درس نمبر۔39 وقيل إنه يسقط الاحتجاج به كالأستثناء المجهول لأن كل واحد منهما لبيان أنه لم يدخل. هذا هو المذهب الثاني وإليه ذهب الكرخي وعيسى بن أبان وهؤلاء قد فرطوا في هذا العام المخصوص البعض. وقيل إنه يسقط الاحتجاج به، اور کہا گیا ہے کہ عام کے ذریعے استدلال کرنا ساقط ہو جائے گا۔ یعنی عام سے جب بعض افراد کی تخصیص کر لی جائے تو اس صورت میں عام سرے سے قابل استدلال ہی نہیں رہے گا بھئی، دلیل ہی نہیں بنے گا بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ آگے آپ کو بتائیں گے یہ شرح میں کہ یہ دوسرا مذہب ہے۔ پہلا مذہب مولانا احناف کا آپ نے پڑھا۔ احناف کا کیا مذہب تھا؟ کہ عام غیر مخصوص البعض وہ تو قطعی ہے، لیکن عام مخصوص البعض ہے یعنی جس سے بعض افراد کی تخصیص کر لی جائے وہ وہ ظنی بن جاتا ہے۔ یعنی دلیل پھر بھی رہتا ہے، قابل استدلال پھر بھی ہے، لیکن اب قطعی نہ رہا بلکہ کیا بن گیا؟ ظنی بن گیا۔ اب یہ آج دوسرا مذہب ہم پڑھ رہے ہیں۔ دوسرا مذہب یہ ہے کہ عام سے جب بعض افراد کی تخصیص کر لی جائے تو پھر وہ سرے سے دلیل ہی نہیں بن سکتا، اس کے ذریعے استدلال کرنا ہی صحیح نہیں۔ اسی لیے کہا وقيل إنه يسقط الاحتجاج به، اور کہا گیا ہے کہ عام کے ذریعے استدلال کرنا ساقط ہو جاتا ہے۔ کب ساقط ہوتا ہے؟ بات پہلے سے چلی آ... چل رہی ہے مولانا کیا؟ کہ جب عام سے کیا کر لیا جائے؟ بعض افراد کی تخصیص کر لی جائے، تو اس وقت اس وقت اس کے ذریعے احتجاج کرنا یعنی اس کے ذریعے استدلال کرنا ساقط ہو جاتا ہے یعنی یہ سرے سے دلیل ہی نہیں رہتا كالأستثناء المجهول، جیسے کہ استثنائے مجهول ہے مولانا۔ یعنی انہوں اس مذہب والوں نے صرف استثناء کے ساتھ مشابہت کا اعتبار کیا ہے، جبکہ ہم نے استثناء اور ناسخ دونوں کے ساتھ مشابہت کا اعتبار کیا تھا بھئی۔ كالأستثناء المجهول، جیسے کہ استثنائے مجهول ہے مولانا لأن كل واحد منهما لبيان أنه لم يدخل، اس لیے کہ دونوں میں سے ہر ایک یہ بیان کرنے کے لیے آتا ہے کہ أنه لم يدخل کہ یہ جو مستثنیٰ یا جو جس کی جن افراد کی تخصیص کی گئی ہے یہ ماقبل کے اندر داخل نہیں ہے بھئی، ہاں یہ عام کے اندر داخل نہیں بھئی، یا مستثنیٰ منہ کے اندر داخل نہیں بھئی۔ دیکھیے مولانا، میں نے کہا جائني القوم إلا زيداً، میرے پاس وہ قوم آئی سوائے زید کے۔ تو یہاں میں إلا زيداً استثناء لے کر آیا مولانا، یہ مستثنیٰ ہے زيداً۔ یہ کیا بیان کرنے کے لیے ہے؟ میں نے بتلایا تھا استثناء کے اندر اول جو لفظ آتا ہے مستثنیٰ منہ اس کے اندر شروع سے ہی وہ جو جن کا استثناء کیا گیا ان کا ارادہ نہیں کیا گیا کہ وہ داخل نہیں ہیں۔ میں نے جب کہا جائني القوم، میرے پاس وہ اس وہ قوم آئی بھئی، تو کیا میرا ارادہ تھا کہ زید ان کے اندر داخل نہیں داخل ہے؟ نہیں۔ زید کے علاوہ باقی افراد مراد تھے مولانا، میری مراد کیا تھی؟ بھئی القوم کا لفظ تو ٹھیک ہے لغت کے اعتبار سے ان سب کو شامل ہے، لیکن میں صرف اپنی مراد کی بات کر رہا ہوں۔ جب میں نے کہا جائني القوم، میرے پاس وہ قوم آئی تو کیا زید بھی مراد تھا ان کے اندر؟ زید ان کے اندر مراد ہی شروع ہی سے میرا ارادہ نہیں تھا کہ کہ یعنی زید کے علاوہ افراد مراد تھے، زید کا ارادہ نہیں تھا۔ آگے إلا زيداً کہہ کر میں نے اس کی وضاحت بھی کر دی کہ اس قوم سے زید کے علاوہ افراد مراد ہیں، زید مراد... تو إلا زيداً نے آکر کیا بتلا دیا؟ یہ بیان کر دیا کہ زید ان کے اندر داخل نہیں۔ اسی طرح جب جو دلیل مخصص آتی ہے وہ بھی یہ بیان کر دیتی ہے کہ یہ جن کی تخصیص کی گئی ہے، یہ ماقبل کے اندر داخل وہ یہ بیان کر دیتی ہے۔ جیسے اللہ قرآن میں فرماتے ہیں وأحل الله البيع وحرم الربوا، یہ جب اللہ نے جو وأحل الله البيع اللہ تعالی نے بیع کو حلال قرار دیا ہے اور ربا کو حرام قرار دیا ہے، تو یہ جو وحرم الربوا آیا ہے مولانا، یہ ساتھ ملا ہوا ہے ماقبل کے ساتھ، اور جب ملا ہوا ہے اور مستقل کلام ہے تو اس کو ہم کیا کہتے ہیں؟ تخصیص کہتے ہیں، اور تخصیص بھی یہ بیان کرنے کے لیے آتی ہے کہ یہ افراد ماقبل کے اندر داخل ماقبل میں داخل نہیں، یعنی اول امر سے یہ مراد ہی نہیں ہے بیع کے اندر، اس بیع سے باقی بیوع تو مراد ہیں، بیع ربا مراد... آگے اس کی وضاحت بھی کر دی گئی کہ وحرم الربوا کہ ربا حرام ہے، وہ اس حلت کے حکم کے اندر داخل... تو جیسے استثناء یہ با... استثناء ہوتا ہے اسی طرح مخصص، استثناء بھی یہ بیان کرنے کے لیے آتا ہے کہ یہ جو مابعد ہے ماقبل میں داخل نہیں، اسی طرح دلیل مخصص بھی یہ بیان کرنے کے لیے آتی ہے کہ یہ جو مابعد ہے ماقبل کے اندر داخل نہیں، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو کہتے ہیں لأن كل واحد منهما لبيان أنه لم يدخل اس لیے کہ ان دونوں میں سے ہر ایک، کون دونوں بھئی؟ ایک استثناء اور دوسرا دلیل مخصص، یہ ان ان دونوں میں سے ہر ایک لبيان أنه لم يدخل، یہ بیان کرنے کے لیے ہے کہ یہ جو ہے اس کے اندر ماقبل کے اندر داخل نہیں۔ هذا هو المذهب الثاني، یہ ہے دوسرا مذہب وإليه ذهب الكرخي وعيسى بن أبان، اور اسی کی طرف گئے ہیں امام کرخی اور عیسیٰ ابن ابان بھئی وهؤلاء قد فرطوا في هذا العام المخصوص البعض، اور انہوں نے قد فرطوا، فرط يفرط تفریط کے معنی ہیں حد سے زیادہ کمی کرنا، اور انہوں نے حد سے زیادہ کمی کی ہے اس عام مخصوص البعض کے اندر۔ بھئی حد سے کمی کر دی، کہتے ہیں سرے سے جب تخصیص آ گئی تو سرے سے قابل استدلال ہی نہیں رہا۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ انہوں نے حد سے کمی کر دی اس کے حکم میں۔ ويقولون لا يبقى العام قابلاً للتمسك أصلاً، اور یہ کہتے ہیں کہ باقی نہیں رہے گا عام قابل تمسک بھئی سرے سے ہی، سرے سے ہی قابل استدلال ہو کر باقی نہیں رہے گا یہ عام بھئی سواًء كان المخصوص معلوماً، برابر ہے کہ وہ مخصوص معلوم ہو، مخصوص معلوم ہونے کا کیا معنی بھئی؟ یعنی اس کی مراد معلوم ہو، کیا ہو؟ اس کی مراد معلوم ہو كما إذا قيل، جیسے کہ کہا جائے... دیکھو مخصوص معلوم اور مخصص مجہول کی مثال ذکر کرنے لگے ہیں كما إذا قيل، جیسے کہ کہا جائے اقتلوا المشركين ولا تقتلوا أهل الذمة، مشرکین کو قتل کرو اور اہل ذمہ کو قتل نہ کرو بھئی۔ تو اقتلوا المشركين، یہ عام آیا مولانا مشرکین ولا تقتلوا أهل الذمة، یہ کیا ہو گئی؟ تخصیص، یہ دلیل مخصص ہے مولانا، اس نے کیا بتلایا؟ کہ اہل ذمہ کو قتل نہ کرو یعنی ذمیوں کو یعنی وہ کافر اور مشرک جو مسلمانوں کے وطن میں رہتے ہیں اور جزیہ دیتے ہیں ان کو قتل نہ کرو بھئی۔ تو اس دلیل دیکھو اہل ذمی بھئی، اہل ذمہ یعنی ذمی، ذمی معلوم ہیں یا نہیں بھئی؟ جی؟ معلوم ہیں جو دارالاسلام میں رہتے ہیں اور جزیہ ادا کرتے ہیں۔ تو ان کی تخصیص کر دی گئی، ان کو قتل نہ کرو، معلوم ہوا اقتلوا المشركين سے ان کے علاوہ باقی جو مشرکین ہیں وہ مراد ہیں اور یہ اہل ذمہ جو مشرک ہیں یہ اس سے مراد نہیں، اب دیکھو یہ دلیل مخصص جو آئی اس کی مراد معلوم ہے کہ کون سے مشرکوں کو قتل نہیں کرنا؟ جو اہل ذمہ ہیں۔ أو مجهولاً، یا وہ مخصص معلوم کیا ہو؟ وہ مخصوص مجہول ہو یعنی اس کی مراد مجہول ہو كما إذا قيل، جیسے کہ کہا جائے اقتلوا المشركين ولا تقتلوا بعضهم، مشرکین کو قتل کرو ولا تقتلوا بعضهم، اور ان میں سے بعض کو قتل نہ کرو، اب کن بعض کو قتل نہ کریں بھئی؟ یہ دلیل مخصص کیا ہو گئی؟ مجہول، یعنی اس کی مراد مجہول ہو گئی کون سے مراد ہیں مشرکین؟ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ وشبهوه بالأستثناء فقط، اور انہوں نے اس کو مشابہ بنایا ہے استثناء کے ساتھ فقط، انہوں نے تشبیہ دی ہے اس کو استثناء کے ساتھ فقط لأنهم لم يراعوا جانب الصيغة، اس لیے کہ انہوں نے رعایت نہیں رکھی صیغہ کی جانب کی بل اعتبروا المعنى فقط، بلکہ انہوں نے اعتبار کیا ہے معنی کا صرف، انہوں نے صرف کس کا اعتبار کیا ہے؟ معنی کا۔ بھئی بتلایا تھا صیغے کے اعتبار سے مخصص ناسخ کے مشابہ ہے۔ صیغے کے اعتبار سے مخصص یعنی دلیل مخصص کس کے مشابہ ہے؟ ناسخ کے، کیسے مشابہ ہے؟ جیسے ناسخ مستقل ہوتا ہے، پورا کلام ہوتا ہے، اس سے فائدہ تام ہوتا ہے، اسی طرح دلیل مخصص بھی کیا ہوتی ہے؟ مستقل ہوتی ہے، کلام تام ہوتی ہے۔ صیغے کے اعتبار سے جو یہ مخصص ہے وہ ناسخ کی طرح ہوتا ہے اور معنی کے اعتبار سے یعنی حکم کے اعتبار سے کس کی طرح ہے؟ استثناء کی طرح، یعنی جیسے استثناء یہ بیان کرتا ہے کہ مابعد ماقبل میں داخل نہیں، اسی طرح دلیل مخصص بھی یہ بیان کرتی ہے کہ یہ جو مابعد ہے ماقبل کے اندر داخل نہیں۔ تو انہوں نے رعایت صیغہ کی جانب کی رعایت نہیں رکھی بل اعتبروا المعنى فقط، بلکہ انہوں نے صرف معنی کا اعتبار کیا ہے وهو عدم الدخول، اور وہ معنی کیا ہے؟ عدم دخول ہے، کہ یعنی یہ ماقبل میں داخل... جیسے استثناء عدم دخول کے کے بیان کے لیے آتا ہے، اسی طرح مخصص بھی عدم دخول کے بیان کے لیے آتا ہے۔ وإنما، یہاں سے ایک سوال کا جواب بھئی، سوال یہ بھئی کہ ٹھیک ہے جب دلیل مخصص مجہول ہو تو پھر تو اس کو اوپر کیا آیا تھا متن میں؟ كالأستثناء المجهول، جیسے کس کی طرح؟ جیسے کہ استثنائے مجہول ہے مولانا۔ سوال یہ پیدا ہوا کہ بھئی ٹھیک ہے جب مخصص مجہول ہو پھر تو اس کو استثنائے مجہول کے ساتھ تشبیہ دینا ٹھیک ہے، لیکن جب مخصص معلوم ہو پھر اس کو کیسے مستثنیٰ... استثنائے مجہول کے ساتھ آپ تشبیہ دیتے ہیں؟ سوال سمجھ میں آیا؟ انہوں نے کہا وہ مخصص معلوم ہوگا یا مجہول ہوگا اور اس کی تشبیہ کس کے ساتھ ہے؟ استثنائے مجہول کے ساتھ۔ بھئی ٹھیک ہے، جب مخصص مجہول تو استثنائے مجہول کی طرح یہ ہو گیا، یہ بات تو ہے، دونوں کیا ہیں؟ مجہول ہیں۔ لیکن اگر مخصص معلوم ہو تو پھر کیسے آپ کہتے ہیں یہ کس کی طرح ہے؟ استثنائے مجہول کی طرح ہے، پھر کیسے مجہول ہوگا؟ بتلانے لگے ہیں وإنما شبهوه بالأستثناء المجهول، اور انہوں نے اس کو مشابہ بنایا ہے اس کی تشبیہ دی ہے یا مشابہ بنایا ہے استثنائے مجہول کے ساتھ... یوں کہیں، انہوں نے تشبیہ دی ہے اس کو استثنائے مجہول کے ساتھ لأنه إذا كان دليل الخصوص مجهولاً فظاهر، اس لیے کہ جب دلیل خصوص مجہول ہو پھر تو بات ظاہر ہے أنه كال مجهول، کہ یہ کس کی طرح ہوا مخصص؟ مستثنیٰ استثنائے مجہول کی طرح، یہ دلیل مخصص اس میں مجہول، اور کس کی طرح ہوا؟ استثنائے مجہول کی طرح ہوا۔ تو اور آپ نے پڑھا ہے مولانا، جب استثناء مجہول کا ہوا کہ بعض معلوم ہوا بعض مجہول افراد کو کیا کیا جا رہا ہے حکم سے؟ نکالا جا رہا ہے، جب نکالے گئے افراد مجہول ہیں تو باقی رہنے والے بھی کیا ہو گئے؟ مجہول ہو گئے، لہذا وہ بھی وہاں پر بھی اب عام اب قطعی نہ رہے گا، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ وإن كان معلوماً، اور اگر دلیل مخصص کیا ہو یعنی وہ مخصوص کیا ہو؟ معلوم ہو فبالتعليل يصير مجهولاً، تو تعلیل کی وجہ سے کیا ہو جائے گا؟ تعلیل کی وجہ سے مجہول ہو جائے گا۔ دیکھو بھئی دلیل مخصص مستقل ہے یا غیر مستقل بھئی؟ وہ مستقل ہوتی ہے آپ نے پڑھا ہے کلام ہو، مستقل ہو اور موصول ہو۔ تو تک دلیل مخصص مستقل کلام ہے، مستقل ہے، اور ہر مستقل کیا کر لیا کرتا ہے؟ تعلیل کو قبول کر لیتا ہے، اور اصل بھی کیا ہے احکام شرعیہ کے اندر؟ جی؟ ہاں، اصل بھی نصوص کے اندر ہے کہ وہ تعلیل کو قبول کر لیتے ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو لہذا یہ جو مخصص ہے یہ بھی مستقل ہے، یہ بھی تعلیل کو قبول کر لیتا ہے، اور جب یہ تعلیل کو قبول کرے گا تو پھر اس صورت میں اب نکلنے والے افراد بھی مجہول ہوئے، نکلنے والے افراد مجہول ہو گئے، اور جب جب نکلنے والے افراد مجہول ہوئے تو باقی رہنے والے افراد بھی کیا ہو گئے؟ مجہول ہو گئے، مثلاً بھئی وہی مثال میں نے ذکر کی تھی، مثلاً میں کہتا ہوں: "درجہ رابعہ والوں کو انعام دیا جائے اور زید، عمر، بکر کو انعام نہ دیا جائے"۔ اب دیکھیے، یہاں کیا ہیں؟ دلیل مخصص کیا ہے؟ معلوم المراد ہے، کون کتنے افراد مراد ہیں اس سے بھئی؟ تین، زید، عمر اور بکر کو میں نے نکالا ہے درجہ رابعہ والوں کے حکم سے، اور ان کے لیے کیا حکم تھا درجہ رابعہ والوں کے لیے؟ کہ انہیں کیا دیا جائے؟ انہیں انعام دیا جائے، اب ان تین کو افراد کو نکالا گیا ہے، اور یہ کلام مستقل ہے: "زید، عمر، بکر کو انعام نہ دیا جائے"، یہ مستقل کلام ہے اور ہر مستقل کیا ہوتا ہے تعلیل کو قبول کر لیتا ہے، یعنی اس کی کوئی علت بیان کی جا سکتی ہے، علت ہوگی کوئی، لہذا جب اس کی علت پر آپ نے غور کیا کیا وجہ ہے، ان کو کیوں اس حکم سے نکالا گیا ہے؟ تو آپ کو پتہ لگا کہ یہ محنت نہیں کرتے بھئی، محنت نہیں کرتے۔ تو دیکھو اب یہی علت کسی اور فرد میں آپ کو ملتی ہے تو آپ کیا کر سکتے ہیں؟ اس کو بھی نکال سکتے ہیں۔ تو لہذا نکلنے والے افراد مجہول ہو گئے مولانا، کتنے افراد نکلیں گے پتہ نہیں، جب نکلنے والے افراد مجہول ہیں تو باقی رہنے والے بھی... مثلاً فرض کرو درجہ رابعہ میں اگر 20 افراد ہیں، تو یہ تین یہ نکل گئے، باقی کتنے رہ جاتے؟ 17، لیکن تعلیل کو جب اس نے قبول کر لیا اب کچھ اور افراد بھی نکلیں گے، اب پتہ نہیں کتنے نکلیں گے، اور کتنے جب نکلنے والے مجہول ہوئے تو باقی رہنے والے بھی کیا ہو گئے؟ اگر نکلنے والوں کا پتہ ہوتا 5 نکلیں گے تو پتہ لگتا باقی 15 ہیں، نکلنے والے کا اگر پتہ ہوتا 7 نکلیں گے تو باقی رہنے والے کتنے ہیں؟ 13 افراد، لیکن یہاں نکلنے والے ہی جب مجہول ہیں تو باقی رہنے والے بھی کیا ہو گئے؟ مجہول۔ میں نے اور آپ کو میں نے یہ بھی بتلایا تھا کہ بھئی یہ تو پھر آپ کہیں گے کہ یہ تو علم ہو جائے گا، پتہ دیکھ لیا جائے گا، جو جو محنت نہیں کرتا اس کو کیا کر لیا جائے گا؟ نکال دیا جائے گا، مثلاً وہ دو یا تین اور افراد ہوں گے، لکھ تو لہذا ان کو بھی ساتھ ملا لیں گے، تو پتہ لگ جائے گا کہ مثلاً 7 افراد نکل گئے اور کتنے رہ گئے؟ 13۔ میں نے کہا تھا نہیں، پھر بھی پتہ نہیں لگ سکتا، کیونکہ ہو سکتا ہے صرف یہی ایک علت نہ ہو ان کو ان سے وہ ان کو ان کے اس حکم کی، بلکہ ہو سکتا ہے اور بھی کوئی علت ہو بھئی، سمجھ میں آیا؟ کیونکہ ایک ہی حکم کی بعض اوقات کیا ہوتا ہے ایک کے بجائے کئی کئی علتیں ہیں، تو ہو سکتا ہے ان تین کے جو بارے میں جو میں نے کہا کہ انہیں انعام نہ دو، ہو سکتا ہے صرف یہ علت نہ ہو کہ وہ محنت نہیں کرتے، بلکہ ہو سکتا ہے اس کے ساتھ اور بھی دو یا تین یا چار اور بھی علتیں ہوں بھئی، ہو سکتا ہے آپ کے علم میں ہی نہ آئی ہوں، تو اور اس کی وجہ سے جب سمجھ میں آیا بھئی؟ تو پوری طرح نکلنے والے اور باقی رہنے والے افراد کا علم نہیں ہو سکتا، بات سمجھ میں آئی کہ نہیں آئی سمجھ میں بھئی؟ جی، تو ایک حکم کی کیا ہو سکتی ہیں؟ کئی علتیں ہو سکتی ہیں، لہذا نکلنے والے افراد مجہول ہوئے اور جب نکلنے والے افراد مجہول ہوئے تو باقی رہنے والے افراد بھی کیا ہو گئے؟ مجہول ہو گئے۔ تو کہتے ہیں وإن كان معلوماً فبالتعليل يصير مجهولاً، اور اگر وہ مخصوص معلوم ہو تو تعلیل کی وجہ سے کیا ہو جائے گا؟ مجہول ہو جائے گا، اور جب مجہول ہو گیا تو پھر کس کی طرح ہوا؟ استثنائے مجہول کی طرح ہو گیا بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ معلوم ہو پھر بھی تعلیل کی وجہ سے کس کیا ہو جائے گا؟ مجہول ہو جائے گا، اور جب مجہول ہوا تو کس کی طرح ہو گیا؟ استثنائے مجہول، تو لہذا مخصوص چاہے معلوم ہو چاہے مجہول ہو، دونوں صورتوں میں وہ کس کی طرح ہے؟ استثنائے مجہول کی طرح ہے۔ کہتے ہیں وإن كان الأستثناء في نفسه مما لا يقبل التعليل، اگرچہ استثناء اپنی ذات کے اعتبار سے مما ان چیزوں میں سے ہے لا يقبل التعليل جو تعلیل کو قبول نہیں کرتے۔ اس لیے کیونکہ وہ مستقل نہیں ہے مولانا۔ الا زیداً، الا زیداً یہ استثناء ہے مولانا اور یہ مستقل ہی نہیں ہے۔ جب مستقل نہیں ہے تو پھر یہ تعلیل کو بھی قبول نہیں کرے گا۔ مستقل ہو تو پھر وہ تعلیل کو قبول کرتا ہے۔ تو کہتے ہیں اگرچہ استثناء اپنی ذات کے اعتبار سے تعلـ... ان چیزوں میں سے ہے جن وہ جو تعلیل کو قبول نہیں کرتے لیکن یہ مخصص تو مستقل ہے، یہ تو تعلیل کو قبول کرے گا اور جب تعلیل کو قبول کرے گا تو کس کی طرح ہو جائے گا مستـ... استثناء مجهول کی طرح۔ فصار كالبيع المضاف إلى حر وعبد بثمن واحد، پس یہ ہو گیا کلـ... کل بیع، اس بیع کی طرح المضاف إلى حر وعبد جس کی نسبت کی گئی ہے آزاد اور غلام کی طرف بثمن واحد ایک ہی ثمن کے بدلے، ایک ہی ثمن کے ساتھ یا ایک ہی ثمن کے بدلے۔ پس یہ ہو گیا اس بیع کی طرح جس کی نسبت کی گئی ہے آزاد اور غلام کی طرف ایک ہی ثمن کے بدلے تشبيه لدليل هذا المذهب بمسألة فقهية مذكورة۔ بھئی انہوں نے پہلے بتلایا تھا کہ مصنف کیا کریں گے؟ تینوں مذاہب بیان کریں گے اور ہر ایک کی تشبیہ دیں گے ایک مسئلہ فقہیہ کے ساتھ۔ تو یہ دوسرا مذہب بیان ہوا، اب اس کی تشبیہ دے رہے ہیں کس کے ساتھ؟ ایک مسئلہ فقہیہ کے ساتھ۔ تو کہتے ہیں تشبيه لدليل هذا المذهب بمسألة فقهية مذكورة، یہ تشبیہ ہے اس مذہب کی دلیل کی ایک ایسـ... ایسے فققہـ... مسلـ... فققہـ... مسئلہ فقہیہ کے ساتھ جو مذکور ہے، جس کو ذکر کیا گیا۔ فإنه إذا باع العبد والحر بثمن واحد، اس لیے کہ جب اس نے بیچا یعنی بائع نے جب بیچا آزاد اـ... غلام اور آزاد کو بثمن واحد ایک ہی ثمن کے بدلے بان يقول باعتہما بالالف، یوں کہ وہ یوں کہتا ہے: "بعتھما بالألف"، میں نے ان دونوں کو بیچا ہزار کے بدلے۔ فالحر لا يدخل في البيع، تو آزاد بیع کے اندر داخل نہیں ہو گا کیونکہ آزاد تو کیا ہے؟ مال ہی نہیں، وہ مبیع بن ہی نہیں سکتا۔ فيكون استثناء وبيعا للعبد بالحصة من الألف، تو یہ استثناء ہوا اور بیع للعبد ہوئی مولانا، بیع للعبد بالحصہ ہوئی غلام کی بیع بالحصہ ہوئی من الألف کس میں سے؟ ہزار میں سے۔ بھئی دیکھیے! آزاد تو کیا ہے بیع کے اندر داخل ہی نہیں، یہ استثناء کی طرح ہوا۔ اور غلام کے اندر بیع اب کیا بن جائے گی؟ بیع بالحصہ بن جائے گی ہزار میں سے، کیونکہ دونوں کے ثمن کتنے ذکر ہوئے تھے؟ ایک ہزار، تو اب کیا کیا جائے گا؟ اس آزاد کو بھی غلام فرض کر کے اس کی الگ قیمت لگوائیں گے اور غلام کی الگ قیمت۔ مثلاً فرض کرو اس آزاد کو اگر یہ غلام ہو سکتا تو اس کی قیمت بازار میں 700 ہوتی۔ یہ جو غلام ہے اس کی بھی قیمت پتہ کروائی، یہ بھی کتنی ہے؟ 700۔ معلوم ہوا ان دونوں کی قیمت کیا ہے؟ برابر۔ جب برابر ہے تو ثمن کے اندر ان کا حصہ بھی کیا ہو گا؟ برابر برابر ہو گا۔ لہٰذا معلوم ہوا ہزار میں سے 500 کس کے بدلے ہے؟ غلام کے بدلے، اور 500 کس کے مقابلے میں ہے؟ آزاد کے مقابلے میں۔ تو لہٰذا اب غلام کے اس ہزار میں سے کتنے ہو گئے؟ 500۔ تو یہ بیع بالحصہ ہوئی، کیا ہوئی بیع بالـ... بیع بالحصہ ہوئی اور ابتداءً ہی ہوئی۔ ابتداءً، شروع سے ہی کیا ہو گئی یہ بیع بال حصـ... بالحصہ، کیونکہ شروع سے ہی وہ اـ... غلام آزاد جو تھا وہ بیع کے اندر داخل نہیں، تو لہٰذا شروع سے ہی کیا ہو گا؟ غلام کی بیع بالحصہ ماننی پڑے گی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اور بیع بالحصہ آپ نے پڑھا ہے کہ کیا ہے؟ درست نہیں ہے، کس وجہ سے؟ جہالت ثمن کی وجہ سے۔ بھئی ہاں، بعد میں آپ نکال لیتے ہیں، پتہ کروا لیتے ہیں قیمت وغیرہ کا اور پھر نکالتے ہیں اس کی 500 بنی، بھئی وہ تو بعد کی بات ہے، فی الحال بیع کے وقت ثمن معلوم ہے یا مجهول بھئی؟ فی الحال مجهول ہیں مولانا، تو یہ بیع بالحصہ ہوئی ہزار میں سے اور ابتداءً ہوئی۔ تو کہتے ہیں فيكون استثناء وبيعا للعبد بالحصة من الألف ابتداءً، تو یہ استثناء ہوا اور غلام کی بیع بالـ... بالحصہ ہوئی ہزار میں سے ابتدائی طور پر۔ فالحر لا يدخل ابتداءً، تو آزاد جو ہے وہ داخل ہی نہیں ہو گا شروع سے۔ وهو باطل، "ھو" ضمیر راجع ہے مولانا بیع بالحصہ کو۔ وهو باطل لجهالة الثمن، اور بیع بالحصہ جو ہے وہ باطل ہے ثمن کے مجهول ہونے کی وجہ سے۔ جی، بخلاف ما إذا فصل الثمن، دوسری صورت مولانا کہ بھئی وہ بیچنے والے نے دونوں کی الگ الگ قیمت ابـ... الگ الگ ثمن ذکر کر دیے کہ یہ یہ دونوں میں نے آپ کو ہزار روپے میں بیچے، اس میں سے اس کے بھی ثمن کتنے ہیں؟ 500، دوسرے کے بھی ثمن کتنے ہیں؟ اب تو کیا ہو گیا؟ ثمن غلام کے معلوم ہوئے یا نہیں ہوئے؟ تو اب بیع بالحصہ نہیں بنے گی بلکہ اب ثمن اس کے معلوم ہیں۔ پھر کیا ہو گا؟ آگے بتلائیں گے آپ کو مولانا، اگر دونوں کے ثمن الگ الگ بھی ساتھ ذکر کر دیتا ہے، تو اس صورت میں صاحبین کے نزدیک غلام کے اندر بیع صحیح ہو جائے گی۔ صاحبین کیا فرماتے ہیں؟ صاحبین فرماتے ہیں اس صورت میں آزاد کے اندر تو بیع نہیں ہوئی، لیکن اـ... غلام کے اندر کیا ہو جائے گی بیع صحیح ہو جائے گی۔ اس لیے کیونکہ وہ فرماتے ہیں کہ "الفساد بقدر المفسد" بھئی، فساد بقدر مفسد ہو گا مولانا۔ فساد بقدر مفسد، یعنی جـ... جو چیز خرابی پیدا کرنے والی ہے اسی کے بقدر خرابی آئے گی، ساری بیع خراب نہیں ہو گی، ساری بیع فاسد نہیں ہو گی۔ اور خرابی صرف کس کے اندر آ رہی تھی؟ کس کی بیع میں آ رہی تھی خرابی؟ آزاد، کیونکہ وہ سرے سے مال ہی نہیں ہے۔ لہٰذا صرف وہ بیع جو ہے وہ باطل ہو گی جبکہ غلام کی بیع کی طرف اس کے یہ فساد متعدی نہیں ہو گا کیونکہ ابھی ضابطہ بتلایا: کیا؟ "الفساد بقدر المفسد" بھئی، تو غلام کی بیع صحیح ہو جائے گی۔ یہ کس کے نزدیک؟ صاحبین رحمہما اللہ کے نزدیک۔ جبکہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نہیں، چاہے دونوں کے الگ الگ ثمن بھی ذکر کر دے پھر بھی بیع دونوں کے اندر درست نہیں ہے بھئی، غلام کے اندر پھر بھی بیع صحیح نہیں ہو گی۔ وجہ یہ؟ وہ جو ضابطہ پیچھے ذکر کیا مولانا: "لجعل قبول ما ليس بمبيع شرطاً لقبول المبيع"، کہ مبیع کو قبول کرنے کے لیے کیا کر دیا گیا؟ غیر مبیع کے قبول کرنے کی شرط لگا دی گئی۔ اور مبیع کو قبول کرنے کے لیے غیر مبیع کو قبول کرنے کی شرط لگانا، یہ شرط فاسد ہے۔ یہ مقتضائے عقد کے خلاف ہے، اور جو شرط مقتضائے عقد کے خلاف ہو اس کی وجہ سے بیع فاسد ہو جاتی ہے، شرط بھی فاسد اور بیع بھی فاسد ہو جاتی ہے بھئی۔ بخلاف ما إذا... فصل الثمن، بخلاف اس کے کہ جب کیا کر دیا ثمن کی تفصیل بیان کر دی بان يقول بعت هذا بخمس مائة وهذا بخمس مائة، کہ میں نے بیچا یہ والا 100 500 کے بدلے میں اور یہ والا 500 کے بدلے میں۔ فإنه يجوز عندهما، تو یہ جائز ہے صاحبین رحمہما اللہ کے نزدیک خلافا لأبي حنيفة رحمه الله تعالى رحمة واسعة، بخلاف امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے لجعل قبول ما ليس بمبيع شرطاً لقبول المبيع، بوجہ کر دینے غیر مبیع کے قبول کو شرط، غیر مبیع کے قبول کو شرط بنا دینے کی وجہ سے لقبول المبيع مبیع کو قبول کرنے کے لیے، مبیع کو قبول کرنے کے لیے غیر مبیع کو قبول کرنے کو شرط بنا دینے کی وجہ سے۔ وقيل إنه يبقى كما كان اعتباراً بالناسخ، اور جی، اب یہ تیسرا مذہب ذکر ہو رہا ہے بھئی۔ پہلا مذہب کیا ذکر ہوا تھا؟ کہ ہمارے نزدیک کہ جب کیا ہو؟ عام سے بعض افراد کی تخصیص کر لی جائے تو پھر وہ قطعی نہیں رہتا بلکہ کیا بن جاتا ہے؟ ظنی بن جاتا ہے۔ دوسرا مذہب یہ بیان ہوا، وہ کہتے تھے: نہیں بھئی، جب عام سے بعض افراد کی تخصیص کر لی جائے تو پھر وہ سرے سے دلیل ہی نہیں رہتا۔ اب تیسرا مذہب بیان کرنے لگے ہیں۔ تیسرے مذہب والے یہ کہتے ہیں بھئی کہ عام سے جب بعض افراد کی تخصیص کر لی جائے تو پھر بھی وہ پہلے ہی کی طرح قطعی رہتا ہے۔ کوئی اس میں فرق نہیں پڑتا، جیسے پہلے تخصیص سے پہلے قطعی تھا، تخصیص کے بعد بھی کیا ہوتا ہے؟ قطعی۔ تو دوسرا مذہب کیا تھا؟ کہ تخصیص کے بعد وہ سرے سے دلیل ہی نہیں رہتا۔ تیسرا مذہب کیا ہے؟ کہ جیسے پہلے قطعی تھا، بعد میں بھی تخصیص کے بعد بھی وہ عام کیا رہے گا؟ قطعی۔ جبکہ ہمارا مذہب بین بین تھا بھئی کہ نہ پہلے کی طرح قطعی اور نہ ہی یہ کہ سرے سے دلیل ہی نہ رہے، دلیل تو رہے گا لیکن اب قطعی نہ رہے گا بلکہ کیا بن جائے گا؟ ظنی بن جائے گا۔ وقيل، اور کہا گیا ہے کہ إنه يبقى كما كان اعتباراً بالناسخ، کہ یہ عام باقی رہے گا جیسے کہ وہ تھا اعتبار کرتے ہوئے کس کے ساتھ؟ ناسخ کے ساتھ۔ لأن كل واحد منهما مستقل بنفسه، اس لیے کہ ان دونوں میں سے ہر ایک مستقل ہے اپنی ذات کے اعتبار سے، جیسے ناسخ مستقل کلام ہوتا ہے اسی طرح دلیل مخصص بھی کیا ہے؟ مستقل ہے۔ بخلاف الاستثناء، بخلاف کس کے؟ استثناء کے، کیونکہ استثناء مستقل نہیں ہوتا مولانا، "الا زیداً"، یہ مستقل کلام ہے کوئی پورا؟ نہیں، کسی کے سامنے سارا دن بھی آپ "الا زیداً"، "الا زیداً" کہیں، اسے کچھ سمجھ میں نہیں آئے گا کیونکہ یہ بات ہی پوری نہیں ہے بھئی، مستقل کلام نہیں۔ یہ تو ماقبل کے لیے کیا ہوتی ہے؟ قید ہوتی ہے، یہ استثناء ماقبل کے لیے قید ہوتی ہے۔ هذا هو المذهب الثالث، یہ تیسرا مذہب ہے۔ فهؤلاء قد أفرطوا في حق العام بإبقائه قطعيًا كما كان، پس ان لوگوں نے، ان علماء نے قد أفرطوا، تحقیق حد سے تجاوز کیا في حق العام، عام کے حق میں بإبقائه قطعيًا، اس کو باقی رکھتے ہوئے قطعی اس حال میں کہ وہ قطعی ہے كما كان، جیسے کہ وہ تھا۔ جیسے کہ وہ تھا اسی طرح قطعی اس کو باقی رکھتے ہوئے انہوں نے حد سے تجاوز کیا بھئی۔ پہلے والوں نے کیا کیا تھا؟ تخصیص کے بعد عام کے حکم میں حد سے زیادہ کمی کر دی تھی اور کہا تھا وہ سرے سے دلیل ہی نہیں رہتا، اور انہوں نے تیسرے مذہب والوں نے حد سے زیادی کر دی، کہا جیسے پہلے قطعی تھا تخصیص کے بعد بھی قطعی رہے گا اسی طرح، اس میں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ وشبهوه بالناسخ فقط، اور تشبیہ دی ہے اس کو انہوں نے ناسخ کے ساتھ صرف من حيث استقلال الصيغة، صیغے کے مستقل ہونے کی حیثیت سے ولم يلتفتوا إلى مراعاة جانب الاستثناء قط، اور انہوں نے توجہ نہیں کی استثناء کی جانب کی رعایت کی طرف بالکل بھی۔ اس کی طرف بالکل توجہ نہیں کی بھئی، حالانکہ ہم نے بتلایا دونوں کے ساتھ مشابہت ہے، دونوں کی رعایت رکھنی چاہیے۔ اچھا، اب بتلا رہے ہیں مولانا کہ مستقل کیسے رہے گا بھئی؟ کہتے ہیں فإن كان دليل الخصوص معلوماً فظاهر أن الناسخ المعلوم لا يؤثر في تغيير ما بقي من الأفراد الغير المنسوخة، دیکھیے مولانا پہلے بات سمجھ لیجیے۔ ابھی بات ہوئی مولانا کہ وہ مخصوص جو ہے یعنی وہ مخصـ... وہ دلیل مخصص جو ہے یوں کہیں، دلیل مخصص معلوم ہو گی یا کیا ہو گی؟ مجهول، یعنی اس کی مراد معلوم ہو گی یا مجهول۔ مثلاً میں کہتا ہوں بھئی: یغفر اللہ... درجہ رابعہ والوں کو انعام دیا جائے۔ کچھ دیر بعد یا اگلے دن میں نے کہا بھئی: زیـ... زید اور عمر اور بکر کو انعام نہ دیا جائے بھئی۔ اب یہ تین بھی درجہ رابعہ والے ہیں، اب میرا کلام مستقل ہے لیکن ماقبل کلام کے ساتھ ملا ہوا ہے یا الگ ہے؟ الگ ہے، جب الگ ہے تو اب اس کو مخصص کہیں گے یا ناسخ کہیں گے؟ اس کو ناسخ کہیں گے، ناسخ الگ ہوتا ہے مولانا۔ اب یہ ناسخ معـ... معلوم المراد ہے یا غیر معلوم المراد ہے؟ معلوم المراد ہے، کون کون افراد ہیں اس میں ذکر؟ زید، عمر اور بکر۔ تو زید اور عمر، زید، عمر اور بکر ان کے لیے تو حکم کیا ہوا؟ ان کو انعام نہ دیا جائے، اور درجہ رابعہ والے کل کتنے تھے؟ 20 تھے، ان تین کو نکالا باقی کتنے رہ گئے؟ 17، اور ان 17 کا حکم اسی طرح قطعی رہے گا۔ ان کا حکم کیا رہے گا؟ قطعی، پہلے کیا تھا ان کا حکم؟ جیسے پہلے قطعی تھا اب بھی جو باقی افراد ہیں ان میں حکم قطعی رہے گا کہ ان سب کو کیا کیا جائے گا؟ انعام دیا جائے گا۔ سمجھ میں آیا؟ تو ناسخ جب معلوم ہو گا، یعنی اس کی مراد جب معلوم ہو گی تو باقی افراد پر وہ کوئی اثر نہیں ڈالتا، باقی افراد میں جیسے حکم پہلے قطعی تھا اب بھی کیا رہے گا؟ قطعی رہے گا، دیکھو! اگر یہ ناسخ نہ ہوتا، میں نے کہا درجہ رابعہ والوں کو انعام دیا جائے، تو یہ مولانا عام ہے مولانا، درجہ رابعہ والے طلباء، یہ کیا ہے؟ عام۔ ان کے لیے کیا حکم بیان ہوا؟ انہیں انعام دیا جائے، تو اس عام میں کوئی تخصیص کی گئی ہے کہ تخصیص نہیں کی گئی؟ تخصـ... تخصیص نہیں کی گئی، تو یہ کون سا عام ہوا؟ عام غیر مخصوص البعض، اور عام غیر مخصوص البعض کیا ہوتا ہے؟ قطعی ہوتا ہے، تو جـ... اب یہ قطعی ہے مولانا، پھر ناسخ کے ذریعے کیا کر دیا گیا؟ تین افراد نکال دیے گئے، تو تین افراد تو نکل گئے لیکن باقی 17 میں وہ حکم اب بھی کیا ہے؟ قطعی ہے، باقی 17 کو وہ اب بھی شامل ہے، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو کہتے ہیں فإن كان دليل الخصوص معلوماً، اگر خصوص کی دلیل معلوم ہو یعنی اگر اس کی مراد معلوم ہو فظاهر أن الناسخ المعلوم لا يؤثر في تغيير ما بقي من الأفراد الغير المنسوخة، پس ظاہر یہ ہے کہ وہ ناسخ جو معلوم ہے وہ اثر نہیں ڈالتا في تغيير ما بقي من الأفراد الغير المنسوخة، ماـ... جو باقی غیر منسوخہ افراد ہیں ان کے بدلنے میں یہ کوئی اثر نہیں ڈالتا بھئی، وہ اسی طرح رہتے ہیں حکم ان کے لیے اسی طرح رہتا ہے۔ وإن كان مجهولاً، اور اگر ناسخ کیا ہو؟ مجهول ہو مولانا، اگر ناسخ کیا ہو؟ مجهول ہو مولانا، یعنی اگر اس کی مراد کیا ہو؟ مجهول ہو، تو آپ نے پڑھا ہے بھئی: مجهول کسی چیز کا فائدہ نہیں دیتا، لہٰذا وہ ناسخ سرے سے دلیل ہی نہیں بنے گا۔ بھئی ناسخ تو کیا کرتا ہے؟ بعض افراد جن کے لیے پہلے حکم ثابت تھا، اب ان کے مقابل آ کر اس حکم کو کیا کر دیتا ہے ان سے؟ اٹھا دیتا ہے۔ کیا کرتا ہے؟ جیسے میں نے پہلے کہا تھا درجہ رابعہ والوں کو انعام دیا جائے، تو ان میں زید، عمر، بکر بھی تھے ان کے درجہ رابعہ والوں میں، ان کے لیے بھی کیا حکم ثابت ہو چکا تھا؟ ان کو انعام دیا جائے، اب میں نے جب بعد میں کہا کہ زید، عمر اور بکر کو انعام نہ دیا جائے تو وہ افراد، وہ تین افراد زید، عمر، بکر جن کے لیے پہلے حکم انعام دینے کا ثابت تھا اب یہ دلیل اس کے مقابل آئی، سمجھ میں آیا؟ تو ان کے لیے پہلے وہ حکم ثابت تھا اب اس دلیل نے آ کر کیا کر دیا؟ ان کو اس حکم سے نکال دیا، یہـ... سمجھ میں آیا؟ تو کس طریقے پر نکالا؟ اس حکم کے مقابلے میں یہ دلیل آ گئی، اس کے مقابلے میں آئی، اس کے ٹکر کی ہے مولانا۔ تو اس کے مقابلے میں آتی ہے، اس سے معارض ہوتی ہے اور بطور معارضہ کے مولانا بطور مقابلہ کے ان افراد کو کیا کر دیتی ہے اس حکم سے؟ نکال دیتی ہے، اور جب یہ مجهول ہے تو مجهول ہے تو پھر مجهول تو سرے سے دلیل ہی نہیں بن سکتا، جب دلیل ہی نہیں بن سکتا تو معارضہ کہاں ہو سکے گا کہ وہ معارض ہو اور معارض ہو کر کیا کرے؟ افراد کو نکالے۔ بھئی بات چل رہی ہے نا کہ ناسخ جب کیا ہو؟ مجهول ہو، جب مجهول ہو وہ کسی چیز کا فائدہ نہیں، جب فائدہ نہیں دے سکتا تو یہ دلیل بھی، یہ دلیل بھی نہیں بنے گا، جب دلیل نہیں بنے گا تو پھر معارض کیسے ہو گا؟ ہم نے تو کہا تھا ناسخ کیا بنتا ہے؟ بطور معارضہ کے کیا کرتا ہے حکم کو بعض افراد سے... بعض افراد کو حکم سے نکال دیتا ہے، تو یہ معارضہ ہی نہیں کر سکتا، یہ سرے سے دلیل ہی نہیں بن سکتی، دلیل تو بنے پھر معارضہ بھی ہو سکے گا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ ناسخ پھر ناسخ بن ہی نہیں سکے گا، لہٰذا یہ خود ہی ساقط ہو جائے گا۔ اگر یہ مقصود... یہ ناسخ کیا ہو مجهول المراد ہو تو خود ہی کیا ہو جائے گا؟ ساقط ہو جائے گا۔ اسی طرح بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو کہتے ہیں وإن كان مجهولاً فالناسخ المجهول يسقط بنفسه ولا تؤثر جهالته في تغيير ما قبله، اور اگر ناسخ مجهول ہو تو ناسخ مجهول خود ساقط ہو جاتا ہے ولا تؤثر جهالته، اور مؤثر... اثر نہیں ڈالتی اس کی جہالت یعنی اس کا مجهول ہونا اثر نہیں ڈالتا في تغيير ما قبله ماقبل کے بدلنے میں، ماقبل کے بدلنے میں کوئی اثر نہیں ڈالتا بھئی، یہ خود ساقط ہو گیا بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی یہاں تک بھئی؟ فشارہ کما اذا باع عبدین وھلک احدھما قبل التسلیم پس یہ ہو گیا جیسے کہ بیچا ہو کسی بیچنے والے نے دو غلاموں کو اور ہلاک ہو گیا ان دونوں میں سے کوئی ایک قبل التسلیم یہ سپرد کرنے سے پہلے۔ بھئی ایک شخص نے دو غلاموں کو بیچا اور اکھٹی بیچی ایک ہی جاب کے ساتھ ان کی کہ یہ دونوں غلام میں نے آپ کو ایک ہزار درہم میں فروخت کر دیئے بھئی۔ پھر ایسا ہوا کہ ان میں سے ایک غلام ابھی مشتری کے حوالے نہیں کیا تھے کہ ایک کا پہلے انتقال ہو گیا بھئی۔ ایک کا پہلے اب ایک غلام اس کے حوالے کرتا ہے۔ کیا کرتا ہے؟ ایک غلام اس کے حوالے کرتا ہے تو گویا ایک غلام اب تو اس کا انتقال ہو گیا اب تو اس کے سپرد کرنے پر یہ قادر ہی نہیں ہے تو گویا یہ ہو گیا جیسے ایک غلام کے اندر گویا کہ بیع کو کیا کر دیا گیا؟ منسوخ کر دیا گیا۔ کیا کر دیا گیا؟ منسوخ کر دیا گیا۔ ایک غلام کو حوالے کیا مولانا اور ایک غلام کے بھی ثمن کیا تھے؟ بھئی دونوں کے الگ الگ ثمن ذکر کیے تھے فرض کرو۔ دونوں کے الگ الگ ثمن ذکر نہیں کیے تھے جب دونوں کے الگ الگ ثمن ذکر نہیں کیے تھے تو صرف اس غلام کے اندر بیع باقی ہے مولانا اور اس کی پھر کیسے نکالیں گے بھئی؟ اس میں بیع بالحصہ ہو جائے گی اس غلام کے اندر بیع بالحصہ ہوگی۔ لیکن یہ بیع بالحصہ ابتداً ہے یا بقااً؟ بقااً شروع میں تو بیع بالحصہ نہیں تھی شروع میں تو دونوں غلام درست تھے اور ان کی بیع ہوئی تھی، ان کا عقد ہوا تھا، بعد میں اب بیع بالحصہ ہوئی، لیکن بقا کے اعتبار سے ہوئی لہٰذا اس میں کوئی خرابی نہیں یہ درست ہو جائے گی بھئی۔ تشبیہ لدلیل ھذا المذہب بمسألت فقہیۃ مذکورۃ یہ تشبیہ ہے اس مسلک کی دلیل کی ایسے مسئلہ کے ساتھ ایسے مسئلہ فقہیہ کے ساتھ جس کو ذکر کیا گیا فانہ اذا باع عبدین بثمن واحد پس اس لیے کہ جب بیچنے والے نے بیچا دو غلاموں کو ایک ہی ثمن کے بدلے بیں قال بعتھما باالف بیں تور کہ اس نے یوں کہا میں نے ان دونوں کو بیچ دیا ہزار کے بدلے وما مات احد العبدین قبل التسلیم اور مر گیا دو غلاموں دونوں غلاموں میں سے ایک قبل التسلیم سپرد کرنے سے پہلے یبقی البیع فی الآخر بحصۃ من الالفت تو باقی رہے گی بیع دوسرے کے اندر بحصۃ من الالفت۔ کتنے کے بدلے؟ الف میں سے اس کے الف میں سے اس کے حصے کے بدلے لانہ بیع بالحصۃ بقان اس لیے کیونکہ یہ بیع بالحصۃ ہے بقان تو اس میں بیع باقی رہے گی اس میں بیع فاسد ہاں بیع بالحصۃ ہوتی ابتداً تو بیع نے کیا ہو جانا تھا؟ فاسد ہونا تھا لیکن چونکہ یہ بیع بالحصۃ بقان ہے اس لیے اس غلام کے اندر بیع باقی رہے گی بھئی۔ فکأنہ نسخ البیع فی العبد المیت بعد انعقادہ وہو جائز پس گویا کہ منسوخ کر دی گئی بیع اس مرنے والے غلام کے اندر بعد اس بیع کے منعقد ہو جانے کے اور یہ جائز بھئی یہ جائز ہے کہ جائز نہیں ہے دو آدمی ہیں آپس میں عقد کر رہے ہیں دو چیزوں کا اکٹھا عقد کیا، بعد میں ایک کے اندر عقد کو منسوخ کرتے ہیں صحیح منسوخ کر سکتے ہیں یا نہیں کر سکتے؟ کر سکتے ہیں ان دونوں کے درمیان آپس میں بیع ہوئی ہے اس کو کیا کر سکتے ہیں؟ ایک کے اندر عقد کو منسوخ کر سکتے ہیں تو یہاں بھی اسی طرح گویا کہ منسوخ کر دی گئی بیع اس ایک غلام میں جو مر چکا ہے۔ وھا ھنا مذہب رابع مذکور فی التوضیح وغیرہ اور یہاں پر ایک چوتھا مذہب بھی ہے جس کو ذکر کیا گیا ہے توضیح اور دوسری کتابوں کے اندر ولم یذکرہ المصنف رحمہ اللہ اور اس کو ذکر نہیں کیا المصنف رحمہ اللہ نے۔ بھئی تین مذاہب اب تک آپ نے پڑھ لیے اور ہر ایک کی تشبیہ بھی دے دی ایک مسئلہ فقہیہ کے ساتھ بھئی۔ پہلا مذہب احناف کا بیان ہوا کہ عند احناف تخصیص کے بعد عام کیا ہے؟ ظنی بن جاتا ہے یعنی پھر بھی دلیل رہتا ہے اس کے ذریعے استدلال کرنا صحیح ہے۔ جبکہ دوسرا مذہب یہ بیان ہوا کہ تخصیص کے بعد عام سرے سے دلیل ہی نہیں رہتا اور تیسرا مذہب یہ پڑھا کہ عام تخصیص کے بعد بھی اسی طرح قطعی رہتا ہے جس طرح پہلے قطعی تھا۔ اب بتلا رہے ہیں شارع کہ یہاں ایک چوتھا مذہب بھی ہے بھئی۔ یہ چوتھے مذہب والے یہ کہتے ہیں کہ دلیل اا خصوص جو ہے یعنی وہ مخصص وہ معلوم ہوگا یا مجھول بھئی۔ اگر وہ مجھول ہے اگر وہ مخصص کیا ہے؟ مجھول ہے تو عام وہ تخصیص کے بعد سرے سے دلیل ہی نہیں رہے گا۔ اگر وہ مخصص کیا ہو؟ مجھول ہو۔ اور اگر وہ مخصص معلوم ہے تو پھر عام جیسے پہلے قطعی تھا اب بھی کیا رہے گا؟ قطعی رہے گا۔ بات سمجھ میں آگئی؟ دوبارہ سنو اب چوتھا مذہب تینوں کو ذہن میں رکھو تو چوتھے کا فرق خود بخود واضح ہو جاتا ہے بھئی عند احناف مخصص چاہے معلوم ہو چاہے مجھول ہو دونوں صورتوں میں تخصیص کے بعد عام کیا ہوتا ہے؟ ظنی۔ دوسرے مذہب والے کہتے ہیں مخصص چاہے معلوم ہو چاہے مجھول ہو دونوں صورتوں کے اندر تخصیص کے بعد عام کیا بن جائے گا؟ سرے سے دلیل ہی نہیں رہے گا۔ تیسرے مذہب والے کہتے ہیں چاہے مخصص معلوم ہو چاہے مخصص مجھول ہو دونوں صورتوں میں تخصیص کے بعد عام کیا ہوگا؟ قطعی رہے گا۔ چوتھے مذہب والے کہتے ہیں اگر مخصص مجھول ہو تو اور حکم مخصص معلوم ہو تو اور حکم مخصص مجھول ہے تو سرے سے دلیل ہی نہیں بنے گا اور اگر مخصص معلوم ہو تو پھر جیسے پہلے قطعی تھا اب بھی کیا رہے گا؟ قطعی رہے گا۔ اب فرق سمجھ میں آگیا بھئی؟ تو پہلے والے مخصوص معلوم ہو یا مجھول ایک ہی حکم لگاتے تھے پہلے تینوں مذاہب میں اسی طرح تھا جبکہ یہ فرق کرتے ہیں مجھول ہو تو سرے سے دلیل ہی نہیں رہے گا اور اگر معلوم ہو تو پھر قطعی رہے گا۔ چوتھا مذہب یہ ہے مولانا وھو ان دلیل الخصوص ان کان مجھولا یسقط الاحتجاج بہ کہ اگر دلیل الخصوص اگر وہ مجھول ہو تو ساقط ہو جائے گا عام کے ذریعے استدلال کرنا علی ما قالہ الام امام کرخی ابن اور اس کے جو کہا ہے امام کرخی نے امام کرخی رحمہ اللہ نے وان کان معلوم اور اگر وہ دلیل خصوص جو ہے وہ معلوم ہو فکاستثناء تو یہ کس کی طرح ہے؟ استثنا بھئی دلیل خصوص اگر مجھول ہو۔ دلیل خصوص کیا ہے؟ مجھول ہو مولانا تو یہ یہ بھی اسی استثنا کی طرح ہے اگر معلوم ہو پھر بھی کس کی طرح ہے؟ استثنا کی طرح اگر مجھول ہو۔ پہلی صورت کیا ذکر ہوئی؟ مجھول مولانا اگر مخصص کیا ہو؟ مجھول ہو اس اس وقت یہ استثنا کی طرح ہے جیسے اگر مستثنیٰ مجھول ہو۔ معلوم ہوا نکلنے والے افراد مجھول ہیں تو باقی رہنے والے افراد بھی کیا ہو گئے؟ مجھول۔ اسی طرح اگر مخصص مجھول ہے یعنی اس کی مراد مجھول ہے تو باقی رہنے والے افراد بھی کیا ہو گئے؟ مجھول ہوئے جب مجھول ہوئے تو عام سرے سے قابل استدلال ہی نہ رہا۔ اور اگر کیا ہو؟ اگر مخصص معلوم ہو پھر بھی یہ استثنا کی طرح ہے۔ جیسے استثنا کے اندر بعض معلوم افراد کو نکال دیا جائے تو باقی افراد کیا ہیں اسی طرح ان وہ حکم ان کے لیے قطعی رہتا ہے مثلاً میں نے کہا درجہ رابعہ والوں کو انعام دیا جائے سوائے زید، عمر، بکر کے استثنا کی صورت بنائی سوائے زید، عمر، بکر کے زید، عمر، بکر تو تین نکل گئے لیکن باقیوں پر ان تین کے نکلنے نے کوئی اثر ڈالا؟ باقیوں میں حکم اسی طرح رہا سمجھ میں آئی بات بھئی؟ تو جیسے پہلے قطعی تھا اب باقی افراد میں عام اسی طرح قطعی رہے گا۔ بات سمجھ اس سب کو سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو کہے دوبارہ دیکھیے وھو ان دلیل الخصوص ان کان مجھولاً یسقط الاحتجاج بہ علی ما قالہ الکرخی اور وہ یہ مولانا کہ دلیل الخصوص اگر وہ مجھول ہو تو ساقط ہو جائے گا اس کے ذریعے استدلال کرنا بناء بر اس کے جو کہا ہے امام کرخی نے امام کرخی رحمہ اللہ نے وان کان معلوم اور اگر دلیل خصوص معلوم ہو تو استثنائی اور اگر دلیل خصوص معلوم ہو تو استثنا کی طرح ہے وھو لایقبل التعلیلا اور استثنا تعلیل کو قبول نہیں کرتا تو لہٰذا یہ بھی اسی کی طرح ہو گئی تعلیل کو قبول نہیں کرے گا فبقی العام قطعی تو عام کیا ہے؟ باقی رہے گا قطعی ہو کر علی ما قب علی ما کان قبل ذالک جیسے کہ وہ تھا اس سے پہلے جیسے کہ وہ اس سے پہلے تھا بھئی۔ ولما فرغ المصنف رحمہ اللہ عن بیان تخصیص العام شروع فی ذکر الفاظہ اور جب مصنف رحمہ اللہ فارغ ہوئے عام کی تخصیص کے بیان سے تو شروع ہوئے اس کے الفاظ کے ذکر کرنے میں اب کیا کرنے لگے ہیں مصنف؟ عام کے الفاظ ذکر کرنے لگے ہیں فقام تو مصنف فرماتے ہیں والعموم اما ان یکون بالصیغت والمعنی او بالمعنی لا غیر کرجال و قوم کہ عموم یا تو صیغہ اور معنی دونوں کے ذریعے ہوگا اور بالمعنی لا غیر یا معنی کے ذریعے ہوگا اس کے علاوہ کے ذریعے نہیں یعنی صیغے کے ذریعے نہیں ہوگا۔ بھئی دیکھیے عموم جو ہے عموم کی دو قسمیں بیان کریں گے عموم بھئی یا تو لفظ اور معنی دونوں کے ذریعے عموم ہوگا۔ لفظ صیغے اور معنی دونوں کے ذریعے عموم ہوگا یعنی وہ صیغہ بھی وضع کے اعتبار سے شمول پر دلالت کرے گا۔ وہ صیغہ بھی کیا ہوگا؟ توجہ سے سننا بھئی۔ وہ صیغہ بھی وضع کے اعتبار سے کس پر دلالت کرے گا؟ شمول پر دلالت کرے گا یعنی وہ صیغہ جمع کا ہوگا۔ صیغہ کس چیز کا ہوگا؟ مسلمون یہ وضع کے اعتبار سے کس پر دلالت کر رہا ہے؟ شمول پر کم از کم کتنے افراد ہوں گے اس کے؟ تین افراد ہوں گے تو یہ مسلمون صیغہ ہی جمع کا ہے یہ بہ اعتبار وضع ہی کس چیز پر دلالت کر رہا ہے؟ شمول پر دلالت کر رہا ہے۔ اور معنی اور اس کا معنی جو ہوگا وہ اپنے افراد کا استیعاب کرنے والا ہے۔ کیا کرنے والا ہے؟ یعنی بھئی اس صیغے سے جو معنی سمجھ میں آرہا ہے اس مسلمون سے جو معنی سمجھ میں آرہا ہے وہ معنی بھی کیا ہے؟ اس میں بھی عموم ہے وہ بھی اپنے افراد کا احاطہ کرنے والا ہے۔ کیا کرنے والا ہے؟ توجہ ہے سبق کی طرف بھئی؟ تو اس صیغے کے اندر بھی عموم ہے اور معنی کے اندر بھی عموم ہے صیغے کے اندر عموم ہونے کا کیا معنی کہ وہ وضع ہی اعتبار وضعی کے کس پر دلالت کرے؟ شمول پر یعنی صیغہ ہی کس چیز کا ہو؟ جمع کا ہو جب صیغہ جمع کا ہے تو اس سے جو معنی سمجھ میں آئے گا وہ معنی بھی کیا کرے گا اپنے افراد کا احاطہ کرے گا ان سب کو شامل ہوگا بات سمجھ میں آگئی بھئی؟ یا کبھی کبھار صیغہ تو جمع کا نہیں ہے صیغہ تو مفرد کا ہوگا لیکن معنی جو ہے وہ شمول پر دلالت کرے گا وہ اپنے افراد کا احاطہ کرے گا جیسے قوم کا لفظ مولانا قوم کا لفظ اب قوم کا لفظ مفرد ہے۔ کیونکہ اس کی تثنیہ آتی ہے اور جمع آتی ہے قوم تثنیہ کیا آئے گی؟ قومانی اور جمع کیا آئے گی؟ اقوام بھئی معلوم ہوا یہ صیغہ کون سا ہے؟ مفرد کا ہے اس کی تثنیہ اور جمع آتی ہے۔ لیکن قوم کا لفظ کم از کم کتنے افراد پر بولا جاتا ہے؟ تین تین سے لے کر دس تک کے افراد پر اس کا اطلاق ہوتا ہے جبکہ سارے مرد ہوں اس کا اطلاق صرف مردوں پر ہوتا ہے بھئی سمجھ میں آیا؟ تو تین سے لے کر دس افراد تک بھئی اب دیکھو قوم کا لفظ صیغے کے اعتبار سے مفرد ہے مولانا لیکن معنی کے اعتبار سے یہ شمول اس کا معنی اپنے افراد کا احاطہ کر رہا ہے شمول شمول ہے اس معنی کے اندر کیا ہے؟ شمول ہے مولانا معنی میں شمول ہے۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو کبھی کبھار کیا ہوگا؟ عموم صیغہ اور معنی دونوں کے اعتبار سے ہوگا اور کبھی عموم صرف معنی کے اعتبار سے ہوگا صیغے کے اعتبار سے تو کہتے ہیں وھو عموم اما ان یکون بالصیغت والمعنی عموم جو ہے وہ یا تو صیغے اور معنی کے ذریعے ہوگا اور بالمعنی لا غیر یا معنی کے ذریعے ہوگا اس کے علاوہ کے ذریعے نہیں یعنی صیغے کے ذریعے نہیں ہوگا کرجال و قوم جیسے کہ رجال اور قوم۔ رجال کس کی مثال ہے؟ پہلی قسم کی جو صیغہ اور معنی دونوں اعتبار سے کس پر دلالت کر رہا ہے؟ شمول پر دونوں میں شمول ہے۔ اور قوم کون سی قسم کی مثال ہے؟ دوسری قسم جو لفظ صیغہ تو مفرد ہے لیکن معنی میں معنی میں شمول ہے۔ یعنی ان العام علی نوعین یعنی عام دو قسم پر ہے احدهما ما تكون الصيغة والمعنى كلاهما عاما دالا على الشمول ایک قسم تو یہ ہے کہ صیغہ اور معنی دونوں عام ہوں دلالت کرنے والے ہوں شمول پر بین تكون الصيغة صيغة الجمع بعيد طور کہ صیغہ کون سا صیغہ ہو؟ صیغہ جو ہے وہ جمع کا صیغہ ہو والمعنی مستوعبا فی الفہم منہ اور معنی استیعاب کرنے والا ہو یعنی احاطہ کرنے والا ہو فی الفہم منہ اس لفظ سے سمجھے جانے میں (یعنی اس لفظ سے جو معنی سمجھ میں آرہا ہے جو معنی سمجھا گیا ہے وہ بھی کیا کرنے والا ہے؟ اپنے افراد کا احاطہ کرنے والا ہے ان سب کو شامل ہے۔) والاخر دوسری قسم یہ ہے کہ الا تكون الصيغة دالة على العموم کہ صیغہ جو ہے وہ عموم پر دلالت کرنے والا نہ ہو ويكون المعنى مدلولا بالاستیعاب اور معنی کیا ہو وہ مدلول بالاستیعاب ہے یعنی وہ اس صیغے کا مدلول ہے استیعاب کے ساتھ یعنی شمول کے ساتھ وہ معنی کیا کر رہا ہے افراد کو شامل ہے۔ ولا يتصور عكسه اور اس کا عکس کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ پہلی قسم کیا ذکر کی تھی؟ صیغہ ابھی میں بھی عموم اور معنی میں بھی عموم۔ دوسری قسم کیا ذکر کی؟ معنی میں تو عموم ہے صیغے کے اندر عموم نہیں۔ تیسری قسم اس کا عکس کرو ذرا۔ صیغے میں عموم ہو۔ معنی کے اندر عموم نہ ہو۔ یہ نہیں ہو سکتا بھئی اس لیے کہ جب صیغہ عام ہوگا تو وہ یقیناً اس کا معنی بھی عام ہوگا۔ صورت سمجھ میں آرہی ہے بھئی؟ پہلی قسم کیا ذکر ہوئی؟ صیغہ بھی عام ہو اس میں بھی عموم ہو اور معنی کے اندر بھی۔ دوسری کیا ذکر ہوئی؟ معنی میں تو عموم ہو صیغے میں عموم نہ ہو۔ تیسری قسم اس کا عکس کرو ذرا۔ صیغے میں عموم ہو معنی کے اندر عموم نہ ہو۔ یہ نہیں ہو سکتا بھئی اس لیے کہ جب صیغے میں عموم ہے تو وہ معنی میں بھی کیا ہوگا اس کے عموم ہوگا۔ ورنہ لازم آئے گا کہ معنی کو خالی کر لیا گیا صیغے سے۔ یعنی صیغہ تو ہے عموم والا اور معنی عموم والا یعنی اس معنی سے اس صیغے کو خالی کر دیا گیا ہے۔ اس معنی سے اس صیغے کو کیا کر دیا گیا ہے؟ خالی کر دیا گیا ہے۔ اور یہ درست نہیں۔ مثلاً مولانا الرجال کا لفظ میں بولتا ہوں اور اس سے میری خاص جماعت زید، عمر، بکر اور خالد بس۔ زید، عمر، بکر اور خالد آپ نے پڑھا تو قوم کا اطلاق کتنے پر ہوتا ہے؟ تین سے لے کر دس تک تو یہ میں نے قوم کا لفظ کہا اور اس سے مراد کون کون ہیں؟ زید، عمر، بکر اور خالد۔ تو اب میں قوم کا لفظ بولوں اور اس سے صرف ایک مراد لے لوں۔ یہ درست ہوگا؟ اس سے صرف ایک فرد ہو ایک فرد پر دلالت کرے بھئی قوم کا لفظ نہیں بھئی یہ درست نہیں ہے۔ یہ کیا کرے گا اس کا معنی کیا ہوگا؟ افراد کو شامل ہوگا ایک فرد نہیں ہو سکتا بھئی۔ صورت سمجھ میں آرہی ہے بھئی؟ ورنہ تو کیا خرابی لازم آئے گی؟ کہ صیغہ تو ہے اور اس جی؟ معنی میں عموم یہ تو بلکہ کون سی مثال بن گئی یہ تو؟ جمع والی مثال بناؤ نا۔ جیسے الرجال مولانا میں کیا کہتا ہوں؟ مثلاً میں الرجال کہتا ہوں اور اس سے میری مراد خاص رجال زید، عمر، بکر اور خالد ہیں۔ اب میں الرجال صیغہ جمع کا بولوں اور اس سے مراد کیا ہو؟ صرف ایک کون؟ زید تو الرجال لفظوں کے صیغے کے اعتبار سے یہ کس پر دلالت کر رہا ہے؟ عموم پر، جب عموم پے، صیغے کے اعتبار سے، صيغے میں عموم ہے تو لازمی بات ہے معنی کے اندر بھی کیا ہوگا؟ عموم ہوگا بھئی عموم ہوگا۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ معنی کے اندر عموم نہ ہو مولانا، سمجھ میں آیا بھئی؟ ہاں، تخصیص کے ذریعہ ہو سکتا ہے لیکن تخصیص اور چیز ہے، مثلاً میں کہتا ہوں: جَاءَنِی الرِّجَالُ، میرے پاس وہ مرد آئے اور اس سے کون کون مراد ہیں؟ زید، عمر، بکر اور خالد۔ میں کہتا ہوں: جَاءَنِی الرِّجَالُ اِلَّا زَیْدًا وَعَمْرًا وَخَالِدًا۔ کتنے افراد مراد تھے؟ چار: زید، عمر، بکر اور خالد، تو اب کتنے رہ گئے تین جب میں نے استثنا، تخصیص، کیا کر دیا؟ استثنا کر دیا، کتنے رہ گئے؟ ایک فرد رہ گیا۔ تو اب صیغے کو ہم نے گویا کہ معنی سے خالی کر دیا، صیغہ تو جمع کا ہے لیکن مراد کتنے ہیں؟ ایک ہی فرد مراد ہے لیکن یہ تو استثنا کے ذریعہ ہوا یا اسی طرح مخصص کے ذریعہ ہوگا، تو استثنا اور تخصیص کے ذریعہ وہ الگ بات ہے مولانا، وہ الگ مسئلہ ہے، ویسے خود "الرجال" کا صیغہ ہو اور اس کے معنی میں عموم نہ ہو ایسا صحیح نہیں، ایسا نہیں ہو سکتا، بات سمجھ میں آگئی؟ تو کہتے ہیں: "وَلاَ یُتَصَوَّرُ عَکْسُہُ" اور اس کے عکس کا تصور نہیں کیا جا سکتا، "لِاَنَّ اِخْلاَءَ الْمَعْنٰی عَنِ اللَّفْظِ الْعَامِّ الْمَوْضُوْعِ غَیْرُ مَعْقُوْلٍ" اس لیے کیونکہ خالی کرنا معنی کو ایسے لفظ عام سے جس کو وضع کیا گیا ہو، یہ "غَیْرُ مَعْقُوْلٍ" یہ غیر معقول بات ہے، عقل میں آنے والی نہیں ہے کہ صیغہ تو جمع کا ہو اور معنی میں عموم اور شمول نہ ہو۔ سمجھ میں آیا؟ لفظ کو خالی کرنا معنی سے، یہ نہیں ہو سکتا، "اِلَّا بِالتَّخْصِیْصِ" مگر کس کے ذریعہ؟ تخصیص وغیرہ، استثنا کے ذریعہ اور "وَذٰلِکَ شَیْئٌ اٰخَرُ" اور یہ اور، تخصیص کے ذریعہ خالی کرنا اور چیز ہے بھئی۔ "فَالْاَوَّلُ مِثَالُہُ رِجَالٌ وَنِسَاءٌ" اور جو پہلا ہے اس کی مثال: "رِجَالٌ وَنِسَاءٌ"، رجال اور نساء، پہلا کون سا؟ صیغے میں بھی شمول پر دلالت کرے اور معنی میں بھی کیا ہو؟ شمول ہو۔ جیسے "رِجَالٌ وَنِسَاءٌ وَغَیْرُہُمَا مِنَ الْجُمُوْعِ الْمُنَکَّرَةِ وَالْمُعَرَّفَةِ وَالْقِلَّةِ وَالْکَثْرَةِ" اور اس کے علاوہ جو جمعیں ہیں، منکر، جو جمع منکر ہیں یا جمع معرف، یعنی معرفہ بنائی ہوئی، "وَالْقِلَّةِ وَالْکَثْرَةِ" اور جمع قلة اور کثرت، "ولٰکِنْ فِی الْقِلَّةِ مِنَ الثَّلٰثَةِ اِلَی الْعَشَرَةِ" لیکن قلة کے اندر، جمع قلة کے اندر تین سے لے کر 10 تک افراد ہوں گے بھئی۔ بھئی دیکھیے، میں نے آپ کو بتلایا تھا: ایک جمع قلة ہے، ایک جمع کثرت ہے مولانا۔ جمع، جمع قلة کا اطلاق کتنے پر ہوتا ہے؟ تین سے لے کر 10 تک بھئی، اور جمع کثرت کا اطلاق، میں نے بتلایا تھا 11 سے لے کر ما لا نہایة تک اور عند البعض 10 سے لے کر ما لا نہایة، یعنی تین سے لے کر 10 تک یہ کس کے افراد ہیں؟ جمع قلة کے اور عند البعض 11 سے لے کر ما لا نہایة تک، یہ کس کے افراد ہیں؟ یہ جمع کثرت کے اور عند البعض 10 سے لے کر ما لا نہایة تک، یہ کس کے افراد ہیں؟ جی؟ جمع کثرت کے، سمجھ میں آیا؟ تو معلوم ہوا یہ 10 جمع قلة کے افراد میں سے بھی ہے اور جمع کثرت کے، جبکہ بعض علماء نے فر، بعض علماء فرماتے ہیں کہ نہیں، جمع قلة کی ابتدا جیسے تین سے ہے، جمع کثرت کی ابتدا بھی کس سے ہے؟ تین ہی سے ہے، ہاں البتہ جمع قلة کی انتہا 10 پر ہو جاتی ہے جبکہ جمع قلة، جمع کثرت کی انتہا نہیں، وہ الیٰ ما لا نہایة تک بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی بھئی؟ وہی بات اب ذکر کرنے لگے ہیں۔ "ولٰکِنْ فِی الْقِلَّةِ مِنَ الثَّلٰثَةِ اِلَی الْعَشَرَةِ" لیکن جمع قلة کے اندر تین سے لے کر 10 تک "وَفِی الْکَثْرَةِ قِیْلَ مِنَ الثَّلٰثَةِ وَقِیْلَ مِنَ الْعَشَرَةِ" اور جمع کثرت کے اندر کہا گیا ہے تین سے لے کر "وَقِیْلَ مِنَ الْعَشَرَةِ" اور کہا گیا ہے 10 سے لے کر "اِلٰی مَا لاَ یَتَنَاہٰی" غیر متناہی تک بھئی، غیر متناہی تک۔ "لٰکِنَّ ھٰذَا مُخْتَارُ فَخْرِ الْاِسْلَامِ" کہتے ہیں: لیکن یہ ال، علامہ فخر الاسلام کا پسندیدہ مذہب ہے۔ یعنی منکر، جمع منکر کا عام میں سے ہونا، یہ کس کا م، پسندیدہ مذہب ہے؟ علامہ فخر الاسلام کا۔ بھئی دیکھیے، جمع منکر جو ہے وہ اپنے افراد کا است، احاطہ نہیں کرتی، مثلاً میں کہتا ہوں: "رِجَالٌ"، "رِجَالٌ" تو مراد ہے کچھ لوگ، کچھ مرد، کچھ مرد، یہ کیونکہ نکرہ ہے۔ ہاں، میں کہتا ہوں: "اَلرِّجَالُ"، "اَلرِّجَالُ" تو یاد رکھیے، پھر اس صورت میں اگر کوئی متعین جم، مرد مراد نہیں ہے تو یہ استغراق کا فائدہ دے گا۔ کس چیز کا فائدہ دے گا؟ استغراق کا فائدہ دے گا اور تمام افرادِ رجل اس سے مراد ہوں گے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو جمع معرف استغراق کا فائدہ دیتی ہے، تمام افراد کا احاطہ کر لیتی ہے، جبکہ جمع منکر کیا ہے؟ وہ استغراق کا فائدہ نہیں دیتی۔ تو لہٰذا، علامہ فخر الاسلام کے نزدیک، ان کے نزدیک عام کے لیے ضروری نہیں ہے کہ وہ اپنے تمام افراد کا احاطہ کرے، تو جمع منکر بھی تمام افراد کا احاطہ نہیں کرتی اور ان کے نزدیک شرط بھی نہیں ہے تمام افراد کا احاطہ، لہٰذا جمع منکر عام کی قبیل سے ہوئی، جبکہ بعض علماء کا مذہب یہ ہے مولانا کہ عام کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے تمام افراد کا احاطہ کرے۔ عام کے لیے کیا ضروری ہے؟ تمام، تو لہٰذا جن کے نزدیک احاطہ ضروری ہے ان کے نزدیک جمع منکر عام کے افراد میں سے نہیں، کیونکہ عام کے لیے تو کیا ضروری تھا؟ تمام افراد کا احاطہ کرے، تو "الرجال" یہ تو اپنے تمام افراد کا احاطہ کرے گا، لیکن صرف "رجال" یہ اپنے تمام افراد کا احاطہ نہیں کرتا، لہٰذا ان کے نزدیک "الرجال" یہ تو عام کے افراد میں سے ہے، یہ تو عام ہے، لیکن "رجال" یہ عام نہیں ہے، کیونکہ یہ احاطہ نہیں کر رہا اپنے افراد کا، حالانکہ عام کے لیے کیا ضروری تھا؟ وہ اپنے تمام افراد کا احاطہ، جبکہ علامہ فخر الاسلام کے نزدیک عام کے لیے ضروری نہیں کہ وہ اپنے افراد کا احاطہ کرے، جب اس میں ضروری نہیں ہے اپنے افراد کا احاطہ کرنا تو جمع منکر بھی کیا ہوا؟ عام ہوا، کیونکہ یہ افراد کو شامل ہے اور عام کس کو کہتے ہیں؟ جو افراد کو شامل ہو، اس میں احاطہ نہیں ضروری بھئی۔ کہتے ہیں: "لٰکِنَّ ھٰذَا مُخْتَارُ فَخْرِ الْاِسْلَامِ" لیکن یہ مذہب پسندیدہ امام، علامہ فخر الاسلام کا، "لِاَنَّہُ لاَ یَشْتَرِطُ الاِسْتِیْعَابَ فِی مَعْنَی الْعَامِّ" اس لیے کیونکہ وہ شرط نہیں لگاتے استیعاب کی، استیعاب کا کیا معنی؟ احاطہ کرنا تمام افراد کا، اس لیے کیونکہ وہ تمام افراد کے احاطے کی شرط نہیں لگاتے "فِی مَعْنَی الْعَامِّ" عام کے معنی میں، "بَلْ یَکْفِیْ بِانْتِظَامِ جَمْعٍ مِنَ الْمُسَمَّیَاتِ" بلکہ کافی ہے مسمیات، افراد مولانا، جمعٍ، مجموعہ بھئی، افراد میں سے مجموعے کا ملحوظ ہونا کافی ہے، انتظام کا معنی ملحوظ ہونا، "بَلْ یَکْفِیْ بِانْتِظَامِ جَمْعٍ مِنَ الْمُسَمَّیَاتِ" بلکہ کافی ہے ملحوظ ہونا افراد میں سے جماعت کا، یعنی اس عام کے اندر افراد میں سے ایک جماعت ملحوظ ہونی چاہیے بھئی، اس جماعت کو وہ شامل ہونا چاہیے، جماعت کو، تو "رجال" چاہے نکرہ ہی کیوں نہیں ہے لیکن شامل کس کو ہے؟ تین یا تین سے زیادہ کچھ افراد کو شامل ہے، تو یہ مجموعے کو کیا ہوا؟ شامل ہوا، اپنے افراد کے مجموعے کو شامل ہوا۔ بس ان کے نزدیک یہ کافی ہے۔ "وَاَمَّا عِنْدَ مَنْ یَّشْتَرِطُ الاِسْتِیْعَابَ وَالاِسْتِغْرَاقَ فِیْہِ" اور باقی وہ علماء جو شرط لگاتے ہیں استیعاب کی اور استغراق کی عام کے اندر، "یَکُوْنُ الْجَمْعُ الْمُنَکَّرُ وَاسِطَةً بَیْنَ الْخَاصِّ وَالْعَامِّ عَلٰی مَا ذُکِرَ فِی التَّوْضِیْحِ" ان کے نزدیک جمع منکر جو ہے، وہ واسطہ ہے خاص اور عام کے درمیان، بناء بر اس کے جو کہ ذکر کیا گیا توضیح کے اندر بھئی۔ بھئی ان کے نزدیک، جو اف، جو علماء کیا کرتے ہیں عام کے اندر کیا شرط لگاتے ہیں؟ کہ وہ اپنے تمام افراد کا احاطہ کرنے والا ہو، ان کے نزدیک جمع منکر عام نہیں، کیونکہ یہ اپنے تمام افراد کا احاطہ اور خاص بھی نہیں ہے، کیونکہ خاص کس کو کہتے تھے؟ جو افراد پر دلالت، وہ، وہ تو افراد پر دلالت نہیں کرتا تھا، سمجھ میں آئی بات بھئی؟ تو لہٰذا خاص بھی نہیں اور عام بھی نہیں، تو یہ واسطہ ہوا، یعنی ان کے درمیان کی ایک چیز ہوا، نہ خاص، نہ عام بھئی۔ "وَالْاٰخَرُ مِثَالُہُ قَوْمٌ وَرَہْطٌ" اور دوسری قسم جو عام کی ہے اس کی مثال جو ہے: "قَوْمٌ وَرَہْطٌ"، قوم اور رہط ہے، "فَاِنَّ الْقَوْمَ صِیْغَتُہُ صِیْغَةُ مُفْرَدٍ" اس لیے کہ قوم اس کا صیغہ جو ہے مفرد کا صیغہ ہے "بِدَلِیْلِ اَنَّہُ یُثَنّٰی وَیُجْمَعُ" اس دلیل کہ اس کی تس، اس کو تثنیہ بنایا جاتا ہے "وَیُجْمَعُ" اور اس کو جمع بنایا جاتا ہے، "یُقَالُ قَوْمَانِ وَاَقْوَامٌ" کہا جاتا ہے تثنیہ میں "قَوْمَانِ" اور جمع میں کیا کہتے ہیں؟ "اَقْوَامٌ"، "ولٰکِنَّ مَعْنَاہُ مَعْنَی الْعَامِّ" لیکن لیکن اس کا معنی جو ہے وہ عام والا معنی ہے، لفظ صیغۃً تو نہیں عام والا، لیکن معنی کیا ہے؟ عام والا، "لِاَنَّہُ یُطْلَقُ عَلَی الثَّلٰثَةِ اِلَی الْعَشَرَةِ" اس لیے کیونکہ اس کا اطلاق ہوتا ہے تین سے لے کر 10 تک، "کَمَا اَنَّ الرَّہْطَ یُطْلَقُ اِلَی التِّسْعَةِ" جیسے کہ رہط کا اطلاق ہوتا ہے نو تک، رہط کا اطلاق تین سے نو تک اور قوم کا اطلاق تین سے 10 تک ہوتا ہے اور پھر مردوں پر بھئی، عورتیں شامل نہیں۔ "وَلٰکِنْ یُشْتَرَطُ فِی اِطْلَاقِ لَفْظِ الْقَوْمِ اَنْ تَکُوْنَ الْاٰحَادُ مُجْتَمِعَةً" لیکن شرط لگائی گئی ہے قوم کے لفظ کے اطلاق کے اندر کہ "اَنْ تَکُوْنَ الْاٰحَادُ مُجْتَمِعَةً" آحاد یعنی افراد، "اَنْ تَکُوْنَ الْاٰحَادُ مُجْتَمِعَةً" کہ افراد جو ہیں مجتمع ہونے چاہئیں، اکٹھے ہونے چاہئیں۔ قوم کے اطلاق میں کیا شرط لگائی گئی ہے؟ کہاں اطلاق کر سکتے ہیں اس کا؟ جب تمام افراد کیا ہوں؟ اکٹھے ہوں، ان پر حکم لگایا جائے، سارے اس پر حکم لگایا جائے گا بھئی۔ قوم کے لفظ کے اطلاق میں کیا شرط ہے کہ افراد کیا ہونے چاہئیں؟ مجتمع ہوں، اکٹھے ہوں، یعنی مجموعے پر حکم لگایا جاتا ہے، ایک ایک فرد پر اس میں الگ الگ حکم نہیں لگایا جاتا بھئی۔ "وَاِنَّمَا یَصِحُّ الاِسْتِثْنَاءُ" یہاں سے ایک سوال کا جواب دے رہے ہیں، ایک اعتراض کا۔ اعتراض یہ کہ آپ نے ابھی ہمیں بتایا کہ قوم کے ان، لفظ، لفظِ قوم کے اطلاق میں یہ شرط ہے کہ اس کے افراد مجتمع ہوں، یعنی مجموعے پر حکم لگایا جاتا ہے، تو پھر تو "جَاءَنِی الْقَوْمُ اِلَّا زَیْدًا" یہ استثنا صحیح نہیں ہونا چاہیے۔ یہ استثنا صحیح نہیں، اس لیے کیونکہ جب آپ نے کہا "جَاءَنِی الْقَوْمُ" آئے میرے پاس وہ لوگ، تو مجموعے پر حکم لگایا گیا مجیئت کا اور جب پورے مجموعے یعنی تمام افراد جو اس میں داخل تھے، جب ان پر مجیئت کا حکم لگا دیا گیا تو پھر تو استثنا صحیح نہیں ہونا چاہیے بھئی، استثنا صحیح نہیں ہونا چاہیے، تو اس کا اب جواب دینے لگے ہیں۔ اشکال سمجھ میں آیا؟ کہ پھر تو یہ اس، استثنا صحیح نہیں ہونا چاہیے، تو جواب دے رہے ہیں: कहते ہیں: "وَاِنَّمَا یَصِحُّ الاِسْتِثْنَاءُ لِوَاحِدٍ" ایک کا استثنا صحیح ہے "فِی قَوْلِکَ" آپ کے اس قول کے اندر "جَاءَنِی الْقَوْمُ اِلَّا زَیْدًا" آئے میرے پاس وہ لوگ علاوہ زید کے، یعنی زید نہیں آیا اور باقی آئے ان میں سے، تو بتلانے لگے ہیں یہاں پر اس، ایک کا استثنا صحیح ہے "بِاعْتِبَارِ اَنَّ مَجِیْئَ الْمَجْمُوْعِ لاَ یَکُوْنُ اِلَّا بِاعْتِبَارِ مَجِیْئِ کُلِّ وَاحِدٍ" جواب سمجھ لیجیے پہلے، کہتے ہیں بھئی قوم کے اطلاق، لب، لفظِ قوم کے اطلاق کے اندر یہ تو شرط ہے کہ حکم کس پر لگتا ہے؟ مجموعے پر لگتا ہے، لیکن بعض اوقات کوئی قرینہ ہوتا ہے، اس قرینے کی وجہ سے حکم مجموعے پر من حیث المجموع نہیں لگتا، بلکہ مجموعے پر حکم من حیث کل واحدٍ لگتا ہے بھئی۔ مجموعے پر حکم لگتا ہے من حیث کل واحدٍ یعنی ہر ہر فرد پر حکم لگتا ہے، مجموعے پر من حیث المجموع حکم نہیں لگتا اور وہ کسی قرینے کی وجہ سے ہوگا۔ ویسے تو قوم کے اندر شرط ہے کہ حکم کیا لگتا ہے؟ مجموعے پر من حیث المجموع حکم لگتا ہے، لیکن کبھی کبھار کسی قرینے کی وجہ سے مجموعے پر ح، حکم من حیث المجموع نہیں لگتا بلکہ من حیث کل واحدٍ یعنی ہر فرد پر حکم لگتا ہے اور وہ قرینہ یہاں پر مجیئت کا فعل ہے، قوم پر کیا حکم لگایا گیا؟ مجیئت کا حکم لگایا گیا اور مجیئت قوم کے ہر فرد کے لیے ہے باعتبار کل واحدٍ کے بھئی، یعنی ہر ان میں سے ہر ایک کے لیے مجیئت ثابت ہے، ان میں سے، یعنی ان میں سے ہر ایک آیا ہے، تو جب ہر ایک پر حکم لگایا گیا تو لہٰذا پھر ایک کا استثنا کرنا بھی صحیح، اگر مجموعے پر من حیث المجموع حکم لگایا جاتا، پھر تو استثنا صحیح نہیں تھا، لیکن یہاں حکم کیا لگایا گیا؟ من حیث کل واحدٍ ہر ہر فرد پر حکم لگایا گیا الگ الگ، جب ہر ہر فرد پر الگ الگ حکم لگا تو ایک کا استثنا کرنا بھی صحیح ہوا بھئی ایک کا، اس کے بجائے اگر مجموع، کوئی خارجی قرینہ نہ ہو تو پھر حکم کس پر لگے گا؟ مجموعے پر اور جب مجموعے پر حکم لگے گا، پھر استثنا کرنا بھی صحیح نہیں ہوگا، مثلاً آگے ہی ایک اور مثال آ رہی ہے: "یُطِیْقُ رَفْعَ ھٰذَا الْحَجَرِ الْقَوْمُ اِلَّا زَیْدًا" طاقت رکھتی ہے اس پتھر کو اٹھانے کا "اَلْقَوْمُ" وہ قوم، وہ قوم اس پتھر کو اٹھانے کی طاقت رکھتی ہے "اِلَّا زَیْدًا" سوائے زید کے، مثلاً ایک بڑا بھاری پتھر ہے، آپ کہتے ہیں وہ قوم، وہ لوگ جو ہیں اس پتھر کو اٹھانے کی طاقت رکھتے ہیں، اب یہاں پر جو حکم لگایا گیا، کیا حکم لگایا گیا؟ کہ پتھر کو اٹھانے کی طاقت رکھتے ہیں اور یہ حکم ان لوگوں پر لگایا گیا من حیث المجموع، یعنی وہ سب مل جائیں تو کیا کر سکتے ہیں اس پتھر کو؟ اٹھا سکتے ہیں، تو یہاں پر حکم من حیث المجموع لگایا گیا، تو لہٰذا اب یہاں پر ایک کا استثنا کرنا صحیح نہیں ہوگا، لہٰذا آپ کا یہ کہنا "یُطِیْقُ رَفْعَ ھٰذَا الْحَجَرِ الْقَوْمُ اِلَّا زَیْدًا" یہ استثنا صحیح نہیں، کیونکہ یہاں حکم کس پر لگایا گیا؟ قوم پر من حیث المجموع اور ماقبل میں مجیئت کا فعل تھا اور وہ مجیئت کا فعل بتلا رہا تھا کہ یہاں مجیئت کا حکم من حیث المجموع نہیں لگا بلکہ من حیث کل واحدٍ لگا ہے، ہر ہر فرد کے لیے یعنی مجیئت ثابت ہے اور جب ہر ہر فرد کے لیے مجیئت الگ الگ ثابت ہے تو پھر ایک کا استثنا کرنا بھی ان میں سے صحیح اور یہاں پر ایک ایک فرد پر الگ الگ حکم نہیں لگا کہ ان میں سے ایک ایک فرد اس پتھر کو اٹھا سکتا ہے، بلکہ سارے مل کر اس پتھر کو اٹھا سکتے ہیں، مجموعے پر من حیث المجموعہ حکم لگا، تو اب ایک کا استثنا کرنا بھی صحیح نہیں ہے بھئی۔ بات سب کو اچھی طرح سمجھ میں آگئی؟ کہ قوم پر حکم جب بھی لگتا ہے وہ من حیث المجموع لگتا ہے، لیکن کبھی کوئی قرینہ آ کر جو ہے بتلا دیتا ہے کہ اس وقت حکم من حیث المجموع نہیں لگ رہا بلکہ من حیث کل واحدٍ لگ رہا ہے اور وہ قرینہ کیا تھا پہلی مثال میں؟ مجیئت کا حکم تھا کہ مجیئت کا حکم آپ لگا رہے ہیں اور مجیئت سب کے لیے ہونے کا معنی کیا ہے؟ کہ ان میں سے ہر ایک آیا ہے، تو ہر ایک پر، کے لیے الگ الگ مجیئت ثابت ہو رہی ہے تو استثنا بھی صحیح۔ تو کہتے ہیں: "وَاِنَّمَا یَصِحُّ الاِسْتِثْنَاءُ لِوَاحِدٍ" اور ایک کا استثنا صحیح ہے "فِی قَوْلِکَ" آپ کے اس قول کے اندر "جَاءَنِی الْقَوْمُ اِلَّا زَیْدًا" آئے میرے پاس وہ لوگ علاوہ زید کے "بِاعْتِبَارِ" اس اعتبار سے کہ "اَنَّ مَجِیْئَ الْمَجْمُوْعِ" کہ مجموعے کے آنا جو ہے "لاَ یَکُوْنُ" وہ نہیں ہوگا "اِلَّا بِاعْتِبَارِ مَجِیْئِ کُلِّ وَاحِدٍ" مگر ہر ایک کے آنے کے اعتبار سے، یعنی مجموعے پر جو مجیئت کا حکم لگایا گیا، وہ ہر ایک کے آنے کے اعتبار سے ہے، "بِخِلاَفِ مَا اِذَا قِیْلَ" برعکس اس کے کہ جب کہا جائے "یُطِیْقُ رَفْعَ ھٰذَا الْحَجَرِ الْقَوْمُ اِلَّا زَیْدًا" طاقت رکھتی ہے اٹھانے کی اس پتھر کو وہ قوم سوائے زید کے، تو یہ استثنا صحیح نہیں، کیونکہ "لِاَنَّ الْحُکْمَ ہٰہُنَا مُتَعَلِّقٌ بِالْمَجْمُوْعِ مِنْ حَیْثُ الْمَجْمُوْعُ" اس، اس لیے کیونکہ حکم یہاں پر جو ہے متعلق ہے مجموعے کے ساتھ "مِنْ حَیْثُ الْمَجْمُوْعُ" کس حیثیت سے؟ مجموعے کی حیثیت سے "وَلِہٰذَا" اور اسی وجہ سے "یَصِحُّ" یہ کہنا صحیح ہے، یعنی یہ استثنا صحیح ہے: "جَاءَ الْعَشَرَةُ اِلَّا وَاحِدًا" آئے وہ 10 سوائے ایک کے۔ وہ 10 آئے سوائے 1 کے۔ تو یہاں بھی دیکھ دیکھئیے بھئی، عشرہ پر حکم لگایا گیا اور عشرہ میں افراد ہوتے ہیں، کتنے افراد؟ 10 افراد۔ تو حکم مجموعہ پر لگ رہا ہے، لیکن یہ جاءَ کا لفظ، یہ جو حکم لگایا گیا یہ قرینہ بتلا رہا ہے کہ حکم پورے مجموعہ پر من حیث المجموع نہیں ہے بلکہ من حیث کل واحدٍ ہے۔ یعنی عشرہ کے جو 10 افراد ہیں ان میں سے ہر ایک پر کیا حکم لگا دیا گیا؟ مجیئت کا کہ وہ آیا ہے، اس کے لیے آنا ثابت ہے۔ تو جب ہر ایک پر الگ الگ حکم لگا آنے کا، تو ان میں سے ایک کا استثناء کرنا بھی صحیح۔ ولا یصح اور یہ صحیح نہیں ہے، یہ استثناء صحیح نہیں ہے العشرۃ زوجٌ إلا واحداً۔ عشرہ 10 جو ہے وہ جفت ہے سوائے 1 کے۔ اب دیکھیے، عشرہ پر کیا حکم لگایا گیا؟ زوج ہونے کا حکم لگایا گیا کہ 10 وہ جفت ہے اور یہ جو جفت ہونے کا حکم لگایا گیا عشرہ پر، یہ اس کے ایک ایک فرد پر ہے یا مجموعہ پر من حیث المجموع ہے؟ مجموعہ پر من حیث المجموع بھئی۔ عشرہ کے میں کتنے افراد؟ 10۔ اب ہر ایک جفت ہے؟ ہر ایک تو جفت نہیں۔ تو لہذا معلوم ہوا یہاں حکم جو زوج ہونے کا لگایا گیا عشرہ پر وہ من حیث المجموع لگایا گیا، اور جب من حیث المجموع حکم لگایا گیا تو لہذا اب 1 کا استثناء کرنا صحیح نہیں بھئی۔ ومن وما یحتملان العموم والخصوص۔ اور من اور ما بٹھلایا آپ کو بھئی کہ کبھی عموم جو ہے صیغے اور معنی دونوں کے اعتبار سے ہوگا اور کبھی صرف کس کے اعتبار سے ہوگا؟ معنی کے اعتبار سے۔ تو اب اس کی مثالیں ذکر کر رہے ہیں کون کون سے عموم کے الفاظ ہیں جیسے قوم اور رہط انہوں نے ذکر کر دیے بھئی۔ اسی طرح اب کہہ رہے ہیں ومن وما، من اور ما جو ہیں یحتملان العموم والخصوص، یہ عموم اور خصوص دونوں کا احتمال رکھتے ہیں۔ عموم اور خصوص، عموم یعنی کہ یہ افراد پر بولے جائیں، اور خصوص کہ یہ ایک فرد پر بولے جائیں بھئی۔ تو یہ دونوں کیا ہیں؟ عموم کا بھی احتمال رکھتے ہیں اور خصوص، یعنی افراد پر بھی بولے جا سکتے ہیں جب افراد پر بولے گئے تو معلوم ہوا ان میں عموم ہے، اور یہ خصوص کا بھی احتمال رکھتے ہیں یعنی ایک فرد پر بھی بولے جا سکتے ہیں اور جب ایک فرد کے لیے بولے گئے پھر تو ان میں عموم نہیں ہے بلکہ خصوص ہے۔ تو کہتے ہیں من اور ما وہ احتمال رکھتے ہیں عموم اور خصوص دونوں کا واصلہما العموم اور ان دونوں میں سے اصل جو ہے، ہما ضمیر ہے من اور ما کو، واصلہما العموم اور ان دونوں کی اصل عموم ہے۔ یعنی حقیقت میں یہ وضع کس کے لیے ہیں؟ عموم کے لیے وضع ہیں لیکن خصوص میں بھی استعمال ہو جاتے ہیں اور پھر خصوص کے اندر جو ان کا استعمال ہوگا وہ حقیقت نہیں بلکہ مجاز ہوگا۔ تو وضع ہیں جب عموم کے لیے تو اس میں حقیقت اس میں استعمال ہو تو حقیقت، اور خصوص میں استعمال ہو تو مجاز۔ دیکھیے خود بتلا رہے ہیں بھئی اصل واصلہما العموم کا معنی کر رہے ہیں یعنی انہما فی اصل الوضع للعموم یعنی کہ یہ دونوں یعنی من اور ما جو ہیں اصل وضع میں عموم کے لیے ہیں ویستعملان فی الخصوص اور یہ دونوں استعمال ہوتے ہیں خصوص میں بھی بعارض القرائن کس کی وجہ سے؟ قرینوں کے عارض کی وجہ سے جب کوئی قرینہ آ جائے بھئی۔ سواءً استعملا فی الاستفہام أو الشرط أو الخبر برابر ہیں کہ ان دونوں کو استعمال کیا جائے استفہام کے اندر یا شرط کے اندر یا خبر کے اندر۔ چاہے ان کو استفہام میں استعمال کیا جائے، چاہے شرط میں، چاہے خبر میں، تو یہ عموم کا بھی احتمال رکھتے ہیں اور خصوص کا بھی احتمال رکھتے ہیں۔ جیسے دیکھیے استفہام کی مثال: گھر میں ایک فرد ہو کوئی تو بھی آپ پوچھ سکتے ہیں من فی الدار؟ کون ہے گھر میں؟ تو جواب میں آپ کہہ سکتے ہیں زیدٌ۔ تو دیکھو اب یہ من آیا اور کس کے لیے آیا؟ عموم کے لیے یا خصوص کے لیے؟ خصوص کے لیے۔ اور گھر میں اگر زید، عمر، بکر ہوں اس وقت بھی آپ پوچھ سکتے ہیں من فی الدار؟ کون ہے گھر میں؟ آپ جواب میں کہیں گے زیدٌ وعمروٌ وبکرٌ۔ تو یہاں یہ عموم کے لیے آیا ہے یا خصوص کے لیے؟ یہاں یہ عموم کے لیے آیا ہے بھئی۔ تو معلوم ہوا استفہام کے اندر بھی من عموم کے لیے بھی استعمال ہو سکتا ہے اور خصوص دونوں کے لیے بھئی۔ تو اگر گھر میں ایک فرد ہو تو وہ جواب میں آئے گا اور اگر زیادہ ہوں تو وہ جواب میں آئیں گے۔ اور اسی طرح شرط کے لیے آئے بھئی، شرط کے لیے بھی یہ عموم کا بھی احتمال رکھیں گے اور خصوص کا بھی۔ مثلاً آپ کہتے ہیں من جاءنی فلہ درہمٌ، جو بھی میرے پاس آیا تو اس کے لیے ایک درہم ہے یعنی اسے ایک درہم ملے گا۔ اب ایک آیا تو ایک کو درہم ملے گا، زیادہ آئے تو زیادہ کو ان میں سے ہر ایک کو درہم ملے گا۔ تو معلوم ہوا یہ خصوص کے لیے بھی ہو سکتا ہے اور عموم کے لیے بھی ہو سکتا ہے۔ اسی طرح خبر کے مقام میں آئے تو وہاں بھی یہ عموم کے لیے بھی آ سکتے ہیں اور خصوص کے لیے بھی۔ مثلاً آپ کہتے ہیں اعطیت من جاءنی درہماً، اعطیت میں نے عطا کیا، میں نے دیا من جاءنی اس کو جو آیا میرے پاس، کیا دیا؟ ایک درہم۔ تو ایک آیا ہو آپ کے پاس تب بھی آپ کا کہنا صحیح اعطیت من جاءنی درہماً، جو میرے پاس آیا اسے میں نے ایک درہم دیا۔ دیکھو یہ خبر دے رہے ہیں آپ بھئی، شرط نہیں لگا رہے بلکہ خبر دے رہے ہیں کہ میں نے ایک درہم اسے دیا۔ اور اگر تین چار آئے ہوں تب بھی آپ کہہ سکتے ہیں اعطیت من جاءنی درہماً، جو میرے پاس آیا تھا میں نے اسے درہم دیا۔ تو معلوم ہوا یہ استفہام کے اندر آئے یا شرط میں آئے یا خبر میں آئے جہاں بھی آئے، یہ عموم کا بھی احتمال رکھتے ہیں اور خصوص کا بھی احتمال رکھتے ہیں۔ وما قیل اور وہ جو کہا گیا ہے کہ ان المخصوص یکون فی الإخبار، مخصوص نہیں بھئی، مخصوص ہے آپ کی کتابوں میں؟ خصوص ہونا چاہیے۔ وما قیل اور وہ جو کہا گیا ہے کہ ان الخصوص یکون فی الإخبار کہ خصوص جو ہوگا وہ خبر میں ہوگا۔ اخبار بمعنی خبر کے عام استعمال ہوتا ہے بھئی۔ اخبار بمعنی خبر کے، اور وہ جو کہا گیا ہے کہ خصوص خبر میں ہوگا، بھئی بعض علماء کہتے ہیں بعض علماء نے کہا کہ خبر کے مقام میں من آئے تو خصوص کے لیے ہوگا۔ استفہام اور شرط میں آئے تو پھر عموم کے لیے ہوگا۔ بعض علماء کیا فرماتے ہیں؟ خبر میں آئے تو بتلا رہے ہیں نا ان الخصوص یکون فی الإخبار، خصوص کہاں پر ہوگا؟ خبر میں، یعنی خبر میں من آئے تو وہ خصوص کے لیے ہوگا، اور معلوم ہوا استفہام اور شرط میں آئے تو کس کے لیے ہوگا؟ عموم کے لیے ہوگا، کہتے ہیں یہ جو کہا گیا ہے فمنتقضٌ یہ دعویٰ ٹوٹنے والا ہے، یہ بات کیا ہے؟ ٹوٹنے والی ہے۔ یعنی کہ ٹوٹ جاتی ہے، اس کے خلاف مثالیں ملتی ہیں ہمیں، لا یطرد یہ عام نہیں ہے بھئی، یہ عام یہ بات ٹوٹ جانے والی ہے عام نہیں ہے یعنی یہ بات ہر جگہ صادق نہیں ہے بھئی۔ مثال بھی دیکھ لیں آپ خود دیکھیں، انہوں نے کیا کہا؟ استفہام اور شرط میں کس کے لیے آئے گا؟ عموم کے لیے، اور خبر میں ہم نے مثالیں ذکر کر دیں بھئی، جہاں عموم کا بھی احتمال تھا اور خصوص کا بھی۔ اور ابھی دیکھ لیجیے مثال بھئی، انہوں نے کہا استفہام میں آئے تو عموم کے لیے ہوگا۔ من ابوک؟ کسی شخص سے پوچھا جائے من ابوک؟ وہ مثلاً جواب میں کہتا ہے زیدٌ۔ تو دیکھیے یہ من ابوک استفہام میں آیا اور کہنے والا کیا کہہ رہے تھے؟ کہ استفہام میں تو یہ عموم کے لیے آئے گا لیکن یہاں کس میں استعمال ہو رہا ہے؟ خصوص کے لیے، ایک فرد کے بارے میں سوال کیا جا رہا ہے۔ یا اسی طرح کسی سے پوچھا جائے ما دینک؟ آپ کا دین کیا ہے؟ وہ جواب میں کیا کہتا ہے؟ مومن ہے تو الاسلام۔ تو دیکھو یہاں ما آیا، استفہام کے اندر آیا اور استفہام کے اندر انہوں نے تو کیا کہا تھا قائل نے؟ کہ عموم کے لیے ہوگا لیکن یہاں کئی افراد کے بارے میں پوچھا جا رہا ہے یا ایک فرد کے بارے میں؟ ایک، تو یہاں دیکھو خصوص ہے بھئی، خصوص۔ ومن فی ذوات من یعقل کما فی ذوات ما لا یعقل اور من جو ہے کس میں آتا ہے؟ وہ جو عقل رکھنے والے ہیں ان کی ذات میں یعنی ان کے بارے ان کے لیے استعمال ہوتا ہے یعنی ذوی العقول، ذوات من یعقل سے کیا مراد ہے؟ ذوی العقول بھئی، اور کما جیسے کہ ما ہے فی ذوات ما لا یعقل کس میں آتا ہے؟ غیر ذوی العقول میں بھئی۔ تو من ذوی العقول میں استعمال ہوتا ہے اور ما غیر ذوی العقول میں۔ ذوی العقول تین ہیں، تین افراد ہیں اس کے بھئی: انسان، جنات اور فرشتے۔ انسان، جنات اور فرشتے، یہ ذوی العقول۔ لیکن بہتر تھا کہتے ہیں مصنف جو ہیں من یعقل کے بجائے من یعلم کہتے بھئی فی ذوات من یعلم۔ جو علم رکھنے والے ہیں تاکہ اللہ کی ذات میں بھی اللہ کی ذات بھی اس میں داخل ہو جاتی بھئی۔ اللہ کی ذات بھی اس میں داخل ہو جاتی، تو ذوی العقول کہا، اللہ ذوی العقول کی قبیل سے تو ہیں لیکن اللہ پر عاقل کا اطلاق صحیح نہیں ہے بھئی، عاقل کا اطلاق صحیح عالم کا اطلاق تو ذات باری تعالیٰ پر ہو سکتا ہے لیکن عاقل کا اطلاق کرنا ذات باری تعالیٰ پر یہ صحیح نہیں ہے بھئی۔ تو عالم کا اطلاق ذات باری تعالیٰ پر صحیح ہے بھئی، آپ بھی کہتے ہیں اللہ عالم الغیب ہیں۔ تو انہوں نے کیا بتلایا من کس کے لیے آتا ہے؟ ذوی العقول کے لیے، اور ما غیر ذوی العقول کے لیے آتا ہے بھئی۔ یہ بعض کا مذہب ہے جسے متن میں ذکر کیا گیا، لیکن یاد رکھیے اکثر کا مذہب یہ ہے اکثر علماء کا کہ یہ جو ما ہے یہ غیر ذوی العقول کے لیے نہیں ہے، یہ عام ہے، یہ ذوی العقول کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اور یعنی دونوں میں یہ حقیقت ہے۔ دونوں میں یہ کیا ہے؟ ذوی العقول کے لیے آئے تو بھی حقیقت، غیر ذوی العقول کے لیے آئے تو بھی حقیقت۔ جبکہ ماتن کے قول سے معلوم ہوتا ہے کہ من تو ہے ذوات ذوی العقول کے لیے اور ما ہے کس کے لیے؟ غیر ذوی العقول کے لیے، تو اس میں استعمال ہو تو حقیقت اور اگر ذوی العقول کے لیے استعمال ہوگا پھر کیا کہنا پڑے گا؟ مجاز بھئی، لیکن جمہور اکثر علماء کہتے ہیں کہ بھئی ما جو ہے وہ عام ہے، من تو ٹھیک ہے ذوی العقول کے لیے ہے لیکن ما عام ہے بھئی، ذوی العقول کے لیے بھی حقیقت ہے اور غیر ذوی العقول کے لیے بھی حقیقت ہے۔ أي الأصل فی من اصل من کے اندر یہ ہے أن یکون لذوات من یعقل کہ وہ ذوی العقول کے لیے ہو کقولہ علیہ السلام جیسے کہ حضور علیہ السلام کا قول ہے من قتل قتیلاً فلہ سلبہ، سلب لام پر بھی فتحہ ہے بھئی۔ من قتل قتیلاً، قتیل فعیل بمعنی مفعول کے ہے بھئی، قتیل بمعنی مقتول کے۔ من قتل قتیلاً جس نے مقتول کو قتل کیا فلہ سلبہ تو اس کے لیے اس کا سلب ہے۔ سلب، بھئی کسی غزوہ کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا رغبت دلانے کے لیے بطور رغبت کے، جس نے یعنی کسی کافر کو قتل کیا اس کے لیے اس کا سلب یعنی اس سے چھینا ہوا مال ہے۔ وہ جو اس کافر کے پاس اسلحہ وغیرہ، سواری، جو کچھ اور جو لباس وغیرہ اس نے پہنا ہوا ہے، سارا کچھ اس قتل کرنے والے کے لیے ہے۔ تو صحابہ کو رغبت دلانے کے لیے بھئی۔ ترجمہ سمجھ میں آ گیا؟ اور من قتل قتیلاً کہا، جس نے کسی مقتول کو، مراد کیا ہے؟ وہ کافر جو مقابلے پہ آئے ہوئے ہیں، تو اس کو ابھی سے قتیل کہا کیونکہ بعد باعتبار مستقبل کے وہ مقتول ہونے والا ہے، قتل کیا جانے والا ہے، تو ابھی سے اس کو کیا فرما دیا؟ مقتول فرما دیا۔ ترجمہ سمجھ میں آ گیا؟ من تو دیکھیے من آیا، من قتل، اور کس سے فرما رہے ہیں؟ صحابہ سے، ذوی العقول میں سے، تو یہ دیکھیے من آیا ذوی العقول کے لیے۔ من قتل قتیلاً فلہ سلبہ، جس نے کسی کا مقتول کو قتل کیا تو اس کے لیے اس سے چھینا ہوا مال ہے وقد یستعمل فی غیر من یعقل مجازاً اور کبھی کبھار یہ استعمال ہوتا ہے غیر ذوی العقول کے اندر بھی مجازاً کما فی قولہ تعالیٰ جیسے اللہ تعالیٰ کے اس قول میں ہے فمنہم من یمشی علی بطنہ، پس ان جانوروں میں سے بعض وہ ہیں جو چلتے ہیں اپنے پیٹ پر۔ جو اپنے پیٹ پر چلتے ہیں یعنی رینگتے ہیں زمین پر، تو یہاں من آیا من یمشی، اور کس کے لیے آیا؟ غیر ذوی العقول کے لیے، تو یہ مجازاً ہے۔ والأصل فی ما أن یکون فی ذوات ما لا یعقل اور اصل ما کے اندر یہ ہے کہ وہ کس کے لیے ہوگا؟ غیر ذوی العقول کی ذات کے لیے بھئی۔ لیکن میں نے بتایا عند الاکثر یہ ما عام ہے، ذوی العقول کے لیے بھی آئے گا اور غیر ذوی العقول کے لیے بھی۔ یقال کہا جائے جاتا ہے ما فی الدار؟ گھر میں کیا ہے؟ فالجواب درہمٌ أو دینارٌ تو جواب کیا ہوگا مثلاً؟ غیر ذوی العقول چیز کوئی ہوگی جیسے درہم یا دینار، لا زیدٌ أو عمروٌ، زید یا عمر یعنی ذوی العقول اس کے جواب میں نہیں ہوں گے۔ لیکن آگے بتلا رہے ہیں وقد یستعمل فی غیرہا کما سیأتی اور کبھی کبھار یہ ما کو استعمال کیا جاتا ہے کس کے اندر؟ ہا ضمیر راجع ہے غیر ذوی العقول کو، تو پھر نفی پر نفی داخل ہو کے کس چیز کا فائدہ دیتی ہے؟ اثبات کا ہی، تو اس پر پھر غیر آیا، یعنی ذوی العقول میں بھی استعمال ہوتا ہے کما سیأتی جیسے کہ عنقریب آ جائے گا۔ فإذا قال من شاء من عبیدی العتق فہو حرٌّ فشاؤوا عتقوا۔ پس جب کہا کسی شخص نے من شاء من عبیدی یعنی میرا جو غلام بھی آزادی چاہتا ہے جو بھی چاہتا ہے من عبیدی میرے غلام یعنی میرا جو بھی غلام چاہتا ہے العتق آزادی کو فہو حرٌّ تو وہ آزاد ہے فشاؤوا تو ان سب نے چاہا عتقوا تو وہ سب آزاد ہو جائیں گے۔ تفریعٌ لکون کلمۃ من عامۃً، یہ کلمہ من عام یہ تفریع ہے کلمہ من کے عام ہونے پر، وذلك اور وہ اس وجہ سے لأن معناہ اس کے کیونکہ اس کلام کا معنی یہ ہے کہ کل من شاء العتق من بین عبیدی کہ جس نے بھی آزادی کو چاہا میرے غلاموں میں سے فہو حرٌّ تو وہ آزاد ہے، تو وہ آزاد ہے۔ وکلمۃ من بھئی آگے ایک اور مثال آئے گی دیکھو۔ آگے ایک اور مثال، یہ کہنے والے نے پہلے کیا کہا من شاء من عبیدی، جس نے بھی میرے غلاموں میں سے جس نے بھی چاہا آزادی کو تو وہ آزاد۔ تو اگر سب نے چاہا تو سب آزاد ہو جائیں گے۔ آگے ایک اور مثال آ رہی ہے شرح کے اندر اگر من شاء کے بجائے یہاں ہوتا من شئت، مخاطب کو ایک شخص کہتا ہے من شئت من عبیدی عتقہ، تو میرے غلاموں میں سے جس کو بھی آزاد کرنا چاہتا ہے من من شئت من عبیدی عتقہ، میرے غلاموں میں سے تو جس کی بھی آزادی کو چاہتا ہے فاعتقہ، تو پس تو اسے آزاد کر دے۔ اس میں بتلائیں گے کہ اگر وہ ساروں کو آزاد کرنا چاہتا ہو تو سارے نہیں آزاد ہوں گے، ایک کو چھوڑ کر باقی سارے آزاد ہو جائیں گے۔ ایک کو ایک کے علاوہ باقی سارے کیا ہو جائیں گے؟ اور اس مثال میں جو یہ انہوں نے ذکر کی من شاء من عبیدی العتق فہو حرٌّ، اس میں اگر ساروں نے چاہا تو سارے کے سارے آزاد ہو جائیں گے بھئی۔ سارے کے سارے آزاد ہو جائیں گے، وجہ اس کی کیا؟ وجہ ابھی سمجھ لیں بھئی آگے شارح اس میں وہ ذکر بھی کر رہے ہیں۔ وجہ اس کی یہ کہ بات چل رہی ہے من کی اور من آپ نے پڑھا عموم کے لیے آتا ہے، تو پہلے لفظ آیا من جو بھی، جس نے بھی شاء۔ آگے پھر مشیت کا فعل آ گیا۔ چاہنے کا اور شاء کا اسناد ہے ھو ضمیر کی طرف۔ شاء کا اسناد کس کی توجه سے سننا بھئی سبق۔ شاء کا اسناد کس کی طرف؟ ھو ضمیر کی طرف۔ ھو ضمیر کی طرف اور وہ ھو ضمیر راجع ہے من کو۔ وہ کس کو راجع؟ اور من تو تھا عام۔ تو گویا مشیت کا اسناد بھی کس کی طرف ہو گیا؟ عام کی طرف۔ عام کی طرف تو اس میں بھی عموم آ گیا۔ تو من میں بھی عموم تھا، مشیت میں بھی عموم آ گیا تو اس مشیت نے اس من کے عموم کو پکا کر دیا۔ کیا کر دیا؟ پکا کر دیا۔ پکا کر دیا۔ اس کے بعد آگے لفظ آیا من، من۔ اور یاد رکھیے من جو ہے جیسے یہ ابتداء وغیرہ کے لیے آتا ہے، اسی طرح یہ تبعیض کے لیے بھی بہت کثرت سے استعمال ہوتا ہے یعنی بعض افراد کے لیے، بعض بعضیت بتلانے کے لیے۔ نا آپ کہتے ہیں اخذت من الدراھم۔ کیا ترجمہ کریں گے؟ ہاں، میں نے بعض درہم اٹھا لیے۔ سارے درہم اٹھا لیں پھر یہ درست نہیں بھئی کیونکہ من آپ لے کر آ رہے ہیں۔ اخذت من الدراھم، میں نے درہموں میں سے اٹھا لیے۔ معلوم ہوا کچھ اٹھائے ہیں، سارے؟ تو یہ بعض کا فائدہ کس نے دیا؟ من نے۔ تو یہ من جو ہے تبعیض کا فائدہ دیتا ہے جب یہ ایک ایسی چیز پر داخل ہو جس میں تبعیض ہو سکے، جس میں حصے ہو سکیں، جس کے افراد الگ الگ ہو سکیں بھئی۔ تو یہاں بھی عبید، عبیدی میرے غلام فرض کریں اس کے 10 غلام ہیں اس شخص کے بھئی۔ تو یہاں ان پر من داخل ہوا اور من تبعیض کا فائدہ دیا کرتا ہے اور غلاموں میں بھی تبعیض ہو سکتی ہے یا نہیں بھئی؟ ہو سکتی ہے۔ 10 افراد ہیں، 10 کے 10 الگ الگ ہو جائیں بھئی تو 10 میں تبعیض ممکن ہے۔ تو من تبعیض چاہتا تھا لیکن شاء نے من کے عموم کو پختہ کر دیا۔ من میں بھی عموم تھا، مشیت میں میں بھی عموم آیا تو اس نے من کے عموم کو پختہ کر دیا، جب پختہ کر دیا تو اب من کو ہم تبعیض پر محمول نہیں کریں گے بھئی۔ تبعیض تو عموم کی ضد ہے بھئی۔ تبعیض تو عموم کی ضد ہے۔ عموم کا معنی سارے افراد یعنی جس میں افراد ہوں اور تبعیض کا معنی کچھ، بعض بھئی۔ تو لہٰذا اب ہم من کو یہاں تبعیض پر محمول نہیں کریں گے بلکہ اس کو بیان کے لیے بنائیں گے کیونکہ من بیان کے لیے بھی آیا کرتا ہے۔ تو معلوم ہوا یہ من تبعیض کے لیے نہیں ہے بلکہ کس کے لیے ہے؟ بیان کے لیے ہے۔ جس نے من شاء جس نے بھی چاہا، بھئی کن انہوں نے، کن کی بات آپ کر رہے ہیں؟ کہتے ہیں من عبیدی یعنی کہ میرے غلام یعنی میرے غلام، ان میں سے جس نے بھی چاہا۔ تو یہ من کس لیے ہے؟ تو پھر لہٰذا اب من کو تبعیض کے لیے نہیں بنائیں گے بلکہ من کو بیان کے لیے بنا لیں گے۔ جب من تبعیض کے لیے نہیں ہے تو یہاں عموم ہی عموم ہے لہٰذا سارے غلاموں نے چاہا تو سارے آزاد ہو جائیں گے بھئی۔ کیونکہ یہاں تبعیض والا معنی آیا ہی نہیں، من کو ہم نے تبعیض کے لیے بنایا ہی نہیں بلکہ اس کو کس کے لیے بنایا؟ بیان کے لیے۔ بیان کے لیے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ جبکہ دوسرا کلام کوئی اور مثلاً کہے مخاطب سے وہ کہنے والا کہتا ہے من شئت من عبیدی عتقہ، تو یہاں من شئت، من میں ہے عموم اور شئت یہاں مشیت کا اسناد کس کی طرف ہو رہا ہے؟ مخاطب کی طرف اور مخاطب خاص ہے یا عام ہے؟ خاص ہے۔ خاص ہے، کسی ایک فرد ہے۔ تو اس سے کہہ رہا ہے تو لہٰذا من میں تو عموم ہے لیکن آگے مشیت کے اندر عموم نہیں لہٰذا من کا عموم پختہ نہ ہوا۔ جب من کا عموم پختہ نہ ہوا تو اب آگے جو من عبیدی ہے اس کو ہم تبعیض پر محمول کریں گے۔ پہلے کلام میں تو وہ قرینہ موجود تھا کہ من کے ساتھ ساتھ مشیت بھی عام ہے، اس قرینے نے بتلا دیا من کو تبعیض پر محمول نہ کرو بلکہ کس پر محمول کرو؟ بیان پر۔ بیان پر۔ یہاں ایسا کوئی قرینہ نہیں، من تو ہے ٹھیک ہے عموم کے لیے لیکن آگے مشیت کیا ہے؟ وہ اسی طرح خاص ہے، تو لہٰذا اب من عبیدی جو یہاں پر آیا اس من سے کون سا من مراد لیں گے؟ من تبعیضیہ۔ تو من تبعیض کے لیے ہوا، تو اب ایسی صورت بنائیں گے کہ من کے عموم پر بھی عمل ہو جائے اور من کی تبعیض پر بھی عمل ہو جائے اور اس کا طریقہ یہ پھر، کہتے ہیں مثلاً مخاطب چاہتا ہے کہ میں سارے غلام آزاد کر دوں۔ تو یاد رکھیے، سارے غلام آزاد نہیں ہوں گے، مثلاً اس کے 10 غلام تھے تو 10 میں سے 9 آزاد ہو جائیں گے اور ایک غلام آزاد نہیں ہو گا۔ اب دیکھیے، 10 میں سے 9 آزاد ہو گئے تو عموم آیا یا نہیں بھئی؟ آیا۔ 9 آزاد تو دیکھو من کے عموم پر بھی عمل ہوا اور سارے غلام آزاد ہوئے 10 میں سے یا بعض آزاد ہوئے؟ بعض آزاد ہوئے۔ بعض آزاد ہوئے اور ایک ابھی بھی باقی ہے تو من یعنی تبعیض پر بھی عمل ہو گیا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ جی۔ تو لہٰذا اس صورت میں اگر مخاطب نے ایک ایک غلام کو آزاد کرنا شروع کیا، ایک کے بارے میں چاہا کہ یہ بھی آزاد ہو جائے، وہ بھی آزاد ہو جائے گا، دوسرا بھی، تیسرا بھی، چوتھا بھی، لیکن پھر جب آخری آ جائے گا، آخری غلام رہ جائے گا تو وہ آزاد نہیں ہو گا بھئی۔ ورنہ تو پھر تبعیض کا معنی ہی ختم ہو جائے گا سرے سے، پھر تو سارے ہی آزاد ہو گئے تبعیض تو باقی نہ رہی بھئی۔ اور اگر وہ کیا کرتا ہے؟ یہ تو وہ صورت تھی اس نے ایک ایک کو آزاد کیا ایک ایک، اور اگر وہ ساروں کو کے بارے میں کہتا ہے کہ میں نے ان سب کو آزاد کیا، تو پھر بھی یاد رکھیے وہی صورت ہو گی کہ من کے عموم پر بھی عمل کرنا ہے اور من کے تبعیض پر بھی، تو لہٰذا 10 میں سے 9 آزاد ہو جائیں گے، ایک غلام ہی رہے گا اور وہ کون سا ایک غلام رہے گا؟ کہتے ہیں اب تعین کا حق آقا کو ہو گا، مالک کو۔ مالک ان میں سے جس ایک کو چاہے گا وہ باقی رہ جائے گا اور باقی آزاد ہو جائیں گے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہی بات اب بیان کریں گے۔ کہتے ہیں تفریع لقول کلمۃ من عامۃ، یہ کلمہ من کے عام ہونے پر تفریع ہے، وذلک لأن معناہ اور وہ اس وجہ سے کیونکہ اس کلام کا معنی یہ ہے، کل من شاء العتق من بین عبیدی فھو حر، جس نے بھی چاہا آزادی کو میرے غلاموں میں سے فھو حر تو وہ آزاد ہے، وکلمۃ من فی نفسھا عامۃ اور من کا کلمہ من جو ہے اپنی ذات کے اعتبار سے عام ہے، ووصفت بصفۃ عامۃ اور اس کو موصوف کیا گیا ہے صفتِ عامہ کے ساتھ، بھئی وہ صفتِ عامہ کیا؟ کہتے ہیں وھی المشئیۃ اور وہ مشیت ہے۔ یہ عام کس وجہ سے ہے؟ میں نے بتلایا کیونکہ اس کا اسناد کس کی طرف ہے؟ ھو ضمیر اور ھو کس کو راجع؟ من کو، تو ھو سے وہی من مراد ہوا اور من میں تو تھا عموم، تو لہٰذا مشیت کا بھی گویا اسناد کس کی طرف؟ عموم کی طرف۔ ومن آگے یہ لفظ من ہے بھئی من، ومن یحتمل البیان اور من جو ہے وہ بیان کا بھی احتمال رکھتا ہے کہ وہ بیان کے لیے ہو، فإن شاء الکل پس اگر ان سب نے چاہا، لابد أن یعتقوا جمیعاً تو ضروری ہے کہ وہ سب کے سب آزاد ہو جائیں، عملاً بعموم کلمۃ من عمل کرتے ہوئے کلمہ من کے عموم پر، بخلاف ما إذا قال بخلاف اس کے کہ اگر اس نے یوں کہا، من شئت من عبیدی عتقہ فاعتقہ، جس کو بھی تو چاہتا ہے میرے غلاموں میں سے آزاد کرنا فاعتقہ تو پس اسے تو آزاد کر دے، بإسناد المشئیۃ إلی المخاطب اسناد کرتے ہوئے مشیت کا مخاطب کی طرف، فإن لہ حینئذ أن یعتقھم إلا واحداً تو اس صورت میں اس مخاطب کے لیے جائز ہو گا کہ وہ آزاد کر دے ان سب کو إلا واحداً سوائے ایک کے، عند أبی حنیفۃ رحمہ اللہ امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک۔ سمجھ میں آئی بات؟ تو وہاں پر ایک قرینہ تھا جو عموم کو پکا کر رہا تھا کہ مشیت بھی عام تھی اور یہاں کوئی ایسا قرینہ نہیں، تو لہٰذا یہاں من کو تبعیض پر ہی محمول کریں گے اور ماقبل میں پھر ہم نے اس قرینے کی وجہ سے من کو بیان پر محمول کیا تھا۔ تو یہ امام صاحب کے نزدیک ہے لأن کلمۃ من للعموم اسی کیونکہ من کا کلمہ عموم کے لیے ہے، ومن للتبعیض اور من کس لیے ہے یہاں پر؟ تبعیض کے لیے ہے، فلا یستقیم العمل بھیما تو درست نہیں رہتا ان دونوں پر عمل، إلا إذا بقی واحد منھم غیر معتق مگر جب باقی رہے ان میں سے ایک غیر معتق بغیر آزاد ہو کر بھئی۔ جب ان میں سے ایک کیا ہو؟ باقی رہے اس حال میں کہ وہ غیر معتق ہو بھئی۔ وکذا المشئیۃ صفۃ خاصۃ للمخاطب اور اسی طرح جو مشیت صفت آئی اس جملے کے اندر بھئی من شئت کے اندر، یہ صفتِ خاصہ ہے کس کے لیے؟ مخاطب کے لیے بھئی، تو یہاں اس میں عموم نہیں۔ وقیل کلمۃ من للتبعیض فی کل من المثالین اور کہا گیا ہے، یہ بات اور علماء کی تقریر کرنے لگے ہیں۔ ایک تقریر شارح نے کر دی کہ من شاء من عبیدی اس صورت میں سارے غلام اگر چاہیں تو سب آزاد ہو جائیں گے اور من شئت من عبیدی اس صورت میں ایک غلام کے علاوہ باقی سب کو وہ آزاد کر سکتا ہے تو دونوں میں فرق ہے۔ بعضوں نے اور تقریر کی بعض علماء نے، وہ کہتے ہیں کہ دونوں مثالوں میں من تبعیض کے لیے ہے۔ ہم نے تو کہا تھا پہلی مثال میں من بیان کے لیے اور دوسری مثال میں من تبعیض کے لیے، وہ کہتے ہیں نہیں، دونوں جگہ من تبعیض کے لیے ہو پھر بھی بات درست رہتی ہے، کس طرح؟ کہتے ہیں پہلے جملے میں من کو آپ نے کس کے لیے بنایا؟ بھئی دوسرے جملے میں تو من تھا ہی کس لیے؟ تبعیض کے لیے، اس کی تو وہی تقریر ہو گی۔ پہلے جملے میں ہم نے من کو کس کے لیے بنایا تھا؟ بیان کے لیے، کہتے ہیں وہاں اس کو ذرا تبعیض کے لیے بناؤ، کیا معنی؟ من شاء من عبیدی، جس نے بھی چاہا میرے غلاموں میں سے، جس نے بھی چاہا آزادی کو فھو حر تو وہ آزاد۔ اب دیکھیے ایک غلام نے چاہا آزادی کو تو یہ ایک باقی غلاموں کی طرف نسبت کرتے ہوئے کل ہے یا بعض ہے؟ بعض ہے۔ بعض ہے، تو لہٰذا دیکھو یہ آزاد ہوا۔ دوسرے غلام نے بھی چاہا وہ بھی باقی افراد غلاموں کی طرف نسبت کرتے ہوئے بعض، وہ بھی آزاد۔ تیسرے غلام نے چاہا وہ بھی باقی غلاموں کی طرف نسبت کرتے ہوئے بعض ہے، تو دیکھو اس طرح سارے غلام آزاد ہو گئے، عموم بھی آ گیا اور من کی تبعیض پر بھی عمل ہو گیا کیونکہ ہر غلام باقی غلاموں کی طرف نسبت کرتے ہوئے بعض ہے بھئی۔ تقریر سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں وقیل کلمۃ من للتبعیض فی کل من المثالین اور کہا گیا ہے کہ کلمہ من جو ہے وہ تبعیض کے لیے ہے دونوں مثالوں کے اندر، لکن فی المثال الأول لیکن پہلی مثال کے اندر، کلاً من العبد الشائی ہر ایک غلام جو چاہنے والا ہے، کلاً من العبد الشائی یہ لکن کا اسم ہے، ہر ایک غلام جو چاہنے والا ہے، بعض مع قطع النظر عن غیرہ وہ باقی غلاموں سے قطع نظر کرتے ہوئے بعض ہے۔ ہر چاہنے والا غلام باقیوں کی طرف نظر کرتے ہوئے بعض ہے، فیعتق الکل تو لہٰذا سب کے سب کیا ہو جائیں گے؟ آزاد ہو جائیں گے۔ وفی المثال الثاني اور دوسری مثال میں، الشائي واحد چاہنے والا ایک ہی ہے، یتعلق مشیئتہ بالکل دفعۃ متعلق ہو گئی اس کی چاہت تمام غلاموں کے ساتھ دفعۃً اکٹھی بھئی۔ جب ساروں کے ساتھ مشیت اکٹھی متعلق ہو گئی، تو دیکھو عموم تو آیا لیکن تبعیض ہے؟ تبعیض نہیں رہے گی۔ وہاں ہر غلام اپنی آزادی کو چاہنے والا تھا اور وہ غلام باقی غلاموں سے قطع نظر بعض تھا، اور یہاں چاہنے والا مخاطب ہے اور اس کی چاہت سارے غلاموں سے بیک وقت متعلق ہو گی تو عموم تو آ جائے گا لیکن تبعیض نہیں رہے گی، لہٰذا تبعیض کو رکھنے کے لیے ضروری ہو گا کہ یہ کہا جائے کہ ایک غلام رہ جائے گا اور باقی آزاد ہو جائیں گے۔ جبکہ دوسری مثال میں الشائي واحد چاہنے والا ایک ہے یعنی وہ مخاطب، یتعلق مشیئتہ بالکل دفعۃ تو متعلق ہو گی اس کی چاہت تمام غلاموں کے ساتھ اکٹھی، فلا یستقیم إلا بتخصیص البعض تو لہٰذا تبعیض کا معنی درست نہیں رہے گا مگر ایک بعض کی تخصیص سے ہی، ولکن یُرد علیہ لیکن اس پر یہ اشکال وارد ہوتا ہے، کیا اشکال وارد ہوتا ہے؟ أنہ إن شاء الکل علی الترتیب کہ اگر اس ان شاء الکل علی الترتیب، کہ اگر اس نے سب کو چاہا ترتیب سے، آپ نے کیا کہا؟ یہ جو دوسری تقریر ہوئی انہوں نے کیا کہا تھا کہ مخاطب کی مشیت سارے غلاموں سے اکٹھی متعلق ہو گی، جب اکٹھی متعلق ہوئی تو عموم تو آ گیا، تو اگر سارے غلام آزاد ہو جائیں تو تبعیض رہے گی؟ تبعیض نہیں، تو لہٰذا کہنا پڑے گا ایک رہ جائے گا باقی سارے کیا ہو جائیں گے؟ آزاد۔ لیکن اس پر اشکال ہوتا ہے کہ اگر وہ اپنی مشیت کو سب کے ساتھ اکٹھا متعلق کرتا ہی نہیں ہے، یا کرتا تو ہے لیکن آزاد باری باری کرتا ہے، آزاد باری باری، تو اگر آزاد باری باری کرے گا تو جب ایک کو آزاد کیا، ایک کے ساتھ اس کی مشیت متعلق ہو گئی بھئی، تو یہ ایک باقیوں کی طرف نسبت کرتے ہوئے بعض ہے، تو یہ آزاد ہو گیا۔ دوسرے کو چاہا وہ بھی باقیوں کی طرف نسبت کرتے ہوئے بعض، تو اس طرح تو پھر یہاں پر بھی سب کو آزاد ہونا چاہیے۔ یہ جو دوسری تقریر کی تھی ان اس پر اعتراض کر رہے ہیں کہ آپ نے کیا کہا کہ چاہنے والا ایک ہی ہے اور وہ اکٹھا چاہے گا، جب اکٹھا چاہے گا تو پھر عموم پہ تو عمل ہو جائے گا لیکن تبعیض پر عمل کہتے ہیں بھئی، اکٹھا چاہنے کے بجائے اگر وہ ترتیب سے چاہے، ایک کو پھر دوسرے کو پھر تیسرے کو، تو ہر ایک جو ہے باقیوں کی طرف نسبت کرتے ہوئے بعض ہے، اس نے ایک غلام کو چاہا وہ بھی باقیوں کی طرف نسبت کرتے ہوئے بعض، وہ آزاد، دوسرے کو چاہا، تیسرے کو چاہا تو سب باقیوں کی طرف نسبت کرتے ہوئے بعض ہیں، تو اس طرح تو ساروں کو کیا ہو جانا چاہیے؟ آزاد ہونا چاہیے۔ ولکن یُرد علیہ لیکن اس پر یہ اشکال وارد ہوتا ہے، أنہ إن شاء الکل علی الترتیب کہ اگر مخاطب نے چاہا سب غلاموں کو ترتیب سے، فحینئذ یصدق تو اس صورت میں یہ صادق آئے گی یہ صادق آئے گا، ہاں یہ بات صادق آئے گی علی کل واحد ان میں سے ہر ایک پر أنہ شاء عتقہ حال کونہ بعضاً من العبید، من العبد ہے؟ عبید ہونا چاہیے جمع کا لفظ بھئی، تو یہ بات صادق آئے گی ان میں سے ہر غلام پر أنہ شاء عتقہ کہ اس نے اس غلام کی آزادی کو چاہا ہے، حال کونہ بعضاً من العبید اس حال میں کہ یہ ایک غلام جو ہے باقی غلاموں میں سے بعض ہے۔ مسئلہ اچھی طرح سمجھ میں آ گیا؟ فتأمل فیہ پس آپ اس میں غور کر لیجیے۔ فإن قال پس اگر یہ کہا لامتہ اس کسی شخص نے کہا اپنی باندی سے، إن کان ما فی بطنک غلاماً فأنت حرۃ، إن کان اگر وہ جو فی بطنک تیرے پیٹ میں ہے غلاماً اگر وہ لڑکا ہے، غلام عربی میں غلام کو بھی کہتے ہیں اور لڑکے کو بھی، إن کان ما فی بطنک غلاماً اگر وہ جو تیرے جو کچھ تیرے پیٹ میں ہے غلاماً وہ لڑکا ہے فأنت حرۃ تو تو آزاد ہے، فولدت غلاماً وجاریۃ پس اس باندی نے جنم دیا ایک لڑکے اور ایک لڑکی کو، جاریہ لڑکی کو بھی کہتے ہیں باندی کو بھی، تو اس نے ایک لڑکے اور ایک لڑکی کو جنم دیا، لم تعتق تو وہ آزاد نہیں ہو گی بھئی، فقہاء لکھتے ہیں کہ وہ آزاد نہیں ہو گی۔ کیوں؟ وجہ آگے شرح میں ذکر کریں گے، کیونکہ اس نے لفظ ما استعمال کیا اور ما میں عموم ہے، اور تو کلام کا معنی کیا ہوا کہ وہ سارا کچھ جو تیرے پیٹ میں ہے اگر وہ ایک لڑکا ہو تو تو آزاد ہے، اور وہ اب جب جنم دیا تو اب وہ سارا کچھ جو پیٹ میں تھا وہ ایک لڑکا نہیں تھا بلکہ ایک لڑکا اور ایک لڑکی، تو گویا لڑکا وہ سارا لڑکا نہیں تھا بلکہ اس میں سے بعض کیا تھا؟ لڑکا تھا، لہٰذا اس سے وہ آزاد نہیں ہوگی۔ تفريع لكون كلمة "ما" عامة، یہ کلمۂ "ما" کے عام ہونے پر تفریع ہے۔ لأن المعنى حينئذ اسی لیے کیونکہ معنی اس وقت یہ ہوگا: إن كان جميع ما في بطنك غلاما فأنت حرة، دیکھو جميع کا لفظ لے آئے عموم بتلانے کے لیے، اگر وہ سارا کچھ جو تیرے پیٹ میں ہے وہ لڑکا ہے تو تو آزاد ہے۔ إن كان جميع ما في بطنك غلاما، اگر وہ سارا کچھ جو تیرے پیٹ میں ہے وہ ایک لڑکا ہے فأنت حرة، تو تو آزاد ہے۔ ولم يكن كذلك، اور اس طرح اور اس طرح تو نہ تھا۔ بل كان بعض ما في بطنها غلاما وبعضه جارية، بلکہ بعض وہ جو اس کے پیٹ میں تھا وہ لڑکا تھا اور بعض تو لڑکی تھی۔ فلم يوجد الشرط، تو شرط نہ پائی گئی، جب شرط نہیں تو مشروط بھی نہیں، لہذا وہ آزاد بھی نہیں ہوگی۔ لا يقال فحينئذ، یہ ایک اشکال اور اس کا جواب بھئی، کہتے ہیں یہ اشکال کوئی نہ کرے کہ آپ نے کہا "ما" جو ہے عموم کے لیے آتا ہے، پھر تو قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: فاقرءوا ما تيسر من القرآن، پس تم قراءت کرو، پڑھو تم وہ جو آسان ہو قرآن میں سے۔ فاقرءوا، پس تم لوگ پڑھو ما تيسر، وہ جو آسان ہو من القرآن، قرآن میں سے، یعنی نماز کے اندر اس کی تلاوت کرو۔ تو یہاں "ما" آیا بھئی، تو اس کا معنی تو یہ ہے کہ قرآن میں سے جہاں جہاں سے جو جو آسان ہے اس سارے کا پڑھنا واجب ہونا چاہیے بھئی، اس سارے کا پڑھنا واجب ہونا چاہیے بھئی، تو جواب دیں گے۔ کہ بھئی نہیں، یہ اعتراض نہ کیا جائے کہ سارا جتنا آسان ہے اس سارے کی تلاوت واجب ہوگی ہر نماز کے اندر، کہتے ہیں اس لیے کیونکہ اس حکم کا مقصد کیا ہے؟ اس کی بنیاد کس چیز پر ہے؟ سہولت اور آسانی پر ہے، اللہ کس لیے یہ فرما رہے ہیں؟ سہولت اور آسانی کے لیے، تو اگر یہاں پر "ما" کے عموم پر باقی رکھا جائے تو پھر سہولت رہے گی یا مشکل ہو جائے گی؟ تو مشکل ہو جائے گی، تو لہذا چونکہ اس حکم کی بنیاد سہولت پر ہے، لہذا اس قرینے کی وجہ سے یہاں "ما" کو ہم عموم پر محمول نہیں کریں گے بلکہ خصوص پر محمول کریں گے، کہ جہاں بھی اس جہاں جہاں سے بھی آسان لگتا ہے ان میں سے کسی ایک جگہ سے پڑھ لو بھئی، معنی سمجھ میں آگیا؟ لا يقال، یہ نہ کہا جائے فحينئذ، کہ پس اس وقت ينبغي، مناسب یہ ہے أن يجب قراءة جميع ما تيسر من القرآن في الصلاة، کہ واجب ہو پڑھنا اس سارے کا جو آسان ہو قرآن میں سے نماز کے اندر عملا بقوله تعالى، عمل کرتے ہوئے اللہ تعالی کے قول "فاقرءوا ما تيسر من القرآن" پر، لأننا نقول، اس لیے کیونکہ ہم کہتے ہیں بناء الأمر على التيسير، کہ اس حکم کی بنیاد سہولت پر ہونا یہ اس حکم کی بنیاد سہولت پر ہونے ہونا جو ہے ينافي ذلك، وہ اس کے منافی ہے بھئی، کہ اس کو عموم پر محمول کیا جائے، لہذا یہاں اس کو خصوص پر محمول کریں گے۔ وما يجيء بمعنى "من" مجازا، اور "ما" جو ہے وہ آتا ہے "من" کے معنی میں مجازاً بھئی، "ما" بتلایا تھا انہوں نے کس کے لیے آتا ہے؟ غیر ذوی العقول کے لیے، لیکن مجازاً کس کے معنی میں آتا ہے؟ "من" کے معنی میں یعنی ذوی العقول کے لیے بھی، كقوله تعالى، جیسے کہ اللہ تعالی کا قول ہے: والسماء وما بناها، "واؤ" قسمیہ ہے بھئی، قسمیہ جارہ، جر دے گا، قسم ہے آسمان کی وما بناها أي من بناها، اور اس ذات کی بناها، جس نے اس کو بنایا، قسم ہے آسمان کو، آسمان کی اور اس کے بنانے والے کی، یعنی اللہ کی ذات کی۔ تو یہاں "ما" کس معنی میں ہے؟ "من" کے معنی میں ہے بھئی۔ اچھا کیا بتلایا انہوں نے متن میں کہ "ما" کبھی کس معنی میں آتا ہے؟ "من"، اور اسی طرح شارح نے آپ کو پہلے بتلایا تھا کہ "من" بھی کبھی کس معنی میں آ جاتا ہے؟ "ما" کے معنی میں آ جاتا ہے۔ لیکن کہتے ہیں ماتن نے اس کو ذکر نہیں کیا، یہ تو کہا "ما" "من" کے معنی میں آتا ہے، لیکن "من" کبھی کس کے معنی میں آتا ہے؟ "ما" کے معنی میں آتا ہے مجازاً، اس کو ذکر نہیں کیا کیونکہ وہ نہایت قلیل ہے کہ "من" کس معنی میں آ جائے؟ "ما" کے معنی میں۔ یہیں بات بیان کر رہے ہیں: ولم يتعرض لمثل ذلك في "من"، اور درپے نہیں ہوئے، پیچھے نہیں پڑے اسی کے مثل "من" میں، یعنی "من" میں انہوں نے مصنف نے یہی بات نہیں کہی کہ یہ بھی "ما" کی طرح آتا ہے، على ما ذكرت، بناء پر اس کے جو میں نے ذکر کر دیا ہے، پیچھے شرح میں یہ ذکر کر چکے ہیں، کیوں نہیں پڑے "من" میں اس اس کے مثل ذکر کرنے کے پیچھے؟ کہتے ہیں لقلته، وجہ قلیل ہونے کے، اس کے قلیل ہونے کے۔ ويدخل في صفات من يعقل أيضا، اور یہ جو "من" ہے یہ داخل ہوتا ہے ذوی العقول کی صفات میں بھی بھئی، ذوی العقول کی صفات میں بھی "ما" داخل ہو جاتا ہے، تقول، آپ کہتے ہیں مثال کے طور پر: ما زيد؟ زيد کیا ہے؟ فجوابه الكريم، تو اس کا جواب کیا ہے؟ الكريم، سخی ہے۔ تو دیکھیے، "ما" کے ذریعے کس کی صفت کے بارے میں پوچھا گیا؟ ذوی العقول کی صفت کے بارے میں پوچھا گیا۔ وقال الله تعالى، اور اللہ فرماتے ہیں قرآن میں: فانكحوا ما طاب لكم، پس تم نکاح کرو ما، وہ جو کہ طاب، پسندیدہ ہیں لكم، تمہارے نزدیک، أي الطيبات لكم، تو "ما طاب" کس معنی میں ہے؟ "الطيبات"، تو وہ جو پسندیدہ ہیں تمہارے لیے، جو تمہیں پسند ہیں، جو پاکیزہ ہیں۔ تو یہاں دیکھیے "ما" آیا اور بات کیا چل رہی ہے؟ کہ "ما" کبھی کس کے لیے آتا ہے؟ ذوی العقول کی صفات کے لیے، تو "ما" جو ہے یہاں ان سے عورتیں مراد ہیں لیکن ان کی ذات نہیں بلکہ ان کی صفت و صفات مراد ہے، چنانچہ اسی لیے شارح نے آگے ترجمہ کیا أي الطيبات لكم، أي الطيبات لكم بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ "ما طاب" کے تفسیر ہو رہی ہے نا اور "ما طاب"، "ما" جو ہے مفعول ہے "فانكحوا" کے لیے تو "الطيبات" اس پر بھی نصب پڑھیں گے اور یہ جمع مؤنث سالم ہے اور اس کا نصب کس کی صورت میں آتا ہے؟ کسرہ کی صورت میں، تو أي الطيبات لكم۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی سب کو اچھی طرح؟ چلیے بس مولانا، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔