درس نمبر۔42 ثم بعد ذلك ذكر المصنف رحمه الله تعالى أقصى ما ينتهي إليه التخصيص في العام. وكان ينبغي أن يذكره في مباحث التخصيص لكن لما كان موقوفا على بيان ألفاظه أخره عنها. فقال: وما ينتهي إليه الخصوص نوعان. جي، هنا سے اب مصنف تخصيص کی انتہائی مقدار بيان کر رہے ہیں کہ زيادہ سے زيادہ تخصيص کس حد تک جائز ہے بھئی۔ سمجھ میں آئی بات بھئی، کس حد تک تخصیص۔ مثلاً ایک حکم بیان ہوا عام کے بارے میں، وہ اس کے تمام افراد کو شامل تھا، پھر تخصیص کے ذریعے کچھ افراد کو نکال دیا گیا، تو آپ نے پڑھا کہ وہ عام جسے تخصیص کے ذریعے بعض افراد کو نکال دیا جائے وہ ظنی بن جاتا ہے، اور اس سے پھر مزید تخصیص بھی خبرِ واحد اور قیاس کے ذریعے آپ کر سکتے ہیں۔ چنانچہ آپ نے قیاس کے ذریعے اس میں سے اور افراد کی تخصیص کی بھئی، ان کو بھی نکال دیا۔ تو پھر نکالتے چلے جائیں، تخصیص کرتے چلے جائیں جائز ہے، تخصیص کر سکتے ہیں، لیکن ایک حد آئے گی کہ اس کے بعد تخصیص کی اجازت نہیں ہوگی، مزید افراد کو اس حکم سے نہیں نکالا جا سکتا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ مثلاً میں نے کہا تھا درجہ رابعہ والوں کو انعام دیا جائے اور زید، عمر، بکر کو انعام نہ دیا جائے۔ تو فرض کرو درجہ رابعہ والے 20 تھے، میں نے تین کو، کی تخصیص کر دی، ان کو اس حکم سے نکال دیا۔ آپ ان کے بارے میں غور کرتے ہیں، دیکھتے ہیں بھئی ان کی وجہ یہ ہے کہ یہ محنت نہیں کرتے بھئی، تو آپ کو جس جس فرد میں یہ علت نظر آئے آپ اس فرد کی تخصیص کرتے جائیں، ان کو بھی اس انعام کے حکم سے نکالتے چلے جائیں۔ تو نکالتے چلے جائیں گے لیکن ایک حد آئے گی کہ اس کے بعد اب مزید افراد نکالنے کی گنجائش نہیں رہتی بھئی۔ مثلاً زید، عمر، بکر کو میں نے نکالا تھا، آپ نے دوسرے فرد میں غور کیا اس میں یہ علت ملی اسے بھی نکال دیا، اس سے اگلے کو میں غور کیا اسے بھی نکال دیا، اس سے اگلے فرد میں غور کیا اسے بھی نکال دیا۔ یہاں تک کہ اگر وہ صیغہ مفرد کا تھا، تو آپ تخصیص کرتے چلے جائیں، کرتے چلے جائیں یہاں تک کہ جب ایک فرد باقی رہ جائے بس، باقی ساروں کی آپ نے تخصیص کر دی۔ تو اب اس سے آگے اجازت نہیں کہ آپ یہ جو ایک اکیلا فرد باقی ہے، اس کو بھی آپ کیا کر دیں اس حکم سے نکال دیں، پھر تو عام پر عمل ہی ختم ہو گیا اس کا کوئی فرد ہی باقی نہیں رہا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اور جمع مذکر یا وہ صیغے جو لفظاً تو مفرد ہیں لیکن معنی کے اعتبار سے جمع ہیں جیسے قوم اور رہط وغیرہ، وہاں تخصیص کرتے چلے جائیں یہاں تک کہ تین افراد رہ جائیں، تو وہاں تین سے زیادہ پھر تخصیص کی اجازت نہیں ورنہ اس عام پر عمل ہی فوت ہو جائے گا بھئی۔ تو جو صیغے، جو صور، جو صیغے مفرد ہیں یا ان کے ساتھ ملحق ہیں، ان میں تخصیص جائز ہے یہاں تک کہ ایک فرد رہ جائے۔ اور وہ صیغے جو صیغہ، صیغے اور معنی دونوں اعتبار سے جمع ہیں اور یا ان کے ساتھ جو ملحق ہے یعنی معنی کے اعتبار سے تو جمع ہے صیغے کے اعتبار سے مفرد ہے جیسے قوم اور رہط، ان میں تخصیص جائز ہے تین تک بھئی، جب تین افراد رہ جائیں اس کے بعد مزید تخصیص کی اجازت نہیں ورنہ تو اس عام پر عمل ہی کیا ہو جائے گا؟ فوت ہو جائے گا بھئی۔ جی، یہی بات ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں: ثم بعد ذلك ذكر المصنف، پھر اس کے بعد ذکر کیا مصنف رحمہ اللہ نے: أقصى ما، ما سے مراد مقدار ہے۔ أقصى انتہائی، انتہائی وہ مقدار، آخری وہ مقدار: ينتهي إليه التخصيص، کہ انتہا ہو جاتی ہے اس پر تخصیص کی: في العام، عام کے اندر۔ وكان ينبغي أن يذكره في مباحث التخصيص، اور مناسب تھا مصنف کے لیے کہ وہ اس کو ذکر کرتے تخصیص کی مباحث میں۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ یہ اس سے پہلے تو تخصیص کے الفاظ چل رہے تھے بھئی، تخصیص کا ذکر پیچھے، نہیں عام کے الفاظ چل رہے تھے یہاں پر، چل رہے ہیں بھئی۔ تو تخصیص کا ذکر تو پہلے ہوا تھا، تو مناسب تھا کہ مصنف اس کو وہاں ذکر کرتے کہ کہاں تک تخصیص جائز ہے اور کہاں تک تخصیص جائز، کس کے بعد تخصیص جائز نہیں۔ کہتے ہیں: لیکن یہاں چونکہ ان کا، اس کا بیان جو ہے ان الفاظ کے جاننے پر موقوف تھا۔ آپ کو یہ تو پتہ ہو کہ ایک عام کیا ہوتا ہے، بعض عام ہوتے ہیں صیغے کے اعتبار سے مفرد ہوتے ہیں، بعض صیغے اور معنی دونوں اعتبار سے جمع ہوتے ہیں، بعض صرف معنی کے اعتبار سے جمع ہوتے ہیں، ان چیزوں کا پتہ چونکہ اس میں ضروری تھا، تو لہذا اس کو مؤخر کیا، جب ان سارے الفاظ کا ذکر آ گیا، تو لہذا اس وجہ سے اب یہاں پر ان کے بعد اس کو ذکر کر رہے ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: وكان ينبغي أن يذكره في مباحث التخصيص، اور مناسب تھا مصنف کے لیے کہ وہ اس کو ذکر کرتے تخصیص کی مباحث میں: لكن لما كان موقوفا على بيان ألفاظه، لیکن جب یہ موقوف تھا اس کے، عام کے الفاظ کے بیان پر: أخره عنها، تو اس کو اس سے کیا کر دیا؟ مؤخر کر دیا، ان الفاظ سے۔ فقال، پس مصنف فرماتے ہیں: وما ينتهي إليه الخصوص نوعان، اور وہ مقدار کہ میں انتہا ہوتی ہے جس پر خصوص کی، وہ دو قسم پر ہے۔ خود بتلا رہے ہیں، ما سے مراد مقدار ہے۔ أي المقدار الذي لا يتعدى إلى ما تحته نوعان، یعنی وہ مقدار الذي، وہ کہ لا يتعدى، أي لا يتعدى الخصوص، ضمیر کس کو راجع ہے؟ خصوص کو، وہ مقدار کہ متعدی نہیں ہوتا خصوص إلى ما تحته، اپنے ماتحت کی طرف، یعنی اس میں پھر جو افراد بچ گئے ہیں عام کے تحت، پھر مزید خصوص ان کی طرف متعدی نہیں ہو سکتا، آپ نہیں کر سکتے۔ نوعان، یہ دو قسم پر ہے۔ النوع الأول الواحد، پہلی نوع، اس مقدار کی پہلی نوع ایک ہے، کیا ہے؟ کہاں پر آ کر تخصیص ختم ہو جائے گی؟ ایک پر، جب ایک فرد رہ جائے۔ فيما، ما سے مراد عام ہے۔ فيما، اس عام کے اندر: هو فرد بصيغته، جو مفرد ہو اپنے صیغے کی وجہ سے۔ آگے آ رہا ہے اسی سطر کے آخر میں: أو ملحق به، یا اس کے ساتھ کیا ہو؟ ملحق ہو مولانا، ملا ہوا ہو۔ بصيغته كمن وما، جیسے من ہے، ما ہے: والطائفة، اور طائفہ کا لفظ ہے: واسم الجنس المعرف باللام، اور وہ اسمِ جنس جو معرف باللام ہے جس پر الف لام آیا جیسے رجل وغیرہ بھئی۔ تو یہ صیغے کے اعتبار سے مفرد ہیں بھئی، من، ما، طائفہ بھئی اسمِ جنس کی طرح ہے، ایک پر اس کا اطلاق ہوتا ہے، اسی طرح اسمِ جنس جو معرف باللام ہو جیسے الرجل، تو ان کے اندر آپ کیا کر سکتے ہیں تخصیص کرتے جائیں گے، کہاں آ کر تخصیص رکے گی جب کتنے فرد رہ جائیں صرف؟ ایک رہ جائے۔ أو ملحق به، یا جو ان کے ساتھ ملحق ہے بھئی: كالجموع المعرفة بلام الجنس، جیسے وہ جمعیں جن کو معرفہ بنایا گیا ہو لامِ جنس کے ذریعے بھئی۔ آپ نے پڑھا تھا بھئی، جمع کے اوپر جب کیا آ جائے؟ الف لام، تو اس کی جمعیت باطل ہو جاتی ہے، پہلے اس کا اطلاق تین اور تین سے اوپر پر تھا، اب اس کا اطلاق ایک ہی سے شروع ہو جاتا ہے، کیا ہو جاتا ہے؟ ایک سے ہی اطلاق، تو ایک پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے لہذا تخصیص کرتے چلے جاؤ، ایک رہ جائے پھر بھی درست ہے بات، لیکن ایک سے آگے پھر تخصیص نہیں جائے۔ فإنهما لو خليا، اگر اس کو معروف پڑھیں تو اس کو خلاوا ہونا چاہیے تھا، لو خلاوا، اسی کیونکہ واوی ہے مولانا دعا یدعو کی طرح، خلا یخلو خلوا۔ لہذا خلیا پڑھ لیں بھئی۔ فإنهما لو خليا عن الواحد أيضا، اس لیے کہ اگر ان کو ایک سے بھی خالی کر دیا جائے: لفات اللفظ عن مدلوله، تو لفظ اپنے مدلول سے ہی فوت ہو جائے گا یعنی لفظ تو رہے گا اس کا مدلول کچھ بھی نہیں ہے بھئی۔ كالمرأة والنساء، جیسے کہ امرأة اور نساء: نشر على ترتيب اللفظ، یہ نشر ہے لفظ کی ترتیب پر۔ میں نے بتایا تھا لف و نشر، یہ اصطلاح ہے علمِ، علمِ بدیع کی بھئی، اگلے سال آپ انشاء اللہ پڑھیں گے بھئی مختصر المعانی کے اندر، وہاں، وہاں اس کی تفصیل کا پتہ چلے گا آپ کو۔ لف کس کو کہتے ہیں؟ دو یا دو سے زیادہ چیزوں کو ذکر کیا جائے اور پھر ہر ایک سے متعلقہ آگے کوئی بات ذکر کی جائے، تو وہ نشر کہلاتی ہے، اور اس میں تعیّن نہیں ہوتی، پہلی کا تعلق کس سے ہے، دوسری کا کس سے، تیسری کا کس سے، ہاں سننے والا خود ہی سمجھ جاتا ہے، پہلی کا تعلق مثلاً پہلی سے ہے، دوسری کا دوسری سے۔ تو اگر یہ ترتیب سے ہو، نشر بھی اسی ترتیب پر ہو جس ترتیب پر لفظ تھا، تو اسے کہتے ہیں لف و نشرِ مرتب، اور اگر اس ترتیب پر نہ ہو، تو اسے کہتے ہیں لف و نشرِ غیر مرتب۔ تو کہتے ہیں: نشر على ترتيب اللفظ، یہ نشر ہے لفظ کی ترتیب پر بھئی۔ دیکھو والمرأة والنساء دو مثالیں ذکر کیں بھئی، پہلے کیا ذکر کیا تھا کہ وہ نوعِ اول جو ہے، وہ کتنی قسم پر ہے؟ دو قسم پر، ایک وہ کہ جس، کیا ہو؟ صیغہ مفرد کا ہو، أو ملحق به، یا اس کے ساتھ ملحق ہو بھئی۔ تو المرأۃ یہ وہ ہے جس کا صیغہ ہی مفرد ہے، اور ملحق بہ وہ جمع جس پر الف لام آئے انہوں نے بتلایا تھا، وہ النساء ہے بھئی اس کی مثال بھئی۔ فالمرأة فرد بصيغته معرفة باللام، پس امرأة جو ہے مفرد ہے اپنے صیغے کے اعتبار سے، معرفة باللام، اور معرفہ ہے لام کے ذریعے: والنساء جمع لا واحد له، اور نساء ایسی جمع ہے جس کا کوئی واحد نہیں ہے، یعنی اس کی اسی کے لفظ سے اس کا واحد نہیں ہے۔ ہاں اس کے لیے مفرد امرأة آتا ہے، امرا، سمجھ میں آیا؟ امرا۔ امرأت، تو امرأت دیکھو اسی کے لفظ سے تو نہیں، اس کا تو مادہ ہی الگ ہے اور النساء کا مادہ ہی الگ، تو اس کا مفرد تو آتا ہے لیکن اسی کے لفظ سے نہیں آتا۔ تو کہتے ہیں: والنساء جمع لا واحد له، اور نساء ایسی جمع ہے جس کا کوئی واحد نہیں ہے: محلى بلام الجنس، جس کو، محلی کہتے ہیں جس کو زیور پہنایا گیا ہو محلی، حلیۃ سے ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ زیور، یعنی جس پر داخل کیا گیا ہے، جس کے اوپر لایا گیا ہے بلام الجنس، کس کو لایا گیا ہے؟ لامِ جنس کو بھئی۔ وينتهي تخصيصهما إلى الواحد البتة، اور انتہا ہوتی ہے ان دونوں کی تخصیص کی ایک پر قطعی طور پر۔ والنوع الثاني الثلاثة، اور اس مقدار کی دوسری قسم تین ہے: فيما كان جمعا صيغة ومعنى، اس عام کے اندر جو جمع ہو صیغے اور معنی دونوں اعتبار سے: كرجال ونساء منكرا، جیسے کہ رجال اور نساء اس حال میں کہ یہ کیا ہیں؟ نکرہ ہیں: مما لم يدخله لام الجنس، اس میں سے جن پر لامِ جنس داخل نہیں ہوا بھئی۔ ويلحق به ما كان معنى فقط، اور اسی کے ساتھ ملایا جاتا ہے وہ، اس عام کو بھی جو صرف معنی کے اعتبار سے ہو بھئی، یعنی صیغے کے اعتبار سے وہ جمع نہیں ہے لیکن معنی کے اعتبار سے جو جمع ہو: كقوم ورهط، جیسے قوم اور رہط۔ وإنما ينتهي تخصيص هؤلاء كلها إلى الثلاثة، اور انتہا ہوتی ہے ان سب کی تخصیص کی تین تک، تین پر انتہا ہوتی ہے۔ لأن أدنى الجمع الثلاثة بإجماع أهل اللغة، اس لیے کہ تین، کم سے کم جمع جو ہے وہ تین ہے اہل لغت کے اجماع سے۔ فلو لم يبق تحته ثلاثة أفراد لفات اللفظ عن مقصوده، اگر باقی نہ رہیں اس کے تحت تین افراد بھی تو فوت ہو جائے گا لفظ اپنے مقصود سے، اپنے مدلول سے، یعنی لفظ کا مدلول ہی باقی نہیں رہے گا، دال تو ہے اور مدلول نہیں ہے بھئی۔ تو یہ تو کم از کم دلالت ہی تین پر کرتے ہیں۔ وقال بعض أصحاب الشافعي رحمه الله ومالك رحمه الله: إن أقل الجمع اثنان، یہ بعض امام شافعی اور مالک رحمہما اللہ کے بعض اصحاب فرماتے ہیں کہ جمع کی کم سے کم مقدار جو ہے وہ دو ہے: فينتهي التخصيص إليه، تو اسی دو پر کیا ہوگی تخصیص کی انتہا ہوگی: تمسكا بقوله عليه السلام، حضور علیہ السلام کے اس قول سے استدلال کرتے ہوئے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: الاثنان فما فوقهما جماعة، دو اور دو سے جو اوپر ہیں وہ جماعت ہیں۔ حدیث میں کیا آتا ہے؟ دو اور دو سے اوپر ہیں یعنی تین، چار یہ کیا ہیں؟ جماعت ہیں۔ یہ حدیث، اس حدیث سے استدلال کرتے ہیں کہتے ہیں دیکھا؟ اس حدیث سے کیا معلوم ہو رہا ہے کہ دو بھی کیا ہے؟ جماعت ہے، جماعت ہے بھئی۔ دو سے اوپر تو سبھی تسلیم کرتے ہیں لیکن اس حدیث سے کیا پتہ لگ گیا کہ دو بھی جماعت ہے۔ فأجاب عنه المصنف رحمه الله بقوله: تو جواب دیا اس اعتراض کا، اس بات کا مصنف رحمہ اللہ نے اپنے اس قول کے ذریعے: وقوله عليه السلام ”الاثنان فما فوقهما جماعة“ محمول على المواريث والوصايا، کہ حضور علیہ السلام کا قول کہ دو اور دو سے اوپر جو ہیں وہ جماعت ہیں، یہ محمول ہے الموارث والوصایا، میراث اور وصیتوں پر محمول ہیں بھئی۔ یہ حدیث کس پر محمول ہے؟ میراث اور وصیت پر، یعنی میراث کے باب میں، وراثت کا جو باب ہے، وراثت کے مسائل کے اندر اور اسی طرح وصیت کے مسائل کے اندر، دو کا وہی حکم ہے جو جماعت کا حکم ہے بھئی۔ یہ حدیث کس لیے لائی گئی ہے؟ یہ بیان کرنے کے لیے کہ وراثت کے باب میں اور وصیت کے باب میں دو کا وہی حکم ہے جو دو سے زیادہ یعنی جماعت وہ، تو یہ دو بھی جماعت کی طرح ہیں وہاں بھئی۔ اس لیے کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم لغت کو بیان کرنے کے لیے تشریف نہیں لائے بلکہ وہ احکام کو بیان کرنے کے لیے تشریف لائے ہیں بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو آپ کا اس حدیث کو لغت پر محمول کرنا صحیح نہیں بلکہ یہ کس بارے میں ہے؟ احکام کے بارے میں ہے۔ وہ استدلال کر رہے ہیں نا کہ دیکھو اس حدیث سے پتہ لگ گیا کہ دو بھی کیا ہیں؟ جماعت ہیں، یہ تو لغت کی بات اس سے ثابت کرنا چاہتے ہیں بھئی، ہم کہتے ہیں بھئی حضور صلی اللہ علیہ وسلم جو تشریف لائے تھے وہ لغت کو بیان کرنے کے لیے نہیں تھے، عربی زبان کے بیان کریں، قواعد اور ضوابط بیان کریں، بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم احکامِ شرعیہ بتلانے کے لیے تشریف لائے تھے، تو یہ حدیث بھی احکامِ شرعیہ پر، کے بارے میں ہے اور میراث اور وصیت سے اس کا تعلق ہے۔ فإن، دیکھئے آگے: فإن في باب ميراث للاثنين حكم الجماعة، اس لیے کیونکہ میراث کے باب میں دو کے لیے بھی جماعت کا حکم ہے: استحقاقا وحجبا، استحقاق کے اعتبار سے اور حاجب ہونے کے اعتبار سے، مستحق ہونے کے اعتبار سے اور حاجب ہونے کے اعتبار سے۔ حاجب کہتے ہیں رکاوٹ کو بھئی، رکاوٹ۔ بھئی دیکھئے وراثت کے باب میں وراثت تقسیم ہونی ہے، تو استحقاق کے اعتبار سے بھی دو کا وہی حکم ہوتا ہے جو جماعت کا حکم ہوتا ہے۔ مثلاً دیکھئے بھئی، ایک شخص ہے اس کا بیٹا کوئی نہیں، بیٹا یا بیٹے کا بیٹا کوئی، اولاد نہیں ہے مذکر بھئی، ہاں اس کی بیٹی ہے ایک، ایک بیٹی ہے۔ ایک بیٹی ہو تو اس کو صرف نصف مال دیں گے، نصف مال، اور باقی وارثوں میں پھر تقسیم ہوگا باقی مال، اور اگر دو بیٹیاں ہوں تو دو ثلث اسے دیا جاتا ہے یاد رکھنا، کتنا؟ دو ثلث، دو بیٹیاں ہوں یا دو سے زیادہ ہوں، دو سے زیادہ ہوں پھر بھی دو ثلث ہی دیا جاتا ہے، باقی باقی وارثوں کو دیا جائے گا۔ تو دیکھو دو کا بھی حصہ دو ثلث، دو سے زیادہ کا حصہ بھی دو ثلث بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ دو ثلث کا کیا معنی؟ مثلاً چھ میں سے کتنا دیا جائے گا ان کو؟ چار دیا جائے گا بھئی۔ تو دیکھو دو کا وہی حکم ہے جو کس کا حکم ہے؟ دو سے زیادہ یعنی جماعت کا حکم ہے۔ اسی طرح یاد رکھو حجب بھی سمجھ لو۔ بعض اوقات بعض وارث ایسے ہوتے ہیں کہ ان کے ایک وارث کا حصہ زیادہ ہے لیکن ایک دوسرے مخصوص وارث کچھ اگر ساتھ اس کے ہوئے تو اس وارث کا حصہ کم ہو جاتا ہے۔ کیا ہو جاتا ہے؟ کم ہو جاتا ہے، بعض اوقات بالکل ہی محروم ہو جاتا ہے دوسرے وارث کے آنے کی وجہ سے، اور بعض اوقات اس کے حصے میں کمی آ جاتی ہے، تو اس کو حجب کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ حجب کہتے ہیں۔ تو دیکھو ایک وارث رکاوٹ بن گیا دوسرے کے حصے میں۔ اس کا حصہ زیادہ تھا، اس وارث کے آنے کی وجہ سے کیا ہو گیا؟ حصہ کم ہو گیا۔ اور بعض اوقات وہ بالکل ہی محروم ہو جاتا ہے، تو دیکھو یہ وارث اس وارث کی وراثت میں رکاوٹ بن گیا۔ یہ موجود ہے، اب اسے کچھ نہیں ملے گا۔ اسے حجب کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ حجب کہتے ہیں۔ تو کہتے ہیں اس لیے کہ میراث کے باب میں دو کا وہی حکم ہے جو جماعت کا حکم ہے استحقاقاً و حجباً مستحق ہونے اور رکاوٹ بننے، حاجب بننے کے اعتبار سے۔ فإن للبنتين والاختين الثلثين اس لیے کہ دو بیٹیوں کے لیے اور دو بہنوں کے لیے الثلثين کتنا ہوگا؟ دو ثلث ہوگا کما للبنات والاخوات جیسے کہ بیٹیوں اور بہنوں، یعنی دو سے یعنی تین یا تین سے زیادہ بیٹیوں یا تین یا تین سے زیادہ بہنوں کے لیے ثلثان ہوگا بھئی۔ ويحجب الأخوان للأم من الثلث إلى السدس بھئی دیکھیے، ماں کو بعض احوال میں ثلث ملتا ہے، تیسرا حصہ۔ ایک شخص کا انتقال ہوا، اس کی والدہ زندہ ہے، اس کی والدہ کو تیسرا حصہ ملتا ہے۔ کتنا؟ تیسرا حصہ۔ لیکن اگر اس مرنے والے کے دو بھئی زندہ ہوئے، وہ بھی وارث بنیں گے، تو ان کی وجہ سے اب ماں کو تیسرا حصہ نہیں بلکہ چھٹا ملے گا۔ کتنا ملے گا؟ چھٹا حصہ ملے گا۔ تو دیکھو وہ حاجب بن گئے۔ ماں کا حصہ ثلث سے کم کر کے کتنا کر دیا انہوں نے؟ سدس۔ تو دو بھئی ہوں تب بھی یہی حکم، دو سے زیادہ ہوں پھر بھی یہی حکم ہے، وہ اسی طرح حصے میں کمی کر دیں گے۔ تو دیکھو دو کا وہی حکم ہوا جو دو سے زائد کا تھا۔ تو کہتے ہیں ويحجب الأخوان للأم من الثلث إلى السدس كالإخوة الثلاثة اور حاجب بنتے ہیں دو بھئی ماں کے لیے ثلث سے سدس کی طرف كالإخوة الثلاثة جیسے کہ تین بھئی رکاوٹ بنتے ہیں، حاجب بنتے ہیں۔ تو دو کا وہی حکم ہوا جو تین کا ہے۔ والوصية أخت الميراث اور وصیت میراث کی بہن ہے، یعنی میراث کے مشابہ ہے۔ ٹھیک بھئی، کس چیز کے اندر؟ في كونها استخلافاً بعد الموت اس کے خلیفہ بننے کے اندر موت کے بعد بھئی۔ موت کے بعد خلیفہ بننے میں۔ بھئی دیکھو، وارث میت کا خلیفہ اور نائب بنتا ہے اور اس کا مال لے لیتا ہے۔ تو کب بنتا ہے یہ اس کا وارث؟ اس کا نائب کب بنتا ہے، خلیفہ کب بنتا ہے؟ مرنے کے بعد بنتا ہے۔ اسی طرح وصیت بھی کب، وصیت کے اندر جس شخص کے لیے وصیت کی گئی ہے، یعنی موصی لہٗ، جس شخص کے لیے کیا کی گئی ہے؟ وصیت۔ یہ وصیت بھی کب نافذ ہوتی ہے بھئی؟ مرنے کے بعد بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو دیکھو یہ خلیفہ بننا ہے اس کے اندر جیسے وراثت کے اندر خلیفہ بننا ہے موت کے بعد، اسی طرح وصیت کے اندر بھی خلیفہ بننا ہے کس کے بعد؟ موت کے بعد بھئی۔ تو اسی لیے کہا کہ وصیت میراث کے مشابہ ہے اس کے موت کے بعد خلیفہ بننے میں۔ وتتبع الميراث تبعية النفل للفرض اور یہ وصیت تابع ہے میراث کے، نفل کے فرض کے تابع ہونے کی طرح۔ جیسے کہ نفل کس کے تابع ہوتے ہیں؟ فرضوں کے۔ اسی طرح وصیت بھی تابع ہے کس کے؟ میراث کے۔ معنیٰ یہ مولانا، یعنی جس طرح فرض قطعی ہوتا ہے، فرض میں انسان کو کوئی اختیار نہیں۔ اسی طرح وراثت بھی قطعی ہے بھئی، اس میں بندے کو کوئی اختیار نہیں۔ شریعت نے پہلے ہی بیان کر دیا، اس کا اتنا حصہ، اس کا اتنا حصہ، اس کا اتنا حصہ ہے، اس میں بندے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ اس میں، لہذا یہ جو آپ پڑھتے رہتے ہیں اخبارات میں، کوئی شخص اخبار میں دے دیتا ہے: میں نے اپنے بیٹے کو جائیداد سے عاق کر دیا۔ نہیں مولانا، عاق نہیں کر سکتا، شریعت کے اندر عاق کرنے کی گنجائش نہیں۔ اللہ نے حصہ مقرر کیا ہے، یہ کون ہوتا ہے عاق کرنے والا، اللہ کے حکم کو بدلنے والا؟ ہاں، زندگی میں ٹھیک ہے، اپنی جائیداد سے الگ کر دیا، لیکن مرنے کے بعد اس کا جو حق ہے، جتنا اس کا حصہ ہے، وہ اس کو ملے گا بھئی۔ تو وصیت جیسے فرض قطعی ہوتے ہیں، اس میں انسان کو کوئی اختیار نہیں، اسی طرح وراثت بھی کیا ہے؟ قطعی ہے، اس میں بندے کا کوئی اختیار نہیں، وہ اللہ نے بیان فرمادی۔ اور جیسے وصیت اختیاری ہوتی ہے، نفلوں کی طرح ہے وصیت مولانا۔ نفل اختیاری ہیں، پڑھیں، نہ پڑھیں۔ وصیت بھی اختیاری ہے، کریں یا نہ کریں۔ تو اسی لیے کہا جیسے نفل فرضوں کے تابع ہیں، یعنی فرض تو ہے قطعی اور نفل کیا ہیں؟ زائد اور اختیاری۔ اسی طرح وصیت بھی میراث کے تابع ہے کہ میراث تو ہے قطعی اور وصیت کیا ہے؟ تابع ہے، یعنی اس میں بندے کو اختیار ہے۔ فإن أوصى لموالي فلان وله مولايان یہ مولایان ہونا چاہیے تھا بھئی، مولا کی تثنیہ مولا، مولایان، وہ الف جو تھا آخر میں، وہ کیا بن جائے گا؟ یا بن جائے گا بھئی، مولایان۔ اچھا، بھئی دیکھیے صورت یہ، ایک شخص نے وصیت کی کہ میرے مرنے کے بعد فلاں کے جو موالی ہیں، مثلاً زید کے جو موالی ہیں، ان کو ایک لاکھ روپیہ میرے مال میں سے دے دیا جائے۔ یاد رکھیے وصیت زیادہ سے زیادہ ثلثِ مال میں کی جا سکتی ہے، تیسرے حصے میں، جو مال باقی بچ جائے بھئی۔ قرضے وغیرہ اور کفن دفن وغیرہ سے بچ جائے، اس میں سے ثلث کے اندر وصیت نافذ ہوتی ہے۔ تو تیسرے حصے کی وصیت کی، مثلاً ایک لاکھ کی وصیت کی زید کے موالی کے لیے، اور موالی کا لفظ جمع ہے، اور جمع کا اطلاق کم از کم کس پر ہوتا ہے؟ تین پر ہوتا ہے، لیکن یہ وصیت کا باب ہے، یہاں پر دو کا وہی حکم ہے جو کس کا ہے؟ جماعت یعنی تین یا تین سے زیادہ کا حکم ہے، تو اب اس نے تو کہا تھا کہ یہ میرا اتنا مال زید کے موالی کو دے دینا، اور اس کے صرف دو ہی مولا ہیں، دونوں کو ہی وہ سارا مال دے دیا جائے گا، کیونکہ دو کا بھی وہی حکم ہے جو جماعت کا حکم ہے۔ موالی جانتے ہو یا نہیں بھئی؟ مولا کی جمع ہے، معتق کو بھی مولا کہتے ہیں اور معتق کو بھی کیا کہتے ہیں؟ زید کو کسی نے آزاد کیا تھا، زید پہلے غلام تھا، کسی شخص نے اسے آزاد کر دیا۔ تو وہ جو معتق ہے، آزاد کرنے والا، وہ زید کا مولا ہوا بھئی۔ زید نے کسی کو، غلام کو آزاد کیا ہے، تو وہ غلام جو معتق ہے، وہ بھی زید کا مولا ہے۔ تو معتق پر بھی مولا کا اطلاق ہوتا ہے اور معتق پر بھی بھئی۔ تو فإن أوصى لموالي فلان اگر وصیت کی کسی نے فلاں کے، فلاں کنایہ ہوتا ہے کسی نام سے، مثلاً زید کے موالی کے لیے وصیت کی وله مولايان اور اس کے دو ہی مولا تھے، أو لإخوة زيد یا کسی نے کیا کیا؟ وصیت کی زید کے بھائیوں کے لیے، اخوہ کا لفظ جمع ہے، اور جمع کا اطلاق کم از کم کتنے پر ہوتا ہے؟ تین پر، لیکن یہ وصیت کا باب ہے، یہاں دو کا بھی وہی حکم ہے جو جماعت کا حکم ہے، تو اب زید کے فرض کرو صرف دو ہی بھئی تھے، تو ان دونوں ہی کو کیا دے دیا جائے گا؟ سارا مالِ وصیت دے دیا جائے گا۔ أو لإخوة زيد یا کسی نے وصیت کی زید کے بھائیوں کے لیے وله أخوان اور اس کے دو ہی بھئی تھے يستحقان الكل تو وہ سارے کے سارے مال کے مستحق ہوں گے، وہ دو مولا اور وہ دو بھئی ہی سارے مال کے مستحق ہو جائیں گے۔ أو على سنة تقدم الإمام یا یہ مولانا حدیث محمول ہے امام کے آگے ہونے کی سنت پر۔ امام کے آگے ہونے کی سنت پر محمول ہے، یعنی حدیث کا معنیٰ یہ ہے کہ جب دو یا دو سے زیادہ، دو سے دو یا دو سے زیادہ کیا ہیں؟ جماعت ہیں، یعنی دو بھی مقتدی ہو جائیں تو امام آگے کھڑا ہو۔ بھئی آپ جانتے ہیں، امام کے ساتھ اگر صرف ایک مقتدی ہے تو امام اس سے آگے نہیں کھڑا ہوگا، بلکہ اسے اپنے ساتھ ہی دائیں طرف کیا کر لے گا؟ کھڑا کر لے گا، تھوڑا سا پیچھے ہو، بالکل تاکہ امام اور مقتدی کا پتہ لگ جائے بس، سمجھ میں آیا؟ اور جماعت میں تو آپ دیکھتے ہیں، امام صف سے آگے کھڑا ہوتا ہے، اس طرح نہیں کھڑا ہوگا اگر مقتدی ایک ہے، بلکہ اس کو کیا کرے گا امام؟ اپنے ساتھ دائیں طرف کھڑا کر لے گا، تھوڑا سا پیچھے ہو اس سے بھئی، معمولی سا۔ تو اس حدیث میں یہ بیان ہوا کہ دو یا دو سے زیادہ کیا ہیں؟ جماعت، تو اگر دو مقتدی ہو جائیں تو امام آگے ہو جائے گا، کیونکہ سنت کیا ہے، امام کیا ہونا چاہیے؟ آگے ہونا چاہیے، تو لہذا اب اس امام کے آگے ہونے کی سنت کے لیے یہ حدیث آئی ہے کہ اس صورت میں پھر امام کیا ہو؟ آگے ہو جائے، کیونکہ دو بھی کیا ہیں؟ جماعت، جیسے دو اور دو سے زیادہ جماعت ہیں بھئی۔ إذا كان المقتدي اثنين يتقدمهما الإمام كما يتقدم على الثلاثة یعنی جب مقتدی دو ہوں تو امام ان دونوں سے آگے ہوگا جیسے وہ آگے ہوتا ہے تین پر خلافا لأبي يوسف رحمه الله برخلاف امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے فإنه عنده يتوسطهما اس لیے کہ ان کے نزدیک امام ان کے بیچ میں ہوگا۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نہیں، اگر مقتدی دو ہیں تو پھر بھی امام آگے نہیں ہوگا بلکہ ان کے بیچ میں ہی کھڑا ہوگا امام بھئی، ہاں تین ہوں تو پھر کہتے ہیں امام آگے کھڑا ہو جائے۔ بات سمجھ میں آگئی یہاں تک بھئی؟ وذلك اور وجہ یہ ہے مولانا، وجہ اس کی بھئی، امام کے آگے ہونے کی بھئی، کہ جب مقتدی دو ہوں تو امام کے آگے ہونے کی وجہ یہ ہے لأن الإمام محسوب في الجماعة كلها کہ امام کو شمار کیا جاتا ہے ہر جماعت کے اندر إلا في الجمعة سوائے جمعہ کے، سوائے جمعہ کے۔ وجہ ذکر کر رہے ہیں بھئی، دیکھو دو ہیں تو امام آگے ہوگا، کیا وجہ ہے؟ یہ دو سے امام آگے کیوں ہوگا؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ امام کو بھی شمار کیا جاتا ہے جماعت کے اندر، تو دو مقتدی ہوئے، ایک امام ہوا، جماعت ہو گئی، تین ہو گئے یا نہیں ہو گئے بھئی؟ تین ہو گئے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ جبکہ جمعہ کے اندر جو ہے، امام کو جماعت میں سے شمار نہیں کیا جاتا بھئی، وجہ یہ کہ جمعہ کے لیے امام کا ہونا شرط ہے۔ بھئی آپ نے کبھی بغیر جماعت کے جمعہ پڑھا ہے؟ جی؟ ہیں؟ اس کے لیے امام کا ہونا شرط ہے۔ جمعہ کے لیے امام کا ہونا، جماعت کا ہونا شرط ہے، امام آگے ہو بھئی۔ جبکہ عام نماز کبھی آپ نے اکیلے پڑھی ہے یا نہیں پڑھی بھئی؟ پڑھی ہے، معلوم ہوا اس میں امام کا ہونا شرط نہیں، تو جمعہ کے اندر امام کا ہونا شرط، عام جماعتوں کے اندر امام کا ہونا شرط نہیں۔ لہذا عام جماعتوں کے اندر بھئی، امام کو بھی جماعت کے اندر ہی شمار کیا جاتا ہے، جمعہ کے اندر امام کو جماعت کے اندر شمار نہیں کیا جاتا، کیونکہ وہ شرط ہے، وہ الگ ہوگا بھئی۔ اس کے علاوہ، امام کے علاوہ جماعت ہونی چاہیے اور کتنی ہوگی پھر جماعت؟ تین ہونے چاہئیں۔ اور عام نمازوں میں امام شرط نہیں، وہ انہی میں شمار ہوگا، تو وہاں جماعت کتنے میں ہو جائے گی؟ دو مقتدی اور ایک امام، جماعت تین ہو گئے، جماعت ہو گئی بھئی۔ صورت سمجھ، وجہ سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو کہتے ہیں وذلك اور دو مقتدی وذلك لأن الإمام محسوب في الجماعة كلها اور یہ امام کا دو پر آگے ہونے کی وجہ یہ ہے کیونکہ امام جو ہے وہ شمار کیا جاتا ہے ہر جماعت کے اندر إلا في الجمعة سوائے جمعہ کے فإن فيها تشترط ثلاثة رجال سوى الإمام اس لیے کہ اس کے اندر شرط ہے تین مردوں کا ہونا امام کے علاوہ خلافا لأبي يوسف رحمه الله برخلاف امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے إذ عنده يكفي اثنان سوى الإمام اس لیے کہ ان کے نزدیک دو بھی کافی ہیں امام کے علاوہ۔ ولم يذكر المصنف رحمه الله الجواب الثالث الذي ذكره غيره اور ذکر نہیں کیا مصنف نے تیسرے جواب کو جس کو ان کے علاوہ نے ذکر کیا ہے، دو جواب تو دے دیے، پہلا جواب اس حدیث کا کیا دیا کہ یہ حدیث محمول ہے کس پر؟ میراث اور وصیت پر۔ دوسرا جواب کیا دیا؟ یہ حدیث محمول ہے کس پر؟ امام کے آگے ہونے کی سنت پر، سنت پر۔ کہتے ہیں تیسرا جواب مصنف نے ذکر نہیں کیا جو بعض علماء نے دیا، وہ یہ کہ وهو أنه محمول على المسافرة بعد قوة الإسلام کہ یہ حدیث محمول ہے سفر کرنے پر اسلام کے قوی ہونے کے بعد، اسلام کے قوی ہو جانے کے بعد سفر کرنے پر یہ حدیث محمول ہے۔ کیوں؟ دیکھیے خود تشریح آ رہی ہے فإنه عليه السلام نهى أولا عن مسافرة الواحد والاثنين لضعف الإسلام اس لیے کہ حضور علیہ السلام نے منع فرمایا تھا اولا پہلے، منع فرمایا تھا ایک کے سفر کرنے سے اور دو کے سفر کرنے سے لضعف الإسلام وغلبة الكفار اسلام کے ضعیف ہونے اور کفار کے غالب ہونے کی وجہ سے فقال تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں الواحد شيطان والاثنان شيطانان والثلاثة ركب، أي جماعة كافية ایک بھی شیطان ہے، دو بھی شیطان ہیں، اور تین ركب، أي جماعة كافية، تین کافی جماعت ہے بھئی، تین جماعت ہے۔ وجہ یہ مولانا، سفر ہوتا تھا بھئی، جنگلوں میں ہو رہا ہے اور جنگلوں میں سفر ہو رہا ہے، سفر کرنا ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا، لازمی بات ہے بھئی، راستے میں سنسان جگہ ہے ساری، جنگلوں میں سے گزرنا پڑتا، اور ایک شخص ہوگا، تب کوئی اس پر تکلیف آ گئی، تو مصیبت میں پڑ جائے گا، کوئی اس کا مددگار وہاں پر نہیں ہوگا۔ اگر دو ہوں مولانا، تو دو میں سے بھی فرض کرو اگر ایک بیمار ہو جاتا ہے تو دوسرا مصیبت میں پڑ جائے گا بھئی۔ ہاں تین ہوں، تو پھر ٹھیک، بہتر ہے کہ ایک اگر مثلاً بیمار بھی ہو جائے، دوسرا کیا ہوگا؟ اس کے لیے اس کی ضرورت پوری کرنے کے لیے کہیں جاتا بھی ہے، تو ایک تو اس کے پاس، ساتھ ہی رہے گا کم از کم بھئی۔ اور دو ہیں مثلاً فرض کرو، دو، سامان بھی ساتھ ہے، سواری وغیرہ بھی ہے، اب ایک سواری کے پاس رہا، سامان کے پاس رہا، اور دوسرا کسی ضرورت کے لیے گیا بھئی، اب اگر اس نے دیر کر دی تو یہ ایک تو مصیبت میں پڑ جائے گا، میں کیا کروں بھئی؟ ہاں اگر تین ہوئے، ایک نے دیر بھی کر دی تو دوسرا پھر دوسرا اس کے پیچھے پتہ کرنے کے لیے جا سکتا ہے، اور ایک پھر بھی کس کے پاس رہے گا؟ سامان کے پاس رہے گا۔ تو اسے منع کیا گیا تھا شروع میں، اسلام ضعیف تھا، کفار تھے ہر طرف بھئی، تو حضور نے فرمایا: ایک شیطان ہے، دو شیطان ہیں، اور تین کیا ہیں؟ ركب، أي جماعة كافية، کافی جماعت ہے۔ ثم لما قوي الإسلام پھر جب اسلام قوی ہو گیا رخص للاثنين تو رخصت دے دی گئی دو کو بھی وبقي الواحد على حاله اور ایک اپنے حال ہی پر باقی رہا فقال عليه السلام تو حضور علیہ السلام نے فرمایا الاثنان فما فوقهما جماعة کہ دو یا اور دو سے زیادہ جماعت ہیں بھئی، دو یا دو سے زیادہ جماعت ہیں۔ تو جب اسلام قوی ہوا، تو دو کو بھی سفر کی اجازت دے دی گئی۔ اور جب اسلام غالب ہو گیا، تو پھر علماء نے کہا کہ اب ایک بھی سفر کر سکتا ہے، لہذا اب ایک کا سفر کرنا بھی جائز ہے مولانا۔ وباقي تمسكات المخالف بأجوبتها مذكورة في المطولات اور مخالف کے باقی استدلالات جو ہیں ان کے جوابات کے ساتھ مذکور ہیں بڑی کتابوں کے اندر بھئی۔ ایک استدلال انہوں نے اس حدیث سے کیا تھا، اس کے جوابات یہاں گزر گئے، ان کے باقی جو استدلالات ہیں جو وہ کہتے ہیں کہ کیا؟ دو ہی، دو بھی کیا ہیں؟ جمع ہیں، اس کے صرف یہی ایک دلیل نہیں دیتے وہ، بھئی کافی دلیلیں دیتے ہیں، کہتے ہیں ان کے باقی استدلالات، باقی ان کے جو دلائل ہیں وہ بڑی کتابوں میں مذکور ہیں اور ساتھ ان کے جوابات بھی مذکور ہیں۔ و اما لما فرغ عن بحث العام شرع في بيان المشترك، فج المصنف رحمه الله فارغ ہوئے عام کی بحث سے تو شروع ہوئے مشترک کے بیان کے اندر۔ فقال پس فرماتے ہیں: واما المشترك فهو ما يتناول افرادا افرادا ہے اپ کی کتابوں میں؟ افرادا ہونا چاہیے یہاں ایک الف ہو بھئی۔ فهو ما يتناول افرادا مختلفة الحدود على سبيل البدل. مشترک وہ ہے جو شامل ہو وہ لفظ جو شامل ہو افرادا، بہت سے افراد کو ایسے بہت سے ایسے افراد کو مختلفة الحدود، جو جن کی حدود مختلف ہوں، یعنی حد مختلف ہو، یعنی جن کی حقیقتیں کیا ہوں؟ مختلف ہوں، علی سبیل البدل۔ اور یہ یہ لفظ ان کو شامل ہوگا کس طریقہ پر؟ بدل کے طریقہ پر، شمول کے طریقہ پر نہیں بھئی، شمول کے طریقہ پر نہیں۔ جی آگے شاید تفصیل آ رہی ہے۔ کہتے ہیں: اراد بالافراد ما فوق الواحد، ارادہ کیا مصنف نے افراد کے ذریعے ما فوق الواحد کا، ایک سے اوپر، یعنی دو بھی اس میں داخل ہے۔ افراد تو ویسے صیغہ جمع کا ہے، تو تین پر کم از کم اطلاق ہوگا، لیکن مصنف نے ارادہ کیا ہے کس کا اس اس کے ذریعے؟ ایک سے زیادہ کا، یعنی دو بھی اس میں داخل ہے۔ ليتناول المشترك بين المعنيين فقط، تاکہ شامل ہو جائے اس کو بھی جو مشترک ہے دو معنی کے درمیان صرف۔ وهو يخرج الخاصة، اور یہ لفظ جو افراد کا لفظ ہے، یہ خاص کو نکال دیتا ہے، کیونکہ خاص کیا ہے؟ افراد کو شامل نہیں ہوتا، پڑھ چکے ہیں۔ وقوله مختلفة الحدود، اور مصنف کا قول مختلفة الحدود، يخرج العامة، وہ کس کو نکال دیتا ہے؟ عام کو نکال دیتا ہے علی ما مر، بناء بر اس کے جو گزر گیا، کیونکہ عام کے جو افراد ہیں وہ مختلفة الحدود نہیں ہوتے، بلکہ متفقة الحدود ہوتے ہیں۔ تو جب مختلفة الحدود کہا تو عام نکل گیا۔ وقوله على سبيل البدل لبيان الواقع، اور مصنف کا قول علی سبیل البدل یہ واقع کے بیان کے لیے ہے، کہ جو مشترک ہوتا ہے اپنے افراد کو شامل ہوتا ہے کس طریقہ پر؟ علی سبیل البدل۔ علی سبیل البدل شامل ہوتا ہے، ایک مراد ہے ایک وقت میں، دوسرے وقت میں دوسرا مراد ہے۔ تو یہ بیان واقع کے لیے ہے، اعتراض کے لیے نہیں ہے بھئی۔ او اعتراض عن قول الشافعي، یا یہ اعتراض ہے امام شافعی رحمہ اللہ کے قول سے کہ ان کا کیا قول ہے؟ انه على سبيل الشمول، کہ عام مشترک کیا ہوتا ہے؟ اپنے افراد کو شامل ہوتا ہے علی سبیل الشمول، بھئی شمول کے طریقہ پر بھئی، سب یعنی ساروں کو اکٹھا، كما سياتي، جیسے کہ عنقریب آ جائے گا بھئی، عنقریب آ جائے گا۔ وقيل انه اعتراض عن لفظ الشيء، اور کہا گیا ہے کہ اعتراض ہے لفظ شیءٌ سے بھئی، الشیء بھئی۔ بھئی انہوں نے بتایا کہ علی یہ علی سبیل البدل، یہ یا تو یہ قیدِ احترازی نہیں ہے، بلکہ یہ بیانِ واقع ہے، یعنی یہ جو مشترک ہوتا ہے اپنے معانی کو شامل ہوتا ہے علی سبیل البدل، یعنی ایک وقت میں ایک مراد ہے، باقی مراد نہیں، دوسرے وقت میں دوسرا مراد ہے، باقی مراد نہیں۔ بھئی تو علی سبیل البدل اپنے افراد کو شامل ہوتا ہے۔ یا کہتے ہیں اس کو قیدِ احترازی بنا لو، اور اس صورت میں امام شافعی رحمہ اللہ کے قول سے اعتراض ہو جائے گا، کیونکہ وہ کیا کہتے ہیں؟ کہ مشترک اپنے افراد کو شامل ہوتا ہے علی سبیل الشمول، یعنی تمام معانی کو بھی، کبھی ارادہ بھی صحیح ہے ان کے نزدیک بھئی۔ وقیل، اور بعضوں نے کہا کہ انه اعتراض عن لفظ الشيء، کہ یہ جو علی سبیل البدل یہ اعتراض ہے لفظ الشیء سے۔ فانه باعتبار كونه بمعنى الموجود مشترك معنوي خارج عن هذا المشترك. بھئی پہلے مشترکِ معنوی اور مشترکِ لفظی سمجھ لیں بھئی، یہ بات پہلے بھی گزر چکی ہے۔ مشترکِ معنوی اس کو کہتے ہیں کہ لفظ کو ایسے معنیِ کلی کے لیے وضع کیا جائے جس کے بہت سے افراد ہوں، اس کو کیا کہتے ہیں؟ مشترکِ معنوی۔ لفظ کو ایسے معنیِ کلی کے لیے وضع کیا جائے جس کے بہت سے افراد ہوں، جیسے حیوان، حیوان کے بہت سے افراد ہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یا جیسے رجل، رجل کے بہت سے افراد ہیں بھئی، یعنی کلی ہو وہ، کیا ہو؟ کلی ہو، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو مشترکِ معنوی کسے کہتے ہیں؟ کلی کو کہتے ہیں، یعنی جس کے افراد بہت سے ہوں بھئی۔ اور دوسرا مشترکِ لفظی ہے، مشترکِ لفظی اس کو کہتے ہیں کہ ایک لفظ کو ایک معنی کے لیے ایک مرتبہ وضع کیا گیا، دوسرے معنی کے لیے دوسری مرتبہ اس کی وضع ہوئی، یا اور اسی طرح اگر تین معنی ہیں تو تیسرے معنی کے لیے الگ اس کی وضع ہوئی بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اس کے افراد زیادہ نہیں ہیں، لیکن ہر وضع کو ہر وضع کے اعتبار سے ایک ہی معنی کے لیے وضع ہے بھئی، لیکن وضع ہو گیا تین معانی کے لیے، الگ الگ بھئی، تو اس یہ کیا ہے؟ مشترکِ لفظی ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو مشترکِ معنوی کس کو کہتے ہیں؟ کلی کو کہتے ہیں جو کثیرین پر صادق آئے۔ اور مشترکِ لفظی کس کو کہتے ہیں؟ بھئی اس کو جو مشترکِ معنوی تھا، اس کو وضع ہی کثیرین کے لیے کیا گیا تھا، جبکہ مشترکِ لفظی ایک وقت میں ایک معنی کے لیے وضع، دوسرے وقت میں دوسرے معنی کے لیے وضع، تیسرے وقت میں تو ایک وقت میں وہ ایک ہی معنی کے لیے وضع ہو رہا ہے، دوسرے معنی کے لیے الگ وضع ہے، تیسرے معنی کے لیے اسے مشترکِ لفظی کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ اور ہماری بحث مشترکِ لفظی کے اندر چل رہی ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ مشترک کی بحث پڑھ رہے ہیں، اور کون سا مشترک کسے کہتے ہیں؟ مشترکِ لفظی جس کو کئی معنی کے لیے الگ الگ وضع کیا گیا ہو۔ تو بعضوں نے کہا کہ انه اعتراض عن لفظ الشيء، کہ یہ الشیء کے لفظ سے اعتراض ہے، علی سبیل البدل یہ کس سے اعتراض ہے؟ لفظ الشیء سے، فانه باعتبار كونه بمعنى الموجود، اس لیے کہ یہ لفظِ شیء بمعنی موجود کے، مشترك معنوي، یہ کیا ہے؟ مشترکِ معنوی ہے۔ خارج عن هذا المشترك، اس مشترک سے خارج ہے، کیونکہ یہ تو مشترکِ لفظی کی بات چل رہی ہے، اور الشیء بمعنی موجود کے، الشیء بمعنی موجود کے، اس کا اطلاق سارے ہی اس کے افراد ہیں مولانا، جس چیز کا بھی وجود ہے، وہ کیا ہے؟ الشیء ہے، الشیء کس معنی میں؟ بمعنی الموجود کے، تو جس چیز کا بھی وجود ہے، جو بھی چیز پائی جاتی ہے، وہ کیا ہے؟ الشیء ہے۔ تو بایں اعتبار یہ سارے اس کے افراد ہوئے، تمام چیزیں کیا ہو گئیں اس کے؟ افراد بھئی، تو یہ ایسی کلی ہوئی جو کثیرین پر صادق آ رہی ہے مولانا، تو بایں اعتبار یہ کیا ہوا؟ مشترکِ بھئی یہ الشیء کا اطلاق آپ کی کتاب پر بھی صحیح، آپ کی اس تپائی پر بھی صحیح، الشیء کا اطلاق یہ آپ کے قلم پر بھی صحیح بھئی، سمجھ میں آیا؟ یہ گھڑی پر بھی اس کا اطلاق صحیح، تو ہر چیز پر اس کا اطلاق ہو سکتا ہے بھئی، تو یہ کیا کلی ہے جو کس پر صادق آ رہی ہے؟ کلی ہے، کثیرین پر صادق آ رہی ہے بھئی، تو یہ مشترکِ معنوی ہوا بھئی۔ تو کیا ہر ایک کے لیے الگ وضع ہے؟ نہیں، یہ بمعنی کس کے ہے؟ الموجود کے، اور جو بھی چیز موجود ہے، وہ سارے اس کے افراد ہو گئے، تو یہ کلی ہوئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ مشترکِ معنوی ہوا، اور جب مشترکِ معنوی ہوا بایں اعتبار، تو یہ اس مشترک سے خارج ہوا، کیونکہ ہماری بحث تو کس سے چل رہی ہے؟ مشترکِ لفظی میں چل رہی ہے۔ وباعتبار كون افراده مختلفة الحقائق داخل في المشترك اللفظي، اور بایں اعتبار کہ اس کے افراد جو ہیں وہ مختلفة الحقائق ہیں بھئی، یہ کتاب پر بھی بولا جاتا ہے، اس کی حقیقت الگ، یہ قلم پر بھی بولا جاتا ہے، اس کی حقیقت الگ بھئی، سمجھ میں آیا؟ یہ تپائی پر بھی بولا جاتا ہے، اس کی حقیقت تو ہر چیز پر بولا جاتا ہے اور حقیقتیں ان کی الگ الگ ہیں، اور مشترک کی تعریف میں آپ نے کیا کہا تھا کہ وہ ایسے افراد پر بولا جائے جن کی حقیقتیں مختلف ہوں، الگ الگ ہوں، تو یہاں بھی اسی طرح ہوا، اس کے افراد مختلفة الحقائق ہوئے، تو بایں اعتبار یہ داخل ہے کس کے اندر؟ مشترکِ لفظی کے اندر، کس کے اندر داخل ہوا؟ تو اس بایں لحاظ دیکھا جائے کہ یہ کثیرین پر صادق ہے، معنیِ کلی ہے، یہ مشترکِ معنوی ہوا، بایں اعتبار تو یہ خارج ہو جاتا ہے مشترکِ لفظی سے، لیکن بایں اعتبار کہ اس کے افراد مختلفة الحقائق ہیں، یہ کس میں داخل ہو جاتا ہے؟ مشترکِ لفظی میں داخل ہو جاتا ہے۔ تو علی سبیل البدل کہہ کر اس سے اعتراض کیا گیا، کیونکہ یہ کثیرین پر صادق آ رہا ہے، لیکن کیا علی سبیل البدل یا علی سبیل الشمول؟ علی سبیل الشمول، معنیِ کلی کو شامل ہے یہ بھئی، سمجھ میں آیا؟ تمام افراد ہر موجود اس کے افراد میں سے ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ كالقرء، یا القرء، دونوں طرح پڑھنا صحیح ہے بھئی۔ كالقرء للحيض والطهري، جیسے قرءٌ کا لفظ حیض اور طہر کے لیے، مشترک کی مثال ذکر کر رہے ہیں بھئی، کہ قرءٌ کا لفظ جیسے کہ حیض اور طہر کے لیے۔ فانه مشترك بين هذين المعنيين المتضادين لا يجتمعان، اس لیے کیونکہ یہ مشترک ہے ان دو معنی کے درمیان جو کہ متضاد ہیں، کبھی بھی جمع نہیں ہو سکتے بھئی، کبھی بھی جمع نہیں ہوتے، حیض ہے تو طہر نہیں، طہر ہے تو حیض نہیں بھئی۔ وقد اوله الشافعي رحمه الله بالطهر، اور تحقیق تاویل کی ہے اس کی امام شافعی رحمہ اللہ نے طہر کے ساتھ، کہ قرءٌ سے کیا مراد ہے؟ طہر۔ وابو حنيفة رحمه الله بالحيض، تاویل کی ہے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے اس کی حیض کے ساتھ، كما عرفت، جیسا کہ آپ جان چکے ہیں۔ وحكمه التوقف فيه بشرط التامل ليترجح بعض وجوهه للعمل به، اور حکم کیا ہے مشترک کا؟ وہ بیان کر رہے ہیں، کہتے ہیں: وحكمه التوقف فيه، کہ اس مشترک میں کیا کیا جائے گا؟ توقف کیا جائے گا، بشرط التامل، تامل کی شرط کے ساتھ، کس کے ساتھ؟ تامل کی شرط کے ساتھ بھئی، تامل کیوں کیا جائے گا؟ غور و فکر کیوں کیا جائے گا؟ کہتے ہیں: ليترجح بعض وجوهه، تاکہ ترجیح پا جائے اس کے بعض معنی، اس کا کوئی ایک معنی کیا ہو جائے؟ ترجیح، بھئی یہ مشترک تو تین چار معانی کے لیے الگ الگ وضع ہے، تو اس میں غور کیا جائے گا کہ مثلاً ایک جگہ اس کا اطلاق ہوا، تو اس میں غور کیا جائے گا کہ اس کا کون سا معنی مراد ہے بھئی، تاکہ اس کا ایک معنی ترجیح پا جائے، پتہ لگ جائے اس معنی کے لیے وضع ہے بھئی، کوئی قرائن وغیرہ سے پتہ لگ جائے گا بھئی۔ تو یہ تامل کی شرط بشرط التامل تاکہ ترجیح پا جائے اس کے بعض وجوهه، اي بعض معانيه، اس کے معانی میں سے بعض۔ کیوں؟ للعمل به، تاکہ اس پر عمل کیا جائے، تو غور و فکر کیا جائے گا تاکہ کوئی ایک معنی ترجیح ترجیح پا جائے تاکہ اس پر کیا کر لیا جائے؟ عمل کر لیا جائے۔ يعني التوقف عن اعتقاد معنى معين من المعاني، بھئی توقف کیا جائے گا، کیا معنی توقف کا معنی؟ کہتے ہیں: یعنی توقف کیا جائے گا عن اعتقاد معنی معین من المعانی، معانی میں سے کسی معین معنی کے اعتقاد سے توقف کیا جائے گا آپ کے۔ کہ مشترک سے یہی معنی مراد ہے، اس سے توقف کیا جائے گا بھئی، ہو سکتا ہے دوسرا معنی مراد ہو، ہو سکتا ہے بھئی جب بھی وہ لفظ بولا جائے گا وہ ایک معنی مراد ہوتا یا بعض جگہ ایک معنی، بعض جگہ دوسرا معنی؟ بعض جگہ ایک معنی، بعض جگہ دوسرا۔ تو کوئی معین معنی کا اعتقاد معلوم ہوا، کسی معین معنی کا اعتقاد کے اعتقاد سے کیا کیا جائے گا؟ توقف کیا جائے گا۔ یعنی التوقف عن اعتقاد معنی معین من المعانی، یعنی توقف کیا جائے گا عن اعتقاد معنی معین، معانی میں سے کسی معین معنی کے اعتقاد سے توقف کیا جائے گا۔ والتامل لاجل ترجح بعض الوجوه لاجل العمل لا للعلم القطعي، اور غور و فکر کیا جائے گا لاجل ترجح بعض الوجوه، تاکہ ترجیح پا جائیں بعض معانی، لاجل العمل، کس لیے؟ عمل کرنے کے لیے، لا للعلم القطعي، علمِ قطعی کے لیے نہیں بھئی، سمجھ میں آیا؟ قطعی علم کے لیے تو غور و فکر جو کیا جائے گا تاکہ کوئی ایک معنی ترجیح پا جائے، وہ کس لیے ہوگا غور و فکر؟ تاکہ اس پر عمل کر لیا جائے، نہ کہ یہ کہ اس سے کیا ہوگا؟ قطعی علم، قطعی علم نہیں ہو سکتا بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جیسے قرءٌ کا لفظ آیا تھا، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے طہر مراد ہے، ہم کہتے ہیں نہیں اس سے حیض مراد ہے، ان کے اپنے دلائل، ہمارے اپنے دلائل بھئی، قطعی طور پر کوئی بات نہیں ہو سکتی۔ كما تاملنا في القرء بعدة وجوه، جیسے کہ ہم نے غور کیا قرءٌ کے اندر کئی وجوہ سے، احدها بصيغة الثلاثة، ایک وجہ کیا ہے؟ کس کے ساتھ تامل کیا؟ ثلاثة کے صیغہ کے ساتھ۔ بھئی قرءٌ سے پہلے کیا آیا قرآن کے اندر؟ ثلاثة قروء، تو اس ثلاثة پر ہم کہتے ہیں یہ ثلاثة بتلاتا ہے کہ قرءٌ سے حیض مراد ہے، اس لیے کہ تین پر تبھی عمل ہو سکتا ہے کہ اس سے کیا قرءٌ سے کیا مراد لیا جائے؟ حیض مراد لیا جائے بھئی۔ اور اگر اسے طہر مراد لیں تو تین پر عمل نہیں رہے گا، کیونکہ ایک وہ طہر جس میں طلاق دی ہے اور اگلے دو طہر، تو یہ تین پورے نہ ہوئے۔ والثاني، اور دوسری وجہ کیا ہے؟ بكون اقل الجمع ثلاثة على ما مر، جمع کے اقل اقلِ جمع تین ہونے کے کے ساتھ بھئی، بناء بر اس کے جو گزر گئی۔ کیونکہ اقل جمع کے اقل افراد کتنے ہوتے ہیں بھئی؟ تین، اور قرآن میں لفظ قرءٌ مفرد آیا یا جمع آیا؟ جمع قروء آیا، اور قروء تو جمع کا اطلاق کم از کم کتنے پر ہوتا ہے؟ تین پر ہوتا ہے، لہٰذا لہٰذا تین پر اسی صورت میں عمل ہو سکتا ہے کہ اس سے کیا مراد لیں؟ حیض مراد لیں بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جی۔ والثالث، بھئی وہ وجوہات بیان کر رہے ہیں جس کے ساتھ ہم نے غور کیا ہے قروء کے اندر، تیسری وجہ: بان انه بمعنى الجمع والانتقال والمجتمع هو الدم، بھئی پہلے یہ دلیل سمجھ لیں بھئی۔ یاد رکھیے قرءٌ کا لفظ ق ر ء، قاف، را، ہمزہ، یہ مادہ بھئی، یہ جمع کے معنی میں بھی آتا ہے اور انتقال کے معنی میں بھی آتا ہے، کس معنی میں؟ جمع کرنے کے معنی میں بھی آتا ہے اور منتقل ہونے کے معنی میں بھی آتا ہے۔ عربی میں کہتے ہیں: قرأت الشيء، کیا معنی؟ اي جمعت الشيء، میں نے اس چیز کو کیا کیا؟ جمع کیا، اکٹھا کیا۔ اچھا، اور اسی طرح یہ منتقل ہونے کے معنی میں بھی آتا ہے، عربی میں کہتے ہیں: قرأ النجم، ستارہ منتقل ہو گیا، ستارہ کیا ہوا؟ جب وہ منتقل ہوتا ہے، حرکت کرتا ہے بھئی۔ تو قرءٌ کے کس معنی پر اس کے کیا معنی آتے ہیں عربی میں؟ جمع کرنے کے بھی اور منتقل ہونے کے بھی، اور یہ دونوں معنی حیض کے اندر تو پائے جاتے ہیں، طہر کے اندر نہیں پائے جاتے، معلوم ہوا قرءٌ کی مناسبت حیض کے ساتھ تو ہے، طہر کے ساتھ نہیں، قرءٌ کے کتنے کون سے دو معنی آتے ہیں؟ جمع کرنا اور منتقل ہونا، اور یہ دو معنی کس کے اندر پائے جاتے ہیں؟ حیض کے اندر تو ہیں، لیکن طہر کے اندر نہیں، تو لہٰذا اس کی مناسبت حیض کے ساتھ تو ہے، طہر کے ساتھ نہیں، لہٰذا اس سے حیض والا معنی مراد ہونا چاہیے، طہر والا معنی مراد نہیں ہونا چاہیے، بات سمجھ میں آ گئی؟ اب دیکھیے یہی بات بیان کریں گے ذرا تفصیل کے ساتھ۔ والثالث، تیسری وجہ یہ بان انه بمعنى الجمع والانتقال، کہ قرءٌ کس معنی میں ہے؟ جمع اور انتقال کے معنی میں ہے۔ والمجتمع هو الدم في ايام الطهر، اور جمع ہونے والا وہ خون ہے ایامِ طہر کے اندر، وكذا المنتقل هو الدم، اور اسی طرح منتقل ہونے والا وہ خون ہے في ايام الحيض، ایامِ حیض کے اندر، ایامِ حیض کے اندر بھئی۔ بھئی وہ خون ایامِ طہر میں جمع ہوتا ہے، اور رحم عورت کے رحم میں، اور ایامِ حیض میں وہ منتقل ہوتا ہے خارج کی طرف بھئی، تو یہ دیکھو جمع کا معنی بھی آیا اس دم میں، اور منتقل ہونے کا معنی بھی آیا اس دم خون کے اندر بھئی۔ وتحقيقه، تحقیق اس کی یہ ہے، اب پوری تفصیل کرنے لگے ہیں بھئی۔ کہ تحقیق اس کی یہ ہے کہ ان الحيض ان كان هو الدم، کہ حیض یا تو اس خون کا نام ہے یا ان ایام کا نام ہے، حیض کس کا نام ہے؟ خون کا نام ہے یا ایام کا نام ہے، تو اگر خون کا نام ہو، پھر بھی قرءٌ کے ساتھ اس کی مناسبت، اگر ان ایام کا نام ہو، پھر بھی قرءٌ کے ساتھ اس کی مثلاً پہلی صورت: حیض خون کا نام ہے، تو پھر اس صورت میں جمع ہونے والا خون، بھئی قرا کا معنی تھا تو الجمع کرنا، اور ہم کر رہے ہیں جمع ہونا، بہرحال مناسبت تو ہے، جمع کرنا اور جمع ہونے کے ساتھ اس کی کیا ہے؟ دونوں میں جمع ہے، سمجھ میں آیا؟ تو کہا: اگر حیض خون کا نام ہو، تو جمع ہونے والا خون ہے، اور منتقل ہونے والا خون ہے، تو یہ خون مجتمع بھی ہے، منتقل بھی ہے، اگرچہ جامع نہیں، جمع کرنے والا نہیں۔ لیکن بہرحال مجتمع جمع تو ہے جمع ہونے والا تو ہے، منتقل ہونے والا تو ہے تو بہرحال وہ جمع کا معنی کسی نہ کسی اعتبار سے آ گیا بھئی مجتمع کے اندر بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی، لہذا معلوم کرو ان کی کس کے ساتھ مناسبت ہے؟ حیض کے ساتھ۔ اور اگر حیض بمعنے ہو ان ایام کے، وہ ایام ان ایام کا نام ہو حیض تو اس صورت میں بھی کہتے ہیں دو رائے ہیں۔ ایک بعض علماء لکھتے ہیں کہ ایامِ طہر میں وہ خون جمع ہوتا ہے۔ کیا ہوتا ہے؟ یہ الگ ایک پہلے تمہید کے طور پر وہ ایک بات بیان کر رہا ہوں بھئی۔ بعض علماء کیا فرماتے ہیں کہ یہ جو خون ایامِ حیض میں نکلتا ہے یہ ایامِ طہر میں جمع ہوتا ہے۔ ایامِ طہر کے اندر یہ عورت کے رحم میں آہستہ آہستہ جمع ہوتا چلا جاتا ہے اور پھر جب ایامِ حیض آتے ہیں تو یہ باہر کی طرف منتقل ہوتا ہے۔ تو جمع کس وقت ہوتا ہے؟ ایامِ طہر میں۔ اور فارغ کس وقت ہوتا ہے؟ ایامِ حیض میں۔ آگے شارح بتلائیں گے کہ یہ سرسری رائے ہے، اصل یہ ہے کہ یہ جمع بھی حیض کے ایام میں ہوتا ہے اور منتقل بھی حیض ہی کے ایام میں ہوتا ہے۔ یہ ویسے مقدمے کے طور پر ایک بات بتلائی، دو رائے ہو گئیں مولانا۔ تو اب دیکھو، کہتے ہیں پہلی بات تو گزر گئی، اگر حیض سے مراد خون لیں تو پھر بھی قر کے ساتھ مناسبت کیونکہ خون ہی جمع ہونے والا ہے اور منتقل ہونے والا ہے اگرچہ جامع نہیں۔ مجتمع تو ہے، اگرچہ جامع نہیں۔ تو بہرحال پھر بھی مجتمع میں بھی جمع والا معنی تو آ گیا، مناسبت تو آ گئی۔ اور اگر اس سے کیا مراد لیں؟ ایامِ حیض مراد لیں تو ایامِ حیض کے اندر ہی خون کیا ہوتا ہے؟ مجتمع ہوتا ہے اور انہی میں کیا ہوتا ہے؟ منتقل ہوتا ہے۔ تو پھر بھی مناسبت آ گئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو طہر کے ساتھ خلاصہ یہ کہ طہر کے ساتھ مناسبت نہ آئی۔ ایک قول کے مطابق ایامِ طہر میں مجتمع ہوتا ہے، لیکن کہا وہ سرسری قول ہے، سرسری رائے ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کس میں جمع ہوتا ہے؟ ایامِ حیض ہی میں جمع ہوتا ہے۔ تو کہتے ہیں وہ تحقیق اس کی یہ ہے کہ ان الحیض ان کان الدم کہ حیض اگر وہ خون ہو فہو المجتمع والمنتقل تو وہی جمع ہونے والا ہے اور وہی خون منتقل ہونے والا ہے وان لم یکن جامعاً اگرچہ جمع کرنے والا نہیں۔ بخلافِ طہرِ بخلافِ طہر کے فانہ لیس بجامع ولا مجتمع ولا منتقلاً نہ تو وہ جامع ہے، نہ مجتمع ہے اور نہ منتقل ہے۔ وان کان ایامَ الدمِ اور اگر حیض وہ ایامِ دم کا نام ہے فہی محلِ الاجتماع والانتقال تو یہ یہی محلِ اجتماع اور محلِ انتقال ہے بخلافِ ایامِ طہر بخلاف کس کے؟ ایامِ طہر کے فانہ لیس محلِ الانتقال اس لیے کہ یہ محلِ انتقال نہیں ہے وان کان محلَّ الاجتماع فی بادی الرأي اگرچہ یہ محلِ اجتماع ہے بادی الرأي کے اندر ظاہری سرسری رائے میں یہ اگرچہ محلِ اجتماع ہے۔ وقد اوضحت ذلک فی التفسیر الاحمدی اور تحقیق میں نے اس کی وضاحت کی ہے تفسیر احمدی کے اندر وھا ھنا لا یسعه المقام اور یہاں پر مقام میں اس کی گنجائش نہیں ہے بھئی تفسیر کہتے ہیں کافی بیان ہو گئی۔ ولا عموم لہ عموم لہ ای المشترک عندنا اور عموم نہیں ہے لہ ضمیر کا مرجع بتلایا ای المشترک کس کے لیے؟ مشترک کے لیے عندنا یعنی عمومِ مشترک ہمارے نزدیک جائز نہیں ہے عمومِ مشترک یہ کہ ایک لفظِ مشترک کا اطلاق کیا جائے اور اس کے سارے معنی مراد لے لیے جائیں بھئی، یہ ہمارے نزدیک درست نہیں ہے بھئی۔ فلا یجوز ارادتُ معنئیهی پس جائز نہیں ہے اس کے دونوں معنی کا ارادہ یعنی اگر اس کے صرف دو معنی ہیں تو دونوں معنی کا ارادہ صحیح نہیں ہے ایک ہی وقت میں معاً اکٹھا ہی۔ وقال شافعی رحمہ اللہ یجوز اور امامِ شافعی رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ جائز ہیں۔ دونوں معنی کا ارادہ بھی جائز ہے۔ وہ فرماتے ہیں یجوز ان یراد بہ المعنیاں معاً کہ ارادہ کیا جائے اس کے لیے اس کے دونوں معنی کا اکٹھا ہی، کما فی قولہ تعالیٰ جیسے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے اندر ہے۔ امامِ شافعی رحمہ اللہ کی دلیل آ رہی ہے بھئی۔ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: إنّ الله وملائکته یصلّونَ علی النّبیّ یقیناً اللہ اور اس کے فرشتے یصلّونَ علی النّبیّ کیا کرتے ہیں؟ صلوٰۃ بھیجتے ہیں کس پر؟ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر۔ اب یصلّونَ آیا، کہتے ہیں دیکھو، صلوٰۃ کی نسبت اللہ کی طرف کی جائے تو اس کے معنی رحمت کے آتے ہیں۔ صلوٰۃ کی نسبت فرشتوں کی طرف کی جائے تو اس کے کیا معنی آتے ہیں؟ استغفار کے آتے ہیں اور یہاں ایک ہی لفظ لایا گیا دونوں کے لیے، معلوم ہوا دونوں معنی مراد ہیں۔ اللہ کی طرف نسبت کرتے ہوئے رحمت کے معنی مراد ہیں اور فرشتوں کی طرف نسبت کرتے ہوئے استغفار کے، تو دیکھ کے کہتے ہیں یہ عمومِ مشترک آ گیا ایک ہی وقت میں اس سے دونوں معنی مراد ہیں۔ دلیل سمجھ میں آ گئی بھئی؟ فصلوٰۃ من الله رحمتہ ومن الملائکة استغفارٌ پس صلوٰۃ جو ہے اللہ کی طرف سے رحمت ہے اور ملائکہ کی طرف سے استغفار ہے و قد ارید بلفظ واحد و ھو قولہ یصلّونَ اور تحقیق اس کا ارادہ کیا گیا ہے ایک ہی لفظ کے ذریعے رحمت اور استغفار کا اور وہ کون سا قول ہے اللہ کا یہ قول ہے یصلّونَ ونحن نقول اور ہم کہتے ہیں جواب میں بھئی صیغۃ الآیة لإیجاب اقتداء المومنین بالله والملائکة یہ آیت چلائی گئی ہے مومنین پر اللہ اور فرشتوں کی اقتدا کو واجب کرنے کے لیے۔ اس آیت کے لانے کا مقصد کیا ہے؟ کہ مومنوں پر اللہ اور اس کے فرشتوں کی اقتدا کرنا ان کی پیروی کرنا واجب ہے بھئی۔ یہ آیت اس مقصد کے لیے لائی گئی ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ یہاں کوئی ایسا معنی مراد لیا جائے جو سب کو شامل ہو۔ جو کیا ہو؟ ورنہ پیروی نہیں ہو سکتی بھئی۔ کیونکہ اللہ کی طرف نسبت کریں تو معنی کیا؟ رحمت۔ فرشتوں کی طرف معنی کریں نسبت کریں تو معنی کیا؟ استغفار۔ اور مومنین کی طرف نسبت کریں تو اس کا معنی ہے دعا کے بھئی۔ کیا ہے؟ دعا۔ تو اب مومنین اگر اس سے تو اس صورت میں یہ اسی طرح ہوا مولانا، ایک شخص کہتا ہے کہ تم میری پیروی کرو، میں روزے رکھتا ہوں، تم قرآن پڑھو۔ وہ روزے رکھتا ہے، دوسرا کیا کرتا ہے؟ قرآن پڑھتا ہے تو اس کی پیروی ہوئی؟ پیروی تو کس صورت میں تھی؟ کہ وہ روزے رکھتا ہے تو یہ بھی کیا کرے؟ روزے رکھے۔ تو فرق نہیں ہونا چاہیے، لہٰذا کوئی یہاں ہم کہتے ہیں یہاں پیروی کرنے کا حکم دیا گیا ہے، لہٰذا ضروری ہے کہ فعل بھی ایک ہونا چاہیے۔ جو فعل وہاں ہو، وہی فعل مومنین کے اندر بھی ہونا چاہیے، لہٰذا یہاں کوئی ایسا معنی مراد لے لو یعنی عمومِ مجاز کی طرف چلے جاؤ، ایسا معنی مراد لے لو کہ تاکہ فعل ایک ہی بن جائے سب کے لیے بھئی۔ تو چنانچہ ہم کہتے ہیں یہاں یصلّونَ کا معنی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مرتبہ اور حیثیت کو اہمیت اور توجہ دو بھئی۔ اے مومنین! کیا یعنی ترجمہ یہ کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حیثیت اور مرتبے کو اہمیت دیتے ہیں اور توجہ دیتے ہیں۔ پس اے مومنین! تم بھی کیا کرو؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مرتبے اور حیثیت کو توجہ دو اور اہمیت دو۔ اب ایک ہی بات ہو گئی ہر جگہ۔ وہ اہمیت دیتے ہیں اور توجہ دیتے ہیں، مومنین کو بھی کیا کرنی چاہیے؟ اہمیت دینی چاہیے اور توجہ دینی چاہیے، توجہ کرنی چاہیے۔ اب مولانا پیروی ہوگی کیونکہ وہی فعل ان کے اس سے بھی ثابت ہے کیا؟ توجہ دینا اور اہمیت دینا اور وہی فعل کس کی طرف سے ہوگا؟ مومنین کی طرف سے بھی توجہ دینا اور اہمیت دینا، اب کہیں گے پیروی ہو گئی بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ سب کو بات سمجھ میں آ گئی؟ ونحن نقول ہم کہتے ہیں صیغۃ الآیة لإیجاب اقتداء المومنین بالله والملائکۃ کہ آیت کو چلایا گیا ہے واجب کرنے کے لیے مومنین پر اقتدا کو بالله والملائکۃ اللہ کی اور اس کے فرشتوں کی ولا یصلح ذلک إلا باخذ ماء من شامل للکلي اور یہ فعل اس کی صلاحیت نہیں رکھتا، مگر ساتھ لینے ایسے معنی کو جو عام ہو، شامل ہو سب کو، یعنی ایسا معنی عام لیا جائے گا جو سب کو شامل ہو بھئی۔ سب کو کیا ہو؟ ایسا معنی عام، یعنی ذاتِ باری تعالیٰ کو بھی شامل ہو جائے، فرشتوں کو بھی شامل ہو جائے اور مومنین کو بھی شامل ہو جائے تو وہ کیا معنی عام ہے؟ کہتے ہیں وہو الاعتناء بشانہ الاعتناء کا معنی اہمیت دینا، توجہ دینا بشآن شان کہتے ہیں حال کو مولانا، حیثیت اور مرتبے کو۔ وهو الاعتناء بشانه وہ حضور علیہ السلام کے مرتبے کو اہمیت دینا ہے۔ فیکون المعنى تو معنی یہ ہوگا انَّ الله وملائکته یعتنون بشانه اللہ اور اس کے فرشتے وہ اہمیت دیتے ہیں حضور علیہ السلام کی حیثیت اور مرتبے کو یا ایُّها الذین آمنوا اعتنوُا ایضاً بشانه تو اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو، تم بھی اہمیت دو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حیثیت اور مرتبے کو۔ وذلک الاعتناء من الله تعالیٰ رحمتٌ اور یہ اہمیت دینا اللہ کی طرف سے کس طریقے پر ہے؟ اللہ کی طرف سے یہ رحمت ہے ومن الملائکہ استغفارٌ اور ملائکہ کی طرف سے استغفار ہے ومن المومنین دعاءٌ اور مومنین کی طرف سے دعا ہے۔ جواب سمجھ میں آ گیا سب کو؟ جی سر اور التحریر محل النزاع اور محلِ نزاع کی تحریر یہ ہے۔ بھئی محلِ نزاع بتلنا چاہتے ہیں، ہمارے اور امامِ شافعی رحمتہ اللہ کے درمیان محلِ نزاع کیا ہے؟ جھگڑا کس محل میں ہے، کس موقع میں ہے؟ یاد رکھیے یہاں چار صورتیں بنتی ہیں، چار۔ پہلی صورت لفظِ مشترک کا اطلاق ایک مرتبہ ہوا اور اس کا ایک معنی مراد لیا ہو۔ پھر لفظِ مشترک کا اطلاق دوسری مرتبہ ہوا اور دوسرا معنی مراد لیا ہو۔ پہلی مرتبہ وہ پہلا معنی جو تھا، وہ مراد تھا اور اس حکم کا مدار بھی اسی معنی پر تھا۔ حکم کا مدار بھی بھئی لفظِ مشترک آیا تھا، اس پر کوئی حکم لگایا گیا تھا، تو اس حکم کا مدار بھی اسی معنی پر تھا۔ دوسری مرتبہ میں دوسرا معنی مراد ہے اور وہی دوسرا معنی حکم کا مدار ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ کہ مشترک کا ایک مرتبہ اطلاق کیا جائے تو اس کا ایک معنی مراد ہے اور وہی معنی حکم کا مدار ہے۔ دوسری مرتبہ اطلاق ہوا تو دوسرا معنی مراد ہے اور وہی دوسرا معنی کیا ہے؟ حکم کا مدار ہے۔ کہتے ہیں یہ بالاتفاق صحیح ہے۔ ان کے نزدیک بھی ٹھیک ہے، ہمارے نزدیک بھی ٹھیک ہے، دونوں اور یہ دونوں معنی حقیقی ہوں گے بھئی۔ ایک مرتبہ ایک معنی کا ارادہ کیا، وہی معنی مراد بھی ہے اور وہی حکم کا مدار بھی ہے، ٹھیک ہے۔ دوسری مرتبہ تو الگ الگ جگہ پر الگ الگ معنی مراد ہیں اور الگ الگ جگہ پر الگ الگ حکم کا مدار ہیں، تو اس میں اختلاف ہی نہیں۔ ان کے نزدیک بھی ایسا صحیح، ہمارے نزدیک بھی صحیح۔ دوسری صورت کہ مشترک کا اطلاق کیا گیا، لفظِ مشترک کا اطلاق کیا گیا اور اس سے کوئی ایک معنی مراد ہے لا علی التعیین بغیر تعیین کے۔ پہلی صورت میں تو تھی ایک وقت میں ایک معنی مراد ہے، متعین یہی معنی مراد ہے، دوسری مرتبہ دوسرا معنی مراد ہے، متعین ہے۔ دوسری صورت کیا آ گئی؟ کہ مشترک کا اطلاق ہوا اور اس سے ایک معنی مراد ہے، یہ والا یا وہ والا لیکن تعیین نہیں ہے کون سا ہے۔ جیسے کہ قرآن کے اندر آیا بھئی، دو میں سے ہم بھی کہتے ہیں ایک ہی مراد ہے، حیض اور طہر دونوں نہیں۔ امامِ شافعی رحمتہ اللہ بھی فرماتے ہیں ایک ہی مراد ہے دونوں نہیں۔ تو دو میں سے ایک معنی مراد ہے، لیکن لا علی التعیین، تعیین نہیں ہے۔ اور جو ایک مراد پھر مجتہد اس میں اجتہاد کرے گا اور تاویل کر کے ایک معنی کو راجح قرار دے گا اور پھر وہی ایک معنی جو ہے وہ حکم کا مدار ہوگا بھئی۔ وہ معنی مراد ہوگا اور وہ حکم کا مدار ہوگا۔ اس میں بھی اختلاف نہیں، یہ بھی ٹھیک ہے بھئی کہ ایک معنی ایک وقت، معنی ایک ہی مراد ہیں، اگرچہ اس میں تعیین نہیں۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تیسری صورت یہ ہے کہ مشترک کا اطلاق کیا جائے اور چاروں معنی مراد ہوں، مثلاً دو معنی، دونوں معنی مراد ہوں من حیث المجموع مرکب ہو کر۔ کیا؟ مشترک کا اطلاق کیا جائے اور اس کے دو تین چار جتنے بھی معنی ہیں، ان سارے معانی کا مجموعہ مرکب وہ مراد ہے۔ مجموعہ مرکب مراد ہے، یہ جائز نہیں ہے مولانا۔ یعنی حقیقت کے اعتبار سے اس کے عدمِ جواز میں کوئی اختلاف نہیں۔ اور باعتبارِ مجاز کے اس کے جواز میں کوئی اختلاف نہیں۔ یہ سب تسلیم کرتے ہیں۔ دیکھو بھئی، دو معنی تھے نا۔ دو معنی تھے۔ توجہ سے سنو بھئی، توجہ سے۔ دو معنی تھے نا، دو۔ دونوں معنی کا مرکب مراد ہے۔ دونوں معنی کا اور حکم کا مدار ان میں سے کوئی ایک معنی بھی نہیں ہے، بلکہ دونوں کا مرکب ہے۔ پہلی صورت میں بھی حکم کا مدار ایک معنی پر تھا۔ دوسری صورت میں بھی حکم کا مدار لا علی التعیین ایک معنی پر تھا اور یہاں پر کیا ہے؟ کسی ایک کا مدار نہیں، بلکہ کس پر مدار ہے؟ مجموعہ مرکب پر، مجموعہ من حیث المجموع پر۔ کہتے ہیں نہیں بھئی، ایسا نہیں ہو سکتا، ایسا نہیں ہو سکتا۔ کہ مرکب مجموعہ مراد ہو اور وہی حکم کا مدار الگ الگ معنی حکم کا مدار نہ ہو۔ یہ بھی درست نہیں۔ تو با اعتبارِ حقیقت کے مرکب مجموعے کا مراد لینا صحیح نہیں۔ ہاں، مجازاً صحیح ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ مجازاً صحیح ہے۔ جیسے ابھی بتایا عمومِ مجاز کے طریقے پر بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اچھا۔ تیسرا، چوتھی صورت مولانا، چوتھی صورت۔ چوتھی صورت یہ کہ مشترک کا اطلاق کیا جائے اور ایک ہی وقت میں ایک ہی اطلاق میں اس کے سارے معنی مراد ہوں۔ پہلے تو تھا مرکب سارے من حیث المجموعہ مراد ہو وہ الگ صورت ہی یہ ہے تو مجموعہ ہی حکم کا مدار بننا تھا، لیکن یہ تو درست نہیں ہے۔ مجموعہ حکم کا مدار نہیں بن سکتا۔ اور یہ چوتھی صورت ہے کہ ہر معنی مراد ہے اور ہر معنی الگ حکم کا مدار ہے۔ ہر معنی الگ ان کا مجموعہ نہیں، مراد سارے معنی ہیں۔ یہ معنی بھی اول بھی مراد، ثانی بھی مراد، ثالث بھی مراد، لیکن حکم کا مدار الگ الگ ہیں، یہ معنی بھی حکم کا مدار، یہ والا معنی بھی حکم کا مدار، تیسرا معنی بھی حکم کا مدار۔ فرق سمجھ میں آیا؟ تو چار صورتیں بن گئیں۔ پہلی صورت کیا؟ کہ ایک دفعہ اطلاق ہو، ایک ہی معنی مراد اور وہی حکم کا مدار۔ دوسری مرتبہ اطلاق ہو، دوسرا معنی مراد اور وہی حکم کا حکم کا مدار ہے، یہ بالاتفاق صحیح۔ دوسری صورت کیا تھی؟ کہ مشترک کا اطلاق کیا جائے اور دو معنی میں سے کوئی ایک مراد ہے لا علی التعیین۔ اور جو تو اس صورت میں مجتہد تاویل کر کے ایک معنی کو راجح قرار دیتا ہے اور وہی معنی مدار حکم ہوتا ہے، یہ بھی درست ہے مولانا۔ تیسری صورت کیا تھی؟ کہ مجموعہ مرکب مراد ہو تمام معانی کا، میں نے بتلایا یہ با اعتبارِ حقیقت کے صحیح نہیں، ہاں با اعتبارِ مجاز کے صحیح ہے۔ اور چوتھی صورت کیا ہے؟ کہ مشترک کا اطلاق کیا جائے اور ایک ہی وقت میں اس کے سارے معنی مراد ہیں اور ہر معنی کیا ہے؟ حکم کا مدار ہے۔ یہ ہے محلِ اختلاف ہمارا اور شوافع کے درمیان۔ ہمارے نزدیک مشترک کا اطلاق کیا جائے تو اس کا ایک ہی معنی مراد ہو سکتا ہے اور وہی حکم کا مدار ہوگا، ایک سے زیادہ معنی مراد ہی نہیں۔ جبکہ امامِ شافعی رحمتہ اللہ کے نزدیک اطلاق کیا جائے اور سارے معنی اس کے مراد ہوں، دو معنی ہیں یا تین معنی اور ہر معنی کیا حکم کا مدار ہوگا۔ سور اختلاف سمجھ میں آ گیا؟ تو چار میں سے ایک صورت میں اختلاف تھا۔ اسی کو مصنف ذکر کرنے لگے ہیں۔ چار جس میں محل وہ جو محلِ نزاع ہے، کہتے ہیں وتحریر محلِ نزاع اور محلِ نزاع کی تحریر جو ہے، وہ یہ ہے کہ انہ هل یجوز ان یراد بلفظ واحد فی زمان واحد کل من المعنین کیا یہ جائز ہے کہ ارادہ کیا جائے ایک ہی لفظ کے ذریعے ایک ہی زمانے کے اندر دو معنی میں سے ہر ایک کو؟ نو معنی میں سے ہر ایک کا ارادہ کیا جائے ایک ہی زمانے کے اندر، کیا یہ جائز ہے؟ علیٰ اَن یکونَ مراداً و مَناطاً للحکمِ، بایں طور کہ وہ معنیٰ، دونوں معنیٰ کیا ہوں؟ کہ وہ مراد بھی ہوں اور حکم کا مدار، ان میں سے ہر، دو میں سے ہر ایک معنیٰ مراد بھی ہو اور حکم کا مدار بھی ہو، مدار ہوگا ام لا، یا مدار دوبارہ ترجمہ سنو بھئی۔ کیا یہ جائز ہے کہ ارادہ کیا جائے ایک ہی لفظ کے ذریعے، ایک ہی زمانے کے اندر، دو معنیٰ میں سے ہر ایک کا اس طور پر کہ وہ معنیٰ، وہ، ان معنیٰ، دو معنیٰ میں سے ہر ایک مراد بھی ہو اور حکم کا مدار بھی ہو، ام لا، یا یہ جائز نہیں؟ وعندنا لا یجوز ذلک، ہمارے نزدیک یہ جائز نہیں۔ لان الواضع خص اللفظ للمعنیٰ بحیث لا یراد بہ غیرہ، اس لیے کہ واضع نے خاص کیا اس لفظ کو، اس معنیٰ کے لیے، اس طور پر کہ ارادہ نہیں کیا جائے گا اس کے ذریعے اس کے علاوہ کا۔ بھئی واضع نے دیکھو، یہ دو معنیٰ ہیں مولانا، یہ دو، ادھر دیکھیے بھئی، ایک معنیٰ یہ ہے، ایک معنیٰ یہ ہے، نظر آ رہے ہیں بھئی؟ ایک یہ معنیٰ ہے، ایک یہ معنیٰ ہے بھئی۔ واضع نے اس لفظ مشترک کو پہلے اس معنیٰ کے لیے وضع کیا۔ اس طور، وضع کا کیا مطلب؟ کہ یہ لفظ جب بھی بولا جائے گا، یہ معنیٰ مراد ہوگا، اس کے علاوہ کوئی اور معنیٰ مراد نہیں، پھر دوسرے واضع نے اس لفظ کو اس دوسرے معنیٰ کے لیے وضع کیا، کیا معنیٰ وضع کرنے کا؟ کہ یہ لفظ جب بھی بولا جائے گا اس سے یہ والا معنیٰ مراد ہوگا، دوسرا معنیٰ مراد نہیں ہوگا۔ تو واضع نے اس لفظ کو، ہر واضع نے اس لفظ کو خاص کیا ہے اس کے معنیٰ کے لیے، کیا کیا ہے اس کے معنیٰ کے لیے۔ تو لہٰذا جب اس لفظ کا اطلاق ہوگا تو ایک وقت میں ایک ہی معنیٰ مراد ہوگا، کیا ہوگا؟ ایک ہی معنیٰ۔ دیکھیے بھئی، لان الواضع خص اللفظ للمعنیٰ، اس لیے کہ واضع نے خاص کیا ہے اس لفظ کو اس کے معنیٰ کے لیے، بحیث، اس طور پر، کہ لا یراد بہ غیرہ، کہ مراد نہیں ہوتا اس کے ذریعے اس کے اس معنیٰ کے علاوہ کوئی اور مراد نہیں ہوتا۔ فاعتبار وضعہ لہذا المعنیٰ یوجب ارادتہ خاصةً، اب دیکھیے مولانا، اب اس لفظ کا اطلاق ہوتا ہے لفظ مشترک کا، ایک واضع نے ایک معنیٰ کے لیے وضع کیا ہے، دوسرے واضع نے دوسرے معنیٰ کے لیے وضع کیا ہے۔ تو اس وضع کا اعتبار کریں، تو یہ والا پہلا معنیٰ مراد ہوگا، اس کے علاوہ کوئی اور معنیٰ مراد نہیں، اگر دوسری وضع کی طرف نظر کریں تو دوسرا معنیٰ مراد ہوگا، پہلا معنیٰ مراد نہیں ہوگا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ پہلی وضع کی طرف نظر کریں، پہلا معنیٰ مراد ہے، دوسرا معنیٰ مراد نہیں، تو پہلا ہوا مراد، دوسرا ہوا غیر مراد، کیا ہوا؟ دوسری وضع کی طرف نظر کریں تو دوسرا معنیٰ کیا ہوا؟ مراد، اور پہلا معنیٰ ہوا غیر مراد۔ تو اگر آپ دونوں معنیٰ مراد لینا چاہتے ہیں تو اس صورت میں تو ہر معنیٰ مراد بھی ہوا اور غیر مراد بھی ہوا، ہر معنیٰ مراد بھی ہوا اور غیر مراد بھی ہوا۔ تو لہٰذا یہ باعبار وضع کے ایسا نہیں کر، کہ دونوں معنیٰ مراد نہیں لے سکتے مولانا کہ دونوں میں حقیقت ہو۔ مثلاً مشترک کا اطلاق کرتے ہیں، دونوں معنیٰ مراد لیتے ہیں، تو ان میں سے تو ہر معنیٰ مراد بھی ہے اور ایک وضع کی طرف نسبت دیکھيں تو ایک معنیٰ مراد ہے، دوسرا غیر مراد ہے۔ دوسری وضع کی طرف دیکھیں تو دوسرا معنیٰ مراد ہے، پہلا معنیٰ، تو دونوں ہر ایک، دونوں میں سے ہر ایک مراد بھی ہوا اور غیر مراد بھی ہوا، اور اس پر عمل نہیں ہو سکتا مولانا، ایک صورت کے اندر، کہ اس کو ایک معنیٰ کے اندر حقیقت قرار دیا جائے اور دوسرے کے اندر کیا قرار دیا جائے؟ مجاز بھئی، حقیقت اور ہاں، دونوں کے اندر تو حقیقت ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ جب ایک معنیٰ کے لیے وضع ہے تو دوسرا قطعی طور پر مراد نہیں ہے، اور جب دوسرے کے لیے وضع ہے تو پہلا معنیٰ قطعی طور پر مراد نہیں ہے۔ ہاں، مجاز کے طریقے پر، پہلے پھر ایک میں کیا بنا لو؟ حقیقت، اور دوسرے میں کیا بنا لو؟ مجاز، تو اس صورت میں کہتے ہیں پھر حقیقت، جمع بین الحقیقت والمجاز لازم آئے گا، اور جمع بین الحقیقت والمجاز بھی باطل ہے، جائز نہیں ہے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو باعبار حقیقت کے تو دونوں پر اطلاق ہو ہی نہیں سکتا، ہاں، بااعتبار ایک میں حقیقت، دوسرے میں مجاز، بایں اعتبار ہو سکتا ہے، لیکن یہ بھی باطل ہے، کیونکہ اس صورت میں جمع بین الحقیقت والمجاز لازم آئے گا۔ تو کہتے ہیں، فاعتبار وضعہ لہذا المعنیٰ یوجب ارادتہ خاصةً، پس اس لفظ کی وضع کا اعتب، اس وضع کا اعتبار اس معنیٰ کے لیے یوجب ارادتہ خاصةً، وہ ثابت کرتا ہے اسی معنیٰ کے ارادے کو خاص طور پر، وباعتبار وضعہ لذلک المعنیٰ، اور بایں اعتبار کہ یہ لفظ وضع ہے اس دوسرے معنیٰ کے لیے، یہ جو ہے، یوجب، یہ ثابت کرتا ہے، ارادتہ خاصةً، اس دوسرے معنیٰ کا ارادہ خاص طور پر۔ فیلزم ان یکون کل منہما مراداً و غیر مرادٍ، تو لازم آئے گا کہ ان دونوں میں سے ہر ایک مراد بھی ہو اور غیر مراد بھی ہو۔ فلا یکون ذلک، اور یہ نہیں ہو سکتا، یعنی کہ ان میں سے ہر ایک مراد بھی ہو اور غیر مراد بھی ہو، الا بان یراد احد المعنیین علیٰ انہ نفس الموضوع لہ، مگر یہ کہ ارادہ کیا جائے کہ دو معنیٰ میں، دو معانی میں سے ایک جو ہے، وہ نفسِ موضوع لہ ہے، والآخر علیٰ انہ یناسبہ، اور دوسرا مراد ہے بایں اعتبار کہ وہ اس کے مناسب ہے، موضوع لہ کے نہیں، دونوں میں موضوع لہ کے اعتبار سے اس کا اطلاق صحیح نہیں۔ تو ایک میں بایں اعتبار کہ یہ لفظ اسی معنیٰ کے لیے وضع کیا گیا ہے، اور دوسرے معنیٰ کا بایں اعتبار تو ارادہ کر سکتے ہو کہ یہ اس معنیٰ کے مناسب ہے، کیا ہے؟ مناسب ہے، بااعتبار موضوع لہ کے نہیں کر سکتے، کیونکہ وضع کے اگر اعتبار کرتے ہو تو وضع میں ایک نے کہا تھا یہی معنیٰ مراد ہے، دوسرا معنیٰ مراد ہی، دوسرے نے کہا تھا یہ والا معنیٰ مراد ہے، پہلا معنیٰ ہرگز مراد نہیں، تو لہٰذا اس صورت میں یوں کہیں گے، دونوں کو جمع کرنے کی یہی صورت ہے کہ ایک میں کہا جائے یہ اس کا معنیٰ موضوع لہ ہے، اور دوسرے میں کیا کہا جائے کہ یہ معنیٰ اس کے مناسب ہے، یعنی اس کا مجازی، مجازاً مراد ہے۔ فیکون جمعاً بین الحقیقت والمجاز وهو باطل، تو اس صورت میں جمع ہوگا حقیقت اور مجاز کے درمیان، اور وہ جمع بین الحقیقت والمجاز تو کیا ہے؟ وہ باطل ہے۔ وعندہ يجوز ذلک، اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک یہ جائز ہے، بشرط ان لا یکون بینہما مضادة، بایں شرط کہ ان دونوں معانی کے درمیان تضاد نہ ہو بھئی، دونوں معانی کے درمیان تضاد، ہاں، اگر وہ، وہ کہتے ہیں دونوں، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں دونوں معنیٰ مراد ہو سکتے ہیں، لیکن شرط یہ ہے ان دو معانی میں تضاد نہیں ہونا چاہیے، اگر تضاد ہے، پھر تو وہ بھی کہتے ہیں ایک ہی معنیٰ مراد ہوگا، جیسے قرء کے دو معنیٰ تھے، حیض اور طہر، اور وہ دونوں ایک دوسرے کے ضد ہیں مولانا، کہیں بھی اکٹھے نہیں ہو سکتے، تو وہاں وہ بھی فرماتے ہیں ایک ہی معنیٰ مراد ہے، دونوں معنیٰ مراد نہیں۔ تو امام وعندہ يجوز ذلک، اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک یہ جائز ہے، بشرط ان لا یکون بینہما مضادة، بایں شرط کہ ان دونوں معانی کے درمیان تضاد نہیں ہونا چاہیے، فاذا کان بینہما مضادة، فپس جب ان دونوں معانی کے درمیان تضاد ہو، کالحیض والطهر، جیسے حیض اور طہر ہیں، لا يجوز بالاجماع، تو پھر تو وہ دونوں معنیٰ جائز نہیں ہیں بالاجماع، وکذا لا تجوز ارادة المجموع منها حیث هو مجموع بالاتفاق، اور اسی طرح جائز نہیں ہے ارادہ کرنا مجموعے کا، اس حیثیت سے کہ وہ مجموعہ ہے بالاتفاق بھئی، مجموعے کا ارادہ من حیث المجموع بھی درست، بھئی میں نے بتلا دیا تھا، وہ چار وجہیں نہیں ذکر کی تھیں میں نے؟ ان میں سے تیسری صورت میں کیا تھا؟ کہ مشترک کا اطلاق کیا جائے، اور اس سے ارادہ کیا جائے مجموعہ مرکب کا، یعنی مجموعہ من حیث المجموع کا، وہ بالاتفاق جائز نہیں، وہ یہ صورت بیان کر رہے ہیں۔ وکذا لا تجوز ارادة المجموع منها حیث هو مجموع بالاتفاق، اور اس طرح جائز نہیں ہے مجموعے کا ارادہ، اس حیثیت سے کہ وہ مجموعہ ہے بالاتفاق، وتحقیق کل ذلک فی التلویح، اور اس سارے کی تحقیق کس کے اندر ہے؟ تلویح میں ہے مولانا، جو آپ انشاء اللہ اگلے سے اگلے سال پڑھیں گے بھئی۔ تلویح مولانا، یاد رکھیے بھئی، تلویح کی بات آئی، اب تھوڑی سی تفصیل آپ کو بتلا دوں بھئی، تلویح شرح ہے توضیح کی، اور توضیح شرح ہے تنقیح کی۔ سمجھ میں آیا؟ تو وہاں پہلا متن جو ہے وہ تنقیح ہے بھئی، تنقیح، اور یہ علامہ صدر الشریعہ کا ہے، صدر الشریعہ نے یہ متن لکھا بھئی، سمجھ میں آیا؟ احناف کے اصول فقہ کا، اور پھر علامہ صدر الشریعہ نے ہی اس کی شرح توضیح کے نام سے لکھی بھئی، توضیح کے نام سے، پھر بعد میں علامہ تفتازانی کا زمانہ آیا، انہوں نے اس توضیح کی کیا کی آگے؟ شرح کی ہے بھئی، شرح۔ علامہ صدر الشریعہ بہت بڑے عالم تھے مولانا، بہت بڑے عالم، ماہر الفنون تھے بھئی، فنون کے اندر زبردست ماہر تھے بھئی، بلکہ ان کا سارا خاندان ہی بھئی، جو کہتے ہیں نا، "ایں خانہ ہمہ آفتاب است"، یہ اس کا سارا خاندان ہی کیا تھا؟ آفتاب کی مانند، روشن جگمگاتا ہوا خاندان ہے بھئی، علم اس خاندان میں پشت در پشت چلتا تھا بھئی، بڑے بڑے کبار علماء، دیکھو اتنے بڑے عالم تھے، ان کا نام صدر الشریعہ، صدر الشریعہ کے لقب سے مشہور تھے، سمجھ میں آیا؟ اسی طرح ان کے والد بڑے عالم، دادا، دادا تاج الشریعہ کے نام سے مشہور تھے بھئی۔ اور یاد رکھیے والد صاحب سے میں نے سنا بھئی، ہم ان سے توضیح تلویح پڑھا کرتے تھے، آپ بھی توضیح تلویح پڑھیں گے، اور آپ دیکھیں گے کہ سال ختم ہو جاتا ہے، ابھی خاص کی بحث بھی نہیں شروع ہوئی ہوتی یا خاص کی بحث شروع ہوتی ہے، سال ہی ختم ہو جاتا ہے، تو یہ احناف کی اصول فقہ کی عظیم کتاب ہے توضیح مولانا۔ والد صاحب فرماتے تھے، ہم نے ان سے یہ توضیح تلویح پڑھی بھئی، اور آپ دیکھیں گے کہ یہ مشکل ترین کتابوں میں سے ہیں جو آج تک آپ نے پڑھی ہیں، پوری درس نظامی کی مشکل ترین کتابوں میں سے ایک توضیح تلویح ہے بھئی، بڑے بڑے مدرسین اس کے پڑھانے سے کتراتے ہیں بھئی، بڑی پیچیدہ کتاب ہے۔ اور یہ جو شرح لکھی علامہ تفتازانی نے، والد صاحب، ہاں، پہلے والد صاحب فرماتے تھے کہ احناف کی اصول کی کتابوں میں اکثر میں کمزوری ہے بھئی، کیا ہے؟ کمزوری ہے، بعض جگہ آپ دیکھتے ہیں دلیل بڑی کمزور سی آ جاتی ہے، ہاں، کہتے فرماتے تھے، ایک کتاب ہماری بڑی قوی ہے اور وہ توضیح ہے، وہ کیا ہے؟ توضیح، بڑی قوی کتاب ہے، لیکن اس کو کوئی اصول فقہ کی کتاب پڑھ کر، اصول فقہ کی کتاب سمجھ کر نہ پڑھتا ہے نہ پڑھاتا ہے، کیونکہ اصول فقہ کی ابھی باتیں شروع ہی نہیں ہوئی ہوتیں کہ سال گزر جاتا ہے، پوری ہو، پوری کیا ہونا ہے، ابھی تو ابتدائی ہوتی ہے اس کے سال ختم ہو جاتا ہے۔ اس کی شرح جو لکھی ہے وہ علامہ تفتازانی نے لکھی ہے، علامہ تفتازانی بہت بڑے عالم تھے بھئی، بہت بڑے عالم تھے بھئی، چھٹی ساتویں ہجری، صدی ہجری کے بھئی، شاہی عالم تھے، بادشاہ کے مولانا مقربین میں سے تھے، تیمور لنگ کے زمانے میں تھے، تیمور لنگ بہت بڑا بادشاہ گزرا، کہتے ہیں تاریخ کے عظیم ترین حکمرانوں میں سے تھا وہ، کہتے ہیں قریب تھا کہ وہ ساری دنیا ہی کا بادشاہ بن جاتا، اتنی وسیع حکومت اور سلطنت تھی اس کی، اور یہ ان کے شاہی عالم تھے، بادشاہ کے انتہائی قریبی۔ بادشاہ ان کی کتنی عزت اور احترام کرتا تھا، اندازہ لگائیے، ایک مرتبہ بادشاہ کو ایک بڑا ضروری پیغام کہیں بھیجنا تھا، آج کل تو آپ کو اللہ نے ایسی نعمتیں دی ہیں جن کا کبھی بادشاہ بھی نہیں سوچ سکتے تھے، دنیا کے جس کونے میں بھی آپ کا رشتہ دار، ساتھی ہو، اسی لمحے ٹیلیفون پر آپ بات کر لیتے ہیں، تو وہ بادشاہ نے پیغام بھجوانا تھا کسی شہر، اور بہت جلدی میں، بادشاہ نے ایک سوار کو تیار کیا، فوراً چلو، گھوڑا دیا بہترین قسم کا اسے، اس گھوڑے کو دوڑاتے چلے جاؤ، دوڑاتے چلے جاؤ، جہاں گھوڑا تھک جائے گھوڑے کو چھوڑ دو، جس کا گھوڑا ملے پکڑو اور اس پر سوار ہو جاؤ اور کہو بادشاہ کا حکم ہے، اور اس پہ اس کو دوڑاؤ، پھر وہ جہاں تھک جائے اس کو چھوڑو، آگے جس کا گھوڑا مل جائے اس کو پکڑ لو، پیغام فوراً میرا پہنچاؤ، جتنا جلدی ہو سکے بھئی۔ تو چنانچہ وہ سوار روانہ ہوا، گھوڑا دوڑاتے دوڑاتے جہاں گھوڑا تھک جاتا، دوسرے کا گھوڑا پکڑتا اور پھر اس کو دوڑانا شروع، کسی کی جرات نہیں، بادشاہ اتنا عظیم بادشاہ، کسی کی جرات نہیں کہ کچھ روک سکے بھئی۔ اتفاق ایسا ہوا وہ گھوڑا دوڑتا دوڑتا دو تین مرتبہ کے بعد جب وہ گھوڑا تھکا، تو وہ علامہ تفتازانی کا علاقہ تھا، علامہ تفتازانی وہاں، علامہ تفتازانی کے گھوڑے چر رہے تھے، یہ گھڑ سوار گھوڑے سے اترا، ایک گھوڑے پر سوار ہوا، اب بھگانے لگا ہے تو علامہ کے غلاموں نے پکڑ لیا بھئی، کہ علامہ صاحب کا گھوڑے ہیں، آپ کہاں سے اس پر سوار ہو گئے؟ انہوں نے اس نے کہا: "مجھے بادشاہ کا حکم ہے، فوری طور پر پیغام پہنچانا ہے، ایک لمحے کی تاخیر نہیں ہو سکتی، کہ جہاں جس کا گھوڑا ملے اس پر سوار ہو جاؤ۔" علامہ کا مقام کیا تھا، اندازہ لگائیے، غلام بھی ان کے انہی کی طرح دیکھو بھئی، انہیں بھی پتا، کہنے لگے: "ہم بادشاہ واڈشاہ کو نہیں جانتے بھئی، ہمارے علامہ صاحب کا گھوڑا خبردار"، جس طرح آپ کو پکڑ لیا، زبردستی لے گئے، اپنے، علامہ صاحب، یہ دیکھیں یہ آدمی، آپ کے بلا اجازت آپ کے گھوڑے پر سوار ہو کر اس کو لے جانے والا تھا کہ ہم نے پکڑ لیا۔ اس نے کہا: "مجھے بادشاہ نے حکم دیا ہے، میں نے پیغام پہنچانا ہے"، نشانیاں بھی دکھائیں کہ یہ دیکھو، مجھے بادشاہ نے بھیجا ہے، میں اس کا، علامہ تفتازانی آگے بڑھے، ایک زوردار تھپڑ اس کو لگایا، "بادشاہ کون ہوتا ہے میرے گھوڑے میں دخل اندازی کرنے والا؟" اور پھر اس کو نکال دیا وہاں سے بھئی۔ بادشاہ کو بھی بعد میں اس بات کا پتا چلا، اور وہ حکومتیں آپ جیسی حکومتیں نہیں تھیں کہ ہر وقت کانپتا رہے انسان، وہ تو سینکڑوں کی گردنیں بھی اڑا دیتے تھے، کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا تھا، لیکن بادشاہ بھی اس زمانے کے علم دوست بادشاہ ہوتے تھے، بادشاہ نے کہتے ہیں اس بات کو سنا، تو چہرے کا رنگ اس کا بدل گیا غضب کی وجہ سے، کہ کتنی جرات! میرے بھیجے ہوئے آدمی کی اتنی بے عزتی، اور پھر تھپڑ بھی مارا اس کو! چہرے کا رنگ بدل گیا، سرخ ہو گیا غضب کی وجہ سے، اور پھر تھوڑی دیر کے لیے سر جھکا لیا اور کچھ بھی نہیں کہا بھئی، کچھ بھی نہیں کہا۔ تو بادشاہ نے بھی ان کے معاملے میں دیکھیں، اتنا بادشاہ ان کا لحاظ کرتے تھے، اتنا لحاظ کرتے، تو یہ علامہ تفتازانی، اور علامہ تفتازانی نے اکثر کتابیں احناف کے مذہب پر لکھی ہیں بھئی، چنانچہ ہمارے علماء سمجھتے ہیں شاید علامہ تفتازانی حنفی ہے، چنانچہ بہت سوں نے ان کو حنفی قرار دیا، والد صاحب فرماتے تھے: نہیں، یہ شافعی المذہب ہیں بھئی، لیکن چونکہ کتابیں زیادہ انہوں نے احناف کے مذہب میں لکھی ہیں اس سے لوگوں کو دھوکا ہو جاتا ہے کہ یہ کیا ہیں؟ حنفی ہیں، یہ شافعی تھے۔ بھئی پھر کیا وجہ انہوں نے احناف کی کتابیں کیوں زیادہ لکھیں؟ کہتے ہیں وجہ یہ، یہ جس علاقے میں رہتے تھے، سمجھ میں آیا؟ جس علاقے میں رہتے تھے، وہ سارا احناف کا علاقہ تھا، اگر وہ شوافع کی کتاب لکھتے تو اس کو پڑھتا کون؟ کوئی پڑھتا ہی نہ بھئی۔ اس کو وہ مقبولیت نہیں ملنی تھی، چنانچہ یہ مجبور ہوئے انہوں نے کون سی کتابیں لکھیں؟ احناف کی کتابیں بھئی۔ اور کہتے ہیں یہ جو انہوں نے توضیح کی شرح تلویح لکھی، یہ کوئی انہوں نے کہتے تھے یہ اللہ کے لیے نہیں لکھی انہوں نے شرح، دین کی خدمت سمجھتے ہوئے نہیں لکھی۔ وہ چونکہ شافعی المذہب ہیں وہ احناف کے اصول کو خراب کرنا تھا ان کا مقصد، کیا کرنا تھا؟ کہ بھئی یہ سب سے قوی کتاب ہے میں اس کو خراب کر دیتا ہوں، چنانچہ ایسا کیا اس کی عجیب شرح لکھی ہے مولانا۔ اس میں دو، چار، پانچ سطریں آپ آگے نہیں بڑھتے کہ وہ پھر اعتراض کر دیتے ہیں، کبھی کہتے ہیں ماتن کو عربی نہیں آتی، یہ دیکھو یہ لفظ لایا یہ لانا چاہیے تھا۔ کبھی کہتا ہے یہ دیکھو اس کو اس بات کا پتہ نہیں چلا کتنی اہم مشہور بات ہے بھئی یہ بات یوں ہے یوں ہے۔ ہر چار پانچ سطروں میں وہ شارح شارح پر اعتراض پہ اعتراض کرتا ہے اعتراض پہ اعتراض کرتا ہے۔ حتیٰ کہ علماء نے لکھا کہ ينبغي أن يسمى جارحا لا شارحا بھئی کہ یہاں پر یہ ایسی شرح کہ ان کو تو جارح کہنا چاہیے شارح کہنا ہی نہیں چاہیے بھئی، تو جرح کر رہے ہیں ان کے اوپر بھئی، جرح کر رہے ہیں بھئی۔ اور شارح، محشی حضرات، والد صاحب سے جب ہم پڑھتے تھے، محشی حضرات پر بھی بڑے غصے کا اظہار فرماتے تھے اس کے حاشیے بھی بڑے طویل طویل ہیں، والد صاحب فرماتے تھے محشی حضرات بھی علامہ تفتازانی کی تائید کرتے ہیں، ہاں بھئی بات ٹھیک کی اس نے۔ کہتے کیسے بات ٹھیک کی ہے اس نے، چنانچہ ہم جب پڑھتے تھے مولانا، ہم تین چار ساتھی تھے جس سال انتقال ہوا اس سال ہم یہی پڑھ رہے تھے والد صاحب سے، کچھ حصہ پڑھا اس کا بھئی۔ عجیب انداز تھا والد صاحب کا، جہاں علامہ تفتازانی اعتراض کرتا تھا یہ اعتراض دیکھو دیکھو ماتن نے یہ غلط کہا، والد صاحب کہتے تھے یہ علامہ تفتازانی نے بے جا اعتراض کیا ہے کوئی اعتراض نہیں ہے، پھر جواب دیتے تھے کہتے تھے لکھو سنو بھئی، جواب اول بھئی یہ ہے، جواب ثانی یہ ہے، جواب ثالث یہ ہے، جواب رابع یہ ہے، جواب خامس یہ ہے، کئی کئی جوابات آ جاتے ہیں۔ اور حقیقت تھی مولانا، جب علامہ تفتازانی کا اعتراض ہم بھی سنتے تھے ہم کہتے تھے بڑا قوی اعتراض کیا ہے زبردست اعتراض کیا ہے انہوں نے، لیکن جب والد صاحب کے ہم جوابات سنتے تھے، والد صاحب کے جوابات سنتے تھے تو ہمیں واقعی لگتا تھا کہ علامہ تفتازانی نے بالکل غلط اور بے جا اعتراض کیا ہے، یہ اعتراض بنتا ہی نہیں ہے، اتنے قوی جوابات دیتے تھے وہ بھئی اتنے قوی۔ اور والد صاحب فرماتے تھے یہ نہیں کہ علامہ تفتازانی کو خود نہیں پتہ کہ میں غلط بات کر رہا ہوں، پتہ ہے لیکن مقصد کیا ہے؟ احناف کے اصول کو خراب کرنا ہے، چنانچہ خراب کر گئے کتاب مولانا، کامیاب ہو گئے اپنے مقصد میں، چنانچہ آج توضیح و تلویح کو کوئی بھی اصول فقہ کی کتاب سمجھ کر نہ پڑھا جاتا ہے نہ پڑھایا جاتا ہے۔ مقصد ہوتا ہے اعتراض جواب کیسے کیے جاتے ہیں، بایں اس نیت سے اس کتاب کو پڑھا جاتا ہے اور سمجھا جاتا ہے، اصول فقہ کی باتیں تو ابھی شروع بھی نہیں ہوئی ہوتی ہیں کیا ہو جاتی ہے کتاب ہی، سال ہی ختم ہو جاتا ہے۔ سمجھ میں آیا؟ کتاب ہی ختم ہو، سال ہی ختم ہو جاتا ہے اس دوران۔ تو کہتے تھے یہ کامیاب ہوئے، انہوں نے کیا کیا کتاب کو خراب کر دیا بھئی اور یہی ایک سب سے قوی کتاب تھی، یہ کتاب، یعنی یہ کتاب سب سے قوی کتابوں میں سے تھی اصول کے اندر۔ اور پھر کہتے فرماتے کہ اصول کی تو سب سے مضبوط کتاب کو خراب کر دیا اس کے بعد فروع کے اندر جو سب سے مضبوط کتاب ہے ہدایہ، اس کی بھی شرح لکھنا چاہتے تھے بھئی۔ لیکن شرح شروع کی ابھی مقدمے کی شرح ہی لکھی تھی کہ علامہ تفتازانی کا انتقال ہو گیا بھئی، وہ نہیں کر، لکھ سکے۔ والد صاحب فرماتے تھے یہ صاحب ہدایہ کی کرامت ہے کہ وہ اس کی شرح پوری نہ کر سکے بھئی علامہ تفتازانی بھئی۔ اور فرماتے تھے ہمیں علامہ تفتازانی کی شرح کی کوئی ضرورت نہیں ہے بھئی، یہ ہماری کتابوں کو خراب کرنا چاہتا ہے، ہمارے اپنے بڑے بڑے جبال العلوم اور ان کی شروحات موجود ہیں جو ہمارے لیے کافی و شافی ہیں بھئی۔ تو یہ تلویح ہے وہ علامہ تفتازانی کی شرح بھئی، اور عجیب بات اس سے مجھے اس والد صاحب سے پڑھنے سے یہ پتہ لگا اتنی مشکل کتاب تھی ہمارا ایک گھنٹہ تقریباً سبق ہوتا تھا پورا 60 منٹ یا اس کے لگ بھگ بھئی۔ لیکن مشکل اور مشکل ترین کتاب ہے، آپ کسی طالب علم سے پوچھ لو بھئی، مشکل ترین کتابیں بھئی دورہ حدیث جو کر چکا ہے ذرا مشکل ترین کتابوں کے نام گنواؤ، شروع شروع میں ہی وہ فوراً توضیح و تلویح کا نام لے گا، مشکل ترین کتابوں میں سے۔ مدرسین سے پوچھ لو وہ بھی اسی کا نام لیں گے بھئی، مدرسین سے بھی۔ لیکن والد صاحب سے ہم نے کتاب پڑھی اور ہم چار ساتھیوں میں سے اب کوئی ہم میں سے کسی سے کوئی پوچھتا ہے کہ بھئی درس نظامی کی سب سے بہترین اور مزیدار لطف جس کے اندر آتا ہے وہ کتاب کون سی ہے؟ ہم چاروں کہتے ہیں بھئی توضیح و تلویح، سب سے زیادہ اسی کے اندر لطف آتا ہے بھئی۔ بھئی ایک گھنٹہ سبق ہوتا تھا ہم یوں مگن ہوتے ہمیں پتہ ہی نہیں چلتا تھا ایک گھنٹہ کیسے گزرا، یوں لگتا ہمیں جیسے بڑی کوئی دلچسپ کہانی ہم سن رہے ہوں بھئی، اتنا لطف آتا تھا اس کتاب کے اندر۔ اس سے مجھے اس بات کا بھی اندازہ ہوا معلوم ہوا ہماری درس نظامی کی کتابوں میں بڑی لذت ہے مولانا، بڑی لذت ہے بشرطیکہ کوئی پڑھانے والا ہو بھئی، بڑی لذت ہے ان کتابوں کے اندر۔ سمجھ میں آیا؟ جب اس مشکل ترین کتاب کے اندر اتنی لذت ہے تو باقی کتابیں تو اتنی مشکل تو نہیں ہیں ان میں سوچو تو سہی کتنی لذت ہوگی بھئی۔ چلیے جی یہ تو یہ توضیح و تلویح کی بات آئی تھی بھئی، چلیے کچھ باتیں بتا دیں آپ کو۔ تو کہتے ہیں: "والتحقيق كل ذلك في التلويح" بھئی، اور اس سارے کی تحقیق کس کے اندر ہے؟ تلویح کے اندر ہے۔ "ثم ذكر المصنف رحمه الله بعده المؤول" پھر اس کے بعد مصنف رحمہ اللہ نے مؤول کو ذکر کیا "فقال" پس فرماتے ہیں: "وأما المؤول فما ترجح من المشترك بعض وجوهه بغالب الرأي"، باقی مؤول جو ہے "فما ترجح من المشترك" یہ "من المشترك" بیان ہے "ما" کا، "من المشترك" کس کا بیان ہے؟ "ما" کا، یعنی "ما" سے مراد مشترک ہی ہے اسی کا بیان آگے آ رہا ہے تو "ما" کی جگہ ذرا مشترک کا لفظ رکھو ترجمہ اچھا ہو جائے گا۔ "فما" وہ مشترک، مؤول جو ہے وہ مشترک ہے "ترجح بعض وجوهه" کہ ترجیح پا جائیں اس کے بعض معانی "بغالب الرأي"، "بغالب الرأي" کس کے ذریعے؟ غالب رائے سے۔ بھئی دیکھیے، بھئی مؤول وہی مشترک ہے مولانا بس جب اس کے ایک معنیٰ کو ترجیح دے دی غالب رائے کے ذریعے وہ یہاں مؤول کہلاتا ہے، پہلے کیا کہلاتا تھا؟ مشترک۔ "قُرُؤٍ" کا لفظ مشترک تھا لیکن جب ایک معنیٰ کو امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے ترجیح دے دی یہ کیا بن گیا؟ مؤول بن گیا۔ سمجھ میں آیا؟ تو کہتے ہیں باقی مؤول جو ہے وہ مشترک ہے کہ ترجیح پا جائے اس کے بعض معانی میں سے کوئی ایک "بغالب الرأي" اس کے معانی میں سے کوئی ایک معنیٰ راجع ترجیح پا جائے "بغالب الرأي" کس کے ذریعے؟ غالب رائے سے، یعنی "أن المشترك ما دام لم يترجح أحد معنييه على الآخر فهو مشترك" یعنی مشترک میں جب تک ترجیح نہ پا جائے اس کے دو معنیٰ میں سے کوئی ایک دوسرے پر "فهو مشترك" تو وہ مشترک ہے، "وإذا ترجح أحد معنييه بتأويل المجتهد صار ذلك المشترك بعينه مؤولا" اور جب ترجیح پا جائے اس کے دو معنیٰ میں سے کوئی ایک معنیٰ مجتہد کی تاویل کی وجہ سے تو ہو جائے گا بعینہ وہی مشترک بھئی مؤول، وہ کیا ہو جائے گا؟ بعینہ وہی مشترک مؤول ہو جائے گا، "وإنما عد من أقسام النظم" یہ ایک اعتراض کا جواب دے رہے ہیں۔ اعتراض یہ کہ یہاں پر ہم جو بحث چل رہی ہے وہ نظم کی اقسام ہیں۔ کس کی اقسام ہیں؟ نظم کی اقسام ہیں صیغے اور لغت کے اعتبار سے یعنی بااعتبار وضع کے، بااعتبار، یہ بااعتبار وضع کے لفظ کی قسمیں چل رہی ہیں تو مؤول تو بااعتبار وضع کے نہ ہوا۔ خاص کیا تھا؟ بااعتبار وضع کے کہ لفظ کو ایک ایسے معنیٰ کے لیے وضع کیا ہو جس کے افراد نہ ہوں، عام لفظ کو ایسے معنیٰ کے لیے وضع کیا گیا ہو جس کے افراد ہوں، مشترک لفظ کو ایسے معنیٰ کے لیے وضع کیا گیا ہو جس کے مع، جس کے افراد ہوں، ساری وضع کے اعتبار سے ہے اور تو مؤول تو وضع کے اعتبار سے لفظ کی قسم نہیں تو لہٰذا اس کو بااعتبار وضع کے اقسام کے اندر شمار کرنا صحیح نہیں، کہتے ہیں ہاں آپ کی بات ٹھیک ہے۔ اگرچہ مؤول جو ہے مؤول وہ وضع کے اعتبار سے حاصل نہیں ہوا مؤول بلکہ وہ مجتہد کی تاویل سے حاصل ہوا ہے، مجتہد نے تاویل کر کے ایک معنیٰ کو ترجیح دی تو کیا بن گیا؟ مؤول، تو یہ وضع کے اعتبار سے نہیں لیکن جب تاویل کے بعد ایک معنیٰ کو مجتہد نے ترجیح دے دی تو حکم کی نسبت کس کی طرف کی جاتی ہے؟ اسی صیغے کی طرف کہ یہ حکم اس صیغہ سے "قُرُؤٍ" سے یہ حکم معلوم ہو رہا ہے، کس سے معلوم ہو رہا ہے؟ تو بایں لحاظ اس کو کس میں سے شمار کیا بااعتبار وضع کے لفظ کے صیغے سے یہ معنیٰ معلوم ہو رہا ہے۔ یا بعضوں نے یہ جواب دیا اس کا مولانا کہ مؤول مؤول وہ وضع کے اعتبار سے لفظ کی قسم ہے مشترک کی وجہ سے، کس کی وجہ سے؟ بھئی وہی پہلے مشترک تھا مشترک تھا بعد میں کیا بن گیا؟ مؤول، تو یہ وضع کے اعتبار سے لفظ کی قسم ہے کس کی وجہ سے؟ مشترک کی وجہ سے، یہ مشترک ہی ہے نا وہی مشترک کے ایک معنیٰ کو کیا کر دی، کر دی گئی؟ اس میں ترجیح دے دی گئی ایک معنیٰ کو اور مشترک تو کیا تھا؟ بااعتبار وضع کے تھا تو یہ بھی کیا ہوا بااعتبار وضع کے ہے۔ کہتے ہیں: "وإنما عد من أقسام النظم" اور اس کو شمار کیا گیا ہے نظم کی اقسام میں سے "وإن حصل بفعل التأويل" اگرچہ یہ مؤول حاصل ہوا ہے تاویل کے فعل کی وجہ سے، وضع کے اعتبار سے نہیں بلکہ تاویل کے فعل کی وجہ سے "لأن الحكم بعد التأويل" اس لیے کہ وہ حکم جو ہے تاویل کے بعد "يضاف إلى الصيغة" اس کی نسبت کس کی طرف کی جاتی ہے؟ صیغے کی طرف کی جاتی ہے "فكأن النص ورد بهذا" گویا کہ نص اسی حکم کے ساتھ وارد ہوئی ہے نص میں یہی حکم آیا ہے۔ سمجھ میں آئی بات بھئی؟ تو مجتہد کی طرف نسبت نہیں کی جاتی مجتہد نے یہ معنیٰ بس یوں کہہ دیا جاتا ہے نص ہی کیا ہوئی ہے اس حکم کے ساتھ وارد ہوئی ہے۔ "وإنما قيد بقوله من المشترك"، اچھا بھئی، اب یہ سوال کا جواب دے رہے ہیں کہ "من المشترك" کی قید لگانے کی کیا ضرورت تھی؟ کہتے ہیں متن کے اندر، کہتے ہیں "من المشترك" کی قید اس لیے لگائی کہ خف، مؤول صرف یہی نہیں ہے ایک، اور بھی ہیں ان کو بھی مؤول کہتے ہیں، مثلاً خفی، مشکل، مجمل، آگے قسمیں آئیں گی خفی، مشکل، مجمل، ان کا جب خفاء دور ہو جائے کسی دلیل کی وجہ سے تو یہ بھی مؤول بن جاتے ہیں، کسی دلیل کی وجہ سے ان کا خفاء کیا ہوا؟ دور ہوا تو یہ بھی کیا ہوئے؟ مؤول ہوئے، لیکن ہماری بات، بحث مطلق مؤول میں نہیں چل رہی بلکہ وہ مؤول جو کس کے بعد آئے، کس سے حاصل ہو؟ مشترک سے ہو، اسی لیے "من المشترك" کی قید لگائی ماتن نے بھئی۔ "وإنما قيد بقوله من المشترك" اور مقید کیا اس کو ماتن نے اپنے قول "من المشترك" کے ذریعے "لأن المراد هاهنا هو هذا المؤول" اس لیے کہ یہاں پر مراد وہی مؤول ہے "الذي بعد المشترك" جو کس کے بعد آئے؟ مشترک کے بعد آئے "وإلا فالخفي والمشكل والمجمل إذا زال خفاؤها بدليل ظني صارا مؤولا أيضا" ورنہ تو خفی، مشکل اور مجمل جب ان کا دور ہو جائے ان کا خفاء کسی دلیل ظنی کی وجہ سے تو وہ بھی مؤول بن جاتے ہیں "ولكنهم من أقسام البيان" لیکن وہ کس کی اقسام میں سے ہیں؟ بیان کی اقسام میں سے ہیں نظم کی اقسام میں سے نہیں ہیں بھئی۔ "والمراد بغالب الرأي الظن الغالب" یہ ایک سوال کا جواب دے رہے ہیں، بھئی آپ نے کیا کہا؟ مؤول کس کو کہتے ہیں؟ کہ مشترک کا کوئی ایک معنیٰ ترجیح پا جائے غالب رائے سے، یعنی غالب رائے سے تو یہ تو وہ مؤول خارج ہوا، بعض اوقات مؤول کے ایک معنیٰ کو ہم ترجیح دے دیتے ہیں خبر واحد کی وجہ سے، مثلاً قروء کے دو معنیٰ آئے تھے نا حیض اور طہر، فرض کرو یہ کہ ترجیح ہم کس کے ذریعے دے دیتے ہیں؟ خبر واحد سے، تو یہ خبر واحد سے ہم نے ترجیح دی ہے یا غالب رائے سے دی ہے؟ رائے تو قیاس کا نام ہے بھئی، تو لہٰذا یہ جو جہاں پر ایک معنیٰ کو ترجیح خبر واحد کے ذریعے دی گئی ہو وہ شامل نہ ہوا وہ تو کیا ہو گیا؟ خارج ہو گیا، کہتے ہیں نہیں بھئی وہ بھی داخل ہے، غالب رائے سے مراد ظن غالب ہے، غالب رائے سے کیا مراد ہے؟ ظن غالب ہے، اب ظن غالب چاہے قیاس کے ذریعے حاصل ہو چاہے خبر واحد کے ذریعے حاصل ہو بھئی، خبر واحد سے قطعی بات حاصل ہوتی ہے یا ظنی بھئی؟ ظن حاصل ہو گا وہاں قطعی بات نہیں کیونکہ وہ خبر واحد ہے مولانا، تو غالب رائے سے کیا مراد ہے؟ ظن غالب کہ ظن غالب کی وجہ سے ایک معنیٰ کو ترجیح دے دی جائے اور وہ ظن غالب عام ہے چاہے قیاس کی وجہ سے ہو، رائے سے حاصل ہو یا خبر واحد سے۔ کہتے ہیں: "والمراد بغالب الرأي الظن الغالب" اور غالب رائے سے مراد جو ہے وہ ظن غالب ہے "سواء حصل بخبر الواحد أو القياس أو نحوه" برابر ہے کہ وہ خبر واحد سے حاصل ہو یا قیاس سے یا اس جیسی سے چیز سے "فلا يقال" پس یہ اعتراض نہ کیا جائے "إنه لا يشمل ما إذا حصلت التأويل بخبر الواحد بل بالقياس فقط" پس یہ نہ کہا جائے کہ یہ مشتر، یہ مؤول تو شامل نہ ہوا اس قسم کو کہ جہاں تاویل حاصل ہو خبر واحد کے ذریعے "بل بالقياس فقط" بلکہ یہ تو صرف کس کو شامل ہے جو جہاں تاویل کس کے ذریعے آئے؟ قیاس کے ذریعے "فقط" قیاس کے ذریعے فقط بھئی، تو یہ اعتراض نہ کیا جائے۔ کہتے ہیں: "ثم الترجيح من المشترك قد يكون بالتأمل في الصيغة وقد يكون بالتأمل في السباق" کہتے ہیں بھئی مشترک کے ایک معنیٰ کو ترجیح جو دی جائے گی وہ کبھی تو نفس صیغہ کے اندر غور کے ذریعے بھئی، نفس صیغہ میں غور کر کے کیا کیا جائے گا ایک معنیٰ کو ترجیح دے دی جائے گی اور کبھی سیاق کے ذریعے اور کبھی سباق کے ذریعے، کبھی تو ترجیح غور و فکر کس میں کرنے سے ہی پتہ لگ جائے گا صیغے کے اندر، کبھی سباق کے ذریعے اور کبھی سیاق، سباق مولانا، سباق کہتے ہیں وہ قرینہ لفظیہ جو مقدم ہو، وہ قرینہ لفظیہ جو مقدم ہو، دیکھو "قُرُؤٍ" سے ہم نے کیا مراد لیا؟ "قُرُؤٍ" سے ہم نے کیا مراد لیا؟ حیض مراد لیا، کس وجہ سے؟ کیونکہ "قُرُؤٍ" سے پہلے "ثَلَاثَةَ" کا لفظ آ رہا تھا تو یہ قرینہ لفظیہ ہے اور قروء پر مقدم ہے مؤخر ہے؟ مقدم، تو وہ قرینہ لفظیہ جو مقدم ہو لفظ پر وہ کیا کہلاتا ہے؟ سباق، کیا کہلاتا ہے؟ اور وہ قرینہ لفظیہ جو مؤخر ہو وہ کہلاتا ہے سیاق بھئی، کیا کہلاتا ہے؟ سیاق، تو لہٰذا تو غور و فکر ہوگا کبھی صیغے میں کے اندر ہی پھر صیغے کے اندر غور و فکر کرنے سے ہی ایک معنیٰ کو ترجیح دی جائے گی، کبھی کبھار سباق میں غور و فکر کرنے سے اور کبھی سیاق میں، دیکھیے سب کی مثالیں آ رہی ہیں۔ کہتے ہیں: "ثم الترجيح من المشترك قد يكون بالتأمل" پھر ترجیح دینا ایک معنیٰ کو مشترک میں سے کبھی کبھار تو وہ غور و فکر کرنے کے ذریعے ہو گا "في الصيغة" صیغہ کے اندر ہی "وقد يكون بالتأمل في السباق" اور کبھی کبھار سباق کے اندر غور و فکر کرنے سے "كما قلنا في القروء" جیسا کہ ہم نے کس میں کہا؟ قروء میں کہا "بالنظر إلى نفسه" نظر کرتے ہوئے اس کے ذات کی، ذات کی طرف ہی نظر کرتے ہوئے، بھئی قروء کے صیغے کے اندر ہی ہم نے غور کیا تو ہم نے کیا کہا؟ کہ یہ جمع ہے اور جمع کا اطلاق کتنے پر ہوتا ہے؟ تین پر، تو نفس صیغے کے ذریعے ہم نے حیض کے معنیٰ کو راجح قرار دے دیا کہ تین پر اسی صورت میں عمل ہو سکتا ہے جبکہ کونسا معنیٰ مراد لیا جائے؟ حیض، "وبالنظر إلى ثلاثة" اور نظر کرتے ہوئے "ثَلَاثَةَ" کی طرف، "ثَلَاثَةَ" کیا ہے؟ سباق ہے، کیا ہے؟ سباق میں غور و فکر کرتے ہوئے "وقد يكون بالنظر إلى السياق" اور کبھی کبھار غور کیا جائے گا کس کی طرف نظر کرتے ہوئے؟ سیاق کی طرف نظر کرتے ہوئے "كما في قوله تعالى" جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کے اندر ہے: "أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ" حلال کر دیا گیا تمہارے لیے رمضان کی راتوں کے اندر "الرَّفَثُ" صحبت کرنا بیویوں سے بھئی، رفت صحبت بھئی، اچھا، "أُحِلَّ"، "أُحِلَّ"، "أَحَلَّ" کے معنیٰ حلال کرنے کے بھی ہیں اور "أَحَلَّ" کے معنیٰ اترنے اور نازل، اتارنے اور نازل کرنے کے بھی ہیں بھئی، اتارنے اور؟ تو "أَحَلَّ" کے کتنے معنیٰ ہوئے؟ دو، ایک معنیٰ کیا؟ "أَحَلَّ" حلال کیا، ایک معنیٰ "أَحَلَّ" نازل کیا، اتارا، اب یہاں کون سا معنیٰ ہے؟ کہتے ہیں بھئی، اُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ۔ رفث کے لفظ نے بتلا دیا کہ اُحِلَّ حلّت سے ہے، حلال ہونے کے معنی میں ہے۔ حلال کر دیا گیا ہے تمہارے لیے رمضان کی راتوں میں بیویوں سے صحبت کرنا۔ تو رفث کے لفظ نے بتایا، اُحِلَّ کا کیا معنی ہے؟ یہ کس سے ہے؟ حلّت سے ہے۔ سمجھ میں آیا؟ حلال کرنے سے ہے۔ تو کہتے ہیں: عُرِفَ اَنَّهُ مِنَ الْحِلِّ، جان لیا گیا کہ یہ کس میں سے ہے؟ کس سے ہے؟ حلّت سے۔ کس سے پتہ چلا؟ رفث۔ اُحِلَّ کے معنیٰ کا رفث سے پتہ چلا۔ تو یہ کیا ہے؟ قرینۂ لفظیہ جو مؤخر ہے۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ سیاق۔ وَفِيْ قَوْلِهٖ اور اس اللہ کے اس قول میں: اَحَلَّنَا دَارَ الْمُقَامَةِ، جیسے کہ اللہ کے اس قول میں ہے بھئی۔ اس میں دیکھیے، دَارَ الْمُقَامَةِ، یہ سیاق بتلا رہا ہے کہ اَحَلَّ حلّت سے نہیں ہے بلکہ کس سے ہے؟ حلول سے ہے۔ اتارنے اور نازل کرنے کے۔ اَحَلَّ، اَحَلَّنَا، ہمیں اتارا، ہمیں نازل کیا، دَارَ الْمُقَامَةِ، کس کے اندر؟ رہنے کے گھر یعنی جنت کے اندر۔ تو دَارَ الْمُقَامَةِ نے کیا بتلا دیا؟ کہ اَحَلَّ جو یہاں آیا، یہ حلول سے ہے، حلّت سے نہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ سیاق ہے مولانا۔ تو کہتے ہیں: عُرِفَ اَنَّهُ مِنَ الْحُلُوْلِ، جان لیا گیا کہ یہ حلول سے ہے۔ تو یہاں دیکھیے، ایک ہے: اُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ، اور ایک ہے: اَحَلَّنَا دَارَ الْمُقَامَةِ۔ تو یہاں دونوں جگہ احلّ کا صیغہ آیا اور احلّ جو ہے، اس کے دو معانی آتے ہیں: یا تو یہ حلٌّ سے ہے یا حلولٌ سے ہے۔ حلٌّ سے ہو تو اس کے معنی ہیں حلال ہونے کے، اور حلولٌ سے ہو تو اس کے معنی اتارنے اور نازل کرنے کے ہیں۔ تو یہاں کون سا معنی، کس جگہ کون سا معنی ہوگا؟ تو اُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ، یہاں آگے جو، آگے الرَّفَثُ کا لفظ آ رہا تھا، اس لفظ سے ہمیں پتہ چلا کہ یہاں اُحِلَّ کا کیا معنی ہے؟ حلال، یہ حلّت سے ہے، اس کے معنی حلال کرنے کے ہیں بھئی، کہ حلال کیا گیا تمہارے لیے رمضان کی راتوں میں صحبت کو۔ اور اگلے میں، اَحَلَّنَا میں دَارَ الْمُقَامَةِ کے لفظ نے بتایا کہ یہاں اَحَلَّ کا معنی حلال کرنا نہیں ہے بلکہ یہاں اتارنا اور نازل کرنا ہے۔ تو دیکھو، ایک لفظ کے دو معانی تھے، ان دو میں سے ایک معنی کا پتہ چلا، اس کی تعین ہوئی ایک ایسے لفظ کے ذریعے جو اس کے بعد آ رہا تھا structure پہلے میں کون سا لفظ تھا؟ رفث کا لفظ، اور دوسرے میں؟ دار المقام۔ تو اس کے ذریعے پتہ چلا، تو یہ ہے مثال سیاقی کی بھئی، کس کی مثال ہے؟ سیاقی کی! تو یہی بات بتلا رہے ہیں کہ مشترک کے دو معانی میں سے ایک معنی کو ترجیح دی جاتی ہے، غور و فکر کیا جاتا ہے اسی صیغے کے اندر بھی، اس سے ماقبل کے اندر بھی اور مابعد میں بھی۔ اگر ماقبل میں ہو وہ قرینہ تو اس کو کہتے ہیں سباق، اور مابعد میں ہو تو وہ سیاق ہے، جیسے اس مثال کے اندر تھا، احلّ کے دو معانی تھے اور ایک معنی جو مراد تھا وہاں پر، اس کا پتہ بعد میں آنے والے لفظ سے چلا۔ وَحُكْمُهُ الْعَمَلُ بِهٖ عَلٰى اِحْتِمَالِ الْغَلَطِ، اور حکم مؤول کا کہ اس پر عمل کیا جائے گا عَلٰى اِحْتِمَالِ الْغَلَطِ، غلطی کے احتمال کے ساتھ۔ غلطی کے احتمال کے ساتھ۔ یعنی عمل کیا جائے گا لیکن یہ اعتقاد نہیں رکھا جائے گا کہ قطعی طور پر یہی معنی ہے اس کا، بلکہ ہو سکتا ہے یہ معنی نہ ہو، دوسرا معنی ہو۔ کیونکہ اس معنی کو ترجیح کس نے دی ہے؟ مجتہد نے، اور مجتہد کبھی مصیب ہوتا ہے اور کبھی مخطي، کبھی درستگی پر ہوتا ہے اور کبھی اس سے کیا ہو جاتی ہے؟ غلطی بھی ہو جاتی ہے۔ سمجھ میں آیا؟ تو غلطی کا بھی احتمال ہوگا، یعنی قطعی نہیں ہے۔ اَيْ حُكْمُ الْمُؤَوَّلِ وُجُوْبُ الْعَمَلِ بِمَا جَاءَ فِيْ تَأْوِيْلِ الْمُجْتَهِدِ، مؤول کا حکم وہ عمل کا واجب ہونا ہے بِمَا، اس معنی پر جَاءَ فِيْ تَأْوِيْلِ الْمُجْتَهِدِ، جو آیا کس کی تاویل میں؟ مجتہد کی تاویل میں، مَعَ اِحْتِمَالِ اَنَّهٗ غَلَطٌ، ساتھ اس احتمال کے کہ یہ غلط ہو، وَيَكُوْنُ الصَّوَابُ فِيْ جَانِبِ الْاٰخَرِ، اور درستگی کس جانب میں ہو؟ دوسری جانب، ہو سکتا ہے دوسری جانب درستگی ہو، ہو سکتا ہے یہی درست ہو بھئی، دونوں احتمال۔ وَالْحَاصِلُ، حاصل یہ کہ اَنَّهٗ ظَنِّيٌّ، کہ مؤول کیا ہوتا ہے؟ ظنی ہوتا ہے۔ وَاجِبُ الْعَمَلِ، اس پر عمل واجب ہوتا ہے۔ غَيْرُ قَطْعِيٍّ فِي الْعِلْمِ، علم کے اندر وہ قطعی نہیں ہے۔ فَلَا يُكَفَّرُ جَاحِدُهٗ، لہٰذا کافر نہیں قرار دیا جائے گا اس کے انکار کرنے والے کو۔ کیونکہ یہ ظنی ہے بھئی، تو اس کے انکار کرنے والے کو کافر قرار نہیں دیا جائے گا۔ ثُمَّ شَرَعَ فِي التَّقْسِيْمِ الثَّانِيْ، پھر شروع ہوئے کس کے اندر؟ تقسیمِ ثانی کے اندر بھئی۔ دوسری تقسیم شروع کر دی مولانا، پہلی تقسیم مکمل ہوئی۔ خاص، عام، مشترک، مؤول، ان کی بحث پوری ہو گئی۔ اب تقسیمِ ثانی شروع ہونے لگی ہے۔ فَقَالَ، پس مصنف فرماتے ہیں: وَاَمَّا الظَّاهِرُ، باقی ظاہر جو ہے، فَاسْمٌ لِكَلَامٍ، یہ نام ہے اس کلام کا، ظَهَرَ الْمُرَادُ بِهٖ، کہ ظاہر ہو جائے اس کی مراد، لِلسَّامِعِ، کس کے لیے؟ سننے والے کے لیے، بِصِيْغَتِهٖ، اس کے صیغے سے ہی۔ اس کے صیغے سے ہی کیا ہو جائے اس کی مراد؟ ظاہر ہو جائے سننے والے کے لیے۔ اَيْ لَا يَحْتَاجُ اِلَى الطَّلَبِ وَالتَّاَمُّلِ كَمَا فِيْ مُقَابَلَاتِهَا، یعنی یہ محتاج نہیں ہوتا طلب اور تامل کا، اس میں کوشش اور جستجو اور طلب کی ضرورت نہیں، كَمَا فِيْ مُقَابَلَاتِهَا، جیسے کہ اس کے مقابلات کے اندر یعنی خفی، مشکل، مجمل اور متشابہ کے اندر وہاں طلب اور تامل کی ضرورت پڑتی ہے، یہاں پر ایسا نہیں ہے۔ وَلَا يُزَادُ عَلَى الصِّيْغَةِ شَيْءٌ اٰخَرُ مِنَ السَّوْقِ وَنَحْوِهٖ، اور بڑھایا نہیں جائے گا صیغے پر کسی اور چیز کو یعنی کہ سوق وغیرہ کو، كَمَا فِي النَّصِّ، جیسے کس کے اندر ہے؟ نص کے اندر۔ بھئی یاد رکھیے، آگے نص کا بیان آنے والا ہے۔ نص میں آپ کو بتلائیں گے کہ یہ ظہور کے اندر ظاہر سے بڑھ کر ہے۔ وضوح اور ظہور میں کیا ہے یہ؟ ظاہر سے بڑھ کر ہے! اور نص وہ معنی جس مقصد کے لیے اس کلام کو لایا گیا ہو بھئی۔ وہ مقصود جس کے لیے کلام کو لایا گیا ہو، وہ نص ہے مولانا، نص بھئی! تو نص کے اندر، نص کسے کہتے ہیں؟ وہ مقصد جس کے لیے کلام کو لایا جائے بھئی، اسی مقصد کے لیے کلام کو چلایا جائے۔ کہتے ہیں ظاہر کے اندر کسی اور چیز کی قید نہیں بڑھائی جائے گی کہ اسی مقصد کے لیے کلام کو لایا گیا ہو یا نہ لایا گیا ہو۔ بات سمجھ میں آئی؟ یہی بات کر رہے ہیں، کہتے ہیں: وَلَا يُزَادُ، اور زیادہ نہیں کی جائے گی عَلَى الصِّيْغَةِ شَيْءٌ اٰخَرُ، صیغے پر کسی اور چیز کو نہیں زیادہ کیا جائے گا، مِنَ السَّوْقِ وَنَحْوِهٖ، سوق وغیرہ کو، سوق کا معنی چلانا، یعنی کہ اسی مقصد کے لیے کلام کو چلایا گیا ہو یا نہ چلایا گیا ہو، یہ نہیں بڑھایا جائے گا۔ اسی مقصد کے لیے چلانا یہ نص کے اندر ہوگا، ظاہر کے اندر یہ قید نہیں ہے۔ كَمَا فِي النَّصِّ، جیسے کہ نص کے اندر ہے کہ اس کو اسی مقصد کے لیے کلام کو، اس معنی کے لیے چلایا جاتا ہے۔ فَخَرَجَ هٰذَا كُلُّهٗ مِنْ قَوْلِهِ بِصِيْغَتِهٖ، تو یہ سارے نکل گئے ماتن کے قول بِصِيْغَتِهٖ کی وجہ سے۔ بِصِيْغَتِهٖ بھئی، بِصِيْغَتِهٖ ہونا چاہیے یہاں لفظ۔ ماتن کے قول بِصِيْغَتِهٖ کے لیے کیا ہوئے؟ یہ سارے کیا ہو گئے؟ کون کون خارج ہوئے؟ نص، مفسر، محکم، یہ تین خارج ہو گئے۔ ظاہر کے اندر مراد کا پتہ کس سے چل رہا ہے؟ صیغے سے ہی، وہ معنی ظاہر ہو رہا ہے بھئی، صیغے سے ہی۔ جبکہ یاد رکھو نص، مفسر اور محکم کے اندر وہاں قرائنِ لفظیہ یا عقلیہ کا ہونا ضروری ہے جو یہ بتلائیں گے۔ وہاں کن چیزوں کا ساتھ ملانا ضروری ہے؟ قرائنِ لفظیہ اور عقلیہ کا ساتھ ملانا ضروری ہے، نفسِ صیغہ سے اس معنی کا پتہ نہیں چلتا وہاں بھئی، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو جب کہا یہاں مراد کا پتہ صرف کس سے چل رہا ہے؟ نفسِ صیغہ ہی سے، یعنی قرائنِ عقلیہ اور لفظیہ کی یہاں ضرورت نہیں، تو یہ صرف ظاہر کو شامل ہوا، جبکہ نص، مفسر، محکم میں تو کس کی ضرورت ہے؟ قرائنِ لفظیہ اور قرائنِ عقلیہ کا ہونا ضروری ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: فَخَرَجَ هٰذَا كُلُّهٗ مِنْ قَوْلِهِ بِصِيْغَتِهٖ، تو نکل گئے یہ سارے قسمیں یعنی نص، مفسر اور محکم مِنْ قَوْلِهٖ، ماتن کے، مصنف کے قول بِصِيْغَتِهٖ کے ذریعے، لٰكِنْ يُشْتَرَطُ فِيْ هٰذَا كَوْنُ السَّامِعِ مِنْ اَهْلِ اللِّسَانِ، لیکن شرط ہے اس کے اندر کہ سامع کو اہل زبان ہونا چاہیے۔ اہل لسان میں سے ہو، عربی جاننے والا ہو بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ ورنہ کسی غیر عرب کے سامنے ایک حکم آپ بیان کرتے ہیں، کہتے ہیں اس کو تو اس حکم کا پتہ نہیں چلا اس سے بھئی، بھئی اس کو عربی آتی نہیں ہے تو سمجھ کیا آئے اس کو! ہاں عرب ہوتا تو فوراً کیا ہوتا اس سے یہ بات سمجھ لیتا بھئی، تو لہٰذا ضروری ہے کہ وہ اہل لسان ہو۔ وَفِي ازْدِيَادِ لَفْظِ الْكَلَامِ اِشَارَةٌ اِلٰى اَنَّ هٰذَا تَقْسِيْمٌ مِّمَّا يَتَعَلَّقُ بِالْكَلَامِ كَالرَّابِعِ كَمَا اَنَّ الْاَوَّلَ وَالثَّالِثَ يَتَعَلَّقُ بِالْكَلَامِ، اور یہ جو بڑھایا ہے کلام کے لفظ کو، متن میں کیا آیا تھا؟ لِكَلَامٍ، یہ کلام کا لفظ جو بڑھایا، کہتے ہیں یہ اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ یہ تقسیم ان تقسیمات میں سے ہے جس کا تعلق کلام کے ساتھ ہے كَالرَّابِعِ، جیسے کہ چوتھی تقسیم، اس کا بھی تعلق کس سے ہوگا؟ کلام کے ساتھ ہے بھئی، کلمے سے اس کا تعلق نہیں۔ كَمَا اَنَّ الْاَوَّلَ وَالثَّالِثَ يَتَعَلَّقُ بِالْكَلِمَةِ، جیسے کہ پہلی اور तीसरी تقسیم جو ہے، ان کا تعلق کلمہ سے ہے۔ تو کہتے ہیں یہ جو کلام کا لفظ متن میں بڑھایا، یہ اس بات کی طرف اشارہ کرنے کے لیے کہ اس دوسری تقسیم کا تعلق کس سے ہے؟ کلام سے ہے، کلمے سے نہیں، اور اسی طرح چوتھی تقسیم آگے آئے گی، اس کا تعلق بھی کس سے ہے؟ کلام سے ہے، جبکہ پہلی قسم جو گزری اور آگے تیسری قسم جو آئے گی، ان کا تعلق کس سے ہے؟ کلمے سے ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آئی؟ وجہ یہ مولانا، ان کا تعلق کلام سے اس لیے، یہ بات پہلے بھی گزر چکی ہے وجہ حصر کے اندر، جہاں تقسیم میں آپ بیان ہوئی تھی بھئی، کہ یہ دوسری اور چوتھی قسم کے اندر ظہور اور اظہار کی بات ہوگی کہ مراد ظاہر ہو یا ظاہر کی جائے بھئی، اور ظہور اور اظہارِ مراد بھئی، جو ہے یعنی مراد پر مطلع ہونا، وہ صرف کلام کے اندر ہو سکتا ہے، کلمے کے اندر نہیں! کلمے سے آپ کس معنی کا ارادہ کیا، صرف کلمے سے آپ کو اس کا اندازہ نہیں ہو سکتا، پورا جملہ ہوگا تو پتہ لگے گا، مثلاً دیکھو میں آپ کے سامنے کہتا ہوں: اسدٌ، آپ کو پتہ لگا میں نے شیر کا ارادہ کیا ہے یا بہادر آدمی کا؟ اسدٌ! ٹھیک ہے، اسد کا لغوی معنی تو شیر ہے لیکن میری کیا مراد ہے اس سے؟ میں مراد کی بات کر رہا ہوں، میری کیا مراد ہے، اس کا پتہ آپ کو صرف ایک کلمے سے نہیں چلے گا۔ ہاں، جب میں یوں کہوں گا: رَاَيْتُ الْاَسَدَ فِي الْغَابَةِ، میں نے جنگل میں شیر دیکھا، اب پتہ لگا بھئی، شیر وہ درندہ مراد ہے۔ اور اگر میں آپ کو کہتا ہوں: رَاَيْتُ اَسَدًايَّضْحَكُ، میں نے ایک، شیر تو نہیں ہنستا، ہنسنا تو صرف کون کرتا ہے؟ انسان، تو کیا کہیں گے؟ ترجمہ کیا ہوگا؟ نہیں نہیں، بہادر آدمی کو ہنستے ہوئے دیکھا، تو دیکھو پورا کلام ہوا تو مراد کا پتہ چل گیا بھئی! سمجھ میں آیا؟ تو دوسری اور چوتھی تقسیم میں کیا ہوگا؟ مراد پر مطلع ہونا ہے اور مراد پر مطلع ہونا کس کے ذریعے ہوتا ہے؟ کلام کے ذریعے ہوتا ہے، کلمے کے ذریعے نہیں ہوتا، اسی لیے کہا: وَفِي ازْدِيَادِ لَفْظِ الْكَلَامِ، کہ کلام کا لفظ بڑھانے میں اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ یہ تقسیم ان تقسیمات میں سے ہے جس کا تعلق کلام کے ساتھ ہے، جیسے کہ چوتھی تقسیم ہے، كَمَا اَنَّ الْاَوَّلَ وَالثَّالِثَ، جیسے کہ پہلی اور تیسری تقسیم جو ہے، ان کا تعلق کلمہ سے ہے۔ وَالْمُرَادُ مِنَ الظُّهُوْرِ فِيْ قَوْلِهٖ مَا ظَهَرَ، بھئی، یہ سوال کا جواب، اشکال کا جواب دے رہے ہیں۔ اشکال یہ: آپ نے ظاہر کی کیا تعریف کی؟ وَاَمَّا الظَّاهِرُ فَاسْمٌ لِكَلَامٍ ظَهَرَ الْمُرَادُ، تعریف ظاہر کی کر رہے ہیں اور وہی ظہر کا لفظ تعریف کے اندر بھی لا رہے ہیں۔ تعریف بھی ظاہر کی اور وہی ظہر کا لفظ بھی تعریف کے اندر لا رہے ہیں، تو یہ تو تعریف الشیء بنفسہٖ لازم آئی، اپنی ہی نفس کے ذریعے شے کی تعریف کرنا! لہٰذا، ظاہر کو جاننے کے لیے کس کی طرف جائیں گے؟ ظاہر کا پتہ کس سے چلے گا؟ تعریف سے، کس سے؟ تعریف سے، اور تعریف میں خود پھر وہی ظہر لفظ آ رہا ہے، اس ظہر کا کیا معنی؟ اب ہم کس کی طرف جانا پڑے گا؟ ظاہر کی طرف، اور پھر ظاہر کا پتہ چلانے کے لیے کس کی طرف جانا پڑے گا؟ تعریف کی، اور پھر تعریف کو پوری طرح سمجھنے کے لیے وہاں ظہر کا لفظ آیا، پھر ہمیں کس کی طرف جانا پڑے گا؟ دور لازم آیا بھئی! ایک کا بھی پتہ نہیں چلے گا، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو لہٰذا دور لازم آتا ہے کہ وہی لفظ، وہی لفظ آپ نے بعینہٖ جس کی تعریف کر رہے ہیں، اسی کو آپ نے تعریف کے اندر بھی ذکر کر دیا، تو معرف اور تعریف ایک ہو گئے بھئی! تو تعریف الشیء بنفسہٖ لازم آئی اور وہ باطل ہے، دور لازم آتا ہے۔ تو جواب دیتے ہیں کہ نہیں بھئی، جو ظاہر لفظ جس کی ہم تعریف کر رہے ہیں، وہاں اصطلاحی ظاہر مراد ہے اور جو تعریف کے اندر ظہر آیا، وہاں ظہورِ لغوی مراد ہے، اصطلاحی ظاہر مراد، تو وہاں لغوی ظہور جس کا معنی کھلنے اور منکشف ہونے کے ہوتا ہے۔ کہتے ہیں: وَالْمُرَادُ مِنَ الظُّهُوْرِ فِيْ قَوْلِهٖ، اور ظہور سے مراد مصنف کے قول مَا ظَهَرَ کے اندر جو ہے، ظہور سے کیا مراد ہے؟ اَلظُّهُوْرُ اللُّغَوِيُّ، کون سا ظہور؟ لغوی ظہور مراد ہے، یعنی منکشف ہونا، واضح ہو جانا، کھل جانا۔ فَلَا يَرِدُ اَنَّ هٰذَا تَـعْرِيْفُ الشَّيْئِ بِنَفْسِهٖ، پس یہ اعتراض وارد نہیں ہوتا کہ یہ تو تعریف الشیء بنفسہٖ ہے۔ وَحُكْمُهُ وُجُوْبُ الْعَمَلِ بِالَّذِيْ ظَهَرَ مِنْهُ عَلٰى سَبِيْلِ الْقَطْعِ وَالْيَقِيْنِ، اچھا، ظاہر کا حکم کیا ہے؟ کہتے ہیں: وُجُوْبُ الْعَمَلِ، عمل کا واجب ہونا بِالَّذِيْ، اس معنی پر الَّذِيْ ظَهَرَ مِنْهُ، جو اس سے ظاہر ہوا ہے عَلٰى سَبِيْلِ الْقَطْعِ وَالْيَقِيْنِ، قطعی اور قطع اور یقین کے طریقے پر بھئی! وہ جو معنی اس سے ظاہر ہوا ہے صیغے سے ہی، اس پر کیا کیا جائے گا؟ عمل کیا جائے گا، کس طریقے پر؟ یقین کے طریقے پر، کہ قطعی طور پر یہی معنی مراد ہے! بات سمجھ میں آ گئی؟ قطعی طور پر یہی معنی مراد ہے۔ کہتے ہیں: حَتّٰى صَحَّ اِثْبَاتُ الْحُدُوْدِ وَالْكَفَّارَاتِ بِالظَّاهِرِ، یہاں تک کہ حدود اور کفارات کو ثابت کرنا بھی صحیح ہے ظاہر کے ذریعے! حدود اور کفارات کو بھی کیا کرنا صحیح ہے؟ حالانکہ حدود جو ہیں أدنى شبہ کی وجہ سے بھی کیا ہو جاتی ہیں؟ ساقط ہو جاتی ہیں، لیکن یہاں کوئی شبہ نہیں، قطعی طور پر وہ معنی ثابت ہو رہا ہے اس صیغے سے، وہ قطعی ہے، یقینی ہے، لہٰذا اس کے لیے حدود اور کفارات کو ثابت کرنا بھی صحیح ہے۔ لِاَنَّ غَايَتَهٗ اَنَّهٗ مُحْتَمَلُ الْمَجَازِ، اس لیے کیونکہ اس کی انتہا یہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ یہ مجاز کا احتمال رکھتا ہے، زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے بھئی کہ یہ مجاز کا احتمال رکھتا ہے، ہو سکتا ہے مجازی معنی ہوں، کیا ہوں؟ میں نے آپ سے کہا: جَاءَنِيْ زَيْدٌ، میرے پاس زید آیا۔ تو احتمال ہے، ہو سکتا ہے زید نہ آیا ہو لیکن اس نے ٹیلی فون کر دیا، اس کے فون کو بھی میں نے کس کی طرح سمجھ لیا؟ انے... وہ اتنا بڑا آدمی ہے، میں نے کہا اس کا فون بھی یوں سمجھو گویا وہ خود ہی میرے پاس آیا! یا زید، میں نے کہا: جَاءَنِيْ زَيْدٌ، اور مراد یہ اس کا سیکرٹری آیا، لیکن وہ اتنا بڑا آدمی ہے اور اس کا خاص پرسنل سیکرٹری میرے پاس آیا، معلوم ہوا گویا کہ وہ خود ہی آ گیا میرے پاس! تو مجاز کا احتمال ہے یا نہیں جَاءَنِيْ زَيْدٌ کے اندر؟ مجاز کا بھی احتمال ہے، لیکن کہتے ہیں: اگرچہ مجاز کا احتمال یہاں ظاہر کے اندر بھی ہے، لیکن یہ احتما... اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے، اس لیے کیونکہ یہ بغیر دلیل کے ہے۔ یہ احتمال بغیر دلیل کے ہے، دلیل کے ساتھ ہو، پھر اس کا اعتبار ہوتا ہے، بغیر دلیل کے احتمال کا اعتبار نہیں! کہتے ہیں: لِاَنَّ غَايَتَهٗ، اس لیے کہ انتہائی یہ کلا... بات اس کے اندر یہ ہے کہ اَنَّهٗ مُحْتَمَلُ الْمَجَازِ، کہ وہ مجاز کا احتمال رکھتا ہے، وَهُوَ اِحْتِمَالٌ غَيْرُ نَاشِمٍ مِّنْ دَلِيْلٍ، اور وہ ایسا احتمال ہے جو دلیل سے پیدا ہونے والا نہیں ہے، فَلَا يُعْتَبَرُ، پس اس کا کوئی اعتبار نہیں۔ وَاَمَّا النَّصُّ فَمَا ازْدَادَ وُضُوْحًا عَلَى الظَّاهِرِ لِمَعْنًى مِّنَ الْمُتَكَلِّمِ لَا فِيْ نَفْسِ الصِّيْغَةِ وَأَمَّا النَّصُّ فَمَا اَزْدَادَ وُضُوْحًا عَلَى الظَّاهِرِ، باقی نص وہ ہے جو زائد ہو وضو- وضاحت کے اندر یعنی ظہور کے اندر زائد ہو عَلَى الظَّاهِرِ کس پر؟ ظاہر پر۔ لِمَعْنًى مِّنَ الْمُتَكَلِّمِ، ایک معنی کی وجہ سے، ایک ایسے معنی جو کس کی طرف سے آیا ہے؟ متکلم کی طرف سے اس کی وجہ سے وضوح کے اندر اس سے بڑھ کر ہو جائے۔ لَا فِيْ نَفْسِ الصِّيْغَةِ، نہ کہ نفسِ صیغہ کے اندر۔ یعنی نفسِ صیغہ میں ایسی بات نہیں ہے کہ وہ کیا ہو ظاہر سے بڑھ کر ہے بلکہ وضاحت میں یعنی وہ معنی نفسِ صیغہ سے معلوم نہیں ہو رہا بلکہ ایسا معنی جو کس کی طرف سے آیا ہے؟ متکلم کی طرف سے آیا ہے، متکلم کی طرف سے۔ تو وہ معنی نفسِ صیغہ سے نہیں آیا بلکہ متکلم کی طرف سے آیا ہے اور وہ کیا معنی ہے؟ کہ متکلم اس کلام کو اسی مقصد کے لیے لے کر آیا ہے۔ وہ کیا معنی ہے؟ کہ متکلم اس کلام کو اسی مقصد کے لیے ایک تو تھا نفسِ صیغہ سے ویسے ایک معنی ظاہر ہو رہا ہے اور سمجھ میں آ رہا ہے اور ایک ہے کہ متکلم اسی مقصد کے لیے خاص طور پر اس کلام کو لے کر آیا ہے اور یاد رکھیے مولانا! جب کسی کلام کو کسی خاص مقصد کے لیے چلایا گیا ہے تو اس کے اندر زیادہ ظہور ہو گا کیونکہ تو معنی مسوق- معنی مسوق وہ معنی جس کے لیے اس کلام کو چلایا گیا ہو اس میں زیادہ ظہور ہو گا بمقابلہ اس معنی کے جو غیر مسوق لہ ہو بھئی۔ جو کیا ہو؟ غیر مسوق لہ ہو۔ لازم بات ہے جس مقصد کے لیے انسان کلام کو لے کر آتا ہے وہ اس سے زیادہ ظاہر ہو گا بھئی۔ یَعْنِيْ يُفْهَمُ مِنْهُ مَعْنًى لَّمْ يُفْهَمْ مِنَ الظَّاهِرِ، یعنی سمجھا جاتا ہے اس سے ایک ایسا معنی جو سمجھ میں نہیں آتا ظاہر سے۔ بِسَبَبِ أَنَّ الْمُتَكَلِّمَ سَاقَ ذٰلِكَ النَّظْمَ لِذٰلِكَ الْمَعْنٰى، اس سبب سے کہ متکلم نے چلایا ہے اس نظم کو اسی معنی کے لیے۔ لَا بِمُجَرَّدِ فَهْمِهٖ مِنَ الصِّيْغَةِ، نہ کہ محض صیغہ سے ہی سمجھنے سے۔ محض صیغہ سے کے ہی سے یہ بات سمجھ میں نہیں آ رہا صیغہ سے یہ معنی سمجھ میں نہیں آ رہا بلکہ ایک معنی جو متکلم کی طرف سے آیا اور وہ معنی کیا ہے کہ متکلم نے اس کلام کو اسی مقصد کے لیے ذکر کیا۔ وَهُوَ الْمَشْهُوْرُ فِيْمَا بَيْنَ الْقَوْمِ، اور قوم کے درمیان بھئی یہ مشہور ہے۔ یعنی علماء کے اندر علماءِ متاخرین مراد ہیں کہ علماءِ متاخرین کے درمیان مشہور ہے کیا؟ کہ أَنَّ فِي النَّصِّ يُشْتَرَطُ السَّوْقُ وَفِي الظَّاهِرِ عَدَمُ السَّوْقِ، کہ نص کے اندر شرط ہے بھئی سوق اور ظاہر کے اندر شرط ہے عدمِ سوق۔ نص کے اندر کیا شرط ہے؟ کہ کلام اسی مقصد کے لیے چلایا گیا ہو اور ظاہر میں کیا شرط ہے؟ کہ کلام اس مقصد کے لیے نہ چلایا گیا ہو۔ فَيَكُوْنُ بَيْنَهُمَا مُبَايَنَةٌ، تو ان دونوں کے درمیان کیا ہو؟ مباینت ہوئی، دونوں میں تباین ہوا معلوم ہوا کیونکہ ایک کے اندر ایک شرط ہے دوسرے میں اس کا عدم شرط ہے مولانا۔ فَإِذَا، دیکھیے خود بڑی پیاری مثال دے رہے ہیں۔ فَإِذَا قِيْلَ جَاءَنِي الْقَوْمُ، جب کہا جائے آپ- یہ کہا جائے جَاءَنِي الْقَوْمُ۔ كَانَ نَصًّا فِيْ مَجِيْءِ الْقَوْمِ، تو یہ کلام نص ہوا کس کے اندر؟ قوم کے آنے میں۔ اس کلام کو لایا ہی کس لیے گیا ہے؟ اس قوم کی مجیئت کو بیان کرنے کے لیے۔ وَإِذَا قِيْلَ، اور جب یوں کہا جائے: رَأَيْتُ فُلَانًا حِيْنَ جَاءَنِي الْقَوْمُ، میں نے فلاں کو دیکھا اس وقت جب میرے پاس وہ لوگ آئے۔ میں نے فلاں کو اس وقت دیکھا جب میرے پاس وہ لوگ آئے۔ اب یہاں پر مولانا، یہاں بھی قوم کے آنے کا پتہ چل رہا ہے لیکن کلام کیا اسی مقصد کے لیے چلایا گیا ہے؟ بلکہ کلام کو لانے کا مقصد کیا ہے؟ فلاں کی رؤیت کو بیان کرنا۔ میں نے فلاں کو دیکھا، لیکن ساتھ ساتھ ایک اور معنی کا بھی پتہ چل رہا ہے۔ سمجھ میں آیا؟ تو نص اس کے اندر کیا ہے؟ فلاں کی رؤیت اور ظاہر کیا ہے؟ قوم کی مجیئت، اس کا بھی پتہ چل رہا ہے اس سے صیغہ سے ہی۔ تو کہتے ہیں یہ جو کلام ہے كَانَ نَصًّا فِي الرُّؤْيَةِ ظَاهِرًا فِيْ مَجِيْءِ الْقَوْمِ، یہ رؤیت کے اندر نص ہے اور قوم کی مجیئت میں ظاہر ہے۔ چنانچہ اسی لیے کہا مولانا، بات یہ ذکر ہو رہی تھی کہ بعضوں نے کہا کہ نص کے اندر سوق شرط ہے کہ اسی کے لیے کلام کو چلایا گیا ہو اور ظاہر کے اندر شرط نہیں ہے۔ کہتے ہیں وَلٰكِنْ ذُكِرَ فِيْ عَامَّةِ الْكُتُبِ، لیکن ذکر کیا گیا ہے عام کتابوں کے اندر أَنَّ الظَّاهِرَ أَعَمُّ مِنْ أَنْ يُّشْتَرَطَ فِيْهِ السَّوْقُ أَوْ لَا، کہ ظاہر عام ہے اس سے کہ اس میں شرط لگائی جائے سوق کی یا نہ لگائی جائے، یعنی ظاہر عام ہے چاہے اسی مقصد کے لیے کلام کو چلایا گیا ہو چاہے اس کے لیے کلام کو نہ چلایا گیا ہو دونوں صورتوں کو شامل ہیں۔ وَالنَّصُّ يُشْتَرَطُ فِيْهِ السَّوْقُ الْبَتَّةَ، البتہ نص کے اندر شرط ہے، سوق شرط ہے قطعی طور پر۔ نص میں تو ضروری ہے کہ کلام اسی مقصد کے لیے چلایا گیا ہو، ظاہر کے اندر ضروری نہیں ہو سکتا ہے اسی کے لیے مقصد کے لیے کلام کو چلایا گیا ہو ہو سکتا ہے اس معنی کے لیے کلام کو نہ۔ کہتے ہیں وَهٰكَذَا حَالُ كُلِّ قِسْمٍ فَوْقَهُمَا مِنَ الْمُفَسَّرِ وَالْمُحْكَمِ، اور اسی طرح حال ہے ہر اس قسم کا جو ان سے اوپر ہے یعنی کہ مفسر اور محکم بھئی۔ فَإِنَّ بَعْضَهٗ أَوْلٰى مِنْ بَعْضٍ بِحَيْثُ يُوْجَدُ الْأَدْنٰى فِي الْأَعْلٰى، اس لیے کہ ان میں سے بعض اولیٰ ہیں بعض سے اس حیثیت سے کہ پایا جاتا ہے ادنیٰ اعلیٰ کے اندر۔ فَيَكُوْنُ بَيْنَهُمَا عُمُوْمٌ وَّخُصُوْصٌ مُّطْلَقًا، تو ان کے درمیان کیا ہے؟ یہ جو ظاہر اور نص جو ہیں ان دونوں کے درمیان عموم و خصوص مطلق ہے۔ یعنی کیسے عموم و خصوص مطلق ہے؟ بھئی دیکھو ہر اعلیٰ کے اندر ادنیٰ موجود ہے۔ نص کے اندر کیا موجود ہے؟ ظاہر موجود ہے۔ مفسر کے اندر نص موجود ہے۔ محکم کے اندر مفسر موجود ہے۔ معلوم ہوا ہر نص ظاہر ہے لیکن ہر ظاہر نص نہیں۔ ہر مفسر نص ہے لیکن ہر نص مفسر نہیں۔ اسی طرح ہر محکم مفسر ہے لیکن ہر مفسر محکم نہیں۔ تو ان میں کون سی نسبت ہوئی؟ عموم و خصوص مطلق کی تجھ۔ وَحُكْمُهٗ وُجُوْبُ الْعَمَلِ بِمَا وَضَحَ عَلٰى احْتِمَالِ تَأْوِيْلٍ هُوَ فِيْ حَيْزِ الْمَجَازِ، اور اس نص کا حکم اس پر عمل کا واجب ہونا ہے بِمَا وَضَحَ اس- عمل کا واجب ہونا ہے بِمَا وَضَحَ اس معنی پر جو واضح ہوا عَلٰى احْتِمَالِ تَأْوِيْلٍ، عَلا بمعنی مع کے ہے، مع احتمالِ تاویل، ساتھ تاویل کے احتمال کے هُوَ فِيْ حَيْزِ الْمَجَازِ، حیز کہتے ہیں محل کو مولانا، هُوَ فِيْ حَيْزِ الْمَجَازِ جو کس میں ہے؟ مجاز کے محل میں ہے۔ کہ وہ تاویل محل- مجاز کے محل میں ہے۔ بھئی، حکم بتلا رہے ہیں نص کا کہ اس پر- کہ عمل کرنا واجب ہے اس معنی پر جو واضح ہو گیا، واضح ہوا اس سے عَلٰى احْتِمَالِ تَأْوِيْلٍ ساتھ کس کے؟ ہاں تاویل کا احتمال باقی ہے وہاں پر۔ ایسی تاویل هُوَ فِيْ حَيْزِ الْمَجَازِ جو کس کے محل میں ہے؟ مجاز کے محل میں ہے، کیا معنی؟ خود بیان کر رہے ہیں آگے دیکھیے۔ أَيْ حُكْمُ النَّصِّ وُجُوْبُ الْعَمَلِ بِالْمَعْنَى الَّذِيْ وَضَحَ مِنْهُ مَعَ احْتِمَالِ تَأْوِيْلٍ كَانَ فِيْ مَعْنَى الْمَجَازِ، یعنی نص کا حکم کہ عمل واجب ہونا ہے اس معنی پر جو اس سے واضح ہوا ساتھ ایسی تاویل کے احتمال کے جو کس کے اندر پائی جا رہی تھی؟ معنی مجازی کے اندر۔ ایسی تاویل کا احتمال بھی اس میں ہے۔ تاویل کا احتمال وَهٰذَا التَّأْوِيْلُ، یہ اعتراض کا جواب دے رہے ہیں مولانا۔ آپ نے کیا کہا؟ بھئی، یاد رکھیے مولانا، یاد رکھیے۔ نص جو ہے وہ تخصیص کا بھی احتمال رکھتی ہے اور مجاز کا بھی احتمال رکھتی ہے۔ تاویل کا یعنی مجاز کا بھی نص تخصیص اور تاویل دونوں کا احتمال رکھتی ہے۔ یعنی نص اگر عام ہوئی تو عام کے اندر کس چیز کا احتمال؟ تخصیص کا احتمال اور نص اگر خاص ہوئی تو اس کے اندر مجاز کا احتمال۔ بات سمجھ میں آئی؟ نص کیا ہو اگر؟ عام ہو تو عام کے اندر کس کا احتمال ہے؟ تخصیص کا احتمال اور اگر وہ خاص ہے تو اس کے اندر کس کا احتمال؟ مجاز کا، یعنی تاویل کا احتمال۔ تو معلوم ہوا نص کے اندر تاویل کا بھی احتمال ہے، تخصیص کا بھی، دونوں چیزوں کا احتمال ہے۔ تو لہٰذا کہتے ہیں مصنف کو کہنا چاہیے تھا عَلٰى احْتِمَالِ تَأْوِيْلٍ أَوْ تَخْصِيْصٍ، تاویل کو تو ذکر کیا انہوں نے لیکن تخصیص کو ذکر نہیں کیا، وہ بھی ذکر کرنا چاہیے تھا۔ تو جواب اس کا دے رہے ہیں مولانا، کہتے ہیں کوئی ضرورت نہیں ہے تخصیص کے لفظ کو ذکر کرنے کی اس لیے کہ تاویل تخصیص کو بھی شامل ہے اور مجاز کو بھی شامل ہے۔ بھئی تاویل تخصیص کو کس طرح شامل ہے؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ تاویل جو ہے وہ کہتے ہیں لفظ کو پھیرنا اس کے ظاہری معنی سے۔ وہ لفظ کو پھیرنا اس کے ظاہر سے کس کی طرف؟ خلافِ ظاہر کی طرف، تاویل کسے کہتے ہیں؟ لفظ کو ظاہر سے پھیرنا کس کی طرف؟ غیرِ ظاہر کی طرف پھیر دینا، اس کو کہتے ہیں تاویل۔ اب چاہے یہ تخصیص کے ذریعے ہو چاہے معنی مجازی کے ذریعے ہو۔ یہ دونوں اس میں داخل ہو گئے، جواب سمجھ میں آیا بھئی؟ کہتے ہیں وَهٰذَا التَّأْوِيْلُ قَدْ يَكُوْنُ فِيْ ضِمْنِ التَّخْصِيْصِ، اور یہ تاویل کبھی کبھار تو تخصیص کے ضمن میں ہو گی بِأَنْ يَّكُوْنَ عَامًّا يَّحْتَمِلُ التَّخْصِيْصَ، اس طور کہ وہ نص کیا ہے؟ عام ہے، کس کا احتمال رکھتی ہے؟ تخصیص کا۔ وَقَدْ يَكُوْنُ فِيْ ضِمْنِ غَيْرِهٖ، اور کبھی کبھار یہ تاویل اس کے علاوہ- تخصیص کے علاوہ کے ضمن میں ہو گی بِأَنْ يَّكُوْنَ حَقِيْقَةً، اس طور کہ وہ نص کیا ہے؟ اس کا معنی حقیقت ہے تَحْتَمِلُ الْمَجَازَ، اور احتمال کس کا رکھتا ہے؟ مجاز کا۔ فَلَا حَاجَةَ إِلٰى أَنْ يُّقَالَ عَلٰى احْتِمَالِ تَأْوِيْلٍ أَوْ تَخْصِيْصٍ كَمَا ذَكَرَهٗ غَيْرُهٗ، پس کوئی ضرورت نہیں ہے کہ یہ کہا جائے عَلٰى احْتِمَالِ تَأْوِيْلٍ أَوْ تَخْصِيْصٍ، یعنی تخصیص کے لفظ کو بڑھانے کی کوئی ضرورت نہیں كَمَا ذَكَرَهٗ غَيْرُهٗ جیسے کہ اس تخصیص کے لفظ کو ذکر کیا ہے ان کے علاوہ اور علماء نے۔ وَلَمَّا احْتَمَلَ هٰذَا الِاحْتِمَالَ النَّصُّ، جب یہ احتمال کس کے اندر ہے؟ جب یہ احتمال نص کے اندر آیا كَانَ الظَّاهِرُ الَّذِيْ هُوَ دُوْنَهٗ أَوْلٰى بِأَنْ يَّحْتَمِلَهٗ، تو وہ ظاہر جو نص سے ادنیٰ ہے وہ زیادہ لائق ہے کہ وہ بھی اس کا احتمال رکھے، تو وہاں بطریقِ اولیٰ اس کا احتمال آیا۔ یعنی جیسے نص کے اندر تخصیص اور تاویل کا احتمال ہے اسی طرح ظاہر کے اندر بطریقِ اولیٰ کیا ہے؟ تخصیص اور تاویل کا احتمال ہے۔ تو بھئی جب یہ تخصیص اور تاویل کا احتمال آ گیا پھر تو بات قطعی نہ رہی۔ بات قطعی نہ رہی، کہتے ہیں نہیں بھئی، یہ جو احتمال اور تخصیص آئی بغیر کسی دلیل کے تخصیص کا احتمال آیا اور تاویل کا احتمال آیا، یہ بغیر کسی دلیل کے ہے لہٰذا اس کا کوئی اعتبار نہیں، اس سے ان کے قطعی ہونے پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ وہ کہتے ہیں وَلٰكِنْ مِثْلُ هٰذِهِ الِاحْتِمَالَاتِ لَا تَضُرُّ بِالْقَطْعِيَّةِ، لیکن اس قسم کے احتمالات کوئی نقصان نہیں دیتے قطعی ہونے میں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ ہاں وہ احتمال جو دلیل سے پیدا ہو وہ تو کیا کرتے ہیں؟ وہ اثر ڈالیں گے، ان کا اعتبار ہو گا لیکن وہ احتمال جو بغیر دلیل کے پیدا ہو اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے بھئی۔ تو یہ قطعی ہیں اور قطعی ہی رہیں گے۔ چلیے بس مولانا! هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيْقَةِ الْكَلَامِ۔