درس نمبر۔54 وَبِدَلَالَةِ مَعْنًى يَرْجِعُ إِلَى الْمُتَكَلِّمِ وَقَصْدِهِ، فَيُحْمَلُ عَلَى الْأَخَصِّ مَجَازًا، وَإِنْ كَانَ اللَّفْظُ دَالًّا عَلَى الْعُمُومِ بِحَقِيقَتِهِ، كَمَا فِي يَمِينِ الْفَوْرِ. بھئی گزشتہ سبق میں مصنف رحمہ اللہ نے وہ قرینے بیان کرنا شروع کیے تھے جن کی وجہ سے حقیقت کو ترک کیا جاتا ہے اور مجاز پر عمل کیا جاتا ہے۔ اور مصنف رحمہ اللہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ وہ پانچ قرینے ہیں۔ وہ پانچ قرینے جن کی وجہ سے کیا کیا جاتا ہے؟ حقیقت کو چھوڑ دیا جاتا ہے اور مجاز پر عمل کیا جاتا ہے۔ ان میں سے پہلا قرینہ کیا تھا؟ دلالتِ عرف، بھئی۔ کہ عرف کے اندر جو ہے اس لفظ کا حقیقی معنی کے بجائے کون سا معنی لیا جاتا ہے؟ مجازی معنی۔ تو لہٰذا، جب عرف میں مجازی معنی لیا جاتا ہے اور یہ کہنے والا بھی انہی لوگوں میں سے ایک شخص ہے، تو لہٰذا یہاں بھی کیا کریں گے حقیقی معنی کو چھوڑ کر مجازی معنی مراد لیں گے۔ اور دوسرا قرینہ جو تھا کہ وہ لفظ جو ہے اس کا مادہ، مادۂ اشتقاق جو ہے اس کی دلالت ہوتی ہے اس بات پر کہ یہاں حقیقی معنی مراد نہیں، جیسے اس کی مثال وہ لحم والی مثال گزری تھی کہ اس میں مچھلی داخل نہیں اور جیسے اس نے "کُلُّ مَمْلُوکٍ لِي فَهُوَ حُرٌّ" کہا تھا تو مملوک کے اندر ہم نے بتایا تھا کہ مکاتب داخل نہیں۔ سمجھ میں آیا؟ تو وہاں پر لفظ کی اپنی ذات میں ہی ایسی دلالت موجود ہے جو بتلا رہی ہے کہ یہاں حقیقی معنی مراد نہیں ہوگا بلکہ کیا معنی لیں گے؟ مجازی معنی۔ اور کبھی کبھار وہ قرینہ جو ہے وہ دلالتِ سیاقِ نظم ہوگا۔ کلام کا چلاؤ بتلاتا ہے کہ یہاں حقیقی معنی مراد نہیں بلکہ مجازی معنی ہے، جیسے کسی شخص نے دوسرے آدمی سے کہا: "طَلِّقْ اِمْرَأَتِي إِنْ كُنْتَ رَجُلًا"، تو یہ "إِنْ كُنْتَ رَجُلًا" نے بتلایا کہ وہ اسے وکیل نہیں بنا رہا بلکہ اس کے عجز کو ظاہر کرنا چاہتا ہے، بھئی۔ آج ہم چوتھا قرینہ پڑھیں گے ان پانچ قرینوں میں سے۔ کہتے ہیں: "وَبِدَلَالَةِ مَعْنًى يَرْجِعُ إِلَى الْمُتَكَلِّمِ"، اور ایک ایسے معنی کی دلالت کی وجہ سے جو کس کی طرف لوٹتا ہے؟ متکلم کی طرف۔ یعنی متکلم کی ذات میں ایک ایسا معنی موجود ہے، ایک ایسا قرینہ موجود ہے جو بتلا رہا ہے کہ یہاں حقیقی معنی مراد نہیں بلکہ مجازی معنی مراد ہیں۔ "وَقَصْدِهِ"، "قَصْدِهِ" کا عطف جو ہے "مَعْنًى" پر ہے۔ "وَبِدَلَالَةِ مَعْنًى يَرْجِعُ إِلَى الْمُتَكَلِّمِ وَبِدَلَالَةِ قَصْدِهِ"، اور متکلم کے ارادے کی دلالت کی وجہ سے، متکلم کا ارادہ جو ہے وہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ حقیقی معنی مراد نہیں بلکہ مجازی معنی مراد ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے سب کو، بھئی؟ کہ متکلم کی ذات میں ایک معنی موجود ہوتا ہے، وہ معنی دلالت کرتا ہے اس بات پر کہ یہاں حقیقی معنی مراد نہیں بلکہ کون سا معنی مراد ہے؟ مجازی معنی مراد ہے۔ "فَيُحْمَلُ عَلَى الْأَخَصِّ مَجَازًا وَإِنْ كَانَ اللَّفْظُ دَالًّا عَلَى الْعُمُومِ بِحَقِيقَتِهِ"، تو لہٰذا اس لفظ کو محمول کیا جاتا ہے اخص پر، مجازی طریقے پر، اگرچہ لفظ تو جو ہے وہ عموم پر دلالت کرنے والا ہوتا ہے اپنی حقیقت کے اعتبار سے۔ بھئی دیکھیے! جیسے گزشتہ مثال میں گزرا، بھئی، کہ فاکہہ کا لفظ تو تمام پھلوں کو شامل تھا، لیکن کس کس کو ہم نے نکال دیا؟ انگور، انار اور کھجور کو نکال دیا۔ تو دیکھو، لفظ میں تو عموم تھا لیکن ہم نے اس کو خصوص پر محمول کیا، بھئی۔ عموم تو یہ تھا کہ سارے افراد کو یہ شامل ہوتا، لیکن ہم نے کہا یار، سارے افراد نہیں مراد ہوں گے بلکہ یہ تین چار افراد ہیں یہ نکل گئے، باقی افراد مراد ہیں۔ تو عموم کے بجائے کس طرف ہم چلے گئے؟ خصوص کی طرف چلے گئے۔ تو دیکھو، یہ ہے مجازی معنی، عموم کو چھوڑا اور خصوص کو اختیار کیا۔ یہاں بھی اسی طرح، متکلم کی ذات میں ایک ایسا معنی ہوتا ہے جو بتلاتا ہے کہ عموم نہیں، اگرچہ لفظ کا حقیقی معنی تو کیا ہے؟ عموم، لیکن متکلم کی ذات میں ایک معنی ہوتا ہے جو ہمیں بتلاتا ہے کہ یہاں عموم نہیں مراد بلکہ کیا مراد ہے؟ خصوص مراد ہے۔ جیسے اس کی مثال آگے آئے گی، بھئی۔ ایک شخص اپنی بیوی سے کہتا ہے جھگڑے کے دوران، میاں بیوی میں لڑائی جھگڑا ہوا اور بیوی گھر سے نکل کر کہیں جانے لگی، خاوند کہنے لگا کہ: "اگر تو گھر سے نکلی تو تجھے طلاق ہے۔ اگر تو گھر سے نکلی تو تجھے طلاق ہے۔ إِنْ خَرَجْتِ فَأَنْتِ طَالِقٌ"۔ اب دیکھیے، "إِنْ خَرَجْتِ فَأَنْتِ طَالِقٌ"، لفظوں پر غور کیجیے۔ ان لفظوں کا تقاضا تو یہ ہے کہ اس کے بعد اب جب بھی عورت کبھی نکلے اس کو فوراً کیا ہو جانی چاہیے؟ طلاق ہونی چاہیے۔ "إِنْ خَرَجْتِ فَأَنْتِ طَالِقٌ"، اگر تو گھر سے نکلی تو تجھے طلاق ہے۔ لیکن خاوند نے جس وقت یہ کلام کہا، اس وقت سخت غصے اور غضب کی حالت میں تھا۔ معلوم ہوا، اس کے اس کے مراد یہ نہیں ہے کہ جب کبھی بھی تو گھر سے نکلی، بلکہ اس کی مراد یہ ہے کہ اس وقت اگر تو نکلی تو تجھے طلاق ہے، بھئی۔ معلوم ہوا، وہ غضب کی وجہ سے یہ بات کہہ رہا ہے، یہ غضب اس کے متکلم کی ذات میں موجود ہے، اس غضب نے بتلایا کہ اس وقت وہ نکلنے سے روکنا چاہتا ہے، بعد میں نکلنے سے نہیں، تو لہٰذا اس وقت اگر عورت نکل گئی تو اسے طلاق ہو جائے گی اور اگر وہ رک گئی، کچھ دیر ٹھہر گئی، یہاں تک کہ خاوند کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا، پھر اس کے بعد نکلے، تو فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ اب اسے طلاق نہیں ہوگی، بھئی۔ تو دیکھو، حقیقی معنی تو یہ تھا، جب بھی نکلے، طلاق ہو۔ لیکن ہم نے کہا، ہر نکلنا نہیں مراد، یہ اس وقت نکلنا مراد ہے۔ تو ہم نے ایک فرد مراد لے لیا اس کا، بھئی، معین فرد، کہ اس وقت اگر نکلی۔ خروج جو بھی خروج ہو، اس پر کیا آنی چاہیے؟ طلاق، لیکن ہم نے کیا کہا؟ ہر خروج یہاں مراد نہیں، اس وقت غصے کی حالت، خاوند کے غصے کی حالت میں اگر خروج ہوا تو پھر کیا ہو جائے گی؟ طلاق۔ تو دیکھو، ہم نے عموم کے بجائے ہم کس کی طرف چلے گئے؟ خصوص کی طرف، یہ معین خروج مراد ہوا، اور یہ حقیقی معنی ہوا پھر یا مجازی معنی ہوا؟ یہ مجازی معنی ہوا، حقیقی معنی تو یہ تھا کہ ہر خروج کی صورت میں اس کو کیا ہونی چاہیے تھی؟ طلاق۔ تو یہ ہم مجازی معنی کی طرف چلے گئے، اور کس کی وجہ سے؟ ایک ایسا معنی جو کس کی ذات میں تھا؟ متکلم کی، یعنی وہ غضب جو اس کی ذات میں تھا، بھئی۔ اس کی وجہ سے ہم چلے گئے، تو اس غضب نے دلالت کی اور بتلایا کہ یہاں حقیقی معنی مراد نہیں، عموم مراد نہیں، بلکہ مجازی معنی ہے، یعنی خصوص مراد ہے۔ یہ معنی ہے، دوبارہ دیکھیے، بھئی: "وَبِدَلَالَةِ مَعْنًى يَرْجِعُ إِلَى الْمُتَكَلِّمِ وَقَصْدِهِ"، اور ایک ایسے معنی کی دلالت کی وجہ سے جو لوٹنے والا ہے متکلم کی طرف، "وَقَصْدِهِ"، اور ایک ایسے معنی، اور "وَبِدَلَالَةِ قَصْدِهِ"، میں نے بتلایا، قصد کا عطف کس پر ہے؟ معنیٰ پر۔ اور متکلم کے ارادے کی دلالت کی وجہ سے، معلوم ہوا متکلم کا ارادہ یہ ہے کہ اس وقت اس وقت اگر یہ نکلی تو اسے طلاق ہے، اس کی یہ مراد نہیں ہے کہ ہر، جب بھی نکلے اسے طلاق ہے۔ "فَيُحْمَلُ عَلَى الْأَخَصِّ مَجَازًا وَإِنْ كَانَ اللَّفْظُ دَالًّا عَلَى الْعُمُومِ بِحَقِيقَتِهِ"، تو لہٰذا اس لفظ کو محمول کیا جائے گا اخص پر مجازی طریقے پر، اگرچہ لفظ دلالت کرنے والا ہے عموم پر اپنی حقیقت کے اعتبار سے، "كَمَا فِي يَمِينِ الْفَوْرِ"، جیسے کہ یمینِ فور کے اندر ہے۔ اس کو یمینِ فور کہتے ہیں، بھئی۔ یہ جو غصے کی حالت میں خاوند نے اس کے طلاق کو معلق کر دیا خروجِ دار پر، اس کو کیا کہتے ہیں؟ یمینِ... یمینِ فور کہتے ہیں۔ آگے بتلائیں گے، یہ مشتق ہے "فَارَتِ الْقِدْرُ" سے۔ "فَارَتِ الْقِدْرُ"، جب ہانڈی جوش مارنے لگے، ابلنے لگے، تو اس وقت عرب کہتے ہیں: "فَارَتِ الْقِدْرُ"، ہانڈی ابل گئی، ہانڈی ابل رہی ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو لہٰذا، تو چونکہ خاوند نے بھی اس وقت غصے کے بھڑکنے کی حالت میں یہ بات کہی ہے، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ یمین الفور کہا جاتا ہے اور یہ اسی حالت پر، وہ غضب کی حالت پر ہی محمول ہوتی ہے، بعد والی حالتیں اس میں داخل نہیں۔ "كَمَا فِي يَمِينِ الْفَوْرِ"، جیسے کہ یمینِ فور کے اندر ہے، "وَهُوَ مُشْتَقٌّ مِنْ فَارَتِ الْقِدْرُ إِذَا غَلَتْ وَاشْتَدَّتْ"، اور یہ مشتق ہے، یہ جو فور کا لفظ ہے، یہ مشتق ہے "فَارَتِ الْقِدْرُ"، عرب کے کلام سے ماخوذ ہے۔ کب؟ وہ کہتے ہیں: "إِذَا غَلَتْ وَاشْتَدَّتْ"، جب وہ ابلنے لگے "وَاشْتَدَّتْ"، اور شدت آ جائے اس کے اندر، بھئی، یعنی وہ ابلنے لگے خوب، بھئی۔ "ثُمَّ سُمِّيَتْ بِهِ الْحَالَةُ الَّتِي لَا لُبْثَ فِيهَا وَلَا رَيْثَ"، پھر نام رکھ دیا گیا یہ اس حالت کا "الَّتِي لَا لُبْثَ فِيهَا وَلَا رَيْثَ"، لبث اور ریث کا ایک معنی، جس میں ٹھہراؤ نہیں، جس میں قرار نہیں۔ لبث کا معنی ٹھہراؤ، قرار۔ لبث اور ریث کا ایک معنی میں نے بتلایا۔ کہتے ہیں، پھر یہ نام رکھ دیا گیا اس حالت کا جس کے اندر ٹھہراؤ اور قرار نہیں ہے، "بِاعْتِبَارِ فَوَرَانِ الْغَضَبِ"، کس اعتبار سے؟ غضب کے بھڑکنے کے اعتبار سے۔ فوران، و متحرک ہے، بھئی۔ "بِاعْتِبَارِ فَوَرَانِ الْغَضَبِ"، کس اعتبار سے؟ غضب کے بھڑکنے کے اعتبار سے، بھئی۔ غضب کے بھڑکنے کے اعتبار سے وہ جو حالت آئی، جس میں ٹھہراؤ اور قرار نہیں، کچھ دیر بعد کیا ہو جائے گا؟ غضب ختم ہو جائے گا، وہ حالت ختم ہو جائے گی۔ "كَمَا إِذَا أَرَادَتِ امْرَأَةٌ الْخُرُوجَ فَقَالَ لَهَا الزَّوْجُ إِنْ خَرَجْتِ فَأَنْتِ طَالِقٌ"، جیسے ارادہ کیا کسی عورت نے نکلنے کا، تو اس سے اس کے خاوند نے کہا: "اگر تو نکلی تو تجھے طلاق ہے"، "فَمَكَثَتْ سَاعَةً حَتَّى سَكَنَ غَضَبُهُ"، تو وہ کچھ دیر ٹھہر گئی، یہاں تک کہ خاوند کا غصہ جو ہے ساکن ہو گیا، ٹھہر گیا، ختم ہو گیا، "ثُمَّ خَرَجَتْ لَا تَطْلُقُ"، پھر وہ نکلی، تو اسے طلاق نہیں ہوگی۔ "فَإِنَّ حَقِيقَةَ هَذَا الْكَلَامِ"، اس لیے کیونکہ حقیقت جو ہے اس کلام کی وہ یہ ہے، "أَنْ تَطْلُقَ فِي كُلِّ مَا خَرَجَتْ"، "مَا" مصدریہ ہے، بھئی، "خَرَجَتْ" کو اس نے مصدر کے معنی میں کر دیا، "فِي كُلِّ خُرُوجِهَا"، "فِي كُلِّ خُرُوجِهَا"۔ اس لیے کیونکہ اس کلام کا حقیقی معنی تو یہ ہے کہ عورت طلاق والی ہو جائے "فِي كُلِّ مَا خَرَجَتْ"، اپنے ہر خروج کے اندر۔ "وَلَكِنَّ مَعْنَى الْغَضَبِ الَّذِي حَدَثَ فِي الْمُتَكَلِّمِ وَقْتَ خُرُوجِهَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّ الْمُرَادَ هِيَ هَذِهِ الْخَرْجَةُ الْمُعَيَّنَةُ"، لیکن وہ معنیِ غضب "الَّذِي حَدَثَ فِي الْمُتَكَلِّمِ"، جو کس کے اندر پیدا ہوا؟ متکلم کے اندر۔ تو وہ غضب والا معنی جو پیدا ہوا تھا متکلم کے اندر اس عورت کے نکلنے کے وقت، "يَدُلُّ"، یہ غضب والا معنی دلالت کر رہا ہے اس بات پر کہ "عَلَى أَنَّ الْمُرَادَ هِيَ هَذِهِ الْخَرْجَةُ الْمُعَيَّنَةُ"، کہ اس کی مراد یہ معین نکلنا ہے، ہر وقت کا نکلنا مراد نہیں، اس وقت اگر نکلے گی تو اسے طلاق ہوگی، ورنہ نہیں۔ تو مراد اس کی یہ والی معین نکلنا ہے، "فَيُحْمَلُ الْكَلَامُ عَلَيْهَا مَجَازًا بِهَذِهِ الْقَرِينَةِ"، تو محمول کیا جائے گا کلام کو اس اس پر مجازاً، کس طریقے پر؟ مجاز کے طریقے پر، "بِهَذِهِ الْقَرِينَةِ"، اس قرینے کی وجہ سے، بھئی، یہ جو متکلم کے اندر غضب والا معنی پایا گیا، بھئی۔ تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ یمینِ فور کہتے ہیں، بھئی، یمینِ فور۔ "وَمِثْلُهُ قَوْلُ الرَّجُلِ لِأَحَدٍ"، اور اسی کے مثل ہے کسی شخص کا کسی سے یہ کہنا: "تَعَالَ تَغَدَّ مَعِيَ"، آؤ، بھئی، میرے ساتھ چاشت کا کھانا کھا لو۔ غداء کسے کہتے ہیں؟ چاشت کے کھانے کو۔ چاشت کا وقت جب سورج تھوڑا سا بلند ہو جائے، بھئی۔ صبح کے وقت سورج جب کچھ تھوڑا سا بلند ہو جائے، تو یہ چاشت کا وقت ہے، بھئی، چاشت کا وقت۔ سمجھ میں آیا، بھئی؟ سورج طلوع ہوا اور چند گز بلند ہو گیا، تو یہ چاشت کا وقت ہے، بھئی۔ اور یاد رکھیے، ہم تو تین وقت کا کھانا کھاتے ہیں: ناشتا، دوپہر کا کھانا اور رات کا کھانا۔ اور عرب کا اور اسی طرح پرانے لوگوں کا طریقہ یہ نہیں تھا، بھئی، وہ دو وقت کا کھانا کھاتے تھے۔ ایک یہ چاشت کے وقت کا کھانا، جس وقت آپ لوگ ناشتا کرتے ہیں، بھئی، یہ اس وقت وہ چاشت کا کھانا کھاتے تھے۔ اور پھر عین مغرب کے وقت، بھئی، یہ رات کا کھانا کھا لیا جاتا تھا، بھئی، مغرب کے وقت، بھئی۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے، بھئی؟ تو یہ وہ چاشت کا کھانا کھاتے تھے۔ تو ایک آدمی نے دوسرے سے کہا: "تَعَالَ تَغَدَّ مَعِيَ"، آؤ میرے ساتھ چاشت کا کھانا کھا لو، یا یوں کہو، آج کے... یوں کہو، آؤ میرے ساتھ ناشتا کر لو۔ اس نے کہا: اگر میں نے ناشتا کیا تو میرا غلام آزاد ہے۔ اگر میں نے ناشتا کیا تو میرا غلام آزاد ہے۔ لفظوں پہ ذرا غور کرو، اس نے کیا کہا ہے؟ اگر میں نے ناشتا کیا تو میرا غلام آزاد۔ اس لفظوں کے اعتبار سے تو یہ جب بھی ناشتا کرے، جہاں بھی کرے، چاہے کسی کے ساتھ کرے، چاہے اکیلا کرے، چاہے یہاں کرے، چاہے اپنے گھر میں کرے، جب بھی ناشتا کرے، غلام کو کیا ہونا چاہیے؟ آزاد، یہ اس کا حقیقی معنی ہے، لیکن فقہائے کرام فرماتے ہیں، بھئی، سمجھ میں آیا؟ فقہائے کرام، اللہ تعالیٰ کی کروڑہا رحمتیں ہوں ان پر جنہوں نے ایک ایک مسئلہ ہمارے سامنے واضح کر کے ذکر کر دیا، بھئی۔ تو فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ یہ آدمی اگر اس وقت اس شخص کے ساتھ ناشتا کر لے گا، یہ کھانا کھا لے گا جس کی طرف وہ دعوت دے رہا ہے، تو اس کا غلام آزاد ہوگا۔ اور اگر اس وقت کے بعد یہ کہیں اور ناشتا کرتا ہے، خود کرتا ہے، اپنے گھر کرتا ہے، اس صورت میں غلام آزاد نہیں ہوگا، بھئی۔ سمجھ میں آیا، بھئی؟ کہ معلوم ہوا متکلم کی مراد جو ہے وہ یہ متعین ناشتا اور متعین چاشت کا کھانا ہے جس کی طرف اس کو بلایا جا رہا ہے، ہر چاشت کا کھانا اس کی مراد نہیں ہے، بھئی۔ "وَمِثْلُهُ قَوْلُ الرَّجُلِ لِأَحَدٍ تَعَالَ تَغَدَّ مَعِيَ"، اور اسی کی مثل ہے کسی شخص کا کہنا کسی ایک سے: آؤ، چاشت کا کھانا کھاؤ میرے ساتھ، "فَقَالَ"، تو اس نے کہا دوسرے نے: "إِنْ تَغَدَّيْتُ فَعَبْدِي حُرٌّ"، اگر میں نے چاشت کا کھانا کھایا تو میرا غلام آزاد ہے، "فَإِنَّ حَقِيقَتَهُ أَنْ يَعْتِقَ عَبْدُهُ أَيْنَمَا تَغَدَّى"، پس اس کلام کی حقیقت تو یہ ہے کہ اس کا غلام آزاد ہو جائے جہاں بھی وہ چاشت کا کھانا کھائے، "سَوَاءٌ كَانَ مَعَ الدَّاعِي أَوْ وَحْدَهُ فِي بَيْتِهِ"، برابر ہے کہ چاہے وہ اس دعوت دینے والے کے ساتھ کھائے یا اکیلا ہی اپنے گھر میں، ہر جگہ ہونا چاہیے غلام کو آزاد، "وَلَكِنَّ مَعْنَى التَّغْدِيَةِ الَّذِي حَدَثَ فِي الْمُتَكَلِّمِ حِينَئِذٍ"، لیکن تغدیہ کا وہ معنی جو پیدا ہوا متکلم کے اندر، چاشت کا کھانا کھانے کا وہ معنی جو پیدا ہوا متکلم کے اندر اس وقت، "يَدُلُّ"، یہ دلالت کرتا ہے "عَلَى أَنَّ الْمُرَادَ هُوَ الْغَدَاءُ الْمَدْعُوُّ إِلَيْهِ حَالَ كَوْنِهِ مَعَ الدَّاعِي"، کہ اس کی مراد کیا ہے؟ وہ چاشت کا کھانا ہے جس کی طرف اس کو دعوت دی گئی ہے اس حال میں کہ یہ کس کے ساتھ ہو؟ دعوت دینے والے کے ساتھ۔ یہ چاشت کا کھانا جو اس دعوت دینے والے کے ساتھ ہو، وہ والا چاشت کا کھانا مراد ہے۔ لہٰذا، ابھی جا کر اگر اس کے ساتھ وہ بیٹھ کر کھانے لگ پڑا تو غلام آزاد ہو جائے گا، اگر بعد میں کھاتا ہے تو پھر غلام آزاد نہیں ہے کہیں اور گھر پر جا کر کھاتا ہے تو۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟ "أَنَّ الْمُرَادَ هُوَ الْغَدَاءُ الْمَدْعُوُّ إِلَيْهِ حَالَ كَوْنِهِ مَعَ الدَّاعِي"، کہ مراد وہ چاشت کا کھانا ہے جس کی طرف اس کو دعوت دی گئی ہے اس حال میں کہ وہ دعوت دینے والے کے ساتھ ہے، بھئی۔ فیحمل علیہ تو اسی پر اس کو محمول کیا جائے گا قسم کو۔ فیحمل علیہ فقط، تو صرف اسی پر قسم کو محمول کیا جائے گا حتى لو تغدى بعد ذلك في بيته، یہاں تک کہ اگر اس نے چاشت کا کھانا کھایا اس کے بعد اپنے گھر میں، لا يحنث، تو وہ حانث نہیں ہوگا ولا يعتق عبده اور اس کا غلام بھی آزاد نہیں ہوگا۔ یہ چوتھا قرینہ تھا مولانا، اب پانچواں قرینہ ذکر کر رہے ہیں وبدلالة محل الكلام اور محل کلام کی دلالت کی وجہ سے۔ محل کلام کی دلالت کی وجہ سے بھی حقیقت کو چھوڑ دیا جاتا ہے مولانا۔ محل کلام سے مراد ہے وہ موقع جس پر کلام کیا جائے اور وہ کلام جس کے ساتھ متعلق ہو بھئی، جس ذات کے ساتھ متعلق ہو بھئی۔ تو کہتے ہیں وبدلالة محل الكلام محل کلام کی دلالت کی وجہ سے وعدم صلاحيته للمعنى الحقيقي اور بوجہ اس کلام کے معنی حقیقی کی صلاحیت نہ رکھنے کے، کیونکہ وہ کلام کیا ہے؟ معنی حقیقی کی صلاحیت نہیں رکھتا، للزوم الكذب بوجہ جھوٹ کے لازم آنے کے، فيمن اس ذات کے اندر، هو معصوم عنه جو جھوٹ سے معصوم ہے، جھوٹ سے محفوظ ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہیں بھئی، فلا بد أن يحمل على المجاز، لہذا ضروری ہے کہ اس کو مجاز پر محمول کیا جائے بھئی۔ کلام کا اگر حقیقی معنی ہم مراد لیتے ہیں تو اس طرف اس صورت میں جھوٹ لازم آتا ہے اور جھوٹ کی نسبت کرنا پڑے گی اس ذات کی طرف جو جھوٹ سے معصوم ہے بھئی، جھوٹ سے محفوظ ہے، یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھئی۔ تو لہذا اب جب حقیقی معنی پر محمول کرتے ہیں تو کیا لازم آتا ہے؟ جھوٹ۔ لہذا اب اس کو کس پر محمول کرنا پڑے گا؟ مجازی معنی پر۔ كقوله عليه السلام جیسے حضور علیہ السلام کا قول ہے، إنما الأعمال بالنيات، اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے، فإن معناه الحقيقي، اس لیے کیونکہ اس کلام کا معنی حقیقی یہ ہے، أن لا توجد أعمال الجوارح إلا بالنية، کہ نہ پائے جائیں جوارح یعنی اعضاء کے اعمال إلا بالنية مگر نیت کے ذریعے، وهو كذب، اور یہ یہ والا معنی تو جھوٹ ہے بھئی۔ ظاہری معنی کیا ہے اس کلام کا؟ معنی حقیقی بھئی، اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے، یعنی نیت ہے تو عمل پایا جائے گا، نیت نہیں تو عمل بھی نہیں۔ حالانکہ ایسا تو نہیں، ہم تو بہت مرتبہ کوئی کام انسان کرتا ہے اس کی توجہ ہی نہیں ہوتی، نیت ہی نہیں ہوتی اس کام کی بھئی، تو بغیر نیت کے کام پایا گیا یا نہیں پایا گیا؟ تو لہذا اگر حقیقی معنی مراد لیں تو اس صورت میں یہ کلام کیا ہو جاتا ہے؟ جھوٹ ہوگا مولانا۔ تو کہتے ہیں اس لیے کہ اس کا حقیقی معنی یہ ہے کہ اعمال جوارح اعضاء کے اعمال جو ہیں نہیں پائے جاتے مگر نیت کے ذریعے، وهو كذب اور یہ جھوٹ ہے، لأن أكثر ما يقع العمل منا في وقت خلو الذهن عن النية، اس لیے کہ اکثر واقع ہوتا ہے عمل ہم سے ایسے وقت کے اندر کہ ہمارا ذہن خالی ہوتا ہے نیت سے، فلا بد أن يحمل على المجاز، پس ضروری ہے کہ اس کلام کو مجاز پر محمول کیا جائے، أي ثواب الأعمال أو حكم الأعمال بالنيات، یعنی ثواب یا حکم کا لفظ مضاف محذوف نکالا جائے بھئی۔ یعنی اعمال کا ثواب جو ہے اس کا دارومدار کس پر ہے؟ نیت پر ہے، نیت اچھی ہوئی تو ثواب ملے گا، نیت ٹھیک نہ ہوئی تو ثواب نہیں ملے گا بھئی۔ یا حكم الأعمال، اعمال کا حکم کا دارومدار کس پر ہے؟ نیتوں پر ہے، یعنی آخرت کے اندر بھئی اگر کیا ہوگا؟ اس پر جو سزا یا جزا جو ملے گی سمجھ میں آیا؟ اس کا دارومدار کس پر ہے؟ نیت پر ہے بھئی۔ حکم الاعمال سے کیا مراد ہے؟ سزا یا جزا بھئی، سزا یا جزا جو ہے اعمال کی بالنیۃ، اس کا دارومدار کس پر ہے؟ نیت پر ہے بھئی، نیت ٹھیک ہوگی تو اچھا بدلہ ملے گا، نیت اچھی نہ ہوئی تو پھر سزا میں ہوگی بھئی۔ فإن قدر الثواب، اور اگر ثواب کو مقدر نکالا جائے، فظاهر، تو یہ بات ظاہر ہے، أنه لا يدل على أن جواز الأعمال في الدنيا موقوف على النية، بھئی دیکھیے، کس کو آپ نے محذوف نکالا؟ ثواب کو۔ اگر ثواب نہ نکالتے پھر تو ظاہر کیا تھا؟ کہ اعمال کا وجود کس پر موقوف ہے؟ لیکن جب آپ نے ثواب مقدر نکال لیا اب کیا معنی ہوا؟ اعمال کا ثواب نیتوں پر موقوف ہے، ان کا وجود نیتوں پر موقوف نہیں۔ یہی بات کر رہے ہیں، کہتے ہیں فإن قدر الثواب، اور اگر ثواب کو مقدر نکالا جائے، فظاهر، تو یہ بات ظاہر ہے، أنه لا يدل، کہ پھر یہ کلام دلالت نہیں کرتا، على أن جواز الأعمال في الدنيا، جواز بمعنی وجود کے ہیں یہاں بھئی، کہ اعمال کا وجود دنیا کے اندر موقوف على النية، نیت پر موقوف ہے۔ بھئی جب یہ ثواب مقدر نکال لیا تو پھر تو یہ اس بات پر دلالت نہیں کر رہا کہ اعمال کا وجود دنیا میں نیت پر موقوف ہے۔ اگر ثواب نہ نکالتے پھر کیا معنی تھا؟ کہ اعمال کا وجود نیت ہے تو عمل کا وجود ہے، نیت نہیں تو عمل کا وجود بھی نہیں۔ حالانکہ نیت ہو یا نیت نہ ہو، عمل کا وجود تو پایا جائے گا۔ آپ گاڑی چلا رہے ہیں بھئی خدانخواستہ کوئی شخص آیا اس کو گاڑی لگ گئی، آپ کی نیت تھی؟ لیکن عمل پایا گیا یا نہیں؟ عمل تو پایا گیا بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو نیت پر عمل کے وجود کا دارومدار نہیں ہے۔ وجود کا دارومدار، کیونکہ اب ہم نے یہاں کیا نکال لیا؟ ثواب۔ تو کلام کا کیا معنی ہوا؟ اعمال کا ثواب کا دارومدار نیتوں پر ہے، جب ثواب کا دارومدار نیتوں پر ہے تو کوئی اس سے یہ بات پتہ لگی کہ وجود کا بھی دارومدار نیتوں پر ہے؟ جی یہی بات کہ پھر اس صورت میں یہ دلالت نہیں کرتا کہ اعمال کا وجود دنیا میں موقوف ہے نیت پر۔ وإن قدر الحكم، اور اگر حکم کو مقدر نکالا جائے، فهو نوعان، تو حکم کتنی قسم پر ہے؟ دو قسم پر ہے، دنیوی، ایک دنیوی حکم ہے، کالصحة والفساد، جیسے کہ صحیح ہونا اور فاسد ہونا، صحیح ہونا اور یہ دنیوی حکم ہے، وأخروي، اور دوسری قسم کیا ہے حکم کی؟ اخروی ہے، كالثواب والعقاب، جیسے کہ ثواب اور عقاب بھئی۔ والأخروي مراد بالإجماع بيننا وبين الشافعي رحمه الله تعالى، اور اخروی مراد ہے بالاجماع ہمارے اور ہمارے اور امام شافعی رحمہ اللہ کے درمیان بھئی، فلا يجوز أن يراد الدنيوي أيضا، پس جائز نہیں ہے کہ دنیوی بھی مراد ہو۔ أما عنده، امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک، ان کے نزدیک بھی دنیوی اب مراد نہیں، فلأنه يلزم عموم المجاز، اس لیے کیونکہ اس صورت میں کیا لازم آتا ہے؟ عموم المجاز بھئی، فلأنه يلزم عموم المجاز، کیونکہ کیا لازم آتا ہے؟ عموم مجاز، حالانکہ امام شافعی رحمہ اللہ عموم مجاز کے قائل نہیں بھئی۔ وأما عندنا، اور ہمارے نزدیک، فلأنه يلزم عموم المشترك، کیونکہ اگر دنیوی بھی مراد لیا جائے تو اس صورت میں کیا لازم آتا ہے؟ عموم مشترک لازم آتا ہے اور حالانکہ عموم مشترک ہمارے نزدیک جائز نہیں بھئی۔ مشترک کا ایک وقت میں ایک ہی معنی ہوتا ہے یا سارے معنی مراد ہوتے ہیں؟ ایک وقت ایک ہی معنی مراد ہوتا ہے سارے معنی مراد نہیں، تو لہذا ایک معنی جب اخروی حکم مراد لے لیا تو اب دنیوی حکم مراد نہیں لے سکتے بھئی۔ فلا يدل على أن جواز العمل موقوف على النية، پس یہ کلام اس بات پر، جب یہ ہم نے محذوف نکال لیا تو اب یہ کلام دلالت نہیں کرتا کہ عمل کا جواز وہ کس پر موقوف ہے؟ نیت پر، اب یہ معنی نہیں رہے۔ فلا تكون النية فرضا في الوضوء على ما قال الشافعي رحمه الله، پس نیت فرض نہیں ہوگی وضو کے اندر جیسے بنا پر اس کے جو امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وضو کے اندر نیت فرض ہے مولانا، ہم کہتے ہیں نہیں، نیت وضو کے اندر فرض نہیں۔ ہاں یہ ہے، اگر نیت کرے گا تو ثواب ملے گا، اگر نیت نہیں کرے گا تو وضو کا ثواب نہیں، ہاں البتہ یہ وضو نماز کے لیے وسیلہ بن جائے گا، پاکی حاصل ہو جائے گی، حدث اس سے دور ہو جائے گا۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو ثواب نہیں بھئی۔ وأما في سائر العبادات المحضة فالمقصود، جی یہ ایک اشکال کا جواب دے رہے ہیں بھئی، کہ بھئی آپ نے کہا کہ وضو میں نیت فرض نہیں، نیت کے بغیر بھی وضو ہو جائے گا، بھئی باقی عبادتوں میں تو آپ کہتے ہیں مثلاً نماز ہے، روزہ ہے وغیرہ، ان میں نیت نہ کرو تو نماز ہی نہیں ہوئی، روزہ ہی نہیں ہوا بھئی۔ کیا ہوا؟ نماز ہی نہ ہوئی اور روزہ ہی نہ ہوا۔ تو اس سے تو کیا معلوم ہوا؟ کہ عمل کس پر موقوف ہو گیا؟ نیت۔ نیت ہے تو عمل ہے، نیت نہیں تو عمل بھی نہیں، بات تو پھر وہی آگئی، ہم جواب دیتے ہیں کہ بھئی دراصل یہ عبادات محضہ جو ہیں، وضو تو عبادت بھی تھا اور وسیلہ بھی تھا مولانا نماز کے لیے، بعض عبادات محضہ ہیں مولانا جیسے نماز روزہ وغیرہ، عبادات محضہ کے اندر مقصود ہی ثواب ہوتا ہے، کیا ہوتا ہے؟ ثواب ہی مقصود ہوا کرتا ہے، تو وہاں پر جب نیت ہی نہیں کرے گا تو ثواب نہیں ملے گا، تو مقصود فوت ہوا، جب مقصود اور جب چیز کا مقصود فوت ہو جائے تو وہ چیز ہی گویا کیا ہو گئی؟ فوت ہو گئی، اسی لیے ہم نے کہا کہ نیت کے بغیر ان کے یہ نماز ہی صحیح نہیں، روزہ ہی صحیح نہیں بھئی، کیونکہ مقصود فوت ہو گیا، اور جب مقصود نہیں ہے تو وہ عمل بھی لا عمل کی طرح ہوا بھئی، صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ کہتے ہیں وأما في سائر العبادات المحضة، اور باقی ساری عبادتیں محضہ جو ہیں، فالمقصود فيها الثواب، ان کے اندر مقصود ثواب ہوتا ہے، فإذا خلت عن الثواب، جب وہ خالی ہو گئیں ثواب سے، بدون النية، بغیر نیت کے، فات الجواز، تو جواز بھی فوت ہو گیا، بهذه الوتيرة، اس طریقے پر، لا بأن النص دال على فوت الجواز، نہ اس وجہ سے کہ وہ جو نص ہے وہ دلالت کر رہی ہے جواز کے فوت ہونے پر۔ نص نے تو صرف کس بات پر دلالت کی تھی؟ حکم اخروی کا دارومدار کس پر ہے؟ نیت پر ہے، یعنی ثواب ملے گا وہ بھی نیت کی وجہ سے، اور سزا ملے گی وہ بھی نیت کی وجہ سے ملے گی، تو اس نے صرف حکم اخروی بتایا اور باقی یہ جو دنیوی حکم ہم نے لگایا کہ نماز ہوگی ہی نہیں، روزہ ہوگا ہی نہیں، بھئی کیوں لگایا حکم؟ کیونکہ ان کے اندر مقصودی ثواب تھا، جب ثواب ہی نہ ملا تو مقصود فوت ہو گیا اور جب مقصود نہیں تو وہ عمل بھی کس کی طرح ہوا؟ لا عمل کی طرح ہوا بھئی، صورت سمجھ میں آگئی؟ تو لہذا نص نے اس بات پر دلالت نہیں کی کہ یہ ان کا عمل جو ہے وہ بغیر نیت کے پایا ہی نہیں جائے گا، بلکہ ثواب کے فوت ہو جانے کی وجہ سے اب یہ حکم لگا دیا گیا کہ یہ عبادت گویا کہ پائی ہی نہیں گئی۔ وقوله عليه السلام، اور جیسے حضور علیہ السلام کا یہ قول ہے، ورفع عن أمتي الخطأ والنسيان، خطاؤ ہے آپ کی کتابوں میں؟ ہاں الف پر ہمزہ ہونا چاہیے۔ حضور علیہ السلام کا یہ قول ہے ورفع عن أمتي الخطأ والنسيان، دور کر دیا گیا ہے، اٹھا دیا گیا ہے میری امت سے خطا اور نسیان کو، غلطی اور بھول چوک کو بھئی میری امت سے اٹھا دیا گیا ہے۔ اچھا اب دیکھیے فإن ظاهره يدل على أن الخطأ والنسيان لا يوجد من أمته، اس لیے کیونکہ اس کلام کا ظاہر یہ ہے، اس حدیث کا ظاہر یہ اس بات پر دلالت کر رہا ہے کہ غلطی اور بھول چوک وہ اس امت میں نہیں پائی جائے گی۔ میری امت سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے ہیں میری امت سے غلطی اور بھول چوک کو اٹھا دیا گیا ہے، تو ظاہر کا تو یہ معنی ہے، یعنی میری امت سے کبھی غلطی نہیں ہوگی، میری امت سے کبھی بھول چوک نہیں ہوگی، یہ حقیقی معنی ہے لیکن یہ حقیقی معنی تو کیا ہے؟ درست نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں حقیقی معنی تو یہ ہے کہ یہ بھول چوک جو ہے اور غلطی جو ہے اس حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں نہیں پائی جائے گی، وهو كذب باطل، اور یہ معنی تو جھوٹ ہے، باطل ہے، فيحمل على، پس لہذا اس کلام کو محمول کیا جائے گا، أن حكمه في الآخرة، أعني المأثم، مرفوع، کہ اس کا حکم آخرت کے اندر یعنی گناہ یہ مرفوع ہے مولانا، یہ کیا ہے؟ مرفوع ہے بھئی۔ یعنی غلطی ہو جائے یا بھول چوک سے کوئی کام کر بیٹھے تو اس صورت میں آخرت میں مؤاخذہ نہیں ہوگا بھئی، صورت سمجھ میں آگئی؟ گنہگار نہیں ہوگا وہ شخص بھئی، کیونکہ اس نے باقاعدہ نیت کے ساتھ یہ کام نہیں کیا بلکہ غلطی سے ہوا یا بھول چوک سے ہوا، صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو کہتے ہیں آخرت کے حکم کا یعنی یہ بیان ہو رہا ہے کہ آخرت کے اندر وہ گنہگار نہیں ہوگا، گنہگار ہونے کا حکم جو ہے وہ مرفوع ہے، اٹھا دیا گیا، وأما في الدنيا، باقی دنیا کے اندر، فغرمه باقي، تو اس کا ضمان جو ہے وہ باقی ہے، في حقوق العباد، کس کے اندر؟ حقوق العباد۔ ہاں حقوق العباد میں اس کا ضمان اب بھی باقی ہے، بھئی غلطی سے کسی کو کوئی نقصان کسی کا کر دیا تو وہ نقصان کا ضمان دینا پڑے گا، غلطی سے کسی شخص کسی کے ہاتھوں قتل ہو گیا ارادہ نہیں تھا بھئی، تو غلطی سے قتل ہوا تو مولانا دیت دینا پڑے گی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو حقوق العباد میں اس کا ضمان باقی ہے، ہاں آخرت میں اس کا مؤاخذہ نہیں ہوگا، غلطی سے قتل ہوا ہے آخرت میں اب اسے قتل کی سزا نہیں ملے گی بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو اس کے اس میں گناہ نہیں ہے آخرت کا حکم، یعنی اب اس کو غلطی سے قتل ہو گیا تو گناہ نہیں، لیکن قتل کا گناہ نہیں ہے مولانا، ترکِ احتیاط کا گناہ ہوگا، اسے احتیاط کرنی چاہیے تھی، وہ احتیاط کرتا تو یہ قتل نہ ہوتا، تو ترکِ احتیاط کا گناہ تو ملے گا لیکن اس قتل کا گناہ نہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں فغرمه باقي في حقوق العباد، تو اس کا جو ضمان ہے وہ باقی ہے حقوق العباد کے اندر، البتة، قطعی طور پر، وکذا في فساد الصوم بالأكل خطأ، وفساد الصلاة بالتكلم خطأ، اور اسی طرح روزے کے فاسد ہو جانے کے اندر غلطی سے کھانے کی وجہ سے، وفساد الصلاة، اور نماز کے فاسد ہونا، بالتكلم خطأ، غلطی سے تکلم کرنے کی وجہ سے، سمجھ میں آیا بھئی؟ روزے میں بھئی غلطی سے کھا لے کہتے ہیں بھئی ٹھیک ہے، آخرت میں مؤاخذہ نہیں لیکن دنیوی حکم ہے روزہ فاسد ہو جائے گا، اب اس کی قضا کرے گا، کیا کرے گا؟ قضا کرے گا غلطی سے کھا لے، آپ کہیں بھئی غلطی سے کھاتے ہیں بھئی ہمارا ہم نے تو یہی سنا ہے روزہ نہیں ٹوٹتا، اسی طرح سنا ہے یا نہیں سنا؟ ہاں بھئی وہ غلطی کی بات نہیں وہ بھول چوک کی بات ہے، بھول اور غلطی میں یہ فرق ہے، غلطی میں فعل یاد ہوتا ہے، ارادہ نہیں ہوتا، فعل یاد ہوتا ہے، عمل یاد ہوتا ہے، ارادہ نہیں، اور بھول چوک میں عمل ہی یاد، فعل ہی یاد نہیں ہوتا، ہاں ارادہ ہوتا ہے بھئی، اس کا عکس ہے مولانا، غلطی میں فعل یاد لیکن ارادہ نہیں، اور بھول چوک میں فعل فعل نہیں یاد اور ارادہ ہے بھئی، ارادہ ہوتا ہے بھئی۔ تو وہ غلطی کی بات نہیں ہے جو آپ نے سنا ہے وہ بھول کی صورت میں ہے بھئی، بھول، کیسے؟ بھئی آپ کا روزہ ہے، آپ گھر آئے اور خیال ہی نہیں رہا آپ کو روزے کا، پانی پڑا ہوا تھا آپ نے پانی اٹھایا اور پی گئے بھئی، بعد میں خیال آیا تو دیکھو یہ یہ بھول میں آپ نے کیا کیا ہے؟ پانی پیا، اس صورت میں روزہ نہیں ٹوٹے گا، لیکن ایک ہے غلطی سے، آپ وضو کر رہے تھے مولانا، وضو کے بھئی آپ کو روزہ یاد ہے اچھی طرح، آپ کلی کر رہے تھے غلطی سے کیا ہوا؟ کچھ پانی پیٹ میں چلا گیا، صورت سمجھ میں آگئی؟ تو اب اس صورت میں روزہ ٹوٹ جائے گا مولانا، دیکھو، پانی حلق میں چلا گیا، روزہ یاد تھا، لیکن پانی وہ جو حلق میں گیا اس کا ارادہ نہیں، صورت سمجھ میں آگئی؟ اور بھول کر پانی پیا تھا اس وقت روزہ یاد نہیں تھا، ہاں پانی ارادے سے پیا بھئی، تو فرق سمجھ میں آیا بھئی؟ تو کہتے ہیں وكذا في فساد الصوم بالأكل خطأ، اور اسی طرح روزے کے فاسد ہونے کے اندر بھئی بالأكل خطأ غلطی سے کھانے کی وجہ سے، وفساد الصلاة بالتكلم خطأ، اور اسی طرح نماز کا فاسد ہو جانا غلطی سے تکلم کرنے کی وجہ سے، بھئی آپ نماز پڑھ رہے تھے آپ کا ایک ساتھی کمرے میں آیا، داخل ہوتے ہی اس نے کہا السلام علیکم، آپ کی توجہ نہیں تھی آپ نے کہا وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ نماز کا تو خیال تھا آپ نماز میں ہیں، لیکن غلطی سے کیا ہوا؟ بے دھیانی میں آپ نے جواب دے دیا مولانا، تو اس صورت میں نماز فاسد ہو جائے گی بھئی۔ تو کہتے ہیں فلا يصح التمسك به للشافعي رحمه الله في بقاء الصلاة والصوم، پس لہذا صحیح نہیں ہے استدلال کرنا اس کے ذریعے امام شافعی رحمہ اللہ کا نماز اور روزے کے باقی ہونے کے اندر، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں نماز اور روزے کے اندر جیسے کہ نماز اور روزے کے اندر بھئی روزے کے اندر اگر غلطی سے کھا لیا یا نماز کے اندر غلطی سے تکلم کر لیا، تو اس صورت میں یہ باقی رہیں گے۔ اس لیے کیونکہ حضور علیہ السلام نے کیا فرمایا؟ "رُفِعَ عَنْ أُمَّتِي الْخَطَأُ وَالنِّسْيَانُ"۔ ہم کہتے ہیں یہ اخروی حکم کی بات بیان ہو رہی ہے کہ اخروی اعتبار سے کوئی گناہ نہیں، ہاں دنیاوی حکم لگے گا مولانا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ فتم الان بیان المواعظ الخمسۃ التی علی استقراء المصنف رحمہ اللہ تعالی۔ پس پورا ہو گیا اب تک اب پورا ہو گیا ان پانچ جگہوں کا بیان مصنف رحمہ اللہ کے استقراء پر۔ استقراء کا معنی تلاش و جستجو۔ مصنف رحمہ اللہ نے کیا کیا؟ استقراء کیا، تلاش کے ذریعے پانچ قرینے ذکر کیے جن کی وجہ سے کیا کر دیا جاتا ہے؟ حقیقت کو چھوڑ کر کس کی طرف چلتے ہیں؟ مجاز کی طرف، مجاز پر عمل کرتے ہیں۔ وفيہ کلام کما لا يخفى، اور اس کے اندر کلام ہے جیسے کہ مخفی نہیں ہے مولانا، جیسے کہ یہ بات مخفی نہیں ہے۔ سمجھ میں آیا؟ شارح نے وہاں بھی شروع میں بھی جب یہ بحث شروع ہونے لگی، ذکر کیا تھا "على ما زعمہ" بھئی، مصنف کا یہ گمان ہے کہ یہ پانچ قرینے ہیں، حالانکہ یہ بات درست، زعم کا لفظ استعمال کیا تھا۔ اب پھر کہہ رہے ہیں اس کے اندر کلام ہے جیسے کہ یہ بات مخفی نہیں ہے بھئی۔ کیا مراد ہے؟ کہتے ہیں شاید شارح کی مراد یہ ہے کہ جو مصنف نے کہا کہ پہلی قسم، پہلی قسم کیا کون سا قرینہ ذکر کیا کہ بھئی حقیقت کو ترک کیا جاتا ہے کس کی وجہ سے؟ دلالت عرف کی وجہ سے۔ دوسرا کیا تھا؟ دلالت لفظ کی وجہ سے۔ کہتے ہیں دلالت لفظ بھی داخل ہے دلالت عرف میں۔ دلالت لفظ بھی داخل ہے کس کے اندر؟ دلالت عرف میں۔ چنانچہ اسی کی طرف آگے اشارہ انہوں نے کیا تھا اور کہا تھا کہ عرف میں مچھلی بیچنے والے کو گوشت بیچنے والا نہیں کہتے، دیکھو عرف کی بات آ گئی یا نہیں؟ تو یہ بھی اسی میں داخل ہے۔ اور اسی طرح آگے کہا تھا کلام کا چلاؤ، کلام کے چلاؤ کی دلالت کی وجہ سے، کہتے ہیں یہ بھی دلالت عرف میں داخل ہے۔ اس لیے کیونکہ خود آگے ذکر کیا شارح نے، کوئی شخص نے کسی شخص نے کہا "طلق امرأتي إن كنت رجلا"، کہتے ہیں یہ "إن كنت رجلا" یہ لفظ عرف کے اندر کس لیے بولا جاتا ہے؟ مخاطب کو کسی فعل کے اندر عاجز کرنے کے لیے، اس کی عاجزی کو ظاہر کرنے کے لیے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جی، آگے دیکھیے مولانا۔ "وتحريم المضاف إلى الأعيان كالمحارم والخمر حقيقة عندنا خلافا للبعض" اور تحریم، وہ تحریم جس کی نسبت کی گئی ہو اعیان کی طرف، "کالمحارم" جیسے کہ محارم ہیں اور خمر ہیں، یہ حقیقت ہے ہمارے نزدیک، یہ وہ وہ تحریم ہمارے نزدیک کیا ہے؟ وہ تحریم حقیقت ہے، "خلافا للبعض" برخلاف بعض کے، کہ ان کے نزدیک حقیقت نہیں، مجاز ہے بھئی۔ بھئی اب آپ سے یہ آگے یہ بتلائیں گے مصنف بھئی، کہ بعض اوقات بھئی تحریم کی نسبت فعل کی طرف کرنے کے بجائے عین یعنی ذات کی طرف کر دی جاتی ہے۔ کس کی طرف؟ ذات کی طرف۔ بھئی تحریم کی نسبت تو فعل کی طرف ہونی چاہیے، یہ فعل حرام ہے، یہ فعل حلال ہے، جائز ہے۔ کس کی طرف ہونی چاہیے؟ حلال اور حرام کی طرف۔ ذات کی طرف نہیں ہونی چاہیے۔ لیکن بعض اوقات ذات کی طرف کر دی جاتی ہے۔ جیسے مولانا، اللہ قرآن میں فرماتے ہیں: "حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ"۔ "حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ" تم پر تمہاری مائیں حرام کر دی گئی ہیں۔ تو اب حرمت کی نسبت کس کی طرف ہوئی؟ ماؤں کی طرف، عین کی طرف، ذات کی طرف ہوئی مولانا حرمت کی نسبت۔ فعل کی طرف نہیں، فعل کی طرف ہوتی تو یوں کہا جاتا: "حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ نِكَاحُ أُمَّهَاتِكُمْ"۔ "حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ نِكَاحُ أُمَّهَاتِكُمْ"، نکاح، فعل نکاح، تمہاری ماؤں سے جو نکاح ہے اس کو تم پر کیا کر دیا گیا ہے؟ حرام کر دیا گیا ہے۔ لیکن یہاں عین کی طرف نسبت کی گئی تحریم کی! اسی طرح حدیث میں کیا آتا ہے؟ حدیث کے اندر آتا ہے مولانا: "حُرِّمَتِ الْخَمْرُ لِعَيْنِهَا"۔ خمر حرام کر دی گئی ہے اپنی ذات کے اعتبار سے ہی بھئی۔ تو یہاں بھی حرمت کی، تحریم کی نسبت کس کی طرف ہوئی؟ عین کی طرف! اگر فعل کی طرف ہوتی تو کیسے ہوتا کلام؟ "حُرِّمَ شُرْبُ الْخَمْرِ"، خمر کا پینا حرام کیا گیا ہے۔ تو یہاں آپ بتلائیے بھئی، ان مثالوں کے اندر بھئی، کس کی طرف تحریم کی نسبت کی گئی ہے؟ عین کی طرف یا فعل کی طرف؟ عین کی طرف بھئی، کس کی طرف؟ عین کی طرف! تو اب یہ جو عین کی طرف تحریم کی نسبت کی جائے تو یہ حقیقت ہے یا مجاز ہے؟ تو بعض علماء نے کہا یہ مجاز ہے۔ مصنف ان کو رد کر رہے ہیں، کہتے ہیں نہیں، جب تحریم کی نسبت عین کی طرف کی جائے تو یہ ہمارے نزدیک کیا ہے؟ حقیقت ہے، یہ حقیقت پر محمول ہوگا کلام بھئی، مجاز نہیں ہے یہ۔ یہی بات کر رہے ہیں، کہتے ہیں: "وتحريم المضاف إلى الأعيان" اور وہ تحریم جس کی نسبت کی گئی ہو اعیان کی طرف بھئی یعنی عین کی طرف، "كالمحارم والخمر" جیسے کہ محارم اور خمر ہے، "حقيقة عندنا" محارم بھئی وہی محرم کی جمع ہے جن کے ساتھ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے کیا ہے نکاح کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ "كالمحارم والخمر" جیسے کہ محارم ہیں اور شراب ہیں، تو یہ جو تحریم ہے جس کی نسبت کی گئی ہے اعیان کی طرف، "حقيقة عندنا" یہ تحریم کیا ہے؟ حقیقت ہے ہمارے نزدیک، "خلافا للبعض" برخلاف بعض علماء کے۔ جی، شارح بتلا رہے ہیں کہ "جملة مبتدأة" کہ یہ "أي هذه جملة مبتدأة"، یہ جملہ ہے، نیا الگ جملہ ہے، "تتمة لقوله" اور یہ تکملہ ہے، اس کے ذریعے تکمیل کر رہے ہیں، تو یہ تکملہ ہے "لقوله" مصنف کے قول اس قول کا: "وبدلالة محل الكلام"، کہ کبھی کبھار حقیقت کو ترک کر دیا جاتا ہے کس کی وجہ سے؟ محل، محل کلام کی دلالت کی وجہ سے حقیقت کو ترک کر دیا جاتا ہے، یہ جملہ اس کی اس کا تتّمہ ہے۔ کس کا ہے؟ تتّمہ ہے مولانا۔ یہ دراصل رد کر رہے ہیں بعض علماء پر بھئی۔ بعض علماء نے کہا کہ یہ تحریم جو ہے، اس کا عطف ماقبل میں جو مثالیں گزریں، ان پر ہے مولانا۔ "كقوله عليه السلام وقوله عليه السلام"، جیسے وہ مثالیں تھیں اس پانچویں قرینے کی، یہ بھی کیا ہے؟ مثال ہے کس کی؟ پانچویں قرینے کی مولانا۔ شارح فرماتے ہیں نہیں بھئی، یہ اس کی مثال نہیں ہے، یہ اسی سے متعلقہ بات تو ہے، لیکن اس کی مثال نہیں، اس کے لیے اس کا تتّمہ ہے مولانا۔ تو کہتے ہیں یہ الگ جملہ ہے اور تتّمہ ہے مصنف کے قول "وبدلالة محل الكلام"، اس کا تتّمہ ہے، "جِيءَ بِهَا رَدًّا لِزَعْمِ الْبَعْضِ" اس کو لایا گیا بعض لوگوں کے گمان کو رد کرنے کے لیے، "فَإِنَّهُمْ زَعَمُوا" اس لیے کیونکہ انہوں نے یہ گمان کیا تھا "أَنَّ التَّحْرِيمَ الْمُضَافَ إِلَى الْعَيْنِ" کہ وہ تحریم جس کی نسبت کی جائے عین کی طرف "كَالْمَحَارِمِ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى" جیسے کہ محارم ہیں اللہ تعالیٰ کے اس قول کے اندر "حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ" حرام کر دی گئی ہیں تم پر تمہاری مائیں، "وَالْخَمْرِ فِي قَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ" اور جیسے کہ خمر ہے حضور علیہ الصلاۃ والسلام کے اس قول کے اندر "حُرِّمَتِ الْخَمْرُ لِعَيْنِهَا" حرام کر دیا گیا ہے شراب کو اس کی ذات کے اعتبار سے، "مَجَازٌ" یہ خبر ہے مولانا۔ "أَنَّ التَّحْرِيمَ الْمُضَافَ إِلَى الْعَيْنِ مَجَازٌ"، بیچ میں صرف مثال ذکر کی تھی کہ یہ جو تحریم جس کی نسبت کس کی طرف کی گئی ہے؟ عین کی طرف، یہ مجاز ہے، بعض لوگوں کا یہ گمان تھا۔ "عَنِ الْفِعْلِ" یہ تحریم مجاز ہے کس سے؟ فعل سے۔ یعنی تحریم کی نسبت ذات کی طرف ہے، لیکن دراصل تحریم کس چیز کی کی جا رہی ہے؟ فعل کی، فعل کی سے تحریم ہے، یعنی کیا فعل؟ "أَيْ نِكَاحِ أُمَّهَاتِكُمْ وَشُرْبِ الْخَمْرِ"، یعنی یہ امہات کے نکاح کو حرام کر دیا گیا ہے اور شراب کے پینے کو حرام کر دیا گیا ہے، تو یہ مجاز ہے فعل سے مولانا۔ "فَتَكُونُ الْحَقِيقَةُ مَتْرُوكَةً بِدَلَالَةِ مَحَلِّ الْكَلَامِ" پس حقیقت کو چھوڑ دیا گیا کس کی وجہ سے؟ محل کلام کی محل کلام خود دلالت کر رہا ہے بھئی حقیقت مراد نہیں ہے، کیونکہ تحریم کی نسبت تو فعل کی طرف ہونی چاہیے تھی اور یہاں کس کی طرف نسبت کی جا رہی ہے؟ عین کی طرف کی جا رہی ہے، تو لہٰذا معلوم ہوا کہ یہ حقیقت پر کلام محمول نہیں ہے، بلکہ کون سا معنیٰ کرنا پڑے گا یہاں؟ مجازی معنیٰ! تو ماؤں کے حرام ہونے کا کیا معنیٰ ہے؟ کہ ان سے نکاح کو حرام قرار دیا گیا ہے، اور شراب کے حرام ہونے کا کیا معنیٰ ہے؟ کہ اس کا پینا حرام ہے مولانا، تو یہ حقیقت نہیں ہے بلکہ مجاز ہے اور یہ کس سے پتہ چلا؟ محل کلام کی دلالت سے مولانا۔ یہ بعض علماء کی تقریر چل رہی ہے، بعضوں نے یہ گمان کیا تھا کہ۔ کہتے ہیں انہی کی تقریر چل رہی ہے، وہ کہتے ہیں "لِأَنَّ الْمَحَلَّ عَيْنٌ لَا يَقْبَلُ الْحُرْمَةَ" اس لیے کہ محل جو ہے وہ تو عین ہے، محارم اور خمر یہ تو عین ہے، "لَا يَقْبَلُ الْحُرْمَةَ" یہ حرمت کو قبول نہیں کرتے، "لِأَنَّ الْحِلَّ وَالْحُرْمَةَ مِنْ أَوْصَافِ الْفِعْلِ" اس لیے کیونکہ حلال ہونا اور حرام ہونا کس کے اوصاف میں سے ہیں؟ فعل کے اوصاف میں سے ہیں۔ تو جواب دے رہے ہیں اب شارح ذکر کرتے ہیں بھئی، فرماتے ہیں: "فَقُلْنَا نَحْنُ إِنَّ هَذِهِ الْحُرْمَةَ عَلَى حَالِهَا وَحَقِيقَتِهَا" ہم کہتے ہیں کہ یہ جو حرمت ہے، اپنے حال اور اپنی حقیقت پر ہی ہے، "لِأَنَّهُ أَبْلَغُ مِنْ أَنْ يَقُولَ حُرِّمَتْ نِكَاحُ أُمَّهَاتِكُمْ" اس لیے کیونکہ یہ زیادہ بلیغ ہے یہ کہنے سے کہ "حُرِّمَتْ نِكَاحُ أُمَّهَاتِكُمْ"۔ ایک ہے کہ یوں کہا جائے "حُرِّمَتْ نِكَاحُ أُمَّهَاتِكُمْ" تمہاری ماؤں کے نکاح کو کیا کر دیا گیا تم پر؟ حرام کر دیا گیا، اور ایک یہ کہ تمہاری ماں کو تم پر حرام کر دیا گیا، یہ ابلغ ہے مولانا کیا ہے؟ ابلغ ہے نہی کے اندر بھئی۔ "وَذَلِكَ" اور یہ اس وجہ سے "لِأَنَّ الْحُرْمَةَ نَوْعَانِ" اس لیے کیونکہ حرمت دو قسم پر ہے، "نَوْعٌ يُلَاقِي الْفِعْلَ" ایک وہ نوع ہے جو فعل کے ساتھ ملتی ہے، یعنی کبھی تحریم حرمت جو ہے، وہ فعل کے ساتھ ملتی ہے، جیسے مثال کیا ذکر ہوئی بھئی؟ "حُرِّمَتْ نِكَاحُ أُمَّهَاتِكُمْ"، تو یہاں نہی کس کے ساتھ مل گئی؟ فعل کے ساتھ۔ اور کبھی نہی کس کے ساتھ ملتی ہے؟ عین کے ساتھ، جیسے "حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ"۔ تو کہتے ہیں اس لیے کیونکہ حرمت دو قسم پر ہے، "نَوْعٌ يُلَاقِي الْفِعْلَ" ایک وہ نوع ہے جو فعل کے ساتھ ملتی ہے، "فَيَكُونُ الْعَبْدُ مَمْنُوعًا وَالْفِعْلُ مَمْنُوعًا عَنْهُ" تو اس صورت میں عبد، بندہ جو ہے وہ ممنوع ہوا، روکا گیا، روکا گیا ہے، "وَالْفِعْلُ مَمْنُوعًا عَنْهُ" اور فعل کیا ہو جاتا ہے؟ ممنوع عنہ، یعنی اس سے روکا گیا ہے۔ جبکہ فعل کیا ہوتا ہے؟ بندہ ممنوع ہوتا ہے اور فعل ممنوع عنہ ہو جاتا ہے، جبکہ وہ محل اپنے حال پر باقی رہتا ہے، یعنی اس میں فعل کی قابلیت ہوتی ہے، فعل کو وہ قبول کر سکتا ہے۔ "وَنَوْعٌ" اور دوسری قسم "نَوْعٌ يُلَاقِي الْمَحَلَّ" کہ وہ حرمت کس کے ساتھ ملتی ہے؟ محل کے ساتھ، "فَيُخْرِجُ الْمَحَلَّ مِنْ أَنْ يَكُونَ مُبَاحًا" تو وہ محل کو مباح ہونے سے نکال دیتی ہے، وہ محل مباح رہتا ہی نہیں، بلکہ وہ محل ہی کیا ہو جاتا ہے؟ حرام! "وَصَارَ الْعَيْنُ مَمْنُوعًا" اور وہ عین ہی کیا ہو جاتی ہے؟ ممنوع، "وَالْعَبْدُ مَمْنُوعًا عَنْهُ" اور بندہ ممنوع عنہ اس سے روکا گیا ہے۔ "وَهَذَا أَبْلَغُ الْوَجْهَيْنِ فِي الْمَنْعِ" اور یہ دو وجہوں میں سے زیادہ بلیغ ہے منع کے اندر بھئی، دو وجہوں میں۔ "فَإِنَّ الْأَوَّلَ" اس لیے کیونکہ پہلا "كَمَا يُقَالُ لِلطِّفْلِ" جیسے کہا جائے بچے سے: "لَا تَأْكُلِ الْخُبْزَ" روٹی نہ کھاؤ، "وَهُوَ بَيْنَ يَدَيْهِ" اور حال یہ ہے کہ روٹی اس کے سامنے ہے، اب دیکھیے، بچے کو روٹی کھانے سے منع کیا گیا، لیکن روٹی اس کے سامنے ہے، تو اب بھی اسے کیا کیا جا سکتا ہے؟ کھایا اس میں صلاحیت ہے، پھر اس کو کیا کیا جائے؟ کھایا جا سکتا ہے، وہ کھائی جا سکتی ہے۔ "وَالثَّانِي" اور دوسری قسم یہ ہے "كَمَا يُرْفَعُ الْخُبْزُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ" کہ جیسے روٹی اس کے سامنے سے اٹھا لی جائے "وَيُقَالُ لَهُ" اور اس سے کہا جائے "لَا تَأْكُلْ" نہ کھاؤ بھئی! سمجھ میں آیا؟ تو دیکھو، اب محل ہی وہ روٹی ہی اس میں صلاحیت کھانے کی نہیں رہے گی، اس کے سامنے ہی موجود نہیں ہے، کیسے کھائے اس کو بھئی؟ اگر سامنے ہوتی تو وہ کھا سکتا، سامنے ہی نہیں تو اس کو کھا بھی نہیں سکتا۔ تو کس کے اندر نہی ابلغ ہے؟ زیادہ روکنا کس صورت میں ہے بھئی؟ جب اس کے سامنے سے روٹی اٹھا لی جائے۔ تو کہتے ہیں "فَهُوَ بِمَنْزِلَةِ النَّفْيِ وَالنَّسْخِ" تو یہ کس کے درجے میں ہے؟ نفی اور نسخ، نفی اور النسخ نفی کے معنیٰ میں ہے بھئی، ایک ہی معنیٰ ہے دونوں کا، تو یہ نفی اور نسخ کے معنیٰ میں ہے، "وَهُوَ أَبْلَغُ مِنَ النَّهْيِ الْحَقِيقِيِّ عَلَى مَا مَرَّ تَقْرِيرُهُ" اور یہ ابلغ ہے نہی، نہی حقیقی سے زیادہ بلیغ ہے بنا بر اس کے کہ جس کی تقریر گزر گئی بھئی، نہی کی بحث کے اندر بھئی، کہ تحریم کی نسبت کس کی طرف ہو؟ اعیان کی طرف ہو، تو یہ نہی کے اندر زیادہ بلیغ ہے مولانا، زیادہ بلیغ ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ "وقال بعض المعتزلة" اور بعض معتزلہ نے کہا "إنه مجمل" کہ یہ مجمل ہے مولانا، یہ جو تحریم کی جب نسبت کس کی طرف کی جائے؟ اعیان کی طرف، تو اس صورت میں یہ مجمل ہے، بھئی کیوں مجمل؟ کہتے ہیں "لأن العين لا يكون حراما" اس لیے کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ عین جو ہے وہ حرام نہیں ہو سکتی، "فلا بد من تقدير الفعل" پس ضروری ہے کہ فعل کو مقدر نکالا جائے بھئی، "وهو غير معين" اور وہ تو غیر متعین ہے، کوئی متعین فعل نہیں بھئی، مقدر نکالنا ہے، جو بھی نکال لیں، "لاستواء جميع الأفعال فيه" اس وجہ سے کہ تمام افعال اس کے اندر برابر ہیں، کوئی بھی فعل مقدر نکالا جا سکتا ہے، تو لہٰذا اب وہ متعین نہیں فعل، تو لہٰذا "فيجب التوقف" تو اس میں توقف واجب ہے۔ شارح فرماتے ہیں "وهو خلف" اور یہ درست نہیں ہے بھئی، یہ درست نہیں ہے بھئی، خلف غلط اور غلط کو کہتے ہیں بھئی، یہ غلط ہے، درست نہیں ہے، "منشأه سوء الفهم" اور اس کا باعث کیا ہے؟ سوء فہم ہے، یعنی غلط سمجھنا ہے بھئی، کیا ہے؟ غلط سمجھنا اس کا باعث ہے، بھئی فعل جب ایک موقع محل کے مطابق کیا کیا جا سکتا ہے؟ کوئی فعل ہر فعل تو نہیں، موقع محل کے مطابق فعل کو مقدر نکالا جاتا ہے، تو یہاں پر بھی کیا کیا جائے گا؟ موقع محل کے مطابق فعل کو مقدر نکالا جائے گا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہاں نکاح مقدر نکالا جائے گا پہلی صورت میں، اور دوسری میں شرب بھئی، شراب کا پینا جو ہے وہ حرام ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو ایک صورت کے اندر نہی ایک صورت میں ہے کہ نہی کی یعنی حرمت کی نسبت کس کی طرف کی جائے؟ فعل کی طرف۔ ایک صورت ہے کہ حرمت کی نسبت کس کی طرف کی جائے؟ عین کی طرف، اور زیادہ ابلغ کیا ہے؟ کون سی صورت ہے کہ فعل نہی کی نسبت، حرمت کی نسبت کس کی طرف کی جائے؟ عین کی طرف، یعنی وہ عین ہی ممنوع ہو گیا، وہ مباح ہونے سے ہی نکل گیا، کیا ہوا؟ مباح ہونے سے نکل گیا اور ممنوع بن گیا مولانا۔ یعنی جیسے دیکھو یہ نکاح کی بات تھی، "حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ"، تو یہاں حرم تحریم کی نسبت کس کی طرف کی گئی؟ امہات کی طرف کی گئی، یعنی یہ امہات جو ہیں اب یہ محل نکاح ہونے سے ہی خارج ہو گئیں مولانا، کیا ہو گئیں؟ محل نکاح ہونے سے ہی خارج ہو گئیں بھئی، یعنی یہ کسی صورت میں نکاح یہاں ممکن ہی نہیں، نکاح ہو ہی نہیں سکتا، جبکہ اگر نہی کس پر داخل تحریم کی نسبت کس کی طرف ہوتی؟ فعل کی طرف یعنی نکاح کی طرف، تو اس صورت میں نکاح سے روکا تو گیا ہے، لیکن اس محل کے اندر کیا ہوتی؟ نکاح کی صلاحیت ہوتی مولانا، کیا ہوتی؟ نکاح کی صلاحیت ہوتی بھئی، تو جب اس عین کی طرف حرمت تحریم کی نسبت کر دی، تو اب گویا تو اب وہاں پر نکاح کی نکاح کا امکان ہی نہیں کہ کوئی صورت نہیں۔ جی آگے دیکھیے: "ولما فرغ عن بيان الحقيقة والمجاز أورد بذيلهما بحث حروف المعاني" اور جب مصنف رحمہ اللہ حقیقت اور مجاز کے بیان سے فارغ ہوئے تو "أورد بذيلهما" تو لائے ان کے دامن میں یعنی ان کے تحت میں "بحث حروف المعاني" حروفِ معانی کی بحث کو، "فقال" پس فرمایا: "ويتصل بما ذكرنا حروف المعاني" اور متصل ہے اسی کے ساتھ جو ہم نے ذکر کیا، کیا متصل ہے؟ حروفِ معانی۔ روزے کے اندر اگر غلطی سے کھا لیا یا نماز کے اندر غلطی سے تکلم کر لیا، تو اس صورت میں یہ باقی رہیں گے۔ اس لیے کیونکہ حضور علیہ السلام نے کیا فرمایا؟ "رُفِعَ عَنْ أُمَّتِي الْخَطَأُ وَالنِّسْيَانُ"۔ ہم کہتے ہیں یہ اخروی حکم کی بات بیان ہو رہی ہے کہ اخروی اعتبار سے کوئی گناہ نہیں، ہاں دنیاوی حکم لگے گا مولانا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ فتم الان بیان المواعظ الخمسۃ التی علی استقراء المصنف رحمہ اللہ تعالی۔ پس پورا ہو گیا اب تک اب پورا ہو گیا ان پانچ جگہوں کا بیان مصنف رحمہ اللہ کے استقراء پر۔ استقراء کا معنی تلاش و جستجو۔ مصنف رحمہ اللہ نے کیا کیا؟ استقراء کیا، تلاش کے ذریعے پانچ قرینے ذکر کیے جن کی وجہ سے کیا کر دیا جاتا ہے؟ حقیقت کو چھوڑ کر کس کی طرف چلتے ہیں؟ مجاز کی طرف، مجاز پر عمل کرتے ہیں۔ وفيہ کلام کما لا يخفى، اور اس کے اندر کلام ہے جیسے کہ مخفی نہیں ہے مولانا، جیسے کہ یہ بات مخفی نہیں ہے۔ سمجھ میں آیا؟ شارح نے وہاں بھی شروع میں بھی جب یہ بحث شروع ہونے لگی، ذکر کیا تھا "على ما زعمہ" بھئی، مصنف کا یہ گمان ہے کہ یہ پانچ قرینے ہیں، حالانکہ یہ بات درست، زعم کا لفظ استعمال کیا تھا۔ اب پھر کہہ رہے ہیں اس کے اندر کلام ہے جیسے کہ یہ بات مخفی نہیں ہے بھئی۔ کیا مراد ہے؟ کہتے ہیں شاید شارح کی مراد یہ ہے کہ جو مصنف نے کہا کہ پہلی قسم، پہلی قسم کیا کون سا قرینہ ذکر کیا کہ بھئی حقیقت کو ترک کیا جاتا ہے کس کی وجہ سے؟ دلالت عرف کی وجہ سے۔ دوسرا کیا تھا؟ دلالت لفظ کی وجہ سے۔ کہتے ہیں دلالت لفظ بھی داخل ہے دلالت عرف میں۔ دلالت لفظ بھی داخل ہے کس کے اندر؟ دلالت عرف میں۔ چنانچہ اسی کی طرف آگے اشارہ انہوں نے کیا تھا اور کہا تھا کہ عرف میں مچھلی بیچنے والے کو گوشت بیچنے والا نہیں کہتے، دیکھو عرف کی بات آ گئی یا نہیں؟ تو یہ بھی اسی میں داخل ہے۔ اور اسی طرح آگے کہا تھا کلام کا چلاؤ، کلام کے چلاؤ کی دلالت کی وجہ سے، کہتے ہیں یہ بھی دلالت عرف میں داخل ہے۔ اس لیے کیونکہ خود آگے ذکر کیا شارح نے، کوئی شخص نے کسی شخص نے کہا "طلق امرأتي إن كنت رجلا"، کہتے ہیں یہ "إن كنت رجلا" یہ لفظ عرف کے اندر کس لیے بولا جاتا ہے؟ مخاطب کو کسی فعل کے اندر عاجز کرنے کے لیے، اس کی عاجزی کو ظاہر کرنے کے لیے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جی، آگے دیکھیے مولانا۔ "وتحريم المضاف إلى الأعيان كالمحارم والخمر حقيقة عندنا خلافا للبعض" اور تحریم، وہ تحریم جس کی نسبت کی گئی ہو اعیان کی طرف، "کالمحارم" جیسے کہ محارم ہیں اور خمر ہیں، یہ حقیقت ہے ہمارے نزدیک، یہ وہ وہ تحریم ہمارے نزدیک کیا ہے؟ وہ تحریم حقیقت ہے، "خلافا للبعض" برخلاف بعض کے، کہ ان کے نزدیک حقیقت نہیں، مجاز ہے بھئی۔ بھئی اب آپ سے یہ آگے یہ بتلائیں گے مصنف بھئی، کہ بعض اوقات بھئی تحریم کی نسبت فعل کی طرف کرنے کے بجائے عین یعنی ذات کی طرف کر دی جاتی ہے۔ کس کی طرف؟ ذات کی طرف۔ بھئی تحریم کی نسبت تو فعل کی طرف ہونی چاہیے، یہ فعل حرام ہے، یہ فعل حلال ہے، جائز ہے۔ کس کی طرف ہونی چاہیے؟ حلال اور حرام کی طرف۔ ذات کی طرف نہیں ہونی چاہیے۔ لیکن بعض اوقات ذات کی طرف کر دی جاتی ہے۔ جیسے مولانا، اللہ قرآن میں فرماتے ہیں: "حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ"۔ "حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ" تم پر تمہاری مائیں حرام کر دی گئی ہیں۔ تو اب حرمت کی نسبت کس کی طرف ہوئی؟ ماؤں کی طرف، عین کی طرف، ذات کی طرف ہوئی مولانا حرمت کی نسبت۔ فعل کی طرف نہیں، فعل کی طرف ہوتی تو یوں کہا جاتا: "حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ نِكَاحُ أُمَّهَاتِكُمْ"۔ "حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ نِكَاحُ أُمَّهَاتِكُمْ"، نکاح، فعل نکاح، تمہاری ماؤں سے جو نکاح ہے اس کو تم پر کیا کر دیا گیا ہے؟ حرام کر دیا گیا ہے۔ لیکن یہاں عین کی طرف نسبت کی گئی تحریم کی! اسی طرح حدیث میں کیا آتا ہے؟ حدیث کے اندر آتا ہے مولانا: "حُرِّمَتِ الْخَمْرُ لِعَيْنِهَا"۔ خمر حرام کر دی گئی ہے اپنی ذات کے اعتبار سے ہی بھئی۔ تو یہاں بھی حرمت کی، تحریم کی نسبت کس کی طرف ہوئی؟ عین کی طرف! اگر فعل کی طرف ہوتی تو کیسے ہوتا کلام؟ "حُرِّمَ شُرْبُ الْخَمْرِ"، خمر کا پینا حرام کیا گیا ہے۔ تو یہاں آپ بتلائیے بھئی، ان مثالوں کے اندر بھئی، کس کی طرف تحریم کی نسبت کی گئی ہے؟ عین کی طرف یا فعل کی طرف؟ عین کی طرف بھئی، کس کی طرف؟ عین کی طرف! تو اب یہ جو عین کی طرف تحریم کی نسبت کی جائے تو یہ حقیقت ہے یا مجاز ہے؟ تو بعض علماء نے کہا یہ مجاز ہے۔ مصنف ان کو رد کر رہے ہیں، کہتے ہیں نہیں، جب تحریم کی نسبت عین کی طرف کی جائے تو یہ ہمارے نزدیک کیا ہے؟ حقیقت ہے، یہ حقیقت پر محمول ہوگا کلام بھئی، مجاز نہیں ہے یہ۔ یہی بات کر رہے ہیں، کہتے ہیں: "وتحريم المضاف إلى الأعيان" اور وہ تحریم جس کی نسبت کی گئی ہو اعیان کی طرف بھئی یعنی عین کی طرف، "كالمحارم والخمر" جیسے کہ محارم اور خمر ہے، "حقيقة عندنا" محارم بھئی وہی محرم کی جمع ہے جن کے ساتھ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے کیا ہے نکاح کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ "كالمحارم والخمر" جیسے کہ محارم ہیں اور شراب ہیں، تو یہ جو تحریم ہے جس کی نسبت کی گئی ہے اعیان کی طرف، "حقيقة عندنا" یہ تحریم کیا ہے؟ حقیقت ہے ہمارے نزدیک، "خلافا للبعض" برخلاف بعض علماء کے۔ جی، شارح بتلا رہے ہیں کہ "جملة مبتدأة" کہ یہ "أي هذه جملة مبتدأة"، یہ جملہ ہے، نیا الگ جملہ ہے، "تتمة لقوله" اور یہ تکملہ ہے، اس کے ذریعے تکمیل کر رہے ہیں، تو یہ تکملہ ہے "لقوله" مصنف کے قول اس قول کا: "وبدلالة محل الكلام"، کہ کبھی کبھار حقیقت کو ترک کر دیا جاتا ہے کس کی وجہ سے؟ محل، محل کلام کی دلالت کی وجہ سے حقیقت کو ترک کر دیا جاتا ہے، یہ جملہ اس کی اس کا تتّمہ ہے۔ کس کا ہے؟ تتّمہ ہے مولانا۔ یہ دراصل رد کر رہے ہیں بعض علماء پر بھئی۔ بعض علماء نے کہا کہ یہ تحریم جو ہے، اس کا عطف ماقبل میں جو مثالیں گزریں، ان پر ہے مولانا۔ "كقوله عليه السلام وقوله عليه السلام"، جیسے وہ مثالیں تھیں اس پانچویں قرینے کی، یہ بھی کیا ہے؟ مثال ہے کس کی؟ پانچویں قرینے کی مولانا۔ شارح فرماتے ہیں نہیں بھئی، یہ اس کی مثال نہیں ہے، یہ اسی سے متعلقہ بات تو ہے، لیکن اس کی مثال نہیں، اس کے لیے اس کا تتّمہ ہے مولانا۔ تو کہتے ہیں یہ الگ جملہ ہے اور تتّمہ ہے مصنف کے قول "وبدلالة محل الكلام"، اس کا تتّمہ ہے، "جِيءَ بِهَا رَدًّا لِزَعْمِ الْبَعْضِ" اس کو لایا گیا بعض لوگوں کے گمان کو رد کرنے کے لیے، "فَإِنَّهُمْ زَعَمُوا" اس لیے کیونکہ انہوں نے یہ گمان کیا تھا "أَنَّ التَّحْرِيمَ الْمُضَافَ إِلَى الْعَيْنِ" کہ وہ تحریم جس کی نسبت کی جائے عین کی طرف "كَالْمَحَارِمِ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى" جیسے کہ محارم ہیں اللہ تعالیٰ کے اس قول کے اندر "حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ" حرام کر دی گئی ہیں تم پر تمہاری مائیں، "وَالْخَمْرِ فِي قَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ" اور جیسے کہ خمر ہے حضور علیہ الصلاۃ والسلام کے اس قول کے اندر "حُرِّمَتِ الْخَمْرُ لِعَيْنِهَا" حرام کر دیا گیا ہے شراب کو اس کی ذات کے اعتبار سے، "مَجَازٌ" یہ خبر ہے مولانا۔ "أَنَّ التَّحْرِيمَ الْمُضَافَ إِلَى الْعَيْنِ مَجَازٌ"، بیچ میں صرف مثال ذکر کی تھی کہ یہ جو تحریم جس کی نسبت کس کی طرف کی گئی ہے؟ عین کی طرف، یہ مجاز ہے، بعض لوگوں کا یہ گمان تھا۔ "عَنِ الْفِعْلِ" یہ تحریم مجاز ہے کس سے؟ فعل سے۔ یعنی تحریم کی نسبت ذات کی طرف ہے، لیکن دراصل تحریم کس چیز کی کی جا رہی ہے؟ فعل کی، فعل کی سے تحریم ہے، یعنی کیا فعل؟ "أَيْ نِكَاحِ أُمَّهَاتِكُمْ وَشُرْبِ الْخَمْرِ"، یعنی یہ امہات کے نکاح کو حرام کر دیا گیا ہے اور شراب کے پینے کو حرام کر دیا گیا ہے، تو یہ مجاز ہے فعل سے مولانا۔ "فَتَكُونُ الْحَقِيقَةُ مَتْرُوكَةً بِدَلَالَةِ مَحَلِّ الْكَلَامِ" پس حقیقت کو چھوڑ دیا گیا کس کی وجہ سے؟ محل کلام کی محل کلام خود دلالت کر رہا ہے بھئی حقیقت مراد نہیں ہے، کیونکہ تحریم کی نسبت تو فعل کی طرف ہونی چاہیے تھی اور یہاں کس کی طرف نسبت کی جا رہی ہے؟ عین کی طرف کی جا رہی ہے، تو لہٰذا معلوم ہوا کہ یہ حقیقت پر کلام محمول نہیں ہے، بلکہ کون سا معنیٰ کرنا پڑے گا یہاں؟ مجازی معنیٰ! تو ماؤں کے حرام ہونے کا کیا معنیٰ ہے؟ کہ ان سے نکاح کو حرام قرار دیا گیا ہے، اور شراب کے حرام ہونے کا کیا معنیٰ ہے؟ کہ اس کا پینا حرام ہے مولانا، تو یہ حقیقت نہیں ہے بلکہ مجاز ہے اور یہ کس سے پتہ چلا؟ محل کلام کی دلالت سے مولانا۔ یہ بعض علماء کی تقریر چل رہی ہے، بعضوں نے یہ گمان کیا تھا کہ۔ کہتے ہیں انہی کی تقریر چل رہی ہے، وہ کہتے ہیں "لِأَنَّ الْمَحَلَّ عَيْنٌ لَا يَقْبَلُ الْحُرْمَةَ" اس لیے کہ محل جو ہے وہ تو عین ہے، محارم اور خمر یہ تو عین ہے، "لَا يَقْبَلُ الْحُرْمَةَ" یہ حرمت کو قبول نہیں کرتے، "لِأَنَّ الْحِلَّ وَالْحُرْمَةَ مِنْ أَوْصَافِ الْفِعْلِ" اس لیے کیونکہ حلال ہونا اور حرام ہونا کس کے اوصاف میں سے ہیں؟ فعل کے اوصاف میں سے ہیں۔ تو جواب دے رہے ہیں اب شارح ذکر کرتے ہیں بھئی، فرماتے ہیں: "فَقُلْنَا نَحْنُ إِنَّ هَذِهِ الْحُرْمَةَ عَلَى حَالِهَا وَحَقِيقَتِهَا" ہم کہتے ہیں کہ یہ جو حرمت ہے، اپنے حال اور اپنی حقیقت پر ہی ہے، "لِأَنَّهُ أَبْلَغُ مِنْ أَنْ يَقُولَ حُرِّمَتْ نِكَاحُ أُمَّهَاتِكُمْ" اس لیے کیونکہ یہ زیادہ بلیغ ہے یہ کہنے سے کہ "حُرِّمَتْ نِكَاحُ أُمَّهَاتِكُمْ"۔ ایک ہے کہ یوں کہا جائے "حُرِّمَتْ نِكَاحُ أُمَّهَاتِكُمْ" تمہاری ماؤں کے نکاح کو کیا کر دیا گیا تم پر؟ حرام کر دیا گیا، اور ایک یہ کہ تمہاری ماں کو تم پر حرام کر دیا گیا، یہ ابلغ ہے مولانا کیا ہے؟ ابلغ ہے نہی کے اندر بھئی۔ "وَذَلِكَ" اور یہ اس وجہ سے "لِأَنَّ الْحُرْمَةَ نَوْعَانِ" اس لیے کیونکہ حرمت دو قسم پر ہے، "نَوْعٌ يُلَاقِي الْفِعْلَ" ایک وہ نوع ہے جو فعل کے ساتھ ملتی ہے، یعنی کبھی تحریم حرمت جو ہے، وہ فعل کے ساتھ ملتی ہے، جیسے مثال کیا ذکر ہوئی بھئی؟ "حُرِّمَتْ نِكَاحُ أُمَّهَاتِكُمْ"، تو یہاں نہی کس کے ساتھ مل گئی؟ فعل کے ساتھ۔ اور کبھی نہی کس کے ساتھ ملتی ہے؟ عین کے ساتھ، جیسے "حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ"۔ تو کہتے ہیں اس لیے کیونکہ حرمت دو قسم پر ہے، "نَوْعٌ يُلَاقِي الْفِعْلَ" ایک وہ نوع ہے جو فعل کے ساتھ ملتی ہے، "فَيَكُونُ الْعَبْدُ مَمْنُوعًا وَالْفِعْلُ مَمْنُوعًا عَنْهُ" تو اس صورت میں عبد، بندہ جو ہے وہ ممنوع ہوا، روکا گیا، روکا گیا ہے، "وَالْفِعْلُ مَمْنُوعًا عَنْهُ" اور فعل کیا ہو جاتا ہے؟ ممنوع عنہ، یعنی اس سے روکا گیا ہے۔ جبکہ فعل کیا ہوتا ہے؟ بندہ ممنوع ہوتا ہے اور فعل ممنوع عنہ ہو جاتا ہے، جبکہ وہ محل اپنے حال پر باقی رہتا ہے، یعنی اس میں فعل کی قابلیت ہوتی ہے، فعل کو وہ قبول کر سکتا ہے۔ "وَنَوْعٌ" اور دوسری قسم "نَوْعٌ يُلَاقِي الْمَحَلَّ" کہ وہ حرمت کس کے ساتھ ملتی ہے؟ محل کے ساتھ، "فَيُخْرِجُ الْمَحَلَّ مِنْ أَنْ يَكُونَ مُبَاحًا" تو وہ محل کو مباح ہونے سے نکال دیتی ہے، وہ محل مباح رہتا ہی نہیں، بلکہ وہ محل ہی کیا ہو جاتا ہے؟ حرام! "وَصَارَ الْعَيْنُ مَمْنُوعًا" اور وہ عین ہی کیا ہو جاتی ہے؟ ممنوع، "وَالْعَبْدُ مَمْنُوعًا عَنْهُ" اور بندہ ممنوع عنہ اس سے روکا گیا ہے۔ "وَهَذَا أَبْلَغُ الْوَجْهَيْنِ فِي الْمَنْعِ" اور یہ دو وجہوں میں سے زیادہ بلیغ ہے منع کے اندر بھئی، دو وجہوں میں۔ "فَإِنَّ الْأَوَّلَ" اس لیے کیونکہ پہلا "كَمَا يُقَالُ لِلطِّفْلِ" جیسے کہا جائے بچے سے: "لَا تَأْكُلِ الْخُبْزَ" روٹی نہ کھاؤ، "وَهُوَ بَيْنَ يَدَيْهِ" اور حال یہ ہے کہ روٹی اس کے سامنے ہے، اب دیکھیے، بچے کو روٹی کھانے سے منع کیا گیا، لیکن روٹی اس کے سامنے ہے، تو اب بھی اسے کیا کیا جا سکتا ہے؟ کھایا اس میں صلاحیت ہے، پھر اس کو کیا کیا جائے؟ کھایا جا سکتا ہے، وہ کھائی جا سکتی ہے۔ "وَالثَّانِي" اور دوسری قسم یہ ہے "كَمَا يُرْفَعُ الْخُبْزُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ" کہ جیسے روٹی اس کے سامنے سے اٹھا لی جائے "وَيُقَالُ لَهُ" اور اس سے کہا جائے "لَا تَأْكُلْ" نہ کھاؤ بھئی! سمجھ میں آیا؟ تو دیکھو، اب محل ہی وہ روٹی ہی اس میں صلاحیت کھانے کی نہیں رہے گی، اس کے سامنے ہی موجود نہیں ہے، کیسے کھائے اس کو بھئی؟ اگر سامنے ہوتی تو وہ کھا سکتا، سامنے ہی نہیں تو اس کو کھا بھی نہیں سکتا۔ تو کس کے اندر نہی ابلغ ہے؟ زیادہ روکنا کس صورت میں ہے بھئی؟ جب اس کے سامنے سے روٹی اٹھا لی جائے۔ تو کہتے ہیں "فَهُوَ بِمَنْزِلَةِ النَّفْيِ وَالنَّسْخِ" تو یہ کس کے درجے میں ہے؟ نفی اور نسخ، نفی اور النسخ نفی کے معنیٰ میں ہے بھئی، ایک ہی معنیٰ ہے دونوں کا، تو یہ نفی اور نسخ کے معنیٰ میں ہے، "وَهُوَ أَبْلَغُ مِنَ النَّهْيِ الْحَقِيقِيِّ عَلَى مَا مَرَّ تَقْرِيرُهُ" اور یہ ابلغ ہے نہی، نہی حقیقی سے زیادہ بلیغ ہے بنا بر اس کے کہ جس کی تقریر گزر گئی بھئی، نہی کی بحث کے اندر بھئی، کہ تحریم کی نسبت کس کی طرف ہو؟ اعیان کی طرف ہو، تو یہ نہی کے اندر زیادہ بلیغ ہے مولانا، زیادہ بلیغ ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ "وقال بعض المعتزلة" اور بعض معتزلہ نے کہا "إنه مجمل" کہ یہ مجمل ہے مولانا، یہ جو تحریم کی جب نسبت کس کی طرف کی جائے؟ اعیان کی طرف، تو اس صورت میں یہ مجمل ہے، بھئی کیوں مجمل؟ کہتے ہیں "لأن العين لا يكون حراما" اس لیے کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ عین جو ہے وہ حرام نہیں ہو سکتی، "فلا بد من تقدير الفعل" پس ضروری ہے کہ فعل کو مقدر نکالا جائے بھئی، "وهو غير معين" اور وہ تو غیر متعین ہے، کوئی متعین فعل نہیں بھئی، مقدر نکالنا ہے، جو بھی نکال لیں، "لاستواء جميع الأفعال فيه" اس وجہ سے کہ تمام افعال اس کے اندر برابر ہیں، کوئی بھی فعل مقدر نکالا جا سکتا ہے، تو لہٰذا اب وہ متعین نہیں فعل، تو لہٰذا "فيجب التوقف" تو اس میں توقف واجب ہے۔ شارح فرماتے ہیں "وهو خلف" اور یہ درست نہیں ہے بھئی، یہ درست نہیں ہے بھئی، خلف غلط اور غلط کو کہتے ہیں بھئی، یہ غلط ہے، درست نہیں ہے، "منشأه سوء الفهم" اور اس کا باعث کیا ہے؟ سوء فہم ہے، یعنی غلط سمجھنا ہے بھئی، کیا ہے؟ غلط سمجھنا اس کا باعث ہے، بھئی فعل جب ایک موقع محل کے مطابق کیا کیا جا سکتا ہے؟ کوئی فعل ہر فعل تو نہیں، موقع محل کے مطابق فعل کو مقدر نکالا جاتا ہے، تو یہاں پر بھی کیا کیا جائے گا؟ موقع محل کے مطابق فعل کو مقدر نکالا جائے گا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہاں نکاح مقدر نکالا جائے گا پہلی صورت میں، اور دوسری میں شرب بھئی، شراب کا پینا جو ہے وہ حرام ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو ایک صورت کے اندر نہی ایک صورت میں ہے کہ نہی کی یعنی حرمت کی نسبت کس کی طرف کی جائے؟ فعل کی طرف۔ ایک صورت ہے کہ حرمت کی نسبت کس کی طرف کی جائے؟ عین کی طرف، اور زیادہ ابلغ کیا ہے؟ کون سی صورت ہے کہ فعل نہی کی نسبت، حرمت کی نسبت کس کی طرف کی جائے؟ عین کی طرف، یعنی وہ عین ہی ممنوع ہو گیا، وہ مباح ہونے سے ہی نکل گیا، کیا ہوا؟ مباح ہونے سے نکل گیا اور ممنوع بن گیا مولانا۔ یعنی جیسے دیکھو یہ نکاح کی بات تھی، "حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ"، تو یہاں حرم تحریم کی نسبت کس کی طرف کی گئی؟ امہات کی طرف کی گئی، یعنی یہ امہات جو ہیں اب یہ محل نکاح ہونے سے ہی خارج ہو گئیں مولانا، کیا ہو گئیں؟ محل نکاح ہونے سے ہی خارج ہو گئیں بھئی، یعنی یہ کسی صورت میں نکاح یہاں ممکن ہی نہیں، نکاح ہو ہی نہیں سکتا، جبکہ اگر نہی کس پر داخل تحریم کی نسبت کس کی طرف ہوتی؟ فعل کی طرف یعنی نکاح کی طرف، تو اس صورت میں نکاح سے روکا تو گیا ہے، لیکن اس محل کے اندر کیا ہوتی؟ نکاح کی صلاحیت ہوتی مولانا، کیا ہوتی؟ نکاح کی صلاحیت ہوتی بھئی، تو جب اس عین کی طرف حرمت تحریم کی نسبت کر دی، تو اب گویا تو اب وہاں پر نکاح کی نکاح کا امکان ہی نہیں کہ کوئی صورت نہیں۔ جی آگے دیکھیے: "ولما فرغ عن بيان الحقيقة والمجاز أورد بذيلهما بحث حروف المعاني" اور جب مصنف رحمہ اللہ حقیقت اور مجاز کے بیان سے فارغ ہوئے تو "أورد بذيلهما" تو لائے ان کے دامن میں یعنی ان کے تحت میں "بحث حروف المعاني" حروفِ معانی کی بحث کو، "فقال" پس فرمایا: "ويتصل بما ذكرنا حروف المعاني" اور متصل ہے اسی کے ساتھ جو ہم نے ذکر کیا، کیا متصل ہے؟ حروفِ معانی۔ اصحاب شوافع کی، الشافعی کی دلیل چل رہی ہے بھئی۔ انہوں نے کیا کہا تھا؟ و کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ ترتیب کا۔ کہتے ہیں دیکھیں یہ صفا پہلے ہے اور مروہ بعد میں و کے ذریعے عطف کیا گیا اور وہ ترتیب کا فائدہ دے رہا ہے۔ اسی لیے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نَحْنُ نَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللَّهُ، کہ ہم بھی اس سے ابتدا کرتے ہیں جس سے اللہ نے ابتدا کی ہے۔ تو صفا سے ہم سعی شروع کرتے ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں بھئی، ففہم النبی علیہ السلام منہ الترتیب، تو حضور علیہ السلام اس و سے جو ہے ترتیب سمجھے، یہ ایک دلیل ہے۔ وقولہ تعالی، اور دوسری دلیل ان کی جو ہے اللہ تعالی کا یہ قول ہے: وَارْكَعُوا وَاسْجُدُوا۔ تو دیکھو وَارْكَعُوا وَاسْجُدُوا، ان کے درمیان عطف کس کے ذریعے آیا؟ و کے ذریعے، اور دیکھیے رکوع پہلے ہے اور سجدہ بعد میں ہے نماز کے اندر بھی، رکوع کا سجدے پر مقدم کرنا فرض ہے۔ تو معلوم ہوا یہ و کس چیز کے لیے آتا ہے؟ ترتیب کے لیے۔ کہتے ہیں فإن تقديم الركوع على السجود واجب، اس لیے کیونکہ رکوع کا مقدم کرنا سجود پر یہ واجب ہے۔ والجواب، جواب دے رہے ہیں مولانا کہ نہیں بھئی، و ترتیب کا فائدہ نہیں دیتا۔ والجواب عن الأول، اور جواب پہلی دلیل سے یہ ہے کہ، أن النبي عليه السلام لعله فهم الترتيب من وحي غير متلو، کہ شاید حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ترتیب کو سمجھا ہو وحیِ غیرِ متلو سے بھئی۔ یہ تو وحیِ متلو ہے تلاوت کی جاتی ہے، یعنی قرآن کا حصہ ہے، لیکن اس کے علاوہ بھی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی آتی تھی، تو ہو سکتا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو وحیِ غیرِ متلو کے ذریعے بتلا دیا گیا ہو کہ سعی کی ابتدا کہاں سے کرنی ہے، صفا سے کرنی ہے۔ تو شاید اس غیر وحیِ غیرِ متلو سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ترتیب سمجھ میں آئی ہو۔ وإنما حال على الآية، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت کا جو حوالہ دیا، باعتِبارِ أَنَّ التَّقْدِيمَ فِي الذِّكْرِ، کہ وہ یہ بایں اعتبار ہے کہ ذکر کے اندر بھی مقدم کرنا، لَا يَخْلُو عَنِ الاِهْتِمَامِ وَالتَّرْجِيحِ، یہ بھی اہتمام اور ترجیح سے خالی نہیں بھئی۔ بھئی، دو چیزوں کا ذکر کرنا ہے، دو میں سے ایک کو پہلے ذکر کیا، معلوم ہوا اس کی اہمیت کی وجہ سے اور اس کے راجح ہونے کی وجہ سے، تو راجح قرار دینے کی وجہ سے۔ تو اگرچہ یہ بھی اس سے خالی نہیں ہے، لیکن بہرحال و ترتیب کا فائدہ نہیں دیتا، تو یہاں یہ بھی احتمال ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو وحیِ غیرِ متلو سے علم ہوا ہو بھئی۔ وعن الثاني، اور دوسرے کا جواب ہم کیا دیتے ہیں؟ دوسرے کا، کہ وَارْكَعُوا وَاسْجُدُوا آپ نے آیت ذکر کی، کہتے ہیں أنہ معارض بقولہ تعالی، یہ آیت تو معارض ہے اللہ تعالی کے اس قول سے: وَاسْجُدِي وَارْكَعِي۔ تو دیکھو، اس آیت میں کیا ہے؟ سجدے کا ذکر پہلے اور رکوع کا ذکر بعد میں، خطَابًا لِمَرْيَمَ، اس حال میں کہ یہ خطاب ہے حضرت مریم کو، فإن تقديم السجود على الركوع ليس بفرض بالإجماع، اس لیے کہ سجدوں کو رکوع پر فرض، مقدم کرنا بالاجماع فرض نہیں ہے بھئی۔ تو و اگر کس چیز کا فائدہ دیتا؟ ترتیب کا، پھر تو کیا ہونا چاہیے تھا؟ یہاں تو پتہ لگ رہا ہے کہ سجدے کا پہلے کرو اور رکوع بعد میں بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ وفي قوله لغير الموطوءة إن دخلت الدار فأنت طالق وطالق وطالق۔ جی۔ اور کسی شخص کا کہنا لغیر الموطوءة، ایسی عورت سے، ایسی اس کی بیوی الغير الموطوءة، جس سے اس نے صحبت نہیں کی بھئی، وہ غیر موطوءہ ہے۔ اس سے کوئی شخص اپنی ایسی بیوی سے کہتا ہے: إن دخلت الدار فأنت طالق وطالق وطالق، اگر تو اس گھر میں داخل ہوئی تو تجھے طلاق ہے، اور طلاق ہے، اور طلاق ہے۔ جی۔ تو یاد رکھیے، اس صورت میں جب وہ گھر کے اندر داخل ہو گی، تو امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک اسے ایک طلاق ہو گی، اور ایک سے ہی وہ بائنہ ہو جائے گی، کیونکہ غیر مدخول بہا ہے، غیر موطوءہ ہے مولانا، اس کے ساتھ صحبت نہیں کی گئی، اور غیر موطوءہ کو جب طلاق دی جائے، تو وہ ایک ہی طلاق سے کیا ہو جاتی ہے؟ بائنہ ہو جاتی ہے۔ بھئی دیکھیے، أنت طالق کہنے سے رجعی طلاق ہوتی ہے، لیکن غیر موطوءہ سے اگر اس نے کہا أنت طالق، تو ایک ہی طلاق سے وہ کیا ہو جائے گی؟ بائنہ ہو جائے گی، اور اس پر عدت بھی کوئی نہیں ہے، وہ فوراً ہی کہیں اور نکاح کرنا چاہے تو نکاح کر سکتی ہے۔ تو امام صاحب کے نزدیک اس صورت میں ایک ہی طلاق ہو گی۔ اور صاحبین فرماتے ہیں: گھر میں داخل ہو گی تو تینوں طلاقیں ہو جائیں گی۔ کیا ہو جائیں گی؟ تینوں۔ تو امام صاحب فرماتے ہیں ایک طلاق ہو گی۔ معلوم ہوا و ترتیب کا فائدہ دے رہا ہے، کیونکہ کیا تھا؟ اس نے بھی ترتیب سے طالق وطالق وطالق اس نے کہا تھا۔ اگر ترتیب کا فائدہ نہ دیتا، و مطلق جمع کے لیے ہوتا، تو پھر تو تینوں طلاقیں واقع ہونی چاہیے تھیں، معلوم ہوا اے احناف، تمہارے امام، امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک و کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ ترتیب کا۔ جی۔ اور دوسرا، آپ نے کیا کہا تھا؟ و مقارنت کا بھی فائدہ نہیں دیتا، بھئی و مقارنت کا بھی فائدہ دیتا ہے، جبھی تو صاحبین فرماتے ہیں تینوں طلاقیں ہو جائیں گی، اکٹھی ہو جائیں گی، جیسے ہی گھر میں داخل ہو گی، تینوں طلاقیں ہو جائیں گی بھئی۔ اعتراض سمجھ میں آ گیا بھئی؟ تو یہ مقارنت بھی یہاں سے، تینوں اکٹھی ہوئیں، معلوم ہوا مقارنت آ گئی ہے بھئی، اکٹھی واقع ہو رہی ہیں۔ تو کہتے ہیں: وفي قوله لغير الموطوءة، اور کسی شخص کے، في قوله لغير الموطوءة، اور کسی شخص کا اپنی غیر موطوءہ بیوی سے یہ کہنا کہ إن دخلت الدار فأنت طالق وطالق وطالق، کہتے ہیں: جواب سؤال مقدر يرد علينا، یہ جواب ہے ایک ایسے سوال کا، سوالِ مقدر کا جو ہم پر وارد ہوتا ہے، وہو، اور وہ یہ، أنه إذا قال أحد لامرأته الغير الموطوءة، جب کسی شخص نے کہا اپنی غیر موطوءہ بیوی سے إن دخلت الدار فأنت طالق وطالق وطالق، فعند أبي حنيفة تقع واحدة، تو امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک ایک ہی طلاق واقع ہو گی، وعندهما ثلاث، اور صاحبین کے نزدیک تینوں۔ فعلم، پس جان لیا گیا، أن الواو للترتيب عنده، کہ و ترتیب کے لیے ہے امام صاحب کے نزدیک، فيقع الأول منفردا، پس پہلی طلاق اکیلی واقع ہو گی، جی، باقی دو طلاقیں کیوں نہیں ہوں گی؟ کیونکہ ایک سے ہی بائنہ ہو گئی، جدا ہو گئی، اور عدت بھی کوئی نہیں ہے، عدت ہوتی تو عدت کے اندر اور بھی واقع ہو سکتی تھی، لیکن عدت بھی نہیں ہے اس پر، عدت بھی، تو لہٰذا فوراً ہی بائنہ اور جدا ہو گئی بالکل، لہٰذا اب محل ہی نہ رہا طلاق کا، تو باقی دو طلاقیں کیا ہو جائیں گی؟ لغو۔ تو یہ معنی ہے فيقع الأول منفردا، پس پہلی طلاق اکیلی واقع ہو جائے گی، ولم يبق محل للثاني والثالث، اور محل ہی باقی نہیں رہے گا دوسری اور तीसरी طلاق کے لیے، وللمقارنة عندهما، اور یہ جان لیا گیا کہ و جو ہے، اوپر کیا تھا؟ للترتيب عنده، امام صاحب کے نزدیک ترتیب کے لیے ہے، وللمقارنة عندهما، اور صاحبین کے نزدیک مقارنت کے لیے ہے، فيقع الكل دفعة واحدة، پس ساری کی ساری طلاقیں ایک ہی دفعہ میں واقع ہو جائیں گی اکٹھی، والمحل يقبلها، اور محل بھی اس کو قبول کرتا ہے کہ اکٹھی تین طلاقیں ہو جائیں بھئی۔ بھئی الگ الگ دے، پھر تو ایک طلاق سے بائنہ ہو گئی، لیکن اگر کوئی شخص ایک ہی لفظ کے ساتھ تینوں طلاقیں دیتا ہے غیر موطوءہ کو، تو پھر تینوں ہو جائیں گی، مثلاً اسے کہتا ہے أنت طالق ثلاثا، تو کیا ہو جائیں گی؟ تینوں ہی طلاقیں اکٹھی ہو جائیں گی۔ فأجاب، تو جواب دیا مصنف نے، بأن في هذا المثال، کہ اس مثال کے اندر، إنما تطلق واحدة، طلاق والی ہو جائے گی ایک طلاق والی، تطلق واحدة، یا وہ کیا ہو جائے گی؟ ایک طلاق والی ہو جائے گی، عند أبي حنيفة، امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک، لأن موجب هذا الكلام الافتراق، اس لیے کیونکہ اس کلام کا مقتضا کیا ہے؟ افتراق۔ اس کلام کا مقتضا ہی افتراق ہے، اس لیے و فائدہ نہیں دے رہا ترتیب کا، بلکہ کلام کا مقتضا کیا ہے؟ افتراق۔ بھئی، معلوم ہوا جب اس نے یہ کہا إن دخلت الدار فأنت طالق وطالق وطالق، معلوم ہوا کہنے والا یہ چاہتا ہے کہ طلاقیں الگ الگ واقع ہوں، ایک ہو، پھر دوسری ہو، پھر تیسری ہو۔ اگر اکٹھی کا ارادہ ہوتا، پھر تو وہ یوں، أنت طالق وطالق وطالق، اتنا لمبا کلام نہ کرتا، وہ تو فوراً کیا کہہ دیتا فأنت طالق ثلاثا، اگر تو گھر میں داخل ہوئی تو تجھے تین طلاقیں۔ لیکن وہ طالق ثلاثا نہیں کہہ رہا، بلکہ کیا کہہ رہا ہے؟ طالق وطالق وطالق، معلوم ہوا وہ کیا چاہتا ہے؟ افتراق، کہ طلاق ایک ایک کر کے واقع ہو جائے، تینوں طلاقیں یعنی الگ الگ واقع ہو جائیں۔ تو لہٰذا، یہاں جو ترتیب آئی، وہ و کی وجہ سے نہیں آئی، بلکہ وہ افتراق ہے الگ الگ طلاقیں ہوئیں، اور وہ کس کی وجہ سے؟ کلام کے مقتضا کی وجہ سے، تو لہٰذا الگ الگ طلاقیں واقع ہوں گی بھئی، اس کلام کے مقتضا کے مطابق۔ لیکن جیسے ہی پہلی طلاق واقع ہو گی، اس کے بعد پھر محل ہی باقی نہیں رہے گا، تو باقی دو اس لیے لغو چلی جائیں گی۔ تو کہتے ہیں: لأن موجب هذا الكلام الافتراق، اس لیے کیونکہ اس کلام کا مقتضا افتراق ہے، فلا يتغير بالواو، تو وہ و سے نہیں بدلے گا۔ وقال، اور صاحبین فرماتے ہیں: موجبه الاجتماع، کہ اس کلام کا مقتضا کیا ہے؟ اجتماع ہے، فلا يتغير بالواو، تو یہ و سے نہیں بدلے گا۔ جی۔ بھئی، صاحبین فرماتے ہیں کہ کلام کا مقتضا اجتماع ہے۔ ایک ہی شرط کے ساتھ وہ کیا کر رہا ہے؟ تینوں طلاقوں کو معلق کر رہا ہے، کہ معلوم ہوا وہ چاہتا ہے کہ اس شرط کے پائے جاتے ہی کیا ہو جائیں؟ تینوں طلاقیں واقع ہو جائیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا، تو وہ الگ الگ شرطوں کے ساتھ طلاقوں کو معلق کرتا، لیکن اس نے ایک ہی شرط کے ساتھ کیا کر دیا؟ تینوں طلاقوں کو معلق کر دیا، معلوم ہوا وہ کیا چاہتا ہے؟ کہ تینوں کیا ہو جائیں، اس شرط کے پائے جاتے ہی تینوں طلاقیں واقع ہو جائیں بھئی۔ تو کہتے ہیں صاحبین، یہ معنی ہے کہ صاحبین فرماتے ہیں موجبه الاجتماع، کہ کلام کا مقتضا اجتماع ہے، فلا يتغير بالواو، تو وہ و سے نہیں بدلے گا۔ تو یہ کلام کا مقتضا کی وجہ سے امام صاحب کے نزدیک افتراق آیا، اور صاحبین کے نزدیک اجتماع آیا، و کی وجہ سے نہیں بھئی۔ يعني أن هذا الترتيب عنده، یعنی کیونکہ یہ ترتیب امام صاحب کے نزدیک، والمقارنة عندهما، اور یہ جو مقارنت ہے صاحبین کے نزدیک، لم يجيء من الواو، یہ و سے نہیں آئی، بل من موجب الكلام، بلکہ کس سے آئی ہے؟ کلام کے مقتضا سے آئی ہے، فإن موجب الكلام عنده للافتراق، اس لیے کیونکہ کلام کا مقتضا امام صاحب کے نزدیک افتراق ہے، إذ لو لم يكن كذلك، اس لیے کیونکہ اگر ایسا نہ ہوتا، لقال، تو وہ شخص یوں کہتا: إن دخلت الدار فأنت طالق ثلاثا، بھئی۔ پھر وہ یوں کہتا بھئی۔ فإذا لم يقل ثلاثا، جب اس نے ثلاثا نہیں کہا، بل قال أنت طالق وطالق وطالق، بلکہ اس نے الگ الگ کرتے ہوئے یوں کہا أنت طالق وطالق وطالق، علمت، تو جان لیا گیا، أنه قصد الافتراق، کہ اس نے کس چیز کا ارادہ کیا ہے؟ افتراق، الگ الگ جدا ہونے کا ارادہ کیا ہے، فيقع كل منها على حدة، تو واقع ہو گی ان میں سے ہر ایک طلاق علیحدہ، فيقع الأول، پس پہلی طلاق واقع ہو گی، ولم يبق محل للثاني وللثالث، اور اس کے بعد محل ہی ثانی اور ثالث کے لیے باقی نہیں رہے گا، وعندهما موجب الكلام الاجتماع، اور صاحبین کے نزدیک کلام کا مقتضا اجتماع ہے، لأنه لو لم يكن كذلك، اس لیے کیونکہ اگر ایسا نہ ہوتا، لما علقت الثلاث كلها بشرط واحد، تو پھر وہ تینوں، ساری تینوں کو ایک ہی شرط کے ساتھ معلق نہ کرتا، فإذا علقها جملة، پس جب اس نے معلق کر دیا اکٹھا ہی سب کو، وقعت جملة واحدة، تو وہ ساری بھی کیا ہوں گی؟ اکٹھی ہی واقع ہوں گی۔ وقد مال فخر الإسلام وصاحب التقويم إلى رجحان قولهما في وقوع الثلاث، اور تحقیق مائل ہوئے ہیں فخر الاسلام اور صاحبِ تقویم، تقویم کتاب کے مصنف جو ہیں، إلى رجحان قولهما، کس بات کی طرف مائل ہوئے ہیں؟ صاحبین کے قول کے راجح ہونے کی طرف، في وقوع الثلاث، تین طلاقوں کے واقع ہونے کے اندر۔ تو ان کا میلان بھی اسی طرف ہے کہ تینوں کیا ہو جائیں گی؟ واقع ہو جائیں گی۔ وهذا كله إذا قدم الشرط، اور کہتے ہیں یہ سب اس وقت ہے جب شرط کو مقدم کر دے، وإن أخره، اور اگر شرط کو کیا کر دیا؟ مؤخر کر دیا، بأن قال، بایں طور کہ یوں کہتا ہے: أنت طالق وطالق وطالق إن دخلت الدار، شرط کو کیا کر دیا؟ مؤخر بھئی۔ تو يقع الثلاث اتفاقا، تو بالاتفاق کیا ہو جائیں گی؟ تین ہی طلاقیں واقع ہوں گی بھئی، کیوں تین کیوں بھئی صاحبین کے نزدیک تو بات واضح ہے، امام صاحب کے نزدیک تین کیوں واقع ہو گی؟ کہتے ہیں: لأنه وجد في آخر الكلام ما يغير أوله، اس لیے کیونکہ کلام کے آخر میں ایسی چیز پائی گئی جس نے اس کے اول کو کیا کر دیا؟ بدل دیا بھئی۔ پہلے شرط مقدم تھی، تو وہ آخر میں نہیں تھی، اب کیا ہے؟ شرط آخر میں، تو وہ اب اول پہ اثر ڈالے گی مولانا، تو وہ اول کو بدل دے گی، کہتے ہیں: وجد في آخر الكلام، آخرِ کلام کے اندر ایسی چیز پائی گئی، لأنه وجد في آخر الكلام، اس لیے کہ پائی گئی کلام کے آخر کے اندر، ما، ایسی چیز، يغير أوله، جو اس کے اول کو کیا کر دیتی ہے؟ بدل لیتی ہے، وهو الشرط، اور وہ کیا ہے؟ شرط ہے، فتوقف الأول على آخره، تو پہلی کیا ہو گئی؟ موقوف ہو گئی کس پر؟ آخری پر۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ پہلی آخری پر موقوف ہو گئی، فيقعن جملة، تو کیا ہوں گی وہ؟ جملۃً، اکٹھی ہی واقع ہو جائیں گی بھئی۔ وإذا قال لغير الموطوءة أنت طالق وطالق وطالق إنما تبين بواحدة بھئی۔ اور بھئی، جب کہا کسی شخص نے اپنی ایسی بیوی سے جو غیر موطوءہ ہے، کیا کہا؟ أنت طالق وطالق وطالق کہا، کہتے ہیں: إنما تبين بواحدة، وہ بائنہ ہو جائے گی ایک ہی طلاق کے ساتھ۔ کہتے ہیں: جواب سؤال آخر، یہ دوسرے سوال کا جواب ہے، ایک دوسرا سوال على علمائنا، جو ہمارے علماء پر ہوتا ہے، اس کا جواب ہے، وهو، اور وہ سوال یہ، أن يقال، کہ یوں کہا جائے، إذا نجز الطلاق، جب نجز، نجز کا معنی پورا کرنا۔ کہ جب إذا نجز الطلاق بدون الشرط، کہ جب خاوند نے کیا کر دیا؟ طلاق کو پورا کر دیا بغیر شرط کے، یعنی شرط کے ساتھ معلق نہیں کر دیا بلکہ ان کو کیا کیا؟ پورا کیا، واقع کیا، لغير الموطوءة، کس کے لیے؟ غیر موطوءہ کے لیے، بأن يقول، بایں طور کہ وہ یوں کہتا ہے: أنت طالق وطالق وطالق، فعلمائنا الثلاثة اتفقوا، تو پس ہمارے تینوں علماء کا، یعنی ہمارے تینوں ائمہ جو ہیں امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ، امام محمد رحمہ اللہ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ، انہوں نے اتفاق کیا ہے، على أنه تقع الواحدة هاهنا، کہ یہاں پر ایک ہی واقع ہو گی۔ ففہم، تو یہ بات سمجھ میں آئی، أنه للترتيب عند الكل، کہ یہ و کیا ہے؟ سب کے نزدیک ترتیب کے لیے ہے۔ أنت طالق وطالق وطالق بھئی، تینوں علماء کیا فرما رہے ہیں ہمارے؟ ایک ہی طلاق واقع ہو گی، معلوم ہوا و کس چیز کا فائدہ دے رہا ہے؟ ترتیب کا فائدہ دے رہا ہے، ورنہ تو تینوں ہونی چاہیے تھیں۔ تو جب ایک ہو جائے گی، تو وہ ایک سے ہی بائنہ ہو جائے گی، اور باقی دو کا تو وہ پھر محل ہی نہ رہا۔ فأجاب، تو جواب دیا مصنف نے، بأن في هذه المسألة، کہ اس مسئلے کے اندر بھی، إنما تبين بواحدة، عورت کیا ہو جائے گی؟ بائنہ ہو جائے گی ایک طلاق کے ساتھ، لأن الأول وقع قبل التكلم بالثاني والثالث، بھئی یہاں پر یہ جو ترتیب آئی، یہ ایک سے جو بائنہ ہوئی، یہ و کی وجہ سے نہیں آئی، بلکہ تکلمِ لسانی کی وجہ سے آئی ہے۔ خلاصہ جواب کیا ہے؟ یہاں جو ایک طلاق واقع ہوئی ہے، و کی وجہ سے نہیں، بلکہ تکلمِ لسانی کی وجہ سے ایک طلاق واقع ہوئی ہے۔ کیا معنی تکلمِ لسانی؟ بھئی دیکھو، اس نے کیا کہا؟ أنت طالق وطالق وطالق، تو طالق طالق تین دفعہ کہہ رہا ہے، اکٹھا کہہ سکتا ہے تینوں کا؟ ایک ہی دفعہ میں تین طالق پر تلفظ ہو سکتا ہے؟ نہیں، الگ الگ کر رہا ہے، تو پہلے ایک کو کہے گا، پھر دوسری کو، پھر تیسری۔ تو جیسے ہی اس نے کہا أنت طالق، فوراً ہی کیا ہو گئی؟ ایک طلاق، وہ رکا نہیں ہے، سانس بھی نہیں لیا اس نے، دوسرا وطالق وطالق کہا، لیکن یہ لغو چلا گیا، پہلے سے ہی کیا ہو چکی تھی؟ طلاق، تو یہ تکلمِ لسانی کی وجہ سے ایک طلاق واقع ہوئی ہے مولانا، و کی وجہ سے ترتیب نہیں آئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو دوسری بھی طلاق لغو چلی گئی اور تیسری بھی، یعنی لأن الأول وقع قبل التكلم بالثاني والثالث، اس لیے کیونکہ پہلی طلاق واقع ہو گئی دوسری طلاق پر تکلم کرنے سے پہلے ہی بالثاني والثالث، دوسری اور تیسری پر تکلم کرنے سے پہلے ہی، فسقطت ولايته، تو اس خاوند کی ولایت ہی کیا ہو گئی؟ ساقط، بھئی جب ایک سے وہ بائنہ ہو گئی، تو اب اسے وہ طلاق کی ولایت ہے؟ نہیں، لہٰذا اس کی ولایت ہی ساقط ہو گئی، لفوت محل التصرف، اس لیے کیونکہ محلِ تصرف ہی کیا ہو گیا؟ فوت ہو گیا، ختم ہو گیا، اب وہ اس کی بیوی نہ رہی بھئی، اب طلاق کیسے دے گا۔ یعنی ما جاء الترتيب من ما جاء الترتيب من الواو. ترتيب واو سے نہیں آئی بلکہ من التكلم اللساني بل کہ کس سے آئی ہے؟ تكلم لسانی سے آئی ہے۔ لأن الإنسان لا يقدر أن يتكلم بثلاث كلمات دفعة واحدة؛ اس لیے کیونکہ انسان اس بات پر قادر ہی نہیں ہے کہ وہ تین کلمات کو ایک ہی مرتبہ کے اندر ان پر تکلم کرے اور زبان سے ادا کرے۔ فإذا تكلم بالأول، جب اس نے پہلے پر تکلم کیا، ووقع الفراغ فراغ عنه اور اس سے فرصت حاصل ہوئی، فراغ حاصل ہوا، لم يبق المحل للثاني والثالث؛ تو محل ہی ثانی اور ثالث کے لیے باقی نہ رہا۔ بدليل، دلیل کیا ہے مولانا کہ واو سے ترتیب نہیں آئی بلکہ تکلم لسانی سے ترتیب آ رہی ہے؟ کہتے ہیں: دلیل اس کی یہ ہے کہ أنه لو قال بلا واو؛ کہ اگر وہ بغیر واو کے یوں کہتا: أنت طالق طالق طالق، تو اس صورت میں بھی تبين بالأولى بالاتفاق، پہلی طلاق سے کیا ہو جاتی وہ؟ بائنہ ہو جاتی بالاتفاق، بھئی! فعلم، پس جان لیا گیا کہ أنه لا مدخل للواو فيه؛ کہ واو کا اس کے اندر کوئی دخل ایک طلاق کے ہونے کے اندر واو کا کوئی دخل نہیں ہے؛ کیونکہ بغیر واو کے کہے تو پھر بھی ایک طلاق، واو کے ساتھ کہے پھر بھی ایک طلاق۔ وعند الشافعي رحمه الله، اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک يقع الثلاث؛ تین طلاقیں واقع ہوں گی فيما نحن فيه؛ اس صورت کے اندر جس کے اندر جس مسئلے میں ہم ہیں۔ اس صورت میں کتنی طلاقیں واقع ہوں گی؟ تین۔ لأن الجمع بحرف الجمع كالجمع بلفظ الجمع؛ اس لیے کیونکہ جمع کرنا کس کے ذریعے؟ حرف جمع، ان کے نزدیک واو جمع کے لیے ہے، تو جمع کرنا حرف جمع کے ذریعے كالجمع بلفظ الجمع؛ یہ جمع کرنا ہے کس طرح؟ لفظ جمع، جیسے لفظ جمع کے ذریعے جمع کا فائدہ آتا ہے اسی طرح حرف جمع کے ذریعے بھی اسی طرح جمع کا فائدہ، تو جیسے ایک شخص اپنی بیوی سے کہتا ہے: أنت طالق ثلاثاً، تو ثلاثاً میں کیا کر دیا اس نے؟ تینوں طلاقوں کو جمع کر دیا، تو جیسے اس جمع کے لفظ سے تینوں طلاقیں جمع ہوئیں اسی طرح جمع کے حرف یعنی واو سے بھی کیا ہو جائیں گی؟ تینوں طلاقیں جمع ہو جائیں گی اور اکٹھی واقع ہوں گی اور وہ تین طلاقوں سے بائنہ ہوگی، بھئی! چلیے، بس مولانا! هذا هو المرام، والله أعلم بحقيقة الكلام۔