درس نمبر۔63 ثم ذکر مجازاً آخر لِأَوْ فقال وتستعار بمعنی حتیٰ أو إلا أن إذا فسد العطف لاختلاف الکلام ویحتمل ضرب الغایۃ عن الاصلِ فی أو أن تکون للعطف فإذا لم یستقیم العطفُ بأن یختلف الکلامان بأن یختلف الکلامانِ اسمًا وفعلاً أو ماضیًا ومضارعًا أو مثبتًا ومنفیًّا أو شیئاً آخر یشوش العطف ویمنعہ۔ ثم ذکر مجازاً آخر لِأَوْ پھر مصنف نے او کا ایک اور مجاز ذکر کیا فقال پس فرمایا وتستعار بمعنی حتیٰ یا الا ان اور کبھی کبھار اور مستعار لیا جاتا ہے او کو بمعنی حتیٰ کس کے معنی میں حتیٰ کے معنی میں اور الا ان یہ کس کے معنی میں الا ان یہ ایک اور مجازی معنی بیان کر رہے ہیں او کا بھئی۔ او تو ہے دراصل عطف کے لیے بھئی اور احد الامرین کے لیے آتا ہے احد المذکورین کا فائدہ دیتا ہے لیکن یہ مستعار لیا جاتا ہے کبھی کبھار حتیٰ یا الا ان کے معنی میں کب لیتے ہیں یہ حتیٰ یا الا ان کے معنی میں کہتے ہیں اذا فسد العطف لاختلاف الکلامین جب عطف فاسد ہو بوجہ دو بوجہ کلام کے اختلاف کے بھئی۔ کلام کے اختلاف کی وجہ سے عطف فاسد ہو یعنی جب یہ ہے تو عطف کے لیے لیکن جب عطف درست نہ ہوتا ہو کلام میں اختلاف کی وجہ سے تو اس صورت میں اس کو حتیٰ کے معنی میں لے لیں گے یا الا ان کے معنی میں لے لیتیں گے۔ ویحتمل ضرب الغایۃ اور وہ کلام جو ہے ضرب کا معنی بیان کرنا اور وہ کلام بیان غایت کا بھی احتمال رکھتا ہو یہ شرط ہے بھئی یہ اگے ذکر کریں گے۔ کہ او تو ہے عطف کے لیے لیکن اگر عطف درست نہ بنتا ہو تو پھر اس کو کس معنی میں لے لیں گے حتیٰ یا الا ان کے معنی میں لے لیں گے لیکن یہ اس صورت میں جبکہ وہ جو کلام ہے وہ بیان غایت کا احتمال رکھتا ہو یعنی اس کی کوئی غایت یعنی کوئی انتہا بیان کی جا سکتی ہو۔ جو ماقبل میں او سے پہلے جو چیز ذکر ہوئی وہ کس چیز کا احتمال رکھتی ہو غایت کا احتمال کہ اس کی انتہا بیان کی جا سکے بھئی بیان کی جا سکے جی دیکھیے اب یعنی الاصلی فی او أن تکون للعطف یعنی اصل تو او کے اندر یہ ہے کہ وہ عطف کے لیے ہونا چاہیے فإذا لم یستقیم العطف پس جب عطف درست نہ ہو۔ بھئی عطف درست نہ ہو کیوں متن میں کہتا ہے لاختلاف الکلام اب وہ صورتیں اگے ذکر کریں گے کہ کس طرح عطف درست نہیں ہوتا کلام میں کس طرح اختلاف ہوتا ہے او سے ماقبل میں اور او کے مابعد میں کہتے ہیں فإذا لم یستقم العطف جب عطف درست نہ ہو بأن یختلیف الکلامان بعید طور کے مختلف ہوں دونوں کلام۔ کس اعتبار سے مختلف ہوں اسمًا وفعلاً اسم اور فعل ہونے کے اعتبار سے یعنی او کے ایک طرف اسم ہے تو دوسری طرف فعل ہے یا پہلے فعل ہے تو بعد میں اسم ہے اب فعل کا فعل پر عطف ہوتا ہے اور اسم کا اسم پر عطف ہوتا ہے تو جب دونوں مختلف ہوئے تو لہذا اس صورت میں عطف نہیں ہو سکے گا تو پھر اس کو حتیٰ یا الا ان کے معنی میں لیں گے لیکن اس کے لیے بھی وہ شرط کہ کلام کیا ہے؟ غایت کے بیان کا احتمال رکھتا ہو اس شرط کا لحاظ رکھنا ہے تو مختلف صورتیں ذکر کر رہے ہیں کلام کے اختلاف کی ایک صورت ذکر کردی کہ اسمًا وفعلاً کے اختلاف کس اعتبار سے ہو اسم اور فعل ہونے کے اعتبار سے ہو اور ماضیًا ومضارعًا یا ماضی اور مضارع ہونے کے اعتبار سے ہو یعنی ایک ماضی ہے تو دوسرا مضارع ہے تو عطف درست نہیں بنتا۔ اور مثبتًا ومنفیًّا یا مثبت اور منفی ہونے کے اعتبار سے یعنی ایک مثبت ہے تو دوسرا منفی ہے اور شیئاً آخر یا کوئی اور چیز ہے جو یشوش العطف ویمنعہ جو عطف میں خلل ڈالتی ہے اور عطف کو روکتی ہے کوئی اور ایسی چیز ہے۔ جو عطف میں کیا کر رہی ہے خلل ڈال رہی ہے اور اس کو روک رہی ہے تو پھر اس صورت میں اس کو کس معنی میں لیں گے حتیٰ یا الا ان لیکن شرط کیا ذکر کی تھی کہ آخر کلام کس چیز کا استعمال اول کلام کس چیز کا احتمال رکھتا ہو؟ بیان غایت کا یعنی اس کی کوئی غایت بیان کی جا سکتی ہو وہ اب ذکر کرنے لگے ہیں ویأکون اول الکلام ممتداً اور اول کلام کو ممتد ہونا چاہیے یعنی اس میں طول ہونا چاہیے کیا ہونا چاہیے؟ طول ہونا چاہیے ایک چیز میں طول ہوگا تو اس کی انتہا بیان کی جا سکتی ہے اگر ایک چیز میں طول ہی نہیں ہے یا ایک لمحے میں خود گزر جاتی ہے تو پھر انتہا اس کی کیا بیان کریں گے بھئی۔ صورت سمجھ میں اگئی بھئی۔ تو اس میں طول ہونا چاہیے۔ مثلاً آپ کسی دوسرے شخص سے کہتے ہیں۔ لألزمَنَّکَ او تقضیَنی حقیٰ۔ لألزمَنَّکَ او تقضیَنی حقیٰ۔ کہ میں تیرے ساتھ لازم رہوں گا۔ او یہاں حتیٰ یا الا ان کے معنی میں ہے۔ حتیٰ کے معنی میں ہو تو کیا ترجمہ کریں گے یہاں تک کہ اور الا ان کے معنی میں ہو تو کیا کریں گے ترجمہ مگر یہ کہ تو دیکھیے لألزمَنَّکَ مخاطب کو کہتے ہیں میں تیرے ساتھ لازم رہوں گا۔ او تقضیَنی حقیٰ ای حتیٰ تقضیَنی یہاں تک کہ تو میرا حق مجھے دے دے۔ میں تیرے ساتھ لازم رہوں گا یہاں تک کہ تو مجھے میرا حق دے دے تو دیکھو لازم رہنا یہ ماقبل ہے اور اس میں امتداد ہے طول ہے آپ کسی کے ساتھ ساتھ رہیں تھوڑی دیر رہیں گھنٹہ رہیں دو گھنٹے رہیں دس گھنٹے رہیں بھئی۔ اس کے ساتھ ساتھ رہیں تو یہ ہے لازم ہونے میں امتداد ہے۔ تو لہذا اس کی غایت بیان کی جا سکتی ہے۔ صورت سمجھ میں اگئی بھئی۔ تو حتیٰ او کیا تھا او تقضیَنی حقیٰ یہاں تک کہ تو مجھے میرا حق دے دے اور یہ اس کے لیے غایت بن سکتا ہے کہ آپ اس کے ساتھ لازم رہیں یہاں تک کہ وہ آپ کا حق یا آپ کا جو مال اس کے ذمے ہے وہ جب اس کی ادائیگی کر دے تو پھر آپ کیا کر دیں؟ اس کو چھوڑ دیں بھئی صورت سمجھ میں اگئی بھئی تو امتداد کا معنی سمجھ میں آیا کہ اس ماقبل میں کیا ہو طول ہو اس کی غایت بیان کی جا سکتی ہو۔ ویأکون اول الکلام ممتداً اور اول کلام جو ہے وہ ممتد ہونا چاہیے یعنی اس میں طول ہونا چاہیے امتداد ہونا چاہیے بحيث اس طور پر کہ توضرب لہ غایتہ کہ بیان کی جا سکتی ہو اس کے لیے غایت فی ما بعدھا ای فی ما بعد او ہاں ضمیر کس کو راجع او۔ اس ہے کہ وہ اول کلام ممتد ہونا چاہیے اس حیثیت سے کہ اس کی غایت بیان کی جا سکتی ہو او کے بعد فحیئنذ تو اس وقت تستعار کلمہ کلمۃ او بمعنی حتیٰ او الا ان تو اس وقت مستعار لیا جائے گا کلمہ او کو حتیٰ کے معنی میں یا الا ان کے معنی میں تو مستعار لیا جائے گا یعنی مجازاً استعمال کیا جائے گا او کو۔ حتیٰ یا الا ان کے معنی میں۔ فعدم استقامۃ العطف باختلاف الکلامین یکفی لخروج او عن معناہا۔ بھئی یہاں سے یہ بتلا رہے ہیں۔ کہ آپ او کے حقیقی معنی کو چھوڑ کر کس معنی کی طرف جانا چاہتے ہیں؟ مجازی معنی کے لیے تو اس مجازی معنی کے لیے طرف جانے کے لیے تو ضروری ہے کہ حقیقی معنی ممکن نہ ہو۔ تو جواب دے رہے ہیں بھئی کہ فعدم استقامۃ العطف کہ عطف کا درست نہ ہونا بوجہ دو بوجہ کلاموں کے مختلف ہونے کے یکفی لخروج او عن معناہا یہ کافی ہے او کے نکلنے کے لیے عن معناہا اپنے معنی سے۔ بھئی جب او تو عطف کے لیے جب عطف ہی نہیں ہو رہا تو یہ بات کافی ہے جب عطف ہی نہیں ہو رہا تو آپ مجبورا جانا کس کی طرف پڑے گا؟ مجازی معنی کی طرف جانا ہی پڑے گا تو یہ معنی ہے کہ فعدم استقامۃ العطف باختلاف الکلامین یکفی لخروج او عن معناہا پس عطف کا درست نہ ہونا بوجہ دو کلاموں کے مختلف ہونے کے یہ کافی ہے او کے نکلنے کے لیے اپنے معنی سے (یعنی معنی حقیقی سے نکلے اور کس کی طرف چلا جائے معنی مجازی کی طرف)۔ ولاکن کون السابق ممتداً بحيث یحتمل ضرب الغایت فی ما بعدھا شرط لکونہا بمعنی حتیٰ او الا ان۔ مگر سابق کا یعنی ماقبل کے کا جو ہے وہ ممتد ہونا اس حیثیت سے کہ وہ احتمال رکھتا ہو غایت کے بیان کا فی ما بعدھا کس کے بعد؟ او کے بعد۔ لیکن سابق کا ممتد ہونا اس طور پر کہ او کے مابعد اس کی غایت کو بیان کیا جا سکتا ہو شرط یہ کیا ہے؟ شرط ہے لکونہا بمعنی حتیٰ و الا ان اس او کے حتیٰ یا الا ان کے معنی میں ہونے کے لیے۔ لأن حتیٰ للغایت ینتہی بہا المغیہ كما ان احد الشیئین فی او ینتہی بوجود الاآخر۔ یہاں سے مناسبت ذکر کر رہے ہیں آپ جانتے ہیں بھئی معنی حقیقی اور معنی مجازی کے درمیان کوئی مناسبت ہونی چاہیے بغیر مناسبت کے استعمال کرنا جائز نہیں۔ کوئی مناسبت ہونی چاہیے بھئی۔ آپ کتاب کا لفظ بولتے ہیں اور اس سے مراد آسمان لیتے ہیں بھئی ان دونوں میں تو کوئی مناسبت نہیں ہے تو معنی حقیقی اور معنی مجازی میں ہمیشہ کوئی نہ کوئی مناسبت ہوا کرتی ہے بھئی۔ تو یہاں سے اب مناسبت ذکر کرنے لگے ہیں کہ او کی حتیٰ کے ساتھ کیا مناسبت ہے اور پھر بتلائیں گے او کی الا ان کے ساتھ کیا مناسبت ہے تو پہلے حتیٰ کے ساتھ مناسبت ذکر کرنے لگے ہیں مناسبت یہ ذکر کریں گے بھئی کہ حتیٰ جو ہے وہ انتہا بتلانے کے لیے آتا ہے۔ کس کے لیے؟ حتیٰ کے بعد غایت ذکر ہوتا ہے تو حتیٰ کا ما بعد غایت کہلاتا ہے اور ماقبل مغیہ کہلاتا ہے بھئی مغیہ۔ مغیہ کہلاتا ہے۔ تو جس طرح حتیٰ کے ذریعے انتہا بیان کی جاتی ہے اسی طرح۔ او کے ذریعے دوسرے کے وجود کی انتہا ہو جاتی ہے۔ یہ بات اچھی طرح سمجھ لینا کیا معنی ہے انہوں نے کیا کہا او حتیٰ کس کے لیے آتا ہے غایت غایت بیان کرنے کے لیے اس کے ذریعے ماقبل کی کیا ہو جاتی ہے انتہا غایت آ گیا نا اب تو ماقبل کی کیا ہو جاتی ہے انتہا ہو جاتی ہے دیکھیے لألزمَنَّکَ حتی تقضیَنی حقیٰ حقی۔ میں تیرے ساتھ ضرور بہ ضرور لازم رہوں گا تیرے ساتھ ساتھ رہوں گا یہاں تک کہ تو مجھے کیا کر دے میرا حق دے دے۔ تو دیکھیے جب وہ اس کا حق ادا کر دے گا تو ماقبل میں جو لازم ہونا تھا اس کی کیا ہو جائے گی انتہا تو حتیٰ کس لیے آتا ہے؟ انتہا بتلانے کے لیے آتا ہے انتہا بتلانے کے لیے تو او بھی اسی طرح انتہا بتلانے کے لیے آتا ہے اس کے ذریعے دوسرے کے وجود کی انتہا ہو جاتی ہے۔ کس طرح۔ مثلاً دیکھیے میں آپ سے کہتا ہوں جاء نی زید او عمرو میرے پاس زید آیا یا عمرو آیا۔ تو اس کے ذریعے اب احد المذکورین کے لیے مجیء ثابت ہے۔ لیکن پتہ نہیں کس کے لیے ہے ہو سکتا ہے مجیء کس کے لیے ثابت ہو؟ زید کے لیے اور ہو سکتا ہے کس کے لیے ثابت ہو؟ عمرو کے لیے ہو۔ ایک کے لیے ثابت ہے لیکن کس کے لیے ہے پتہ نہیں پھر میں تعین کر دیتا ہوں کہ بھئی زید آیا۔ تو جب میں نے تعین کر دی تو دوسرے کا بھی تو احتمال تھا وہ احتمال ختم ہو گیا پہلے تو دونوں کا احتمال تھا ہو سکتا ہے زید آیا ہو ہو سکتا ہے عمرو آیا ہو لیکن جب میں ایک کی تعین کر دوں گا تو دوسرے کے وجود کی انتہا ہو جائے گی وہ منتفی ہو جائے گا اس کا احتمال ختم ہو جائے گا اس کے احتمال کی انتہا ہو جائے گی بھئی۔ صورت سمجھ میں اگئی بھئی۔ تو جس طرح حتیٰ انتہا بیان کرنے کے لیے آتا ہے اسی طرح او کے اندر بھی بھئی تعین کا احتمال ہوتا ہے اور جب تعین کر دی جائے تو دوسرے کے وجود کی انتہا ہو جاتی ہے اس کا احتمال ختم ہو جاتا ہے مناسبت سمجھ میں اگ گئی اچھی طرح۔ لأن حتیٰ للغایت اس لیے کیونکہ حتیٰ جو ہے وہ غایت کے لیے آتا ہے غایت بیان کرنے کے لیے ینتہی بہا المغیہ اس کے ذریعے انتہا ہو جاتی ہے کس کی مغیہ کی۔ بھئی جس کی غایت بیان کی جائے اس کو مغیہ کہتے ہیں تو حتیٰ کے مابعد غایت ذکر ہوگا اور ماقبل کی انتہا بیان ہو رہی ہے تو ماقبل کو کیا کہیں گے مغیہ کہیں گے۔ تو حتیٰ جو ہے وہ غایت کے لیے آتا ہے ینتہی بہا المغیہ اس کے ذریعے انتہا ہو جاتی ہے مغیہ کی کما ان احد الشیئین فی او ینتہی بوجود الاآخر۔ جیسے کہ دو چیزوں میں سے ایک جو ہے او کے اندر اس کی اس کی انتہا ہو جاتی ہے دوسرے کے وجود سے۔ انتہا ہو جاتی ہے دوسرے کے وجود سے جب تعین کر دی تو دوسرے کے وجود کا جو احتمال تھا اس کی انتہا ہو گئی بھئی دوسرے کا احتمال نہ رہا اگر زید تعین کر دی زید آیا ہے تو عمرو کا احتمال ختم اس کی انتہا ہو گئی اور اگر بتلایا عمرو آیا تھا تو زید کے وجود کی کیا ہو گئی انتہا ہو گئی بھئی۔ تو مناسبت موجود ہے دونوں کے اندر۔ والا ان استثناء فی الواقع اب الا ان کے ساتھ جو ہے۔ وہ مناسبت ذکر کر رہے ہیں بھئی کہ آپ نے کیا کہا حتیٰ کے معنی میں ہوگا او یا الا ان تو الا ان کے ساتھ اس کی کیا مناسبت ہے بتلا رہے ہیں کہ الا استثناء کے لیے آتا ہے۔ اور استثناء۔ مستثنیٰ کو ماقبل کے حکم سے نکال دیتا ہے۔ یعنی ماقبل کا جو حکم ہے مابعد کا حکم اس کے مخالف ہو جاتا ہے۔ میں کہتا ہوں جاء نی القوم الا زیداً میرے پاس وہ لوگ آئے سوائے زید کے۔ تو قوم کے لیے کیا ثابت مجیء میں نے زید کو مجیء سے نکال دیا تو زید کے لیے کیا ثابت ہوئی عدم مجیء تو الا میں الا جو ہے اس کا ما بعد جو ہے ماقبل کے حکم کے مخالف ہوا کرتا ہے۔ مخالف ہوتا ہے۔ اسی طرح او کے اندر جو ہے ایک او کا ماقبل ہے ایک او کا مابعد ہے یہاں پر بھی معطوف اور معطوف علیہ کا حکم مخالف ہوتا ہے کیونکہ او کس کے لیے آتا ہے؟ احد المذکورین کے لیے۔ تو جاء نی زید او عمرو بھئی۔ تو اگر مجیء زید کے لیے ہے تو عمرو کے لیے نہیں ہے اور اگر عمرو کے لیے ہے تو زید کے لیے نہیں ہے تو جس طرح الا ان کے اندر بھئی ماقبل کا حکم مابعد کے مخالف ہوتا ہے اسی طرح او کے اندر بھی ماقبل کا حکم مابعد کے مخالف ہوتا ہے جس کا وجود ہو ایک کا وجود ہے تو دوسرے کا وجود نہیں اول کا وجود ہے تو ثانی کا وجود نہیں ثانی کا وجود ہے تو اول کا وجود نہیں تو وہاں پر بھی او ماقبل اور مابعد کا حکم ایک دوسرے کے مخالف ہوتا ہے تو یہ مناسبت ہے دونوں کے اندر۔ والا ان استثناء فی الواقع اور الا ان جو ہے استثناء ہے واقع کے اندر حکمہم مخالفہ ما سبق فی الاحکام اس کا حکم جو ہوتا ہے وہ مخالف ہوتا ہے ماقبل کے فی الاحکام کس کے اندر احکام کے اندر۔ کما ان حکم المعطوف بو یخالف حکم المعطوف علیہ بوجود احدہما فقط ان دونوں میں سے صرف ایک کے وجود کے ساتھ ایک کا کے لیے حکم ہے تو دوسرے کے لیے حکم نہیں ہوتا۔ فتتحقق بین او وبین کل من حتیٰ والا ان مناسبت یجوز استعارتہا لہما۔ پس ثابت ہو گئی پائے گئی بھئی بین او وبین کل من حتیٰ والا ان او کے درمیان اور دونوں کے درمیان (یعنی کہ حتیٰ اور الا ان) ان دونوں کے درمیان بھئی۔ اے او اور ان دونوں کے درمیان کیا ثابت کیا پائی گئی مناسبت مناسبت پائی گئی یجوز استعارتہا تو جائز ہے او کا استعارہ لہما ان دونوں کے لیے (یعنی حتیٰ اور الا ان کے لیے)۔ لاکن الفرق بین حتیٰ والا ان جی یہاں سے اب فرق بیان کرنے لگے ہیں حتیٰ اور الا ان کے درمیان۔ ان دونوں میں آپس میں کیا فرق ہے وہ بتا رہے ہیں کہتے ہیں ولاکن الفرق بین حتیٰ والا ان لیکن فرق جو ہے حتیٰ اور الا ان کے درمیان یہ ہے کہ ان حتیٰ تجیء بمعنی العطف ایضا دون الا ان کہ حتیٰ جو ہے عطف کے معنی میں بھی آتا ہے نہ کہ الا ان۔ حتیٰ صرف محض عطف کے لیے بھی آتا ہے لیکن الا ان جو ہے وہ عطف کے لیے نہیں آتا تو یہ پہلا فرق ہے دوسرا فرق وان کون الثانی جزءا من الاولی۔ عند او عندہ ہے بھئی۔ عندہ سے پہلے او کا لفظ ہے؟ جی عندہ سے پہلے او کا لفظ ہونا چاہیے من الاولی او عندہ شرط فی حتیٰ دون الا ان۔ یاد رکھیے! حتیٰ کے اندر ضروری ہے کہ حتیٰ کا ما بعد، ما قبل کا جزء ہو۔ کیا ہو؟ ما بعد، ما قبل کا جزء ہو اور اگر جزء نہیں تو اس کے قریب ہو، اس سے یعنی ملا ہوا ہو۔ حتیٰ میں کیا ضروری؟ ما بعد، ما قبل کا جزء ہونا چاہیے۔ جیسے اپ کہتے ہیں: "أَكَلْتُ السَّمَكَةَ حَتَّى رَأْسَهَا" میں نے مچھلی کھائی یہاں تک کہ اس کا سر بھی کھا لیا۔ تو حتیٰ فائدہ دیتا ہے عموم کا بھئی! "أَكَلْتُ السَّمَكَةَ حَتَّى رَأْسَهَا" عموم کا فائدہ دیا کہ مچھلی کھائی یہاں تک کہ اس کا سر بھی کھا لیا یعنی پوری مچھلی کھا لی بھئی! کس چیز کا فائدہ دیا؟ عموم کا فائدہ دیا۔ اور ما بعد، ما قبل کا جزء ہونا ضروری یا اس کے اول، ما قبل کے ساتھ متصل ہونا ضروری اور یہاں دیکھیے ما بعد راس، سمکہ، وہ سمکہ کا جزء ہے بھئی! صورت سمجھ میں آگئی؟ اور اگر جزء نہیں تو کم از کم اس کے ساتھ جڑا ہوا ہو۔ جیسے اپ کہتے ہیں: "نِمْتُ الْبَارِحَةَ حَتَّى الصَّبَاحِ" بارحہ کہتے ہیں گزشتہ رات کو۔ "نِمْتُ الْبَارِحَةَ" میں سویا گزشتہ رات "حَتَّى الصَّبَاحِ" صبح تک بھئی! میں گزشتہ رات سویا صبح تک، اب دیکھیے حتیٰ کا ما بعد ہے صبح اور صبح وہ رات کا جزء تو نہیں لیکن اس کے ساتھ ملی ہوئی ہے، رات کا آخری جزء صبح کے پہلے جزء کے ساتھ ملا ہوا ہے بھئی! رات کے گزرتے ہی فوراً کیا آتی ہے؟ صبح آتی ہے۔ تو یہاں ما بعد، ما قبل کا جزء تو نہیں لیکن اس کے ساتھ ملا ضرور ہوا ہے، تو حتیٰ میں یہ شرط ہے کہ ما بعد، ما قبل کا یا تو جزء ہو یا اس کے ساتھ ملا ہوا ہو۔ جبکہ "إِلَّا أَنْ" میں یہ شرط نہیں ہے بھئی! صورت سمجھ میں آگئی؟ تو میں گزشتہ رات سویا صبح تک اور یہاں بھی دیکھو اس نے عموم کا فائدہ دیا یعنی ساری رات میں سویا رہا، معنیٰ کیا ہو گیا؟ ساری رات میں سویا رہا، یہ عموم کا اس نے فائدہ دیا بھئی! نیز یاد رکھیے بھئی! ایک حتیٰ جارہ ہے، ایک حتیٰ عاطفہ ہے بھئی! حتیٰ عاطفہ کے اندر ضروری ہے کہ ما بعد، ما قبل کا جزء ہو۔ کس میں؟ اپ عطف کرنا چاہتے ہیں حتیٰ کے ذریعے، تو ضروری ہے کہ ما بعد، ما قبل کا جزء ہو، یہ حتیٰ عاطفہ میں ہے۔ جبکہ حتیٰ جارہ جو ہے، وہ اصل ہے، حتیٰ عاطفہ اور حتیٰ جارہ میں سے اصل کیا ہے؟ حتیٰ جارہ اصل ہے کہ جو جر دیتا ہے اور حتیٰ جارہ کے اندر وہ عام ہے، ما بعد، ما قبل کا جزء بھی ہو سکتا ہے اور ما بعد، ما قبل کے ساتھ جزء تو نہیں لیکن ملا ہوا ضرور ہونا چاہیے بھئی! تو حتیٰ عاطفہ میں ضروری ہے کہ ما بعد، ما قبل کا جزء ہو اور جبکہ حتیٰ جارہ میں ما بعد، ما قبل کا جزء بھی ہو سکتا ہے اور اس کے ساتھ ملا ہوا بھی ہو سکتا ہے، لیکن حتیٰ عاطفہ میں یہ جائز نہیں کہ ما بعد، ما قبل کے ساتھ صرف ملا ہوا ہو اور جزء نہ ہو، ایسا نہیں، تو حتیٰ جارہ عام ہے بھئی! اس میں ما بعد، ما قبل کا جزء بھی ہو سکتا ہے اور ما بعد، ما قبل کے ساتھ ملا ہوا بھی ہو سکتا ہے، جبکہ حتیٰ عاطفہ میں ضروری ہے کہ ما بعد، ما قبل کا جزء ہو۔ لہذا "أَكَلْتُ السَّمَكَةَ حَتَّى رَأْسَهَا" دیکھو رأس کا میں نے عطف کس پر کیا؟ سمکہ پر، وہ منصوب تھا تو رأسہَا بھی کیا ہے؟ منصوب ہے۔ یہ حتیٰ عاطفہ ہے، جس میں ما بعد کو ما بعد، ما قبل کا جزء ہوتا ہے۔ اور اپ اس کو حتیٰ جارہ بھی بنا سکتے ہیں: "أَكَلْتُ السَّمَكَةَ حَتَّى رَأْسِهَا" کیونکہ حتیٰ جارہ عام ہے، اس میں ما بعد، ما قبل کا جزء بھی ہو سکتا ہے اور اس کے ساتھ ملا ہوا بھی ہو سکتا ہے، تو حتیٰ جارہ بھی اپ پڑھ سکتے ہیں۔ لیکن دوسری مثال جو میں نے ذکر کی "نِمْتُ الْبَارِحَةَ حَتَّى الصَّبَاحِ" اس میں صبح تو بارحہ کا جزء نہیں، لہذا یہاں عاطفہ نہیں بنا سکتے حتیٰ کو۔ "نِمْتُ الْبَارِحَةَ حَتَّى الصَّبَاحَ" یہ کہنا چاہتے ہیں؟ نہیں، یہ نہیں کہہ سکتے، یہاں کون سا بنانا پڑے گا حتیٰ؟ جارہ ہی بنانا پڑے گا، فرق سمجھ میں آگیا بھئی؟ اچھا! تو "إِلَّا أَنْ" سے کیا فرق؟ "إِلَّا أَنْ" کے اندر ما بعد کا ما قبل کا جزء ہونا یا ما بعد کا ما قبل کے ساتھ ملا ہونا ضروری نہیں، جبکہ حتیٰ میں یہ شرط ہے، یہی دوسرا فرق بیان کر رہے ہیں: "وَأَنَّ كَوْنَ الثَّانِي جُزْءًا مِنَ الْأَوَّلِ" اور ثانی کا جزء ہونا اول میں سے "أَوْ عِنْدَهُ" یا ثانی کا "عِنْدَهُ" یعنی "عِنْدَ الْأَوَّلِ" اول کے پاس ہونا یعنی اس کے قریب ہونا یعنی اس کے ساتھ ملا ہونا، مراد کیا ہے؟ اس کے ساتھ ملا ہونا، وہی بات بیان کر رہے ہیں جو میں نے پہلے تفصیلاً بیان کر دی۔ کہ ثانی کا حتىٰ کے اندر ثانی کا اول کا جزء ہونا یا ثانی کا اول کے پاس ہونا یعنی اس کے ساتھ ملا ہونا "شَرْطٌ فِي حَتَّى دُونَ إِلَّا أَنْ" یہ شرط ہے کس کے اندر؟ حتیٰ کے اندر، نہ کہ "إِلَّا أَنْ" کے اندر بھئی! "وَسَيَأْتِي تَحْقِيقُهُ فِي بَحْثِ حَتَّى" اور عنقریب اس کی تحقیق آ جائے گی حتیٰ کی بحث کے اندر۔ "كَقَوْلِهِ تَعَالَى: لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ" اللہ تعالیٰ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کرتے ہوئے فرماتے ہیں: "لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ" نہیں ہے اپ کے لیے "مِنَ الْأَمْرِ" اس معاملے میں، یہ جو کفار کا معاملہ ہے اس کے معاملے میں نہیں ہے اپ کے لیے کچھ بھی یعنی کوئی دخل اپ کا اس میں نہیں ہے یعنی اپ کو اس میں کوئی اختیار نہیں ہے۔ اے پیغمبر! "لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ" اپ کا اس معاملے میں کوئی اختیار نہیں ہے "أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ" او کس معنیٰ میں ملیں گے یہاں؟ حتیٰ کے معنیٰ میں یا إِلَّا أَنْ کے معنیٰ میں، تو یہاں تک کہ "يَتُوبَ عَلَيْهِمْ" اللہ ان پر رجوع فرما لے یعنی ان کو کفار کو توبہ کی توفیق دے دے "أَوْ يُعَذِّبَهُمْ" یا اللہ ان کو عذاب دے دے تو ان کو ہلاک کر دے۔ تو "لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ" اے پیغمبر! اپ کا ان کفار کے معاملے میں کوئی اختیار نہیں ہے، یہاں تک کہ اللہ ان کو ان پر رجوع کر لے یعنی توبہ کی توفیق دے دے یا ان کو عذاب دے دے۔ "فَإِنَّ قَوْلَهُ أَوْ يَتُوبَ لَا يَصْلُحُ أَنْ يَكُونَ مَعْطُوفًا عَلَى قَوْلِهِ لَيْسَ لَكَ" کہتے ہیں اللہ تعالیٰ کا قول جو ہے "أَوْ يَتُوبَ" "لَا يَصْلُحُ" یہ صلاحیت نہیں رکھتا "أَنْ يَكُونَ مَعْطُوفًا عَلَى قَوْلِهِ لَيْسَ لَكَ" کہ یہ معطوف ہو اللہ تعالیٰ کے قول "لَيْسَ لَكَ" پر "لِعَدَمِ اتِّسَاقِ النَّظْمِ" بجہِ نظم میں ربط کے نہ ہونے کے، کہ اس صورت میں تو نظم میں ربط نہیں رہے گا یعنی کلام اللہ میں ربط نہیں رہے گا۔ کیونکہ "لَيْسَ" ہے ماضی اور "يَتُوبَ" کیا ہے؟ مضارع، نیز وہ ہے منفی اور یہ کیا ہے؟ مثبت، تو لہذا اس وجہ سے عطف درست نہیں، معنیٰ صحیح نہیں بنتا بھئی! تو یہ معلوم ہوا "يَتُوبَ" کا عطف جو ہے، وہ "لَيْسَ" پر نہیں ہو سکتا۔ "وَلَا عَلَى قَوْلِهِ" اچھا بھئی! دیکھیے آیت کے اندر دو "أَوْ" آئے ہیں: "أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ"، یہ پہلے "أَوْ" کے بارے میں یہ بحث ہے بھئی! دوسرے کا تو عاطفہ ہی بنے گا بھئی! صورت سمجھ میں آگئی؟ یہ پہلا "أَوْ" جو ہے اس کی بات کی جائے گی کہ یہ جو ہے حتىٰ یا إِلَّا أَنْ کے معنیٰ میں ہے۔ تو انہوں نے بتلا دیا کہ "يَتُوبَ" جو ہے یہ "لَيْسَ" پر اس کا عطف نہیں ہو سکتا۔ اچھا بھئی! "لَيْسَ" پر نہیں ہو سکتا تو پھر آگے "الْأَمْرِ" کا لفظ آ رہا ہے اس پر عطف کر لیں یا "شَيْءٌ" کا لفظ آ رہا ہے اس پر عطف کر لیں، تو بتلائیں گے بھئی یہ یہ بھی نہیں ہو سکتا، اس لیے کیونکہ "الْأَمْرِ" اسم ہے اور "يَتُوبَ" کیا ہے؟ فعل ہے اور فعل کا عطف اسم پر نہیں ہوتا۔ اسی طرح "شَيْءٌ" بھی اسم ہے اور "يَتُوبَ" فعل ہے، فعل کا عطف اسم پر نہیں۔ تو یہی بات بیان کر رہے ہیں: "وَلَا عَلَى قَوْلِهِ الْأَمْرِ" اور نہ اس کا عطف ہو سکتا ہے اللہ کے قول "الْأَمْرِ" پر، "عَلَى قَوْلِهِ الْأَمْرِ" وہ اعرابِ حکائی پڑھ لیں بھئی! جس طرح آیت میں آیا تھا "الْأَمْرِ" مجرور تھا، تو یہاں بھی کیا پڑھ لیں؟ مجرور، یعنی جس طرح وہاں ہو وہی اعراب یہاں پڑھا جائے مثال کے اندر، ذکر کے اندر، تو اس کو اعرابِ حکائی کہا جاتا ہے۔ تو اس کا عطف جو ہے "الْأَمْرِ" پر بھی نہیں ہو سکتا جو اللہ کا قول "الْأَمْرِ" ہے "أَوْ شَيْءٌ" یا "شَيْءٌ" پر بھی نہیں ہو سکتا "وَهُوَ ظَاهِرٌ" اور یہ بات ظاہر ہے کیونکہ وہ اسم ہے اور یہ فعل ہے۔ "وَلَكِنَّهُ يَصْلُحُ قَوْلُهُ لَيْسَ لَكَ أَنْ يَمْتَدَّ إِلَى..." اچھا عطف تو صحیح نہیں ہو سکتا، تو اب ہم کس کی طرف جائیں گے؟ "أَوْ" کو کس معنیٰ میں لیں گے؟ حتیٰ یا إِلَّا أَنْ، اور لیکن اس کے لیے کیا شرط تھی؟ کہ ما قبل میں کیا ہونا چاہیے؟ امتداد ہونا چاہیے اور اس کی غایت بیان کی جا سکے بھئی! اب وہ بیان کرنے لگے ہیں کہ یہاں یہ صلاحیت ہے۔ "وَلَكِنَّهُ يَصْلُحُ قَوْلُهُ لَيْسَ لَكَ أَنْ يَمْتَدَّ إِلَى غَايَةِ التَّوْبَةِ أَوِ التَّعْذِيبِ" لیکن صلاحیت رکھتا ہے اللہ کا قول "لَيْسَ لَكَ" کہ اس میں امتداد ہو توبہ یا تعذیب کی غایت تک، یعنی توبہ اور تعذیب کو اس کے لیے کیا بنایا جائے؟ غایت بنایا جائے اور اس میں امتداد ہو، یہ ممکن ہے، یہ اس میں صلاحیت ہے۔ کس طرح صلاحیت ہے؟ بھئی دیکھیے! اللہ کیا فرما رہے ہیں: اے پیغمبر! اپ کو اختیار نہیں ہے اور اختیار نہ ہونے میں امتداد ہے، امتداد ہے، اختیار مثلاً اپ کو ایک معاملے میں اختیار نہیں ہے بھئی! بھئی دو گھنٹے تک اپ کو کوئی اختیار نہیں، تین گھنٹے تک اپ کو کوئی اختیار نہیں، 10 دن تک اپ کو کوئی اختیار نہیں، 20 دن تک اپ کو کوئی... تو امتداد ہو سکتا ہے یا نہیں بھئی؟ تو اس کی غایت بیان کی جا سکتی ہے۔ یہ معنیٰ آیا: "وَلَكِنَّهُ يَصْلُحُ قَوْلُهُ لَيْسَ لَكَ أَنْ يَمْتَدَّ إِلَى غَايَةِ التَّوْبَةِ أَوِ التَّعْذِيبِ" لیکن صلاحیت رکھتا ہے اللہ تعالیٰ کا قول "لَيْسَ لَكَ" کہ اس میں امتداد ہو بھئی توبہ یا تعذیب کی غایت تک یعنی توبہ اور تعذیب اس کے لیے کیا بن جائیں؟ غایت بن جائیں۔ "فَيَكُونُ أَوْ بِمَعْنَى حَتَّى أَوْ إِلَّا أَنْ" تو "أَوْ" جو ہے وہ حتیٰ یا إِلَّا أَنْ کے معنیٰ میں ہو گا۔ "فَيَكُونُ الْمَعْنَى" تو معنیٰ آیت کا یہ ہو گا: "لَيْسَ لَكَ مِنْ أَمْرِ الْكُفَّارِ شَيْءٌ" اے پیغمبر! نہیں ہے اپ کو کفار کے معاملے میں کوئی چیز یعنی کوئی اختیار نہیں ہے "فِي دُعَاءِ الشَّرِّ" جی! بھئی یہ آگے بیان کریں گے۔ غزوہِ احد کے اندر جب مسلمانوں کی جنگ ہوئی مشرکینِ مکہ کے ساتھ، جس میں پھر مسلمانوں کو کا بڑا نقصان ہوا، بہت سے مسلمان شہید ہو گئے اور اسی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی شہید ہوئے اور ان کا مثلہ بھی کیا گیا، تو اس غزوہِ احد کے اندر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی کفار نے پتھر وغیرہ برساۓ اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی شدید زخمی ہو گئے اور شدید زخمی ہو گئے۔ تو اس موقع پر اپ نے ان کفار کی اس جو انہوں نے اتنی سخت تکلیف مسلمانوں کو اور اپ کو پہنچائی، تو اپ نے ان کے لیے بد دعا کا ارادہ فرمایا، تو اس پر اپ کو روک دیا گیا، اللہ تعالیٰ نے روک دیا، اللہ سے اجازت طلب کی کہ اللہ میں ان کے لیے بد دعا کرتا ہوں، اللہ نے روک دیا کہ نہیں اے پیغمبر! یہ جو کچھ کرتے ہیں کرنے دو، اپ کو ان پر بد دعا کرنے کی اجازت نہیں ہے، اپ کا کام ان کو صرف ڈرانا اور ان کو خبردار کرنا ہے۔ ہو سکتا ہے انہی میں سے کل اللہ اسلام کی حفاظت کرنے والوں کو پیدا فرما دے اور پھر واقعی ایسا ہوا بھئی! کتنے ہی لوگ ان میں سے بعد میں مسلمان ہو گئے بھئی! تو اب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ان پر بد دعا کرنے سے روک دیا گیا اور یا اسی طرح حضور علیہ السلام نے ان کے لیے دعا کا ارادہ کیا بھئی! دعا کا ارادہ کیا تو اس سے بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو روک دیا گیا بھئی! تفصیل آگے آ رہی ہے، مختلف اقوال ہیں مفسرین کے، مختلف تفاسیر میں دیکھی جا سکتی ہیں ان اقوال کی، تو بہرحال بیان یہ کرنا ہے کہ یہاں پیغمبر علیہ السلام کو منع کیا گیا کہ نہ اپ کو ان کے اپ کو ان کے معاملے میں کوئی اختیار نہیں، نہ تو اپ ان کے لیے بد دعا کر سکتے بد دعا کرنے کی اپ کو اجازت ہے اور نہ دعا کی اجازت ہے۔ یہی بیان کریں گے دیکھیے: "فَيَكُونُ الْمَعْنَى" تو معنیٰ آیت کا یہ ہو گا: "لَيْسَ لَكَ مِنْ أَمْرِ الْكُفَّارِ شَيْءٌ فِي دُعَاءِ الشَّرِّ" اے پیغمبر! اپ کو کفار کے معاملے میں کوئی اختیار نہیں ہے شر کی دعا میں یعنی بد دعا کرنے میں "أَوْ طَلَبِ الشَّفَاعَةِ" یا شفاعت کے یعنی سفارش کے طلب کرنے میں کہ اپ ان کی سفارش کریں، کوئی اپ کو اختیار نہیں ہے "حَتَّى يَتُوبَ اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِمْ" یہاں تک کہ اللہ رجوع فرما لے ان پر "فَإِنَّهُ حِينَئِذٍ يَكُونُ لَكَ طَلَبُ الشَّفَاعَةِ" اللہ ان کی توبہ قبول فرما لے، یہاں تک کہ اللہ ان کی توبہ قبول فرما لے "فَإِنَّهُ حِينَئِذٍ" تو پھر اس وقت "يَكُونُ لَكَ طَلَبُ الشَّفَاعَةِ" اپ ان کے لیے شفاعت طلب کر سکتے ہیں، ان کی سفارش کر سکتے ہیں۔ "أَوْ يُعَذِّبَهُمْ" یا کیا کر لے؟ اللہ ان کو عذاب دے دے "فَيَكُونُ لَكَ دُعَاءُ الشَّرِّ" تو پھر اس صورت میں اپ کو ان پر شر کی دعا کی اجازت ہو گی یعنی پھر اپ ان کو ان کے لیے بد دعا کر سکتے ہیں۔ "وَرُوِيَ" اور روایت کیا گیا ہے "أَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ اسْتَأْذَنَ اللَّهَ أَنْ يَدْعُوَ عَلَيْهِمْ" کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت طلب فرمائی اللہ تعالیٰ سے کہ "أَنْ يَدْعُوَ عَلَيْهِمْ" کہ وہ ان پر بد دعا فرمائیں۔ "دَعَا يَدْعُو" کا صلہ اپ نے پڑھا ہے بھئی! "عَلَى" آ جائے تو یہ کس معنیٰ میں ہوتا ہے؟ بد دعا کے معنیٰ میں ہوتا ہے بھئی! "فَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ" تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کدھر گیا بھئی؟ ہاں، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت طلب فرمائی اللہ تعالیٰ سے "أَنْ يَدْعُوَ عَلَيْهِمْ" کہ وہ ان پر بد دعا فرمائیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان پر بد دعا فرمانا چاہتے تھے اور اللہ سے اجازت طلب فرمائی "فَنَزَلَتْ" تو یہ آیت نازل ہوئی۔ "وَقِيلَ" اور کہا گیا ہے، دوسرا قول ذکر کر رہے ہیں: "وَقِيلَ" کہا گیا ہے "إِنَّهُ لَمَّا شُجَّ وَجْهُهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ" کہ جب زخمی کیا گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہِ انور کو، شجٌ بھئی! ایک ہوتا ہے شجٌ، ایک جراحتٌ، اپ پڑھ چکے ہیں فقہ کے اندر کہ شجٌ وہ زخم جو چہرے اور سر میں لگایا جائے بھئی! وہ کیا کہلاتا ہے؟ شجٌ، اور باقی بدن پر اگر کوئی جنایت کرتا ہے، زخم لگاتا ہے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ جراحتٌ کہتے ہیں۔ تو شجٌ کی صورت میں کیا کیا سزا آئے گی، کیا کیا دینا پڑے گا، اس کی تفصیل اپ پڑھ چکے ہیں بھئی! سمجھ میں آیا بھئی؟ 10 قسم کے زخم آتے ہیں، ان کی تفصیل بیان ہوتی ہے فقہ کی کتابوں میں بھئی! "وَقِيلَ إِنَّهُ لَمَّا شُجَّ وَجْهُهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ يَوْمَ أُحُدٍ" اور کہا گیا ہے کہ جب زخمی کیا گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہِ مبارک کو احد کے دن "سَأَلَ أَصْحَابُهُ أَنْ يَدْعُوَ عَلَيْهِمْ" تو درخواست کی صحابہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے "أَنْ يَدْعُوَ عَلَيْهِمْ" کہ حضور علیہ السلام ان کفار پر بد دعا فرمائیں، صحابہ نے کہا یا رسول اللہ! ان کے بارے میں بد دعا فرمائیں۔ "فَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ" تو حضور علیہ السلام نے فرمایا: "مَا بَعَثَنِيَ اللَّهُ لَعَّانًا" اللہ نے مجھ کو لعنت کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا "وَلَكِنْ بَعَثَنِي دَاعِيًا" بلکہ اللہ نے مجھے داعی، دعوت دینے والا بنا کر بھیجا ہے "اللَّهُمَّ اهْدِ قَوْمِي" اے اللہ! میری قوم کو ہدایت دے دے "فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ" کیونکہ وہ، پس بے شک وہ نہیں جانتے، ان کو علم نہیں ہے۔ "فَنَزَلَتْ" تو پس یہ آیت نازل ہوئی "وَنَهَى اللَّهُ عَنِ الدُّعَاءِ عَلَيْهِمْ" اور اللہ نے منع فرمایا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ان پر بد دعا کرنے سے "أَوْ سُؤَالِ الْهِدَايَةِ لَهُمْ" یا ان کے لیے ہدایت کا سوال کرنے سے "وَهَذَا مَا جَرَى عَلَيْهِ الْأُصُولِيُّونَ" اور یہ وہ ہے جس پر اصولیین چلے ہیں۔ وه‌ تقریر ہے جس پر چلے ہیں علمائے اصول بھئی علمائے اصولِ فقہ والے جس پر چلے ہیں، یہ وہ تقریر یہ علمائے اصولِ فقہ والے یہ تقریر کرتے ہیں اس مقام پر۔ وقد ذکر صاحب الکشاف اور تحقیق ذکر کیا ہے صاحب کشاف نے، صاحبِ کشاف بھئی علامہ زمخشری، علامہ علامہ جار اللہ زمخشری بھئی۔ کشاف عظیم تفسیر ہے مولانا جو علامہ زمخشری نے لکھی۔ عظیم تفسیر بھئی۔ اور اتنی عظیم تفسیر ہے کہ قیامت تک آنے والے تمام علماء قرآن کی تفسیر لکھنے میں ان کی تفسیر کے محتاج ہیں بھئی۔ جو بھی تفسیر لکھنا چاہتا ہے، اس کو علامہ زمخشری کی تفسیر دیکھنا پڑتی ہے بھئی۔ تو یہ اتنی عظیم تفسیر ہے بھئی اتنی عظیم۔ علماء فرماتے ہیں ممکن ہے کہ شاید بروزِ قیامت علامہ زمخشری اللہ کے دربارِ جلال و جمال میں اپنی تفسیر لیے ہوئے حاضر ہوں کہ اے اللہ! میں نے آپ کی کتاب کی وہ عظیم تفسیر لکھی تھی کہ قیامت تک آنے والے تمام علماء اس کے محتاج تھے بھئی۔ تو یہ ہیں صاحبِ کشاف بھئی علامہ زمخشری۔ اور یہ معتزلی تھے بھئی۔ معتزلہ ایک گمراہ فرقہ گزرا ہے گمراہ بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ گمراہ فرقہ گزرا ہے۔ گمراہ تو ہے لیکن کافر نہیں بھئی، کافر نہیں بدعتی ان کو کہا جاتا ہے بھئی۔ جی تو وقد ذکر صاحب جی۔ اب یہ تو تقریر کر دی علمائے اصولِ فقہ والوں کی اور صاحبِ کشاف وہ اور تقریر کرتے ہیں اس مقام پر بھئی وہ او یتوب عطف کریں گے کسی ما قبل پر بھئی۔ لیس لک من شیءِ ما قبل جو ہیں، قرآن کے الفاظ جو ہیں، ان پر وہ عطف کریں گے، دیکھیے بھئی۔ بھئی دیکھیے! وقد ذکر صاحب الکشاف ان قولہ او یتوب علیہم معطوف۔ یہ معطوف پر کوئی حاشیہ لگا ہے آپ کا بھئی؟ ہاں، یہ حاشیہ نمبر دیکھیے بھئی حاشیے میں۔ و تمام الآیات آرہا ہے اس میں؟ جی۔ جی؟ جی۔ یہ پوری آیت ہے، ذرا اس آیت پر نظر رکھنا۔ ومن النصر الا من عند الله العزیز الحکیم۔ اور مدد نہیں ہے مگر اللہ ہی کی طرف سے ہی جو زبردست ہیں، حکمت والے ہیں۔ ليقطع طرفاً من الذین کفروا تاکہ کاٹ دیں اللہ طرفاً ایک حصے کو، ایک ٹکڑے کو من الذین کفروا ان لوگوں میں سے جنہوں نے کفر کیا۔ تاکہ اللہ کاٹ دیں طرفاً، طرف کا معنی حصہ، ٹکڑا۔ تاکہ کاٹ دیں اللہ ایک حصہ ان لوگوں میں سے جنہوں نے کفر کیا۔ او یقبضہم یا اللہ ان کو ذلیل کر دے، فینقلبوا خائبین، پس وہ واپس پھر جائیں، واپس پلٹ جائیں خائبین، نامراد ہو کر، ناکام ہو کر۔ لیس لک من الأمر شیء آپ کو کوئی اختیار نہیں ان کے معاملے میں، او یتوب علیہم یا اللہ ان پر رجوع فرما لیں، ان کو توبہ کی توفیق دے دیں، او یعذبہم یا یہ کہ اللہ ان کو عذاب دے دیں، فانھم ظالمون، پس یقیناً وہ ظالم ہیں۔ آیت کا سمجھ میں آگیا؟ بھئی دیکھیے کہ تاکہ اللہ کاٹ دیں کفار کے ان لوگوں کے ایک حصے کو جنہوں نے کفر کیا، یعنی ان میں سے بعض کو اللہ ہلاک فرما دیں۔ ان میں سے ایک حصے ٹکڑے کو اللہ کاٹ دیں یعنی ان میں سے بعض کو اللہ کیا کر دیں؟ ہلاک فرما دیں۔ او یقبضہم یا اللہ ان کو ذلیل کر دیں یعنی ان کو شکست کی ذلت سے دوچار کر دیں، شکست کی ذلت سے۔ فینقلبوا خائبین، پس وہ واپس پلٹ جائیں ناکام ہو کر، وہ تو فتح کی امید لے کر آئے تھے، مسلمانوں کو ختم، غزوۂ بدر میں مسلمانوں کو ختم کرنے کی نیت سے آئے تھے، لیکن یہ یا یہ کہ اللہ ان کو کیا کر دے؟ ذلیل کر دے یعنی ان کو شکست دے، پس وہ نامراد ہو کر، ناکام ہو کر واپس چلے جائیں۔ او یتوب علیہم، درمیان میں یہ جو لیس لک من الامری، لیس لک من الأمر شیء، یہ جملہ معترضہ ہے بھئی علامہ زمخشری فرماتے ہیں، جملہ معترضہ وہ جس کا ما قبل اور ما بعد سے تعلق نہ ہو، یہ درمیان میں ایک ایسے الگ بات آ گئی بھئی کہ اے پیغمبر آپ کو ان کے معاملے میں کوئی اختیار نہیں تو پہلے لیقطع، اس پر عطف کس کا اس پر یقبضہ کا عطف اسی لیقطع پر ہے بھئی۔ اسی طرح پھر یتوب کا بھی عطف اسی پر ہے کس پر؟ لیقطع پر اور اسی طرح یعذب کا عطف بھی اسی پر ہے۔ تو دیکھیے چار صورتیں آگئیں، تاکہ اللہ ان میں سے بعض کو ہلاک کر دے، یا ان کو شکست کے ذریعے ذلیل کر دے، یا اللہ ان کو توبہ کی توفیق دے دے، یا اللہ ان کو عذاب دے دے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو معلوم ہوا علامہ زمخشری نے یتوب کا عطف کس پر کیا؟ لیقطع پر کیا عطف بھئی۔ یہی اب بیان کریں گے۔ وقد ذکر صاحب الکشاف اور تحقیق ذکر کیا ہے صاحب کشاف نے ان قولہ کہ اللہ تعالیٰ کا قول او یتوب علیہم یہ معطوف علی قولہ لیقطع طرفاً من الذین کفروا یہ معطوف ہے اللہ کے قول لیقطع طرفاً من الذین کفروا پر، او یقبضھم او یقبضھم یہ اس پر عطف ہے۔ اللہ کہ یہ زمخش علامہ زمخشری کیا فرماتے ہیں او یتوب علیہم یہ معطوف ہے علی قولہ اللہ کے اس قول پر لیقطع طرفاً من الذین کفروا او یقبضھم اس پر کیا ہے؟ اس پر معطوف ہے۔ وقولہ اور اللہ کا قول لیس لک من الأمر شیء یہ جو ہے جملة معترضۃ بینھما، یہ ان دونوں کے درمیان جملہ معترضہ ہے یعنی معطوف اور معطوف علیہ کے درمیان والمعنی اور معنی آیت کا یہ ہے کہ ان اللہ مالک أمرہم کہ اللہ ان کفار کے معاملے کے مالک ہیں، فاما ان یھلکھم یا تو یہ کہ اللہ ان کو ہلاک کر دیں گے، بھئی وہی چار صورتیں تھیں نا؟ پہلی میں کیا تھا؟ لیقطع طرفاً کہ ان کے ایک حصے کو کاٹ دے یعنی ہلاک کر دے وہی ایک سب کا معنی ذکر کریں گے۔ فاما ان یھلکھم یا تو یہ کہ اللہ ان کو ہلاک کر دے، او یھزمہم یا ان کو کیا کر دے؟ شکست دے یعنی وہ جو ذلیل کر دے آیات آیت کے اندر، یا ان کو شکست دے دے، او یتوب علیہم، او یا کیا کرے اللہ ان پر؟ رجوع فرما لے یعنی رجوع فرما لے۔ ان اسلموا، اگر یہ کیا ہو جائیں؟ مسلمان ہو جائیں، او یعذبھم، یا اللہ ان کو عذاب دے دے، ان اصروا علی الكفر، اگر وہ کفر پر اصرار کریں، یعنی اسی پر جمے رہیں۔ ولیس لک من الأمر من أمرھم شیء، اور آپ کو کوئی اختیار نہیں ان کے معاملے میں، انما انت عبد مبعوث لانذارھم، اور آپ تو ایسے بندے ہیں جن کو بھیجا گیا ہے ان کے ڈرانے کے لیے، ان کو خبردار کرنے کے لیے۔ ان کو خبردار کرنے کے لیے۔ انذار کا کیا معنی ہے؟ ڈرانا۔ لیکن بڑا بہترین ترجمہ اس کا خبردار کرنا۔ پیغمبر بھیجے گئے ہیں ڈرانے کے لیے۔ ایک یہ ترجمہ۔ پیغمبر بھیجے گئے ہیں خبردار کرنے کے لیے۔ کون سا زیادہ پسندیدہ ہے؟ ہاں، تو یہ قرآن میں بھی جہاں آئے، آپ یہ معنی کریں گے۔ تو ترجمے کا لطف ہی اور ہو جائے بھئی۔ انما انت عبد مبعوث لانذارھم آپ تو ایسے بندے ہیں جن کو بھیجا گیا ہے ان کو خبردار کرنے کے لیے۔ تو دیکھیے یہ علامہ زمخشری کی تقریر آئی۔ علمائے اصولِ فقہ نے او یتوب علیہم اس کا عطف کس پر کیا تھا؟ عطف کیا ہی نہیں، بلکہ او کو کس معنی میں لیا؟ حتیٰ یا الا ان کے معنی میں اور علامہ زمخشری نے او یتوب علیہم کا عطف کس پر کیا؟ لیقطع پر کیا بھئی۔ تو کہتے ہیں فنظر الاصولی فنظر الاصولیین انما ھو فی مجرد قولہ لیس لک من الأمر شیء تو اصولئین کی جو نظر ہے وہ صرف اللہ کے قول لیس لک من الأمر شیء میں ہے۔ صرف اس پر انہوں نے نظر کی۔ علمائے اصولِ فقہ نے صرف اس پر نظر کی، اس سے ما قبل کی طرف نظر نہیں کی، صرف اسی پر نظر کی حتیٰ منعوا منعوا العطف علیہ یہاں تک کہ اس پر عطف کو منع کر دیا۔ ولم یلتفتوا الی ما سبق اور انہوں نے ما قبل اس سے ما قبل کی طرف توجہ ہی نہیں کی، فکل الامرین صحیح کما ترا، پس دونوں مآمر صحیح ہیں جیسے کہ آپ دیکھ رہے ہیں۔ صرف لیس لک پر نظر کی جائے تو اس پر تو عطف درست تھی نہیں بنتا، تو او کو کس معنی میں لینا پڑے گا؟ حتیٰ یا الا ان کے معنی میں۔ اور اگر ما قبل کی طرف نظر کی جائے، تو پھر اس پر تو عطف ہو جاتا ہے، تو اس پر عطف کرنا بھی صحیح ہے بھئی، تو دونوں تقریریں اپنے اپنے مقام کے اعتبار سے درست ہیں بھئی۔ وحتل للغایة اور حتیٰ جو ہے وہ غایۃ بیان کرنے کے لیے آتا ہے (یعنی انتہا بیان کرنے کے لیے) کالا جس طرح کہ الا ہے، جیسے الا غایۃ بیان کرنے کے لیے آتا ہے، بھئی میں آپ سے کہتا ہوں سرت من البیت الی المسجدی، میں چلا گھر سے مسجد تک کہ میری سیر کی انتہا کس پر ہو رہی ہے؟ مسجد پر۔ یہ کس نے بتایا؟ الا نے بتلایا بھئی۔ یعنی ان حتیٰ وان عدت ہاہنا فی حروف فی حروف العطف یعنی کہ حتیٰ جو ہے اگرچہ شمار کیا گیا ہے یہاں پر حروفِ عطف میں سے، لکن الاصل فیہا معنا الغایة کالا، لیکن اس حتیٰ کے اندر اصل کیا ہے؟ غایۃ کے معنی ہیں جیسے کس کی طرح؟ الا کی طرح، بان یکون ما بعدھا جزئاً لما قبلھا، بعید طور پر کہ اس حتیٰ کا ما بعد جو ہے، وہ جز ہوگا کس کا؟ اس کے ما قبل کا، کما فی اکلت السمكة حتی راسھا، جیسے اس کے اندر ہے کہ میں نے مچھلی کھائی یہاں تک کہ اس کا سر بھی کھا گیا، تو دیکھو عموم آیا یعنی کہ پوری مچھلی کھا گیا، او غیر جزن یا ما بعد ما قبل کا جز نہیں ہوگا، کما فی قولہ تعالى: هي حتى مطلع الفجر یہ لیلۃ القدر سلامتی والی ہے حتیٰ مطلع الفجر کب تک؟ طلوع فجر تک بھئی طلوع فجر تک۔ اب دیکھیے طلوع فجر، یہ فجر رات کا جز نہیں، ہاں اس کے ساتھ ملی ہوئی ہے۔ و اما عند الاطلاق و عدم القرینة فالاکثر علی أن ما بعدھا داخل فی ما قبلھا اور باقی اطلاق اور قرینے کے نہ ہوتے وقت بھئی بھئی حتیٰ آئے اور مطلق آئے۔ کوئی قرینہ وغیرہ مطلق (یعنی کوئی قید وغیرہ ذکر نہیں بھئی۔ اور کوئی قرینہ وغیرہ موجود نہیں ہے)، تو پھر اس صورت میں ما بعد ما قبل کا جز ہوگا (یا یعنی ما بعد ما قبل کے حکم میں ہوگا، اس میں داخل ہوگا یا داخل نہیں ہوگا)۔ جب بھئی حتیٰ کیا آئے؟ مطلق آئے، کوئی قید وغیرہ تھا ذکر نہیں، کوئی قرینہ نہیں، کوئی ایسی چیز نہیں، جس سے یہ پتہ چلے کہ ما بعد ما قبل کے حکم میں داخل ہے یا داخل نہیں، تو اس صورت میں کہتے ہیں اکثر علماء اس بات کی طرف گئے ہیں کہ ما بعد ما قبل کے حکم میں داخل ہوگا۔ جو ما قبل کا حکم ہوگا، وہی کس کا حکم ہوگا؟ ما بعد کا بھی حکم ہوگا۔ واما عند الاطلاق و عدم القرینة والاکثر اکثر علماء جو ہیں، علی وہ اس بات پر ہیں کہ ان ما بعدھا داخل فی ما قبلھا، کہ حتیٰ کا ما بعد جو ہے وہ داخل ہوگا حتیٰ کے ما قبل میں۔ حتیٰ کا ما بعد حتیٰ کے ما قبل میں داخل ہوگا، یعنی اس کے حکم میں داخل ہوگا۔ اس کے حکم میں داخل ہوگا۔ و سیاتی تفصیل الی فی موضِعھا اور عنقریب الی کی تفصیل آ جائے گی اس کی جگہ پر۔ الی کا بھی انہوں نے ذکر کیا نا تو کہتے ہیں الی کی تفصیل اپنی جگہ پر آ جائے گی۔ وتستعمل للعطف مع قیام معنی الغایة اور استعمال کیا جاتا ہے حتیٰ کو عطف کے لیے، مع قیام معنی الغایة، ساتھ غایۃ کے معنی کے قائم ہونے کے (یعنی اس ساتھ اس میں غایۃ کا معنی بھی قائم ہوگا، وہ بھی پایا جائے گا)۔ حتیٰ کس لیے آتا ہے؟ استعمال کیا جائے بھئی حروفِ عطف کی بحث چل رہی ہے نا اس وقت تو حتیٰ عطف کے لیے بھی آتا ہے اور حتیٰ بطورِ جارہ بھی ہے، تو یہاں عطف کی بات کر رہے ہیں کہ حتیٰ جو ہے وہ استعمال کیا جاتا ہے عطف کے لیے مع قیام معنی الغایة، ساتھ غایۃ کے معنی کے قیام کے (یعنی اس ساتھ اس میں غایۃ کا معنی بھی پایا جائے گا، کیونکہ حتیٰ کی اصل کیا ہے؟ حتیٰ کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ غایۃ کا فائدہ دیتا ہے، تو عطف کے لیے جب آئے گا، اس وقت بھی غایۃ کا معنی پایا جائے گا)۔ اب مناسبت ذکر کر رہے ہیں بھئی، کہ بھئی آپ نے کہا حتیٰ جب عطف کے لیے آئے گا، تو وہاں غایۃ کا معنی بھی پایا جائے گا، تو یہ عطف اور غایۃ کے اندر کیا مناسبت ہے بھئی؟ بتلانے لگے ہیں بھئی۔ کہتے ہیں بمناسبت اس مناسبت کے ساتھ کہ ان المعطوف یعقب المعطوف علیہ فی الذکر، کہ معطوف جو ہے وہ پیچھے آتا ہے معطوف علیہ کے فی الذکر والحکم، ذکر اور حکم میں، كما أن الغایة یعقب المغیا، جیسے کہ غایۃ وہ پیچھے آتی ہے مغیا کے۔ کہتے ہیں بھئی مناسبت یہ ہے، عطف اور غایۃ کے اندر، کہ جس طرح غایۃ مغیا کے بعد آتا ہے۔ اسی طرح معطوف جو ہے وہ معطوف علیہ کے بعد آتا ہے۔ ذکر میں بھی اور حکم میں بھی۔ بھئی اور حتیٰ سے ما قبل جو ہوگا وہ کیا کہلائے گا؟ معطوف علیہ، جو ما بعد ہوگا وہ کیا کہلائے گا؟ معطوف۔ تو معطوف ذکر میں بھی معطوف علیہ کے بعد ہوگا اور حکم میں بھی معطوف علیہ کے بعد ہوگا۔ بھئی ذکر میں تو بعد میں ہے ہی۔ معطوف معطوف علیہ کے بعد ذکر ہوتا ہے۔ مثلاً کیا مثال بنائیں؟ مثلاً حتیٰ کو چھوڑیں، ویسے معطوف کے ذریعے مثال سمجھیں بھئی۔ میں نے کہا جاءنی زید وعمرون، تو زید کون ہے؟ معطوف علیہ، اور عمرو کیا ہے؟ معطوف، تو دیکھو معطوف ذکر میں معطوف علیہ کے بعد آیا۔ پہلے میں نے کس کا ذکر کیا؟ معطوف علیہ کا، اس کے بعد معطوف کا۔ یہ بات تو واضح ہے۔ دوسری بات انہوں نے یہ کی کہ معطوف، معطوف علیہ کے پیچھے آتا ہے حکم میں بھی۔ بھئی یہ کیا معنی؟ اس یہ مشکل بات ہے بھئی۔ جاءنی زید وعمرون، کیا اس کلام کا یہ معنی ہے کہ زید پہلے آیا اور عمرو بعد میں آیا؟ نہیں، نہیں! حکم دونوں کے لیے ثابت ہے، تو چاہے ہو سکتا ہے زید پہلے ہو، عمرو بعد میں ہو۔ اور ہو سکتا ہے عمرو پہلے ہو اور زید بعد میں بعد میں آیا ہو۔ یا ہو سکتا ہے دونوں اکٹھے آئے ہوں۔ تو یہ تو کیا کہہ رہے ہیں؟ کہ معطوف والے معطوف جو ہے وہ معطوف علیہ سے حکم میں مؤخر ہوتا ہے، مراد ہے تکلم میں بھئی، کس کے اندر؟ تکلم کے اندر جو حکم آپ لگاتے ہیں، پہلے معطوف علیہ پر لگاتے ہیں، پھر پھر معطوف پر لگاتے ہیں، میں نے کہا بھئی، میں کہنا چاہتا ہوں، جاءنی زید وعمرون، میرے پاس کون آیا؟ زید اور عمرو۔ تو دیکھو میں کون سا حکم لگا رہا ہوں؟ مجیئت کا، تو مجیئت کا حکم تکلم کے اندر جب میں نے کہا جاءنی زید ابھی آگے میں نہیں گیا۔ مسلسل بول رہا ہوں لیکن یہاں تک پہنچا تو مجیئت کا حکم میں نے کس کے لیے ثابت کر دیا پہلے؟ تکلم میں پہلے زید کے لیے، اس کے بعد وعمرون، پھر کس کے لیے؟ عمرو تو دیکھو تکلم کے اندر مراد ہے، تو کہ تکلم کے اندر حکم پہلے معطوف علیہ پر لگتا ہے اور پھر اس کے بعد معطوف پر بھئی۔ خارج میں ایسا ضروری نہیں بھئی۔ یہ معنی ہے کہ ⦅أن المعطوف يعقب المعطوف عليه في الذكر والحكم⦆ کہ معطوف جو ہے، وہ پیچھے آتا ہے معطوف علیہ کے ذکر میں بھی اور حکم میں۔ ⦅كما أن الغاية تعقب المغيا⦆ جیسے کہ غایہ، وہ پیچھے آتی ہے مغیا کے، ⦅كقولهم⦆ جیسے کہ عربوں کا قول ہے: ⦅استنت الفصال حتى القرعى⦆ یہ آگے شرح میں بتلائیں گے آپ کو۔ استنَّ، یستنُّ، استنان۔ استنان کے معنی بھئی، آپ نے دیکھا ہو بھئی گھوڑا، کتا، بلی وغیرہ جب یہ تیز دوڑ رہے ہوں، تو کس طرح دوڑتے ہیں؟ اگلے دونوں قدم اکٹھے اٹھاتے ہیں اور پھر اکٹھے ہی زمین پر رکھتے ہیں جب تیز دوڑ رہے ہوں۔ اور آہستہ دوڑ رہے ہوں، تو پھر اس طرح نہیں ہوتا بھئی۔ دیکھا ہے کہ نہیں دیکھا بھئی آپ نے؟ جی، یہ تو عام مشاہدے کی بات ہے۔ تو یہ جو اس طریقے سے دوڑنا ہے، دونوں پاؤں اگلے اکٹھے اٹھانا اور پھر اکٹھے زمین پر رکھنا، اس کو کہتے ہیں استنان۔ کیا کہتے ہیں؟ استنان۔ استنان، یعنی یوں کہہ لیں: سرپٹ دوڑنا بھئی، سرپٹ دوڑنا۔ اچھا، فصال، فصال بتلائیں گے آپ کو، فصال جمع ہے فصیل کی، فصیل۔ اور فصیل جو ہے، اونٹنی کے بچے کو کہتے ہیں۔ فصیل کسے کہتے ہیں؟ اونٹنی کا بچہ۔ اور القرعى، قرعى جمع ہے قریع کی، اور قریع بھی وہ اونٹنی کا بچہ ہے، لیکن اونٹنی کا وہ بچہ جس کو قَرَعٌ کی بیماری ہو۔ قَرَعٌ سے ہی قریع ہے نا؟ اسے کیا بیماری ہو؟ قَرَعٌ کی بیماری ہو، اور قَرَعٌ بیماری، یہ ایک خارش کی بیماری ہوتی ہے اونٹ جانوروں وغیرہ کی، تو جسم میں اونٹ کے جسم پر سفید سفید بہت سے دانے پڑ بن جاتے ہیں بھئی۔ سفید سفید دانے، پھوڑے وغیرہ بن جاتے ہیں۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ قَرَعٌ بھئی، یہ خارش کا جو مرض ہے۔ اب دیکھیے، کہتے ہیں: جیسے ⦅كقولهم⦆ جیسے عربوں کا قول ہے: ⦅استنت الفصال حتى القرعى⦆ سرپٹ دوڑے اونٹ کے بچے، ⦅حتى القرعى⦆ یہاں تک کہ جو خارش زدہ تھے، جو خارش زدہ اونٹ کے بچے تھے، وہ بھی سرپٹ دوڑے۔ معنی سمجھ میں آگیا؟ اب دیکھیے، ⦅الفصال جمع فصيل⦆ فصال جو ہے، وہ فصیل کی جمع ہے، ⦅وهو ولد الناقة⦆ اور وہ اونٹنی کے بچہ ہے، یعنی اسے کہتے ہیں۔ ⦅والاستنان أن يرفع يديه ويطرحهما معا في حالة العدو⦆ اور استنان جو ہے: ⦅أن يرفع يديه⦆ کہ وہ اٹھائے اپنے دونوں ہاتھ، بھئی اگلے دونوں پاؤں کو کیا کہہ دیتے ہیں؟ ہاتھ کہہ دیتے ہیں۔ وہ یہ کہ وہ جانور جو ہے، وہ اٹھائے اپنے دونوں ہاتھ اکٹھے ہی، ⦅ويطرحهما معا⦆ اور ان کو اکٹھا ڈال دے، طرحَ يطرحُ کے معنی: ڈالنا، اور ان کو اکٹھا ڈال دے، یعنی اکٹھا رکھ دے زمین پر، ⦅في حالة العدو⦆ دوڑنے کی حالت میں، عدا يعدو عدواً کا معنی: دوڑنا، دوڑنے کی حالت میں۔ ⦅والقرعى جمع قريع، وهو الفصيل الذي له بشر أبيض للداء⦆ اور قرعى جمع ہے قریع کی، ⦅وهو الفصيل الذي له بشر أبيض للداء⦆ یہی ہے آپ کی کتابوں میں عبارت؟ ⦅له بشر أبيض للداء⦆؟ بھئی، بشر، یہ کتابت کی غلطی ہے، اگر یہی معنی کریں تو کس طرح ہوگا؟ کہ قرعى جمع ہے قریع کی، ⦅وهو الفصيل الذي له بشر أبيض⦆، بشر کہتے ہیں کھال کو، ⦅له بشر أبيض⦆ جس کی سفید کھال ہو، ⦅للداء⦆ کس کی وجہ سے؟ بیماری کی وجہ سے، حالانکہ یہ درست نہیں ہے بھئی۔ یہ کتابت کی غلطی ہے بھئی، سفید کھال ہو بیماری کی وجہ سے، یہ کوئی معنی بھی نہیں بنتا بھئی۔ یہ لفظ ہے اصل میں بَشَرٌ لفظ نہیں ہے، بَثَرٌ لفظ ہے، بَثَرٌ، ثاء کے ساتھ، ثاء کے ساتھ۔ منار کی دوسری شروحات میں آپ دیکھیں، تو وہاں یہ لفظ اسی طرح آپ کو مل جائے گا، منار کی بہت سی شروحات ہیں بھئی، پہلے ذکر ہو چکا، بھئی یہ جو متن ہے منار، اس کی بہت سی شروحات ہیں بھئی۔ تو یہ بشر لفظ نہیں ہے، بلکہ بَثَرٌ ہے، ثاء ہے شین کی جگہ، اور ثاء بھی ساکن ہے، بَثَرٌ۔ اور پھر اس صورت میں لَهُ نہیں آئے گا، بِهِ آئے گا بھئی، بِهِ۔ ⦅وهو الفصيل الذي به بثر أبيض للداء⦆، اور بَثَرٌ کہتے ہیں وہ جو دانے ہیں بھئی، وہ پھوڑے وغیرہ اور دانے جو اس کے جسم پر بنے، ان کو کیا کہتے ہیں؟ بَثَرٌ کہتے ہیں۔ دیکھیے، اب کیا عبارت بنے گی؟ کہتے ہیں: ⦅وهو الفصيل الذي به بثر أبيض للداء⦆ اور وہ اونٹنی کا بچہ ہے جس کو سفید دانے ہوں مرض کی وجہ سے، اب معنی ٹھیک بن گیا یا نہیں بھئی؟ ⦅فهو معطوف على الفصال⦆ تو یہ جو القرعى کا لفظ ہے، یہ معطوف ہے الفصال پر، درمیان میں حتّٰی آیا نا؟ اور حتّٰی کس لیے آتا ہے؟ عطف کے لیے آتا ہے۔ تو یہاں بھی القرعى کا عطف الفصال پر ہوا، تو کہتے ہیں: ⦅فهو معطوف على الفصال⦆ وہ معطوف ہے الفصال پر، ⦅مع قيام معنى الغاية⦆ ساتھ غایت کے معنی کے ہوتے ہوئے، ساتھ ساتھ غایت کا معنی بھی، غایت کا معنی بھی ہے، یعنی کیا معنی تھا؟ اونٹ کے بچے سرپٹ دوڑے، یہاں تک کہ خارش زدہ بھی، یعنی آپ نے ذہن میں ترتیب دے دی اونٹ کے بچوں کو، ایک اعلیٰ ہیں جو خارش زدہ نہیں ہیں، بغیر بیماری کے ہیں، وہ ہوئے اعلیٰ، اور جو خارش زدہ ہیں، وہ ہیں ادنٰی۔ تو آپ نے پہلے فعل کو، یعنی استنان کو ثابت کیا اعلیٰ کے لیے اور پھر ادنٰی کے لیے۔ تو یہ ترقی من الأعلى إلى الأدنى بھئی۔ ترتیب دے دیا نا ذہن میں؟ کہ اعلیٰ کے لیے تو یہ فعل ثابت ہے ہی، یہاں تک کہ جو ادنٰی ہیں، کمزور ہیں، بیمار ہیں، وہ بھی سرپٹ دوڑے، ان کے لیے بھی یہ فعل ثابت ہے۔ تو ترتیب کس میں دی؟ اعلیٰ سے کس کی طرف؟ ادنٰی کی طرف ترتیب دے دی، اعلیٰ کو الگ کر دیا اور ادنٰی کو الگ کر دیا۔ تو دیکھو، اعلیٰ تو دوڑے ہی، یہاں تک کہ جو ادنٰی تھے، وہ بھی دوڑے، تو غایت کا معنی آگیا کہ سارے دوڑے، حتّٰی کہ جو آخری درجے کے ہیں، ادنٰی ترین ہیں، وہ بھی کیا ہوئے؟ دوڑے بھئی، صورت سمجھ میں آگئی؟ اور کبھی اس کا عکس ہوتا ہے بھئی، ترقی من الأدنى إلى الأعلى ہوتی ہے۔ آگے اس کی مثال آگے آجائے گی، بہرحال یہاں یہ یاد رکھیں بھئی۔ جی، ⦅مع قيام معنى الغاية لأنه كان أرذل من الفصال⦆ ساتھ غایت کے معنی کے قائم ہوتے ہوئے، ⦅لأنه كان أرذل من الفصال⦆ اس لیے کیونکہ وہ جو ہیں، وہ القرعى جو ہیں، یہ خارش زدہ، یہ ارذل ہیں، یعنی گھٹیا ہیں، ادنٰی درجے کے ہیں من الفصال، کس سے؟ فصال سے، جو اور اونٹنی کے بچے ہیں جو تندرست ہیں۔ ⦅لا يتوقع الاستنان منها⦆ یہ جو القرعى ہیں، ان سے توقع نہیں ہو سکتی کس کی؟ استنان کی، ان سے تو سرپٹ دوڑنے کی توقع نہیں ہوتی بھئی، لیکن حتّٰی کہ یہ بھی دوڑے بھئی، تو ترتیب دے دی، اعلیٰ اور ادنٰی کو الگ کر دیا۔ ⦅وهذا مثل يضرب لمن يتكلم مع من لا يـ...⦆ اچھا، اب بتلانے لگے ہیں کہ بھئی یہ جو ہے نا ⦅استنت الفصال حتى القرعى⦆، یہ عرب کا محاورہ ہے، محاورہ ہے، اور یہ کس وقت بولتے ہیں؟ وہ ذکر کرنے لگے ہیں۔ کہتے ہیں: یہ محاورہ اس وقت بولتے ہیں جب کوئی شخص بڑے ادنٰی درجے والا ہے اور وہ کسی اعلیٰ درجے والے کے ساتھ بات کرتا ہے، اعلیٰ درجے والے کے ساتھ، یعنی جس کا مرتبہ، مقام بہت بڑا ہے، اس کے لیے مناسب ہی نہیں تھا اس کے سامنے بات کرنا، یہ پھر اپنی حیثیت سے بڑھ کر کیا کرتا ہے؟ اس کے ساتھ بات کرتا ہے بھئی، تو اس موقع پر کہتے ہیں: ⦅استنت الفصال حتى القرعى⦆، اونٹ کے بچے تو دوڑے، یہاں تک کہ خارش زدہ بھی سرپٹ دوڑے بھئی، کہ اپنی حیثیت سے بڑھ کر کام کر رہا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ⦅وهذا مثل يضرب⦆ یہ مثل ہے، یعنی محاورہ ہے، ⦅يضرب⦆ بیان کی جاتی ہے ⦅لمن يتكلم⦆ اس شخص کے لیے ⦅يتكلم⦆ جو بات کرتا ہے ⦅مع من لا ينبغي أن يتكلم بين يديه⦆ اس شخص کے ساتھ ⦅لا ينبغي أن يتكلم بین یدیہ⦆ کہ مناسب نہیں ہے اس کے لیے کہ یہ بات کرے ⦅بين يديه⦆ اس کے سامنے، ⦅لعلو قدره⦆ بوجہ اس کے مرتبے کی بلندی کے، یعنی اس کا مرتبہ اور مقام اتنا اونچا ہے، تم، تمہارا مقام تو اتنا اونچا نہیں، کس طرح حیثیت سے تم اس سے بات کر رہے ہو بھئی؟ تو اس کے لیے مناسب نہیں تھا کہ اس کے سامنے بات کرے بوجہ اس کے بلندیِ مرتبہ کے۔ تو یہ یاد رکھیے، یہ ضرب المثل ہے، یہ اس موقع پر بولتے ہیں جب کوئی شخص اپنی حیثیت یا اپنی طاقت سے بڑھ کر کام کا ارادہ کرے۔ اپنی حیثیت اور طاقت سے، اس کی حیثیت نہیں، اس کی طاقت نہیں ہے، اس سے بڑھ کر ایک کام کرنے کا ارادہ کرتا ہے، تو اس وقت کہتے ہیں بھئی: ⦅استنت الفصال حتى القرعى⦆ کہ اونٹ کے بچے دوڑے، یہاں تک کہ خارش زدہ بھی سرپٹ دوڑے۔ مثلاً ایک غریب آدمی ہے، وہ ساتھیوں سے مشورہ کرتا ہے کہ بھئی میرا ارادہ بن رہا ہے کہ مثلاً دار الحکومت کے اندر ایک بڑا سا محل اپنے لیے بنوا لوں بھئی، بھئی تمہاری اتنی حیثیت ہی نہیں ہے، کیسی بات کر رہے ہو، کس کام کا ارادہ کر رہے ہو بھئی؟ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو جب کوئی اس طرح اپنی حیثیت سے بڑھ کر، اپنی طاقت سے بڑھ کر کسی کام کا ارادہ اور کوشش کرتا ہے، تو اس موقع پر یہ ضرب المثل بولتے ہیں بھئی۔ کہتے ہیں: ⦅وهذا كله في الأسماء⦆ یہ سب کس کے اندر ہے؟ اسماء کے اندر ہے، کہ حتّٰی کس لیے آئے گا؟ عطف کے لیے آئے گا، اور ساتھ اس میں کون سا معنی پایا جائے گا؟ غایت والا معنی بھئی، دیکھیے اسماء کے اندر آیا نا حتّٰی، حتّٰی کے بعد القرعى یہ بھی اسم، تو معطوف بھی اسم، اور ماقبل میں معطوف علیہ الفصال بھی اسم، تو یہ اس اسماء کے اندر ہے۔ ⦅ومواضعها في الأفعال⦆ اور حتّٰی کے مواضع کس کے اندر؟ افعال کے اندر، ⦅أي بيان مواضع استعمال كلمة حتى في الأفعال⦆ یعنی کلمہ، افعال میں کلمۂ حتّٰی کے استعمال کی جگہوں کا بیان، افعال میں کلمۂ حتّٰی کے استعمال کی جگہوں کا بیان۔ بھئی، متن میں آیا تھا مواضعها، شارح نے شرح کے اندر بیان مواضع کہا، بیان کا لفظ پہلے نکال لیا، وجہ یہ کہ ⦅أن تجعل غاية⦆ آگے خبر ہے، اور مواضعها یہ ہے مبتدا، اور اس خبر کا حمل مبتدا پر درست نہیں ہوتا تھا، تو لہٰذا اس سے پہلے کیا لفظ نکال لیا؟ بیان کا، اب عطف کیا ہو جائے گا؟ صحیح، کہ افعال کے اندر حتّٰی کے استعمال کی جگہوں کا بیان یہ ہے ⦅أن تجعل غاية⦆ کہ اس کو کیا بنا دیا جائے؟ غایت بنا دیا جائے، اور پھر غایت ⦅بمعنى إلى⦆، غایت کس معنی میں؟ إلیٰ کے معنی میں اس کو غایت بنا دیا جائے، بھئی افعال کے اندر حتّٰی آیا، حتّٰی کے بعد ماقبل بھی فعل ہے، حتّٰی کے مابعد بھی فعل ہے، تو اس صورت میں کہتے ہیں: اس حتّٰی کو غایت کے معنی میں بنا دیں گے، کون سی غایت؟ غایت بمعنی إلیٰ، ⦅أو غاية هي جملة مبتدأة⦆ یا ایسی غایت جو نیا جملہ ہو، نئے سرے سے جملہ ہو بھئی، نیا کلام ہو۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ یعنی حتّٰی کو کیا کریں گے؟ افعال کے اندر جب آئے، تو اس کو غایت بنا، یہ غایت تو ہے ہی، غایت کا فائدہ دے گا، تو پھر اس کو یا تو غایت بنا دو بمعنی إلیٰ کے، یا غایت بناؤ لیکن نیا جملہ ہو، یعنی ماقبل کے ساتھ وہ جڑا ہوا نہ ہو۔ إلیٰ کے معنی میں ہوگا، إلیٰ کے معنی میں، تو پھر إلیٰ تو کیا کرتا ہے؟ مابعد کو جر دیتا ہے، اور پھر جار مجرور مل کر کیا ہوتے ہیں؟ ماقبل میں فعل وغیرہ سے متعلق ہوتے ہیں، تو إلیٰ کے معنی میں ہوگا، تو پھر یہ ماقبل کے ساتھ جڑ جائے گا، اسی کلام کا جز ہو جائے گا، اور إلیٰ کے معنی میں نہیں ہوگا، اس کے بعد نیا جملہ ہے، تو پھر ماقبل کا ایک پورا جملہ، ایک مابعد کا پورا جملہ، ہاں غایت کا معنی آجائے گا، غایت کا معنی آئے گا، لیکن مابعد والے جملہ ماقبل والے جملے کا جز نہیں بنے گا، إلیٰ کی صورت میں مابعد والا جملہ ماقبل کا جز بن جائے گا بھئی۔ یہ معنی ہے: ⦅فالأول⦆ پس اول جو ہے، یعنی جس میں حتّٰی کو کس غایت بناتے ہیں، کس معنی میں؟ إلیٰ کے معنی میں، ⦅كقوله: سرت حتى أدخلها⦆ جیسے کہ کسی شخص کا یہ قول ہے: ⦅سرت حتى أدخلها⦆ میں چلا، ⦅حتى أدخلها⦆ یہاں تک کہ میں اس شہر میں داخل ہو رہا ہوں۔ میں چلا یہاں تک کہ میں اس شہر میں داخل ہو رہا ہوں، ⦅حتى أدخلها⦆۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ ترکیب کیا ہوگی؟ سیرتُ فعل بافاعل، ت توں ضمیر فاعل، حتّٰی بمعنی إلیٰ کے، یعنی حتّٰی جارہ، اچھا، آگے أدخلُ، أدخلُ فعل مضارع، انا ضمیر اس کے اندر فاعل، ها ضمیر، یہ ها ضمیر، ها، دخل فعل کے بعد اگر کوئی جگہ، مکان ذکر ہو، تو اس میں نحویوں کا اختلاف ہے، دخلتُ الدارَ، اب یہ الدار اس کو کیا بنائیں گے؟ تو صاحب قافیہ فرماتے ہیں کہ اس کو مفعول فیہ بنائیں گے، کیا بنائیں گے؟ کیونکہ یہ مفعول فیہ ہے، ظرف ہے بھئی، جگہ کا نام ہے، جبکہ باقی نحوی کہتے ہیں: اس کو مفعول بہ بنائیں گے، کیونکہ اس دار پر دخول واقع ہوا ہے بھئی، کیا ہوا ہے؟ تو لہٰذا اس میں نحویوں کا اختلاف کہ دخول کے فعل کے بعد اگر ظرف آئے، تو اس کو مفعول بہ بنائیں گے یا مفعول فیہ؟ باقی نحوی کہتے ہیں: مفعول بہ بنائیں گے، جبکہ صاحب قافیہ فرماتے ہیں کہ صحیح یہ ہے کہ اس کو کیا بنائیں گے؟ مفعول فیہ بنائیں گے۔ تو لہٰذا، یہ ها ضمیر، یہ الدار کو راجع بھئی، اور دار کا ذکر تو نہیں یہاں پر، لیکن بہرحال کسی کا قول نقل کیا، اسی طرح اٹھا کر بھئی، نحو کے اندر جیسے مثال ذکر ہوتی ہے، وہی سے اٹھا کر اسی طرح یہاں ذکر کر دی، تو ها ضمیر راجع ہوئی الدار کو بھئی، اور یہ اس کو چاہے مفعول بہ بنائیں، چاہے مفعول فیہ بنائیں، یہ منصوب ہے محلاً، اور أدخلَ فعل، فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ یا مفعول فیہ سے مل کر، پھر یہ حتّٰی کے بعد ان مقدر ہے، کیا مقدر ہے؟ ان مقدر ہے، بھئی کیونکہ حتّٰی کو ہم نے جارہ بنایا نا، اور حتّٰی جار اسم کو دیتا ہے یا فعل کو دیتا ہے؟ اسم کو جر دیا جاتا ہے، جر تو خاصہ ہے اسم کا، تو لہٰذا یہاں ان مقدر ہے، اور یہی ان أدخلَ کو نصب بھی تو دے رہا ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو یہ نصب بھی دے رہا ہے۔ تو یہ جملہ فعلیہ ہو کر، أدخلَ فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ یا مفعول فیہ سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر ان کی وجہ سے بتاویل مفرد، مصدر مفرد ہے نا؟ بتاویل مصدر کہہ لیں یا بتاویل مفرد ہو کر یہ مجرور ہوا کس کے لیے؟ حتّٰی کے لیے، حتّٰی جارہ اپنے مجرور سے مل کر یہ متعلق ہوا سیرتُ فعل کے ساتھ، سیرتُ فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ ترکیب سمجھ میں آگئی؟ تو دیکھو، یہاں پر مابعد کا جملہ جو ہے، یہ ماقبل کے جملے کا جز ہے، اسی کے ساتھ ہم نے جوڑ دیا۔ ترکیب سمجھ میں آگئی بھئی؟ ⦅فإن حتى مع ما بعدها متعلق بقوله: سرت⦆ پس یقیناً حتّٰی جو ہے، وہ اپنے مابعد کے ساتھ یہ متعلق ہے اس شخص کے قول سیرتُ کے ساتھ، ⦅فيكون من أجزاء أول الكلام⦆ تو یہ کس میں سے ہوگا؟ اول کلام کے اجزاء میں سے، ⦅كما لو دخل إلى كان كذلك⦆ جیسے کہ اگر إلیٰ داخل ہوتا، تو بھی اسی طرح ہوتا۔ معنی سمجھ میں آگیا؟ ⦅والثاني⦆ اور دوسرے کی مثال، جس میں ہم حتّٰی فعل پر داخل ہوگا اور اس کو غایت بنائیں گے اور اس کے بعد نیا جملہ ہوگا، یعنی ماقبل کا جز نہیں ہوگا، اس کی مثال ذکر کر رہے ہیں: ⦅والثاني كقوله: خرجت النساء حتى خرجت هند⦆ اور ثانی جیسے کسی شخص کا یہ قول ہے: ⦅خرجت النساء حتى خرجت هند⦆ نکلیں عورتیں، یہاں تک کہ ہند بھی نکلی۔ عورتیں نکلیں، یہاں تک کہ ہند بھی نکل آئی بھئی۔ اب دیکھیے یہاں ہم نے ذہن میں عورتوں کو ترتیب دیا۔ عورتوں کی کو ترتیب دیا کہ عورتیں ایک ہیں اعلیٰ اور ایک ہیں ان میں سب سے ادنیٰ، مثلاً ہند۔ ہند ان میں سب سے ادنیٰ ہے مثلاً کہ خادمہ ہے، کیا ہے ان کی؟ خادمہ۔ تو ذہن میں ترتیب دے دی۔ پھر اعلیٰ کے لیے پھر ہم نے کیا کی؟ ترقی من الاعلى إلى الأدنى۔ کہ باقی عورتیں تو نکلیں یہاں تک کہ جو ان میں سب سے ادنیٰ درجے کی ہند تھی، وہ بھی نکل آئی بھئی۔ تو دیکھو عموم کا فائدہ دیا حتیٰ نے۔ یعنی سب کی سب عورتیں نکل آئیں بھئی، سب کی سب عورتیں۔ تو دیکھیے، غایہ آ گیا بھئی غایہ۔ غایہ کا فائدہ دیا، کس طرح؟ کہ اعلیٰ تو نکلیں ہی، جو سب سے ادنیٰ تھیں، آخری درجے والی وہ بھی نکل آئیں یعنی ساری کی ساری نکل آئیں، تو دیکھو غایہ کا فائدہ دیا۔ اور کبھی اس کا عکس ہوتا ہے، ترقی من الأدنى إلى الأعلى ہوتی ہے۔ اسی میں آپ دیکھ لیں، فرض کریں ہند ان میں سب سے اعلیٰ ہے۔ تو آپ نے کہا عورتیں ادنیٰ درجے کی تو نکلیں ہی، یہاں تک کہ ان میں جو سب سے اعلیٰ درجے کی ہے ہند وہ بھی نکل آئی بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ کقولہ خرجت النساء حتى خرجت هند، جیسے نکلیں عورتیں یہاں تک کہ ہند بھی نکلی۔ فإن هذه جملة مبتدأة غير متعلقة بما قبلها، پس یقیناً یہ جو ہے ایک نیا جملہ ہے جس کا تعلق نہیں ہے اپنے ماقبل کے ساتھ۔ وليس لها محل من الإعراب كما كان للأول، اور اس جملے کے لیے کوئی محلِ اعراب نہیں ہے جیسے کہ پہلے جملے کے لیے تھا، پہلے جملے کے لیے محلِ اعراب تھا بھئی کہ وہ کیا تھا؟ وہ حتیٰ یا الیٰ کی وجہ سے کیا تھا؟ مجرور تھا بھئی۔ تو اس کے لیے تو یہ وہ جو تھا وہ تو مجرور تھا، لیکن اس خرجت هند یہ جو ہے ثانی، اس کے لیے کوئی محلِ اعراب نہیں ہے بھئی، کوئی محلِ اعراب نہیں ہے بھئی۔ تو بھئی دیکھیے، اول کے اندر بھئی اول کے اندر حتیٰ أدخلها وہ بھی غایہ ہے، حتى خرجت هند یہ بھی غایہ ہے، عورتیں نکلیں یہاں تک کہ کون نکلی؟ ہند۔ لیکن وہاں غایہ ہے صرف ذہن میں یا تکلم میں نہیں، بلکہ خارج میں بھی، واقعے کے اندر بھی۔ سیر کی انتہا کہاں پر ہو رہی ہے؟ شہر میں داخل ہونے تک بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ اور وہ مؤخر ہے بھئی۔ سیر سے دخولِ دار کیا ہے؟ مؤخر ہے۔ جبکہ یہاں ترتیب ذہن کے اندر ہے، خارج کے اندر ہو بھی سکتی ہے اور ہو سکتا ہے خارج میں نہ ہو۔ یعنی عورتیں نکلیں کہنے والا یہ کہنا چاہتا ہے کہ ساری عورتیں نکلیں یہاں تک کہ ہند جو سب سے اعلیٰ ہے ان میں وہ بھی نکل آئی۔ تو ترقی من الأدنى إلى الأعلى ہوئی بھئی۔ تو اس کو غایہ بنایا، لیکن یہ ضروری نہیں کہ خارج کے اندر بھی ہند کیا ہو؟ اعلیٰ تو ہے ہی، خارج میں بھی وہ آخر میں نکلے، ہو سکتا ہے وہ سب سے پہلے نکلی ہو، ہو سکتا ہے درمیان میں ہو، ہو سکتا ہے واقعی کیا ہو سب سے آخر میں ہو۔ بس بتلانا یہ ہے حتىٰ کیا سے کیا پتہ چلا؟ عموم کا، کہ ساری عورتیں نکلیں یہاں تک کہ ان میں جو سب سے اعلیٰ تھی وہ بھی نکلی بھئی۔ اور کبھی کبھار مولانا، اول ضعیف ذکر ہو اول اعلیٰ ذکر ہوتے ہیں، بعد والا ادنیٰ۔ اب ہو سکتا ہے یہ ہند سب سے ادنیٰ ہو۔ کہ ساری عورتیں نکلیں، اعلیٰ تو نکلیں یہاں تک کہ جو سب سے ادنیٰ تھی ہند وہ بھی نکلی بھئی، تو بھی کس چیز کا فائدہ کیا ہوا؟ عموم آیا مولانا۔ تو پہلے کے اندر خارج میں کیا ہے؟ فرق کیا آیا پہلی کے اندر؟ خارج میں بھی تر خارج میں ترتیب ہے بھئی، اور یہاں پر خارج میں ترتیب ہو بھی سکتی ہے اور نہیں بھی، ہاں ذہن میں ترتیب ہے بھئی۔ ذہن میں آپ نے کیا کیا؟ پہلے فعل کو کس کے لیے ثابت کیا؟ اعلیٰ کے لیے، پھر ادنیٰ کے لیے، یا پہلے ادنیٰ کے لیے پھر اعلیٰ کے لیے بھئی۔ دوسری مثال نحو کے اندر جیسے آپ نے پڑھی ہے بھئی: مات الناس حتى الأنبياء، لوگ مر گئے یعنی لوگوں کا انتقال ہوا یہاں تک کہ انبیاء کا۔ اب آپ بتائیے مولانا، حتى الأنبياء، کیا خارج میں انبیاء کا انتقال بعد میں ہوا ہے؟ نہیں، لوگوں کے ساتھ ہی ہوا ہے بھئی۔ تو لہذا یہاں کس چیز کی ترتیب ہے؟ ترتیب کہاں پر ہے؟ ذہن میں ترتیب ہے اور ترقی ہے من الأدنى إلى الأعلى، یعنی موت ادنیٰ کے لیے جیسے ثابت ہے، اسی طرح انبیاء کے لیے بھی ثابت ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ وعلامة الغاية أن يحتمل الصدر الامتداد، اور غایہ کی علامت یہ ہے، انہوں نے بتایا بھئی افعال کے اندر آئے تو اس کو غایہ کے معنی میں بنائیں گے، غایہ بمعنیٰ الیٰ یا محض غایہ کے معنی میں بنا لیں گے۔ لیکن اس کی علامت کیا؟ کیسے ہمیں پتہ چلے گا کہ اس کو غایہ کے معنی میں بنانا ہے یا غایہ کے معنی میں نہیں بنانا؟ تو علامت ذکر کر رہے ہیں۔ وعلامة الغاية، اور غایہ کی علامت یہ ہے، أن يحتمل الصدر الامتداد، کہ ماقبل جو ہے صدر یعنی ماقبل شروع کا حصہ کلام کا، وہ احتمال رکھتا ہو امتداد کا یعنی اس میں طول ہو سکے۔ وأن يصلح الآخر دلالة على الانتهاء، اور آخر حصہ یعنی حتیٰ کا مابعد جو ہے، وہ صلاحیت رکھے کس چیز کی؟ دلالة على الانتهاء، انتہا پر دلالت کرنے کی یعنی وہ غایہ بننے کی صلاحیت انتہا پر دلالت کرنے یعنی کیا معنیٰ؟ یعنی غایہ بننے کی صلاحیت رکھے۔ ماقبل میں بھئی پہلے بھی شرطیں ذکر ہو چکی ہیں بھئی کہ ماقبل میں کیا ہو؟ او کو ہم نے بعض جگہ پر حتیٰ کے معنی میں لیا تھا یا الا ان کے معنی میں، وہاں کیا شرط تھی؟ ماقبل میں طول ہو سکے اور مابعد میں انتہا غایہ بننے کی صلاحیت ہو بھئی، بس وہی یہاں پر بھی وہی شرطیں ہیں۔ دو یہ دو علامتیں ہیں کہ ماقبل میں امتداد ہو اور مابعد میں غایہ بننے کی صلاحیت ہو یعنی وہ انتہا پر دلالت کر سکے۔ كالسير يحتمل الامتداد، جیسے کہ چلنا، بھئی اوپر مثال آئی تھی سیرت حتى أدخلها، میں چلا یہاں تک کہ شہر میں داخل ہو رہا ہوں، اب چلنا چلنا گھومنا، اس میں امتداد کی صلاحیت ہے یا نہیں؟ آپ گھنٹہ چلیں، دو گھنٹے چلیں، تین گھنٹے چلیں، اس میں امتداد ہے۔ اور دخولِ شہر، یہ اس کے چلنے کی انتہا بننے کی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں؟ کہ آپ کس لیے چلے ہیں؟ شہر میں داخل ہونے کے لیے، تو چلیں گے جب شہر میں داخل ہو جائیں گے، تو چلنے کی کیا ہو جائے گی؟ انتہا ہو جائے گی۔ تو ماقبل میں امتداد ہونا چاہیے اور مابعد میں اس کے غایہ بننے کی صلاحیت ہونی چاہیے۔ كالسير يحتمل الامتداد إلى مدة مديدة، جیسے کہ چلنا جو ہے، وہ احتمال رکھتا ہے امتداد لمبا ہونے کا إلى مدة مديدة، ایک لمبی مدت تک۔ والدخول يصلح للانتهاء إليه، اور دخول جو ہے یعنی دخولِ بلد، وہ صلاحیت رکھتا ہے اس کے انتہا ہونے کی۔ وهكذا خروج النساء جملة يصلح أن يمتد إلى خروج هند، اسی طرح عورتوں کا نکلنا، دوسری مثال ذکر کی تھی نا خرجت النساء، اسی طرح عورتوں کا نکلنا جملةً، اچھا جملةً، اور اسی طرح عورتوں کا نکلنا اکٹھے ہی يصلح صلاحیت رکھتا ہے أن يمتد إلى خروج هند، کہ اس میں امتداد ہو کب تک؟ خروجِ ہند، عورتیں نکلتی چلی جائیں یہاں تک کہ پھر کون نکل آئی آخر میں؟ ہند۔ تو یہاں بھی خروجِ نساء کے اندر ہو سکتا ہے کہ اس صلاحیت رکھتا ہے کہ وہ ممتقد ہو جائے خروجِ ہند تک، لأنها تكون أعلى منهن، اس لیے کیونکہ وہ ان میں سے کیا ہے؟ اعلیٰ ہے۔ یعنی یہ آپ نے ذہن میں ترتیب دی بھئی، کس میں؟ ذہن، تو ادنیٰ نکلیں یہاں تک کہ اعلیٰ یعنی ہند بھی نکل آئی۔ أو خادمة لهن، یا یہ کہ یہ ان کی خادمہ ہے، تو یہ ادنیٰ ہوئی۔ تو اعلیٰ تو نکلیں، یہاں تک کہ جو سب سے ادنیٰ یعنی ان کی خادمہ بھی نکل آئی۔ تو ان عورتوں کے نکلنے میں امتداد کی صلاحیت ہے، وهو، اور یہ جو ہے یعنی خروجِ ہند يصلح للانتهاء إليه، یہ اس خروجِ نساء کے لیے انتہا بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ فإن وجد الشرطان معا، پس جب دونوں شرطیں اکٹھی پائی جائیں، کون سی دونوں شرطیں؟ ماقبل میں امتداد ہو اور مابعد میں غایہ بننے کی صلاحیت ہو، تكون حتى للغاية في الفعل، تو حتیٰ غایہ کے لیے ہوگا فعل کے اندر۔ فإن لم تستقم، پس اگر غایہ، یہ ضمیر راجع ہے غایہ کو، فإن لم تستقم، اگر غایہ درست نہ ہوتا ہو، یعنی اس کی علامتیں پوری نہ ہوں، فللمجازاة بمعنى لام كي، تو پھر اس صورت میں حتىٰ مجازات کے لیے ہوگا بمعنیٰ لامِ کَی، کس معنی میں؟ لامِ کَی کے معنی میں بھئی، جو سببيت بیان کرنے کے لیے آتا ہے۔ مثلاً آپ کہتے ہیں: اسلمتُ، اسلمتُ، میں اسلام لایا، کیوں؟ اسلمتُ لادخل لـ اسلمتُ لأُدْخَلَ الجنة، میں اسلام لایا تاکہ جنت میں داخل کیا جاؤں بھئی، تاکہ مجھے کس میں داخل کر دیا جائے؟ اسلمت لأدخل الجنة بھئی، تو یہ دیکھو، میں اسلام لایا تاکہ جنت میں داخل کر دیا جائے مجھے، تو یہ تاکہ کس کا معنی کر رہے ہیں؟ لامِ کَی کا۔ تو یہاں پر بھی جب حتىٰ اس میں غایہ والا معنی درست نہیں بنتا، تو پھر یہ مجازات کے مال یہ آئے گا، لامِ کَی کے معنی میں ہوگا، اور اس کا پھر کیا ترجمہ کریں گے ہم؟ تاکہ کے ساتھ۔ سمجھ میں آیا؟ جیسے اوپر والی مثالوں میں تھا، وہاں حتىٰ غایہ کے لیے تھا، وہاں کیا ترجمہ کرتے تھے؟ یہاں تک کہ۔ سيرت حتى أدخلها، میں چل میں چلا یہاں تک کہ شہر میں داخل ہو رہا۔ عورتیں نکلیں یہاں تک کہ ہند بھی نکلی بھئی، تو وہاں ترجمہ کریں گے غایہ کے لیے یہاں تک کا، اور لامِ کَی کے معنی میں ہو تو پھر تاکہ کا ترجمہ کریں۔ فإن لم تستقم، اگر غایہ درست نہ ہو یعنی وہ وہاں درست نہ بنتا ہو، فللمجازاة، پھر حتىٰ جو ہے وہ مجازات کے لیے ہوگا، بمعنى لام كي، لامِ کَی کے معنی میں، أي فإن عدم الشرطان جميعا، یعنی اگر دونوں شرطیں اکٹھی ہی معدوم ہو جائیں یعنی ایک بھی نہیں پائی گئی، أو أحدهما، یا دونوں میں سے ایک معدوم ہو جائے نہ پائی جائے، فتكون حينئذ بمعنى لام كي، تو اس وقت جو ہے حتىٰ جو ہے لامِ کَی کے معنی میں ہوگا، لأجل السببية، سببيت کی وجہ سے، فيكون الأول سببا والثاني مسببا، تو اس صورت میں اول سبب ہوگا اور ثانی مسبب ہوگا، للمناسبة، جی۔ بھئی اول پھر اس صورت میں سبب ہوگا اور ثانی کیا ہوگا؟ مسبب ہوگا۔ بعینہٖ وہی مثال بھئی، سيرت حتى أدخلها، اب یہاں حتىٰ کو فرض کریں آپ کس معنی میں لیتے ہیں؟ لامِ کَی کے معنی میں، تو اب کیا ترجمہ کریں گے؟ پہلے کیا ترجمہ کیا تھا؟ میں چلا یہاں تک کہ شہر میں داخل ہو رہا ہوں۔ تو غایہ تھا۔ اب؟ اب تاکہ کے ساتھ، پہلے کو سبب بنا دیں اور دوسرے کو مسبب۔ میں چلا تاکہ شہر میں داخل ہو جاؤں، تاکہ شہر میں داخل۔ تو اول چلنا سبب، کس لیے چلے؟ شہر میں داخل ہونے کے لیے، تو ثانی کیا ہوا؟ مسبب۔ یہ معنی ہے فيكون الأول سببا والثاني مسببا، تو اس صورت میں اول سبب ہوگا اور ثانی مسبب ہوگا، للمناسبة بين الغاية والمجازاة، بوجہ مناسبت ہوں پائے جانے کے غایہ اور مجازات کے درمیان۔ بھئی غا یہ تو غایہ کے لیے ہونا چاہیے تھا، اب مجازات کے معنی میں کر رہے ہیں، تو ان میں کیا مناسبت ہے؟ کہتے ہیں: لأن الفعل ينتهي بوجود الجزاء، کہ فعل جو ہے اس کی انتہا ہو جاتی ہے جزا کے پائے جانے سے، كما ينتهي المغيا بوجود الغاية، جیسے کہ مغیا کی انتہا ہو جاتی ہے غایہ کے پائے جانے سے۔ بھئی غایہ سے مغیا کی کیا ہو جاتی ہے؟ انتہا۔ عورتیں نکلیں یہاں تک کہ ہند بھی نکلی، تو معلوم ہوا نکلنے کی انتہا کس پر ہو رہی ہے؟ ہند پر، ہند پر۔ تو جس طرح غایہ سے مغیا کی انتہا ہو جاتی ہے، اسی طرح اگر اس کو لامِ کَی کے معنی میں لیں گے، تو اول ہوا سبب، ثانی ہوا مسبب۔ میں چلا بھئی، میں کیوں چلا؟ تاکہ شہر میں داخل ہو جاؤں، مقصد کیا تھا؟ شہر میں داخل ہونا، تو جب مقصد حاصل ہو گیا تو سیر کی کیا ہو جائے گی؟ انتہا۔ تو یہاں بھی اسی صورت، صورت سمجھ میں آ گئی؟ جیسے غایہ کے آنے پر مغیا کی انتہا ہو جاتی ہے، اسی طرح مسبب کے پائے جانے پر سبب کی انتہا ہو جاتی ہے۔ یہ معنی ہے لأن الفعل ينتهي بوجود الجزاء، اسی کیونکہ فعل جو ہے وہ اس کی انتہا ہو جاتی ہے جزا کے پائے جانے سے یعنی جب اس کی جزا آ گئی اس کا بدلہ آ گیا۔ میں چلا تاکہ شہر میں داخل ہو جاؤں، تو جزا آ گئی بھئی بدلہ آ گیا، چلنے کا شہر میں داخل ہو گیا، تو اس پر انتہا ہو جائے گی۔ فإن تعذر هذا جعلت مستعارة للعطف المحض، اگر یہ بھی متعذر ہو جائے۔ بھئی فعل کے درمیان حتىٰ آیا بھئی افعال کے درمیان، تو اس کو اولاً غایہ کے لیے بنائیں گے، اگر غایہ کے لیے نہ بنا سکیں تو پھر اس کو لامِ کَی کے معنی میں مجازات کے لیے لیں گے، اگر مجازات کے لیے بھی نہ بنا سکیں تو پھر کہتے ہیں پھر یہ عطفِ محض کے لیے ہوگا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہی بات کر رہے ہیں، فإن تعذر هذا، اگر یہ بھی متعذر ہو جائے ممکن نہ رہے یعنی مجازات بھی ممکن نہ رہے، جعلت مستعارة للعطف المحض، تو پھر اس صورت میں حتىٰ کو مستعار لیں گے عطفِ محض کے لیے، وبطل معنى الغاية، اور غایہ کا معنی باطل ہو جائے گا، وہ پھر غایہ کا معنی نہیں ہوگا اس میں۔ أي تعذرت السببية، اچھا، انہوں نے تعذر کی ضمیر لوٹائی کس کو؟ سببيت کو بھئی۔ اچھا۔ أي إن تعذرت السببية أيضا، یعنی اگر سببيت متعذر ہو جائے یعنی اول ثانی کے لیے سبب نہیں بن سکتا، تكون حينئذ للعطف المحض مجازا، تو اس صورت میں حتىٰ جو ہے وہ عطفِ محض کے لیے ہوگا مجازاً، ولا يراعى حينئذ معنى الغاية أصلا، اور رعایت نہیں رکھی جائے گی اس وقت میں معنى الغاية أصلا، سرے سے غایہ کے معنی کی، یعنی اس وقت سرے سے پھر غایہ کے معنی کی رعایت رکھی ہی نہیں جائے گی بھئی۔ وهذه استعارة اخترعها الفقهاء، اور یہ ایک ایسا استعارہ ہے جس کو بنایا ہے فقہاء نے۔ اخترع کا معنی اپنی طرف سے بنا لینا، گھڑ لینا۔ یہ ایک ایسا استعارہ ہے جس کو فقہاء نے اپنی طرف سے بنایا ہے، ولا نظير لها في كلام العرب، اور اس کی کوئی مثال نہیں ہے کلامِ عرب کے اندر۔ اس کی کوئی مثال نہیں ہے کلامِ عرب کے اندر بھئی۔ یہ شارح فرما رہے ہیں بھئی۔ لیکن یاد رکھیے، انہوں نے کہا: یہ ایسا استعارہ ہے جس کو فقہاء نے بنایا ہے، جس کی کلامِ عرب میں کوئی مثال نہیں۔ بھئی یاد رکھیے، استعارہ ہے، مجاز ہے نا؟ مجاز کی بات چل رہی ہے۔ مجاز کے لیے پہلے کسی مثال کا ہونا ضروری نہیں ہوتا بھئی۔ مجازی معنی میں استعمال کر رہے ہیں، تو اس کے لیے پہلے سے کسی نظیر کا ہونا ضروری نہیں ہے، تو یہ کوئی اعتراض نہیں کہ کلامِ عرب میں اس کی کوئی نظیر نہیں ہے۔ مجاز کے لیے نظیر کی ضرورت نہیں ہوتی۔ نیز دوسری بات، کہ اس آگے مسائلِ زیادات ذکر ہو رہے ہیں اور اسی کے اندر ایک اس کی مثال بھی آئے گی اور تو یہ امام محمد رحمہ اللہ سے منقول ہے، اور امام محمد رحمہ اللہ جس طرح فقہ کے امام ہیں، امام ہیں اسی طرح عربی لغت کے بھی امام ہیں بھئی۔ عربی لغت میں بھی امام ہیں، آپ سے لغت کی باتیں اخذ کی جاتی ہیں، لغت کی باتیں لی جاتی ہیں۔ لغت میں آپ کی بات آ جائے تو پہاڑ کی طرح مضبوط سمجھی جاتی ہے، کیونکہ آپ لغت کے امام ہیں۔ جب وہ اس کی مثال ذکر کر رہے ہیں، تو پھر اس کے بعد یہ کہنا کہ عرب سے ہم نے اس کی کیونکہ مثال نہیں سنی یہ اعتراض درست نہیں ہے۔ بھئی جب امام لغت ایک بات کر رہے ہیں، معلوم ہوا، ان کے پاس دلیل موجود ہے بھئی۔ انہوں نے کلام عرب سے اس کی مثال کلام عرب میں ملی ان کو کوئی بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی۔ ثم ذکر امثلۃ کل من الثلاثۃ من الفقہ پھر ذکر کیا، پھر ذکر کی مثالیں، ہر ایک تین تین میں سے ہر ایک کی فقہ میں سے بھئی تین باتیں ذکر کیں تھیں کہ کبھی جب افعال کے اندر حتی آئے تو پھر یہ غایہ کے لیے ہوگا، اور غایہ کے لیے نہ ہو سکے، تو پھر یہ مجازات کے لیے ہوگا، اگر مجازات کے لیے بھی نہ ہو سکے، تو پھر یہ عطفِ مہد کے لیے ہوگا۔ ان تینوں کی اب مثالیں ذکر کریں گے بھئی، بات اور واضح ہو جائے گی۔ کہتے ہیں: ثم ذکر امثلۃ امثلۃ کل من الثلاثۃ من الفقہ، پھر ذکر کی مصنف نے ان تینوں میں سے ہر ایک کی مثالیں فقہ میں سے، فقال، پس فرمایا، و علی ھذا مسائل الزیادات، اور انہی پر زیادات کے مسائل ہیں، زیادات کتاب کے۔ یہ امام محمد رحمہ اللہ کی کتاب تصنیف ہے بھئی۔ بھئی اسی پر ہیں زیادات کے مسائل۔ کیا معنی ہے اسی پر؟ ای شرح کر رہے ہیں: ای علی ھذہ القواعد الثلاثۃ الامثلۃ المذکورۃ فی الزیادات۔ یعنی انہی قواعد، تین قواعد پر مبنی ہیں وہ مثالیں جو ذکر کی گئی ہیں کس کے اندر؟ زیادات کتاب کے۔ جیسے کہ: ان لم أضربك حتى تصیح فعبدی حر۔ ایک شخص دوسرے سے کہتا ہے: ان لم أضربك حتى تصیح فعبدی حر، اگر میں تیری پٹائی نہ کروں یہاں، یہاں تک کہ تو چیخنے لگے تو میرا غلام آزاد ہے۔ غایہ کے معنی ہیں نا، غایہ کے یہاں تک۔ اگر میں تیری پٹائی نہ کروں یہاں تک کہ تو چیخنے لگے تو میرا غلام آزاد ہے، یعنی میں تیری اتنی پٹائی کروں گا کہ تو چیخنے لگے گا۔ اگر میں تیری اتنی پٹائی نہ کروں کہ تو چیخنے لگے تو اس صورت میں میرا غلام آزاد ہے۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟ ھذا مثال للغایۃ التی بمعنی إلی، یہ مثال ہے اس غایہ، یہ مثال ہے غایہ کی، اس غایہ کی اللتی بمعنی إلی، جو کس معنی میں ہے؟ بمعنی إلی۔ بھئی بتلایا تھا، غایہ بمعنی إلی ہوگا، یا ویسے ہی غایہ ہوگا۔ یہ غایہ، یہ اس غایہ کی مثال ہے جو بمعنی إلی ہے۔ ف إن ضرب المخاطب، ف إن، ف إن ضرب المخاطب أمر یصلح أن یکون ممتدًا إلی السياح۔ اس لیے کہ مخاطب کی ضرب جو ہے، وہ ایک ایسی چیز ہے جو صلاحیت رکھتی ہے أن یکون ممتدًا إلی السياح کہ اس میں امتداد ہو کہاں تک؟ چیخنے تک۔ مخاطب کی ضرب صلاحیت رکھتی ہے کہ اس میں امتداد ہو چیخنے تک۔ بھئی بتلایا تھا، اس کے لیے دو شرطیں تھیں، غایہ کے لیے۔ کیا؟ ما قبل میں امتداد ہو، اور ما بعد میں غایہ بننے کی صلاحیت ہو۔ بھئی ما قبل میں امتداد ہو سکتا ہے یہاں۔ یاد رکھیے، ضرب ہے آنی چیز، ایک آن میں ہو جاتی ہے، اس میں امتداد نہیں۔ آپ نے لاٹھی اٹھائی، دوسرے کو دے ماری۔ ایک لمحے میں اس کو لگی، ضرب ہو گئی۔ اس میں امتداد نہیں۔ آپ ضرب کو لمبا کر سکتے ہیں، اسی ایک ضرب کو کسی طرح لمبا کر کے کھینچ کے لے جائیں؟ نہیں، یہ ایک ضرب ہوگی تو وہ ایک آن میں ہی ہوگی بھئی، اور گزر جائے گی۔ ہاں، ایک صورت میں امتداد ہے، کہ ضرب پر ضرب لگاتے چلے جائیں، اب امتداد آ گیا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہاں امتداد اس طریقہ پر ہے کہ پٹائی پر پٹائی کرتا چلا جائے، مارتا چلا جائے، اب اس صورت میں کیا آ گیا؟ امتداد آ گیا۔ یہ معنی ہے۔ اس لیے کہ مخاطب کی جو ضرب ہے، وہ ایک ایسی چیز ہے جو صلاحیت رکھتی ہے کہ وہ امتداد ہو اس میں إلی السياح، کب تک؟ چیخنے تک۔ پہلی شرط تو پوری کہ امتداد ما قبل میں ہو سکتا ہے۔ بعد والی چیز کیا تھی؟ چیخنا۔ و السياح، و السياحۃ، اس کا عطف ضرب المخاطب پر کریں ما قبل میں بھئی۔ و السياحۃ یصلح إنهاءً لہ، اور سیاح، چیخنا صلاحیت رکھتا ہے اس کے لیے انتہا بننے کی۔ چیخنا کیا ہے؟ اس کے لیے انتہا بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ کیوں؟ بھئی، چیخے گا وہ کوئی چیخے، کوئی دوسرے کی پٹائی کر رہا ہو، اور وہ چیخنا شروع کر دے، تو اس پر ضرب کی انتہا ہو سکتی ہے۔ یہ ضرب کے لیے غایہ بننے کی صلاحیت رکھتا ہے، کہ اس مارنے والے کو اس پر ہو سکتا ہے ترس آ جائے۔ اس کا دل نرم ہو جائے، یہ چیخنے لگا بھئی اتنی پٹائی کی کہ وہ چیخنے لگا، اس کو ترس آئے گا، یہ کیا کرے گا، اس کی پٹائی کرنا چھوڑ دے گا۔ تو دیکھو، چیخنا یہ ضرب کے لیے غایہ بننے کی صلاحیت رکھتا ہے، کہ اس پر ما قبل کی کیا کر دی جائے؟ انتہا ہو جائے، انتہا کر دی جائے۔ یا، چیخنے لگے، تو پھر اس وجہ سے پٹائی کرنے والا اس کو چھوڑ دیتا ہے، کہ اگر یہ چیخا، تو فُلانی شخص کہیں اس کی چیخ سن کر اس کی مدد کو نہ آ جائے، اور پھر کہیں وہ میری پٹائی نہ شروع کر دے۔ تو چیخنا، پٹائی کے لیے انتہا بننے کی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں رکھتا؟ رکھتا ہے۔ رکھتا ہے۔ یا تو کس وجہ سے؟ یا اس کو ترس آ جائے، یا کس وجہ سے؟ کہ اس کو دوسرے کے آنے کا خوف ہو، کہ کوئی اور آ جائے گا بھئی۔ تو یہ چیخنا جو ہے صلاحیت رکھتا ہے انتہاءً لہ اس پٹائی کے، کہ انتہا بننے کی، لہجان الرحمۃ، بہ وجہ رحمت کے جوش میں آنے کے، کہ رحمت کیا ہو؟ جوش، رحمت کہتے ہیں رقِ قلب کو، دل کا نرم ہونا، یعنی ترس آ جائے اس پر، لہجان الرحمۃ، رحمت کے جوش میں آنے کی وجہ سے، أو لحدوث الخوف من أحد، حدوث کا معنی پیدا ہونا، أو لحدوث الخوف من أحد، یا کسی سے خوف کے پیدا ہونے کی وجہ سے۔ کسی کا خوف پیدا ہو گیا، اگر یہ اب چیخنے لگا، اب بھی اگر میں نے پٹائی کی، تو وہ آ جائے گا، لہٰذا فورا کیا کر دیتا ہے؟ اس کی پٹائی کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ تو یہ صلاحیت رکھتا ہے۔ معلوم ہوا خارج کے اعتبار سے ہے بھئی۔ انتہا بننے کی صلاحیت کس اعتبار سے ہے؟ ذہن کے اعتبار سے نہیں، بلکہ خارج اور واقع کے اعتبار سے یہ چیز اس کے لیے، اس ما قبل کے ختم ہونے کا ذریعہ بن سکتی ہے، یا ختم ہونے کا ذریعہ نہیں بن سکتی۔ جیسے آگے ایک مثال آئے گی۔ اگے متن میں آ رہی ہے: إن لم آتك حتی تغدی نی، ف عبدی حر۔ اگر میں تیرے پاس نہ آیا تاکہ تو مجھے ناشتہ کروائے، تو میرا غلام آزاد ہے۔ تو میرا غلام آزاد ہے۔ اب دیکھیے، یہاں حتی کو غایہ کے معنی میں نہیں لے سکتے۔ کیوں نہیں لے سکتے؟ اس لیے کیونکہ حتی کے ما بعد ہے، ناشتہ کروانا، چاشت کا کھانا کھلانا۔ اور ما قبل میں آنے کا ذکر ہے، اور چاشت کا کھانا کھلانا کسی کو، یہ آنے کے لیے انتہا بننے کی صلاحیت نہیں رکھتا، غایہ بننے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ خارج کے اعتبار سے۔ بھئی، آپ کا ایک ساتھی آپ کے پاس آتا ہے، آپ اس کو ناشتہ کرواتے ہیں۔ تو کیا یہ ناشتہ کروانے کی وجہ سے وہ آنا چھوڑ دے گا؟ نہیں، وہ تو اور زیادہ آپ کے پاس آئے گا بھئی۔ تو معلوم ہوا ناشتہ کروانا، یہ آنے کے لیے انتہا بننے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ تو دیکھو، خارج واقع کے اعتبار سے دیکھنا ہے آپ نے بھئی، لفظوں یا ذہن کے اعتبار سے نہیں دیکھنا۔ واقع کے اندر، یہ ما بعد والی چیز آ جائے، تو یہ ما بعد والا کام روک دیا جاتا ہے، یہ اس یا روکا جا سکتا ہے یا نہیں روکا جا سکتا بھئی۔ ف إن ترک الضرب قبل السياح، پس اگر اس کہنے والے نے ضرب چھوڑ دی، پٹائی کرنا چھوڑ دی قبل السياح، چیخنے سے پہلے ہی، أو لم یضرب أصلاً، یا سرے سے پٹائی ہی نہیں کی یحنث، تو اس صورت میں کیا ہو جائے گا؟ حانث ہو جائے گا، اور اس کا غلام آزاد ہو جائے گا۔ و إن لم آتك حتی تغدي نی ف عبدی حر، اگر میں تیرے پاس نہ آیا تاکہ تو مجھے ناشتہ کروائے، تو میرا غلام آزاد ہے۔ اب دیکھیے، یہاں حتی کو غایہ کے معنی میں نہیں لے سکتے۔ کیوں نہیں لے سکتے؟ اس لیے کیونکہ حتی کے ما بعد ہے، ناشتہ کروانا، چاشت کا کھانا کھلانا، اور ما قبل میں آنے کا ذکر ہے۔ اور چاشت کا کھانا کھلانا کسی کو، یہ آنے کے لیے انتہا بننے کی صلاحیت نہیں رکھتا، غایہ بننے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ خارج کے اعتبار سے۔ بھئی، آپ کا ایک ساتھی آپ کے پاس آتا ہے، آپ اس کو ناشتہ کرواتے ہیں، تو کیا یہ ناشتہ کروانے کی وجہ سے وہ آنا چھوڑ دے گا؟ نہیں، وہ تو اور زیادہ آپ کے پاس آئے گا بھئی۔ تو معلوم ہوا ناشتہ کروانا، یہ آنے کے لیے انتہا بننے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ تو دیکھو، خارج واقع کے اعتبار سے دیکھنا ہے آپ نے بھئی، لفظوں یا ذہن کے اعتبار سے نہیں دیکھنا۔ واقع کے اندر، یہ ما بعد والی چیز آ جائے، تو یہ ما بعد والا کام روک دیا جاتا ہے، یہ اس یا روکا جا سکتا ہے یا نہیں روکا جا سکتا بھئی۔ ف إن ترک الضرب قبل السياح، پس اگر اس کہنے والے نے ضرب چھوڑ دی، پٹائی کرنا چھوڑ دی قبل السياح، چیخنے سے پہلے ہی، أو لم یضرب أصلاً، یا سرے سے پٹائی ہی نہیں کی یحنث، تو اس صورت میں کیا ہو جائے گا؟ حانث ہو جائے گا اور اس کا غلام آزاد ہو جائے گا۔ و إن لم آتك حتی تغدي نی ف عبدی حر، اگر میں تیرے پاس نہ آیا تاکہ تو مجھے ناشتہ کروائے، تو میرا غلام آزاد ہے۔ اب دیکھیے، یہاں حتی کا معنی میں تا کے ساتھ کر رہا ہوں، یہاں تک کے ساتھ نہیں، کیونکہ یہاں یہ غایہ نہیں بن سکتا، کیونکہ ناشتہ کروانا، وہ آنے کے لیے غایہ نہیں بن، غایہ بننے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ و إن لم آتك، اور اگر میں تیرے پاس نہ آیا تاکہ تو مجھے ناشتہ کروائے ف عبدی حر، تو میرا غلام آزاد ہے۔ هذا مثال للمجازات، یہ مثال ہے مجازات کی، لأن الأتيان، اس لیے کی آنا، و إن صلح للانتداد، اگرچہ وہ صلاحیت رکھتا ہے امتداد کی بہ حدوث الأمثال، حدوثِ امثال کے ذریعے۔ یہ سمجھ لیں، یہ مشکل بات ہے۔ بھئی، آنا، آنا، یہ ایک آنی چیز ہے۔ آنا کیا ہے؟ آنی چیز۔ جیسی اولِ نظر پڑتی ہے، کہتے ہیں، وہ آ گیا۔ یہ آنے میں امتداد ہو ہی نہیں سکتا، جیسے ضرب کے اندر امتداد نہیں ہو سکتا تھا۔ لیکن ضرب میں امتداد پھر کس طرح آیا تھا؟ بار بار پٹائی کرنے سے۔ بار بار پٹائی کرنا۔ بھئی دیکھیے، ایک تھوڑی اور تفصیل یاد رکھیں یہاں۔ آپ کتابوں میں پڑھتے ہیں کہ جملہ اسمیہ وہ ثبوت کا فائدہ دیتا ہے، اور جملہ فعلیہ حدوث کا فائدہ دیتا ہے۔ پڑھتے ہیں یا نہیں؟ بھئی، اس کو اچھی طرح سمجھ لیں۔ جملہ اسمیہ ثبوت کا فائدہ دیتا ہے (یعنی ایک چیز دوسرے کے لیے ثابت ہے، زیدٌ قائمٌ، زید کے لیے کیا ثابت ہے؟ قیام ثابت ہے)۔ جبکہ جملہ فعلیہ حدوث کا فائدہ دیتا ہے، حدوث کا معنی یہ ہوتا ہے کہ ایک چیز پہلے نہیں تھی، پھر اس کا وجود آیا، پھر اس کا وجود پایا گیا۔ زیدٌ قائمٌ کے اندر یہ بات نہیں تھی کہ پہلے قیام تھا یا پہلے قیام نہیں تھا، نہیں، بس صرف اتنا پتہ لگا، زید کے لیے کیا ثابت ہے؟ قیام ثابت ہے۔ لیکن اگر آپ کہتے ہیں: قام زیدٌ۔ اب کیا لے کر آئے؟ جملہ فعلیہ۔ اور جملہ فعلیہ کس چیز کا معنی فائدہ دیتا ہے؟ حدوث۔ حدوث کا کیا معنی؟ حدوث اور تجدد، دونوں کا ایک معنی ہے، یاد رکھیں، حدوث اور تجدد یہ کتابوں میں آئے گا لفظ بھئی، حدوث اور تجدد کا ایک معنی ہے۔ حدوث کا معنی ہے پہلے ایک چیز نہیں تھی، پھر اس کا وجود پایا گیا، یعنی یہ قیام پہلے زید کے لیے نہیں تھا، پھر اس کے بعد کیا ہوا؟ ثابت ہوا، پھر اس کے بعد چاہے ختم ہو گیا یا رہا، وہ الگ بات ہے، لیکن پہلے نہیں تھا، پھر اس کے بعد پایا گیا، معنی سمجھ میں آ گیا؟ تو جملہ اسمیہ کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ ثبوت کا، ایک چیز دوسرے کے لیے ثابت ہے، پہلے تھی یا نہیں تھی اس سے قطعِ نظر۔ اور جملہ فعلیہ کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ حدوث اور تجدد کا۔ حدوث اور تجدد کا کیا معنی؟ پہلے اس چیز کا وجود نہیں تھا، پھر اس کا وجود رہا۔ قام زیدٌ، پہلے زید کے لیے قیام نہیں تھا، پھر اس کے بعد زید کے لیے قیام کا ثبوت ہوا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی۔ फिर اس کے بعد کہتے ہیں کہ جملہ اسمیہ کبھی کبھار دوام کا بھی فائدہ دیتا ہے۔ اب ثبوت کا تو یہ فائدہ دے گی ہی، لیکن کبھی کبھار کس چیز کا فائدہ دے گا؟ دوام کا، کبھی کوئی قرینہ وغیرہ ساتھ مل جائے گا، اس سے پتہ لگ جائے گا کہ یہ اب یہ دوام کا فائدہ دے رہا ہے۔ پہلے میں تھا زیدٌ قائمٌ، زید کے لیے صرف قیام کا ثبوت تھا، دوام نہیں تھا۔ لیکن کبھی قرینہ ساتھ ملتا ہے، پھر دوام کا بھی فائدہ آتا ہے۔ مثلاً، میں کہتا ہوں: زیدٌ طویلٌ، زید کیا ہے؟ لمبا ہے (یعنی طویل القامۃ، لمبے قد والا ہے)۔ اب یہ جملہ اسمیہ ہے، اور لمبا قد، یہ کسی کے لیے، جس کا لمبا قد ہو، اس کا لمبا ہی رہتا ہے یا نہیں رہتا پھر؟ لمبا قد ہی رہتا ہے، تو یہاں اب اس طویل القامۃ ہونا، یہ تو ایک ایسا وصف ہے جب ایک دفعہ آ جاتا ہے، پھر ساتھ ہی رہتا ہے موت تک، تو لہٰذا اس نے دوام کا بھی فائدہ دیا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو جملہ اسمیہ کبھی دوام کا فائدہ دیتا ہے۔ اور جملہ فعلیہ اگر مضارعہ ہو، فعلِ مضارع ہو، اس میں پھر لکھتے ہیں وہ کبھی استمرار کا فائدہ دیتا ہے۔ کس چیز کا؟ وہاں دوام کا لفظ نہیں استعمال کرتے، وہاں استمرار کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔ استمرار۔ استمرار کا کیا معنی؟ استمرار کا معنی یہ ہے کہ ایک چیز پائی گئی، پھر ختم ہو گئی، حدوث آیا نا، جملہ فعلیہ کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ حدوث کا، ایک چیز پائی گئی، پھر ختم ہو گئی، پھر پائی گئی، پھر ختم ہو گئی، پھر پائی گئی، پھر ختم ہو گئی، پھر پائی گئی، پھر ختم ہو گئی، یہ ہے استمرار۔ دوام میں تو ایسا نہیں تھا، دائماً ایک چیز ثابت تھی دوسرے کے لیے، لیکن استمرار میں کیا ہوتا ہے؟ ایک چیز آ رہی ہے، پھر ختم ہو رہی ہے، پھر آ رہی ہے، پھر ختم ہو رہی ہے، پھر پائی جا رہی ہے، پھر پائی جا رہی ہے، پھر پائی جا رہی ہے، یہ ہے استمرار بھئی، یہ ہے۔ تو ضرب کے اندر، بھئی پچھلی مثال میں گزرا، زید اس کے ضرب کے اندر امتداد ہو سکتا تھا، لیکن کس طریقہ پر؟ استمرار کے طریقہ پر ہو سکتا تھا کہ بار بار ضرب لگائے بھئی، پھر آئے، پھر ختم ہو گئی، پھر ضرب لگائی، پھر ضرب لگائی، پھر ضرب لگائی، تو جوں جوں ضرب لگتی جا رہی ہے، پہلے نہیں تھی، پائی گئی، ختم بھی ہو گئی، پائی گئی، پھر ختم بھی ہو گئی، یہ ہے استمرار بھئی۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ تو لہٰذا جملہ اسمیہ میں اس لیے دوام کا لفظ استعمال کرتے ہیں اور جملہ فعلیہ مضارعہ کے اندر استمرار کا۔ یہ جو استمرار ہے، یہ ہے حدوثِ امثال۔ یہ کیا ہے؟ حدوثِ امثال۔ حدوث کا کیا معنی؟ پیدا ہونا، پایا جانا ایک چیز کا، اور امثال جمع ہے مثل کی، اور مثل بمعنی مثل کے ہے، یعنی مثلوں کا پایا جانا۔ حدوثِ امثال کا کیا معنی؟ مثلوں کا پایا جانا، ایک چیز کے مثل پائے جائیں۔ دیکھیے، استمرار میں بھی حدوثِ امثال ہے۔ ایک ضرب پائی گئی، پھر اسی کے مثل ضرب پھر پائی گئی، پھر اسی کے مثل پھر ضرب پائی گئی، پھر اسی کے مثل تو حدوثِ امثال ہے یا نہیں اس کے اندر؟ تو یہاں جو فعل کے اندر جب استمرار ہوتا ہے، وہاں حدوثِ امثال ہوتا ہے، اس جیسے فعل بار بار پائے جا رہے ہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی۔ تو یہاں پر بھی یہی کہہ رہے ہیں: لأن الإتیان، اتیان، اب آنا، آنا تو یہ تو ایک آنی چیز ہے، ایک لمحے والی چیز ہے، اس میں تو امتداد نہیں آنے کے اندر، جیسے ہی پہلے نظر پڑے گی، آپ کیا کہیں گے، زید آ گیا۔ لیکن یہاں پر امتداد ہو سکتا ہے، کس طرح ہو سکتا ہے امتداد؟ حدوثِ امثال کے ذریعے، یعنی بار بار آنا پایا جائے۔ بار بار آنا۔ تو دیکھو حدوثِ امثال ہو رہا ہے، وہی فعل بار بار پایا جا رہا ہے۔ یہی بات بیان کر رہے ہیں: لأن الإتیان، وإن صلح للإمتداد بحدوث الأمثال، اس لیے کہ اتیان جو ہے، وہ اگرچہ صلاحیت رکھتا ہے امتداد کی بہ حدوث الأمثال، حدوثِ امثال کے ذریعے، لٰکن التغدیۃ لا تصلح انتہاءً لہ، لیکن ناشتہ کروانا، یہ صلاحیت نہیں رکھتا اس کے لیے انتہا ہونے کی، لانها احسان، اس لیے کہ یہ ناشتہ کروانا، یہ تو کیا ہے؟ احسان ہے، وہو داعٍ لزیادۃ الإتیانی، اور وہ تو داعی ہے بلانے والا ہے زیادہ آنے کو، اس کی وجہ سے تو آنا اور زیادہ پایا جائے گا، لا تنھی، اس کی وجہ سے رکے گا نہیں، ف لم يصلح، تو لہٰذا یہ صلاحیت نہیں رکھتا یہ کون؟ یہ لفظِ حتی حمل على الغایۃ، کہ اس کو کس پر محمول کیا جائے؟ غایہ پر۔ ف تکون بمعنی، تو یہ کس معنی میں ہوگا؟ لامِ کی میں ہوگا۔ ف تکون بمعنی لامِ کیہ، تو یہ کس معنی میں ہوگا؟ لامِ کیہ کے معنی میں ہوگا، ای ان لم آتك لكي تغديني، اگر میں تیرے پاس نہ آیا تاکہ تو مجھے ناشتہ کروائے۔ اب آپ بتائیے، اس نے کیا کہا تھا؟ اگر میں تیرے پاس اس لیے نہ آیا تاکہ تو مجھے ناشتہ کروائے، تو میرا غلام آزاد۔ وہ آیا، اس لیے تاکہ دوسرا اسے ناشتہ کروائے، لیکن دوسرے نے ناشتہ نہیں کروایا۔ غلام آزاد ہو گا یا نہیں بھئی؟ غور توجہ کر کے پھر جواب دینا۔ اس نے کیا کہا تھا؟ اگر میں تیرے پاس اس لیے نہ آیا تاکہ تو مجھے ناشتہ کروائے، تو میرا غلام آزاد۔ وہ آیا اسی مقصد کے لیے کہ یہ اس کو ناشتہ کروائے، لیکن اس نے ناشتہ نہیں کروایا۔ غلام آزاد ہو گا یا نہیں؟ نہیں ہوگا۔ کیوں؟ ہاں، وہ تو اس نے تو اپنا کام پورا کیا، اس نے تو کہا تھا میں اس لیے اگر نہ آیا کہ تو مجھے ناشتہ کروائے، اور وہ آیا تو ہے، اور کس لیے آیا ہے؟ ناشتہ، اس لیے آیا ہے کہ وہ اسے ناشتہ کروائے، اس نے تو اپنا کام پورا کر دیا، لہٰذا غلام آزاد نہیں۔ اور باقی ناشتہ کروانا یا نہ کروانا، اس کی تو اس نے بات نہیں کی تھی۔ اس نے تو کیا کہا تھا؟ میں اس لیے، اگر میں اس لیے نہ آیا کہ تو مجھے ناشتہ کروائے، تو پھر میرا غلام آزاد ہے بھئی۔ معنی سمجھ بھی آیا کہ نہیں بھئی؟ لہٰذا اب وہ ناشتہ کروانا، وہ تو مخاطب کا فعل ہے بھئی، اور وہ متکلم کے اختیار میں نہیں ہے، لہٰذا اس سے قسم پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ اس جب دیکھیے، کہتے ہیں: ف إن أتاه، اب پس اگر وہ اس کے پاس آیا، ولم تغدیه، ف إن أتاه ولم تغدیه، لم يحنث، پس اگر وہ اس کے پاس آیا اور اس نے اسے ناشتہ نہ کروایا، تو لم يحنث حانث نہیں ہوگا۔ لِأَنَّهُ أَتَاهُ لِلتَّغْذِيَةِ، اس لیے کہ وہ تو ناشتہ کے لیے آیا ہے۔ وَالتَّغْذِيَةُ فِعْلُ الْمُخَاطَبِ، اور تغذیہ، ناشتہ کروانا تو کس کا کام ہے؟ مخاطب کا کام ہے۔ لَا اسْتِيَارَ فِيهِ لِلْمُتَكَلِّمِ، متکلم کا اس میں کوئی اختیار نہیں ہے۔ وَإِنْ لَمْ آتِكَ حَتَّى أَتَغَدَّى عِنْدَكَ فَعَبْدِي حُرٌّ. یہاں پر دیکھیے، یہ "حتیٰ" یہ نہ غایہ کے لیے معنیٰ میں ہوگا، تو "یہاں تک کہ" یہ ترجمہ اس کا نہیں کریں گے؛ کیونکہ یہ غایہ کے لیے نہیں۔ اور نہ پھر یہ مجازات کے لیے بھی نہیں ہوگا، لہٰذا اس کا ترجمہ "تاکہ" کے ساتھ بھی نہیں کریں گے۔ یہاں یہ صرف عطف کے لیے ہوگا اور پھر یہ "فَـ" کے معنیٰ میں ہوگا، تو اس کا ترجمہ "پھر" کے ساتھ کر لیں گے، "پھر" یا "پس"۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ دیکھیے۔ وَإِنْ لَمْ آتِكَ حَتَّى أَتَغَدَّى عِنْدَكَ اگر میں تیرے پاس نہ آیا، پھر تیرے پاس ناشتہ نہ کیا، فَعَبْدِي حُرٌّ تو میرا غلام آزاد ہے۔ معنیٰ سمجھ میں آیا؟ بھئی دیکھیے، ماقبل میں ہے لَمْ آتِكَ، إِنْ لَمْ آتِكَ۔ اچھا، آتِكَ، یہ "لم" جو ہے، یہ نفی، بھئی۔ "لم" کیا ہے؟ نفی۔ اور یہ "لم" داخل ہے "آتِكَ" پر، تو "آتِكَ" ہوا منفی۔ "لم" ہے نفی اور "آتِكَ" ہے منفی۔ اور یہ جو "أَتَغَدَّى" ہے، اس کا عطف منفی پر ہے، نفی پر نہیں۔ یعنی اس کا عطف "آتِكَ" پر ہے، منفی پر۔ نفی، یعنی "لَمْ آتِكَ" پر اس کا عطف نہیں ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو جب یہ منفی پر اس کا عطف ہے، تو گویا اس پر بھی کون سا فعل داخل ہے؟ حرفِ نفی۔ تو اس کے بھی ترجمے میں "نہیں" کا لفظ لانا ہے۔ وَإِنْ لَمْ آتِكَ حَتَّى أَتَغَدَّى عِنْدَكَ فَعَبْدِي حُرٌّ اگر میں تیرے پاس نہ آیا، پھر تیرے پاس ناشتہ نہ کیا، تو میرا غلام آزاد ہے۔ هَذَا مِثَالٌ لِلْعَطْفِ الْمَحْضِ، یہ مثال ہے عطفِ محض کی، لِعَدَمِ اسْتِقَامَةِ الْمُجَازَاةِ، بموجب مجازات کے درست نہ ہونے کے؛ فَإِنَّ التَّغْذِيَةَ فِي هَذَا الْمِثَالِ فِعْلُ الْمُتَكَلِّمِ، اس لیے کہ ناشتہ کرنا جو ہے اس مثال کے اندر وہ متکلم کا فعل ہے۔ بھئی، اوپر والی مثال میں اس نے کہا تھا: حَتَّى تُغَذِّيَنِي، "تو مجھے کیا کرے؟ ناشتہ کروائے۔" اور یہاں کیا کہہ رہا ہے: أَتَغَدَّى। تو فعل کی، ناشتہ کرنے کی نسبت کس کی طرف کر رہا ہے؟ اپنی طرف۔ تو یہاں پر تغذیہ جو ہے اس مثال کے اندر، وہ متکلم کا اپنا فعل ہے۔ كَالْإِتْيَانِ، جیسے کہ آنا جو ماقبل میں تھا، وہ بھی کس کا فعل تھا؟ وہ بھی متکلم کا فعل تھا، تو مابعد بھی متکلم کا فعل ہے۔ وَالْإِنْسَانُ لَا يُجَازِي نَفْسَهُ فِي الْعَادَةِ، اور انسان بدلہ نہیں دیتا اپنے نفس کو عادت کے اندر۔ بھئی، انسان اپنے نفس کو عادت کے اندر خود بدلہ نہیں دیتا۔ بدلہ جس کو دیا جائے، وہ غیر ہوتا ہے اور بدلہ دینے والا اس سے غیر ہوا کرتا ہے۔ خود ہی اپنے نفس کو اپ کسی چیز کا بدلہ نہیں دیتے؛ بھئی، کیا اپ نے کبھی کوئی غلطی کرنے پر خود اپنے نفس کی پٹائی کی ہے؟ نہیں، انسان اپنے اپ کو خود بدلہ نہیں دیتا۔ ہاں، اور کوئی ہو سکتا ہے استاد نے یا والدین نے اپ کی پٹائی کی ہو؛ کیونکہ بدلہ اور شخص دیا کرتا ہے۔ یا کبھی اپ نے نیکی کرنے پر اپنے نفس کو کوئی انعام دیا، بھئی؟ نہیں، کیونکہ عادتًا انسان اپنے نفس کو خود بدلہ نہیں دیتا، اور دیتا ہے کبھی... ہاں، ہو سکتا ہے اساتذہ دیں اپ کو یا والدین دیں، بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اور یہاں پر اس نے کیا کہا؟ "حتیٰ" کے بعد "أَتَغَدَّى" ذکر ہے اور "حتیٰ" کو ہم، "حتیٰ" کو ہم غایہ تو نہیں بنا سکتے۔ غایہ کیوں نہیں بنا سکتے؟ کیونکہ اوپر بات ہو گئی۔ کیونکہ ناشتہ، یہ آنے کے لیے غایہ بننے کی صلاحیت... ناشتہ کروانے سے تو کوئی منع تھوڑی ہوگا، وہ تو اور زیادہ آئے گا۔ تو یہ غایہ بننے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ پھر مجازات پر محمول کرنا چاہتے تھے ہم، لیکن مجازات کے اندر دونوں فعلوں کی نسبت متکلم کی طرف ہے۔ مجازات میں تو ماقبل سبب ہوتا ہے، مابعد مسبب ہوتا ہے، اس کا بدلہ ہوتا ہے، اس کی جزا ہوتا ہے اور جزا... دونوں فعلوں کی نسبت متکلم کی طرف ہے، معلوم ہوا وہ جزا بھی کس... بدلہ دینے والا بھی کون ہو گیا؟ متکلم۔ حالانکہ انسان خود ہی اپنے نفس کو بدلہ نہیں دیتا۔ تو مجازات پر بھی محمول نہیں کر سکتے۔ تو پھر تیسری کیا صورت تھی؟ اس کو کس پر محمول کریں گے؟ عطفِ محض پر۔ وَلِهَذَا قِيلَ، اور اسی وجہ سے کہا گیا ہے: أَسْلَمْتُ كَيْ أُدْخَلَ الْجَنَّةَ، بِصِيغَةِ الْمَجْهُولِ لَا بِصِيغَةِ الْمَعْلُومِ. اسی لیے کہا گیا ہے کہ أَسْلَمْتُ كَيْ أُدْخَلَ الْجَنَّةَ، یہ مجہول کے صیغے کے ساتھ ہے، معلوم کے صیغے کے ساتھ نہیں۔ اس لیے کیونکہ اگر أَسْلَمْتُ كَيْ أَدْخُلَ الْجَنَّةَ ہو، تو پھر مابعد تو کیا ہے؟ اول سبب ہے، ثانی مسبب ہے، تو یہ خود گویا کیا کر رہا ہے؟ اپنے نفس کو بدلہ دے، حالانکہ انسان عادتًا اپنے نفس کو بدلہ نہیں دیتا۔ بدلہ دینے والی ذات اور ہوا کرتی ہے، تو لہٰذا یہاں "أُدْخَلَ" فعل پڑھا جائے تاکہ متکلم کی طرف اس کی نسبت نہ ہو۔ فَتَعَيَّنَ أَنْ تَجْعَلَ مُسْتَعَارَةً لِلْعَطْفِ، تو متعین ہو گیا کہ اپ اس "حتیٰ" کو مستعار بنائیں گے عطف کے لیے، فَكَأَنَّهُ قِيلَ، گویا کہ یوں کہا گیا: إِنْ لَمْ آتِكَ، اگر میں تیرے پاس نہ آیا، فَلَمْ أَتَغَدَّ عِنْدَكَ، پھر تیرے پاس ناشتہ نہ کیا، دیکھو "حتیٰ" کو "فَـ" کے معنیٰ میں کر لیا۔ "فَـ" لے آئے بیچ میں۔ تو پھر تیرے پاس ناشتہ نہ کیا، فَعَبْدِي حُرٌّ، تو میرا غلام آزاد ہے۔ فَإِنْ لَمْ يَأْتِ، پس اگر یہ اس کے پاس آیا ہی نہ، تو بھی کیا ہو جائے گا؟ حانث ہو جائے گا، غلام کیا ہو جائے گا؟ حانث۔ کئی صورتیں ذکر کریں گے، سب کے اخر میں جزا لائیں گے کہ يحنث، ان سب صورتوں میں وہ حانث ہو جائے گا۔ فَإِنْ لَمْ يَأْتِ، اگر وہ آیا ہی نہ، أَوْ أَتَاهُ وَلَمْ يَتَغَدَّ، یا آیا تو لیکن ناشتہ نہیں کیا، تو اس صورت میں بھی حانث۔ أَوْ أَتَاهُ وَتَغَدَّى مُتَرَاخِيًا عَنِ الْإِتْيَانِ، یا آیا اور ناشتہ کیا اس نے تاخیر کے ساتھ آنے سے، آنے کے بڑی دیر بعد اس نے ناشتہ کیا، يَحْنَثُ، تو اس صورت میں بھی حانث ہو جائے گا؛ کیونکہ یہ "فَـ" کے معنیٰ میں ہے اور "فَـ" تعقیب مع الوصل کے لیے آتی ہے، تراخی کے لیے نہیں آتی۔ لِأَنَّ الْأَقْرَبَ فِي هَذِهِ الِاسْتِعَارَةِ حَرْفُ الْفَاءِ، اس لیے کہ سب سے قریب استعارے... اس استعارے کے اندر حرفِ "فَـ" ہے۔ کیوں؟ "فَـ" کیوں؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ یہاں "فَـ" اور "حتیٰ" کے درمیان مناسبت ہے۔ "حتیٰ" اصل میں آتا تو کس لیے ہے؟ غایہ کے لیے ہے اور غایہ مغیا کے بعد آیا کرتی ہے۔ اسی طرح "فَـ" بھی تعقیب کے لیے آتا ہے کہ بعد والا ما... پہلے والے کے بعد میں آتا ہے، بھئی۔ مناسبت سمجھ میں آ گئی؟ اس لیے کیونکہ سب سے قریب اس استعارے کے اندر وہ حرفِ "فَـ" ہے۔ فَإِذَا جُعِلَتْ بِمَعْنَى الْفَاءِ، پس جب اس "حتیٰ" کو ہم نے "فَـ" کے معنیٰ میں کر دیا، فَلَا يَسْتَقِيمُ التَّرَاخِي، تو پھر تراخی درست نہیں رہتی۔ وَقِيلَ، اور کہا گیا ہے، بعض علماء فرماتے ہیں: كَوْنُهَا بِمَعْنَى الْوَاوِ أَنْسَبُ، کہ اس کا "واؤ" کے معنیٰ میں ہونا، یہ... كَوْنُهَا بِمَعْنَى الْوَاوِ أَنْسَبُ، اس کا "واؤ" کے ہونا میں... ہونا زیادہ مناسب ہے۔ أَنْسَبُ، یہ "كَوْنُهَا" کی خبر ہے، بھئی۔ بات سمجھ میں آئی؟ "كَوْنُهَا بِمَعْنَى الْوَاوِ" یہ ہے مبتدا اور "أَنْسَبُ" خبر، بھئی۔ اور کہا گیا ہے کہ اس "حتیٰ" کا "واؤ" کے معنیٰ میں ہونا، یہ مناسب... زیادہ مناسب ہے، لِأَنَّ الْمُجَوِّزَ لِلِاسْتِعَارَةِ الِاتِّصَالُ، اس لیے کیونکہ استعارہ کو جائز قرار دینے والی چیز جو ہے، وہ اتصال ہے، وہ کیا ہے؟ اتصال ہے، وَهُوَ فِي الْوَاوِ أَكْثَرُ، اور وہ "واؤ" کے اندر زیادہ ہے، بھئی۔ بھئی، استعارے کو جائز... استعارہ جائز کس وجہ سے ہوتا ہے کہ مناسبت پائی جائے دونوں معانی کے درمیان، اتصال پایا جائے۔ تو استعارے کو جائز کرنے والی چیز کیا ہے؟ اتصال ہے اور اتصال "واؤ" کے اندر زیادہ ہے، بھئی؛ اس لیے کیونکہ "واؤ" جمع کا فائدہ دیتا ہے۔ جَاءَنِي زَيْدٌ وَعَمْرٌو، "واؤ" نے کیا کر دیا؟ زید اور عمر کو آنے کے اندر جمع کر دیا کہ یہ بھی آیا ہے اور یہ بھی آیا ہے۔ نیز لکھتے ہیں کہ یہ "واؤ" جو ہے، یہ حروفِ عاطفہ میں سے اصل ہے اور اس کا معنیٰ گویا کہ تمام حروفِ عاطفہ کے معنیٰ میں کیا... جزو ہوتا ہے۔ تمام حروفِ عاطفہ جتنے بھی ہیں، ان کے معنیٰ میں کس کا معنیٰ بھی پایا جاتا ہے؟ "واؤ" والا معنیٰ بھی پایا جاتا ہے۔ تو "واؤ" کے اندر اتصال زیادہ ہے، لہٰذا اس کے معنیٰ میں ہونا چاہیے۔ یہ بعض علماء نے کہا، لیکن "قِيلَ" کے ذریعے ذکر کر دیا، "قِيلَ" کے ساتھ ذکر کیا ہے، معلوم ہوا یہ قول کمزور ہے۔ وَلَكِنَّهُمْ تَكَلَّمُوا، لیکن اس بارے... لیکن علماءِ اصولِ فقہ جو ہیں، انہوں نے کلام کیا ہے، فِي أَنَّهُ لَا بُدَّ أَنْ يَكُونَ قَوْلُهُ "أَتَغَدَّى"، اس بات کے اندر کہ لا بد ہے کہ ہو ماتن کا قول "أَتَغَدَّى" بَإِسْقَاطِ الْأَلِفِ، یہ کس کے ساتھ ہونا چاہیے؟ اسقاطِ الف کے ساتھ ہونا چاہیے، بھائی। یہ جو "أَتَغَدَّى" کے اخر میں الف ہے، یہ یا جو کیا بن چکی؟ الف بن چکی ہے، "أَتَغَدَّى"، یہ جو اخر میں الف پڑھ رہا ہوں، اس کی بات کر رہے ہیں۔ اس کو "أَتَغَدَّى" کو کس کے ساتھ ہونا چاہیے؟ اسقاطِ الف کے ساتھ، یعنی "أَتَغَدَّىٰ" نہیں ہونا چاہیے، بلکہ "أَتَغَدَّ" یہ ہونا چاہیے، "أَتَغَدَّ"। کیوں؟ لِيَكُونَ مَجْزُومًا مَعْطُوفًا عَلَى "آتِكَ"، تاکہ یہ مجزوم ہو، معطوف ہو "آتِكَ" پر۔ لَمْ آتِ، اصل میں کیا تھا؟ لم نہ ہو، تو "آتِيَكَ"، "آتِيَكَ"، تا کے بعد کیا تھی؟ یا۔ لیکن "لم" نے کیا... "لم" کیا کرتا ہے؟ اخر سے حرفِ علت کو گرا دیتا ہے، تو لَمْ آتِكَ۔ اور میں نے اپ کو بتلایا تھا کہ "أَتَغَدَّى" کا عطف کس پر ہے؟ منفی پر یا نفی پر؟ منفی پر، اور منفی مجزوم ہے، تو "أَتَغَدَّى" کو بھی کیا ہونا چاہیے؟ مجزوم ہونا چاہیے، یہ اخر سے الف کو گر جانا چاہیے۔ تو علماء فرماتے ہیں کہ اس کو "أَتَغَدَّى" کو اسقاطِ الف کے ساتھ ہونا چاہیے تاکہ یہ مجزوم ہو جائے، معطوف ہو جائے "آتِكَ" پر۔ وَقِيلَ، اور کہا گیا ہے، بعض نے پھر جواب دیا: لَا بَأْسَ بِهِ، اس میں کوئی حرج نہیں ہے، لِأَنَّ مَا قُلْنَا بَيَانُ حَاصِلِ الْمَعْنَى، اس لیے کیونکہ وہ جو ہم نے کہا، بیانِ حاصلِ معنیٰ، وہ کیا ہے؟ حاصلِ معنیٰ کا بیان ہے، لَا بَيَانُ تَقْدِيرِ الْإِعْرَابِ، تقدیرِ اعراب کا بیان نہیں۔ یہاں ہمارا مقصد معنیٰ کو بیان کرنا ہے، تقدیرِ اعراب کو بیان کرنا نہیں ہے، تو اگر یہ مجزوم نہ بھی ہو، تو بھی معنیٰ پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ وَمَا يُتَوَهَّمُ، اور وہ جو وہم کیا گیا ہے، أَنَّهُ مَعْطُوفٌ عَلَى النَّفْيِ دُونَ الْمَنْفِيِّ، کہ یہ معطوف ہے نفی پر نہ کہ منفی پر، فَسَاقِطٌ لَا عِبْرَةَ بِهِ، بھئی، بعض علماء نے کہا کہ یہ جو "أَتَغَدَّى" ہے، یہ منفی یعنی "آتِكَ" پر معطوف نہیں ہے، بلکہ کس پر معطوف ہے؟ نفی پر، یعنی "لَمْ آتِكَ" پر۔ منفی پر معطوف نہیں، بلکہ کس پر معطوف ہے؟ نفی پر۔ کہتے ہیں: یہ جو وہم کیا بعض علماء نے، تو یہ ساقط ہے، اس کا کوئی اعتبار نہیں، بھئی۔ کہتے ہیں: وَمَا يُتَوَهَّمُ، اور وہ جو وہم کیا گیا ہے، أَنَّهُ مَعْطُوفٌ عَلَى النَّفْيِ دُونَ الْمَنْفِيِّ، کہ معطوف ہے نفی پر نہ کہ منفی پر، فَسَاقِطٌ، تو وہ ساقط ہے، لَا عِبْرَةَ بِهِ، اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے، فَتَأَمَّلْ، پس اپ اس میں غور کر لیجیے۔ غور کر لیجیے؛ کیونکہ معنیٰ ہی درست نہیں بنتا، بھئی۔ کس طرح؟ اب جو ہم نے ترجمہ کیا تھا، تو "أَتَغَدَّى" کے ساتھ بھی نفی کو لائے تھے یا نہیں لائے تھے، بھئی؟ جی؟ اس کے ساتھ بھی ہم نفی لائے تھے۔ "اگر میں تیرے پاس نہ آیا، پھر تیرے پاس ناشتہ نہ کیا، تو میرا غلام آزاد۔" اگر اس کو "لَمْ آتِكَ" پر عطف کریں، تو پھر یہ مثبت کا مثبت ہی رہے گا۔ کیا معنیٰ ہو جائے گا؟ "اگر میں تیرے پاس نہ آیا، پھر تیرے پاس ناشتہ کیا، تو میرا غلام..." معلوم ہوا، آئے نہ اور ناشتہ کرے، پھر غلام آزاد ہوتا ہے۔ اور یہ ممکن ہے کہ آئے نہ اور ناشتہ کر لے اس کے پاس؟ ناشتہ تو تبھی کر سکتا ہے جب آئے گا اس کے پاس۔ تو "آئے نہ اور ناشتہ کر لے"، یہ معنیٰ ہی درست نہیں بنتا۔ لہٰذا، یہ اس کا عطف منفی پر ہی رکھیں گے، اس کا عطف نفی پر عطف درست نہیں، بھئی۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔