درس نمبر۔62 ثم ذکر مجازاً آخر لہا فقال: وتستعار للعموم فتصير بمعناها واو العطف لا عینہ۔ یعنی كما ان الواو تدل علی اثبات الحكم للمعطوف والمعطوف علیہ كلہما فكذلك أو۔ أو کی بحث چل رہی ہے بھئی۔ جی اور کی بحث چل رہی ہے مس ثم ذکر مجازاً آخر لہا پھر ذکر کیا مصنف رحمہ اللہ نے او کا ایک اور مجاز فقال پس فرمایا: وتستعار للعموم اور واو او کو کبھی کبھار عموم کے لیے مستعار لیا جاتا ہے فتصير بمعناها واو العطف তো یہ کس معنی میں ہو جاتا ہے؟ واو عطف کے معنی میں ہو جاتا ہے لا عینہ لیکن عین واو نہیں ہوتا، واو کے معنی میں تو ہوا لیکن عین واو نہیں ہوا، کچھ فرق ہوتا ہے، دیکھیے آگے بیان کر رہے ہیں۔ یعنی كما ان الواو تدل علی اثبات الحكم للمعطوف والمعطوف علیہ كلہما فكذلك أو۔ یعنی جس طرح واو دلالت کرتا ہے حکم کے ثابت کرنے پر معطوف اور معطوف علیہ دونوں کے لیے فكذلك أو تو اسی طرح او ہوگا بھئی، او بھی اسی طرح ہے کہ وہ بھی کیا کرے گا؟ معطوف اور معطوف علیہ دونوں کے لیے حکم ثابت کرے گا۔ فتكون بمعنا الواو تو یہ واو کے معنی میں ہوگا لیکن الواو تدل علی اجتماع و شمول و أو تدل علی انفراد كل منہما عن الاخرى فلا يكون عینہ۔ لكن واو دلالت کرتا ہے اجتماع اور شمول پر بھئی اور او دلالت کرتا ہے ان دونوں میں سے معطوف اور معطوف علیہ دونوں میں سے ہر ایک کے انفراد پر دوسرے سے الگ بھئی، دوسرے سے الگ۔ فلا يكون عینہ تو یہ عین واو کے معنی میں عین واو نہیں ہوگا بھئی۔ واو تو کس چیز پر دلالت کرتا ہے بھئی؟ اجتماع اور شمول پر جبکہ او جو ہے معطوف اور معطوف علیہ دونوں میں سے ہر ایک کے الگ ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ مثلاً دیکھیے بھئی، کوئی شخص قسم اٹھاتا ہے واللہ لا اكلم زیداً أو عمراً۔ یہ یوں پہلے واو کی صورت بنائے، واللہ لا اكلم زیداً و عمراً۔ جی تو یہاں اس نے واو استعمال کیا اور اب واو کس چیز پر دلالت کرتا ہے؟ اجتماع اور شمول پر لہٰذا وہ دونوں کے ساتھ بات کرے گا تو حانث ہوگا، ایک سے بات کرنے پر حانث نہیں ہوگا بھئی اور اگر او کے ساتھ کہتا ہے تو او بھئی۔ کیسے کہتا ہے؟ واللہ لا اكلم زیداً أو عمراً۔ تو او کے ساتھ ذکر کیا تو یہاں پر جیسے واو میں معطوف کے لیے ساتھ ساتھ معطوف علیہ کے ساتھ ساتھ معطوف کے لیے بھی حکم ثابت ہو جاتا تھا یہاں بھی معطوف کے ساتھ ساتھ معطوف علیہ کے ساتھ معطوف کے لیے بھی حکم ثابت ہوگا یعنی عدم تکلم کا حکم دونوں کے لیے ہوگا۔ کس کے لیے ہوگا؟ دونوں کے لیے عدم تکلم کا حکم ہوگا تو اب وہ کسی ایک سے بات کرے گا تو حانث ہو جائے گا بھئی، کیا ہو جائے گا؟ حانث ہو جائے گا بھئی۔ تو اب یہ واو کی طرح ہے کس اعتبار سے؟ کہ جیسے جی واو کے اندر عدم تکلم عام تھا زید کے لیے بھی عدم تکلم کا حکم تھا اور عمرو کے لیے بھی عدم تکلم کا حکم تھا تو یہاں بھی حکم عام ہوا تو یہ واو کی طرح ہوا، لیکن واو تو دلالت کی طرح اب عین واو نہیں ہے کیونکہ واو تو کس چیز پر دلالت کرتا ہے اجتماع اور شمول پر، لہٰذا دونوں سے بات کرے گا تو حانث ہوگا ایک سے بات کرنے پر حانث نہیں ہوگا جبکہ او انفراد پر دلالت کرتا ہے لہٰذا ہر ایک دوسرے سے الگ ہو تو ان دونوں میں سے ہر ایک الگ بھئی کسی ایک سے بھی بات کر لے گا تو کیا ہو جائے گا؟ حانث ہو جائے گا، فرق سمجھ میں آیا بھئی؟ وذلك ای کونہا مستعارۃ بمعنا الواو اور یہ یعنی اس کا او کا واو کے معنی میں مستعار ہونا اذا كانت فی موضع النفی أو موضع الاباحۃ یہ اس وقت ہے جب کہ یہ او نفی کے مقام میں ہو یا اباحۃ کے مقام میں ہو بھئی، نفی کے مقام میں ہو یا اباحۃ کے مقام میں ہو بھئی۔ لانہما قرینتان لھذا المجاز اسی کیونکے یہ دونوں قرینے ہیں اس مجاز کے، اس مجازی معنی کے لیے یہ دونوں قرینے ہیں، مقام نفی میں ہونا اور مقام نفی میں آئے گا تو کس چیز کا فائدہ دے گا؟ عموم کا فائدہ دے گا، اسی طرح او مقام اباحۃ میں آئے گا تو بھی کس چیز کا فائدہ دے گا؟ عموم کا فائدہ دے گا بھئی، عموم کا فائدہ دے گا۔ اباحۃ کے مقام میں ہے تو عموم کا فائدہ دے گا بھئی، یہ ایک ہے اباحۃ، ایک ہے تخییر، فرق جانتے ہو کہ نہیں بھئی؟ تخییر کے اندر اجتماع جائز نہیں ہوتا بھئی، جن چیزوں میں اختیار دیا گیا ان کا اجتماع کی اجازت نہیں ہوتی، جبکہ اباحۃ میں اجتماع کی اجازت ہوتی ہے بھئی، اور اس کے لیے تخییر کہاں ہے؟ اباحۃ کہاں ہے؟ اس پر کوئی قرینہ خارجی دلالت کرے گا بھئی، مثلاً بھئی میں نے آپ سے کہا یہ کتاب لے لیجیے یا یہ کتاب لے لیجیے۔ اگر یہ مقام تخییر ہوا تو اس صورت میں آپ کو ان میں سے ایک کتاب لینے کی اجازت ہے بھئی، ان میں سے ایک ایک اور اگر مقام اباحۃ ہوا تو اس صورت میں آپ کے لیے دونوں کتابیں لینا بھی جائز ہوگا، صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو تخییر میں اجتماع کی اجازت نہیں جبکہ اباحۃ میں جمع کی اجازت ہوتی ہے۔ تو یہ دونوں موضع مقام نفی یا مقام اباحۃ کے اندر ہونا یہ دونوں قرینے ہیں مجاز کے لیے اور مجاز خلاف اصل ہے اور خلاف اصل کے لیے قرینہ چاہیے ہوتا ہے تو اس کے لیے بھی قرینہ ضروری ہے بھئی تو وہ قرینہ کیا ہوگا یہاں پر؟ مقام نفی میں ہونا یا مقام اباحۃ کے اندر ہونا بھئی۔ تو کہتے ہیں لانہما قرینتان لھذا المجاز اسی کیونکے یہ دونوں قرینے ہیں اس مجاز کے لیے ولا یصار الیہ الا بقرینۃ اور رجوع نہیں کیا جاتا مجاز کی طرف مگر قرینے کے ذریعے كقولہ جیسے كقولہ جیسے کہ کسی شخص کا یہ قول ہے واللہ لا اكلم فلاناً أو فلاناً، واللہ میں فلان یا فلان سے بات نہیں کروں گا حتى اذا كلم احدھما یحنث جب ان دونوں میں سے کسی ایک سے بات کرے گا تو کیا ہو جائے گا؟ حانث ہو جائے گا ولو كلمھما لم یحنث إلا مرۃ، اور اگر دونوں سے بات کرتا ہے تو حانث نہیں ہوگا مگر ایک ہی مرتبہ حانث نہیں ہوگا مگر ایک ہی مرتبہ بھئی۔ مثال لوقوعھا فی موضع النفی یہ مثال ہے لوقوعھا ها ضمیر او کو راجع ہے، او کے واقع ہونے کی في موضع النفی کس مقام میں؟ نفی کے مقام میں، بھئی دیکھیے انہوں نے پیچھے آپ کو بتایا کہ دو جگہیں ہیں جہاں پر او جو ہے واو کے معنی میں ہوگا ایک موضع نفی ہے اور ایک موضع اباحۃ ہے، ایک نفی کا مقام ہے، ایک اباحۃ کا مقام ہے، ان دو جگہوں کے اندر جب او آ جائے تو یہ او کس معنی میں ہوتا ہے؟ واو کے معنی میں ہوتا ہے بھئی۔ اب یہ دو جگہیں ہیں تو دونوں کی علیحدہ علیحدہ مثالیں ذکر کریں گے پہلے یہ بتلا رہے ہیں مثال لوقوعھا في موضع النفی یہ او کے واقع ہونے کی مثال ہے محل نفی کے اندر بھئی، دیکھیے جو انہوں نے مثال ذکر کی کسی شخص نے کیا کہا؟ واللہ لا اكلم فلاناً أو فلاناً، واللہ میں فلاں یا فلاں سے بات نہیں کروں گا تو یہاں او آیا اور کس مقام میں آیا؟ نفی کے مقام میں آیا لا اكلم وہ کہہ رہا ہے میں بات نہیں کروں گا بھئی تو یہ اس کی مثال ہے بھئی۔ و ظاہر ان قوله حتی اذا كلم تفرع اچھا بھئی دیکھیے ذرا پیچھے متن پر آئیے دیکھیے، متن میں مصنف نے دو باتیں کی تھیں بھئی، پہلی بات یہ کی تھی کہ یہ او جو ہے بمعنا واو العطف کس معنی میں ہوگا؟ واو عطف کے معنی میں ہوگا۔ پہلی بات کیا کی کہ او کس معنی میں ہوگا واو عطف اور دوسری بات یہ کی کہ لا عینھا عین واو نہیں ہوگا بھئی، کتنی باتیں ہوئیں؟ دو۔ پہلی بات کیا کہ او کس معنی میں ہوگا؟ واو عطف کے معنی میں ہوگا اور دوسری بات یہ کی کہ عین واو نہیں ہوگا تو دو باتیں کیں تو انہی پر آگے دو تفریعات کر رہے ہیں اسے نیچے متن میں کیا آیا تھا جو مثال ذکر کی واللہ لا اكلم فلاناً أو فلاناً کسی شخص نے کہا کہ واللہ میں فلاں یا فلاں سے بات نہیں کروں گا حتی اذا كلم احدھما یحنث یہاں تک کہ اس نے ان دونوں میں سے ایک سے بات کر لی تو کیا ہو جائے گا؟ حانث یہ ایک تفری ہے ولو كلمھما لم یحنث إلا مرۃ اور اگر دونوں سے بات کی تو حانث نہیں ہوگا مگر ایک ہی مرتبہ، یعنی ایک ہی کفارہ دینا پڑے گا بھئی، ایک ہی کفارہ یہ دوسری تفری ہے۔ تو دو تفریعات ذکر ہوئیں اور اوپر دو باتیں ذکر ہوئی تھیں اب کون سی بات کس کی تفری ہے؟ ایک بات کون سی ہوئی حتی اذا كلم احدھما یحنث ایک یہ تفری، ایک ولو كلمھما لم یحنث إلا مرۃ یہ دوسری تفری، اب کون سی تفری کس بات پر ہے؟ تو شارح آگے آپ کو بتلائیں گے کہ ظاہر یہی ہے کہ پہلی بات پہلی پر تفری ہے اور دوسری بات دوسری پر، پہلی بات کون سی؟ حتی اذا كلم یہ تفری ہے کس پر بمعنا واو العطف کہ او کس معنی میں ہوگا واو عطف یہ اس پر تفری ہے اور ولو كلمھما یہ بعد میں آیا تو یہ وہ بعد والی بات پر تفری ہے کون سی بات پر؟ لا عینھا پر کہ اس کا عین نہیں ہوگا بھئی۔ تو یہی بات بیان کر رہے ہیں و ظاہر اور ظاہر یہ ہے کہ ان قوله حتى اذا كلم کہ مصنف کا قول حتى اذا كلم تفرع یہ تفری ہے لكونها بمعنا الواو او کے واو کے معنی میں ہونے پر وقولہ ولو كلمھما تفری لعدم کونھما ہے آپ کی کتابوں میں بھئی؟ كونھا ہونا چاہیے بھئی ہا ضمیر او کو راجع ہے کونہما نہیں اور مصنف کا قول ولو كلمھما یہ تفریح ہے کس بات پر لعدم کونھا عین الواو اس او کے عین واو نہ ہونے پر بھئی، عین واو نہ ہونے پر تفریح ہے۔ अच्छा بھئی تو انہوں نے بتلایا بھئی حتى اذا كلم یہ تفری ہے واو کے بممعنا واو ہونے پر اور ولو كلمھما یہ تفریح ہے او کے عین واو نہ ہونے پر بھئی، عین واو نہ ہونے پر یعنی اذا كانت بمعنا الواو یعنی جب او واو کے معنی میں ہوگا فیعمم الجنس بتكلم احدھما أي يھما كان تو حانث ہونا عام ہوگا ان دونوں میں سے کسی ایک کے ساتھ تكلم کرنے پر أي يھما كان جو کوئی بھی ان دونوں میں سے ہو۔ بھئی دیکھیے او جو ہے یہاں پر یہ انہوں نے کہا نا حتى اذا كلم احدھما جب وہ ان دونوں میں سے کسی ایک سے بھی بات کرے گا تو کیا ہو جائے گا؟ حانث ہو جائے گا تو جس طرح واو جو ہے وہ معطوف اور معطوف علیہ دونوں کے لیے حکم ثابت کرتا ہے اسی طرح یہاں پر جو او آیا یہ بھی واو کے معنی میں ہے تو معطوف اور معطوف علیہ دونوں کے ساتھ کلام کی ممانعت کو ثابت کر دے گا، لہٰذا دونوں سے کلام کرنے کی گنجائش نہیں ہوگی، حانث ہونا عام ہو جائے گا، ایک سے کلام کرے گا تو بھی حانث ہو جائے گا، دوسرے سے کلام کرے گا تو پھر حانث ہو جائے گا اور کتنے کفارے دینا پڑیں گے؟ دو کفارے دینا پڑیں گے بھئی دو کفارے۔ جیسے واو کی صورت میں وہ دونوں سے کلام کی ممانعت آ جاتی اور دونوں سے کلام کرتا تو کتنے کفارے آ جاتے؟ دو کفارے آ جاتے۔ یعنی اذا كانت بمعنا الواو یعنی جب او جو ہے وہ واو کے معنی میں ہو تو فيعم الحنس بتكلم احدھما أي يھما كان تو حانث ہونا عام ہوگا ان دونوں میں سے کسی ایک کے تكلّم کرنے سے جو کوئی بھی ہوں ان دونوں میں سے اس لولو لم تكن بمعنا الواو اسی کیونکے یہ او جو ہے اگر واو کے معنی میں نہ ہوتا لم یحنث تو وہ حانث نہ ہوتا الا بتكلم احدھما مگر ان دونوں میں سے کسی ایک سے بات کرنے سے ہی۔ بھئی دیکھیے اگر او واو کے معنی میں نہ ہوتا اپنے ہی معنی میں ہوتا تو او تو کس لیے آیا کرتا ہے احد المذکورین تو احد المذکورین سے کلام کرنے کی ممانعت آگئی احد المذکورین سے اور جب ایک سے بات کر لیتا تو احد المذکورین سے تو کلام کی ممانعت تھی اور اس نے کیا کر لیا؟ احد المذکورین سے کلام کر لیا تو قسم ٹوٹ جاتی اور قسم ٹوٹ گئی تو ختم ہو گئی، اس کے بعد یہاں تو کفارہ آ جائے گا لیکن دوسرے سے بات کرتا تو پھر قسم نہ ٹوٹتی کیونکہ قسم تو پہلے ہی ٹوٹ چکی ہے، صورت سمجھ میں آگئی؟ تو او اگر اپنے معنی میں ہوتا تو دونوں سے الگ الگ کلام کرنے کی صورت میں پہلے سے کلام کرتے ہی قسم ٹوٹ جاتی اور پھر کفارہ آ جاتا دوسرے سے کلام کرنے پر قسم نہ ٹوٹتی اور کفارہ بھی نہ آتا کیونکہ قسم تو پہلے ہی ٹوٹ چکی ہے بھئی۔ اگر یہ کب ہوتا؟ اگر او اپنے معنی میں ہوتا۔ جی یہی بات بیان کر لیں کر رہے ہیں اذ لو لم تكن بمعنا الواو اگر یہ او جو ہے واو کے معنی میں نہ ہوتا لم یحنث تو وہ حانث نہ ہوتا الا بتكلم احدھما مگر ان دونوں میں سے ایک کے ساتھ تكلم کرنے پر فإذا تكلم باحدھما پس جب وہ کلام کر لیتا ان دو میں سے ایک کے ساتھ ارتفع الیمین تو قسم اٹھ جاتی و حانث بہی اور اس کی وجہ سے وہ حانث ہو جاتا ایک سے کرنے تھی حانث ہو جاتا۔ ثم بتكلم آخر لم يتعلق حكم الحنس پھر دوسرے کے ساتھ تكلم کرنے سے حانث ہونے کا حکم متعلق نہ ہوتا دوسرے سے بات کرنے پر وہ حانث نہ ہوتا بھئی۔ یہ کب ہو اگر او اپنے معنی میں ہوتا۔ لیکن ہم نے تو بتایا کہ دونوں میں سے جس سے بھی بات کرے گا کیا ہو جائے گا حانث ایک سے بات کرے گا تب بھی حانث ایک کفارہ آ گیا دوسرے سے بات کرے گا پھر حانث ہو جائے گا معلوم ہوا یہاں او کس معنی میں ہے واو کے معنی میں ہے جس طرح واو معطوف اور معطوف علیہ دونوں کے لیے حکم ثابت ہے تو یہاں بھی کلام کی ممانعت دونوں کے ساتھ ہوتی بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ جی تو یہ تفریح ہے کس بات پر کہ او کس معنی میں ہے واو کے معنی میں ہے بھئی۔ اور او واو کے معنی میں ہے اس لیے یہاں دونوں سے کلام کرے گا الگ الگ تو دو کفارے آئیں گے۔ هو اذا لم تكن عین الواو اور جب او جو ہے وہ عین واو نہیں ہے اب یہ دوسری تفریح جو تھی کون سی ولو كلمہما لم يحندس الا مرۃ اگر دونوں سے کلام کرتا تو حانث نہ ہوتا مگر ایک ہی مرتبہ اب اس کی تفصیل بیان کرنے لگے ہیں۔ و اذا لم تكن عین الواو اور جب او جو ہے وہ عین واو نہیں ہے ولو كلمہما جميعاً پس اگر وہ دونوں سے کلام کرتا तो حانس نہیں ہوگا الا مرۃ مگر ایک ہی مرتبہ دونوں سے اکٹھا کلام کرے بھئی۔ दोनों کھڑے تھے اس نے ان سے کلام کر لیا تو اس صورت میں ایک ہی مرتبہ حانث ہوگا ایک ہی کفارہ دینا پڑے گا۔ یہی بات بیان کر رہے ہیں واس صورت میں وہ حانث نہیں ہوگا مگر ایک ہی مرتبہ ولم يجب عليہ الا کفارۃ يمين واحدۃ اور واجب نہیں ہوگا اس پر مگر ایک ہی قسم کا کفارہ اس ہذا حرمت اسم اللہ تعالی لم يجد الا مرۃ واحدۃ اس لیے کیونکہ اللہ کے نام کی بے حرمتی نہیں پائی گئی مگر ایک ہی مرتبہ جب دونوں سے مل کر کلام کر رہا ہے تو اس اور لفظ استعمال کیا او اور یہ او کس معنی میں ہے واو کے معنی میں لیکن عین واو نہیں ہے اگر عین واو ہوتا تو پھر اس صورت میں دو کفارے آتے کیونکہ اس نے تو واو کی صورت میں کیا ہوتا لا اكلم فلاناً و فلان، فلاں سے اور فلاں سے بات نہیں کروں گا تو دونوں سے کلام کی ممانعت آ جاتی اور دونوں سے جب وہ مل کر رہا ہے تو کتنے کفارے آنے چاہئیں؟ دو کفارے۔ لیکن ہم نے کیا کہا او ع و نہیں ہے، جب ع و نہیں ہے تو لہذا اس صورت میں دو کفارے نہیں آئیں گے، بلکہ ایک ہی کفارہ آئے گا۔ اسی کیونکہ اللہ کے نام کی بھی حرمتی ایک ہی مرتبہ پائی گئی۔ بھئی، اس نے قسم اٹھائی تھی نا! قسم اٹھا کر اللہ کا نام لے کر اس نے کہا تھا کہ: "میں ان دونوں سے بات نہیں کروں گا۔" اب اللہ کا نام لے کر ایک بات کی ہے اور پھر اس کے خلاف کر رہا ہے، تو یہ کیا کر رہا ہے؟ اللہ کے نام کی بے حرمتی کر رہا ہے۔ تو لیکن یہ بے حرمتی ایک ہی مرتبہ پائی گئی، اس لیے ایک ہی کفارہ آئے گا، بھئی! ایک ہی کفارہ آئے گا۔ اور اگر یہ ع و کے معنی میں ہوتا، پھر کتنے کفارے آنے چاہیے تھے؟ کیونکہ و تو معطوف اور معطوف علیہ دونوں سے حکم کی نفی کر دیتا ہے الگ الگ۔ دونوں سے حکم کی جب نفی ہو گئی اور وہ تو دونوں سے بات کر رہا ہے، تو کتنے کفارے آنے چاہیے تھے؟ دو کفارے، بھئی! إِذْ هَتْكُ حُرْمَةِ اسْمِ اللهِ تَعَالَى لَمْ يُوجَدْ إِلَّا مَرَّةً وَاحِدَةً۔ هَتْكُ کا معنی ہوتا ہے: پردہ دری کرنا۔ پردہ دری کرنا، بھئی! إِذْ هَتْكُ حُرْمَةِ اسْمِ اللهِ تَعَالَى لَمْ يُوجَدْ إِلَّا مَرَّةً وَاحِدَةً، اس لیے کیونکہ اللہ کے نام کی بے حرمتی نہیں پائی گئی مگر ایک ہی مرتبہ۔ وَلَوْ كَانَتْ عَيْنَ الْوَاوِ، اگر یہ عين الواو ہوتا یہ "او"، لَصَارَ بِمَنْزِلَةِ يَمِينَيْنِ، تو یہ کس درجے میں ہوتا؟ دو قسموں کے درجے میں ہو جاتا۔ فَتَجِبُ الْكَفَّارَةُ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى حِدَةٍ، تو کفارہ واجب ہوتا ان دونوں میں سے ہر ایک کے لیے علیحدہ۔ زید سے بات کرنے پر علیحدہ کفارہ آتا۔ بات تو وہ اکٹھی کر رہا ہے، لیکن زید سے بھی بات کر لی گویا اور عمر سے بھی، تو ہر ایک سے بات کرنے کی وجہ سے دو کفارے واجب ہو جاتے، بھئی! صورت سمجھ میں آ گئی؟ خلاصۂ کلام کیا ہوا؟ کہ وَلَوْ اَحَدَهُمَا حَتَّى إِذَا كَلَّمَ، یہ تفریع ہے "او" کے بمعنی "و" ہونے پر اور وَلَوْ كَلَّمَهُمَا، یہ تفریع ہے "او" کے عین "و" نہ ہونے پر، بھئی! عین "و" نہ ہونے پر۔ چنانچہ پہلی تفریع میں آپ کو بتایا کہ "او" "و" کے معنی میں ہے۔ جیسے "و" جو ہے معطوف اور معطوف علیہ دونوں کے لیے حکم ثابت کر دیتا ہے، یہاں بھی معطوف اور معطوف علیہ دونوں سے کلام کی ممانعت ثابت ہو جائے گی، بھئی! تو ان میں سے جس سے بھی بات کرے گا حانث ہو جائے گا۔ دوسرے سے بھی بات کرے گا، تو کیا ہو جائے گا؟ حانث ہو جائے گا، بھئی! اگر یہ "و" کے معنی میں نہ ہوتا، اپنے ہی معنی میں ہوتا، تو "او" تو آتا ہے احد الامرین کے لیے، احد الشیئین کے لیے، تو وہ کسی ایک سے ہی بات کرتا تو اسی وقت حانث ہو جاتا، دوسرے سے بات کرنے پر دوسرا کفارہ نہ آتا، لیکن یہاں تو دوسرے سے بات کرنے پر دوسرا کفارہ بھی آ رہا ہے، معلوم ہوا یہ "او" اپنے معنی میں نہیں ہے، بلکہ کس معنی میں ہے؟ "و" کے معنی میں ہے۔ "و" کے معنی میں۔ اور پھر نیز پھر دوسری تفریع کی کہ یہ عین "و" بھی نہیں ہے۔ اس لیے کیونکہ اگر یہ عین "و" ہوتا، تو پھر دونوں سے اکٹھی بات کرنے کی صورت میں دو کفارے آتے، لیکن یہاں تو دونوں سے اکٹھی بات کرنے پر ایک کفارہ آ رہا ہے، معلوم ہوا یہ عین "و" نہیں ہے، بھئی! وَقِيلَ، جی، یہاں سے اب ایک دوسری تقریر ذکر کریں گے بعض شارحین کی۔ بعض شارحین نے اس مقام کی اور تقریر کی۔ انہوں نے تو بتایا کہ پہلی تفریع ہے پہلی بات پر، دوسری تفریع ہے دوسری بات پر۔ بعض شارحین نے عکس کیا۔ کہ پہلی بات، پہلی بات دوسری بات پر تفریع ہے اور دوسری بات پہلی بات پر تفریع ہے، بھئی! کس طرح؟ دیکھیے، بھئی! وَقِيلَ التَّفْرِيعُ عَلَى الْعَكْسِ، اور کہا گیا ہے کہ تفریع جو ہے اس کے عکس پر ہے، یعنی أَنَّ قَوْلَهُ حَتَّى إِذَا كَلَّمَ أَحَدَهُمَا يَحْنَثُ، یعنی ماتن کا قول: حَتَّى إِذَا كَلَّمَ أَحَدَهُمَا يَحْنَثُ، یہ تفریع ہے عَلَى عَدَمِ كَوْنِهَا عَيْنَ الْوَاوِ، کس بات پر؟ "او" کے عین "و" نہ ہونے پر۔ لِأَنَّهَا لَوْ كَانَتْ عَيْنَ الْوَاوِ، اس لیے کیونکہ اگر "او" جو ہے وہ عین "و" ہوتا، لَمْ يَحْنَثْ، تو وہ حانث، بھئی دیکھیے! یہ اور تقریر کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: "و" جمع کا فائدہ دیتا ہے۔ جب کوئی شخص یہ کہے: وَاللهِ لَا أُكَلِّمُ زَيْدًا وَعَمْرًوا، "واللہ! میں زید اور عمر سے بات نہیں کروں گا۔" تو اس "و" جمع کا فائدہ دیتا ہے، اس نے جمع کا فائدہ دیا، لہذا اب یہ دونوں سے کلام کرے گا اکٹھا تو حانث ہوگا، ایک سے بات کر لے گا تو حانث نہیں ہوگا۔ تقریر سمجھ میں آ رہی ہے یہ دوسری؟ یہ بالکل اس سے الگ تقریر کرتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ "و" جمع کا فائدہ دیتا ہے، تو معطوف اور معطوف علیہ یہ جمع ہوں، جمع ہوں گے تو پھر قسم ٹوٹے گی۔ دونوں سے بات کرے گا تو قسم ٹوٹے گی۔ ایک سے بات کرنے پر قسم نہیں ٹوٹے گی، بھئی! نہیں ٹوٹے گی۔ لیکن یہاں آیا کیا؟ ذکر کیا کیا؟ "او" ذکر کیا۔ یہاں جب "او" ذکر کیا، کیا پڑھا آپ نے؟ ایک سے بھی بات کر لے گا تو کیا ہو جائے گا؟ حانث ہو جائے گا۔ معلوم ہوا یہ عین "و" نہیں، اگر عین "و" ہوتا، پھر تو دونوں سے بات کرنے پر حانث ہوتا، ایک سے بات کرنے پر حانث نہ ہوتا۔ معلوم ہوا یہ عین "و" نہیں ہے، بھئی! لِأَنَّهَا لَوْ كَانَتْ عَيْنَ الْوَاوِ، اس لیے کیونکہ اگر یہ "او" جو ہے عین "و" ہوتا، لَمْ يَحْنَثْ، تو وہ حانث نہ ہوتا، إِلَّا بِتَكَلُّمِ الْمَجْمُوعِ مِنْ حَيْثُ الْمَجْمُوعُ، مگر یہ کہ وہ مجموعے سے کلام کرتا من حیث المجموع۔ دونوں سے اکٹھا کلام کرتا، پھر حانث ہوتا "و" کی صورت میں، اس وقت حانث ہوتا ہے، ویسے حانث نہیں۔ اور یہ "او"، یہ "و" کی طرح تو ہے، لیکن عین "و" نہیں۔ اس لیے ایک سے بھی بات کر لے گا، تو کیا ہو جائے گا؟ حانث۔ فَيَتَوَقَّفُ الْحِنْثُ عَلَى أَنْ يَتَكَلَّمَ بِكِلَيْهِمَا، تو حانث ہونا موقوف ہوتا اس بات پر کہ وہ کلام کرے دونوں سے اکٹھا ہی۔ فَلَا يَحْنَثُ بِمُجَرَّدِ تَكَلُّمِ أَحَدِهِمَا، تو ایک کے ساتھ بات کرنے پر وہ حانث نہ ہوتا۔ یہ کس صورت میں؟ "و" کی صورت میں۔ ایک کے ساتھ بات کرنے پر وہ حانث نہ ہوتا، دونوں سے اکٹھی بات کرتا، پھر کیا ہوتا؟ پھر حانث ہوتا، کیونکہ "و" کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ جمع کا۔ اس نے کیا کہا ہے؟ "میں زید اور عمر سے..." "و" کی صورت بنائیں نا! اس نے کیا کہا ہے؟ "میں زید اور عمر سے بات نہیں..." "و" لے کر آتا، تو "و" لے کر آنے کی صورت میں "و" جمع کا فائدہ دیتا اور جمع کی صورت میں دونوں سے اکٹھی بات کرتا، تب تو حانث ہوتا، الگ الگ بات کرتا، تو حانث نہ ہوتا، نہ ہوتا۔ اور یہاں ذکر اس نے "او" کیا اور یہ "او" بتلایا کس معنی میں ہے؟ "و" کے معنی میں، لیکن عین "و" نہیں ہے۔ عین "و" ہوتا، تو پھر "و" والے احکام جاری ہوتے، دونوں سے اکٹھی بات کرتا، تو حانث ہوتا، الگ الگ بات کرنے سے حانث نہ ہوتا۔ لیکن یہاں پر کیا فرماتے ہیں؟ الگ الگ بات کرنے پر بھی کیا ہو رہا ہے؟ حانث۔ معلوم ہوا یہ عین "و" نہیں ہے۔ یہ معنی ہے۔ فَإِذَا لَمْ تَكُنْ عَيْنَ الْوَاوِ يَحْنَثُ بِتَكَلُّمِ أَيِّهِمَا كَانَ، جب یہ عین "و" نہیں ہے، تو وہ حانث ہو جائے گا ان دونوں میں سے کسی ایک سے بھی بات کرنے پر۔ وَأَنَّ قَوْلَهُ، اور مصنف کا جو قول ہے: وَلَوْ كَلَّمَهُمَا لَمْ يَحْنَثْ إِلَّا مَرَّةً وَاحِدَةً، یہ جو قول ہے مصنف کا، یہ تَفْرِيعٌ عَلَى كَوْنِهَا بِمَعْنَى الْوَاوِ، یہ اس "او" کے بمعنی "و" ہونے پر تفریع ہے کہ "او" کس معنی میں ہے؟ "و" کے معنی میں ہے۔ إِذْ لَوْ تَكَلَّمَ فِي هَذَا الْمَقَامِ بِالْوَاوِ، اس لیے کیونکہ اگر وہ شخص تکلم کرتا اس مقام میں "و" پر، یعنی "و" لے کر آتا، لَمْ يَحْنَثْ إِلَّا مَرَّةً، تو وہ حانث نہ ہوتا مگر ایک ہی مرتبہ، ایک ہی مرتبہ۔ وَلَمْ تَجِبْ إِلَّا كَفَّارَةٌ وَاحِدَةٌ، اور واجب نہ ہوتا مگر ایک ہی کفارہ، وَإِنْ كَلَّمَهُمَا جَمِيعًا، اگرچہ وہ ان دونوں سے بات کرتا۔ فَكَذَلِكَ "أَوْ"، تو اسی طرح "او" ہے۔ یہ "او" کس کی طرح ہے؟ بھئی، عین "و" تو نہیں ہے، وہ تو تقریر گزر گئی۔ اب کون سی تقریر کریں گے؟ کون سی تفریع؟ یہ "او" "و" کی طرح ہے، یہ "او" کس کی طرح ہے؟ "و" کی طرح ہے۔ "و" کی طرح ہے۔ جب "و" کی طرح ہے، تو "و" کی طرح ہی حکم آئے گا اور "و" کی صورت میں جب دونوں سے اکٹھا بات کرتا تھا، تو کتنے کفارے آتے تھے؟ "و" کی صورت میں۔ ابھی یہ دوسری تقریر چل رہی ہے۔ پچھلی تقریر میں تو تھا کہ دونوں سے اکٹھی بات کرے گا اور "و" کی معنی میں ہوتا، تو دو کفارے آتے۔ یہ دوسری تقریر ہے اس کے مطابق، "و" نے کس چیز کا فائدہ دیا؟ جمع کا اور وہ شخص حانث بھی ہوگا جب دونوں سے اکٹھے اکٹھا کلام کرے گا، تو یہاں بھی جب دونوں سے وہ اکٹھا کلام کرے گا، تو حانث ہو جائے گا اور ایک ہی کفارہ آئے گا۔ کیونکہ قسم بھی اس نے "و" لاتا، تو یہی معنی ہوتا کہ: "میں دونوں سے اکٹھا کلام نہیں کروں گا۔" اور اب وہ دونوں سے اکٹھا کلام کر رہا ہے، تو ایک ہی قسم ٹوٹی۔ تو کتنے کفارے آتے؟ ایک ہی اور "او" کی صورت میں بھی یہاں ایک ہی کفارہ آئے گا۔ معلوم ہوا یہ بھی "و" کے معنی میں ہے۔ یہ کس کی طرح ہے؟ "و" کی طرح ہے، بھئی! صورت سمجھ میں آ گئی، بھئی؟ یہ معنی ہے: إِذْ لَوْ تَكَلَّمَ فِي هَذَا الْمَقَامِ بِالْوَاوِ، اگر وہ کلام کرتا اس مقام میں "و" کے ساتھ، لَمْ يَحْنَثْ إِلَّا مَرَّةً، تو حانث نہ ہوتا مگر ایک ہی مرتبہ، وَلَمْ تَجِبْ إِلَّا كَفَّارَةٌ وَاحِدَةٌ، اور واجب نہ ہوتا مگر ایک ہی کفارہ، وَإِنْ كَلَّمَهُمَا جَمِيعًا، اگرچہ وہ کلام کرتا ان دونوں سے ہی، فَكَذَلِكَ "أَوْ"، اگرچہ وہ دونوں سے اکٹھا کلام کرتا، فَكَذَلِكَ "أَوْ"، اسی طرح "او" بھی ہے، وہاں بھی جب دونوں سے اکٹھا کلام کرے گا، تو ایک ہی کفارہ آئے گا، دو کفارے نہیں آئیں گے، بھئی! صورت اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ وَلَوْ حَلَفَ لَا يُكَلِّمُ أَحَدًا إِلَّا فُلَانًا أَوْ فُلَانًا، اور اگر کسی شخص نے قسم اٹھائی کہ وہ کلام نہیں کرے گا کسی ایک سے بھی سوائے فلاں یا فلاں کے، وہ شخص قسم اٹھاتا ہے: "واللہ! میں کسی سے بات نہیں کروں گا سوائے فلاں یا فلاں کے۔" "او" لے کر آیا، بھئی! "إلّا" کے بعد، بھئی! فَلَهُ أَنْ يُكَلِّمَهُمَا، تو اس شخص کے لیے جائز ہوگا ان دونوں سے کلام کرنا۔ کیونکہ قسم کیا اٹھائی تھی؟ کسی سے کلام نہیں کروں گا سوائے فلاں یا فلاں کے۔ فلاں یا فلاں کے۔ تو ماقبل میں نفی تھی۔ اور یہ اس کے بعد "إلّا" آیا اور "إلّا" کیا کرتا ہے؟ نفی کو توڑ دیتا ہے۔ تو ماقبل میں کلام کی ممانعت کا ذکر تھا، تو مابعد کے لیے کیا ہو جائے گا؟ کلام کے اثبات ہو جائے گا کہ ان سے کلام کر سکتا ہے، بھئی! نفی کو توڑ دیا، تو باقیوں کے جس جن کا استثناء کیا، ان کے لیے اثبات ہو جائے گا، بھئی! ان سے وہ بات کر سکتا ہے، جائز ہے، بھئی! اب اگر یہ "او" اپنے معنی میں ہوتا، تو پھر تو "او" تو آتا ہے احد المذکورین کے لیے، تو اس کے لیے تو ایک کے ساتھ کلام کی اجازت ہوتی، دوسرے سے کلام کر لیتا، تو کیا ہو جاتا؟ حانث ہو جاتا۔ لیکن ہم نے بتایا کہ "او" اگر کہاں پر آئے؟ اباحت کے مقام میں آئے، تو پھر وہ "و" کے معنی میں ہوگا، بھئی! "و" کے معنی میں ہوگا اور "و" کے اندر جیسے معطوف علیہ کا جو حکم ہوتا ہے، وہی کس کا حکم ہوتا ہے؟ معطوف کا حکم ہوتا ہے، تو یہاں بھی دونوں کا حکم دونوں کے لیے کلام کا اثبات، کلام کا کرنا جائز ہو جائے گا، مباح ہو جائے گا، بھئی! مباح ہو جائے گا۔ تو پہلی مثال تھی جب "او" مقام نفی میں آئے، پچھلی مثالیں جو گزریں وہ "او" کہاں پر آیا تھا؟ مقام نفی میں۔ اور یہ مثال ہے کہتے ہیں: مثال لوقوعها في موضع الإباحة، یہ مثال ہے "او" کے واقع ہونے کی مقام اباحت کے اندر، لِأَنَّ الِاسْتِثْنَاءَ مِنَ الْحَظْرِ إِبَاحَةٌ وَإِطْلَاقٌ، "حظْر" کا معنی ہے ممانعت۔ اس لیے کیونکہ ممانعت سے استثناء یہ اباحت ہے وَإِطْلَاقٌ اور اطلاق ہے، قید کا اٹھانا ہے۔ قید کا اٹھانا ہے، یعنی منع کو اٹھانا ہے۔ کیا کہا اس نے؟ "واللہ! میں کسی سے کلام نہیں کروں گا"، تو ہر ایک سے کلام کی ممانعت آ گئی۔ پھر اس ممانعت میں سے اس نے کیا کیا؟ استثناء کیا، تو ممانعت سے استثناء کا کیا معنی ہوتا ہے؟ اباحت ہوتا ہے کہ ان سے بات کرنا جن کا استثناء کیا، ان سے اس کے لیے بات کرنا جائز ہے، مباح ہے، بھئی! معنی سمجھ میں آ گیا؟ لِأَنَّ الِاسْتِثْنَاءَ مِنَ الْحَظْرِ إِبَاحَةٌ وَإِطْلَاقٌ، اس لیے کیونکہ استثناء کرنا ممانعت سے، إِبَاحَةٌ، یہ اباحت ہے وَإِطْلَاقٌ اور اطلاق، یعنی قید کا اٹھانا ہے، ممانعت کا اٹھانا ہے۔ وَتَفْرِيعُهُ فِي قَوْلِهِ، اور یہ جو تفریع ہے ماتن کے قول کے اندر: فَلَهُ أَنْ يُكَلِّمَهُمَا، یہ تفریع ہے، بھئی! کس پر؟ کہتے ہیں: تَفْرِيعٌ عَلَى كَوْنِهَا بِمَعْنَى الْوَاوِ، یہ "او" کے بمعنی "و" ہونے پر تفریع ہے کہ "او" کس معنی میں ہے؟ "و" کے معنی میں ہے۔ إِذْ لَوْ تَكَلَّمَ هَاهُنَا بِالْوَاوِ، اس لیے کیونکہ اگر وہ شخص یہاں پر "و" پر تکلم کرتا، لَجَازَ لَهُ التَّكَلُّمُ بِهِمَا، تو اس کے لیے دونوں سے تکلم کرنا جائز ہوتا، فَكَذَا فِي "أَوْ"، تو اسی طرح ہے کس میں؟ "او" میں بھی اسی طرح ہے، دونوں سے کلام کرنا اس کے لیے جائز ہوگا۔ وَلَوْ لَمْ تَكُنْ بِمَعْنَى الْوَاوِ، اگر یہ "او" "و" کے معنی میں نہ ہوتا، لَا يَحِلُّ التَّكَلُّمُ، تو تکلم جائز نہ ہوتا، إِلَّا مِنْ وَاحِدٍ، مگر ایک سے ہی، کیونکہ "او" تو کس لیے آیا کرتا ہے؟ احد المذکورین کے لیے، تو ایک سے کلام جائز ہوتا، وَفَإِذَا تَكَلَّمَ أَحَدَهُمَا، پس جب وہ کلام کر لے گا ان دو میں سے ایک سے، انْحَلَّتِ الْيَمِينُ، تو قسم کھل جائے گی، ثُمَّ إِذَا تَكَلَّمَ بِالْآخَرِ، پھر جب وہ دوسرے سے کلام کرتا، تو تَجِبُ الْكَفَّارَةُ، تو کفارہ واجب ہو جاتا اگر یہ "او" اپنے معنی میں ہوتا۔ وَلَمْ يَذْكُرْ هَاهُنَا ثَمَرَةَ عَدَمِ كَوْنِهَا عَيْنَ الْوَاوِ، اور یہاں پر مصنف نے اس "او" کے عین "و" نہ ہونے کا ثمرہ ذکر نہیں کیا۔ یہ تو کون سا ثمرہ ذکر کیا؟ مقام اباحت کی بات چل رہی ہے نا! پیچھے تو تھی مثال کس کی؟ مقام نفی کی، اس میں دونوں پر کا ثمرہ ذکر کیا۔ اور یہاں پر ایک ثمرہ ذکر کیا۔ کون سا ثمرہ؟ کہ یہ "او" کس معنی میں ہے؟ "او" کے معنی میں ہے۔ اور دوسری دوسری بات کیا تھی؟ کہ عین "و" نہیں ہے، اس کا ثمرہ ذکر نہیں کیا، بھئی! یہ معنی ہے: وَلَمْ يَذْكُرْ هَاهُنَا ثَمَرَةَ عَدَمِ كَوْنِهَا عَيْنَ الْوَاوِ، اور ذکر نہیں کیا مصنف نے یہاں پر "او" کے عین "و" نہ ہونے کا ثمرہ۔ وَقِيلَ، اور کہا گیا ہے: تَظْهَرُ ثَمَرَتُهُ فِي قَوْلِهِ، کہ اس کا ثمرہ ظاہر ہوگا اس قول کے اندر: جَالِسِ الْفُقَهَاءَ أَوْ الْمُحَدِّثِينَ، "أو" ہے یا "و" ہے؟ "او" ہونا چاہیے، بھئی! "او" کی بات چل رہی ہے اس وقت۔ اور بعض علماء نے ذکر کیا ہے، کہا گیا ہے کہ تَظْهَرُ ثَمَرَتُهُ کہ اس کا ثمرہ ظاہر ہوگا کس کا ثمرہ؟ عین "و" "او" کے عین "و" نہ ہونے کا ثمرہ کہ عین "و" کی طرح یہ نہیں ہے، اس کا ثمرہ ظاہر ہوگا فِي قَوْلِهِ اس قول کے اندر: جَالِسِ الْفُقَهَاءَ أَوْ الْمُحَدِّثِينَ۔ جَالِسِ، بیٹھو! یعنی ہم نَشینی اختیار کرو فقہاء کی، أَوْ الْمُحَدِّثِينَ یا محدثین کی۔ کوئی شخص دوسرے کو کہتا ہے، بھئی بطورِ نصیحت کے کہتا ہے: جَالِسِ الْفُقَهَاءَ أَوْ الْمُحَدِّثِينَ، فقہاء کی ہم نشینی اختیار کرو یا محدثین کی ہم نشینی اختیار کرو۔ اب یہاں وہ "او" لے کر آیا۔ اور اگر "و" ہوتا یہاں پر، کیا ہوتا؟ "و" ہوتا، تو معطوف اور معطوف علیہ دونوں کے لیے حکم ثابت ہوتا۔ اور پیچھے ہے امر: جَالِسِ، اور امر آتا ہے وجوب کے لیے، تو دونوں کی ہم نشینی اس مخاطب پر واجب ہو جاتی۔ اگر کیا ذکر ہوتا؟ واؤ۔ اگر واؤ ذکر ہوتا تو واؤ تو دونوں کے لیے حکم ثابت کرتا ہے، دونوں چیزوں کو جمع کر دیتا ہے، تو اس نے تو لہٰذا اس پر کیا واجب ہو جاتا مخاطب پر؟ دونوں کی ہم نشینی اس پر واجب ہو جاتی۔ لیکن اس نے کیا ذکر کیا؟ "أَوْ"। جب "أَوْ" ذکر کیا تو اس نے اباحت کا فائدہ دیا کہ فقہاء کی فقہاء کی ہم نشینی اختیار کرو یا محدثین کی ہم نشینی اختیار کرو۔ تو اس کے لیے وہ چاہے تو فقہاء کی ہم نشینی اختیار کر لے، چاہے تو محدثین کی ہم نشینی اختیار کر لے، اور چاہے تو دونوں کی ہم نشینی اختیار کر لے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ کیونکہ یہ مقام اباحت ہے بھئی، کون سا مقام ہے؟ مقام اباحت ہے بھئی۔ دیکھیے! "فَإِنَّهُ إِنْ تَكَلَّمَ بِالْوَاوِ"، اگر وہ تکلم کرتا واؤ پر اس مثال میں "تَجِبُ عَلَيْهِ مُجَالَسَتُهُمَا" تو واجب ہو جاتی اس شخص پر یعنی اس مخاطب پر کیا واجب ہوتی؟ "مُجَالَسَتُهُمَا" دونوں کی ہم نشینی۔ "وَإِنْ تَكَلَّمَ بِأَوْ"، اور اگر وہ تکلم کرے کس پر؟ "أَوْ" پر، "فَتُبَاحُ لَهُ مُجَالَسَتُهُمَا" تو اس کے لیے مباح ہوگی ان دونوں کی ہم نشینی، دونوں کی ہم نشینی اس کے لیے مباح ہوگی۔ "فَأَوْ تُفِيدُ إِبَاحَةَ الْجَمْعِ"، پس "أَوْ" جو ہے وہ جمع کے مباح ہونے کا فائدہ دیتا ہے۔ "وَالْوَاوُ تُوجِبُهُ"، اور واؤ اس جمع کو واجب کرتا ہے۔ واؤ کی صورت میں دونوں کی ہم نشینی واجب، تو واؤ نے جمع کا فائدہ دیا، دونوں کو جمع کر دیا، یعنی اس میں بھی بیٹھنا پڑے گا اور اس میں بھی بیٹھنا پڑے گا، تو یہ جمع کرنا واجب، یہ کس کا یہ کون دیتا ہے فائدہ؟ واؤ۔ اور "أَوْ" کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ اباحت کا، اس میں جمع کرنا جائز ہوتا ہے۔ تو "أَوْ" اباحتِ جمع کا فائدہ دیتا ہے اور واؤ وجوبِ جمع کا فائدہ دیتا ہے۔ فرق سمجھ میں آ گیا بھئی؟ یہ معنی ہے "فَأَوْ تُفِيدُ إِبَاحَةَ الْجَمْعِ"، پس "أَوْ" جو ہے وہ فائدہ دیتا ہے اباحتِ جمع کا، "وَالْوَاوُ تُوجِبُهُ"، اور واؤ جو ہے واجب کرتا ہے جمع کو۔ "وَهٰذَا مِمَّا لَا يُعْرَفُ"، اور یہ جو بیان کیا گیا، یہ فرق جو بیان کیا گیا کہ واؤ جمع کو واجب کرتا ہے اور "أَوْ" ابا جمع کو مباح کرتا ہے، یہ ان چیزوں میں سے ہے "لَا يُعْرَفُ" جو معروف نہیں ہے۔ عام لوگوں کو اس کا پتہ نہیں، خواص، بڑے علماء نے ہی اس کو ذکر کیا ہے بھئی۔ جبکہ "وَالْفَرْقُ بَيْنَ الْإِبَاحَةِ وَالتَّخْيِيرِ عَلَى طَرِيقِ الْعَرَبِيَّةِ وَالْأُصُولِيِّينَ مَشْهُورٌ"، جبکہ اباحت اور تفریق اباحت اور تخییر کے درمیان جو فرق ہے وہ اہل عربیت اور اہل اور اصولیین کے طریقے پر وہ مشہور ہے بھئی، وہ معروف ہے، سب کو علم ہے بھئی۔ بھئی ایک ہے اباحت، ایک ہے تخییر۔ تخییر کے اندر یاد رکھیے جمع کی اجازت نہیں ہوتی۔ مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں "خُذْ هٰذَا الْكِتَابَ أَوْ هٰذَا"، یہ کتاب لے لو یا یہ والی کتاب، تو اگر یہ مقام تخییر ہو تو آپ کے لیے ایک کتاب اٹھانا جائز ہے، ایک ہی کی گنجائش ہے، اٹھا سکتے ہیں، دونوں نہیں اٹھا سکتے، یا یہ والی اٹھا لیں یا یہ والی، آپ کو اختیار ہے، یہ ہے مقامِ تخییر۔ اور ایک ہے مقامِ اباحت، جس میں دونوں کو جمع کرنے کی بھی اجازت ہوتی ہے۔ تو اگر یہی کلام اباحت کے موقع پر ہو "خُذْ هٰذَا الْكِتَابَ أَوْ هٰذَا الْكِتَابَ"، یہ کتاب لے لو یا یہ کتاب، تو اگر اباحت ہو تو اس صورت میں آپ دونوں کو بھی اٹھا سکتے ہیں۔ تخییر میں دونوں کو جمع کرنے کی اجازت نہیں، جبکہ اباحت میں دونوں میں کو جمع کرنے کی اجازت ہوتی ہے بھئی، یہ فرق ہے اباحت اور تخییر میں اور کہتے ہیں یہ فرق جو ہے مشہور ہے بھئی۔ جبکہ وہ جو انہوں نے ذکر کیا کہ "أَوْ" اباحتِ جمع کا فائدہ دیتا ہے اور واؤ وجوبِ جمع کا فائدہ دیتا ہے، یہ فرق معروف نہیں ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ چلیے، بس مولانا، ہذا ہو المرام، واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔