درس نمبر۔48 ویرد علیٰ ہذا الجواب اعتراض، وهو انه ينبغي ان يعتبر مثل هذه الشبهة لاجل الاحتياط في حفظ الدم، فيما اذا استأمن على الآباء والأمهات، فيدخل فيه الأجداد والجدات. لان لفظ الآباء والأمهات ايضا يتناول بظاهر الاسم للاجداد والجدات. گزشتہ سبق میں بھئی کچھ اعتراضات اور ان کے جوابات شروع کیے تھے۔ اعتراضات وارد ہوتے تھے، ان کے جوابات مصنف ذکر کر رہے ہیں بھئی۔ اور کس ضابطے پر اعتراضات ہوتے تھے؟ کہ ضابطہ ہے ہمارے نزدیک حقیقت اور مجاز جمع نہیں ہو سکتے کہ بیک وقت دونوں کا ارادہ کیا جائے۔ تو گزشتہ سبق کے آخر میں ایک اعتراض پڑھا تھا بھئی کہ ایک شخص کہ کافر اگر امان طلب کرتے ہیں خلیفہ سے اس بات یہ کہتے ہیں کہ آمِنُونا علیٰ ابنائنا وموالينا، ہمیں ہمارے ابناء اور موالی پر امان دے دو۔ تو اس صورت کے اندر بھئی ابن کا حقیقی معنیٰ ہے بیٹا اور مجازاً کس کو کہتے ہیں؟ پوتے کو۔ تو اس صورت میں حقیقت یعنی بیٹے کو امان ہونی چاہیے پوتے کو نہیں، لیکن آپ کہتے ہیں بیٹے کو بھی امان ہے اور پوتے کو بھی امان ہے۔ اسی طرح موالی جو ہیں وہ معتق ہیں، معتق کے اندر حقیقت ہے اور موالي الموالي کے اندر مجاز ہے۔ تو یہاں صرف معتق جو ہے وہ داخل ہونا چاہیے امان کے اندر، لیکن آپ کیا کہتے ہیں موالی بھی داخل اور موالي الموالي بھی داخل، تو یہ تو آپ نے جمع بین الحقيقة والمجاز کر دیا۔ تو جواب دیا بھئی کہ یہاں پر شبہ کی وجہ سے ان کو بھی امان کے اندر داخل کر دیا گیا، شبہ کی وجہ سے۔ اس لیے کیونکہ میں نے ضابطہ بتلایا آپ کو کہ امان جو ہے وہ ادنیٰ شبہ کی وجہ سے بھی ثابت ہو جاتی ہے بھئی۔ تو شبہ کی وجہ سے چونکہ ظاہر اسم ان کو شامل ہے، اسم کا ظاہر جو ہے ان پر بھی بولا جاتا ہے ان پر بھی اس کا اطلاق کیا جاتا ہے، پوتے کو بھی کیا کہہ دیتے ہیں؟ ابن کہہ دیتے ہیں بھئی، تو ظاہر اسم ہی خود شبہ بن گیا خون کی حفاظت کے لیے، چنانچہ وہ امان میں داخل ہوئے۔ اب آج اس پر ایک اعتراض ذکر کر رہے ہیں بھئی، اعتراض ہوتا ہے کہ پھر تو جو خون کی حفاظت کے لیے آپ نے جس شبہ کا اعتبار کیا اس کا اعتبار آباء اور امہات کے لیے جب امان طلب کی جائے تو وہاں بھی اعتبار کیا جانا چاہیے۔ مثلاً وہ کفار جو ہیں وہ امان طلب کرتے ہیں کہ آمِنُونا علیٰ آبائنا وامهاتنا، کہ امان دے دو ہمیں ہمارے آباء پر اور ہماری امہات، ماؤں پر بھئی۔ تو اب کا حقیقی معنیٰ کیا ہے؟ باپ۔ اور مجازی معنیٰ؟ دادا وغیرہ۔ اچھا، اور اسی طرح امہات بھئی، حقیقی معنیٰ کیا ام کا؟ ماں۔ اور مجازاً نانی دادی کو بھی کیا کہہ دیتے ہیں؟ ام کہہ دیتے ہیں۔ تو یہاں پر بھی بھئی، خون کی حفاظت کے لیے جب عموم لفظ، اب کا اطلاق جب دادا نانا پر بھی ہو جاتا ہے اسی طرح ام کا اطلاق نانی دادی پر بھی ہو جاتا ہے، تو انہیں بھی کیا ہونا چاہیے؟ امان کے اندر داخل ہونا چاہیے، کیونکہ ظاہر لفظ کا اطلاق ان پر بھی کیا جاتا ہے جس طرح کے گزشتہ مثال کے اندر ابن کا اطلاق کس پر ہوتا تھا؟ پوتے پر۔ تو جب وہ شبہ کی وجہ سے امان میں داخل ہو گئے تو ان کو بھی کیا ہونا چاہیے؟ دادا نانا اور دادی نانی کو کیا ہونا چاہیے؟ امان میں داخل ہونا چاہیے، لیکن آپ اس کا اعتبار نہیں کرتے، تو اس کا جواب دیں گے آگے بھئی۔ تو دیکھیے، پہلے اعتراض کہتے ہیں: ويرد على هذا الجواب اعتراض، اور وارد ہوتا ہے اس جواب پر ایک اعتراض، وهو انه ينبغي ان يعتبر مثل هذه الشبهة، اور وہ یہ کہ مناسب یہ ہے کہ اعتبار کیا جائے اس قسم کے شبہ کے اندر، لاجل الاحتياط في حفظ الدم، خون کی حفاظت میں احتیاط کی وجہ سے، فيما اذا استأمن، اس صورت میں کہ جب کوئی امان طلب کرتا ہے کافر، على الآباء والأمهات، اپنے آباء اور امہات پر، فيدخل فيه الأجداد والجدات، داخل ہونا چاہیے اس کے اندر اجداد اور جدات کو بھی، لان لفظ الآباء والأمهات ايضا يتناول بظاهر الاسم للاجداد والجدات، اس لیے کہ لفظ آباء اور امہات جو ہے، یہ ظاہر کے اعتبار سے یہ اجداد اور جدات کو بھی شامل ہے، ان پر بھی بولا جاتا ہے۔ فأجاب المصنف عنه بقوله، تو جواب دیا مصنف نے اس اعتراض کا اپنے اس قول کے ذریعے: بخلاف الاستأمان على الآباء والأمهات حيث لا يدخل الأجداد والجدات، کہتے ہیں بخلاف امان طلب کرنے کے اپنے آباء اور امہات پر اس طور پر کہ اس میں اجداد اور جدات داخل نہیں ہیں بھئی، اس صورت میں اجداد اور جدات کو امان حاصل نہیں ہوگی، صرف کس کو حاصل ہوگی؟ آباء اور امہات یعنی اب اور ام وغیرہ جو ہیں ان کو امان حاصل ہوگی۔ دادا دادی اور نانا نانی وغیرہ ان کو امان نہیں، کیوں؟ کہتے ہیں: لان ذلك بطريق التبعية، اس لیے کیونکہ یہ گزشتہ مثال کے اندر جو ہم نے ذکر کیا، ابن کو جو ہم نے داخل کیا تھا امان کے اندر وہ تابع ہونے کے اعتبار سے، کس اعتبار سے؟ تابع ہونے کے، تو امان میں اصالۃً تو داخل تھا بیٹا، لیکن ابن الابن کیا ہوا؟ تبعاً داخل ہوا۔ اسی طرح امان میں اصل تو داخل تھے موالی، لیکن موالي الموالي کو تبعاً داخل کیا۔ تو وہ وہاں پر تو مناسب تھا کیونکہ وہ فروع تھے۔ ابن الابن کیا ہے؟ ابن کی فرع، اور موالي الموالي کیا ہے؟ موالی کی فرع، تو انہیں تو وہاں تابع بنانا درست تھا، لیکن یہاں اجداد اور جدات جو ہیں وہ آباء اور امہات کی طرف دیکھے جائیں تو فروع ہیں یا اصول بھئی؟ وہ اصول ہیں، تو یہاں پر یہ اصول ہیں چونکہ، تو ان کو تابع بناتے ہوئے داخل کرنا درست نہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو خلاصہ یہ کہ وہاں پر لفظ کا اطلاق ہوا مثلاً ابن کا، ابن کا اطلاق ہوا اور اس میں کون داخل ہوئے؟ ابن الابن بھی داخل ہوا، کیونکہ وہ اطلاق کے اندر بھی فرع ہے، پیدائش کے اندر بھی فرع ہے۔ لفظ کے اطلاق میں بھی، اصالۃً لفظ کا اطلاق کس پر ہوا؟ ابن پر، اور ابن الابن پر تبعاً ہوا، کیسے ہوا؟ تو جیسے لفظ کے اطلاق میں وہ تابع ہیں اسی طرح پیدائش کے اندر بھی تابع، اسی طرح موالی کے اندر موالي کا لفظ کا اطلاق صرف معتق پر ہوا، لیکن معتق المعتق بھی اس کے اندر داخل ہو گئے تبعاً، اس لیے کیونکہ وہ لفظ کے اطلاق میں بھی تابع ہیں اور پیدائش میں بھی تابع ہیں بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو لہٰذا وہ وہاں پر وہ تھے ہی فروع، تو ان کو فرع بنا کر تابع کر کے داخل کرنے میں کوئی حرج نہیں تھا، لیکن یہاں پر جو اجداد اور جدات ہیں، وہ پیدائش کے اعتبار سے اصول ہیں، تو لہٰذا ان کو فرع بناتے ہوئے اس لفظ کے اطلاق لفظ کا ان پر اطلاق کرنا صحیح ورنہ تو انہیں فرع بنانا لازم آئے گا حالانکہ وہ تو فرع نہیں ہیں، وہ تو اصول ہیں، اصل ہیں بھئی، بات سب کو سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اچھی طرح؟ تو کہتے ہیں: لان ذلك بطريق التبعية، اس لیے کیونکہ ان کا داخل ہونا جو تھا وہ تابع ہونے کے طریقے پر تھا، فيليق بالفروع دون الأصول، تو وہ فروع کے لائق تو تھا، کہ مناسب تو تھا دون الاصول، نہ کہ اصول کے، یعنی ان هذا التناول الظاهري إنما هو بطريق التبعية للمذكور، یعنی یہ جو ظاہری طور پر شامل ہونا تھا، یہ تابع ہونے کے طریقے پر تھا اس مذکور کے لیے، (یعنی یہ جو مذکور ہوئے ابناء الابناء اور موالي الموالي) فيليق هذا بابناء الابناء وموالي الموالي، پس یہ مناسب ہے ابناء الابناء کے بھی اور موالي الموالي کے بھی، لانهم فروع في الإطلاق والخلقة جميعا، اس لیے کیونکہ وہ فروع ہیں لفظ کے اطلاق کے اندر بھی اور پیدائش لفظ کے اطلاق اور پیدائش دونوں کے اندر، دون الأجداد والجدات، نہ کہ اجداد اور جدات، لانهم وإن كانوا فروعا للآباء والأمهات في إطلاق اللفظ، اس لیے کیونکہ اگرچہ وہ فروع ہیں آباء اور امہات کے لفظ کے اطلاق کے اندر، ولكنهم اصول في الخلقة، لیکن وہ اصول ہیں کس کے اندر؟ پیدائش کے اندر، فكيف يتبعونهم في اللفظ، پس وہ کیسے تابع ہو سکتے ہیں لفظ کے اندر، جب پیدائش میں اصول ہیں تو لفظ کے اطلاق کے اندر بھی ان کو اصول تو بنا سکتے ہیں، فروع نہیں بنا سکتے۔ لیکن اس پر اشکال ہوتا ہے مولانا، کہ پیدائش میں اصل ہونا، یہ اطلاقِ لفظ میں فرع ہونے کے منافی تو نہیں۔ پیدائش میں اصل ہوتا رہے اور اطلاقِ لفظ میں کیا بنا دو؟ فرع بنا دو بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو لہٰذا بہتر یہ ہے مولانا، یہ مصنف نے جو بات ذکر کی، جس اعتراض کا جواب ذکر کیا، وہ دوسری ایک روایت ہے، اور جو ظاہر روایت بھئی... ظاہر روایت جانتے ہو یا نہیں جانتے؟ امام محمد رحمہ اللہ کی چھ مشہور کتابیں ہیں بھئی، ان کے اندر جو مسئلہ ذکر ہو اسے کیا کہتے ہیں؟ ظاہر روایت، کون کون سی چھ کتابیں ہیں؟ ہاں شاباش! سیرِ کبیر، سیرِ صغیر، جامعِ کبیر، جامعِ صغیر، مبسوط اور زیادات، ان چھ کتابوں کے اندر جو مسئلہ ہو اسے کیا کہتے ہیں؟ ظاہر روایت بھئی، یہ مشہور سب سے مشہور کتابیں ہیں امام محمد رحمہ اللہ کی۔ تو ظاہر روایت کے مطابق مولانا، یہ حفظِ دم کی وجہ سے اجداد اور جدات بھی داخل ہو جائیں گے بھئی، کیونکہ شبہ آ گیا اور امان کیا ہے؟ ادنیٰ شبہ کی وجہ سے بھی ثابت ہو جاتی ہے، اور آباء اور امہات کا اطلاق اجداد اور جدات پر بھی کیا جاتا ہے، تو لہٰذا ظاہر اسم چونکہ ان کو شامل ہے، ان پر اطلاق کیا جاتا ہے، تو ظاہر اسم خود ہی شبہ بن گیا اور شبہ کی وجہ سے امان ثابت ہوتی ہے، لہٰذا انہیں بھی کیا حاصل ہوگی؟ امان حاصل ہوگی بھئی، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جی، آگے کہتے ہیں: وإنما تسري الكتابة إلى أبيه فيما إذا اشترى... جی، اچھا تو مصنف نے یہ جو دوسری روایت لی اور جس پر جواب پھر ذکر کیا کہ بھئی اطلاقِ لفظ کے اندر ان کو فرع بنانا ٹھیک نہیں اس لیے کیونکہ وہ پیدائش کے اندر کیا ہیں؟ اصل ہیں۔ اس پر اعتراض آگے اور اس کا جواب دے رہے ہیں... ایک اعتراض ہوتا ہے اس کا جواب دے رہے ہیں بھئی۔ اعتراض یہ ہوتا ہے کہ ایک شخص نے اپنے غلام کو مکاتب بنا دیا، مکاتب جانتے ہو یا نہیں جانتے بھئی؟ جسے کہہ دیا مثلاً تو 5 سال کے اندر 5 لاکھ روپے لے آ تو تو آزاد ہے۔ اب یہ یاد رکھیے جو مکاتب ہوتا ہے یہ آزاد آدمی کی طرح ہوتا ہے، یعنی آقا اس سے خدمت نہیں لے سکتا، یہ جائے گا، محنت کرے گا، پیسے کما کر لا کر دے گا اور اپنے آپ کو آزاد کروائے گا۔ اب اس مکاتب نے آگے کاروبار شروع کیا اور مال جمع کرتا رہا، یہاں تک کہ اس نے غلام بھی خرید رہا ہے اور بیچ رہا ہے، اس نے اپنے والد کو خرید لیا، کس کو خرید لیا؟ اپنے والد کو خرید لیا، یہ تو تھا خود مکاتب، کہتے ہیں جیسے ہی اس نے اپنے والد کو خریدا، اس کا والد اس پر مکاتب بن جائے گا خود بخود بھئی، کیا بن جائے گا؟ یہ مکاتب ہوا اپنے آقا کا، اور اس کا والد اس کا مکاتب بن جائے گا، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ خود بخود بن جائے گا بھئی، تو کہتے ہیں دیکھیے: آپ نے کہا کہ اصل کو فرع بنانا ٹھیک نہیں، لیکن یہاں کتابت کے اندر دیکھیے بھئی، بیٹے کی کتابت کی وجہ سے والد کو بھی کیا بنا دیا گیا؟ مکاتب بنا دیا گیا، تو والد کو تبعاً اس کتابت میں داخل کرنا پڑا بھئی، تو اصل کو کیا بنانا پڑا؟ فرع یا تابع بنانا پڑا، صورت سمجھ میں آ گئی؟ اشکال سمجھ میں آیا؟ جواب دے رہے ہیں اس کا بھئی، کہتے ہیں: وإنما تسري الكتابة إلى أبيه، اور کتابت جو ہے وہ سرایت کر جاتی ہے اس مکاتب کے والد کی طرف، فيما إذا اشترى المكاتب أباه، اس صورت میں جب مکاتب اپنے والد کو خرید لے، لا لأنه دخول بالتبعيات، اس وجہ سے نہیں کہ وہ جو بالتبع کیا ہو رہا ہے؟ داخل ہو رہا ہے، بالتبع اس وجہ سے نہیں، لأنه ليس هناك لفظ يدخل فيه تبعاً، اس لیے کیونکہ وہاں پر کوئی ایسا لفظ نہیں ہے جس کے اندر وہ تبعاً داخل ہو۔ بھئی پیچھے تو لفظ ذکر تھا ابناء، اور اس میں ابناء الابناء داخل تھے۔ پھر ذکر تھا موالی، اور اس میں موالي الموالي داخل تھے۔ پھر کیا ذکر کیا؟ آباء اور امہات، اس میں کس کو نہیں داخل کیا؟ اجداد اور جدات کو داخل نہیں کیا۔ کہتے ہیں یہاں کوئی ایسا لفظ نہیں ہے بھئی کہ جس پر کیا ہوں... جس کے اندر وہ کیا... کس طریقے پر داخل ہو جائیں؟ تابع ہو کر داخل ہو جائیں، یہاں پر: لأنه ليس هناك لفظ يدخل فيه تبعاً، اس لیے کیونکہ یہاں کوئی ایسا لفظ نہیں ہے جس میں وہ تبعاً داخل ہوں، بل تحقيقاً للصلة والإحسان، بلکہ یہ کتابت میں داخل ہوتے ہیں کس لیے؟ صلہ رحمی اور احسان کو ثابت کرنے کے لیے، تاکہ صلہ رحمی ثابت کی جائے، احسان ثابت کیا جائے، کیوں؟ کہتے ہیں: فإن الحر إذا اشترى أباه يكون حراً عليه بحق الإبوة، آزاد آدمی جب خریدتا ہے اپنے والد کو، مثلاً والد غلام تھا اس کو خریدتا ہے، يكون حراً عليه، تو والد اس پر کیا ہو جاتا ہے؟ آزاد بھئی، کیونکہ آپ نے پڑھا ہے بھئی، مشہور حدیث ہے: من ملك ذا رحم محرم منه فهو حر، جو اپنے قریبی محرم رشتہ دار کا مالک بنا وہ اس پر وہ آزاد ہوتا ہے۔ تو کہتے ہیں: فإن الحر إذا اشترى أباه يكون حراً عليه، اس لیے کہ آزاد آدمی جب خریدتا ہے اپنے والد کو تو وہ اس پر آزاد ہو جاتا ہے، کیوں؟ بحق الإبوة، والد ہونے کے، باپ ہونے کے حق کی وجہ سے، فإذا اشترى المكاتب أباه يصير مكاتباً عليه، تو جب مکاتب اپنے والد کو خریدے گا تو وہ اس پر کیا بن جائے گا؟ مکاتب بن جائے گا، ليتحقق صلة كل واحد على حسب حاله، تاکہ ثابت ہو جائے ہر ایک کا صلہ، یعنی ہر ایک کے صلہ رحمی اس کے حال کے بقدر بھئی، اس کے حال کے بقدر صلہ رحمی ثابت ہو جائے بھئی۔ آزاد خریدتا تھا تو اس کے والد کیا ہوتے تھے؟ آزاد۔ تو مکاتب خریدے تو وہاں آزاد تو نہیں ہو سکتا، لیکن کم از کم کیا ہونا چاہیے پھر اسے؟ مکاتب ہونا چاہیے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ واما حرمة نكاح الجدات في قوله تعالى: "حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ"، جی، یہ پھر ایک اعتراض کا جواب دے رہے ہیں بھئی۔ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ، حرام کر دی گئی ہیں تمہارے اوپر تمہاری مائیں بھئی، محرم عورتوں کا بیان ہو رہا ہے جن کے ساتھ ابد الآباد کے لیے نکاح کو کیا قرار دے دیا گیا؟ حرام قرار دے دیا گیا، تو اللہ فرماتے ہیں: حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ، تمہاری ماؤں کو تم پر حرام کر دیا گیا۔ اب ام کا لفظ کیا ہے، کس پر بولا جاتا ہے؟ ماں پر، اور نانی دادی پر بھی بولا جاتا ہے لیکن مجازاً، کیا کیا جاتا ہے؟ مجازاً، تو یہاں پر علماء لکھتے ہیں بھئی، ماں بھی حرام اسی... یہاں چونکہ امہات کا ذکر آیا، اسی طرح نانی دادی اوپر تک جتنے اصول ہیں وہ بھی کیا ہو گئے؟ وہ بھی حرام ہو گئے، وہ بھی حرام، تو کہتے ہیں اے احناف! آپ نے ابھی کہا کہ وہ پیدائش کے اندر کیا ہیں؟ اصول ہیں، تو اطلاقِ لفظ میں ان کو تابع بناتے ہوئے اس کے اندر داخل کرنا صحیح نہیں، تو یہاں پر تو داخل آپ کر رہے ہیں بھئی، اصول ہیں نانی دادی وغیرہ اور آپ ان کو کیا کر رہے ہیں؟ امہات کے اندر تابع بناتے ہوئے انہیں بھی داخل کر رہے ہیں۔ تو جواب دے رہے ہیں، کہتے ہیں نہیں بھئی، ان کو ہم اس میں داخل نہیں کر رہے۔ بلکہ ان کی حرمت اور دلیلوں سے ثابت ہے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ اور دلائل سے، دیکھیے۔ کہتے ہیں: واما حرمة نكاح الجدات في قوله تعالى، اور باقی دادیوں کے نکاح کے دادی نانی کے نکاح کے حرمت جو ہے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے اندر حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ فبالإجماع، وہ کس وجہ سے ہے؟ وہ اجماع کی وجہ سے ہے، وہ ہم نے تابع بنا کر یہاں داخل نہیں کیا۔ أو دلالة النص، یا کس کی وجہ سے ہے؟ دلالۃ النص کی وجہ سے، دلالۃ النص بھئی کہ جب یہ نص اصل کو شامل ہے، یعنی جب اصل حرام ہے تو اصل الأصل بطریقِ اولیٰ حرام ہوگی، یہ ہے دلالۃ النص۔ جب ادنیٰ کا یہ حکم ہے تو اعلیٰ کا بطریقِ اولیٰ کیا ہوگا؟ یہ حکم ہوگا، جب اصل کا یہ حکم ہے وہ ہمیشہ کے لیے حرام ہے تو اصل الأصل جو ہے وہ بطریقِ اولیٰ کیا ہوگی؟ یہ ہے دلالۃ النص۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو وہ دلالۃ النص کی وجہ سے، ”أَوْ جَعْلِ الْأُمَّهَاتِ بِمَعْنَى الْأُصُولِ“ یا امہات کو اصول کے معنی میں کر دینے کی وجہ سے ”ثَمَّ“ وہاں پر بھئی، ”ثَمَّ“ اسم اشارہ ہے۔ ”لِلْإِحْتِيَاطِ“ بطورِ احتیاط کے بھئی۔ یعنی عمومِ مجاز ہے یہاں پر بھئی، عمومِ مجاز۔ کس طرح؟ امہات کو کس معنی میں لے لیا؟ اصول کے معنی میں۔ عمومِ مجاز کس کو کہتے ہیں؟ لفظ کا ایسا مجازی معنی لے لیا جائے کہ حقیقی فرد بھی کیا ہو جائے اس کے اندر شامل ہو جائے، داخل ہو جائے۔ تو یہاں امہات کو اصول کے معنی میں لیا اور اصول عام ہے مولانا۔ سارے اوپر والے اصول بھی آ گئے اور حقیقت بھی اس میں آ گئی، حقیقت کیا تھی امہات کی؟ ماں، ماں بھی اس کے اندر کیا ہوئی؟ داخل ہوئی، کیونکہ وہ بھی اصول میں سے ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو امہات کے معنی اصول کے ہوا۔ یہاں تک سب کو مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟ جی آگے کہتے ہیں: ”وَإِنَّمَا يَقَعُ عَلَى الْمِلْكِ وَالْإِجَارَةِ وَالدُّخُولِ حَافِيًا أَوْ مُتَنَعِّلًا فِيمَا إِذَا حَلَفَ لَا يَضَعُ قَدَمَهُ فِي دَارِ فُلَانٍ“ صورتِ مسئلہ یہ ہے: ایک شخص نے قسم اٹھائی کہ واللہ میں زید کے گھر قدم نہیں رکھوں گا۔ واللہ میں زید کے گھر قدم نہیں رکھوں گا۔ اب دیکھیے زید کا گھر، اس کا ایک حقیقی معنی ہے، ایک مجازی معنی۔ زید کا گھر حقیقتاً کون سا ہے؟ جس کا زید مالک ہو۔ اور زید کا گھر مجازاً، جس میں وہ کرائے پر رہ رہا ہو یا عاریتاً کسی نے ویسے کچھ عرصے کے لیے اسے دیا ہے رہنے کے لیے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو زید کا گھر حقیقت کیا ہوا؟ جس کا وہ مالک ہو۔ اور مجاز کیا ہوا؟ جس میں وہ کرائے یا عاریت کے طور پر رہ رہا ہو۔ اچھا! اور دوسرا لفظ آیا قدم، اس نے کہا تھا: میں زید کے گھر قدم نہیں رکھوں گا۔ قدم رکھنے کا ایک حقیقی معنی، ایک مجازی معنی۔ حقیقی معنی یہ کہ ننگے پاؤں گھر کے اندر جا کر قدم رکھے۔ یہ کیا ہے؟ یہ قدم رکھا ہے گھر کے اندر۔ اور مجازی معنی ہے جوتے پہن کر قدم رکھا۔ جب جوتے پہنے ہوئے ہیں، تو قدم گھر کے اندر اس نے حقیقتاً رکھا؟ حقیقتاً تو نہیں رکھا، قدم تو اس کا جوتے کے اندر ہے۔ جوتا لگ رہا ہے گھر کی زمین کو لیکن قدم تو نہیں لگ رہا، تو یہ مجازی معنی ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو قدم رکھنے کا حقیقی معنی کیا؟ ننگے پاؤں قدم رکھے اس کے گھر کے اندر۔ اور مجازی معنی کیا؟ جوتے پہن کر قدم رکھے یا کسی سواری پر سوار ہو اور وہ سواری اندر قدم رکھے۔ یہ بھی اس نے قدم رکھا لیکن حقیقتاً نہیں بلکہ مجازاً۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اور اے احناف! تو یہاں پر حقیقی معنی ہونا چاہیے یا مجازی معنی ہونا چاہیے؟ اگر حقیقی معنی کرتے ہو تو زید جس گھر کا مالک ہے، اس میں یہ کیا کرے؟ ننگے پاؤں قدم رکھے، تو تب حانث ہونا چاہیے۔ اور اگر جوتے پہن کر رکھے تو تب بھی حانث نہیں، اور اسی طرح اگر زید کرائے کے گھر میں ہے تو یہ تو اس کا گھر نہیں ہے بھئی، یہ تو کرائے کا گھر ہے، تو اس صورت میں بھی اس کو حانث نہیں ہونا چاہیے کیونکہ آپ کون سا معنی کر رہے ہیں؟ حقیقی معنی۔ اور اگر مجازی معنی کرتے ہو، تو مجازی معنی زید کے گھر کا کیا تھا؟ جس میں وہ کرائے کے گھر میں رہ رہا ہے۔ تو وہ معنی اگر کرتے ہو تو پھر حقیقی گھر کے اندر قدم رکھنے کی صورت میں حانث نہیں ہونا چاہیے۔ لیکن آپ جمع بین الحقیقۃ والمجاز کرتے ہو، آپ کہتے ہو چاہے زید جس گھر میں ہے وہ چاہے اس کا مالک ہے، چاہے وہ کرائے پر ہے، چاہے وہ عاریتاً ہے، ہر ایک اس میں داخل ہے، ہر ایک مراد ہے۔ اور قدم رکھنے کا ایک حقیقی معنی تھا، ایک مجازی معنی، آپ ہر ایک معنی مراد لیتے ہو حقیقی بھی اور مجازی بھی۔ تو زید کے کسی بھی گھر میں چاہے وہ مالک ہو یا کرائے یا عاریتاً ہو، وہ شخص چاہے ننگے پاؤں قدم رکھ دے، چاہے جوتے پہن کر قدم رکھ دے، یا سواری پر سوار ہو کر اندر جائے، سب صورتوں میں آپ کیا کہتے ہیں، وہ شخص کیا ہو جائے گا؟ تو یہ تو آپ نے جمع بین الحقیقۃ والمجاز کر دی دو جگہ بھئی! ایک زید کے گھر میں بھی اور دوسرے قدم رکھنے میں بھی آپ نے جمع بین الحقیقۃ والمجاز کر دی۔ اشکال سمجھ میں آیا؟ تو جواب دیں گے، جواب دیں گے کہ بھئی، یہاں پر زید کے گھر سے مراد لیں گے زید کی رہائش بھئی، مجازی معنی ہم لے لیتے ہیں۔ مجازی، ایسا مجازی معنی کہ جس کے اندر حقیقت بھی داخل ہو جاتی ہے یعنی عمومِ مجاز۔ یہاں ہم کیا کرتے ہیں؟ عمومِ مجاز پر عمل کرتے ہیں۔ زيد کے گھر، زید کا ایک گھر ہے حقیقی اور ایک گھر ہے کرائے پر، ہم نے زید کے گھر کا کیا معنی کر لیا؟ زید کی رہائش۔ اور زید کی رہائش میں یہ دونوں داخل ہو گئے بھئی۔ چاہے حقیقی گھر ہو، اس میں رہ رہا ہے، تو وہ بھی کیا ہے؟ زید کی رہائش گاہ ہے۔ اور کرائے پر یا عاریتاً لیا ہے، تو وہ بھی اس کے اندر داخل کیونکہ جب زید اس میں رہ رہا ہے، تو یہ زید کی رہائش گاہ ہے۔ تو دیکھو ہم نے ایک مجازی معنی کیا جس میں حقیقت اور مجازی دونوں معنی داخل ہو گئے بھئی۔ تو یہ کیا ہے؟ عمومِ مجاز۔ اسی طرح قدم رکھنے سے ہم مراد لیتے ہیں داخل ہونا، یہ عمومِ مجاز ہے۔ عمومِ، یہ ایسا معنی ہے کہ حقیقت اور مجاز دونوں اس میں داخل ہو گئے۔ داخل ہونا عام ہے۔ ننگے پاؤں داخل ہو، جوتے پہن کر داخل ہو، یا سوار ہو کر داخل ہو، سب صورتوں میں کیا پایا جائے گا؟ داخل ہونا پایا جائے گا بھئی۔ کیا پایا جائے گا؟ تو داخل ہونا ہم نے دخول اس کا معنی کر لیا، تو اس کے اندر حقیقت بھی داخل اور وہ مجازی معنی بھی داخل۔ تو یہاں جو ہے ہم نے جمع بین الحقیقۃ والمجاز نہیں کیا بلکہ کس پر عمل کیا؟ عمومِ مجاز پر عمل کیا، تو ہم پر اشکال آپ کا نہیں ہو سکتا بھئی۔ جواب اچھی طرح سمجھ میں آ گیا کہ یہاں ہم نے کس پر عمل کیا؟ عمومِ مجاز پر عمل کیا بھئی۔ دیکھیے اب پہلے اعتراض ہو گا اور پھر آخر میں آ کر جواب دیں گے۔ ابھی اعتراض متن میں ذکر کرنے لگے ہیں۔ ”وَإِنَّمَا يَقَعُ عَلَى الْمِلْكِ وَالْإِجَارَةِ وَالدُّخُولِ حَافِيًا أَوْ مُتَنَعِّلًا فِيمَا“ اس صورت میں ”إِذَا حَلَفَ“ جب کسی شخص نے قسم اٹھائی ”لَا يَضَعُ قَدَمَهُ فِي دَارِ فُلَانٍ“ کہ وہ قدم نہیں رکھے گا فلاں کے گھر میں یعنی مثلاً زید کے گھر میں۔ جب کسی شخص نے کیا کیا؟ قسم اٹھائی کہ وہ فلاں کے گھر میں قدم نہیں رکھے گا، اس صورت میں ”إِنَّمَا“ متن دوبارہ دیکھو: ”إِنَّمَا يَقَعُ عَلَى الْمِلْكِ وَالْإِجَارَةِ“ تو یہ قسم واقع ہو گی کس پر؟ ملک پر بھی ”وَالْإِجَارَةِ“ اور اجارہ یعنی کرائے والے گھر پر بھی، ”وَالدُّخُولِ“ اور اسی طرح داخل ہونا ”حَافِيًا أَوْ مُتَنَعِّلًا“ حافیاً ننگے پاؤں، متنعلاً نعلین پہن کر، جوتے پہن کر۔ ننگے پاؤں ہو یا جوتے پہن کر، تو یہ قسم واقع ہو گی ملکیت پر بھی اور اجارہ پر بھی اور ننگے پاؤں اور جوتے پہن کر دونوں کے صورتوں میں داخل ہونے پر ”فِيمَا“ اس صورت میں جب کسی شخص نے قسم اٹھائی کہ وہ قدم نہیں رکھے گا فلاں کے گھر میں۔ اب عبارت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو اسی لیے میں نے آخری حصے کا ترجمہ پہلے کیا بھئی، کیونکہ وہ ذہن میں ہو گا تو یہ پھر شروع کا ترجمہ بھی سمجھ میں آئے گا۔ تو یہ قسم ملک اور اجارہ اور حافیاً و متنعلاً دونوں صورتوں میں دخول پر واقع ہو گی۔ ”جَوَابُ سُؤَالٍ آخَرَ“ یہ ایک جواب ہے ایک اور سوال کا، ”تَقْرِيرُهُ“ تقریر سوال کی یہ ہے ”أَنَّهُ إِذَا حَلَفَ شَخْصٌ“ کہ جب قسم اٹھائی کسی شخص نے ”لَا يَضَعُ قَدَمَهُ فِي دَارِ فُلَانٍ“ کہ وہ قدم نہیں رکھے گا فلاں کے گھر میں، ”فَإِنَّ حَقِيقَةَ وَضْعِ الْقَدَمِ فِي الدَّارِ“ قدم رکھنا، وضعِ قدم: قدم رکھنا، قدم رکھنے کی حقیقت جو ہے ”فِي الدَّارِ“ گھر کے اندر ”يَكُونُ حَافِيًا“ وہ کس صورت میں ہو گی کہ وہ شخص کیا ہو؟ ننگے پاؤں ہو۔ تو قدم رکھنے کی حقیقت وہ ننگے پاؤں ہو گی، ”وَمَجَازَهُ“ اور قدم رکھنے کا مجاز جو ہے ”أَنْ يَكُونَ مُتَنَعِّلًا“ کہ وہ شخص کیا ہو؟ جوتے پہنے ہوئے ہو یا اسی طرح سوار وغیرہ ہو۔ ”وَقَدْ قُلْتُمْ“ اور تحقیق تم نے کہا ہے اے احناف! ”إِنَّهُ يَحْنَثُ بِكِلَا الْأَمْرَيْنِ“ کہ یہ شخص حانث ہو جائے گا دونوں امروں کی صورت میں، چاہے ننگے پاؤں داخل ہو پھر بھی، اور جوتے پہن کر داخل ہو پھر بھی۔ ”فَيَلْزَمُ الْجَمْعُ بَيْنَ الْحَقِيقَةِ وَالْمَجَازِ“ تو لازم آیا جمع بین الحقیقۃ والمجاز۔ ”وَأَيْضًا“ اور اسی طرح ”إِنَّ حَقِيقَةَ دَارِ فُلَانٍ“ دارِ فلاں کی حقیقت وہ کیا ہے؟ ”أَنْ تَكُونَ بِطَرِيقِ الْمِلْكِ لَهُ“ کہ وہ گھر اس کا ہو کس طریقے پر؟ اس کی ملکیت کے طریقے پر۔ ”وَمَجَازَهُ“ اور دارِ فلاں کا مجاز کیا ہے؟ ”أَنْ يَكُونَ بِطَرِيقِ الْإِجَارَةِ وَالْعَارِيَةِ لَهُ“ کہ یہ گھر اس کا اجارے یا اس کے لیے عاریت کے طریقے پر ہو بھئی۔ ”وَقَدْ قُلْتُمْ“ اور اے احناف تم نے کہا ہے ”إِنَّهُ يَحْنَثُ بِكِلَا الْأَمْرَيْنِ“ کہ وہ دونوں امروں کی صورت میں کیا ہو جائے گا؟ حانث ہو جائے گا۔ ”فَيَلْزَمُ الْجَمْعُ بَيْنَ الْحَقِيقَةِ وَالْمَجَازِ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ“ تو لازم آیا جمع بین الحقیقۃ والمجاز ایک اور وجہ سے بھی۔ ایک تو وہ جمع بین الحقیقۃ والمجاز کس میں تھا؟ وضعِ قدم کے اندر، اور ایک جمع بین الحقیقۃ والمجاز کس کے اندر تم نے کیا؟ دارِ فلاں کے اندر کیا۔ ”فَأَجَابَ“ تو جواب دیا مصنف نے ”بِأَنَّهُ إِنَّمَا يَقَعُ هَذَا الْحَلْفُ عَلَى الْمِلْكِ وَالْإِجَارَةِ جَمِيعًا“ کہ واقع ہو گی یہ قسم ملک اور اجارہ دونوں پر، ”وَكَذَا عَلَى الدُّخُولِ حَافِيًا أَوْ مُتَنَعِّلًا“ اور اسی طرح ننگے پاؤں اور جوتے پہن کر داخل ہونے پر یعنی دونوں پر ”فِي قَوْلِهِ“ اس شخص کے اس قول میں ”لَا يَضَعُ قَدَمَهُ فِي دَارِ فُلَانٍ“ ان میں دونوں پر واقع ہو گی ”بِاعْتِبَارِ عُمُومِ الْمَجَازِ“ کس اعتبار سے؟ عمومِ مجاز کے اعتبار سے۔ ”وَهُوَ الدُّخُولُ“ اور وہ کیا ہے؟ دخول۔ یہ کس کا معنی کیا؟ وضعِ قدم کا۔ ”وَنِسْبَةُ السُّكْنَى“ اور رہائش کی نسبت، یہ کس کا معنی کیا؟ دارِ فلاں کا۔ ”فَيُرَادُ مِنْ قَوْلِهِ“ پس مراد جو ہے اس شخص کے قول سے ”لَا يَضَعُ قَدَمَهُ“ کہ وہ اس کے گھر میں وہ اپنا قدم نہیں رکھے گا، اس کا معنی کیا اس کے لیے کیا مراد ہے؟ ”لَا يَدْخُلُ“ کہ وہ داخل نہیں ہو گا۔ عرف میں عرفی معنی یہ ہے۔ بھئی آپ بھی تو اس طرح کرتے ہیں، آپ کا کوئی ساتھی قسم اٹھاتا ہے کہ واللہ میں زید کے کمرے میں قدم نہیں رکھوں گا، آپ کیا سمجھتے ہیں اس کا معنی؟ کہ میں اس میں داخل نہیں ہوں گا، تو دیکھو داخل ہونا اس کا معنی ہے عرف کے اندر۔ ”فَيُرَادُ مِنْ قَوْلِهِ“ تو اس شخص کے اس قول سے مراد، کون سے قول سے؟ ”لَا يَضَعُ قَدَمَهُ“ سے مراد ہے ”لَا يَدْخُلُ“ کہ وہ داخل نہیں ہو گا، ”وَهُوَ مَعْنًى مَجَازِيٌّ“ اور یہ کیا ہے؟ معنی مجازی ہے، ”شَامِلٌ لِلُّدُخُولِ حَافِيًا أَوْ مُتَنَعِّلًا“ یہ شامل ہے ننگے پاؤں داخل ہونے کو بھی اور جوتے پہن کر یا جوتے پہن کر داخل ہونے کو بھی، ”فَيَحْنَثُ بِعُمُومِ الْمَجَازِ“ تو وہ شخص حانث ہو گا عمومِ مجاز کی وجہ سے، ”لَا بِالْجَمْعِ بَيْنَ الْحَقِيقَةِ وَالْمَجَازِ“ جمع بین الحقیقۃ والمجاز کی وجہ سے نہیں ہو گا۔ اس کی وجہ سے عمومِ مجاز کی وجہ سے وہ حانث ہو گا، جمع بین الحقیقۃ والمجاز کی وجہ سے نہیں۔ ”وَهَذَا إِذَا لَمْ تَكُنْ لَهُ نِيَّةٌ“ شارح فرما رہے ہیں یہ اس وقت ہے جب اس شخص کی کوئی نیت نہ ہو۔ جب اس شخص کی کوئی نیت نہ ہو تو وضعِ قدم کس معنی میں لے لیں گے؟ دخول کے معنی میں، اور دارِ فلاں کس معنی میں لے لیں گے؟ سکنیٰ کے معنی میں، اس کی رہائش گاہ کے معنی میں۔ لیکن اگر اس کی نیت جو تھی تو پھر نیت کا لحاظ رکھنا پڑے گا۔ اگر اس نے وضعِ قدم سے ارادہ کیا تھا ننگے پاؤں قدم رکھنا، تو ننگے پاؤں قدم رکھنے ہی کی صورت میں حانث ہو گا، باقی صورتوں میں حانث نہیں۔ اور اگر اس نے دارِ فلاں سے اس کی ملکیت والے گھر کا ارادہ کیا ہے تو ملکیت والے گھر میں قدم رکھنے کی صورت میں حانث ہو گا، ویسے حانث، تو بس بہرحال مراد یہ کہ بس اس کی نیت جب یہ جو مسئلہ ہم نے بیان کیا، یہ اس صورت میں تھا جب اس نے کوئی نیت نہ کی ہو، اگر نیت کی ہو تو پھر مسئلہ بھی اس کی نیت کے مطابق ہو گا بھئی۔ اگر اس نے نیت کی: جوتے پہن کر قدم نہیں رکھوں گا، تو پھر ننگے پاؤں قدم رکھنے کی صورت میں حانث نہیں ہو گا، صرف کس وقت حانث ہو گا؟ جوتے پہن کر۔ اور اگر اس نے نیت کی تھی: کرائے کے گھر میں مراد ہے اس میں قدم نہیں رکھوں گا، تو اگر ملکیت والے گھر میں رکھے گا قدم تو حانث نہیں ہو گا، صرف کس وقت حانث ہو گا؟ جب کرائے والے گھر میں قدم رکھے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَهَذَا إِذَا لَمْ تَكُنْ لَهُ نِيَّةٌ“ یہ اس وقت ہے جب اس شخص کی کوئی نیت نہ ہو، ”فَإِنْ كَانَتْ لَهُ نِيَّةٌ“ اگر اس کی کوئی نیت تھی ”فَعَلَى مَا نَوَى“ تو پھر یہ قسم اسی پر واقع ہو گی جو اس نے نیت کی ہو گی، ”حَافِيًا أَوْ مُتَنَعِّلًا“ ننگے پاؤں یا جوتے پہن کر جو نیت کی ہو، ”مَاشِيًا أَوْ رَاكِبًا“ پیدل ہو یا سوار ہو، جس طرح کی اس نے نیت کی ہو اس کے مطابق وہ مسئلہ ہو گا۔ ”وَإِنْ وَضَعَ الْقَدَمَ“ اور اگر اس نے قدم رکھا بھئی، یہ ایک اور اشکال کا جواب دے رہے ہیں۔ اشکال یہ کہ ایک شخص یوں کرتا ہے، اس نے یہ قسم تو اٹھا لی کہ واللہ میں زید کے گھر قدم نہیں رکھوں گا، لیکن پھر وہ کیا کرتا ہے؟ دروازے کے پاس خود باہر ہی کھڑا ہے اور جوتا اتارا اور ننگا، ننگے پاؤں ایک پاؤں کو اندر داخل کیا، جوتا نہیں پہنا ہوا اور پاؤں اندر رکھ دیا۔ خود باہر ہے اور ایک پاؤں اندر کر کے دروازے سے وہ اس کے گھر میں قدم رکھ دیا اس نے۔ تو اس صورت میں بھی تو اس کو کیا ہونا چاہیے؟ حانث ہونا چاہیے۔ جواب اس کا بھی گزر گیا کہ بھئی ہم نے وضعِ قدم کا کیا معنی کر لیا؟ دخول، تو یہ یہاں دخول تو یہاں پایا ہی نہیں گیا، وہ تو خود باہر ہی ہے بھئی، صرف اس نے ایک پاؤں اندر کیا ہے تو یہاں دخول نہیں پایا گیا، لہٰذا اس وجہ سے حانث نہیں۔ اور نیز یہ وجہ بھی ہے کہ یہ جو ہے یہ حقیقت، یہ اگرچہ اس لفظ کی حقیقت ہے لیکن یہاں حقیقت، اور لیکن یہ حقیقت مہجور ہے بھئی، حقیقتِ مہجورہ ہے، اس کو چھوڑ دیا گیا ہے۔ عرف میں کوئی بھی اس کا یہ معنی نہیں کرتا، ابھی جیسے میں نے مثال میں بیان کیا بھئی۔ کیا کیا؟ تو وہ کہتے ہیں بھئی یہاں حقیقی معنی ممکن ہے اور جب تک حقیقی معنی ممکن ہو مجاز کی طرف نہیں جاتے، تو یہاں حقیقی معنی دیکھو وہ کیا کرتا ہے؟ باہر کھڑے رہ کر صرف پاؤں اندر داخل کرتا ہے، جوتا نہیں پہنا ہوا اور وہ پاؤں اندر لگا دیتا ہے تو دیکھو حقیقت پائی گئی، تو آپ کو کیا کہنا چاہیے یہ حانث ہو گیا؟ ہم جواب دیتے ہیں ہاں ٹھیک ہے یہ حقیقی معنی ہے اس کا، لیکن اس حقیقت کو ترک کر دیا گیا ہے، کوئی بھی یہ مراد نہیں لیتا وضعِ قدم سے۔ ابھی آپ نے جیسے مثال کے اندر میں نے کہا آپ کا ایک ساتھی قسم اٹھاتا ہے کہ واللہ میں زید کے کمرے میں قدم نہیں رکھوں گا، آپ کیا معنی سمجھتے ہیں اس کا؟ کہ میں اس میں داخل نہیں ہوں گا، معلوم ہوا قدم رکھنے والا معنی عرف میں چھوڑ دیا گیا ہے، اس کو یہ معنی کوئی کرتا ہی نہیں ہے، اس کا معنی یہ سمجھتا ہی کوئی نہیں، تو یہ حقیقتِ مہجورہ ہوئی، یعنی متروکہ ہوئی، چھوڑ دی گئی ہے، لہٰذا یہ معنی یہاں پر نہیں ہو گا اور وہ حانث بھی نہیں ہو گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ وَضَعَ الْقَدَمَ فَقَطْ“ ”إِنْ“ ہے یہ ”إِنْ“ بھئی، ”وَإِنْ وَضَعَ الْقَدَمَ فَقَطْ“ اور اگر اس نے صرف قدم رکھا، فقط صرف قدم ہی رکھا ”مِنْ غَيْرِ دُخُولٍ“ بغیر داخل ہوئے ”لَمْ يَحْنَثْ“ تو وہ حانث نہیں ہو گا ”لِأَنَّهُ حَقِيقَةٌ مَهْجُورَةٌ“ اس لیے کیونکہ وہ ایسی حقیقتِ مہجورہ ہے ”لَا تُعْمَلُ“ جو عمل نہیں کرتی یا ”لَا تُعْمَلُ“ جس پر عمل نہیں کیا جاتا، وہ ایسی حقیقتِ مہجورہ ہے ”لَا تُعْمَلُ“ جس پر عمل نہیں کیا جاتا۔ ”وَيُرَادُ مِنْ قَوْلِهِ: فِي دَارِ فُلَانٍ، فِي سُكْنَى فُلَانٍ“ اور اس شخص کے قول جو تھا ”فِي دَارِ فُلَانٍ“، اس سے مراد ”فِي سُكْنَى فُلَانٍ“ فلاں کے رہائش گاہ میں، یہ مراد ہے، ”وَهُوَ مَعْنًى مَجَازِيٌّ“ اور یہ ایسا معنی مجازی ہے ”شَامِلٌ لِلْمِلْكِ وَالْإِجَارَةِ وَالْعَارِيَةِ“ جو شامل ہے ملک کو بھی اور اجارہ کو بھی اور عاریتاً، عاریت کو بھی، سب جس میں یہ ہو رہا ہو ہو، چاہے وہ ملک کے طریقے پر ہو، چاہے کرائے پر ہو، چاہے عاریتاً ہو، تو ہر صورت میں وہ کیا ہے اس کی؟ رہائش گاہ تو ہے، تو ہم نے بھی رہائش گاہ اس کا معنی کیا۔ فَيَحْنَثُ بِعُمُومِ الْمَجَازِ، تو وہ شخص حانث ہو جائے گا عموم مجاز کی وجہ سے، لَا بِالْجَمْعِ بَيْنَ الْحَقِيقَةِ وَالْمَجَازِ، نہ کہ جمع بین الحقیقت والمجاز کی وجہ سے۔ لٰكِنْ يَرِدُ عَلَيْهِ، لیکن اس پر یہ اشکال وارد ہوتا ہے کہ أَنَّهُ ذُكِرَ فِي الْفَتَاوَى، کہ ذکر کیا گیا فتاویٰ کے اندر۔ فتاویٰ سے مراد مولانا، یہاں فتاویٰ قاضی خان ہیں بھئی، یہ بڑے مشہور اور معتبر فتاویٰ، قدیم فتاویٰ میں سے ہیں بھئی۔ لیکن اس پر اشکال وارد ہوتا ہے کہ أَنَّهُ ذُكِرَ فِي الْفَتَاوَى، کہ ذکر کیا گیا فتاویٰ کے اندر، یعنی فتاویٰ قاضی خان میں کہ أَنَّهُ إِنْ لَمْ تَكُنْ تِلْكَ الدَّارُ سُكْنَى لِفُلَانٍ بَلْ كَانَتْ مِلْكًا عَاطِلَةً عَنِ السُّكْنَى يَحْنَثُ أَيْضًا، کہ اگر وہ گھر جو ہے، وہ فلان کا کی رہائش نہ ہوئی بلکہ وہ اس کی ملکیت ہوئی عاطِلَةً عَنِ السُّكْنَى، عاطله معنی خالی، عَاطِلَةً عَنِ السُّكْنَى، رہائش سے خالی، ایسی ملکیت جو رہائش سے خالی ہے، يَحْنَثُ أَيْضًا، تو اس صورت میں بھی حانث ہو جائے گا۔ اشکال وارد، کہتے ہیں اشکال ہوتا ہے اس جواب پر، آپ نے کیا کہا؟ دارِ فلان سے کیا مراد ہے؟ رہائش مراد ہے، اس کی کیا مراد ہے؟ رہائش گاہ مراد ہے۔ تو کہتے ہیں لہٰذا ایک شخص ہے، اس کا ایک گھر ہے، لیکن وہ خالی پڑا ہوا ہے، اس میں رہتا نہیں، تو وہ اس کی رہائش گاہ ہے؟ رہائش گاہ تو نہیں، ہاں ملکیت اس کی ہے۔ کیا ہے؟ ملکیت اس کی ہے۔ اچھا، تو جب رہائش گاہ نہیں ہے، تو آپ نے تو رہائش گاہ والا معنی کیا، تو اس میں داخل ہو تو حانث ہونا چاہیے یا نہیں ہونا چاہیے؟ نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ وہ اس کی رہائش گاہ نہیں ہے، رہائش گاہ نہیں ہے، آپ نے کہا بھئی دار سے کیا مراد ہے؟ رہائش گاہ۔ اب وہ رہائش گاہ عام تھی چاہے اجارہ کے طریقے پر ہو، ملک کے طریقے پر ہو یا عاریتاً۔ اب ایک گھر اس کا خالی پڑا ہوا ہے، وہ تو اس کی رہائش گاہ تو نہیں ہے، ہاں مالک وہ ہے، لیکن رہائش گاہ اس کی نہیں ہے۔ تو اس کے اندر داخل ہو، تو وہ رہائش گاہ نہیں لہٰذا حانث بھی نہیں، لیکن فتاویٰ قاضی خان میں کیا لکھا ہے کہ وہ شخص کیا ہو جائے گا؟ حانث ہو جائے گا بھئی۔ اشکال سمجھ میں آیا بھئی؟ تو کہتے ہیں، تو اس صورت میں، اس پر یہ اشکال وارد ہوتا ہے، إِلَّا أَنْ يُقَالَ، مگر یہ کہ یہ کہا جائے، جواب دے رہے ہیں کہ إِنَّ السُّكْنَى أَعَمُّ مِنْ أَنْ يَكُونَ تَحْقِيقًا أَوْ تَقْدِيرًا، کہ رہائش گاہ عام ہے اس سے کہ وہ تحقیقاً ہو یا تقدیرًا ہو۔ تحقیقاً ہو یا تحقیقاً تو یہ کہ حقیقتاً اس نے اس میں رہائش رکھی ہوئی ہو، اور تقدیرًا یہ کہ اس میں رہنے پر وہ قادر ہو بھئی، کیا ہو؟ جب اس کی ملکیت ہے، تو حقیقتاً ملکیت ہے، حقیقتاً تو حقیقتاً تو اس کی رہائش گاہ نہیں، لیکن تقدیرًا کیا ہے اس کی؟ یعنی وہ اس پر قادر ہے، جب اس میں رہنا چاہے اس میں رہ سکتا ہے، تو حقیقتاً تو رہائش گاہ نہیں، لیکن تقدیرًا کیا ہے؟ یہ بھی اس کی رہائش گاہ ہے، لہٰذا اس صورت میں حانث ہو جائے گا۔ وَإِنَّمَا يَحْنَثُ إِذَا قَدِمَ لَيْلًا أَوْ نَهَارًا فِي قَوْلِهِ عَبْدُهُ حُرٌّ يَوْمَ يَقْدَمُ فُلَانٌ. صورتِ مسئلہ یہ ہے بھئی، سب سے پہلے قسم، قسم کسے کہتے ہیں بھئی؟ دیکھیے یہ حاشیہ دیکھ لیجیے، حاشیہ نمبر 4 بھئی۔ کہتے ہیں اعْلَمْ أَنَّ الْيَمِينَ شَرْعًا عِبَارَةٌ عَنْ عَقْدٍ قَوِيَ بِهِ عَزْمُ الْحَالِفِ، کہ یمین، یعنی قسم جو ہے شرعاً وہ عبارت ہے ایسے عقد سے قَوِيَ بِهِ عَزْمُ الْحَالِفِ، جس کی وجہ سے قسم اٹھانے والے کا ارادہ قوی ہو جاتا ہے، کیا ہوتا ہے؟ مضبوط، دیکھو جب ایک شخص نے کہا: میں یہ کام کروں گا، تو معلوم ہوا اس کا ارادہ ہے، پھر یہ پختہ ارادہ ہے، پھر ساتھ قسم کا لفظ بھی بڑھا دیتا ہے، تو اس عقد کی وجہ سے کیا ہوا، اس کا، اس کے اس ارادے کو اس نے کیا کر دیا؟ اور قوی کر دیا، قوت آ گئی بھئی اس کے قول کے اندر اس ارادے کے اندر۔ اچھا، علی الفعل یا علی الترک، کسی کام کے کرنے پر ہوگا یا کسی کام کے چھوڑنے پر۔ تو کہتے ہیں فَدَخَلَ فِيهِ التَّعْلِيقُ، اس کے اندر تعلیق بھی داخل ہے، تعلیق بھی داخل ہے۔ یاد رکھیے تعلیق بھی شرعاً یمین کے حکم میں ہے، تعلیق بھی کس کے حکم میں ہے؟ یمین کے حکم میں ہے۔ تعلیق کس کو کہتے ہیں؟ بھئی شرط اور جزا نہیں پڑھا آپ نے بھئی؟ شرط اور جزا تعلیق ہے، ایک کام کو دوسری، ایک جملے کو کے مضمون کو کیا کر دیا جاتا ہے؟ دوسرے جملے کے مضمون کے ساتھ معلق کر دیا جاتا ہے، مثلاً کوئی شخص ہے، وہ اپنی بیوی سے کہتا ہے: إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ فَأَنْتِ طَالِقٌ، اگر تو اس گھر میں داخل ہوئی تو تجھے طلاق ہے۔ تو دیکھو، اس گھر میں اگر تو داخل ہوئی تو تجھے، تو وقوعِ طلاق کو کس کے ساتھ معلق کر دیا؟ اس گھر میں داخل ہونے کے ساتھ، تو دیکھو، یہ تعلیق ہے مولانا، تو ایک جملے کے مضمون کا حصول اس کا ربط آ گیا کس کے ساتھ؟ دوسرے جملے کے مضمون کے حصول کے ساتھ کہ جب اس جملے کا مضمون حاصل ہوگا، یعنی دخولِ دار حاصل ہوگا، تو ساتھ ہی کیا حاصل ہو جائے گی؟ وقوعِ طلاق بھی حاصل ہو جائے گا۔ جی، اور اس میں حانث ہونا، حانث ہونے کا مطلب ہے کہ وہ شرط پائی جائے، تو جب شرط پائی جائے تو جزا بھی پائی جائے گی، گھر میں داخل ہونا پایا جائے گا تو وقوعِ طلاق بھی پایا جائے گا۔ سمجھ میں آیا؟ تو معلوم ہوا تعلیق بھی شرعاً کس کے حکم میں ہے؟ یمین کے، اور اس میں حانث ہونے کا کیا معنی ہے؟ کہ وہ شرط پائی جائے، جب شرط پائی جائے تو جزا بھی پائی جائے گی۔ اچھا۔ اب دیکھیے بھئی، صورتِ مسئلہ یہ ہے، ایک شخص ہے، اس نے کہا: عَبْدِي حُرٌّ، میرا غلام آزاد ہے، يَوْمَ يَقْدَمُ زَيْدٌ، جس دن کہ زید آئے گا۔ جس دن زید آئے اس دن میرا غلام آزاد ہے۔ لفظ کیا اس نے استعمال کیے؟ عَبْدِي حُرٌّ يَوْمَ يَقْدَمُ فُلَانٌ، جس دن کیا ہو؟ زید آئے۔ اب ایک یوم کا حقیقی معنی ہے، ایک مجازی معنیٰ، یوم کا حقیقی معنی دن ہے بھئی، صبح سے لے کر شام تک، یہ یوم کا حقیقی معنی ہے۔ اور مجازاً رات کو بھی کیا کہہ دیتے ہیں؟ دن کہہ دیتے ہیں۔ تو لہٰذا یہاں پر ایک معنی مراد ہونا چاہیے، یا دن یا رات، یعنی حقیقی معنی یا مجازی معنی، لیکن احناف آپ کہتے ہو کہ وہ زید چاہے دن کو آئے، چاہے رات کو آئے، غلام کیا ہو جائے گا؟ آزاد، تو آپ نے جمع بین الحقیقت والمجاز کیا بھئی۔ اشکال سمجھ میں آیا؟ تو اس کا جواب دیں گے مولانا، کہ یہاں یوم بمعنی وقت کے ہے، یوم بمعنی وقت کے ہے، اور وقت شامل ہے دن کو بھی اور رات کو بھی، تو لہٰذا یہاں اس زید کے آنے سے غلام آزاد ہوگا، چاہے وہ دن کو آئے چاہے رات کو آئے، اور یہ غلام کا آزاد ہونا، چاہے زید دن کو آئے یا رات کو آئے، تو یہ جو ہم نے یہاں پر جمع بین الحقیقت والمجاز نہیں کیا، بلکہ یوم کو کس معنی میں لے لیا؟ وقت کے معنی میں، اور وقت ایسا معنی مجازی ہے جو دن کو بھی شامل ہے اور رات کو بھی شامل ہے، تو یہاں بھی وہ غلام آزاد ہوا کس کی وجہ سے؟ عمومِ مجاز کی وجہ سے بھئی، جمع بین الحقیقت والمجاز کی وجہ سے نہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ دیکھیے بھئی۔ تو کہتے ہیں وَإِنَّمَا يَحْنَثُ إِذَا قَدِمَ لَيْلًا أَوْ نَهَارًا، اور وہ شخص حانث ہوگا، دیکھو یَحنَثُ کا لفظ آیا تھا اس لیے میں نے آپ کو کہا حاشیہ دیکھ لیں بھئی، کہ ہاں حانث ہونے کا کیا معنی ہے؟ شرط کا پایا جانا۔ وَإِنَّمَا يَحْنَثُ إِذَا قَدِمَ لَيْلًا أَوْ نَهَارًا، حانث ہوگا جب وہ شخص آ جائے رات کو یا دن کو، فِي قَوْلِهِ، اس کے اس قول کے اندر، اس قول کے اندر وہ حانث ہوگا کہ عَبْدُهُ حُرٌّ، کہ اس کا غلام آزاد ہے، يَوْمَ يَقْدَمُ فُلَانٌ، جس دن کہ وہ فلاں آ جائے، جَوَابُ سُؤَالٍ آخَرَ، یہ دوسرے ایک سوال کا جواب ہے، تَقْرِيرُهُ، تقریر اس کی یہ ہے کہ أَنَّهُ إِذَا حَلَفَ أَحَدٌ، کہ کسی شخص نے قسم اٹھائی، فَقَالَ عَبْدِي حُرٌّ يَوْمَ يَقْدَمُ فُلَانٌ، کہ میرا غلام آزاد ہے جس دن فلاں آئے گا، فَالْيَوْمُ حَقِيقَةٌ فِي النَّهَارِ وَمَجَازٌ فِي اللَّيْلِ، تو یوم کا لفظ جو ہے حقیقت ہے نہار کے اندر اور مجاز ہے لیل کے اندر، وَأَنْتُمْ جَمَعْتُمْ بَيْنَهُمَا، اور اے احناف! تم نے ان دونوں کے درمیان جمع کر دیا، وَقُلْتُمْ، اور تم نے کہا: بِأَنَّهُ إِنْ قَدِمَ فُلَانٌ لَيْلًا أَوْ نَهَارًا يَعْتِقُ الْعَبْدُ، کہ اگر وہ شخص دن کو آیا یا رات کو آیا، غلام آزاد ہو جائے گا، تو تم نے جمع بین الحقیقت والمجاز کیا۔ فَأَجَابَ، تو جواب دیا مصنف نے، بِأَنَّهُ إِنَّمَا يَحْنَثُ فِي هٰذَا الْمِثَالِ بِالْقُدُومِ لَيْلًا أَوْ نَهَارًا، کہ حانث ہو جائے گا اس مثال کے اندر یا رات یا دن میں اس شخص کے آنے کی وجہ سے، لِأَنَّ الْمُرَادَ بِالْيَوْمِ الْوَقْتُ، اس لیے کیونکہ یوم سے کیا مراد ہے؟ وقت مراد ہے، وَهُوَ عَامٌّ، اور وہ عام ہے، أَيِ الْوَقْتُ مَعْنًى مَجَازِيٌّ شَامِلٌ لِلنَّهَارِ وَاللَّيْلِ، یعنی وقت معنی ایسا معنی مجازی ہے جو شامل ہے رات کو، دن کو بھی اور رات کو بھی، فَيَحْنَثُ بِاعْتِبَارِ عُمُومِ الْمَجَازِ لَا بِاعْتِبَارِ الْجَمْعِ بَيْنَ الْحَقِيقَةِ وَالْمَجَازِ، تو وہ شخص حانث ہو جائے گا عمومِ مجاز کے اعتبار سے، نہ کہ جمع بین الحقیقت والمجاز کے اعتبار سے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ وَقِيلَ، اور کہا گیا ہے: هُوَ مُشْتَرَكٌ بَيْنَ النَّهَارِ وَبَيْنَ مُطْلَقِ الْوَقْتِ. بعض علماء کہتے ہیں کہ یہ یوم کا لفظ مشترک ہے بھئی، وقت اس کا مجازی معنیٰ نہیں ہے، یہ دن کے لفظ، دن کے لیے بھی وضع ہے اور وقت کے معنیٰ کے لیے بھی وضع ہے، دونوں کے لیے وضع ہے، دونوں اس کے حقیقی معنیٰ ہیں، تو یہ مشترک ہوا یوم اور وقت میں، یوم اور وقت میں۔ تو کہتے ہیں وَقِيلَ، اور کہا گیا ہے: هُوَ مُشْتَرَكٌ بَيْنَ النَّهَارِ وَبَيْنَ مُطْلَقِ الْوَقْتِ، کہ یوم کا لفظ مشترک ہے نہار کے اندر اور مطلق وقت میں، فَأُرِيدَ هَاهُنَا مَعْنَى الْوَقْتِ، پس ارادہ کیا گیا ہے یہاں پر وقت کے معنیٰ کا۔ وَبِالْجُمْلَةِ لَا بُدَّ هَاهُنَا مِنْ بَيَانِ ضَابِطَةٍ يُعْرَفُ بِهَا أَنَّهُ فِي أَيِّ مَوْضِعٍ يُرَادُ بِهِ النَّهَارُ وَفِي أَيِّ مَوْضِعٍ يُرَادُ بِهِ الْوَقْتُ. جی، شارح فرماتے ہیں کہ مجموعی اعتبار سے ضروری ہے کہ یہاں پر کوئی ایسا ضابطہ ہونا چاہیے جس سے پتہ چل جائے کہ یوم کس وقت نہار کے معنی میں ہوگا، دن کے معنیٰ میں، اور کس وقت وقت کے معنیٰ میں ہوگا، کیا ہوگا؟ وقت کے معنیٰ میں ہوگا۔ تو کہتے ہیں وَبِالْجُمْلَةِ، اور مجموعی اعتبار سے، لَا بُدَّ هَاهُنَا مِنْ بَيَانِ ضَابِطَةٍ، ضروری ہے یہاں پر ایسے ضابطے کا بیان کرنا، يُعْرَفُ بِهَا، جس کے ذریعے یہ جانا جائے، أَنَّهُ فِي أَيِّ مَوْضِعٍ يُرَادُ بِهِ النَّهَارُ، کہ کس جگہ پر اس یوم سے نہار کا ارادہ ہوگا، وَفِي أَيِّ مَوْضِعٍ يُرَادُ بِهِ الْوَقْتُ، اور کس مقام پر اس کے، اس سے وقت کا ارادہ کیا جائے گا، فَقِيلَ، پس کہا گیا ہے: إِذَا كَانَ الْفِعْلُ مُمْتَدًّا يُرَادُ بِهِ النَّهَارُ. اچھا۔ کہتے ہیں دیکھیے، فعل دو قسم پر ہیں: ایک وہ فعل ہیں جو ممتد ہیں، جن میں طول ہے مولانا، کیا ہے؟ طول ہے۔ اور ایک وہ فعل ہے جس میں امتداد نہیں ہے، طول نہیں ہے، بلکہ ایک آن میں ہو جاتے ہیں، ایک آن میں، ایک لمحے میں ہو جاتے ہیں بھئی۔ تو فعلِ ممتد یاد رکھیے، اسے، اس فعل کو کہتے ہیں جس کی کوئی مدت بیان کی جا سکے، اور فعلِ غیر ممتد اسے کہتے ہیں جس کی کوئی مدت بیان نہ کی جا سکے بھئی، جس کی مدت بیان نہ کی جا سکے۔ بلکہ علامہ صدر الشریعہ کی تعریف زیادہ بہتر ہے بھئی، وہ فرماتے ہیں: فعلِ ممتد وہ ہے جو سارے دن کا احاطہ کر سکے بھئی، اتنا لمبا فعل ہے کہ کیا کر سکے؟ سارے دن کا احاطہ کر سکے، اور اگر سارے دن کا احاطہ وہ نہیں کر سکتا تو وہ فعلِ غیر ممتد ہے، اگرچہ فی نفسہٖ اس میں امتداد ہو، تھوڑے وقت کے لیے تو ہو جاتا ہے، لیکن عرفاً اور عادتاً سارے وقت کے لیے، سارے دن کے لیے نہیں ہوتا، اسے غیر ممتد کہیں گے۔ مثلاً بھئی، سوار ہونا، سوار ہونا بھئی، سوار ہونا بھئی یہ فعلِ ممتد ہے یا غیر ممتد ہے؟ ممتد ہے مولانا۔ میں کہتا ہوں: رَكِبْتُ هٰذِهِ الدَّابَّةَ يَوْمًا، میں اس جانور پر سوار ہوا پورا، یومًا کاملاً، پورا دن، تو امتداد آیا ہے یا نہیں رکوب کے اندر؟ جی، پورا دن۔ اچھا، اور اسی طرح مثلاً کپڑے پہننا، سارا دن ایک کپڑے پہنے ہوئے ہیں، تو امتداد آیا یا نہیں اس کے اندر بھئی؟ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو اس میں کے اندر امتداد ہے مولانا۔ اور بعض افعال وہ ہیں جن کے اندر امتداد نہیں ہوتا بھئی، یعنی وہ وہ سارے دن کو نہیں گھیرتے بھئی۔ مثلاً کیا مثال بنائیں بھئی؟ مثلاً بھئی وقوعِ طلاق، طلاق کا واقع ہونا، بھئی طلاق کا واقع ہونا، یہ سارے دن میں ہو سکتا ہے بھئی، احاطہ کر لے سارے دن کا؟ نہیں، طلاق تو ایک آن میں واقع ہو جائے گی، تکلم کرتے ہی کیا ہو جائے گی؟ طلاق واقع ہو جائے گی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اسی طرح اور کیا مثال بنائیں؟ آنا، آنا، قدوم، بتائیے بھئی، قدوم اس میں امتداد ہے یا امتداد نہیں ہے؟ جی، نہیں، امتداد نہیں ہے اس کے اندر مولانا، امتداد۔ آنا، کیا معنیٰ؟ واپس، اس کا معنیٰ واپس پلٹنا یا آنا، تو واپس پلٹے گا، ایک آن میں واپس پلٹ گیا۔ تو یا آپ کہیں گے بھئی، واپس پلٹ کر وہ گھر کی طرف آ رہا ہے، آپ کہتے ہیں: سارا دن وہ واپس پلٹتا رہا، یوں کہیں گے؟ نہیں، بس وہ واپس پلٹا، اب واپس چل پڑا، صورت سمجھ میں آ گئی؟ وہ ایک آن میں ہوا۔ یا قدوم کا معنیٰ آنا بھی ہے، آنا، اور آنا اس میں بھی طول نہیں ہے بھئی، چلنے کی بات نہیں کر رہا، آنے کی بات کر رہا ہوں۔ سمجھ میں آیا؟ کہ نہیں سمجھ میں آیا فرق؟ بھئی آپ زید کے انتظار میں ہیں، جیسے ہی پہلی نظر آپ کی اس پر پڑتی ہے، آپ کیا کہتے ہیں فوراً؟ زید آ گیا، زید آ گیا، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ آن کے اندر ہے بھئی، آ گیا بھئی۔ باقی اس کے بعد وہ جو ہے، وہ چلنا ہے، چلنا اور آنا، اردو میں تو ایک ہی لفظ استعمال ہوتا ہے دونوں کے لیے، لیکن عربی میں کیا ہے؟ فرق ہے بھئی، وہ اس کے بعد جو ہے وہ چل رہا ہے، لیکن آنا کس میں ہوا؟ جیسے ہی پہلی نظر پڑتی ہے کیا کہہ دیتے ہیں؟ زید آ گیا، یا پہنچ جائے تو کہہ دیتے ہیں زيد آ گیا۔ اچھا بھئی، تو بات سمجھ میں آئی؟ فعلِ ممتد کس کو کہتے ہیں؟ جس کی کوئی مدت بیان کی جا سکے یا جو اتنی مدت کہ وہ سارے دن کا احاطہ کر لے، جیسے رکوب ہے، تو سارا دن کوئی شخص سوار رہتا ہے سواری پر، یا جیسے کپڑے کا پہننا سارا دن کیا ہے، ایک لباس پہنا ہوا ہے، تو اس میں امتداد ہے، اور اگر امتداد، سارے دن کا احاطہ نہ کر سکے بھئی، تو پھر اسے کیا کہیں گے؟ فعلِ غیر ممتد، یعنی جس کی کوئی مدت بیان نہ کی جا سکے۔ تو کہتے ہیں فَقِيلَ إِذَا كَانَ الْفِعْلُ مُمْتَدًّا يُرَادُ بِهِ النَّهَارُ، پس کہا گیا ہے کہ جب فعل ممتد ہو يُرَادُ بِهِ النَّهَارُ، تو اس کے لیے نہار مراد ہوگا، لِأَنَّهُ زَمَانٌ مُمْتَدٌّ يَصْلُحُ أَنْ يَكُونَ مِعْيَارًا لِلْفِعْلِ، اس لیے کیونکہ وہ ایسا لمبا زمانہ ہے جو صلاحیت رکھتا ہے کہ وہ فعل کے لیے معیار بن سکے، فعل کے لیے کیا بن سکے؟ معیار بن سکے بھئی، جیسے روزہ رکھنا مولانا، روزہ رکھنا، یہ فعل ہے، سارا دن کیا رکھتا ہے انسان؟ روزہ رکھتا ہے، تو یہ روزے نے سارے دن کا احاطہ کر لیا، تو لہٰذا جب یوم کے ساتھ ایسا فعل ذکر ہو جس میں امتداد ہو، تو یوم سے کیا مراد لیں گے؟ نہار، کیا مراد لیں گے؟ نہار، کیونکہ نہار بھی کیا ہے؟ وقتِ ممتد ہے، لمبا زمانہ ہے، وہ فعل کے لیے کیا بن سکتا ہے؟ معیار بن سکتا ہے، جیسے مولانا روزے کے لیے یوم کیا ہے؟ معیار، معیار ہے مولانا، دن لمبے تو روزہ بھی لمبا، دن چھوٹے تو روزہ بھی چھوٹا بھئی، تو اس کے لیے معیار ہے۔ تو یہاں بھی نہار جو ہے، وہ یوم کا، یوم کے ساتھ جب کون سا فعل آ جائے؟ فعلِ ممتد آ جائے، تو فعلِ ممتد کس کو کہتے ہیں؟ جس کی کوئی مدت بیان کی جا سکے، اور علامہ صدر الشریعہ کیا فرماتے ہیں؟ جو کیا کر سکے، پورے دن کا احاطہ کر سکے، تو لہٰذا جب اس فعلِ ممتد کے ساتھ یوم کا لفظ آیا، تو اس سے مراد بھی یوم، یعنی نہار ہی لیں گے، کیونکہ نہار اتنا وقت ہے، جو کیا کر، جو فعل کے لیے معیار بننے کی صلاحیت، اس فعل میں بھی امتداد ہے، تو اس زمانے میں بھی کیا ہونا چاہیے؟ امتداد ہونا چاہیے، تو اس کے لیے معیار بن سکتا ہے بھئی۔ وإن كان غير ممتد، واما اذا وہ فعل کیا ہو؟ غیر ممتد ہو، یراد بہ المطلق تو اس کے لیے وہ مطلق وقت مراد ہو گا، لانه يكفي لذالك الفعل جز‌و من الوقت اس لیے کہ اس کے فعل کے لیے وقت کا ایک جز ہی کافی ہے، اس میں امتداد کا ہونا ضروری نہیں۔ جیسے میں نے ذکر کیا وقوع الطلاق، اس کے لیے ایک وقت کا ایک جز ہی کافی ہے، مولانا اس کے اندر خود امتداد نہیں تو اس کے لیے وقت لیمبے وقت کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ ولاکنہم اختلفوا فی انہ ای فعل یعتبر فی ہذا الباب اچھا۔ یہاں سے اب ذکر کر رہے ہیں بھئی کون سے فعل کا اعتبار کیا جائے گا؟ ایک تو فعل وہ ہے جو عامل ہے یوم کے اندر۔ اور ایک تو فعل وہ ہے جس کی طرف یوم مضاف ہے بھئی۔ دیکھو اوپر مثال متن میں دیکھو۔ اس شخص نے کیا کہا تھا؟ عبدہ حر یوم یقدم فلان۔ تو ایک اس سے ماقبل میں فعل کون سا ذکر ہے؟ حریت ذکر ہے یا نہیں؟ آزاد ہونا یہ فعل ہے یا نہیں؟ صیغے کو نہ دیکھو، صیغے کو بہرحال۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ فعل ذکر ہے اس سے پہلے آزاد ہونے کا اور یوم کے بعد کیا ذکر ہے؟ یقدم، آنا تو۔ اچھا۔ اب بتائیے اس یوم کے اندر عامل کون ہے؟ ترکیب آتی ہے یا نہیں آتی بھئی؟ یوم ہے نا یوم۔ زمانہ ہے، یہ یہ کیا کہلائے گا ترکیب میں؟ مفعول فی کہلائے گا۔ مفعول فی پر اعراب کیا آتا ہے؟ نصب۔ تو نصب تو کسی نے دیا ہے، کوئی عامل ہے، وہ عامل کون ہے؟ جی۔ یہ جو یہاں پر ماقبل کا فعل حر یہ آزاد ہونا ہے یہ کیا ہے؟ اس کے لیے۔ بھئی میں نے اپ کو بتلایا تھا۔ بھول گئے یا یاد ہے؟ کافیہ کے اندر یہ بات گزری تھی۔ جیسے فعل کے لیے فاعل کا ہونا ضروری۔ اسی طرح اس میں فاعل کے لیے بھی فاعل کا ہونا ضروری۔ اس اور جیسے فعل مجہول کے لیے نائب فاعل کا ہونا ضروری، اسی طرح اس میں مفعول کے لیے بھی نائب فاعل کا ہونا ضروری۔ اچھا تو جیسے فعل کے لیے فاعل یا نائب فاعل کا ہونا ضروری، اسی طرح اس میں فاعل کے لیے فاعل کا ہونا ضروری۔ صفت مشبہ کے لیے فاعل کا ہونا ضروری۔ اسم تفضیل کے لیے فاعل کا ہونا ضروری۔ اس میں مفعول کے لیے نائب فاعل کا ہونا ضروری بھئی۔ صورت سمجھ میں اگئی بھئی؟ نیز جس طرح فعل عمل کرتا ہے، اپنے فاعل کو رفع دیتا ہے، مفعول بہ کو نصب دیتا ہے، مفعول فی کو بھی کیا کرتا ہے؟ نصب دیتا ہے۔ تو جو جو عمل فعل کرتا ہے، ان سے جو صیغے مشتق ہوئے اس میں فاعل، اس میں مفعول وغیرہ وہ بھی اسی کی طرح کیا کریں گے سارے عمل کریں گے۔ تو یہاں حر کا لفظ آیا، یہ کس سے مشتق ہے؟ آزاد ہونا حر حر حرار یہ فعل ہے اس کا آز غلام کا آزاد ہونا۔ صورت سمجھ میں اگئی اسی سے تو اور جو آزاد ہو وہ کیا کہلائے گا؟ حر کہلائے گا۔ کیا کہلائے گا؟ وہ حر کہلاتا ہے تو یہاں حر ذکر ہے تو یہ گویا یہ فعل یہاں پر ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں اگئی بھئی؟ اسی کی طرح عمل کرے گا نا فعل کی طرح تو یہ یوم اس کے لیے کیا بنے گا؟ مفعول فی تو عامل ہوا اس کے اندر یہ حر کا لفظ یہ فعل یعنی۔ اچھا اور یقدم یہ کیا ہے اس کے لیے؟ مضاف الیہ ہے، کیا ہے؟ اب کس فعل کا اعتبار کیا جائے؟ وہ جو عامل ہے یوم کے اندر یعنی جو ماقبل میں ہے، اس کا اعتبار کریں گے یا یوم کا لفظ جس کی طرف مضاف ہے یعنی وہ مضاف الیہ جو ہے، اس فعل کا اعتبار کیا جائے گا بھئی۔ صورت سمجھ میں اگئی؟ کس کا اعتبار کریں گے؟ وہ ذکر کرنے لگے ہیں دیکھیے بھئی۔ کہتے ہیں ولاکنہم اختلفوا فی انہ ای فعل یعتبر فی ہذا الباب لیکن اختلاف کیا علما نے اس کے اندر کہ کون سے فعل کا اعتبار کیا جائے گا اس باب کے اندر المضاف الیہ او العامل مضاف الیہ کا یا عامل کا؟ کس کا اعتبار کیا جائے گا؟ ف الضابطہ تو ضابطہ یہ ہے انہ اذا کان ممتدین کہ جب یہ دونوں فعل ممتد ہوں۔ کون سے دونوں فعل ممتد ہوں؟ عامل اور مضاف الیہ دونوں جب ممتد ہوں تو پھر یوم کا کون سا معنی کریں گے؟ بھئی جب فعل ممتد ہے تو یوم کا کون سا معنی مراد ہوگا؟ نہار والا تو جب عامل بھی اس فعل جو عامل ہے اس میں بھی امتداد، جو مضاف الیہ ہے اس کے اندر بھی تو یوم سے پھر کون سا معنی لیں گے؟ نہار والا۔ اور اگر دونوں غیر ممتد ہیں، عامل جو ہے اس میں بھی امتداد نہیں، جو مضاف الیہ ہے اس کے اندر بھی امتداد نہیں، تو اس صورت کے اندر کون سا معنی مراد لیں گے؟ وقت کے، یوم کس معنی میں ہوگا؟ وقت کے معنی میں ہوگا۔ اور اگر دونوں مختلف ہوں ایک میں امتداد ہے عامل یا مضاف الیہ میں سے اور ایک کے اندر امتداد نہیں، پھر کس کا اعتبار کریں گے؟ تو کہتے ہیں پھر یاد رکھیے اس صورت میں عامل کا اعتبار ہوگا، مضاف الیہ کا اعتبار نہیں ہوگا۔ صورت سمجھ میں اگئی جو عامل ہے جس کے لیے وہ ظرف ہے، اس کا اعتبار کیا جائے گا۔ اگر اس میں امتداد ہے تو یوم کے اندر بھی کیا ہونا چاہیے؟ امتداد ہونا چاہیے اور کس معنی کے اندر امتداد ہے؟ نہار کے معنی میں امتداد ہے، وقت میں وقت میں۔ یہاں تک بات سب کو سمجھ میں اگئی۔ تو کہتے ہیں ضابطہ تو ضابطہ یہ ہے انہ اذا کان ممتدین جب وہ دونوں فعل ممتد ہوں مثل امرك بیدی یوم یرکب زید کوئی شخص اپنی بیوی سے کہتا ہے تیرا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے یعنی تیرے اختیار میں ہے جس دن کہ زید سوار ہو، جس دن زید سوار۔ تو دو دو چیزیں ذکر ہوئیں مولانا ایک یوم سے ماقبل میں فعل اور ایک یوم سے مابعد۔ ماقبل میں کیا ہے؟ معاملے کا ہاتھ میں ہونا یعنی اختیار کیا ہے؟ اختیار، ماقبل میں اختیار کا فعل ہے اور یوم کے بعد رکوب سوار ہونے کا فعل ہے اور دونوں کے اندر امتداد ہے۔ سوار ہونا ایک شخص صبح سے شام تک کیا ہو؟ سوار رہے بھئی۔ اس میں بھی امتداد ہے اور اختیار، اختیار بھی مولانا اس میں امتداد ہے۔ ایک شخص کو آپ ایک چیز کا اختیار دیتے ہیں ہو سکتا ہے پھر مجلس کے اندر تک کا اختیار دیں، ہو سکتا ہے آپ دو دن کا دیں، ہو سکتا ہے آپ دس دن تک اختیار دیں بھئی۔ تو اس کے اختیار کے اندر بھی کیا ہے؟ امتداد ہے تو دونوں فعل ممتد ہوئے۔ لہذا اس صورت میں کون سا معنی مراد لیں گے؟ جب دونوں افعال میں امتداد ہے تو اس یوم کے اندر بھی کیا ہونا چاہیے؟ امتداد اور کس معنی کون سا معنی لیں تو امتداد ہے؟ نہار والا، نہار والا۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو کہتے ہیں جب یہ دونوں فعل ممتد ہوں تو یراد بالیوم النھار تو یوم سے مراد نہار ہوگا وان کان غیر ممتدین اور اگر وہ دونوں فعل غیر ممتد ہوں گے مثل مثال کے طور پر عبدی حر یوم یقدم فلان ایک شخص کہتا ہے میرا غلام آزاد ہے جس دن فلان یعنی زید آجائے۔ میرا غلام آزاد ہے جس دن فلان آجائے، اب دیکھیے حریت ماقبل میں کیا ذکر ہے؟ کون سا فعل ہے؟ عامل، حریت اور آزاد ہونا اس میں امتداد ہے یا یہ غیر ممتد ہے؟ جی، غیر ممتد ہے، آزاد کرے گا جیسے ہی اسی لمحے کے اندر غلام کیا ہو جائے گا؟ آزاد ہو جائے گا۔ اور آنا قدوم بھئی اگر مضاف الیہ قدوم ہے۔ قدوم کے اندر بھی امتداد نہیں۔ تو لہذا دونوں فعل غیر ممتد ہوئے تو لہذا یوم کا کون سا معنی کریں گے؟ وقت والا۔ تو کہتے ہیں جب دونوں غیر ممتد ہوں مثل عبدی حر یوم یقدم فلان میرا غلام آزاد ہے جس دن فلان آجائے تو یراد بالیوم الوقت تو مراد یوم سے وقت ہوگا وان کان احدهما ممتد دونک الاخر اور اگر ان دونوں میں سے ایک تو ممتد ہے دوسرا نہیں ہے۔ مثل امرک بیدی یوم یقدم فلان تیرا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے جس دن فلان آجائے۔ یعنی تو یوم سے ماقبل کیا ذکر ہوا؟ اختیار اور یوم کے مابعد کیا ذکر ہوا؟ مضاف الیہ کیا ہے؟ قدوم۔ تو قدوم جو مضاف الیہ ہے اس کے اندر امتداد نہیں۔ اور اختیار کے اندر امتداد ہے۔ تو اس مثال کے اندر دیکھو۔ کس کے اندر امتداد ہے؟ عامل کے اندر یا مضاف الیہ کے اندر؟ امتداد عامل کے اندر امتداد ہے اختیار میں کیا ہے امتداد ہے لیکن قدوم کے اندر امتداد نہیں۔ اگلی مثال میں اس کا عکس ہوگا دیکھیے بھئی۔ او ان تطلق یوم یرکب زید کوئی شخص اپنی بیوی سے کہتا ہے تجھے طلاق ہے جس دن کہ زید سوار ہوا۔ تو انت طالق۔ اس میں امتداد ہے غیر طالق میں طلاق میں امتداد ہوتے ہیں؟ نہیں وہ تو فورا واقع ہو جاتی ہے۔ تو عامل کے اندر امتدا عامل غیر ممتد ہے اور یرکبو کیا رکوب کیا ہے؟ ممتد ہے۔ تو دیکھو عامل یہاں پر غیر ممتد اور مضاف الیہ ممتد اور پچھلے مثال میں عامل ممتد تھا اور مضاف الیہ غیر ممتد تو کہتے ہیں اگر ایسا وقت ایسا موقع ا جائے جہاں عامل اور مضاف الیہ دونوں مختلف ہوں ایک ممتد ہو، ایک غیر ممتد ہو تو کہتے ہیں فال معتبر ہو العامل دون المضاف الیہ بالاتفاق تو اس صورت میں معتبر جو ہے وہ عامل ہے نہ کہ مضاف الیہ ہے بالاتفاق بھئی۔ اس صورت میں عامل کون اس صورت میں معتبر اعتبار کس کے کیا جائے گا؟ عامل کا کیا جائے گا بالاتفاق بھئی۔ مسئلہ سمجھ میں آ گیا لیکن یہاں اشکال ہوتا ہے مولانا اوپر مصنف نے کہا تھا اختلاف کیا ہے علما نے کہ کس فعل کا اعتبار کیا جائے مضاف کا یا مضاف الیہ کا یا عامل کا۔ اب کہہ رہے ہیں کہ بالاتفاق کیا ہے؟ کس کا اعتبار کیا جائے گا؟ عامل کا۔ حق یہ ہے مولانا کہ یہاں اختلاف نہیں ہے بھئی۔ اختلاف نہیں ہے۔ بالاتفاق اسی طرح ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بات۔ لیکن بعض علما کی عبارت اس طرح کی تھی اس عبارت سے یہ وہم پڑتا تھا کہ شاید وہ مضاف الیہ کا اعتبار کرتے ہیں۔ حالانکہ بالاتفاق سارے کس کا اعتبار کرتے ہیں؟ عامل کا اعتبار کرتے ہیں۔ لیکن بعض علما کی عبارت سے یوں معلوم ہوتا تھا، یہ وہم پڑتا تھا اگرچہ ان کے بھی یہ انہوں نے صراحتا نہیں لکھا کہ کس کا اعتبار کیا جائے گا بعض اوقات مضاف الیہ کا ہر ایک نے ہر مقام پر عامل ہی کا اعتبار کیا ہے لیکن بعض مواقع پر ان کی عبارت کچھ اس طرح کی تھی جس سے یہ وہم پڑتا تھا شاید وہ کس کا اعتبار کرتے ہیں۔ مضاف الیہ کا بھی بعض اوقات اعتبار کر لیتے ہیں کیا کیا کرتے ہیں، تو اس لیے شارح نے کیا کیا اس کو کس کے ساتھ تعبیر کر دیا؟ اختلاف سے تعبیر کر دیا اگرچہ وہ صرف ایک وہم پڑتا تھا حقیقت میں وہ بھی مضاف الیہ کا اعتبار نہیں کرتے بھئی۔ وانما اريد النظر واليمين فيما اذا قال لله علی صوم رجب۔ یہ ایک اور اعتراض کا جواب دے رہے ہیں بھئی۔ اعتراض یہ ایک شخص کہتا ہے لله علی صوم رجب ذرا جب کسی مہینے کا کہہ لے۔ للہ علی صوم رجب اللہ کے لیے مجھ پر اس رجب یہ جو آ رہا ہے رجب اس کے روزے واجب ہیں۔ اللہ کے لیے مجھ پر اس رجب کے روزے واجب ہیں (یعنی میں اپنے اوپر اس رجب کے روزے واجب کرتا ہوں اللہ کے لیے بھئی) اللہ کی رضا کے لیے میں روزے رکھوں گا اس رجب میں سارے۔ اچھا۔ اور ان لفظوں کے ذریعے وہ صرف قسم کی نیت کرتا ہے کس کی نیت کرتا ہے؟ قسم کی نیت کرتا ہے۔ یعنی قسم کی تو نیت کی۔ مننت کی نفی نہیں کی اس نے۔ سب سے پہلے تو یہ یاد رکھیے کہ یہ لفظ جو ہیں منت کے اندر حقیقت ہیں اور یمین کے اندر مجاز ہے۔ منت کے اندر کیا ہیں؟ حقیقت البتہ ان کا مجازی معنی کیا ہے؟ یمین ہے۔ بھئی لفظوں پر آپ غور کریں یہ منت کے لفظ ہیں مولانا یمین کے نہیں ہیں اللہ کے لیے مجھ پر اس رجب کے روزے واجب ہیں یا میں اللہ کے لیے اس رجب کے روزوں کو اپنے اوپر واجب کرتا ہوں۔ قسم ہے کہیں؟ جی قسم کہیں نہیں۔ یہ اپنے اوپر ایک غیر واجب کو کیا کر رہا ہے؟ واجب کر رہا ہے۔ اور غیر واجب کو اپنے اوپر واجب کرنا یہ کیا کہلاتا ہے؟ منت کہلاتا ہے۔ تو منت ہوا اس کا حقیقی معنی۔ اور قسم ہوا اس کا مجازی معنی۔ قسم اس کا مجازی معنی کیسے ہوا؟ وہ بھی یہیں پر سمجھ لیجیے۔ اس لیے کہ جب اس نے اپنے اوپر ایک مباح چیز کو واجب کیا۔ یعنی ایجاب مباح کیا۔ اپنے اوپر کیا کیا؟ بھئی رجب کے روزے اس کے لیے مباح تھے، چاہتا تو رکھتا، چاہتا تو نہ رکھتا۔ لیکن اس نے اس منت کے ذریعے کیا کر لیا؟ جی۔ واجب مباح کو اپنے اوپر واجب کر رہی ہے ایجاب مباح کر لیا۔ کیا کر لیا؟ ایجاب مباح کر لیا۔ اور ایجاب مباح کے ساتھ ہی تحریم مباح بھی آ گیا۔ کیا آ گیا؟ اس نے تو کیا ایجاب مباح لیکن ساتھ ہی کیا آ گیا؟ تحریم مباح ایک مباح چیز کو اس نے اپنے اوپر حرام کر لیا، کیسے؟ بھئی رجب کے روزے یہ نہ رکھتا، چھوڑ دیتا، جائز تھا یا نہیں؟ چھوڑنا جائز تھا۔ اب چھوڑنا جائز نہیں۔ تو اب چھوڑنا حرام کر لیا اس نے اپنے اوپر۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اچھی طرح تو ایجاب مباح کے ساتھ کیا آ جاتا ہے؟ تحریم مباح اور تحریم مباح یہ قسم ہے مولانا کہ کسی حلال مباح چیز کو اپنے اوپر حرام کرنا یہ کیا ہے؟ قسم ہے بھئی۔ آگے شرح کے اندر بتلائیں گے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ تعالی عنہا یا شہد کو اپنے اوپر حرام کر لیا تھا تو اللہ نے اس کو یمین قرار دیا بھئی۔ کیا قرار دیا؟ یمین قرار دیا ہے قرآن کے اندر بھئی معلوم ہوا کسی بھی مباح چیز کو اپنے اوپر حرام کر لے یہ کیا ہے؟ یمین ہے۔ تو لہذا یہ جو صیغہ ہے للہ علی صوم رجب اللہ کے لیے مجھ پر اس رجب کے روزے واجب ہیں یہ لفظوں کے اعتبار سے تو ہے منت مولانا۔ کیا ہے؟ منت ہے۔ اور قسم کیا ہے اس کا مجازی معنی ہے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی قسم مجازی معنی کیوں ہے اس لیے کیونکہ یہ ایجاب مباح ہے اور ایجاب مباح کے ساتھ کیا ائے گا ساتھ؟ تحریم مباح اور تحریم مباح کیا ہے؟ قسم ہے بھئی۔ تو لہذا اے احنا ایک شخص نے یہ کہا للہ علی صوم رجب اور اس کے ذریعے اس نے نیت کر لی۔ منت پہلی صورت یہ یاد رکھو۔ اس نے نیت کی ہے منت کی بھی اور قسم کی بھی۔ کس کی نیت کی ہے؟ دونوں کی نیت کر لیں۔ تو یاد رکھیے۔ ہمارے نزدیک اب یہ منت بھی ہے اور قسم بھی ہے۔ یہ منت بھی ہے اور قسم بھی ہے۔ منت کو پورا کرنا پڑتا ہے۔ اور اگر پورا نہ کیا تو بعد میں اس کی قضا کرنا پڑتی ہے وہ رجب کے روزے رکھنا یہ رجب کے روزے رکھنا اس پر واجب ہے اگر رکھے تو ٹھیک اگر نہ رکھے تو بعد میں کیا کرنا پڑے گی؟ قضا اس مہینے کے روزے رکھے گا۔ اور قسم اگر پوری نہ کرے تو پھر کیا کرنا پڑتا ہے؟ کفارہ دینا پڑتا ہے لہذا اس صورت میں اگر اس نے رجب کے روزے نہ رکھے تو بعد میں قضا بھی کرنا پڑے گی نظر کی وجہ سے اور کفارہ بھی دینا پڑے گا کس کی وجہ سے؟ یمین کی وجہ سے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو لہذا ایک شخص نے یہ کہا للہ علی صوم رجب اور اس کے لیے اس نے کس چیز کی نیت کی ہے؟ پانچ چھ صورتیں بنیں گی، اس لیے میں بار بار دہرایا رہا ہوں بھئی! اور زبان سے بولا کریں بھئی، مجھے پتہ لگے آپ کو بات سمجھ میں آ گئی ہے۔ ایک شخص نے کہا: "لِلَّهِ عَلَيَّ صَوْمُ رَجَبٍ" اور کس چیز کی نیت کی ہے اس نے؟ نذر اور یمین دونوں کی نیت کی ہے، تو اس صورت میں یہ نذر بھی ہے اور یمین بھی ہے۔ تو احناف، یہاں تو آپ نے "جمع بین الحقیقۃ والمجاز" کر دیا، نذر اس کا حقیقی معنی تھا اور یمین اس کا مجازی معنی تھا، اور آپ کہتے ہیں اگر اس نے روزے نہ رکھے تو اس صورت میں... یہ... آپ نے کہا کہ یہ منت بھی ہو گئی اور قسم بھی ہو گئی، لہٰذا روزے نہ رکھے تو قضا بھی کرنا پڑے گی منت ہونے کی وجہ سے اور کفارہ بھی دینا پڑے گا یمین ہونے کی وجہ سے۔ ایک صورت۔ دوسری صورت: کہ اس شخص نے اس کے لیے قسم کا ارادہ کیا ہے فقط... فقط بھئی، صرف قسم کا ارادہ کیا۔ اور منت... منت کا نہ اس نے اثبات کیا نہ نفی کی، منت اس کے خیال ہی نہیں گیا منت کی طرف، اس نے کس چیز کا ارادہ کیا؟ قسم کا ارادہ کیا، منت کی طرف اس کا خیال بھی نہ گیا۔ پھر بھی اے احناف! آپ کہتے ہو منت بھی ہو گئی ہے اور یمین بھی ہو گئی، دونوں صورتوں میں۔ پہلی صورت کیا تھی، اس نے کس کس چیز کی نیت کی تھی؟ نذر اور یمین دونوں کی۔ دوسری کون سی صورت ہے؟ قسم کی تو نیت کی ہے اور نذر کی... اس کے دل میں ہی نہیں، اس کی نفی نہیں کی، اگر نفی کرے وہ اور مسئلہ ہے کہ نذر نہیں ہے صرف کیا ہے؟ قسم ہے۔ پھر اور مسئلہ ہو گا۔ صرف قسم کی نیت کی ہے یعنی منت کا اس کے دل میں خیال ہی نہیں آیا، نہ اس کا اثبات کیا نہ اس کی نفی کی۔ تو اس صورت... دونوں صورتوں میں اے احناف! آپ کیا کہتے ہیں؟ یمین بھی ہے اور منت بھی ہے ق... صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ آپ نے کیا کیا؟ "جمع بین الحقیقۃ والمجاز" کیا۔ دیکھیے بھئی! "وَإِنَّمَا أُرِيدَ النَّذْرُ وَالْيَمِينُ فِيمَا إِذَا قَالَ لِلَّهِ عَلَيَّ صَوْمُ رَجَبَ" اور ارادہ کیا گیا ہے منت اور یمین دونوں کا جب اس نے کہا کہ اللہ کے لیے مجھ پر اس رجب کے روزے واجب ہیں۔ "جَوَابُ سُؤَالٍ آخَرَ" یہ دوسرے سوال کا جواب ہے، "تَقْرِيرُهُ" تقریر اس کی یہ ہے کہ "أَنْ يُقَالَ" کہ یوں کہا جائے کہ "إِذَا قَالَ شخصٌ" جب کہا کسی شخص نے "لِلَّهِ عَلَيَّ صَوْمُ رَجَبَ" کہ اللہ کے لیے مجھ پر رجب کے روزے واجب ہیں، اس رجب کے "وَنَوَى بِهِ النَّذْرَ وَالْيَمِينَ" اور نیت کی اس نے منت اور قسم دونوں کی، یہ پہلی صورت۔ "أَوْ نَوَى الْيَمِينَ فَقَطْ" یا صرف کس کی نیت کی؟ قسم کی نیت کی "وَلَمْ يَخْطُرْ بِبَالِهِ النَّذْرُ" اور اس کے دل پر منت کا گزر بھی نہ ہوا، یعنی نہ اس کا اثبات کیا نہ اس کی نفی کی۔ یہ دوسری صورت آ گئی۔ "بال" کہتے ہیں دل کو، اور "خَطَرَ يَخْطُرُ" کے معنی دل میں آنا بھئی۔ "وَلَمْ يَخْطُرْ بِبَالِهِ النَّذْرُ" اور گزر بھی نہ ہوا اس کے دل پر منت کا، "فَإِنَّهُ يَكُونُ نَذْرًا وَيَمِينًا مَعًا" تو اس صورت میں یہ نذر اور منت دونوں ہوں گی، "وَالنَّذْرُ مَعْنَاهُ الْحَقِيقِيُّ" اور نذر کیا ہے اس کا؟ معنی حقیقی ہے، "وَالْيَمِينُ مَعْنَاهُ الْمَجَازِيُّ" اور یمین اس کا معنی مجازی ہے، "فَيَلْزَمُ الْجَمْعُ بَيْنَ الْحَقِيقَةِ وَالْمَجَازِ مَعًا" تو اس صورت میں لازم آتا ہے جمع کرنا حقیقت اور مجاز دونوں کے درمیان، "حَتَّى قِيلَ" یہاں تک کہ کہا گیا ہے "يَلْزَمُ بِفَوَاتِهِ الْقَضَاءُ لِلنَّذْرِ وَالْكَفَّارَةُ لِلْيَمِينِ" کہ لازم ہو جائے گی ان کے فوت ہونے پر... ان کے فوت ہونے پر کیا لازم ہوگی؟ قضا ہوگی منت کے لیے اور کفارہ ہوگا یمین کے لیے، دونوں چیزیں آئیں گی۔ "وَلِهَذَا قِيلَ" اور اسی وجہ سے کہا گیا ہے کہ "إِنَّهُ يَنْبَغِي أَنْ يُقْرَأَ رَجَبُ غَيْرَ مُنَوَّنٍ" کہ مناسب ہے کہ یہاں پر رجب غیر منون پڑھا جائے، بغیر تنوین کے بھئی، بغیر تنوین کے۔ ایک، کیا کہا؟ "لِلَّهِ عَلَيَّ صَوْمُ رَجَبَ" تنوین نہیں ہے رجب پر۔ اور اگر کہتا ہے "لِلَّهِ عَلَيَّ صَوْمُ رَجَبٍ" تو پھر اور صورت بن جائے گی بھئی۔ "رَجَبَ" جب اس نے کہا، معلوم ہوا یہ غیر منصر ف ہے۔ اور غیر منصر ف ہونے کی صورت میں دو سبب اس کے اندر آ گئے ہیں، کون کون سے؟ علمیت اور عدل۔ علمیت اور عدل دو سبب آئے تو یہ غیر منصر ف بنا، ویسے غیر منصر ف نہیں بن سکتا۔ تو اگر آپ نے "رَجَبٍ" پڑھا تو معلوم ہوا اب علمیت نہیں ہے اس کے اندر۔ اور علم کسے کہتے ہیں؟ جو کسی متعین ذات پر دلالت کرے۔ تو علمیت تبھی آئے گی جب اس سے کوئی متعین رجب مراد لیا جائے، یعنی یہ جو قسم کے بعد آنے والا رجب، مثلاً وہ کیا کرتا ہے اس سے مراد لیتا ہے۔ تو اس صورت میں علمیت آ گئی اور عدل بھی ہے، تو اس صورت میں غیر منصر ف ہو گا۔ اور اگر "رَجَبٍ" پڑھا تو معلوم ہوا کوئی رجب بھئی! متعین نہیں، علم نہیں۔ جب متعین نہیں ہے تو پھر اس صورت میں تو ثمرہ ظاہر نہیں ہو گا، موت کے وقت جا کے ثمرہ ظاہر ہو گا، کیونکہ اس سے پہلے اس کا... جب اس نے کوئی وقت ہی متعین نہیں کیا تو قضا بھی ہم نہیں کہہ سکتے کہ قضا ہوا ہے۔ زندگی کے جس رجب میں بھی وہ روزے رکھ لے گا وہ ادا ہی ہوں گے، قضا نہیں، لیکن اگر اسی "رَجَبَ" اس نے کہا تو معلوم ہوا یہ جو آنے والا متعین رجب ہے، یہی مراد ہے، تو لہٰذا اس کے اندر اگر نہ رکھے تو پھر ہم کہیں گے: اب رکھو گے تو وہ قضا ہے، ادا نہیں۔ فرق دونوں میں سمجھ میں آ گیا بھئی؟ تو کہتے ہیں "وَلِهَذَا قِيلَ" اسی وجہ سے کہا گیا ہے "إِنَّهُ يَنْبَغِي أَنْ يُقْرَأَ رَجَبُ غَيْرَ مُنَوَّنٍ" کہ پڑھا جائے رجب اس... کو غیر منون "لِيَكُونَ الْمُرَادُ رَجَبَ هَذِهِ السَّنَةِ" تاکہ مراد اسی سال کا رجب ہو، یہ جو قسم کے بعد آنے والا ہے۔ "لِتَظْهَرَ ثَمَرَتُهُ فِي الْفَوَاتِ" تاکہ اس کا ثمرہ ظاہر ہو جائے فوت ہونے کی صورت میں، "بِخِلَافِ مَا إِذَا كَانَ رَجَبًا مِنَ الْعُمُرِ" بخلاف اس کے کہ کوئی رجب ہو عمر بھر میں سے، "فَإِنَّهُ لَا تَظْهَرُ ثَمَرَتُهُ إِلَّا عِنْدَ الْمَوْتِ" اس لیے کیونکہ ظاہر نہیں ہو گا اس کا ثمرہ مگر موت ہی کے وقت "بِالْإِيصَاءِ بِالْفِدْيَةِ" فدیے کی وصیت کے ذریعے کہ اس کو کیا کرنا پڑے گی؟ فدیے کی وصیت کرنا پڑے گی، ورنہ اس سے پہلے جب بھی رکھتا ہے ادا ہی ادا ہے بھئی۔ "وَهَذَا إِنَّمَا يَرِدُ عَلَى أَبِي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللَّهُ بِخِلَافِ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ فَإِنَّهُ عِنْدَهُ نَذْرٌ فِي الْأَوَّلِ وَيَمِينٌ فِي الثَّانِي" کہتے ہیں یہ جو اعتراض وارد ہوتا ہے، یہ طرفین رحمہما اللہ کے مذہب پر وارد ہوتا ہے، امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے مذہب پر نہیں بھئی۔ طرفین کے نزدیک یہ جو پیچھے دو صورتیں ذکر ہوئیں کہ اس نے منت اور قسم دونوں کی نیت کی یا صرف قسم کی نیت کی ہے اور یمین... اور منت کی طرف اس کا ذہن بھی نہیں گیا، اس صورت میں طرفین فرماتے ہیں کہ دونوں صورتوں میں یہ نذر بھی ہے اور یمین بھی ہے۔ جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ پہلی صورت میں صرف نذر ہے اور دوسری صورت میں صرف یمین ہے، لہٰذا ان کے نزدیک "جمع بین الحقیقۃ والمجاز" کا اعتراض ان پر ہوتا ہی نہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ دیکھیے مولانا! یہاں چھ صورتیں بنتی ہیں، پہلے وہ چھ صورتیں سمجھ لیں۔ کس کی وہ نیت کرتا ہے اور کس کی نیت نہیں کرتا۔ ایک صورت مولانا! کہ وہ دونوں کی نیت کرتا ہے، نذر کی بھی اور یمین کی بھی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ دوسری صورت: وہ کسی ایک کی بھی نیت نہیں کرتا، بس یہ اس نے کہا: "لِلَّهِ عَلَيَّ صَوْمُ رَجَبٍ"، پہلی صورت: دونوں کی نیت کرتا ہے، دوسری صورت: کسی ایک کی بھی نیت نہیں کرتا۔ اچھا! تیسری صورت: منت کی نیت کرتا ہے اور یمین کی نفی کرتا ہے، تیسری صورت کیا؟ منت کی نیت کرتا ہے اور یمین کی نفی کرتا ہے کہ وہ نہیں میری مراد، میری یہ مراد ہے صرف منت۔ چوتھی صورت: منت کی نیت کرتا ہے اور یمین کا اس کے دل پر گزر بھی نہیں ہوتا یعنی اس کی طرف توجہ ہی نہیں ہے، نہ اس کا اثبات ہے نہ اس کی نفی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ پانچویں صورت: یمین کی نیت کرتا ہے، اب عکس کرو، یمین کی نیت کرتا ہے اور منت کی نفی کرتا ہے۔ چھٹی صورت: یمین کی نیت کرتا ہے اور نذر کا اس کے دل پر گزر بھی نہیں، یعنی نہ اس کا اثبات نہ اس کی نفی۔ کتنی صورتیں ہو گئیں؟ چھ صورتیں۔ چھ صورتیں اچھی طرح سمجھ میں آ گئیں؟ پھر دوبارہ سن لو! پہلی صورت: کہ وہ کیا کرتا ہے؟ دونوں کی نیت کرتا ہے۔ دوسری صورت: دونوں میں سے کسی کی بھی نیت نہیں کرتا۔ اچھا! آگے چار صورتیں ہیں، ان چار میں سے دو یمین کے ساتھ جوڑنا، دو منت کے ساتھ جوڑنا۔ پہلی دو صورتیں: منت کی نیت کرتا ہے، کس کی؟ اور ایک صورت میں یمین کی نفی ہے اور دوسری صورت میں یمین کا اس کے دل پر گزر بھی نہیں، اب اس کا عکس کرو، اگلی دو کے اندر یمین کی نیت کرتا ہے اور ایک میں منت کی نفی، دوسرے میں منت کا اس کے دل پر گزر بھی نہیں، تو چھ صورتیں بنتی ہیں مولانا! چھ صورتیں۔ ان چھ صورتوں کے اندر صرف ان دو صورتوں کے اندر اختلاف ہے جو پہلے ذکر ہوئیں، کون سی دو صورتیں؟ جب دونوں کی نیت کرتا ہے۔ دوسری کون سی صورت؟ یمین کی نیت کرتا ہے اور نذر کا اس کے دل پر گزر بھی نہیں، باقی چار صورتوں میں کوئی اختلاف نہیں ہے مولانا! کس طرح؟ دیکھیے! یہ چاروں آ رہی ہیں، بس چھ آپ کے ذہن میں ہیں، ان دو میں اختلاف ہے، باقی چار بالاتفاق ہیں مولانا! پہلے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا مذہب بیان ہو گا کہ ان پہ یہ اشکال نہیں ہوتا، پھر اس کے بعد وہ چار صورتیں ذکر کریں گے۔ کہتے ہیں: "وَهَذَا إِنَّمَا يَرِدُ عَلَى أَبِي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى" اور یہ اعتراض وارد ہوتا ہے طرفین رحمہما اللہ پر "بِخِلَافِ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ" بخلاف کس کے؟ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے "فَإِنَّهُ عِنْدَهُ نَذْرٌ فِي الْأَوَّلِ وَيَمِينٌ فِي الثَّانِي" ان کے نزدیک منت ہوگی پہلی صورت میں، پہلی کون سی صورت ہے؟ جب نذر اور یمین دونوں کی نیت تھی۔ "وَيَمِينٌ فِي الثَّانِي" اور دوسری صورت میں یمین ہے، وہ کون سی صورت ہے؟ یمین کی نیت کرتا ہے اور منت کا اس کے دل پر گزر بھی نہیں۔ "وَإِنْ لَمْ يَنْوِ شَيْئًا" اور اگر اس نے کسی ایک کی بھی نیت نہیں کی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ اچھا، ایک صورت: "أَوْ نَوَى النَّذْرَ مَعَ نَفْيِ الْيَمِينِ" یا منت کی نیت کرتا ہے ساتھ یمین کی نفی کے، "أَوْ بِلَا نَفْيِهِ" یا منت ہی کی نیت ہے لیکن یمین کی نفی نہیں ہے، "يَكُونُ نَذْرًا بِالْإِتِّفَاقِ" تو ان تینوں صورتوں میں کیا ہو گا؟ بالاتفاق منت ہو گی بھئی۔ "وَإِنْ نَوَى الْيَمِينَ مَعَ نَفْيِ النَّذْرِ" یہ چوتھی صورت آ گئی، "اور اگر اس نے کس کی نیت کی ہے؟ یمین کی نیت کی ہے اور ساتھ منت کی نفی کی ہے، "يَكُونُ يَمِينًا بِالْإِتِّفَاقِ" تو اس صورت میں کیا ہو گی؟ یمین ہوگی بالاتفاق بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو چار صورتوں میں اتفاق ہے۔ "وَالْإِيرَادُ إِنَّمَا هُوَ عَلَى الْوَجْهَيْنِ الْأَوَّلَيْنِ" اور اعتراض جو ہے وہ وارد ہوتا ہے پہلی دو ہی صورتوں پر "عَلَى مَذْهَبِهِمَا" طرفین رحمہما اللہ کے مذہب پر، "فَأَجَابَ الْمُصَنِّفُ رَحِمَهُ اللَّهُ" تو جواب دیا مصنف رحمہ اللہ نے "بِأَنَّهُ إِنَّمَا أُرِيدَ النَّذْرُ وَالْيَمِينُ جَمِيعًا" کہ ارادہ کیا گیا ہے منت اور یمین دونوں کا "فِي هَذِهِ الصُّورَةِ" اس صورت کے اندر "لِأَنَّهُ نَذْرٌ بِصِيغَتِهِ يَمِينٌ بِمُوجَبِهِ" اس لیے کیونکہ یہ لفظ... یہ جو اس کا قول ہے، یہ منت ہے "بِصِيغَتِهِ" کس کے اعتبار سے؟ اپنے صیغے کے اعتبار سے، "وَيَمِينٌ بِمُوجَبِهِ" اور یمین ہے اپنے موجب کے اعتبار سے۔ صیغے کے اعتبار سے یہ منت ہے، میں نے بیان کر دیا بھئی، ایک شخص کہتا ہے: "اللہ کے لیے مجھ پر رجب کے روزے واجب ہیں"، تو لفظ کیا بتلا رہے ہیں، وہ کیا کر رہا ہے؟ منت مان رہا ہے، لفظ تو بتلاتے ہیں، اور اپنے موجب کے اعتبار سے یہ کیا ہے؟ یمین ہے، کیا ہے؟ یمین۔ یاد رکھیے! یہاں پر علماء نے اختلاف کیا ہے کہ موجب کا کیا معنی ہے؟ بعض علماء کہتے ہیں: یہاں موجب بمعنی لازم کے ہے بھئی، موجب بمعنی لازم کے ہے۔ یعنی قسم اس کے ساتھ... قسم اس کا لازم ہے، قسم کیا ہے اس یمین کا؟ کیوں؟ لازم کیوں ہے؟ بھئی، ابھی تو میں نے بتلایا، یہ یمین ہے، یمین کس کو کہتے ہیں؟ ایجابِ مباح کو، یمین کسے کہتے ہیں؟ ایجابِ مباح کو، اور ایجابِ مباح کے ساتھ کیا آئے گا... کیا لازم ہے؟ تحریمِ مباح، اور تحریمِ مباح کیا ہے؟ قسم ہے، تو ایجابِ مباح جو یمین ہے، اس کے ساتھ تحریمِ مباح یعنی قسم لازم ہے۔ جہاں بھی ایجابِ مباح ہو گا وہاں کیا ہو گا؟ تحریمِ مباح ہو گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو لہٰذا یہ یمین ہے، تو بعضوں نے کہا یہ موجب بمعنی کس کے ہے؟ لازم کے ہے، کہ یعنی قسم اس کے ساتھ لازم ہے۔ بعضوں نے کہا: یہ... یہاں موجب بمعنی حکم کے ہے، یہاں موجب کس معنی میں ہے؟ حکم کے معنی میں ہے، "أَيْ يَمِينٌ بِمُوجَبِهِ" یمین ہے "أَيْ بِوَاسِطَةِ حُكْمِهِ" کس کے واسطے سے؟ اس کے حکم کے واسطے سے، حکم کے واسطے سے۔ کیوں؟ ان لفظوں کا... یمین کا... منت کا حکم کیا ہے؟ ایجابِ مباح، یمین کا حکم کیا ہے؟ وہ جو مباح ہوتا ہے وہ کیا ہو جاتا ہے انسان پر؟ واجب ہو جاتا ہے، یہ یمین کا... منت کا یہ کیا ہے؟ یہ منت کا حکم ہے، اور اس حکم کے واسطے سے کیا ساتھ آ گئی؟ یمین آ گئی، کیونکہ ایجابِ مباح کے واسطے سے کیا آیا؟ تحریمِ مباح آیا۔ تو کہتے ہیں: "لِأَنَّهُ نَذْرٌ بِصِيغَتِهِ يَمِينٌ بِمُوجَبِهِ" اس لیے کیونکہ یہ منت ہے اپنے صیغے کے اعتبار سے اور یمین ہے اپنے موجب کے اعتبار سے، "وَتَقْرِيرُهُ" تقریر اس مسئلے کی یہ ہے "أَنَّ قَوْلَهُ لِلَّهِ عَلَيَّ صِيغَةُ نَذْرٍ" کہ ان قول... اس شخص کا یہ قول "لِلَّهِ عَلَيَّ" اللہ کے لیے مجھ پر واجب ہے، "صِيغَةُ نَذْرٍ" یہ نذر کا صیغہ ہے، "وَهُوَ مَعْنَاهُ الْمَوْضُوعُ لَهُ" اور یہ کیا ہے اس کا؟ معنی موضوع لہ ہے، "وَكَانَ صَوْمُ رَجَبَ مَثَلًا قَبْلَ النَّذْرِ مُبَاحَ الْفِعْلِ وَالتَّرْكِ" اور رجب کے روزے مثال کے طور پر منت سے پہلے اس کے لیے ان کا فعل بھی مباح تھا اور ترک بھی مباح، رکھنا بھی مباح تھا، چھوڑنا بھی مباح تھا، "وَبَعْدَ النَّذْرِ صَارَ الْفِعْلُ وَاجِبًا وَالتَّرْكُ حَرَامًا" اور منت کے بعد فعل واجب ہو گیا اور ترک حرام ہو گیا، "فَيَلْزَمُ مِنْ مُوجَبِ هَذَا النَّذْرِ تَحْرِيمُ الْمُبَاحِ الَّذِي هُوَ التَّرْكُ" تو لازم آیا اس منت کے موجب سے... اس کے... اس منت کے موجب سے کیا لازم آیا؟ تحریم المباح، مباح چیز کا حرام ہونا، بھئی کیا چیز ہے؟ کیا چیز حرام ہوئی ہے؟ کہتے ہیں: "الَّذِي هُوَ التَّرْكُ" وہ چھوڑنا ہے، ان روزوں کا چھوڑنا پہلے مباح تھا، اب اس پر واجب ہو گئے ہیں، اب چھوڑنا حرام ہے بھئی۔ "وَتَحْرِيمُ الْحَلَالِ يَمِينٌ" اور حلال چیز کو حرام کرنا یہ کیا ہے؟ یمین ہے، "لِأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ حَرَّمَ مَارِيَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا أَوْ الْعَسَلَ عَلَى نَفْسِهِ فَسَمَّاهُ اللَّهُ ذَلِكَ يَمِينًا" اس لیے کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تحقیق حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو یا العسل، یا شہد کو حرام... حرام کیا تھا علیٰ نفسہٖ، اپنے نفس پر، "فَسَمَّاهُ اللَّهُ ذَلِكَ يَمِينًا" تو اللہ نے اس کو یمین قرار دیا۔ یمین قرار دیا اور اللہ فرماتے ہیں: "وَقَالَ: لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ؟" آپ کیوں حلال... حرام کرتے ہیں جو اللہ نے آپ کے لیے حلال کیا ہے؟ "ثُمَّ قَالَ:" پھر آگے اللہ فرماتے ہیں: "قَدْ فَرَضَ اللَّهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ أَيْمَانِكُمْ" تحقیق اللہ نے مقرر کر دیا ہے، مشروع کر دیا ہے تمہارے لیے تمہاری قسموں کا کھولنا، یعنی کیا کرو؟ اگر ایسی قسم اٹھا لے تو کیا کر لے؟ کفارہ دے دے اور اس کو توڑ دے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ توجہ! یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم... بعض روایات میں آتا ہے کہ بھئی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک وقت میں زیادہ سے زیادہ نو ازواج تھیں، تو حضور علیہ السلام باری باری ایک کے گھر روزانہ ایک کے گھر رہتے تھے بھئی۔ تو ایک دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ باندی تھیں حضرت ماریہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی، تو ان کے ساتھ حضور نے خلوت کی، اور وہ دن تھا حضرت عائشہ یا حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا، تو انہیں جب علم ہوا تو کوئی ایسی بات کی جس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہوئے اور حضرت ماریہ کو کیا کر لیا؟ اپنے اوپر حرام کر لیا، بعض روایات میں یہ آتا ہے۔ اور بعض روایات میں یہ آتا ہے کہ ایک دن حضرت حفصہ کے پاس شہد پیا اور... شہد پانی میں ملا کر انہوں نے شہد پیش کیا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پیا، اور... تو حضرت عائشہ، حضرت سودة وغیرہ یا حضرت... ان ازواج کے پاس آئے، تو انہوں نے کوئی ایسی بات کی کہ آپ سے تو مغافیر کی بو آ رہی ہے یا رسول اللہ! آپ کے دہن مبارک سے، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا کیا؟ اپنے اوپر شہد کو حرام کر لیا، تو اللہ نے پھر یہ آیہ نازل... فرمایا اللہ تعالیٰ نے کہ: اے پیغمبر! جو جس چیز کو اللہ نے آپ کے لیے حلال کیا ہے، آپ اسے اپنے اوپر کیوں حرام کرتے ہیں؟ جی، اور اس کو ق... یمین قرار دیا، آگے خود اللہ کیا فرما رہے ہیں: "قَدْ فَرَضَ اللَّهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ أَيْمَانِكُمْ"، دیکھا معلوم ہوا یہ بھی یمین ہے۔ فَعُلِمَ بس جان لیا گیا، أن تحريم الحلال يمينٌ کہ حلال چیز کو حرام کرنا وہ یمین ہے، فیكون اليمين موجِباً للكلامِ تو یمین کیا ہوئی؟ کلام کا موجب ہوئی، لا مراداً بطريق المجازِ، وہ مجاز کے طریقے پر کلام کی مراد نہیں۔ تو اس کے ساتھ منّت جواب دے رہے ہیں نا کہ: "جمع بین الحقیقة والمجاز" نہیں ہے۔ حقیقت یعنی دونوں معنی کا ارادہ نہیں، ایک تو آیا صیغے کے اعتبار سے کہ وہ کلام کی مراد ہے اور وہ کیا ہے؟ منّت۔ اور یمین کیوں ہوئی؟ کیونکہ وہ کلام کا موجب ہے، اس کے ساتھ کیا ہے؟ لازم ہے، کیا ہے؟ لازم ہے۔ لازم ہے۔ تو یمین، أي موجب ہونے کے اعتبار سے اور منّت آئی صیغے کے اعتبار سے، تو جمع بین الحقیقة والمجاز نہیں ہے یہاں پر۔ ولكنه يرد عليه لیکن اس پر یہ اعتراض وارد ہوتا ہے، أنه إذا كان موجِباً کہ جب یہ موجب ہے، یعنی لازم ہے اس کے ساتھ، ينبغي أن يثبت بدون النيةِ پھر تو مناسب یہ ہے کہ اس کو بغیر نیت کے ثابت ہونا چاہیے، لأن موجب الشيء لا يحتاج إلى النيةِ اس لیے کیونکہ کسی چیز کا موجب جو ہوتا ہے وہ نیت کا محتاج نہیں ہوتا۔ جب قسم اس کے ساتھ لازم ہے تو پھر جب بھی منّت مانو اس کے ساتھ کیا آنی چاہیے؟ قسم آنی چاہیے۔ تو یہ آپ نے نیت کی قید کیوں لگائی؟ دو ہی صورتوں میں آپ کہہ رہے ہیں جہاں نیت ہے قسم کی۔ جن دو صورتوں میں قسم کی نیت ہے باقاعدہ، وہاں آپ کہتے ہیں قسم ہوگی، ورنہ پھر اب باقی صورتوں میں کیا آئے گی؟ منّت، باقی منّت آئے گی اگر یمین کی نیت نہیں ہے۔ تو اگر یہ تو لازم ہے تو لازم تو ہر صورت میں ثابت ہو جاتا ہے، چاہے اس کی نیت کرو یا نیت نہ کرو۔ تو جواب دے رہے ہیں بھئی، إلا أن يقال مگر یہ کہ یوں کہا جائے، إنها كالحقيقةِ المهجورةِ یہ کس کی طرح ہے؟ یہ موجب حقیقتِ مہجورہ کی طرح ہے، فلذا يحتاج إلى النيةِ اسی وجہ سے یہ کس کی محتاج ہے؟ نیت کی محتاج۔ تو حقیقتِ مہجورہ کی طرح ہوئی اور حقیقتِ مہجورہ کس کو کہتے تھے؟ جس کے اندر عرف میں جس کا عرف میں وہ معنی، اس حقیقی معنی کا ارادہ نہ کیا جاتا ہو بھئی، جس کو چھوڑ دیا گیا ہو اور اس کی جگہ... تو یہاں پر بھی ان لفظوں کے ذریعے عرف کے اندر اس کو کوئی یمین نہیں کہتا، عرف کے اندر اسے کوئی یمین نہیں کہتا بھئی، اسی لیے لہٰذا تو حقیقتِ مہجورہ کی طرح ہوئی اور حقیقتِ مہجورہ کے اندر نیت ضروری تھی، تو یہاں بھی کیا ضروری ہوگی؟ نیت ضروری ہوگی۔ بات سب کو سمجھ میں آ گئی؟ بعضوں نے اور جواب دیا بعض علماء نے، مولانا! وہ کہتے ہیں کہ بھئی یہ جو کلام ہے، اس میں یمین بننے کی صلاحیت ہے، قطعی طور پر یہ یمین نہیں ہے۔ کیا جواب دیا؟ اس کلام کے اندر یمین بننے کی صلاحیت ہے، قطعی طور پر یہ یمین نہیں، تو جب صلاحیت ہے تو نیت کرے گا تو یہ یمین بن جائے گی، نیت نہیں کرے گا تو قطعی طور پر تو یہ یمین ہے ہی نہیں، لہٰذا یمین بھی نہیں بنے گی۔ صلاحیت ہے، نیت کرے تو کیا بن جائے گی ساتھ ہی؟ یمین بن جائے گی، نیت نہ کرے تو یمین بھی نہیں۔ جواب سمجھ میں آ گیا بھئی؟ وقيل اور کہا گیا، إن اليمين هي المرادة من اللفظِ، والندُرُ ليس بمرادٍ بل جاء بصيغة اللفظِ، بعضوں نے کہا کہ یمین یہ مراد ہے لفظ سے، یمین کا تو ارادہ کیا گیا ہے، یمین کیا ہے؟ مثلاً جب یہ کہا: "لله علي صمت" تو اس نے کس کی نیت کی ہے؟ کیا کہتے ہیں؟ بعضوں نے کیا جواب دیا؟ وہ کہتے ہیں کہ ارادہ یہاں یمین کا ہے اور منّت خود بخود صیغے کی وجہ سے آ گئی، ارادہ کس کا ہے؟ یمین کا، اور منّت خود بخود کیا ہوئی؟ صیغے کی وجہ سے آ گئی، جیسے پچھلے مسئلے میں کہا تھا کہ قسم خود بخود کس وجہ سے آ گئی؟ کیونکہ وہ اس کا لازم ہے، نیت کی وجہ سے وہ آ گئی بھئی، صورت سمجھ میں آئی؟ وہ لازم ہونے کے اعتبار سے ہے۔ وقيل إن اليمين هي المرادة من اللفظِ اور کہا گیا ہے کہ یمین جو ہے، وہی مراد ہے لفظ، وہ لفظ سے مراد ہے، والندُرُ ليس بمرادٍ اور نذر تو مراد نہیں ہے، بل جاء بصيغة اللفظِ بلکہ کس وجہ سے آئی ہے؟ لفظوں کے، لفظ کے صیغے کی وجہ سے آئی ہے، ولكن هذا إنما يصح إذا نوى اليمين فقط کہتے ہیں: لیکن یہ تو اسی وقت صورت میں صحیح ہوگا جب اس نے صرف یمین کی نیت کی ہے، آپ نے کیا کہا؟ قسم مراد ہے، یعنی اس کا ارادہ کیا گیا ہے، یہ تو صرف اسی صورت میں ہوگا جب اس نے صرف قسم کا ارادہ کیا، تو قسم آئی ارادے کی وجہ سے اور یمین کس کی وجہ سے آئی؟ صیغے کی وجہ سے، اور اب جس صورت میں دونوں کا اس نے ارادہ ہی کیا ہے، اب تو آپ نہیں کہہ سکتے کہ یمین ارادے کی وجہ سے آئی اور منّت کس وجہ سے آئی؟ صیغے، بلکہ یہاں تو اس نے منّت کا بھی باقاعدہ کیا کر لیا؟ ارادہ کر لیا ہے، اگرچہ منّت خود آ رہی تھی صیغے کی وجہ سے لیکن اس نے ارادہ تو کر لیا، تو ارادے میں تو دونوں آ گئے، لہٰذا اشکال تو پھر بھی اپنی جگہ پر رہا۔ تو کہتے ہیں: ولكن هذا إنما يصح یہ جواب اسی وقت صحیح ہو سکتا ہے، إذا نوى اليمين فقط جب وہ صرف یمین کی نیت کرتا ہے، وأما إذا نواهما اور جب دونوں کی نیت کرتا ہے، فقد دخل النذرُ تحت الإرادةِ تو تحقیق نذر بھی تو ارادے کے تحت داخل ہو گئی، وإن لم يكن محتاجاً إليه اگرچہ وہ ارادے کی محتاج نہیں تھی، صیغے سے خود آ رہی تھی، لیکن بہرحال ارادہ تو دونوں کا ہوا، تو جمع بین الحقیقة والمجاز تو آ گیا بھئی، دونوں کا ارادہ ہوا۔ وقيل اور بعضوں نے یہ، اور کہا گیا ہے کہ إن قوله کہ اس شخص کا یہ قول جو ہے: "لله"، یہ بمعنیٰ "والله" کے ہے، بعضوں نے یہ جواب دیا کہ "لله" بمعنیٰ "والله" کے ہے، صيغة يمينٍ یہ یمین کا صیغہ ہے، "والله" سے کیا ہے؟ "والله" کو عربی میں بولتا ہے، کس چیز کا ارادہ ہوتا ہے؟ قسم، تو یہ صيغة يمينٍ، یہ یمین کا صیغہ ہے، وقوله عليَّ، اور "عليَّ" کا جو صیغہ ہے، صيغة نذرٍ، یہ کیا ہے؟ صیغۂ نذر ہے، یعنی مجھ پر واجب ہے، تو یہ وجوب کے لیے آتا ہے، فلا يجتمعان في لفظٍ واحدٍ لہٰذا یہ دونوں ایک ہی لفظ کے اندر جمع نہیں، دونوں ایک لفظ کے اندر جمع نہیں۔ آپ نے ہمیں کیا کہا؟ کہ منّت اور یمین دونوں آ رہے ہیں، تو جمع بین الحقیقة والمجاز ہے، ہم کہتے ہیں: نہیں۔ قسم آ رہی ہے "لله" سے، یمین آ رہی ہے، منّت کس سے آ رہی ہے؟ "عليَّ" سے، یمین کس سے آئی؟ "لله" سے، اور منّت کس سے آئی؟ "عليَّ" سے، تو ایک ہی لفظ سے تو نہیں آ رہا بھئی، ہاں! دونوں، ایک ہی لفظ سے اگر ہوتے، پھر جمع بین الحقیقة والمجاز تھا، لیکن دونوں کا دونوں کا فائدہ الگ الگ لفظوں سے حاصل ہو رہا ہے، لہٰذا حقیقت اور مجاز کا اکٹھا ہونا لازم نہ آیا بھئی۔ تو کہتے ہیں: فلا يجتمعان في لفظٍ واحدٍ تو لہٰذا یہ جمع نہیں ہے ایک ہی لفظ کے اندر، لیکن اس پر مولانا! اشکال ہوتا ہے بھئی کہ "لله" کو کس کے لیے، کیا جواب دیا انہوں نے؟ "لله" کس کے لیے ہے؟ قسم کے لیے ہے، یاد رکھیے، قسم کے لیے اصل میں ہے وضع "باء"، پھر اس "باء" کی جگہ کبھی آ جاتا ہے "واؤ"، "والله" کہتے ہیں، اور پھر اس "واؤ" کی جگہ کبھی "لام" لے آتے ہیں، "لله" بھی کہہ دیتے ہیں، لیکن یہ "لله" جب "لام" کے ساتھ ہو، یہ صرف اس مقام پر آتی ہے قسم، جو مقامِ تعجب ہو بھئی، کوئی تعجب والی بات ہو تو تب "لله" کے ساتھ قسم اٹھائی جاتی ہے، ویسے قسم... اور یہاں تو کوئی تعجب والی بات نہیں ہے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ فهو كالشراء القريب فإنه تملكٌ بصيغةٍ تحريرٌ بموجِبهِ تو یہ ایک قریبی رشتہ دار کو خریدنے کی طرح ہی ہے، اس لیے کیونکہ وہ تملک ہے، مالک بننا ہے بصيغتهِ اس کے صیغے کے اعتبار سے، تحريرٌ بموجِبهِ اور تحریر، آزاد کرنا ہے، اس کے لازم کے اعتبار سے، کس اعتبار سے؟ اچھا کہتے ہیں بھئی، یہ تشبیہ، دیکھیے مولانا! سیدھا آسان مسئلہ ہے، تشبيهٌ لملةِ، دیکھیے مسئلہ: "نذر به توضيحاً وتأكيداً" یہ تشبیہ ہے منّت کے مسئلے کی، اس کی توضیح، وضاحت کرتے ہوئے اور اس کی تائید کرتے ہوئے، فإن من اشترى القريبَ ایسے کیونکہ جس نے اپنے قریبی محرم رشتہ دار کو خریدا، يكون تملكاً باعتبار صيغتهِ خریدا ہے مولانا! کسی سے کیا کیا؟ خریدا، تو یہ تملكاً باعتبار صيغتهِ، یہ مالک بننا ہے صیغے کے اعتبار سے، کیونکہ کوئی جب شخص کسی سے کوئی چیز خریدتا ہے تو کیا بن جاتا ہے اس کا؟ مالک، تو یہ صیغے کے اعتبار سے مالک بننا ہے، لأن صيغته موضوعةٌ للملكِ اس لیے کیونکہ یہ شراء کا صیغہ کس کے لیے وضع کیا گیا ہے؟ ملکیت کے لیے، ولكن يكون تحريراً وإعتاقاً بموجِبهِ لیکن یہی شراء تحریر ہے اور آزاد کرنا ہے بموجِبهِ، کیا کس اعتبار سے؟ اپنے موجب کے اعتبار سے، لأن موجب الملكِ مع القرابةِ هو العتقُ اس لیے کیونکہ ملکیت مع القرابت کا موجب کیا ہے؟ ملکیت کے ساتھ کیا آ جائے؟ قرابت، قریبی رشتہ دار ہو، اس کے ساتھ ملکیت آ جائے تو اس کا موجب کیا ہے؟ هو العتقُ، وہ آزاد ہو جاتا ہے۔ قال علیہ السلام، حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: "من ملك ذا رحمٍ محرمٍ منه عتق"، کہ جو شخص مالک ہوا ذا رحم، ذو رحم کہتے ہیں قریبی رشتہ دار، مولانا! قریبی رشتہ دار، محرمٍ منه، جو اس کا محرم ہو بھئی، محرم کسے کہتے ہیں؟ جس کے ساتھ نکاح ہمیشہ کے لیے حرام ہے بھئی، کیا ہے؟ حرام ہے، اسے محرم کہتے ہیں، جیسے ماں، بہن، نانی، دادی وغیرہ بھئی، یہ سب محرم ہیں۔ تو دو چیزیں ذکر ہوئیں حدیث میں: محرم بھی ہو، قریبی رشتہ دار بھی ہو۔ دونوں چیزیں، دونوں شرطیں جب پوری ہوں گی تو وہ اس کو خریدتے ہی وہ شخص قریبی رشتہ دار محرم آزاد ہو جائے گا، ورنہ آزاد... اگر صرف قریبی رشتہ دار ہے، محرم نہیں، مثلاً چچا زاد بھئی کو خریدتا ہے یا چچا زاد بہن کو خریدتا ہے، وہ باندی ہے مثلاً، اب قریبی رشتہ دار تو ہے لیکن محرم ہے؟ نہیں، اس کے ساتھ تو نکاح جائز ہوتا ہے بھئی۔ اور صرف محرم تو ہے، قریبی رشتہ دار نہیں ہے، مثلاً رضاعی بہن کو خریدتا ہے، اب یہ اس پر رضاعی بہن ہے، اس پر ہمیشہ کے لیے حرام ہے، لیکن قریبی رشتہ دار ہے؟ جی؟ قریبی رشتہ دار نہیں، ہاں! تو دونوں ہونے چاہییں: قریبی رشتہ دار بھی ہو اور محرم بھی ہو، پھر کیا ہو جائے گا؟ وہ آزاد ہو جائے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: "من ملك ذا رحمٍ محرمٍ منه عتق"، جو، جس نے خریدا اپنے قریبی محرم رشتہ دار کو، "عتق" وہ کیا ہو جائے گا؟ آزاد ہو جائے گا۔ بھئی! کتابوں میں جہاں بھی دیکھا ہے، "عُتِقَ، عُتِقَ" یہ انہوں نے لکھا ہوتا ہے، یہاں بھی پیش دلی ہوئی ہے؟ ہاں! بعض کتابوں میں پیش دلی ہوگی بھئی "عین" پر، حالانکہ لغت کے اعتبار سے "عَتَقَ" ہونا چاہیے بھئی، سمجھے؟ آزاد ہو جائے گا۔ تو حضور علیہ السلام نے فرمایا: "من ملك ذا رحمٍ محرمٍ منه"، جس، جو مالک ہوا اپنے قریبی محرم رشتہ دار کا، "عتق" وہ اس پر کیا ہو جائے گا؟ آزاد ہو جائے گا، آزاد ہو جائے گا۔ وإلا فبين الشراء والتحرير منافاةٌ بحسب الظاهرِ تو دیکھیے! ورنہ تو شراء اور تحریر کے اندر منافات ہے ظاہر کے اعتبار سے، شراء اور تحریر میں کیا ہے؟ منافات ہے دونوں کے اندر، اس لیے کیونکہ شراء مثبتِ ملک ہے اور تحریر مزیلِ ملک ہے، خریدتے ہو تو آپ کی، شراء کیا کر دیتی ہے؟ آپ کی ملکیت کو ثابت کر دیتی ہے، اور آزاد کریں تو یہ آزادی، آزاد کرنا آپ کی ملکیت کو زائل کر دیتا ہے، تو شراء ہے مثبتِ ملک اور تحریر ہے مزیلِ ملک، تو دونوں میں کیا ہے؟ منافات ہے، لیکن یہاں پر جب کسی نے اپنے قریبی رشتہ دار کو خریدا، تو یہ صیغے کے اعتبار سے دیکھا جائے تو مالک بننا ہے اور حکم کے اعتبار سے دیکھا جائے، لازم کے اعتبار سے دیکھا جائے تو آزاد کرنا ہے، تو جیسے یہاں پر شراء کے ساتھ تحریر، حریت آ جائے گی، اسی طرح گزشتہ مسئلے کے اندر بھی منّت کے ساتھ کیا آ جائے گی؟ یمین آ جائے گی، یا یمین کے ساتھ منّت آ جائے گی مولانا! صورت سمجھ میں آ گئی اچھی طرح؟ چلیے بس مولانا! هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔