درس نمبر۔60 و قول احد المذكورين وقوله "هذا حر أو هذا" كقوله "أحدهما حر". وهذا مختار شمس الأئمة وفخر الإسلام رحمهما الله تعالى. وذهبت طائفة من الأصوليين وجماعة النحويين إلى أنها موضوعة للشك. جي، آج 'أو' کی بحث ہم پڑھیں گے بھئی۔ 'أو' جو ہے مصنف رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "و أَوْ لأحد المذكورين". 'أو' جو ہے دو مذکور چیزوں میں سے ایک کے لیے ہوتا ہے بھئی۔ دو مذکور چیزوں میں سے ایک کے لیے ہوتا ہے۔ مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں: "جاءني زيدٌ أو عمروٌ". میرے پاس زید یا عمر آیا۔ معلوم ہوا مجیئت ان دونوں میں سے ایک کے لیے ثابت ہے۔ یہ جو معطوف اور معطوف علیہ ہیں، جن کے درمیان 'أو' کے ذریعے عطف کیا گیا، ان دونوں میں سے ایک کے لیے مجیئت ثابت ہے بھئی، ایک کے لیے۔ تو کہتے ہیں 'أو' جو ہے وہ دو مذکور چیزوں میں سے ایک کے لیے آتا ہے۔ "وقوله": اور کسی شخص کا یہ قول "هذا حر أو هذا". 'واؤ' ہے آپ کی کتابوں میں بھئی؟ ہاں، یہ 'واؤ' نہیں ہونا چاہیے، یہ کتابت کی غلطی ہے بھئی۔ سمجھ میں आया؟ منار کے دیگر نسخوں میں یہ 'واؤ' موجود نہیں بھئی اور یہاں جڑتا بھی نہیں، مناسب بھی نہیں لگتا۔ "وقوله": اور کسی شخص کا یہ قول "هذا حر أو هذا" کہ یہ آزاد ہے یا یہ، "كقوله": یہ اس کے اس قول کی طرح ہے کہ "أحدهما حر" کہ اس نے گویا کیا کہا ہے: "أحدهما حر" ان دونوں میں سے ایک آزاد ہے۔ کہتے ہیں بھئی 'أو' جو ہے 'أحد المذكورين' کے لیے آتا ہے، دو چیزوں میں سے ایک کے لیے۔ لہذا اگر کوئی شخص یوں کہے اپنے دو غلاموں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے: "هذا حر أو هذا"، یہ آزاد ہے یا یہ، تو یہ اسی طرح ہے گویا اس نے یوں کہا: "أحدهما حر"، ان دونوں میں سے ایک آزاد ہے بھئی۔ کیونکہ 'أو' کس کے لیے آیا کرتا ہے؟ 'أحد المذكورين' کے لیے، تو ان دونوں میں سے ایک آزاد ہے۔ جی، آگے فرماتے ہیں: "وهذا مختار شمس الأئمة وفخر الإسلام". اور یہ شمس الأئمة اور علامہ فخر الإسلام رحمہما الله تعالى، یہ ان کا مختار ہے، یہ ان کا پسندیدہ مذہب ہے بھئی، یہ قول ہے ان کا، کہ 'أو' کس کے لیے آتا ہے؟ 'أحد المذكورين' کے لیے۔ "وذهبت طائفة من الأصوليين": اور أصوليين کا ایک گروہ جو ہے وہ اس بات کی طرف گیا ہے "وجماعة النحويين": علمائے اصول فقہ کا ایک گروہ اور نحویوں کی جماعت اس بات کی طرف گئی ہے "إلى أنها موضوعة للشك": کہ یہ جو 'أو' ہے، یہ وضع ہے شک کے لیے۔ بھئی، شمس الأئمة اور فخر الإسلام رحمہما الله، وہ تو یہ فرماتے ہیں کہ 'أو' جو ہے وہ دو مذکور چیزوں میں سے ایک کے لیے آئے گا، جبکہ بعض علمائے اصول فقہ اور علمائے نحو کیا فرماتے ہیں کہ 'أو' جو ہے وہ شک کے لیے ہوتا ہے، کس کے لیے؟ شک کے لیے۔ شارح فرماتے ہیں: "وهو ليس بسديد"، یہ صحیح نہیں ہے، یہ درست نہیں ہے، کہ 'أو' کس کے لیے ہے؟ شک کے لیے۔ وجہ اس کی کیا؟ وجہ اس کی آگے ذکر کریں گے کہ بھئی دیکھو، یہ جو کلام ہے، جو ہم کلام کرتے ہیں، اس کلام کو وضع کیا گیا ہے بات کو سمجھانے کے لیے، کس کے لیے؟ بات کو سمجھانے کے لیے، یعنی کلام کو وضع کیا گیا ہے افہام کے لیے، بات کو سمجھانے کے لیے۔ اور دوسرے کو شک میں ڈالنا، اس میں تو افہام نہیں ہے۔ کلام کو کس لیے وضع کیا گیا ہے؟ افہام کے لیے، بات کو سمجھانے کے لیے، اور دوسرے کو شک میں ڈالا جائے، تو اس میں تو افہام نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آرہی ہے؟ دوسرے کو کس میں ڈالا جائے؟ دوسرے کو شک میں ڈالنا اس کے اندر تو افہام نہیں ہے بھئی۔ دوسرے کو جب شک میں ڈالا جا رہا ہے، تو افہام کہاں سے آیا بھئی؟ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ جی، تو یہ معنی ہے کہ یہ درست نہیں ہے۔ وجہ اس کی یہ، کیونکہ کلام کو وضع کیا گیا ہے افہام کے لیے، اور دوسرے کو شک میں ڈالنے کے اندر افہام نہیں ہے بھئی، افہام نہیں ہے۔ یہ معنی ہے کہتے ہیں۔ وہ شارح فرماتے ہیں: "وهو ليس بسديد؛ لأن الشك ليس معنى مقصوداً للمتكلم قصد تفهيمه للمخاطب". اس لیے کیونکہ شک جو ہے وہ ایسا معنی مقصود نہیں ہے متکلم کے لیے کہ "قصد تفهيمه للمخاطب" کہ اس نے ارادہ کیا ہو اس کے سمجھانے کا مخاطب کو۔ شک تو کوئی ایسا معنی مقصود نہیں ہے کہ متکلم نے اس کو دوسرے کو سمجھانے کا ارادہ کیا ہو بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ جی، شک کوئی ایسا معنی نہیں کہ دوسروں کو سمجھانا چاہو مقصود ہو بھئی۔ بھئی، میں نے کیا بتلایا؟ کہ کلام کس لیے وضع ہے؟ افہام کے لیے۔ اور 'أو' لائیں گے تو دوسرا شک میں پڑے گا، اور انھوں نے کہا کہ 'أو' کس لیے وضع ہے؟ شک کے لیے۔ تو دوسرے کو شک میں ڈالنا اس میں تو کوئی افہام نہیں ہے، اور کلام تو وضع ہے کس کے لیے؟ افہام کے لیے۔ افہام کے لیے، یہ معنی ہے بھئی۔ معنی اچھی طرح سمجھ میں آگیا بھئی؟ جی، تو یہ شک کے لیے وضع نہیں ہے بھئی۔ "وإنما يلزم الشك من محل الكلام": اور کہتے ہیں جو شک لازم آتا ہے وہ محلِ کلام کی وجہ سے لازم آتا ہے، "وهو الخبر المجهول": اور وہ محلِ کلام کیا ہے جس کی وجہ سے شک لازم آتا ہے؟ وہ خبرِ مجهول ہے کہ خبر کیا ہوتی ہے؟ مجهول ہوتی ہے۔ مثلاً، میں آپ سے کہتا ہوں: "زيدٌ کاتبٌ أو شاعرٌ". تو زید ہے مبتدا، "کاتبٌ أو شاعرٌ" یہ کیا ہے اس کی خبر، لیکن خبر مجهول ہے۔ پتہ نہیں کاتب ہے یا شاعر ہے۔ تو خبر مجهول ہونے کی بناء پر یہاں شک آگیا، کیونکہ دو چیزیں ذکر ہیں، ان کے درمیان 'أو' ذکر کیا گیا، تو تعین نہ ہوئی، پتہ نہ چلا خبر کیا ہو گئی؟ مجهول، کہ پتہ نہیں زید کاتب ہے یا شاعر ہے، علم نہ ہو سکا۔ تو یہ جو شک آیا ہے، یہ محلِ کلام کی وجہ سے آیا ہے، کس کی وجہ سے؟ محلِ کلام کی وجہ سے، محلِ کلام کی وجہ سے۔ جی، تو یہ معنی ہے: "وإنما يلزم الشك من محل الكلام"، اور جو شک لازم آتا ہے وہ محلِ کلام کی وجہ سے آتا ہے۔ "وهو الخبر المجهول": وہ خبرِ مجهول ہے۔ خبرِ مجهول ہے۔ "ولذا لزم منه التخيير في الإنشاء": اور اس اسی وجہ سے لازم آتا ہے 'أو' کی وجہ سے تخییر انشاء میں، انشاء کے اندر تخییر لازم آتی ہے۔ یعنی اختیار ثابت ہوتا ہے کس کے اندر؟ انشاء میں۔ کیونکہ 'أو' 'أحد المذكورين' کے لیے آتا ہے، تو لہذا انشاء میں تخییر آئے گی۔ مثلاً، میں آپ سے کہتا ہوں، دو کتابیں سامنے پڑی ہیں، میں آپ سے کہتا ہوں: "خذ هذا الكتاب أو هذا الكتاب". یہ کتاب لے لیجیے یا یہ والی کتاب لے لیجیے۔ اب "خذ" لے کر آیا، امر۔ امر کیا ہے؟ انشاء، اور جو مفعول ہے، اس میں میں نے کیا لفظ عطف کس کے ذریعے کیا؟ 'أو' کے ذریعے، تو انشاء انشاء تو محلِ شک نہیں ہے بھئی، انشاء میں تو ایک چیز کو وجود دیا جاتا ہے۔ کیا کیا جاتا ہے؟ ایک چیز کو وجود دیا جاتا ہے۔ شک تو خبر میں ہو سکتا ہے، انشاء میں؟ بھئی، بتلایا نہ، محلِ کلام کی وجہ سے شک آتا ہے اور وہ اس وجہ سے کہ خبر مجهول ہوتی ہے، لیکن انشاء کے اندر تو شک نہیں ہو سکتا، کیونکہ وہاں تو کیا کیا جا رہا ہے؟ ایک چیز کو وجود دیا جا رہا ہے۔ میں نے کہا: "خذ هذا الكتاب أو هذا"، جب میں ایک چیز کو وجود دے رہا ہوں وہاں تو شک کا تعلق ہی نہیں بنتا، شک تو خبر میں تو ہو سکتا ہے، ایک چیز جس کو آپ وجود دے رہے ہیں اس میں تو شک نہیں، تو پھر کیا کریں گے؟ کیا فائدہ ہوگا؟ تو کہتے ہیں بھئی، انشاء میں آئے تو پھر یہ تخییر کا فائدہ دے گا، یعنی اختیار کو ثابت کر دے گا۔ جب میں نے آپ سے کہا: "خذ هذا الكتاب أو هذا الكتاب"، کہ یہ کتاب لے لیجیے یا یہ کتاب، تو اس میں اب آپ کے لیے تخییر ثابت ہو گئی۔ یعنی آپ کو اختیار ہے، چاہے پہلی کتاب اٹھائیں، چاہے چاہے پہلی کتاب لے لیں، چاہے دوسری کتاب لے لیں، آپ کے لیے اختیار ثابت ہو جائے گا، کیونکہ 'أو' میں لے کر آیا اور 'أو' انشاء کے اندر کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ تخییر کا فائدہ دیتا ہے کہ دوسرے کو اختیار ہو جاتا ہے دو چیزوں میں سے ایک کا بھئی، اختیار بھئی۔ اور آپ چاہیں تو دونوں کتابیں بھی اٹھا سکتے ہیں، اور اس کو کہتے ہیں اباحت۔ کیا کہتے ہیں؟ اباحت۔ تخییر کا معنی دو چیزوں میں سے ایک کو اختیار کرنا، اور اباحت کا کیا معنی؟ دونوں کا اٹھانا بھی مباح ہے، دونوں چیزوں کا اختیار کرنا بھی جائز ہے، اور یہ موقع محل سے پھر پتہ چلتا ہے۔ کہاں کہیں پر صرف تخییر ہوتی ہے اور کہیں اباحت ہوتی ہے کہ چاہے پہلی کتاب لے لو، چاہے دوسری لے لو، اور چاہے تو دونوں لے لو، وہ موقع محل سے پتہ چل جاتا ہے بھئی، موقع محل سے۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو اسی لیے کہا: "ولذا لزم منه التخيير في الإنشاء"، اور اسی وجہ سے اس 'أو' کی سے جو ہے تخییر ثابت لازم ہو جائے گی انشاء کے اندر، کیونکہ انشاء جو ہے وہ تو محلِ شک نہیں ہے، تو وہاں تخییر آئے گی 'أو' کی وجہ سے۔ "ولو سلم أن الشك مقصودٌ": بھئی، یہ کس سوال کا جواب دے رہے ہیں۔ سوال یہ کہ آپ نے اوپر کیا تقریر کی؟ کہ 'أو' 'أحد المذكورين' کے لیے آتا ہے اور بعض اصولیین اور بعض نحویوں نے جو کیا کہا تھا 'أو' شک کے لیے آتا ہے، تو آپ نے اس کو رد کیا تھا، کیونکہ دوسرے کلام کی وضع جو ہے وہ افہام کے لیے ہے اور دوسرے کو شک میں ڈالنا اس میں تو کوئی افہام نہیں ہے بھئی، کوئی افہام نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں بھئی، ٹھیک ہے، دوسرے کو شک میں ڈالنا اس میں تو افہام نہیں، لیکن مخاطب اپنا شک تو بیان کر سکتا ہے۔ مثلاً، مخاطب یہ بتلانا چاہتا ہے کہ "زيدٌ كاتبٌ أو شاعرٌ". "زيدٌ كاتبٌ أو شاعرٌ"، دوسرے کو شک میں ڈالنا تو نہیں چاہتا، لیکن یہ بتلانا چاہتا ہے کہ مجھے ان دو باتوں میں شک ہے۔ اپنے دل کی بات، اپنا شک تو ظاہر کر سکتا ہے یا نہیں اس کے ذریعے؟ دوسرے کو شک میں ڈالنا اور چیز، اپنا شک ظاہر کرنا اور چیز۔ اپنا شک تو ظاہر کر سکتا ہے کہ جب وہ کہے: "زيدٌ كاتبٌ أو شاعرٌ"، تو اس کا مقصد کیا ہے دوسرے کو کیا سمجھانا؟ اپنا شک سمجھانا ہے، اپنا شک بتلانا ہے بھئی۔ تو دیکھو، افہامِ شک ہو گیا بھئی یہاں پر، افہامِ شک کی صورت بن گئی۔ کہتے ہیں: نہیں بھئی، اگر اپنا شک بتلانا مقصود ہو تو اس کے لیے پھر 'شک' کا لفظ وضع ہے عربی کے اندر، تو پھر اس کو یوں کہنا چاہیے: "أشك في هذا أو هذا"، مجھے شک ہے اس کے اندر یا زید کے شاعر یا کاتب ہونے میں مجھے شک ہے، تو اس کے لیے 'شک' کا لفظ وضع ہے، اس کے ذریعے بیان کیا جائے گا، 'أو' کے ذریعے نہیں بیان کیا جائے گا۔ بات کہتے ہیں وہی ہے کہ 'أو' جو ہے 'أحد المذكورين' کے لیے آتا ہے، شک کے لیے نہیں بھئی۔ ہاں، شک وہ محلِ کلام کی وجہ سے پیدا ہو جائے گا جب وہ خبر ہو، خبر ہو۔ اور اگر انشاء کے اندر 'أو' آئے تو پھر وہ کس لیے ہوگا؟ تخییر کو ثابت کر دے گا بھئی، اختیار ہوگا۔ جی، "ولو سلم أن الشك مقصودٌ": اور اگر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ شک ہی مقصود ہے، یعنی اسی کا سمجھانا مقصود ہے، "فقد وضع له لفظ الشك": تو تحقیق اس کے لیے تو وضع کیا گیا ہے 'شک' کے لفظ کو۔ "وهذا الكلام إنشاءٌ يحتمل الخبر فأوجب التخيير على احتمال أنه بيانٌ": یہ سارا متن ہے۔ "وهذا الكلام" سے لے کر "أنه بيانٌ" تک، یہ متن ہے۔ "وهذا الكلام إنشاءٌ يحتمل الخبر فأوجب التخيير على احتمال أنه بيانٌ": یہ سارا کیا ہے؟ متن ہے۔ "وهذا الكلام" سے لے کر "أنه بيانٌ" تک، یہ سارا متن ہے، اس پر لکیر لگا لیجیے بھئی۔ بھئی، دیکھیے، ایک شخص ہے، وہ اپنے غلام کے بارے میں کہتا ہے: "هذا حرٌ"، آپ کیا کہیں گے؟ غلام کیا ہو گیا؟ آزاد، یعنی دیکھو یہاں انشاءِ عتق ہے، آزادی کو وہ وجود دے رہا ہے۔ وہ مالک کیا کر رہا ہے؟ آزادی کو وجود دے رہا ہے۔ کون سا لفظ اس نے کہا؟ "هذا حرٌ"، معلوم ہوا "هذا حرٌ" انشاء ہے۔ "هذا حرٌ" انشاء ہے۔ دوسری صورت بناؤ: میرے ساتھ ایک میرا ساتھی کھڑا ہے، ساتھی ہے، آزاد ہے، میں آپ سے کہتا ہوں: "هذا حرٌ"، وہی لفظ استعمال کرتا ہوں، یہ آزاد ہے، اب کیا معنی سمجھے اس کا؟ میں خبر دے رہا ہوں۔ تو یہی لفظ یہ انشاءِ عتق کے لیے بھی ہیں اور یہی لفظ خبر دینے کے لیے بھی ہیں۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ یعنی یہ پ "هذا" جب میں نے کہا کہ "هذا حرٌ"، تو میں خبر دے رہا ہوں، یہ شخص تو پہلے سے ہی آزاد ہے، اسی سابقہ آزادی کی میں آپ کو خبر دے رہا ہوں، سابقہ آزادی کی اور۔ تو یاد رکھیے، یہ عربی زبان کے اعتبار سے تو "هذا حرٌ" خبر ہی ہے۔ "هذا" مبتدا، "حرٌ" اس کی خبر۔ تو عربی زبان کے اعتبار سے تو یہ خبر ہی خبر ہے، لیکن شریعت نے اسی "هذا حرٌ" کو کس کے لیے مقرر کر دیا؟ انشاء کے لیے، تو شرعاً یہ انشاء ہے بھئی، شرعاً کیا ہے؟ انشاءِ عتق کے لیے ہے بھئی یہ شرعاً، انشاءِ عتق کے لیے۔ اب یہ جو شک کہنے والے نے کہا، وہ جو متن کے اندر مثال آئی، آقا نے اپنے دو غلاموں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کیا کہا تھا: "هذا حرٌ أو هذا"، یہ آزاد ہے یا یہ۔ تو ابھی میں نے مثال ذکر کر دی کہ "هذا حرٌ" کے اندر انشاء ہونے کا بھی احتمال اور خبر ہونے کا بھی احتمال۔ تو جیسے یہاں وہاں پر اس "هذا حرٌ" کے اندر دونوں احتمال تھے، اسی طرح "هذا حرٌ أو هذا" اس کے اندر بھی دونوں احتمال ہوں گے۔ من وجہ یہ کیا ہے؟ انشاء، اور من وجہ یہ کیا ہے؟ خبر بھئی۔ انشاء ہے یہ کس اعتبار سے؟ شریعت کے اعتبار سے، اور خبر ہے یہ کس اعتبار سے؟ عربی زبان کے اعتبار سے بھئی۔ یہی بات بیان کر رہے ہیں ماتن بھئی، کہتے ہیں: "وهذا الكلام إنشاءٌ": اور یہ کلام کیا ہے؟ انشاء ہے۔ کون سا کلام؟ "هذا حرٌ أو هذا". ہاں، "يحتمل الخبر": احتمال رکھتا ہے کس چیز کا؟ خبر کا بھی احتمال رکھتا ہے۔ "فأوجب التخيير": تو یہ جو لفظِ 'أو' جو ہے، یہ ثابت کر دے گا تخییر کو، کیا ثابت کر دے گا؟ تخییر کو، یعنی کہنے والا جو آقا ہے اس کو اختیار ہوگا۔ کہ ان میں سے جس غلام دو میں سے ایک تو اب آزاد ہے ہی، دو میں سے کون سا آزاد ہے، وہ تعین کا اختیار کس کو ہو جائے گا؟ آقا کو بھئی، یہ اختیار۔ تو یہ معنی ہے "فأوجب التخيير": تو یہ جو لفظِ 'أو' ہے، یہ ثابت کر دے گا تخییر کو، "على احتمال أنه بيانٌ": اس احتمال پر 'على' بمعنی 'مع' کے ہے بھئی، "مع احتمال أنه بيانٌ"، ساتھ اس احتمال کے کہ یہ کیا ہے؟ بیان، بیان ہے۔ بھئی، دیکھیے، تخییر میں تعین چاہیے۔ تخییر کے لیے کیا چاہیے پھر؟ تعین چاہیے۔ اور خبر کے لیے پھر بیان چاہیے۔ خبر کے لیے؟ بیان چاہیے۔ مثلاً، میں نے کہا تھا: "زيدٌ کاتبٌ أو شاعرٌ"، اس کے لیے اب کیا چاہیے؟ کچھ آپ کو تو پتہ نہیں چلا کہ کاتب ہے یا شاعر ہے، اب کیا چاہیے اس کے لیے؟ اس کے لیے بیان چاہیے بھئی، بیان۔ اور آقا نے کہا: "هذا حرٌ أو هذا"، تو اس کے لیے اب کیا چاہیے؟ تعین چاہیے کہ بتلاؤ بھئی، کون سا ان دونوں میں سے تمہاری مراد ہے، کون سا غلام آزاد ہے؟ جی، تو یہ یہی بات کر رہے ہیں بھئی، "على احتمال أنه بيانٌ": ساتھ اس احتمال کے کہ یہ بیان ہے، یعنی آقا تعین کرے گا تخییر کی وجہ سے، لیکن اس تعین کے اندر کس چیز کا احتمال ہے؟ کہ یہ بیان ہو، کس چیز کا؟ بھئی، آقا نے کہا نہ، ان دو میں سے ایک آزاد ہے، تو اس کے لیے اختیار ثابت ہو جائے گا، جس کی بھی چاہے تعین کر دے کہ یہ والے میری مراد تھی، اور تو ایک کی تعین کرے گا کہ یہ میری مراد تھی۔ تو یہ تو تعین کر رہا ہے، و قول احد المذكورين وقوله "هذا حر أو هذا" كقوله "أحدهما حر". وهذا مختار شمس الأئمة وفخر الإسلام رحمهما الله تعالى. وذهبت طائفة من الأصوليين وجماعة النحويين إلى أنها موضوعة للشك. جي، آج 'أو' کی بحث ہم پڑھیں گے بھئی۔ 'أو' جو ہے مصنف رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "و أَوْ لأحد المذكورين". 'أو' جو ہے دو مذکور چیزوں میں سے ایک کے لیے ہوتا ہے بھئی۔ دو مذکور چیزوں میں سے ایک کے لیے ہوتا ہے۔ مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں: "جاءني زيدٌ أو عمروٌ". میرے پاس زید یا عمر آیا۔ معلوم ہوا مجیئت ان دونوں میں سے ایک کے لیے ثابت ہے۔ یہ جو معطوف اور معطوف علیہ ہیں، جن کے درمیان 'أو' کے ذریعے عطف کیا گیا، ان دونوں میں سے ایک کے لیے مجیئت ثابت ہے بھئی، ایک کے لیے۔ تو کہتے ہیں 'أو' جو ہے وہ دو مذکور چیزوں میں سے ایک کے لیے آتا ہے۔ "وقوله": اور کسی شخص کا یہ قول "هذا حر أو هذا". 'واؤ' ہے آپ کی کتابوں میں بھئی؟ ہاں، یہ 'واؤ' نہیں ہونا چاہیے، یہ کتابت کی غلطی ہے بھئی۔ سمجھ میں आया؟ منار کے دیگر نسخوں میں یہ 'واؤ' موجود نہیں بھئی اور یہاں جڑتا بھی نہیں، مناسب بھی نہیں لگتا۔ "وقوله": اور کسی شخص کا یہ قول "هذا حر أو هذا" کہ یہ آزاد ہے یا یہ، "كقوله": یہ اس کے اس قول کی طرح ہے کہ "أحدهما حر" کہ اس نے گویا کیا کہا ہے: "أحدهما حر" ان دونوں میں سے ایک آزاد ہے۔ کہتے ہیں بھئی 'أو' جو ہے 'أحد المذكورين' کے لیے آتا ہے، دو چیزوں میں سے ایک کے لیے۔ لہذا اگر کوئی شخص یوں کہے اپنے دو غلاموں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے: "هذا حر أو هذا"، یہ آزاد ہے یا یہ، تو یہ اسی طرح ہے گویا اس نے یوں کہا: "أحدهما حر"، ان دونوں میں سے ایک آزاد ہے بھئی۔ کیونکہ 'أو' کس کے لیے آیا کرتا ہے؟ 'أحد المذكورين' کے لیے، تو ان دونوں میں سے ایک آزاد ہے۔ جی، آگے فرماتے ہیں: "وهذا مختار شمس الأئمة وفخر الإسلام". اور یہ شمس الأئمة اور علامہ فخر الإسلام رحمہما الله تعالى، یہ ان کا مختار ہے، یہ ان کا پسندیدہ مذہب ہے بھئی، یہ قول ہے ان کا، کہ 'أو' کس کے لیے آتا ہے؟ 'أحد المذكورين' کے لیے۔ "وذهبت طائفة من الأصوليين": اور أصوليين کا ایک گروہ جو ہے وہ اس بات کی طرف گیا ہے "وجماعة النحويين": علمائے اصول فقہ کا ایک گروہ اور نحویوں کی جماعت اس بات کی طرف گئی ہے "إلى أنها موضوعة للشك": کہ یہ جو 'أو' ہے، یہ وضع ہے شک کے لیے۔ بھئی، شمس الأئمة اور فخر الإسلام رحمہما الله، وہ تو یہ فرماتے ہیں کہ 'أو' جو ہے وہ دو مذکور چیزوں میں سے ایک کے لیے آئے گا، جبکہ بعض علمائے اصول فقہ اور علمائے نحو کیا فرماتے ہیں کہ 'أو' جو ہے وہ شک کے لیے ہوتا ہے، کس کے لیے؟ شک کے لیے۔ شارح فرماتے ہیں: "وهو ليس بسديد"، یہ صحیح نہیں ہے، یہ درست نہیں ہے، کہ 'أو' کس کے لیے ہے؟ شک کے لیے۔ وجہ اس کی کیا؟ وجہ اس کی آگے ذکر کریں گے کہ بھئی دیکھو، یہ جو کلام ہے، جو ہم کلام کرتے ہیں، اس کلام کو وضع کیا گیا ہے بات کو سمجھانے کے لیے، کس کے لیے؟ بات کو سمجھانے کے لیے، یعنی کلام کو وضع کیا گیا ہے افہام کے لیے، بات کو سمجھانے کے لیے۔ اور دوسرے کو شک میں ڈالنا، اس میں تو افہام نہیں ہے۔ کلام کو کس لیے وضع کیا گیا ہے؟ افہام کے لیے، بات کو سمجھانے کے لیے، اور دوسرے کو شک میں ڈالا جائے، تو اس میں تو افہام نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آرہی ہے؟ دوسرے کو کس میں ڈالا جائے؟ دوسرے کو شک میں ڈالنا اس کے اندر تو افہام نہیں ہے بھئی۔ دوسرے کو جب شک میں ڈالا جا رہا ہے، تو افہام کہاں سے آیا بھئی؟ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ جی، تو یہ معنی ہے کہ یہ درست نہیں ہے۔ وجہ اس کی یہ، کیونکہ کلام کو وضع کیا گیا ہے افہام کے لیے، اور دوسرے کو شک میں ڈالنے کے اندر افہام نہیں ہے بھئی، افہام نہیں ہے۔ یہ معنی ہے کہتے ہیں۔ وہ شارح فرماتے ہیں: "وهو ليس بسديد؛ لأن الشك ليس معنى مقصوداً للمتكلم قصد تفهيمه للمخاطب". اس لیے کیونکہ شک جو ہے وہ ایسا معنی مقصود نہیں ہے متکلم کے لیے کہ "قصد تفهيمه للمخاطب" کہ اس نے ارادہ کیا ہو اس کے سمجھانے کا مخاطب کو۔ شک تو کوئی ایسا معنی مقصود نہیں ہے کہ متکلم نے اس کو دوسرے کو سمجھانے کا ارادہ کیا ہو بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ جی، شک کوئی ایسا معنی نہیں کہ دوسروں کو سمجھانا چاہو مقصود ہو بھئی۔ بھئی، میں نے کیا بتلایا؟ کہ کلام کس لیے وضع ہے؟ افہام کے لیے۔ اور 'أو' لائیں گے تو دوسرا شک میں پڑے گا، اور انھوں نے کہا کہ 'أو' کس لیے وضع ہے؟ شک کے لیے۔ تو دوسرے کو شک میں ڈالنا اس میں تو کوئی افہام نہیں ہے، اور کلام تو وضع ہے کس کے لیے؟ افہام کے لیے۔ افہام کے لیے، یہ معنی ہے بھئی۔ معنی اچھی طرح سمجھ میں آگیا بھئی؟ جی، تو یہ شک کے لیے وضع نہیں ہے بھئی۔ "وإنما يلزم الشك من محل الكلام": اور کہتے ہیں جو شک لازم آتا ہے وہ محلِ کلام کی وجہ سے لازم آتا ہے، "وهو الخبر المجهول": اور وہ محلِ کلام کیا ہے جس کی وجہ سے شک لازم آتا ہے؟ وہ خبرِ مجهول ہے کہ خبر کیا ہوتی ہے؟ مجهول ہوتی ہے۔ مثلاً، میں آپ سے کہتا ہوں: "زيدٌ کاتبٌ أو شاعرٌ". تو زید ہے مبتدا، "کاتبٌ أو شاعرٌ" یہ کیا ہے اس کی خبر، لیکن خبر مجهول ہے۔ پتہ نہیں کاتب ہے یا شاعر ہے۔ تو خبر مجهول ہونے کی بناء پر یہاں شک آگیا، کیونکہ دو چیزیں ذکر ہیں، ان کے درمیان 'أو' ذکر کیا گیا، تو تعین نہ ہوئی، پتہ نہ چلا خبر کیا ہو گئی؟ مجهول، کہ پتہ نہیں زید کاتب ہے یا شاعر ہے، علم نہ ہو سکا۔ تو یہ جو شک آیا ہے، یہ محلِ کلام کی وجہ سے آیا ہے، کس کی وجہ سے؟ محلِ کلام کی وجہ سے، محلِ کلام کی وجہ سے۔ جی، تو یہ معنی ہے: "وإنما يلزم الشك من محل الكلام"، اور جو شک لازم آتا ہے وہ محلِ کلام کی وجہ سے آتا ہے۔ "وهو الخبر المجهول": وہ خبرِ مجهول ہے۔ خبرِ مجهول ہے۔ "ولذا لزم منه التخيير في الإنشاء": اور اس اسی وجہ سے لازم آتا ہے 'أو' کی وجہ سے تخییر انشاء میں، انشاء کے اندر تخییر لازم آتی ہے۔ یعنی اختیار ثابت ہوتا ہے کس کے اندر؟ انشاء میں۔ کیونکہ 'أو' 'أحد المذكورين' کے لیے آتا ہے، تو لہذا انشاء میں تخییر آئے گی۔ مثلاً، میں آپ سے کہتا ہوں، دو کتابیں سامنے پڑی ہیں، میں آپ سے کہتا ہوں: "خذ هذا الكتاب أو هذا الكتاب". یہ کتاب لے لیجیے یا یہ والی کتاب لے لیجیے۔ اب "خذ" لے کر آیا، امر۔ امر کیا ہے؟ انشاء، اور جو مفعول ہے، اس میں میں نے کیا لفظ عطف کس کے ذریعے کیا؟ 'أو' کے ذریعے، تو انشاء انشاء تو محلِ شک نہیں ہے بھئی، انشاء میں تو ایک چیز کو وجود دیا جاتا ہے۔ کیا کیا جاتا ہے؟ ایک چیز کو وجود دیا جاتا ہے۔ شک تو خبر میں ہو سکتا ہے، انشاء میں؟ بھئی، بتلایا نہ، محلِ کلام کی وجہ سے شک آتا ہے اور وہ اس وجہ سے کہ خبر مجهول ہوتی ہے، لیکن انشاء کے اندر تو شک نہیں ہو سکتا، کیونکہ وہاں تو کیا کیا جا رہا ہے؟ ایک چیز کو وجود دیا جا رہا ہے۔ میں نے کہا: "خذ هذا الكتاب أو هذا"، جب میں ایک چیز کو وجود دے رہا ہوں وہاں تو شک کا تعلق ہی نہیں بنتا، شک تو خبر میں تو ہو سکتا ہے، ایک چیز جس کو آپ وجود دے رہے ہیں اس میں تو شک نہیں، تو پھر کیا کریں گے؟ کیا فائدہ ہوگا؟ تو کہتے ہیں بھئی، انشاء میں آئے تو پھر یہ تخییر کا فائدہ دے گا، یعنی اختیار کو ثابت کر دے گا۔ جب میں نے آپ سے کہا: "خذ هذا الكتاب أو هذا الكتاب"، کہ یہ کتاب لے لیجیے یا یہ کتاب، تو اس میں اب آپ کے لیے تخییر ثابت ہو گئی۔ یعنی آپ کو اختیار ہے، چاہے پہلی کتاب اٹھائیں، چاہے چاہے پہلی کتاب لے لیں، چاہے دوسری کتاب لے لیں، آپ کے لیے اختیار ثابت ہو جائے گا، کیونکہ 'أو' میں لے کر آیا اور 'أو' انشاء کے اندر کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ تخییر کا فائدہ دیتا ہے کہ دوسرے کو اختیار ہو جاتا ہے دو چیزوں میں سے ایک کا بھئی، اختیار بھئی۔ اور آپ چاہیں تو دونوں کتابیں بھی اٹھا سکتے ہیں، اور اس کو کہتے ہیں اباحت۔ کیا کہتے ہیں؟ اباحت۔ تخییر کا معنی دو چیزوں میں سے ایک کو اختیار کرنا، اور اباحت کا کیا معنی؟ دونوں کا اٹھانا بھی مباح ہے، دونوں چیزوں کا اختیار کرنا بھی جائز ہے، اور یہ موقع محل سے پھر پتہ چلتا ہے۔ کہاں کہیں پر صرف تخییر ہوتی ہے اور کہیں اباحت ہوتی ہے کہ چاہے پہلی کتاب لے لو، چاہے دوسری لے لو، اور چاہے تو دونوں لے لو، وہ موقع محل سے پتہ چل جاتا ہے بھئی، موقع محل سے۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو اسی لیے کہا: "ولذا لزم منه التخيير في الإنشاء"، اور اسی وجہ سے اس 'أو' کی سے جو ہے تخییر ثابت لازم ہو جائے گی انشاء کے اندر، کیونکہ انشاء جو ہے وہ تو محلِ شک نہیں ہے، تو وہاں تخییر آئے گی 'أو' کی وجہ سے۔ "ولو سلم أن الشك مقصودٌ": بھئی، یہ کس سوال کا جواب دے رہے ہیں۔ سوال یہ کہ آپ نے اوپر کیا تقریر کی؟ کہ 'أو' 'أحد المذكورين' کے لیے آتا ہے اور بعض اصولیین اور بعض نحویوں نے جو کیا کہا تھا 'أو' شک کے لیے آتا ہے، تو آپ نے اس کو رد کیا تھا، کیونکہ دوسرے کلام کی وضع جو ہے وہ افہام کے لیے ہے اور دوسرے کو شک میں ڈالنا اس میں تو کوئی افہام نہیں ہے بھئی، کوئی افہام نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں بھئی، ٹھیک ہے، دوسرے کو شک میں ڈالنا اس میں تو افہام نہیں، لیکن مخاطب اپنا شک تو بیان کر سکتا ہے۔ مثلاً، مخاطب یہ بتلانا چاہتا ہے کہ "زيدٌ كاتبٌ أو شاعرٌ". "زيدٌ كاتبٌ أو شاعرٌ"، دوسرے کو شک میں ڈالنا تو نہیں چاہتا، لیکن یہ بتلانا چاہتا ہے کہ مجھے ان دو باتوں میں شک ہے۔ اپنے دل کی بات، اپنا شک تو ظاہر کر سکتا ہے یا نہیں اس کے ذریعے؟ دوسرے کو شک میں ڈالنا اور چیز، اپنا شک ظاہر کرنا اور چیز۔ اپنا شک تو ظاہر کر سکتا ہے کہ جب وہ کہے: "زيدٌ كاتبٌ أو شاعرٌ"، تو اس کا مقصد کیا ہے دوسرے کو کیا سمجھانا؟ اپنا شک سمجھانا ہے، اپنا شک بتلانا ہے بھئی۔ تو دیکھو، افہامِ شک ہو گیا بھئی یہاں پر، افہامِ شک کی صورت بن گئی۔ کہتے ہیں: نہیں بھئی، اگر اپنا شک بتلانا مقصود ہو تو اس کے لیے پھر 'شک' کا لفظ وضع ہے عربی کے اندر، تو پھر اس کو یوں کہنا چاہیے: "أشك في هذا أو هذا"، مجھے شک ہے اس کے اندر یا زید کے شاعر یا کاتب ہونے میں مجھے شک ہے، تو اس کے لیے 'شک' کا لفظ وضع ہے، اس کے ذریعے بیان کیا جائے گا، 'أو' کے ذریعے نہیں بیان کیا جائے گا۔ بات کہتے ہیں وہی ہے کہ 'أو' جو ہے 'أحد المذكورين' کے لیے آتا ہے، شک کے لیے نہیں بھئی۔ ہاں، شک وہ محلِ کلام کی وجہ سے پیدا ہو جائے گا جب وہ خبر ہو، خبر ہو۔ اور اگر انشاء کے اندر 'أو' آئے تو پھر وہ کس لیے ہوگا؟ تخییر کو ثابت کر دے گا بھئی، اختیار ہوگا۔ جی، "ولو سلم أن الشك مقصودٌ": اور اگر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ شک ہی مقصود ہے، یعنی اسی کا سمجھانا مقصود ہے، "فقد وضع له لفظ الشك": تو تحقیق اس کے لیے تو وضع کیا گیا ہے 'شک' کے لفظ کو۔ "وهذا الكلام إنشاءٌ يحتمل الخبر فأوجب التخيير على احتمال أنه بيانٌ": یہ سارا متن ہے۔ "وهذا الكلام" سے لے کر "أنه بيانٌ" تک، یہ متن ہے۔ "وهذا الكلام إنشاءٌ يحتمل الخبر فأوجب التخيير على احتمال أنه بيانٌ": یہ سارا کیا ہے؟ متن ہے۔ "وهذا الكلام" سے لے کر "أنه بيانٌ" تک، یہ سارا متن ہے، اس پر لکیر لگا لیجیے بھئی۔ بھئی، دیکھیے، ایک شخص ہے، وہ اپنے غلام کے بارے میں کہتا ہے: "هذا حرٌ"، آپ کیا کہیں گے؟ غلام کیا ہو گیا؟ آزاد، یعنی دیکھو یہاں انشاءِ عتق ہے، آزادی کو وہ وجود دے رہا ہے۔ وہ مالک کیا کر رہا ہے؟ آزادی کو وجود دے رہا ہے۔ کون سا لفظ اس نے کہا؟ "هذا حرٌ"، معلوم ہوا "هذا حرٌ" انشاء ہے۔ "هذا حرٌ" انشاء ہے۔ دوسری صورت بناؤ: میرے ساتھ ایک میرا ساتھی کھڑا ہے، ساتھی ہے، آزاد ہے، میں آپ سے کہتا ہوں: "هذا حرٌ"، وہی لفظ استعمال کرتا ہوں، یہ آزاد ہے، اب کیا معنی سمجھے اس کا؟ میں خبر دے رہا ہوں۔ تو یہی لفظ یہ انشاءِ عتق کے لیے بھی ہیں اور یہی لفظ خبر دینے کے لیے بھی ہیں۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ یعنی یہ پ "هذا" جب میں نے کہا کہ "هذا حرٌ"، تو میں خبر دے رہا ہوں، یہ شخص تو پہلے سے ہی آزاد ہے، اسی سابقہ آزادی کی میں آپ کو خبر دے رہا ہوں، سابقہ آزادی کی اور۔ تو یاد رکھیے، یہ عربی زبان کے اعتبار سے تو "هذا حرٌ" خبر ہی ہے۔ "هذا" مبتدا، "حرٌ" اس کی خبر۔ تو عربی زبان کے اعتبار سے تو یہ خبر ہی خبر ہے، لیکن شریعت نے اسی "هذا حرٌ" کو کس کے لیے مقرر کر دیا؟ انشاء کے لیے، تو شرعاً یہ انشاء ہے بھئی، شرعاً کیا ہے؟ انشاءِ عتق کے لیے ہے بھئی یہ شرعاً، انشاءِ عتق کے لیے۔ اب یہ جو شک کہنے والے نے کہا، وہ جو متن کے اندر مثال آئی، آقا نے اپنے دو غلاموں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کیا کہا تھا: "هذا حرٌ أو هذا"، یہ آزاد ہے یا یہ۔ تو ابھی میں نے مثال ذکر کر دی کہ "هذا حرٌ" کے اندر انشاء ہونے کا بھی احتمال اور خبر ہونے کا بھی احتمال۔ تو جیسے یہاں وہاں پر اس "هذا حرٌ" کے اندر دونوں احتمال تھے، اسی طرح "هذا حرٌ أو هذا" اس کے اندر بھی دونوں احتمال ہوں گے۔ من وجہ یہ کیا ہے؟ انشاء، اور من وجہ یہ کیا ہے؟ خبر بھئی۔ انشاء ہے یہ کس اعتبار سے؟ شریعت کے اعتبار سے، اور خبر ہے یہ کس اعتبار سے؟ عربی زبان کے اعتبار سے بھئی۔ یہی بات بیان کر رہے ہیں ماتن بھئی، کہتے ہیں: "وهذا الكلام إنشاءٌ": اور یہ کلام کیا ہے؟ انشاء ہے۔ کون سا کلام؟ "هذا حرٌ أو هذا". ہاں، "يحتمل الخبر": احتمال رکھتا ہے کس چیز کا؟ خبر کا بھی احتمال رکھتا ہے۔ "فأوجب التخيير": تو یہ جو لفظِ 'أو' جو ہے، یہ ثابت کر دے گا تخییر کو، کیا ثابت کر دے گا؟ تخییر کو، یعنی کہنے والا جو آقا ہے اس کو اختیار ہوگا۔ کہ ان میں سے جس غلام دو میں سے ایک تو اب آزاد ہے ہی، دو میں سے کون سا آزاد ہے، وہ تعین کا اختیار کس کو ہو جائے گا؟ آقا کو بھئی، یہ اختیار۔ تو یہ معنی ہے "فأوجب التخيير": تو یہ جو لفظِ 'أو' ہے، یہ ثابت کر دے گا تخییر کو، "على احتمال أنه بيانٌ": اس احتمال پر 'على' بمعنی 'مع' کے ہے بھئی، "مع احتمال أنه بيانٌ"، ساتھ اس احتمال کے کہ یہ کیا ہے؟ بیان، بیان ہے۔ بھئی، دیکھیے، تخییر میں تعین چاہیے۔ تخییر کے لیے کیا چاہیے پھر؟ تعین چاہیے۔ اور خبر کے لیے پھر بیان چاہیے۔ خبر کے لیے؟ بیان چاہیے۔ مثلاً، میں نے کہا تھا: "زيدٌ کاتبٌ أو شاعرٌ"، اس کے لیے اب کیا چاہیے؟ کچھ آپ کو تو پتہ نہیں چلا کہ کاتب ہے یا شاعر ہے، اب کیا چاہیے اس کے لیے؟ اس کے لیے بیان چاہیے بھئی، بیان۔ اور آقا نے کہا: "هذا حرٌ أو هذا"، تو اس کے لیے اب کیا چاہیے؟ تعین چاہیے کہ بتلاؤ بھئی، کون سا ان دونوں میں سے تمہاری مراد ہے، کون سا غلام آزاد ہے؟ جی، تو یہ یہی بات کر رہے ہیں بھئی، "على احتمال أنه بيانٌ": ساتھ اس احتمال کے کہ یہ بیان ہے، یعنی آقا تعین کرے گا تخییر کی وجہ سے، لیکن اس تعین کے اندر کس چیز کا احتمال ہے؟ کہ یہ بیان ہو، کس چیز کا؟ بھئی، آقا نے کہا نہ، ان دو میں سے ایک آزاد ہے، تو اس کے لیے اختیار ثابت ہو جائے گا، جس کی بھی چاہے تعین کر دے کہ یہ والے میری مراد تھی، اور تو ایک کی تعین کرے گا کہ یہ میری مراد تھی۔ تو یہ تو تعین کر رہا ہے، لیکن اس تعیین میں بھی احتمال ہے کہ ہو سکتا ہے یہ کیا کر رہا یہ کیا ہو یہ بیان ہو یہ خبر دے رہا تھا۔ ان دو میں سے ایک فرض کرو پہلے ہی ازاد ہے، یہ اس کی کیا کر رہا ہے؟ تو یہ بیان ہے بھئی۔ تو اس میں بیان ہونے کا بھی احتمال ہے بھئی۔ بیان ہونے کا یہ معنی ہے دوبارہ دیکھیے وھذا الکلام انشاء و یحتمل الخبر فاوجب التخییر علی احتمال انہ بیان اور یہ کلام جو ہے یہ انشاء ہے احتمال رکھتا ہے خبر کا بھی فاوجب التخییر تو یہ کلمہ او جو ہے تخییر کو واجب کر ثابت کر دے گا علی احتمال انہ بیان اس احتمال پر کہ یہ بیان ہے یعنی ان قولہ ھذا حر و ھذا او ھذا یعنی اس شخص کا یہ قول کہ یہ ازاد ہے یا یہ انشاء من حیث الشرع یہ انشاء ہے کس حیثیت سے شریعت کی حیثیت سے شریعت کے اعتبار سے لأن الشرع وضعہ لإیجاد الحرّیة بھذا اللفظ اس لیے کیونکہ شریعت نے وضع کیا ہے اس کو اس اس لفظ کو کس کے لیے؟ ایجاد حرّیة کے لیے بھاذا کس کے ذریعے؟ اس لفظ کے ذریعے بھئی اس کے ذریعے غلام ازاد ہو جایا کرتا ہے جب کہا جائے ہذا حر بھئی۔ تو یہاں ہذا حر اور ہذا اس نے کہا تو یہ شریعت کے اعتبار سے انشاء ہے اس لیے کہ شریعت نے اس قول کو جو ہے وضع کیا ہے ازادی کو وجود دینے کے لیے اس لفظ کے ذریعے ولکنه یحتمل ان یکون اخنبارا عن حرّیة سابقة علی ھذا الکلام لیکن یہ کلام احتمال رکھتا ہے کہ یہ خبر ہو اس حرّیة سے جو مقدم تھی اس کلام پر یہ بھی احتمال ہے اس میں کہ ہو سکتا ہے اس کے لیے کیا جا رہا ہو؟ جو پہلے سے ہی حرّیة تھی اس کی خبر دی جا رہی ہو، مثلاً بھئی ہو سکتا ہے ان دو میں سے ایک ازاد ہو فرض کرو۔ پہلے سے ہی کیا ہو؟ اور جب اقاقی نے یہ کہا احد ھذا حر و ھذا یعنی کیا معنی احد ھما حر ان دو میں سے ایک ازاد ہے، تو وہ اگر ان میں سے ایک پہلے سے ازاد تھا تو یہ گویا کیا کر رہا ہے؟ اسی ازاد پہلی سابقہ ازادی کی خبر دے رہا ہے تو اس اعتبار سے یہ خبر ہوئی بھئی۔ تو یہ ان ہے تو انشاء لیکن اس میں خبر ہونے کا بھی احتمال ہے کس چیز کی خبر عن حرّیة سابقة علی ھذا الکلام اس حرّیة سے جو اس کلام پر سابق ہے مقدم ہے لأجل کونہ خبراء من حیث اللغتی اس وجہ سے کہ یہ خبر ہے لغت یعنی عربی زبان کے اعتبار سے ولما کان ھو زوجھتین اور تو یہ کلام زوجھتین ہوا۔ دو جہتوں والا ہوا ایک جہت کے اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ انشاء دوسری جہت کے اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ خبر ہے بھئی خبر ہے۔ تو کہتے ہیں ولما کان ھو زوجھتینی اور جب یہ کلام جو ہے وہ دو جہت والا ہوا فاوجب التخییر تو اس نے تخییر کو ثابت کر دیا ای تخییر المتکلم من حیث کونہ انشاء یعنی متکلم کی تخییر کو اس حیثیت سے کہ یہ انشاء ہے۔ اس نے کس کو ثابت کیا؟ اختیار کو اور کس کے اختیار کو متکلم کہنے والے کی تخییر اس کا اختیار ہے اس حیثیت سے بھئی یہ اختیار کس حیثیت سے آیا کیونکہ یہ کلام کیا ہے؟ انشاء ہے تو اس نے متکلم کی تخییر کو ثابت کیا بعد ذالک اس کے بعد یعنی اس کے کہنے کے بعد بان یقع العتق فی ایھما شاء اس طور پر کہ وہ واقع کر دے ازادی کو جس میں بھی چاہے و یعین اور یہ کہ وہ متعین کر دے ان ھذا ھذا کان مراداً لی کہ یہ غلام جو تھا یہ میری مراد تھی یہ والا غلام میری مراد کونسا غلام تھا؟ یہ والا کسی ایک کی تعیین کر دے بھئی۔ علی احتمال ان یکون ھذا التعیینا بیانا اس احتمال پر کہ یہ تعیین کیا ہو بیان ہو للخبر المجھول الصادر عنہ جو اس کہنے والے سے صادر ہوئی تھی من حیث کونہ خبراء اس حیثیت سے کہ وہ خبر ہے۔ تو یہ جو بھئی دیکھیے انشاء ہونے کے اعتبار سے کہنے والے کے لیے تخییر تو اس تخییر کے اعتبار سے اب وہ متعین کرے گا کہ یہ والا غلام کیا ہے دونوں میں سے میری مراد یہ والا غلام تھا اس کو تو جس وقت وہ کہہ رہا ہے یہ والا غلام یوں سمجھا جائے گا گویا یہ ابھی کیا کر رہا ہے؟ ازادی کو واقع کر رہا ہے انشاء حرّیة کر رہا ہے کیا کر رہا ہے؟ تو اس اعتبار سے اس وقت یہ انشاء حرّیة کر رہا ہے اور دوسرے اعتبار سے خبر ہونے کے اعتبار سے دیکھا جائے تو کیا کر رہا ہے؟ خبر دے رہا ہے بتلا رہا ہے کون سے سابقہ حرّیة کی سابقہ تو خبر ہونے کے اعتبار سے یہ بیان ہے اور انشاء ہونے کے اعتبار سے یہ ایجاد حرّیة ہے کیا ہے؟ ایجاد حرّیة ہے بھئی۔ جی تو یہی بات آگے متن میں بھی بیان کر رہے ہیں و جعل البیان انشاء من وجہ و اظہارا من وجہ اور بیان جو ہے اس کو انشاء بنایا جائے گا انشاء قرار دیا جائے گا من وجہ ایک اعتبار سے و اظہارا من وجہ اور اظہار قرار دیا جائے گا ایک وجہ سے۔ ایک اعتبار سے وہ انشاء اور ایک اعتبار سے وہ اظہار یعنی خبر ہے بیان ہے بیان۔ بھئی دیکھیے جب اس نے کہا ھذا حر و ھذا تو یہ جو پہلا کلام ہے اس میں دو جہتیں ہیں۔ من وجہ یہ کیا ہے؟ انشاء اور من وجہ یہ کیا ہے؟ خبر تو آگے جب بیان اجائے وہ بتلا دے کہ یہ والا غلام تو یہ جو بیان ہے اس میں بھی دو جہتیں ہیں بھئی۔ کتنی جہتیں؟ دو۔ من وجہ یہ انشاء ہے اور من وجہ یہ خبر ہے۔ جے تو جو یہ جو بیان ہے اس کو کہتے ہیں مبین کیا کہتے ہیں؟ بیان کرنے والا اور جس کا بیان کیا جا رہا ہے اس کو کہتے ہیں مبین اس کو کیا کہتے ہیں؟ مبین তো پہلا کلام جو ہوا ھذا حر او ھذا یہ ہے مبین اور بعد میں جب اس نے ایک کی تعیین کی جو بیان کیا یہ ہے مبین بھئی۔ تو مبین کون سا کلام ہے؟ پہلے والا اور مبین کون سا کلام ہے؟ بعد میں جو اس نے تعیین کی وہ جو بیان کیا بھئی اپنی مراد بتلائی۔ تو جیسے مبین کے اندر دو جہتیں تھیں من وجہ انشاء تھا اور من وجہ خبر مبین کے اندر یعنی بیان کے اندر بھی دونوں جہتیں ہیں من وجہ وہ کیا ہے؟ انشاء اور من وجہ خبر خبر ہے بھئی۔ من وجہ خبر۔ من وجہ انشاء اس اعتبار سے جب وہ تعیین کرے گا ایک غلام کی تو گویا اسی وقت غلام کو ازاد کر رہا ہے۔ کیا کر رہا ہے؟ تو ایجاد حرّیة آیا یا نہیں آیا بھئی؟ اور ایجاد حرّیة کیا ہے؟ حرّیة کو وجود دینا انشاء ہے۔ انشاء ہے تو یہ من وجہ دیکھو جو تعیین ہے یہ انشاء ہے اور من وجہ یہ خبر بھی ہے بھئی۔ کہ یہ کیا کر رہا ہے؟ اسی سابقہ ازادی کی خبر دے رہا ہو کہ یہ والا شخص جو ہے پہلے سے ہی ازاد ہے۔ یہ معنی ہے و جعل البیان انشاء من وجہ و اظہارا من وجہ اور بیان جو ہے اس کو بھی انشاء بنایا جائے گا ایک اعتبار سے اور اظہار بنایا جائے گا ایک اعتبار سے ای کما ان المبین ذو جھتینی فکذالک البیان ذو جھتینی یعنی جس طرح کہ مبین جو ہے وہ دو جہت والا تھا اسی طرح بیان بھی دو جہت والا ہے۔ انشاء من وجہ ایک وجہ ایک اعتبار سے کیا ہے؟ انشاء اور من وجہ کیا ہے؟ اظہار یعنی بیان ہے۔ دیکھیے تو کہتے ہیں انشاء من وجہ ایک ایک اعتبار سے انشاء ہے کانہ یوجب یوجب العتق الان فی وقت البیان گویا کہ وہ وجود دے رہا ہے ازادی کو اس وقت فیل وقت البیان کس میں وقت بیان کے وقت ازادی کو وجود دے رہا ہے بھئی۔ فتشترط لہ صلاح تو جو بھئی جب یہ جو بیان آیا بعد میں اس نے تعیین کی ایک غلام کی یہ بیان بھی کیا ہے من وجہ انشاء اور من وجہ خبر۔ تو جب انشاء ہے تو انشاء ہونے کے اعتبار میں اعتبار سے اس میں انشاء کی شرائط کا لحاظ رکھا جائے گا۔ کس کی؟ انشاء اور خبر من وجہ وہ خبر بھی ہے تو اس پہ خبر کے بھی احکامات جاری ہوں گے بھئی۔ کس کے؟ خبر۔ انشاء ہے بھئی انشاء کے لیے شرط ہے۔ آپ ازادی کو وجود دینا چاہتے ہیں تو ضروری ہے کہ جس محل میں آپ ازادی کو وجود دینا چاہتے ہیں اس میں اس ازادی کی صلاحیت بھی ہو۔ بھئی ازادی کی صلاحیت بھی ہو ایک غلام ہے آپ اس کو کیا کرنا چاہتے ہیں؟ ازاد کرنا چاہتے ہیں اب بتائیے اس غلام کے اندر ازادی کو قبول کرنے کی صلاحیت ہے یا نہیں ہے؟ لہٰذا یہاں تو ایجاد حرّیة ہو سکتا ہے لیکن ایک غلام مر گیا مرنے کے بعد اب آپ اس کو کیا کرنا چاہتے ہیں؟ ازاد اب ازادی کو وہ قبول کر سکتا ہے؟ نہیں اب تو وہ قبول ہی نہیں کر سکتا محل ہی نہ رہا بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ لہٰذا یہ جو بیان تھا یہ من وجہ انشاء ہے من وجہ خبر دونوں کی شرائط کی رعایت رکھیں گے۔ انشاء کی شرائط کا لحاظ رکھا جائے گا اس اعتبار سے کہ اس محل کے اندر ازادی کو قبول کرنے کی صلاحیت ہونی چاہیے لہٰذا اس آدمی کا اس نے تو کہا تھا ھذا حر او ھذا ان دو میں سے ایک غلام کا انتقال ہو گیا بعد میں اس سے پوچھا گیا ہاں بتاؤ بھئی تعیین کرو کون سا غلام تمہاری مراد تھی وہ کہتا ہے بھئی وہ جو مر گیا وہ میری مراد تھی۔ اور یہ جو تعیین کر رہا ہے ہم نے بتلایا یہ کیا ہے؟ من وجہ انشاء ہے گویا اس وقت وہ ازادی کو وجود دے رہا ہے اور اس وقت وہ جو مرا ہوا غلام ہے وہاں ازادی کو وجود دیا جا سکتا ہے؟ نہیں اس میں صلاحیت ہی نہیں ازادی کو قبول کرنے کی لہٰذا اس کے اس بیان کو قبول نہیں کیا جائے گا کیونکہ یہ من وجہ کیا ہے؟ انشاء ہے اور کون سا غلام ازاد مانا جائے گا؟ جو زندہ ہے بھئی صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ یہ معنی ہے کہ یہ یہ انشاء ہے گویا کہ وہ ازادی کو اس وقت وجود دے رہا ہے بیان کے وقت میں فتشترط لہ صلاحیة المحل تو شرط ہوگی اس کے لیے محل کی کی صلاحیت کی کہ یہ محل کے اندر اس کی صلاحیت بھی ہو لأن انشاء العتق لا یکون الا فی محل صالح لہ اس لیے کیونکہ انشاء عتق نہیں ہو سکتا مگر ایسے محل کے اندر جو اس کی یعنی ازادی کی صلاحیت بھی رکھتا ہو فاذا مات احد العبدین قبل البیان پس جب مر گیا دو غلاموں میں سے ایک اب بیان سے پہلے ہی و یقول اور پھر وہ شخص کہتا ہے انہ کان مرادا لی کہ یہ جو تھا یہ میری مراد تھی یہ جو مرا ہوا غلام ہے میرا ارادہ اس کا تھا لم یقبل تو اس کے اس کو قبول قول کو قبول نہیں کیا گیا لانھہ لم یبقا محلا لإیجاد العتق اس لیے کیونکہ وہ محل ہی باقی نہ رہا ازادی کو وجود دینے کے لیے اس کو تو مر چکا و تعیّن الحی للعتق اور وہ جو ازاد ہے وہ متعین ہو جائے گا کس کے لیے؟ ازادی کے لیے وہ ازاد شمار کیا جائے گا۔ अच्छा یہ تو کس اعتبار سے تھا بھئی؟ انشاء ہونے کے اعتبار سے۔ و اظہارا من وجہ اور یہی بیان جو ہے یہ کیا ہے؟ من وجہ اظہار بھی ہے للخبر المجھول السابق اس خبر کے لیے جو مجھول ہے اور جو سابقہ مجھول خبر کے لیے بھئی۔ سابقہ مجھول خبر کے لیے من وجہ یہ بیان ہے بھئی۔ تو یہ من وجہ بیان ہے من وجہ بیان ہے اسی سابقہ خبر یعنی ایک شخص پہلے سے ہی گویا ازاد ہے آپ اس کی صرف کیا کر رہے ہیں؟ خبر دے رہے ہیں تو من وجہ یہ بیان ہوا۔ جب یہ من وجہ بیان ہوا یعنی خبر ہے تو اس میں خبر کی حکم احکام جاری ہوں گے۔ اور خبر کے اندر وہاں پر قاضی دوسرے کو مجبور کر سکتا ہے بیان پر۔ انشاء میں تو قاضی کسی کو مجبور نہیں کر سکتا لیکن خبر کے اندر کیا کر سکتا ہے قاضی دوسرے کو بیان پر مجبور کر سکتا ہے انشاء انشاء کا کیا معنی تھا؟ مثلاً غلام کو ازاد کرنا یہ کیا ہے؟ انشاء قاضی کسی کو مجبور نہیں کر سکتا کہ اپنے غلام کو ازاد کرو۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو قاضی انشاء پر کسی کو مجبور نہیں کر سکتا ہاں خبر میں کیا کر سکتا ہے؟ خبر کے بیان پر دوسرے کو مجبور کر سکتا ہے مثلاً ایک آدمی نے کہا زید علی الف درہم او الفین الف او الفانی زید کے مجھ پر کتنے ہیں؟ ایک ہزار درہم ہیں یا دو ہزار ہیں اب یہ شخص قاضی کے پاس چلا گیا تو قاضی اس شخص کو مجبور کرے گا کہ ہاں بھئی بتلاؤ بھئی ایک ہزار ہیں یا دو ہزار تو یہاں بیان پر مجبور کیا جا سکتا ہے کیونکہ وہ اقرار کر رہا ہے اور اقرار کس قبیل سے ہے خبر کی قبیل سے ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو انشاء ہونے کے اعتبار سے قاضی کسی کو مجبور نہیں کر سکتا لیکن خبر ہونے کے اعتبار سے مجبور کر سکتا ہے تو یہاں پر بھی یہ اظہار ہے من وجہ للخبر المجھول السابق اس اس خبر کے لیے جو مجھول ہے اور سابق ہے مقدم ہے فلھذا یجبر علیہ من جانب القاضی لہٰذا اس شخص پر جبر کیا جائے گا قاضی کی جانب سے۔ وہ دونوں غلام کس کے پاس چلے گئے؟ قاضی کے پاس چلے گئے کہ اس نے اس شخص نے یوں کہا ہے اب بتا نہیں رہا کہ کون ہم میں سے ازاد ہے تو قاضی اب اس کو مجبور کر سکتا ہے کہ بیان کرو کون سا ان دونوں میں سے ازاد ہے۔ اور یہی بیان من وجہ انشاء بھی تھا تو اگر انشاء کی جہت کو دیکھا جائے تو گویا وہ اس وقت غلام کو ازاد کرے گا جب بیان کرے گا اور اس اعتبار سے تو یہ انشاء ہے اور غلام انشاء پر تو قاضی کسی کو مجبور تو یہاں پر جو قاضی مجبور کر رہا ہے وہ کس جہت کے اعتبار سے ہے؟ خبر ہونے کے اعتبار سے ہے۔ یہی چنانچہ بتلا رہے ہیں والا اور اگر ایسا نہ ہو یعنی یہ خبر نہ ہو تو ففی الانشاء لا یجب القاضی تو انشاء کے اندر تو قاضی جبر نہیں کر سکتا وہ مجبور نہیں کر سکتا بإن یعتق عبدہ البتہ اس بعید طور پر کہ وہ ازاد کرے اپنے غلام کو یقینی قطعی طور پر۔ انشاء میں قاضی کسی کو مجبور نہیں کر سکتا۔ با تصویریہ ہے صورت بتلا رہے ہیں کس طرح مجبور کرے بإن یعتق عبدہ البتہ اس بعید طور پر کہ وہ کیا کرے اپنے غلام کو قطعی طور پر ازاد کرے اس پر قاضی کسی کو مجبور نہیں کر سکتا۔ فالحاصل حاصل کلام یہ کہ ان جھة الانشائیة والخبریة قد اعتبرت فی کل من المبین والبیانی کہ انشاء ہونے کی جہت اور خبر ہونے کی جہت تحقیق اعتبار کیا گیا ہے ہر ایک کے اندر اس کا مبین کے اندر بھی اور مبین وہ جو پہلا کلام تھا اور بیان وہ جو بعد میں وہ تعیین کرے گا وہ بیان ہے دونوں میں دونوں کی رعایت رکھی جائے گی انشاء ہونے کی بھی اور خبر ہونے کی بھی بجھتین مختلفین دو مختلف وجہوں سے وہ دو مختلف جہتوں سے احتیاطاً بطور احتیاط کے۔ بطور احتیاط کے۔ ففی المبین پس مبین کے اندر اعتبار کیا جائے گا۔ من حيث قبوله التخیر اس حیثیت سے کہ وہ کیا کر لیتا ہے؟ تخییر کو۔ کہنے والے نے کیا کہا تھا مبین کیا ہے؟ ھذا حر او ھذا تو اس میں انشاء ہونے کا بھی لحاظ رکھیں گے اور خبر ہونے کا بھی لحاظ رکھیں گے اور بیان کے اندر بھی انشاء ہونے کا بھی لحاظ رکھیں گے اور خبر۔ تو یہ معنی ہے ففی المبین من حيث قبوله التخییر مبین کے اندر اس حیثیت سے کہ وہ تخییر کو قبول کر لیتا ہے وہاں اختیار آ سکتا ہے یا نہیں آ سکتا بھئی؟ تو وہ تخییر کو قبول کر لیتا ہے وہاں اختیار آ سکتا ہے تو وہاں اختیار آ جائے گا بھئی تو وہ آقا کو اختیار ہوگا کسی ایک کی تعیین کر دے۔ اور نیز و في البیان والبیانی۔ अच्छा من قبوله التخییر والبیان اس حیثیت سے کہ وہ کس کو قبول کر لیتا ہے؟ تخییر کو بھی قبول کر لیتا ہے والبیان اور کس کو قبول کر لیتا ہے بیان کو تو اس میں بھی دونوں جہتیں ہیں و فی البیان اور بیان کے اندر بھی دونوں جہتیں ہیں من حيث کونہ في موضع التہمة وغیرہی اس حیثیت سے کہ وہ تہمت کے مقام میں ہو یا غیر تہمت کے مقام مقام میں ہو بھئی غیر تہمت کے مقام میں ہو۔ بھئی دونوں کی رعایت رکھنی ہے۔ بیان کے اندر بھی جیسے مبین میں دونوں کی رعایت ہے اسی طرح بیان میں بھی دونوں کی رعایت۔ لہٰذا تہمت کا مقام ہو یا غیر تہمت کا مقام دونوں کی رعایت رکھیں گے۔ اگر تہمت کا مقام ہے تو وہاں انشاء ہونے کا اعتبار کریں گے۔ کس کا اعتبار کریں گے؟ انشاء ہونے کا اعتبار کریں گے اور انشاء لہٰذا اچھا کیا بات کی میں نے؟ اگر تہمت تہمت کا یعنی بدگمانی بدگمانی تہمت کسے کہتے ہیں؟ بدگمانی کو ثمن مجہول ہوں، اس کی کیا صورت ہے؟ مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں، یہ کتاب میں نے آپ کو دس درہم میں یا ایک دینار میں بیچ دی۔ صورت سمجھ میں آگئی تو ثمن کیا ہو گئے، مجہول کہ پانچ درہم ہے یا ایک دینار۔ अच्छा, اجارہ، کرائے پر کوئی چیز دینا، اس میں بھی یہی سورتیں ہیں۔ بھئی، وہ چیز وہ جو کرائے پر دینے والا ہے اس کو آجِر اور موجِر کہتے ہیں بھئی موجِر اور جو کرائے پر چیز لینے والا ہے اس کو مستعجِر کہتے ہیں کرائے پر لینے والا اور جو چیز کرائے پر لے رہا ہے اس کو مستعجِر کہتے ہیں کرائے پر لینے والا مستعجِر اور جس چیز کو لے رہا ہے کرائے پر وہ وہ مستعجِر اور جو پیسے دے گا وہ ہے اجرت بھئی اجرت بھئی۔ تو دیکھیے بھئی! اجارے کی صورت بنا لیں، میں نے آپ سے کہا میرے دو مکان تھے بھئی، میں نے کہا یہ والا مکان یا یہ والا مکان میں نے آپ کو ایک ماہ کے لیے اتنی اجرت پر کرائے پر دے دیا۔ تو دیکھو! مستعجِر کیا ہوا؟ مجہول کون جو چیز میں کرائے پر دے رہا ہوں۔ یا اجرت کو مجہول کر لیں کیا صورت ہوگی مکان ایک ہی ہے، میں آپ سے کہتا ہوں یہ مکان میں نے آپ کو ایک مہینے کے لیے پانچ درہم پر یا ایک دینار پر کرائے پر دے دیا ایک ماہ کے لیے۔ تو دیکھو! اجرت کیا ہو گئی؟ مجہول ہو گئی بھئی۔ تو یاد رکھیے، مبیعہ مجہول ہو یا ثمن مجہول ہو تو بے درست نہیں ہوتی۔ اسی طرح اب اجارے کے اندر اگر مستعجِر مجہول ہو یا اجرت مجہول ہو تو اجارہ بھی صحیح نہیں ہے بھئی صورت سمجھ میں آگئی۔ کہتے ہیں بخلاف البیع والإجارت بخلاف بیع اور اجارہ کے فانہ لا یصح التردید فیہما تو صحیح نہیں ہے تردید ان دونوں کے اندر اور کے ذریعے تردید کرنا دو چیزوں میں یعنی مبیعہ وغیرہ میں بین یقول بعی طور پر کہ وہ یوں کہتا ہے بعہذا او ہذا میں نے بیچا یہ یا یہ کس کے اندر بھئی تردید کر رہا ہے مبیعہ میں یا ثمن میں؟ مبیعہ میں۔ اور بعہذا بَالفین أو بَأَلْفَین یہ چیز میں نے بیچی 1000 کے بدلے یا 2000 یہاں کس کے اندر ثمن مجہول اور ہیں بھئی ثمن کے درمیان اور لا رہا ہے۔ وعاجرت ھذا او ھذا میں نے کرایہ پر دیا ہے یہ یا یہ یہ کس میں کون مجہول ہو رہا ہے کس کے درمیان اور آیا؟ مستعجِر میں۔ اور عاجرت ھذا بَأَلْفَین او بَأَلْفَین یا میں نے تمہیں کرایہ پر دیا یہ 1000 یا 2000 کے بدلے یہاں کیا کس کے درمیان اور آیا؟ اجرت میں تو اجرت مجہول ہوئی۔ تو یہاں یہ تردید ان دونوں کے درمیان صحیح نہیں ہے بائیں طور پر کہ یوں کہے یہ صورتیں ذکر ہوئیں لبقاء المعقود علیہ أو المعقود به مجہولا بوجہ باقی رہنے معقود علیہ کے یا معقود بہ کے مجہول اس وجہ سے کہ معقود علیہ یا معقود بہ وہ مجہول ہو جاتا ہے۔ معقود علیہ جس پر عقد کیا گیا۔ کس پر عقد کیا گیا تھا بے کے اندر مبیعہ ہے۔ اور اجارے کے اندر مستعجِر اور معقود بہ جس کے ذریعے کیا کیا گیا؟ عقد کیا گیا وہ بے میں کیا ہے؟ ثمن اور اجارے میں اجرت ہے۔ تو اس وجہ سے کہ وہ معقود علیہ یا معقود بہ جو ہے وہ مجہول وہ باقی رہے گا مجہول ہو کر مع عدم تعیُّن من لہ الخیار ساتھ متعین نہ ہونے کے اس شخص کے جس کو اختیار ہے۔ بھئی اس میں اگر صاحب خیار متعین ہو جائے پھر یہ صحیح ہو جائے گا۔ بھئی دراصل اس میں اس صورت کے اندر جھگڑا آئے گا۔ مبیعہ مجہول ہونے کی صورت میں کیا آئے گا؟ جھگڑا۔ ثمن مجہول ہو پھر بھی جھگڑا آئے گا۔ اجرت مجہول ہو پھر بھی جھگڑا آئے گا۔ اور مستعجِر مجہول ہو تو پھر بھی کیا آئے گا؟ جھگڑا آنے کا امکان ہے تو جہاں جھگڑا نہ آئے بے شک لیکن امکان تو ہے، امکان تو ہے امکان ابھی کافی ہے بس اسی وجہ سے شریعت نے ان کو فاسد قرار دے دیے یہ درست نہیں ہے۔ ہاں اگر صاحب اختیار کو متعین کر دیا جائے صاحب خیار کو پھر یہی صورتیں صحیح ہو جائیں گی۔ مثلاً میں نے آپ سے کہا کہ یہ کتاب یا یہ کتاب میں نے آپ کو 100 روپے کے بدلے بیچی اور اختیار آپ کو ہے آپ اس جس کو چاہیں اس میں سے منتخب کر لیں۔ اب دیکھیں من لہ الخیار متعین ہو گیا۔ وہ شخص جس کو اختیار ہے وہ کیا ہوا؟ جب وہ شخص متعین ہوگا پھر جھگڑے کا امکان نہیں۔ اب تو دونوں نے آپس میں خود ہی متعین کر دیا کہ یہ تعین کرے گا یا یہ۔ پہلے تو جھگڑے کا امکان تھا ایک کہتا میں تعین کروں گا دوسرا کہتا میں تعین کروں گا امکان تھا جھگڑے کا لیکن اب من لہ الخیار وہ شخص جس کو اختیار ہے جب وہ متعین ہو جائے پھر جھگڑے کا امکان نہیں۔ لہٰذا اس صورت میں یہی عقد کیا ہو جائیں گے؟ صحیح جب من لہ الخیار کو متعین کر دیا جائے من لہ الخیار کو۔ اور لیف جن چیزوں میں اختیار دیا جا رہا ہے وہ دو یا تین ہونی چاہیے بھئی تین سے زیادہ نہیں، تین سے زیادہ اس لیے نہیں کہ تین میں تین تینوں قسم کی چیزیں آ گئیں۔ اعلیٰ بھی، متوسط بھی اور ردی بھی۔ میں نے آپ سے کہا مثلاً کپڑا تھا کہ یہ کپڑا یا یہ کپڑا یا یہ کپڑا میں نے آپ کو 100 روپے میں بیچا اور آپ کو اختیار ہے۔ اب اس تین قسم کی چیزوں میں تین قسم میں تینوں آ سکتے ہیں اعلیٰ بھی، متوسط بھی اور ردی تو اتنے میں تو ضرورت ہے اس سے زائد کی ضرورت اور حاجت نہیں، لہٰذا ان میں پھر اختیار نہیں ہوگا تین کے اندر اس اگر کیا جائے اس طرح عقد تو صحیح ہو جائے گا، تین سے زیادہ میں کیا جائے تو اس کی ضرورت چونکہ نہیں ہے لہٰذا وہ درست بھی نہیں۔ صورت سمجھ میں آرہی ہے؟ ہاں جی پہلے دیکھیے، پہلے اوپر والا مسئلہ بیان کر رہے ہیں: لبقاء المعقود علیہ أو المعقود به مجہولا مع عدم تعیُّن من لہ الخیار بوجہ معقود علیہ یا معقود بہ کے باقی رہنے مجہول ہو کر ساتھ متعین نہ ہونے کے کس کے ساتھ متعین نہ ہونا؟ من لہ الخیار کیونکہ اوپر والی صورتوں میں من لہ الخیار بھی متعین نہیں اور معقود علیہ یا معقود بہ بھی کیا ہو گئے؟ وہ مجہول ہو گئے۔ ہاں اگر وہ مجہول ہوتے اور من لہ الخیار متعین ہوتا پھر صورت ٹھیک تھی جیسے آگے آ رہی ہے۔ الا أن يكون من لہ الخیار معلومًا فی اثنین أو ثلاثة مگر یہ کہ من لہ الخیار جو ہے وہ معلوم ہو دو کے اندر یا تین کے اندر متعلق بالبيع والإجارة کہتے ہیں اس کا تعلق بے اور اجارہ سے ہے۔ من لہ الخیار معلومًا الا أن يكون من لہ الخیار معلومًا فی اثنین أو ثلاثة اس کا تعلق بے اور اجارہ کے مسئلے سے ہے وکالت کے مسئلے سے نہیں ہے بھئی یہ بے اور اجارہ سے متعلق ہے لا یصح البیع والإجارة قط (یعنی بے اور اجارہ صحیح نہیں ہوں گے کبھی بھی) الا أن يكون من لہ الخیار معلومًا مگر یہ کہ وہ من لہ الخیار جو ہے وہ معلوم ہو بائیں طور پر کہ یوں کہتا ہے علی أن الخیار فی التعيين للبائع أو للمشتر بائیں طور پر کہ وہ کہیں ان میں سے ایک کیا کہتا ہے اچ علی، علی شرط کے لیے آتا ہے کہ تو میں نے تمہیں یہ چیز بیچی یا یہ چیز بیچی علی اس شرط پر کہ أن الخیار فی التعيين کہ تعین کے اندر اختیار جو ہوگا للبائع أو للمشتری بائع کے لیے ہوگا یا ایک کو بیان کریں۔ اختیار کس کو ہوگا؟ بائع کو ہوگا یا کیا کہے اختیار کس کو ہوگا؟ مشتری کو ہوگا تو اس صورت میں من لہ الخیار متعین ہو گیا۔ أو للأجر أو للمستأجر یا اختیار کس کو ہوگا؟ آجِر کو یعنی اجرت پر دینے والے کو یا کس کو ہوگا؟ مستعجِر کو (یعنی ایک ہی تعین کر دیں کہ اختیار کس کو ہے؟ اجرت پر دینے والے کو اس کو اختیار ہے تو دیکھو من لہ الخیار متعین ہوا یا اختیار کس کو ہے؟ مستعجِر کو تو دیکھو من لہ الخیار متعین ہوگا) ہو گیا بھئی۔ ويكون الخیار واقعا في اثنین أو ثلاثة من المبيع والثمن ومن الأجرة والدار اور یہ جو اختیار ہے یہ واقع ہوگا دو چیزوں میں أو ثلاثة یا تین میں من المبیع والثمن ومن الأجرة والدار (یعنی کہ مبیع اور ثمن میں سے اور کس میں سے من اجرت اور دار یعنی وہ مستعجِر میں سے) دو یا تین چیزیں ہونی چاہیے لا أزیاد من الثلاثة تین سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے لأن الثلاثة تشتمل علی الجيد والوسط والردی کیونکہ ثلاثہ جو ہے وہ مشتمل ہوتا ہے عمدہ پر بھی والوسط اور درمیانی چیز پر بھی والردی اور ردی تینوں قسم کی چیزیں آ گئیں، چیزیں تین ہی قسم کی ہوسکتی ہیں اعلیٰ، ادنیٰ اور متوسط وہ تینوں تین میں آ گئیں۔ والرابع زائد اور چوتھا تو زائد ہے لا حاجۃ الیہ اس کی کوئی حاجت نہیں ہے۔ والجہالة اچھا یہ سوال کا جواب دے رہے ہیں سوال یہ کہ بھئی ٹھیک ہے من لہ الخیار تو آپ نے متعین کر دیا لیکن جہالت تو ابھی بھی ہے۔ وہ اولایا یا نہیں دو یا تین چیزوں میں؟ وہ چیز تو مجہول ہوئی چاہے وہ مبیعہ ہے، چاہے ثمن ہے، چاہے وہ اجرت ہے، چاہے مستعجِر ہے، ہے تو مجہول کہتے ہیں ہاں بے شک وہ مجہول ہے۔ لیکن اب جھگڑے کا امکان نہیں۔ کس وجہ سے جھگڑے کا امکان نہیں؟ کیونکہ من لہ الخیار متعین ہو گیا کہ اس کو اختیار ہے وہ ان تین میں سے کیا کر لے گا ایک کو اختیار کر لے گا، پسند کر لے گا۔ یہ معنی ہے والجہالة غير مفضية إلی المنازعة اور یہ جہالت جو ہے یہ پہنچانے والی نہیں ہے جھگڑے تک لتعين من لہ الخیار بوجہ متعین ہونے اس شخص کے جس کو اختیار ہے فَيَصِحُّ استحسانا تو یہ عقد کیا ہوگا یہ بے اور اجارہ یہ عقد صحیح ہو جائے گا استحسانا الحاقا لہذا الخیار بخیار الشرط ملاتے ہوئے اس اختیار کو خیار شرط کے ساتھ۔ بھئی دیکھیے قیاس تو تقاضا کرتا ہے کہ یہ عقد صحیح نہیں ہونا چاہیے کیونکہ ایک چیز مجہول ہو گئی یا مبیعہ یا ثمن۔ یا پھر اجارے کے اندر مستعجِر یا اجرت ایک چیز تو ابھی بھی مجہول ہے تو قیاس تو کیا تقاضا کرتا ہے قیاس جلی کہ یہ جائز نہیں ہونا چاہیے یہ عقد بھئی لیکن استقیاس خفی کے نے اس وجہ سے اس کی اجازت دی گئی قیاس خفی کیا کہ اس کو ہم نے ملا دیا خیار شرط کے ساتھ۔ یہ جو دو تین چیزوں کا ان میں تعین کا اختیار تھا اس کو کہتے ہیں خیار تعیین۔ کیا کہتے ہیں؟ خیار تعیین اور ایک خیار شرط بھی آپ نے پڑھا ہوگا خیار شرط کس کو کہتے تھے کہ میں اور آپ عقد کرتے ہیں ایک چیز کا لیکن آپ کہتے ہیں کہ بھئی میں اس شرط پر عقد کرتا ہوں کہ مجھے تین دن تک اختیار ہے یا دو دن تک مجھے اختیار ہے کہ میں چاہوں تو ان دو دنوں میں عقد کو فسخ کر سکتا ہوں۔ یہ کیا ہے؟ خیار شرط ہے، خیار شرط ہے۔ اور یہ زیادہ سے زیادہ تین دن تک ہو سکتا ہے اور اس کی باقاعدہ احادیث میں صراحت ہے اس کی جائز ہے شرعاً بھئی احادیث میں تصریح ہے اس کی اور یہ زیادہ سے زیادہ تین دن تک جائز ہے اور کیوں اجازت دی گئی؟ ضرورت کی بنا پر بھئی کس کی بنا پر؟ ضرورت کی بنا پر۔ وجہ یہ کہ بعض اوقات خریدار جو ہوتا ہے اس کو چیز کا پتہ نہیں ہوتا تو وہ اس وجہ سے اختیار رکھتا ہے کہ تاکہ کہیں مجھے نقصان نہ ہو جائے میں چیز لے جاتا ہوں اور جو جاننے والے میرے ہیں ان سے مشورہ کر لوں گا میں بھئی صورت سمجھ میں آ گئی تو جو ان میں سے میرے میرے لیے بہتر ہوگی وہ صورت پھر میں اختیار کر لوں گا تو جس طرح وہاں حاجت تھی خیار شرط کے اندر اسی طرح خیار تعیین کے اندر بھی حاجت ہے بھئی حاجت ہے ایک آدمی ہے اس کو پتہ نہیں کہ ان تین میں سے کون سی چیز میرے لیے بہتر ہے تو وہ عقد کر لیتا ہے تینوں پر کہ ان میں سے اختیار مجھے ہے اور وہ پھر اس میں غور و فكر کر کے یا دوسرے سے مشورہ کر کے میں کیا کر لوں گا ایک جو میرے لیے بہتر ہے اس کو لے لوں گا تو اس میں بھی اسی کی طرح حاجت پہ حاجت ہے تو لہٰذا یہ جیسے خیار شرط میں اجازت تھی تو اس کو بھی ہم نے کس کے ساتھ ملا دیا خیار شرط کے ساتھ حاجت کی وجہ سے ضرورت کی بنا پر بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو یہ ہے قیاس خفی بھئی قیاس خفی بھئی کس کے ساتھ ہم نے ملایا؟ خیار شرط کے ساتھ اور دلیل کیا کس بنا پر؟ حاجت اور ضرورت جیسے اس کی حاجت تھی اس کی بھی کیا ہے؟ حاجت ہے بھئی تو قیاس جلی کہہ سے پتہ چلا کہ اس کی یہ جائز نہیں ہونا چاہیے اور قیاس خفی نے کیا بتلایا کہ یہ جائز ہونا چاہیے اور سہولت کس کے اندر ہے لوگوں کے لیے کس چیز میں؟ ہاں قیاس خفی میں سہولت ہے کہ اس میں لوگوں کے لیے سہولت ہو گئی بھئی آپ کو ایک چیز کا نہیں پتہ دو تین چیزوں کے کو کیا کر لو اپنے اختیار رکھ کے بے کر کے آ جاؤ اور پھر بعد میں ایک کو پسند کر لینا ان میں سے اس کو رکھ لینا دوسری واپس صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ معنی فَيَصِحُّ استحسانا تو یہ عقد صحیح ہو جائے گا استحسانا الحاقا لہذا الخیار بخیار الشرط ملاتے ہوئے اس اختیار کو یعنی خیار تعیین کو خیار شرط کے ساتھ وعند زفر والشافعی رحمهما اللہ تعالیٰ رحمۃ واسعۃ لا یصح قیاسا اور امام زفر اور امام شافعی رحمہم اللہ کے نزدیک یہ صحیح نہیں ہے قیاس کے اعتبار سے کیوں؟ للجہالة بوجہ جہالت کے کہ ان میں ایک چیز مجہول ہو جاتی ہے۔ چلیے بس کرتے ہیں بس بھئی هذا هو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام