درس نمبر۔45 واما المتشابه فهو اسم لما انقطع رجاء معرفة المراد منه ولا يرجى بدوه اصلا فهو في غاية الخفاء بمنزلة المحكم في غاية الظهور فصار كرجل مفقود عن بلده وانقطع اثره وانقضى اقرانه وجيرانه. امچھا بھئی، اج متشابه کے بارے میں ہم پڑھیں گے۔ کہتے ہیں: واما المتشابه، اور متشابه جو ہے: فهو اسم لما، وہ نام ہے اس کلام کا، وہ اس کلام کا نام ہے انقطع رجاء معرفة المراد منه، کہ منقطع ہو جائے اس کی مراد کے جاننے کی امید، اس کی مراد پر واقف ہونے کی امید ہی کیا ہو جائے؟ یعنی اس کی مراد پر مطلع ہوا ہی نہ جا سکے، اس کی مراد پر مطلع ہونے کی امید ہی ختم ہو جائے بھئی، اس کو کیا کہتے ہیں؟ متشابه کہتے ہیں۔ ولا يرجى بدوه اصلا، اور اس کے ظاہر ہونے کی امید نہ کی جائے سرے سے، بالکل ہی، اصلاً أي قطعاً بھئی، قطعی طور پر اس کے ظاہر ہونے کی امید قطعی طور پر نہ ہو بھئی، کوئی امید نہ ہو اس کے ظاہر ہونے کی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ پھر یہ جو اس کے ظاہر ہونے کی امید کا ختم ہونا ہے، یا تو کبھی کسی عارض کی وجہ سے ہوتا ہے یا اس کی ذات کے اعتبار سے ہوتا ہے بھئی۔ عارض کے اعتبار سے مثلاً بھئی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایک مجمل کا بیان کیے بغیر ہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو جائے، تو اب اس مجمل کے مراد پر مطلع ہونے کی امید ہی کیا ہو گئی؟ ختم ہو گئی، اس لیے کیونکہ مجمل وہ ہے جس کے لیے استفسار چاہیے، اس کی وضاحت چاہی جاتی ہے مجمل سے بھئی، تو یہاں پر جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا تو استفسار ممکن ہی نہیں ہے، لہٰذا اب اس کی مراد پر مطلع ہونا ممکن ہی نہ رہا بھئی۔ یا اس کی ذات ہی ایسی ہے مثلاً، اس کی ذات ہی ایسی ہے بھئی، یعنی انسان اس کے سمجھنے پر قادر ہی نہیں ہے، یا حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے باقاعدہ منقول ہے کہ اس کی مراد پر انسان واقف نہیں ہو سکتا بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ جیسے مسئلہ تقدیر ہے بھئی، مسئلہ تقدیر بھئی، تو مسئلہ تقدیر کے اندر بحث سے انسان کو روکا گیا ہے کیونکہ انسان اس کے سمجھنے پر قادر ہی نہیں ہے بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آگئی؟ کہتے ہیں: فهو في غاية الخفاء بمنزلة المحكم في غاية الظهور، پس جو متشابه ہے، یہ انتہا درجے کے خفاء میں ہوتا ہے، بمنزلة المحكم في غاية الظهور، جس طرح کہ محكم جو ہے انتہا درجے کے ظهور میں ہوتا ہے، تو یہ اس کے مقابل ہوا۔ فصار كرجل مفقود، کہتے ہیں: یہ اسی طرح ہو گیا جیسے کوئی شخص اپنے وطن سے گم ہو جائے، گم ہو جائے، کھو جائے اور اس کے نشانات بھی ختم ہو جائیں، اس کے ہم عمر لوگ بھی چل بسیں اور اس کے ہمسایوں کا بھی انتقال ہو گیا، تو اب اس کی امید ہی نہیں کی جا سکتی اس شخص کے ملنے کی، اس کے سارے نشانات بھی ختم ہو گئے اور اس کے ہم عمر لوگوں کا بھی انتقال ہوا، اس کے ہمسایوں اور جاننے والوں، دوستوں سب کا انتقال ہو گیا بھئی، تو اب کس طرح اس کو پائیں گے؟ کوئی پانے کی امید نہیں ہے بھئی، کوئی نشانی وغیرہ باقی نہ رہی۔ وحكمه اعتقاد الحقية قبل الاصابة، اور اس کا حکم اعتقاد الحقية، اس کے برحق ہونے کا اعتقاد رکھنا ہے قبل الاصابة، اس تک پہنچنے سے پہلے، یعنی اس کی مراد تک پہنچنے سے پہلے، اس کی مراد پر واقف ہونے سے پہلے ہی اس کے برحق ہونے کا اعتقاد رکھنا کہ یہ برحق ہے، اللہ، ہمیں اس کی مراد تو معلوم نہیں، لیکن اللہ اور اس کے رسول نے جو یہ فرمایا ہے یہ برحق ہے بھئی، بات سمجھ میں آگئی بھئی؟ أي اعتقاد ان المراد به حق، یعنی یہ اعتقاد رکھنا کہ اس کی مراد جو ہے وہ برحق ہے، وان لم نعلمه قبل يوم القيامة، اگرچہ ہم اس کو جان نہیں سکتے قیامت کے دن سے پہلے، واما بعد القيامة فيصير مكشوفا لكل احد ان شاء الله تعالى، اور قیامت کے بعد تو یہ مکشوف ہو جائے گا، یعنی کھول دیا جائے گا، ظاہر کر دیا جائے گا اس کی مراد کو ہر ایک کے لیے ان شاء اللہ تعالیٰ، اگر اللہ نے چاہا بھئی، اگر اللہ نے چاہا۔ وهذا في حق الامة، اور یہ امت کے حق میں ہے، یعنی امت اس کی مراد پر واقف نہیں ہے، واما في حق النبي عليه السلام، اور باقی حضور علیہ السلام کے حق میں، فكان معلوما، تو یہ معلوم تھا بھئی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی مراد معلوم ہے، والا تطلو فائدة التخاطب، ورنہ تو خطاب کا فائدہ ہی باطل ہو جاتا ہے بھئی، اللہ تعالیٰ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب فرما رہے ہیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اس کا معنی معلوم نہ ہو تو پھر تو خطاب کا فائدہ ہی کیا ہوا؟ ختم ہو گیا بھئی، ويصير التخاطب بالمجمل، اور یہ تو خطاب بالمهمل ہوا، یعنی مہمل لفظ کے ساتھ جیسے کسی کو خطاب کیا جائے جس کا معنی ہی کوئی نہیں، كالتكلم بالزنجية مع العربي، جیسے کہ بات کرنا حبش کی زبان میں کسی عربی کے ساتھ، ایک عربی ہے، وہ صرف عربی زبان جانتا ہے، آپ اس کے ساتھ کون سی زبان میں گفتگو کرنے لگتے ہیں؟ حبش کی زبان کے اندر بھئی، تو اب اسے کیا سمجھ میں آئے گا؟ کچھ بھی نہیں بھئی، تو یہ خطاب بیکار ہوا پھر، كالتكلم بالزنجية أي كالتكلم باللسان الزنجي، جیسے کہ حبشی زبان کے اندر مع العربي، عربی شخص کے ساتھ، وهذا عندنا، اور یہ ہمارے نزدیک ہے بھئی، یہ جو ہم نے کہا اس کے جاننے کی امید ہی کیا ہے؟ ختم ہو چکی ہے، اس کے جاننے کی کوئی امید نہیں، یہ ہمارے نزدیک ہے، وقال الشافعي رحمه الله وعامة المعتزلة ان العلماء الراسخين ايضا يعلمون تاويله، اور امام شافعی رحمہ اللہ اور عام معتزلہ یہ کہتے ہیں کہ علمائے راسخین جو ہیں، علمائے راسخین، وہ علماء جو دین کا پختہ اور مضبوط علم رکھتے ہیں بھئی، دین کا مضبوط علم رکھنے والے علماء، تو امام شافعی رحمہ اللہ اور عام معتزلہ فرماتے ہیں کہ علمائے، وہ دین کا مضبوط علم رکھنے والے علماء، وہ بھی يعلمون تاويله، وہ بھی اس کی تاویل جانتے ہیں، اس کی تاویل جانتے ہیں، ومنشا الخلاف قوله تعالى، اور اختلاف کا باعث اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے: وما يعلم تاويله الا الله والراسخون في العلم يقولون آمنا به، وما يعلم تاويله الا الله، اور نہیں جانتا ان متشابهات کی تاویل کو سوائے اللہ کے کوئی بھئی، کوئی بھی نہیں جانتا، والراسخون في العلم، اور وہ لوگ جو مضبوط ہیں دینی علم کے اندر، يقولون، وہ کہتے ہیں: آمنا به، ہم اس پر ایمان لائے۔ تو دیکھیے، ہمارے نزدیک یاد رکھیے، الا الله، یہاں پر وقف واجب ہے بھئی، وما يعلم تاويله الا الله، یہاں پر وقف واجب ہے۔ والراسخون في العلم، الگ جملہ ہے اور اس کی تاویل، متشابه کی تاویل اللہ کے علاوہ اور کوئی نہیں جانتے، اور جو علم میں پختہ اور مضبوط علماء ہیں، وہ کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لاتے ہیں، یعنی اس کی جو بھی مراد ہے، وہ برحق ہے، وہ اللہ کی طرف سے ہے اور ہم اس پر کیا کرتے ہیں؟ ایمان، ہمیں مراد معلوم نہیں، لیکن جو بھی مراد ہے اس کی، ہم اس پر ایمان لاتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے بھئی، بات سمجھ میں آگئی؟ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ والراسخون کا عطف لفظِ اللہ پر ہے بھئی، لفظِ لفظِ اللہ پر ہے، ان کے نزدیک ترجمہ یہ ہے: اور نہیں جانتے اس کی تاویل کو سوائے اللہ کے اور وہ لوگ جو علم میں پختہ اور مضبوط ہیں بھئی، فرق سمجھ میں آیا بھئی؟ تو ہمارے نزدیک الا الله پر وقف کیا جائے گا۔ فعندنا يجب الوقف على قوله الا الله، تو ہمارے نزدیک وقف واجب ہے اللہ کے اس قول الا الله پر، وقوله والراسخون في العلم جملة مبتداة، اور اللہ تعالیٰ کا قول والراسخون في العلم جو ہے، یہ جملہ مبتداہ ہے، یہ نیا جملہ ہے، الگ جملہ شروع ہو رہا ہے، لان الله تعالى جعل اتباع المتشابهات حظ الزائعين، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے جو ہے، متشابہات کی پیروی کرنے کو زائغین، یعنی گمراہوں کا حصہ قرار دیا ہے۔ حظ کہتے ہیں حصے کو، زائغین یعنی گمراہ بھئی، اللہ تعالیٰ نے متشابہات کی پیروی کو گمراہ لوگوں کا حصہ قرار دیا ہے۔ کیسے؟ بھئی اس سے پہلے آتا ہے، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: فاما الذين في قلوبهم زيغ، باقی وہ لوگ جن کے دلوں میں کجی ہے، ٹیڑھا پن ہے، زیغ ٹیڑھے پن اور کجی کو کہتے ہیں، فيتبعون ما تشابه منه، پس وہ پیروی کرتے ہیں اس کی جو اس میں سے قرآن میں سے متشابہ ہے، اس کی پیروی کرتے ہیں، ابتغاء الفتنة، کیا چاہتے ہوئے؟ فتنے کو چاہتے ہوئے بھئی، تو دیکھو، گمراہوں کا حصہ کیا قرار دیا ہے؟ کہ وہ کیا کرتے ہیں متشابہات کی پیروی کرتے ہیں بھئی، فيكون حظ الراسخين هو التسليم والانقياد، تو اس صورت میں جو راسخین ہیں ان کا حصہ کیا ہوا؟ وہ تسلیم کرنا اور فرمانبرداری کرنا ہے بھئی، وہ تسلیم کرتے ہیں کہ یہ کیا ہے اللہ کی طرف سے ہے اور فرمانبرداری کرتے ہیں، اس کی پیروی نہیں کرتے، اس کے اندر غور و فکر نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ جو بھی اللہ تعالیٰ کی مراد ہے وہ برحق ہے بھئی، وہ کیا ہے؟ یہ اللہ کی طرف سے ہے، ہم اس کی مراد کے برحق ہونے پر ایمان رکھتے ہیں۔ ولقراءة بعض الراسخون بدون الواو، پہلی وجہ ذکر کر دی مولانا، ہمارے نزدیک والراسخون في العلم کیا ہے؟ الگ جملہ ہے، وجہ یہ، وجہ ذکر کر دی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے متشابہات کی پیروی کو کس کا حصہ قرار دیا ہے؟ گمراہوں کا حصہ قرار دیا ہے، تو لہٰذا راسخین کا حصہ وہ تسلیم و انقیاد ہوگا، پہلی وجہ۔ دوسری وجہ: ولقراءة البعض، اور بعض قراء کی اس قرات کی وجہ سے کہ الراسخون بدون الواو، راسخون کو بغیر واو کے، بعض قراء کی قرات میں بغیر واو کے آیا ہے مولانا، یہاں تو ہے: الا الله والراسخون، بعض میں کیا آیا ہے؟ الراسخون، وہاں تو واو ہے ہی نہیں، وہاں تو عطف ہو ہی نہیں سکتا بھئی، صورت سمجھ میں آگئی؟ والبعض، اور بعض کی قرات کے اندر: ويقول الراسخون، راسخون سے پہلے يقول کا لفظ آیا ہے بھئی، اس صورت میں بھی عطف نہیں ہو سکتا کیونکہ اس صورت میں الراسخون يقول کے لیے فاعل بن جائے گا بھئی، صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ وعند الشافعي رحمه الله، اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک: لا يوقف على قوله الا الله، کہ وقف نہیں کیا جائے گا اللہ کے قول الا الله پر، بل قوله والراسخون معطوف على قوله الله، اور الراسخون جو ہے وہ معطوف ہے اللہ کے قول لفظِ اللہ پر بھئی معطوف ہے۔ ويقولون، يقولون ہے آپ کی کتابوں میں؟ يقولون؟ جی، يقولون ہی ہونا چاہیے، میری کتاب میں يقول لکھا ہوا ہے، ويقولون حال منه، اور يقولون اس سے حال ہے بھئی، بھئی ہماری ترکیب کے مطابق تو والراسخون، اس کو مبتدا بنائیں گے اور يقولون اس کی خبر ہو جائے گی بھئی، تو امام شافعی رحمہ اللہ چونکہ اس کا عطف ماقبل پر ہی کرتے ہیں، تو اس صورت میں یہ مبتدا نہیں بنتا، تو پھر يقولون کا کیا بنائیں گے؟ تو وہ فرماتے ہیں کہ اس کو کیا بنا دیں گے؟ حال بنا دیں گے، اس حال میں کہ وہ کہتے ہیں آمنا به، کہ ہم اس پر کیا لائے؟ ایمان لائے۔ فيكون المعنى، تو معنی ہوگا: الا الله والعلماء الراسخون في العلم، کہ نہیں جانتے اس کی تاویل مگر اللہ اور وہ علماء جو راسخ ہیں علم کے اندر، یعنی وہ بھی جانتے ہیں۔ یہاں تک بات سمجھ میں آگئی بھئی؟ آگے شارح فرماتے ہیں: ولكن هذا نزاع لفظي، مگر یہ لفظی نزاع ہے، لفظی جھگڑا ہی ہے، لان من قال يعلم، کہتے ہیں بھئی، دیکھیے یہ ہمارا اور امام شافعی رحمہ اللہ کے درمیان اختلاف آیا، ہم کہتے ہیں کہ اس کی مراد اللہ کے علاوہ اور کوئی نہیں جانتا بھئی، اور وہ کیا کہتے ہیں؟ علمائے راسخین بھی جانتے ہیں، شارح اب آپ کو بتلائیں گے کہ بھئی یہ لفظی جھگڑا ہی ہے، اصل بات تو ہو رہی ہے اس مراد کی، جو قطعی مراد ہے، جس کا اعتقاد واجب ہے، تو قطعی مراد کے بارے میں ہم کہتے ہیں کہ اسے اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا، اللہ اور اس کے رسول کے سوا، اور وہ جو کہتے ہیں کہ مراد کو علمائے راسخین جانتے ہیں، وہ ظنی مراد ہے، کیا ہے؟ ہاں، قطعی مراد کا وہ بھی نہیں کہتے بھئی، تو ظنی مراد وہ جانتے ہیں، تو اختلاف تو ہے قطعی مراد کے اندر اور اس میں کوئی وہ، ان کے نزدیک بھی کوئی نہیں جانتا، اللہ اور اس کے رسول کے سوا، اور ہمارے نزدیک بھی ان دونوں کے سوا اور کوئی نہیں جانتا، ہاں، تو وہ جو جاننے کی بات کرتے ہیں، وہ ظنی تاویل کی بات کرتے ہیں کہ وہ جانتے ہیں علمائے راسخین۔ ولكن هذا نزاع لفظي، مگر یہ نزاعِ لفظی ہی ہے، یعنی لفظی جھگڑا ہی ہے، لان من قال يعلم الراسخون تاويله، اس لیے کہ وہ جو کہتے ہیں کہ راسخین جو ہیں وہ اس کی تاویل جانتے ہیں، يريدون يعلمون تاويله الظنية، وہ کیا ارادہ کرتے ہیں کہ راسخین کس چیز کو جانتے ہیں؟ اس کی تاویلِ ظنی کو جانتے ہیں، ومن قال لا يعلمون الراسخون تاويله، اور جو یہ کہتے ہیں کہ راسخین اس کی تاویل نہیں جانتے، يريدون لا يعلمون تاويل الحق الذي يجب ان يعتقد عليه، ان کا ارادہ یہ ہے کہ راسخین جو ہیں وہ اس کی اس تاویل کو نہیں جانتے جو برحق ہے اور جس کے بارے میں واجب ہے کہ اس کا اعتقاد رکھا جائے بھئی، اس کا... ہاں، تو تاویلِ حق کو نہیں جانتے اور جو کہتے ہیں جانتے ہیں، وہ کہتے ہیں تاویلِ ظنی کو جانتے ہیں بھئی، تو یہ صرف لفظی جھگڑا ہی ہے بھئی۔ تو کیا معنی ہوا اس کا بھئی؟ وما يعلم تاويله الا الله بھئی، اس کی تاویل نہیں جانتے مگر صرف اللہ تعالیٰ بھئی، اس پر اشکال ہوتا ہے بھئی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی تو جانتے ہیں بھئی، اس کی مراد کو جانتے ہیں، تاویلِ حق کو جانتے ہیں بھئی، تو یہاں تو صرف ذاتِ باری تعالیٰ کا ذکر آیا بھئی، تو اس سے تو یوں معلوم ہوتا ہے گویا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی نہیں جانتے، تو جواب یہ مولانا کہ یہاں قید محذوف ہے، وما يعلم تاويله بدون الوحي الا الله، کوئی نہیں جانتا اس کی تاویل کو بغیر وحی کے سوائے اللہ کے بھئی، تو اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی علم ہے اس کا کس وجہ سے؟ وحی کی وجہ سے بھئی، بات سمجھ میں آگئی بھئی؟ فان قلت فما فائدة انزال المتشابهات على مذهبكم، اگر آپ کہیں کہ پھر کیا فائدہ ہے متشابہات کو نازل کرنے کا تمہارے مذہب پر؟ اگر آپ یہ اعتراض کریں بھئی کہ اس کی تاویل صرف اللہ اور اس کے رسول جانتے ہیں اور اور کوئی نہیں جانتے، تو اس کے نازل کرنے کا کیا فائدہ ہے؟ قلت، تو جواب دے رہے ہیں آگے مولانا، جواب یہ ہے کہ دراصل اس کے اندر علماء کی آزمائش ہے بھئی، اس میں کیا ہے؟ علماء کی آزمائش ہے بھئی، آگے آپ کو بتلائیں گے کہ کیوں، کیونکہ لوگ دو قسم پر ہیں، کچھ لوگ تو وہ ہیں جو علماء ہیں تو اور کچھ لوگ وہ ہیں جو جہل میں مبتلا ہیں بھئی، ایک نوع کے جہل میں مبتلا ہیں اور ہر ایک کی آزمائش اسی کے مطابق کی جاتی ہے، تو جو جہل میں مبتلا ہے اس کی آزمائش اس طرح ہے کہ ان کو تحصیلِ علم کا حکم دیا گیا کہ علم حاصل کریں بھئی، غور و فکر کریں اس میں، اور علماء کی آزمائش، عالم چاہتا ہے کہ میں ہر چیز کو جان لوں، تو ان کو روکا گیا کہ بھئی کیا کرو؟ اس کے اندر غور و فکر نہ کرو، اس کی تاویل اللہ اور اس کے رسول کے علاوہ کوئی نہیں جانتا، تو روکنا ان کو، تو اس میں ان کی آزمائش ہے کہ وہ کیا کریں؟ اپنے آپ کو اس سے روک کر رکھیں بھئی، بات سمجھ میں آگئی بھئی؟ فائدہ یہ، ہم کہتے ہیں کہ ہر ایک کی آزمائش ہے، ایک آزمائش ہے جہلاء کی، ایک آزمائش ہے علماء کی، جہلاء کی آزمائش یہ وہ علم نہیں حاصل کرنا چاہتے اور ان کو کہا جاتا ہے علم حاصل کرو۔ دین کے مسائل سیکھو۔ قرآن اور حدیث سیکھو۔ تو ایک چیز وہ چاہتے نہیں ہیں اور ان کو سیکھنا پڑتی ہے، تو اس میں ان کی سخت آزمائش ہے بھئی۔ اور عالم عالم چاہتا ہے مجھے سب کچھ معلوم ہو اور ان کو علماء کو کہا گیا، بھئی متشابہات میں غور نہیں کرنا۔ اس کا علم آپ کو نہیں ہو سکتا۔ اب یہ اس کے لیے بڑی آزمائش ہے کہ اپنے آپ کو اس سے روک کر رکھے۔ وہ تو چاہتا ہے مجھے سب کچھ معلوم ہو اور ادھر اس سے روکا جا رہا ہے کہ اس کے لیے اس کا پیچھا نہیں کرنا، اس کے درپے نہیں ہونا۔ تو اس میں علماء کی آزمائش ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ قلت لِلِابْتِلَاءِ بِالْوَقْفِ وَالتَّسْلِيمِ، تو میں کہتا ہوں جواب دے رہے ہیں۔ سوال یہ تھا کہ پھر متشابہات کے نازل کرنے کا کیا فائدہ ہوا آپ کے مذہب پر؟ قلت، کہتے ہیں میں جواب دیتا ہوں، میں کہتا ہوں لِلِابْتِلَاءِ بِالْوَقْفِ وَالتَّسْلِيمِ کہ وہ آزمانا ہے توقف اور تسلیم کے ذریعے، کہ توقف کرو اور اس کو کیا کرو؟ توقف کرو اور تسلیم کرو، غور و فکر نہ کرو۔ لِأَنَّ النَّاسَ عَلَى ضَرْبَيْنِ، اس لیے کہ لوگ دو قسم پر ہیں۔ ضَرْبٌ يُبْتَلَوْنَ بِالْجَهْلِ، ایک وہ نوع ہے، ایک قسم وہ ہے جو جہل میں مبتلا ہے۔ فَابْتِلَاؤُهُمْ، تو ان کی آزمائش یہ ہے، أَنْ يَتَعَلَّمُوا الْعِلْمَ وَيَشْتَغِلُوا بِالتَّحْصِيلِ، کہ وہ علم حاصل کریں اور اس کی تحصیل میں مشغول ہوں۔ وَضَرْبٌ هُمْ عُلَمَاءُ، اور ایک قسم جو ہیں وہ علماء ہیں۔ فَابْتِلَاؤُهُمْ أَنْ لَا يَتَفَكَّرُوا فِي مُتَشَابِهَاتِ الْقُرْآنِ، تو ان کی آزمائش یہ ہے کہ وہ غور و فکر نہ کریں قرآن کے متشابہات کے اندر، وَمُسْتَوْدَعَاتِ أَسْرَارِهِ، اور اس کے اندر جو اسرار ودیعت رکھے گئے ہیں۔ جو اس کے اندر اسرار جو اس کے اندر ودیعت رکھے گئے ہیں جو جو اسرار اس کے اندر رکھے گئے ہیں۔ فَإِنَّهَا سِرٌّ بَيْنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ، اس لیے کیونکہ یہ راز ہے اللہ اور اس کے رسول کے درمیان، لَا يَعْلَمُهَا أَحَدٌ غَيْرُهُ، کوئی نہیں جانتا اس کو کوئی ایک بھی ان کے علاوہ۔ لِأَنَّ الِابْتِلَاءَ كُلَّ وَاحِدٍ إِنَّمَا يَكُونُ عَلَى خِلَافِ مُتَمَنَّاهُ وَعَكْسِ هَوَاهُ، اس لیے کیونکہ ہر ایک کی آزمائش جو ہوتی ہے اس کی تمنا اور اس کی خواہش کے برعکس ہوا کرتی ہے۔ تو علماء کی تمنا کیا ہے؟ ہر چیز کو جان لیں۔ اور جاہل کی تمنا کیا ہے؟ میں کسی چیز کو نہ جانوں، مجھے غور نہ کرنا پڑے بھئی، ذہن ذرا بھی نہ کھپانا پڑے کہیں پر بھئی۔ تو ہر ایک کی آزمائش اسی کے مطابق ہے بھئی۔ فَهَوَاءُ الْجَاهِلِ تَرْكُ التَّحْصِيلِ وَالْخَوْضِ، پس جاہل کی خواہش جو ہے وہ تحصیل علم کو چھوڑنا ہے اور اسی طرح ترک غور و فکر کو ترک کرنا ہے بھئی۔ فَيُبْتَلَى بِهِ، تو اس کو اس میں مبتلا، فَيُبْتَلَى بِهِ، تو اس کے ذریعے اس کی آزمائش کی گئی کہ وہ کیا کریں؟ علم سیکھیں اور تحصیل علم کے اندر مشغول ہوں۔ وَهَوَاءُ الْعَالِمِ، اور عالم کی خواہش یہ ہے، اِطِّلَاعُ كُلِّ شَيْءٍ، کہ وہ ہر چیز پر کیا ہو؟ مطلع ہو، فَيُبْتَلَى بِتَرْكِهِ، تو اس کو آزمائش میں ڈالا گیا اس کو چھوڑنے کے ساتھ کہ وہ اس ہر چیز پر اطلاع کو یہاں پر کیا کر دے؟ ترک کر دے، یہاں پر اطلاع کو۔ ثُمَّ الْمُتَشَابِهُ عَلَى نَوْعَيْنِ، پھر متشابہ جو ہے دو قسم پر ہے، نَوْعٌ لَا يُعْلَمُ مَعْنَاهُ أَصْلًا، ایک نوع تو وہ ہے کہ جس کا معنی معلوم ہی نہیں ہے سرے سے، كَالْمُقَطَّعَاتِ فِي أَوَائِلِ السُّوَرِ، جیسے کہ حروف مقطعات ہیں سورتوں کی ابتداء کے اندر، مِثْلُ: ألم، حم، یہ الم، یہ کیا ہیں؟ حروف مقطعات ہیں بھئی۔ اور ان کو حروف مقطعات کیوں کہتے ہیں؟ کہتے ہیں اس لیے کہ ان میں سے ہر ایک کو دوسرے سے الگ الگ کر کے پڑھا جاتا ہے۔ ا، ل، م، تو دیکھو ہر ایک کو کیا کیا؟ تکلم کے اندر ایک دوسرے سے الگ کر کے پڑھا گیا۔ خود ذکر کر رہے ہیں، وجہ تسمیہ یہ ہے۔ فَإِنَّهَا يُقَطَّعُ كُلُّ كَلِمَةٍ مِنْهَا عَنِ الْآخَرِ فِي التَّكَلُّمِ، اس لیے کیونکہ قطع کیا جاتا ہے ان میں سے ہر کلمے کو دوسرے سے تکلم کے اندر۔ وَلَا يُعْلَمُ مَعْنَاهُ، اور اس کا معنی معلوم نہیں ہے، لِأَنَّهُ لَمْ يُوضَعْ، آپ کی کتابوں میں لَمْ يُوزَعْ ہے؟ لَمْ يُوضَعْ ہونا چاہیے۔ لِأَنَّهُ لَمْ يُوضَعْ فِي كَلَامِ الْعَرَبِ لِمَعْنًى مَا إِلَّا لِغَرَضِ التَّرْكِيبِ، اس لیے کہ ان کو وضع نہیں کیا گیا کلام عرب میں کسی بھی معنی کے لیے، إِلَّا لِغَرَضِ التَّرْكِيبِ مگر ترکیب کی غرض کے لیے، ترکیب کے لیے۔ بھئی یہ جو حروف ہیں ا، ب، ت، ث، یہ حروف تہجی ہیں۔ ان کو عربی کے اندر کسی معنی کے لیے وضع نہیں کیا گیا، بلکہ ان کو عربی کے اندر صرف کس لیے وضع کیا گیا ہے؟ ترکیب کے لیے، تاکہ ان کو جوڑ کر لفظ بنائے جائیں۔ مثلاً ا، ب، ت، ث یہ جو حروف ہیں ان میں سے ز پکڑی، ی پکڑی، د کو پکڑا اور ملا کر کیا لفظ بنا دیا؟ زید بنا دیا بھئی، سمجھ میں آیا؟ اسی طرح ایک ایک ان کو، تو ان کا مقصد ترکیب ہے کہ ان سے جوڑ کر کیا کیا جائے؟ لفظوں کو بنایا جائے۔ تو ان کو کسی معنی کے لیے وضع نہیں کیا گیا۔ تو ان کا معنی ہی معلوم نہیں ہے سرے سے۔ وَنَوْعٌ، اور دوسری قسم ہے، يُعْلَمُ مَعْنَاهُ لُغَةً، کہ جن کا معنی باعتبار لغت کے، باعتبار عربی زبان کے تو معلوم ہے، وَلَكِنْ لَا يُعْلَمُ مُرَادُ اللَّهِ تَعَالَى، لیکن اللہ کی مراد معلوم نہیں ہے بھئی۔ لِأَنَّ ظَاهِرَهُ، لِأَنَّ ظَاهِرَهُ يُخَالِفُ الْمُحْكَمَاتِ، اس لیے کیونکہ ان کا ظاہر جو ہے محکم کے مخالف ہے، مِثْلُ قَوْلِهِ تَعَالَى، جیسے اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے، ید اللہ، بعض جگہ ید اللہ کا ذکر آتا ہے، اللہ کا ہاتھ۔ ہاتھ اللہ کا ہاتھ، ید کا معنی تو ہمیں معلوم ہے ہاتھ کو کہتے ہیں، لیکن یہاں کیا مراد ہے بھئی؟ سمجھ میں آیا؟ اللہ کا ہاتھ، یہ ترجمہ تو ہم نہیں کر سکتے کیونکہ اللہ فرماتے ہیں لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ، اللہ کے مثل کوئی چیز نہیں ہے، اللہ مخلوق کے مثل نہیں ہے بھئی، اگر ہاتھ ثابت کیا جائے تو اللہ تو کس کے مثل ہو جائیں گے؟ اللہ مخلوق کے مثل ہو جائیں گے، حالانکہ اللہ مخلوق کے مثل نہیں، اللہ کے لیے ہاتھ ثابت کیا جائے تو جسم ماننا پڑے گا اور جسم مانا جائے تو جو جسم ہوتا ہے وہ حادث ہوتا ہے، حالانکہ اللہ کی ذات قدیم ہے، اللہ کی ذات اور اللہ کی صفات۔ اور وجہ اللہ، بعض جگہ کیا آتا ہے؟ وجہ اللہ آتا ہے بھئی، وجہ کا معنی تو چہرہ ہوتا ہے لیکن یہاں یہ معنی نہیں کیا جا سکتا، لغوی اعتبار سے وجہ کا معنی ہمیں معلوم، لیکن اللہ کی مراد کیا ہے اس سے، اس کا ہمیں پتہ نہیں۔ نیز وَالرَّحْمَنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَى، اور رحمن عرش پر استوى، بھئی استوى کا معنی تو عربی میں ہے بیٹھنے کے، معنی تو ہمیں معلوم ہے لیکن یہاں بیٹھنے کا معنی نہیں کر سکتے بھئی کیونکہ یہ اللہ کے شایان شان نہیں ہے، تو کیا معنی، کیا مراد ہے؟ لغوی اعتبار سے ہمیں استوى کا معنی معلوم، لیکن اللہ کی مراد کیا ہے اس سے، کیا معنی ہے اس کا، وہ معنی ہمیں معلوم نہیں۔ وَوُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَاضِرَةٌ إِلَى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ، اور بہت سے چہرے اس دن ناضرة، تر و تازہ ہوں گے، إِلَى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ، دیکھنے والے ہوں گے اپنے پروردگار کی طرف۔ ناظرة کا معنی ہے دیکھنے والے اپنے پروردگار کو۔ ناظرة کا معنی تو ہمیں معلوم ہے لیکن یہاں کیا مراد ہے، ہمیں معلوم نہیں، کیونکہ اگر اللہ کی ذات کا ادراک ہو سکے، اللہ کی ذات کی رؤیت ہو سکے، تو اللہ کے لیے جہت ماننا پڑے گی۔ کیا ماننا پڑے گی؟ آپ دیکھتے ہیں نا، آپ کو سامنے کی چیز نظر آتی ہے، جو آپ کے پیچھے ہے وہ دکھائی نہیں دیتی، تو جب دیکھیں گے اللہ کی ذات کی اگر رؤیت ہو تو اللہ کے لیے کیا ماننا پڑے گی؟ جہت کہ اس جہت میں اللہ ہیں، اس جہت میں اللہ نہیں ہیں، اور اللہ جہت سے منزہ ہیں بھئی، اللہ کی ذات مخلوق لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ، اللہ کے مثل کوئی چیز نہیں ہے، تو اللہ کے لیے جہت وہ ثابت کرنا درست نہیں ہے۔ تو ہمیں یہ لفظوں، ان کے لغوی معنی ان سب کے تو ہمیں معلوم ہیں لیکن ان کے مراد کیا ہے، وہ ہمیں معلوم نہیں بھئی، وامثالہ اور اس کے مثل اور آیتیں اور احادیث وغیرہ۔ چنانچہ بھئی، متاخرین پھر ان میں تاویل کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں ید اللہ سے مراد اللہ کی قدرت ہے بھئی، کیا مراد ہے؟ اللہ کی قدرت۔ وجہ اللہ سے مراد اللہ کی ذات ہے مولانا، اور الرَّحْمَنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَى، استوى کا معنی یہاں غالب ہونے کے ہیں، اللہ تعالیٰ عرش پر غالب ہوئے بھئی، کیا ہوئے؟ غالب ہوئے، اللہ عرش پر غالب ہوئے یعنی کہ انہوں نے پوری کائنات کو بنانے کے بعد اس کی حکمرانی اللہ نے سنبھال لی، اس کے انتظام اللہ نے سنبھال لیا، کس کو موت دینی ہے، کس کو زندگی دینی ہے، کس کو تخت دینا ہے، کس کو تختہ دینا ہے، کس کو عروج دینا ہے، کس کو زوال دینا ہے، کس کی کتنی زندگی کرنی ہے، کس کو کتنا رزق دینا ہے، کس قوم کو عروج دینا ہے، کس قوم کو زوال دینا ہے وغیرہ، یہ تمام تو یہ، تو یہ بمعنی جس طرح ایک بادشاہ تخت نشین ہوتا ہے بھئی، کیا ہوتا ہے؟ یعنی امور سلطنت کو سنبھال لیتا ہے، یہ اس معنی میں ہے یہاں پر کہ اللہ نے کیا کیا، اس کائنات کے امور کو، کے انتظام ان کی حکمرانی کی، انتظام کو، انتظام فرمایا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اور وَوُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَاضِرَةٌ إِلَى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ، کہ بہت سے چہرے تر و تازہ ہوں گے، اپنے پروردگار کی طرف دیکھنے والے ہوں گے۔ تو کہتے ہیں اللہ تعالیٰ کی رؤیت ہوگی، لیکن کس طریقے پر ہوگی، کیفیت ہم نہیں جانتے بھئی، کیفیت ہم نہیں جانتے، کیونکہ رؤیت کی صورت میں اللہ کے لیے جہت ثابت ہو جائے گی کہ فلاں، رؤیت مثلاً آپ سامنے کی طرف دیکھتے ہیں نا، پیچھے کی طرف تو آپ کو کچھ نہیں نظر آ رہا بھئی، تو جس ایک جہت میں دیکھ رہے ہیں، تو پھر تو اللہ کے لیے بھی کیا ثابت ہو جائے گی؟ جی؟ ایک جہت، حالانکہ اللہ جہت سے کیا ہے؟ منزہ ہے بھئی، منزہ ہے۔ جہت اور مکان سے اللہ پاک ہیں بھئی، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ وامثالہ اور اس کے مثل جو ہیں، وَتُسَمَّى هَذِهِ آيَاتِ الصِّفَاتِ، اور ان کو آیات صفات کہتے ہیں، وَقَدْ طَوَّلْنَا الْكَلَامَ فِي تَحْقِيقِهَا وَتَأْوِيلَاتِهَا فِي التَّفْسِيرِ الْأَحْمَدِيِّ فَلْيُطَالَعْ ثَمَّ، اور تحقیق ہم نے طویل کیا ہے کلام کو ان کے ان سے متشابہات کی تحقیق کے اندر اور ان کی تاویلات کے اندر تفسیر احمدی کے اندر، فَلْيُطَالَعْ ثَمَّ، پس چاہیے کہ وہاں پر مطالعہ کر لیا جائے۔ ثَمَّ اسم اشارہ ہے بھئی۔ وَلَمَّا فَرَغَ الْمُصَنِّفُ رَحِمَهُ اللَّهُ عَنْ أَقْسَامِ التَّقْسِيمِ الثَّانِي شَرَعَ فِي بَيَانِ أَقْسَامِ التَّقْسِيمِ الثَّالِثِ، پس جب مصنف رحمہ اللہ تقسیم ثانی کے اقسام سے فارغ ہوئے تو شروع ہو گئے تقسیم ثالث کے اقسام کے بیان میں، فَقَالَ، پس فرماتے ہیں: أَمَّا الْحَقِيقَةُ فَاسْمٌ لِكُلِّ لَفْظٍ أُرِيدَ بِهِ مَا وُضِعَ لَهُ، یاد رکھیے، اب حقیقت اور مجاز کی بحث بھئی۔ حقیقت کہتے ہیں لفظ کو معنی موضوع لہ کے اندر استعمال کرنا، یہ کیا کہلاتا ہے؟ حقیقت۔ مثلاً اسد کا لفظ شیر کے لیے وضع ہے اور شیر ہی کے معنی میں اس کو استعمال کرتا ہوں میں، تو یہ کیا کہلائے گا؟ حقیقت، یہ لفظ کیا کہلائے گا؟ بھئی میں نے کہا: رَأَيْتُ الْأَسَدَ فِي الْغَابَةِ، میں نے جنگل میں شیر دیکھا۔ یہاں اسد کا لفظ بولا اور کیا مراد ہے؟ شیر، تو اس لفظ کو میں نے معنی موضوع لہ میں استعمال کیا یا غیر موضوع لہ میں؟ موضوع لہ میں استعمال کیا۔ تو یہ لفظِ اسد اب حقیقت کہلائے گا، کیا کہلائے گا؟ یہ حقیقت ہے، صورت اور اگر اس کو میں بہادر آدمی کے معنی میں استعمال کر لوں تو یہی لفظِ اسد کیا کہلائے گا؟ مجاز کہلائے گا بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو دیکھیے کہتے ہیں: أَمَّا الْحَقِيقَةُ فَاسْمٌ، پس حقیقت جو ہے وہ نام ہے، لِكُلِّ لَفْظٍ، ہر ایسے لفظ کا، أُرِيدَ بِهِ مَا، کہ اس کے ذریعے ارادہ کیا جائے ما، ما سے مراد معنی ہے، اس معنی کا، وُضِعَ لَهُ، جس کے لیے اسے وضع کیا گیا ہو۔ فَاللَّفْظُ بِمَنْزِلَةِ الْجِنْسِ، بتلا رہے ہیں یہ تعریف ہے، تعریف کے اندر جنس اور فصل ہوتے ہیں، تو جنس کیا ہے، فصل کیا ہے؟ کہتے ہیں: فَاللَّفْظُ بِمَنْزِلَةِ الْجِنْسِ، لفظ جو ہے کس کے درجے میں ہے؟ جنس کے درجے میں ہے، يَتَنَاوَلُ الْمُهْمَلَ وَالْمَجَازَ وَغَيْرَهُمَا، جو شامل ہے مہمل، مجاز اور ان کے علاوہ کو بھئی۔ مہمل بھئی، وہ لفظ جس کو کسی معنی کے لیے وضع نہیں کیا گیا۔ جی، اور مجاز ابھی ذکر ہوا، غیر موضوع، تو ان سب کو شامل ہے، یہ سارے لفظ ہیں مولانا۔ وَقَوْلُهُ: أُرِيدَ بِهِ مَا وُضِعَ لَهُ فَصْلٌ يٌخْرِجُهُمَا، اور مصنف کا قول أُرِيدَ بِهِ مَا وُضِعَ لَهُ، ارادہ کیا جائے اس کے ذریعے معنی موضوع لہ کا، یہ فصل ہے، يٌخْرِجُهُمَا، جو ان دونوں کو کیا کر دیتا ہے؟ نکال دیتا ہے مہمل اور مجاز کو، اس لیے کیونکہ مہمل کے لیے تو کوئی معنی موضوع لہ ہوتا ہی نہیں ہے اور مجاز وہ ہے جس کو معنی موضوع لہ میں استعمال نہ کیا جائے، تو۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ اور أُرِيدَ کے لفظ کے ذریعے اس بات کی طرف بھی اشارہ کر دیا کہ لفظ حقیقت اور مجاز استعمال کے اعتبار سے ہے، یعنی جب استعمال کرے اور ارادہ کرے معنی موضوع لہ کا، کیونکہ ارادہ کب ہوگا؟ استعمال کے وقت ارادہ ہوگا، تو لہٰذا اگر معنی موضوع لہ کا ارادہ کیا ہے تو وہی لفظ کیا کہلائے گا؟ حقیقت، اور اگر معنی غیر موضوع لہ کا ارادہ کیا ہے تو وہی لفظ کیا کہلائے گا؟ مجاز کہلائے گا، تو استعمال ضروری ہے، بغیر استعمال سے قبل نہ وہ حقیقت ہے اور نہ مجاز ہے۔ وَالْمُرَادُ بِالْوَضْعِ تَعْيِينُهُ لِلْمَعْنَى بِحَيْثُ يَدُلُّ عَلَيْهِ مِنْ غَيْرِ قَرِينَةٍ، اور وضع سے مراد اس لفظ کو متعین کرنا ہے اس معنی کے لیے، بِحَيْثُ يَدُلُّ عَلَيْهِ، اس طور پر کہ اس پر دلالت کرے، مِنْ غَيْرِ قَرِينَةٍ، بغیر کسی قرینے کے۔ وضع آپ پڑھتے رہتے ہیں مولانا، وضع کی، وضع بھئی، وضع بتلا رہے ہیں وضع کا معنی ہے متعین کرنا کہ یہ لفظ اس معنی کے لیے متعین ہے، جیسے اسد کا لفظ کس کے لیے وضع ہے؟ شیر، یعنی شیر کے لیے متعین ہے، بغیر قرینے کے ہی یہ کس پر دلالت کرتا ہے؟ شیر پر دلالت کرتا ہے۔ تو وَالْمُرَادُ بِالْوَضْعِ، اور وضع سے مراد، تَعْيِينُهُ لِلْمَعْنَى، اس لفظ کو متعین کرنا ہے معنی کے لیے، بِحَيْثُ يَدُلُّ عَلَيْهِ، اس طور پر کہ وہ اس معنی پر دلالت کرتا ہے، مِنْ غَيْرِ قَرِينَةٍ، بغیر کسی قرینے کے۔ فَإِنْ كَانَ ذَلِكَ التَّعْيِينُ مِنْ جِهَةِ وَاضِعِ اللُّغَةِ فَوَضْعٌ لُغَوِيٌّ وَإِنْ كَانَ مِنَ الشَّارِعِ فَوَضْعٌ شَرْعِيٌّ، جی، یہاں سے وضع کی اقسام بتلا رہے ہیں مولانا۔ یاد رکھیے وضع چار قسم پر ہے: ایک وضع شرعی ہے، ایک وضع لغوی ہے، وضع شرعی ہے، ایک وضع اصطلاحی ہے اور ایک وضع عرفی ہے بھئی۔ کتنی قسمیں ہوئیں؟ چار۔ پہلی: وضع لغوی، دوسری: وضع شرعی، تیسری: وضع اصطلاحی، چوتھی: وضع عرفی۔ یہ چار قسمیں واضع کے اعتبار سے ہیں، کس اعتبار سے ہیں؟ واضع کے اعتبار سے ہیں۔ اگر واضعِ لغت نے ایک لفظ کو ایک معنی کے لیے وضع کیا ہے تو یہ وضع لغوی ہے، واضعِ لغت نے کیا کیا ہے ایک لفظ کو وضع، تو یہ وضع لغوی ہے۔ اور اگر واضعِ شریعت نے ایک لفظ کو ایک معنی کے لیے وضع کیا ہے تو یہ کیا ہے؟ وضع شرعی ہے۔ وضع لغوی کی مثال، مثال بھی ہر ایک کے ساتھ سنتے جاؤ، وضع لغوی کی مثال جیسے ابھی میں نے بیان کیا، لفظِ اسد کو کس کے لیے وضع کیا گیا ہے؟ لغتِ عربی زبان میں شیر کے لیے، یا جیسے صلاۃ کا لفظ یہ عربی زبان میں دعا کے لیے وضع کیا گیا ہے، تو یہ کیا ہے؟ وضع لغوی۔ اور دوسری وضع شرعی مولانا، اگر شارع واضع ہو اس کا بھئی، تو یہ وضع شرعی ہے، جیسے شریعت کے اندر مولانا، صلاۃ کا لفظ کس کے لیے وضع ہے؟ نماز کے لیے، وہ ارکانِ مخصوص جو ہیں، مخصوص ارکان، مخصوص افعال جو ہیں ان کے لیے وضع ہے۔ تو نماز کے لیے معنی میں یہ لفظ استعمال ہو تو یہ کیا ہے؟ حقیقت ہے مولانا، سمجھ میں آتا ہے، کیونکہ اپنے معنی موضوع لہ میں استعمال ہو رہا ہے۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ اور اگر واضع جو ہے وہ کوئی خاص قوم ہو، خاص لوگوں کی اصطلاح ہو تو اس کو وضع اصطلاحی کہتے ہیں یا وضع عرفی خاص بھی کہتے ہیں اس کو، کیا کہتے ہیں؟ وضع عرفی خاص، یعنی خاص عرف کے اندر ہے، خاص لوگوں کے نزدیک یہ اصطلاح ہے، مثلاً مولانا، نحو کے اندر آپ پڑھتے ہیں: رفع، نصب، جر بھئی، اسی طرح اسم، فعل، حرف بھئی، پھر وہ وہاں تعریف کرتے ہیں اس کی، اسم اس کو کہتے ہیں، فعل اس کو کہتے ہیں، حرف اس کو کہتے ہیں، تو وہ ان کی اپنی اصطلاح ہے نحو والوں کی بھئی، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ اس لفظ کو مثلاً فعل کو کس کے لیے وضع کیا گیا ہے؟ ایسا لفظ جو کس پر دلالت کرے؟ جس کا معنی مستقل ہو اور تین زمانوں میں سے کسی ایک زمانے کے ساتھ ملا ہوا ہو، اس کو وہ کیا کہتے ہیں؟ فعل کہتے ہیں، تو دیکھو یہ علماءِ نحو کی اصطلاح ہے، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ تو اس لفظ کو انہوں نے اس معنی کے لیے متعین کر دیا، تو یہ کون سی وضع ہوئی؟ وضع اصطلاحی یا دوسرا نام کیا ہے؟ وضع عرفی خاص بھئی، کہ خاص لوگوں کے عرف میں ہے یعنی علماءِ نحو کے نزدیک۔ اور ایک وضع عرفِ عام ہے یا وضعِ عرفی کہتے ہیں اس کو بھئی، کہ عام لوگوں نے ایک لفظ کو ایک معنی کے لیے کیا کر لیا ہو؟ متعین کر لیا ہو۔ جیسے مولانا دابہ، دابہ زمین پر چلنے والے ہر جانور کو کہتے ہیں لغت میں، لیکن عام لوگوں نے اب اس کو عام لوگ اس کو صرف کس کے اندر انہوں نے متعین کر لیا؟ چوپائے کے لیے جس کے چار پاؤں ہوں مولانا، اس کے لیے متعین کر لیا، تو وہ جب بھی عام لوگ دابہ بولتے ہیں اس سے کیا مراد لیتے ہیں؟ کوئی چوپایا مراد لیتے ہیں بھئی۔ معلوم ہوا انہوں نے اس معنی کو، اس لفظ کو اس معنی کے لیے متعین کر دیا ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو کہتے ہیں: "فإن كان ذلك" تو بس وضع کہتے کس کو ہیں؟ کسی لفظ کو کسی معنی کے لیے متعین کر دینا، یہ وضع ہے۔ تو کہتے ہیں: "فإن كان ذلك التعيين من جهة واضع اللغة فوضع لغوي وإن كان من الشارع فوضع شرعي وإن كان من قوم مخصوصين فوضع عرفي خاص وإلا فوضع عرفي عام" "والمعتبر في الحقيقة هو الوضع بشيء من الأوضاع المذكورة" اور معتبر حقیقت کے اندر وہ وضع ہے "بشيء من الأوضاع المذكورة" ان مذکورہ وضعوں میں سے کوئی بھئی۔ ان مذکورہ وضعوں میں سے کوئی ایک ہونی چاہیے بس وہ حقیقت ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ کوئی ایک وضع ہو بھئی۔ "وفي المجاز عدمه" اور مجاز کے اندر وہ عدمِ وضع معتبر ہے، کہ وہ لفظ اس معنی کے لیے وضع نہیں ہونا چاہیے یعنی متعین نہیں ہونا چاہیے۔ "فهما في الحقيقة من عوارض ألفاظ" یہاں سے فائدہ بیان کر رہے ہیں کہ متن کے اندر جو لفظ آیا، لفظ کا آیا بھئی، "لكل لفظ" تو بتلا رہے ہیں بھئی کہ ماتن نے مصنف نے لفظ ذکر کیا اس لیے کیونکہ یہ حقیقت اور مجاز دراصل کس کے عوارض میں سے ہیں؟ الفاظ کے عوارض میں سے ہے۔ لفظ موصوف ہو گا حقیقت کے ساتھ یا لفظ موصوف ہو گا کس کے ساتھ؟ لفظ کے بارے میں کہیں گے یہ لفظ حقیقت ہے یا یہ لفظ کیا ہے؟ مجاز ہے۔ "وقد يوصف بهما المعاني والاستعمال" اور کبھی کبھار ان کے ساتھ معانی اور استعمال کو بھی موصوف کر دیا جاتا ہے، کہہ دیتے ہیں یہ معنی حقیقت ہے یا یہ معنی مجازی ہے، اسی طرح یہ یہ استعمال حقیقت ہے یا یہ استعمال مجاز ہے مولانا۔ تو ان کے ذریعے کبھی کبھار معانی اور استعمال کو بھی موصوف کر دیا جاتا ہے۔ "إما مجازاً" تو ان کو یہ حقیقت اور مجاز کے ساتھ جو معنی اور استعمال کو موصوف کیا جاتا ہے یا تو یہ مجازاً ہے "أو على أنه من خطأ العوام" یا یہ کس میں سے ہے؟ عوام کی غلطیوں میں سے ہے۔ یہ تو لفظ کے عوارض میں سے ہے، لفظ کو اس کے ساتھ موصوف ہونا چاہیے، معنی اور استعمال کو موصوف نہیں ہونا چاہیے۔ تو یا تو مجاز کے قبیل سے ہے مولانا، یا یہ کیا ہے؟ عوام کی غلطیوں میں سے۔ مجاز کے قبیل سے ہے بھئی۔ یاد رکھو معنی حقیقی اور مجاز کے درمیان مناسبت کا ہونا ضروری ہے۔ تو حقیقت کس کے عوارض میں سے ہے اصل میں؟ حقیقت اور مجاز، الفاظ کے۔ لیکن کبھی کبھار کس میں استعمال کر لیتے ہیں؟ معنی اور استعمال کے لیے بھی۔ بھئی لفظ دلالت کرتا ہے معنی پر، اور اسی طرح لفظ کو استعمال کیا جاتا ہے کسی معنی کے لیے، تو مناسبت موجود ہے۔ لہذا اس کو محشی کہتے ہیں اس کو مجاز ہی کہنا چاہیے اور یہ جو شارح نے فرمایا کہ یہ عوام کی غلطیوں میں سے ہے، کہتے ہیں اس کو عوام کی غلطی قرار دینا یہ خواص کی غلطی ہے۔ یہ کیا ہے؟ خواص کی غلطی ہے بھئی، کیونکہ مناسبت موجود ہے، جب مناسبت موجود ہے تو اس کو مجاز کہا جائے، غلطی نہ کہا جائے اور علماء نے اس کو غلطی کہا ہے تو انہوں نے خود غلطی کی ہے۔ "وحكمها وجود ما وضعت له خاصاً كان أو عاماً" اور حقیقت کا حکم کیا ہے؟ وجود بمعنی یہاں ثبوت کے ہے۔ یعنی ثبوت ما وضعت له، کہ یہ ثابت کرتا ہے، کہ ثابت ہونا ہے اس معنی کا جس کے لیے اس کو وضع کیا گیا ہے خواہ وہ خاص ہو یا عام۔ حقیقت کا حکم کیا ہے مولانا؟ کہ وہ معنی ثابت ہو جائے گا جو معنی موضوع لہ ہے۔ چاہے خاص ہو وہ یا عام ہو، یعنی اس کے اندر عموم ہو۔ معلوم ہوا حقیقت خاص اور عام دونوں کے ساتھ جمع ہو جاتی ہے۔ دیکھیے خود بیان کر رہے ہیں: "فإن الحقيقة تجتمع مع الخاص والعام جميعاً" پس حقیقت جو ہے وہ جمع ہو جاتی ہے خاص اور عام دونوں کے ساتھ۔ "فإن قوله تعالى" اس لیے کیونکہ اللہ کا یہ قول جو ہے: "يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ارْكَعُوا" اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو تم رکوع کرو۔ اور اسی طرح "وقوله تعالى" اللہ کا یہ قول جو ہے: "وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَى" اور تم قریب نہ جاؤ زنا کے۔ "خاص باعتبار الفعل" یہ خاص ہیں کس اعتبار سے؟ فعل کے اعتبار سے بھئی، وہ کیا ہے؟ "وهو الركوع والزنى" وہ رکوع اور زنا۔ "وعام باعتبار الفاعل" اور یہ عام ہیں کس اعتبار سے؟ فاعل کے اعتبار سے، "وهم المكلفون" اور وہ کون ہیں؟ مکلف بھئی، مکلف بھئی۔ بھئی دیکھیے، یہ دو مثالیں ذکر کیں شارح نے، بتلانا یہ چاہتے ہیں کہ یہ جو حقیقت ہے یہ خاص اور عام دونوں کے ساتھ جمع ہو جاتی ہے۔ یعنی ایک ہی لفظ خاص بھی ہو اور حقیقت بھی ہو۔ یہ ہو سکتا ہے۔ اسی طرح ایک ہی لفظ عام بھی ہو اور وہی لفظ کیا ہو؟ حقیقت بھی ہو، یہ بھی ہو سکتا ہے۔ بھئی خاص کس کو کہتے تھے؟ جو ایک معنی یا ایک فرد پہ دلالت کرے۔ ایک ایک معنی یا ایک فرد پہ دلالت کرے۔ اب دیکھیے، یہاں "يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ارْكَعُوا"، رکوع کیا ہے؟ رکوع کا معنی ہے جھکنا، اس کا ایک ہی معنی ہے، دو یا تین معانی نہیں۔ تو رکوع کا لفظ آیا اور اس سے وہی جھکنے والا معنی مراد ہے یا کوئی اور معنی مراد ہے؟ وہی معنی مراد ہے، تو یہ حقیقت ہوا، کیا ہوا؟ وہی معنی موضوع لہ مراد ہے۔ اور یہی لفظ خاص بھی ہے۔ کیونکہ رکوع کا کیا معنی ہے؟ جھکنا، کوئی اور معنی تو نہیں، ایک ہی معنی ہے اور ایک ہی معنی ہو تو اس کو کیا کہا جاتا ہے؟ خاص۔ تو یہی رکوع کیا ہے؟ خاص بھی ہے اور یہی کیا ہے؟ حقیقت بھی ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو خاص اور حقیقت جمع ہو گئے بھئی، ایک ہی لفظ خاص بھی ہے اور... اسی طرح زنا، زنا کسے کہتے ہیں؟ محلِ حرام میں وطی کرنا، غیرِ ملک میں وطی کرنا۔ غیرِ ملک میں وطی کرنا، اور یہاں ہے "وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَى"، زنا کا یہی معنی مراد ہے یا کوئی اور معنی مراد ہے؟ تو یہ حقیقت ہے، لفظ کس میں استعمال ہو رہا ہے؟ معنی موضوع لہ میں، حقیقت ہے۔ اور یہی لفظ خاص بھی ہے۔ کیونکہ زنا کا یہی ایک معنی ہے یا دو تین معانی ہیں؟ ایک ہی معنی ہے اور ایک ہی معنی کے لیے ایک ہی معنی ہو تو اس کو کیا کہا جاتا ہے لفظ کو؟ خاص کہا جاتا ہے۔ تو یہی لفظ خاص بھی ہے اور حقیقت بھی ہے، تو دیکھو خاص اور حقیقت کیا ہو رہے ہیں؟ جمع، معلوم ہوا خاص اور حقیقت جمع ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح عام اور حقیقت بھی جمع ہو سکتے ہیں۔ وہ کس اعتبار سے؟ وہ فاعل کے اعتبار سے ان جملوں میں جو آیا۔ دیکھو، "ارْكَعُوا" واؤ آیا، اور واؤ ضمیر ہے، کون سی ضمیر؟ جمع مذکر مخاطب کی بھئی، "ارْكَعُوا" جمع مذکر مخاطب کا صیغہ ہے نا؟ تو یہ جمع مذکر مخاطب کی ضمیر ہے۔ اور اس سے جمع مذکر مخاطب ہی مراد ہیں یا کوئی اور مراد ہیں؟ وہی مراد ہیں، تو یہ لفظ حقیقت ہوا بھئی۔ اور ایک فرد مراد ہے یا مجموعہ افراد مراد ہیں؟ افراد مراد ہیں، اور افراد خاص میں ہوتے ہیں کہ عام میں؟ عام میں، معلوم ہوا یہ عام بھی ہے اور حقیقت بھی ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اسی طرح "وَلَا تَقْرَبُوا"، اس میں بھی واؤ آیا بھئی۔ تو "لَا تَقْرَبُوا" نہی ہے اور اس میں یہ واؤ آیا اور واؤ ضمیر ہے کون سی؟ جمع مذکر مخاطب کی، اور اس سے وہی جمع مذکر مخاطب ہی مراد ہیں یا کوئی اور مراد؟ وہی مراد، تو یہ حقیقت بھی ہے۔ اور ایک فرد مراد ہے یا مجموعہ افراد ہیں بھئی؟ کئی افراد مراد ہیں، مجموعہ افراد مراد ہیں، تو یہی عام بھی ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو معلوم ہوا حقیقت خاص کے ساتھ بھی جمع ہو جاتی ہے اور حقیقت مجاز کے ساتھ بھی جمع ہو جاتی ہے۔ اسی لیے کہا کہ "خاص باعتبار الفعل" یہ دونوں خاص ہیں کس اعتبار سے؟ فعل کے اعتبار سے بھئی، فعل کیا؟ "وهو الركوع والزنى" بھئی، کیونکہ ان کا ایک ایک ہی معنی آتا ہے۔ "وعام باعتبار الفاعل" اور یہ عام ہیں کس اعتبار سے؟ فاعل کے اعتبار سے، اور فاعل کون؟ "وهم المكلفون" بھئی، جن کو مکلف بنایا گیا، جن کو حکم دیا جا رہا ہے، یعنی مومنین بھئی۔ "وأما المجاز فاسم لما أريد به غير ما وضع له لمناسبة بينهما" اور مجاز جو ہے وہ نام ہے "لما" اس ما سے مراد لفظ ہے، وہ نام ہے اس لفظ کا "أريد به" کہ ارادہ کیا جائے اس کے ذریعے "غير ما وضع له" غیر اس معنی کا جس کے لیے اس کو وضع کیا گیا ہے، یعنی غیر موضوع لہ معنی کا ارادہ کیا جائے "لمناسبة بينهما" بوجہ ان دونوں کے درمیان مناسبت پائے جانے کے، جن دونوں کے درمیان؟ معنی موضوع لہ اور معنی غیر موضوع لہ۔ "وأما المجاز فاسم لما أريد به غير ما وضع له لمناسبة بينهما" باقی مجاز جو ہے پس نام ہے اس لفظ کا کہ ارادہ کیا جائے اس کے ذریعے غیر موضوع لہ معنی کا بوجہ ان دونوں کے درمیان مناسبت کے پائے جانے کے، یعنی معنی موضوع لہ اور معنی غیر موضوع لہ میں مناسبت ہو گی۔ "أي اسم لكل لفظ أريد به غير ما وضع له لأجل مناسبة بين المعنى الموضوع له وغير الموضوع له" یعنی نام ہے ہر اس مجاز نام ہے ہر اس لفظ کا کہ ارادہ کیا جائے اس کے ذریعے غیر موضوع لہ معنی کا بوجہ مناسبت پائے جانے کے معنی موضوع لہ کے درمیان اور معنی غیر موضوع لہ کے۔ "واحترز به عن مثل استعمال لفظ الأرض في السماء" اور احتراز کیا اس کے ذریعے، جو مناسبت کا لفظ ذکر کیا نا کہ ان دونوں کے درمیان کیا ہو گی؟ اس کے ذریعے کہتے ہیں احتراز کیا "عن مثل استعمال لفظ الأرض في السماء"، لفظِ ارض کو سماء کے اندر استعمال کرنے جیسی مثالوں سے کیا کیا؟ اس سے احتراز کیا۔ مثلاً کوئی شخص لفظِ ارض بولتا ہے اور آسمان مراد لیتا ہے مولانا، زمین بول کر کیا مراد لیتا ہے؟ آسمان بھئی، کہتے ہیں کیونکہ ان دونوں کے درمیان کوئی مناسبت نہیں ہے بھئی، ما... سمجھ میں آیا؟ "مما لا مناسبة بينهما" ان میں سے جن کے درمیان کوئی مناسبت نہیں ہے، "وعن الهزل" اور اسی طرح یہ مناسبت کے ذریعے احتراز کیا ہزل سے یعنی مذاق سے، بھئی مذاق کے اندر بھی بعض اوقات انسان کیا کرتا ہے ایک لفظ بول کر دوسرے معنی کا ارادہ کرتا ہے اگرچہ ان دونوں کے درمیان کوئی مناسبت نہیں ہوتی بھئی۔ "فإنه وإن أريد به غير ما وضع له لكن لا مناسبة بينهما" اس لیے کہ اس کے ذریعے اگرچہ ارادہ کیا گیا ہے معنی غیر موضوع لہ کا لیکن اس کے ساتھ اس کی کوئی مناسبت نہیں ہے، کوئی مناسبت نہیں ہے۔ سمجھ میں آیا؟ مثلاً بھئی، ایک بڑا ہی آپ کا سست ساتھی آیا بھئی، یا یوں کہو، آپ کا ایک بڑا ہی بزدل ساتھی آیا مولانا، آپ نے کہا لو بھئی شیر آ گیا، شیر آ گیا بھئی۔ اچھا، شیر بول کر کیا مراد لیا آپ نے؟ بزدل مراد لیا، کیا مراد لیا؟ تو یہ بطورِ مذاق کیا آپ نے، معنی موضوع لہ میں استعمال کیا یا غیر موضوع لہ میں؟ غیر موضوع لہ میں استعمال کیا، لیکن اس کو مجاز نہیں کہیں گے کیونکہ ان دونوں کے درمیان شیر اور بزدلی کے درمیان کوئی مناسبت موجود نہیں۔ یہ معنی ہے کہ ہزل سے بھی احتراز کیا کیونکہ اگرچہ اس کے ذریعے معنی غیر موضوع لہ کا ارادہ کیا جاتا ہے لیکن ان دونوں کے درمیان کوئی مناسبت نہیں ہے۔ اسی طرح پچھلی مثال میں تھا ارض بول کر کیا مراد لینا؟ سماء، ان میں بھی کوئی مناسبت نہیں ہے۔ "ولم يذكر قيد كونه عند قيام القرينة" اور مصنف نے ذکر نہیں کیا کہ یہ کسی قرینے کے قائم ہوتے وقت ہو گا بھئی۔ یعنی معنی موضوع لہ کا ارادہ کیا جائے معنی غیر موضوع لہ کا ارادہ کیا جائے گا اور ساتھ کیا ہونا چاہیے؟ کوئی قرینہ بھی ہونا چاہیے، یہ قید انہوں نے ذکر نہیں کی، کہتے ہیں اس لیے کیونکہ یہاں پر مجاز کو متکلم کے اعتبار سے بیان کیا جا رہا ہے، متکلم کے ارادے کے اعتبار سے۔ متکلم ایک لفظ بولتا ہے اور اس کے ذریعے معنی غیر موضوع لہ کا ارادہ کرتا ہے، کس کا ارادہ کرتا ہے؟ تو متکلم کو کسی قرینے کی ضرورت نہیں، ہاں، مخاطب کو قرینہ چاہیے کہ اس کو پتہ لگے کہ یہاں معنی موضوع لہ مراد نہیں ہے بلکہ کیا مراد ہے؟ معنی غیر موضوع لہ۔ تو قرینہ مخاطب کے سمجھنے کے لیے ضروری ہے، متکلم کے بولنے کے لیے ضروری نہیں۔ بات بھی سمجھ میں آئی کہ نہیں آئی؟ جی؟ ہاں، متکلم ایک لفظ بولتا ہے اور اس کے ذریعے معنی غیر موضوع لہ کا ارادہ کرتا ہے، دونوں میں مناسبت موجود ہے، تو اس کے لیے کسی قرینے کی حاجت نہیں، ہاں کس کے لیے قرینہ چاہیے؟ مخاطب، مخاطب میں اس کلام کو اس کو سمجھنے کے لیے کہ یہ لفظ معنی غیر موضوع لہ میں استعمال ہے کوئی قرینہ چاہیے، بغیر قرینے کے اسے کیا پتہ لگے گا بھئی؟ وہ تو کیا سمجھے گا اس سے کون سا معنی مراد ہے؟ معنی موضوع لہ، لیکن وہ قرینہ اسے بتلا دے گا کہ کون سا معنی مراد ہے؟ غیر موضوع لہ بھئی۔ تو یہاں پر جو مصنف ذکر کر رہے ہیں وہ متکلم کے ارادے کے اعتبار سے مجاز کو ذکر کر رہے ہیں اور متکلم کے ارادے کے اعتبار سے کسی قرینے کی ضرورت نہیں بھئی، ہاں مخاطب کے اعتبار سے ضرورت ہے لیکن وہ الگ بات ہے اس کو بعد میں وہ پھر جا کر آخر میں ذکر کریں گے۔ تو کہتے ہیں: "ولم يذكر قيد كونه عند قيام القرينة لأن الغرض هاهنا بيان المجاز بحسب إرادة المتكلم" اور ذکر نہیں کیا قرینے کے قائم ہونے کے وقت کے قید کو، اس لیے کیونکہ یہاں پر غرض جو ہے وہ متکلم کے ارادے کے اعتبار سے مجاز کو بیان کرنا ہے "وقد تم به" اور تحقیق اس تعریف کے ذریعے وہ کیا ہوا؟ تام ہوا، جو تعریف بیان کر دی اس کے ذریعے پورا بیان ہو گیا بھئی مجاز۔ "والقرينة إنما يحتاج إليها لأجل فهم السامع" اور قرینہ جو ہے اس کی احتیاج ہوتی ہے سامع کے سمجھنے کے لیے وجہ سے، سامع کے سمجھنے کے لیے، "وهو أمر زائد" اور وہ ایک زائد چیز ہے "على أنه سيأتي ذكرها في آخر بحث المجاز" بناء بر اس کے کہ عنقریب اس کا ذکر آ جائے گا بھئی مجاز کی بحث کے آخر کے اندر، یہ قرینے کا ذکر آ جائے گا۔ "وأما المجاز بالزيادة" یہ ایک اعتراض کا جواب دے رہے ہیں کہ کبھی کبھار بھئی مجاز بالزیادة ہوتا ہے بھئی، ایک لفظ ایک معنی کے لیے وضع ہے اور اس معنی کے کلام میں آپ استعمال کرتے ہیں۔ بھئی آپ نے کلامِ عرب نحو میں پڑھا ہے، بعض اوقات کیا ہوتا ہے؟ کوئی حرف وغیرہ لاتے ہیں اور کہتے ہیں یہ حرف زائد ہے، یہ کیا ہے؟ زائد ہے، جیسے كَفَى بِاللَّهِ، كَفَى فعل اور بَا کیا ہے؟ زائدہ ہے۔ تو یہ مجاز بالزیادة ہے، یہ کیا ہے؟ تو یہ معنی موضوع لہ میں استعمال ہوا ہے یا غیر موضوع لہ میں تاکید کے لیے آیا ہے بھئی؟ یہ معنی غیر موضوع لہ میں استعمال ہوا ہے۔ تو لہذا کہتے ہیں چونکہ یہ معنی غیر موضوع لہ میں استعمال ہوا اور مجاز بھی کس کو کہتے تھے؟ معنی غیر موضوع لہ میں استعمال کو کہتے تھے، لہذا یہ بھی کیا ہے؟ مجاز کی تعریف کے اندر داخل ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: "وأما المجاز بالزيادة فمثل قوله تعالى: لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ" اور باقی مجاز بالزیادة جو ہے "مثل قوله تعالى" جیسے اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے: "لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ" اللہ کے مثل کوئی چیز نہیں ہے۔ اب یہاں دیکھو، کَاف بھی کس معنی میں استعمال ہوتا ہے؟ مثل کے معنی میں استعمال ہوتا ہے، تو لہذا علماء فرماتے ہیں یہاں یہ کَاف زائد ہے کیونکہ مثل کا لفظ آگے خود آ رہا ہے۔ اگر کَاف کو بھی مثل کے معنی میں لیں تو پھر اس صورت میں خرابی لازم آئے گی۔ پھر کلام یوں ہو جائے گا: "لَيْسَ مِثْلَ مِثْلِهِ شَيْءٌ" اللہ کے مثل کے مثل کوئی چیز نہیں ہے، تو معنی یہ ہوا کہ یوں مفہوم ہوا اس سے کہ گویا کہ اللہ کا مثل تو موجود ہے لیکن اللہ کے آگے مثل کا مثل کوئی نہیں، حالانکہ یہ مراد نہیں ہے بھئی، تو لہذا کہتے ہیں یہ کَاف زائد ہے مولانا تا تشبیہ کی تاکید کے لیے آیا ہے۔ "فيصدق عليه أيضاً" تو اس پر بھی صادق آتا ہے "أنه أريد به غير ما وضع له" کہ اس کے اس کے ذریعے ارادہ کیا گیا ہے غیر موضوع لہ کا "لأن ما وضع له هو التشبيه لا التأكيد والزيادة" اس لیے کہ معنی موضوع لہ جو ہے وہ تشبیہ ہے نہ کہ تاکید اور زیادت بھئی، لیکن بہرحال یہ کس میں استعمال ہوا ہے؟ معنی غیر موضوع لہ میں استعمال ہوا ہے، تو یہ مجاز میں داخل ہے۔ لیکن اس پر اعتراض ہوتا ہے مولانا کہ وہاں تو "لمناسبة" کی قید بھی موجود تھی بھئی، کہ دونوں معنی موضوع لہ اور غیر موضوع لہ میں کیا ہو؟ مناسبت موجود ہو۔ اور ایک وضع عرفِ عام ہے یا وضعِ عرفی کہتے ہیں اس کو بھئی، کہ عام لوگوں نے ایک لفظ کو ایک معنی کے لیے کیا کر لیا ہو؟ متعین کر لیا ہو۔ جیسے مولانا دابہ، دابہ زمین پر چلنے والے ہر جانور کو کہتے ہیں لغت میں، لیکن عام لوگوں نے اب اس کو عام لوگ اس کو صرف کس کے اندر انہوں نے متعین کر لیا؟ چوپائے کے لیے جس کے چار پاؤں ہوں مولانا، اس کے لیے متعین کر لیا، تو وہ جب بھی عام لوگ دابہ بولتے ہیں اس سے کیا مراد لیتے ہیں؟ کوئی چوپایا مراد لیتے ہیں بھئی۔ معلوم ہوا انہوں نے اس معنی کو، اس لفظ کو اس معنی کے لیے متعین کر دیا ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو کہتے ہیں: "فإن كان ذلك" تو بس وضع کہتے کس کو ہیں؟ کسی لفظ کو کسی معنی کے لیے متعین کر دینا، یہ وضع ہے۔ تو کہتے ہیں: "فإن كان ذلك التعيين من جهة واضع اللغة فوضع لغوي وإن كان من الشارع فوضع شرعي وإن كان من قوم مخصوصين فوضع عرفي خاص وإلا فوضع عرفي عام" "والمعتبر في الحقيقة هو الوضع بشيء من الأوضاع المذكورة" اور معتبر حقیقت کے اندر وہ وضع ہے "بشيء من الأوضاع المذكورة" ان مذکورہ وضعوں میں سے کوئی بھئی۔ ان مذکورہ وضعوں میں سے کوئی ایک ہونی چاہیے بس وہ حقیقت ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ کوئی ایک وضع ہو بھئی۔ "وفي المجاز عدمه" اور مجاز کے اندر وہ عدمِ وضع معتبر ہے، کہ وہ لفظ اس معنی کے لیے وضع نہیں ہونا چاہیے یعنی متعین نہیں ہونا چاہیے۔ "فهما في الحقيقة من عوارض ألفاظ" یہاں سے فائدہ بیان کر رہے ہیں کہ متن کے اندر جو لفظ آیا، لفظ کا آیا بھئی، "لكل لفظ" تو بتلا رہے ہیں بھئی کہ ماتن نے مصنف نے لفظ ذکر کیا اس لیے کیونکہ یہ حقیقت اور مجاز دراصل کس کے عوارض میں سے ہیں؟ الفاظ کے عوارض میں سے ہے۔ لفظ موصوف ہو گا حقیقت کے ساتھ یا لفظ موصوف ہو گا کس کے ساتھ؟ لفظ کے بارے میں کہیں گے یہ لفظ حقیقت ہے یا یہ لفظ کیا ہے؟ مجاز ہے۔ "وقد يوصف بهما المعاني والاستعمال" اور کبھی کبھار ان کے ساتھ معانی اور استعمال کو بھی موصوف کر دیا جاتا ہے، کہہ دیتے ہیں یہ معنی حقیقت ہے یا یہ معنی مجازی ہے، اسی طرح یہ یہ استعمال حقیقت ہے یا یہ استعمال مجاز ہے مولانا۔ تو ان کے ذریعے کبھی کبھار معانی اور استعمال کو بھی موصوف کر دیا جاتا ہے۔ "إما مجازاً" تو ان کو یہ حقیقت اور مجاز کے ساتھ جو معنی اور استعمال کو موصوف کیا جاتا ہے یا تو یہ مجازاً ہے "أو على أنه من خطأ العوام" یا یہ کس میں سے ہے؟ عوام کی غلطیوں میں سے ہے۔ یہ تو لفظ کے عوارض میں سے ہے، لفظ کو اس کے ساتھ موصوف ہونا چاہیے، معنی اور استعمال کو موصوف نہیں ہونا چاہیے۔ تو یا تو مجاز کے قبیل سے ہے مولانا، یا یہ کیا ہے؟ عوام کی غلطیوں میں سے۔ مجاز کے قبیل سے ہے بھئی۔ یاد رکھو معنی حقیقی اور مجاز کے درمیان مناسبت کا ہونا ضروری ہے۔ تو حقیقت کس کے عوارض میں سے ہے اصل میں؟ حقیقت اور مجاز، الفاظ کے۔ لیکن کبھی کبھار کس میں استعمال کر لیتے ہیں؟ معنی اور استعمال کے لیے بھی۔ بھئی لفظ دلالت کرتا ہے معنی پر، اور اسی طرح لفظ کو استعمال کیا جاتا ہے کسی معنی کے لیے، تو مناسبت موجود ہے۔ لہذا اس کو محشی کہتے ہیں اس کو مجاز ہی کہنا چاہیے اور یہ جو شارح نے فرمایا کہ یہ عوام کی غلطیوں میں سے ہے، کہتے ہیں اس کو عوام کی غلطی قرار دینا یہ خواص کی غلطی ہے۔ یہ کیا ہے؟ خواص کی غلطی ہے بھئی، کیونکہ مناسبت موجود ہے، جب مناسبت موجود ہے تو اس کو مجاز کہا جائے، غلطی نہ کہا جائے اور علماء نے اس کو غلطی کہا ہے تو انہوں نے خود غلطی کی ہے۔ "وحكمها وجود ما وضعت له خاصاً كان أو عاماً" اور حقیقت کا حکم کیا ہے؟ وجود بمعنی یہاں ثبوت کے ہے۔ یعنی ثبوت ما وضعت له، کہ یہ ثابت کرتا ہے، کہ ثابت ہونا ہے اس معنی کا جس کے لیے اس کو وضع کیا گیا ہے خواہ وہ خاص ہو یا عام۔ حقیقت کا حکم کیا ہے مولانا؟ کہ وہ معنی ثابت ہو جائے گا جو معنی موضوع لہ ہے۔ چاہے خاص ہو وہ یا عام ہو، یعنی اس کے اندر عموم ہو۔ معلوم ہوا حقیقت خاص اور عام دونوں کے ساتھ جمع ہو جاتی ہے۔ دیکھیے خود بیان کر رہے ہیں: "فإن الحقيقة تجتمع مع الخاص والعام جميعاً" پس حقیقت جو ہے وہ جمع ہو جاتی ہے خاص اور عام دونوں کے ساتھ۔ "فإن قوله تعالى" اس لیے کیونکہ اللہ کا یہ قول جو ہے: "يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ارْكَعُوا" اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو تم رکوع کرو۔ اور اسی طرح "وقوله تعالى" اللہ کا یہ قول جو ہے: "وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَى" اور تم قریب نہ جاؤ زنا کے۔ "خاص باعتبار الفعل" یہ خاص ہیں کس اعتبار سے؟ فعل کے اعتبار سے بھئی، وہ کیا ہے؟ "وهو الركوع والزنى" وہ رکوع اور زنا۔ "وعام باعتبار الفاعل" اور یہ عام ہیں کس اعتبار سے؟ فاعل کے اعتبار سے، "وهم المكلفون" اور وہ کون ہیں؟ مکلف بھئی، مکلف بھئی۔ بھئی دیکھیے، یہ دو مثالیں ذکر کیں شارح نے، بتلانا یہ چاہتے ہیں کہ یہ جو حقیقت ہے یہ خاص اور عام دونوں کے ساتھ جمع ہو جاتی ہے۔ یعنی ایک ہی لفظ خاص بھی ہو اور حقیقت بھی ہو۔ یہ ہو سکتا ہے۔ اسی طرح ایک ہی لفظ عام بھی ہو اور وہی لفظ کیا ہو؟ حقیقت بھی ہو، یہ بھی ہو سکتا ہے۔ بھئی خاص کس کو کہتے تھے؟ جو ایک معنی یا ایک فرد پہ دلالت کرے۔ ایک ایک معنی یا ایک فرد پہ دلالت کرے۔ اب دیکھیے، یہاں "يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ارْكَعُوا"، رکوع کیا ہے؟ رکوع کا معنی ہے جھکنا، اس کا ایک ہی معنی ہے، دو یا تین معانی نہیں۔ تو رکوع کا لفظ آیا اور اس سے وہی جھکنے والا معنی مراد ہے یا کوئی اور معنی مراد ہے؟ وہی معنی مراد ہے، تو یہ حقیقت ہوا، کیا ہوا؟ وہی معنی موضوع لہ مراد ہے۔ اور یہی لفظ خاص بھی ہے۔ کیونکہ رکوع کا کیا معنی ہے؟ جھکنا، کوئی اور معنی تو نہیں، ایک ہی معنی ہے اور ایک ہی معنی ہو تو اس کو کیا کہا جاتا ہے؟ خاص۔ تو یہی رکوع کیا ہے؟ خاص بھی ہے اور یہی کیا ہے؟ حقیقت بھی ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو خاص اور حقیقت جمع ہو گئے بھئی، ایک ہی لفظ خاص بھی ہے اور... اسی طرح زنا، زنا کسے کہتے ہیں؟ محلِ حرام میں وطی کرنا، غیرِ ملک میں وطی کرنا۔ غیرِ ملک میں وطی کرنا، اور یہاں ہے "وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَى"، زنا کا یہی معنی مراد ہے یا کوئی اور معنی مراد ہے؟ تو یہ حقیقت ہے، لفظ کس میں استعمال ہو رہا ہے؟ معنی موضوع لہ میں، حقیقت ہے۔ اور یہی لفظ خاص بھی ہے۔ کیونکہ زنا کا یہی ایک معنی ہے یا دو تین معانی ہیں؟ ایک ہی معنی ہے اور ایک ہی معنی کے لیے ایک ہی معنی ہو تو اس کو کیا کہا جاتا ہے لفظ کو؟ خاص کہا جاتا ہے۔ تو یہی لفظ خاص بھی ہے اور حقیقت بھی ہے، تو دیکھو خاص اور حقیقت کیا ہو رہے ہیں؟ جمع، معلوم ہوا خاص اور حقیقت جمع ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح عام اور حقیقت بھی جمع ہو سکتے ہیں۔ وہ کس اعتبار سے؟ وہ فاعل کے اعتبار سے ان جملوں میں جو آیا۔ دیکھو، "ارْكَعُوا" واؤ آیا، اور واؤ ضمیر ہے، کون سی ضمیر؟ جمع مذکر مخاطب کی بھئی، "ارْكَعُوا" جمع مذکر مخاطب کا صیغہ ہے نا؟ تو یہ جمع مذکر مخاطب کی ضمیر ہے۔ اور اس سے جمع مذکر مخاطب ہی مراد ہیں یا کوئی اور مراد ہیں؟ وہی مراد ہیں، تو یہ لفظ حقیقت ہوا بھئی۔ اور ایک فرد مراد ہے یا مجموعہ افراد مراد ہیں؟ افراد مراد ہیں، اور افراد خاص میں ہوتے ہیں کہ عام میں؟ عام میں، معلوم ہوا یہ عام بھی ہے اور حقیقت بھی ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اسی طرح "وَلَا تَقْرَبُوا"، اس میں بھی واؤ آیا بھئی۔ تو "لَا تَقْرَبُوا" نہی ہے اور اس میں یہ واؤ آیا اور واؤ ضمیر ہے کون سی؟ جمع مذکر مخاطب کی، اور اس سے وہی جمع مذکر مخاطب ہی مراد ہیں یا کوئی اور مراد؟ وہی مراد، تو یہ حقیقت بھی ہے۔ اور ایک فرد مراد ہے یا مجموعہ افراد ہیں بھئی؟ کئی افراد مراد ہیں، مجموعہ افراد مراد ہیں، تو یہی عام بھی ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو معلوم ہوا حقیقت خاص کے ساتھ بھی جمع ہو جاتی ہے اور حقیقت مجاز کے ساتھ بھی جمع ہو جاتی ہے۔ اسی لیے کہا کہ "خاص باعتبار الفعل" یہ دونوں خاص ہیں کس اعتبار سے؟ فعل کے اعتبار سے بھئی، فعل کیا؟ "وهو الركوع والزنى" بھئی، کیونکہ ان کا ایک ایک ہی معنی آتا ہے۔ "وعام باعتبار الفاعل" اور یہ عام ہیں کس اعتبار سے؟ فاعل کے اعتبار سے، اور فاعل کون؟ "وهم المكلفون" بھئی، جن کو مکلف بنایا گیا، جن کو حکم دیا جا رہا ہے، یعنی مومنین بھئی۔ "وأما المجاز فاسم لما أريد به غير ما وضع له لمناسبة بينهما" اور مجاز جو ہے وہ نام ہے "لما" اس ما سے مراد لفظ ہے، وہ نام ہے اس لفظ کا "أريد به" کہ ارادہ کیا جائے اس کے ذریعے "غير ما وضع له" غیر اس معنی کا جس کے لیے اس کو وضع کیا گیا ہے، یعنی غیر موضوع لہ معنی کا ارادہ کیا جائے "لمناسبة بينهما" بوجہ ان دونوں کے درمیان مناسبت پائے جانے کے، جن دونوں کے درمیان؟ معنی موضوع لہ اور معنی غیر موضوع لہ۔ "وأما المجاز فاسم لما أريد به غير ما وضع له لمناسبة بينهما" باقی مجاز جو ہے پس نام ہے اس لفظ کا کہ ارادہ کیا جائے اس کے ذریعے غیر موضوع لہ معنی کا بوجہ ان دونوں کے درمیان مناسبت کے پائے جانے کے، یعنی معنی موضوع لہ اور معنی غیر موضوع لہ میں مناسبت ہو گی۔ "أي اسم لكل لفظ أريد به غير ما وضع له لأجل مناسبة بين المعنى الموضوع له وغير الموضوع له" یعنی نام ہے ہر اس مجاز نام ہے ہر اس لفظ کا کہ ارادہ کیا جائے اس کے ذریعے غیر موضوع لہ معنی کا بوجہ مناسبت پائے جانے کے معنی موضوع لہ کے درمیان اور معنی غیر موضوع لہ کے۔ "واحترز به عن مثل استعمال لفظ الأرض في السماء" اور احتراز کیا اس کے ذریعے، جو مناسبت کا لفظ ذکر کیا نا کہ ان دونوں کے درمیان کیا ہو گی؟ اس کے ذریعے کہتے ہیں احتراز کیا "عن مثل استعمال لفظ الأرض في السماء"، لفظِ ارض کو سماء کے اندر استعمال کرنے جیسی مثالوں سے کیا کیا؟ اس سے احتراز کیا۔ مثلاً کوئی شخص لفظِ ارض بولتا ہے اور آسمان مراد لیتا ہے مولانا، زمین بول کر کیا مراد لیتا ہے؟ آسمان بھئی، کہتے ہیں کیونکہ ان دونوں کے درمیان کوئی مناسبت نہیں ہے بھئی، ما... سمجھ میں آیا؟ "مما لا مناسبة بينهما" ان میں سے جن کے درمیان کوئی مناسبت نہیں ہے، "وعن الهزل" اور اسی طرح یہ مناسبت کے ذریعے احتراز کیا ہزل سے یعنی مذاق سے، بھئی مذاق کے اندر بھی بعض اوقات انسان کیا کرتا ہے ایک لفظ بول کر دوسرے معنی کا ارادہ کرتا ہے اگرچہ ان دونوں کے درمیان کوئی مناسبت نہیں ہوتی بھئی۔ "فإنه وإن أريد به غير ما وضع له لكن لا مناسبة بينهما" اس لیے کہ اس کے ذریعے اگرچہ ارادہ کیا گیا ہے معنی غیر موضوع لہ کا لیکن اس کے ساتھ اس کی کوئی مناسبت نہیں ہے، کوئی مناسبت نہیں ہے۔ سمجھ میں آیا؟ مثلاً بھئی، ایک بڑا ہی آپ کا سست ساتھی آیا بھئی، یا یوں کہو، آپ کا ایک بڑا ہی بزدل ساتھی آیا مولانا، آپ نے کہا لو بھئی شیر آ گیا، شیر آ گیا بھئی۔ اچھا، شیر بول کر کیا مراد لیا آپ نے؟ بزدل مراد لیا، کیا مراد لیا؟ تو یہ بطورِ مذاق کیا آپ نے، معنی موضوع لہ میں استعمال کیا یا غیر موضوع لہ میں؟ غیر موضوع لہ میں استعمال کیا، لیکن اس کو مجاز نہیں کہیں گے کیونکہ ان دونوں کے درمیان شیر اور بزدلی کے درمیان کوئی مناسبت موجود نہیں۔ یہ معنی ہے کہ ہزل سے بھی احتراز کیا کیونکہ اگرچہ اس کے ذریعے معنی غیر موضوع لہ کا ارادہ کیا جاتا ہے لیکن ان دونوں کے درمیان کوئی مناسبت نہیں ہے۔ اسی طرح پچھلی مثال میں تھا ارض بول کر کیا مراد لینا؟ سماء، ان میں بھی کوئی مناسبت نہیں ہے۔ "ولم يذكر قيد كونه عند قيام القرينة" اور مصنف نے ذکر نہیں کیا کہ یہ کسی قرینے کے قائم ہوتے وقت ہو گا بھئی۔ یعنی معنی موضوع لہ کا ارادہ کیا جائے معنی غیر موضوع لہ کا ارادہ کیا جائے گا اور ساتھ کیا ہونا چاہیے؟ کوئی قرینہ بھی ہونا چاہیے، یہ قید انہوں نے ذکر نہیں کی، کہتے ہیں اس لیے کیونکہ یہاں پر مجاز کو متکلم کے اعتبار سے بیان کیا جا رہا ہے، متکلم کے ارادے کے اعتبار سے۔ متکلم ایک لفظ بولتا ہے اور اس کے ذریعے معنی غیر موضوع لہ کا ارادہ کرتا ہے، کس کا ارادہ کرتا ہے؟ تو متکلم کو کسی قرینے کی ضرورت نہیں، ہاں، مخاطب کو قرینہ چاہیے کہ اس کو پتہ لگے کہ یہاں معنی موضوع لہ مراد نہیں ہے بلکہ کیا مراد ہے؟ معنی غیر موضوع لہ۔ تو قرینہ مخاطب کے سمجھنے کے لیے ضروری ہے، متکلم کے بولنے کے لیے ضروری نہیں۔ بات بھی سمجھ میں آئی کہ نہیں آئی؟ جی؟ ہاں، متکلم ایک لفظ بولتا ہے اور اس کے ذریعے معنی غیر موضوع لہ کا ارادہ کرتا ہے، دونوں میں مناسبت موجود ہے، تو اس کے لیے کسی قرینے کی حاجت نہیں، ہاں کس کے لیے قرینہ چاہیے؟ مخاطب، مخاطب میں اس کلام کو اس کو سمجھنے کے لیے کہ یہ لفظ معنی غیر موضوع لہ میں استعمال ہے کوئی قرینہ چاہیے، بغیر قرینے کے اسے کیا پتہ لگے گا بھئی؟ وہ تو کیا سمجھے گا اس سے کون سا معنی مراد ہے؟ معنی موضوع لہ، لیکن وہ قرینہ اسے بتلا دے گا کہ کون سا معنی مراد ہے؟ غیر موضوع لہ بھئی۔ تو یہاں پر جو مصنف ذکر کر رہے ہیں وہ متکلم کے ارادے کے اعتبار سے مجاز کو ذکر کر رہے ہیں اور متکلم کے ارادے کے اعتبار سے کسی قرینے کی ضرورت نہیں بھئی، ہاں مخاطب کے اعتبار سے ضرورت ہے لیکن وہ الگ بات ہے اس کو بعد میں وہ پھر جا کر آخر میں ذکر کریں گے۔ تو کہتے ہیں: "ولم يذكر قيد كونه عند قيام القرينة لأن الغرض هاهنا بيان المجاز بحسب إرادة المتكلم" اور ذکر نہیں کیا قرینے کے قائم ہونے کے وقت کے قید کو، اس لیے کیونکہ یہاں پر غرض جو ہے وہ متکلم کے ارادے کے اعتبار سے مجاز کو بیان کرنا ہے "وقد تم به" اور تحقیق اس تعریف کے ذریعے وہ کیا ہوا؟ تام ہوا، جو تعریف بیان کر دی اس کے ذریعے پورا بیان ہو گیا بھئی مجاز۔ "والقرينة إنما يحتاج إليها لأجل فهم السامع" اور قرینہ جو ہے اس کی احتیاج ہوتی ہے سامع کے سمجھنے کے لیے وجہ سے، سامع کے سمجھنے کے لیے، "وهو أمر زائد" اور وہ ایک زائد چیز ہے "على أنه سيأتي ذكرها في آخر بحث المجاز" بناء بر اس کے کہ عنقریب اس کا ذکر آ جائے گا بھئی مجاز کی بحث کے آخر کے اندر، یہ قرینے کا ذکر آ جائے گا۔ "وأما المجاز بالزيادة" یہ ایک اعتراض کا جواب دے رہے ہیں کہ کبھی کبھار بھئی مجاز بالزیادة ہوتا ہے بھئی، ایک لفظ ایک معنی کے لیے وضع ہے اور اس معنی کے کلام میں آپ استعمال کرتے ہیں۔ بھئی آپ نے کلامِ عرب نحو میں پڑھا ہے، بعض اوقات کیا ہوتا ہے؟ کوئی حرف وغیرہ لاتے ہیں اور کہتے ہیں یہ حرف زائد ہے، یہ کیا ہے؟ زائد ہے، جیسے كَفَى بِاللَّهِ، كَفَى فعل اور بَا کیا ہے؟ زائدہ ہے۔ تو یہ مجاز بالزیادة ہے، یہ کیا ہے؟ تو یہ معنی موضوع لہ میں استعمال ہوا ہے یا غیر موضوع لہ میں تاکید کے لیے آیا ہے بھئی؟ یہ معنی غیر موضوع لہ میں استعمال ہوا ہے۔ تو لہذا کہتے ہیں چونکہ یہ معنی غیر موضوع لہ میں استعمال ہوا اور مجاز بھی کس کو کہتے تھے؟ معنی غیر موضوع لہ میں استعمال کو کہتے تھے، لہذا یہ بھی کیا ہے؟ مجاز کی تعریف کے اندر داخل ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: "وأما المجاز بالزيادة فمثل قوله تعالى: لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ" اور باقی مجاز بالزیادة جو ہے "مثل قوله تعالى" جیسے اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے: "لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ" اللہ کے مثل کوئی چیز نہیں ہے۔ اب یہاں دیکھو، کَاف بھی کس معنی میں استعمال ہوتا ہے؟ مثل کے معنی میں استعمال ہوتا ہے، تو لہذا علماء فرماتے ہیں یہاں یہ کَاف زائد ہے کیونکہ مثل کا لفظ آگے خود آ رہا ہے۔ اگر کَاف کو بھی مثل کے معنی میں لیں تو پھر اس صورت میں خرابی لازم آئے گی۔ پھر کلام یوں ہو جائے گا: "لَيْسَ مِثْلَ مِثْلِهِ شَيْءٌ" اللہ کے مثل کے مثل کوئی چیز نہیں ہے، تو معنی یہ ہوا کہ یوں مفہوم ہوا اس سے کہ گویا کہ اللہ کا مثل تو موجود ہے لیکن اللہ کے آگے مثل کا مثل کوئی نہیں، حالانکہ یہ مراد نہیں ہے بھئی، تو لہذا کہتے ہیں یہ کَاف زائد ہے مولانا تا تشبیہ کی تاکید کے لیے آیا ہے۔ "فيصدق عليه أيضاً" تو اس پر بھی صادق آتا ہے "أنه أريد به غير ما وضع له" کہ اس کے اس کے ذریعے ارادہ کیا گیا ہے غیر موضوع لہ کا "لأن ما وضع له هو التشبيه لا التأكيد والزيادة" اس لیے کہ معنی موضوع لہ جو ہے وہ تشبیہ ہے نہ کہ تاکید اور زیادت بھئی، لیکن بہرحال یہ کس میں استعمال ہوا ہے؟ معنی غیر موضوع لہ میں استعمال ہوا ہے، تو یہ مجاز میں داخل ہے۔ لیکن اس پر اعتراض ہوتا ہے مولانا کہ وہاں تو "لمناسبة" کی قید بھی موجود تھی بھئی، کہ دونوں معنی موضوع لہ اور غیر موضوع لہ میں کیا ہو؟ مناسبت موجود ہو۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ کیا ہے؟ مجاز کیا ہے؟ بنا بر ضرورت کے ہے بھئی بنا بر ضرورت کے۔ بھئی دیکھیے ایک لفظ آیا قرآن میں یا حدیث کے اندر، ہم اس کا حقیقی معنی لینا چاہتے ہیں جو معنی موضوع لہ ہے، لیکن وہ معنی بنتا نہیں، تو مجبورا ہمیں کیا کرنا پڑتا ہے؟ غیر موضوع لہ لینا پڑتا ہے اور ہم کہتے ہیں یہ مجاز ہے۔ تو دیکھو مجاز ضرورت کی بناء پر ہوا کیونکہ حقیقی معنی یہاں ہو نہیں رہا تھا، تو مجاز کس بناء پر ہوتا ہے؟ تو وہ فرماتے ہیں ضرورت کی بناء پر مجاز ہوتا ہے اور ضرورت ایک فرد سے پوری ہو جاتی ہے زیادہ افراد کی ضرورت نہیں۔ ضرورت کس سے پوری ہو جاتی ہے؟ ایک فرد سے۔ بنا بر ضرورت کے ہے نہ مجاز اور اس کا ایک فرد بھی ثابت ہو جائے تو ضرورت پوری ہو گئی۔ لہذا زیادہ افراد کو ثابت نہیں، یعنی مجاز خاص تو ہو سکتا ہے اس میں عموم نہیں ہو سکتا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ وقال الشافعي رحمه الله: لا عموم للمجاز مجاز میں عموم نہیں ہے، لأنه ضروري اس لیے کیونکہ وہ ضرورت کی بناء پر ہے، يصار إليه في الكلام عند تعذر الحقيقة لایا جاتا ہے کلام میں اس کی طرف جب حقیقت ممکن نہ رہے، والضرورة تقدر بقدرها اور ضرورت جو ہے اس کو فرض کیا جاتا ہے ضرورت ہی کے بقدر، وترتفع بإثبات الخصوص اور یہ ضرورت اٹھ جاتی ہے یعنی پوری ہو جاتی ہے خصوص کے ثابت کرنے سے ہی، فلا يثبت العموم تو لہذا عموم ثابت نہیں۔ وہ کیا فرماتے ہیں بھئی امام شافعی رحمہ اللہ؟ جی؟ ضرورت کس سے پوری ہو گئی؟ ایک سے پوری ہو گئی، تو افراد کی ضرورت نہیں۔ لہذا مجاز میں عموم نہیں، وہ خصوص ہی ہو گا اس کے اندر۔ وإنا نقول اور ہم کہتے ہیں کہ: إن عموم الحقيقة لم يكن لكونها حقيقة بل لدلالة زائدة على تلك کہ حقیقت کا جو عموم ہوتا ہے وہ اس وجہ سے نہیں ہوتا کہ وہ حقیقت ہے بلکہ وہ ایک زائد دلالت کی وجہ سے ہوتا ہے اس پر۔ بھئی دیکھیے۔ امام شافعی رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ جی؟ مجاز میں عموم نہیں۔ کیونکہ یہ بنا بر ضرورت کے ہے اور ضرورت جب خصوص سے پوری ہو جاتی ہے تو عموم کی حاجت نہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ حقیقت میں عموم تھا یا نہیں بھئی؟ تھا، حقیقت میں خصوص بھی ہے اور عموم بھی ہے۔ خاص ہوا معنی تو خاص ثابت ہو جائے گا، عام ہوا معنی تو وہ عام سے ثابت ہو جائے گا۔ تو حقیقت سے وہ جو عام معنی ثابت ہوتا ہے وہ اس وجہ سے نہیں کہ وہ حقیقت ہے، بلکہ وہ ایک زائد چیز کی دلالت کی وجہ سے ہوتا ہے، ایک امر زائد ہوتا ہے وہاں، اس سے افراد ثابت ہوتے ہیں، عموم آتا ہے۔ کیا جب بھی لفظ معنی موضوع لہ کا ارادہ کریں گے تو عموم آئے گا؟ نہیں، ضروری تو نہیں۔ اگر وہ لفظ عموم والا ہوا تو عموم آئے گا، لفظ عموم والا نہ ہوا تو عموم نہیں۔ جیسے پیچھے گزرا تھا: "يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ارْكَعُوا"۔ "ارْكَعُوا" سے رکوع ہی مراد تھا، جھکنے کا معنی۔ تو معنی موضوع لہ تھا، لیکن عموم نہیں تھا وہاں۔ اور واؤ کے اندر بھئی، وہ بھی معنی موضوع لہ میں استعمال تھا، لیکن وہاں کیا تھا؟ عموم تھا۔ تو عموم جو آتا ہے حقیقت کے اندر، وہ ایک امر زائد کی وجہ سے آتا ہے۔ کس کی وجہ سے؟ امر زائد کی، یعنی لفظ اپنے معنی موضوع لہ میں استعمال ہو رہا ہے اس وجہ سے عموم نہیں آتا، بلکہ ایک زائد چیز ہوگی جو دلالت کر رہی ہوگی کہ یہاں عموم ہے۔ اور وہ کیا؟ یا تو وہ صیغہ ہی جمع کا ہو گا۔ "المسلمون" میں بولتا ہوں اور اس سے تمام مسلمان مراد لیتا ہوں۔ تو یہ اپنے معنی موضوع لہ میں استعمال ہے۔ معنی، تو اس میں عموم ہے، لیکن عموم اس وجہ سے نہیں کہ یہ اپنے معنی موضوع لہ میں استعمال ہو رہا ہے، بلکہ عموم اس وجہ سے کہ یہ صیغہ جمع کا ہے۔ یہ واؤ اور نون جو اس کے ساتھ ملے ہوئے ہیں یہ دلالت کر رہے ہیں کہ یہ ایک فرد نہیں مراد بلکہ یہاں افراد، زیادہ افراد مراد ہیں۔ اسی طرح نکرہ تحت النفی آئے، نکرہ تحت النفی آئے تو اس کا حقیقی معنی بھی مراد ہو سکتا ہے اور مجازی۔ لیکن جب حقیقی معنی مراد لیں گے اب عموم بھی ساتھ آئے گا۔ کیوں آئے گا عموم؟ کیونکہ وہ نکرہ تحت النفی ہے۔ تو وہ نکرہ تحت النفی ہونے کی وجہ سے عموم آیا، اس وجہ سے عموم نہیں آیا کہ یہ لفظ اپنے معنی موضوع لہ میں استعمال ہو رہا ہے۔ تو جو عموم آتا ہے وہ اس وجہ سے نہیں آتا کہ لفظ کس میں استعمال ہو رہا ہے معنی موضوع لہ میں، بلکہ جو عموم آتا ہے وہ کس کی وجہ سے آتا ہے؟ کسی اور چیز کی دلالت کی وجہ سے آتا ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ میں نے مثلاً "رجل" کہا، "رجل" اور اس کا معنی حقیقی مراد لیتا ہوں یعنی مرد، بالغ۔ تو کیا یہ معنی کرتے ہی اس میں عموم آ گیا؟ نہیں، اس کے لیے کوئی اور دلیل چاہیے پھر عموم آئے گا، ویسے عموم نہیں آئے گا۔ جب یہی تحت النفی آ جائے گا "لا رجل في الدار"، اب اس میں کیا آ گیا؟ عموم۔ تو عموم اس وجہ سے تو نہیں آیا کہ یہ لفظ اپنے معنی موضوع لہ میں استعمال ہوا ہے، عموم تو کس کی وجہ سے آیا؟ تحت النفی ہونے کی وجہ سے آیا۔ صورت سمجھ، تو ہم جواب دیتے ہیں امام شافعی رحمہ اللہ کو کہ حقیقت کے اندر عموم آتا ہے وہ آپ بھی تسلیم کرتے ہیں اور وہاں عموم اس لیے نہیں آتا کہ وہ لفظ اپنے معنی موضوع لہ میں استعمال ہوتا ہے، بلکہ وہاں عموم کس وجہ سے آتا ہے؟ کسی امر زائد کی دلالت کی وجہ سے آتا ہے۔ تو مجاز کے اندر بھی عموم جو آئے گا وہ کس کی وجہ سے آئے گا؟ امر زائد کی دلالت کی وجہ سے آئے گا۔ تو مجاز آ جائے تو یہ معنی نہیں کہ اس میں عموم آ ہی نہیں سکتا، بلکہ وہاں بھی، تو حقیقت میں جب عموم آتا ہے امر زائد کی وجہ سے تو یہاں بھی کیا آ جائے گا؟ عموم آ سکتا ہے بھئی۔ وإنا نقول أن عموم الحقيقة لم يكن لكونها حقيقة کہ حقیقت کا جو عموم ہے وہ اس وجہ سے نہیں ہے کہ وہ حقیقت ہے، بل لدلالة زائدة على تلك بلکہ اس پر زائد دلالت، اس حقیقت پر زائد دلالت کی وجہ سے ہوتا ہے، كالالف واللام في المفرد غير المعهود جیسے کہ الف لام جو کس کے اندر آئے؟ وہ مفرد جو غیر متعین ہو بھئی۔ غیر متعین مفرد پر جب الف لام آ جائے، واحد مفرد پر الف لام آ جائے اور کوئی متعین مراد نہ ہو تو وہ کس چیز کا فائدہ دیتا تھا؟ عموم کا فائدہ، تو یہ الف لام کی وجہ سے عموم آیا بھئی، معنی موضوع لہ میں استعمال کرنے کی وجہ سے عموم نہیں آیا۔ ووقوع النكرة في سياق النفي اور اسی طرح جب نکرہ کس میں واقع ہو؟ نفی میں، تو اس میں بھی عموم آئے گا، تو یہ سیاق نفی میں ہونے کی وجہ سے عموم آتا ہے۔ ووصفها بصفة عامة اور اس کا موصوف ہونا نکرہ کا کس کے ساتھ؟ نکرہ کی صفت عامہ جب آ جائے اس میں کیا آ جاتا ہے؟ عموم، تو وہ صفت عامہ کی وجہ سے عموم آتا ہے، معنی موضوع لہ میں استعمال ہونے کی وجہ سے نہیں۔ وكون الصيغة صيغة جمع اور اسی طرح کسی صیغے کا جمع والا صیغہ ہونا، اس کی وجہ سے اس میں عموم آتا ہے، معنی موضوع لہ استعمال ہونے کی وجہ سے نہیں۔ أو كون المعنى معنى الجمع یا وہ لفظ تو مفرد ہوتا ہے لیکن اس کا معنی جمع والا ہوتا ہے اس سے اس میں عموم آ جاتا ہے جیسے "قوم" اور "رہط"۔ فإذا وجدت هذه الدلالات في المجاز يكون أيضا عاما جب پائی جائیں یہ دلالتیں مجاز کے اندر، یہ والی دلالتیں، يكون أيضا عاما تو وہ بھی کیا ہو گا؟ عام ہی ہو گا، إذ ليس كون الحقيقة شرطا للعموم اس لیے کہ حقیقت کا ہونا جو ہے یہ عموم کے لیے شرط نہیں ہے، أو كون المجاز مانعا عنه یا مجاز ہونا یہ عموم سے مانع نہیں ہے بھئی۔ بات بھی سمجھ میں آئی یا اوپر سے گزر گئی سب کے؟ جی؟ نہیں آئی؟ یہ ہے حقیقت، اس میں عموم بھی ہے، خصوص بھی ہے۔ مثال سمجھ میں آ گئی تھی؟ تو حقیقت کس کو کہتے تھے؟ لفظ اپنے معنی موضوع لہ میں استعمال ہو۔ تو حقیقت کے اندر جو عموم آتا ہے، کیا وہ اس وجہ سے آتا ہے کہ لفظ کو ہم اپنے معنی موضوع لہ میں استعمال کر رہے ہیں؟ بلکہ کس وجہ سے آتا ہے؟ ایک امر زائد، کوئی اور چیز وہاں ہمیں بتلا رہی ہوتی ہے کہ یہاں عموم ہے، مثلاً صیغہ ہی جمع کا ہے۔ صیغہ ہی جمع کا ہے۔ تو وہ صیغہ بتاتا ہے کہ یہاں عموم ہے، معنی موضوع لہ میں ہونا، معنی موضوع لہ میں ہونا یہ ایک الگ مستقل چیز ہے۔ اور صیغہ جمع کا ہونا یہ الگ چیز ہے۔ تو ہمیں افراد کا پتہ کون بتلاتا ہے؟ صیغہ بتلاتا ہے، معنی موضوع لہ میں ہونا نہیں۔ یہ تو پھر "مسلم" معنی موضوع لہ میں میں استعمال کر لیتا ہوں، اور "المسلمون" اس کو بھی میں معنی موضوع لہ میں استعمال کر لیتا ہوں۔ تو "المسلم" بھی معنی موضوع لہ میں، "المسلمون" بھی معنی موضوع لہ میں، عموم کس میں ہے؟ "المسلمون" میں۔ بھئی "المسلم" بھی تو معنی موضوع لہ میں میں استعمال کر رہا ہوں۔ شاباش، یہ معنی موضوع لہ میں تو ہے لیکن اس کے ساتھ ایسی چیز نہیں جو ہمیں بتائے اس میں افراد ہیں۔ اس کے ساتھ "المسلمون" میں واؤ نون جڑے ہوئے ہیں، وہ واؤ نون ہمیں بتا رہے ہیں کہ اس میں کیا ہے؟ عموم۔ تو عموم کا پتہ کس سے چلتا ہے؟ ایک زائد چیز ہوتی ہے وہ، معنی موضوع لہ میں استعمال ہونا ہمیں یہ نہیں بتلاتا۔ اور وہ زائد چیزیں کیا کیا ہو سکتی ہیں؟ بہت سی انہوں نے ذکر کر دیں، کبھی وہ الف لام ہوتا ہے، کبھی وہ نکرہ تحت النفی ہوتا ہے، کبھی وہ نکرہ موصوف ہو رہا ہوتا ہے کس کے ساتھ؟ نکرہ کی جب صفت عامہ آ جائے تو اس میں کیا آ جاتا ہے؟ عموم آتا ہے۔ کبھی وہ صیغہ ہی کون سا ہوتا ہے؟ جمع کا۔ کبھی صیغہ تو جمع کا نہیں ہوتا لیکن معنی اس کا کیا ہوتا ہے؟ جیسے "قوم" اور "رہط"، لفظ تو مفرد ہیں لیکن یہ کم از کم کتنے پر بولے جاتے ہیں؟ تین پر، تو یہ معنی جمع کا ہے ان کا۔ تو جب ان میں دلالتوں میں سے کوئی دلالت پائی جائے حقیقت کے اندر تو پھر وہ کس چیز کا فائدہ دے گا؟ عموم کا۔ اور اگر انہی چیزوں میں سے کوئی مجاز کے اندر بھی پائی جائے تو وہ مجاز بھی کس چیز کا فائدہ دے گا؟ عموم کا فائدہ دے گا۔ اب بات سب کو سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: إذ ليس كون الحقيقة شرطا للعموم کیونکہ حقیقت کا ہونا یہ شرط نہیں ہے عموم کے لیے، عموم ہمیشہ وہی نہیں ہوگا جہاں حقیقت ہوگی، بلکہ عموم مجاز میں بھی ہو سکتا ہے۔ أو كون المجاز مانعا عنه اور مجاز، وہ مانع نہیں ہے عموم سے بھئی، مجاز ہو تو یہ نہیں کہ اب وہاں عموم آ ہی نہیں سکتا، بلکہ وہاں بھی اگر وہ دلالت آ گئی تو وہاں بھی کیا آ جائے گا؟ عموم آ جائے گا۔ بات سب کو اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ وكيف يقال إنه ضروري اور یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ یہ ضروری ہے بھئی؟ وقد كثر ذلك في كتاب الله تعالى اور تحقیق یہ کثیر استعمال ہوا ہے کس کے اندر؟ کتاب اللہ کے اندر بھئی۔ والله تعالى منزه عن الضرورة اور اللہ تعالی ضرورت سے پاک ہیں، کیونکہ ضرورت عجز و نقصان کی علامت ہے مولانا۔ تو قرآن، آپ کہتے ہیں مجاز کیا ہے؟ وہ بنا بر ضرورت کے ہے، کس وجہ سے ہے؟ بنا بر ضرورت کے ہے، حالانکہ یہ تو کتاب اللہ میں بھی کثرت سے استعمال ہوا ہے اور اللہ تعالی تو ضرورت سے پاک ہیں۔ لہذا آپ کا یہ کہنا کہ مجاز کیا ہے؟ بنا بر ضرورت کے ہے، یہ درست نہیں بھئی۔ لا يقال یہ نہ کہا جائے: إن المقتضى واقع في القرآن جی یہ اشکال بھئی اور پھر اس کا جواب ذکر کریں گے۔ اشکال یہ کہ بھئی اس طرح تو قرآن میں اقتضاء النص بھی شامل ہے، قرآن میں آتا ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ اقتضاء النص، اور اقتضاء النص تو بالاتفاق ہمارے اور تمہارے درمیان، ہمارے اوپر شوافع کا ایک اشکال اور اس کا جواب ذکر کر رہے ہیں بھئی۔ اشکال وہ یہ کرتے ہیں ہم نے کیا کہا بھئی؟ انہوں نے کہا تھا یہ مجاز بنا بر ضرورت کے ہے، ہم نے انکار کر دیا نہیں بنا بر ضرورت کے یہ نہیں ہو سکتا، بنا بر ضرورت کے کیونکہ یہ قرآن میں کثیر واقع ہوا ہے اور اللہ تعالی ضرورت سے پاک ہیں بھئی۔ وہ جواب پھر ہم پر اعتراض کرتے ہیں کہ بھئی اس طرح تو اقتضاء النص بھی قرآن کے اندر کیا ہوا ہے؟ کثرت سے استعمال ہوا ہے اور اس میں ہمارا اور اے احناف تمہارا اتفاق ہے کہ اقتضاء النص ضرورت کی بناء پر ہوتا ہے۔ کس لیے ہوتا ہے؟ اقتضاء النص جانتے ہو یا نہیں بھئی؟ کہ غیر منطوق کو منطوق تسلیم کر لینا تاکہ منطوق صحیح ہو جائے۔ کیا ہو جائے؟ یعنی غیر ملفوظ کو ملفوظ تسلیم کر لینا تاکہ ملفوظ کیا ہو جائے؟ صحیح ہو جائے۔ جیسے دیکھیے بھئی، قرآن میں اللہ تعالی فرماتے ہیں: "فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ"، ایک گردن کا آزاد کرنا ہے، لیکن یہاں "رقبة" کے ساتھ "مملوكة" کی صفت ماننا پڑے گی بھئی، کیونکہ رقبہ تو غیر مملوکہ بھی ہو سکتا ہے مولانا، سمجھ میں آیا؟ تو کیا معنی ہوا؟ "فتحرير رقبة مملوكة"، ایک مملوک رقبہ کو آزاد کرو یعنی کسی غلام کو آزاد کرو۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو دیکھو ایک غیر ملفوظ کو کیا مان لیا گیا؟ ملفوظ تاکہ یہ جو ملفوظ ہے صحیح، یعنی اس سے حکم نکالا جا سکے، اس کا سمجھنے میں تاکہ کوئی خلل نہ آئے۔ تو معلوم ہوا تو قرآن کے اندر تو اقتضاء النص بھی آتا ہے اور اے احناف ہمارے اور تمہارے درمیان اتفاق ہے اس بات پر کہ یہ بنا بر ضرورت کے اقتضاء النص کو مانا جاتا ہے۔ کس بناء پر؟ ضرورت کی بناء پر۔ تو اب اس میں تم کیا جواب دیتے ہو؟ مجاز میں تم نے تو کہہ دیا کہ ضرورت نہیں ہو سکتی کیونکہ بنا بر ضرورت کے ہو تو پھر تو کس ضرورت کی نسبت کس کی طرف کرنا لازم آئے گی؟ اللہ کی طرف اور اللہ ضرورت سے پاک ہیں بھئی، اور اقتضاء النص میں تو تم بھی کہتے ہو یہ بنا بر ضرورت کے ہے، تو اس کا جواب دے رہے ہیں بھئی کہ بھئی اقتضاء النص استدلال کی اقسام میں سے ہے، اس کو مستدل کو اس کو اس کی ضرورت پڑتی ہے، متکلم کو اس کی ضرورت نہیں، متکلم کو اس کی ضرورت نہیں، ہاں جو استدلال کر رہا ہے حکم نکال رہا ہے اس کو اس کی ضرورت پڑتی ہے، تو لہذا یہاں ضرورت ہوئی باعتبار مستدل کے، استدلال کرنے کے اعتبار سے ضرورت ہوئی، متکلم کے اعتبار سے وہاں ضرورت نہیں ہے بھئی، لہذا وہاں ضرورت کی نسبت اللہ کی طرف کرنا لازم نہیں آتی بلکہ کس کی طرف کرنا پڑے گی؟ مستدل، استدلال کرنے والے کی طرف بھئی، کہ استدلال کرنے والے کو حکم نکالنے کے لیے کیا کرنا پڑتا ہے؟ وہاں ایک لفظ کو ماننا پڑتا ہے، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تاکہ کسی قسم کا کوئی خلل نہ آئے بھئی معنی میں۔ لا يقال یہ اعتراض نہ کیا جائے: إن المقتضى واقع في القرآن كثيرا کہ مقتضیٰ بھی قرآن کے اندر کثرت سے واقع ہوا ہے مع أنه ضروري بالاتفاق بيننا وبينكم باوجود اس کے کہ وہ بنا بر ضرورت کے ہے بالاتفاق ہمارے اور تمہارے درمیان، لأنا نقول اس لیے کیونکہ ہم یہ کہتے ہیں: إنه من أقسام الاستدلال کہ مقتضائے نص جو ہے یہ استدلال کی قسموں میں سے ہے، فالضرورة ثمة ترجع إلى المستدل لا إلى المتكلم پس ضرورت وہاں پر جو ہے وہ لوٹتی ہے استدلال کرنے والے کی طرف نہ کہ متکلم کی طرف، والمجاز من أقسام اللفظ اور مجاز لفظ کی اقسام میں سے ہے، فلو كان ضروريا اگر یہ بنا بر ضرورت کے ہوتا، لكانت الضرورة راجعة إلى المتكلم والمتكلم هو الله تعالى منزه عنها تو اس صورت میں ضرورت جو ہے وہ لوٹتی متکلم کی طرف اور متکلم وہ تو اللہ تعالی، وہ اس سے پاک ہیں۔ تو لہذا اس صورت میں یہاں پر ضرورت لوٹتی اللہ کی طرف اور اللہ ضرورت سے پاک ہیں، لہذا یہاں اس کو ضروری قرار نہیں دیا جا سکتا، ہاں اقتضاء النص میں ضرورت لوٹتی ہے متکلم کی طرف نہیں بلکہ کس کی طرف؟ مستدل کی طرف، تو وہاں اس کو ضرورت کہنے میں کوئی حرج نہیں ہے بھئی۔ هكذا قالوا اس طرح علماء نے فرمایا ہے شارح فرما رہے ہیں۔ والإنصاف أن المتكلم يتلفظ بالمجاز مع قدرته على الحقيقة شارح فرما رہے ہیں کہ انصاف کی بات یہ ہے کہ متکلم جو ہے وہ مجاز پر تلفظ کرتا ہے یعنی مجاز پر تکلم کرتا ہے مع قدرته على الحقيقة باوجود اس کے کہ وہ حقیقت پر قادر ہے، لرعاية بلاغات ومناسبات لم تكن في الحقيقة ایسی بلاغتوں اور ایسی مناسبتوں کی رعایت رکھنے کے لیے جو حقیقت کے اندر نہیں تھیں بھئی، جو حقیقت کے اندر بھئی مجاز کے ذریعے بات، بعض اوقات بڑی خوشگوار ہو جاتی ہے بھئی، بڑی سمجھ میں آیا؟ مناسبتیں اس میں اور اس میں مناسبت اور بلاغت کے اندر اس کا رتبہ بڑھ جاتا ہے بھئی، بلاغت کے اندر رتبہ بڑھ جاتا ہے تو ان بلاغتوں اور مناسبتوں کی رعایت کرنے کے لیے متکلم کیا کرتا ہے؟ مجاز پر تکلم کرتا ہے اگرچہ وہ حقیقت پر بھی کیا ہوتا ہے؟ قادر ہوتا ہے۔ تو وہبلاغتوں اور مناسبتوں کی وجہ سے مجاز پر تکلم کرتا ہے کیونکہ وہ بلاغتیں اور مناسبتیں کس کے اندر نہیں ہیں؟ حقیقت کے اندر نہیں ہیں، تو وہ حقیقت کو چھوڑ کر مجاز کی طرف جاتا ہے۔ ولكنه ضروری بحسب السامع. اور مگر یہ ضروری ہے کس کے اعتبار سے؟ سامع کے اعتبار سے۔ بمعنى أن السامع لا بد له أن يصرف أولاً إلى الحقيقة. بہیں معنی کہ سامع کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس کلام کو پھیرا اولاً کس کی طرف؟ حقیقت کی طرف۔ فإذا لم يستقم حمله عليها، پس جب اس کا حمل حقیقت پر صحیح نہ ہو اس کلام کا، فحينئذ يصرف إلى المجاز. تو اس وقت اس کو پھیر دے گا کس کی طرف؟ مجاز کی طرف، بھئی۔ تو یہ جو ضرورت کے ہوئی، یہ کس کے اعتبار سے ہے؟ سامع کے اعتبار سے ہے۔ شارح فرما رہے ہیں بھئی، انہوں نے کہا کہ مجاز بناء بر ضرورت کے ہے۔ کہتے ہیں حق یہ ہے ان کی بات ٹھیک ہے، بھئی۔ شوافع کی بات کیا ہے؟ ٹھیک۔ اور اے احناف! آپ نے کیا کہا تھا کہ اس صورت میں ضرورت کی نسبت کس کی طرف کرنا لازم آئے گی؟ اللہ کی طرف۔ کہتے ہیں نہیں بھئی، اللہ کی طرف ضرورت کی نسبت کرنا لازم نہیں آئے گی اس لیے کیونکہ ضرورت جو ہے وہ سامع کے اعتبار سے ہے، متکلم کے اعتبار سے نہیں۔ متکلم تو حقیقت پر قادر تھا لیکن اس کے باوجود اس نے کیا کیا؟ کس کو استعمال کیا؟ مجاز کو۔ کیوں؟ خاص مناسبتوں اور خاص بلاغتوں کی رعایت رکھنے کے لیے اس نے مجاز کو استعمال کیا۔ اگرچہ وہ حقیقت پر بھی قادر تھا لیکن وہ مناسبتیں اور وہ بلاغتیں حقیقت کے اندر نہیں تھیں تو وہ مجاز کو استعمال کیا۔ اور باقی جو ضرورت آپ نے کہا بناء بر ضرورت کے ہوتا ہے، کہ یہ سامع کے اعتبار سے ضرورت ہے، متکلم کے اعتبار سے ضرورت نہیں، کیونکہ وہ تو قادر ہے بھئی۔ سامع کو ضرورت پڑتی ہے مجاز کی طرف جانے کی، کیوں جانے کی ضرورت پڑتی ہے؟ کیونکہ وہ معنی حقیقی پر محمول کرتا ہے، معنی حقیقی وہاں بنتا نہیں ہے تو ضرورت پیش آ جاتی ہے اور وہ کس طرف پھر جانا پڑتا ہے؟ مجاز کی طرف، کیونکہ معنی درست بنتا ہی نہیں ہے تو مجبور ہو کر کس طرف چلا گیا؟ مجاز کی، تو یہ جو ضرورت پیش آتی ہے وہ سامع کے اعتبار سے ہے، متکلم کے اعتبار سے نہیں۔ تو حق کہتے ہیں یہی ہے، جیسے اقتضاء النص کے اندر ضرورت متکلم کے اعتبار سے نہیں ہے بلکہ کس کے اعتبار سے ہے؟ مستدل کے اعتبار سے ہے۔ اسی طرح مجاز کے اندر بھی جو ضرورت ہے، وہ متکلم کے اعتبار سے نہیں ہے بلکہ کس کے اعتبار سے ہے؟ سامع کے اعتبار سے ہے کہ وہ اس کلام کو حقیقی معنی لینا چاہتا ہے لیکن حقیقی معنی بنتے نہیں ہیں تو بناء بر ضرورت کے کس کی طرف جانا پڑتا ہے؟ معنی مجازی کی طرف جانا پڑتا ہے۔ چلیے بس مولانا، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔