درس نمبر۔61 وَمِلْ مَهْرِ كَذَلِكَ عِنْدَهُمَا إِنْ صَحَّ التَّخْيِيرُ وَفِي النَّقْدَيْنِ يَجِبُ الْأَقَلُّ، يَعْنِي إِذَا دَخَلَ أَوْ فِي الْمَهْرِ بِأَنْ يَقُولَ تَزَوَّجْتُ عَلَى هَذَا أَوْ هَذَا فَأَيُّهُمَا أَعْطَاهَا صَحَّ عِنْدَهُمَا، وَلَكِنْ بِشَرْطِ أَنْ يَصِحَّ التَّخْيِيرُ بَيْنَ الشَّيْئَيْنِ. بِھْ گزشتہ سبق میں ”أَوْ“ کی بحث ہم نے شروع کی تھی اور آپ نے پڑھا تھا کہ ”أَوْ“ جو ہے احد المذکورین کے لیے آتا ہے، بِھْ اور اس کے ذریعے تخییر آیا کرتی ہے۔ تو آج آپ کو بتلا رہے ہیں کہ مہر کے اندر بھی اسی طرح ہوگا مسئلہ، یعنی ”أَوْ“ کے ذریعے تخییر آئے گی صاحبین کے نزدیک، بِھْ مثلاً ایک شخص جو ہے نکاح کرتا ہے کسی عورت سے اور نکاح کے اندر وہ مہر جو ذکر کرتا ہے، وہ لفظِ ”أَوْ“ کے ساتھ دو چیزیں ذکر کرتا ہے۔ مثلاً کیا کہتا ہے؟ تَزَوَّجْتُ عَلَى هَذَا أَوْ هَذَا، دو چیزیں ذکر کر دیں، بِھْ تو صاحبین کے نزدیک یہ تخییر صحیح ہوگی، یہ تخییر کا فائدہ دے گا ”أَوْ“ مہر کے اندر بھی لیکن شرط یہ ہے کہ یہ تخییر صحیح ہونی چاہیے۔ تخییر کیا ہونی چاہیے؟ صحیح۔ صحیح ہونے کا معنیٰ یہ ہے کہ یہ کوئی فائدہ بھی دے، بِھْ۔ کیا ہو؟ اس میں فائدہ بھی ہو کوئی، بِھْ۔ مثلاً یعنی یہ تخییر جو ہے دو ایسی چیزوں کے درمیان ہونی چاہیے جس میں دونوں میں من وجہ خاوند کا نفع ہو اور دونوں میں ہی من وجہ نقصان ہو۔ تو دو چیزیں ہونی چاہیے، نفع یا نقصان ہو کہ وہ کیا ہونی چاہیے؟ دو مختلف جنسیں ہونی چاہیے، یعنی ”أَوْ“ سے پہلے ایک جنس ذکر کی ہے تو ”أَوْ“ کے بعد دوسری جنس ذکر ہونی چاہیے، مثلاً ”أَوْ“ سے پہلے اگر دراہم ذکر کیے ہیں تو ”أَوْ“ کے بعد دینار ذکر ہونے چاہیے۔ اور یا پھر صفت کا اختلاف ہو، بِھْ، صفت کا۔ مثلاً ”أَوْ“ سے پہلے نقد کا ذکر ہے، اگرچہ جنس وہی ہے دراہم، لیکن ”أَوْ“ کے بعد مؤجل یعنی جن کی مدت متعین ہو، وہ دراہم پھر ذکر ہوں، تو دیکھو ماقبل میں، مثلاً ایک شخص نکاح کرتا ہے اور یوں کہتا ہے: تَزَوَّجْتُكِ عَلَى أَلْفِ دِرْهَمٍ أَوْ مِئَةِ دِينَارٍ، تو صاحبین فرماتے ہیں کہ یہ تخییر صحیح ہے، اس کا فائدہ ہے، یہ دائر ہے سہولت اور تنگی کے درمیان۔ دونوں میں من وجہ خاوند کا نفع اور من وجہ کیا ہے؟ نقصان ہے، دونوں الگ الگ، یعنی دونوں الگ الگ جنسیں ہیں یہاں پر، بِھْ، دونوں الگ الگ جنسیں ہیں۔ یا کیا ہونا چاہیے؟ دونوں کی صفت الگ الگ ہونی چاہیے، بِھْ، صفت۔ مثلاً اول میں بھی وہی جنس ”أَوْ“ سے پہلے بھی وہی جنسِ ذکر، ”أَوْ“ کے بعد بھی وہی جنسِ ذکر لیکن دونوں کی صفت مختلف ہو، جیسے مثلاً کہتا ہے: تَزَوَّجْتُكِ عَلَى أَلْفِ حَالَّةٍ أَوْ أَلْفَيْنِ مُؤَجَّلَةٍ، کہ میں تم سے نکاح کرتا ہوں ایک ہزار نقد پر یا دو ہزار مؤجل پر، بِھْ، مدت متعین ہے، مثلاً سال بعد یا دو سال تک کی مدت متعین ہے۔ تو دیکھیے یہاں پر ان دونوں کے اندر من وجہ خاوند کا نفع ہے اور من وجہ نقصان ہے۔ ایک الف پہلے ”أَوْ“ سے پہلے کیا ذکر ہے؟ نقد ہزار، بِھْ، اور ”أَوْ“ کے بعد کیا ذکر ہے؟ دو ہزار ادھار، دو ہزار مؤجل ذکر ہیں۔ تو دونوں میں نفع بھی ہے، دونوں میں نقصان بھی ہے۔ الفِ حالی کے اندر نفع کیا ہے؟ کہ تھوڑے دینے پڑیں گے ہزار اور بعد والے تو کتنے ہیں؟ دو ہزار۔ اور دو ہزار میں بھی نفع ہے، بعِ اعتبار کہ وہ ابھی تو نہیں دینے، اس کے اندر تو دو سال کی مدت ہے، بِھْ، تو اس میں بھی اس اعتبار سے نفع۔ اور دونوں میں من وجہ نقصان بھی ہے، الف جو حالی ہیں یعنی نقد ہیں، ان کے اندر نقصان یہ کہ ابھی فوراً دینے پڑیں گے۔ اور الفینِ جو مؤجل ہیں، ان کے اندر نقصان یہ کہ وہ زیادہ دینے پڑیں گے، بِھْ، تو من وجہ کیا ہے؟ دونوں میں نفع ہے اور من وجہ دونوں میں نقصان۔ تو صاحبین فرماتے ہیں کہ جب کلمہ ”أَوْ“ مہر کے اندر آجائے تو وہ اسی طرح تخییر کا فائدہ دے گا، یعنی خاوند کے لیے تخییر ثابت ہوجائے گی، اسے اختیار ہوگا، اِنْ صَحَّ التَّخْيِيرُ، ان دو چیزوں میں سے جو بھی دینا چاہے دے سکتا ہے، لیکن شرط اس کی یہ ہے کہ اس تخییر کا کوئی فائدہ بھی ہو، یعنی وہ چیزیں جو ہیں وہ تنگی اور آسانی اور نفع اور نقصان کے درمیان دائر ہو۔ ایک میں ایک نفع ہے تو دوسری میں دوسرا نفع، ایک میں ایک مشکل ہے تو دوسری میں دوسری مشکل ہونی چاہیے، اور وہ کس طرح ہوگا؟ کہتے ہیں بھئی جنس الگ الگ ہونی چاہیے، ”أَوْ“ سے پہلے اور جنس ہے، مثلاً درہم ہے تو ”أَوْ“ کے بعد دینار ذکر ہونے چاہیے، یا کم از کم جنس ایک ہے تو پھر صفت الگ ہونی چاہیے، یعنی اول بھی دینار ہیں، بعد میں بھی دینار ہیں، لیکن اول والے نقد ہیں اور بعد والے ادھار، تو صفت میں کم از کم اختلاف ہونا چاہیے، بِھْ، اس صورت میں خاوند کے لیے اختیار ثابت ہوجائے گا اور وہ جو بھی دینا چاہے دے سکتا ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی، بِھْ؟ لیکن اگر ایک ہی جنس دونوں طرف ذکر ہوئی، ایک ہی جنس دونوں طرف۔ مثلاً کیا کہتا ہے؟ تَزَوَّجْتُكِ عَلَى أَلْفِ دِرْهَمٍ أَوْ أَلْفَيْنِ، تو ایک ہی جنس ذکر کی، اور صفت میں بھی کوئی اختلاف نہیں ہے، تو پھر یاد رکھیے صاحبین کا مذہب یہ ہے کہ جو عقل ہے، جو کم ہے ان دو میں سے، وہ واجب ہوجائیں گے، بِھْ، پھر اختیار دینے کا کوئی فائدہ نہیں، بِھْ۔ صورت سمجھ میں آگئی، بِھْ؟ دیکھیے آگے تقریر ساری آ رہی ہے، بِھْ۔ کہتے ہیں: وَفِي الْمَهْرِ كَذَلِكَ عِنْدَهُمَا، اور مہر کے اندر بھی اسی طرح ہے صاحبین کے نزدیک۔ یعنی اس میں بھی تخییر آجائے گی خاوند کے لیے، إِنْ صَحَّ التَّخْيِيرُ، اگر تخییر صحیح ہو۔ شرط یہ ہے کہ تخییر صحیح ہونی چاہیے، کیا معنی تخییر صحیح ہونے کا؟ یعنی اس میں خاوند کا کوئی فائدہ ہو، بِھْ، اختیار دینے کا کوئی فائدہ بھی ہو اسے۔ وَفِي النَّقْدَيْنِ يَجِبُ الْأَقَلُّ، اور نقدیوں کے اندر اندر، یعنی درہم اور دنانیر کے اندر يَجِبُ الْأَقَلُّ، اقل واجب ہوں گے۔ بھئی، مطلقِ نقدی مراد نہیں ہے، یہ وہ صورت مراد ہے جب دونوں طرف ایک ہی جنس ہو۔ نہ جنس کا اختلاف ہو اور نہ صفت کا اختلاف ہو تو اس صورت میں جو عقل ہوگا وہ واجب ہوگا۔ یہ مانا نہیں کہ ایک طرف درہم ذکر ہیں، ایک طرف دینار ذکر ہیں، آپ کہیں یہ تو دونوں وہی نقْدین ہیں، دونوں نقدیوں ہیں، اور اس صورت میں ماتن نے کیا فرمایا؟ يَجِبُ الْأَقَلُّ، عقل واجب ہوں گے۔ نہیں بھئی، یہ نقدیوں کی وہ صورت ذکر ہو رہی ہے جب دونوں کی جنس بھی ایک ہو اور صفت بھی ایک ہی ہو، بِھْ۔ صرف مقدار کا فرق ہو، ایک کم ہو، ایک زیادہ ہو تو اس صورت میں عقل واجب ہوں گے۔ يعني إِذَا دَخَلَ أَوْ فِي الْمَهْرِ، یعنی جب داخل کیا خاوند نے ”أَوْ“ کو مہر کے اندر بِأَنْ يَقُولَ، بائیں طور کہ وہ کہتا ہے: تَزَوَّجْتُ عَلَى هَذَا أَوْ هَذَا، کہ میں نے نکاح کیا اس پر یا اس پر، فَأَيُّهُمَا أَعْطَاهَا صَحَّ عِنْدَهُمَا، پس ان دونوں میں سے جو بھی دے دے گا خاوند اس عورت کو صَحَّ تو صحیح ہے عِنْدَهُمَا صاحبین کے نزدیک، وَلَكِنْ بِشَرْطِ أَنْ يَصِحَّ التَّخْيِيرُ بَيْنَ الشَّيْئَيْنِ، لیکن اس شرط کے ساتھ کہ تخییر صحیح بھی ہونی چاہیے دو چیزوں میں، صحیح ہونے کا کیا معنیٰ؟ کہ اس کا کوئی فائدہ بھی ہو، بِھْ، خاوند کو بِأَنْ يَكُونَ كُلٌّ مِنْهُمَا دَائِرًا بَيْنَ النَّفْعِ وَالضَّرَرِ، صحیح بھی ہونی چاہیے یعنی اس میں فائدہ بھی ہو، بائیں طور کہ أَنْ يَكُونَ كُلٌّ مِنْهُمَا دَائِرًا بَيْنَ النَّفْعِ وَالضَّرَرِ، کہ ان دونوں میں سے ہر ایک دائر ہو کس کے درمیان؟ نفع اور نقصان کے درمیان، بِاخْتِلَافِ الْجِنْسِ أَوْ الصِّفَتِ، اختلافِ جنس یا اختلافِ صفت کی وجہ سے، بِأَنْ يَقُولَ، بائیں طور کہ خاوند یوں کہتا ہے: عَلَى أَلْفِ دِرْهَمٍ أَوْ مِئَةِ دِينَارٍ، اَيْ تَزَوَّجْتُ عَلَى أَلْفِ دِرْهَمٍ أَوْ مِئَةِ دِينَارٍ. تو دیکھیے نکاح کیا ہے کس پر؟ 1000 درہم یا 100 دینار، تو یہاں اختلافِ جنس ہے، ماقبل میں درہم ہیں تو مابعد میں دینار ہیں۔ أَوْ يَقُولَ، یا یوں کہتا ہے: عَلَى أَلْفِ حَالَّةٍ أَوْ أَلْفَيْنِ مُؤَجَّلَةٍ، ایک ہزار حالی ہو، یعنی نقد ہو، یا دو ہزار مؤجل ہوں مدت کے ساتھ، بِھْ، مدت کے ساتھ۔ تو اس میں دیکھیے جنس ایک ہی ہے، ماقبل میں بھی ہزار درہم ہی ذکر، مابعد میں بھی دو ہزار درہم ذکر، جنس تو ایک ہی ہے لیکن صفت مختلف ہے۔ ماقبل والے نقد ہیں تو مابعد والے مؤجل ہیں۔ أَوْ يَقُولَ، یا یوں کہتا ہے: عَلَى هَذَا الْعَبْدِ أَوْ هَذَا الْعَبْدِ، کہ میں نکاح کرتا ہوں اس غلام پر یا اس غلام پر۔ اس غلام یا اس غلام پر، دو غلاموں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے۔ اب آپ بتائیے، بِھْ۔ خاوند نے نکاح کیا اور کیا کہا؟ هَذَا الْعَبْدِ أَوْ عَلَى هَذَا الْعَبْدِ، اس غلام پر یا اس غلام۔ جنس الگ ہے؟ جی؟ جنس الگ نہیں، دونوں طرف غلام ہیں۔ صفت الگ ہے؟ صفت بھی نہیں الگ، بِھْ۔ حالانکہ ہم نے کیا کہا تھا؟ اختلافِ جنس یا اختلافِ صفت ہو تو پھر کلمہ ”أَوْ“ فائدہ دے گا اور تخییر آئے گی، ورنہ تو کیا واجب ہوجائے گا؟ عقل واجب ہوجائے گا۔ تو لہذا یہ وہ عقل اس صورت میں عقل واجب ہوگا، اور شارح سے تسامح ہوا کہ اس کو یہاں پر ذکر کر دیا، بِھْ۔ سمجھ میں آئی بات، بِھْ؟ شارح سے کیا ہوا ہے؟ تسامح ہوا، بِھْ۔ سستی ہو گئی، بے دھیانی ہو گئی، یہ یہاں ذکر کر دیا کیونکہ آگے دو چار پانچ سطروں کے بعد وہ خود بتلائیں گے کہ بھئی غلاموں کی صورت میں کون سا غلام واجب ہوگا؟ عقل قیمت والا غلام واجب ہوجائے گا، بِھْ۔ یعنی وہ یہ وہ ایک ہی جنس والی صورت بن گئی، فَإِنَّ كُلًّا مِنْ هَؤُلَاءِ مُشْتَمِلٌ عَلَى نَفْعٍ وَضَرَرٍ، اس لیے کہ ان میں سے ہر ایک جو ہے وہ مشتمل ہے نفع اور ضرر نقصان پر، وَعُسْرٍ وَيُسْرٍ، اور تنگی اور سہولت پر، ایک میں تنگی ہے تو ایک میں سہولت ہے۔ فَيَصِحُّ التَّخْيِيرُ، تو تخییر صحیح ہے، فَيُعْطِيهَا مَا شَاءَ، پس وہ دے گا خاوند بیوی کو مَا شَاءَ جو وہ چاہے، خاوند کو اختیار ہوگا۔ وَإِنْ لَمْ يَصِحَّ التَّخْيِيرُ، اور اگر تخییر صحیح نہ ہو، یعنی اس میں کوئی فائدہ نہ ہو بِأَنْ يَكُونَ بَيْنَ الْقَلِيلِ وَالْكَثِيرِ مِنْ جِنْسٍ وَاحِدٍ مِنْ النَّقْدَيْنِ، بائیں طور وہ کہ وہ تخییر کس میں ہو؟ قلیل اور کثیر میں ہو، بس ایک طرف کم ہے، ایک طرف زیادہ ہے۔ وَمِنْ جِنْسٍ وَاحِدٍ وَكَمِثَالٍ مِنْ جِنْسٍ وَاحِدٍ مِنْ النَّقْدَيْنِ، اور کس میں سے ہو؟ ایک ہی جنس میں سے ہو مِنَ النَّقْدَيْنِ، نَقدیوں میں سے، تو مثلاً مثال کے طور پر يَقُولُ، یوں کہتا ہے: تَزَوَّجْتُكِ عَلَى أَلْفِ دِرْهَمٍ أَوْ أَلْفَيْ دِرْهَمٍ، میں تم سے نکاح کرتا ہوں 1000 درہم پر یا 2000 درہم پر تو دیکھیے نہ صفت میں فرق ہے اور نہ جنس میں اختلاف ہے تو اس صورت میں يَجِبُ الْأَقَلُّ لَا مَحَالَةَ، واجب ہوجائے گا عقل ہی قطعی طور پر۔ قطعی طور یہاں خاوند کو اختیار دینے کا کوئی فائدہ نہیں، بِھْ۔ سمجھ میں آئی کیونکہ خاوند کا فائدہ تو کس میں ہے یہاں؟ عقل میں ہی، اس صورت میں تو لہذا وہی وہی واجب ہوجائے گا، بِھْ، کیونکہ دو ایک کم ہے، ایک زیادہ ہے، تو کم والا تو یقینی ہے۔ إِذْ لَا فَائِدَةَ لِلزَّوْجِ فِي هَذَا الِاخْتِيَارِ، اسے کیونکہ کوئی فائدہ نہیں ہے خاوند کا اس اختیار کے اندر، بل وَالنَّفْعُهُ فِي إِعْطَاءِ الْأَقَلِّ الْبَتَّةَ، بلکہ اس کا نفع تو کم دینے ہی میں ہے، قطعی طور پر۔ وَلَمْ يُعْتَبَرْ، جی، یہ ایک سوال کا جواب دے رہے ہیں۔ اعتراض یہ ہوتا ہے کہ آپ نے کیا کہا کہ یہاں خاوند کو اختیار نہیں دیا جائے گا جبکہ دونوں طرف ایک ہی جنس ذکر ہو اور اختلافِ صفت بھی نہ ہو تو نہ اختلافِ جنس ہوا، نہ اختلافِ صفت ہوا، تو اس صورت میں کیا چیز واجب ہوتی ہے؟ عقل واجب ہوتی ہے کیونکہ اختیار دینے میں خاوند کا نفع نہیں۔ بھئی! خاوند کا نفع تو نہیں، لیکن اختیار دیا جائے، عورت کا نفع تو ہے۔ اکثر کی صورت میں کیا، آپ نے کہا عقل ہی واجب ہوگا، لیکن بھئی اکثر کی صورت میں کس کا نفع ہے؟ عورت کا نفع تو ہے، لہذا اختیار ہونا چاہیے عورت کے مدنظر رکھتے ہوئے جواب دیں گے کہ بھئی نہیں، کہ نکاح میں اصل ہے، یہ مہر کے اندر ذمے کا بری ہونا، کہ خاوند کا ذمہ کیا ہو جائے؟ بری ہو جائے، یہ اصل ہے، اور یہ مال عقل کی صورت میں جب ہو رہا ہے تو اکثر کی طرف جانے کی ضرورت نہیں۔ اور نیز مال جو ہے، مال، وہ نکاح میں اصل نہیں ہے۔ بھئی آپ نے پڑھا یا نہیں کہ نکاح کیا جائے اور مہر کو سرے سے ذکر ہی نہ کیا جائے تو نکاح ہو جائے گا یا نہیں ہو گا؟ ذکر تو ہو جائے گا، البتہ کیا آجائے گا مہرِ مثل آجائے گا، مہرِ مثل آجائے گا۔ یا بعد میں جو مقرر کرنا چاہیں، وہ بھی ہو سکتا ہے؛ تو بہرحال معلوم ہوا مہر، یعنی مال نکاح کے بعد میں اصل نہیں، اگر اصل ہوتا، پھر تو نکاح اس کے ذکر کے بغیر منعقد ہی نہیں ہوتا، لیکن اس کے ذکر کے بغیر بھی کیا ہو جاتا ہے؟ منعقد ہو جاتا ہے۔ لہذا، یہاں پر پھر زیادتی کی رعایت کو، جو زائد ہے، اس کی رعایت نہیں کی جائے گی، بِھْ، اس کی وجہ سے اختیار نہیں آئے گا۔ وَلَمْ يُعْتَبَرْ نَفْعُهَا فِي قَبُولِ الْكَثِيرِ، اور اعتبار نہیں کیا جائے گا اس عورت، اس بیوی کے نفع کا، کثیر کو قبول کرنے میں، لِأَنَّ الْأَصْلَ بَرَاءَةُ الذِّمَّةِ، اسی کیونکہ اصل کیا ہے؟ مہر میں ذمے کا بری ہونا ہے، وَالْمَالَ فِي النِّكَاحِ لَيْسَ أَمْرًا أَصْلِيًّا، اور مال جو ہے وہ نکاح کے اندر امرِ اصلی نہیں ہے، حَتَّى تُعْتَبَرَ رِعَايَةُ الزِّيَادَةِ، یہاں تک کہ زیادتی کی رعایت کا اعتبار کیا جائے۔ وَقَدْ فُهِمَ مِنْ هَذَا التَّقْرِيرِ، اور تحقیق مفہوم ہوا اس سے، سمجھا گیا اس تقرير سے، یعنی یہ بات سمجھ میں آتی ہے اس تقریر سے جو ہم نے تقریر کی: أَنَّ الْقَيْدَ فِي النَّقْدَيْنِ اتفاقِيٌّ، کہ یہ جو متن میں قَيْد آئی ہے نَا في النَّقْدَيْنِ، وَفِي النَّقْدَيْنِ يَجِبُ الْأَقَلُّ، اور دو نقدیوں کی صورت میں عقل واجب ہوگا، اور میں نے بتایا تھا دو نقدیوں میں عقل کب واجب ہوگا، یہ کون سی صورت ہے؟ جب دونوں طرف جنس بھی ایک ہو، یہ وہ صورت ذکر ہو رہی ہے۔ تو شارح فرما رہے ہیں یہ جو متن میں نقْدين کی قید آئی، یہ اتفاقی ہے، احترازی نہیں۔ یعنی اس کے ذریعے اور چیزوں سے احتراز نہیں کہ نقدیوں کی صورت میں تو عقل واجب ہوں گے، اور چیزوں کے اندر عقل واجب نہیں، ایسا نہیں ہے، یہ احترازی قید نہیں ہے، بلکہ ویسے اتفاقی قید ہے، ذکر کر دی ماتن نے، بِھْ۔ باقی چیزوں میں بھی جب جنس ایک ہو نہ اختلافِ جنس ہو، نہ اختلافِ صفت ہو تو وہاں بھی عقل ہی واجب ہوگا، جیسے اس کی مثال آگے وہ ذکر کریں گے۔ کہ اس شخص نے نکاح کیا، کہ میں تمہیں بطورِ مہر کے یہ غلام دوں گا یا یہ غلام، تو دیکھیے، یہاں اختلافِ جنس نہیں ہے، تو کیا واجب ہوگا؟ کون سا غلام؟ جس کی قیمت کم ہے۔ وَقَدْ فُهِمَ مِنْ هَذَا التَّقْرِيرِ، اور تحقیق سمجھا گیا ہے اس تقرير سے، یعنی سمجھا سمجھ آتی ہے اس تقرير سے کہ النَّقْدَيْنِ اتفاقِيٌّ، کہ في النَّقْدَيْنِ کی قَيْد جو ہے متن میں وہ اتفاقی ہے، لِأَنَّهُ إِذَا تَزَوَّجَ عَلَى هَذَا الْعَبْدِ أَوْ هَذَا الْعَبْدِ، کہ جب اس نے نکاح کیا اس غلام پر یا اس غلام پر، يَجِبُ عِنْدَهُمَا الْعَبْدُ الْأَقَلُّ قِيمَةً، واجب ہوگا صاحبین کے نزدیک وہ غلام جس کی جو کم ہے قیمت کے اعتبار سے، هَكَذَا قِيلَ، اس طرح کہا گیا ہے۔ وَهَذَا كُلُّهُ عِنْدَهُمَا، اور یہ سارا کا سارا صاحبین کے نزدیک ہے، جتنی ترتیب بیان ہوئی کس کا مذہب ہے؟ صاحبین کا مذہب ہے۔ وَعِنْدَهُ يَجِبُ مَهْرُ الْمِثْلِ، اور امام صاحب کے نزدیک مہرِ مثل واجب ہوگا فِى كُلٍّ مِنْ هَذِهِ الْمَسَائِلِ، ان تمام مسائل کے اندر۔ اِن تمام مسائل میں مہرِ مثل واجب ہوگا۔ بِھْ، امام صاحب کا یہ مذہب نہیں ہے کہ مہرِ مثل واجب ہوگا، بلکہ مہرِ مثل کو حاکم بنایا جائے گا، حکم بنایا جائے گا، بِھْ، اس کے ذریعے فیصلہ کیا جائے گا۔ امام صاحب کا مذہب کیا ہے؟ مہرِ مثل کو حکم بنایا جائے گا، فیصلہ بنایا جائے گا، اس کے ذریعے فیصلہ کیا جائے گا، مہرِ مثل واجب نہیں ہوگا۔ بلکہ مہرِ مثل کو حکم بنایا جائے گا، فیصلہ بنایا جائے گا، بِھْ، کس طرح؟ کہتے ہیں جب دو چیزوں کے درمیان ”أَوْ“ کو ذکر کیا، تو مہرِ مثل کو دیکھیں گے۔ زیادہ والے کے برابر یا اس سے بھی زیادہ ہو۔ مثلاً اس نے کیا کہا تھا؟ 1 ہزار یا 2 ہزار پر تو اگر مہرِ مثل 2 ہزار یا 2 ہزار سے زیادہ ہوا تو پھر 2 ہزار دینے پڑیں گے۔ کتنے دینے پڑیں گے؟ مہرِ مثل تو 2 ہزار سے بھی زیادہ ہے لیکن وہ عورت زاہد کو ساقط کرنے پر خود ہی راضی ہے، وہ راضی ہوئی تھی یا نہیں نکاح پر اسی طرح؟ تو معلوم ہوا زیادتی اس نے خود ہی معاف کر دی ہے، تو لہذا کیا دیا جائے گا؟ 2 ہزار، یہ کون سی صورت میں ہے؟ جبکہ مہرِ مثل اس زائد یعنی 2 ہزار کے برابر یا اس سے زیادہ اور اگر مہرِ مثل اقل کے برابر یا اس سے کم ہوا تو پھر. تو اس صورت میں اقل دیا جائے گا، مثلا اقل تھا ایک ہزار اور مہر مثل ہے 900 درہم، تو پھر اس صورت میں کیا دیا جائے گا؟ ہزار جو اقل ہے وہ دیا جائے گا۔ بھئی، مہر مثل تو کم ہے اقل سے اور آپ کہہ رہے ہیں کہ اقل دیا جائے گا؟ کہتے ہیں بھئی، یہ زائد دینے پر خود خاوند ہی تو راضی ہے، اسی نے تو 1000 کو ذکر کیا ہے، معلوم ہوا یہ زائد دینے پر وہ راضی ہے، تو لہذا مہر مثل کو حکم بنائیں گے بھئی دونوں صورتوں میں، اقل اور اکثر کی صورت میں۔ اگر مہر مثل اکثر کے برابر ہوا یا اکثر سے زیادہ، تو اکثر واجب ہو گا۔ اگر مہر مثل اقل کے برابر یا اقل سے کم ہوا، تو اقل واجب ہو گا اور اگر مہر مثل اقل اور اکثر کے درمیان ہوا، تو پھر مہر مثل ہی دینا پڑے گا بھئی، پھر نہ اقل آئے گا اور نہ اکثر آئے گا۔ اگر مہر مثل ہزار اور 2000 کے درمیان ہے، مثلا 1400، 1500 ہے، تو پھر وہی دینا پڑے گا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ امام صاحب کا مذہب ہے۔ تو امام صاحب کے نزدیک، ماتن نے تو کہا "وعندہ یجب مہر المثل"، امام صاحب کے نزدیک مہر مثل واجب ہو گا، میں نے تفصیل بیان کر دی کہ مہر مثل واجب نہیں ہو گا، بلکہ مہر مثل کو حکم بنایا جائے گا بھئی ان تمام مسائل میں، "لانہ هو الموجب الاصلی فی النکاح"، اس لیے کیونکہ وہی موجب اصلی ہے نکاح میں، یعنی وہی واجب ہوتا ہے نکاح میں اصلاً۔ بھئی، یاد رکھیں، نکاح میں اصل جو ہے مہر مثل ہے بھئی، مہر مثل۔ نکاح کریں تو مہر مثل ہی کو آنا چاہیے۔ کس کو آنا چاہیے؟ مہر مثل کو۔ لیکن جب وہ میاں بیوی آپس میں کوئی مہر مقرر کر لیتے ہیں، تو اس مقرر کرنے کی وجہ سے مہر مثل کو چھوڑ دیا جاتا ہے کہ انہوں نے خود اس پر راضی ہو گئے ہیں، تو لہذا جو مقرر کیا ہوتا ہے وہی واجب ہو جایا کرتا ہے۔ ورنہ اصلاً تو کس کو آنا چاہیے؟ مہر مثل ہی کو آنا چاہیے بھئی، مہر مثل۔ یعنی اس جیسی عورت جو ہے اس کے جو اسی خاندان کی ہے، اسی کے عمر میں بھی اسی کی طرح ہو اور عمر میں بھی، حسن و جمال میں بھی، دینداری وغیرہ ان چیزوں کے اندر اس جیسی جو عورت ہو اس خاندان کی، اس کا جو مہر ہوا کرتا ہے، وہ مہر آنا چاہیے بھئی، وہ ہے موجب اصلی بھئی نکاح کے اندر۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ "لانہ هو الموجب الاصلی فی النکاح"، اس لیے کیونکہ مہر جو ہے وہی موجب اصلی ہے نکاح کے اندر، یعنی وہی واجب ہوتا ہے نکاح میں اصلاً۔ "والعدول عنه الی المسمی"، اور یہ جو عدول کیا جاتا ہے اس سے مسمی یعنی مقررہ مہر کی طرف، یعنی اس کو چھوڑ کر کس کی طرف جایا جاتا ہے؟ مقررہ مہر کی طرف۔ "انما یکون عند معلومیة التسمیة"، یہ اس وقت ہے جبکہ وہ تسمیہ معلوم ہو، یعنی وہ ذکر کرنا معلوم ہو، کوئی متعین مہر ذکر ہو۔ "ولم توجد"، اور وہ پایا نہیں گیا، یہاں تو کوئی مقرر مہر اس نے ذکر کیا تھا؟ یہاں تو اس نے "او" کے ذریعے ذکر کیا تھا اور "او" کے ذریعے تو احد المذکورین کا فائدہ دیتا ہے، مہر تو پھر بھی مجهول رہا، پتہ نہ چلا، متعین نہ ہوا، اس لیے وہ فرماتے ہیں کہ مہر مثل کو حکم بنایا جائے گا۔ "ولکن فی صورت الالف الحالة والالفین النسیئة"، لیکن الف حالی اور الفین نسیئہ یعنی ادھار کی صورت میں، یعنی وہ صورت جس میں خاوند نے کس پر نکاح کیا تھا؟ کیا کہا تھا کہ ایک ہزار نقد دوں گا یا 2000 ادھار یعنی مؤجل دوں گا، اس صورت میں امام صاحب فرماتے ہیں "ان کان مہر المثل الفین"، اگر مہر مثل کتنا ہوا؟ 2000 ہوا، "او اکثر"، یا 2000 سے بھی زیادہ ہوا، "فالخیار لها"، تو اختیار عورت کو ہو گا۔ یہ وصف بھئی وصف، جب وصف میں اختلاف ہے، جنس تو ایک ہی ہے لیکن وصف میں کیا ہے؟ اختلاف، تو اس صورت میں امام صاحب فرماتے ہیں کہ یہاں اختیار آئے گا لیکن ایک صورت میں ہے کہ عورت کو اختیار ہو گا، دوسری صورت میں خاوند کو اختیار ہو گا اور فیصلہ مہر مثل ہی کے ذریعے ہو گا کس طرح کہ اگر مہر مثل وہ جو زیادہ مقدار بیان کی، یعنی 2000، اس کے برابر یا اس سے زائد ہو تو عورت کا اختیار ہو گا۔ کیوں عورت کا کیوں اختیار؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ مہر مثل تو اس سے بھی زیادہ ہے، عورت اپنے نقصان پر راضی ہو رہی ہے تو اختیار بھی اسی کو ہونا چاہیے۔ اور اگر مہر اور اگر وہ مہر مثل اقل کے برابر یا اس سے کم ہوا، تو اختیار کس کو ہو گا؟ صورت بھی سمجھ میں آ رہی ہے کہ نہیں بھئی؟ اگر مہر مثل اقل کے برابر یا اس سے کم ہوا، تو پھر اختیار خاوند کو ہو گا۔ بھئی کیوں خاوند کو کیوں اختیار؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ اس کو زائد چیز دینی پڑ رہی ہے، مہر مثل تو اقل سے بھی تھوڑا ہے، وہ زائد دے رہا ہے، نقصان اس کا ہے، تو اختیار بھی اسی کو ہونا چاہیے۔ یہ معنی ہے "ان کان مہر المثل الفین او اکثر فالخیار لها"، اگر مہر مثل 2000 ہو یا اس سے زیادہ ہو تو اختیار جو ہے عورت کو ہو گا، "وان کان اقل من الف فالخیار للزوج"، اور اگر کم تھا مہر مثل ہزار سے "فالخیار للزوج"، تو پھر اختیار خاوند کو ہو گا، "یعطیها ایهما شاء"، وہ دے دے اس عورت کو یعنی بیوی کو جو بھی چاہے ان دونوں میں سے۔ "وفی الکفارة یجب احد الاشیاء عندنا خلافاً للبعض"، اور کفارے کے اندر بھئی دیکھیے، "او" کس لیے آیا کرتا ہے؟ احد المذکورین، "او" کے ذریعے دو چیزوں میں سے ایک کا اختیار دو چیزوں میں اختیار، دو سے زیادہ ہوئیں تو ان میں بھی اسی طرح اختیار آئے گا، لہذا "او" جب کفارے کے باب میں آئے بھئی، اگر کسی چیز کا کفارہ ذکر کیا گیا ہو قرآن و حدیث میں اور درمیان میں کیا لفظ آ جائے؟ "او" کا لفظ آ جائے، تو کفارہ تو "او" آتا ہے تخییر کے لیے، تو یہاں بھی کیا آئے گی؟ تخییر آئے گی اور کفارہ دینے والے کو اختیار ہو گا کہ ان دو تین چیزوں میں سے جس کے ذریعے بھی وہ کفارہ ادا کرنا چاہے، کفارہ ادا کر سکتا ہے۔ یعنی ان میں سے ایک اس پر واجب ہے، تینوں کی تینوں اس پر واجب نہیں اور اختیار اسے ہے جو بھی دینا چاہے۔ ایک دے دے گا تو کفارہ ادا ہو جائے گا اور اگر تینوں دے گا تو تینوں کے ذریعے کفارہ ادا نہیں ہو گا، کفارہ تو ایک ہی کے ذریعے ادا ہو گا، دو باقی اسے صدقے کا ثواب مل جائے گا بھئی۔ یعنی تینوں دینے کی صورت میں تین واجبوں کا ثواب نہیں ملے گا بلکہ ثواب تو کس کا ملے گا؟ ایک ہی واجب کا ثواب ملے گا، اس لیے کیونکہ "او" ذکر تھا اور "او" کس لیے آیا کرتا ہے؟ مذکورہ چیزوں میں سے ایک کے لیے آیا کرتا ہے، تو ان میں سے ایک چیز واجب ہو گی بطور کفارے کے بھئی، اب وہ کفارہ دینے والے کی مرضی ہے، چاہے تو کیا کرے؟ 10 مسکینوں کو کھانا کھلا دے متوسط درجے کا، کھانا بھی پھر اگر کھانا کھلاتا ہے تو دو وقت کا کھانا کھلانا پڑے گا بھئی، دو وقت کا، دو وقت کا۔ یا ہر مسکین کو کیا کرے؟ پونے دو سیر گندم دے دے، نصف صاع گندم، یا کھجور وغیرہ وغیرہ میں سے دینا چاہتا ہے تو ایک صاع دے دے بھئی۔ یا ان کو کیا کرے ان 10 کو؟ کپڑے دے دے، یا کیا کرے گا؟ غلام آزاد کرے، اس کو اختیار ہو گا جو بھی کرنا چاہے بھئی، کر سکتا ہے۔ "وکما فی کفارة حلق الراس من عذر"، اور جیسے کہ حلق راس کے کفارے میں ہے عذر کی وجہ سے، جو حلق راس ہو۔ بھئی دیکھیے، احرام کی حالت میں بال کٹوانا ممنوع ہے، بھئی احرام میں بہت سی پابندیاں انسان پر لاگو ہو جاتی ہیں، ان میں سے ایک پابندی کیا ہے کہ بال وغیرہ نہیں کاٹ سکتا۔ لیکن اگر کسی شخص کو عذر کی وجہ سے سر منڈوانا پڑا بھئی، تو اس صورت میں اسے کفارہ دینا پڑے گا، جس کا ذکر اللہ قرآن میں فرماتے ہیں، کیا ہے وہ کفارہ؟ "ففدیة من صیام او صدقة او نسک"، کہ اگر کوئی عذر کی وجہ سے کیا کر لیتا ہے کوئی شخص احرام کی حالت میں سر منڈوا لیتا ہے تو پھر "ففدیة"، فدیہ دینا ہے، "من صیام او صدقة او نسک"، کس میں سے؟ یعنی کہ روزے یا صدقہ یا نسک قربانی بھئی۔ تو روزے رکھنے پڑیں گے یا صدقہ دینا پڑے گا یا قربانی کرنا پڑے گی بھئی، قربانی کرنا پڑے گی۔ تفصیل یہ ہے جو دیگر جو احادیث وغیرہ سے معلوم ہوتی ہے کہ اگر سر منڈوانا پڑ گیا حالت احرام میں، تو پھر روزے رکھے رکھنا چاہتا ہے تو تین روزے رکھ لے۔ اور صدقہ کرنا چاہتا ہے، تو چھ مسکینوں کو ہر مسکین کو کتنا دے دے؟ نصف صاع گندم یا ایک صاع کھجور وغیرہ دے دے، نصف صاع کتنا ہے؟ پونے دو سیر تقریباً بھئی، یہ چھ مسکینوں کو، تین روزے یا چھ مسکینوں پر صدقہ کر دے۔ تو کیا کرے گا؟ تین روزے رکھ لے گا یا چھ مسکینوں کو نصف چھ مسکینوں پر صدقہ کر دے، ہر ایک کو نصف صاع گندم دے دے یا اور چیز دینا چاہتا ہے کھجور وغیرہ تو پھر وہ ایک صاع دے دے اور نصف صاع کتنا ہوتا ہے؟ پونے دو سیر بھئی تقریباً۔ "او نسک"، یا کیا کرے؟ قربانی کر دے بھئی، قربانی کوئی جانور ذبح کر دے۔ تو اب یہ اس میں اختیار "او" کے ذریعے ذکر ہوئیں تین چیزیں، تو کرنے والے کو اختیار ہے بھئی، ایک چیز کوئی ایک جو بھی چاہے ان میں سے کر سکتا ہے۔ "وکما فی کفارة جزاء الصید من قوله تعالی: فجزاء مثل ما قتل من النعم يحكم به ذوا عدل منكم هدايا بالغ الكعبة او کفارة طعام مساکین او عدل ذلک صیاماً"، اسی طرح یاد رکھیے احرام کے اندر شکار کرنا منع ہے بھئی، اگر کسی شخص نے شکار کیا جان بوجھ کر، تو اللہ فرماتے ہیں "فجزاء مثل ما قتل"، تو بدلہ ہو گا مثل اس جانور کے جس کو اس نے قتل کیا۔ بدلہ دے گا کتنا بھئی؟ اسی جانور کے برابر جیسا کہ اس نے جس کو اس نے قتل کیا۔ "من النعم"، مویشیوں میں سے، نعم کسے کہتے ہیں؟ مویشی، چوپائے، یعنی گائے، بیل، بکری، بھیڑ، اونٹ وغیرہ بھئی، مویشیوں میں سے۔ "فجزاء مثل ما قتل من النعم"، پس بدلہ ہے مثل اس کے جس جو اس نے قتل کیا "من النعم"، کس میں سے؟ چوپایوں میں سے، "يحكم به ذوا عدل منكم"، فیصلہ کریں اس کا دو عادل آدمی تم میں سے، یعنی دو قابل اعتماد آدمی تم میں سے فیصلہ کریں اس کا۔ "هدايا"، اس حال میں، ہدی کہتے ہیں قربانی کا جانور، اس حال میں کہ وہ قربانی کا جانور جو ہے قربانی کا جانور ہو، "بالغ الكعبة"، پہنچنے والا ہو کعبہ تک۔ کہاں تک پہنچنے والا ہو؟ تو اس کا بدلہ ہے اس کے مثل جو تو نے قتل کیا، کس میں سے دے؟ کس میں سے دے اس کا مثل؟ چوپایوں میں سے دے اور اس کا فیصلہ دو عادل یعنی قابل اعتماد آدمی کریں گے، اس حال میں کہ وہ جانور کیا ہو گا؟ "هدايا"، وہ ہدی ہو گا قربانی کے لیے اور کہاں پہنچنے والا ہو گا؟ یعنی حرم میں اس کی قربانی کی جائے بھئی، کہاں کی جائے؟ حرم میں قربانی کی جائے۔ "او کفارة"، یا کفارہ ہے، "طعام مساکین"، مسکینوں کو کھانا کھلانا، "او عدل ذلک صیاماً"، یا اس کے برابر روزے ہیں۔ یا اس کے برابر روزے ہیں۔ تو یہاں پر بھی بھئی دیکھیے کفارہ اس کا کسی شخص نے حالت احرام کے اندر جان بوجھ کر شکار کر لیا تو اس کے جزا یا اس کا کفارہ اس کا بدلہ کتنی چیزیں ذکر کی گئیں؟ تین چیزیں ذکر کی گئیں بھئی۔ بھئی تفصیل یاد رکھیے، اگر کسی شخص نے کہ شکار کیا، تو اگر شکار کیا کسی حلال جانور کا، یعنی جس کا گوشت کھایا جاتا ہے، تو پھر اس صورت میں اس کی قیمت لگوائی جائے گی اس آس پاس کے علاقوں میں بھئی کہ اس جانور کی کتنی قیمت بنتی ہے بھئی، یہ اس طرح کا جانور ہو۔ پھر اس جانور کے قیمت جو بنتی ہے وہ اس کو صدقہ کرنا پڑے گا، اس میں پھر یا تو کیا کرے؟ اگر اس میں کوئی قربانی کا جانور خریدا جا سکتا ہے بکری، بھیڑ، گائے، بیل، اونٹ، جو بھی خریدا جا سکتا ہے، اس کو خرید کر حرم میں کیا کر دے اس کی؟ قربانی کر دے، ایک صورت۔ دوسری صورت، یا اس کی قیمت جو ہے وہ مسکینوں کو کھلا دے، ان پر صدقہ کر دے، مسکینوں پر کیا کر دے؟ صدقہ کر دے بھئی مسکینوں پر۔ یا اور یا تیسری صورت کیا ہے؟ کہ روزے رکھے، اور روزے کتنے رکھے گا؟ کہتے ہیں بھئی ایک مسکین کو نصف صاع گندم دی جاتی ہے، تو نصف صاع کے قیمت سے دیکھا جائے کتنی گندم بنتی ہے اور یہ کتنے مسکینوں کا حصہ بنتا ہے، جتنوں کا وہ حصہ بنتا ہے اتنے روزے رکھ لے بھئی، یعنی جتنے نصف صاع بنتے ہیں اس میں سے اتنے ہی کیا کر لے؟ روزے، صورت سمجھ میں آ گئی کہ نہیں بھئی؟ یہ تو وہ صورت ہے، یہ تو تین چیزوں میں اختیار ہے، یا تو قربانی کا جانور خریدا جائے اور اس کو حرم میں بھیج کر اس کی قربانی کروائے، یا پھر کیا کرے؟ مسکینوں پر صدقہ کر دے، یا پھر کیا کرے؟ اس کے برابر روزے رکھے۔ اور اگر جانور کم قیمت والا تھا جس سے قربانی کا کوئی جانور خریدا ہی نہیں جا سکتا، بکری بھی اس سے نہیں خریدی جا سکتی، مثلاً خرگوش کا اس نے شکار کیا تھا، تو پھر اس صورت میں دو چیزوں میں اختیار ہو گا، یا تو اس کو صدقہ کر دے اس کی اس کے برابر قیمت کو یا کیا کر لے؟ اس کے برابر روزے رکھ لے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ تو وہ جانور جس میں جو حلال ہو، جس کا کھانا جائز ہو، اس کا اس نے شکار کیا تھا۔ اور اگر کسی ایسے جانور کا شکار کیا جس کا کھانا جائز نہیں، مثلاً بھیڑیے کا شکار کیا، تو پھر اس صورت میں یاد رکھیے، اس کی قیمت بھیڑ، بکری سے زیادہ نہیں سمجھی جائے گی، اگر زیادہ بن بھی رہی ہو تو بس اسی بکری کے برابر ہی اس کو سمجھا جائے گا بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ دیکھیے کتاب پر، "وکما فی کفارة حلق الراس من عذر"، اور جیسے کہ عذر کی وجہ سے سر کے منڈوانے کے کفارے میں ہے، "من قوله تعالی"، یعنی اللہ تعالی کا یہ قول: "ففدیة من صیام او صدقة او نسک"، پس فدیہ ہے روزوں کا یا صدقے کا یا قربانی کا، "وکما فی کفارة جزاء الصید من قوله تعالی"، اور جیسے جزائے صید کے کفارے کے اندر ہے "من قوله تعالی"، یعنی اللہ تعالی کا یہ قول: "فجزاء مثل ما قتل من النعم"، پس بدلہ ہے مثل اس جانور کے جس کو اس نے قتل کیا ہے "من النعم"، مویشیوں میں سے، "يحكم به ذوا عدل منكم"، فیصلہ کریں اس کا دو قابل اعتماد آدمی تم میں سے، "هدايا بالغ الكعبة"، اس حال میں کہ قربانی کا جانور کعبہ کو پہنچے، "او کفارة طعام مساکین"، مسکینوں کو کھانا کھلانا، "او" تو اس صورت میں اقل دیا جائے گا، مثلا اقل تھا ایک ہزار اور مہر مثل ہے 900 درہم، تو پھر اس صورت میں کیا دیا جائے گا؟ ہزار جو اقل ہے وہ دیا جائے گا۔ بھئی، مہر مثل تو کم ہے اقل سے اور آپ کہہ رہے ہیں کہ اقل دیا جائے گا؟ کہتے ہیں بھئی، یہ زائد دینے پر خود خاوند ہی تو راضی ہے، اسی نے تو 1000 کو ذکر کیا ہے، معلوم ہوا یہ زائد دینے پر وہ راضی ہے، تو لہذا مہر مثل کو حکم بنائیں گے بھئی دونوں صورتوں میں، اقل اور اکثر کی صورت میں۔ اگر مہر مثل اکثر کے برابر ہوا یا اکثر سے زیادہ، تو اکثر واجب ہو گا۔ اگر مہر مثل اقل کے برابر یا اقل سے کم ہوا، تو اقل واجب ہو گا اور اگر مہر مثل اقل اور اکثر کے درمیان ہوا، تو پھر مہر مثل ہی دینا پڑے گا بھئی، پھر نہ اقل آئے گا اور نہ اکثر آئے گا۔ اگر مہر مثل ہزار اور 2000 کے درمیان ہے، مثلا 1400، 1500 ہے، تو پھر وہی دینا پڑے گا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ امام صاحب کا مذہب ہے۔ تو امام صاحب کے نزدیک، ماتن نے تو کہا "وعندہ یجب مہر المثل"، امام صاحب کے نزدیک مہر مثل واجب ہو گا، میں نے تفصیل بیان کر دی کہ مہر مثل واجب نہیں ہو گا، بلکہ مہر مثل کو حکم بنایا جائے گا بھئی ان تمام مسائل میں، "لانہ هو الموجب الاصلی فی النکاح"، اس لیے کیونکہ وہی موجب اصلی ہے نکاح میں، یعنی وہی واجب ہوتا ہے نکاح میں اصلاً۔ بھئی، یاد رکھیں، نکاح میں اصل جو ہے مہر مثل ہے بھئی، مہر مثل۔ نکاح کریں تو مہر مثل ہی کو آنا چاہیے۔ کس کو آنا چاہیے؟ مہر مثل کو۔ لیکن جب وہ میاں بیوی آپس میں کوئی مہر مقرر کر لیتے ہیں، تو اس مقرر کرنے کی وجہ سے مہر مثل کو چھوڑ دیا جاتا ہے کہ انہوں نے خود اس پر راضی ہو گئے ہیں، تو لہذا جو مقرر کیا ہوتا ہے وہی واجب ہو جایا کرتا ہے۔ ورنہ اصلاً تو کس کو آنا چاہیے؟ مہر مثل ہی کو آنا چاہیے بھئی، مہر مثل۔ یعنی اس جیسی عورت جو ہے اس کے جو اسی خاندان کی ہے، اسی کے عمر میں بھی اسی کی طرح ہو اور عمر میں بھی، حسن و جمال میں بھی، دینداری وغیرہ ان چیزوں کے اندر اس جیسی جو عورت ہو اس خاندان کی، اس کا جو مہر ہوا کرتا ہے، وہ مہر آنا چاہیے بھئی، وہ ہے موجب اصلی بھئی نکاح کے اندر۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ "لانہ هو الموجب الاصلی فی النکاح"، اس لیے کیونکہ مہر جو ہے وہی موجب اصلی ہے نکاح کے اندر، یعنی وہی واجب ہوتا ہے نکاح میں اصلاً۔ "والعدول عنه الی المسمی"، اور یہ جو عدول کیا جاتا ہے اس سے مسمی یعنی مقررہ مہر کی طرف، یعنی اس کو چھوڑ کر کس کی طرف جایا جاتا ہے؟ مقررہ مہر کی طرف۔ "انما یکون عند معلومیة التسمیة"، یہ اس وقت ہے جبکہ وہ تسمیہ معلوم ہو، یعنی وہ ذکر کرنا معلوم ہو، کوئی متعین مہر ذکر ہو۔ "ولم توجد"، اور وہ پایا نہیں گیا، یہاں تو کوئی مقرر مہر اس نے ذکر کیا تھا؟ یہاں تو اس نے "او" کے ذریعے ذکر کیا تھا اور "او" کے ذریعے تو احد المذکورین کا فائدہ دیتا ہے، مہر تو پھر بھی مجهول رہا، پتہ نہ چلا، متعین نہ ہوا، اس لیے وہ فرماتے ہیں کہ مہر مثل کو حکم بنایا جائے گا۔ "ولکن فی صورت الالف الحالة والالفین النسیئة"، لیکن الف حالی اور الفین نسیئہ یعنی ادھار کی صورت میں، یعنی وہ صورت جس میں خاوند نے کس پر نکاح کیا تھا؟ کیا کہا تھا کہ ایک ہزار نقد دوں گا یا 2000 ادھار یعنی مؤجل دوں گا، اس صورت میں امام صاحب فرماتے ہیں "ان کان مہر المثل الفین"، اگر مہر مثل کتنا ہوا؟ 2000 ہوا، "او اکثر"، یا 2000 سے بھی زیادہ ہوا، "فالخیار لها"، تو اختیار عورت کو ہو گا۔ یہ وصف بھئی وصف، جب وصف میں اختلاف ہے، جنس تو ایک ہی ہے لیکن وصف میں کیا ہے؟ اختلاف، تو اس صورت میں امام صاحب فرماتے ہیں کہ یہاں اختیار آئے گا لیکن ایک صورت میں ہے کہ عورت کو اختیار ہو گا، دوسری صورت میں خاوند کو اختیار ہو گا اور فیصلہ مہر مثل ہی کے ذریعے ہو گا کس طرح کہ اگر مہر مثل وہ جو زیادہ مقدار بیان کی، یعنی 2000، اس کے برابر یا اس سے زائد ہو تو عورت کا اختیار ہو گا۔ کیوں عورت کا کیوں اختیار؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ مہر مثل تو اس سے بھی زیادہ ہے، عورت اپنے نقصان پر راضی ہو رہی ہے تو اختیار بھی اسی کو ہونا چاہیے۔ اور اگر مہر اور اگر وہ مہر مثل اقل کے برابر یا اس سے کم ہوا، تو اختیار کس کو ہو گا؟ صورت بھی سمجھ میں آ رہی ہے کہ نہیں بھئی؟ اگر مہر مثل اقل کے برابر یا اس سے کم ہوا، تو پھر اختیار خاوند کو ہو گا۔ بھئی کیوں خاوند کو کیوں اختیار؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ اس کو زائد چیز دینی پڑ رہی ہے، مہر مثل تو اقل سے بھی تھوڑا ہے، وہ زائد دے رہا ہے، نقصان اس کا ہے، تو اختیار بھی اسی کو ہونا چاہیے۔ یہ معنی ہے "ان کان مہر المثل الفین او اکثر فالخیار لها"، اگر مہر مثل 2000 ہو یا اس سے زیادہ ہو تو اختیار جو ہے عورت کو ہو گا، "وان کان اقل من الف فالخیار للزوج"، اور اگر کم تھا مہر مثل ہزار سے "فالخیار للزوج"، تو پھر اختیار خاوند کو ہو گا، "یعطیها ایهما شاء"، وہ دے دے اس عورت کو یعنی بیوی کو جو بھی چاہے ان دونوں میں سے۔ "وفی الکفارة یجب احد الاشیاء عندنا خلافاً للبعض"، اور کفارے کے اندر بھئی دیکھیے، "او" کس لیے آیا کرتا ہے؟ احد المذکورین، "او" کے ذریعے دو چیزوں میں سے ایک کا اختیار دو چیزوں میں اختیار، دو سے زیادہ ہوئیں تو ان میں بھی اسی طرح اختیار آئے گا، لہذا "او" جب کفارے کے باب میں آئے بھئی، اگر کسی چیز کا کفارہ ذکر کیا گیا ہو قرآن و حدیث میں اور درمیان میں کیا لفظ آ جائے؟ "او" کا لفظ آ جائے، تو کفارہ تو "او" آتا ہے تخییر کے لیے، تو یہاں بھی کیا آئے گی؟ تخییر آئے گی اور کفارہ دینے والے کو اختیار ہو گا کہ ان دو تین چیزوں میں سے جس کے ذریعے بھی وہ کفارہ ادا کرنا چاہے، کفارہ ادا کر سکتا ہے۔ یعنی ان میں سے ایک اس پر واجب ہے، تینوں کی تینوں اس پر واجب نہیں اور اختیار اسے ہے جو بھی دینا چاہے۔ ایک دے دے گا تو کفارہ ادا ہو جائے گا اور اگر تینوں دے گا تو تینوں کے ذریعے کفارہ ادا نہیں ہو گا، کفارہ تو ایک ہی کے ذریعے ادا ہو گا، دو باقی اسے صدقے کا ثواب مل جائے گا بھئی۔ یعنی تینوں دینے کی صورت میں تین واجبوں کا ثواب نہیں ملے گا بلکہ ثواب تو کس کا ملے گا؟ ایک ہی واجب کا ثواب ملے گا، اس لیے کیونکہ "او" ذکر تھا اور "او" کس لیے آیا کرتا ہے؟ مذکورہ چیزوں میں سے ایک کے لیے آیا کرتا ہے، تو ان میں سے ایک چیز واجب ہو گی بطور کفارے کے بھئی، اب وہ کفارہ دینے والے کی مرضی ہے، چاہے تو کیا کرے؟ 10 مسکینوں کو کھانا کھلا دے متوسط درجے کا، کھانا بھی پھر اگر کھانا کھلاتا ہے تو دو وقت کا کھانا کھلانا پڑے گا بھئی، دو وقت کا، دو وقت کا۔ یا ہر مسکین کو کیا کرے؟ پونے دو سیر گندم دے دے، نصف صاع گندم، یا کھجور وغیرہ وغیرہ میں سے دینا چاہتا ہے تو ایک صاع دے دے بھئی۔ یا ان کو کیا کرے ان 10 کو؟ کپڑے دے دے، یا کیا کرے گا؟ غلام آزاد کرے، اس کو اختیار ہو گا جو بھی کرنا چاہے بھئی، کر سکتا ہے۔ "وکما فی کفارة حلق الراس من عذر"، اور جیسے کہ حلق راس کے کفارے میں ہے عذر کی وجہ سے، جو حلق راس ہو۔ بھئی دیکھیے، احرام کی حالت میں بال کٹوانا ممنوع ہے، بھئی احرام میں بہت سی پابندیاں انسان پر لاگو ہو جاتی ہیں، ان میں سے ایک پابندی کیا ہے کہ بال وغیرہ نہیں کاٹ سکتا۔ لیکن اگر کسی شخص کو عذر کی وجہ سے سر منڈوانا پڑا بھئی، تو اس صورت میں اسے کفارہ دینا پڑے گا، جس کا ذکر اللہ قرآن میں فرماتے ہیں، کیا ہے وہ کفارہ؟ "ففدیة من صیام او صدقة او نسک"، کہ اگر کوئی عذر کی وجہ سے کیا کر لیتا ہے کوئی شخص احرام کی حالت میں سر منڈوا لیتا ہے تو پھر "ففدیة"، فدیہ دینا ہے، "من صیام او صدقة او نسک"، کس میں سے؟ یعنی کہ روزے یا صدقہ یا نسک قربانی بھئی۔ تو روزے رکھنے پڑیں گے یا صدقہ دینا پڑے گا یا قربانی کرنا پڑے گی بھئی، قربانی کرنا پڑے گی۔ تفصیل یہ ہے جو دیگر جو احادیث وغیرہ سے معلوم ہوتی ہے کہ اگر سر منڈوانا پڑ گیا حالت احرام میں، تو پھر روزے رکھے رکھنا چاہتا ہے تو تین روزے رکھ لے۔ اور صدقہ کرنا چاہتا ہے، تو چھ مسکینوں کو ہر مسکین کو کتنا دے دے؟ نصف صاع گندم یا ایک صاع کھجور وغیرہ دے دے، نصف صاع کتنا ہے؟ پونے دو سیر تقریباً بھئی، یہ چھ مسکینوں کو، تین روزے یا چھ مسکینوں پر صدقہ کر دے۔ تو کیا کرے گا؟ تین روزے رکھ لے گا یا چھ مسکینوں کو نصف چھ مسکینوں پر صدقہ کر دے، ہر ایک کو نصف صاع گندم دے دے یا اور چیز دینا چاہتا ہے کھجور وغیرہ تو پھر وہ ایک صاع دے دے اور نصف صاع کتنا ہوتا ہے؟ پونے دو سیر بھئی تقریباً۔ "او نسک"، یا کیا کرے؟ قربانی کر دے بھئی، قربانی کوئی جانور ذبح کر دے۔ تو اب یہ اس میں اختیار "او" کے ذریعے ذکر ہوئیں تین چیزیں، تو کرنے والے کو اختیار ہے بھئی، ایک چیز کوئی ایک جو بھی چاہے ان میں سے کر سکتا ہے۔ "وکما فی کفارة جزاء الصید من قوله تعالی: فجزاء مثل ما قتل من النعم يحكم به ذوا عدل منكم هدايا بالغ الكعبة او کفارة طعام مساکین او عدل ذلک صیاماً"، اسی طرح یاد رکھیے احرام کے اندر شکار کرنا منع ہے بھئی، اگر کسی شخص نے شکار کیا جان بوجھ کر، تو اللہ فرماتے ہیں "فجزاء مثل ما قتل"، تو بدلہ ہو گا مثل اس جانور کے جس کو اس نے قتل کیا۔ بدلہ دے گا کتنا بھئی؟ اسی جانور کے برابر جیسا کہ اس نے جس کو اس نے قتل کیا۔ "من النعم"، مویشیوں میں سے، نعم کسے کہتے ہیں؟ مویشی، چوپائے، یعنی گائے، بیل، بکری، بھیڑ، اونٹ وغیرہ بھئی، مویشیوں میں سے۔ "فجزاء مثل ما قتل من النعم"، پس بدلہ ہے مثل اس کے جس جو اس نے قتل کیا "من النعم"، کس میں سے؟ چوپایوں میں سے، "يحكم به ذوا عدل منكم"، فیصلہ کریں اس کا دو عادل آدمی تم میں سے، یعنی دو قابل اعتماد آدمی تم میں سے فیصلہ کریں اس کا۔ "هدايا"، اس حال میں، ہدی کہتے ہیں قربانی کا جانور، اس حال میں کہ وہ قربانی کا جانور جو ہے قربانی کا جانور ہو، "بالغ الكعبة"، پہنچنے والا ہو کعبہ تک۔ کہاں تک پہنچنے والا ہو؟ تو اس کا بدلہ ہے اس کے مثل جو تو نے قتل کیا، کس میں سے دے؟ کس میں سے دے اس کا مثل؟ چوپایوں میں سے دے اور اس کا فیصلہ دو عادل یعنی قابل اعتماد آدمی کریں گے، اس حال میں کہ وہ جانور کیا ہو گا؟ "هدايا"، وہ ہدی ہو گا قربانی کے لیے اور کہاں پہنچنے والا ہو گا؟ یعنی حرم میں اس کی قربانی کی جائے بھئی، کہاں کی جائے؟ حرم میں قربانی کی جائے۔ "او کفارة"، یا کفارہ ہے، "طعام مساکین"، مسکینوں کو کھانا کھلانا، "او عدل ذلک صیاماً"، یا اس کے برابر روزے ہیں۔ یا اس کے برابر روزے ہیں۔ تو یہاں پر بھی بھئی دیکھیے کفارہ اس کا کسی شخص نے حالت احرام کے اندر جان بوجھ کر شکار کر لیا تو اس کے جزا یا اس کا کفارہ اس کا بدلہ کتنی چیزیں ذکر کی گئیں؟ تین چیزیں ذکر کی گئیں بھئی۔ بھئی تفصیل یاد رکھیے، اگر کسی شخص نے کہ شکار کیا، تو اگر شکار کیا کسی حلال جانور کا، یعنی جس کا گوشت کھایا جاتا ہے، تو پھر اس صورت میں اس کی قیمت لگوائی جائے گی اس آس پاس کے علاقوں میں بھئی کہ اس جانور کی کتنی قیمت بنتی ہے بھئی، یہ اس طرح کا جانور ہو۔ پھر اس جانور کے قیمت جو بنتی ہے وہ اس کو صدقہ کرنا پڑے گا، اس میں پھر یا تو کیا کرے؟ اگر اس میں کوئی قربانی کا جانور خریدا جا سکتا ہے بکری، بھیڑ، گائے، بیل، اونٹ، جو بھی خریدا جا سکتا ہے، اس کو خرید کر حرم میں کیا کر دے اس کی؟ قربانی کر دے، ایک صورت۔ دوسری صورت، یا اس کی قیمت جو ہے وہ مسکینوں کو کھلا دے، ان پر صدقہ کر دے، مسکینوں پر کیا کر دے؟ صدقہ کر دے بھئی مسکینوں پر۔ یا اور یا تیسری صورت کیا ہے؟ کہ روزے رکھے، اور روزے کتنے رکھے گا؟ کہتے ہیں بھئی ایک مسکین کو نصف صاع گندم دی جاتی ہے، تو نصف صاع کے قیمت سے دیکھا جائے کتنی گندم بنتی ہے اور یہ کتنے مسکینوں کا حصہ بنتا ہے، جتنوں کا وہ حصہ بنتا ہے اتنے روزے رکھ لے بھئی، یعنی جتنے نصف صاع بنتے ہیں اس میں سے اتنے ہی کیا کر لے؟ روزے، صورت سمجھ میں آ گئی کہ نہیں بھئی؟ یہ تو وہ صورت ہے، یہ تو تین چیزوں میں اختیار ہے، یا تو قربانی کا جانور خریدا جائے اور اس کو حرم میں بھیج کر اس کی قربانی کروائے، یا پھر کیا کرے؟ مسکینوں پر صدقہ کر دے، یا پھر کیا کرے؟ اس کے برابر روزے رکھے۔ اور اگر جانور کم قیمت والا تھا جس سے قربانی کا کوئی جانور خریدا ہی نہیں جا سکتا، بکری بھی اس سے نہیں خریدی جا سکتی، مثلاً خرگوش کا اس نے شکار کیا تھا، تو پھر اس صورت میں دو چیزوں میں اختیار ہو گا، یا تو اس کو صدقہ کر دے اس کی اس کے برابر قیمت کو یا کیا کر لے؟ اس کے برابر روزے رکھ لے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ تو وہ جانور جس میں جو حلال ہو، جس کا کھانا جائز ہو، اس کا اس نے شکار کیا تھا۔ اور اگر کسی ایسے جانور کا شکار کیا جس کا کھانا جائز نہیں، مثلاً بھیڑیے کا شکار کیا، تو پھر اس صورت میں یاد رکھیے، اس کی قیمت بھیڑ، بکری سے زیادہ نہیں سمجھی جائے گی، اگر زیادہ بن بھی رہی ہو تو بس اسی بکری کے برابر ہی اس کو سمجھا جائے گا بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ دیکھیے کتاب پر، "وکما فی کفارة حلق الراس من عذر"، اور جیسے کہ عذر کی وجہ سے سر کے منڈوانے کے کفارے میں ہے، "من قوله تعالی"، یعنی اللہ تعالی کا یہ قول: "ففدیة من صیام او صدقة او نسک"، پس فدیہ ہے روزوں کا یا صدقے کا یا قربانی کا، "وکما فی کفارة جزاء الصید من قوله تعالی"، اور جیسے جزائے صید کے کفارے کے اندر ہے "من قوله تعالی"، یعنی اللہ تعالی کا یہ قول: "فجزاء مثل ما قتل من النعم"، پس بدلہ ہے مثل اس جانور کے جس کو اس نے قتل کیا ہے "من النعم"، مویشیوں میں سے، "يحكم به ذوا عدل منكم"، فیصلہ کریں اس کا دو قابل اعتماد آدمی تم میں سے، "هدايا بالغ الكعبة"، اس حال میں کہ قربانی کا جانور کعبہ کو پہنچے، "او کفارة طعام مساکین"، مسکینوں کو کھانا کھلانا، "او" اور ان چاروں کے اندر گویا اس کو چاروں کا اختیار ہوا۔ اس کو چاروں کا اختیار ہوا اور یہ چاروں جرم تو ایک قسم کے نہیں ہیں بھئی۔ ایک تو ان میں سب سے ہلکا ہے، صرف ڈرایا دھمکایا ہے نہ مال لیا ہے نہ قص۔ اس صورت میں بھی چاروں کا اختیار ہو گیا خلیفہ کو، معلوم ہوا وہ سخت ترین سولی بھی دے سکتا ہے، قتل بھی کر سکتا ہے بھئی۔ تو یہ تو جرم ہلکا ہوا اور سزا کیا ہو گئی؟ سخت۔ اور نیز ان چار صورتوں میں ایک کیا ہے؟ سخت ترین جرم ہے کہ مال بھی لوٹتا ہے اور قتل بھی کرتا ہے اور اس صورت میں بھی خلیفہ کو چاروں سزاؤں کا اختیار ہے۔ اور ان چار سزاؤں میں تو ایک سزا سب سے ہلکی ہے کہ صرف کیا کیا جائے؟ زمین سے دور کیا جائے یعنی جلا وطن کر دیا جائے۔ جرم اتنا بڑا قتل بھی کیا، مال بھی لوٹا ہے اور سزا اتنی ہلکی کہ صرف کیا کیا جائے؟ جلا وطن کر دیا جائے۔ تو لہذا اس صورت میں یہ خرابی لازم آتی ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ جی۔ فکان تقدیر عبارة القرآن تو عبارت قرآن کی تقدیر جو ہے وہ اس طرح ہے۔ دیکھیے بھئی وہی آیت کو ذکر کریں گے اور درمیان میں یہ آیت میں تو صرف سزائیں ذکر ہیں، درمیان میں جرائم بھی ذکر کرتے جائیں گے یہ سزا کب ہے؟ یہ سزا کب ہے؟ ان یقتلوا ان کو قتل کیا جائے کب؟ اذا قتلوا فقط جب انہوں نے صرف کیا کیا ہو؟ قتل کیا ہو۔ بل یصلبوا بلکہ ان کو سولی دی جائے کب؟ اذا ارتفعات المحاربة بقتل النفس وأخذ المال۔ جب بلند ہو جائے لڑائی یعنی بھڑک اٹھے جنگ بقتل النفس۔ نفس کو قتل کرنے کی وجہ سے واخذ المال اور مال کو لینے۔ نفس کو قتل کرنے اور مال کو لوٹنے کی وجہ سے جب لڑائی بھڑک اٹھے تو اس وقت کیا کرو ان کو؟ سولی دو۔ تو معلوم ہوا قتل نفس اور اخذ مال دونوں جب جمع ہوں تو اس صورت میں سولی دو۔ بل تقطع أيديهم بلکہ ان کے ان کے ہاتھ کاٹے جائیں وأرجلهم اور ان کے پاؤں۔ مخالف سمت سے کب؟ اذا اخذوا المال فقط جب انہوں نے صرف مال لیا ہو۔ جی یہ تین صورتیں ذکر ہو گئیں چوتھی آگے آ رہی ہے بل ینفوا من الأرض بلکہ ان کو زمین سے دور کیا جائے اذا خوفوا الطریق جب انہوں نے راستے کو ڈرایا ہو یعنی راستے والوں کو ڈرایا ہو۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جی۔ تو چار جرائم ہیں وہ چار سزاؤں کے مطابق ذکر کیے گئے آیت میں۔ اور نیز آگے مزید تائید فرما رہے ہیں شارح کہتے ہیں بھئی یہ معنی یہ چار سزائیں ہم نے ویسے اپنی طرف سے نہیں بیان کی، یہی معنی حدیث کے اندر بھی ذکر ہے بھئی۔ تو ناچنانچہ یہ جو ہم نے معنی کیا آیت کا یا حدیث سے اخذ کرتے ہوئے ہے، ویسے نہیں ہے بھئی وہ حدیث کیا ہے؟ کہتے ہیں وقد برد هذا البيان بعينه بما روی عن النبي عليه الصلاة والسلام۔ اور تحقیق آیا ہے بعینہ یہی بیان اس حدیث کے اندر جو روایت کی گئی ہے حضور علیہ السلام سے کہ انہ وع ابا بردته کہ حضور علیہ السلام نے صلح فرمائی ابا ابو بردہ کے ساتھ یہ کوئی سردار تھا کسی قبیلے وغیرہ کا اس کے ساتھ صلح فرمائی۔ واعدا کا معنی ہے۔ واعدا یواعد مواضعة بھئی۔ دشمنی کو چھوڑ دینا۔ واعدا یعدو کا معنی ہوتا ہے نا چھوڑنا، تو واعدا دشمنی کو چھوڑ دینا یعنی صلح کرنا کہ حضور علیہ السلام نے صلح فرمائی ابو بردہ سے۔ یہ ابو بردہ بعض جگہ آیا ہے بھئی۔ با پر پیش ہے اور را ساکن ہے ابو بردہ۔ آ لیکن علماء نے لکھا بعض نے کہ صحیح لفظ ابو برزہ ہے بھئی۔ ابو برزہ۔ با پر فتحہ ہے۔ اور دال نہیں ہے بلکہ را کے بعد زا ہے بھئی زا۔ تو دونوں بہرحال لفظ آئے ہیں روایتوں میں۔ ایک ابا بردہ اور ایک ابا برزہ۔ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح فرمائی ابو بردہ سے ان لا یعینه ولا یعین علیه کہ نہ تو وہ ان کی مدد کرے گا یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اور نہ ان کے خلاف کسی کی مدد کرے گا۔ صلح کی بھئی معاہدہ کر لیا کہ تم ہماری مدد نہیں کرو گے تو ہمارے مخالف کی بھی مدد نہیں کرو گے۔ یہ معنی ہے ان لا یعینه کہ وہ مدد نہیں کرے گا حضور علیہ السلام کی ولا یعین علیه اور نہ حضور علیہ السلام کی علی ضرر کے لیے آتا ہے نا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف وہ مدد کرے گا کسی کی۔ فجاءه اناس تو آئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ لوگ یریدون الإسلام اسلام کا ارادہ رکھتے تھے یعنی مسلمان ہونے کے لیے کچھ لوگ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آئے راستے میں تھے۔ فققطع أصحاب أبی برددة علیهم الطریق تو ابو بردہ کے ساتھیوں نے ان پر ڈاکا ڈالا۔ فنزال جبريل عليه السلام تو جبرئیل علیہ السلام نازل ہوئے بالحد فیهم ان کے بارے میں حد کے ساتھ کہ ان من قتل وأخذ المال صلب کہ ان میں سے جس نے قتل کیا ہے اور مال بھی لیا ہے صلب اس کو سولی دی جائے۔ ومن قتل اور جس نے قتل کیا ہے ولم یأخذ المال اور مال نہیں لیا۔ قتل اس کو قتل کیا جائے ومن أخذ المال ولم یقتل اور جس نے مال تو لیا ہے اور قتل نہیں کیا قطعت یدھ ورجله من خلاف تو کاٹا جائے اس کے ہاتھ کو اور اس کے پاؤں کو مخالف سمت سے۔ ومن أفرد الإخافة نفی من الأرض اور جس نے اکیلا ڈرایا ہی ہے یعنی صرف ڈرایا ہی ہے نفی من الأرض اس کی زمین سے اس کو زمین اس کو زمین سے دور کیا جائے۔ بھئی جی نفی من الأرض کا معنی میں زمین سے دور کرنے کا کر رہا ہوں۔ عام علماء مفسرین اس کا معنی کرتے ہیں جلا وطن کرنا۔ اور زمین سے دور کرنا یہ قرآن کے الفاظ کا حقیقی معنی ہے بھئی، ینفوا من الأرض زمین سے دور کیے جائیں۔ اور باقی اس کا کیا معنی کرتے ہیں؟ جلا وطنی کے اور یہ جو لفظی معنی ہے یہ عین موافق ہے مذہب ابی حنیفہ رحمہ اللہ کے۔ امام صاحب کے نزدیک اس کو جلا وطن نہیں کیا جائے گا۔ ورنہ تو پہلے یہاں فساد پھیلا رہا تھا، یہاں والے تو چلو محفوظ ہو گئے لیکن جہاں دوسری جگہ پہنچا ان کے لیے تو وہ مصیبت بنائے گا وہاں پر بھئی۔ تو وہ فرماتے ہیں زمین سے دور کرنے کا معنی یہ ہے کہ ظاہر زمین سے اس کو دور کرو یعنی اس کو قید میں ڈال دو۔ جب تک توبہ نہیں کر لیتا، توبہ کے آثار اس پر نظر نہیں آتے، پتہ نہ چل جائے بھئی یہ واقعی اب نیک بن گیا ہے، اس وقت تک ان کو نہیں چھوڑا جائے گا۔ چاہے اسی میں ان کی موت ہی کیوں نہ آ جائے جیل کے اندر، ہمیشہ ورنہ جیل میں ہی پڑے رہیں گے۔ تو ومن أفرد الإخافة اور جس نے الگ کیا اخافت ڈرانے کو یعنی صرف ڈرایا ہی ہے نفی من الأرض اس کو زمین سے دور کیا جائے، ولکن حمل أبو حنیفة رحمہ اللہ قوله لیکن امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے معمول کیا جبرئیل علیہ السلام کے اس قول کو من قتل وأخذ المال صلب۔ حدیث میں کیا ہے؟ جبرئیل علیہ السلام نے کیا فرمایا؟ من قتل وأخذ المال صلب جس نے قتل بھی کیا اور مال بھی لیا صلب اس کو سولی دی جائے۔ تو امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ اس کو معمول کرتے ہیں علی اختصاص الصلب بهذه الحالة کہ سولی دینا خاص ہے اس حالت کے ساتھ۔ امام صاحب کیا فرماتے ہیں؟ سولی دینا خاص ہے اس حالت کے ساتھ یعنی صرف اسی حالت میں سولی دی جائے گی باقی حالتوں میں تین حالتوں میں سولی نہیں دی جائے گی۔ تو سولی دینا خاص ہے اس حالت کے ساتھ لا اختصاص هذه الحالة بالصلب۔ نہ کہ اس حالت کے سولی کے ساتھ اختصاص پر اس پر معمول نہیں کرتے۔ کہ یہ حالت سولی کے ساتھ خاص ہو ایسا نہیں ہے بھئی۔ سولی دینا اسی حالت کے ساتھ خاص ہے، ڈاکا قتل بھی کیا اور مال بھی لوٹا ہو تو کیا کر سکتے ہیں؟ سولی دے سکتے ہیں باقی صورتوں میں سولی نہیں، سولی دینا اسی صورت کے ساتھ خاص ہے۔ لکن۔ یہ حالت سولی کے ساتھ ہی خاص ہو یعنی اس حالت میں صرف سولی ہی دی جا سکتی ہے اور کوئی سزا نہیں دی جا سکتی ہے وہ۔ اس کے قائل نہیں۔ امام صاحب فرماتے ہیں بلکہ یہاں خلیفہ کو اختیار ہے چار چیزوں کا۔ چاہے تو صرف سولی دے دے، چاہے تو صرف قتل کر دے۔ اور چاہے تو ان کے ساتھ ہاتھ پاؤں کے کٹوانے کو بھی جمع کر دے۔ یعنی ہاتھ اور پاؤں بھی مخالف سمت سے کاٹے اور سولی بھی دے دے۔ اور یہاں ہاتھ اور پاؤں بھی مخالف سمت سے کاٹے اور قتل بھی کر دے تو کتنی صورتیں ہو گئیں؟ چار صورت۔ صرف قتل۔ صرف سولی۔ قتل مع۔ قتل مع قطع۔ سولی مع قطع۔ چاروں کا اختیار ہوگا اس صورت کے اندر۔ تو امام صاحب فرماتے ہیں جب مال بھی لیا اور قتل بھی کیا ہو صرف اسی حالت میں سولی دی جا سکتی ہے اور حالتوں میں سولی اتنی دی جا سکتی، لیکن یہ حالت صرف سولی کے ساتھ خاص نہیں ہے بلکہ اس حالت میں اور بھی سزائیں چار صورتیں ان میں سے جو بھی دینا چاہے خلیفہ دے سکتا ہے۔ صورت عبارت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جی۔ بحيص لا يجوز فيھا غيره اس حیثیت سے کہ اس میں اس کے علاوہ جائز ہی نہ ہو یعنی ایسا نہیں ہے بلکہ اس میں چار کل چار صورتیں ہیں بل أثبت للإمام الخيار في فی الأربعة۔ بلکہ ثابت کیا امام صاحب نے خلیفہ کے لیے اختیار کو چار چیزوں کے اندر۔ إن شاء قطع اگر چاہے تو کیا کرے؟ ہاتھ پاؤں کا قطع کرے یعنی ہاتھ پاؤں کو کاٹے ثم قتل پھر کیا کر دے؟ قتل کر دے۔ أو صلب صلب کہا تھا کہ قتل پر۔ اگر چاہے تو ہاتھ پاؤں کاٹے ثم صلب پھر کیا کر دے؟ تو دیکھو قطع اور قتل اور قطع اور سولی دونوں یہ آ گئیں وإن شاء قتل أو صلب اور صلب من غير قطع اور چاہے تو صرف قتل یا سولی دے دے بغیر قطع کے ہی کتنی صورتیں ہو گئیں؟ چار۔ لأن الجن بھئی یہ کیوں چار صورتیں کیوں؟ کہتے ہیں لأن الجناية تحتمل الاتحاد والتعدد۔ اسی کیونکہ جنایت اتحاد اور تعدد دونوں کا احتمال رکھتی ہے۔ اتحاد ہے بھئی دیکھا جائے تو جرم متحد ہے ایک ہی جرم ہے کیا جرم ہے؟ ڈاکا ڈالا ہے۔ کیا کیا ہے؟ ڈاکا ڈالا ہے، قطع طریق کیا ہے۔ اور دیکھا جائے تو جرم کے اندر تعدد بھی ہے بھئی کیا جرم کیا؟ قتل بھی کیا ہے، مال بھی لوٹا ہے دیکھا جائے تو دو جرم ہیں بھئی۔ تو من وجہ جرم ایک من وجہ جرم دو تو جرم کے اندر یہاں جنایت میں اتحاد کا بھی احتمال اور تعدد کا بھی احتمال فتراعا كلتا الجهتين فيه۔ تو رعایت رکھی گئی اس میں دونوں جہتوں کی۔ دونوں جہتوں کی رعایت رکھی گئی بھئی۔ بھئی جرم دو ہیں تو سزائیں بھی دو ہونی چاہئیں۔ قطع بھی ہو اور قتل یا سولی بھی ہو۔ قطع ہو کس لیے؟ مال لوٹا ہے۔ سولی ہو کس لیے؟ قتل کیا ہے بھئی۔ تو جرم متعدد تو سزا بھی کیا ہونی چاہیے؟ متعدد۔ صورت سمجھ میں آ گئی جب مال بھی لوٹا ہے بھئی جرم دو ہیں مال بھی لوٹا ہے اور قتل بھی کیا ہے تو مال لوٹنے کی وجہ سے کیا آ جائے گا؟ قطع اور قتل کی وجہ سے سولی یا قتل جو بھی بنا لیں۔ اور دیکھا جائے تو جرم ایک ہی ہے بھئی کیا کیا انہوں نے؟ ڈاکا ڈالا ہے بھئی تو جرم ایک ہے اس اعتبار سے سزا بھی ایک ہی یعنی صرف سولی دے دے یا صرف کیا کر دے؟ قتل کر دے۔ تو دونوں کی رعایت رکھی بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ حدیث سے تو یہ معلوم ہو رہا تھا کہ جب قتل اور اخذ مال کیا ہو تو صرف کیا دی جائے؟ سولی لیکن امام صاحب بھئی۔ جو پھر مسائل کی اتنی گہرائی میں چلے جاتے ہیں کہ وہاں تک جانا کسی کے بس میں نہیں رہتا وہ فرماتے ہیں چار صورتیں یہاں جائز ہیں بھئی۔ چار صورتیں بھئی۔ اور ان کی دلیل جو ہے دیگر آیات اور احادیث ہیں بھئی۔ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں فمن اعتدی علیکم فاعتدوا علیه بمثل ما اعتدی علیکم۔ تم پر جو کوئی زیادتی کرے تو تم بھی اس کے ساتھ اسی کے مثل زیادتی کرو بھئی۔ یعنی اتنا ہی بدلہ تو انہوں نے بھی کیا کیا ہے؟ دو جرم کیے ہیں تو ان کو بھی سزا اتنی ہی ہونی چاہیے بھئی۔ حدیث میں تو صرف سولی کا ذکر ہے لیکن امام صاحب فرماتے ہیں قطع بھی کر سکتے ہیں جرم متعدد ہیں تو سزا بھی جو جتنی زیادتی کرے اسی کی زیادتی کے مثل اس کو اس کو بدلہ دیا جائے گا۔ نہیں قرآن میں اللہ کیا فرماتے ہیں فجزاء سيئة سيئة مثلها۔ برائی کا بدلہ اسی کے مثل برائی ہے بھئی تو جرم جب دو ہیں تو سزا بھی کتنی ہو؟ دو ہونی چاہیے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ آیتیں وغیرہ اور اسی طرح اور احادیث بھی امام صاحب کی کا مستدل ہیں بھئی۔ جیسے وہ حدیث عورنیین کی وہ حدیث آئی تھی بھئی۔ ما قبل میں واقعہ ذکر ہو چکا بھئی یہ حدیثیں وغیرہ اور یہ آیتیں امام صاحب کے کا مستدل ہیں بھئی۔ والمُراد من النّفی ليس الجلاء عن الوطن۔ اور نفی سے مراد وطن سے جلا وطنی نہیں ہے كما يوهمه الظاہر جیسے کہ ظاہر اس کا وہم ڈالتا ہے۔ بل النّفی عن الظھور علی وجہ الأرض بلکہ نفی ہے۔ زمین پر سے ظہور کی نفی ہے یعنی ان کو ظاہر زمین پر نہ چھوڑو یعنی ان کو کس میں ڈال دو؟ قید میں۔ بل النّفی عن الظھور علی وجہ الظھور بلکہ ظہور کی نفی ہے زمین کے اوپر سے زمین کے اوپر سے ظہور کی نفی ہے بان يحبس بعيد طور کہ ان کو قید میں ڈالا جائے حتی يتوب یہاں تک کہ وہ کیا کر لیں؟ توبہ کر لیں بھئی۔ ثم شرع في مثال آخر لمجازھا علی مذہب أبي حنیفة رحمہ اللہ تعالی خاصتا۔ پھر شروع ہوئے مصنف ایک دوسری مثال میں لمجازھا ای لمجاز او کس کے مجاز میں؟ او کے مجاز کی ایک دوسری مثال میں شروع ہوئے علی مذہب أبي حنیفة رحمہ اللہ خاصتا خاص طور پر امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے مذہب پر۔ فقال پس فرمایا۔ وقالا اور صاحبین فرماتے ہیں اذا قال لعبده ودابته هذا حر أو هذا۔ صورت مسئلہ یہ ایک شخص جو تھا اس کا غلام کھڑا تھا اور ساتھ ہی اس کا کوئی جانور بھی سواری کا کھڑا ہے گھوڑا کھڑا ہے یا گدھا وغیرہ تو اس نے اشارہ کر کے کہا ان دونوں کی طرف هذا حر أو هذا۔ ایک تو غلام ہے اور ایک تو وہ جانور ہے۔ هذا حر أو هذا۔ جی۔ صاحبین فرماتے ہیں کہ اس شخص کا یہ قول باطل ہو جائے گا۔ امام صاحب فرماتے ہیں کہ وہ غلام آزاد ہو جائے گا بھئی۔ مسئلہ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ بھئی کیوں صاحبین کے نزدیک یہ قول کیوں باطل ہوگا؟ بھئی وجہ اس کی یہ کہ یہ۔ مجازی معنی جو ہے مجازی معنی کی طرف تب ہی جائیں گے جب حقیقی معنی ممکن ہو بھئی اور یہاں او کا حقیقی معنی ممکن ہی نہیں ہے بھئی۔ او کا حقیقت۔ او کا مجازی معنی تو یہ ہے کہ کوئی معین مراد لیا جائے اور حقیقی معنی یہ ہے کہ کوئی ایک غیر معین تو حقیقی معنی ہوا او کا واحد غیر معین۔ جانی زید أو عمرو کیا معنی ہوتا ہے؟ جانی واحد غیرہ معین۔ تو او کا حقیقی معنی کیا ہے؟ واحد غیر معین اور او کا مجازی معنی کیا ہے؟ واحد معین کوئی ایک متعین مراد ہو۔ تو یہاں پر حقیقی معنی تو یہ ہے کہ ان دونوں میں سے غیر متعین کو آزاد ہونا چاہیے اور مجازی معنی کیا کہ ایک متعین کو کیا ہونا چاہیے یعنی غلام کو آزاد ہونا چاہیے صاحبین فرماتے ہیں کہ حقیقی معنی کو چھوڑ کر مجازی معنی کی طرف تب جائیں گے جب حقیقی معنی ممکن بھی ہو اور یہاں حقیقی معنی ممکن ہی نہیں ہے حقیقی معنی کیا تھا؟ واحد غیر معین اور یہاں واحد غیر معین یہ آزادی یہ درست ہی نہیں ہے اس لیے کہ اس نے کس چیز کو ذکر کیا ہے؟ آزادی کو ذکر کیا ہے اور آزادی غلام میں تو صلاحیت ہے آزادی کو قبول کرنے کی جانور کے اندر آزادی کو قبول کرنے کی صلاحیت ہی نہیں ہے تو لہذا یہاں آزادی ثابت ہو واحد غیر معین کے لیے یہ ممکن ہی نہیں ہے۔ آزادی کس کے لیے ثابت ہو؟ واحد غ یا ممکن ہی نہیں ہے یہاں تو ایک متعین ہی ہے اسی میں آزادی ہو سکتی ہے دوسرے میں تو آزادی کا امکان ہی نہیں ہے تو لہذا یہاں حقیقی معنی ممکن نہیں واحد غیر معین والا موازنہ ممکن نہیں۔ جب واحد غیر معین والا معنی یعنی حقیقی معنی ممکن نہیں تو اور پھر مجازی معنی کی طرف بھی ہم نہیں جائیں گے جیسے اس مثال کے اندر تھا ایک شخص نے اپنے سے بڑی عمر کے غلام کو کہا تھا هذا ابنی یہ کیا ہے میرا بیٹا ہے صاحبین فرماتے ہیں بھئی یہ حقیقی معنی یہاں ممکن ہی نہیں ہے کہ عمر میں بڑا اس کا بیٹا ہو ہی نہیں سکتا لہذا مجازی معنی حریت یہاں نہیں آئے گا اور وہ شخص آزاد نہیں تو یہاں پر بھی او کا حقیقی معنی ممکن نہیں تو مجازی معنی کی طرف بھی نہیں جائیں گے لہذا غلام آزاد نہیں۔ جبکہ امام صاحب کے نزدیک مجاز خلیفہ ہے حقیقت کا کس چیز میں؟ تکلم کے اندر، یعنی وہ لفظ کیا ہوں؟ صحیح ہونے چاہئیں، عقلاً صحیح ہوں، عربی کے اعتبار عربی اعتبار سے صحیح ہوں، تو پھر جب حقیقی معنیٰ ممکن نہ ہو، تو بھی جب لفظ حقی تکلم کے اعتبار سے صحیح ہیں، مجاز کی طرف جانا صحیح ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ حقیقی معنیٰ تو ممکن نہیں۔ آزادی واحدِ غیرِ معین کے لیے تو یہاں نہیں ہو سکتی، لیکن واحدِ معین یہ ”او“ کا مجازی معنیٰ ہے۔ لہٰذا اس کی طرف چلے جائیں گے، اور واحدِ معین کون ہے؟ غلام ہے، اس میں کیا آ جائے گی؟ آزادی آ جائے گی بھئی۔ بھئی واحدِ معین کس طرح اس کا مجازی معنیٰ ہے؟ کہتے ہیں بھئی اس کا اس میں احتمال ہے، کس میں؟ ”او“ میں۔ جبھی تو ایک شخص نے جب کہا تھا ”ھٰذا حرٌ او ھٰذا“، تو قاضی اس کو مجبور کر سکتا ہے یا نہیں کر سکتا بیان پر؟ آپ پڑھ چکے ہیں، قاضی مجبور کرے گا کہ بتاؤ متعین کرو ایک کو، معلوم ہوا واحدِ متعین کا ”او“ میں احتمال ہے، جبھی قاضی اس کو مجبور کر کر رہا ہے۔ اگر اس میں احتمال ہی نہ ہوتا ایک چیز کا اس پر قاضی کیسے کسی کو مجبور کر سکتا ہے بھئی؟ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ معلوم ہوا ”او“ کے اندر واحدِ معین کا احتمال ہے بھئی۔ تو اسی کو پھر ہم ثابت کر دیں گے جب واحدِ غیرِ معین کو مراد نہ لے سکیں۔ دیکھیے! ”وقالَ“، صاحبین فرماتے ہیں: ”إذا قالَ لِعبدِہٖ ودابَّتِہٖ ھٰذا حرٌ او ھٰذا“، کہ جب کسی شخص نے اپنے غلام اور اپنے جانور سے کہا ”ھٰذا حرٌ او ھٰذا“، یہ آزاد ہے یا یہ، صاحبین فرماتے ہیں: ”إنَّہٗ باطلٌ“، یہ باطل ہوگا اس کا کلام، ”لأنَّہٗ اسمٌ لأحدِہِما غیرِ عینٍ“، اس لیے کیونکہ ”او“ جو ہے، اس لیے کیونکہ ”او“ وہ نام ہے ”لأحدِہِما غیرِ عینٍ“، ان دو میں سے ایک غیرِ معین کا۔ ”او“ کس لیے آتا ہے؟ واحدِ غیرِ معین کے لیے نہ، وہی تو بیان کر رہے ہیں: ”لأنَّہٗ“، اس لیے کیونکہ ”او“ جو ہے وہ نام ہے ”لأحدِہِما غیرِ عینٍ“، یعنی ان دونوں میں سے ایک غیرِ معین یعنی واحدِ غیرِ معین کا نام ہے، ”وذلكَ غیرُ محلٍّ للعتقِ“، اور یہ واحدِ غیرِ معین، یہ تو آزادی کا محل نہیں۔ بھئی دو چیزوں کی طرف اشارہ کیا ہے، تو واحدِ غیرِ معین آزادی کا محل ہے؟ آزادی کا محل کون؟ واحدِ معین ہے۔ واحدِ غیرِ معین تو آزادی کا محل نہیں۔ یہی بات بیان کر رہا ہے: ”وذلكَ غیرُ محلٍّ للعتقِ“، اور یہ واحدِ غیرِ متعین جو ہے یہ تو آزادی کا محل نہیں ہے، ”لأنَّ حقیقتَ کلمۃِ او“، اس لیے کیونکہ کلمۂ ”او“ کی حقیقت یہ ہے ”أن یردَّدَ بینَ الشیئینِ“ کہ وہ تردید کرتا ہے دو چیزوں کے درمیان، ”یکونُ کلُّ واحدٍ منہما صالحاً لذلكَ الحکمِ علی سبیلِ البدلِ“، کہ وہ تردید کرتا ہے دو چیزوں کے درمیان کہ ہو ان دونوں میں سے ہر ایک صلاحیت رکھنے والی اس حکم کی بدل کے طریقے پر، کہ ان دونوں میں سے ہر ایک کیا ہو؟ بدل کے طریقے پر اس حکم کی صلاحیت رکھتا ہو۔ ”حتی یعینَ المتکلمُ بعدَ ذلكَ احدَہما“، یہاں تک کہ پھر متکلم بعد میں متعین کرے ان دونوں میں سے ایک کو۔ صلاحیت دونوں میں ہونی چاہیے، پھر متکلم بعد میں کیا کر سکتا ہے؟ ان دونوں میں سے ایک کو متعین کر سکتا ہے۔ ”وھاہنا الدابَّۃُ غیرُ صالحۃٍ للعتقِ“، اور یہاں پر دابہ جو ہے وہ آزادی کی صلاحیت نہیں رکھتا، ”فأحالَ الحکمُ الحقیقیُّ“، تو یہاں پر حکمِ حقیقی محال ہوا، یعنی واحدِ غیرِ معین والا معنیٰ محال ہوا، ”فبطلَ الکلامُ“، تو کلام باطل ہوا۔ ”و قیلَ“، اور کہا گیا ہے، بھئی یہ تو تقریر کی بعض علماء نے، بعض علماء نے یہ مذہب بیان کیا صاحبین کا۔ بعض علماء نے ذکر کیا کہ صاحبین کا یہ مذہب اس صورت میں ہے جب اس کہنے والے نے کوئی نیت نہ کی ہو۔ جب کوئی نیت نہیں کی تو کلام کے حقیقی معنیٰ پر عمل ممکن نہ رہا، اور جب حقیقی معنیٰ پر عمل ممکن نہ رہا تو مجازی معنیٰ کی طرف بھی ان کے مذہب کے مطابق نہیں جا سکتے۔ لیکن اگر کہنے والے نے نیت کی تھی غلام کی، ”ھٰذا او ھٰذا حرٌ“، جب اس نے نیت کی تھی غلام کی، تو اس صورت میں غلام آزاد ہو جائے گا بھئی۔ کیوں؟ کیونکہ ”او“ واحدِ معین کا احتمال تو رکھتا ہے، اور جب احتمال رکھتا ہے اور پھر نیت بھی کر لی تو وہی احتمال کیا ہو جائے گا؟ ثابت ہو جائے گا۔ ”وقیلَ“، اور کہا گیا ہے کہ ”إنَّ ھٰذا إذا لم ینوِ“، کہ یہ اس وقت ہے صورت جب اس نے نیت نہ کی ہو، ”وإن نوَی العبدَ خاصَّۃً“، اور اگر اس نے خاص طور پر غلام کی نیت کی ہے، ”یعتقُ عندہما علی ما فی المبسوطِ“، تو وہ غلام آزاد ہو جائے گا صاحبین کے نزدیک، بنا بر اس کے جو کہ مبسوط کتاب میں ہے۔ ”وعندہٗ“، اور امام صاحب کے نزدیک، ”ہوَ کذلكَ“، وہ یہ اسی طرح ہے۔ یہ کیا اسی طرح؟ کہ ”او“ جو ہے وہ واحدِ غیرِ معین کے لیے آتا ہے۔ کس کے لیے آتا ہے؟ کہ وہ ”او“ جو ہے وہ اسی طرح ہیں، یعنی ”او“ واحدِ غیرِ معین کے لیے آتا ہے، ”لکن علی احتمالِ التعیینِ“، لیکن کس احتمال پر؟ تعیین کا، اس میں تعیین کا بھی تو احتمال ہوتا ہے۔ ”یعنی قالَ ابو حنیفۃَ رحمہُ اللہُ“ کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”إنَّ الأمرَ کذلكَ فی الحقیقۃِ ونفسِ الأمرِ“، کہ معاملہ اسی طرح ہے حقیقت اور نفس الامر میں، ”علی ما قلتم“، بنا بر اس کے جو آپ نے کہا کہ ”او“ کس لیے آتا ہے؟ واحدِ غیرِ معین کے لیے، ”لکنَّہٗ علی سبیلِ المجازِ يحتملُ التعیینَ“، لیکن یہ مجاز کے طریقے پر تعیین کا احتمال رکھتا ہے، ”حتی لزمَہُ التعیینُ“، یہاں تک کہ اس پر کیا لازم ہو جائے گی؟ تعیین لازم ہو جائے گی، ”کما فی مسئلۃِ العبدینِ“، جیسے کس کے اندر تھا؟ بھئی جب اس نے کہا تھا ”ھٰذا حرٌ او ھٰذا“ دو غلاموں کی طرف، تو اس وقت اس پر تعیین واجب ہوئی تھی یا نہیں ہوئی تھی؟ وہ تعیین لازم ہو گئی تھی، کیوں لازم ہوئی تھی؟ کیونکہ یہ ”او“ تعیین کا احتمال رکھتا ہے، اسی لیے۔ ”جی بأن یردَّدَ بینَ العبدینِ“، بعینِ طور کہ وہ تردید کرتا ہے دو غلاموں کے درمیان، ”ویقولُ“، اور کہتا ہے: ”ھٰذا حرٌ او ھٰذا“، کہ یہ آزاد ہے یا یہ، ”فیجبرُہُ القاضی علی التعیینِ“، تو مجبور کرے گا اس کو قاضی تعیین پر، ”فلو لم یکن يحتملُ التعیینَ لما اجبرَہٗ علیہِ“، اگر ”او“ جو ہے وہ احتمال نہ رکھتا تعیین کا، ”لما اجبرَہٗ علیہِ“، تو قاضی اس کو اس پر مجبور نہ کرتا، تعیین پر مجبور نہ کرتا۔ ”والعملُ بالمحتملِ اولٰی من الاہدارِ“، اور عمل کرنا محتمل پر یہ بہتر ہے اس ضائع کرنے سے۔ بھئی کلام کے احتمال پر عمل کر لینا بہتر ہے کہ کلام کو بالکل ہی ضائع اور لغو کر دیا جائے۔ صاحبین کا قول لیا جائے تو اس شخص کا یہ کلام کہ ”ھٰذا حرٌ او ھٰذا“، یہ تو کیا ہو جاتا ہے؟ لغو قرار دینا پڑتا ہے۔ تو بجائے اس کے کلام کو لغو قرار دیا جائے، بہتر ہے کہ کلام کو اس کے ایک احتمال پر محمول کر لیا جائے جس کا اس میں احتمال بھی ہو، اور یہاں پر بھی ”او“ کے اندر کس چیز کا احتمال ہے؟ واحدِ معین کا احتمال تو ہے، اسی پر محمول کر لیتے ہیں۔ یہ معنیٰ ہے ”والعملُ بالمحتملِ اولٰی من الاہدارِ“، اور محتمل پر عمل کرنا یہ اولیٰ ہے اہدار سے، بیکار چھوڑنے سے ہی، ضائع کرنے سے ہی، لغو کرنے سے ہی، ”لأنَّ کلامَ العاقلِ البالغِ یصحَّحُ حتی الامکانِ“، اس لیے کیونکہ عاقل بالغ شخص کا کلام جو ہے ”یصحَّحُ“، اس کی تصحیح کی جائے گی، اس کی درستگی کی جائے گی ”حتی الامکانِ“، بقدرِ امکان، یعنی جہاں تک ممکن ہو سکے اس کی تصحیح کی جائے گی، ”حتی الامکانِ“، جہاں تک ممکن ہو سکے، ”بالحقیقۃِ او بالمجازِ“، حقیقت یا مجاز کے ذریعے اس کی تصحیح کی کوشش کی جائے گی۔ ”فجعلَ ما وضعَ لحقیقتِہٖ مجازاً عمَّا يحتملُہٗ“، پس قرار دیا یعنی بنا دیا ”ما“، ”ما“ سے کیا مراد ہے؟ ”او“، پس بنایا امام صاحب نے ”او“ کو، وہ ”او“ ”وضعَ لحقیقتِہٖ“، جس کو وضع کیا گیا تھا کس کے لیے؟ اپنی حقیقت کے لیے، کیا حقیقی معنیٰ تھا ”او“ کا؟ واحدِ غیرِ معین، تو یہ ”او“ جس کو وضع کیا گیا تھا اپنی حقیقت کے لیے یعنی واحدِ غیرِ معین کے لیے، اس کو بنایا امام صاحب نے ”مجازاً“، کیا بنایا؟ مجاز، ”عمَّا يحتملُہٗ“، اس چیز سے جس کا اس میں احتمال تھا یعنی کس سے؟ واحدِ معین سے۔ معنیٰ سمجھ میں آ گیا؟ تو امام صاحب نے اس ”او“ کو جس کو اپنی حقیقت کے لیے وضع کیا گیا تھا اس کو مجاز بنا دیا اس معنیٰ سے جس کا اس میں احتمال تھا یعنی واحدِ معین سے، ”وإن استحالت حقیقتُہٗ“، اگرچہ اس کا حقیقی اس کے حقیقت اس کی محال ہے یعنی حقیقی معنیٰ اگرچہ محال ہے، کیونکہ ایک جانور ایک جانور ہے تو واحدِ غیرِ معین یہاں لے ہی نہیں سکتے، وہ تو محال ہے، لیکن پھر بھی محال ہونے سے کچھ نہیں ہوتا، امام صاحب کے نزدیک خلیفہ کس چیز میں ہے؟ تکلم میں ہے بھئی، تکلم میں ہے۔ ”فجرَی علی اصلِہِ المذکورِ“، پس امام صاحب چلے اپنے اصل اپنے اسی ضابطے پر جو ذکر ہوا تھا ”فی قولِہٖ“، اس شخص کے اس قول کے اندر ”للأکبرِ سنّاً منہُ“، جو جب اس نے کس سے کہا تھا؟ اپنے سے عمر میں بڑے غلام کو کہا تھا ”ھٰذا ابنی“، تو وہاں پر جو اصل ذکر ہوا تھا امام صاحب کا، امام صاحب اسی پر چلے، ”بجعلِہٖ مجازاً عمَّا يحتملُہٗ بعدَ استحالۃِ الحقیقۃِ“، بناتے ہوئے اس ”او“ کو مجاز اس معنیٰ سے جس کا اس میں احتمال تھا بعد اس کے کہ جب حقیقت محال ہو گئی، حقیقت پر عمل ممکن نہ رہا، جیسے ”ھٰذا ابنی“ میں حقیقت محال تھی، تو پھر ہم کس کی طرف چلے گئے تھے؟ مجاز کی طرف، تو یہاں پر بھی حقیقی معنیٰ یعنی واحدِ غیرِ معین وہ محال ہوا تو ہم واحدِ معین کی طرف چلے گئے، ”وھُما ینکرانِ الاستعارۃَ“، اور صاحبین جو ہیں وہ اس استعارے کا انکار کرتے ہیں، یعنی استعارہ کس کو کہتے ہیں بھئی اصولِ فقہ میں؟ مجاز ہی کو کہتے ہیں۔ صاحبین اس مجاز کا انکار کرتے ہیں ”عندَ استحالۃِ الحکمِ“، جبکہ حکم کیا ہو؟ محال ہو، یعنی جب حقیقی معنیٰ ممکن نہ ہو تو پھر مجازی معنیٰ بھی وہ کہتے ہیں لینا جائز نہیں، ”فہُما جَرَیَا أيضاً علی اصلِہِما فی ذلكَ المثالِ“، تو صاحبین بھی چلے یہاں پر اپنے اصل اپنے قانون پر جو کس میں ذکر کیا گیا تھا؟ اس مثال میں، ”فیبطلُ ھاہنا کما بطلَ ثمَّ“، تو یہاں پر بھی یہ کلام اس کا باطل ہو جائے گا، لغو ہو جائے گا، ”کما بطلَ ثمَّ“، جیسے اس شخص کا کلام ”ھٰذا ابنی“ وہاں پر باطل ہوا تھا صاحبین کے نزدیک۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ ”ثمَّ“ کیا ہے؟ اسمِ اشارہ ہے، اس کے ساتھ کبھی ”ہا“ ملا دیتے ہیں اور کبھی ”ہا“ نہیں ملاتے بھئی۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله اعلم بحقیقة الکلام۔