درس نمبر۔58 وجوب کفارہ اور وجوب حنث کا پتہ لگا۔ فیفہم منہ، پس پہلی روایت میں جہاں ہم نے "واؤ" کو "ثم" کو "واؤ" کے معنی میں لیا، فیفہم منہ وجوب كلا الأمرين، پس سمجھا جائے گا اس سے دونوں چیزوں کے وجوب کا، دونوں امور کے۔ کون سے دونوں؟ أعني الكفارة والحنث، یعنی کفارہ اور حانث ہونا من غير تقديم أحدهما على الآخر، بغیر اس کے کہ ایک کو دوسرے پر مقدم کیا جائے۔ ثم يفہم الترتيب، پھر ترتیب کو سمجھا گیا، وہو تقديم الحنث على الكفارة من الرواية الأخرى، اور وہ حانث ہونے کو مقدم کرنا ہے کفارے پر۔ اس کا پتہ چلا اس ترتیب کا کس سے؟ من الرواية الأخرى، دوسری روایت سے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ سوال پیدا ہوا اس کا عکس کیوں نہیں کیا گیا؟ دوسری روایت میں کیا کرتے؟ "ثم" کو "واؤ" کے معنی میں لے لیتے اور اس پہلی روایت میں "ثم" کو اپنے ہی معنی پر باقی رکھتے۔ تو اس صورت میں کیا ہوتا؟ کفارے کا مقدم کرنا حانث ہونے پر واجب ہوتا۔ تو آپ عکس کر لیتے کہ کہتے ولم يعكس، اس کا عکس نہیں کیا گیا بھئی، کیونکہ اس سے کئی خرابیاں لازم آ رہی تھیں۔ دیکھیے! ولم يعكس، اس کا عکس نہیں کیا گیا، لأن تقديم الكفارة على الحنث غير واجب بالاتفاق، اس لیے کیونکہ کفارے کا مقدم کرنا حانث ہونے پر، یہ واجب نہیں ہے بالاتفاق بھئی! اگر پہلی روایت کو اپنے حال پر باقی رکھتے، پھر تو کیا کیا بات ہوتی؟ کہ تقديم كفارہ على الحنث واجب ہے۔ حالانکہ بالاتفاق مولانا تقديم كفارہ على الحنث واجب نہیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ بھی جواز کے قائل ہیں، جائز ہے مقدم کرنا، واجب نہیں ہے بھئی! تو یہ ایک خرابی آتی۔ غايته، انتہائی یہ ہوتی غايته، انتہائی بات یہ ہے کہ أنه جائز عند الشافعي رحمہ اللہ، کہ یہ جائز ہے امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک۔ فلو عملنا بالرواية الأولى، اگر ہم عمل کرتے پہلی روایت پر، يلزم وجوب تقديم الكفارة على الحنث، تو لازم آتا حانث ہونے پر کفارے کے مقدم کرنے کا وجوب۔ یعنی تقديم كفارہ کے وجوب کا وجوب لازم آتا حانث ہونے پر، وهو خلاف الإجماع، اور یہ کیا ہے؟ خلاف إجماع ہے۔ جی، ایک یہ خرابی لازم آتی۔ دوسری، ويلزم تخصيص الكفارة بالمال من غير مرجح۔ جی، مرجّح ہے آپ کی کتاب میں؟ مرجِّح، ح کے نیچے ع کی جگہ۔ ويلزم تخصيص الكفارة بالمال من غير مرجح، اور لازم آتا کفارہ بالمال کی تخصیص بغیر کسی مرجح کے۔ بھئی، کفارہ بالمال امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا وہ مقدم کرنا جائز ہے مولانا، اور صورت جائز نہیں ہے بھئی، روزے وغیرہ اس سے پہلے نہیں رکھ سکتا۔ تو اس صورت میں تقديم کفارہ بالمال جو ہے، اس کی تخصیص لازم آتی بغیر کسی مرجح کے بھئی۔ کوئی مرجح، ترجیح دینے والی چیز بھی نہیں، اس کے بغیر یہ لازم آتا، جیسے کہ امام شافعی رحمہ اللہ کا قول ہے۔ یہ دوسری خرابی لازم آتی۔ بھئی دیکھیے! امام شافعی رحمہ اللہ بھی وہ فرماتے ہیں کہ مطلق کفارہ کو حانث ہونے پر مقدم کرنا جائز نہیں ہے۔ یعنی صرف کفارہ بالمال جب ہو، تب تو اس کو مقدم کرنا جائز ہے۔ اگر کفارہ بالصوم ہو، تو پھر مقدم کرنا جائز نہیں ہے۔ تو اگر پہلی روایت پر عمل کیا جائے، اس میں تو مطلق کفارے کا ذکر ہے کہ مطلق کفارے کو کیا کر دو؟ مطلق کفارہ اگر اس سے جواز بھی ہم مراد لیں۔ امر ہے، امر اباحت اور جواز کے لیے بھی آتا ہے۔ تو اگر ہم امر کو اباحت کے معنی میں بھی لے لیں، تو بھی اس حدیث سے یہ مفہوم ہوتا ہے کہ کفارے کو حانث ہونے پر مقدم کرنا جائز ہے۔ کفّار... توجہ ہے سبق کی طرف؟ کفارے کو حانث ہونے پر مقدم کرنا جائز ہے۔ لیکن کفارہ تو پھر دو طرح کا دیا جا سکتا ہے، کفارہ بالمال بھی ہو سکتا ہے اور کفارہ بالصوم بھی ہو سکتا ہے۔ لہٰذا دونوں کو مقدم، دونوں کی تقديم جائز ہونی چاہیے، لیکن امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نہیں! صرف کفارہ بالمال اس کو تو مقدم کرنا جائز ہے، کفارہ بالصوم کو مقدم کرنا جائز نہیں۔ تو اس صورت میں اگر پہلی حدیث کو اسی طرح "ثم" کو اپنے معنی پر رکھا جائے، تو پھر یہ... پھر اس صورت میں تو دونوں کفاروں کی تقديم جائز ہونی چاہیے اور امام شافعی رحمہ اللہ صرف کس کی تخصیص کرتے ہیں؟ کفارہ بالمال کی تخصیص کرتے ہیں۔ تو یہ جو کفارہ بالمال کی تخصیص ہے، یہ بغیر کسی مرجح کے ہے۔ کس بات پر، کس بنا پر اس کو ترجیح دی؟ اس کے اندر تقديم جائز ہے، دوسرے میں تقديم جائز نہیں بھئی! تو یہ خرابی لازم آتی ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہیں: ويلزم تخصيص الكفارة بالمال من غير مرجح، لازم آتا ہے کفارہ بالمال کی تخصیص بغیر کسی مرجح... کوئی ترجیح دینے والی چیز نہیں ہے، کس بنا پر اس کو مقدم کرنا جائز ہے اور دوسرے کو جائز نہیں۔ ويلزم إلغاء الرواية الأخرى، اور لازم آتا دوسری روایت کو لغو کر دینا۔ کیا ہوتا؟ لغو کر دینا لازم آتا بھئی! تو یہ تین وجہیں لازم آ رہی تھیں، اس لیے ہم نے عکس نہیں کیا اس کا۔ فلذا عملنا... فلذا عملنا بالرواية الأخرى، اسی وجہ سے ہم نے عمل کیا دوسری روایت پر، وجعلنا لفظ "ثم" في الأولى بمعنى الواو، اور لفظ "ثم" کو پہلی روایت میں "واؤ" کے معنی میں بنا دیا، ليبقى الأمر على حقيقته، تاکہ امر اپنی حقیقت پر باقی رہے، لأن المجاز في الحرف خير من المجاز في الفعل، اس لیے کیونکہ مجاز فی الحرف یہ بہتر ہے مجاز فی الفعل سے۔ مجاز فی الفعل کس طرح؟ کہتے ہیں: بحمل الأمر على الإباحة ونحوها، محمول کرنا حمل... امر کو محمول کرنا اباحت اور اس جیسے معنی پر، یہ مجاز فی الفعل ہے۔ بھئی دیکھیے! ذرا وہ پچھلا صفحہ نکالیں، یہ "ثم"... وہ حدیث۔ یہاں پر ہم نے "ثم" کو کس معنی میں لیا؟ "واؤ" کے معنی میں لیا، تو مجاز فی الحرف کیا۔ کیا کیا؟ مجاز فی الحرف۔ اور امام شافعی رحمہ اللہ جو ہیں، امام شافعی رحمہ اللہ، انہوں نے کیا ذکر فرمایا؟ کہ "ثم" اپنے معنی پر ہے۔ ہاں! کفارے کو مقدم کرنا جائز ہے۔ کفارے کو مقدم کرنا جائز ہے۔ اور آ رہا ہے: فليكفر، امر۔ اور امر کا حقیقی معنی کیا ہے؟ وجوب۔ تو انہوں نے وجوب والا معنی کیا یا مجازاً... مجازی معنی جواز کے کیے؟ مجازی معنی اباحت کے کیے اور جواز کے کیے مولانا۔ تو انہوں نے، ان کے قول کو لیں تو اس صورت میں مجاز فی الفعل لازم آتا ہے، فعل کے اندر کون سا معنی لیا بھئی؟ مجاز۔ اور ہمارا قول لیں تو اس صورت میں حرف کے اندر کیا آتا ہے؟ مجاز لازم آتا ہے۔ اور مجاز فی الحرف بہتر ہے کس سے؟ مجاز فی الفعل سے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو بحمل الأمر على الإباحة ونحوها، یہ وہ امر کا جو مجاز فعل کے اندر لازم آ رہا ہے، اس کو بیان کر رہے ہیں: بہ ایں صورت کہ محمول کیا جائے گا امر... امر کو کس پر؟ اباحت وغیرہ جیسے معنی پر، یہ مجاز فی الفعل کرنا لاز... اس سے اولیٰ ہے مجاز فی الحرف بھئی! تو ہم نے مجاز فی الحرف کیا بھئی۔ و"بل" لإثبات ما بعده، اور "بل" جو آتا ہے، ما بعد کے اثبات کے لیے آتا ہے، والإعراب عما قبلها، بل جو آتا ہے، ما بعد کے اثبات کے لیے اور ما قبل کے اعراض کے لیے آتا ہے، على سبيل التدارك، تدارک کے طور پر، کس طریقے پر؟ تدارک کے طریقے پر بھئی۔ اب "بل" کی بحث شروع کر رہے ہیں بھئی! بھئی دیکھیے! "بل" آتا ہے غلطی کے تدارک کے لیے۔ میں آپ سے کہنا چاہتا تھا: جاءني عمرو، جلدی میں میں کہہ بیٹھا: جاءني زيد، اور کہنا کیا چاہتا تھا؟ تو میں اب "بل" کے ذریعے اپنی اس غلطی کا تدارک فوراً کرتا ہوں۔ میں نے کہا: جاءني زيد بل عمرو۔ دیکھو، میں نے فوراً کیا کیا؟ اپنی غلطی کا تدارک کیا، اس کی تلافی کی مولانا! کس کے ذریعے؟ "بل" کے ذریعے۔ تو دیکھو! جاءني زيد بل عمرو، مجیئت کس کے لیے ثابت ہے؟ یاد رکھو، یہ ما بعد کے لیے اثبات ہوا، ما قبل سے اعراض ہوا۔ جاءني زيد بل عمرو کا کیا معنی؟ کون آیا میرے پاس؟ عمرو آیا ہے، اور زید؟ نہیں، نہیں! یہ ترجمہ نہیں۔ زید مسکوت عنہ ہے، اس کے بارے میں سکوت ہے، ہو سکتا ہے وہ آیا ہو، ہو سکتا ہے نہ آیا ہو، دونوں احتمال ہیں اس کے اندر۔ یہ نہیں کہ اس کے نفی کر دی میں نے۔ میں نے صرف یہ بتلایا "بل" کے ذریعے، بھئی میرا ارادہ مجیئتِ عمرو کو بیان کرنا تھا، غلطی سے کس کو میں بیان کر بیٹھا؟ ہاں، میں غلطی سے کس کو بیان کر بیٹھا؟ مجیئتِ زید کو بیان کر بیٹھا، میرا مقصد بیان کرنا تھا مجیئتِ عمرو کو، میں نے اس غلطی کا تدارک کیا "بل" کے ذریعے، تو عمرو کے لیے مجیئت ثابت ہے، میں یہ کہنا چاہتا ہوں۔ دیکھو، "بل" کے ما بعد کے لیے اثباتِ حکم ہوا اور ما قبل سے کیا کیا میں نے؟ اعراض کر لیا "بل" کے ذریعے، تو یہ معنی نہیں کہ وہ نہیں آیا، وہ مسکوت عنہ ہے، اس کے بارے میں سکوت ہے، ہو سکتا ہے وہ آیا ہو، ہو سکتا ہے نہ... ہاں! اگر "بل" سے پہلے میں "لا" لے آتا، پھر زید کی مجیئت کی نفی ہو جاتی۔ میں نے کہا: جاءني زيد لا بل عمرو، جاءني زيد لا بل عمرو، اب زید سے مجیئت کی نفی ہوئی، لیکن "بل" کی وجہ سے یا "لا" کی وجہ سے؟ "لا" کی وجہ سے نفی ہوئی ہے زید سے، صورت سمجھ میں آئی؟ تو "بل" جو ہے ما قبل سے حکم کی نفی نہیں کرتا بھئی! یہی بات کر رہے ہیں، کہتے ہیں: و"بل" لإثبات ما بعده والإعراض عما قبله، "بل" جو ہو... "بل" ما بعد کے اثبات کے لیے ہے والإعراض عما قبله، اور ما قبل سے اعراض کے لیے ہے، على سبيل التدارك، تدارک کے طریقے پر یعنی تلافی کے طریقے پر، أي تدارك الغلط، یعنی غلطی کی تلافی کے طور پر، بمعنى أننا غلطنا في تكلم... في تكلم ما قبل "بل"، بہ ایں معنی کہ ہم نے غلطی کی ہے "بل" سے ما قبل کے تکلم کے اندر، إذ لم يكن مقصوداً لنا، اس لیے کیونکہ وہ ہمارا مقصود نہیں تھا، وإنما المقصود ما بعده، اور مقصود تو اس کا ما بعد تھا، لا أنه خطأ في الواقع، ہاں! یہ معنی نہیں کہ ہم نے غلطی کی، غلطی کا یہ معنی نہیں کہ واقع میں غلطی، واقع میں زید کے لیے مجیئت ثابت نہیں ہے، بلکہ کس چیز میں ہے؟ ہمارے ارادے میں غلطی ہوئی۔ میں نے کہا نا: جاءني زيد بل عمرو، تو میں نے غلطی کی۔ غلطی کی، لیکن کس چیز میں غلطی کی؟ جی؟ اپنے مقصود میں غلطی کی، اپنے مقصد میں غلطی کی، میں... میرا ارادہ کیا کہنے کا تھا؟ جاءني عمرو کہنے کا ارادہ تھا، لیکن غلطی سے زبان سے کیا کہہ بیٹھا ہوں؟ جاءني زيد، تو یہ مقصود میں، اس کے اندر میں نے غلطی کی ہے۔ واقع کے اعتبار سے خطا نہیں، واقع کے اعتبار سے خطا کیسے ہوتا؟ میں کہہ رہا ہوں: جاءني زيد، یہ خطا کب ہوگا؟ جب زید نہ آیا ہو، جب زید نہ... نہ آیا ہو، تو اس صورت میں تو زید کی کیا ہو جائے گی؟ نفی، حالانکہ "بل" ما قبل کی نفی کا فائدہ نہیں دیتا بھئی! یہ معنی ہے کہ لا أنه خطأ في الواقع، یہ نہیں کہ وہ واقع کے اعتبار سے وفي نفس الأمر، اور نفس الأمر کے اعتبار سے یہ خطا ہے۔ فإذا قلت: جاءني زيد بل عمرو، جب آپ کہتے ہیں: جاءني زيد بل عمرو، كان معناه: أن المقصود إثبات المجيء لعمرو لا لزيد، تو اس کا معنی یہ ہے کہ مقصود جو ہے وہ مجیئت کا ثابت کرنا ہے عمرو کے لیے، نہ کہ زید کے لیے، فالزيد يحتمل مجيئه وعدمه، پس زید وہ احتمال رکھتا ہے اپنی مجیئت کا بھی اور... اور عدمِ مجیئت کا بھی، فإذا زدت عليه "لا"، جب آپ اس پر "لا" بڑھا دیں، فتقول، پس آپ یوں کہیں: جاءني زيد لا بل عمرو، اب "لا" بڑھا دیا، كان نصاً في نفي المجيء عن زيد، تو اس صورت میں یہ کلام نص ہوگا زید سے مجیئت کی نفی کے اندر بھئی، یعنی تصریح ہوگی بھئی، صراحتاً آپ نے کیا کر دی؟ زید سے مجیئت کی نفی کر دی۔ هذا إذا جاء في الإثبات، یہ اس وقت ہے جب "بل" جو ہے اثبات کے اندر آئے، یعنی کلامِ مثبت... جاءني زيد بل عمرو، کوئی حرفِ نفی آیا؟ نہیں، تو یہ کلامِ مثبت کے اندر یہ بات تھی کہ اول سے اعراض ہوتا ہے اور ثانی کے لیے حکم کا اثبات ہوتا ہے۔ وإن جاء في النفي، اور اگر "بل" نفی کے اندر... کلامِ من... نفی کے اندر آئے، یعنی کلامِ منفی میں آئے، یعنی اس سے ما قبل کلامِ منفی ہو، بأن يقال: ما جاءني زيد بل عمرو، میرے پاس زید نہیں آیا، بلکہ عمرو، کیا معنی ہوگا؟ بھئی، "بل" جو ہوتا ہے "بل"، یاد رکھو! یہ ما قبل میں جو حکم تھا، اس کو پھیر کر ما بعد کی طرف لے جاتا ہے۔ میں نے جب کہا تھا: جاءني زيد بل عمرو، "بل" سے پہلے کس چیز سے حکم لگایا جا رہا تھا زید پر؟ مجیئت! "بل" نے اسی مجیئت کو زید سے اٹھایا اور کس کی طرف پھیر دیا؟ عمرو کی طرف پھیر دیا۔ اب کلامِ منفی کے اندر بھی ما قبل میں مجیئت ہے یا عدمِ مجیئت ہے؟ عدمِ مجیئت، تو چنانچہ اسی عدمِ مجیئت کو "بل" پھیر کر کس کی طرف لے جائے گا؟ عمرو کی طرف، کیا معنی؟ کہ عمرو نہیں آیا، اور باقی زید مسکوت عنہ ہے، ہو سکتا ہے آیا ہو، ہو سکتا ہے نہ... یہ بعض علماء کا مذہب ہے کہ "بل" چونکہ پھیر دیتا ہے ما قبل کے حکم کو، اور کلامِ منفی میں جب وہ ما قبل میں حکم منفی ہے، تو اسی منفی حکم کو ما بعد کی طرف پھیر دے گا۔ جبکہ بعض علماء فرماتے ہیں: نہیں! اس صورت میں زید کے لیے مجیئت ثابت ہوگی، کیا ثابت ہوگی؟ یعنی کلامِ منفی کو نہیں پھیرے گا، بلکہ کلامِ مثبت کو کیا کرے گا؟ حکمِ مثبت کو ثانی کے لیے ثابت کر دے گا۔ تو میں... اس قول کے مطابق "ما جاءني زيد بل عمرو" کا کیا معنی؟ عمرو آیا ہے، اس نفی کو کس سے بدل دیا؟ اثبات سے، اور پھر اس کو کس کے لیے ثابت کر دیا؟ ما بعد کے لیے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو بعض علماء کے نزدیک اسی نفی کلام... حکمِ منفی ہے، تو حکمِ منفی ہی کو "بل" پھیر کر ما بعد کے لیے ثابت کرے گا، اور بعض کہتے ہیں: نہیں، "بل" کیا کرے گا؟ پہلے کیا کریں گے اس حکم میں؟ منفی کو کس سے بدل لے گا؟ مثبت سے، اور پھر اس کو "بل" ثابت کر دے گا ما بعد کے لیے۔ تو پہلے قول کے مطابق کلام کا معنی ہوا: عمرو نہیں آیا، زید مسکوت عنہ ہے۔ دوسرے کے مطابق: عمرو آیا ہے، اور زید کیا ہے؟ مسکوت عنہ ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ کہتے ہیں: وإن جاء في النفي، اور اگر "بل" کلامِ منفی کے اندر آیا، بأن يقال: ما جاءني زيد بل عمرو، بہ ایں طور کہ یوں کہا جائے: ما جاءني زيد بل عمرو، فقيل: يصرف النفي إلى عمرو، تو کہا گیا ہے کہ پھیر دے گا نفی کو عمرو کی طرف، وقيل: يصرف الإثبات إليه، اور کہا گیا ہے کہ اثبات کو اس کی طرف پھیر دے گا، على ما عرف في النحو، بناء بر اس کے جو کہ کس کے اندر جانا گیا ہے؟ علمِ نحو کے اندر۔ چلیے بس مولانا، هذا هو المراد، والله أعلم بحقيقة الكلام۔