنی پر؟ کیا یہ اس بجلی کی ‏چمک ہے یا یہ راہب کے چراغ ہیں کہ ان کے تیل کو جھکا دیا گیا ہو بٹی ہوئی چراغ کی بتی کی طرف، یعنی خوب روشن ‏ہو گیا ہو۔ جبکہ بعض علماء فرماتے ہیں کہ یہاں قلب ہوا ہے۔ اصل میں ہے "أَمَالَ الذُّبَالَ المُفَتَّلَ بِالسَّلِيطِ"، سلیط کی جگہ ذبال ‏مقتل لے آئے اور ذبال مقتل کی جگہ سلیط، کہ جھکا دیا گیا ہو اس اس کی چراغ کی بٹی ہوئی بتی کو "بِالسَّلِيطِ" کس پر؟ ‏تیل پر جھکا دیا گیا ہو، تو اس جس سے کیا ہوتی ہے اس کی روشنی بڑھ جاتی ہے۔ تو بعض کہتے ہیں اس میں قلب ہے ‏بھئی، قلب ہے۔ اچھا، یا بعض کہتے ہیں معنی یہ ہے کہ اس چراغ کو ایک طرف کو یعنی جھکا دیا گیا ہو۔ ایک طرف کو... اور جب ظاہر ‏سی بات ہے ایک طرف کو چراغ کو جھکا دیں گے تو جس طرف کو جھکایا ہے، اس طرف روشنی زیادہ ہو جائے گی ‏بھئی۔ تو معنی کہنے کا یہ ہے کہ یہ بجلی اس طرح چمک رہی ہے جیسے راہب کے چراغ ہیں اور ان کو ایک طرف کو ‏جھکا دیا گیا ہے یعنی خوب روشن ہیں، خوب منور ہیں۔ تو یہ بجلی ان کی طرح ہے۔ "يُضِيءُ سَنَاهُ"، یہ اس بجلی کی چمک ‏ہے یا چراغِ راہب کے چراغ ہیں کہ جھکا دیا گیا ہو جن کے تیل کو بٹی ہوئی چراغ کی بتی پر۔ ‏"قَعَدْتُ لَهُ وَصَحْبَتِي بَيْنَ ضَارِجٍ وَبَيْنَ العُذَيْبِ بَعْدَمَا مُتَأَمَّلِ"، قَعَدَ کا معنی ہے بیٹھنا۔ صَحْبَتِي، صحبت یہ مصدر ہے، لیکن ‏یہ یہاں ساتھیوں کے معنی میں ہے، اصحاب کے معنی میں ہے۔ صحبتي، میرے ساتھی۔ "بَيْنَ ضَارِجٍ"، ضارج جگہ کا نام ‏ہے بھئی۔ "وَبَيْنَ العُذَيْبِ"، عذیب، یہ بھی جگہ کا نام ہے۔ "بَعْدَمَا مُتَأَمَّلِ"، بَعْدَ، یہ اصل میں تھا بَعُدَ، بَعُدَ، فعلِ ماضی ہے، ‏فعلِ ماضی ہے، فَعُلَ وزن ہے۔ اور صرف کا ضابطہ ہے بھئی کہ بَعُدَ وزن میں آپ عین کو ساکن بھی پڑھ سکتے ہیں۔ ‏جہاں بھی فَعُلَ وزن آئے، وہاں کیا کر سکتے ہیں؟ فَعُلَ وزن میں فَعْل بھی پڑھ سکتے ہیں۔ اسی طرح جہاں فَعِل وزن آئے، ‏فَعِل وہاں بھی عین کو ساکن پڑھ سکتے ہیں، فَعْل پڑھ سکتے ہیں۔ جیسے کتف کتف میں کیا پڑھ سکتے ہیں؟ کتفون آپ پڑھ ‏سکتے ہیں۔ کتفون اور یہاں کیا آیا بعُد، بعُدَ تو یہاں عین کو ساکن کر دیا ضرورتِ شعر کی بنا پر کیا بن گیا؟ بعْد۔ جیسے والد صاحب کا قصیدہ ہے قصیدۂ طوبیٰ اس میں آتا ہے وہُوَ۔ واؤ عطف کے لیے ہے اور ہوَ ضمیر ہے، وہُوَ تو کون ‏سا وزن بن گیا؟ فعُلَ تو پھر عین کو ساکن پڑھنا بھی جائز۔ تو ضروری نہیں ایک ہی لفظ کے اندر آئے، بس یہ وزن جہاں آ ‏رہا ہو عین کو ساکن کرنا جائز۔ تو لہٰذا وہاں ضرورتِ شعر کے مطابق ہاء کو ساکن کر دیا گیا وہْوَ۔ وہُوَ کے بجائے کیا ‏پڑھا جاتا ہے؟ وہْوَ۔ تو جس کو علم نہیں ہوتا ان ضابطوں کا وہ سمجھتا ہے شاید یہ کتابت کی غلطی ہے حالانکہ ایسا نہیں، ‏یہ ضرورتِ شعر کی بنا پر ہے اور یہ کلامِ عرب میں جائز ہے بھئی۔ تو یہ بھی بعُدَ ہے، دور ہوا ۔ ما یہ ما زائد ہے بھئی زائد اور متأمل اس میں ظرف کا صیغہ ہے، تأمل کا معنی ہے غور و ‏فکر کرنا، متأمل غور و فکر کی جگہ، متأملی میرے غور و فکر کی جگہ۔ امرؤ القیس کہتا ہے، اس بارش کا اور اس بجلی کی چمک کا ذکر کر رہا ہے، کہتا ہے قعدتُ له وصحبتي کہ بیٹھے اس ‏کے لیے، اس بجلی کی چمک کے لیے یا ان بادلوں کے لیے میں وصحبتي اور میرے اور میرے دوست اور ساتھی۔ کس ‏جگہ پر؟ بين ضارجٍ وبين العُذَيبِ، ضارج اور عذیب مقام کے بیچ میں۔ ہم لوگ کس جگہ پر تھے؟ جو وہ جگہ کن کے ‏درمیان تھی؟ ہاں وہ جگہ ضارج اور عذیب کے درمیان بنتی تھی، وہاں ہم بیٹھے۔ بعُدَ اور دور تھا متأملي میرے غور و ‏فکر کی جگہ۔ یہ فاعل ہے بعُدَ کے لیے، دور تھی میرے غور و فکر کی جگہ۔ یعنی میں ان بادلوں میں غور کر رہا تھا۔ یہ بادل پھیلے ہوئے تھے تہہ بہ تہہ، گہرے بادل تھے، ان میں بجلی چمک رہی تھی اور میں اور میرے ساتھی عذیب مقام ‏میں بیٹھے ہوئے ہیں اور دور ان بادلوں میں اور ان بادلوں کو ان کی بجلی کی چمک کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ تو بعُدَ متأملي ‏یہ بادل مجھ سے دور تھے یعنی میں ان میں غور کر رہا تھا تو میرے غور و فکر کی جگہ کیا تھی؟ مجھ ہم سے دور تھی۔ ‏معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ بعُدَ متأملي دور تھی، کیا چیز؟ میرے غور و فکر کی جگہ اور وہ کہاں کس میں غور و فکر ‏کس میں کر رہا تھا؟ ان بادلوں میں بھئی۔ تو بعُدَ ما متأملي دور تھی میرے غور و فکر کی جگہ یعنی وہ بادل ہم سے دور تھے۔ یا بعضوں نے کہا تو بھئی دیکھیے ‏بعُدَ فعل اور متأمل کو کیا بنایا؟ فاعل، دور تھی، کیا دور ہوئی یا دور تھی؟ وہ جگہ اور ما کو زائد، جبکہ بعضوں نے کہا ‏کہ یہ ما موصولہ ہے اور یہ فاعل بنے گا بعُدَ کا اور یہ متأملي یہ اصل میں ہے ہوَ متأملي، مبتدا محذوف ہے اور متأمل کیا ‏ہے اس کی خبر، معنی پھر بھی وہی رہتا ہے۔ بعُدَ الذي هو متأملي دور تھی وہ جگہ جس میں میں کیا کر رہا تھا؟ غور و ‏فکر کر رہا تھا۔ قعدتُ له وصحبتي بين ضارجٍ وبين العُذَيبِ بعُدَ ما متأملي میں اور میرے ساتھی بیٹھے ضارج اور عذیب مقام کے بیچ میں اور ہمارے غور میرے غور و فکر کی جگہ دور تھی ‏یعنی وہ بادل تھے۔ على قطنٍ بالشَّيمِ أيمَنُ صوبِهِ وأيسَرُهُ على السِّتارِ فيَذبُلِ على قطنٍ، قطن یہ ایک پہاڑ کا نام ہے۔ بالشَّيمِ، شَیم کہتے ہیں بادل اور شَیم کہتے ہیں بادل اور بجلی کی چمک وغیرہ کے ‏ذریعے بارش کا اندازہ لگانا۔ بادل اور بجلی کی چمک وغیرہ کے ذریعے بارش کا اندازہ لگانا۔ دیہات والے بہت سی چیزوں کو ان کا تجربہ ہوتا ہے، یہ بارش وغیرہ کا اندازہ وہ بادل اور بجلی کی چمک وغیرہ اور ‏بادلوں کی رنگت سے وہ بارش کا اندازہ لگا لیتے ہیں۔ ہر طرف بادل بھی چھائے ہوں، وہ بتا دیتے ہیں بھئی فلاں طرف ‏کو اس وقت بارش ہو رہی ہے اور فلاں طرف کو ابھی نہیں ہو رہی۔ تو بادلوں سے اندازہ ہو جاتا ہے۔ اور میں جب چھوٹا تھا گاؤں میں نانا، میرے نانا جو تھے وہ ان بادلوں کو دیکھ کر مجھے بھی بتاتے کبھی اس طرح بارش ‏ہو رہی ہے یا اس طرح بارش نہیں ہو رہی تو مجھے بھی اچھا خاصا اندازہ ہو گیا تھا۔ بادلوں کی ہیئت، ان کی رنگت اور ‏اسی طرح ان کی بجلی کی چمک وغیرہ ان چیزوں سے اندازہ ہو جاتا تھا کہ اس طرف اس وقت بارش ہو رہی ہے اور اس ‏طرف بارش نہیں ہو رہی۔ تو دیہات والے ان چیزوں کے بڑے ماہر ہوتے ہیں بھئی۔ تو شَیم کا کیا معنی ہے؟ بادل اور بجلی کی چمک وغیرہ ان چیزوں کے ذریعے بارش کا اندازہ لگانا۔ أيمَنُ، دائیں جانب ‏بھئی۔ صوب، صوب کہتے ہیں بارش کو بھئی، بارش کو۔ صابَ یصوبُ صوباً کا معنی اوپر سے نیچے کو نازل ہونا، تو ‏بارش بھی چونکہ اوپر سے نیچے کو اترتی ہے اس لیے اس کا نام صوب ہے۔ أيسَرُ، بائیں جانب بھئی۔ على السِّتارِ، ستار ‏یہ بھی ایک پہاڑ کا نام ہے۔ فيَذبُلِ، یذبل بھی پہاڑ کا نام ہے۔ قطن بھی پہاڑ کا نام، ستار بھی پہاڑ کا نام اور یذبل بھی پہاڑ ‏کا نام۔ اچھا على قطنٍ بالشَّيمِ، یہ شَیم کو ذرا چھوڑ دیں، على قطنٍ أيمَنُ صوبِهِ، قطن پہاڑ پر أيمَنُ صوبِهِ دائیں طرف کی بارش تھی۔ ‏دائیں طرف کی بارش کہاں ہو رہی تھی؟ قطن پہاڑ پر، یہ أيمَنُ صوبِهِ یہ ہے مبتدائے مؤخر اور على قطنٍ یہ ہے خبرِ مقدم۔ ‏أيمَنُ صوبِهِ اس بادل یا اس بجلی کی جو بارش تھی اس کا دایاں حصہ على قطنٍ کہاں پر تھا؟ قطن پہاڑ پر، وأيسَرُهُ اور اس ‏کا دایاں حصہ نا؟ دایاں حصہ اس کا قطن پہاڑ پر تھا وأيسَرُهُ على السِّتارِ اور بایاں حصہ اس کا بارش کا ستار پہاڑ پر تھا ‏فيَذبُلِ اور پھر یذبل پہاڑ پر تھا۔ امرؤ القیس کیا کہتا ہے کہ بارش ہو رہی تھی، اس بارش کا دایاں حصہ کہاں پر تھا یعنی کہاں تک بارش ہو رہی تھی؟ ‏قطن پہاڑ تک اور بایاں حصہ کہاں تک پہنچا ہوا تھا؟ ستار اور یذبل پہاڑ پر، ان پر بھی بارش ہو رہی تھی یعنی ہر طرف ‏بارش ہو رہی تھی۔ اور بالشَّيمِ، یہ حال ہے بھئی اور کہتا ہے یہ جو میں حکم لگا رہا ہوں، کیا؟ کہ قطن پر بھی بارش ہو ‏رہی ہے، ستار پہ بھی بارش ہو رہی ہے، یذبل پہ بھی بارش ہو رہی ہے، بالشَّيمِ یہ بادل اور بجلی کے اندازے سے میں یہ ‏حکم لگا رہا ہوں۔ یہ بات میں کس طریقے سے بیان کر رہا ہوں؟ بادل اور بجلی کی چمک دمک سے میں یہ اندازہ لگا رہا ‏ہوں۔ اس لیے کیونکہ قطن، ستار اور یذبل تینوں پہاڑ ایک دوسرے سے اتنی دور ہیں کہ ایک وقت میں تینوں نظر ہی نہیں آتے ‏بھئی۔ قطن نظر آ رہا ہے تو یذبل نہیں نظر آتا، یذبل نظر آ رہا ہے ستار نہیں نظر آتا، تو یہ پہاڑ تو ایک دوسرے سے بہت ‏دور ہیں، ایک وقت میں دکھائی ہی نہیں دیتے تو آپ کیسے یہ بات کر رہے ہیں کہ وہاں پر بھی بارش ہو رہی ہے، وہاں ‏پر بھی ہو رہی ہے، وہاں پر بھی بارش ہو رہی ہے؟ تو بتایا کہ ان بادلوں اور بجلی کی چمک دیکھ کر میں اندازے سے یہ ‏بات کہہ رہا ہوں کیونکہ یہ بادل اتنے گھنے تھے، ہر طرف پھیلے ہوئے تھے، ہر طرف چھائے ہوئے تھے تو اور تو ‏ظاہر یہی ہو رہا تھا کہ قطن، ستار، یذبل ہر طرف موسلا دھار بارش ہو رہی ہے بھئی، معنی سمجھ میں آیا؟ على قطنٍ بالشَّيمِ أيمَنُ صوبِهِ وأيسَرُهُ على السِّتارِ فيَذبُلِ اس بارش کا دایاں حصہ جو ہے قطن پہاڑ پر تھا اور اس کا بایاں حصہ ستار اور پھر یذبل پہاڑ پر تھا اور یہ بات میں ‏انداز بادل اور بجلی کے کو دیکھ کر اندازے سے کہہ رہا ہوں۔ فأضحى يسُحُّ الماءَ حولَ كُتيفَةٍ يَكُبُّ على الأذقانِ دَوْحَ الكَنهَبلِ أضحى، یضحی کا معنی چاشت کے وقت میں داخل ہونا لیکن یہاں یہ صارَ کے معنی میں ہے، ہو گیا ہو گیا، افعالِ ناقصہ ‏ایک دوسرے کے معنی میں عام استعمال ہوتے ہیں، ہو گیا۔ يسُحُّ، يسُحُّ کا معنی بہانا، يسُحُّ الماءَ پانی بہایا، پانی بہایا۔ حولَ كُتيفَةٍ، کتیفہ جگہ کا نام ہے جگہ کا نام بھئی اور یہ غیر منصرف ہے بھئی کیونکہ ایک علمیت ہے اور ایک تانیث ‏ہے، تو ہونا چاہیے تھا کتیفۃَ لیکن ضرورتِ شعری کی بنا پر اس کو منصرف پڑھا گیا یہاں پر بھئی، شعر کا وزن صحیح ‏نہیں رہتا اگر اس کو غیر منصرف پڑھا جائے۔ تو ضرورتِ شعری کی بنا پر غیر منصرف کو منصرف پڑھنا جائز۔ بھئی اصل کیا ہے؟ منصرف ہونا یا غیر منصرف ہونا؟ اصل ہے منصرف ہونا، غیر منصرف کیا ہے؟ خلافِ اصل، وہ ‏دو سبب آتے ہیں پھر غیر منصرف بنتا ہے ورنہ غیر منصرف تو ضرورتِ شعری کی بنا پر چیز کو اس کی اصل کی ‏طرف لوٹایا جا سکتا ہے تو غیر منصرف کو کس کی طرف لوٹا دیا؟ منصرف کی طرف، لیکن اس کا برعکس نہیں کر ‏سکتے کہ آپ منصرف کو کس کی طرف لے جائیں؟ غیر منصرف کی طرف ضرورتِ شعری کی بنا پر، یہ نہیں جائز ‏بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ يَكُبُّ، کبَّ یکبُّ کا معنی ہے جھکانا جھکانا اور یہ ان نادر افعال میں سے ہے جو عام افعال کے برعکس ہیں۔ کبَّ کا معنی ‏جھکانا، بھئی دیکھیے قعدَ کا معنی بیٹھنا اور اسی کو بابِ افعال میں لے جاؤ أقعدَ، کیا معنی؟ بٹھانا۔ جلسَ کا معنی بیٹھنا اور ‏أجلسَ بابِ افعال میں لے جاؤ، بٹھانا۔ تو بابِ افعال میں کسی فعل کو لے جاؤ متعدی بن جاتا ہے لیکن کبَّ کے اندر یہ معاملہ ‏برعکس ہے۔ کبَّ کا معنی ہے جھکانا اور بابِ افعال میں لے جاؤ أکبَّ، اس کا معنی ہے جھکنا۔ معنی بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ عام افعال کے برعکس ہے بھئی، کبَّ مجرد سے ہو تو معنی ہے جھکانا، مفعول ‏چاہیے اور أکبَّ بابِ افعال میں لے جاؤ تو معنی ہے جھکنا، مفعول کی ضرورت نہیں۔ یہ اسی طرح جیسے عرضَ اور ‏أعرضَ، وہ بھی نادر افعال میں سے ہے، أعرضَ کا معنی ہے پیش کرنا، ظاہر کرنا، ظاہر کرنا اور اس کو لے جاؤ بابِ ‏افعال میں أعرضَ تو معنی ہے پیش ہونا، تو یہ بھی اسی کی طرح ہے۔ يَكُبُّ على الأذقانِ، أذقان جمع ہے ذقن کی، ٹھوڑی کو کہتے ہیں بھئی۔ دَوْحَ الكَنهَبلِ، دوحٌ کہتے ہیں بڑا اور پھیلا ہوا درخت ‏بھئی، خوب بہت خوب بڑا اور پھیلا ہوا جو درخت ہو ان کو دوحٌ کہتے ہیں دوحٌ۔ یہ کوئی خاص درخت کا نام نہیں ہے، ‏جو بھی پھیلے اور بڑے ہوئے درخت ہیں ان کو کیا کہتے ہیں؟ دوحٌ اور الكَنهَبلِ، کنہبل اس میں سے ایک خاص قسم کا ‏درخت ہے انہی دوحٌ میں سے، یعنی ایک بڑا اور پھیلا ہوا خاص درخت ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟ اس کا نام کنہبل ہے۔ تو دَوْحَ الكَنهَبلِ یہ اضافت ہو رہی ہے عام کی خاص کی طرف، دیکھو دوحٌ عام ہے، دوحٌ کیا ہے؟ ہر بڑا اور پھیلا ہوا ‏درخت کیا ہے؟ دوحٌ، تو اسی میں سے ایک کیا ہے؟ کنہبل، وہ خاص ہوا تو عام کی اضافت ہو رہی ہے خاص کی طرف۔ فأضحى يسُحُّ الماءَ حولَ كُتيفَةٍ تو یہ یہ بادل ہو گئے کہ يسُحُّ الماءَ پانی بر صحّ یصحّ کا معنی کیا کیا؟ برسانا برسانا، صحّ یصحّ کا معنی برسانا۔ فأضحى يسُحُّ الماءَ تو یہ بادل ہو گئے کہ يسُحُّ الماءَ پانی برسا رہے تھے حولَ كُتيفَةٍ کہاں پر؟ کتیفہ مقام کے ارد گرد، یعنی ‏یہ بارش برسا رہے تھے کتیفہ مقام کے ارد گرد۔ يَكُبُّ على الأذقانِ اور جھکا دیے انہوں نے على الأذقانِ ٹھوڑی کے بل، ‏انہوں نے ٹھوڑی کے بل جھکا دیے، کیا جھکا دیے؟ دَوْحَ الكَنهَبلِ کنہبل کے بڑے اور وسیع و عریض درخت بھی انہوں ‏نے ٹھوڑی کے بل جھکا دیے۔ ٹھوڑی کے بل جھکانے کا معنی ہے یعنی سر کے بل جھکا دینا یعنی گرا دینا، یہاں درخت ہیں تو کیا معنی ہے؟ یعنی اتنی ‏طوفانی بارش تھی، ہر طرف بارش ہو رہی تھی اور اتنی طوفانی بارش تھی کہ پہاڑوں سے جو پانی پھر بہہ کر آیا تو اس ‏پانی نے بڑے بڑے جو درخت حالانکہ درخت جتنا بڑا ہوتا ہے اس کی جڑیں زمین کے اندر اتنی ہی پھیلی ہوئی ہوتی ہیں ‏تاکہ اس کو اچھی طرح سہارا دیں اور وہ گرے نہ بھئی، لیکن یہ بارش اتنی تیز اور موسلا دھار تھی اور اتنا سیلابی پانی ‏آیا کہ بڑے بڑے درختوں کو بھی اس نے کیا کیا؟ ٹھوڑی کے بل جھکا دیا یعنی انہیں زمین پر گرا دیا۔ جب بڑے درختوں ‏کو گرا دیا تو چھوٹوں کو بدرجۂ اولیٰ ان میں سے کوئی نہ بچا ہو گا بھئی۔ فأضحى يسُحُّ الماءَ حولَ كُتيفَةٍ تو ہو گیا یہ کہ بارش برسا رہا تھا کتیفہ مقام کے ارد گرد يَكُبُّ على الأذقانِ اور جھکا دیا ‏ٹھوڑی کے بل کنہبل کے بڑے اور پھیلے ہوئے درختوں کو۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله اعلم بحقيقة الكلام۔