درس نمبر۔52 ثم بعد الفراغ عن بيان علاقات المجاز شرع أن يبين أنه في أي موضع تترك الحقيقة وفي أي موضع يترك المجاز، فقال: "وإذا كانت الحقيقة متعذرة أو مهجورة صير إلى المجاز"، يعني بالمتعذر ما لا يمكن الوصول إليه إلا بلمشقة، وبالمهجور ما يمكن وصوله إلا أن الناس تركوه. آج کے سبق میں ہم یہ پڑھیں گے کہ کس مقام پر حقیقت کو ترک کیا جائے گا اور کس مقام پر مجاز کو ترک کیا جائے گا۔ یعنی کس مقام پر حقیقی معنیٰ کو چھوڑ کر مجازی معنیٰ کی طرف جائیں گے اور کس مقام پر مجازی معنیٰ کو چھوڑ کر حقیقت کی طرف جائیں گے اور مجازی معنیٰ کو چھوڑ دیا جائے گا بھئی۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ تو دیکھیے کہتے ہیں: ثم بعد الفراغ عن بيان علاقات المجاز، پھر مجاز کے علاقوں کے بیان سے فارغ ہونے کے بعد شرع مصنف رحمہ اللہ شروع ہوئے کہ أن يبين یہ بیان کہ یہ بیان کریں کہ أنه في أي موضع تترك الحقيقة کہ کس مقام کے اندر حقیقت کو چھوڑ دیا جائے گا، وفي أي موضع يترك المجاز اور کس مقام میں مجاز کو چھوڑ دیا جائے گا، فقال پس مصنف رحمہ اللہ فرماتے ہیں بھئی۔ آج کے سبق کا خلاصہ یہ ہے مولانا۔ آپ کو بتلائیں گے کہ حقیقت تین قسم پر ہے: ایک حقیقت مستعملہ ہے، ایک حقیقت متعذرة ہے، ایک حقیقت مہجورة ہے بھئی۔ اصول الشاشی میں آپ یہ پڑھ چکے ہوں گے۔ حقیقت مستعملہ کسے کہتے ہیں؟ کہ لفظ معنیٰ حقیقی کے اندر عام عادت میں استعمال ہوتا ہو بھئی، اسے کیا کہتے ہیں؟ حقیقت مستعملہ کہتے ہیں۔ کہ لفظ کس معنیٰ کے اندر استعمال ہوتا ہے؟ حقیقی معنیٰ میں، معنیٰ موضوع لہ کے اندر استعمال ہوتا ہے۔ تو یہ لفظ جو معنیٰ موضوع لہ کے اندر استعمال ہوا حقیقت کہلاتا ہے اور یہ حقیقت مستعملہ ہے کہ عام یہ کیا ہے؟ عام عرف میں اور عادت میں معنیٰ موضوع لہ کے اندر استعمال ہوتا ہے۔ اور ایک ہے حقیقت مہجورة۔ حقیقت مہجورة اسے کہتے ہیں کہ جسے چھوڑ دیا گیا ہو، یعنی وہ حقیقی معنیٰ عرف کے اندر اس لفظ سے مراد نہیں لیا جاتا۔ حقیقی معنیٰ اس لفظ سے مراد نہیں لیے جاتے۔ وہ لفظ جس کے لیے یہ وہ معنیٰ جس کے لیے یہ لفظ وضع کیا گیا تھا اس معنیٰ کا ارادہ کوئی بھی نہیں کرتا بھئی عرف کے اندر، اس کو کیا کہتے ہیں؟ حقیقت مہجورة۔ یعنی معنیٰ موضوع لہ کو چھوڑ دیا گیا، کوئی بھی اس کا ارادہ نہیں کرتا بھئی۔ تیسری قسم ہے حقیقت متعذرة بھئی۔ حقیقت متعذرة اسے کہتے ہیں کہ جہاں حقیقت پر عمل کرنا مشکل ہوتا ہے۔ حقیقی معنیٰ پر یعنی معنیٰ موضوع لہ پر عمل کرنا کیا ہوتا ہے؟ مشکل ہوتا ہے بھئی۔ تو یہ تین قسم پر ہوئے مولانا: ایک حقیقت مستعملہ، ایک حقیقت مہجورة اور تیسرا حقیقت متعذرة۔ جی، تقریر کا حاصل یہ ہے جو آگے یہ کریں گے کہ حقیقت متعذرة ہو یا حقیقت مہجورة ہو تو اس صورت میں مجاز کی طرف جائیں گے۔ جب حقیقت متعذر ہے، مشکل ہے اس پر عمل کرنا تو اس صورت میں کس کی طرف چلے جائیں گے؟ معنیٰ مجازی کی طرف۔ عمل کیا تو جا سکتا ہے لیکن مشکل ہے حقیقت پر عمل کرنا، تو اس صورت میں حقیقی معنیٰ مراد نہیں لیں گے بلکہ کون سا معنیٰ مراد لیں گے؟ مجازی معنیٰ مراد لیں گے۔ اسی طرح اگر حقیقت مہجورة ہو، تو جب یہ حقیقت مہجورة ہے، اس کو ترک کر دیا گیا ہے تو اس صورت کے اندر بھی حقیقی معنیٰ یعنی معنیٰ موضوع لہ مراد نہیں لیں گے بلکہ کون سا معنیٰ مراد لیں گے؟ معنیٰ مجازی، مجاز کی طرف چلے جائیں گے بھئی۔ اور تیسری صورت ہے حقیقت مستعملہ بھئی، حقیقت مستعملہ۔ حقیقت مستعملہ کے اندر پھر یاد رکھو، وہاں اس کا کوئی مجاز ہوگا یا مجاز نہیں، معنیٰ موضوع لہ میں بھی لفظ استعمال ہوتا ہے اور معنیٰ غیر موضوع لہ میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ معنیٰ موضوع لہ کے اندر استعمال ہو تو یہ ہے حقیقت، معنیٰ غیر موضوع لہ میں استعمال ہو تو یہ مجاز۔ تو جب حقیقت ہے، ساتھ کبھی مجاز ہوگا کبھی مجاز نہیں، کبھی ہو سکتا ہے کہ لفظ صرف معنیٰ موضوع لہ میں استعمال ہوتا ہے، معنیٰ مجازی کے اندر استعمال نہیں، تو یہاں تین چار صورتیں بن جائیں گی: لفظ معنیٰ موضوع لہ میں استعمال ہوتا ہے اور معنیٰ غیر موضوع لہ میں استعمال نہیں ہوتا بھئی، ایک صورت۔ دوسری صورت: معنیٰ موضوع لہ میں بھی استعمال ہوتا ہے اور معنیٰ غیر موضوع لہ میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ پھر یہاں پر دونوں میں برابر استعمال ہوتا ہوگا یا ایک میں کم استعمال ہوگا ایک میں زیادہ استعمال ہوگا بھئی۔ مثلاً بھئی، حقیقی معنیٰ معنیٰ موضوع لہ میں بھی وہ لفظ استعمال ہوتا ہے اور معنیٰ غیر اور برابر ہیں دونوں۔ عام طور پر لوگ معنیٰ حقیقی کا بھی ارادہ کرتے ہیں اور معنیٰ دونوں میں استعمال ہوتا رہتا ہے، برابر استعمال ہوتا ہے۔ یا معنیٰ حقیقی میں استعمال غالب ہوگا اور معنیٰ مجازی کے اندر استعمال کم ہوگا۔ یا معنیٰ مجازی میں استعمال غالب ہوگا اور معنیٰ حقیقی میں استعمال کم ہوگا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو لہٰذا کتنی صورتیں بن گئیں؟ چار صورتیں۔ پہلی صورت کہ معنیٰ حقیقی میں استعمال ہوتا ہے، معنیٰ مجازی میں استعمال ہوتا ہی نہیں۔ دوسری صورت: معنیٰ حقیقی میں استعمال ہوتا ہے اور معنیٰ مجازی میں بھی اور دونوں برابر ہیں۔ تیسری صورت: معنیٰ حقیقی میں زیادہ استعمال ہوتا ہے اور معنیٰ مجازی میں کم استعمال ہوتا ہے۔ چوتھی صورت: معنیٰ مجازی میں زیادہ استعمال ہوتا ہے اور معنیٰ حقیقی میں کم ہوتا ہے۔ تو یاد رکھیے، ان چار میں سے جو پہلی تین صورتیں ہیں ان کے اندر تو حقیقی معنیٰ ہی مراد ہوگا۔ پہلی تین صورتیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ کون سی پہلی تین صورتیں؟ اگر پہلی صورت: معنیٰ مجازی جب ہے ہی نہیں، پھر تو یقینی طور پر کیا مراد ہوگا؟ حقیقی معنیٰ، معنیٰ موضوع لہ ہی مراد ہوگا۔ دوسری صورت: معنیٰ حقیقی اور معنیٰ موضوع لہ دونوں میں کیا ہوتا ہے؟ برابر استعمال ہوتا ہے، جب برابر ہے تو پھر بھی حقیقت اولیٰ ہے، کون سا معنیٰ مراد ہوگا؟ حقیقی معنیٰ۔ تیسری صورت مولانا کہ معنیٰ حقیقی غالب ہے اور معنیٰ مجازی قلیل ہے تو اس صورت میں بھی کس کے استعمال کون سا معنیٰ مراد ہوگا؟ معنیٰ حقیقی بالاتفاق بھئی ان تینوں صورتوں میں۔ ہاں، چوتھی صورت کہ مجاز میں یعنی معنیٰ غیر موضوع لہ میں وہ زیادہ استعمال ہوتا ہے اور معنیٰ موضوع لہ کے اندر کم استعمال ہوتا ہے، تو ایسے موقع پر اب کون سا معنیٰ مراد لیا جائے گا؟ اس میں صاحبین کا اور امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا اختلاف ہے۔ امام صاحب فرماتے ہیں کہ ایسے موقع پر بھی حقیقت اولیٰ ہے۔ حقیقت کیا ہے؟ اولیٰ ہے۔ لہٰذا حقیقی معنیٰ مراد دیا جائے گا، اگرچہ مجاز زیادہ ہے، غالب ہے، لیکن معنیٰ حقیقی اولیٰ ہے کیونکہ لفظ کو اسی معنیٰ کے لیے وضع کیا گیا ہے۔ جبکہ صاحبین کے اس بارے میں دو قول ہیں مولانا۔ صاحبین اس صورت میں فرماتے ہیں کہ پہلا قول ان کا یہ ہے کہ معنیٰ مجازی پر عمل کیا جائے گا، جب مجاز غالب ہے تو لہٰذا مجاز کو ترجیح حاصل ہو گئی بھئی، مجاز راجح ہو گیا بھئی، لہٰذا کون سا معنیٰ مراد دیا جائے گا؟ معنیٰ مجازی، یہ پہلا قول ان کا۔ دوسرا قول ان کا یہ ہے کہ عموم مجاز پر عمل کیا جائے گا، یعنی ایسے معنیٰ مجازی مراد لیے جائیں گے کہ حقیقت بھی اس کے اندر داخل ہو جائے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ تھا سارے سبق کا خلاصہ، اب اسی کے اندر بس مثالیں وہ ذکر کرتے چلے جائیں گے، دیکھیے مولانا کتاب پر: کہتے ہیں: وإذا كانت الحقيقة متعذرة أو مهجورة، اور جب حقیقت متعذرہ ہو یا مہجورہ ہو، صير إلى المجاز، تو مجاز کی طرف رجوع کیا جائے گا۔ یعنی بالمتعذر، یہاں سے شارح یہ بتلا رہے ہیں بھئی متعذر کا لغوی معنیٰ تو ہے ناممکن کہ وہ حقیقتاً ناممکن ہو، لیکن یہاں یہ مراد نہیں ہے بلکہ متعذر کس معنیٰ میں ہے؟ متعسر کے معنیٰ میں ہے جو مشکل ہو، جو کیا ہو؟ مشکل، جس پر عمل ممکن تو ہے لیکن مشکل ہے۔ چنانچہ کہتے ہیں: یعنی بالمتعذر ما لا يمكن الوصول إليه إلا بمشقة، کہ متعذر کے ذریعے وہ معنیٰ لغوی مراد ہے کہ پہنچنا ممکن نہ ہو اس تک إلا بمشقة مگر کس کے ذریعے؟ مشقت کے ساتھ بھئی۔ وبالمهجور ما يمكن وصوله، اور مہجور کے ذریعے وہ معنیٰ مراد ہے، وہ معنیٰ موضوع لہ کہ ممکن تو ہو اس تک پہنچنا إلا أن الناس تركوه مگر لوگوں نے اسے چھوڑ دیا ہو۔ كما إذا حلف لا يأكل من هذه النخلة، جیسے کسی شخص نے قسم اٹھائی کہ وہ اس کھجور کے درخت میں سے نہیں کھائے گا۔ ایک شخص قسم اٹھاتا ہے: واللہ لا آکل من ھذہ النخلۃ، کہ واللہ میں اس کھجور کے درخت میں سے نہیں کھاؤں گا۔ یہ مثال ہے حقیقت متعذرہ کی بھئی۔ اب کھجور کا درخت کھانا مولانا، یہ اس پر عمل حقیقی معنیٰ، حقیقی معنیٰ کیا ہے؟ عین درخت کو کھایا جائے، اس کے تنے کو، اس کے پتوں وغیرہ کو کیا کیا جائے؟ کھایا جائے۔ یہ ممکن تو ہے، کھایا تو جا سکتا ہے لیکن مشقت ہے اس کے اندر۔ سمجھ میں آیا؟ کوئی شخص کیا کرے؟ اس کا پتہ توڑ کے کھاتا ہے یا اس کے تنے سے کچھ ٹکڑے توڑ کر کھاتا ہے، کھا تو سکتا ہے لیکن مشقت ہے، مشکل ہے۔ تو لہٰذا اس صورت کے اندر اب کون سا معنیٰ مراد لیں گے؟ معنیٰ مجازی۔ اور معنیٰ مجازی کیا مراد ہوگا؟ اس کا پھل بھئی۔ تو لہٰذا اب جس نے یہ قسم اٹھا لی، وہ اب اس کھجور کے درخت کا پھل کھانے سے حانث ہوگا، کھجوریں کھائے گا اس کی تو حانث ہوگا اور معنیٰ حقیقی کو جب ترک کر دیا گیا تو اب وہ پتے کھا لیتا ہے یا اس کے تنے میں سے کچھ ٹکڑا کاٹ کر کھا لے تو اس صورت میں حانث نہیں ہوگا، البتہ پھل کھانے سے کیا ہو جائے گا؟ حانث۔ یہ تو اس صورت کے اندر ہے کہ جب وہ درخت پھل دار ہو۔ اگر وہ کسی ایسے درخت کے بارے میں قسم اٹھاتا ہے جو پھل دینے والا نہیں ہے بھئی کہ "واللہ لا آکل من ھذہ الشجرۃ" میں اس درخت میں سے نہیں کھاؤں گا، تو اس صورت کے اندر یاد رکھیے، اب یہ پھل دار تو ہے نہیں، تو اس صورت میں اس درخت کو بیچ کر جو پیسے، جو ثمن حاصل ہوں گے وہ مراد ہو لیے جائیں گے بھئی، وہ مراد لیے جائیں گے۔ تو ہاں، اسی درخت کے پتے یا تنا توڑ کر کھاتا ہے اس صورت میں حانث نہیں ہوگا کیونکہ یہ حقیقت متعذرہ ہے۔ ہاں، اس درخت کو اگر کاٹا گیا اور اس کو بیچا گیا اور اس سے جو ثمن حاصل ہوئے ان ثمن کو اس نے کھا لیا تو پھر اس صورت میں کیا ہو جائے گا؟ حانث ہو جائے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ کہتے ہیں: مثال للمتعذرة، یہ مثال ہے حقیقت متعذرہ کی، إذ أكل النخلة نفسها يتعذر، اس لیے کہ نفس کھجور کا کھانا جو ہے وہ يتعذر مشکل ہے، فيراد المجاز، پس مجاز مراد ہوگا، وهو ثمرها، بھئی مجاز کیا ہے؟ کہتے ہیں: وہ اس کا پھل ہے اس کھجور کا، فإن لم تكن الشجرة ذات ثمر، اگر وہ درخت پھل والا نہ ہو، يراد بها ثمنها الحاصل بالبيع، تو مراد اس کے ذریعے اس کا وہ ثمن ہوگا جو حاصل ہو کس کے ذریعے؟ بیع کے ذریعے، ولو تكلف وأكل من عين النخلة، اور اگر اس شخص نے تکلف کیا، یعنی بتکلف اس نے عین کھجور کو کھا لیا یعنی اس کے تنے یا پتوں کو، لم يحنث، وہ حانث نہیں ہوگا، لأن المتعذر لا يتعلق به حكم، اس لیے کہ جو متعذر ہے اس کے ساتھ حکم کا تعلق نہیں ہوتا بلکہ کس کی طرف جا چکے ہیں ہم؟ مجاز کی طرف، وہاں معنیٰ مجازی مراد ہوتا ہے۔ ولا يقال، اور یہ اعتراض نہ کیا جائے۔ یہ ایک اعتراض اور پھر آگے اس کا جواب ذکر کریں گے۔ اشکال یہ کہ آپ نے یہ جو مثال ذکر کی کہ ایک شخص کہتا ہے کہ "واللہ میں اس کھجور کے درخت میں سے نہیں کھاؤں گا"، اس کو آپ نے مثال ذکر کیا حقیقت متعذرہ کے لیے، حالانکہ یہ حقیقت متعذرہ کی مثال نہیں بن سکتی۔ یہ حقیقت متعذرہ کی مثال نہیں بن سکتی، کیوں نہیں بن سکتی؟ کہتے ہیں: اس لیے کیونکہ وہ کیا کہہ رہا ہے؟ "میں اس درخت کو کھاؤں گا یا نہیں کھاؤں گا؟" نہیں کھاؤں گا۔ اور متعذر کھانا ہے یا نہ کھانا کھجور کے درخت کا؟ کھانا اس کا متعذر ہے، مشکل ہے۔ نہ کھانا؟ نہ کھائے بھئی، یہ تو کوئی مشکل نہیں ہے، نہ کھائے بھئی۔ اشکال سمجھ میں آیا؟ کہ آپ مثال ذکر کر رہے ہیں حقیقت متعذرہ کی اور قسم کہ جس میں ذکر ہوا وہ تو اس نے نہ کھانے کو ذکر کیا، اور نہ کھانا وہ تو متعذر نہیں ہے، مشکل نہیں ہے، کھانا مشکل ہے۔ تو کھانے کا ذکر ہوتا تو پھر آپ اس کو حقیقت متعذرہ کی مثال کے طور پر ذکر کرتے کیونکہ کھانا اس کا مشکل ہے، متعذر ہے، لیکن وہ تو نہ کھانے کو ذکر کر رہا ہے، وہ تو متعذر نہیں، لہٰذا اس کو حقیقت متعذرہ کی مثال میں ذکر کرنا درست نہیں ہے۔ جواب آگے دیں گے، پہلے سوال دیکھیے: ولا يقال، اور یہ نہ کہا جائے، إن المحلوف عليه، کہ وہ جس پر قسم اٹھائی گئی ہے، هو عدم أكل النخلة، وہ تو کھجور کے درخت کا نہ کھانا ہے، وهو غير متعذر، اور وہ نہ کھانا وہ تو متعذر نہیں ہے، وہ تو کیا ہے؟ غیر متعذر، وإنما المتعذر أكلها، اور متعذر مشکل جو ہے وہ تو اس کا کھانا ہے۔ اشکال سمجھ میں آ گیا سب کو؟ جواب دے رہے ہیں۔ جواب بھئی دیکھیے، جواب میں بتلائیں گے یہ کہ جب قسم نفی پر داخل ہو تو وہ قسم دراصل منع کے لیے ہوتی ہے، روکنے کے لیے کہ یہ قسم کیا کرے؟ اس آدمی کو روک لے، یہ اس چیز سے رک جائے۔ قسم جب کس پر داخل ہو؟ نفی پر داخل ہو تو کس لیے ہوتی ہے؟ منع کے لیے ہوتی ہے، منع کے لیے، منع کے لیے۔ تو قسم کا مقتضا کیا ہوتا ہے؟ کہ وہ فعل ممنوع بالیمین ہے۔ توجہ سے سننا بھئی، قسم کا مقتضا کیا ہوتا ہے حکم؟ کہ وہ فعل ممنوع بالیمین ہے، ممنوع ہے کس کی وجہ سے؟ قسم کی وجہ سے۔ وہ فعل ممنوع بالیمین ہے قسم کی وجہ سے بھئی۔ جی، تو کیا بات ہوئی جب قسم کس پر داخل ہو؟ نفی پر داخل ہو، تو اس کا مقتضا اور اس کا حکم کیا ہوتا ہے؟ کہ وہ فعل ممنوع بالیمین، یعنی ممنوع بالیمین وہ فعل ہوتا ہے کہ قسم کی وجہ سے اس سے روکا جائے، اس کو نہ کیا جائے بھئی، تو وہ فعل کیا ہوتا ہے؟ ممنوع بالیمین۔ اب آپ بتائیے، یہاں ممنوع بالیمین کیا چیز ہے؟ اکل ہے یا غیر اکل ہے؟ ممنوع بالیمین کیا ہے یہاں؟ قسم اسے کس چیز سے روک رہی ہے؟ کھانے سے روکنے والی ہے، تو یہاں ممنوع بالیمین اکل ہے، غیر اکل نہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو لہٰذا ممنوع بالیمین اکل ہوا، کھانا اس کا۔ اور کھانا، یہ تو متعذر ہے یا نہیں بھئی؟ کھانا تو متعذر ہے، لہٰذا اس کو حقیقت متعذرہ کی مثال میں ذکر کرنا صحیح ہے بھئی۔ جواب سمجھ میں آ گیا؟ بڑی باریک سی چھوٹی سی بات ہے، لیکن جواب میں بات بنتی نہیں، میرے لفظ بس یاد رکھنا کہ جب قسم نفی پر داخل ہو تو اس کا مقتضا کیا ہوتا ہے؟ کہ وہ فعل جو ہوتا ہے ممنوع بالیمین ہوتا ہے، تو یہاں خود دیکھ لیں ممنوع بالیمین کیا چیز ہے؟ کھانا یا نہ کھانا؟ کھانا، کھانا وہ جو ہے ممنوع ہے قسم کی وجہ سے، نہ کھانا؟ نہ کھانا تو پہلے سے ہی تھا۔ ہاں ممنوع بالیمین کیا ہوا؟ کھانا ہے، اور کھانا اس کا کھجور کے درخت کا کھانا، وہ تو متعذر ہے بھئی، تو لہٰذا اس کو حقیقت متعذرہ کی مثال میں ذکر کرنا درست ہے بھئی۔ لأنا، اب دیکھیے بھئی: لأنا نقول، اس لیے کیونکہ ہم کہتے ہیں: اليمين إذا دخلت على النفي، کہ یمین یعنی قسم جب داخل ہو جائے نفی پر، تكون للمنع، تو وہ کس لیے ہوگی؟ منع کے لیے ہوگی، روکنے کے لیے ہوگی، فموجب اليمين أن يصير الفعل ممنوعاً باليمين، تو قسم کا موجب یعنی قسم کا مقتضا اور حکم یہ ہے کہ أن يصير الفعل ممنوعاً باليمين کہ وہ فعل ممنوع بالیمین ہو جائے۔ وہ فعل ممنوع بالیمین ہو جائے گا۔ "وما لا يكون ماكولاً" اور وہ چیز جو معقول نہیں ہے، ترجمے پہ نظر رکھنا بھئی، "وما لا يكون ماكولاً" اور جو چیز معقول نہیں ہے یعنی غیر معقول ہے، "لا يكون ممنوعاً باليمين" وہ تو ممنوع بالیمین نہیں۔ یعنی غیر معقول یعنی غیر عقل کہہ لو، غیر عقل، وہ تو ممنوع بالیمین، ممنوع بالیمین تو کیا چیز تھی؟ عقل تھا، اس کا کھانا تھا بھئی۔ تو وہ کہتے ہیں "وما لا يكون ماكولاً" اور وہ جو معقول نہ ہو "لا يكون ممنوعاً باليمين" وہ تو ممنوع بالیمین نہیں ہے، "بل قبلها" بلکہ وہ تو پہلے سے ہی ہے، غیر معقول ہونا تو اس کا پہلے سے ہی ہے بھئی، ہاں معقول ہونا اس یہ ممنوع بالیمین ہے بھئی۔ بات اچھی طرح سب کو سمجھ میں آگئی؟ "أو لا يضع قدمه في دار فلان" یا یہ دوسری مثال ہے مثلاً کہ وہ قدم نہیں رکھے گا فلاں کے گھر میں، کوئی شخص قسم اٹھاتا ہے "والله لا أضع قدمي في دار زيد" میں واللہ زید کے گھر کے اندر قدم نہیں رکھوں گا بھئی۔ اچھا، "فمثال للمهجورة" یہ مثال ہے حقیقت مہجورہ کی "لأن وضع القدم في الدار حافياً" بھئی اس کا حقیقی معنی کیا ہے وضع قدم کا؟ کہ ننگے پاؤں قدم خود باہر ہی رہے اور پاؤں اندر ڈال کر قدم اندر رکھ دیا بھئی، یہ اس کے حقیقی معنی ہیں لیکن کوئی بھی اس معنی کا ارادہ نہیں کرتا بلکہ اس کونسا معنی مراد ہوتے ہیں؟ مجازی معنی یعنی داخل ہونے کے، جب کوئی کہے میں زید کے گھر قدم نہیں رکھوں گا یعنی اس کے گھر داخل نہیں ہوں گا، تو لہذا یہ حقیقت مہجورہ کی مثال ہے تو یہاں مجازی معنی مراد ہوں گے۔ کہتے ہیں "مثال للمهجورة" یہ مثال ہے حقیقت مہجورہ کی "لأن وضع القدم في الدار حافياً من خارج بدون أن يدخل فيها ممكن ولكن الناس هجروه" اس لیے کیونکہ قدم کا رکھنا گھر کے اندر ننگے پاؤں باہر سے ہی بغیر اس کے کہ اس میں داخل ہو جائے، بغیر اس کے کہ اس میں داخل ہو "ممكن" یہ ممکن تو ہے "ولكن الناس هجروه" لیکن لوگوں نے اس کو چھوڑ دیا ہے، "فَ يُرَادُ الدُّخُولُ لِلْعُرْفِ" پس مراد اس کے ذریعے داخل ہونا ہوگا عرف کی وجہ سے، عرف العام لوگوں میں یہی شائع ہے معنی۔ "ولو وضع القدم في الدار من غير دخول لم يحنث لأنه مهجور" اگر قدم رکھا کسی نے اس گھر اس شخص نے اس گھر کے اندر بغیر داخل ہوئے ہی یعنی باہر کھڑے ہو کے صرف قدم اندر رکھ دیا "لم يحنث" تو حانث نہیں ہوگا "لأنه مهجور" اس لیے کیونکہ یہاں حقیقت کیا ہے؟ جی جی یہ معنی مہجور ہے۔ "والمهجور شرعاً كالمهجور عادةً" اور جو شرعاً مہجور ہو وہ بھی کس کی طرح ہے؟ جو عادةً مہجور کی طرح ہی ہے۔ "مرتبط بقوله أو مهجورةً" کہتے ہیں یہ مرتبط ہے، جڑا ہوا ہے کس کے ساتھ؟ مصنف کے قول "مهجورةً" کے ساتھ، اوپر انہوں نے کیا کہا تھا؟ "إذا كانت الحقيقة متعذرةً أو مهجورةً صير إلى المجاز" تو لہذا "مهجورةً" کے اندر بھی کیا بتلا دیا تھا کہ کس کی طرف چلے جائیں گے؟ مجاز کی طرف، تو اسی کے ساتھ یہ کلام بھی جڑا ہوا ہے کہ مہجور سے صرف مہجور عادةً مراد نہیں ہے عرف میں جو لوگوں کے نزدیک جو معنی مہجور ہو بلکہ شریعت میں جو معنی مہجور ہے وہ بھی کس کے حکم میں ہے؟ اسی حقیقت مہجورہ کے حکم میں ہے۔ "أي لا يلزم في المصير إلى المجاز" لازم نہیں ہے مجاز کی طرف رجوع کرنے میں "أن تكون الحقيقة مهجورةً عادةً" کہ وہ حقیقت مہجورہ ہو عادت کے اعتبار سے "بل المهجور شرعاً أيضاً كالمهجور عادةً" بلکہ وہ جو مہجور ہو شریعت کے اعتبار سے وہ بھی مہجور اس مہجور کی طرح ہے جو عادت کے اعتبار سے ہے "حتى ينصرف التوكيل بالخصومة إلى الجواب مطلقاً" یہاں تک کہ پھر جائے گی وہ توکیل بالخصومت جو ہے مطلق جواب کی طرف، کس کی طرف؟ مطلق جواب کی طرف۔ یاد رکھیے خصومت کہتے ہیں جھگڑے کو، مقدمہ وغیرہ بھئی۔ تو ایک شخص جو ہے ایک شخص نے دوسرے پر قاضی کے پاس کوئی دعویٰ کر دیا مثلاً آپ پر دعویٰ کر دیا کسی چیز کا، اب آپ خود جا نہیں سکتے آپ نے اپنی طرف سے ایک شخص کو وکیل بنایا کہ جاؤ بھئی میری طرف سے جا کر میری طرف سے تم وکیل خصومت ہو۔ کیا ہو؟ وکیل خصومت ہو، جاؤ اور اس شخص سے بات کرو قاضی کے پاس جا کر بھئی۔ اب یہاں وکیل خصومت بنایا اور خصومت کا معنی ہے جھگڑا یعنی لغوی معنی تو اس کا یہ معنی موضوع لہ خصومت کی کیا معنی ہے؟ جھگڑا، یعنی مخالف جو بھی بات کرے تم نے اس کا رد کرنا ہے، نفی کرنی ہے، لا کے ساتھ جواب دینا ہے، وہ جو بھی بات کرے تم نے کہنا ہے لا، چاہے وہ حق ہو چاہے خصومت اسی کا نام ہے نا کہ جھگڑا کس طرح کرنا ہے کہ جو وہ بات کر رہا ہے اس کا رد کرنا ہے، انکار کرنا ہے، نفی کرنی ہے بھئی، تو یہ ہے وکیل خصومت مولانا، کیا ہے وکیل خصومت۔ لیکن یہ معنی شرعاً مہجور ہیں مولانا اس لیے کیونکہ اللہ فرماتے ہیں "وَلَا تَنَازَعُوا" جھگڑا نہ کرو، تم جھگڑا نہ کرو بھئی۔ تو لہذا اب کہتے ہیں یہاں پھر وہ توکیل بالخصومت کی صورت میں مطلق جواب مراد دیا جائے گا یعنی میری طرف سے جا کر اس کو جواب دو بھئی، اور جواب جیسے نفی کے ساتھ دیا جاتا ہے اسی طرح نعم کے ساتھ بھی جواب دیا جاتا ہے لہذا یہ شخص جس کو وکیل بنایا گیا جیسے جا کر نفی کے ساتھ جواب دے سکتا ہے اسی طرح نعم کے ساتھ بھی، لہذا اس وکیل خصومت نے جا کر اگر اقرار کر لیا کہ میرے موکل نے واقعی اس کے اتنے پیسے دینے ہیں تو اس پر وہ لازم ہو جائیں گے، اس شخص پر کیا ہو جائیں گے؟ لازم ہو جائیں گے بھئی۔ اب دیکھیے مولانا معنی موضوع لہ تو کیا تھا کہ اس نے اس کو وکیل خصومت بنایا ہے اور وکیل خصومت کا کیا معنی ہے کہ ہر چیز میں کیا جواب دینا؟ لا کے ساتھ جواب دینا، لیکن اس یہ معنی کیا ہے شرعاً مہجور ہے لہذا مجازی معنی کی طرف جائیں گے اور مجازی معنی کیا ہے؟ کہ میری طرف سے مطلقاً جواب دو، تو لا کے ساتھ لا کے ساتھ بھی دے سکتے ہو اور نعم کے ساتھ بھی دے سکتے ہو، حالانکہ نعم کے ساتھ دینا تو اس کے لیے وہ وضع وکیل توکیل بالخصومت اس کے لیے وضع نہیں تھی، لیکن چونکہ وہ معنی شرعاً مہجور تھا اس کو ترک کر دیا گیا اور مجازی معنی یعنی مطلق جواب مراد لیا گیا، اور مطلق جواب جیسے لا کے ساتھ ہوتا ہے اسی طرح نعم کے ساتھ بھی ہوتا ہے۔ تو کہتے ہیں "حتى ينصرف التوكيل بالخصومة إلى الجواب مطلقاً" یہاں تک کہ پھر جائے گی توکیل بالخصومت جواب کی طرف مطلقاً بھئی، "تفريع له" یہ اس پر اوپر ضابطے پر ہی تفریع ہے مولانا، کونسا ضابطہ مولانا؟ یہ جو انہوں نے بتایا "والمهجور شرعاً كالمهجور عادةً" جو جی اسی پر تفریع ہے یعنی "إن وّكل أحد رجلاً" اگر کسی نے وکیل بنایا کسی کسی شخص نے وکیل بنایا "رجلاً" کسی آدمی کو "بأن يخاطم المدعي عند القاضي" کہ وہ خصومت کرے مدعی کے ساتھ قاضی کے پاس "يحمل على مطلق الجواب" تو اس کو محمول کس پر کیا جائے گا؟ مطلق جواب پر "لأن الخصومة هو الإنكار فقط" اس لیے کیونکہ خصومت تو کیا ہے؟ وہ صرف انکار ہی ہے "محقاً كان المدعي أو مبطلاً" چاہے حق پر ہو مدعی یا کس پر ہو؟ باطل پر ہو "وهو حرامٌ" اور یہ یہ تو حرام ہے بھئی، اگر وہ حق پر ہو اور پھر کیا کیا جائے اس کا؟ ہر صورت میں اس کا انکار ہی انکار کیا جائے، یہ تو حرام ہے مولانا "شرعاً" باعتبار شریعت کے، بھئی کیوں حرام؟ کہتے ہیں "لقوله تعالى" اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے "وَلَا تَنَازَعُوا" تم جھگڑا تم باہم جھگڑا نہ کرو۔ "فلا بد أن يصرف إلى الجواب مطلقاً" پس ضروری ہوا کہ اس کو پھیرا جائے مطلق جواب کی طرف "بالرد والإقرار" مطلق جواب ہو کس کے ساتھ؟ رد اور اقرار کے ساتھ یعنی رد کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے اور اقرار کے ساتھ، "مجازاً" بطور مجاز کے "من قبيل إطلاق الخاص على العام" خاص کا اطلاق عام پر اس قبیل سے مولانا، عام پر خاص کے اطلاق کی قبیل سے ہے مولانا، دیکھو بھئی خصومت بھئی خصومت صرف کس کے ساتھ ہوگی؟ لا، اور جواب کس کے ساتھ ہوگا؟ لا کے ساتھ بھی اور نعم کے ساتھ، تو کون عام ہوا؟ جواب عام، اور خصومت خاص، اور یہاں ذکر کیا ہے؟ خاص خاص ذکر ہے اور مراد کیا لیا گیا؟ عام مراد لیا گیا، تو دیکھو خاص بول کر کس کا ارادہ کیا گیا؟ عام، یعنی خاص کا اطلاق کیا گیا عام پر، تو یہ معنی ہے "من قبيل إطلاق الخاص على العام" عام پر خاص کے اطلاق کی قبیل سے "فلو أقر الوكيل على موكله جاز عنده" پس اگر اقرار کر لیا وکیل نے اپنے موکل پر "جاز عنده" تو یہ جائز ہے کس کے نزدیک؟ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک "خلافاً لزفر والشافعي رحمهما الله تعالى" بخلاف امام زفر اور امام شافعی رحمہما اللہ کے بھئی۔ ان کے نزدیک اس نے اسے وکیل بالخصومت بنایا ہے لہذا وہ لا کے ساتھ تو جواب دے سکتا ہے نعم کے ساتھ جواب نہیں دے سکتا بھئی۔ اگر وہ نعم کے ساتھ جواب دے رہا ہے وہ تو مصالحت کر رہا ہے اس کے ساتھ، حالانکہ اس نے اس کو مصالحت کے لیے وکیل بنا کر بھیجا ہے یا خصومت کے لیے بھیجا ہے؟ خصومت کے لیے بھیجا ہے، چنانچہ وہ فرماتے ہیں کہ نہیں بھئی وہ اگر وکیل اقرار کر لیتا ہے تو موکل پر وہ لازم نہیں ہوگا بھئی، کیونکہ اس نے اس کے لیے بھیجا ہی نہیں اسے۔ "وإذا حلف لا يكلم هذا الصبي لم تقيد بزمان الصبا" جی دوسری مثال ذکر تفریع ذکر کر رہے ہیں کہ جو شرعاً مہجور ہے وہ بھی کس کی طرح ہے؟ عادةً مہجور کی طرح ہے۔ کہتے ہیں "وإذا حلف" اور جب کسی شخص نے قسم اٹھائی "لا يكلم هذا الصبي" کہ وہ بات نہیں کرے گا اس بچے کے ساتھ "لم تقيد" تو مقید نہیں کیا جائے گا اس یمین کو "بزمان صباه" اس کی کمسنی کے زمانے کے ساتھ، صبا کہتے ہیں بچپن کمسنی بھئی، اس کے بچپن کے زمانے کے ساتھ یہ مقید نہیں ہوگا۔ بھئی اس نے کیا کہا تھا؟ واللہ میں اس بچے سے بات نہیں کروں گا، اس بچے سے میں بات نہیں کروں گا۔ تو اب کیا اس کا یہ معنی ہوگا؟ بچپن میں بات نہ کرے، جب وہ بالغ ہو جائے کیا کر لے اس سے؟ بات کر لے، کہتے ہیں نہیں، جب بھی بات کرے گا یہ بچپن کے ساتھ یہ مقید نہیں ہوگی یہ قسم بلکہ "هذا الصبي" سے کیا مراد ہوگی؟ یہ ذات مراد لی جائے گی، اس ذات کے ساتھ میں بات نہیں کروں گا، اب چاہے بچپن میں کر لے پھر بھی حانث، وہ بڑا ہو جائے بالغ ہو جائے پھر بھی حانث، بوڑھا ہو جائے وہ پھر بات کر لے اس صورت میں بھی کیا ہو جائے گا؟ حانث ہو جائے گا، تو یہ قسم اس بچے کے کم بچپن اور کمسنی کے عمر زمانے کے ساتھ مقید نہیں ہوگی، بھئی کیوں نہیں مقید ہوگی؟ کہتے ہیں اس لیے کہ بچوں کے ساتھ شریعت میں شفقت کا برتاؤ کرنے کا حکم آیا ہے، بچوں کے ساتھ کیا برتاؤ کیا جانا چاہ کونسا برتاؤ ہونا چاہیے؟ شفقت والا برتاؤ ہونا چاہیے، اور بچے کے ساتھ جب ترک تکلم کرے گا تو اس صورت میں ترک شفقت لازم آئے گی، اور ترک شفقت تو کیا ہے؟ شرعاً یہ معنی مہجور ہے بھئی، شریعت میں اسے کیا کیا گیا ہے؟ منع ہے، بھئی ترک تکلم ہوگا تو کیا آئے گا؟ ترک شفقت، اور ترک شفقت سے کیا کیا گیا ہے؟ منع کیا گیا ہے، جب اسے منع کیا گیا ہے تو یہ معنی شرعاً کیا ہوا؟ مہجور، لہذا اب یہ اس قسم کو ہم کس پر محمول کریں گے؟ کہ اس ذات سے میں بات "هذا الصبي" سے کیا مراد لیں گے؟ اس ذات سے کلام نہیں کروں گا بھئی ذات سے۔ تقریر سمجھ میں آگئی بھئی؟ دیکھیے اب شرح میں مزید تفصیل آئے گی۔ کہتے ہیں "عطفٌ على قوله ينصرف" یہ مصنف کے قول "ينصرف" جو پچھلے متن میں آیا تھا اس پر عطف ہے "وتفريعٌ ثانٍ له" اور یہ دوسری تفریع ہے اس پر "لأن هجران الصبي مهجورٌ شرعاً" اس لیے کیونکہ بچے سے جدائی اختیار کرنا یہ شرعاً مہجور ہے، بچے کو چھوڑنا یہ شرعاً مہجور ہے "قال عليه السلام" حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں "من لم يرحم صغيرنا ولم يوقر كبيرنا ولم يبجل عالمنا" عالمین ہے؟ عالمنا ہونا چاہیے۔ "ولم يبجل عالمنا فليس منا" حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو ہمارے بچوں پر ہمارے چھوٹے پر رحم نہیں کرتا "وللم يوقر كبيرنا" اور ہمارے بڑوں کا احترام نہیں کرتا "ولم يبجل عالمنا" اور ہمارے جس نے ہمارے بچوں پر رحم نہ کیا اور صغیر پر نابالغ پر رحم نہ کیا "ولم يوقر كبيرنا" اور بڑوں کا احترام نہ کیا "ولم يبجل عالمنا" اور ہمارے عالم کی تعظیم نہ کی "فليس منا" وہ ہم میں سے نہیں ہے، وہ ہم میں سے نہیں ہے بھئی، یعنی وہ کامل درجے کا مسلمان نہیں ہے۔ "فيصرف إلى المجاز" تو یہ اس قسم کو جو اس نے کی تھی یہ کس کی طرف پھیر دیا جائے گا؟ کیونکہ دیکھو بھئی اس حدیث میں کیا پتہ چل گیا کہ ہجران صبی جو ہے وہ شرعاً مہجور ہے لہذا یہاں اس قسم کو بھی ہجران صبی پر محمول نہیں کریں گے بھئی۔ "أي لا يكلم هذه الذات" یعنی میں اس ذات سے کلام نہیں کروں گا "فلو كلمه بعد ما كبر يحنث أيضاً" پس اگر کلام کر لیا اس نے اس کے ساتھ بعد میں بعد اس کے کہ جب وہ بڑی عمر والا ہو گیا تھا "يحنث أيضاً" تو اس صورت میں بھی حانث ہو جائے گا۔ "لا يقال" یہ اعتراض ذکر کر رہے ہیں کہتے ہیں یہ اعتراض نہ کیا جائے کہ "إذا حمل على الذات" کہ جب اس کو ذات پر محمول کیا جائے "هذا الصبي" کو کس پر محمول کیا جائے؟ "هذه الذات" پر "فيزم هجران الصبي ما دام صبياً" تو لازم آتا ہے، دیکھیے بھئی آگے بتلائیں گے کہ بھئی آپ نے "هذا الصبي" کو کس معنی میں لیا؟ "هذه الذات" کے معنی میں لیا، کیوں لیا؟ حرام سے بچنے کے لیے، کس سے؟ حرام سے بچنے کے لیے، کیونکہ ہجران صبی حرام ہے بھئی، تو اگر ہم معنی حقیقی پر محمول کرتے ہیں تو اس صورت میں ہجران صبی لازم آتا ہے۔ کہتے ہیں بھئی یہ تو اعتراض کرنے والا یہ اعتراض کرتا ہے کہ بھئی آپ ایک گناہ سے بچتے بچتے تین گناہوں میں مبتلا ہو گئے بھئی، معنی حقیقی مراد لو پھر تو کتنے گناہ لازم آئیں گے؟ تین گناہ لازم آئیں گے، یہ تو اسی طرح ہو گیا جیسے "فر من المطر وقام تحت الميزاب" بارش سے بچنے کے لیے بھاگا اور پرنالے کے نیچے جا کر کھڑا ہو گیا بھئی، تو اب تو تین گناہ لازم آئیں گے، کون سے تین گناہ؟ دیکھیے بھئی۔ کہتے ہیں کہتے ہیں "إذا حمل على الذات" جب اس کو ذات پر محمول کیا جائے "فيزم هجران الصبي ما دام صبياً" تو لازم آئے گا اس صورت میں بچے کو چھوڑ دینا جب تک کہ وہ بچہ ہے، پہلا گناہ، "وتورك التوقير إذا كبر" اور احترام کا چھوڑ دینا جب وہ بڑا ہو جائے گا، بھئی اس ذات مراد دی نا تو جب تک بچہ تھا اس وقت تک کیا لازم آیا؟ ہجران صبی، بڑا ہو گیا اب بھی بات نہیں کر سکتا کرے گا تو کیا ہوگا؟ حانث، تو اب کیا آیا؟ ترک ترک توقیر لازم آیا، "ومهاجرة المؤمن فوق ثلاثة أيام" اور نیز مومن کو چھوڑنا لازم آیا تین دن سے زیادہ، حالانکہ مومن کے ساتھ تو قطع تعلق تین دن سے زیادہ جائز نہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں "فالتزام المجاز للإحتراز عن الواحد يؤدي إلى ثلاثة معاصٍ" پس مجاز کا التزام وہ ایک گناہ سے بچنے کے لیے تھا تو یہ لے جانے والا ہے تین گناہوں کی طرف، تین نافرمانی کی طرف، "لأنا نقول" اس جواب دے رہے ہیں کیونکہ ہم ہم یہ کہتے ہیں "أن المعتبر في هذا الباب هو القصد" کہ اس باب کے اندر جو معتبر ہے وہ قصد اور ارادہ ہے مولانا، معتبر کیا ہے؟ قصد اور ارادہ ہے، "وهذه الثلاثة إنما تلزم التزاماً وتبعاً للذات لا قصداً" اور یہ جو تین گناہ لازم آ رہے ہیں یہ التزاماً اور تبعاً لازم آ رہے ہیں ذات ذات کے تابع ہو کر یہ گناہ لازم آ رہے ہیں "لا قصداً" قصداً لازم نہیں، بھئی اگر ہم اس "هذا الصبي" کو "هذا الصبي" پر ہی محمول کرتے تو پھر اس صورت میں گناہ تھا اور قصداً گناہ تھا، کیا تھا؟ حدیث میں بچوں سے شریعت میں کیا ہے؟ ہجرانِ صبی حرام۔ تو اب قصداً کیا تھا؟ ہجرانِ صبی لازماً تھا، اور جب ہم نے اس سے مراد کیا لے لیا؟ اس ذات سے کلام نہیں کروں گا۔ تو اب بھی اس صورت میں ٹھیک ہے، تینوں باتیں لازم تو آئیں لیکن بالقصداً نہیں۔ تبعاً آ گئیں، کیا ہوئیں؟ تبعاً آئیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اگر بچے ہی کا معنیٰ وہاں ہم مراد لیتے، بچپن کے زمانے کے ساتھ وہ قسم مقید ہوتی تو پھر تو بالارادہ بچے ہی کے ساتھ کیا رہا ہے؟ ہجرانِ صبی۔ اور جب ہم نے کیا مراد لے لی؟ ذات مراد لے لی۔ کیا مراد لے لی؟ ذات مراد لے لی۔ تو ذات تو کوئی بھی ہو سکتی ہے، کافر بھی ہو سکتا ہے، مومن بھی ہو سکتا ہے، سمجھ میں آیا؟ ہر ذات ہو سکتی ہے۔ تو یہاں پر اب بالذات جو گناہ لازم آ رہے ہیں وہ قصداً ہیں؟ تبعاً۔ بھئی ایک آدمی کافر ہے، تین چار دن ایک کافر ہے، اس کے ساتھ اس کی لڑائی ہوتی ہے، وہ قسم کھا لیتا ہے میں اس سے اتنے دن بات ہی نہیں کروں گا، بالکل بات ہی نہیں کروں گا۔ اب دیکھو یہاں گناہ ہے کوئی؟ جی؟ نہیں، ہاں مومن کو تین دن سے چھوڑتا ہے، قطع تعلق کرتا ہے، وہ تو ٹھیک ہے گناہ ہے۔ لیکن یہاں پر تو کیا کر رہا ہے؟ ایک ذات کو چھوڑ رہا ہے۔ تو یہاں پر بھی جب وہ چھوڑ رہا ہے، کس کو چھوڑ رہا ہے؟ ذات کو چھوڑ رہا ہے، اور جو گناہ آ رہے ہیں وہ تبعاً ہیں، جبکہ پہلی صورت میں تو قصداً ہی ہجرانِ صبی آ رہا تھا، اب قصداً ہجرانِ صبی نہیں۔ تو لہٰذا یہ گناہ تبعاً آئے "فَلَا تُعْتَبَرُ" تو ان کا اعتبار نہیں۔ "وَإِنَّمَا قِيلَ هَذَا الصَّبِيُّ"، کہتے ہیں "وَإِنَّمَا قِيلَ هَذَا الصَّبِيُّ لِأَنَّهُ لَوْ قَالَ لَا أُكَلِّمُ صَبِيًّا بِالتَّنْكِيرِ يُقَيَّدُ بِزَمَانِ صِبَاهُ"، بھئی کہتے ہیں بھئی مصنف نے "هَذَا الصَّبِيُّ" کہا بھئی، "هَذَا الصَّبِيُّ" کہا گیا بھئی متن کے اندر بھئی۔ یعنی صبی کو معرفہ ذکر کیا گیا، کسی متعین بچے کے بارے میں کہا میں اس سے بات نہیں کروں گا، تو "هَذَا الصَّبِيُّ" کو ہم نے کس معنیٰ پر محمول کیا؟ "هَذِهِ الذَّاتِ" کے معنیٰ پر محمول کیا۔ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ اگر وہ نکرہ کہتا "وَاللَّهِ لَا أُكَلِّمُ صَبِيًّا"، واللہ میں کسی بچے سے بات نہیں کروں گا، تو کہتے ہیں اب اس صورت کے اندر یہ قسم مقید ہوگی بچپن اور کمسنی ہی کے زمانے کے ساتھ۔ تو لہٰذا اب کسی بچے سے بات کر لیتا ہے تو اس صورت میں تو حانث ہوگا، لیکن اگر کوئی بالغ ہو جاتا ہے اس سے بات کر لیتا ہے تو اس صورت میں حانث نہیں۔ بھئی اس صورت میں بھی تو پھر ہجرانِ صبی لازم آ رہا ہے، آپ اس کو کس پر محمول کر رہے ہیں معنیٰ معنیٰ حقیقی پر ہی محمول کر رہے ہیں؟ کہتے ہیں بھئی یہاں اصل جب اس نے صبی نکرہ کہا تو اب نکرہ کہا تو یہ کس کے درجے میں ہے؟ یہ کیا ہے؟ غائب ہے، اور غائب کے اندر وصف کا اعتبار کیا جاتا ہے، حاضر کے اندر وصف کا اعتبار نہیں کیا جاتا۔ جب "هَذَا الصَّبِيُّ" کہا تھا تو وہ بچہ کیا تھا؟ حاضر تھا، سامنے موجود ہے، اور حاضر کے اندر وصف کا اعتبار نہیں، اس لیے ہم نے "هَذِهِ الذَّاتِ" کے معنیٰ میں لیا۔ اور جب اس نے "صَبِيًّا" کہا تو اس صورت کے اندر یہ غائب ہے، کوئی متعین بچہ مراد نہیں ہے، اور غائب کے اندر کیا کیا جاتا ہے؟ وصف کا اعتبار کیا جاتا ہے۔ دیکھیے اور توجیہ بھی آ رہی ہے، کہتے ہیں "وَإِنَّمَا قِيلَ هَذَا الصَّبِيُّ لِأَنَّهُ لَوْ قَالَ لَا أُكَلِّمُ صَبِيًّا بِالتَّنْكِيرِ يُقَيَّدُ بِزَمَانِ صِبَاهُ"، "هَذَا الصَّبِيُّ" کہا گیا متن کے اندر "لِأَنَّهُ لَوْ قَالَ لَا أُكَلِّمُ"، اس لیے کیونکہ اگر اس شخص نے یہ کہا کہ وہ کلام نہیں کرے گا "صَبِيًّا" کسی بچے سے "بِالتَّنْكِيرِ" تنکیر کے ساتھ، "يُقَيَّدُ بِزَمَانِ صِبَاهُ" تو یہ مقید ہوگا اس کی بچپن کے زمانے کے ساتھ، "لِأَنَّ وَصْفَ الصِّبَا صَارَ مَقْصُودًا بِالْحَلِفِ"، اس لیے کیونکہ بچپن صبا کا وصف جو ہے، کمسنی کا وصف جو ہے، وہ "صَارَ مَقْصُودًا بِالْحَلِفِ" وہ قسم کے ذریعے وہ مقصود بالحلف ہو گیا، وہ کیا ہوا؟ مقصود بالحلف ہوا بھئی، "حِينَئِذٍ" اس وقت، "وَهُوَ دَاعٍ إِلَى الْحَلِفِ" اور وہی داعی ہے حلف کی طرف، قسم اٹھانے کی طرف داعی بھی کیا چیز ہے؟ بھئی جب اس نے "صَبِيًّا" نکرہ کہا تو معلوم ہوا قسم کی طرف کیا چیز داعی ہے؟ یہ وصف ہی داعی ہے۔ کیا ہے؟ یہ وصف ہی داعی ہے اس قسم کے لیے، اسی کی وجہ سے تو یہ قسم اٹھا رہا ہے کہ کیونکہ بچہ کہتے ہیں بعض اوقات ناسمجھ ہوتا ہے تو اس سے احتراز کرنا ضروری ہوتا ہے۔ تو اصل ہے اس کی ارادہ ماننا۔ جب اس نے "صَبِيًّا" کہا تو معلوم ہوا اس کا ارادہ ہی کیا ہے؟ کہ بچپن کے زمانے میں وہ بات نہیں کرنا چاہتا بچپن کے۔ تو اب اگرچہ وہ محجور ہے شرعاً، لیکن وہی معنیٰ ہے کیونکہ اس کا ارادہ وہ ہے، نیت وہ ہے، اور جب نیت ہے تو پھر تو کیا ہے؟ وہی معنیٰ مراد ہوگا بھئی۔ "وَهُوَ دَاعٍ إِلَى الْحَلِفِ"، اور یہی وصفِ صبا داعی ہے قسم کے لیے، "لِأَنَّهُ قَدْ يَكُونُ سَفِيهًا"، اس لیے کہ بچہ کبھی ناسمجھ ہوتا ہے، "يَجِبُ الْإِحْتِرَازُ عَنْهُ"، تو واجب ہوتا ہے اس سے احتراز کرنا، "فَيُصَارُ إِلَى الْأَصْلِ"، تو لہٰذا اس صورت میں اصل کی طرف رجوع کیا جائے گا یعنی حقیقت کی طرف، "وَإِنْ كَانَ مَحْجُورًا شَرْعًا"، اگرچہ وہ کیا ہے؟ شرعاً محجور ہے۔ بھئی جب اس نے نیت کی ہے تو اب تو یہی معنیٰ مراد ہوگا، معلوم ہوا اسی کا ارادہ ہی اسی وصف کا ہے اس نے، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ "وَإِذَا كَانَتِ الْحَقِيقَةُ مُسْتَعْمَلَةً وَالْمَجَازُ مُتَعَارَفًا فَهِيَ أَوْلَى عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى خِلَافًا لَهُمَا"، اور جس وقت حقیقت مستعملہ ہو اور مجاز متعارف ہو بھئی، مجاز کیا ہو؟ متعارف ہو "فَهِيَ أَوْلَى"، تو یہ حقیقت کیا ہے؟ اولىٰ ہے "عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ"، امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک "خِلَافًا لَهُمَا"، بخلاف صاحبین رحمہما اللہ کے۔ یعنی ما ذکرنا سابقاً، یعنی وہ جو ہم نے ماقبل میں ذکر کیا، کیا ذکر کیا تھا کہ کس کی طرف ہم چلے جائیں گے؟ معنیٰ مجازی کی طرف، کہ جو ہم نے ماقبل میں ذکر کیا تھا معنیٰ مجازی کی طرف جانے کا، "كَانَ فِي الْحَقِيقَةِ الْمَهْجُورَةِ"، وہ کس کے اندر تھا؟ حقیقتِ مہجورہ میں تھا، "وَإِنْ لَمْ تَكُنْ مَهْجُورَةً بَلْ كَانَتْ مُسْتَعْمَلَةً فِي الْعَادَةِ وَلَكِنْ كَانَ الْمَجَازُ مُتَعَارَفًا غَالِبَ الْإِسْتِعْمَالِ مِنَ الْحَقِيقَةِ أَوْ غَالِبًا فِي الْفَهْمِ"، جی یہاں سے دو معنیٰ بیان کریں گے متعارف کے۔ بھئی دیکھیں امام محمد رحمہ اللہ نے متعارف اپنی کتاب کے اندر متعارف تو ذکر فرمایا لیکن اس کا معنیٰ بیان نہیں کیا کہ متعارف سے کیا مراد ہے؟ مجاز کیا ہو انہوں نے کہا اگر مجاز متعارف ہو تو ان کے نزدیک اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک کس کی طرف چلے جائیں گے؟ معنیٰ مجازی کی طرف جائیں گے۔ یہ کون ذکر فرما رہے ہیں؟ امام محمد رحمہ اللہ بھئی۔ تو انہوں نے متعارف مجازِ متعارف تو ذکر کیا لیکن متعارف کی انہوں نے تفسیر نہیں کی، معنیٰ بیان نہیں کیا، چنانچہ علماء نے اختلاف کیا۔ بعض علماء نے متعارف کا ایک معنیٰ بیان کیا، بعض نے دوسرا۔ بعضوں نے کہا متعارف کا معنیٰ یہ ہے کہ عرف کے اندر وہ زیادہ استعمال ہوتا ہے، معنیٰ مجازی کیا ہے؟ عرف کے اندر زیادہ استعمال ہوتا ہے، یہ معنیٰ کیا۔ بعضوں نے کہا نہیں متعارف کا معنیٰ ہے کہ ذہن میں جلدی وہ معنیٰ آتا ہے۔ معنیٰ حقیقی معنیٰ حقیقی کی بنسبت معنیٰ مجازی کیا ہے؟ ذہن میں جلدی آ جاتا ہے، وہ لفظ بولتے ہی ذہن اولاً فوراً کس کی طرف چلا جاتا ہے؟ معنیٰ مجازی کی طرف چلا جاتا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو بعضوں نے کیا تفسیر بیان کی؟ کہ غالب متعارف کا کیا معنیٰ؟ وہ مجاز کیا ہونا چاہیے؟ غالب الاستعمال ہو، اور بعضوں نے کہا غالب فی الفہم ہو یعنی سمجھنے میں غالب ذہن میں جلدی آتا ہے وہ معنیٰ، صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ متعارف کے دو معنیٰ دو علماء کے دو گروہ بن گئے بھئی، بعضوں نے ایک معنیٰ بیان کیا، بعضوں نے دوسرا، شارح دونوں کو ذکر کرنا چاہتے ہیں دیکھیے بھئی۔ کہتے ہیں "وَإِنْ لَمْ تَكُنْ مَهْجُورَةً"، اور اگر حقیقت مہجورہ نہ ہو "بَلْ كَانَتْ مُسْتَعْمَلَةً فِي الْعَادَةِ"، اور مستعمل ہو عادت کے اندر "وَلَكِنْ كَانَ الْمَجَازُ مُتَعَارَفًا غَالِبَ الْإِسْتِعْمَالِ مِنَ الْحَقِيقَةِ"، مگر مجاز جو ہو متعارف ہو، غالب الاستعمال ہو حقیقت سے یعنی حقیقت کے مقابلے میں کیا ہو؟ غالب الاستعمال ہو، یہ ایک گروہ والوں کا جو معنیٰ انہوں نے کیا تھا تفسیر کی تھی وہ ذکر کیا، "أَوْ غَالِبًا فِي الْفَهْمِ مِنَ اللَّفْظِ"، یا وہ کیا ہو مجاز؟ غالب فی الفہم ہو بھئی، لفظ سے جلدی سمجھ میں آ جاتا ہو، "فَحِينَئِذٍ الْحَقِيقَةُ أَوْلَى"، تو اس وقت حقیقت کیا ہے؟ اولىٰ ہے "عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ"، امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک "وَعِنْدَهُمَا الْمَجَازُ فَقَطْ أَوْلَى فِي رِوَايَةٍ"، صاحبین کے نزدیک فقط مجاز وہ اولىٰ ہے، ایک روایت یہ ہے بھئی صاحبین سے، "وَعُمُومُ الْمَجَازِ فِي رِوَايَةٍ"، اور ایک روایت کے اندر کیا اولىٰ ہے؟ عمومِ مجاز اولىٰ ہے، یہ دوسری روایت ہے صاحبین کی بھئی۔ "كَمَا إِذَا حَلَفَ لَا يَأْكُلُ مِنْ هَذِهِ الْحِنْطَةِ أَوْ لَا يَشْرَبُ مِنْ هَذَا الْفُرَاتِ"، جیسے کسی شخص نے قسم اٹھائی کہ واللہ لا آکل من ہذہ الحنطۃ، واللہ میں اس گندم میں سے نہیں کھاؤں گا۔ اب یہ گندم کا کھانا یہ عینِ گندم کو بھی کھایا جاتا ہے، عینِ گندم کو بھی کیا کیا جاتا ہے؟ کھایا جاتا ہے بھئی، کیسے کھاتے ہیں عینِ گندم کو بھئی؟ پکا کر، بھون کر، دانے اسی طرح سالم ہیں لیکن ان کو کیا کر لیا جاتا ہے؟ پکا لیا جاتا ہے، یا کسی برتن وغیرہ میں بھون لیا جاتا ہے آگ پر اور پھر ان کو اسی طرح کھایا جاتا ہے بھئی یا ابال کر، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو عینِ گندم کو بھی کھایا جاتا ہے، تو عینِ گندم کو کھانا یہ کیا ہے؟ معنیٰ حقیقی، اور ایک معنیٰ مجازی کیا ہے کہ اس گندم سے جو آٹا حاصل ہوا اس سے روٹی بنائی گئی اور اس روٹی کو کیا کیا گیا؟ کھایا گیا۔ تو اب اس گندم کی روٹی کھانا یہ بھی اسی گندم کا کھانا ہے لیکن معنیٰ حقیقی نہیں ہے بلکہ معنیٰ مجازی، عینِ گندم کو کھانا یہ معنیٰ حقیقی، اور اس کی روٹی کو کھانا معنیٰ مجازی ہے۔ تو اب اس شخص نے کہا ہے واللہ لا آکل ہذہ الحنطۃ، واللہ میں یہ گندم نہیں کھاؤں گا بھئی، تو امام صاحب کے نزدیک یہ حقیقتِ مستعملہ ہے، اور حقیقتِ مستعملہ کے اندر کس کی طرف جائیں گے؟ حقیقی معنیٰ اولىٰ ہے، تو لہٰذا عینِ گندم کھانے کی صورت میں وہ شخص حانث ہوگا، اس کی روٹی کھانے سے حانث نہیں ہوگا۔ جبکہ صاحبین کے نزدیک دو قول ہیں مولانا، ایک کے مطابق مجازی معنیٰ، تو لہٰذا اگر پہلی روایت لیں مجازی معنیٰ تو وہ روٹی ہے، روٹی کھانے کی صورت میں وہ شخص حانث ہوگا، عینِ گندم کھانے کی صورت میں حانث نہیں، اور دوسری صورت ہے عمومِ مجاز بھئی کہ گندم کے اندر والا حصہ مراد ہے تو وہ اور وہ کسی صورت میں بھی کھائے حانث ہو جائے گا، تو وہ اس کو سالم کھا لے پھر بھی اندر والا حصہ تو کھایا اس نے بھئی وہ بھی حانث، اور روٹی کھائے تو بھی حانث، تو یہ عمومِ مجاز کی صورت میں دونوں صورتوں میں کیا ہو جائے گا؟ حانث ہو جائے گا، بات سمجھ میں آ گئی؟ "فَإِنَّ حَقِيقَةَ الْأَوَّلِ"، اس لیے کیونکہ پہلے کی حقیقت، پہلے کیا بھئی؟ دو قسمیں ذکر ہوئیں نہ متن کے اندر، ایک تو کیا کہ میں اس گندم میں سے نہیں کھاؤں گا، یہ پہلی قسم، اور دوسری اس دریا دریاۓ فرات کے پانی میں سے نہیں پیوں گا، یہ دوسری قسم ہے، تو پہلے کی پہلے بات کر رہے ہیں، "فَإِنَّ حَقِيقَةَ الْأَوَّلِ أَنْ يَأْكُلَ مِنْ عَيْنِ الْحِنْطَةِ"، اس لیے کیونکہ پہلے کی حقیقت جو ہے کہ وہ عینِ گندم میں سے کھائے، "وَهُوَ مُسْتَعْمَلَةٌ"، اور یہ حقیقت مستعمل بھی ہے "لِأَنَّهَا تُغْلَى وَتُقْلَى وَتُؤْكَلُ قَزْمًا"، اس لیے کیونکہ وہ گندم جو ہے اس لیے کیونکہ گندم جو ہے اس کو ابالا جاتا ہے "وَتُقْلَى" اور اس کو بھونا جاتا ہے "وَتُؤْكَلُ قَزْمًا" اور اس کو کھایا جاتا ہے قزماً چبا کر بھئی دانتوں سے، "وَلَكِنَّ الْمَجَازَ وَهُوَ الْخُبْزُ غَالِبُ الْإِسْتِعْمَالِ فِي الْعَادَةِ"، لیکن مجاز جو ہے اور وہ کیا ہے؟ روٹی، وہ غالب الاستعمال ہے عادت کے اندر، "فَعِنْدَهُ إِنَّمَا يَحْنَثُ إِذَا أَكَلَ مِنْ عَيْنِ الْحِنْطَةِ"، تو امام صاحب کے نزدیک وہ شخص حانث ہو جائے گا جب وہ عینِ گندم کھا لے، "وَعِنْدَهُمَا يَحْنَثُ إِذَا أَكَلَ مِنَ الْخُبْزِ"، کہ صاحبین کے نزدیک وہ حانث ہوگا جب وہ کس میں سے کھا لے؟ اس کی روٹی میں سے، یہ پہلی روایت کے مطابق صرف معنیٰ مجازی مراد لیا، "أَوْ مِنْهُمَا"، یا دونوں سے ہی کھانے سے ہی کیا ہو جائے گا؟ گندم کھانے سے بھی حانث، اس کی روٹی کھانے سے بھی حانث، یہ کون سی روایت کے مطابق؟ دوسری یعنی عمومِ مجاز والا، "بِأَنْ يُرَادَ بَاطِنُهَا"، بایں طور کہ مراد کیا ہو اس کا؟ اس گندم کا باطن مراد ہو، اندر والا حصہ۔ "وَعَلَى هَذَا يَنْبَغِي أَنْ يَحْنَثَ بِالسَّوِيقِ"، اس صورت میں مناسب یہ ہے کہ ستو سے بھی وہ حانث ہو جائے، "يَحْنَثُ بِالسَّوِيقِ أَيْضًا"، ستو سے بھی کیا ہو جائے؟ حانث، کیونکہ ستو بھی اسی گندم سے بنتا ہے بھئی، اسی گندم کو بھونتے وغیرہ ہیں اور پھر اس کو پیس لیا تو یہ ستو ہے بھئی، تو ستو کھانے سے بھی کیا ہونا چاہیے؟ حانث، کیونکہ وہ بھی اسی گندم کا اندر والا حصہ ہے بھئی۔ کہتے ہیں لیکن "وَلَكِنْ لَمَّا كَانَ جِنْسًا آخَرَ فِي الْعُرْفِ لَمْ يُعْتَبَرْ"، لیکن چونکہ یہ عرف کے اندر دوسری جنس ہے لہٰذا اس کا اعتبار نہیں کیا گیا۔ بھئی عرف کے اندر عام عادت کے اندر عام لوگوں کے اندر ستو کو ایک الگ ہی جنس شمار کیا جاتا ہے، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اس لیے اس اس صورت میں حانث نہیں ہوگا۔ "وَحَقِيقَةُ الثَّانِي"، شرح کے شروع میں آیا تھا نہ "فَإِنَّ حَقِيقَةَ الْأَوَّلِ"، پہلے کی حقیقت یہ، اور اب دوسرے کی حقیقت جو اس نے کہا تھا واللہ لا اشرب من ہذا الفرات، واللہ میں اس فرات دریا میں سے نہیں پیوں گا۔ کہتے ہیں حقیقتِ ثانی یہ، اچھا بھئی پہلے مسئلہ سمجھ لو، ایک شخص کہتا ہے کہ واللہ میں اس دریا میں سے نہیں پیوں گا بھئی، اب اس کا حقیقی معنیٰ تو یہ ہے کہ براہِ راست دریا پہ منہ لگا کر پانی پیے، اب ہم کہیں گے وہ کس سے پی رہا ہے؟ دریا سے پی رہا ہے، اور اگر اس کا پانی چلو میں لے لیتا ہے یا برتن میں اٹھا لیتا ہے اور وہیں کھڑے ہو کر مثلاً پی رہا ہے بھئی، تو آپ اب یہ نہیں کہیں گے کہ یہ دریا سے پی رہا ہے، یہ تو کس سے پی رہا ہے؟ اس برتن سے پی رہا ہے، یا کس سے پی رہا ہے؟ اس چلو سے پی رہا ہے، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ معنیٰ مجازی ہوا، یہ کیا ہوا معنیٰ معنیٰ مجازی ہوا۔ اور زیادہ تر کس طرح پییا جاتا ہے؟ دریا پہ منہ لگا کر ہی پیتے ہیں یا برتن یا چلو وغیرہ کے ذریعے؟ برتن کے ذریعے یا چلو وغیرہ میں پانی لے کر زیادہ پییا جاتا ہے، تو مجاز متعارف ہوا، مجاز کیا ہے؟ متعارف، اور اس صورت میں امام صاحب کے نزدیک حقیقت اولىٰ ہے، لہٰذا براہِ راست منہ لگا کر دریا سے پیئے گا تو حانث ہوگا ورنہ حانث نہیں، اور صاحبین کے نزدیک پہلی روایت کے مطابق کون سا معنیٰ مراد لیں گے؟ مجاز، لہٰذا برتن میں پیئے یا ہاتھوں کے ذریعے پیئے گا تو حانث ہوگا، اور دوسری روایت کے مطابق عمومِ مجاز ہے، چاہے منہ لگا کر پیئے چاہے برتن وغیرہ سے پیئے سب میں حانث ہو جائے گا۔ کہتے ہیں "وَحَقِيقَةُ الثَّانِي أَنْ يَشْرَبَ مِنَ الْفُرَاتِ بِطَرِيقِ الْكَرْعِ"، اور دوسرے کی حقیقت یہ ہے کہ وہ پیئے دریاۓ فرات سے کرع کے طریق، کرع کہتے ہیں منہ لگا کر پینا براہِ راست بھئی، "وَهِيَ مُسْتَعْمَلَةٌ"، اور یہ حقیقت مستعمل بھی ہے "كَمَا هُوَ عَادَةُ أَهْلِ الْبَوَادِي"، جیسے کہ عادت ہے اہل بادی کی، جنگل میں رہنے والوں کی یعنی دیہات میں رہنے والوں کی، "وَلَكِنَّ الْمَجَازَ غَالِبُ الْإِسْتِعْمَالِ"، لیکن مجاز غالب الاستعمال ہے "وَهُوَ أَنْ يَشْرَبَ مِنْ غَرْفٍ أَوْ إِنَاءٍ يُتَّخَذُ فِيهِ الْمَاءُ مِنْهَا"، کہ پییا جائے چلو سے یا برتن سے، ایسے برتن سے "يُتَّخَذُ فِيهِ الْمَاءُ مِنْهَا" کہ اس کے اندر اس دریا سے پانی لیا گیا ہو، "فَعِنْدَهُ يَحْنَثُ بِالْكَرْعِ فَقَطْ"، پس امام صاحب کے نزدیک صرف کرع کی صورت میں یعنی براہِ راست منہ لگا کر پینے کی صورت میں حانث ہوگا، "وَعِنْدَهُمَا بِالْإِنَاءِ وَالْغَرْفِ أَوْ بِهِمَا"، اور صاحبین کے نزدیک برتن کے ذریعے اور چلو کے ذریعے، یہ پہلی روایت، "أَوْ بِهِمَا وَبِالْكَرْعِ جَمِيعًا"، یا ان دونوں کے ذریعے بھی اور کرع کے ذریعے بھی، ان تمام کی صورت میں حانث ہوگا، یہ کون سی روایت ہے؟ عمومِ مجاز۔ "وَلَوْ شَرِبَ مِنْ نَهْرٍ مُنْشَعِبٍ مِنَ الْفُرَاتِ لَا يَحْنَثُ"، اچھا بھئی، دریاۓ فرات سے ایک نہر نکلی ہے چھوٹی اور اس میں سے کوئی شخص پیتا ہے، کیا وہ بھی حانث ہوگا؟ کہتے ہیں نہیں بھئی، اب وہ یہ اس سے پینے والا حانث نہیں۔ کیوں کہتے ہیں اس لیے کیونکہ اس سے پینے والے کو یہ نہیں کہتے اس نے فرات سے پانی پیا ہے۔ اس چھوٹی نہر سے کوئی پانی پیے تو یہ نہیں کہیں گے کس سے پیا ہے؟ دریائے فرات سے۔ ہاں دریائے فرات کا پانی تو ہے لیکن فی الوقت دریائے فرات سے وہ نہیں رہا اور اس نے تو کیا کہا تھا میں دریائے فرات سے پانی نہیں پیوں گا تو قسم ابھی بھی نہیں ٹوٹی حانث نہیں ہوگا۔ تو کہتے ہیں ولو شرب من نہر منشعب من الفرات اور اگر کسی شخص نے پیا ایسی نہر سے جو نکلی ہوئی ہے فرات سے منشعب ان شعبہ کا معنی ہوتا ہے شاخ نکلنا شاخ نکلنا تو یہ بھی اس سے شاخ نکلی ہوئی ہے شاخ کی طرح۔ جو دریائے فرات سے نکلی ہوئی ہے لا یحنث تو وہ بھی حانث نہیں ہوگا کیونکہ اس سے فرات کا نام منقطع ہو گیا کٹ گیا ہے برخلاف اما اذا قبل من ماء الفرات برخلاف اس کے کہ اگر یوں کہا گیا من ماء الفرات اگر ایک شخص نے یوں کہا واللہ لا اشرب من ماء الفرات میں دریائے فرات کے پانی میں سے نہیں پیوں گا تو کہتے ہیں اب اس نے لفظ بدل دیے۔ فانہ یحنث بالاتفاق تو اس صورت میں بالاتفاق کیا ہو جائے گا؟ حانث کیونکہ اگرچہ وہ چھوٹی نہر سے پی رہا ہے لیکن پانی تو کس کا ہے؟ فرات ہی کا ہے اور اس نے کہا تھا میں فرات کا پانی نہیں پیوں گا۔ وھذا کلہ اذا لم ینوی فانہ وا شیئاً فعلی حسب ما نوا یہ کہتے ہیں یہ سارا اس وقت ہے جب اس نے کوئی نیت نہ کی ہو۔ یہ تمام صورتیں جو ذکر ہوئیں یہ کس وقت ہیں جب اس نے کوئی نیت فانہ وا شیئاً اگر اس نے کسی چیز کی نیت کی ہے فعلی حسب ما نوا تو اس کی قسم بھی اسی کے مطابق ہوگی جس کی اس نے نیت کی ہے۔ اگر اس نے براہ راست منہ لگانے کی نیت کی بات کی تھی تو وہی مراد ہوگی اگر برتن میں پینے کی نیت کی تھی تو وہی مراد ہوگی بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ وھذا بناء علی اصل آخر وھو ان الخلفیة فی التکلم عندہ وعندھما فی الحکمہ۔ اور یہ مبنی ہے ایک اور اصل پر بھئی۔ ایک اور ضابطے پر۔ وہ اور وہ ضابطہ یہ ہے کہ ان الخلفیة فی التکلم عندہ کہ نائب ہونا تکلم کے اندر ہے امام صاحب کے نزدیک و عندھما فی الحکمہ اور نائب ہونا صاحبین کے نزدیک حکم کے اندر ہے۔ کس کے اندر ہے؟ حکم۔ کہتے ہیں یہلفظ خلیفہ خلیفہ جی نہیں خلیفہ لکھا ہوا ہے؟ نہیں خلیفہ نہیں خلافت۔ خلف کہتے ہیں نائب کو نائب کو بھئی اور تو یہ وصف ہے مولانا اور وصف کے ساتھ کبھی یائے مشدد اور تا ملا کر اسے مصدر بنا لیا جاتا ہے تو یہاں بھی یائے مشدد اور تا ملا کر مصدر بنا لیا گیا۔ خلف کا مطلب جانشین نائب اور خلافت نائب ہونا جیسے فاعل اور فاعلیت فاعلیت کا کیا معنی؟ فاعل ہونا مفعولیت مفعول ہونا تو یائے مشدد اور تا ملا کر صفت سے مصدر بنا لیا جاتا ہے۔ تو یہ مبنی ہے ایک اور قانون ضابطے پر وہ کہ نائب ہونا تکلم کے اندر ہے امام صاحب کے نزدیک اور صاحبین کے نزدیک حکم کے اندر ہے بھئی۔ بھئی دیکھیے مجاز نائب ہے حقیقت کا بھئی۔ مجاز کیا ہے؟ نائب ہے۔ نائب ہے حقیقت کا اب یہ نائب کس اعتبار سے ہے؟ امام صاحب کے نزدیک یہ تکلم کے اعتبار سے نائب ہے۔ اور صاحبین کے نزدیک یہ حکم کے اعتبار سے یہ نائب ہے حقیقت کا بھئی۔ تکلم کے اعتبار سے کیا معنی؟ چلیے آگے تفصیل آ رہی ہے پہلے یہ دیکھیں ذرا یعنی ان الخلاف المذکور بین ابی حنیفہ رحمہ اللہ و صاحبہی مبنی علی اصل آخر یعنی یہ جو مذکورہ اختلاف ہے امام صاحب اور صاحبین رحمہ اللہ تعالی کے درمیان یہ مبنی ہے ایک اور اقضہ الاصل آخر ایک اور ضابطے پر مختلف فيما بینہم جو ان میں آپس میں مختلف فیہ ہے یعنی جس میں امام صاحب اور صاحبین کا اختلاف ہے وھو اور وہ ضابطہ یہ ہے کہ ان المجاز خلف للحقیقۃ عندہ فی التکلم کہ مجاز نائب ہے حقیقت کا امام صاحب کے نزدیک فی التکلم تکلم کے اندر۔ و عندھما فی الحکمہ اور صاحبین کے نزدیک حکم کے اندر۔ وھذا یقتضی بسطاً اور یہ تقاضا کرتا ہے تفصیل کا وھو اب اختلاف ذکر کر رہے ہیں وھو ان المجاز خلف عن الحقیقۃ بالاتفاق کہ مجاز نائب ہے حقیقت کا بالاتفاق یہ بات تو بالاتفاق ہے مولانا کہ مجاز کیا ہے؟ حقیقت کا نائب ہے۔ ولا بد فی الخلف ان یتصور وجود الأصل اور ضروری ہے نائب کے اندر کہ اصل کے وجود متصور ہو اس کا تصور ہو مولانا کیونکہ نائب کہتے ہی کس کو ہیں؟ جو دوسرے کی جگہ پر آئے مولانا نائب دوسرے کا جانشین ہے تو اس کے لیے اصل ہوگا تو نائب ہے اصل نہیں تو نائب کا معنی ہی سمجھ میں نہیں آ سکتا تو لہٰذا نائب کے لیے میں ضروری ہے کہ اصل کا وجود متصور ہو سکے و لم یوجد العارض ہے آپ کی کتابوں میں لعارض ہونا چاہیے بھئی ولم یوجد لعارض اصل کا وجود متصور تو ہو لیکن کسی عارض کی وجہ سے پایا نہ جائے بھئی۔ کسی عارض کی وجہ سے بھئی دیکھیے اصل کا وجود تو ہے لیکن ہم نائب کی طرف کیوں چلے گئے؟ کسی عارض کو یہ عارض ایسا پیش آیا کہ اب اصل کا وہاں مراد نہیں تھی کو اصل کو مراد نہیں لیا جا سکتا تو پھر کس کی طرف جانا پڑے گا؟ ااا نائب کی طرف جانا پڑے گا۔ تو کہتے ہیں اب ضروری ہے نائب کے اندر کہ اصل کا وجود اصل کے وجود کا تصور ہو سکے اور وہ پایا نہ جائے کسی عارض کی وجہ سے وھذا بالاتفاق اور یہ بھی بالاتفاق ہے وھذا بالاتفاق اور یہ بھی بالاتفاق ہے لکنہ مختلف فی جہۃ الخلافت لیکن انہوں نے اختلاف کیا ہے نائب ہونے کی جہت کے اندر فانہ المجاز خلف عن الحقیقۃ فی التکلم پس امام صاحب کے نزدیک مجاز نائب ہے حقیقت سے فی التکلم کس کے اندر؟ تکلم کے اندر بھئی۔ یعنی تکلم بالحقائق اصل ہے اور تکلم بالمجاز کیا ہے؟ نائب اصل کیا ہے؟ تکلم کس پر ہونا چاہیے؟ حقیقت پر اور نائب کیا ہے کہ تکلم کس پر ہو؟ مجاز پر تو حقیقت پر تکلم یہ اصل ہے اور مجاز پر تکلم یہ اس کی فرع ہے نائب ہے۔ ای قولہ یعنی امام یعنی ای قولہ ھذا یعنی مراد بہ الحرية خلاف عنہ یعنی مراد بہ البنوت۔ بھئی دیکھیے ایک شخص ہے وہ اپنے بیٹے کے بارے میں آپ سے کہتا ہے بیٹا کھڑا ہے وہ آپ سے کہتا ہے ھذا ابنی یہ میرا بیٹا ہے اور ایک صورت یہ ہے کہ اس کا غلام کھڑا ہے وہ آپ سے کہتا ہے ھذا ابنی یہ کیا ہے؟ میرا تو یہاں یہ کس کیا مراد لی جائے گی؟ آزادی مراد دی جائے گی۔ کیا مراد ہوگی؟ آزادی صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو اب دیکھیے ھذا ابنی سے ایک موقع پر مراد کیا ہے؟ بیٹا ہونا اور اسی ھذا ابنی سے دوسرے محل پر کیا مراد ہے؟ آزادی آزادی تو لہٰذا یہی ھذا ابنی نائب ہے ھذا ابنی کا۔ اور کون سا والا کون سے کا نائب ہے؟ یہی ھذا ابنی جب اس کے ذریعے بنوت بیٹا ہونا مراد ہو تو یہ اصل ہے اور یہی ھذا ابنی جب اس کے ذریعے حریت مراد ہو تو یہ نائب ہے یہ مجاز ہے مولانا کیا ہے؟ تو لہٰذا کوئی شخص اپنے غلام سے کہتا ہے ھذا ابنی۔ یہاں کیا مراد ہے؟ حریت آزادی مراد ہے یعنی یہ آزاد ہے تو یہ ھذا ابنی مجاز ہے کس سے؟ اسی ھذا ابنی سے جبکہ اس سے بیٹا ہونا مراد ہو۔ یہ ھذا ابنی اس حال میں کہ اس سے کیا مراد ہے؟ آزادی یہ کس سے نائب ہے؟ مجاز ہے کس سے؟ اسی ھذا ابنی سے اس حال میں کہ اس سے کیا مراد ہو؟ بیٹا ہونا مراد ہو گئی بات سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو وہی لفظ اسی لفظ سے نائب ہے اسی سے مجاز ہے لیکن وہاں معنی اصل کے اندر معنی اور ہے مجاز کے اندر معنی اور ہے تو ھذا ابنی نائب ہے ھذا ابنی کا لیکن ہاں کون سے ھذا ابنی کا؟ مجاز کون سا ہے جب اسی ھذا ابنی کے لیے کیا مراد ہو؟ حریت اور یہی کس کا نائب ہے؟ اسی ھذا ابنی کا جبکہ اس کے ذریعے بیٹا ہونا مراد ہو۔ یہ معنی تکلم کے اندر مولانا کہ اس کا نائب ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں ای قولہ ھذا ابنی یعنی کسی شخص کا یہ کہنا ھذا ابنی یہ میرا بیٹا ہے مراد بہ الحرية اس حال میں کہ اس کے ذریعے مراد آزادی ہو یہ ھذا ابنی خلف عن ھذا ابنی یہ نائب ہے کس سے؟ ھذا ابنی سے ہی مراد بہ البنوت اس حال میں کہ اس سے ھذا ابنی سے کیا مراد ہو؟ بیٹا ہونا مراد ہو فتشترط صحۃ التکلم بالحقیقۃ من حیث العربیۃ حتی یجعل مجازا پس شرط ہے تکلم بالحقیقۃ کے صحیح ہونے کی من حیث العربیۃ عربی ہونے کی حیثیت سے بھئی عربی ہونے کے اعتبار سے اس پر تکلم صحیح ہو ھذا ابنی جبکہ اس کے لیے کیا مراد ہے؟ ھذا ابنی پر تکلم صحیح ہونا چاہیے یعنی عربی اعتبار سے یہ جملہ صحیح ہونا چاہیے کیا ہونا چاہیے؟ ہاں یہ جملہ صحیح ہونا چاہیے اس کا معنی حقیقی کیا ہونا چاہیے؟ ھذا ابنی کے لیے جب بیٹا ہونے کا ارادہ کیا گیا یہ کلام صحیح ہے یا غلط ہے؟ صحیح ہے تو تو عربی اعتبار سے یہ کلام صحیح ہے تو جب یہ اس سے حقیقت مراد ہو اس وقت یہ صحیح ہے تو اب اس کو مجاز بنانا بھی صحیح ہوگا۔ صورت سمجھ میں آگئی یہ معنی فتشترط صحۃ التکلم بالحقیقۃ من حیث العربیۃ پس شرط ہے تکلم بالحقیقۃ کے صحیح ہونے کی من حیث العربیۃ کس اعتبار سے؟ عربی زبان کے اعتبار سے حتی یجعل مجازا یہاں تک کہ اس کو کیا بنایا جائے؟ مجاز پھر اس کو مجاز بنایا جائے گا پہلے کلام تو صحیح ہونا چاہیے عربی اعتبار سے بھئی۔ یہ ایک تقریر ہے مولانا پہلی تقریر کے مطابق ھذا ابنی اس حال میں کہ اس لیے حریت کا ارادہ کیا گیا ہو۔ یہ مجاز ہے کس سے؟ اسی ھذا ابنی سے اس حال میں کہ اس سے کس کا ارادہ ہو؟ بیٹا ہونے کا وہ آحقیقہ ہے مولانا۔ بعض علماء نے دوسری تقریر کی مولانا امام صاحب کا قول تو صرف اتنا ہے کہ مجاز نائب ہے حقیقت کا تکلم میں کس میں؟ تو بعض علماء نے کیا تقریر کی؟ کہ معنی کیا ہے؟ وہی لفظ جب اس کا حقیقی معنی ہو وہ اصل ہے اور وہی لفظ جب اس کا مجازی معنی ہو یہ کیا ہے؟ مجاز ہے تو یہ اسی لفظ کا مجاز ہے لیکن اس وقت حقیقت میں تھا معنی اور مجاز کے اندر معنی اور ہے ھذا ابنی نائب ھذا ابنی ہی کا ہے کسی اور چیز کا نائب نہیں۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ لیکن بعضوں نے اور تقریر کی بھئی۔ بعض کہتے ہیں کہ ھذا ابنی جب اس کے لیے حریت کا ارادہ کیا جائے تو یہ نائب ہے ھذا حر کا کس کا نائب ہے؟ بھئی آزادی سے تو آنا تھا ھذا حر سے لیکن آ کس سے رہی ہے یہاں پر جب اس نے کہا ھذا ابنی اپنے غلام کو کہا تو اس سے بھی کیا آ رہی ہے؟ آزادی تو یہ کس کا نائب ہوا؟ ھذا حر کا۔ ھذا حر کا نائب ہوا۔ تقریر سمجھ میں آئی بھئی؟ تو بعض علماء نے کہا تھا کہ یہ ھذا ابنی اسی ھذا ابنی کا نائب ہے اور بعضوں نے کہا یہ ھذا ابنی کس کا نائب ہے؟ ھذا حر کا۔ تقریر سمجھ میں آئی بھئی؟ وکیل في تقریرہ اور کہا گیا ہے اس کی تقریر کے اندر یہ جو امام صاحب نے فرمایا نا کہ مجاز خلیفہ ہے حقیقت کا تکلم میں اس کی تقریر میں کہا گیا ہے کہ ان ھذا ابنی مرادا بہ الحرية کہ ھذا ابنی کلف کس حال میں کہ اس کے لیے حریت کا ارادہ کیا جائے خلف عن قولہ یہ نائب ہے اس شخص کے قول ھذا حر سے والاول اولی شارح فرماتے ہیں پہلی تقریر اولی ہے پہلی تقریر کیا ہے؟ اولی ہے بھئی کیوں اولی ہے؟ کہتے ہیں لانھ یبقى الاصل والخلف علی حالہما علیہ اس لیے کیونکہ باقی رہتا ہے اصل بھی والخلف اور نائب بھی علی حالھما اپنے حال پر علیہ ای علی الاولی پہلی پہلی صورت میں دونوں اپنے حال پر باقی رہتے ہیں۔ دونوں کیا ہے اپنے حال پر باقی رہتے ہیں وہی وہی ھذا ابنی ہے اسی سے کیا مراد ہے حقیقت اور وہی ھذا ابنی اس سے کیا مراد ہے حر حریت تو مجاز کس سے ھذا ابنی مجاز ہے کس سے؟ ھذا ابنی ہی سے مجاز ہے بھئی جبکہ اس سے بیٹا ہونا مراد ہو کسی اور لفظ سے مجاز نہیں۔ بخلاف الثانی بخلاف دوسری صورت کے فانہ یتبدل الاصل باصل آخرا کہ وہاں پر ایک اصل دوسری اصل سے بدل جاتی ہے۔ وہاں پر آپ کیا کہتے ہیں ھذا ابنی جب اس کے لیے حریت کا ارادہ ہو یہ نائب ہے کس سے؟ ھذا حر سے۔ حالانکہ دونوں الگ الگ اصل ہی الگ ہیں مولانا ھذا ابنی الگ ہے ھذا حر الگ ہے۔ ھذا ابنی تو کس کے لیے وضع ہے؟ بیٹے بنوت کے لیے اور ھذا حر کس کے لیے وضع ہے؟ آزادی حریت کے لیے وضع ہے مولانا تو وہ اس کی اصل ہی اور ہے اس کی اصل وہ اور چیز کے لیے وضع ہے یہ اور چیز کے لیے وضع ہے تو لہٰذا ایک اصل بدل گئی کس سے؟ دوسری اصل سے جبکہ پہلی صورت میں کیا تھا؟ اصل ایک ہی تھی صرف اختلاف کس میں تھا؟ مجاز ہونے اور نہ ہونے میں ایک مجاز تھا ایک مجاز نہیں تھا ایک نائب تھا ایک نائب نہیں تھا تو خلف ہونے میں صرف اختلاف تھا۔ تو لہٰذا پہلی صورت کیا ہے پہلی تقریر اولی ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو بخلاف الثانی کے فانہ یتبدل الاصل باصل آخرا اس لیے کہ وہاں پر اصل بدل جاتی ہے دوسری اصل کے ساتھ وبالجملۃ فانہ لا بد لصحت المجاز من استقامۃ الاصل من حیث العربیۃ اور وبالجملۃ بھئی خلاصہ کلام حاصل کلام یہ کہ امام صاحب کے نزدیک ضروری ہے مجاز کے صحیح ہونے کے لیے من استقامۃ الاصل من حیث العربیۃ کہ اصل بھی کیا ہو؟ صحیح ہو کس اعتبار سے؟ عربی عربی اعتبار سے اصل صحیح ہو یعنی معنی منی معنی حقیقی کیا ہو اس کا؟ صحیح ہو۔ یعنی کہ وہ کلام صحیح ہو کیا ہو وہ کلام؟ صحیح ہو عربی اعتبار سے تو عربی اعتبار سے صحیح ہونا چاہیے اصل میں بھئی۔ وان لم یستقیم المعنی الحقیقی اگرچہ معنی الحقیقی اگرچہ معنی حقیقی درست نہیں کیونکہ غلام کے بارے میں کہہ رہا ہے ھذا ابنی حالانکہ اس کا بیٹا ہے نہیں تو ھذا ابنی اصل کے اعتبار سے یعنی جب بیٹے کو کہتا ہے اس اعتبار سے یہ کلام کیا ہے؟ صحیح ہے اگرچہ اس وقت یہاں پر جب غلام کو کہہ رہا ہے معنی حقیقی درست نہیں رہتا لیکن کوئی اس میں کوئی حرج نہیں بس اصل کے اعتبار سے درست ہونا چاہیے پھر بعد میں اگرچہ مجاز کے مقام پر وہ معنی حقیقی درست نہیں رہتا فیضطر الی المعنی المجازی تو کس کی طرف رجوع کیا جائے گا معنی مجازی کی طرف۔ و عندھما المجاز خلف عن الحقیقۃ فی الحکمی اور صاحبین کے نزدیک مجاز خلیفہ ہے کس کا؟ حقیقت کا فل الحکمی کس کے اندر؟ حکم کے اندر ای حکم ھذا ابنی مرادا بہ الحرية یعنی ھذا ابنی کا حکم اس حال میں کہ اس ھذا ابنی کے لیے کس کا کیا مراد ہو؟ آزادی مراد ہو خلف عن حکم۔ یہ نائب ہے کس سے؟ اسی ھذا ابنی کے حکم سے اس حال میں کہ اس سے کیا مراد ہو؟ مرادا بہ البنوت۔ اس کے لیے بیٹا ہونا مراد ہو۔ بھئی ایک شخص ہے اپنے بیٹے کے بارے میں کہتا ہے ھذا ابنی کیا حکم معلوم ہوا آپ کو؟ یہ اس کا بیٹا ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی اور غلام کے بارے میں کہتا ہے ھذا ابنی کیا حکم معلوم ہوا؟ یہ ازاد ہے۔ صورت تو مجاز نائب ہے حقیقت کا حکم کے اندر وہ حکم جو اس کلام سے معلوم ہو رہا ہے وہ حکم جو جبکہ امام صاحب کے نزدیک تکلم میں نائب ہے یعنی وہ لفظ صحیح ہونے چاہیے تو مجاز بھی ٹھیک ہے۔ صاحبین فرماتے ہیں وہ حکم ٹھیک ہونا چاہیے تو مجاز بھی ٹھیک ہے۔ آگے دیکھے شرح آگے آجائے گا متن کے اندر بھی مثلاً ایک غلام ہے اور اتنی عمر کا غلام ہے کہ یہ آقا کا بیٹا نہیں ہو سکتا۔ مطلب اسی کے برابر عمر کا ہے یا اس سے بڑی عمر کا ہے اور بیٹا تو عمر میں چھوٹا ہوتا ہے بھئی برابر یا بڑا نہیں ہو سکتا اب اس کے بارے میں وہ کہتا ہے ھذا ابنی امام صاحب فرماتے ہیں بھئی ھذا ابنی یہ کلام درست ہے عربی اعتبار سے لہٰذا یہ غلام آزاد ہو جائے گا۔ صاحبین فرماتے ہیں بھئی ھذا ابنی اس غلام کے بارے میں کہہ رہا ہے اور ہم نے کیا کہا تھا کہ مجاز نائب ہے حقیقت کا کس چیز میں؟ حکم میں اور یہاں حکم ہی درست نہیں کیونکہ عمر میں اس کے برابر یا اس سے بڑا ہے لہٰذا اس پر ھذا ابنی کا حکم لگانا ہی صحیح تو یہاں حقیقت ممکن نہیں ہے حقیقت جب حقیقت تو یہ مجاز بھی اب یہاں پر مجاز معنی بھی نہیں مراد لے سکتے جب مجاز معنی مراد نہیں لیں گے تو غلام آزاد بھی نہیں ہوگا۔ فرق سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ صاحب بین کے نزدیک المجاز خلف عن الحقیقت فی الحکم کہ مجاز نائب ہے حقیقت کا حکم کے اندر ہے۔ حکم ھذا ابنی مراد نہ بی الحریۃ حکم اس ھذا ابنی کا اس حال میں کہ اس کے لیے مراد حریۃ ہو، خلف عن حکم مراد نہ بیہ البنوت۔ یہ نائب ہے اسی ھذا ابنی کے حکم سے اس حال میں کہ اس کے لیے بنوت بیٹا ہونا مراد ہو۔ فینبغی یستقیم الحکم الحقیقی مناست مناسب ہے کہ حکم حقیقی کیا ہونا چاہیے؟ درست ہونا چاہیے۔ ان کے نزدیک مجاز کے لیے کیا ضروری؟ حقیقی احکام صحیح ہونا چاہیے۔ ھذا ابنی کا اگر حقیقت کے اعتبار سے بیٹا ہونا اس کا ممکن ہونا چاہیے بھئی۔ پھر مجاز معنی حریت مراد لیں گے ورنہ مراد نہیں لے سکتے۔ اور لم يعمل بعارض کہ حکم حقیقی ٹھیک تو ہے ولم يعمل بعارض لیکن عمل نہیں کرتا کسی عارض کی وجہ سے حتی یصار الی المجازی یہاں تک کہ کس کی طرف ہی رجوع کیا جائے گا پھر عارض کی وجہ سے چونکہ حقیقی معنی نہیں لے سکتے تو اب مجاز کی طرف رجوع کیا جائے گا۔ فاذا کانت خلقی کانت الخلاقیۃ عندہ فی التکلم جب نائب ہونا امام صاحب کے نزدیک تکلم کے اندر ہے فتکلم بالحقیقۃ اولی تو تکلم بالحقیقۃ کیا ہے؟ اولی ہے۔ لان اللفظ موضوع لاجل المعنی الحقیقی اسی کیونکہ وہ لفظ کس لیے وہ لفظ کس لیے وضع کیا گیا ہے؟ اس کے معنی حقیقی کے لیے وضع کیا گیا ہے اور وہ مستعمل فی العادت اور عادت کے اندر بھی یہ معنی حقیقی کیا ہے؟ استعمال ہوتا ہے غیر مہجور فیہا اس عادت کے اندر بھی وہ مہجور نہیں چھوڑا نہیں گیا بلکہ اسی حقیقی معنی میں استعمال ہوتا ہے تو لفظ کو جس معنی کے لیے وضع کیا گیا ہے بہتر بھی یہ ہے کہ اس سے کون سا معنی مراد لیا جائے؟ معنی حقیقی ہی مراد لیا جانا چاہیے مراد۔ بھئی بات چل رہی تھی نا اصل میں اختلاف آیا تھا صاحبین کا اور اختلاف امام صاحب کا صاحبین کیا فرماتے تھے کہ حقیقت مستعملہ کے اندر اگر مجاز متعارف بھی ہو تو مجاز متعارف مراد لیں گے امام صاحب نہیں فرماتے تھے نہیں بلکہ کیا مراد لیں گے؟ حقیقت ہی مراد لیں گے بھئی حقیقت۔ وہی بات اب ذکر کر رہے ہیں کہ امام صاحب فرماتے ہیں کہ جب حقیقت مستعمل بھی ہے اور لفظ اسی معنی کے لیے وضع ہے تو اسی معنی کو کیا مراد؟ اسی یہی لفظ یہی معنی ہونا چاہیے۔ تو کہتے ہیں جب لفظ اس کے عادت کے اندر اس معنی کے اندر استعمال بھی ہو رہا ہے اور وہ غیر مہجور ہے فایۃ ضرورت داعیۃ الی سیرورتہ مجازا پس کیا ضرورت ہے داعی ہے اس الی سیرور سیرورت کا معنی ہونا منتقل ہونا۔ اس کے کلام کے مجاز کی طرف منتقل ہونے کی کیا ضرورت پیش آگئی جب معنی حقیقی موجود ہے اور اسی کے لیے وضع ہے بھئی تو وہ اولی ہے وہی معنی لینا چاہیے مراد۔ وعندہما لما کان خلفا عنہ فی الحکم بھئی صاحبین کا کیا مذہب تھا؟ حقیقت مستعملہ ہو اور اس کا کوئی مجاز متعارف بھی ہو تو پھر اس صورت میں کیا مراد لیں گے؟ پہلی روایت ہے مجازی معنی مراد لیں گے دوسری روایت کیا ہے؟ عموم مجاز۔ اچھا پہلی روایت ان کی کیا کون سا معنی مراد لیں گے؟ کیوں لیں گے؟ کہتے ہیں کیونکہ وہ متعارف ہے وہ حقیقت سے زیادہ استعمال ہوتا ہے جب زیادہ استعمال ہوتا ہے تو وہی معنی مراد لینے چاہئیں۔ اور دوسری روایت کے مطابق عموم مجاز یعنی ایسا معنی لو کہ جس میں حقیقت بھی داخل ہو جائے اور وہ والا مجازی معنی بھی داخل ہو جائے۔ وہ کیوں؟ کہتے ہیں بھئی یہ تو اور زیادہ کہ حقیقی معنی بھی آ گیا اس کے اندر اور وہ مجازی معنی جو مشہور ہے وہ بھی اس کے اندر آگیا بھئی۔ یہی بات بیان کر رہے ہیں۔ وعندہما لما کان خلفا عنہ فی الحکم اور صاحبین کے نزدیک جب مجاز خلیفہ ہے کس چیز کے اندر؟ حقیقت سے حکم کے اندر ولی حکم المجاز رجحان علی حکم الحقیقی اور مجاز کے حکم کو رجحان بھی حاصل ہے کس پر؟ حقیقت کے اوپر یعنی وہ راجح بھی ہے کس اعتبار سے راجح ہے؟ اما باعتبار کونہ غلب الاستعمال یا تو غالب الاستعمال ہونے کی وجہ سے حقیقت مستعمل تو ہے لیکن غالب الاستعمال کیا ہے؟ مجاز تو مجاز کو کیا آگئی؟ مجاز کو ترجیح مل گئی مولانا وہ راجح ہو گیا بھئی تو لہذا وہ مجازی معنی استعمال مراد ہوگا اور باعتبار کونہ عام شامیلا للحقیقت ایضا یا دوسرا قول وہ کیا تھا ان کا؟ عموم مجاز والا اس اعتبار سے کہ مجاز ایسا عام ہے شامل الحقیقت ایضا جو حقیقت کو بھی شامل جو حقیقت خود ہی اس مجاز کے اندر داخل ہو رہی ہے تو وہ بھی باہر نہیں رہتی تو لہذا یہ والا معنی مراد لینا اولی ہے۔ فلا بد ان یکون العمل بالمجاز اولی للضرورۃ الداعیۃ الیہ پس ضروری ہے کہ عمل بالمجاز اولی ہو للضرورۃ الداعیۃ الیہ اس ضرورت کی بنا پر جو اس کی طرف داعی ہے اور وہ ضرورت کیا ہے مولانا کہ مجاز متعارف ہے مجاز کیا ہے؟ متعارف ہے اس ضرورت کی بنا پر عمل بالمجاز اولی ہے جبکہ امام صاحب کیا فرماتے ہیں کہ لفظ جب معنی حقیقی کے لیے وضع ہے اور اس میں استعمال بھی ہوتا ہے تو عمل بالحقیقت اولی ہے۔ وظهر الخلاف فی قوله لعبده وہو اکبر سن منہ ھذا ابنی اور اختلاف ظاہر ہوگا ایظهر الخلاف اختلاف ظاہر ہوتا ہے یعنی ثمار اختلاف ظاہر ہوتا ہے آگے شارح بتلائیں گے مولانا۔ یظھر کے بعد ثمار کا لفظ نکالیں گے ایظھر سمرہ سمرہ اختلاف ظاہر ہوگا بھئی۔ تو ثمار اختلاف ظاہر ہوتا ہے فی قولی کسی شخص کے اس قول کے فی قولی لعبده کسی شخص کے اس قول میں جو اپنے غلام سے کہتا ہے وہ اکبر سن منہ اس حال میں کہ وہ غلام اس سے عمر میں بڑا ہے ھذا ابنی وہ کیا کہتا ہے اپنے اس غلام سے جو عمر میں اس سے بڑا ہے ھذا ابنی یہ میرا بیٹا ہے۔ ایظھر ثمرۃ الخلاف ثمرہ اختلاف ظاہر ہوتا ہے بین ابی حنیفہ رحمہ اللہ و صاحبہ اور صاحبین کے درمیان بھئی یہ ثمرہ کا لفظ کیوں نکالا؟ وجہ یہ ہے مولانا انہوں نے اس مصنف رحمہ اللہ فرما رہے ہیں اوپر متن میں ویظھر الخلاف اختلاف ظاہر ہوتا ہے اختلاف تو خود ہی ظاہر ہے امام صاحب فرما رہے ہیں نائب ہے تکلم میں صاحبین فرما رہے ہیں نائب ہے حکم اختلاف تو پہلے ہی ظاہر ہے پھر کہتے ہیں ثمرہ اختلاف اس میں ظاہر ہوگا یہاں آ کر پتہ لگے گا بھئی حکم الگ الگ ہو جائے گا دونوں کا۔ ایظهر ثمرۃ الخلاف بین ابی حنیفہ صاحب صاحبین کے درمیان ثمرہ اختلاف ظاہر ہوتا ہے فی قول الرجل لعبده کسی شخص کے اپنے غلام سے اس قول کے اندر ھذا ابنی کہ یہ میرا بیٹا ہے والحال ان العبد اکبر سن من القائل اور حال یہ ہے کہ غلام بڑا ہے عمر میں کہنے والے سے حیث یعتق العبد عندہ اس حیثیت سے کہ وہ غلام آزاد ہو جائے گا امام صاحب کے نزدیک لا عندہما صاحبین کے نزدیک آزاد نہیں۔ کیوں؟ فانہ عند ابی حنیفہ رحمہ اللہ کیونکہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک ھذا الکلام صحیح بعبارته یہ کلام کیا ہے اپنے عبارت کے اعتبار سے صحیح ہے من حیث کونہ مبتدا و خبرا اس حیثیت سے کہ یہ مبتدا اور خبر ہے موضوعا لاثبات الحکم اور وضع کیا گیا ہے کس لیے؟ حکم کے اثبات کے لیے ولا معنی کونہ صحیح استقامۃ العربیۃ فقط اور صحیح ہونے کا یہ معنی نہیں ہے کہ عربی اعتبار سے کلام درست ہو۔ شارح فرما رہے ہیں امام صاحب نے کیا فرمایا کہ کلام کو کیا ہونا چاہیے؟ صحیح ہونا چاہیے۔ تو کہتے ہیں نہیں بھئی صرف صحیح ہونے کا یہ معنی نہیں کہ صرف عربی اعتبار سے کلام صحیح ہے ایک مبتدا ایک خبر ہے آپ کہیں لو بھئی کلام صحیح ہے ہر حال میں نہیں۔ بلکہ عقلا بھی وہ ممکن ہو ممتنع نہ ہو عقلا بھی درست ہو مولانا جیسے آگے مثال آئے گی دیکھنا عربی اعتبار سے کلام صحیح ہوگا لیکن عقلا صحیح نہیں۔ ولیس معنا کونہ صحیحا استقامۃ العربیۃ فقط اور صحیح ہونے کا معنی عربی کا درست ہونا نہیں ہے کلام از نہ کہماز نہ جیسے کہ ہمارے علماء نے گمان کیا ہے لانہ ابو حنیفہ رحمۃ اللہ تعالی قال فی قول الرجل لعبده اس لیے کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کسی شخص کا اپنے غلام کے بارے میں یہ کہنا جو ہے اس کے بارے میں فرماتے ہیں مثلا کوئی شخص اپنے غلام سے کیا کہتا ہے اعتقتک قبل ان تخلق میں نے تجھے آزاد کر دیا قبل اس کے کہ تو پیدا ہوا۔ تیرے پیدا ہونے سے پہلے ہی میں نے تجھے کیا کر دیا تھا؟ آزاد کر دیا تھا۔ یا تخلق کی جگہ اخلق کہتا ہے اعتقتک قبل ان اخلق میں اپنے پیدا ہونے سے پہلے ہی تجھے کیا کر دیا؟ آزاد کر دیا تھا۔ اب عربی اعتبار سے عبارت بالکل ٹھیک ہے مولانا ترکیب بالکل صحیح ہے لیکن عقلا یہ کلام بھئی کیا وہ پیدائش سے پہلے غلام کو آزاد کر سکتا ہے کوئی؟ نہیں یا اپنے پیدا ہونے سے پہلے غلام کو آزاد کر سکتا ہے؟ نہیں تو یہ دیکھو عربی اعتبار سے کلام صحیح لیکن عقلا کیا ہے؟ درست نہیں۔ تو اس کسی شخص کا یہ اپنے غلام کو یہ کہنا اعتقتک قبل ان تخلق یا اعتقتک قبل ان اخلق اس شخص کے اس قول کے بارے میں امام صاحب فرماتے ہیں کہ انہ کلام باطل کہ یہ کلام کیا ہے باطل ہے لا یصح تكلّمه مع انہ بحسب العربیۃ صحیح ایضا اس پر تکلم صحیح نہیں ہے امام صاحب فرماتے ہیں باوجود اس کے کہ یہ حالانکہ عربی کے اعتبار سے صحیح صحیح بھی ہے بل معناہ بلکہ معنی یہ ہے امام صاحب نے جو کہا نا کہ صحیح ہونا چاہیے کلام کو عربی اعتبار سے اس کا معنی یہ ہے کہ ان يكون صحیحا بعبارته کہ وہ کلام صحیح ہو اپنے عبارت کے اعتبار سے وتستقيم الترجمۃ المفهومۃ منه لغت ایضا اور وہ مترجمہ جو اس سے لغت کی یعنی عربی زبان کے اعتبار سے سمجھ میں آ رہا ہے وہ بھی کیا ہونا چاہیے؟ درست ہونا چاہیے صحیح ہونا چاہیے ولم یمتنع عقلا اور عقلا ممتنع نہ ہو۔ فقوله اعتقتک قبل ان تخلق او اخلق لیس كذلك پس اس شخص کا یہ کہنا اعتقتک قبل ان تخلق یا یہ کہنا اعتقتک قبل ان تخلق لیس كذلك یہ ایسا نہیں ہے اس لیے کہ اس سے جو لغوی معنی سمجھ میں آ رہا ہے وہ عقلا ممتنع ہے مولانا۔ بخلاف قوله ھذا ابنی بخلاف اس شخص کے یہ کہنے کہ ھذا ابنی کہ یہ میرا بیٹا لانہ صحیح مع ترجمته اسی کیونکہ یہ کلام کیا ہے صحیح ہے اپنے ترجمے کے ساتھ وانما الاستحالہ جات من اجل اور یہاں جو استحالہ آیا یعنی محال ہونا آیا اسی وجہ سے کہ ان المشار الیہ اکبر من القائل کہ مشار الیہ جس کی طرف اشارہ کیا گیا تھا وہ قائل کی طرف سے کیا تھا عمر میں بڑا تھا۔ ھذا ابنی کلام تو صحیح تھا عربی اعتبار سے ہر لحاظ سے لیکن استحالہ صرف کس اعتبار سے آیا؟ ایک امر خارجی کی وجہ سے اور وہ امر خارجی کیا تھا؟ کہ وہ غلام اس سے عمر میں بڑا تھا ورنہ ھذا ابنی کلام بالکل صحیح ہے عربی اعتبار سے کوئی بھی اس پر تکلم کرے تو صورت سمجھ میں آگئی تو لہذا جب یہ صحیح ہے ہر اعتبار سے تو اب خارجی امر کی وجہ سے محال چیز لازم آئی تو اب ہم کس کی طرف چلے جائیں گے؟ مجاز کی طرف۔ ولہذا لو قال العبد الاکبر منی ابن لغا ھذا الکلام اسی وجہ سے اگر کسی شخص نے کہا کوئی شخص یہ کہتا ہے العبد الاکبر منی ابنی وہ غلام جو عمر میں مجھ سے بڑا ہے میرا بیٹا ہے۔ وہ غلام جو عمر میں مجھ سے بڑا ہے میرا بیٹا ہے لغا ھذا الکلام یہ کلام کیا ہو جائے گا؟ لغو کیونکہ عربی اعتبار سے یہ کلام صحیح نہیں ہے۔ کیونکہ کیا کہہ رہا ہے؟ وہاں تو تھا ھذا ابنی یہ میرا بیٹا ہے حقیقی معنی بالکل ٹھیک کوئی خرابی نہیں۔ اس کا ذرا صحیح ترجمہ کرو العبد الاکبر منی ابنی وہ غلام جو بڑا ہے مجھ سے عمر میں وہ میرا ہو ہی نہیں سکتا بھئی بیٹا صورت سمجھ میں آگئی عمر میں بڑا ہو تو لہذا لگا ھذا الکلام یہ کلام لغو ہو جائے گا۔ فإذا كان قوله ھذا ابنی صحیحا من حيث العربیۃ والترجمۃ پس جب یہ ھذا ابنی کا قول جو ہے وہ صحیح ہے عربی اور ترجمے کے اعتبار سے وکان المعنى الحقيقي محالا بالنظرو الی الخارجی اور معنی حقیقی جو ہے وہ محال ہے خارج کی طرف نظر کرتے ہوئے سیر الی المجاز تو رجوع کس کی طرف کیا جائے گا؟ مجاز کی طرف لئلا یلغو الکلام تاکہ کہیں کلام بالکل ہی لغو نہ ہو جائے بھئی۔ وہو العتق اور معنی مجازی کیا ہے؟ وہ آزادی ہے من حین ملکه اس کے مالک ہونے کے وقت سے غلام ابھی سے نہیں آزاد شمار ہوگا بلکہ جب سے یہ شخص اس کا مالک ہوا ہے اس وقت سے یہ کیا ہوگا؟ آزاد ہوگا۔ صورت سمجھ میں آگئی لہذا اس نے مثلا ایک سال پہلے خریدا تھا اس وقت سے یہ آزاد شمار ہوگا۔ اور اس ایک سال کے اندر بھئی اگر غلام تھا کوئی اس کو کوئی چیز ہبہ کرتا تو وہ کس کی ہوتی؟ آقا کی۔ لیکن اب اس وقت سے ہی آزاد ہے تو لہذا اس دوران جو کچھ کسی نے کسی چیز کا مالک بنایا ہوگا وہ اسی کی ہو جائے گی بھئی اسی کی ہوگی۔ یہ معنی وہو العتق اور وہ آزادی ہے اس کی مالک ہونے کے وقت سے لان الابن لان الابن يكون حرا علی الأبد دائما اس لیے کیونکہ بیٹا جو ہوتا ہے وہ باپ پر ہمیشہ آزاد ہی ہوتا ہے و عندہما لما کانت الخلافيه فی الحکم اور صاحبین کے نزدیک جب نائب ہونا حکم کے اندر ہے وکان امکان المعنى الحقيقي شرطا لصحه المجازی اور معنی حقیقی کا ممکن ہونا یہ شرط ہے مجاز کے صحیح ہونے کے لیے تو لغا ھذا الکلام تو ان کے نزدیک یہ کلام کیا ہو جائے گا؟ لغو کیونکہ کیا کہہ رہا ہے؟ اپنی عمر سے بڑے والے کو کہہ رہا ہے ھذا ابنی تو ان کے نزدیک یہ حکم معنی حقیقی یہاں ممکن ہی نہیں ہے بڑی عمر والا اس کا بیٹا ہو ہی نہیں سکتا تو یہ کلام اس کلام کا حکم معنی حقیقی کے اعتبار سے صحیح نہیں لہذا معنی مجازی بھی مراد نہیں لے سکتے۔ تو یہ کلام لغ ہو جائے گا لین بنوة من الاصغر سنا لا يمكن اس لیے کیونکہ بیٹا ہونا چھوٹے سے عمر کے اعتبار سے یہ ممکن ہی نہیں ہے حتی یحمل علی المجازی یہاں تک کہ اس کو محمول کیا جائے اس مجاز پر الذی هو العتق جو آزادی ہے لا یقال فینبغی ان يكون قوله اچھا اعتراض ذکر کر رہے ہیں کہ آپ نے کیا کہا؟ صاحبین کے نزدیک کہ معنی حقیقی ممکن ہونا چاہیے پھر کس کی طرف جائیں گے؟ معنی مجازی ایک شخص کہتا ہے زید اسد زید شیر ہے حالانکہ بل الاجماع تمام علمائے عربی سب کے نزدیک یہ کلام درست ہے حالانکہ یہاں تو معنی حقیقی ممکن ہی نہیں ہے زید شیر ہو سکتا ہے؟ یہ تو معنی حقیقی ممکن ہی نہیں ہے جب حقیقی معنی وہ حکم ہی نہیں صحیح تو معنی مجازی کی طرف بھی نہیں جانا چاہیے تو مصنف جواب دیں گے مولانا کہ نہیں ہم یہ کہتے ہی نہیں یہ مجاز ہے بلکہ یہاں حرف تشبیہ محذوف ہے اصل میں زید کا اسدین زید کس کی طرح ہے؟ زید شیر جیسا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں لا یقال یہ نہ کہا جائے فینبغی ان يكون قوله زید اسد لغوا کہ پھر تو کسی شخص کا زید اسد کا یہ کلام لغو ہونا چاہیے لعدم إمكان الحقیقی وجہ حقیقت کے ممکن نہ ہونے کے لیے لان لا نسلم انہ مجاز اس لیے کیونکہ ہمیں یہ بات تسلیم ہی نہیں ہے کہ یہ مجاز ہے بل حقیقت بل کہ یہ حقیقت ہے بحذف حرف التشبیہ حرف تشبیہ کے حذف کے ساتھ یہ حقیقت ہی ہے ای زید کالسدی زید کس کی طرح ہے؟ شیر کی طرح ہے و اما قوله رایت اسدا یرمی وقت ایک شخص کا یہ کہنا رایت اسدا یرمی میں نے شیر کو دیکھا تیر چلاتے ہوئے فانہ وان كان یہاں اب یہاں آپ کیا کریں گے یہاں تو حرف تشبیہ سے بھی کام نہیں چلے گا اب تو یہاں آپ کو کہنا ہی پڑے گا کہ یہ کیا ہے؟ معنی مجازی اور صاحبین کے نزدیک تو یہ درست نہیں ہونا چاہیے کیونکہ یہاں معنی حقیقی ممکن ہی نہیں شیر کبھی بھی تیر نہیں چلا سکتا تو رجل شجاع بھی پھر مراد نہیں لے سکتے۔ تو کہتے ہیں یہ جو قول ہے کسی شخص کا وان کان مجازا جی اگرچہ مجاز ہے لیکن المقصود بالحقیقت خبر الرؤیتی لیکن حقیقت کے لیے مقصود کیا ہے؟ خبر الرؤیتی دیکھنے کی خبر دینا ہے کس چیز کی خبر دینا؟ دیکھنے کی رایت اسد یرمی کس چیز کی خبر دے رہا ہے؟ میں نے ایک شیر کو تیر چلاتے ہوئے دیکھا تو اپنا دیکھنا بیان کر رہا ہے۔ کس کو؟ اگر مقصود ہوتا شیر کا تیر چلانا پھر تو یہ کلام کیا ہونا چاہیے تھا؟ معنی مجازی بھی صحیح نہیں کیونکہ معنی حقیقی ممکن ہی نہیں۔ تو یہ چیز غیر مقصود ہوئی اور مقصود کیا ہے؟ کیا بیان کرنا چاہتا ہے وہ؟ اپنے دیکھنے کو میں نے دیکھا اور دیکھنا کیا ہے؟ رویت کیا ہے؟ مقصود چیز ہے اس میں تو محال کوئی نہیں ہے بھئی۔ لكن المقصود بالحقیقت خبر الرؤیتی لیکن مقصود حقیقت کے لیے وہ رویت کی خبر دینا ہے لا کونه اسدا اس کے اسد ہونے کی خبر دینا مقصود نہیں ہے حتی يلزم المحال کستا یہاں تک کہ قسطن کیا لازم آتا؟ محال لازم آتا جی تو لہذا یہ غیر مقصود ہوا اب اگرچہ محال لازم آ رہا ہے لیکن وہ غیر مقصود ہے اور رویت کی خبر دینا دیکھنا بھئی دیکھنا ممکن ہے یا ممکن نہیں؟ مطلق دیکھنا بھئی مطلق دیکھنا سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یعنی شیر کو تیر چلاتے ہوئے دیکھنے کی بات نہیں مطلق رویت کس کی خبر دے رہا ہے؟ اپنے رویت کی خبر دے رہا ہے باقی آگے جو بات ہے کیا شیر کا تیر چلانا ٹھیک ہے وہ غیر وہ وہاں پر ایک محال آیا لیکن محال مقصود ہے یا غیر مقصود؟ غیر مقصود تو غیر مقصود سے محال آ رہا ہے مقصود کی وجہ سے محال نہیں آ رہا لہذا یہ کلام صحیح ہے۔ وقیل اور کہا گیا یمکن کونه اسدا اسد ثم بعد الفراغ عن بيان علاقات المجاز شرع أن يبين أنه في أي موضع تترك الحقيقة وفي أي موضع يترك المجاز، فقال: "وإذا كانت الحقيقة متعذرة أو مهجورة صير إلى المجاز"، يعني بالمتعذر ما لا يمكن الوصول إليه إلا بلمشقة، وبالمهجور ما يمكن وصوله إلا أن الناس تركوه. آج کے سبق میں ہم یہ پڑھیں گے کہ کس مقام پر حقیقت کو ترک کیا جائے گا اور کس مقام پر مجاز کو ترک کیا جائے گا۔ یعنی کس مقام پر حقیقی معنیٰ کو چھوڑ کر مجازی معنیٰ کی طرف جائیں گے اور کس مقام پر مجازی معنیٰ کو چھوڑ کر حقیقت کی طرف جائیں گے اور مجازی معنیٰ کو چھوڑ دیا جائے گا بھئی۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ تو دیکھیے کہتے ہیں: ثم بعد الفراغ عن بيان علاقات المجاز، پھر مجاز کے علاقوں کے بیان سے فارغ ہونے کے بعد شرع مصنف رحمہ اللہ شروع ہوئے کہ أن يبين یہ بیان کہ یہ بیان کریں کہ أنه في أي موضع تترك الحقيقة کہ کس مقام کے اندر حقیقت کو چھوڑ دیا جائے گا، وفي أي موضع يترك المجاز اور کس مقام میں مجاز کو چھوڑ دیا جائے گا، فقال پس مصنف رحمہ اللہ فرماتے ہیں بھئی۔ آج کے سبق کا خلاصہ یہ ہے مولانا۔ آپ کو بتلائیں گے کہ حقیقت تین قسم پر ہے: ایک حقیقت مستعملہ ہے، ایک حقیقت متعذرة ہے، ایک حقیقت مہجورة ہے بھئی۔ اصول الشاشی میں آپ یہ پڑھ چکے ہوں گے۔ حقیقت مستعملہ کسے کہتے ہیں؟ کہ لفظ معنیٰ حقیقی کے اندر عام عادت میں استعمال ہوتا ہو بھئی، اسے کیا کہتے ہیں؟ حقیقت مستعملہ کہتے ہیں۔ کہ لفظ کس معنیٰ کے اندر استعمال ہوتا ہے؟ حقیقی معنیٰ میں، معنیٰ موضوع لہ کے اندر استعمال ہوتا ہے۔ تو یہ لفظ جو معنیٰ موضوع لہ کے اندر استعمال ہوا حقیقت کہلاتا ہے اور یہ حقیقت مستعملہ ہے کہ عام یہ کیا ہے؟ عام عرف میں اور عادت میں معنیٰ موضوع لہ کے اندر استعمال ہوتا ہے۔ اور ایک ہے حقیقت مہجورة۔ حقیقت مہجورة اسے کہتے ہیں کہ جسے چھوڑ دیا گیا ہو، یعنی وہ حقیقی معنیٰ عرف کے اندر اس لفظ سے مراد نہیں لیا جاتا۔ حقیقی معنیٰ اس لفظ سے مراد نہیں لیے جاتے۔ وہ لفظ جس کے لیے یہ وہ معنیٰ جس کے لیے یہ لفظ وضع کیا گیا تھا اس معنیٰ کا ارادہ کوئی بھی نہیں کرتا بھئی عرف کے اندر، اس کو کیا کہتے ہیں؟ حقیقت مہجورة۔ یعنی معنیٰ موضوع لہ کو چھوڑ دیا گیا، کوئی بھی اس کا ارادہ نہیں کرتا بھئی۔ تیسری قسم ہے حقیقت متعذرة بھئی۔ حقیقت متعذرة اسے کہتے ہیں کہ جہاں حقیقت پر عمل کرنا مشکل ہوتا ہے۔ حقیقی معنیٰ پر یعنی معنیٰ موضوع لہ پر عمل کرنا کیا ہوتا ہے؟ مشکل ہوتا ہے بھئی۔ تو یہ تین قسم پر ہوئے مولانا: ایک حقیقت مستعملہ، ایک حقیقت مہجورة اور تیسرا حقیقت متعذرة۔ جی، تقریر کا حاصل یہ ہے جو آگے یہ کریں گے کہ حقیقت متعذرة ہو یا حقیقت مہجورة ہو تو اس صورت میں مجاز کی طرف جائیں گے۔ جب حقیقت متعذر ہے، مشکل ہے اس پر عمل کرنا تو اس صورت میں کس کی طرف چلے جائیں گے؟ معنیٰ مجازی کی طرف۔ عمل کیا تو جا سکتا ہے لیکن مشکل ہے حقیقت پر عمل کرنا، تو اس صورت میں حقیقی معنیٰ مراد نہیں لیں گے بلکہ کون سا معنیٰ مراد لیں گے؟ مجازی معنیٰ مراد لیں گے۔ اسی طرح اگر حقیقت مہجورة ہو، تو جب یہ حقیقت مہجورة ہے، اس کو ترک کر دیا گیا ہے تو اس صورت کے اندر بھی حقیقی معنیٰ یعنی معنیٰ موضوع لہ مراد نہیں لیں گے بلکہ کون سا معنیٰ مراد لیں گے؟ معنیٰ مجازی، مجاز کی طرف چلے جائیں گے بھئی۔ اور تیسری صورت ہے حقیقت مستعملہ بھئی، حقیقت مستعملہ۔ حقیقت مستعملہ کے اندر پھر یاد رکھو، وہاں اس کا کوئی مجاز ہوگا یا مجاز نہیں، معنیٰ موضوع لہ میں بھی لفظ استعمال ہوتا ہے اور معنیٰ غیر موضوع لہ میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ معنیٰ موضوع لہ کے اندر استعمال ہو تو یہ ہے حقیقت، معنیٰ غیر موضوع لہ میں استعمال ہو تو یہ مجاز۔ تو جب حقیقت ہے، ساتھ کبھی مجاز ہوگا کبھی مجاز نہیں، کبھی ہو سکتا ہے کہ لفظ صرف معنیٰ موضوع لہ میں استعمال ہوتا ہے، معنیٰ مجازی کے اندر استعمال نہیں، تو یہاں تین چار صورتیں بن جائیں گی: لفظ معنیٰ موضوع لہ میں استعمال ہوتا ہے اور معنیٰ غیر موضوع لہ میں استعمال نہیں ہوتا بھئی، ایک صورت۔ دوسری صورت: معنیٰ موضوع لہ میں بھی استعمال ہوتا ہے اور معنیٰ غیر موضوع لہ میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ پھر یہاں پر دونوں میں برابر استعمال ہوتا ہوگا یا ایک میں کم استعمال ہوگا ایک میں زیادہ استعمال ہوگا بھئی۔ مثلاً بھئی، حقیقی معنیٰ معنیٰ موضوع لہ میں بھی وہ لفظ استعمال ہوتا ہے اور معنیٰ غیر اور برابر ہیں دونوں۔ عام طور پر لوگ معنیٰ حقیقی کا بھی ارادہ کرتے ہیں اور معنیٰ دونوں میں استعمال ہوتا رہتا ہے، برابر استعمال ہوتا ہے۔ یا معنیٰ حقیقی میں استعمال غالب ہوگا اور معنیٰ مجازی کے اندر استعمال کم ہوگا۔ یا معنیٰ مجازی میں استعمال غالب ہوگا اور معنیٰ حقیقی میں استعمال کم ہوگا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو لہٰذا کتنی صورتیں بن گئیں؟ چار صورتیں۔ پہلی صورت کہ معنیٰ حقیقی میں استعمال ہوتا ہے، معنیٰ مجازی میں استعمال ہوتا ہی نہیں۔ دوسری صورت: معنیٰ حقیقی میں استعمال ہوتا ہے اور معنیٰ مجازی میں بھی اور دونوں برابر ہیں۔ تیسری صورت: معنیٰ حقیقی میں زیادہ استعمال ہوتا ہے اور معنیٰ مجازی میں کم استعمال ہوتا ہے۔ چوتھی صورت: معنیٰ مجازی میں زیادہ استعمال ہوتا ہے اور معنیٰ حقیقی میں کم ہوتا ہے۔ تو یاد رکھیے، ان چار میں سے جو پہلی تین صورتیں ہیں ان کے اندر تو حقیقی معنیٰ ہی مراد ہوگا۔ پہلی تین صورتیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ کون سی پہلی تین صورتیں؟ اگر پہلی صورت: معنیٰ مجازی جب ہے ہی نہیں، پھر تو یقینی طور پر کیا مراد ہوگا؟ حقیقی معنیٰ، معنیٰ موضوع لہ ہی مراد ہوگا۔ دوسری صورت: معنیٰ حقیقی اور معنیٰ موضوع لہ دونوں میں کیا ہوتا ہے؟ برابر استعمال ہوتا ہے، جب برابر ہے تو پھر بھی حقیقت اولیٰ ہے، کون سا معنیٰ مراد ہوگا؟ حقیقی معنیٰ۔ تیسری صورت مولانا کہ معنیٰ حقیقی غالب ہے اور معنیٰ مجازی قلیل ہے تو اس صورت میں بھی کس کے استعمال کون سا معنیٰ مراد ہوگا؟ معنیٰ حقیقی بالاتفاق بھئی ان تینوں صورتوں میں۔ ہاں، چوتھی صورت کہ مجاز میں یعنی معنیٰ غیر موضوع لہ میں وہ زیادہ استعمال ہوتا ہے اور معنیٰ موضوع لہ کے اندر کم استعمال ہوتا ہے، تو ایسے موقع پر اب کون سا معنیٰ مراد لیا جائے گا؟ اس میں صاحبین کا اور امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا اختلاف ہے۔ امام صاحب فرماتے ہیں کہ ایسے موقع پر بھی حقیقت اولیٰ ہے۔ حقیقت کیا ہے؟ اولیٰ ہے۔ لہٰذا حقیقی معنیٰ مراد دیا جائے گا، اگرچہ مجاز زیادہ ہے، غالب ہے، لیکن معنیٰ حقیقی اولیٰ ہے کیونکہ لفظ کو اسی معنیٰ کے لیے وضع کیا گیا ہے۔ جبکہ صاحبین کے اس بارے میں دو قول ہیں مولانا۔ صاحبین اس صورت میں فرماتے ہیں کہ پہلا قول ان کا یہ ہے کہ معنیٰ مجازی پر عمل کیا جائے گا، جب مجاز غالب ہے تو لہٰذا مجاز کو ترجیح حاصل ہو گئی بھئی، مجاز راجح ہو گیا بھئی، لہٰذا کون سا معنیٰ مراد دیا جائے گا؟ معنیٰ مجازی، یہ پہلا قول ان کا۔ دوسرا قول ان کا یہ ہے کہ عموم مجاز پر عمل کیا جائے گا، یعنی ایسے معنیٰ مجازی مراد لیے جائیں گے کہ حقیقت بھی اس کے اندر داخل ہو جائے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ تھا سارے سبق کا خلاصہ، اب اسی کے اندر بس مثالیں وہ ذکر کرتے چلے جائیں گے، دیکھیے مولانا کتاب پر: کہتے ہیں: وإذا كانت الحقيقة متعذرة أو مهجورة، اور جب حقیقت متعذرہ ہو یا مہجورہ ہو، صير إلى المجاز، تو مجاز کی طرف رجوع کیا جائے گا۔ یعنی بالمتعذر، یہاں سے شارح یہ بتلا رہے ہیں بھئی متعذر کا لغوی معنیٰ تو ہے ناممکن کہ وہ حقیقتاً ناممکن ہو، لیکن یہاں یہ مراد نہیں ہے بلکہ متعذر کس معنیٰ میں ہے؟ متعسر کے معنیٰ میں ہے جو مشکل ہو، جو کیا ہو؟ مشکل، جس پر عمل ممکن تو ہے لیکن مشکل ہے۔ چنانچہ کہتے ہیں: یعنی بالمتعذر ما لا يمكن الوصول إليه إلا بمشقة، کہ متعذر کے ذریعے وہ معنیٰ لغوی مراد ہے کہ پہنچنا ممکن نہ ہو اس تک إلا بمشقة مگر کس کے ذریعے؟ مشقت کے ساتھ بھئی۔ وبالمهجور ما يمكن وصوله، اور مہجور کے ذریعے وہ معنیٰ مراد ہے، وہ معنیٰ موضوع لہ کہ ممکن تو ہو اس تک پہنچنا إلا أن الناس تركوه مگر لوگوں نے اسے چھوڑ دیا ہو۔ كما إذا حلف لا يأكل من هذه النخلة، جیسے کسی شخص نے قسم اٹھائی کہ وہ اس کھجور کے درخت میں سے نہیں کھائے گا۔ ایک شخص قسم اٹھاتا ہے: واللہ لا آکل من ھذہ النخلۃ، کہ واللہ میں اس کھجور کے درخت میں سے نہیں کھاؤں گا۔ یہ مثال ہے حقیقت متعذرہ کی بھئی۔ اب کھجور کا درخت کھانا مولانا، یہ اس پر عمل حقیقی معنیٰ، حقیقی معنیٰ کیا ہے؟ عین درخت کو کھایا جائے، اس کے تنے کو، اس کے پتوں وغیرہ کو کیا کیا جائے؟ کھایا جائے۔ یہ ممکن تو ہے، کھایا تو جا سکتا ہے لیکن مشقت ہے اس کے اندر۔ سمجھ میں آیا؟ کوئی شخص کیا کرے؟ اس کا پتہ توڑ کے کھاتا ہے یا اس کے تنے سے کچھ ٹکڑے توڑ کر کھاتا ہے، کھا تو سکتا ہے لیکن مشقت ہے، مشکل ہے۔ تو لہٰذا اس صورت کے اندر اب کون سا معنیٰ مراد لیں گے؟ معنیٰ مجازی۔ اور معنیٰ مجازی کیا مراد ہوگا؟ اس کا پھل بھئی۔ تو لہٰذا اب جس نے یہ قسم اٹھا لی، وہ اب اس کھجور کے درخت کا پھل کھانے سے حانث ہوگا، کھجوریں کھائے گا اس کی تو حانث ہوگا اور معنیٰ حقیقی کو جب ترک کر دیا گیا تو اب وہ پتے کھا لیتا ہے یا اس کے تنے میں سے کچھ ٹکڑا کاٹ کر کھا لے تو اس صورت میں حانث نہیں ہوگا، البتہ پھل کھانے سے کیا ہو جائے گا؟ حانث۔ یہ تو اس صورت کے اندر ہے کہ جب وہ درخت پھل دار ہو۔ اگر وہ کسی ایسے درخت کے بارے میں قسم اٹھاتا ہے جو پھل دینے والا نہیں ہے بھئی کہ "واللہ لا آکل من ھذہ الشجرۃ" میں اس درخت میں سے نہیں کھاؤں گا، تو اس صورت کے اندر یاد رکھیے، اب یہ پھل دار تو ہے نہیں، تو اس صورت میں اس درخت کو بیچ کر جو پیسے، جو ثمن حاصل ہوں گے وہ مراد ہو لیے جائیں گے بھئی، وہ مراد لیے جائیں گے۔ تو ہاں، اسی درخت کے پتے یا تنا توڑ کر کھاتا ہے اس صورت میں حانث نہیں ہوگا کیونکہ یہ حقیقت متعذرہ ہے۔ ہاں، اس درخت کو اگر کاٹا گیا اور اس کو بیچا گیا اور اس سے جو ثمن حاصل ہوئے ان ثمن کو اس نے کھا لیا تو پھر اس صورت میں کیا ہو جائے گا؟ حانث ہو جائے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ کہتے ہیں: مثال للمتعذرة، یہ مثال ہے حقیقت متعذرہ کی، إذ أكل النخلة نفسها يتعذر، اس لیے کہ نفس کھجور کا کھانا جو ہے وہ يتعذر مشکل ہے، فيراد المجاز، پس مجاز مراد ہوگا، وهو ثمرها، بھئی مجاز کیا ہے؟ کہتے ہیں: وہ اس کا پھل ہے اس کھجور کا، فإن لم تكن الشجرة ذات ثمر، اگر وہ درخت پھل والا نہ ہو، يراد بها ثمنها الحاصل بالبيع، تو مراد اس کے ذریعے اس کا وہ ثمن ہوگا جو حاصل ہو کس کے ذریعے؟ بیع کے ذریعے، ولو تكلف وأكل من عين النخلة، اور اگر اس شخص نے تکلف کیا، یعنی بتکلف اس نے عین کھجور کو کھا لیا یعنی اس کے تنے یا پتوں کو، لم يحنث، وہ حانث نہیں ہوگا، لأن المتعذر لا يتعلق به حكم، اس لیے کہ جو متعذر ہے اس کے ساتھ حکم کا تعلق نہیں ہوتا بلکہ کس کی طرف جا چکے ہیں ہم؟ مجاز کی طرف، وہاں معنیٰ مجازی مراد ہوتا ہے۔ ولا يقال، اور یہ اعتراض نہ کیا جائے۔ یہ ایک اعتراض اور پھر آگے اس کا جواب ذکر کریں گے۔ اشکال یہ کہ آپ نے یہ جو مثال ذکر کی کہ ایک شخص کہتا ہے کہ "واللہ میں اس کھجور کے درخت میں سے نہیں کھاؤں گا"، اس کو آپ نے مثال ذکر کیا حقیقت متعذرہ کے لیے، حالانکہ یہ حقیقت متعذرہ کی مثال نہیں بن سکتی۔ یہ حقیقت متعذرہ کی مثال نہیں بن سکتی، کیوں نہیں بن سکتی؟ کہتے ہیں: اس لیے کیونکہ وہ کیا کہہ رہا ہے؟ "میں اس درخت کو کھاؤں گا یا نہیں کھاؤں گا؟" نہیں کھاؤں گا۔ اور متعذر کھانا ہے یا نہ کھانا کھجور کے درخت کا؟ کھانا اس کا متعذر ہے، مشکل ہے۔ نہ کھانا؟ نہ کھائے بھئی، یہ تو کوئی مشکل نہیں ہے، نہ کھائے بھئی۔ اشکال سمجھ میں آیا؟ کہ آپ مثال ذکر کر رہے ہیں حقیقت متعذرہ کی اور قسم کہ جس میں ذکر ہوا وہ تو اس نے نہ کھانے کو ذکر کیا، اور نہ کھانا وہ تو متعذر نہیں ہے، مشکل نہیں ہے، کھانا مشکل ہے۔ تو کھانے کا ذکر ہوتا تو پھر آپ اس کو حقیقت متعذرہ کی مثال کے طور پر ذکر کرتے کیونکہ کھانا اس کا مشکل ہے، متعذر ہے، لیکن وہ تو نہ کھانے کو ذکر کر رہا ہے، وہ تو متعذر نہیں، لہٰذا اس کو حقیقت متعذرہ کی مثال میں ذکر کرنا درست نہیں ہے۔ جواب آگے دیں گے، پہلے سوال دیکھیے: ولا يقال، اور یہ نہ کہا جائے، إن المحلوف عليه، کہ وہ جس پر قسم اٹھائی گئی ہے، هو عدم أكل النخلة، وہ تو کھجور کے درخت کا نہ کھانا ہے، وهو غير متعذر، اور وہ نہ کھانا وہ تو متعذر نہیں ہے، وہ تو کیا ہے؟ غیر متعذر، وإنما المتعذر أكلها، اور متعذر مشکل جو ہے وہ تو اس کا کھانا ہے۔ اشکال سمجھ میں آ گیا سب کو؟ جواب دے رہے ہیں۔ جواب بھئی دیکھیے، جواب میں بتلائیں گے یہ کہ جب قسم نفی پر داخل ہو تو وہ قسم دراصل منع کے لیے ہوتی ہے، روکنے کے لیے کہ یہ قسم کیا کرے؟ اس آدمی کو روک لے، یہ اس چیز سے رک جائے۔ قسم جب کس پر داخل ہو؟ نفی پر داخل ہو تو کس لیے ہوتی ہے؟ منع کے لیے ہوتی ہے، منع کے لیے، منع کے لیے۔ تو قسم کا مقتضا کیا ہوتا ہے؟ کہ وہ فعل ممنوع بالیمین ہے۔ توجہ سے سننا بھئی، قسم کا مقتضا کیا ہوتا ہے حکم؟ کہ وہ فعل ممنوع بالیمین ہے، ممنوع ہے کس کی وجہ سے؟ قسم کی وجہ سے۔ وہ فعل ممنوع بالیمین ہے قسم کی وجہ سے بھئی۔ جی، تو کیا بات ہوئی جب قسم کس پر داخل ہو؟ نفی پر داخل ہو، تو اس کا مقتضا اور اس کا حکم کیا ہوتا ہے؟ کہ وہ فعل ممنوع بالیمین، یعنی ممنوع بالیمین وہ فعل ہوتا ہے کہ قسم کی وجہ سے اس سے روکا جائے، اس کو نہ کیا جائے بھئی، تو وہ فعل کیا ہوتا ہے؟ ممنوع بالیمین۔ اب آپ بتائیے، یہاں ممنوع بالیمین کیا چیز ہے؟ اکل ہے یا غیر اکل ہے؟ ممنوع بالیمین کیا ہے یہاں؟ قسم اسے کس چیز سے روک رہی ہے؟ کھانے سے روکنے والی ہے، تو یہاں ممنوع بالیمین اکل ہے، غیر اکل نہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو لہٰذا ممنوع بالیمین اکل ہوا، کھانا اس کا۔ اور کھانا، یہ تو متعذر ہے یا نہیں بھئی؟ کھانا تو متعذر ہے، لہٰذا اس کو حقیقت متعذرہ کی مثال میں ذکر کرنا صحیح ہے بھئی۔ جواب سمجھ میں آ گیا؟ بڑی باریک سی چھوٹی سی بات ہے، لیکن جواب میں بات بنتی نہیں، میرے لفظ بس یاد رکھنا کہ جب قسم نفی پر داخل ہو تو اس کا مقتضا کیا ہوتا ہے؟ کہ وہ فعل جو ہوتا ہے ممنوع بالیمین ہوتا ہے، تو یہاں خود دیکھ لیں ممنوع بالیمین کیا چیز ہے؟ کھانا یا نہ کھانا؟ کھانا، کھانا وہ جو ہے ممنوع ہے قسم کی وجہ سے، نہ کھانا؟ نہ کھانا تو پہلے سے ہی تھا۔ ہاں ممنوع بالیمین کیا ہوا؟ کھانا ہے، اور کھانا اس کا کھجور کے درخت کا کھانا، وہ تو متعذر ہے بھئی، تو لہٰذا اس کو حقیقت متعذرہ کی مثال میں ذکر کرنا درست ہے بھئی۔ لأنا، اب دیکھیے بھئی: لأنا نقول، اس لیے کیونکہ ہم کہتے ہیں: اليمين إذا دخلت على النفي، کہ یمین یعنی قسم جب داخل ہو جائے نفی پر، تكون للمنع، تو وہ کس لیے ہوگی؟ منع کے لیے ہوگی، روکنے کے لیے ہوگی، فموجب اليمين أن يصير الفعل ممنوعاً باليمين، تو قسم کا موجب یعنی قسم کا مقتضا اور حکم یہ ہے کہ أن يصير الفعل ممنوعاً باليمين کہ وہ فعل ممنوع بالیمین ہو جائے۔