درس نمبر۔47 والنكاح للوطء دون العقد: أن يكون النكاح المذكور في قوله تعالى: ﴿وَلَا تَنكِحُوا مَا نَكَحَ آبَاؤُكُم مِّنَ النِّسَاءِ﴾ محمولًا على الوطء دون العقد، فيشمل الوطء الحلال والحرام والوطء بملك اليمين أيضًا. گزشتہ سبق میں آپ نے پڑھا تھا کہ حقیقی معنی جو ہے اپنے مسمیٰ سے کبھی بھی ساقط نہیں ہوتا، جبکہ مجاز کیا ہے؟ ساقط ہو جاتا ہے۔ یعنی حقیقی معنی کی اس سے نفی کرنا صحیح نہیں ہے، جبکہ مجازی معنی کی نفی کرنا بھی صحیح ہے بھئی۔ اور پھر ایک ضابطہ پڑھا تھا کہ جب تک حقیقت پر عمل ممکن ہو، اس وقت تک مجاز ساقط ہو گا، مجاز کی طرف نہیں جائیں گے بھئی۔ مجاز کی طرف کس وقت جائیں گے؟ جب حقیقی معنی پر عمل ممکن نہ ہو۔ جی، چنانچہ اسی وجہ سے ذکر کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے قول ﴿وَلَـٰكِن يُؤَاخِذُكُم بِمَا عَقَّدتُّمُ الْأَيْمَانَ﴾، یہ محمول ہے یہ کس پر؟ ما ينعقد پر، اور وہ صرف کس کو شامل ہے؟ یمینِ منعقدہ کو شامل ہے، تو یہاں عزم کے معنی میں نہیں لیں گے؛ کیونکہ اس کا مجازی معنی ہے۔ اسی طرح دوسرا مسئلہ ہم نے شروع کیا تھا گزشتہ سبق میں کہ: والنكاح للوطء دون العقد، کہ نکاح جو ہے وطء پر محمول ہو گا نہ کہ عقد پر، وطء پر محمول ہو گا۔ جی، میں نے بتلایا تھا آپ کو کہ نکاح جو ہے، یہ وطء کے معنی میں بھی استعمال ہے اور عقد کے معنی میں بھی، لیکن وطء اس کا کیا ہے؟ لغوی معنیٰ موضوع لہ ہے، اور عقد کیا ہے؟ اس کون سا معنی ہے اس کا؟ معنیٰ غیر موضوع لہ، یعنی مجازی معنی ہے۔ جی، تو کہتے ہیں: والنكاح للوطء دون العقد، اور نکاح وطء پر محمول ہو گا نہ کہ عقد پر۔ أي يكون النكاح المذكور في قوله تعالى: ﴿وَلَا تَنكِحُوا مَا نَكَحَ آبَاؤُكُم مِّنَ النِّسَاءِ﴾ محمولًا على الوطء دون العقد، یعنی نکاح جو، وہ نکاح جو مذکور ہے اللہ تعالیٰ کے اس قول میں: ﴿وَلَا تَنكِحُوا مَا نَكَحَ آبَاؤُكُم مِّنَ النِّسَاءِ﴾، اور تم نکاح نہ کرو ان عورتوں سے جن سے نکاح کیا تمہارے آباء نے، محمولًا على الوطء، یہ جو نکاح آیا اس آیت کے اندر، یہ محمول ہے وطء پر، دون العقد، نہ کہ عقد پر۔ دیکھیے، یہاں اس کی وجہ سے حرمت آ رہی ہے بھئی: ﴿وَلَا تَنكِحُوا﴾ نکاح نہ کرو۔ تو امامِ شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک یہاں نکاح عقد کے معنی میں ہے، جو اس کا مشہور معنی ہے، اور اس صورت میں صرف وہ عورتیں انسان پر حرام ہوں گی، صرف وہ عورتیں حرام ہوں گی جن کے ساتھ اس کے آباء نے نکاح کیا ہو بھئی۔ باپ دادا وغیرہ نے جن کے ساتھ کیا کیا ہو؟ نکاح کیا ہو، وہ حرام ہو جائیں گی بھئی۔ جبکہ ہمارے نزدیک یہاں نکاح کا لفظ محمول ہو گا وطء پر، یعنی جس کے ساتھ صحبت کی ہو، لہٰذا اس صورت میں عموم آئے گا بھئی۔ اب چاہے وہ وطء حلال طریقے سے ہو، حرام طریقے سے ہو، یا ملکِ یمین کے طریقے سے ہو، تینوں صورتوں میں کیا آ جائے گی؟ حرمت آ جائے گی بھئی۔ تو کہتے ہیں: فيشمل الوطء الحلال والحرام والوطء بملك اليمين أيضًا، پس یہ شامل ہو گا حلال وطء کو بھی، حرام کو بھی، اور ملکِ یمین کی وجہ سے جو وطء ہے، یعنی باندی کے ساتھ۔ لأن النكاح في الأصل الضم، اس لیے کیونکہ نکاح اصل کے اندر، نکاح کا کیا معنی ہے؟ ضم، یعنی ملانا۔ وهو إنما يكون بالوطء، اور یہ صحبت کے ذریعے ہی ہو گا ملانا۔ والعقد إنما سمي نكاحًا لأنه سبب الضم، اور عقد کو کیا کہتے ہیں؟ اس کو نکاح اس لیے کہتے ہیں کیونکہ وہ اس ملانے کا سبب ہے۔ فمن حيث اللغة، پس لغت کی حیثیت سے، یعنی عربی زبان کی حیثیت سے، حقیقت النكاح الوطء والعقد مجاز، حقیقت کیا ہے نکاح کی؟ وہ وطء، صحبت کرنا، والعقد مجاز، اور عقد کیا ہے؟ عقد مجاز ہے۔ ومن حيث الشرع بالعكس، اور شریعت کے اعتبار سے معاملہ برعکس ہے، یعنی اصطلاحِ شریعت کے اندر نکاح عقد کے اندر حقیقت ہے اور وطء کے اندر مجاز ہے۔ فالشافعي رحمه الله حمل النكاح هاهنا على معناه المتعارَف، فلا تثبت حرمة المصاهرة بالزنا، پس امامِ شافعی رحمہ اللہ تعالیٰ رحمةً واسعة نے محمول کیا نکاح کو یہاں پر اس کے مشہور معنی پر، پس ان کے نزدیک ثابت نہیں ہو گی حرمتِ مصاہرت زنا کی وجہ سے۔ ان کے نزدیک بھئی زنا کی وجہ سے حرمتِ مصاہرت ثابت، کیونکہ یہاں نکاح کا لفظ آیا، ان سے نکاح نہ کرو جن سے تمہارے آباء نے کیا کیا تھا؟ نکاح کیا تھا۔ تو معلوم ہوا جن سے عقد کیا تھا صرف وہ کیا ہوئے، وہ عورتیں انسان پر حرام ہو گئیں بھئی۔ تو اگر حرام وطء کی ہے، اس کی وجہ سے حرمتِ مصاہرت نہیں آئے گی ان کے نزدیک۔ ونحن نحمله على حقيقته اللغوية، اور ہم اس کو محمول کرتے ہیں کس پر؟ حقیقتِ لغویہ پر۔ فتثبت حرمة المصاهرة بالزنا، پس ثابت ہو گی حرمتِ مصاہرت زنا کی وجہ سے بھی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟ آسان سا مسئلہ ہے بھئی۔ کہ عربی زبان کے اندر نکاح کا لفظ وطء کے اندر حقیقت ہے اور نکاح کے اندر مجاز ہے، عقد کے اندر مجاز ہے بھئی۔ جبکہ شارح نے آپ کو یہ بھی بتلایا کہ شریعت کے اعتبار سے، اصطلاحِ شریعت میں عقد کیا ہے؟ معنیٰ حقیقی، اور وطء کیا ہے؟ معنیٰ مجازی بھئی۔ اس پر اشکال ہوتا ہے بھئی، جب شریعت کے اعتبار سے آپ خود کہہ رہے ہیں کہ عقد کیا ہے اس کا معنیٰ حقیقی ہے، تو اس پر کیوں نہیں محمول کرتے؟ لغت پر کیوں محمول کرتے ہیں بھئی، لغت کے اعتبار سے؟ تو جواب یہ مولانا کہ یہ مقام ہے حرمت کا، تو احتیاط ہمارے مذہب میں ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ کہ اس صورت میں حرام وطء کی صورت میں بھی کیا آ جاتی ہے؟ حرمت۔ ملکِ یمین کی وجہ سے جو وطء ہے، اس کی وجہ سے بھی کیا آ جاتی ہے؟ حرمت۔ جبکہ ان کے نزدیک اس مقام پر حرمت نہیں آتی، تو یہ مقام ہے حرمت کا، تو احتیاط ہمارے مذہب میں ہے۔ ہاں، اس پر ایک اشکال آتا ہے، ان کے مذہب میں بھی من وجہ عموم ہے بھئی، کہ ان کے نزدیک اس آیت سے وہ عورتیں جن سے آباء نے نکاح تو کیا، عقد تو کیا، صحبت نہیں کی، وہ بھی حرام ہو گئیں۔ بات سمجھ میں آئی؟ جبکہ ہمارے نزدیک ہم نے تو کیا معنیٰ کیا؟ وطء کے، صحبت کے، تو جن سے صرف عقد کیا ہے اور صحبت نہیں کی، وہ حرام نہیں؛ لیکن یاد رکھیے، پھر بھی وہ عورتیں جن کے ساتھ صرف عقد کیا ہو، وہ بھی ہمارے نزدیک حرام ہیں، ہاں وہ اس آیت سے ثابت نہیں ہوں گی، وہ اجماع کی وجہ سے، کس کی وجہ سے؟ ان کی حرمت اجماع کی وجہ سے ہے بھئی۔ ويستحيل اجتماعهما مرادين بلفظ واحد، اور محال ہے، یعنی جائز نہیں ہے اجتماعهما، ان دونوں کا اجتماع، یعنی حقیقت اور مجاز کا، مرادين اس حال، یعنی حقیقی معنی اور مجازی معنی کا اجتماع محال ہے مرادين اس حال میں کہ دونوں مراد ہوں بلفظ واحد ایک ہی لفظ سے۔ یہ ہمارا دوسرا بڑا ضابطہ ہے مولانا، کہ ایک لفظ سے ایک وقت کے اندر یا تو معنیٰ حقیقی کا ارادہ کیا جائے گا یا معنیٰ مجازی کا ارادہ کیا جائے گا، یہ نہیں ہو سکتا کہ معنیٰ حقیقی کا بھی ارادہ کیا جائے اور معنیٰ مجازی کا بھی، یعنی معنیٰ موضوع لہ اور معنیٰ غیر موضوع لہ دونوں کا ارادہ درست نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: يم تتمة السابق، یہ سابق کا تتمہ ہے۔ تتمہ کہتے ہیں مولانا وہ تکملہ، جس کی ماقبل کی تکملہ ہو اسے تتمہ کہتے ہیں۔ تو کہتے ہیں یہ ماقبل کا تتمہ ہے، أي يستحيل اجتماع المعنى الحقيقي والمعنى المجازي حال كونهما مرادين بلفظ واحد، محال ہے اجتماع معنیٰ حقیقی اور معنیٰ مجازی کا حال كونهما اس حال میں کہ دونوں مراد ہوں، دیکھو بتلا دیا متن میں مرادین کا جو لفظ آیا تھا وہ حال واقع ہو رہا ہے ماقبل سے، اجتماعهما کی ضمیر سے بھئی، اس حال میں کہ یہ دونوں معنی مراد ہوں بلفظ واحد ایک ہی لفظ سے، بأن يكون كل منهما متعلق الحكم، بعیں طور کہ ان دونوں میں سے ہر ایک حکم کا متعلق ہو، یعنی حکم ان دونوں سے متعلق ہو، معنیٰ حقیقی سے بھی متعلق ہو اور معنیٰ مجازی سے بھی، یہ نہیں ہو سکتا، جبکہ امامِ شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک یہ درست ہے بھئی، کہ ایک ہی وقت کے اندر دونوں معنی کا ارادہ کیا جائے۔ كما تقول: لا تقتل الأسد، وتريد السبع والرجل الشجاع معًا، جیسے کہ آپ کہتے ہیں: لا تقتل الأسد، اسد کو قتل نہ کرو، اور اسد کا ایک ہے لغوی معنی، ایک مجازی معنی۔ لغوی معنی کیا ہے؟ شیر، اور مجازی معنی کیا ہے؟ بہادر آدمی۔ تو اب یہاں پر ہمارے نزدیک یا تو اس کا حقیقی معنی مراد ہو گا یا مجازی، دونوں بیک وقت مراد نہیں ہو سکتے، یہ درست نہیں ہے، جائز نہیں ہے دونوں کا مراد لینا ایک ہی وقت کے اندر۔ جبکہ امامِ شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، دونوں کا مراد لینا بھی جائز ہے۔ تو کہتے ہیں جیسے آپ کہتے ہیں: لا تقتل الأسد وتريد السبع، اور آپ اس درندے کا بھی ارادہ کریں والرجل الشجاع معًا اور بہادر آدمی کا بھی اکٹھے ہی۔ وإن كان اللفظ بالنظَر إلى هذا الاستعمال مجازًا، اگرچہ لفظ اس استعمال کی طرف نظر کرتے ہوئے مجاز ہے۔ اس استعمال کی طرف نظر کرتے ہوئے لفظ کیا ہے؟ مجاز ہے۔ دیکھیے بھئی، حقیقت کسے کہتے تھے؟ لفظ کو معنیٰ موضوع لہ میں استعمال کرنا، یہ کیا ہے؟ حقیقت۔ اور اگر لفظ کو استعمال کیا جائے معنیٰ موضوع لہ اور معنیٰ غیر موضوع لہ دونوں کے اندر، دونوں کا ارادہ کیا جائے، تو یہ حقیقت ہے؟ حقیقت تو کیا تھی؟ صرف کس کا ارادہ ہو؟ موضوع لہ کا، اور آپ ارادہ کر رہے ہیں دونوں کا ایک ہی وقت کے اندر، تو یہ معنیٰ حقیقی نہیں، جب معنیٰ حقیقت نہیں اس وقت، تو یہ کیا کہلائے گا؟ مجاز۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ بھئی معنیٰ حقیقی، حقیقت کسے کہتے تھے؟ حقیقت اسی لفظ کا نام ہے نا، یہی اسد لفظ اس سے اگر آپ شیر کا ارادہ کریں تو کیا کہلائے گا یہ لفظ؟ حقیقت۔ اگر اسی لفظ سے آپ ارادہ کریں بہادر آدمی کا، تو یہ لفظ کیا کہلائے گا؟ مجاز۔ اب اسد اگر شیر کے معنی میں استعمال ہو، تو یہ کیا ہے؟ حقیقت، لیکن اگر شیر اور بہادر آدمی دونوں میں استعمال ہو، پھر یہ حقیقت تو نہیں، جب حقیقت نہیں تو مجاز ہے، حقیقت تو کیا تھی؟ صرف کس معنی میں ہو؟ موضوع لہ میں، صرف موضوع لہ میں استعمال ہو، اور یہ صرف موضوع لہ میں ہے اس وقت؟ تو حقیقت جب معلوم ہوا یہ حقیقت نہیں، جب حقیقت نہیں تو دوسری کیا صورت تھی پھر؟ مجازی ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو دونوں معنی میں استعمال ہو، پھر تو بھی یہ مجاز ہی ہے۔ تو کہتے ہیں: وإن كان اللفظ بالنظَر إلى هذا الاستعمال مجازًا، اگرچہ لفظ جو ہے نظر کرتے ہوئے اس استعمال کی طرف مجاز ہے، یعنی معنیٰ حقیقی اور معنیٰ مجازی میں دونوں استعمال، دونوں میں اکٹھا استعمال ہو۔ وقد صححه الشافعي رحمه الله، اور تحقیق تصحیح، یہ صحیح قرار دیا ہے اس کو امامِ شافعی رحمہ اللہ نے، حيث يمكن الجمع بينهما، اس طور پر کہ ممکن ہوں دونوں کے درمیان جمع، یعنی ان دونوں کا جمع کرنا ممکن بھی ہو مولانا، بعض جگہ ممکن ہی نہیں ہو گا تو پھر وہاں بھی وہ یہی، وہ بھی یہی کہتے ہیں کہ یا تو معنیٰ حقیقی مراد ہے یا معنیٰ مجازی بھئی، یہاں دیکھو دونوں جمع ہو سکتے ہیں کہ اس کے ذریعے کیا ارادہ کیا جائے؟ شیر کا بھی ارادہ کیا جائے اور بہادر آدمی کا، یعنی دونوں کو قتل نہ کرو، تو یہاں ممکن ہے دونوں کو جمع کرنا۔ كما في هذا المثال، جیسے کہ اس مثال میں جمع کرنا ممکن تھا بھئی۔ بخلاف ما إذا لم يمكن، بخلاف اس کے کہ جب ممکن نہ ہو، كالوفوب والإباحة في الأمر، جیسے کہ وجوب اور اباحت امر کے اندر، بھئی دیکھیے امر کئی معانی کے لیے آتا ہے، آپ نے پڑھا ہے بھئی، لیکن اس کا معنیٰ حقیقی کیا ہے؟ کس لیے آئے گا؟ اضرب کا امر بھئی، صیغہء امر کس لیے آئے گا؟ وجوب کے لیے آئے گا، لیکن کبھی کبھار کس لیے آتا ہے؟ اباحت کے لیے آتا ہے۔ اب وجوب اور اباحت میں کیا ہے؟ بھئی دونوں ایک ہی وقت میں جمع نہیں ہو سکتے، ممکن، یا تو وہ امر کس لیے ہو گا؟ وجوب، یا صرف کس لیے ہو گا؟ اباحت کے لیے، دونوں کے لیے بیک وقت ہو یہ نہیں ہو سکتا مولانا، جمع ممکن ہی نہیں ہے یہاں پر، جس کام کا حکم دیا جا رہا ہے، یا تو واجب ہو گا، یا کیا ہو گا؟ مباح، یعنی جائز ہو گا، دونوں بیک وقت، واجب بھی ہو اور مباح بھی ہو، یہ نہیں ہو سکتا؛ کیونکہ واجب کے اندر ترک کرنے کی گنجائش نہیں ہوتی، جبکہ مباح میں ترک کرنے کی گنجائش ہوتی ہے، یہ دونوں چیزیں جمع نہیں ہو سکتیں۔ ولا نزاع في جواز استعمال اللفظ في معنى مجازي تكون الحقيقة من أفراده على سبيل عموم المجاز، کہتے ہیں اور کوئی جھگڑا نہیں ہے لفظ کے استعمال کے جائز ہونے کے اندر في معنى مجازي ایسے معنیٰ مجازی کے اندر، میں نے آپ کو بتلایا تھا نکرہ کے بعد فعل آئے تو عموماً اس کے لیے کیا بنے گا؟ صفت، یہاں دیکھ لیجیے معنیً موصوف ہے، مجازي صفتِ اول ہے، اور تكون الحقيقة، یہ کیا ہے؟ یہ بھی صفت ہے اسی کی دوسری، جی، ایسا معنیٰ مجازی تكون الحقيقة من أفراده کہ حقیقت بھی کیا ہو اس کے افراد میں سے ہو، على سبيل عموم المجاز عمومِ مجاز کے طریقے پر، كما سيأتي جیسے کہ عنقریب آ جائے گا۔ بھئی عمومِ مجاز کی بات گزری ہے یا نہیں گزری؟ کہ لفظ کا کوئی ایسا مجازی معنی مراد لے لیا جائے کہ حقیقت بھی اس کے افراد میں داخل ہو جائے، اس کے تحت داخل ہو جائے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو کہتے ہیں اس بات میں کوئی جھگڑا نہیں ہے کہ لفظ کو، اس بات کے جواز میں کوئی جھگڑا نہیں ہے کہ لفظ کو استعمال کیا جائے ایسے معنیٰ مجازی کے اندر کہ حقیقت بھی کیا ہو اس کے افراد میں سے ہو، کس طریقے پر؟ عمومِ مجاز کے طریقے پر، اس میں کوئی جھگڑا نہیں ہے بھئی، یہ درست ہے۔ ولا في امتناع استعماله في المعنى الحقيقي والمجازي معًا بحيث يكون اللفظ متصفًا بكونه حقيقة ومجازًا معًا، اور اس بات کے ممتنع ہونے میں بھی کوئی جھگڑا نہیں ہے، کہ یہ بات ممتنع ہے، کون سی بات؟ کہ اس معنیٰ، کہ لفظ کو معنیٰ حقیقی اور معنیٰ مجازی میں اکٹھا استعمال کیا جائے، اس حیثیت طور پر کہ لفظ متصف ہو حقیقت اور مجاز کے ساتھ اکٹھا ہی بیک وقت، یعنی دیکھو بھئی، لفظ کو معنیٰ موضوع لہ میں استعمال کریں تو وہ حقیقت ہے، معنیٰ غیر موضوع لہ میں استعمال کریں تو مجاز ہے۔ ہمارا اور امامِ شافعی رحمہ اللہ کا اختلاف اس بات میں ہے کہ لفظ کے ذریعے دونوں معنی کا بیک وقت ارادہ کیا جا سکتا ہے یا ارادہ نہیں؟ ہمارے نزدیک دونوں کا بیک وقت ارادہ کرنا درست نہیں، اور ان کے نزدیک اگر ان دونوں معنی کے درمیان جمع ممکن ہو تو بیک وقت دونوں کا ارادہ بھی، اختلاف سمجھ میں آیا؟ ہاں اس بات میں کوئی جھگڑا نہیں ہے، کوئی اختلاف نہیں ہے کہ ایک ہی لفظ، ایک ہی وقت کے اندر حقیقت بھی ہو اور مجاز بھی ہو، ہم بھی کہتے ہیں یہ نہیں ہو سکتا، وہ بھی یہی کہتے ہیں کہ واقعی یہ ایک ہی وقت میں لفظ کیا کہلائے؟ حقیقت بھی کہلائے اور مجاز بھی کہلائے، اختلاف کس چیز میں ہے؟ ارادے کے اندر، ارادہ دونوں کا کیا جا سکتا ہے یا دونوں کا ارادہ، ہاں یہ لفظ جب یہ لفظ حقیقت ہو گا ایک ہی وقت کے اندر، ایک وقت میں حقیقت بھی ہو اور جس وقت حقیقت ہے اسی وقت یہ لفظ مجاز بھی ہے، یہ نہیں ہو سکتا۔ یا یہ کیا کہلائے گا؟ حقیقت، یا کیا کہلائے گا؟ مجاز کہلائے گا۔ دونوں ناموں کے ساتھ بیک وقت یہ متصف نہیں ہو سکتا۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ کہ نہیں سمجھ میں آئی؟ تو اختلاف کس چیز میں ہے؟ کہ ارادہ دونوں معنی کے کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ ہاں، دونوں کا ارادہ ان کے نزدیک کیا جائے، پھر یہ کیا ہے؟ حقیقت ہے مجاز ہے؟ مجاز ہے، اس وقت ان کے نزدیک بھی کیا ہے؟ مجاز ہے دیکھو ان کے نزدیک تو۔ لہذا، ہمارا اور امام شافعی رحمہ اللہ کا اختلاف جو ہے، جو ہم کہتے ہیں کہ جمع بین الحقیقت والمجاز درست نہیں ہے، وہ کس اعتبار سے ہے؟ کہ دونوں معنی کا بیک وقت ارادہ کیا جا سکتا ہے یا ارادہ نہیں؟ ہمارے نزدیک دونوں معنی کا بیک وقت ارادہ جائز نہیں، ان کے نزدیک دونوں معنی کا ارادہ بیک وقت بھی جائز ہے۔ باقی اس چیز کے اندر کوئی اختلاف نہیں ہے کہ ایک ہی وقت کے اندر لفظ کیا ہو؟ حقیقت بھی ہو اور مجاز بھی۔ ہاں، ہمارے نزدیک بھی یہ ممتنع، ان کے نزدیک بھی یہ ممتنع، یہی بات کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: "ولا فی امتناع استعمالہ فی المعنی الحقیقی والمجازی معا" اور کوئی جھگڑا نہیں ہے لفظ کو معنی حقیقی اور معنی مجازی کے اندر اکٹھا استعمال کرنے کے ممتنع ہونے کے اندر، کہ یہ ممتنع ہے، اس میں کوئی جھگڑا نہیں۔ ان کے نزدیک بھی ممتنع اور ہمارے نزدیک بھی۔ "بحیث" اس طور پر کہ "یکون اللفظ متصفا بکونہ حقیقت ومجازا معا" کہ لفظ جو ہے وہ متصف ہو رہا ہو حقیقت اور مجاز کے ساتھ اکٹھا ہی۔ بات سمجھ میں بھی آئی کہ نہیں آئی بھئی؟ "وکذا لا نزاع فی جواز اجتماعهما بحسب احتمال اللفظ ایاهما" اور اسی طرح کوئی جھگڑا نہیں ہے ان دونوں معنی کے اجتماع کے جائز ہونے میں "بحسب احتمال اللفظ" بنِ اعتبار کہ لفظ ان دونوں معنی کا احتمال رکھتا ہو۔ اس میں بھی کوئی جھگڑا نہیں ہے۔ بھئی دیکھیے، اوپر آیا تھا: "لا تقتل الاسد"۔ اب دیکھیے، اس کا حقیقی معنی ہے شیر اور مجازی معنی کیا ہے؟ بہادر آدمی۔ اب یہاں پر بتلائیے مولانا، دونوں معنی کا احتمال ہے یا نہیں؟ جی؟ ہے، ہے! تو دونوں معنی کا احتمال رکھتا ہو لفظ، اس میں بھی کوئی ممتنع، اس کے جواز میں بھی کوئی جھگڑا نہیں۔ ہاں، احتمال دونوں کا ہے یہاں، لیکن ہمارے نزدیک ارادہ ایک ہی کا ہو سکتا ہے، دونوں کا نہیں، اور ان کے نزدیک دونوں کا ارادہ بھی ہو سکتا ہے بشراطیکہ اجتماع ممکن ہو۔ تو اس بات میں کوئی جھگڑا نہیں ہے کہ جو لفظ دونوں کا احت، لفظ کیا ہو؟ دونوں کا احتمال، دونوں کا رکھتا ہو، اس کے اندر بھی کوئی جھگڑا نہیں ہے، احتمال رکھ سکتا ہے۔ لیکن پھر آگے احتمال کے بعد ارادہ دونوں کا ہو گا یا نہیں، اس میں اختلاف ہے مولانا۔ تو احتمال ہونے میں کوئی اختلاف؟ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: "وکذا لا نزاع فی جواز اجتماعهما بحسب احتمال اللفظ ایاهما" اور اسی طرح کوئی جھگڑا نہیں ہے ان دونوں معنی کے اجتماع کے جائز ہونے کے اندر "بحسب احتمال اللفظ ایاهما" باعتبار لفظ کے ان دونوں معنی کا احتمال رکھنے کے اعتبار سے، یعنی یہ ہو سکتا ہے کہ لفظ کیا رکھتا ہو؟ دونوں معنی کا احتمال رکھتا ہو۔ "او بحسب التناول الظاہری بشبهة من غیر الارادة كما سیاتی" یا یہ کہ لفظ جو ہے شام، ظاہری شمول کے، تناول کا معنی شامل ہونا، لفظ کے ظاہری شمول کے اعتبار سے ان دونوں کا استعمال جائز ہو مولانا، لفظ کے ظاہری شمول کے اعتبار سے۔ اس کا عطف ماقبل میں ہے نا "بحسب اجتماع اللفظ" پر ہے، اس کو ہٹائیں، یہ اس کو وہاں رکھیں۔ دیکھیے: "وکذا لا نزاع فی جواز اجتماعهما" اور اسی طرح کوئی جھگڑا نہیں ہے ان دونوں معنی کے اجتماع کے جائز ہونے کے اندر "بحسب التناول الظاہری" ظاہری شمول کے اعتبار سے "بشبهة" کسی شبہے کی وجہ سے "من غیر الارادة" بغیر کسی ارادے کے "كما سیاتی" جیسے کہ عنقریب آ جائے گا۔ بھئی، دیکھیے آگے مثال ایک آئے گی۔ مثال کے اندر کہ مثلاً مسلمانوں نے کفار کے قلعے کا محاصرہ کیا اور محاصرہ کر لیا بھئی۔ اب ایک کافر نے کہا کہ ہمیں امان دے دو ہمارے ابناء پر، ہمارے ابناء پر، بیٹوں پر۔ اب دیکھیے، بیٹا ایک تو بیٹا ہے، اس کو بھی ابن کہہ دیتے ہیں، ایک بیٹے کا بیٹا ہے، اس کو بھی کیا کہہ دیتے ہیں؟ ابن کہہ دیتے ہیں۔ لیکن بیٹا ہے اس کا حقیقی معنی اور بیٹے کا بیٹا یعنی پوتا وہ کیا ہے؟ مجازی معنی۔ اب یہاں پر اس نے کیا کہا کہ کس کو امان دے دو؟ ہمارے بیٹوں کو بھئی امان دے دو۔ تو یاد رکھیے، آگے آپ کو بتلائیں گے کہ اس صورت میں بیٹوں کو بھی امان حاصل ہو جائے گی اور پوتوں کو بھی امان حاصل ہو جائے گی۔ پھر اشکال ذکر کریں گے، یہ تو جمع بین الحقیقة والمجاز لازم آیا احناف کے نزدیک بھئی! بیٹے ہیں حقیقی معنی، پوتے ہیں مجازی معنی، آپ نے دونوں کو جمع کر دیا۔ تو بتلائیں گے بھئی کہ یہاں شبہے کی وجہ سے، یہ چونکہ خون کا مسئلہ ہے بھئی، خون کے، خون کا، خون کے، تو خون کی اور خون کی جس قدر ممکن ہو سکے، ممکن ہو سکے اس کے حفاظت کی جائے، تو حفاظتِ دم کی وجہ، شبہے کی وجہ سے ہم نے کیا کیا؟ کہ ہم نے ابناء کو، یعنی پوتوں کو بھی اس میں داخل شمار کیا بھئی، ان کو بھی امان حاصل ہو جائے گی، کس کی وجہ سے؟ حفاظتِ دم کی وجہ سے، جس قدر ممکن ہو سکے کیا کی جائے؟ خون کی حفاظت کی جائے، خون ویسے نہ بہایا جائے بھئی۔ تو لہذا، اس شبہے کی وجہ سے یہ کیا ہو جائیں گے اس کے اندر؟ ہاں، تو ارادہ نہیں کیا، مثلاً اس نے صرف کس کا ارادہ کیا؟ تو ہم یہ نہیں کہتے کہ یہاں اس نے ارادہ کیا کیا ہے؟ بیٹے اور پوتے حقیقت اور معنی دونوں کا ارادہ کیا ہے، بلکہ ارادہ کس کا ہے؟ مثلاً بیٹوں کا ارادہ ہے، لیکن اس شبہے کی وجہ سے پوتے بھی کیا ہو جائیں گے؟ اس میں داخل ہو جائیں گے، کیونکہ ظاہ، لفظ جو ہے ظاہری اعتبار سے دونوں کو شامل ہے، ایک کو حقیقی معنی کے اعتبار سے اور دوسرے کو مجازی معنی کے اعتبار سے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ آگے تفصیل آ جائے گی اور بھی بھئی۔ تو کہتے ہیں، اسی طرح کوئی جھگڑا نہیں ہے ان دونوں معنی کے اجتماع کے جائز ہونے کے اندر "بحسب التناول الظاہری" ظاہری شمول کے اعتبار سے "بشبهة من غیر الارادة" کہ کسی شبہ کی وجہ سے بغیر کسی ارادہ کے "كما سیاتی" جیسے کہ عنقریب آ جائے گا۔ تو یہاں ارادے کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ کس وجہ سے یہ دونوں داخل ہیں؟ شبہے کی وجہ سے، ارادے کی وجہ سے ہم نے نہیں، ہمارے نزدیک ارادہ دونوں کا کرنا یہاں پر بھی صحیح نہیں، لیکن شبہے کی وجہ سے وہ داخل ہو جائیں گے تاکہ خون کی حفاظت کی جائے۔ "وانما النزاع فی ارادتهما معا باستقلالهما" اور جھگڑا جو ہے، اختلاف جو ہے ان دونوں معنی کے ارادے کے اندر ہے اکٹھا ہی "باستقلالهما" ان دونوں کے استقلال، مستقلاً ہوں یہ دونوں معنی، یعنی مستقلاً دونوں معنی کا ارادہ کرنا اس کے اندر اختلاف ہے۔ ہمارے نزدیک مستقلاً دونوں معنی کا ارادہ صحیح نہیں اور ان کے نزدیک مستقلاً کیا ہے؟ دونوں معنی کا ارادہ بھی صحیح ہے بھئی۔ "فعندہ یجوز وعندنا لا یجوز" پس امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک جائز ہے کہ دونوں معنی کا ارادہ کیا جائے مستقلاً "وعندنا لا یجوز" اور ہمارے نزدیک جائز نہیں ہے، "فقیل للاستحالة العقلية وقيل لعدم العرف والاستعمال" بھئی یہ کیوں؟ جائز کیوں نہیں ہے ہمارے نزدیک دونوں معنی کا ارادہ کرنا بیک وقت بھئی؟ معنی حقیقی کا بھی ارادہ کیا جائے اور معنی مجازی کا بھی، کہتے ہیں "فقیل" کہا گیا ہے "للاستحالة العقلية" عقلی استحالہ کی وجہ سے، یعنی عقلاً یہ بات محال ہے، دونوں معنی کا ارادہ کرنا صحیح نہیں۔ "وقیل لعدم العرف والاستعمال" اور کہا گیا ہے عدمِ عرف اور استعمال کی وجہ سے، کہ عرف اس پر نہیں ہے، استعمال اس طریقے پر نہیں ہے، لہذا دونوں معنی کا ارادہ صحیح، اس لیے کیونکہ عرف اور استعمال کے اندر اگر لفظ کو استعمال کیا جائے اور کوئی ساتھ مجاز کا قرینہ نہ ہو تو کون سا معنی مراد لیتے ہیں؟ حقیقت، اور اگر مجاز کا کوئی قرینہ ہو جو اس کو حقیقی معنی سے پھیر رہا ہو تو پھر اس صورت میں کون سا معنی مراد لیتے ہیں؟ مجازی معنی مراد ہوتا ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو عرف کے اندر اسی طرح ہے، تو یہاں جو ہم نے کہا نا یہ جائز نہیں ہے، محال ہے، کس وجہ سے؟ جائز نہیں ہے، کیونکہ عرف اور استعمال میں ایسا نہیں ہے۔ اور پہلی بات کیا، بعضوں نے کیا کہا، کیوں نہیں جائز ان دونوں کا استعمال؟ کیونکہ عقلاً کیا ہے؟ محال ہے بھئی، وہ دلیل دیتے ہیں مولانا، وہ کہتے ہیں دیکھو لفظ کو عقلاً محال کس طرح ہے؟ کہتے ہیں دیکھو لفظ کو اگر معنی حقیقی اور معنی مجازی دونوں کے اندر استعمال کیا جائے، تو یا تو وہ اب استعمال ہو رہا ہے دونوں معنی کے اندر، یا تو وہ کیا ہو گا؟ حقیقت، اس لفظ کو آپ کیا کہیں گے؟ حقیقت، یا کیا کہیں گے؟ مجاز، یا دونوں میں سے کچھ بھی نہیں کہیں گے، یا دونوں ہی کہیں گے۔ چار ہی صورتیں بنتی ہیں نہ، یا اس لفظ کو کیا کہیں گے؟ حقیقت، یا صرف کیا کہیں گے؟ مجاز، یا دونوں میں سے کچھ بھی نہیں کہیں گے، یا دونوں ہی کہیں گے، حقیقت بھی ہے اور مجاز بھی۔ ہاں، تو کہتے ہیں صرف حقیقت کہیں، یہ بھی درست نہیں ہے، یہ تو آپ نے ترجیح دے دی ایک جانب کو، بھئی معنی حقیقی میں اگر استعمال ہو رہا ہے تو ساتھ ساتھ کس میں استعمال ہو رہا ہے؟ معنی مجازی میں بھی تو ہو رہا ہے، حقیقت کیوں کہتے ہو؟ مجاز کیوں نہیں کہتے؟ اور اگر صرف مجاز کہتے ہو، یہ بھی ترجیح بلا مرجح ہے، مجاز صرف کیوں کہتے ہو؟ حقیقت کیوں نہیں کہتے بھئی؟ اور یہ بھی نہیں ہو سکتا کہ دونوں میں سے کوئی نہ ہو بھئی، اس لیے کیونکہ دو ہی صورتیں ہیں، یا حقیقت ہو گا یا مجاز، تیسری کوئی صورت ہی نہیں ہے بھئی، اور یہ بھی نہیں ہو سکتا کہ بیک وقت حقیقت بھی ہو اور مجاز بھی ہو مولانا بیک وقت بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جی، یہ عقلی دلیل ذکر کی ہے انہوں نے حاشیے کے اندر مولانا، لیکن بات یہ ہے کہ یہ تو ارادے، ارادے کی بات ہو رہی ہے مولانا، کس چیز کی؟ اختلاف کس چیز میں ہے ہمارا؟ کہ بیک وقت دونوں معنی کا ارادہ کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟ باقی ایک ہی وقت میں لفظ خود حقیقت بھی ہو اور مجاز، اس میں تو کوئی جھگڑا ہی نہیں، ان کے نزدیک بھی ایسا نہیں ہو سکتا، ہمارے نزدیک بھی ایسا نہیں ہو سکتا بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو ان کے نزدیک حقیقی اور مجازی دونوں معنی میں استعمال ہو، ایک ہی وقت کے اندر استعمال ہو سکتا ہے اور اس صورت میں یہ مجاز کہلاتا ہے کیونکہ یہ حقیقت نہیں ہے، کیونکہ حقیقت تو کس کو کہتے تھے؟ صرف کس معنی میں استعمال ہو؟ معنی موضوع لہ میں استعمال ہو۔ جی، آگے دیکھیے: "والمصنف رحمه الله اورد في ذلك تمثيلا تشبيها للمعقول بالمحسوس" اور مصنف رحمہ اللہ لے کر آئے ہیں اس کے اندر ایک تمثیل بھئی، تمثیل کہتے ہیں مرکب ہیئت کو تشبیہ دینا مرکب ہیئت کے ساتھ بھئی۔ ایک مرکب ہیئت کو مرکب ہیئت کے ساتھ تشبیہ دینا، یہ تشبیہ جو ہے "تشبیه المركب بالمركب" یہ جو ہے تمثیل کہلاتی ہے۔ علمِ بیان کے اندر آپ پڑھیں گے اگلے سال انشاء اللہ بھئی۔ تو یہ تمثیل۔ دیکھو، میں نے شیر کے بہادر آدمی کو کس کے ساتھ تشبیہ دی؟ شیر کے ساتھ، سمجھ میں آیا؟ تو یہاں کوئی مرکب ہیئت نہیں ہے، ایک ذات کو دوسری ذات کے ساتھ تشبیہ دے دی ایک وصف کے اندر میں نے، لیکن بعض اوقات ایک پوری مرکب ہیئت بن بنائی جاتی ہے اور اس پوری مرکب ہیئت کو کیا کیا جاتا ہے؟ دوسری مرکب ہیئت کے ساتھ تشبیہ دی جاتی ہے، جیسے اس کی مثال مولانا، قرآن میں اللہ تعالی فرماتے ہیں: "اولئک علی ہدی من ربہم" بھئی، صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین بھئی، ان کے بارے میں اللہ تعالی فرماتے ہیں: "اولئک علی ہدی من ربہم" یہی لوگ جو ہیں اپنے پروردگار کی طرف سے ہدایت پر ہیں، کس پر ہیں؟ ہدایت پر ہیں، تو یہاں پر کہا: "علی ہدی" کس پر ہیں؟ ہدایت پر ہیں۔ تو یہاں ایک مرکب ہیئت کے ساتھ تشبیہ دی ہے، کس طریقے پر؟ کہ "علی" آتا ہے استعلاء کے لیے کہ ایک چیز کیا ہو؟ دوسری چیز کے اوپر ہو، کیا ہو؟ اوپر ہو بھئی، تو یہاں دیکھیے ایک مرکب ہیئت بنائی، صحابہ کرام، یہ جو ہدایت ہے اس کو گویا تشبیہ دی گئی ہے کس چیز کے ساتھ؟ گھوڑے کے ساتھ، ہدایت کو کس کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے؟ گھوڑے کے ساتھ، صحابہ کرام کو اس گھوڑے پر سوار شخص کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے، تو دیکھو ایک چیز کو ایک کے ساتھ تش، اور پھر اس گھوڑے، جانور پر سوار اوپر ہو ایک ہیئت حاصل ہو رہی ہے، اس سارے کے ساتھ تشبیہ دی ہے، جس طرح ایک شخص گھوڑے پر سوار ہوتا ہے مولانا اور جس طرح جس طرف کو وہ چاہتا ہے گھوڑے کو لے جانا اس طرف گھوڑے کو لے جاتا ہے، دائیں، بائیں، سیدھا، جس طرف لے جانا چاہتا ہے، وہ جدھر کا رخ کرتا ہے گھوڑا اس کے ساتھ ساتھ ہوتا ہے، اسی طرح اللہ تعالی فرماتے ہیں: یہ میرے پیغمبر کے جو ساتھی ہیں، جو یہ کوئی معمولی انسان نہیں ہیں، یہ ان کا اتنا اعلی مقام ہے، اتنا اونچا مقام ہے کہ ہدایت بھی ان کے لیے اس طرح ہے جس طرح انسان کے لیے کیا ہوتا ہے؟ گھوڑا ہوتا ہے، یہ جدھر کا رخ کرتے ہیں ہدایت ان کے ساتھ ساتھ چلتی ہے بھئی۔ تو یہ مرکب ہیئت کو تشبیہ دی جائے کس کے ساتھ؟ مرکب کے ساتھ، یہ تمثیل کہلاتی ہے۔ تو کہتے ہیں مصنف لے کر آئے ہیں اس کے اندر ایک تمثیل کو "تشبیہا للمعقول بالمحسوس" تشبیہ دینے کے لیے معقول کو محسوس کے ساتھ۔ معقول عقلی چیز بھئی، محسوس عرف کے، میں نے بتلایا تھا محسوس حواس پانچ ہیں اور تو لیکن عرف کے اندر بھئی محسوس صرف کسے کہتے ہیں؟ جو آنکھوں سے دکھائی دے، اسے محسوس کہتے ہیں بھئی۔ تو بھئی، ایک چیز عقلی ہے، اس کا سمجھنا آسان ہوتا ہے یا ایک جو آنکھوں سے نظر آئے اس کا سمجھنا آسان ہوتا ہے؟ جو آنکھوں سے نظر آئے اس کا سمجھنا آسان، تو عقلی چیز کو سمجھانے کے لیے محسوس چیز کے ساتھ اس کی تشبیہ دی جاتی ہے تاکہ وہ عقل میں آ جائے، بات سمجھ میں آ جائے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہاں بھی مصنف نے ایسا ہی کیا، کہ معقول کے ساتھ معقول کو تشبیہ دے رہے ہیں محسوس کے ساتھ، اوپر انہوں نے کیا بات ذکر کی تھی؟ حقیقی معنی اور مجازی معنی دونوں کا اجتماع محال ہے، جائز نہیں ہے۔ اب یہ ایک عقلی چیز ہے یا آنکھوں سے نظر آتی ہے بھئی؟ یہ تو عقلی چیز ہے بھئی کہ ایک لفظ سے دونوں، ایک لفظ سے دونوں معنی کا ارادہ کرنا صحیح نہیں، محال ہے۔ اب تشبیہ دے رہے ہیں، کہتے ہیں جیسے دیکھیے ایک ہی کپڑا ایک شخص نے پہنا ہوا ہو اور یہ بطورِ ملکیت کے بھی پہنا ہو اور بطورِ عاریت کے بھی پہنا ہو، جیسے یہ محال ہے اسی طرح حقیقت حقیقی اور معنی مجازی دونوں کا ارادہ کرنا بھی محال۔ ایک شخص نے ایک لباس پہنا ہو اور کس اعتبار سے پہنا ہو؟ ملکیت کے اعتبار سے بھی اور عاریت، یعنی وہ مالک بھی ہے اس کا اور عاریتاً بھی اس نے لیا ہے کسی سے مانگا ہوا ہے، یہ تو نہیں ہو سکتا، یا تو وہ اس کا کیا ہو گا؟ مالک ہو گا یا کسی سے مانگ کر پہنا ہو گا، ایک ہی وقت میں وہ مالک بھی ہو اور اس نے کیا کیا ہو اس کو بطورِ مالک کے بھی پہنا ہو اور بطورِ عاریت کے بھی پہنا ہو، ایسا نہیں ہو سکتا۔ عاریت کا تو دیکھو، یہ ایک محسوس چیز ہے، ایک شخص نے ایک لباس پہنا ہوا ہو، یہ ایک محسوس چیز ہے۔ تو، اس کے ساتھ تشبیہ دے کر وہی اوپر والی بات سمجھا رہے ہیں۔ فقال: پس، مصنف فرماتے ہیں: كَمَا مُسْتَحَالٌ أَنْ يَكُونَ الثَّوْبُ الْوَاحِدُ عَلَى اللَّابِسِ مِلْكًا وَعَارِيَةً فِي زَمَانٍ وَاحِدٍ، پس مصنف فرماتے ہیں: جیسے کہ محال ہے کہ ایک ہی کپڑا ایک شخص پر ہو بطورِ ملک کے بھی اور بطورِ عاریت کے بھی فی زمانٍ واحدٍ، ایک ہی زمانے کے اندر۔ یعنی أَنَّ اللَّفْظَ لِلْمَعْنَى بِمَنْزِلَةِ اللِّبَاسِ لِلشَّخْصِ، کہ لفظ جو ہے، معنی کے لیے کس کے درجے میں ہے؟ لباس، کسی شخص کے لیے جیسے ہوتا ہے، اسی درجے میں ہے۔ یعنی معنی ہوا شخص اور لفظ کیا ہوا؟ بھئی، جیسے ایک شخص ایک لباس پہن لیتا ہے، اسی طرح اس معنی کو بھی ہم کس چیز کا لباس پہنا دیتے ہیں؟ لفظ کا، کس کا؟ لفظ کا۔ تو لفظ جو ہے، وہ لباس کی طرح اور معنی کس کی طرح؟ شخص کی طرح۔ وَالْمَجَازُ كَالثَّوْبِ الْمُسْتَعَارِ، اور مجاز کس کی طرح ہے؟ ثوبِ مستعار، مانگے ہوئے کپڑے کی طرح۔ وَالْحَقِيقَةُ كَالثَّوْبِ الْمَمْلُوكِ، اور حقیقت کس کی طرح ہے؟ ثوبِ مملوک کی طرح ہے۔ فَكَمَا أَنَّ اسْتِعْمَالَ الثَّوْبِ الْوَاحِدِ فِي حَالَةٍ وَاحِدَةٍ بِطَرِيقِ الْمِلْكِ وَالْعَارِيَةِ جَمِيعًا مَحَالٌ، محال محال بھئی! اردو میں محال استعمال ہے، شائع اور رائج ہے، مولانا! اگرچہ صحیح لفظ مُحال ہے، عربی میں مُحال ہے۔ پس جیسے کہ ایک ہی کپڑے کا استعمال کرنا ایک ہی حالت کے اندر ملکیت کے طریقے پر بھی اور عاریت کے طریقے پر دونوں پر مح محال ہے، یہ کیا ہے؟ محال ہے۔ كَذَلِكَ اسْتِعْمَالُ اللَّفْظِ الْوَاحِدِ بِطَرِيقِ الْحَقِيقَةِ وَالْمَجَازِ مَحَالٌ، اسی طرح بھئی، ایک ہی لفظ کو استعمال کرنا حقیقت اور مجاز کے طریقے پر، یہ بھی محال ہے۔ وَالْأَوْضَحُ فِي الْمِثَالِ، اور زیادہ واضح مثال کے اندر أَنْ يَقُولَ، کہ مصنف یوں فرماتے۔ جی، اب شارح فرما رہے ہیں زیادہ واضح بات تھی کہ یوں فرماتے بھئی، شارح۔ دیکھیے، مصنف نے کیا کیا؟ لباس تو ایک ہی ہے، ٹھیک ہے بھئی؟ یہاں بھی بات ہو رہی ہے لفظ ایک ہو اور استعمال کتنے میں ہو؟ معنی موضوع لہ میں بھی ہو اور معنی... تو معنی کتنے ہوئے؟ دو، اور معنی کو کس کے ساتھ تشبیہ دی ہے؟ شخص کے ساتھ، تو شخص کتنے ذکر ہونے چاہیے تھے؟ دو ذکر ہونے چاہیے تھے، بات سمجھ میں آ گئی؟ لہذا اپ کہیں گے کہ وَالْأَوْضَحُ فِي الْمِثَالِ، زیادہ واضح مثال کے اندر أَنْ يَقُولَ، کہ مصنف یوں فرماتے: كَمَا مُسْتَحَالٌ، جیسے کہ محال ہے أَنْ يَلْبَسَ الثَّوْبَ الْوَاحِدَ اللَّابِسَانِ، کہ پہنیں ایک ہی کپڑے کو دو پہننے والے، کیونکہ لابِس کون ہے؟ وہ معنی ہے بھئی۔ أَحَدُهُمَا بِطَرِيقِ الْمِلْكِ، ایک ملکیت کے طریقے پر وَالْآخَرُ بِطَرِيقِ الْعَارِيَةِ، اور دوسرا عاریت، ایک ان دو پہننے والے ایک ہی کپڑے کو پہنیں مستقلاً، ایک پہنے کس طریقے پر؟ ملکیت کے طریقے پر، اور دوسرا کس طریقے پر؟ عاریت کے طریقے پر۔ تو یوں کہنا چاہیے تھا: لِيَكُونَ اللَّفْظُ بِمَنْزِلَةِ اللِّبَاسِ، تاکہ لفظ جو ہے، لباس کے درجے میں ہو جاتا وَالْمَعْنَيَانِ بِمَنْزِلَةِ اللَّابِسَيْنِ، اور دونوں معنی کس درجے میں ہو جاتے؟ لابِسین، وہ دو پہننے والوں کی طرح ہوتے وَالْحَقِيقَةُ وَالْمَجَازُ بِمَنْزِلَةِ الْمِلْكِ وَالْعَارِيَةِ، اور حقیقت اور مجاز ملک اور عاریت کے درجے میں ہوتے۔ وَلَا يُقَالُ إِنَّ الرَّاهِنَ إِذَا اسْتَعَارَ الثَّوْبَ الْمَرْهُونَ مِنَ الْمُرْتَهِنِ، جی، یہاں سے ایک اعتراض اور اس کا جواب ذکر کریں گے۔ ماتن نے کیا کہا بھئی؟ کہ محال ہے ایک ہی کپڑے کو ایک شخص بااعتبارِ ایک ایک شخص ایک ہی زمانے کے اندر ملکیت اور عاریت دونوں کے اعتبار سے پہنے، یہ ہونا یا تو ملک کے طریقے پر پہنے گا، مالک ہوگا اس کا، یا کس طریقے پر پہنے گا؟ عاریت کے طریقے پر پہنے گا۔ اس پر اشکال ہوا بھئی کہ بھئی، رہن جانتے ہیں یا نہیں بھئی؟ کسی کے پاس کوئی چیز گروی رکھوانا۔ اپ نے ایک شخص کا دین دینا ہے، وہ کہتا ہے اپ کو کہ بھئی، میرے پاس کوئی چیز گروی رکھواؤ بطورِ ضمانت کے، اپ اپنی کوئی چیز اس کے پاس گروی رکھوا دیتے ہیں، اس کو کہتے ہیں رہن بھئی۔ اب وہ چیز اپ کی اس کے ضمان میں ہے، مثلاً بھئی، لباس تھا بھئی، لباس اپ نے اپنے کپڑے اس کے پاس بطورِ رہن کے رکھوا دیے۔ بعد میں اپ کو کوئی ضرورت پیش ائی، اپ نے اس سے کہا بھئی، کہ مجھے فلاں جگہ جانا ہے، اپ کی مہربانی ہوگی ایک دن کے لیے مجھے وہ جو کپڑے اپ کے پاس رکھے ہوئے ہیں بطورِ رہن کے، ایک دن کے لیے دے دیں۔ وہ بھی اچھا، نیک ادمی تھا، کوئی تبلیغی تھا بھئی، اس نے وہ کپڑے اپ کو دے دیے بھئی۔ اپ نے اب وہ کپڑے پہن لیے، کہتے ہیں: دیکھیے بھئی، اپ نے یہ کپڑے ملکیت کے طریقے پر بھی پہنے ہیں، کیونکہ مالک اپ ہیں، اور عاریت کے طریقے پر بھی پہنے ہیں بھئی، اپ نے کس سے عاریتاً لیے ہیں؟ راہن سے بطورِ... مرتہن سے، مرتہن سے اپ نے بطورِ عاریت کے لیے ہیں بھئی۔ چنانچہ اپ کے لیے، مولانا! یہ کپڑے کسی کو ہبہ کرنا یا بیچنا وغیرہ جائز نہیں، تو دیکھو، یہ اب کپڑے اپ نے پہنے ہیں ملک کے طریقے پر بھی اور عاریت... اشکال سمجھ میں ایا؟ اپ نے تو کہا تھا محال ہے، ہم نے اپنی مثال میں واضح کر دیا کہ یہ محال نہیں، ہو سکتے ہیں۔ کہتے ہیں: وَلَا يُقَالُ، اور یہ نہ کہا جائے کہ إِنَّ الرَّاهِنَ إِذَا اسْتَعَارَ الثَّوْبَ الْمَرْهُونَ مِنَ الْمُرْتَهِنِ، کہ راہن جب وہ عاریتاً لے لے وہ مرہون رکھے ہوئے کپڑے، وہ مرہون کپڑے مِنَ الْمُرْتَهِنِ، کس سے؟ مرتہن سے وَلَبِسَهُ هُوَ، اور اس کو پہن لے يَصْدُقُ عَلَيْهِ، تو اس پر یہ بات صادق اتی ہے أَنَّهُ لَبِسَهُ بِطَرِيقِ الْمِلْكِ وَالْعَارِيَةِ جَمِيعًا، کہ اس نے ان کو پہنا ہوا ہے ملکیت اور عاریت دونوں کے طریقے پر۔ جواب دے رہے ہیں، کہتے ہیں: لِأَنَّنَا نَقُولُ، اس لیے کیونکہ ہم یہ کہتے ہیں، اب جواب دے رہے ہیں: إِنَّ لُبْسَهُ هَذَا لَيْسَ بِطَرِيقِ الْعَارِيَةِ، کہ اس کا یہ پہننا یہ عاریت کے طریقے پر نہیں ہے، بلکہ یہ کس طریقے پر ہے؟ ملکیت کے طریقے پر ہے، عاریت کے طریقے پر نہیں ہے۔ کہتے ہیں: لِأَنَّ الْمُرْتَهِنَ لَمْ يَتَمَلَّكِ الثَّوْبَ، اس لیے کیونکہ مرتہن وہ مالک نہیں بنا کپڑے کا، وہ مالک نہیں بنا بھئی۔ بھئی، ہم نے چیز اس کے پاس گروی رکھوائی تھی، تو کیا گروی رکھوانے سے وہ مالک بن گیا تھا ان کپڑوں کا؟ جب مالک نہیں بنا، تو مالک اب بھی کون ہے؟ راہن ہی مالک ہے، تو یہ جو کپڑے اب وہ پہن رہا ہے، کس اعتبار سے پہن رہا ہے؟ مالک ہونے کے اعتبار سے پہن رہا ہے، عاریت ہونے کے اعتبار سے نہیں۔ لِأَنَّ الْمُرْتَهِنَ لَمْ يَتَمَلَّكِ الثَّوْبَ، اس لیے کیونکہ مرتہن جو ہے، وہ کپڑے کا مالک نہیں ہوا حَتَّى يُعِيرَهُ الرَّاهِنَ، یہاں تک کہ وہ راہن کو وہ عاریتاً دیتا کپڑا وَلَكِنَّهُ بِطَرِيقِ الْمِلْكِ، مگر یہ کس طریقے پر ہے؟ ملک کے طریقے پر ہے لِأَنَّ حَقَّ الْمُرْتَهِنِ كَانَ مَانِعًا، اس لیے کیونکہ مرتہن کا حق جو تھا، مانع تھا اس چیز کے استعمال سے۔ وہ اس کو استعمال کیوں نہیں کر سکتا تھا کپڑے کو؟ کیونکہ مرتہن کا حق کیا تھا؟ مانع تھا، اس نے مرتہن کا دین دینا ہے، مرتہن نے اس لیے وہ چیز بطورِ ضمان کے رکھی ہوئی ہے، وہ اس کو نہیں دیتا استعمال کے لیے، تو اس کا وہ مرتہن کا حق جو تھا، وہ مانع تھا اس مرہون کے استعمال سے۔ فَإِذَا أَزَالَهُ، پس جب اس نے اپنے اس حق کو کیا کر دیا؟ دور کر دیا، زائل کر دیا، یعنی استعمال کی اجازت دے دی عَادَ حَقُّ الْمَالِكِ إِلَى أَصْلِهِ، تو مالک کا حق لوٹ ایا اپنی اصل کی طرف کہ اب وہ کیا کر سکتا ہے؟ اس کو استعمال کر سکتا ہے، تو یہ اب اس کو بطورِ ملک کے پہن رہا ہے۔ وَيُمْكِنُ أَنْ يَكُونَ بِطَرِيقِ الْعَارِيَةِ، اور ممکن ہے کہ یہ صرف عاریت کے طریقے پر ہو۔ کیوں؟ لِأَنَّهُ لَا تَظْهَرُ ثَمَرَةُ الْمِلْكِ فِيهِ، اس لیے کیونکہ اس کے اندر ملکیت کا ثمرہ ظاہر نہیں ہوگا بھئی، بااعتبارِ مالک ہم یوں کہیں، بااعتبارِ مالک ہونے کے نہیں پہن رہا، بلکہ صرف کس اعتبار سے پہن رہا ہے؟ جی؟ عاریت ہونے کے اعتبار سے پہن رہا ہے، کیونکہ اگر مالک ہونے کے اعتبار سے پہنتا، تو پھر تو کسی کو ہبہ بھی کر سکتا تھا، کسی کو بیچ بھی سکتا تھا، لیکن کیا کسی کو ہبہ کر سکتا ہے؟ کسی کو بیچ سکتا ہے؟ نہیں بھئی، کسی کو بیچ بھی نہیں سکتا، کسی کو ہبہ وغیرہ بھی نہیں کر... لِأَنَّهُ لَا تَظْهَرُ ثَمَرَةُ الْمِلْكِ فِيهِ، اس لیے کیونکہ اس میں ملکیت کا ثمرہ ظاہر نہیں ہوگا مِنَ الْبَيْعِ وَالْهِبَةِ وَغَيْرِهِ، یعنی کہ بیع، ہبہ وغیرہ بھئی، یہ نہیں کر سکتا اس میں۔ تو معلوم ہوا ملکیت کا ثمرہ اس میں ظاہر نہیں۔ یہاں تک بات سب کو سمجھ میں ا گئی بھئی؟ ثُمَّ شَرَعَ الْمُصَنِّفُ رَحِمَهُ اللَّهُ فِي تَفْرِيعَاتِ هَذِهِ الْمَسْأَلَةِ، پھر مصنف رحمہ اللہ شروع ہوئے اس مسئلہ کی تفریعات کے اندر فقال: پس فرمایا: حَتَّى قُلْنَا إِنَّ الْوَصِيَّةَ لِلْمَوَالِي لَا تَتَنَاوَلُ مَوَالِيَ الْمَوَالِي وَإِذَا كَانَ لَهُ مُعْتِقٌ وَاحِدٌ يَسْتَحِقُّ النِّصْفَ، دیکھیے بھئی، پہلے یہ مسئلہ سمجھ لیجیے۔ کہ لفظِ مولا، یہ مشترک ہے، معتِق کو بھی کہتے ہیں، معتَق کو بھی کہتے ہیں۔ معتِق: ازاد کرنے والا، معتَق: جس کو ازاد کیا گیا ہو۔ مثلاً بھئی، زید غلام تھا، اس کو اس کے مالک نے ازاد کر دیا، تو وہ جو مالک ہے، وہ زید کا کیا ہوا؟ معتِق، اسے بھی، وہ زید کا مولا ہے، کیونکہ معتِق کو کیا کہتے ہیں؟ مولا، اور زید اس مالک کا کیا ہوا؟ معتَق، تو زید اور معتَق کو بھی کیا کہتے ہیں؟ مولا کہتے ہیں، تو کہیں زید اس کا مولا ہے، عربی میں کہیں گے بھئی، ٹھیک ہے بھئی؟ تو مولا کا لفظ معتِق پر بھی استعمال ہوتا ہے اور معتَق پر بھی۔ تو وہ مالک زید کا مولا، اور زید وہ مالک کا مولا، لیکن معنی دونوں طرف الگ ہے، ایک طرف دیکھیں تو معنی کیا ہے مولا کا؟ معتِق، دوسری طرف دیکھیں تو معتَق ہے بھئی، بات سمجھ میں ا گئی بھئی؟ دونوں پر اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ اور بظاہر دیکھیے اور یہاں واسطہ بھی نہیں۔ اسی طرح معتِق تو ہے مثلاً بھئی، معتِق تو کیا ہوا؟ اس کا معنی حقیقی، اسی طرح معتَق بھی کیا ہے؟ اس کا معنی حقیقی، لفظِ مشترک ہے نا، مشترک کس کو کہتے ہیں؟ جس کو کئی معانی کے لیے وضع کیا گیا ہو، تو مولا کا لفظ معتِق کے لیے بھی وضع اور معتَق کے لیے بھی۔ اسی طرح اس لفظِ مولا کا اطلاق ہوتا ہے معتِق المعِتق پر بھی، معتِق المعِتق... معتِق کے معتِق پر! بھئی دیکھیے، زید فرض کرو، زید ایک شخص تھا، اس نے اپنا ایک غلام عمرو ازاد کیا۔ عمرو اگے مالدار ہو گیا، اس نے بکر کو خریدا اور اسے ازاد کر دیا۔ تو عمرو زید کا کون تھا؟ مولا، یعنی کیا تھا؟ معتَق، کیا تھا؟ زید نے اس کو ازاد کیا۔ اور پھر اس عمرو نے اگے کس کو ازاد کیا ہے؟ بکر کو، بکر کیا ہوا اس کا؟ بکر ہوا معتَق کس کا؟ عمرو کا، اور زید کا کیا ہوا؟ معتَق المعِتق، زید کے معتَق کا معتَق ہوا، اس کے ازاد کردہ کا ازاد کردہ ہوا۔ تو اب یاد رکھیے، پہلا ازاد کیا ہوا شخص کون ہے؟ عمرو، دوسرا ازاد کیا ہوا کون ہے؟ بکر۔ عمرو جو ہے، وہ بھی زید کا مولا ہے، یہ معتَق ہے اس کا، اور جو اگے بکر ہے، وہ بھی کیا ہے؟ اس کو بھی مولا کہیں گے، وہ مجازاً اس کو کہیں گے، جیسے بیٹے کو بیٹے کا حقیقی بیٹے پر اطلاق ہوتا ہے، اسی طرح پوتے پر بھی کیا ہوتا ہے؟ اطلاق، لیکن بیٹے پر ہوتا ہے کس اعتبار سے؟ حقیقت، معنی حقیقی ہونے کے اعتبار سے، اور پوتے پر مجازاً اس اطلاق ہوتا ہے بھئی، اسی طرح معتَق تو جو ہے، اس پر اطلاق ہے مولا کا کس اعتبار سے؟ یہ اس کا معنی حقیقی ہے، اور معتَق المعِتق پر بھی اطلاق ہوتا ہے یہ مولا ہے، یہ کس اعتبار سے؟ یہ اس کا مجازی معنی ہے، بات سمجھ میں ا گئی؟ اسی طرح معتِق کے اندر بھی بھئی، معتِق مثلاً بھئی، بکر کا معتِق کون ہے؟ عمرو، تو یہ اس کا مولا ہے، یہ اس کا معنی حقیقی ہے، اور معتِق المعِتق کو بھی کیا کہہ دیتے ہیں؟ مولا، یعنی بکر کا کے لیے زید بھی کیا ہے؟ مولا، لیکن کون سا معنی ہے یہ مولا کا؟ مجاز، کیونکہ معتِق یا معتَق جب بغیر واسطے کے ہوں، تو پھر تو یہ کیا کہلائی... یہ معنی حقیقی، اور اگر معتِق المعِتق یا معتَق المعِتق، یہ کیا ہے؟ معنی مجازی ہے، درمیان میں واسطہ ا گیا۔ سب کو بات سمجھ میں ا گئی بھئی؟ اچھا، اب یاد رکھیے، ایک شخص نے وصیت کی کہ میرے مرنے کے بعد اتنا مال میرے موالی کو دے دینا، کس کو دے دینا؟ میرے موالی کو، اور اس شخص کے معتِق بھی ہیں جنہوں نے اسے ازاد کیا تھا، اور اس کے معتَق بھی ہیں جن کو اس نے کیا کیا اگے؟ ازاد کیا ہے، تو کہتے ہیں: یاد رکھیے، اس صورت میں یہ وصیت باطل ہو جائے گی، کیونکہ مولا کا لفظ مولا کا لفظ ہے، اس کا اطلاق معتِق پر بھی ہوتا ہے، معتَق پر بھی ہوتا ہے، یہ مشترک لفظ ہے، دونوں معانی کے لیے وضع ہے، اور یہاں پر اس نے کیا کہا: میرے موالی کو اتنے لاکھ روپیہ دے دینا، اس کے معتِق بھی موجود ہیں، معتَق بھی موجود ہیں مولانا! اب کسی ایک کو بھی ترجیح نہیں دی جا سکتی، کسی ایک کو بھی ترجیح نہیں... اس نے کس کا ارادہ کیا؟ یہ تو معتِق کو بھی کہتے ہیں، یہ تو معتَق کو بھی کہتے ہیں، تو اپ کے ذہن میں اشکال ائے گا، بھئی چلو، دونوں میں تقسیم کر دو، نہیں مولانا! اپ پڑھ چکے ہیں عمومِ مشترک ہمارے نزدیک جائز نہیں ہے، عمومِ مشترک نہیں جائز بھئی، دینا ایک ہی کو پڑے گا، اور ترجیح کی کوئی صورت نہیں، لہذا وصیت کیا ہو جائے گی؟ باطل ہو جائے گی۔ اچھا، دوسری صورت مولانا! ایک شخص نے وصیت کی بھئی کہ یہ مال میرے مرنے کے بعد میرے موالی کو دے دینا، اب اس شخص کے موالی بھی ہیں اور موالی الموالی بھی ہیں، یعنی معتَق... متن میں جس میں ذکر ہے، مثلاً معتَق کا ہے، معتِق میں بھی یہی صورت بنے گی، یعنی معتَق کی صورت بناؤ، معتَق بھی ہے اس کا اور معتَق المعِتق بھی ہے۔ اب معتَق کیا ہے؟ معنی حقیقی، اور معتَق المعِتق کیا ہے؟ معنی مجازی ہے، معنی مجازی ہے۔ تو لہذا جب سب سے پہلے کیا کیا جائے گا؟ جب تک حقیقی معنی پر عمل ممکن ہو، مجاز کی طرف ہم نہیں جائیں گے، لہذا یہ مال کس کو دے دیا جائے گا؟ معتَق کو دیا جائے گا، کیونکہ یہ ہے معنی حقیقی، اور مجاز کی طرف ہم نہیں جائیں گے، یعنی معتَق المعِتق کی طرف نہیں جائیں گے، وہ مراد نہیں ہے، مسئلہ سمجھ میں ا گیا بھئی؟ ان کو کچھ نہیں ملے گا۔ اب دیکھیے، اس نے لفظ استعمال کیا تھا موالی، جمع کا لفظ مولانا! تو لہذا اس نے کہا تھا، مثلاً میرے مرنے کے بعد ایک لاکھ روپیہ میرے موالی کو دے دینا، ایک لاکھ روپیہ، اور جمع کا اطلاق کم از کم کتنے پر ہوتا ہے؟ تین، لیکن یہ باب ہے وصیت کا، اور وراثت اور وصیت کے باب میں اپ نے پڑھا ہے جمع کے اقل افراد کتنے ہیں؟ دو، لہذا یہ سارے پیسے اگر وہ موالی کم از کم دو ہوں، تو ان کو دے دیے جائیں گے، ان دونوں میں تقسیم ہوں گے، تین ہوں، چار ہوں، پانچ ہوں، ان ساروں میں کیا کر دیے جائیں گے؟ تقسیم، لیکن اگر صرف ایک ہی معتَق ہے، پھر کیا کیا جائے گا؟ کہتے ہیں: پھر سارا مال نہیں دیں گے، کیونکہ اس نے لفظ کیا استعمال کیا تھا؟ موالی، تو سارا مال کم از کم کتنوں کو دینا ہے؟ دو کو، تو لہذا ایک کو کتنا دے دیں گے؟ ادھا دے دیں گے، بس بھئی! باقی وارثوں کو دے دیا جائے گا۔ صورت سمجھ میں ا گئی؟ حَتَّى قُلْنَا إِنَّ الْوَصِيَّةَ لِلْمَوَالِي، یہاں تک کہ ہم نے کہا کہ وصیت کرنا موالی کے لیے لَا تَتَنَاوَلُ مَوَالِيَ الْمَوَالِي، یہ موالی الموالی کو شامل نہیں ہوگی، یعنی معتَق المعِتق کو شامل نہیں۔ وَإِذَا كَانَ لَهُ مُعْتِقٌ وَاحِدٌ، اور اگر اس کا ایک ہی معتَق تھا يَسْتَحِقُّ النِّصْفَ، تو صرف کتنے کا مستحق ہوگا؟ ادھے کا، کیونکہ اس نے لفظ جمع کا استعمال کیا ہے۔ تو دیکھو، یہ ایک محسوس چیز ہے، ایک شخص نے ایک لباس پہنا ہوا ہو، یہ ایک محسوس چیز ہے۔ تو، اس کے ساتھ تشبیہ دے کر وہی اوپر والی بات سمجھا رہے ہیں۔ فقال: پس، مصنف فرماتے ہیں: كَمَا مُسْتَحَالٌ أَنْ يَكُونَ الثَّوْبُ الْوَاحِدُ عَلَى اللَّابِسِ مِلْكًا وَعَارِيَةً فِي زَمَانٍ وَاحِدٍ، پس مصنف فرماتے ہیں: جیسے کہ محال ہے کہ ایک ہی کپڑا ایک شخص پر ہو بطورِ ملک کے بھی اور بطورِ عاریت کے بھی فی زمانٍ واحدٍ، ایک ہی زمانے کے اندر۔ یعنی أَنَّ اللَّفْظَ لِلْمَعْنَى بِمَنْزِلَةِ اللِّبَاسِ لِلشَّخْصِ، کہ لفظ جو ہے، معنی کے لیے کس کے درجے میں ہے؟ لباس، کسی شخص کے لیے جیسے ہوتا ہے، اسی درجے میں ہے۔ یعنی معنی ہوا شخص اور لفظ کیا ہوا؟ بھئی، جیسے ایک شخص ایک لباس پہن لیتا ہے، اسی طرح اس معنی کو بھی ہم کس چیز کا لباس پہنا دیتے ہیں؟ لفظ کا، کس کا؟ لفظ کا۔ تو لفظ جو ہے، وہ لباس کی طرح اور معنی کس کی طرح؟ شخص کی طرح۔ وَالْمَجَازُ كَالثَّوْبِ الْمُسْتَعَارِ، اور مجاز کس کی طرح ہے؟ ثوبِ مستعار، مانگے ہوئے کپڑے کی طرح۔ وَالْحَقِيقَةُ كَالثَّوْبِ الْمَمْلُوكِ، اور حقیقت کس کی طرح ہے؟ ثوبِ مملوک کی طرح ہے۔ فَكَمَا أَنَّ اسْتِعْمَالَ الثَّوْبِ الْوَاحِدِ فِي حَالَةٍ وَاحِدَةٍ بِطَرِيقِ الْمِلْكِ وَالْعَارِيَةِ جَمِيعًا مَحَالٌ، محال محال بھئی! اردو میں محال استعمال ہے، شائع اور رائج ہے، مولانا! اگرچہ صحیح لفظ مُحال ہے، عربی میں مُحال ہے۔ پس جیسے کہ ایک ہی کپڑے کا استعمال کرنا ایک ہی حالت کے اندر ملکیت کے طریقے پر بھی اور عاریت کے طریقے پر دونوں پر مح محال ہے، یہ کیا ہے؟ محال ہے۔ كَذَلِكَ اسْتِعْمَالُ اللَّفْظِ الْوَاحِدِ بِطَرِيقِ الْحَقِيقَةِ وَالْمَجَازِ مَحَالٌ، اسی طرح بھئی، ایک ہی لفظ کو استعمال کرنا حقیقت اور مجاز کے طریقے پر، یہ بھی محال ہے۔ وَالْأَوْضَحُ فِي الْمِثَالِ، اور زیادہ واضح مثال کے اندر أَنْ يَقُولَ، کہ مصنف یوں فرماتے۔ جی، اب شارح فرما رہے ہیں زیادہ واضح بات تھی کہ یوں فرماتے بھئی، شارح۔ دیکھیے، مصنف نے کیا کیا؟ لباس تو ایک ہی ہے، ٹھیک ہے بھئی؟ یہاں بھی بات ہو رہی ہے لفظ ایک ہو اور استعمال کتنے میں ہو؟ معنی موضوع لہ میں بھی ہو اور معنی... تو معنی کتنے ہوئے؟ دو، اور معنی کو کس کے ساتھ تشبیہ دی ہے؟ شخص کے ساتھ، تو شخص کتنے ذکر ہونے چاہیے تھے؟ دو ذکر ہونے چاہیے تھے، بات سمجھ میں آ گئی؟ لہذا اپ کہیں گے کہ وَالْأَوْضَحُ فِي الْمِثَالِ، زیادہ واضح مثال کے اندر أَنْ يَقُولَ، کہ مصنف یوں فرماتے: كَمَا مُسْتَحَالٌ، جیسے کہ محال ہے أَنْ يَلْبَسَ الثَّوْبَ الْوَاحِدَ اللَّابِسَانِ، کہ پہنیں ایک ہی کپڑے کو دو پہننے والے، کیونکہ لابِس کون ہے؟ وہ معنی ہے بھئی۔ أَحَدُهُمَا بِطَرِيقِ الْمِلْكِ، ایک ملکیت کے طریقے پر وَالْآخَرُ بِطَرِيقِ الْعَارِيَةِ، اور دوسرا عاریت، ایک ان دو پہننے والے ایک ہی کپڑے کو پہنیں مستقلاً، ایک پہنے کس طریقے پر؟ ملکیت کے طریقے پر، اور دوسرا کس طریقے پر؟ عاریت کے طریقے پر۔ تو یوں کہنا چاہیے تھا: لِيَكُونَ اللَّفْظُ بِمَنْزِلَةِ اللِّبَاسِ، تاکہ لفظ جو ہے، لباس کے درجے میں ہو جاتا وَالْمَعْنَيَانِ بِمَنْزِلَةِ اللَّابِسَيْنِ، اور دونوں معنی کس درجے میں ہو جاتے؟ لابِسین، وہ دو پہننے والوں کی طرح ہوتے وَالْحَقِيقَةُ وَالْمَجَازُ بِمَنْزِلَةِ الْمِلْكِ وَالْعَارِيَةِ، اور حقیقت اور مجاز ملک اور عاریت کے درجے میں ہوتے۔ وَلَا يُقَالُ إِنَّ الرَّاهِنَ إِذَا اسْتَعَارَ الثَّوْبَ الْمَرْهُونَ مِنَ الْمُرْتَهِنِ، جی، یہاں سے ایک اعتراض اور اس کا جواب ذکر کریں گے۔ ماتن نے کیا کہا بھئی؟ کہ محال ہے ایک ہی کپڑے کو ایک شخص بااعتبارِ ایک ایک شخص ایک ہی زمانے کے اندر ملکیت اور عاریت دونوں کے اعتبار سے پہنے، یہ ہونا یا تو ملک کے طریقے پر پہنے گا، مالک ہوگا اس کا، یا کس طریقے پر پہنے گا؟ عاریت کے طریقے پر پہنے گا۔ اس پر اشکال ہوا بھئی کہ بھئی، رہن جانتے ہیں یا نہیں بھئی؟ کسی کے پاس کوئی چیز گروی رکھوانا۔ اپ نے ایک شخص کا دین دینا ہے، وہ کہتا ہے اپ کو کہ بھئی، میرے پاس کوئی چیز گروی رکھواؤ بطورِ ضمانت کے، اپ اپنی کوئی چیز اس کے پاس گروی رکھوا دیتے ہیں، اس کو کہتے ہیں رہن بھئی۔ اب وہ چیز اپ کی اس کے ضمان میں ہے، مثلاً بھئی، لباس تھا بھئی، لباس اپ نے اپنے کپڑے اس کے پاس بطورِ رہن کے رکھوا دیے۔ بعد میں اپ کو کوئی ضرورت پیش ائی، اپ نے اس سے کہا بھئی، کہ مجھے فلاں جگہ جانا ہے، اپ کی مہربانی ہوگی ایک دن کے لیے مجھے وہ جو کپڑے اپ کے پاس رکھے ہوئے ہیں بطورِ رہن کے، ایک دن کے لیے دے دیں۔ وہ بھی اچھا، نیک ادمی تھا، کوئی تبلیغی تھا بھئی، اس نے وہ کپڑے اپ کو دے دیے بھئی۔ اپ نے اب وہ کپڑے پہن لیے، کہتے ہیں: دیکھیے بھئی، اپ نے یہ کپڑے ملکیت کے طریقے پر بھی پہنے ہیں، کیونکہ مالک اپ ہیں، اور عاریت کے طریقے پر بھی پہنے ہیں بھئی، اپ نے کس سے عاریتاً لیے ہیں؟ راہن سے بطورِ... مرتہن سے، مرتہن سے اپ نے بطورِ عاریت کے لیے ہیں بھئی۔ چنانچہ اپ کے لیے، مولانا! یہ کپڑے کسی کو ہبہ کرنا یا بیچنا وغیرہ جائز نہیں، تو دیکھو، یہ اب کپڑے اپ نے پہنے ہیں ملک کے طریقے پر بھی اور عاریت... اشکال سمجھ میں ایا؟ اپ نے تو کہا تھا محال ہے، ہم نے اپنی مثال میں واضح کر دیا کہ یہ محال نہیں، ہو سکتے ہیں۔ کہتے ہیں: وَلَا يُقَالُ، اور یہ نہ کہا جائے کہ إِنَّ الرَّاهِنَ إِذَا اسْتَعَارَ الثَّوْبَ الْمَرْهُونَ مِنَ الْمُرْتَهِنِ، کہ راہن جب وہ عاریتاً لے لے وہ مرہون رکھے ہوئے کپڑے، وہ مرہون کپڑے مِنَ الْمُرْتَهِنِ، کس سے؟ مرتہن سے وَلَبِسَهُ هُوَ، اور اس کو پہن لے يَصْدُقُ عَلَيْهِ، تو اس پر یہ بات صادق اتی ہے أَنَّهُ لَبِسَهُ بِطَرِيقِ الْمِلْكِ وَالْعَارِيَةِ جَمِيعًا، کہ اس نے ان کو پہنا ہوا ہے ملکیت اور عاریت دونوں کے طریقے پر۔ جواب دے رہے ہیں، کہتے ہیں: لِأَنَّنَا نَقُولُ، اس لیے کیونکہ ہم یہ کہتے ہیں، اب جواب دے رہے ہیں: إِنَّ لُبْسَهُ هَذَا لَيْسَ بِطَرِيقِ الْعَارِيَةِ، کہ اس کا یہ پہننا یہ عاریت کے طریقے پر نہیں ہے، بلکہ یہ کس طریقے پر ہے؟ ملکیت کے طریقے پر ہے، عاریت کے طریقے پر نہیں ہے۔ کہتے ہیں: لِأَنَّ الْمُرْتَهِنَ لَمْ يَتَمَلَّكِ الثَّوْبَ، اس لیے کیونکہ مرتہن وہ مالک نہیں بنا کپڑے کا، وہ مالک نہیں بنا بھئی۔ بھئی، ہم نے چیز اس کے پاس گروی رکھوائی تھی، تو کیا گروی رکھوانے سے وہ مالک بن گیا تھا ان کپڑوں کا؟ جب مالک نہیں بنا، تو مالک اب بھی کون ہے؟ راہن ہی مالک ہے، تو یہ جو کپڑے اب وہ پہن رہا ہے، کس اعتبار سے پہن رہا ہے؟ مالک ہونے کے اعتبار سے پہن رہا ہے، عاریت ہونے کے اعتبار سے نہیں۔ لِأَنَّ الْمُرْتَهِنَ لَمْ يَتَمَلَّكِ الثَّوْبَ، اس لیے کیونکہ مرتہن جو ہے، وہ کپڑے کا مالک نہیں ہوا حَتَّى يُعِيرَهُ الرَّاهِنَ، یہاں تک کہ وہ راہن کو وہ عاریتاً دیتا کپڑا وَلَكِنَّهُ بِطَرِيقِ الْمِلْكِ، مگر یہ کس طریقے پر ہے؟ ملک کے طریقے پر ہے لِأَنَّ حَقَّ الْمُرْتَهِنِ كَانَ مَانِعًا، اس لیے کیونکہ مرتہن کا حق جو تھا، مانع تھا اس چیز کے استعمال سے۔ وہ اس کو استعمال کیوں نہیں کر سکتا تھا کپڑے کو؟ کیونکہ مرتہن کا حق کیا تھا؟ مانع تھا، اس نے مرتہن کا دین دینا ہے، مرتہن نے اس لیے وہ چیز بطورِ ضمان کے رکھی ہوئی ہے، وہ اس کو نہیں دیتا استعمال کے لیے، تو اس کا وہ مرتہن کا حق جو تھا، وہ مانع تھا اس مرہون کے استعمال سے۔ فَإِذَا أَزَالَهُ، پس جب اس نے اپنے اس حق کو کیا کر دیا؟ دور کر دیا، زائل کر دیا، یعنی استعمال کی اجازت دے دی عَادَ حَقُّ الْمَالِكِ إِلَى أَصْلِهِ، تو مالک کا حق لوٹ ایا اپنی اصل کی طرف کہ اب وہ کیا کر سکتا ہے؟ اس کو استعمال کر سکتا ہے، تو یہ اب اس کو بطورِ ملک کے پہن رہا ہے۔ وَيُمْكِنُ أَنْ يَكُونَ بِطَرِيقِ الْعَارِيَةِ، اور ممکن ہے کہ یہ صرف عاریت کے طریقے پر ہو۔ کیوں؟ لِأَنَّهُ لَا تَظْهَرُ ثَمَرَةُ الْمِلْكِ فِيهِ، اس لیے کیونکہ اس کے اندر ملکیت کا ثمرہ ظاہر نہیں ہوگا بھئی، بااعتبارِ مالک ہم یوں کہیں، بااعتبارِ مالک ہونے کے نہیں پہن رہا، بلکہ صرف کس اعتبار سے پہن رہا ہے؟ جی؟ عاریت ہونے کے اعتبار سے پہن رہا ہے، کیونکہ اگر مالک ہونے کے اعتبار سے پہنتا، تو پھر تو کسی کو ہبہ بھی کر سکتا تھا، کسی کو بیچ بھی سکتا تھا، لیکن کیا کسی کو ہبہ کر سکتا ہے؟ کسی کو بیچ سکتا ہے؟ نہیں بھئی، کسی کو بیچ بھی نہیں سکتا، کسی کو ہبہ وغیرہ بھی نہیں کر... لِأَنَّهُ لَا تَظْهَرُ ثَمَرَةُ الْمِلْكِ فِيهِ، اس لیے کیونکہ اس میں ملکیت کا ثمرہ ظاہر نہیں ہوگا مِنَ الْبَيْعِ وَالْهِبَةِ وَغَيْرِهِ، یعنی کہ بیع، ہبہ وغیرہ بھئی، یہ نہیں کر سکتا اس میں۔ تو معلوم ہوا ملکیت کا ثمرہ اس میں ظاہر نہیں۔ یہاں تک بات سب کو سمجھ میں ا گئی بھئی؟ ثُمَّ شَرَعَ الْمُصَنِّفُ رَحِمَهُ اللَّهُ فِي تَفْرِيعَاتِ هَذِهِ الْمَسْأَلَةِ، پھر مصنف رحمہ اللہ شروع ہوئے اس مسئلہ کی تفریعات کے اندر فقال: پس فرمایا: حَتَّى قُلْنَا إِنَّ الْوَصِيَّةَ لِلْمَوَالِي لَا تَتَنَاوَلُ مَوَالِيَ الْمَوَالِي وَإِذَا كَانَ لَهُ مُعْتِقٌ وَاحِدٌ يَسْتَحِقُّ النِّصْفَ، دیکھیے بھئی، پہلے یہ مسئلہ سمجھ لیجیے۔ کہ لفظِ مولا، یہ مشترک ہے، معتِق کو بھی کہتے ہیں، معتَق کو بھی کہتے ہیں۔ معتِق: ازاد کرنے والا، معتَق: جس کو ازاد کیا گیا ہو۔ مثلاً بھئی، زید غلام تھا، اس کو اس کے مالک نے ازاد کر دیا، تو وہ جو مالک ہے، وہ زید کا کیا ہوا؟ معتِق، اسے بھی، وہ زید کا مولا ہے، کیونکہ معتِق کو کیا کہتے ہیں؟ مولا، اور زید اس مالک کا کیا ہوا؟ معتَق، تو زید اور معتَق کو بھی کیا کہتے ہیں؟ مولا کہتے ہیں، تو کہیں زید اس کا مولا ہے، عربی میں کہیں گے بھئی، ٹھیک ہے بھئی؟ تو مولا کا لفظ معتِق پر بھی استعمال ہوتا ہے اور معتَق پر بھی۔ تو وہ مالک زید کا مولا، اور زید وہ مالک کا مولا، لیکن معنی دونوں طرف الگ ہے، ایک طرف دیکھیں تو معنی کیا ہے مولا کا؟ معتِق، دوسری طرف دیکھیں تو معتَق ہے بھئی، بات سمجھ میں ا گئی بھئی؟ دونوں پر اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ اور بظاہر دیکھیے اور یہاں واسطہ بھی نہیں۔ اسی طرح معتِق تو ہے مثلاً بھئی، معتِق تو کیا ہوا؟ اس کا معنی حقیقی، اسی طرح معتَق بھی کیا ہے؟ اس کا معنی حقیقی، لفظِ مشترک ہے نا، مشترک کس کو کہتے ہیں؟ جس کو کئی معانی کے لیے وضع کیا گیا ہو، تو مولا کا لفظ معتِق کے لیے بھی وضع اور معتَق کے لیے بھی۔ اسی طرح اس لفظِ مولا کا اطلاق ہوتا ہے معتِق المعِتق پر بھی، معتِق المعِتق... معتِق کے معتِق پر! بھئی دیکھیے، زید فرض کرو، زید ایک شخص تھا، اس نے اپنا ایک غلام عمرو ازاد کیا۔ عمرو اگے مالدار ہو گیا، اس نے بکر کو خریدا اور اسے ازاد کر دیا۔ تو عمرو زید کا کون تھا؟ مولا، یعنی کیا تھا؟ معتَق، کیا تھا؟ زید نے اس کو ازاد کیا۔ اور پھر اس عمرو نے اگے کس کو ازاد کیا ہے؟ بکر کو، بکر کیا ہوا اس کا؟ بکر ہوا معتَق کس کا؟ عمرو کا، اور زید کا کیا ہوا؟ معتَق المعِتق، زید کے معتَق کا معتَق ہوا، اس کے ازاد کردہ کا ازاد کردہ ہوا۔ تو اب یاد رکھیے، پہلا ازاد کیا ہوا شخص کون ہے؟ عمرو، دوسرا ازاد کیا ہوا کون ہے؟ بکر۔ عمرو جو ہے، وہ بھی زید کا مولا ہے، یہ معتَق ہے اس کا، اور جو اگے بکر ہے، وہ بھی کیا ہے؟ اس کو بھی مولا کہیں گے، وہ مجازاً اس کو کہیں گے، جیسے بیٹے کو بیٹے کا حقیقی بیٹے پر اطلاق ہوتا ہے، اسی طرح پوتے پر بھی کیا ہوتا ہے؟ اطلاق، لیکن بیٹے پر ہوتا ہے کس اعتبار سے؟ حقیقت، معنی حقیقی ہونے کے اعتبار سے، اور پوتے پر مجازاً اس اطلاق ہوتا ہے بھئی، اسی طرح معتَق تو جو ہے، اس پر اطلاق ہے مولا کا کس اعتبار سے؟ یہ اس کا معنی حقیقی ہے، اور معتَق المعِتق پر بھی اطلاق ہوتا ہے یہ مولا ہے، یہ کس اعتبار سے؟ یہ اس کا مجازی معنی ہے، بات سمجھ میں ا گئی؟ اسی طرح معتِق کے اندر بھی بھئی، معتِق مثلاً بھئی، بکر کا معتِق کون ہے؟ عمرو، تو یہ اس کا مولا ہے، یہ اس کا معنی حقیقی ہے، اور معتِق المعِتق کو بھی کیا کہہ دیتے ہیں؟ مولا، یعنی بکر کا کے لیے زید بھی کیا ہے؟ مولا، لیکن کون سا معنی ہے یہ مولا کا؟ مجاز، کیونکہ معتِق یا معتَق جب بغیر واسطے کے ہوں، تو پھر تو یہ کیا کہلائی... یہ معنی حقیقی، اور اگر معتِق المعِتق یا معتَق المعِتق، یہ کیا ہے؟ معنی مجازی ہے، درمیان میں واسطہ ا گیا۔ سب کو بات سمجھ میں ا گئی بھئی؟ اچھا، اب یاد رکھیے، ایک شخص نے وصیت کی کہ میرے مرنے کے بعد اتنا مال میرے موالی کو دے دینا، کس کو دے دینا؟ میرے موالی کو، اور اس شخص کے معتِق بھی ہیں جنہوں نے اسے ازاد کیا تھا، اور اس کے معتَق بھی ہیں جن کو اس نے کیا کیا اگے؟ ازاد کیا ہے، تو کہتے ہیں: یاد رکھیے، اس صورت میں یہ وصیت باطل ہو جائے گی، کیونکہ مولا کا لفظ مولا کا لفظ ہے، اس کا اطلاق معتِق پر بھی ہوتا ہے، معتَق پر بھی ہوتا ہے، یہ مشترک لفظ ہے، دونوں معانی کے لیے وضع ہے، اور یہاں پر اس نے کیا کہا: میرے موالی کو اتنے لاکھ روپیہ دے دینا، اس کے معتِق بھی موجود ہیں، معتَق بھی موجود ہیں مولانا! اب کسی ایک کو بھی ترجیح نہیں دی جا سکتی، کسی ایک کو بھی ترجیح نہیں... اس نے کس کا ارادہ کیا؟ یہ تو معتِق کو بھی کہتے ہیں، یہ تو معتَق کو بھی کہتے ہیں، تو اپ کے ذہن میں اشکال ائے گا، بھئی چلو، دونوں میں تقسیم کر دو، نہیں مولانا! اپ پڑھ چکے ہیں عمومِ مشترک ہمارے نزدیک جائز نہیں ہے، عمومِ مشترک نہیں جائز بھئی، دینا ایک ہی کو پڑے گا، اور ترجیح کی کوئی صورت نہیں، لہذا وصیت کیا ہو جائے گی؟ باطل ہو جائے گی۔ اچھا، دوسری صورت مولانا! ایک شخص نے وصیت کی بھئی کہ یہ مال میرے مرنے کے بعد میرے موالی کو دے دینا، اب اس شخص کے موالی بھی ہیں اور موالی الموالی بھی ہیں، یعنی معتَق... متن میں جس میں ذکر ہے، مثلاً معتَق کا ہے، معتِق میں بھی یہی صورت بنے گی، یعنی معتَق کی صورت بناؤ، معتَق بھی ہے اس کا اور معتَق المعِتق بھی ہے۔ اب معتَق کیا ہے؟ معنی حقیقی، اور معتَق المعِتق کیا ہے؟ معنی مجازی ہے، معنی مجازی ہے۔ تو لہذا جب سب سے پہلے کیا کیا جائے گا؟ جب تک حقیقی معنی پر عمل ممکن ہو، مجاز کی طرف ہم نہیں جائیں گے، لہذا یہ مال کس کو دے دیا جائے گا؟ معتَق کو دیا جائے گا، کیونکہ یہ ہے معنی حقیقی، اور مجاز کی طرف ہم نہیں جائیں گے، یعنی معتَق المعِتق کی طرف نہیں جائیں گے، وہ مراد نہیں ہے، مسئلہ سمجھ میں ا گیا بھئی؟ ان کو کچھ نہیں ملے گا۔ اب دیکھیے، اس نے لفظ استعمال کیا تھا موالی، جمع کا لفظ مولانا! تو لہذا اس نے کہا تھا، مثلاً میرے مرنے کے بعد ایک لاکھ روپیہ میرے موالی کو دے دینا، ایک لاکھ روپیہ، اور جمع کا اطلاق کم از کم کتنے پر ہوتا ہے؟ تین، لیکن یہ باب ہے وصیت کا، اور وراثت اور وصیت کے باب میں اپ نے پڑھا ہے جمع کے اقل افراد کتنے ہیں؟ دو، لہذا یہ سارے پیسے اگر وہ موالی کم از کم دو ہوں، تو ان کو دے دیے جائیں گے، ان دونوں میں تقسیم ہوں گے، تین ہوں، چار ہوں، پانچ ہوں، ان ساروں میں کیا کر دیے جائیں گے؟ تقسیم، لیکن اگر صرف ایک ہی معتَق ہے، پھر کیا کیا جائے گا؟ کہتے ہیں: پھر سارا مال نہیں دیں گے، کیونکہ اس نے لفظ کیا استعمال کیا تھا؟ موالی، تو سارا مال کم از کم کتنوں کو دینا ہے؟ دو کو، تو لہذا ایک کو کتنا دے دیں گے؟ ادھا دے دیں گے، بس بھئی! باقی وارثوں کو دے دیا جائے گا۔ صورت سمجھ میں ا گئی؟ حَتَّى قُلْنَا إِنَّ الْوَصِيَّةَ لِلْمَوَالِي، یہاں تک کہ ہم نے کہا کہ وصیت کرنا موالی کے لیے لَا تَتَنَاوَلُ مَوَالِيَ الْمَوَالِي، یہ موالی الموالی کو شامل نہیں ہوگی، یعنی معتَق المعِتق کو شامل نہیں۔ وَإِذَا كَانَ لَهُ مُعْتِقٌ وَاحِدٌ، اور اگر اس کا ایک ہی معتَق تھا يَسْتَحِقُّ النِّصْفَ، تو صرف کتنے کا مستحق ہوگا؟ ادھے کا، کیونکہ اس نے لفظ جمع کا استعمال کیا ہے۔ نیچے کی طرف اولاد اور اولاد کی اولاد، تو یہاں پر بھی مولانا اس نے لفظ بیٹے ذکر کیا اور یہ اس اس کا مجازی ایسا مجازی معنیٰ لے لو کہ حقیقی حقیقی معنیٰ بھی اس کا ایک فرد بن جائے، تو کیا معنیٰ لے لیا بنا کس معنیٰ میں لے لیا؟ فروع کے معنیٰ میں، کس کے معنیٰ میں؟ فروع کے معنیٰ میں اور اب دیکھیے پوتے بھی فروع ہیں، بیٹے بھی فروع ہیں، تو دیکھو حقیقی معنیٰ بھی کیا ہوا اس مجازی معنیٰ کے اندر؟ داخل ہو گیا۔ ولا يراد اللمس باليد في قوله تعالى: أو لامستم النساء اور اللمس باليد مراد نہیں ہو گا، ہاتھ سے چھونا مراد نہیں ہو گا اللہ تعالیٰ کے اس قول کے اندر: أو لامستم النساء۔ بھئی دیکھیے قرآن میں اللہ تعالیٰ فرما فرماتے ہیں: أو لامستم النساء يا تم عورتوں کو اس کے ساتھ ملامست کر لو فالم تجدوا ماءً پس تم پانی نہ پاؤ فتيمموا صعيداً طيباً تو کیا کرو؟ پاک مٹی سے تیمم کر لو، پاک مٹی۔ اچھا بھئی، اب دیکھیے یہاں لامستم آیا بھئی، اب اس لامستم کا کیا معنیٰ ہے؟ اس کا حقیقی معنیٰ تو ہے لمس باليد۔ کیا معنیٰ ہے؟ ہاتھ سے چھونا، ہاتھ سے چھونا یہ حقیقی معنیٰ اور ایک اس کا مجازی معنیٰ ہے اور وہ ہے صحبت کرنا۔ تو حقیقی معنیٰ کیا ہوا؟ لمس باليد ہاتھ سے چھونا اور مجازی معنیٰ کیا ہوا؟ صحبت کرنا۔ تو ہمارے نزدیک یہاں صحبت مراد ہے، ہاتھ سے چھونا مراد نہیں، لہٰذا صحبت کرے انسان اور پھر اس کے بعد اسے پانی نہ ملے، جنابت کی حالت میں ہے تو اس صورت میں کیا کر لے؟ تیمم کر لے۔ تو اس آیت سے جنابت کی وجہ سے بھی تیمم کیا جا سکتا ہے اس حکم کا پتہ لگا بھئی، کس حکم کا پتہ لگا؟ کہ جیسے حدث اصغر کے اندر تیمم کیا ہے؟ اس سے پاکی حاصل ہو جاتی ہے، اسی طرح حدث اکبر کے اندر بھی تیمم سے پاکی حاصل ہو جاتی ہے بھئی۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک بھئی وہ کہتے ہیں کہ صحبت کی صورت میں بھی صحبت والا معنیٰ بھی مراد ہے اور لمس باليد بھی یہاں مراد ہے، حقیقی معنیٰ بھی مراد ہے اور مجازی معنیٰ بھی مراد ہے، مجازی معنیٰ۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ چنانچہ یہ ان کے ہاں مشکل مسائل میں سے ہیں مولانا، عورت کو ہاتھ لگ گیا تو بس وضو ٹوٹ گیا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو احناف کے مذہب میں یہاں بڑی سہولت ہے، بڑی سہولت ہے مولانا۔ ہاتھ لگتے ہی فوراً وضو ٹوٹ گیا، بھئی میاں بیوی ہے ویسے ہی ہاتھ کوئی چیز پکڑاتے ہوئے یہ لو یہ پکڑو ہاتھ لگ گیا بس بھئی وضو ٹوٹ گیا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ ان کے لیے ان کے احناف کے مسلک میں اس سلسلے میں بڑی سہولت اور بڑی آسانی ہے، خصوصاً پھر حج کے دنوں میں بڑی تکلیف کا باعث ہوتا ہے ان کے لیے مولانا، ان کی عورتیں پھر ہاتھوں پر دستانے پہن کر رکھتی ہیں بھئی، ویسے پردہ کیا ہوا ہے ہاتھوں پر بھی دستانے پہنے ہوئے اور پاؤں پر بھی جرابیں پہنی ہوئی ہیں بھئی تا کہ کسی کو ہاتھ نہ لگے اس کا وضو نہ ٹوٹ جائے۔ سمجھ میں آیا؟ وہاں تو بڑا مشکل ہوتا ہے وضو ٹوٹ جائے بھئی، جتنی بھی سہولتیں دے دیں حکومت نے سعودی حکومت نے حاجیوں کی بے انتہا خدمت کی ہوئی اور یقیناً یقیناً یہ ان کے بادشاہوں کے لیے مغفرت کا باعث ہو گا بھئی، جو کچھ بھی وہ اگرچہ اپنے اوپر بھی خوب خرچ کرتے ہیں لیکن حاجیوں کی انہوں نے حد سے بڑھ کر خدمت کی ہے بھئی، بڑی خدمات ہیں ان کی بھئی۔ تو بیس پچیس پچیس تیس لاکھ کا مجمع ہوتا ہے مولانا، جتنی بھی سہولتیں دے دی جائیں پھر بھی وضو اگر ٹوٹ گیا پھر وضو کرنا مسئلہ ہوتا ہے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ حضرت شیخ رحمہ اللہ فرماتے تھے ایک مرتبہ درس میں انہوں نے طلباء سے، کہتے ہیں ایک مرتبہ میں عرب میں تھا ایک شخص میرے پاس آیا، کہتا ہے میں حنفی بننا چاہتا ہوں کیا طریقہ ہے بھئی؟ میں نے کہا کیوں بھئی حنفی کیوں بننا چاہتے ہو؟ کہتا ہے میں شافعی ہوں شافعی ہوں اور ہمارے مسلک میں عورت کو ہاتھ لگ جائے تو وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ تو میری نئی نئی شادی ہوئی ہے وہ تو بیوی کو بار بار ہاتھ لگتا ہے بھئی بار بار وضو کرنا پڑتا ہے۔ اچھا بھئی۔ تو یہاں ہمارے نزدیک صرف کیا مراد ہے؟ صحبت مراد ہے اور ان کے نزدیک معنیٰ حقیقی بھی اور معنیٰ مجازی بھی، لمس باليد بھی مراد اور صحبت بھی مراد۔ تو کہتے ہیں: ولا يراد اللمس باليد في قوله تعالى: أو لامستم النساء اور لمس باليد مراد نہیں ہو گا اللہ تعالیٰ کے اس قول کے اندر أو لامستم النساء، عطفا على ما قبله اس کا عطف ہے ماقبل پر اسی إن إن الوصية پر بھئی، وتفريع رابع اور یہ چوتھی تفریع ہے، وذلك اور یہ اس لیے ہے لأن لامستم حقیقت في اللمس باليد اس لیے کہ لامستم جو ہے حقیقت ہے لمس باليد کے اندر ہاتھ سے چھونے میں، ومجاز في الجماع اور مجاز ہے جماع کے اندر، فالشافعي رحمه الله تعالى يقول: پس امام شافعی رحمہ اللہ جو ہیں وہ فرماتے ہیں إن كليهما مراد هاهنا کہ یہاں پر دونوں معنیٰ مراد ہیں، لأن الله تعالى قال: کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: أو لامستم النساء فلم تجدوا ماءً فتيمموا صعيداً طيباً اگر تم عورتوں کو ملامست کر لو پس تم پانی نہ پاؤ تم پاک مٹی سے تیمم کر لو، فإن كان اللمس باليد اگر لمس باليد ہو گا فتيمم فيه لأجل الحدث تو تیمم ہو گا اس کے اندر حدث کی وجہ سے یعنی نجاست حکمیہ یعنی حدث اصغر کی وجہ سے تیمم کیا جائے گا پھر، فيكون لمس النساء ناقضاً للوضوء تو پس عورتوں کو چھونا جو ہے وہ ناقض للوضوء ہے، وإن كان اللمس بالجماع اور اگر وہ لمس جماع کی وجہ سے ہوا فتيمم فيه لأجل الجنابة تو تیمم ہو گا اس کے اندر جنابت کی وجہ سے، فيحل تيمم الجنب بهٰذه الآية پس جنب کا تیمم حلال ہے جائز ہے اس آیت کی وجہ سے، ونحن نقول: اور ہم کہتے ہیں إن المجاز هاهنا مراد بالإجماع بيننا وبينكم کہ یہاں پر مجاز بالاجماع ہمارے اور تمہارے درمیان مراد ہے، اجماع سے مراد بالاتفاق ہے ہاں مولانا، ہمارے اور تمہارے درمیان بالاتفاق یہاں کیا مراد ہے؟ مجاز۔ ہمارے نزدیک کیا معنیٰ؟ صحبت کے، تو تمہارے نزدیک بھی صحبت والا، ویا اب جب دونوں لیتے ہو تو صحبت والا بھی لیتے ہو یا نہیں لیتے آپ معنیٰ؟ تو صحبت والا معنیٰ ہم بھی لیتے ہیں آپ بھی لیتے ہیں تو بالاتفاق جب صحبت والا معنیٰ مراد ہے، فلا يجوز أن تراد الحقيقة أيضاً تو یہ جائز نہیں کہ حقیقت بھی مراد ہو لاستحالة الجمع بينهما کیونکہ ان دونوں معانی کے جمع کیا ہے؟ محال ہے، فلا يكون اللمس باليد ناقضاً للوضوء پس لمس باليد ناقض للوضوء نہیں ہو گا كيلا يكون التيمم خلفاً عنه کہ تیمم اس کا کیا پھر بنے؟ خلیفہ بنے یعنی پھر تا کہ تیمم کرنا پڑے، بل إنما هو خلف عن الجنابة فقط بلکہ وہ صرف کس کا خلیفہ ہے؟ جنابت کا خلیفہ، فالأمثلة الثلاثة الأول پہلی تین مثالیں جو ہیں الحقيقة فيها متعينة ان میں حقیقت کیا ہے؟ بھئی دیکھیے چار مثالیں چار تفریعات ذکر کیں، پہلی کون سی؟ إن الوصية للموالي، دوسرے مثلاً لا يلحق غير الخمر بالخمر، تیسرا ولا يراد بنو بنيه في الوصية یہ تین مسئلے ہیں اور چوتھا تھا ولا يراد باللمس ولا يراد اللمس باليد بھئی، تو کہتے ہیں فالأمثلة الثلاثة الأول پہلی تین مثالیں جو ہیں الحقيقة فيها متعينة ان میں حقیقت کیا ہے؟ متعین، کون سا معنیٰ مراد ہے وہاں پر؟ معنیٰ حقیقی، فلا يصار إلى المجاز لہٰذا مجاز کی طرف رجوع نہیں کریں گے، والمثال الأخير اور یہ تیسری مثال اوپر لامستم یہاں کون سا معنیٰ مراد ہے؟ مجازی، ومثال الأخير المجاز فيه متعين آخری مثال جو ہے اس کے اندر مجاز متعین ہے، فلا يصار إلى الحقيقة لہٰذا حقیقت کی طرف نہیں جائیں گے، وهذا معنى قوله: اور یہی معنیٰ ہے مصنف کے اس قول کا لأن الحقيقة فيما سوى الأخير والمجاز فيه مراد فلم يبق الآخر مراداً اس لیے کہ کیونکہ حقیقت فيما سوى الأخير آخری کے علاوہ میں چار مسئلے تھے نا اس کے آخری مسئلے کے علاوہ کے اندر حقیقت والمجاز فيه أي في الأخير اور آخری کے اندر مجاز مراد وہ مراد ہے، پہلی تین میں حقیقت اور آخری کے اندر مجاز مراد ہے، فلم يبق الآخر مراداً تو دوسرا مراد ہو کر باقی نہیں رہے گا یعنی جہاں حقیقت مراد ہے وہاں مجاز مراد نہیں اور آخری کے اندر مجاز مراد ہے تو وہاں حقیقت مراد نہیں ہو گی۔ أي المعنى الحقيقي في الأمثلة الثلاثة الأول یعنی معنیٰ حقیقی پہلی تین مثالوں کے اندر والمعنى المجازي في المثال الأخير مراد اور معنیٰ مجازی آخری مثال کے اندر مراد ہیں، فلم يبق المعنى الآخر أعني المجاز في الأول تو دوسرا معنیٰ باقی نہیں رہے گا یعنی کہ کون سا؟ پہلی تین میں کیا مراد ہے؟ حقیقت، تو دوسرا معنیٰ یعنی مجاز پہلی تین کے اندر باقی نہیں رہے گا والحقيقة في الأخير اور آخری کے اندر کون سا معنیٰ مراد تھا؟ مجازی، تو وہ حقیقت آخری کے اندر مراد ہو کر باقی نہیں رہے گی، على ما حررناه بناء بر اس کے جو ہم نے تحریر کیا، ولما فرغ عن التفريعات شرع في رد اعتراضات ترد على هٰذه القاعدة اور جب فارغ ہوئے مصنف رحمہ اللہ ان تفریعات سے تو شروع ہوئے اعتراضات کے رد کے اندر جو وارد ہوتے ہیں اس قاعدے پر۔ بھئی دیکھیے ضابطہ کیا بیان ہوا؟ کہ حقیقت اور مجاز جمع نہیں ہو سکتے، اس ضابطے پر آگے اس پر تفریعات تو ذکر کر دیں، اب اس پر کچھ اعتراضات وارد ہوتے تھے شوافع جو ہم پر کرتے ہیں ان کے جوابات اب دینے لگے ہیں ان اعتراضات کو رد کریں گے، فقال: پس فرماتے ہیں وفي الاستئمان على الأبناء والموالي تدخل الفروع۔ استئمان امان طلب کرنا بھئی علی الأبناء والموالي، امان صورت مسئلہ یہ ہے بھئی پہلے میں نے مختصراً بیان کر دیا دوبارہ سمجھ لو بھئی مسلمان مسلمانوں نے کفار کے قلعے کا محاصرہ کر لیا انہوں نے کہا ہم ہمیں امان دے دو ہمارے ابناء پر، تو امان کے اندر وہ خود بھی داخل اور بیٹے بھی داخل اور پوتے بھی داخل مولانا، تو بیٹے ہیں ابناء کا حقیقی معنیٰ اور پوتے ہیں مجازی معنیٰ، تو یہاں پر حقیقی اور مجازی معنیٰ دونوں اے احناف آپ نے مراد لیا آپ کے نزدیک دونوں کو امان ہو گا، یہ تو آپ نے کیا کر دیا؟ جمع بین الحقیقۃ والمجاز، یا اسی طرح کہا ہمیں امان دے دو ہمارے موالی پر، کس پر؟ موالی پر، اب مولا کا حقیقی معنیٰ کیا؟ مثلاً معتق ہے، تو معتق اور اس کا مجازی معنیٰ کیا؟ معتق المعتق بھئی اور اے احناف آپ کہتے ہو معتق کو بھی امان ہو گی اور معتق المعتق کو بھی امان حاصل ہو گی، یہ تو آپ نے کیا کیا؟ جمع بین الحقیقۃ والمجاز، اعتراض سمجھ میں آیا بھئی؟ جی یہی بیان کر رہے ہیں۔ تو کہتے ہیں وفي الاستئمان على الأبناء والموالي تدخل الفروع بیٹوں اور موالی پر امان طلب کرنے کے اندر تدخل الفروع فروع بھی داخل ہو جائیں گے، جواب سؤال مقدر یہ یہ جواب ہے سوال مقدر کا، تقریره تقریر اس کی یہ ہے کہ أن يقال کہ یوں کہا جائے إذا استأمن الحربي من الإمام جب امان طلب کیا حربی نے امام سے یعنی خلیفہ سے وقال اور کہا آمنونا على أبنائنا وموالينا کہ امان دے دو تم ہمیں ہمارے بیٹوں پر اور ہمارے موالی پر، يدخل في الأبناء داخل ہو جائیں گے بیٹوں کے اندر أبناء الأبناء کون داخل ہوں گے؟ پوتے بھی، وفي الموالي اور موالی کے اندر داخل ہو جائیں گے موالي الموالي کون داخل ہوں گے؟ موالی موالی بھی داخل ہو جائیں گے، مع أن أبناء الأبناء مجاز في لفظ الابن باوجود اس کے کہ أبناء الأبناء جو ہے وہ مجاز ہے لفظ ابن میں، وموالي الموالي مجاز في الموالي اور موالی الموالی مجاز ہے کس کے اندر؟ موالی میں، فيلزم اجتماع الحقيقة والمجاز تو لازم آتا ہے حقیقت اور مجاز کے درمیان جمع، تو اے احناف آپ کو خود آپ نے ہی کہا تھا حقیقت اور مجاز میں جمع نہیں ہو سکتا اور آپ خود ہی کیا کر رہے ہیں ان مسائل کے اندر جمع بین الحقیقۃ والمجاز کر رہے ہیں، فالجواب: تو جواب دیتے ہیں مصنف بأن أنه إنما تدخل الفروع في هٰٰذا الاستئمان کہ فروع داخل ہو جاتی ہیں اس امان طلب کرنے میں لأن الظاهر لاسم صار شبهة في حقن الدم، حقن کا معنیٰ ہے حفظ، حفاظت بھئی اس لیے کیونکہ ظاہر اسم یعنی ابناء اور موالی ظاہر اسم کیا ہے؟ کون کون سے اعتراض کس میں تھا؟ ابناء اور موالی میں، ظاہر اسم جو ہے یعنی ابناء اور موالی صار شبهة وہ شبہ بن گیا، ظاہر اسم کیا بن گیا؟ یعنی اسم کی وہ صورت دیکھو، یاد رکھیے امان ادنیٰ شبہ سے بھی ثابت ہو جاتا ہے، امان کیا ہے؟ بھئی جیسے آپ نے پڑھا ہے حد ادنیٰ شبہ سے بھی کیا ہو جاتی ہے؟ ساقط، اسی طرح امان ادنیٰ شبہ سے بھی کیا ہو جاتا ہے؟ ثابت ہو جاتا ہے۔ اچھا، اب دیکھیے یہاں ظاہر اسم یعنی ابناء عام استعمال میں بیٹوں کے ساتھ ساتھ کس پر اس کا اطلاق ہوتا ہے؟ پوتوں پر بھی ہوتا ہے اور عام عرف کے اندر موالی کا استعمال معتق کے ساتھ ساتھ معتق المعتق پر بھی ہوتا ہے، تو یہ جو ظاہر اسم ہے یہ خود ہی شبہ بن گیا، بھئی کیوں عرف میں تو ہوتا ہے اطلاق، تو یہ خود ہی کیا بن گیا؟ اور شبہے کی وجہ سے بھی کیا حاصل ہو جاتا ہے؟ امان، لہٰذا انہیں بھی کیا ہو جائے گا اس شبہے کی وجہ سے امان حاصل ہو جائے گا، بایں اعتبار نہیں کہ انہوں نے دونوں کا ارادہ کیا اور ہمارے نزدیک دونوں صحیح ہو گئے، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو دونوں کے ارادے کے اعتبار سے ہم نے دونوں کو داخل نہیں کیا بلکہ ہم نے کس اعتبار سے داخل کیا ہے پوتوں کو اور موالی موالی کو؟ شبہے کی وجہ سے، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ کہتے ہیں لأن ظاهر الاسم صار شبهة اس لیے کیونکہ ظاہر اسم وہ شبہ بن گیا بھئی اسم کی جو صورت تھی ابناء اور اسم کی جو صورت ہے موالی وہ خود ہی شبہ بن گیا، اس کی صورت کو ہی کیا بنا دیا؟ شبہ قرار دے دیا، کیا قرار دے دیا؟ شبہ اور شبہے کی وجہ سے امان، تو وہ اس ظاہر اسم جو ہے وہ شبہ بن گیا في حقن الدم دم کی حفاظت میں، خون کی حفاظت میں، لا أنه يدخل في الإرادة اس وجہ سے نہیں کہ وہ ارادے میں داخل ہے، فالإرادة بذاتها إنما هو للأبناء والموالي بلا واسطة اس لیے کہ ارادہ بالذات کس کا ہے؟ بیٹوں کا اور موالی بلا واسطہ کا، ولكن لما كان لفظ الأبناء يتناول ظاهراً لأبناء الأبناء في قوله تعالى اس لیے کیونکہ لفظ ابناء جب شامل ہے بااعتبار ظاہر کے پوتوں کو بھی فی قوله تعالیٰ اللہ تعالیٰ کے اس قول میں: يا بني آدم بھئی، دیکھو اس کے اندر صرف بیٹے نہیں بلکہ پوتے بھی ہیں، نیچے تک بھئی وكذا لفظ الموالي يطلق عرفاً على موالي الموالي عرف میں اس کا اطلاق کس پر ہوتا ہے؟ موالی کا موالی موالی پر بھی، فلأجل الاحتياط في حفظ الدم لہٰذا خون کی حفاظت میں احتیاط کرنے کے لیے يدخلون یہ داخل ہو جائیں گے اب بلا إرادة بغیر کسی ارادے کے، بغیر کسی ارادے کے یہ داخل ہو جائیں گے۔ ويرد على هٰٰذا الجواب اعتراض جی آگے سے ایک اعتراض اور پھر جواب آئے گا بھئی، چلیے بس کریں مولانا، هٰٰذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔