بَابُ إِدْرَاكِ الْفَرِيْضَةِ وَمَنْ صَلَّى رَكْعَةً مِنَ الظُّهْرِ ثُمَّ أُقِيْمَتْ يُصَلِّيْ أُخْرَى صِيَانَةً لِلْمُؤَدَّى عَنِ الْبُطْلَانِ ثُمَّ يَدْخُلُ مَعَ الْقَوْمِ إِحْرَازًا لِفَضِيْلَةِ الْجَمَاعَةِ وَإِنْ لَمْ يُقَيِّدِ الْأُولَى بِالسَّجْدَةِ يَقْطَعُ وَيَشْرَعُ مَعَ الْإِمَامِ هُوَ الصَّحِيْحُ۔ بَابُ إِدْرَاكِ الْفَرِيْضَةِ، یہ باب ہے فریضے کے پا لینے کے بیان میں۔ یعنی کوئی شخص فرضوں کی جماعت پا لے بھئی۔ تو اس باب میں چند مسائل ذکر ہوں گے کہ کوئی شخص اپنی اکیلے فرض پڑھنا شروع کرتا ہے اور اس دوران جماعت کھڑی ہو جاتی ہے، وہی والی جو وہ ادا کر رہا ہے، تو پھر کیا کرے؟ تو یہ مسائل اس میں ذکر ہوں گے اور اسی طرح اس سے متعلقہ کچھ اور مسائل بھی ذکر ہوں گے۔ بَابُ إِدْرَاكِ الْفَرِيْضَةِ، یہ باب ہے فریضے کے پا لینے کے بیان میں۔ وَمَنْ صَلَّى رَكْعَةً مِنَ الظُّهْرِ ثُمَّ أُقِيْمَتْ يُصَلِّيْ أُخْرَى، صورت مسئلہ یہ: ایک شخص نے ظہر کی نماز اکیلے پڑھنا شروع کر دی اور ابھی ایک ہی رکعت پڑھی تھی ظہر کی کہ جماعت کھڑی ہو گئی ظہر کی بھئی، جو ظہر کی جماعت کھڑی ہو گئی، تو اب کیا کرے؟ تو اپ کو صاحب قدوری بتلائیں گے کہ یہ شخص جو ایک رکعت ظہر کے فرض پڑھ چکا ہے، یہ اب اس کو چھوڑ دے اور کس میں شامل ہو جائے؟ جماعت میں شامل ہو جائے، کیونکہ جماعت کی نماز کا ثواب جو ہے وہ ستائیس گنا زیادہ ہے، تو اس فضیلت کو حاصل کرنے کے لیے اور اس ثواب کو سمیٹنے کے لیے یہ اس میں شامل ہو جائے۔ لیکن ادھر یہ ایک رکعت پڑھ چکا ہے، تو اس ایک رکعت کو بھی باطل نہ کرے بلکہ اس کے ساتھ ایک رکعت اور ملا کر پھر سلام پھیر دے، تو یہ دو رکعتیں جو ہیں یہ نفل ہو جائیں گی اور پھر جماعت کے ساتھ شامل ہو کر ظہر کے فرض بھی ادا کر لے۔ تو کہتے ہیں: وَمَنْ صَلَّى رَكْعَةً مِنَ الظُّهْرِ اور جس نے ایک رکعت پڑھ لی ظہر کی نماز میں سے، ثُمَّ أُقِيْمَتْ پھر نماز قائم کر دی گئی یعنی جماعت قائم کر دی گئی، یعنی ظہر کی جماعت کھڑی ہو گئی، يُصَلِّيْ أُخْرَى تو یہ نماز پڑھنے والا جو ایک رکعت پڑھ چکا ہے، يُصَلِّيْ أُخْرَى یہ دوسری رکعت بھی پڑھ لے، یعنی دو پوری کر لے اور پھر سلام پھیر دے۔ بھئی یہ دوسری ایک رکعت کیوں پڑھ لے؟ یہ حکم کیوں دیا جا رہا ہے؟ کہتے ہیں: صِيَانَةً لِلْمُؤَدَّى عَنِ الْبُطْلَانِ، تاکہ صیانۃً بچانے کے لیے اس کو جس کو اس نے ادا کیا ہے، یعنی وہ جو ایک رکعت جس کو یہ ادا کر چکا ہے اس کو باطل ہونے سے بچانے کے لیے، ورنہ تو کیا ہو جائے گی وہ ایک رکعت؟ باطل ہو جائے گی۔ ایک رکعت کی نماز سے تو منع کیا گیا ہے، تو لہٰذا اب اس کے ساتھ ایک اور رکعت ملا لے تاکہ دو نفل بن جائیں۔ ثُمَّ يَدْخُلُ مَعَ الْقَوْمِ، پھر شامل ہو جائے ان لوگوں کے ساتھ، إِحْرَازًا لِفَضِيْلَةِ الْجَمَاعَةِ، اَحْرَزَ يُحْرِزُ إِحْرَازٌ کا معنی ہوتا ہے جمع کرنا۔ پھر ان لوگوں کے ساتھ شامل ہو جائے إِحْرَازًا لِفَضِيْلَةِ الْجَمَاعَةِ، جماعت کی فضیلت کو سمیٹنے کے لیے۔ وَإِنْ لَمْ يُقَيِّدِ الْأُولَى بِالسَّجْدَةِ يَقْطَعُ وَيَشْرَعُ مَعَ الْإِمَامِ، اور اگر اس نے پہلی رکعت کو سجدے کے ساتھ مقید نہیں کیا تھا۔ بھئی اس شخص نے آ کر اپنی نماز پڑھنا شروع کر دی۔ ابھی پہلی رکعت، پہلی صورت تو کیا تھی؟ ایک رکعت پڑھ چکا تھا، تو اس میں بتایا ایک رکعت اور ساتھ ملا لے اور پھر جماعت میں شامل ہو جائے۔ اور دوسری صورت یہ کہ نماز اس نے شروع کی ہے ابھی سجدہ نہیں کیا پہلی رکعت کا، تو اس صورت میں اب یہیں سے کیا کر دے نماز کو؟ چھوڑ دے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَإِنْ لَمْ يُقَيِّدِ الْأُولَى بِالسَّجْدَةِ اور اگر اس نے پہلی رکعت کو مقید نہیں کیا سجدے کے ساتھ، یعنی اس کا ابھی سجدہ نہیں کیا، يَقْطَعُ تو نماز کو توڑ دے، وَيَشْرَعُ مَعَ الْإِمَامِ اور امام کے ساتھ شروع ہو جائے جماعت میں، هُوَ الصَّحِيْحُ یہی قول صحیح ہے، لِأَنَّهُ بِمَحَلِّ الرَّفْضِ اس لیے کیونکہ یہ جو جو اس نے شروع کیا ہے یہ محل رفض میں ہے۔ رفض کا معنی چھوڑنا، چھوڑنا۔ یعنی اس کو چھوڑا جا سکتا ہے۔ اس موقع پر جب تک ابھی تک جبکہ ابھی اس نے سجدہ نہیں کیا تو یہ محل رفض میں ہے، یعنی اس کو چھوڑا جائے، یہ چھوڑنے کے محل میں ہے اس کو چھوڑا جا سکتا ہے۔ جیسے آپ نے پڑھا ہے بھئی کہ ایک شخص ہے اور چار رکعت اس نے نماز چار رکعت والی پڑھی اور بھول کر پانچویں رکعت کے لیے بھی کھڑا ہو گیا۔ تو اس میں فقہاء کیا فرماتے ہیں؟ کہ اگر پانچویں کو اگر ابھی سجدے کے ساتھ مقید نہیں کیا تو واپس لوٹ جائے، بیٹھ جائے پھر۔ تو دیکھو وہاں پر بھی کیا کر دیا جاتا ہے؟ اس پانچویں رکعت کو جب تک سجدے سے مقید نہیں کیا جاتا اس کو چھوڑ دیا جاتا ہے۔ تو جب تک سجدہ نہیں کیا اس کو چھوڑا جا سکتا ہے، تو یہ محل رفض میں ہے، چھوڑنے کے محل میں ہے۔ لِأَنَّهُ بِمَحَلِّ الرَّفْضِ اس لیے کیونکہ یہ چھوڑنے کے محل میں ہے، وَالْقَطْعُ لِلْإِكْمَالِ اور توڑنا بھی پورا کرنے کے لیے ہے۔ یہ جو توڑنے کا حکم دیا جا رہا ہے کہ ابھی پہلی رکعت کا سجدہ بھی نہیں کیا تو اس کو کیا کر دو؟ توڑ دو، چھوڑ دو۔ تو یہ توڑنے کا حکم بھی کس لیے ہے؟ پورا کرنے کے لیے ہے تاکہ زیادہ کامل طریقے سے نماز ادا ہو جائے کس طرح؟ جماعت کے ساتھ بھئی، جماعت کے ساتھ۔ تو کہتے ہیں: وَالْقَطْعُ لِلْإِكْمَالِ اور توڑنا جو ہے کامل کرنے کے لیے ہے، پورا کرنے کے لیے ہے، بِخِلَافِ مَا إِذَا كَانَ فِي النَّفْلِ لِأَنَّهُ لَيْسَ لِلْإِكْمَالِ، بخلاف اس کے کہ جب وہ نفل میں تھا اس لیے کیونکہ وہ اکمال کے لیے نہیں ہو گا۔ بخلاف اس کے کہ اگر اس نے نفل شروع کیے تھے تو پھر کیا کر لے؟ ان نفلوں کو پورا کر لے بھئی۔ کیا کر لے؟ نفلوں کو پورا کر لے، اس لیے کیونکہ اگر وہاں بھی توڑنے کا کہا جائے تو نفل توڑے گا اور جماعت کے ساتھ شامل ہو گا تو وہ جماعت کے ساتھ تو فرض ہوں گے اور جس کو توڑا ہے وہ کیا تھے؟ نفل تھے۔ تو لہٰذا وہاں ایسا نہ کرے بلکہ نفلوں کو کیا کر لے؟ پورا کر لے اور دو رکعت پر سلام پھیر دے۔ جبکہ یہاں فرضوں میں ہم نے کہا کہ فرضوں کو توڑ دے، اس لیے کیونکہ یہ جو پڑھ رہا ہے وہ ظہر کے فرض ہیں اور جماعت کے ساتھ بھی کیا ادا کرے گا؟ وہی فرض ادا کرے گا، تو توڑ کر پھر جب جماعت کے ساتھ ادا کرے گا تو زیادہ کامل طریقے سے وہ نماز ادا ہو گی۔ اسی لیے کہا کہ لِأَنَّهُ لَيْسَ لِلْإِكْمَالِ، نفلوں کے اندر وہ اکمال کے لیے توڑنا اکمال کے لیے نہیں ہو سکتا اس لیے ان کو نہ توڑے- وَلَوْ كَانَ فِي السُّنَّةِ قَبْلَ الظُّهْرِ وَالْجُمُعَةِ فَأُقِيْمَ أَوْ خُطِبَ يَقْطَعُ عَلَى رَأْسِ الرَّكْعَتَيْنِ، صورت مسئلہ یہ: ایک شخص ہے ظہر کی نماز سے پہلے اس نے سنتیں پڑھنا شروع کر دیں اور اس دوران اقامت شروع ہو گئی، یا جمعہ کے سے پہلے اس نے سنتیں پڑھنا شروع کی تھیں اور اس دوران خطبہ شروع ہو گیا، خطبہ شروع ہو گیا، تو صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ یہ شخص جو ہے دو رکعتوں پر ہی سلام پھیر دے۔ دو رکعتوں پر ہی ظہر کی سنتیں تو چار تھیں یا اسی طرح جمعہ کی سنتیں چار تھیں، لیکن یہ کیا کرے؟ دو رکعتوں پر ہی سلام پھیر دے اور کس میں شامل ہو جائے؟ ظہر کی نماز میں، یا خطبہ سننے کے لیے بیٹھ جائے کیونکہ خطبہ سننا بھی واجب ہے۔ وَلَوْ كَانَ فِي السُّنَّةِ قَبْلَ الظُّهْرِ وَالْجُمُعَةِ اور اگر وہ شخص سنتوں میں تھا مشغول تھا ظہر سے پہلے اور جمعہ کی نماز سے پہلے، فَأُقِيْمَ تو اقامت کہہ دی گئی، أَوْ خُطِبَ یا خطبہ کہا گیا یعنی خطبہ شروع کر دیا گیا، يَقْطَعُ عَلَى رَأْسِ الرَّكْعَتَيْنِ تو وہ توڑ دے ان کو دو رکعت پر ہی، ان سنتوں کو دو رکعت۔ رَأْسُ الشَّيْءِ کہتے ہیں کسی شے کا اول حصہ، اول حصہ۔ اسی طرح رَأْسٌ کا لفظ کنارے کے لیے بھی آتا ہے اور یہاں اس معنی میں ہے۔ دو رکعتوں کے کنارے پر یعنی دو رکعتوں کے پورا ہونے پر توڑ دے ان کو۔ تو يَقْطَعُ عَلَى رَأْسِ الرَّكْعَتَيْنِ تو توڑ دے ان سنتوں کو دو رکعتوں کے کنارے پر۔ يُرْوَى ذٰلِكَ عَنْ أَبِيْ يُوْسُفَ رَحِمَهُ اللّٰهُ، یہ روایت کیا گیا ہے امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے۔ وَقَدْ قِيْلَ يُتِمُّهَا اور تحقیق کہا گیا ہے کہ ان کو پورا کر لے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ وَإِنْ كَانَ قَدْ صَلَّى ثَلَاثًا مِنَ الظُّهْرِ يُتِمُّهَا، تیسری صورت بھئی۔ ایک صورت یہ ذکر کر دی کہ ایک رکعت پڑھ چکا تھا ظہر کی کہ جماعت کھڑی ہو گئی، تو کیا حکم بتلایا؟ کہ اس کے ساتھ ایک رکعت اور ملائے اور پھر کس میں شامل ہو جائے؟ جماعت میں، یعنی وہ ظہر کی نماز وہ جو دو رکعت تھے وہ نفل بن جائیں گے، تو یعنی ظہر کی نماز چھوڑ دے اور پھر جماعت میں شامل ہو لیکن وہ ایک کو ایک پر ہی قطع نہ کرے بلکہ ایک کو بھی باطل ہونے سے بچا لے اور ایک رکعت اور ملا لے تو وہ نفل بن جائیں گے۔ اور اگر اس نے پہلی رکعت کا سجدہ ہی نہیں کیا تھا تو پھر کیا کر لے؟ پھر وہیں پر چھوڑ دے کیونکہ ابھی یہ چھوڑنے کا محل ہے، اب اس موقع پر چھوڑا جا سکتا ہے۔ اور اب تیسری صورت ذکر کر رہے ہیں کہ ظہر کی نماز ایک شخص نے اکیلے پڑھنا شروع کی اور تین رکعتیں پڑھ چکا ہے، تین رکعتیں پڑھ چکا ہے، اب ظہر کی نماز کھڑی ہوئی تو اب کہتے ہیں اب نہ توڑے بلکہ کیا کر لے؟ پورا کر لے، کیونکہ تین رکعتیں وہ پڑھ چکا اور کل کتنی رکعتیں تھیں ظہر کی؟ چار۔ تو اکثر پڑھ چکا، اور لِلْأَكْثَرِ حُكْمُ الْكُلِّ، اکثر کے لیے کل کا حکم ہے تو جب اکثر رکعتیں پڑھ چکا ہے تو گویا ساری ہی رکعتیں پڑھ چکا ہے، یوں ہی سمجھا جائے گا۔ اور اس اب اس کو توڑا نہیں جا سکتا، اس لیے کیونکہ جب نماز پوری ہو جائے تو پھر اس کو نہیں توڑا جا سکتا، تو جب پوری ہونے پر نہیں توڑا جا سکتا اسی طرح جب اکثر رکعتیں پڑھ لیں تو اب بھی اسے توڑا نہیں جا سکتا۔ یا یوں کہیے کہ جب پوری کرنے پر نماز کو نہیں توڑا جا سکتا، ایک دفعہ جب نماز پوری پڑھ لی پھر توڑا جا سکتا ہے اس کو؟ پھر تو نہیں توڑا جا سکتا۔ تو اب جب اکثر رکعتیں ادا کر لی ہیں یعنی چار میں سے تین پڑھ چکا ہے، ابھی کامل تو نہیں پوری تو نہیں لیکن شبہ کمال آ گیا یا نہیں؟ کامل ہونے کا شبہ آ گیا، اور جب کامل یعنی پوری ہونے کے بعد نماز کو نہیں توڑا جا سکتا تو کامل ہونے کا شبہ آ جائے پھر بھی نہیں توڑا جا سکتا۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: وَإِنْ كَانَ قَدْ صَلَّى ثَلَاثًا مِنَ الظُّهْرِ اور اگر وہ تین رکعتیں ظہر میں سے پڑھ چکا ہے، يُتِمُّهَا پھر کیا کر لے اس کو؟ پورا کر لے، لِأَنَّ لِلْأَكْثَرِ حُكْمَ الْكُلِّ اس لیے کیونکہ اکثر شے کے لیے کل کا حکم ہوتا ہے، فَلَا يَحْتَمِلُ النَّقْضَ تو یہ توڑے جانے کا احتمال نہیں رکھتی۔ اب اس کو توڑا نہیں جا سکتا، پوری تو نہیں ہوئی لیکن پوری ہونے کا شبہ آ گیا۔ بِخِلَافِ مَا إِذَا كَانَ فِي الثَّالِثَةِ بَعْدُ، بخلاف اس کے کہ جب وہ دوسری رکعت کے بعد تیسری رکعت میں تھا، کس میں تھا؟ تیسری رکعت میں تھا۔ تو وَلَمْ يُقَيِّدْهَا بِالسَّجْدَةِ اور حال یہ ہے کہ اس نے اس کو سجدے کے ساتھ مقید نہیں کیا، حَيْثُ يَقْطَعُهَا اس کو کیا کر دے گا؟ توڑ دے گا بھئی، توڑ دے گا۔ بھئی چوتھی صورت آ گئی۔ چوتھی صورت یہ کہ ایک شخص نے دو رکعتیں ادا کر لی تھیں اور پھر تیسری کے لیے اٹھ گیا تھا لیکن تیسری رکعت کو ابھی اس نے ادا نہیں کیا ہے یعنی سجدے کے ساتھ مقید نہیں کیا۔ شروع تو کر دیا ہے لیکن سجدے کے ساتھ مقید نہیں کیا تو پھر بھی یاد رکھیے کہ اب جب سجدے کے ساتھ مقید نہیں کیا تو ابھی اکثر نماز نہیں ہوئی۔ جب اکثر نماز نہیں ہوئی تو پھر کیا کر سکتا ہے؟ اس کو اس کو توڑے، توڑ دے اور توڑ کر کس میں شامل ہو جائے؟ فرضوں میں شامل ہو جائے، تاکہ زیادہ کامل طریقے سے اس کے فرض ادا ہو جائیں۔ اکیلے ادا کرے گا تو اتنا ثواب نہیں، جماعت کے ساتھ ادا کرے گا تو ستائیس گنا زیادہ ثواب ہے۔ تین رکعتیں پڑھ، متن میں کیا آیا؟ اگر تین پڑھ چکا ہے ظہر کی اور پھر جماعت کھڑی ہوئی تو ان تین کو توڑے گا یا پورا کرے گا؟ ان کو پورا کر لے، بِخِلَافِ مَا إِذَا كَانَ فِي الثَّالِثَةِ بَعْدُ بخلاف اس کے کہ جب وہ دوسری کے بعد کس رکعت میں تھا؟ تیسری رکعت میں تھا، یہ اس کے خلاف ہے۔ اس میں ہم نے کیا کہا تھا؟ اس میں وہ پورا کرے گا اور یہ صورت اس کے خلاف ہے، اس میں کیا کر دے گا نماز کو؟ توڑ دے گا۔ بخلاف اس کے کہ جب وہ تیسری رکعت میں تھا وَلَمْ يُقَيِّدْهَا بِالسَّجْدَةِ اور اس کو سجدے کے ساتھ مقید نہیں کیا تھا، حَيْثُ يَقْطَعُهَا کیونکہ اس کو وہ توڑ دے گا۔ کیونکہ اس کو وہ، حَيْثُ تعلیل کے لیے آتا ہے، یہاں بھی حَيْثُ کس لیے ہے؟ تعلیل کے لیے، کیونکہ وہ اس کو توڑ دے گا۔ بھئی عبارت کا ترجمہ کس طرح بامحاورہ؟ دیکھو پچھلے متن کو ملاؤ بھئی: وَإِنْ كَانَ قَدْ صَلَّى ثَلَاثًا مِنَ الظُّهْرِ اور اگر وہ تین رکعتیں پڑھ چکا ہے ظہر کی تو ان کو کیا کر لے گا؟ مکمل کر لے گا، بخلاف اس صورت کے کہ جب وہ تیسری رکعت میں تھا تو اور اس کو اس نے سجدے کے ساتھ مقید نہیں کیا تھا تو یہ صورت اس صورت کے خلاف ہے، حَيْثُ يَقْطَعُهَا کیونکہ اس کو کیا کر دے گا وہ؟ توڑ دے گا، تو یہ اس کے خلاف ہے کیونکہ اس کو توڑ دے گا۔ اور اس میں کیا ہم نے کہا تھا کہ اس کو پورا کر لے۔ تو اس کو کیوں توڑے گا؟ کہتے ہیں لِأَنَّهُ بِمَحَلِّ الرَّفْضِ، کیونکہ یہ چھوڑنے کے محل میں ہے، اس کو چھوڑا جا سکتا ہے۔ وَيَتَخَيَّرُ، آگے یہ بتلا رہے ہیں کہ اس کو چھوڑنا چھوڑنا ہے، اب کیا کرے؟ تیسری رکعت میں کھڑا ہو گیا ہے اور ابھی اس نے سجدہ نہیں کیا اور ادھر جماعت کھڑی ہو گئی، تو کہتے ہیں اس کو اختیار ہے چاہے تو بیٹھ جائے اور بیٹھ کر سلام پھیر دے اور پھر جماعت میں شامل ہو جائے، اور چاہے تو کھڑے کھڑے ہی جماعت میں شامل ہونے کی نیت کر لے اور تکبیر تحریمہ کہہ دے، اللہ اکبر کہہ دے۔ صورت سمجھ میں آئی؟ کون سی صورت ہے؟ ایک آدمی ہے تیسری رکعت کے لیے اٹھ چکا ہے لیکن اس کو ابھی سجدے کے ساتھ مقید نہیں کیا، اب جماعت کھڑی ہو گئی، اب وہ جماعت میں تو اب یہ چھوڑے جانے کا محل ہے، اس نماز کو چھوڑے اور کس میں شامل ہو جائے؟ جماعت میں، لیکن کس طرح چھوڑے؟ کہتے ہیں اس کو اختیار ہے چاہے تو بیٹھ کر سلام پھیر دے اور پھر جماعت میں شامل ہو جائے، اور چاہے تو کھڑے کھڑے ہی کیا کر لے؟ جماعت میں شامل ہونے کی نیت کر کے تکبیر تحریمہ کہہ دے اور شامل ہو جائے۔ یہ معنی ہے: وَيَتَخَيَّرُ اور اس کو اختیار ہے، إِنْ شَاءَ عَادَ اگر چاہے تو لوٹ جائے تیسری رکعت سے پھر قعدے کی طرف، تو لوٹ جائے، فَقَعَدَ تو بیٹھ جائے، وَسَلَّمَ اور سلام پھیر دے، وَإِنْ شَاءَ كَبَّرَ قَائِمًا اور اگر چاہے تو تکبیر کہہ دے قَائِمًا اس حال میں کہ وہ کھڑا ہو، یعنی کھڑے ہوتے کھڑے ہونے کی حالت میں ہی تکبیر کہہ دے، يَنْوِي الدُّخُوْلَ فِي صَلَاةِ الْإِمَامِ نیت کرتے ہوئے امام کی نماز میں داخل ہونے کی۔ وَإِذَا أَتَمَّهَا يَدْخُلُ، یہ اب وہ صورت ذکر کر رہے ہیں کہ جب یہ اپنی نماز تین رکعتیں پڑھ چکا تھا، تین رکعتیں پڑھ چکا تھا اور جماعت کھڑی ہو گئی تو کیا کرے گا؟ انہوں نے کیا بتلایا؟ نماز کو مکمل کر لے، چوتھی رکعت ساتھ ملا لے، پھر پوری کرنے کے بعد پھر اس جماعت کے ساتھ یہ شامل ہو جائے۔ کس کے ساتھ شامل ہو جائے؟ جماعت کے ساتھ شامل ہو جائے، لیکن اب فرضوں کی نیت کے ساتھ شامل نہیں ہو گا، فرض کو اس نے پورے کر لیے، اس کے ادا ہو گئے اور فرضوں کا ایک وقت کے اندر دوبارہ تکرار نہیں ہوتا، لہٰذا اب جماعت کے ساتھ نفلوں کی نیت کے ساتھ شامل ہو جائے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے: وَإِذَا أَتَمَّهَا اور جب ان کو پورا کر لے، يَدْخُلُ مَعَ الْقَوْمِ تو ان لوگوں کے ساتھ جماعت میں داخل ہو جائے، وَالَّذِيْ يُصَلِّيْ مَعَهُمْ نَافِلَةٌ اور وہ جو ان لوگوں کے ساتھ یہ پڑھے گا نافلۃٌ وہ نفل ہوں گے، لِأَنَّ الْفَرْضَ لَا يَتَكَرَّرُ فِي وَقْتٍ وَاحِدٍ اس لیے کیونکہ فرض جو ہے اس کا تکرار نہیں ہوتا ایک وقت کے اندر۔ دوبارہ ایک فرض کو نہیں پڑھا جاتا ہے۔ ظہر کی یہ نماز پڑھ چکا ہے، اب دوبارہ یہ ظہر کی نماز جماعت کے ساتھ دوبارہ فرض نہیں ہوں گے، وہ نفل ہوں گے۔ فَإِنْ صَلَّى مِنَ الْفَجْرِ رَكْعَةً ثُمَّ أُقِيْمَتْ يَقْطَعُ وَيَدْخُلُ مَعَهُمْ، اب دوسری صورت۔ یہ تو ظہر کی نماز کی بات تھی، فجر میں اگر ایک شخص اپنی نماز پڑھ رہا ہے، نماز پڑھنا شروع کی اور ایک رکعت پڑھ چکا ہے اور فجر کی نماز اور جماعت کھڑی ہو گئی، تو اب اس ایک کو یہیں پر توڑ دے، چھوڑ دے، اور جماعت میں شامل ہو جائے۔ ایک رکعت پڑھ چکا ہے پھر بھی کیا کر دے؟ اس نماز کو توڑ دے اور کس میں داخل ہو جائے؟ جماعت۔ بھئی آپ نے ہمیں ظہر کی نماز میں یہی مسئلہ پیش آیا تھا تو بتلایا تھا ایک رکعت اور ساتھ ملا لے، کہتے ہیں بھئی یہاں اگر یہ حکم دیا جائے کہ ایک رکعت اور ساتھ ملا لو، پھر تو فجر کی تو نماز ہی دو رکعت ہے تو اس کے تو فرض پورے ہو جائیں گے اور یہ جماعت کے ثواب سے اور فضیلت سے محروم رہ جائے گا، اس لیے ہم نے کہا کہ یہاں وہ کیا کر دے؟ اس کو چھوڑ دے اور جماعت میں شامل ہو جائے اس ثواب سمیٹنے کے لیے۔ فَإِنْ صَلَّى مِنَ الْفَجْرِ رَكْعَةً اور اگر وہ پڑھ چکا ہے فجر میں سے ایک رکعت، ثُمَّ أُقِيْمَتْ پھر اقامت کہہ دی گئی، يَقْطَعُ وَيَدْخُلُ مَعَهُمْ یا اقیمت جماعت کھڑی کر دی گئی، يَقْطَعُ وَيَدْخُلُ مَعَهُمْ تو وہ نماز کو توڑ دے اور ان کے ساتھ شامل ہو جائے، لِأَنَّهُ لَوْ أَضَافَ إِلَيْهَا أُخْرَى اس لیے کیونکہ اگر اس نے ملا دی اس کے ساتھ ایک اور رکعت، تَفُوْتُهُ الْجَمَاعَةُ تو اس کی جماعت فوت ہو جائے گی۔ وَكَذَا إِذَا قَامَ، کہتے ہیں یہی صورت ہو گی اگر وہ دوسری رکعت کے لیے کھڑا ہو چکا تھا۔ دوسری رکعت کے لیے کھڑا ہو چکا، پہلی صورت یہ تھی کہ ایک رکعت ادا کی ہے ابھی دوسری کے لیے کھڑا نہیں ہوا، لیکن اگر دوسری کے لیے وہ کھڑا بھی ہو چکا ہے اکیلے اور ادھر جماعت کھڑی ہو گئی، تو بھی کیا کر دے؟ توڑ دے جب تک کہ اس نے اس کو سجدے کے ساتھ مقید نہیں کیا۔ وَكَذَا إِذَا قَامَ إِلَى الثَّانِيَةِ اور اسی طرح حکم ہے جب وہ کھڑا ہو جائے دوسری رکعت کی طرف، قَبْلَ أَنْ يُقَيِّدَهَا بِالسَّجْدَةِ جبکہ وہ کھڑا ہو دوسری رکعت کی طرف، قبل اس کے کہ اس کو سجدے کے ساتھ مقید کرے، وَبَعْدَ الْإِتْمَامِ اور اگر اس نے پورا کر لیا یا یہ نماز پوری کر چکا تھا سجدے سے مقید کر چکا تھا، اب جماعت کھڑی ہو گئی، تو کہتے ہیں اب یہ اپنی نماز پوری کر چکا ہے اور پھر یہ ظہر میں تو تھا کہ یہ اپنی نماز پوری کر کے کس میں شامل ہو جاتا تھا؟ جماعت میں، اور کس نیت سے شامل ہوتا تھا؟ نفلوں کی نیت سے، لیکن فجر کی نماز تو اس کی مکمل ہو گئی، اب یہ جماعت کے ساتھ نفلوں کی نیت سے شامل نہ ہو کیونکہ فجر کی نماز کے بعد نفل صحیح نہیں ہیں۔ تو کہتے ہیں: وَبَعْدَ الْإِتْمَامِ لَا يَشْرَعُ فِي صَلَاةِ الْإِمَامِ اور پورا کرنے کے بعد یہ امام کی نماز میں شروع نہ ہو، لِكَرَاهِيَةِ النَّفْلِ بَعْدَهُ اس لیے کہ فجر کی نماز کے بعد نفل مکروہ ہیں، تو نفلوں کے مکروہ ہونے کی وجہ سے فجر کے بعد۔ وَكَذَا بَعْدَ الْمَغْرِبِ فِي ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ، اور اسی طرح مغرب کے بعد بھی ظاہر روایت میں بھئی، یعنی اس کے مطابق بھئی۔ ظاہر روایت میں آیا ہے کہ مغرب کی نماز میں بھی اسی طرح کرے، یعنی اگر اپنی نماز پوری کر لی ہے تو پھر جماعت کے ساتھ شامل نہ ہو نفلوں کی نیت سے، پھر جماعت میں شامل نہ ہو۔ بھئی مغرب میں کیوں؟ مغرب کے بعد تو نوافل کے اندر کوئی کراہت نہیں ہے، اس کے بعد تو نفل پڑھے جا سکتے ہیں، کہتے ہیں بھئی اگر یہ امام کے ساتھ نفلوں کی نیت سے شامل ہو گا تو دو خرابیوں میں سے ایک خرابی ضرور پیش آئے گی، یا تو یہ امام کے ساتھ ہی سلام پھیرے گا تو نفل تو تین رکعت ہو گئے، حالانکہ تین رکعت تو نفل نہیں درست بھئی تین رکعت، اور یا پھر اسے یہ کرنا پڑے گا کہ امام کے سلام پھیرنے کے بعد ایک رکعت اور ملانا پڑے گی اور اس صورت میں امام کی مخالفت لازم آئے گی اور امام کی مخالفت بھی درست نہیں، تو دو خرابیوں میں سے ایک ضرور لازم آئے گی اس لیے مغرب کے بعد بھی جب پوری کر لے تو پھر جماعت کے ساتھ شامل نہ ہو بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَكَذَا بَعْدَ الْمَغْرِبِ فِي ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ اور اسی طرح ہے مغرب کے بعد بھی ظاہر روایت میں، یعنی امام کے ساتھ شروع نہ ہو، لِأَنَّ التَّنَفُّلَ بِالثَّلَاثِ مَكْرُوْهٌ اس لیے کیونکہ تین رکعت کے ساتھ نفل پڑھنا یہ مکروہ ہیں، تو اگر تین پر سلام پھیرے گا تو یہ مکروہ پیش آئے گا، وَفِي جَعْلِهَا أَرْبَعًا مُخَالَفَةٌ لِإِمَامِهِ اور ان تین کو چار بنانے میں اپنے امام کی مخالفت لازم آئے گی بھئی، اس کی مخالفت ہو گی اگر ایک رکعت اور ملائے گا۔ وَمَنْ دَخَلَ مَسْجِدًا قَدْ أُذِّنَ فِيْهِ يُكْرَهُ لَهُ أَنْ يَخْرُجَ حَتَّى يُصَلِّيَ، اور جو شخص داخل ہوا کسی ایسی مسجد میں کہ جس میں اذان دی جا چکی ہے، يُكْرَهُ لَهُ تو اس کے لیے مکروہ ہے، أَنْ يَخْرُجَ کہ وہ مسجد سے نکلے، حَتَّى يُصَلِّيَ یہاں تک کہ یہ نماز پڑھ لے۔ بھئی کوئی شخص اذان ہو جانے کے بعد مسجد میں داخل ہو تو اس کے لیے نماز پڑھے بغیر وہاں سے نکلنا مکروہ ہے بھئی، نماز پڑھے بغیر نکلنا مکروہ۔ یہ معنی ہے کہ مکروہ ہے اس کے لیے کہ وہ نکلے حَتَّى يُصَلِّيَ یہاں تک کہ نماز پڑھ لے، لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ بوجہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کے کہ لَا يَخْرُجُ مِنَ الْمَسْجِدِ بَعْدَ النِّدَاءِ إِلَّا مُنَافِقٌ أَوْ رَجُلٌ يَخْرُجُ لِحَاجَةٍ يُرِيْدُ الرُّجُوْعَ، حضور علیہ السلام فرماتے ہیں کہ مسجد سے نہیں نکلتا بَعْدَ النِّدَاءِ یعنی بَعْدَ الْأَذَانِ اذان کے بعد، اذان کے بعد مسجد سے نہیں نکلتا إِلَّا مُنَافِقٌ مگر منافق ہی، أَوْ رَجُلٌ یا کوئی ایسا آدمی يَخْرُجُ لِحَاجَةٍ جو نکلتا ہے کسی ضرورت کی بنا پر، يُرِيْدُ الرُّجُوْعَ جو واپس لوٹنے کا جس کا ارادہ ہے۔ یعنی اذان ہو جانے کے بعد مسجد سے مسجد سے نکلنے والا وہ نکلنے والے دو ہی افراد ہو سکتے ہیں، ایک تو یا تو منافق ہو گا یا وہ آدمی جو اس وجہ سے نکل رہا ہے کہ اس کا کوئی کام ہے اور وہ کام کر کے پھر واپس لوٹنا چاہتا ہے نماز تک یعنی آنا چاہتا ہے کہ اس کا ارادہ کیا ہو گا کہ میں ابھی دو چار منٹ میں واپس آ رہا ہوں یہ کام کر کے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ قَالَ: إِلَّا إِذَا كَانَ يَنْتَظِمُ بِهِ أَمْرُ جَمَاعَةٍ، قال ماتن فرماتے ہیں، یعنی امام محمد رحمہ اللہ: إِلَّا إِذَا كَانَ يَنْتَظِمُ بِهِ أَمْرُ جَمَاعَةٍ، مگر یہ اِنْتَظَمَ کے معنی ہوتے ہیں جڑنا، منسلک ہونا۔ مگر یہ کہ إِذَا كَانَ يَنْتَظِمُ بِهِ جڑا ہوا ہو اس شخص کے ساتھ أَمْرُ جَمَاعَةٍ کسی جماعت کا معاملہ، پھر نکل سکتا ہے۔ بھئی جب ایک مسجد میں اذان دے دی جائے تو اس مسجد میں جو داخل ہو اس کے لیے بغیر نماز کے وہاں سے نکلنا مکروہ ہے، مگر یہ کہ اس شخص کے ساتھ کسی جماعت کا معاملہ جڑا ہوا ہو، کسی جماعت کا معاملہ اس کے ساتھ منسلک ہو، یعنی یہ کسی دوسری جگہ امام یا مؤذن ہو۔ تو دیکھو ایک دوسری جماعت کا معاملہ اس کے ساتھ جڑا ہوا ہے، یہ دوسری جگہ امام یا مؤذن ہے، تو اب اس کو اس کے لیے نکلنا مکروہ نہیں ہے، کیونکہ یہ جائے گا اور جا کر دوسری جگہ اذان دے گا یا امامت کروائے گا، تو اس کے لیے درست ہے۔ تو یہ معنی ہے: إِلَّا إِذَا كَانَ يَنْتَظِمُ بِهِ أَمْرُ جَمَاعَةٍ مگر یہ کہ اس کے ساتھ منسلک ہو کسی دوسری جماعت کا معاملہ، تو اس کے لیے نکلنا مکروہ نہیں۔ بھئی کیوں نہیں مکروہ؟ کہتے ہیں: لِأَنَّهُ تَرْكٌ صُوْرَةً تَكْمِيْلٌ مَعْنًى، اس لیے کیونکہ یہ صورۃً تو اگرچہ چھوڑنا ہے، یہ نماز کو چھوڑ کر جا رہا ہے، تو یہ صورۃً تو نماز کو چھوڑنا ہے، تَكْمِيْلٌ مَعْنًى لیکن معنی کے اعتبار سے یہ پورا کرنا ہے، کیونکہ یہ کیا کرے گا؟ وہاں جا کر وہاں جماعت کروائے گا یا اذان دے گا اور جماعت ہو گی، تو یہ گویا اس کو کیا کر رہا ہے؟ نماز کو چھوڑ نہیں رہا بلکہ پورا کر رہا ہے۔ وَإِنْ كَانَ قَدْ صَلَّى وَكَانَتِ الظُّهْرَ وَالْعِشَاءَ فَلَا بَأْسَ بِأَنْ يَخْرُجَ، اور اگر وہ نماز پڑھ چکا ہے، بھئی ایک شخص ہے وہ نماز پڑھ چکا ہے اور اذان کے بعد وہ مسجد میں داخل ہوا، یا مسجد میں تھا اور اذان ہو گئی، دونوں کا ایک ہی حکم ہے، وقت کون سا ہے؟ ظہر یا عشاء، اور یہ نماز ظہر یا عشاء کی پڑھ چکا ہے، تو اب اس کے لیے نکلنے میں کوئی حرج نہیں، اب اس کا مسجد سے نکلنا مکروہ نہیں۔ یہ معنی ہے: وَإِنْ كَانَ قَدْ صَلَّى اور اگر وہ نماز پڑھ چکا ہے، وَكَانَتِ الظُّهْرَ وَالْعِشَاءَ اور وہ نماز بھی ظہر اور عشاء کی تھی، فَلَا بَأْسَ بِأَنْ يَخْرُجَ تو کوئی حرج نہیں ہے اس کے نکلنے میں، لِأَنَّهُ أَجَابَ دَاعِيَ اللّٰهِ مَرَّةً اس لیے کیونکہ اس نے اللہ کی طرف بلانے والے کی دعوت ایک دفعہ قبول کر لی ہے، ایک دفعہ اس پر کیا کر لیا عمل کر لیا ہے، وہ نماز یہ پڑھ چکا ہے۔ إِلَّا إِذَا أَخَذَ الْمُؤَذِّنُ فِي الْإِقَامَةِ، مگر یہ کہ مؤذن شروع ہو جائے اقامت کے اندر۔ بھئی یہ شخص ایک دفعہ ظہر کی نماز پڑھ چکا ہے، تو اب یہ نکل سکتا ہے۔ کوئی اور نکلے اذان ہو اذان کے بعد مسجد میں گیا یا مسجد میں تھا اور اذان ہو گئی، اب اس کا ویسے عام آدمی کا نکلنا مکروہ ہے اس لیے کیونکہ وہ مؤذن کیا کر رہا ہے؟ اللہ کی طرف بلا رہا ہے، اور یہ جب نکلے گا تو گویا کیا کر رہا ہے؟ اس بلانے والے کی دعوت کو رد کر رہا ہے۔ تو اگر یہ ظہر اور عشاء کا وقت ہے اور یہ نماز پڑھ چکا ہے پھر نکل سکتا ہے کیونکہ ایک مرتبہ اس داعی کا جواب یہ دے چکا ہے، اس کی دعوت قبول کر چکا ہے۔ ہاں اگر وہ یہ مسجد ہی میں تھا جو نماز پڑھ چکا ہے، مسجد ہی میں تھا کہ اقامت شروع ہو گئی، جماعت کھڑی ہو رہی ہے، اب اس کو نہیں نکلنا چاہیے بلکہ ان کے ساتھ شامل ہو جائے، اس لیے کیونکہ اب اقامت ہو رہی ہے اور ادھر یہ مسجد سے نکل رہا ہے سارے اس کو دیکھیں گے تو سارے اس کے بارے میں بدگمانی کریں گے کہ یہ کیا کر رہا ہے؟ نماز کو چھوڑ رہا ہے۔ تو کہتے ہیں: إِلَّا إِذَا أَخَذَ الْمُؤَذِّنُ فِي الْإِقَامَةِ مگر یہ کہ مؤذن جب اقامت کہنے میں شروع ہو جائے تو پھر نہ نکلے، لِأَنَّهُ يُتَّهَمُ لِمُخَالَفَةِ الْجَمَاعَةِ عِيَانًا، کیونکہ اس کے اوپر تہمت آئے گی جماعت کی مخالفت کرنے کی عِیَانًا کھلے بندوں، سامنے، سمجھ میں آیا یعنی بر ملا، بر ملا اس کی جماعت کی مخالفت کے ساتھ وہ متہم ہو گا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ متہم ہو گا، تہمت آئے گی، یعنی دلوں میں بدگمانی آئے گی، لوگ کہیں گے جماعت چھوڑ کر جا رہا ہے۔ تو ان میں ان کے ساتھ پھر شامل ہو جائے اور وہ نماز اس کی پھر نفل ہو جائے گی۔ وَإِنْ كَانَتِ الْعَصْرَ أَوِ الْمَغْرِبَ، اور اگر وہ نماز تھی وہ عصر یا مغرب کی تھی، أَوِ الْفَجْرَ یا کون سی تھی؟ فجر کی تھی۔ صورت مسئلہ یہ: کہ ایک آدمی فجر، مغرب یا عصر، ان کی نماز پڑھ چکا ہے اور پھر مسجد میں آیا اور اب اذان کے بعد اب اس کا وہاں سے نکلنا مکروہ نہیں، وہاں سے نکل سکتا ہے، نکل سکتا ہے۔ حتیٰ کہ اگر مؤذن اقامت کہنا شروع کر دے پھر بھی یہ نکل سکتا ہے۔ بھئی پھر کیوں نکل سکتا ہے؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ نماز یہ پڑھ چکا ہے، اب اگر جماعت کے ساتھ شامل ہو گا فجر میں تو وہ نفل ہوں گے اور فجر کی نماز کے بعد تو نفل مکروہ ہیں، لہٰذا نکل سکتا ہے۔ مغرب کے اندر بھی نکل سکتا ہے کیونکہ مغرب کے میں اگر وہ نفلوں کی نیت سے شامل ہو گا تو پھر دو خرابیوں میں سے ایک خرابی ضرور، یا تو اسے تین پر ہی سلام پھیرنا پڑے گا یا چار پوری کرے گا، تین پر سلام پھیرتا ہے تو تین پر نفل پڑھنا تو مکروہ، اور چار چوتھی رکعت ساتھ ملائے گا تو اپنے امام کی مخالفت کی خرابی لازم آئے گی، وہ بھی درست نہیں ہے۔ اور اسی طرح اگر عصر کے بعد ہے تو عصر کے بعد بھی نکل سکتا ہے کیونکہ عصر کے بعد نوافل پڑھنا مکروہ ہیں بھئی، یہ آپ پڑھ چکے بھئی۔ مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟ لہٰذا ان میں پھر شرکت نہ کرے جب ایک دفعہ نماز پڑھ چکا ہے۔ وَإِنْ كَانَتِ الْعَصْرَ أَوِ الْمَغْرِبَ أَوِ الْفَجْرَ اور وہ نماز اگر عصر یا مغرب یا فجر کی تھی، خَرَجَ تو پھر نکل سکتا ہے، وَإِنْ أَخَذَ الْمُؤَذِّنُ فِيْهَا اگرچہ مؤذن اقامت میں شروع ہو جائے، پھر نکل سکتا ہے۔ کیوں؟ کہتے ہیں: لِكَرَاهِيَةِ النَّفْلِ بَعْدَهَا، اس وجہ سے کہ ان کے بعد نفل مکروہ ہیں، یعنی عصر اور فجر میں میں نفل مکروہ ہیں، اور مغرب میں وہ خرابی لازم آئے گی جو ابھی پیچھے ذکر ہوئی۔ وَمَنِ انْتَهَى إِلَى الْإِمَامِ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ، اور جو شخص پہنچا امام تک فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ کون سی نماز میں؟ فجر۔ بھئی ایک شخص فجر کی نماز کے لیے پہنچا اور امام نماز میں شروع ہو چکا ہے، جماعت کھڑی ہو چکی ہے۔ وَهُوَ لَمْ يُصَلِّ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ اور حال یہ ہے کہ یہ جو شخص جو پہنچا ہے اس نے فجر کی دو رکعتیں نہیں پڑھیں یعنی دو سنتیں نہیں پڑھیں۔ تو کہتے ہیں: إِنْ خَشِيَ اگر اس کو یہ خوف ہے، أَنْ تَفُوْتَهُ رَكْعَةٌ کہ میں سنتیں پڑھوں گا تو میری ایک رکعت فوت ہو جائے گی، وَيُدْرِكُ الْأُخْرَى اور دوسری کو وہ پا لے گا، تو پھر کہتے ہیں: يُصَلِّي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ، تو وہ پڑھ لے فجر کی دو رکعتیں کہاں پر؟ مسجد کے دروازے کے پاس پڑھ لے، ثُمَّ يَدْخُلُ پھر ان لوگوں کے ساتھ شامل ہو جائے، لِأَنَّهُ أَمْكَنَهُ الْجَمْعُ بَيْنَ الْفَضِيْلَتَيْنِ اس لیے کیونکہ ممکن ہے اس کے لیے دونوں فضیلتوں کو جمع کرنا، سنتیں بھی پڑھ کر سنتوں کی فضیلت کو بھی پا سکتا ہے اور ادھر فجر کی ایک رکعت نکل جائے گی لیکن ایک کو کیا کر لے گا؟ پا لے گا تو جماعت کی فضیلت کو بھی پا لے گا۔ وَإِنْ خَشِيَ فَوْتَهَا اور اگر اس کو جماعت کے فوت ہو جانے کا خوف ہے کہ اب اگر میں دو سنتیں پڑھوں گا تو پوری جماعت ہی نکل جائے گی، تو کہتے ہیں: دَخَلَ مَعَ الْإِمَامِ تو پھر سنتوں کو چھوڑ دے اور امام کے ساتھ جماعت میں شامل ہو جائے، لِأَنَّ ثَوَابَ الْجَمَاعَةِ أَعْظَمُ اس لیے کیونکہ جماعت کا ثواب بہت بڑا ہے، وَالْوَعِيْدَ بِالتَّرْكِ أَلْزَمُ اور اس کے چھوڑنے پر جو وعید ہے وہ اس کے ساتھ زیادہ لازم ہونے والی ہے بھئی، اس کے ساتھ زیادہ لازم ہونے والی ہے۔ بھئی اس لیے کیونکہ جماعت کو چھوڑنے والے کے لیے حدیث میں وعید آئی ہے، وعید آئی ہے۔ اور وہ عام شخص جو جماعت کو چھوڑتا ہے ان کے لیے وعید ہے، تو یہ تو وہاں پہنچ کر پھر بھی اس میں شامل نہیں ہوا تو یہ وہ وعید اس کے ساتھ زیادہ لازم ہونے والی ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ لہٰذا اس وعید سے بچنے کے لیے اور جماعت میں شامل ہو جائے، تو دو وجہیں ذکر کر دیں صاحب ہدایہ نے کہ جماعت میں شامل ہونا چاہیے اس لیے کیونکہ جماعت کا ثواب بہت عظیم ہے اور نیز اس صورت میں چھوڑنے پر جو وعید آئی ہے وہ اس کے ساتھ اگر وہ نہیں شامل ہو گا تو وہ وعید اس کے ساتھ زیادہ لازم ہونے والی ہے۔ بِخِلَافِ سُنَّةِ الظُّهْرِ، بخلاف ظہر کی سنتوں کے، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو بس اور شارح اور شارحین انہوں نے معنی کیا: وَالْوَعِيْدَ بِالتَّرْكِ أَلْزَمُ، اور وہ جو وعید آئی ہے چھوڑنے کی وجہ پر وہ الزم، میں نے کیا ترجمہ کیا؟ اس کے ساتھ زیادہ لازم ہے۔ انہوں نے معنی کیا کیونکہ وہ وعید جو چھوڑنے کے بارے میں آئی ہے بڑی سخت ہے، بڑی سخت۔ تو جو معنی بھی آپ کر لیں، کیونکہ جماعت چھوڑنے پر جو وعید آئی ہے وہ بڑی سخت وعید آئی ہے تو اس لیے کیا کرے؟ سنتوں کو چھوڑ دے لیکن جماعت کو نہ چھوڑے۔ اور چاہیں تو دوسرا ترجمہ کر لیں کہ وہ وعید اس کے ساتھ زیادہ لازم ہو جائے گی۔ کیوں؟ کیونکہ باقی لوگ تو دور تھے وہ تو شریک نہیں ہوئے، یہ تو پہنچ کر بھی جماعت کے اندر شریک نہیں ہوا تو وہ وعید اس کے ساتھ زیادہ لازم ہے۔ بِخِلَافِ سُنَّةِ الظُّهْرِ، بخلاف کس کے؟ ظہر کی سنتوں کے، حَيْثُ يَتْرُكُهَا فِي الْحَالَيْنِ کیونکہ ان کو چھوڑ دے گا دونوں حالتوں میں۔ بھئی فجر کی دو سنتوں میں جب جماعت کے ملنے کا ایک رکعت ملنے کا کی صورت ہے تو کیا کر لے؟ دو سنتیں پڑھ لے اور اگر جماعت کے فوت ہو جانے کا خوف ہے تو پھر ان سنتوں کو چھوڑ دے، اور ظہر کی سنتیں اس کے خلاف ہیں حَيْثُ يَتْرُكُهَا فِي الْحَالَيْنِ کیونکہ ان کو وہ چھوڑ دے گا دونوں حالتوں میں، دونوں حالتوں میں چھوڑ دے گا دونوں حالتوں میں، چاہے جماعت ملنے کا احتمال ہے چاہے چھوٹنے کا احتمال ہے، دونوں صورتوں میں کیا کرے؟ ظہر کی سنتوں کو چھوڑ دے۔ بھئی کیوں چھوڑ دے جب جماعت ملنے کا احتمال ہے؟ کہتے ہیں بھئی تو اس میں دونوں صورتوں میں ظہر کی سنتوں کو چھوڑ دے، اس لیے کیونکہ پھر ظہر کی سنتیں نماز کے بعد بھی ادا کی جا سکتی ہیں بھئی۔ وجہ سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ معنی ہے دونوں حالتوں میں ان کو چھوڑ دے گا، لِأَنَّهُ يُمْكِنُهُ أَدَاؤُهَا فِي الْوَقْتِ بَعْدَ الْفَرْضِ اس لیے کیونکہ ان سنتوں کی ادائیگی ممکن ہے وقت کے اندر ہی بَعْدَ الْفَرْضِ فرضوں کے بعد، وَالصَّحِيْحُ یہی قول صحیح ہے۔ وَإِنَّمَا الِاخْتِلَافُ بَيْنَ أَبِيْ يُوْسُفَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللّٰهُ تَعَالَى فِي تَقْدِيْمِهَا عَلَى الرَّكْعَتَيْنِ وَتَأْخِيْرِهَا عَنْهُمَا، بھئی ظہر کی سنتیں اگر نماز سے پہلے رہ جائیں تو کب ادا کرتے ہیں؟ نماز کے بعد ادا کرتے ہیں ان کو، لیکن نماز کے بعد تو دو رکعتیں اور بھی تھیں ظہر کی، تو پھر پہلے کس کو پڑھیں گے؟ یہ جو بعد والی دو ہیں ان کو پہلے پڑھیں اور چار کو ان کے بعد پڑھ لیں جو پہلے والی رہ گئی تھیں؟ یا پہلے وہ چار پڑھیں گے اور پھر یہ والی دو پڑھیں گے؟ اس میں صاحبین کا اختلاف ہے، صاحبین کا اختلاف ہے۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ رکعتیں پہلے ہی مؤخر ہو چکی ہیں تو مزید مؤخر نہ کرے، پہلے ان چار کو پڑھے اور پھر ان دو کو پڑھے نماز کے بعد۔ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں نہیں، پہلے وہ دو پڑھے پھر ان چار کو پڑھے۔ وہ فرماتے ہیں وہ چار رکعتیں وہ اپنے محل سے تو رہ ہی گئی ہیں، ان کا محل تو کہاں تھا؟ نماز سے پہلے تھا، اب ان کا محل تو چھوٹ گیا تو اب نماز کے بعد جو دو رکعتیں ہیں کم از کم ان کو تو اپنے محل پر ہی ادا کرے، اور ان کا محل کب تھا؟ نماز کے فوراً بعد تھا یا نہیں تھا بھئی؟ ان کا محل تو نماز کے فوراً بعد ہے تو لہٰذا پہلے ان دو کو ادا کر لے یہ تاکہ کم از کم اپنے محل پہ ادا ہو جائیں اور پھر اس کے بعد چار رکعتیں ادا کرے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: وَإِنَّمَا الِاخْتِلَافُ بَيْنَ أَبِيْ يُوْسُفَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللّٰهُ اور اختلاف جو ہے وہ امام ابو یوسف اور امام محمد رحمہ اللہ کے درمیان صرف فِي تَقْدِيْمِهَا صرف ان کے مقدم کرنے میں ہے ان چار رکعتوں کا، ان چار رکعتوں کا مقدم کرنا عَلَى الرَّكْعَتَيْنِ کس پر؟ دو رکعتوں پر، وَتَأْخِيْرِهَا عَنْهُمَا اور ان چار رکعتوں کو مؤخر کرنا ان دو رکعتوں پر۔ یعنی اس میں صرف اختلاف ہے صاحبین کا کہ ان چار رکعتوں کو ان دو رکعتوں پر مقدم کیا جائے گا یا ان چار رکعتوں کو ان دو رکعتوں پر مؤخر کیا جائے گا۔ تو یاد رکھیے یہ تقديم کا لفظ پہلے آیا، تقديم کا لفظ پہلے آیا تو یہ مذہب ہے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا، وہ فرماتے ہیں ان چار کو مقدم کریں گے عَلَى الرَّكْعَتَيْنِ کس پر؟ ان دو۔ اور عبارت میں امام محمد رحمہ اللہ کا نام بعد میں آیا تو وَتَأْخِيْرِهَا عَنْهُمَا یہ ہے امام محمد رحمہ اللہ کا مذہب کہ ان کے نزدیک ان چار کو ان دو پر کیا کریں گے؟ مؤخر کریں گے بھئی۔ اور بعض علماء نے اس کا عکس بھی لکھا ہے، وہ فرماتے ہیں امام محمد رحمہ اللہ کا مذہب یہ ہے کہ پہلے چار پڑھیں گے پھر دو، اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا مذہب یہ ہے کہ پہلے پہلے دو پڑھیں گے اور پھر چار۔ بَابُ إِدْرَاكِ الْفَرِيْضَةِ، ”وَمَنْ صَلَّى رَكْعَةً مِنَ الظُّهْرِ ثُمَّ أُقِيْمَتْ يُصَلِّي أُخْرَى صِيَانَةً لِلْمُؤَدَّى عَنِ الْبُطْلَانِ، ثُمَّ يَدْخُلُ مَعَ الْقَوْمِ إِحْرَازًا لِفَضِيلَةِ الْجَمَاعَةِ، وَإِنْ لَمْ يُقَيِّدِ الْأُولَى بِالسَّجْدَةِ يَقْطَعُ وَيَشْرَعُ مَعَ الْإِمَامِ هُوَ الصَّحِيحُ“. بَابُ إِدْرَاكِ الْفَرِيْضَةِ، یہ باب ہے فریضے کے پا لینے کے بیان میں۔ یعنی کوئی شخص فرضوں کی جماعت پا لے بھئی۔ تو اس باب میں چند مسائل ذکر ہوں گے کہ کوئی شخص اپنی اکیلے فرض پڑھنا شروع کرتا ہے اور اس دوران جماعت کھڑی ہو جاتی ہے وہی والی جو وہ ادا کر رہا ہے، تو پھر کیا کرے؟ تو یہ مسائل اس میں ذکر ہوں گے اور اسی طرح اس سے متعلقہ کچھ اور مسائل بھی ذکر ہوں گے۔ بَابُ إِدْرَاكِ الْفَرِيْضَةِ، یہ باب ہے فریضے کے پا لینے کے بیان میں۔ ”وَمَنْ صَلَّى رَكْعَةً مِنَ الظُّهْرِ ثُمَّ أُقِيْمَتْ يُصَلِّي أُخْرَى“، صورتِ مسئلہ یہ: ایک شخص نے ظہر کی نماز اکیلے پڑھنا شروع کر دی اور ابھی ایک ہی رکعت پڑھی تھی ظہر کی کہ جماعت کھڑی ہو گئی ظہر کی بھئی، جو ظہر کی جماعت کھڑی ہو گئی تو اب کیا کرے؟ تو آپ کو صاحبِ قدوری بتلائیں گے کہ یہ شخص جو ایک رکعت ظہر کے فرض پڑھ چکا ہے، یہ اب اس کو چھوڑ دے اور کس میں شامل ہو جائے؟ جماعت میں شامل ہو جائے، کیونکہ جماعت کی نماز کا ثواب جو ہے وہ ستائیس گنا زیادہ ہے، تو اس فضیلت کو حاصل کرنے کے لیے اور اس ثواب کو سمیٹنے کے لیے یہ اس میں شامل ہو جائے۔ لیکن ادھر یہ ایک رکعت پڑھ چکا ہے، تو اس ایک رکعت کو بھی باطل نہ کرے، بلکہ اس کے ساتھ ایک رکعت اور ملا کر پھر سلام پھیر دے، تو یہ دو رکعتیں جو ہیں یہ نفل ہو جائیں گی اور پھر جماعت کے ساتھ شامل ہو کر ظہر کے فرض بھی ادا کر لے۔ تو کہتے ہیں: ”وَمَنْ صَلَّى رَكْعَةً مِنَ الظُّهْرِ“، اور جس نے ایک رکعت پڑھ لی ظہر کی نماز میں سے، ”ثُمَّ أُقِيْمَتْ“، پھر نماز قائم کر دی گئی یعنی جماعت قائم کر دی گئی یعنی ظہر کی جماعت کھڑی ہو گئی، ”يُصَلِّي أُخْرَى“، تو یہ نماز پڑھنے والا جو ایک رکعت پڑھ چکا ہے ”يُصَلِّي أُخْرَى“ یہ دوسری رکعت بھی پڑھ لے، یعنی دو پوری کر لے اور پھر سلام پھیر دے۔ بھئی یہ دوسری ایک رکعت کیوں پڑھ لے؟ یہ حکم کیوں دیا جا رہا ہے؟ کہتے ہیں: ”صِيَانَةً لِلْمُؤَدَّى عَنِ الْبُطْلَانِ“، تاکہ بچانے کے لیے اس کو جس کو اس نے ادا کیا ہے، یعنی وہ جو ایک رکعت جس کو یہ ادا کر چکا ہے اس کو باطل ہونے سے بچانے کے لیے، ورنہ تو کیا ہو جائے گی وہ ایک رکعت؟ باطل ہو جائے گی۔ ایک رکعت کی نماز سے تو منع کیا گیا ہے، تو لہٰذا اب اس کے ساتھ ایک اور رکعت ملا لے تاکہ دو نفل بن جائیں۔ ”ثُمَّ يَدْخُلُ مَعَ الْقَوْمِ“، پھر شامل ہو جائے ان لوگوں کے ساتھ، ”إِحْرَازًا لِفَضِيلَةِ الْجَمَاعَةِ“، احرز یحرز احراز کا معنی ہوتا ہے جمع کرنا۔ پھر ان لوگوں کے ساتھ شامل ہو جائے ”إِحْرَازًا لِفَضِيلَةِ الْجَمَاعَةِ“ جماعت کی فضیلت کو سمیٹنے کے لیے۔ ”وَإِنْ لَمْ يُقَيِّدِ الْأُولَى بِالسَّجْدَةِ يَقْطَعُ وَيَشْرَعُ مَعَ الْإِمَامِ“، اور اگر اس نے پہلی رکعت کو سجدے کے ساتھ مقید نہیں کیا تھا، بھئی اس شخص نے آ کر اپنی نماز پڑھنا شروع کر دی۔ ابھی پہلی رکعت، پہلی صورت تو کیا تھی؟ ایک رکعت پڑھ چکا تھا۔ تو اس میں بتایا ایک رکعت اور ساتھ ملا لے اور پھر جماعت میں شامل ہو جائے۔ اور دوسری صورت یہ کہ نماز اس نے شروع کی ہے ابھی سجدہ نہیں کیا پہلی رکعت کا، تو اس صورت میں اب یہیں سے کیا کر دے؟ نماز کو چھوڑ دے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ لَمْ يُقَيِّدِ الْأُولَى بِالسَّجْدَةِ“، اور اگر اس نے پہلی رکعت کو مقید نہیں کیا سجدے کے ساتھ، یعنی اس کا ابھی سجدہ نہیں کیا، ”يَقْطَعُ“، تو نماز کو توڑ دے، ”وَيَشْرَعُ مَعَ الْإِمَامِ“، اور امام کے ساتھ شروع ہو جائے جماعت میں، ”هُوَ الصَّحِيحُ“، یہی قول صحیح ہے۔ ”لِأَنَّهُ بِمَحَلِّ الرَّفْضِ“، اس لیے کیونکہ یہ جو اس نے شروع کیا ہے یہ محلِ رفض میں ہے۔ رفض کا معنی چھوڑنا، چھوڑنا۔ یعنی اس کو چھوڑا جا سکتا ہے۔ اس موقع پر جب تک ابھی تک جبکہ ابھی اس نے سجدہ نہیں کیا تو یہ محلِ رفض میں ہے، یعنی اس کو چھوڑا جائے، یہ چھوڑنے کے محل میں ہے، اس کو چھوڑا جا سکتا ہے۔ جیسے آپ نے پڑھا ہے بھئی کہ ایک شخص ہے اور چار رکعت اس نے نماز چار رکعت والی پڑھی اور بھول کر پانچویں رکعت کے لیے بھی کھڑا ہو گیا، تو اس میں فقہاء کیا فرماتے ہیں؟ کہ اگر پانچویں کو اگر ابھی سجدے کے ساتھ مقید نہیں کیا تو واپس لوٹ جائے، بیٹھ جائے پھر۔ تو دیکھو وہاں پر بھی کیا کر دیا جاتا ہے؟ اس پانچویں رکعت کو جب تک سجدے سے مقید نہیں کیا جاتا اس کو چھوڑ دیا جاتا ہے، تو جب تک سجدہ نہیں کیا اس کو چھوڑا جا سکتا ہے۔ تو یہ محلِ رفض میں، چھوڑنے کے محل میں ہے۔ ”لِأَنَّهُ بِمَحَلِّ الرَّفْضِ“، اس لیے کیونکہ یہ چھوڑنے کے محل میں ہے، ”وَالْقَطْعُ لِلْإِكْمَالِ“، اور توڑنا بھی پورا کرنے کے لیے ہے، یہ جو توڑنے کا حکم دیا جا رہا ہے کہ ابھی پہلی رکعت کا سجدہ بھی نہیں کیا تو اس کو کیا کر دو؟ توڑ دو، چھوڑ دو۔ تو یہ توڑنے کا حکم بھی کس لیے ہے؟ پورا کرنے کے لیے ہے، تاکہ زیادہ کامل طریقے سے نماز ادا ہو جائے، کس طرح؟ جماعت کے ساتھ بھئی، جماعت کے ساتھ۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْقَطْعُ لِلْإِكْمَالِ“، اور توڑنا جو ہے کامل کرنے کے لیے ہے، پورا کرنے کے لیے ہے، ”بِخِلَافِ مَا إِذَا كَانَ فِي النَّفْلِ“، بخلاف اس کے کہ جب وہ نفل میں تھا، ”لِأَنَّهُ لَيْسَ لِلْإِكْمَالِ“، اس لیے کیونکہ وہ اکمال کے لیے نہیں ہو گا۔ بخلاف اس کے کہ اگر اس نے نفل شروع کیے تھے، تو پھر کیا کر لے؟ ان نفلوں کو پورا کر لے بھئی، کیا کر لے؟ نفلوں کو پورا کر لے، اس لیے کیونکہ اگر وہاں بھی توڑنے کا کہا جائے تو نفل توڑے گا اور جماعت کے ساتھ شامل ہو گا، تو جماعت کے ساتھ تو فرض ہوں گے اور جس کو توڑا ہے وہ کیا تھے؟ نفل تھے۔ تو لہٰذا وہاں ایسا نہ کرے، بلکہ نفلوں کو کیا کر لے؟ پورا کر لے اور دو رکعت پر سلام پھیر دے۔ جبکہ یہاں فرضوں میں ہم نے کہا کہ فرضوں کو توڑ دے، اس لیے کیونکہ یہ جو پڑھ رہا ہے وہ ظہر کے فرض ہیں اور جماعت کے ساتھ بھی کیا ادا کرے گا؟ وہی فرض ادا کرے گا، تو توڑ کر پھر جب جماعت کے ساتھ ادا کرے گا تو زیادہ کامل طریقے سے وہ نماز ادا ہو گی۔ اسی لیے کہا کہ ”لِأَنَّهُ لَيْسَ لِلْإِكْمَالِ“، نفلوں کے اندر وہ اکمال کے لیے توڑنا اکمال کے لیے نہیں ہو سکتا، اس لیے ان کو نہ توڑے۔ ”وَلَوْ كَانَ فِي السُّنَّةِ قَبْلَ الظُّهْرِ وَالْجُمُعَةِ فَأُقِيْمَتْ أَوْ خُطِبَ يَقْطَعُ عَلَى رَأْسِ الرَّكْعَتَيْنِ“. صورتِ مسئلہ یہ: ایک شخص ہے ظہر کی نماز سے پہلے اس نے سنتیں پڑھنا شروع کر دیں اور اس دوران اقامت شروع ہو گئی، یا جمعہ سے پہلے اس نے سنتیں پڑھنا شروع کی تھیں اور اس دوران خطبہ شروع ہو گیا، خطبہ شروع ہو گیا۔ تو صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ یہ شخص جو ہے دو رکعتوں پر ہی سلام پھیر دے، دو رکعتوں پر ہی سلام پھیر دے۔ ظہر کی سنتیں تو چار تھیں یا اسی طرح جمعہ کی سنتیں چار تھیں، لیکن یہ کیا کرے؟ دو رکعتوں پر ہی سلام پھیر دے اور کس میں شامل ہو جائے؟ ظہر کی نماز میں، یا خطبہ سننے کے لیے بیٹھ جائے کیونکہ خطبہ سننا بھی واجب ہے۔ ”وَلَوْ كَانَ فِي السُّنَّةِ قَبْلَ الظُّهْرِ وَالْجُمُعَةِ“، اور اگر وہ شخص سنتوں میں تھا، مشغول تھا ظہر سے پہلے ”وَالْجُمُعَةِ“ اور جمعہ کی نماز سے پہلے، ”فَأُقِيْمَتْ“، تو اقامت کہہ دی گئی، ”أَوْ خُطِبَ“، یا خطبہ کہا گیا یعنی خطبہ شروع کر دیا گیا، ”يَقْطَعُ عَلَى رَأْسِ الرَّكْعَتَيْنِ“، تو وہ توڑ دے ان کو دو رکعت پر ہی، ان سنتوں کو دو رکعت۔ رأس، رأس الشیء کہتے ہیں کسی شے کا اول حصہ، اول حصہ۔ اسی طرح رأس کا لفظ کنارے کے لیے بھی آتا ہے اور یہاں اس معنی میں ہے۔ دو رکعتوں کے کنارے پر یعنی دو رکعتوں کے پورا ہونے پر توڑ دے ان کو۔ تو ”يَقْطَعُ عَلَى رَأْسِ الرَّكْعَتَيْنِ“، تو توڑ دے ان سنتوں کو دو رکعتوں کے کنارے پر۔ ”يُرْوَى ذَلِكَ عَنْ أَبِي يُوسُفَ“، یہ روایت کیا گیا ہے امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے، ”وَقَدْ قِيلَ يُتِمُّهَا“، اور تحقیق کہا گیا ہے کہ ان کو پورا کر لے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ ”وَإِنْ كَانَ قَدْ صَلَّى ثَلَاثًا مِنَ الظُّهْرِ يُتِمُّهَا“. تیسری صورت بھئی، ایک صورت یہ ذکر کر دی کہ ایک رکعت پڑھ چکا تھا ظہر کی کہ جماعت کھڑی ہو گئی، تو کیا حکم بتلایا؟ کہ اس کے ساتھ ایک رکعت اور ملائے اور پھر کس میں شامل ہو جائے؟ جماعت میں، یعنی وہ ظہر کی نماز، وہ جو دو رکعت تھے وہ نفل بن جائیں گے، یعنی ظہر کی نماز چھوڑ دے اور پھر جماعت میں شامل ہو، لیکن وہ ایک کو ایک پر ہی قطع نہ کرے بلکہ ایک کو بھی باطل ہونے سے بچا لے اور ایک رکعت اور ملا لے تو وہ نفل بن جائیں گے۔ اور اگر اس نے پہلی رکعت کا سجدہ ہی نہیں کیا تھا تو پھر کیا کر لے؟ پھر وہیں پر چھوڑ دے کیونکہ ابھی یہ چھوڑنے کا محل ہے، اب اس موقع پر چھوڑا جا سکتا ہے۔ اور اب تیسری صورت ذکر کر رہے ہیں کہ ظہر کی نماز ایک شخص نے اکیلے پڑھنا شروع کی اور تین رکعتیں پڑھ چکا ہے، تین رکعتیں پڑھ چکا ہے، اب ظہر کی نماز کھڑی ہوئی، تو اب کہتے ہیں اب نہ توڑے بلکہ کیا کر لے؟ پورا کر لے، کیونکہ تین رکعتیں وہ پڑھ چکا اور کل کتنی رکعتیں تھیں ظہر کی؟ چار۔ تو اکثر پڑھ چکا، اور ”لِلْأَكْثَرِ حُكْمُ الْكُلِّ“، اکثر کے لیے کل کا حکم ہے، تو جب اکثر رکعتیں پڑھ چکا ہے تو گویا ساری ہی رکعتیں پڑھ چکا ہے، یوں ہی سمجھا جائے گا۔ اور اب اس کو توڑا نہیں جا سکتا، اس لیے کیونکہ جب نماز پوری ہو جائے تو پھر اس کو نہیں توڑا جا سکتا، تو جب پوری ہونے پر نہیں توڑا جا سکتا اسی طرح جب اکثر رکعتیں پڑھ لیں تو اب بھی اسے توڑا نہیں جا سکتا۔ یا یوں کہیے کہ جب پوری کرنے پر نماز کو نہیں توڑا جا سکتا، ایک دفعہ جب نماز پوری پڑھ لی پھر توڑا جا سکتا ہے اس کو؟ پھر تو نہیں توڑا جا سکتا۔ تو اب جب اکثر رکعتیں ادا کر لی ہیں یعنی چار میں سے تین پڑھ چکا ہے، ابھی کامل تو نہیں، پوری تو نہیں، لیکن شبہِ کمال آ گیا یا نہیں؟ کامل ہونے کا شبہ آ گیا، اور جب کامل یعنی پوری ہونے کے بعد نماز کو نہیں توڑا جا سکتا تو کامل ہونے کا شبہ آ جائے پھر بھی نہیں توڑا جا سکتا۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ كَانَ قَدْ صَلَّى ثَلَاثًا مِنَ الظُّهْرِ“، اور اگر وہ تین رکعتیں ظہر میں سے پڑھ چکا ہے، ”يُتِمُّهَا“، پھر کیا کر لے اس کو؟ پورا کر لے، ”لِأَنَّ لِلْأَكْثَرِ حُكْمَ الْكُلِّ“، اس لیے کیونکہ اکثرِ شے کے لیے کل کا حکم ہوتا ہے، ”فَلَا يَحْتَمِلُ النَّقْضَ“، تو یہ توڑے جانے کا احتمال نہیں رکھتی، اب اس کو توڑا نہیں جا سکتا۔ پوری تو نہیں ہوئی لیکن پوری ہونے کا شبہ آ گیا۔ ”بِخِلَافِ مَا إِذَا كَانَ فِي الثَّالِثَةِ“، بخلاف اس کے کہ جب وہ دوسری رکعت کے بعد تیسری رکعت میں تھا، کس میں تھا؟ تیسری رکعت میں تھا، ”وَلَمْ يُقَيِّدْهَا بِالسَّجْدَةِ“، اور حال یہ ہے کہ اس نے اس کو سجدے کے ساتھ مقید نہیں کیا، ”حَيْثُ يَقْطَعُهَا“، اس کو کیا کر دے گا؟ توڑ دے گا بھئی، توڑ دے گا۔ بھئی چوتھی صورت آ گئی۔ چوتھی صورت یہ کہ ایک شخص نے دو رکعتیں ادا کر لی تھیں اور پھر تیسری کے لیے اٹھ گیا تھا، لیکن تیسری رکعت کو ابھی اس نے ادا نہیں کیا یعنی سجدے کے ساتھ مقید نہیں کیا۔ شروع تو کر دیا ہے لیکن سجدے کے ساتھ مقید نہیں کیا، تو پھر بھی یاد رکھیے کہ اب جب سجدے کے ساتھ مقید نہیں کیا تو ابھی اکثرِ نماز نہیں ہوئی۔ جب اکثرِ نماز نہیں ہوئی تو پھر کیا کر سکتا ہے؟ اس کو توڑے، توڑ دے اور توڑ کر کس میں شامل ہو جائے؟ فرضوں میں شامل ہو جائے، تاکہ زیادہ کامل طریقے سے اس کے فرض ادا ہو جائیں۔ اکیلے ادا کرے گا تو اتنا ثواب نہیں، جماعت کے ساتھ ادا کرے گا تو ستائیس گنا زیادہ ثواب ہے۔ تین رکعتیں پڑھیں، متن میں کیا آیا؟ اگر تین پڑھ چکا ہے ظہر کی اور پھر جماعت کھڑی ہوئی تو ان تین کو توڑے گا یا پورا کرے گا؟ ان کو پورا کر لے، ”بِخِلَافِ مَا إِذَا كَانَ فِي الثَّالِثَةِ“، بخلاف اس کے کہ جب وہ دوسری کے بعد کس رکعت میں تھا؟ تیسری رکعت میں تھا، یہ اس کے خلاف ہے۔ اس میں ہم نے کیا کہا تھا؟ اس میں وہ پورا کرے گا اور یہ صورت اس کے خلاف ہے، اس میں کیا کر دے گا؟ نماز کو توڑ دے گا۔ بخلاف اس کے کہ جب وہ تیسری رکعت میں تھا ”وَلَمْ يُقَيِّدْهَا بِالسَّجْدَةِ“ اور اس کو سجدے کے ساتھ مقید نہیں کیا تھا ”حَيْثُ يَقْطَعُهَا“ کیونکہ اس کو وہ توڑ دے گا۔ کیونکہ اس کو وہ، حیث تعلیل کے لیے آتا ہے، یہاں بھی حیث کس لیے ہے؟ تعلیل کے لیے، کیونکہ وہ اس کو توڑ دے گا۔ بھئی عبارت کا ترجمہ کس طرح با محاورہ؟ دیکھو پچھلے متن کو ملاؤ بھئی: ”وَإِنْ كَانَ قَدْ صَلَّى ثَلَاثًا مِنَ الظُّهْرِ“، اور اگر وہ تین رکعتیں پڑھ چکا ہے ظہر کی تو ان کو کیا کر لے گا؟ مکمل کر لے گا، بخلاف اس صورت کے کہ جب وہ تیسری رکعت میں تھا تو اور اس کو اس نے سجدے کے ساتھ مقید نہیں کیا تھا تو یہ صورت اس صورت کے خلاف ہے ”حَيْثُ يَقْطَعُهَا“ کیونکہ اس کو کیا کر دے گا وہ؟ توڑ دے گا، تو یہ اس کے خلاف ہے کیونکہ اس کو توڑ دے گا۔ اور اس میں کیا ہم نے کہا تھا کہ اس کو پورا کر لے۔ تو اس کو کیوں توڑے گا؟ کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ بِمَحَلِّ الرَّفْضِ“، کیونکہ یہ چھوڑنے کے محل میں ہے، اس کو چھوڑا جا سکتا ہے۔ ”وَيَتَخَيَّرُ“، آگے یہ بتلا رہے ہیں کہ اس کو چھوڑنا چھوڑنا ہے، اب کیا کرے؟ تیسری رکعت میں کھڑا ہو گیا ہے اور ابھی اس نے سجدہ نہیں کیا اور ادھر جماعت کھڑی ہو گئی، تو کہتے ہیں اس کو اختیار ہے: چاہے تو بیٹھ جائے اور بیٹھ کر سلام پھیر دے اور پھر جماعت میں شامل ہو جائے۔ اور چاہے تو کھڑے کھڑے ہی جماعت میں شامل ہونے کی نیت کر لے اور تکبیرِ تحریمہ کہہ دے، اللہ اکبر کہہ دے۔ صورت سمجھ میں آئی؟ کون سی صورت ہے؟ ایک آدمی ہے تیسری رکعت کے لیے اٹھ چکا ہے لیکن اس کو ابھی سجدے کے ساتھ مقید نہیں کیا، اب جماعت کھڑی ہو گئی، اب وہ جماعت میں، تو اب یہ چھوڑے جانے کا محل ہے، اس نماز کو چھوڑے اور کس میں شامل ہو جائے؟ جماعت میں، لیکن کس طرح چھوڑے؟ کہتے ہیں اس کو اختیار ہے: چاہے تو بیٹھ کر سلام پھیر دے اور پھر جماعت میں شامل ہو جائے، اور چاہے تو کھڑے کھڑے ہی کیا کر لے؟ جماعت میں شامل ہونے کی نیت کر کے تکبیرِ تحریمہ کہہ دے اور شامل ہو جائے۔ یہ معنی ہے ”وَيَتَخَيَّرُ“، اور اس کو اختیار ہے، ”إِنْ شَاءَ عَادَ“، اگر چاہے تو لوٹ جائے تیسری رکعت سے پھر قعدے کی طرف، تو لوٹ جائے ”فَقَعَدَ وَسَلَّمَ“، تو بیٹھ جائے اور سلام پھیر دے، ”وَإِنْ شَاءَ كَبَّرَ قَائِمًا“، اور اگر چاہے تو تکبیر کہہ دے قَائِمًا اس حال میں کہ وہ کھڑا ہو، یعنی کھڑے ہوتے کھڑے ہونے کی حالت میں ہی تکبیر کہہ دے، ”يَنْوِي الدُّخُولَ فِي صَلَاةِ الْإِمَامِ“، نیت کرتے ہوئے امام کی نماز میں داخل ہونے کی۔ ”وَإِذَا أَتَمَّهَا يَدْخُلُ“، یہ اب وہ صورت ذکر کر رہے ہیں کہ جب یہ اپنی نماز تین رکعتیں پڑھ چکا تھا، تین رکعتیں پڑھ چکا تھا اور جماعت کھڑی ہو گئی تو کیا کرے گا؟ انہوں نے کیا بتلایا؟ نماز کو مکمل کر لے، چوتھی رکعت ساتھ ملا لے۔ پھر پوری کرنے کے بعد پھر اس جماعت کے ساتھ یہ شامل ہو جائے، کس کے ساتھ شامل ہو جائے؟ جماعت کے ساتھ شامل ہو جائے، لیکن اب فرضوں کی نیت کے ساتھ شامل نہیں ہو گا، فرض تو اس نے پورے کر لیے، اس کے ادا ہو گئے اور فرضوں کا ایک وقت کے اندر دوبارہ تکرار نہیں ہوتا، لہٰذا اب جماعت کے ساتھ نفلوں کی نیت کے ساتھ شامل ہو جائے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے ”وَإِذَا أَتَمَّهَا“، اور جب ان کو پورا کر لے، ”يَدْخُلُ مَعَ الْقَوْمِ“، تو ان لوگوں کے ساتھ جماعت میں داخل ہو جائے، ”وَالَّذِي يُصَلِّي مَعَهُمْ نَافِلَةٌ“، اور وہ جو ان لوگوں کے ساتھ یہ پڑھے گا نافلۃ وہ نفل ہوں گے، ”لِأَنَّ الْفَرْضَ لَا يَتَكَرَّرُ فِي وَقْتٍ وَاحِدٍ“، اس لیے کیونکہ فرض جو ہے اس کا تکرار نہیں ہوتا ایک وقت کے اندر۔ دوبارہ ایک فرضوں کو نہیں پڑھا جاتا ہے۔ ظہر کی یہ نماز پڑھ چکا ہے، اب دوبارہ یہ ظہر کی نماز جماعت کے ساتھ دوبارہ فرض نہیں ہوں گے، وہ نفل ہوں گے۔ ”فَإِنْ صَلَّى مِنَ الْفَجْرِ رَكْعَةً ثُمَّ أُقِيْمَتْ يَقْطَعُ وَيَدْخُلُ مَعَهُمْ“. اب دوسری صورت، یہ تو ظہر کی نماز کی بات تھی۔ فجر میں اگر ایک شخص اپنی نماز پڑھ رہا ہے، نماز پڑھنا شروع کی اور ایک رکعت پڑھ چکا ہے اور فجر کی نماز اور جماعت کھڑی ہو گئی، تو اب اس ایک کو یہیں پر توڑ دے، چھوڑ دے اور جماعت میں شامل ہو جائے۔ ایک رکعت پڑھ چکا ہے پھر بھی کیا کر دے؟ اس نماز کو توڑ دے اور کس میں داخل ہو جائے؟ جماعت۔ بھئی آپ نے ہمیں ظہر کی نماز میں یہی مسئلہ پیش آیا تھا تو بتلایا تھا ایک رکعت اور ساتھ ملا لے، کہتے ہیں بھئی یہاں اگر یہ حکم دیا جائے کہ ایک رکعت اور ساتھ ملا لو، پھر تو فجر کی تو نماز ہی دو رکعت ہے تو اس کے تو فرض پورے ہو جائیں گے اور یہ جماعت کے ثواب سے اور فضیلت سے محروم رہ جائے گا، اس لیے ہم نے کہا کہ یہاں وہ کیا کر دے؟ اس کو چھوڑ دے اور جماعت میں شامل ہو جائے اس ثواب سمیٹنے کے لیے۔ ”فَإِنْ صَلَّى مِنَ الْفَجْرِ رَكْعَةً“، اور اگر وہ پڑھ چکا ہے فجر میں سے ایک رکعت، ”ثُمَّ أُقِيْمَتْ“، پھر اقامت کہہ دی گئی، ”يَقْطَعُ وَيَدْخُلُ مَعَهُمْ“، یا اقیمت جماعت کھڑی کر دی گئی، ”يَقْطَعُ وَيَدْخُلُ مَعَهُمْ“، تو وہ نماز کو توڑ دے اور ان کے ساتھ شامل ہو جائے، ”لِأَنَّهُ لَوْ أَضَافَ إِلَيْهَا أُخْرَى تَفُوتُهُ الْجَمَاعَةُ“، اس لیے کیونکہ اگر اس نے ملا دی اس کے ساتھ ایک اور رکعت تَفُوتُهُ الْجَمَاعَةُ تو اس کی جماعت فوت ہو جائے گی۔ ”وَكَذَا إِذَا قَامَ“، کہتے ہیں یہی صورت ہو گی اگر وہ دوسری رکعت کے لیے کھڑا ہو چکا تھا، دوسری رکعت کے لیے کھڑا ہو چکا، پہلی صورت یہ تھی کہ ایک رکعت ادا کی ہے ابھی دوسری کے لیے کھڑا نہیں ہوا، لیکن اگر دوسری کے لیے وہ کھڑا بھی ہو چکا ہے اکیلے اور ادھر جماعت کھڑی ہو گئی، تو بھی کیا کر دے؟ توڑ دے جب تک کہ اس نے اس کو سجدے کے ساتھ مقید نہیں کیا۔ ”وَكَذَا إِذَا قَامَ إِلَى الثَّانِيَةِ“، اور اسی طرح حکم ہے جب وہ کھڑا ہو جائے دوسری رکعت کی طرف، ”قَبْلَ أَنْ يُقَيِّدَهَا بِالسَّجْدَةِ“، جب وہ کھڑا ہو دوسری رکعت کی طرف قبل اس کے کہ اس کو سجدے کے ساتھ مقید کرے۔ ”وَبَعْدَ الْإِتْمَامِ“، اور اگر اس نے پورا کر لیا یا یہ نماز پوری کر چکا تھا، سجدے سے مقید کر چکا تھا، اب جماعت کھڑی ہو گئی، تو کہتے ہیں اب یہ اپنی نماز پوری کر چکا ہے اور پھر یہ ظہر میں تو تھا کہ یہ اپنی نماز پوری کر کے کس میں شامل ہو جاتا تھا؟ جماعت میں، اور کس نیت سے شامل ہوتا تھا؟ نفلوں کی نیت سے، لیکن فجر کی نماز تو اس کی مکمل ہو گئی۔ اب یہ جماعت کے ساتھ نفلوں کی نیت سے شامل نہ ہو، کیونکہ فجر کی نماز کے بعد نفل صحیح نہیں ہیں۔ تو کہتے ہیں: ”وَبَعْدَ الْإِتْمَامِ لَا يَشْرَعُ فِي صَلَاةِ الْإِمَامِ“، اور پورا کرنے کے بعد یہ امام کی نماز میں شروع نہ ہو، ”لِكَرَاهِيَةِ النَّفْلِ بَعْدَهُ“، اس لیے کہ فجر کی نماز کے بعد نفل مکروہ ہیں، تو نفلوں کے مکروہ ہونے کی وجہ سے فجر کے بعد۔ ”وَكَذَا بَعْدَ الْمَغْرِبِ فِي ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ“، اور اسی طرح مغرب کے بعد بھی ظاہرِ روایت میں بھئی یعنی اس کے مطابق بھئی۔ ظاہرِ روایت میں آیا ہے کہ مغرب کی نماز میں بھی اسی طرح کرے، یعنی اگر اپنی نماز پوری کر لی ہے تو پھر جماعت کے ساتھ شامل نہ ہو نفلوں کی نیت سے، پھر جماعت میں شامل نہ ہو۔ بھئی مغرب میں کیوں؟ مغرب کے بعد تو نوافل کے اندر کوئی کراہت نہیں ہے، اس کے بعد تو نفل پڑھے جا سکتے ہیں۔ کہتے ہیں بھئی اگر یہ امام کے ساتھ نفلوں کی نیت سے شامل ہو گا تو دو خرابیوں میں سے ایک خرابی ضرور پیش آئے گی: یا تو یہ امام کے ساتھ ہی سلام پھیرے گا تو نفل تو تین رکعت ہو گئے، حالانکہ تین رکعت تو نفل نہیں درست بھئی، تین رکعت۔ اور یا پھر اسے یہ کرنا پڑے گا کہ امام کے سلام پھیرنے کے بعد ایک رکعت اور ملانا پڑے گی اور اس صورت میں امام کی مخالفت لازم آئے گی اور امام کی مخالفت بھی درست نہیں، تو دو خرابیوں میں سے ایک ضرور لازم آئے گی، اس لیے مغرب کے بعد بھی جب پوری کر لے تو پھر جماعت کے ساتھ شامل نہ ہو بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَكَذَا بَعْدَ الْمَغْرِبِ فِي ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ“، اور اسی طرح ہے مغرب کے بعد بھی ظاہرِ روایت میں، یعنی امام کے ساتھ شروع نہ ہو، ”لِأَنَّ التَّنَفُّلَ بِالثَّلَاثِ مَكْرُوهٌ“، اس لیے کیونکہ تین رکعت کے ساتھ نفل پڑھنا یہ مکروہ ہیں، تو اگر تین پر سلام پھیرے گا تو یہ مکروہ پیش آئے گا، ”وَفِي جَعْلِهَا أَرْبَعًا مُخَالَفَةٌ لِإِمَامِهِ“، اور ان تین کو چار بنانے میں اپنے امام کی مخالفت لازم آئے گی بھئی، اس کی مخالفت ہو گی اگر ایک رکعت اور ملائے گا۔ ”وَمَنْ دَخَلَ مَسْجِدًا قَدْ أُذِّنَ فِيهِ يُكْرَهُ لَهُ أَنْ يَخْرُجَ حَتَّى يُصَلِّيَ“، اور جو شخص داخل ہوا کسی ایسی مسجد میں کہ جس میں اذان دی جا چکی ہے، ”يُكْرَهُ لَهُ“، تو اس کے لیے مکروہ ہے ”أَنْ يَخْرُجَ“ کہ وہ مسجد سے نکلے ”حَتَّى يُصَلِّيَ“ یہاں تک کہ یہ نماز پڑھ لے۔ بھئی کوئی شخص اذان ہو جانے کے بعد مسجد میں داخل ہو، تو اس کے لیے نماز پڑھے بغیر وہاں سے نکلنا مکروہ ہے بھئی، نماز پڑھے بغیر نکلنا۔ یہ معنی ہے کہ مکروہ ہے اس کے لیے کہ وہ نکلے حَتَّى يُصَلِّيَ یہاں تک کہ نماز پڑھ لے، ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ“، بوجہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کے کہ ”لَا يَخْرُجُ مِنَ الْمَسْجِدِ بَعْدَ النِّدَاءِ إِلَّا مُنَافِقٌ أَوْ رَجُلٌ يَخْرُجُ لِحَاجَةٍ يُرِيدُ الرُّجُوعَ“. حضور علیہ السلام فرماتے ہیں کہ مسجد سے نہیں نکلتا بَعْدَ النِّدَاءِ ای بعد الاذان، اذان کے بعد، اذان کے بعد مسجد سے نہیں نکلتا ”إِلَّا مُنَافِقٌ“، مگر منافق ہی، ”أَوْ رَجُلٌ“، یا کوئی ایسا آدمی ”يَخْرُجُ لِحَاجَةٍ“ جو نکلتا ہے کسی ضرورت کی بنا پر ”يُرِيدُ الرُّجُوعَ“ جو واپس لوٹنے کا جس کا ارادہ ہے۔ یعنی اذان ہو جانے کے بعد مسجد سے مسجد سے نکلنے والا، وہ نکلنے والے دو ہی افراد ہو سکتے ہیں: ایک تو یا تو منافق ہو گا، یا وہ آدمی جو اس وجہ سے نکل رہا ہے کہ اس کا کوئی کام ہے اور وہ کام کر کے پھر واپس لوٹنا چاہتا ہے نماز تک یعنی آنا چاہتا ہے کہ اس کا ارادہ کیا ہو گا؟ کہ میں ابھی دو چار منٹ میں واپس آ رہا ہوں یہ کام کر کے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ ”قَالَ إِلَّا إِذَا كَانَ يَنْتَظِمُ بِهِ أَمْرُ جَمَاعَةٍ“. قال، ماتن فرماتے ہیں یعنی امام محمد رحمہ اللہ، ”إِلَّا إِذَا كَانَ يَنْتَظِمُ بِهِ أَمْرُ جَمَاعَةٍ“، مگر یہ، انتظم کے معنی ہوتے ہیں جڑنا، منسلک ہونا۔ مگر یہ کہ ”إِذَا كَانَ يَنْتَظِمُ بِهِ“، جڑا ہوا ہو اس شخص کے ساتھ ”أَمْرُ جَمَاعَةٍ“ کسی جماعت کا معاملہ، پھر نکل سکتا ہے۔ بھئی جب ایک مسجد میں اذان دے دی جائے تو اس مسجد میں جو داخل ہو اس کے لیے بغیر نماز کے وہاں سے نکلنا مکروہ ہے، مگر یہ کہ اس شخص کے ساتھ کسی جماعت کا معاملہ جڑا ہوا ہو، کسی جماعت کا معاملہ اس کے ساتھ منسلک ہو، یعنی یہ کسی دوسری جگہ امام یا مؤذن ہو۔ تو دیکھو ایک دوسری جماعت کا معاملہ اس کے ساتھ جڑا ہوا ہے، یہ دوسری جگہ امام یا مؤذن ہے تو اب اس کو اس کے لیے نکلنا مکروہ نہیں ہے، کیونکہ یہ جائے گا اور جا کر دوسری جگہ اذان دے گا یا امامت کروائے گا، تو اس کے لیے درست ہے۔ تو یہ معنی ہے ”إِلَّا إِذَا كَانَ يَنْتَظِمُ بِهِ أَمْرُ جَمَاعَةٍ“، مگر یہ کہ اس کے ساتھ منسلک ہو کسی دوسری جماعت کا معاملہ، تو اس کے لیے نکلنا مکروہ نہیں، بھئی کیوں نہیں مکروہ؟ کہتے ہیں ”لِأَنَّهُ تَرْكٌ صُورَةً تَكْمِيلٌ مَعْنًى“، اس لیے کیونکہ یہ صورۃً تو اگرچہ چھوڑنا ہے یہ نماز کو چھوڑ کر جا رہا ہے، تو یہ صورۃً تو نماز کو چھوڑنا ہے، ”تَكْمِيلٌ مَعْنًى“ لیکن معنی کے اعتبار سے یہ پورا کرنا ہے، کیونکہ یہ کیا کرے گا وہاں جا کر؟ وہاں جماعت کروائے گا یا اذان دے گا اور جماعت ہو گی، تو یہ گویا اس کو کیا کر رہا ہے؟ نماز کو چھوڑ نہیں رہا بلکہ پورا کر رہا ہے۔ ”وَإِنْ كَانَ قَدْ صَلَّى وَكَانَتِ الظُّهْرَ وَالْعِشَاءَ فَلَا بَأْسَ بِأَنْ يَخْرُجَ“، اور اگر وہ نماز پڑھ چکا ہے، بھئی ایک شخص ہے وہ نماز پڑھ چکا ہے اور اذان کے بعد وہ مسجد میں داخل ہوا یا مسجد میں تھا اور اذان ہو گئی، دونوں کا ایک ہی حکم ہے، وقت کون سا ہے؟ ظہر یا عشاء، اور یہ نماز ظہر یا عشاء کی پڑھ چکا ہے تو اب اس کے لیے نکلنے میں کوئی حرج نہیں، اب اس کا مسجد سے نکلنا مکروہ نہیں۔ یہ معنی ہے ”وَإِنْ كَانَ قَدْ صَلَّى“، اور اگر وہ نماز پڑھ چکا ہے، ”وَكَانَتِ الظُّهْرَ وَالْعِشَاءَ“، اور وہ نماز بھی ظہر اور عشاء کی تھی، ”فَلَا بَأْسَ بِأَنْ يَخْرُجَ“، تو کوئی حرج نہیں ہے اس کے نکلنے میں، ”لِأَنَّهُ أَجَابَ دَاعِيَ اللَّهِ مَرَّةً“، اس لیے کیونکہ اس نے اللہ کی طرف بلانے والے کی دعوت ایک دفعہ قبول کر لی ہے، ایک دفعہ اس پر کیا کر لیا ہے؟ عمل کر لیا ہے، وہ نماز یہ پڑھ چکا ہے۔ ”إِلَّا إِذَا أَخَذَ الْمُؤَذِّنُ فِي الْإِقَامَةِ“، مگر یہ کہ مؤذن شروع ہو جائے اقامت کے اندر۔ بھئی یہ شخص ایک دفعہ ظہر کی نماز پڑھ چکا ہے تو اب یہ نکل سکتا ہے۔ کوئی اور نکلے اذان ہو، اذان کے بعد مسجد میں گیا یا مسجد میں تھا اور اذان ہو گئی، اب اس کا ویسے عام آدمی کا نکلنا مکروہ ہے، اس لیے کیونکہ وہ مؤذن کیا کر رہا ہے؟ اللہ کی طرف بلا رہا ہے، اور یہ جب نکلے گا تو گویا کیا کر رہا ہے؟ اس بلانے والے کی دعوت کو رد کر رہا ہے۔ تو اگر یہ ظہر اور عشاء کا وقت ہے اور یہ نماز پڑھ چکا ہے پھر نکل سکتا ہے کیونکہ ایک مرتبہ اس داعی کا جواب یہ دے چکا ہے، اس کی دعوت قبول کر چکا ہے۔ ہاں اگر وہ یہ مسجد ہی میں تھا، جو نماز پڑھ چکا ہے مسجد ہی میں تھا کہ اقامت شروع ہو گئی، جماعت کھڑی ہو رہی ہے، اب اس کو نہیں نکلنا چاہیے بلکہ ان کے ساتھ شامل ہو جائے، اس لیے کیونکہ اب اقامت ہو رہی ہے اور ادھر یہ مسجد سے نکل رہا ہے سارے اس کو دیکھیں گے تو سارے اس کے بارے میں بدگمانی کریں گے کہ یہ کیا کر رہا ہے؟ نماز کو چھوڑ رہا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”إِلَّا إِذَا أَخَذَ الْمُؤَذِّنُ فِي الْإِقَامَةِ“، مگر یہ کہ مؤذن جب اقامت کہنے میں شروع ہو جائے تو پھر نہ نکلے، ”لِأَنَّهُ يُتَّهَمُ بِمُخَالَفَةِ الْجَمَاعَةِ“، کیونکہ اس کے اوپر تہمت آئے گی جماعت کی مخالفت کرنے کی، عَيَانًا کھلے بندوں، سامنے۔ سمجھ میں آیا؟ یعنی برملا، برملا اس کی جماعت کی مخالفت کے ساتھ وہ متہم ہو گا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ متہم ہو گا، تہمت آئے گی، یعنی دلوں میں بدگمانی آئے گی، لوگ کہیں گے جماعت چھوڑ کر جا رہا ہے۔ تو ان میں ان کے ساتھ پھر شامل ہو جائے اور وہ نماز اس کی پھر نفل ہو جائے گی۔ ”وَإِنْ كَانَتِ الْعَصْرَ أَوِ الْمَغْرِبَ“، اور اگر وہ نماز تھی وہ عصر یا مغرب کی تھی، ”أَوِ الْفَجْرَ“، یا کون سی تھی؟ فجر کی تھی۔ صورتِ مسئلہ یہ: کہ ایک آدمی فجر، مغرب یا عصر ان کی نماز پڑھ چکا ہے اور پھر مسجد میں آیا اور اب اذان کے بعد اب یہ اس کا وہاں سے نکلنا مکروہ نہیں، وہاں سے نکل سکتا ہے، نکل سکتا ہے۔ حتی کہ اگر مؤذن اقامت کہنا شروع کر دے پھر بھی یہ نکل سکتا ہے۔ بھئی پھر کیوں نکل سکتا ہے؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ نماز یہ پڑھ چکا ہے، اب اگر جماعت کے ساتھ شامل ہو گا فجر میں تو وہ نفل ہوں گے اور فجر کی نماز کے بعد تو نفل مکروہ ہیں، لہٰذا نکل سکتا ہے۔ مغرب کے اندر بھی نکل سکتا ہے، کیونکہ مغرب میں اگر وہ نفلوں کی نیت سے شامل ہو گا تو پھر دو خرابیوں میں سے ایک خرابی ضرور یا تو اسے تین پر ہی سلام پھیرنا پڑے گا یا چار پوری کرے گا، تین پر سلام پھیرتا ہے تو تین نفل پڑھنا تو مکروہ، اور چار چوتھی رکعت ساتھ ملائے گا تو اپنے امام کی مخالفت کی خرابی لازم آئے گی وہ بھی درست نہیں ہے، اور اسی طرح اگر عصر کے بعد ہے تو عصر کے بعد بھی نکل سکتا ہے، کیونکہ عصر کے بعد نوافل پڑھنا مکروہ ہیں بھئی، یہ آپ پڑھ چکے بھئی۔ مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟ لہٰذا ان میں پھر شرکت نہ کرے جب ایک دفعہ نماز پڑھ چکا ہے۔ ”وَإِنْ كَانَتِ الْعَصْرَ أَوِ الْمَغْرِبَ أَوِ الْفَجْرَ خَرَجَ“، اور وہ نماز اگر عصر یا مغرب یا فجر کی تھی تو پھر نکل سکتا ہے، ”وَإِنْ أَخَذَ الْمُؤَذِّنُ فِيهَا“، اگرچہ مؤذن اقامت میں شروع ہو جائے، پھر نکل سکتا ہے، کیوں؟ کہتے ہیں: ”لِكَرَاهِيَةِ النَّفْلِ بَعْدَهَا“، اس وجہ سے کہ ان کے بعد نفل مکروہ ہیں، یعنی عصر اور فجر میں میں نفل مکروہ ہیں، اور مغرب میں وہ خرابی لازم آئے گی جو ابھی پیچھے ذکر ہوئی۔ ”وَمَنِ انْتَهَى إِلَى الْإِمَامِ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ“، اور جو شخص پہنچا امام تک فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ کون سی نماز میں؟ فجر کی۔ بھئی ایک شخص فجر کی نماز کے لیے پہنچا اور امام نماز میں شروع ہو چکا ہے، جماعت کھڑی ہو چکی ہے، ”وَهُوَ لَمْ يُصَلِّ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ“، اور حال یہ ہے کہ یہ جو شخص جو پہنچا ہے اس نے فجر کی دو رکعتیں نہیں پڑھیں یعنی دو سنتیں نہیں پڑھیں۔ تو کہتے ہیں: ”إِنْ خَشِيَ أَنْ تَفُوتَهُ رَكْعَةٌ“، اگر اس کو یہ خوف ہے ”أَنْ تَفُوتَهُ رَكْعَةٌ“ کہ میں سنتیں پڑھوں گا تو میری ایک رکعت فوت ہو جائے گی، ”وَيُدْرِكُ الْأُخْرَى“، اور دوسری کو وہ پا لے گا، تو پھر کہتے ہیں: ”يُصَلِّي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ“، تو وہ پڑھ لے فجر کی دو رکعتیں، کہاں پر؟ مسجد کے دروازے کے پاس پڑھ لے، ”ثُمَّ يَدْخُلُ“، پھر ان لوگوں کے ساتھ شامل ہو جائے۔ ”لِأَنَّهُ أَمْكَنَهُ الْجَمْعُ بَيْنَ الْفَضِيلَتَيْنِ“، اس لیے کیونکہ ممکن ہے اس کے لیے دونوں فضیلتوں کو جمع کرنا، سنتیں بھی پڑھ کر سنتوں کی فضیلت کو بھی پا سکتا ہے اور ادھر فجر کی ایک رکعت نکل جائے گی لیکن ایک کو کیا کر لے گا؟ پا لے گا، تو جماعت کی فضیلت کو بھی پا لے گا۔ ”وَإِنْ خَشِيَ فَوْتَهَا“، اور اگر اس کو جماعت کے فوت ہو جانے کا خوف ہے کہ اب اگر میں دو سنتیں پڑھوں گا تو پوری جماعت ہی نکل جائے گی، تو کہتے ہیں: ”دَخَلَ مَعَ الْإِمَامِ“، تو پھر سنتوں کو چھوڑ دے اور امام کے ساتھ جماعت میں شامل ہو جائے، ”لِأَنَّ ثَوَابَ الْجَمَاعَةِ أَعْظَمُ“، اس لیے کیونکہ جماعت کا ثواب بہت بڑا ہے، ”وَالْوَعِيدُ بِالتَّرْكِ أَلْزَمُ“، اور اس کے چھوڑنے پر جو وعید ہے وہ اس کے ساتھ زیادہ لازم ہونے والی ہے بھئی، اس کے ساتھ زیادہ لازم ہونے والی ہے۔ بھئی اس لیے کیونکہ جماعت کو چھوڑنے والے کے لیے حدیث میں وعید آئی ہے، وعید آئی ہے۔ اور وہ عام شخص جو جماعت کو چھوڑتا ہے ان کے لیے وعید ہے، تو یہ تو وہاں پہنچ کر پھر بھی اس میں شامل نہیں ہوا تو یہ وہ وعید اس کے ساتھ زیادہ لازم ہونے والی ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ لہٰذا اس وعید سے بچنے کے لیے اور جماعت میں شامل ہو جائے، تو دو وجہیں ذکر کر دیں صاحبِ ہدایہ نے کہ جماعت میں شامل ہونا چاہیے اس لیے کیونکہ جماعت کا ثواب بہت عظیم ہے اور نیز اس صورت میں جو چھوڑنے پر جو وعید آئی ہے وہ اس کے اگر وہ نہیں شامل ہو گا تو وہ وعید اس کے ساتھ زیادہ لازم ہونے والی ہے۔ ”بِخِلَافِ سُنَّةِ الظُّهْرِ“، بخلاف ظہر کی سنتوں کے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو بس اور شارح اور شارحین انہوں نے معنی کیا ”وَالْوَعِيدُ بِالتَّرْكِ أَلْزَمُ“، اور وہ جو وعید آئی ہے چھوڑنے کی وجہ پر وہ الزم، میں نے کیا ترجمہ کیا؟ اس کے ساتھ زیادہ لازم ہے۔ انہوں نے معنی کیا کیونکہ وہ وعید جو چھوڑنے کے بارے میں آئی ہے بڑی سخت ہے، بڑی سخت، تو جو معنی بھی آپ کر لیں، کیونکہ چھوڑ جماعت چھوڑنے پر جو وعید آئی ہے وہ بڑی سخت وعید آئی ہے، تو اس لیے کیا کرے؟ سنتوں کو چھوڑ دے لیکن جماعت کو نہ چھوڑے۔ اور چاہیں تو دوسرا ترجمہ کر لیں کہ وہ وعید اس کے ساتھ زیادہ لازم ہو جائے گی، کیوں؟ کیونکہ باقی لوگ تو دور تھے وہ تو شریک نہیں ہوئے، یہ تو پہنچ کر بھی جماعت کے اندر شریک نہیں ہوا تو وعید اس کے ساتھ زیادہ لازم ہے۔ ”بِخِلَافِ سُنَّةِ الظُّهْرِ“، بخلاف کس کے؟ ظہر کی سنتوں کے، ”حَيْثُ يَتْرُكُهَا فِي الْحَالَيْنِ“، کیونکہ ان کو چھوڑ دے گا دونوں حالتوں میں۔ بھئی فجر کی دو سنتوں میں جب جماعت کے ملنے کا، ایک رکعت ملنے کا کی صورت ہے تو کیا کر لے؟ دو سنتیں پڑھ لے، اور اگر جماعت کے فوت ہو جانے کا خوف ہے تو پھر ان سنتوں کو چھوڑ دے، اور ظہر کی سنتیں اس کے خلاف ہیں ”حَيْثُ يَتْرُكُهَا فِي الْحَالَيْنِ“ کیونکہ ان کو وہ چھوڑ دے گا دونوں حالتوں میں، دونوں حالتوں میں چھوڑ دے گا دونوں حالتوں میں، چاہے جماعت ملنے کا احتمال ہے چاہے چھوٹنے کا احتمال ہے، دونوں صورتوں میں کیا کرے؟ ظہر کی سنتوں کو چھوڑ دے۔ بھئی کیوں چھوڑ دے جب جماعت ملنے کا احتمال ہے؟ کہتے ہیں بھئی تو اس میں دونوں صورتوں میں ظہر کی سنتوں کو چھوڑ دے، اس لیے کیونکہ پھر ظہر کی سنتیں نماز کے بعد بھی ادا کی جا سکتی ہیں بھئی۔ وجہ سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ معنی ہے دونوں حالتوں میں ان کو چھوڑ دے گا، ”لِأَنَّهُ يُمْكِنُهُ أَدَاؤُهَا فِي الْوَقْتِ بَعْدَ الْفَرْضِ“، اس لیے کیونکہ ان سنتوں کی ادائیگی ممکن ہے وقت کے اندر ہی بعد الفرض فرضوں کے بعد، ”وَالصَّحِيحُ“، یہی قول صحیح ہے۔ ”وَإِنَّمَا الِاخْتِلَافُ بَيْنَ أَبِي يُوسُفَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللَّهُ فِي تَقْدِيمِهَا عَلَى الرَّكْعَتَيْنِ وَتَأْخِيرِهَا عَنْهُمَا“. بھئی ظہر کی سنتیں اگر نماز سے پہلے رہ جائیں تو کب ادا کرتے ہیں؟ نماز کے بعد ادا کرتے ہیں ان کو، لیکن نماز کے بعد تو دو رکعتیں اور بھی تھیں ظہر کی، تو پھر پہلے کس کو پڑھیں گے؟ یہ جو بعد والی دو ہیں ان کو پہلے پڑھیں اور چار کو ان کے بعد پڑھ لیں جو پہلے والی رہ گئی تھیں، یا پہلے وہ چار پڑھیں گے اور پھر یہ والی دو پڑھیں گے؟ اس میں صاحبین کا اختلاف ہے، صاحبین کا اختلاف ہے۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ رکعتیں پہلے ہی مؤخر ہو چکی ہیں تو مزید مؤخر نہ کرے، پہلے ان چار کو پڑھے اور پھر ان دو کو پڑھے نماز کے بعد۔ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں نہیں، پہلے وہ دو پڑھے پھر ان چار کو پڑھے۔ وہ فرماتے ہیں وہ چار رکعتیں وہ اپنے محل سے تو رہ ہی گئی ہیں، ان کا محل تو کہاں تھا؟ نماز سے پہلے تھا، اب ان کا محل تو چھوٹ گیا، تو اب نماز کے بعد جو دو رکعتیں ہیں کم از کم ان کو تو اپنے محل پر ہی ادا کرے، اور ان کا محل کب تھا؟ نماز کے فوراً بعد تھا یا نہیں تھا بھئی؟ ان کا محل تو نماز کے فوراً بعد ہے، تو لہٰذا پہلے ان دو کو ادا کر لے یہ تاکہ کم از کم اپنے محل پہ ادا ہو جائیں اور پھر اس کے بعد چار رکعتیں ادا کرے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: ”وَإِنَّمَا الِاخْتِلَافُ بَيْنَ أَبِي يُوسُفَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللَّهُ“، اور اختلاف جو ہے وہ امام ابو یوسف اور امام محمد رحمہ اللہ کے درمیان صرف ”فِي تَقْدِيمِهَا“، صرف ان کے مقدم کرنے میں ہے ان چار رکعتوں کا، ان چار رکعتوں کا مقدم کرنا ”عَلَى الرَّكْعَتَيْنِ“، کس پر؟ دو رکعتوں پر، ”وَتَأْخِيرِهَا عَنْهُمَا“، اور ان چار رکعتوں کو مؤخر کرنا ان دو رکعتوں پر، یعنی اس میں صرف اختلاف ہے صاحبین کا کہ ان چار رکعتوں کو ان دو رکعتوں پر مقدم کیا جائے گا یا ان چار رکعتوں کو ان دو رکعتوں پر مؤخر کیا جائے گا۔ تو یاد رکھیے یہ تقدیم کا لفظ پہلے آیا، تقدیم کا لفظ پہلے آیا، تو یہ مذہب ہے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا، وہ فرماتے ہیں ان چار کو مقدم کریں گے عَلَى الرَّكْعَتَيْنِ کس پر؟ ان دو پر۔ اور عبارت میں امام محمد رحمہ اللہ کا نام بعد میں آیا تو ”وَتَأْخِيرِهَا عَنْهُمَا“ یہ ہے امام محمد رحمہ اللہ کا مذہب کہ ان کے نزدیک ان چار کو ان دو پر کیا کریں گے؟ مؤخر کریں گے بھئی۔ اور بعض علماء نے اس کا عکس بھی لکھا ہے، وہ فرماتے ہیں امام محمد رحمہ اللہ کا مذہب یہ ہے کہ پہلے چار پڑھیں گے پھر دو، اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا مذہب یہ ہے کہ پہلے پہلے دو پڑھیں گے اور پھر چار پڑھیں گے۔ ”وَلَا كَذَلِكَ سُنَّةُ الْفَجْرِ عَلَى مَا نُبَيِّنُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى“، اور فجر کی سنتیں اس طرح نہیں ہیں بوجہ اس کے جو ہم بیان کریں گے ان شاء اللہ تعالیٰ۔ بھئی یہ بات ذکر ہوئی متن میں ذکر آیا تھا فجر کی سنتوں کا کہ اگر ایک رکعت فجر کی جماعت ملنے کی صورت ہے تو پھر سنتوں کو نہ چھوڑے، سنتیں ادا کر لے، اور اگر پوری جماعت کے فوت ہو جانے کا خوف ہے تو پھر سنتوں کو چھوڑ دے، لیکن ظہر میں نہیں ظہر میں دونوں صورتوں میں کیا کر دیں گے؟ چھوڑ دیں گے۔ تو بھئی یہ فجر میں کیوں کہا گیا اگر ایک رکعت ملتی ہے تو سنتیں بھی پڑھ لو؟ تو اس کی وجہ یہ، وہ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ فجر کی سنتیں اس طرح نہیں ہیں، ظہر کی سنتیں تو ظہر کی نماز کے بعد بھی ادا کی جا سکتی تھیں وقت کامل صحیح تھا، لیکن فجر کے اندر کیا ہے؟ نماز کے بعد نفل ادا کرنا مکروہ ہے، لہٰذا اس لیے بھئی تو ان کا حکم بھی مختلف ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا كَذَلِكَ سُنَّةُ الْفَجْرِ“، اور فجر کی سنتیں اس طرح نہیں ہیں، ”عَلَى مَا نُبَيِّنُ“، بوجہ اس کے جو ہم بیان کریں گے، ”إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى“. ”وَالتَّقْيِيدُ بِالْأَدَاءِ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ يَدُلُّ عَلَى الْكَرَاهَةِ فِي الْمَسْجِدِ“. بھئی متن میں کیا آیا تھا؟ کہ جس کو یہ جماعت میں پہنچا اور اس کو یہ خوف ہے کہ ایک رکعت نکل جائے گی لیکن ایک کو میں پا لوں گا، تو کہاں پر سنتیں ادا کر لے؟ مسجد کے دروازے کے پاس۔ صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں کہ متن میں یہ جو مقید کیا گیا ادا کو ”عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ“ کہ ادا کرے کہاں پر ادا کرے؟ مسجد کے دروازے کے پاس ادا کرنے کے ساتھ جو متن میں مقید کیا گیا، ”يَدُلُّ عَلَى الْكَرَاهَةِ فِي الْمَسْجِدِ“، یہ دلالت کرتا ہے مسجد میں کراہت پر کہ مسجد میں ادا کرنا مکروہ ہے ”إِذَا كَانَ الْإِمَامُ فِي الصَّلَاةِ“ جبکہ امام کس میں ہو؟ نماز میں ہو۔ تو اس لیے انہوں نے کہا مسجد کے دروازے کے پاس یعنی مسجد سے باہر ہی وہ سنتیں ادا کر لے بھئی، سنتیں ادا کر لے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو جب جماعت کھڑی ہو اس وقت سنتیں مسجد میں ادا کرنا مکروہ ہے، اس وقت پہلے انسان جماعت میں شرکت کرے، اور اگر باہر جگہ نہیں ہے مسجد ہی میں پڑھنا پڑے تو پھر یاد رکھیے کسی ستون کے پیچھے کھڑے ہو کر انسان ان کو ادا کر لے، اور سب سے زیادہ کراہت اس کے اندر ہے کہ اسی صف میں کھڑا ہو کر سنتیں ادا کرے جو نماز پڑھ رہی ہے، جماعت ہے بھئی۔ تو یہ سب سے زیادہ کراہت اس میں ہے۔ ”وَالْأَفْضَلُ فِي عَامَّةِ السُّنَنِ وَالنَّوَافِلِ الْمَنْزِلُ هُوَ الْمَرْوِيُّ عَنِ النَّبِيِّ عَلَيْهِ السَّلَامُ“. اور افضل عام سنتوں میں اور نفلوں میں المنزل گھر ہے۔ عام نفل اور سنتیں گھر پر پڑھنا افضل ہیں، ”هُوَ الْمَرْوِيُّ عَنِ النَّبِيِّ عَلَيْهِ السَّلَامُ“، یہی روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ تو فرض جو ہیں وہ صرف مسجد میں جماعت کے ساتھ ہونے چاہیئیں، باقی سنتیں اور نوافل ان کی فضیلت گھر پر زیادہ ہے بھئی، اور یہ حضور علیہ السلام کا بھی یہی طریقہ تھا، آپ نوافل اور سنتیں کہاں پر ادا فرماتے تھے؟ گھر پر ادا فرماتے تھے، گھر پر۔ اور ایک مرتبہ حضور علیہ السلام ایک مسجد کے پاس سے گزرے اور وہ لوگ مسجد کے اندر نوافل وغیرہ میں مشغول تھے تو حضور علیہ السلام فرمانے لگے کہ یہ تو گھر کی نماز ہے، یعنی یہ جو مسجد میں پڑھ رہے ہیں یہ کہاں پڑھنی چاہیے ان کو؟ گھر میں پڑھنی چاہیے، مسجد تو میں صرف فرض یہ جماعت ہونی چاہیے بھئی۔ اور میرے والد محترم حضرت مولانا محمد موسیٰ روحانی بازی رحمہ اللہ تعالیٰ ان کا زندگی بھر یہی معمول رہا کہ وہ ہمیشہ سنتیں کہاں ادا کرتے؟ گھر پر ادا کرتے تھے، اور سنتیں ادا کر کے پھر جماعت میں شرکت کے لیے تشریف لے جاتے اور پھر جماعت میں شرکت کرنے کے بعد بقیہ سنتیں بھی گھر پر ہی آ کر ادا کرتے تھے بھئی، اور اس سے گھر والوں پر بھی اثر پڑتا ہے اور عورتوں اور بچوں کی بھی اس سے تربیت ہوتی چلی جاتی ہے بھئی، تو اس لیے یہ گھر پر پڑھنی چاہیئیں بھئی۔ ”وَإِذَا فَاتَتْهُ رَكْعَتَا الْفَجْرِ لَا يَقْضِيهِمَا قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ“، اور جب اس کی فوت ہو جائیں فجر کی دو رکعتیں تو پھر ان کی قضا نہ کرے سورج طلوع ہونے سے پہلے۔ بھئی ایک شخص اس کی فجر کی سنتیں رہ گئیں جیسے اوپر مسئلے میں ذکر ہوا، جماعت کے ساتھ اس نے نماز پڑھ لی اور فجر کی دو سنتیں رہ گئیں اور فجر کی دو سنتیں وہ اب نماز پڑھنے کے بعد ان کو نہیں پڑھیں گے، کیونکہ فجر کی نماز کے بعد نوافل کا پڑھنا مکروہ ہے اور یہ سنتیں بھی کیا ہیں؟ نوافل ہی ہیں جن پر حضور علیہ السلام نے پابندی فرمائی، تو لہٰذا فجر کی نماز کے بعد بھی نہیں پڑھیں گے اور پھر سورج طلوع ہو جانے کے بعد جب مکروہ وقت نکل جائے تو کیا ان کی قضا کی جائے گی یا نہیں کی جائے گی؟ تو شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، ان کی قضا بھی نہیں کی جائے گی، جب اکیلی سنتیں ہیں۔ اگر فرض بھی رہ گئے ہیں پھر تو فرض ادا کرتے ہوئے ان کو بھی پڑھ لے بھئی، قضا کر لے ان کی بھی، لیکن اگر صرف سنتیں رہ گئی ہیں تو پھر ان کی قضا نہیں، جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے زیادہ پسند یہ ہے کہ جب سورج طلوع ہو جائے، مکروہ وقت نکل جائے تو پھر ان کی قضا کر لے، زوال سے پہلے پہلے کیا کر سکتا ہے؟ ان کی قضا کر سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِذَا فَاتَتْهُ رَكْعَتَا الْفَجْرِ“، اور جب اس شخص کی فجر کی دو رکعتیں چھوٹ گئیں یعنی دو سنتیں، ”لَا يَقْضِيهِمَا قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ“، تو ان دو رکعتوں کی قضا نہ کرے سورج طلوع ہونے سے پہلے، ”لِأَنَّهُ يَبْقَى نَفْلًا مُطْلَقًا“، اس لیے کیونکہ یہ صرف نفلِ مطلق ہو کر باقی رہ گئے۔ یہ جو دو رکعتیں ہیں یہ کیا بن کر باقی رہ گئیں؟ نفلِ مطلق بن کر باقی رہ گئی ہیں، اب یہ سنت نہ رہیں، کیونکہ سنت تو نماز سے پہلے تھی، نماز کے بعد نہیں، تو یہ اپنے نفلِ مطلق بن کر رہ گئی ہیں، ”وَهُوَ مَكْرُوهٌ بَعْدَ الصُّبْحِ“، اور نفل تو صبح کی نماز کے بعد مکروہ ہیں۔ ”وَلَا بَعْدَ ارْتِفَاعِهَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُمَا اللَّهُ“، اور سورج کے بلند ہو جانے کے بعد بھی ان کی قضا نہ کرے شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک۔ ”وَقَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ: أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ يَقْضِيَهُمَا إِلَى وَقْتِ الزَّوَالِ“، اور امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے زیادہ پسند یہ ہے کہ ان دونوں کی قضا کر لے وقتِ زوال تک، یعنی زوال سے پہلے پہلے ان کی قضا کر سکتا ہے، اس کے بعد پھر ان کی قضا نہیں۔ وجہ کیا؟ دلیل کیا امام محمد رحمہ اللہ کی؟ وہ فرماتے ہیں: ”لِأَنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَضَاهُمَا بَعْدَ ارْتِفَاعِ الشَّمْسِ غَدَاةَ لَيْلَةِ التَّعْرِيسِ“، اس لیے کیونکہ حضور علیہ السلام نے ان دو رکعتوں کو، ان دو رکعتوں کی قضا فرمائی تھی سورج کے بلند ہو جانے کے بعد غَدَاةَ لَيْلَةِ التَّعْرِيسِ لیلۃ التعریس کی صبح کو۔ لیلۃ التعریس یہ واقعہ پیچھے گزر چکا ہے کہ سفر میں تھے اور رات کے آخری پہر میں پھر پڑاؤ ڈالا صحابہ کے اصرار پر حضور علیہ السلام نے، اور حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ذمہ داری لی کہ میں جگاؤں گا اور پھر وہ وہ بھی ان پر بھی نیند غالب ہوئی اور سورج طلوع ہو گیا، حضور علیہ السلام سب سے پہلے بیدار ہوئے تو آپ نے پھر بعد میں جب سورج کچھ بلند ہو گیا تھا تو جماعت کے ساتھ وہ فجر کی نماز کی قضا فرمائی اور نماز سے پہلے وہ دو سنتیں بھی ادا فرمائیں بھئی، ادا فرمائیں۔ تو امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں معلوم ہوا ان سنتوں کو کیا کیا جائے گا؟ بعد میں ان کی قضا، قضا کرنا پسندیدہ ہے۔ ”وَلَهُمَا“، اور شیخین رحمہما اللہ کی دلیل یہ ہے ”أَنَّ الْأَصْلَ فِي السُّنَّةِ أَنْ لَا تُقْضَى لِاخْتِصَاصِ الْقَضَاءِ بِالْوَاجِبِ“، کہ اصل تو یہ ہے کہ سنتوں کی قضا نہیں کی جاتی، کیونکہ قضا کا اختصاص ہے واجب کے ساتھ، قضا خاص ہے کس کے ساتھ؟ واجب کے ساتھ، قضا واجب کی کی جاتی ہے سنتوں کی نہیں۔ ”وَالْحَدِيثُ وَرَدَ فِي قَضَائِهِمَا تَبَعًا لِلْفَرْضِ“، اور حدیث وارد ہوئی ہے سنتوں کی قضا کے بارے میں کہ وہ فرضوں کے تابع تھی، اس حال میں کہ وہ فرضوں کے تابع۔ بھئی لیلۃ التعریس کی حدیث میں سنتوں کی قضا آئی ہے لیکن وہ سنتیں فرضوں کے تابع تھیں، کیونکہ فرضوں کی قضا کی جا رہی تھی اس لیے ان کے ساتھ سنتوں کی بھی قضا کر لی گئی، اکیلی سنتوں کی قضا نہیں کی جائے گی۔ تو کہتے ہیں ”وَالْحَدِيثُ وَرَدَ فِي قَضَائِهِمَا تَبَعًا لِلْفَرْضِ“، اور حدیث وارد ہوئی ہے فرضوں کے تابع ان کی قضا کرنے کے بارے میں، ”فَبَقِيَ مَا وَرَاءَهُ عَلَى الْأَصْلِ“، تو اس باقی سنتیں جو ہیں وہ اپنی اصل پر باقی رہیں گی۔ فَبَقِيَ مَا وَرَاءَهُ تو اس کے علاوہ جو ہیں، اس کے علاوہ کون سی سنتیں؟ جو فرضوں کے تابع نہ ہوں، اکیلی کیا ہوں؟ سنت، وہ باقی جتنی ہیں وہ سب وہ باقی رہیں گی عَلَى الْأَصْلِ کس پر؟ اپنی اصل پر، تو فرضوں کے تابع سنتوں کی قضا کی جائے گی اکیلی سنتوں کی قضا نہیں بھئی۔ بھئی عبارت بھی سمجھ آ رہی ہے کہ نہیں بھئی؟ کہیں عبارت سمجھ میں نہ آئے تو بتا دیا کریں بھئی۔ تو دوبارہ ترجمہ ذرا دیکھ لیں: ”وَالْحَدِيثُ وَرَدَ فِي قَضَائِهِمَا تَبَعًا لِلْفَرْضِ“، اور حدیث وارد ہوئی ہے ان کی قضا کے بارے میں تَبَعًا لِلْفَرْضِ فرضوں کے تابع، فرضوں کے تابع ان دونوں کی قضا کے بارے میں حدیث وارد ہوئی ہے، ”فَبَقِيَ مَا وَرَاءَهُ“، تو اس کے علاوہ جو ہیں یعنی جو فرضوں کے تابع نہ ہوں وہ ساری صورتیں وہ باقی رہیں گی ”عَلَى الْأَصْلِ“ کس پر؟ اپنی اصل پر، اور اصل تو کیا ہے کہ سنتوں کی قضا نہیں کی جاتی۔ ”وَإِنَّمَا تُقْضَى تَبَعًا لَهُ وَهُوَ يُصَلِّي بِالْجَمَاعَةِ أَوْ وَحْدَهُ إِلَى وَقْتِ الزَّوَالِ“، اور ان سنتوں کی قضا کی جائے گی ان فرضوں کے تابع، اس حال میں کہ وہ نماز پڑھے جماعت کے ساتھ یا اکیلا ہی زوال کے وقت تک، زوال کے وقت۔ بھئی سنتوں کے بارے میں ذکر ہو گیا کہ اگر اکیلی سنتیں رہ گئی ہیں تو امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں زوال سے پہلے کیا کر سکتا ہے؟ ان کی قضا کر سکتا ہے، یہ پسندیدہ ہے یعنی مستحب ہے۔ شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ ان کی قضا نہیں کی جائے گی کیونکہ فرضوں کے تابع ہو کر تو ان کی قضا کی جا سکتی ہے اکیلے ان کی قضا نہیں، اور یہ شخص بھی فرضوں کے تابع کیا کرے گا؟ سنتوں کی قضا، تو یہ شخص بھی فرضوں کے تابع سنتوں کی قضا کرے گا چاہے جماعت کے ساتھ بعد میں فرضوں کی قضا کر رہا تھا یا اکیلے ہی۔ ایک آدمی کی فجر کی نماز ہی رہ گئی، بعد میں وہ اس فجر کی نماز کی قضا کرتا ہے، چاہے اکیلے قضا کرے چاہے جماعت کے ساتھ کیا کرے؟ فرضوں کی قضا کرے، تو تبعاً کیا کرے گا؟ سنتوں کی بھی قضا کرے گا، لیکن زوال سے پہلے پہلے۔ اگر یہ فرضوں کی قضا وہ کب کر رہا ہے؟ زوال سے پہلے کر رہا ہے۔ یہ معنی ہے ”وَإِنَّمَا تُقْضَى تَبَعًا لَهُ وَهُوَ يُصَلِّي بِالْجَمَاعَةِ أَوْ وَحْدَهُ إِلَى وَقْتِ الزَّوَالِ“، اور سنتوں کی قضا کی جائے گی فرضوں کے تابع اس حال میں کہ وہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھے یا اکیلا ہی زوال کے وقت تک۔ ”وَفِيمَا بَعْدَهُ اخْتِلَافُ الْمَشَايِخِ“، اور زوال کے بعد میں مشائخ یعنی فقہاء کا اختلاف ہے۔ یعنی زوال کے بعد اگر وہ نماز کی قضا کرتا ہے فجر کی نماز رہ گئی تھی اس کی قضا کرتا ہے تو سنتیں بھی ساتھ پڑھے گا یا نہیں؟ تو اس میں مشائخ کا اختلاف ہے، بعض کہتے ہیں زوال کے بعد بھی جب فجر کی فرضوں کی قضا کر رہا ہے تو سنتوں کی بھی قضا کرے گا اور بعض کہتے ہیں ان کی سنتوں کی قضا نہیں کرے گا۔ ”وَأَمَّا سَائِرُ السُّنَنِ سِوَاهَا لَا تُقْضَى بَعْدَ الْوَقْتِ وَحْدَهَا“، اور اس کے علاوہ جو باقی سنتیں ہیں سِوَاهَا اس فجر کی سنتوں کے علاوہ، ”لَا تُقْضَى بَعْدَ الْوَقْتِ وَحْدَهَا“، تو ان کی قضا نہیں کی جائے گی وقت کے بعد اکیلے۔ فجر میں تو آیا کہ امام محمد رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ ان کی قضا کر سکتا ہے، یہ پسندیدہ ہے یعنی مستحب ہے، لیکن باقیوں میں ان کی قضا سنتوں کی قضا نہیں کی جائے گی اکیلی سنتوں کی، ”وَاخْتَلَفَ الْمَشَايِخُ فِي قَضَائِهَا تَبَعًا لِلْفَرْضِ“. اچھا باقی نمازوں کی جو سنتیں ہیں، فرضوں کے تابع ان سنتوں کی قضا کی جائے گی یا نہیں؟ کہتے ہیں اس میں بھی مشائخ کا اختلاف ہے۔ فجر کی سنتوں میں تو اتفاق ہے، فجر کی نماز قضا ہوئی ہے بعد میں جب قضا نماز اور فرض یعنی پڑھنے لگا ہے تو کیا کرے گا؟ سنتیں بھی ساتھ، لیکن باقی نمازوں کی قضا کرنے لگا ہے تو کیا ان کی سنتیں ان کے ساتھ پڑھے گا یا نہیں؟ اس میں مشائخ کا اختلاف، بعض فرماتے ہیں کہ پڑھے گا بعض فرماتے ہیں کہ نہیں پڑھے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَاخْتَلَفَ الْمَشَايِخُ فِي قَضَائِهَا تَبَعًا لِلْفَرْضِ“، اور اختلاف کیا ہے فجر کے علاوہ باقی سنتوں کی قضا میں فرضوں کے تابع، اس میں مشائخ نے اختلاف کیا ہے۔ مسئلہ بھی سمجھ میں آیا کہ نہیں آیا بھئی؟ ”وَمَنْ أَدْرَكَ مِنَ الظُّهْرِ رَكْعَةً وَلَمْ يُدْرِكِ الثَّلَاثَ فَإِنَّهُ لَمْ يُصَلِّ الظُّهْرَ بِجَمَاعَةٍ، وَقَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ: قَدْ أَدْرَكَ فَضْلَ الْجَمَاعَةِ“. سوال کہ ایک شخص جماعت میں تاخیر سے شرکت کرتا ہے، تو کیا اس کو جماعت کا ثواب ملے گا یا جماعت کا ثواب نہیں ملے گا؟ تو کہتے ہیں بھئی اگر اکثرِ جماعت نکل چکی ہے، شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں مثلاً ظہر کی نماز میں وہ آ کر شریک ہوا تین رکعتیں ہو چکی تھیں وہ چوتھی رکعت میں شریک ہوا، تو اکثرِ نماز نکل چکی ہے، جب اکثرِ نماز نکل چکی ہے تو اس نے جماعت کے ساتھ نماز نہیں پڑھی یعنی اس کو جماعت کی فضیلت نہیں ملے گی۔ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آخر میں آ کر شریک ہوا ہے لہٰذا اس کو جماعت کی فضیلت مل جائے گی، اس لیے کیونکہ آخرِ شے کو پانے والا بھی اسی طرح ہے گویا اس نے اس شے کو پا لیا ہے۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے ”وَمَنْ أَدْرَكَ مِنَ الظُّهْرِ رَكْعَةً“، اور جس نے پا لیا ظہر کی نماز میں سے ایک رکعت کو، ”وَلَمْ يُدْرِكِ الثَّلَاثَ“، اور تین رکعتیں اس کو نہیں ملیں، تین رکعتیں اس نے نہیں پائیں، ”فَإِنَّهُ لَمْ يُصَلِّ الظُّهْرَ بِجَمَاعَةٍ“، تو اس نے ظہر کی نماز جماعت کے ساتھ نہیں پڑھی، یعنی اس کو جماعت کا ثواب نہیں ملے گا، کس کے نزدیک؟ شیخین رحمہما اللہ۔ ”وَقَالَ مُحَمَّدٌ: قَدْ أَدْرَكَ فَضْلَ الْجَمَاعَةِ“، وہ فرماتے ہیں کہ تحقیق اس نے جماعت کی فضیلت کو پا لیا، ”لِأَنَّ مَنْ أَدْرَكَ آخِرَ الشَّيْءِ فَقَدْ أَدْرَكَهُ“، اس لیے کیونکہ جس شخص نے کسی شے کے آخری حصے کو پا لیا اس نے تحقیق اس شے کو پا لیا، ”فَصَارَ مُحْرِزًا ثَوَابَ الْجَمَاعَةِ“، تو یہ شخص جماعت کے ثواب کو سمیٹنے والا ہو گیا، یعنی اس کو بھی وہ ثواب ملے گا، ”لَكِنَّهُ لَمْ يُصَلِّهَا بِالْجَمَاعَةِ حَقِيقَةً“، لیکن اس نے حقیقتاً جماعت کے ساتھ نماز نہیں پڑھی، فضیلت تو مل جائے گی لیکن حقیقتاً جماعت کے ساتھ نماز نہیں پڑھی۔ لہٰذا یہی صورت اگر پیش آئی کسی قسم کے اندر، قسم کے اندر، تو اگر اس شخص نے یہ قسم اٹھائی تھی، یہ قسم اٹھائی تھی کہ ”وَاللَّهِ لَا أُدْرِكُ الْجَمَاعَةَ“، واللہ میں جماعت کو نہیں پاؤں گا، اور آخری رکعت مل گئی، تو جماعت کو اس نے پایا یا نہیں پایا؟ جماعت کو پا لیا، لہٰذا حانث ہو جائے گا۔ اس نے کیا قسم اٹھائی تھی؟ ”وَاللَّهِ لَا أُدْرِكُ الْجَمَاعَةَ“، میں جماعت کو نہیں پاؤں گا، لیکن آخری رکعت کو بھی پا لینا کیونکہ آخرِ شے کو کوئی پا لے گویا اس نے اس شے کو پا لیا، لہٰذا وہ حانث ہو جائے گا، حانث ہو گا۔ اس کے مقابلے میں اگر کسی نے یوں قسم اٹھائی تھی ”وَاللَّهِ لَا أُصَلِّي الظُّهْرَ بِالْجَمَاعَةِ“، ادراک کا لفظ استعمال نہیں کیا، صلاۃ کا لفظ استعمال کیا ”وَاللَّهِ لَا أُصَلِّي الظُّهْرَ بِالْجَمَاعَةِ“، تو اس صورت میں اب یہ آخری رکعت میں شریک ہوا ہے تو اس نے جماعت کے ساتھ نماز نہیں پڑھی، اس نے بھی یہ قسم اٹھائی تھی میں جماعت کے ساتھ نہیں پڑھوں گا اور آخری رکعت میں آ کر شامل ہوا ہے، تو اکثرِ نماز نکل چکی ہے لہٰذا اس نے جماعت کے ساتھ نماز نہیں پڑھی لہٰذا اس کی قسم ابھی نہیں ٹوٹی بھئی، اس میں حانث نہیں ہو گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے ”فَصَارَ مُحْرِزًا ثَوَابَ الْجَمَاعَةِ“، یہ جماعت کے ثواب کو سمیٹنے والا ہوا، ”لَكِنَّهُ لَمْ يُصَلِّهَا بِالْجَمَاعَةِ حَقِيقَةً“، لیکن اس نے حقیقتاً جماعت کے ساتھ نماز نہیں پڑھی، ”وَلِهَذَا يَحْنَثُ بِهِ فِي يَمِينِهِ لَا يُدْرِكُ الْجَمَاعَةَ“، لہٰذا یہ شخص حانث ہو جائے گا اس سے اپنی اس قسم کے اندر ”لَا يُدْرِكُ الْجَمَاعَةَ“، اس نے کیا قسم کھائی تھی کہ وہ جماعت کو نہیں پائے گا اور آخری رکعت کو پا لیا تو آخری شے کو پا لینا گویا شے کو پا لیا تو اس صورت میں اس کے وہ حانث ہو جائے گا، ”وَلَا يَحْنَثُ فِي يَمِينِهِ لَا يُصَلِّي الظُّهْرَ بِالْجَمَاعَةِ“، اور کوئی شخص اپنی اس قسم کے اندر حانث نہیں ہو گا ”لَا يُصَلِّي الظُّهْرَ بِالْجَمَاعَةِ“ کہ وہ ظہر کی نماز جماعت کے ساتھ نہیں پڑھے گا، تو آخری رکعت میں بھی شامل ہو بھی گیا لیکن اس نے اکثر رہ چکی ہے تو اس نے ظہر کی نماز جماعت کے ساتھ نہیں پڑھی لہٰذا اس کی قسم ابھی بھی نہیں ٹوٹی، اس میں حانث نہیں ہو گا۔ مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟ ”وَمَنْ أَتَى مَسْجِدًا قَدْ صُلِّيَ فِيهِ فَلَا بَأْسَ بِأَنْ يَتَطَوَّعَ قَبْلَ الْمَكْتُوبَةِ مَا بَدَا لَهُ مَا دَامَ فِي الْوَقْتِ“. بھئی ایک شخص مسجد میں آیا نماز ادا کرنے کے لیے اور جماعت ہو چکی ہے، جماعت ہو چکی ہے۔ اب یہ شخص کچھ نوافل ادا کرنا چاہتا ہے، نوافل وغیرہ ادا کر سکتا ہے یا نہیں فرضوں سے پہلے؟ کہتے ہیں بھئی جتنا جی چاہے وہ نوافل ادا کر سکتا ہے فرضوں سے پہلے، الا یہ کہ وقت تنگ ہو جائے تو پھر کیا کر لے؟ فرضوں کو ادا کر لے کہیں وہ قضا نہ ہو جائیں، وقت میں گنجائش ہو تو جتنے نفل پڑھنا چاہے نفل پڑھ سکتا ہے۔ ”وَمَنْ أَتَى مَسْجِدًا“، اور جو شخص کسی ایسی کسی مسجد میں آیا ”قَدْ صُلِّيَ فِيهِ“ کہ اس میں نماز ہو چکی ہے، ”فَلَا بَأْسَ“، تو کوئی حرج نہیں ہے ”بِأَنْ يَتَطَوَّعَ قَبْلَ الْمَكْتُوبَةِ“ کہ وہ نفل پڑھ لے قبل المکتوبۃ، مکتوبہ نماز یعنی فرض کی ہوئی نماز سے پہلے، جو فرض نماز ہے اس سے پہلے، ”مَا بَدَا لَهُ“، جتنا اس کی رائے بنے، بدا لہ عربی میں استعمال کرتے ہیں رائے بننے کے لیے، جتنا اس کے لیے ظاہر ہو یعنی اس کی رائے بنے یعنی جتنا اس کی رائے ہو جتنا اس کا ارادہ ہو، ”مَا دَامَ فِي الْوَقْتِ“، جب تک کہ وہ اسی وقت میں ہے، جب تک کہ وہ اسی وقت میں ہے۔ بھئی اسی وقت میں ہونے کا کیا معنی؟ صاحبِ ہدایہ بتلا رہے ہیں: ”وَمُرَادُهُ إِذَا كَانَ فِي الْوَقْتِ سَعَةٌ“، جبکہ وقت کے اندر کیا ہو؟ گنجائش ہو، یعنی اس وقت کے اندر ہونے کا یہ معنی کہ اس وقت میں گنجائش ہو۔ ”وَإِنْ كَانَ فِيهِ ضِيقٌ تَرَكَهُ“، اور اگر وقت کے اندر تنگی ہو ”تَرَكَهُ“ تو پھر نفلوں کو کیا کر دے؟ چھوڑ دے، نفل نہ پڑھے بلکہ پہلے فرض پڑھے۔ ”قِيلَ هَذَا فِي غَيْرِ سُنَّةِ الظُّهْرِ وَالْفَجْرِ لِأَنَّ لَهُمَا زِيَادَةَ مَزِيَّةٍ“، کہا گیا ہے کہ یہ فجر اور ظہر کی سنتوں کے علاوہ میں ہے۔ یہ جو بات آئی نا ”وَإِنْ كَانَ فِيهِ ضِيقٌ تَرَكَهُ“، اگر وقت میں تنگی ہو تو نفلوں کو سنتوں کو کیا کر دے؟ چھوڑ دے، کہتے ہیں یہ ظہر اور فجر کی سنتوں کے علاوہ کے اندر بات ہو رہی ہے، یہ بعض مشائخ نے کہا، قیل کا اس لیے قیل کے ساتھ ذکر کیا، کہا گیا ہے ”هَذَا فِي غَيْرِ سُنَّةِ الظُّهْرِ وَالْفَجْرِ“، یہ فجر اور ظہر کی سنتوں کے علاوہ میں ہے، ”لِأَنَّ لَهُمَا زِيَادَةَ مَزِيَّةٍ“، اس لیے کیونکہ ان دونوں سنتوں کو مزیۃ کہتے ہیں فضیلت کو، کیونکہ ان دونوں سنتوں کی زیادہ فضیلت ہے۔ ”قَالَ عَلَيْهِ السَّلَامُ“، حضور علیہ السلام فرماتے ہیں فِیْ سُنَّۃِ الْفَجْرِ فجر کی سنتوں کے بارے میں: ”صَلُّوهَا وَلَوْ طَرَدَتْكُمُ الْخَيْلُ“، کہ ان کو پڑھو تم اگرچہ تم کو روند ڈالیں گھوڑے۔ ”صَلُّوهَا“، اس نماز کو فجر کی سنتوں کے بارے میں فرما رہے ہیں بھئی حضور صلی اللہ علیہ وسلم، ”صَلُّوهَا“، یہ دو رکعتیں پڑھو، یہ سنتیں پڑھو ”وَلَوْ طَرَدَتْكُمُ الْخَيْلُ“ اگرچہ تم کو گھوڑے اپنے سموں کے تلے روند ڈالیں۔ طردت کے معنی روندنے کے، ”وَلَوْ طَرَدَتْكُمُ الْخَيْلُ“، اگرچہ گھوڑے تم کو روند ڈالیں۔ خيل لفظ آیا خيل، یاد رکھیے خيل یہ ایک گھوڑے کو نہیں کہتے، یہ گھوڑوں کی جماعت کو کہتے ہیں۔ خيل گھوڑوں کی، فرس ایک گھوڑا ہے لیکن خيل کا لفظ جماعت کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ ”صَلُّوهَا وَلَوْ طَرَدَتْكُمُ الْخَيْلُ“، ان کو پڑھو تم اگرچہ تم کو گھوڑے روند ڈالیں، یہ فجر کی سنتوں کے بارے میں فرمایا۔ ”وَقَالَ فِي الْأُخْرَى“، اور دوسری سنتوں کے بارے میں یہ فرمایا، دوسری کون سی؟ ظہر کی سنتوں کے بارے میں فرمایا: ”مَنْ تَرَكَ الْأَرْبَعَ قَبْلَ الظُّهْرِ لَمْ تَنَلْهُ شَفَاعَتِي“، جس نے چار رکعتیں ظہر سے پہلے کی چھوڑ دیں، ”لَمْ تَنَلْهُ شَفَاعَتِي“، اس کو میری شفاعت نصیب نہیں ہو گی، اس کو میری شفاعت نہیں ملے گی۔ تو معلوم ہوا ان کی زیادہ فضیلت ہے ان دو کی، لہٰذا اگر وقت میں تنگی ہو تو سنتوں اور نفلوں کو انسان چھوڑ دے لیکن یہ بعض مشائخ فرماتے ہیں فجر اور ظہر ان میں اگر وقت میں تنگی بھی ہو پھر بھی ان کو نہ چھوڑے بلکہ ان کو پڑھے، ادا کرے۔ ”وَقِيلَ هَذَا فِي الْجَمِيعِ“، اور کہا گیا ہے بعض مشائخ فرماتے ہیں ”هَذَا فِي الْجَمِيعِ“ یہ ساری سنتوں کے بارے میں ہے کہ وقت میں تنگی ہو نوافل کو تو چھوڑ دے لیکن سنتوں کو نہ چھوڑے اگرچہ وقت میں تنگی ہی کیوں نہ ہو۔ تو کہتے ہیں ”وَقِيلَ هَذَا فِي الْجَمِيعِ“، اور کہا گیا یہ ساری سنتوں کے بارے میں ہے، ”لِأَنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَاظَبَ عَلَيْهَا عِنْدَ أَدَاءِ الْمَكْتُوبَاتِ بِالْجَمَاعَةِ“، اس لیے کیونکہ حضور علیہ السلام نے یہ جو سنتیں ہیں سننِ رواتب جو ہیں ان پر پابندی فرمائی ہے عِنْدَ أَدَاءِ الْمَكْتُوبَاتِ فرض نمازوں کی ادائیگی کے وقت بِالْجَمَاعَةِ جماعت کے ساتھ۔ جب بھی جماعت کے ساتھ حضور علیہ السلام نے فرض نمازوں کی ادائیگی کے وقت ان پر بھی حضور علیہ السلام نے پابندی فرمائی ہے، فرض نمازوں کی جب بھی حضور علیہ السلام تو جماعت کے ساتھ نماز پڑھتے تھے، تو جماعت کے ساتھ جب فرض نمازیں پڑھتے تھے تو حضور علیہ السلام نے ان کے ساتھ ان فرض نمازوں کے ساتھ ان سنتوں پر بھی پابندی فرمائی ہے، پابندی فرمائی ہے۔ تو یہ شخص بھی چاہے وقت تنگ ہی کیوں نہ ہو جائے، فرض نماز ادا کرنے لگا ہے تو ان سنتوں کو نہ چھوڑے بلکہ ان سنتوں کو ادا کرے۔ ”وَلَا سُنَّةَ دُونَ الْمُوَاظَبَةِ“، اور کوئی سنت نہیں بغیر مواظبت کے، سنت کہتے ہی کس کو ہیں جس پر حضور علیہ السلام نے پابندی فرمائی ہو۔ ”وَالْأَوْلَى أَنْ لَا يَتْرُكَهَا فِي الْأَحْوَالِ كُلِّهَا“. اب صاحبِ ہدایہ ذکر فرما رہے ہیں کہ اولیٰ یہ ہے ”أَنْ لَا يَتْرُكَهَا فِي الْأَحْوَالِ كُلِّهَا“ کہ ان کو نہ چھوڑے تمام احوال میں، یعنی کسی بھی حال میں ان کو نہ چھوڑے، ان کو کسی بھی حال میں نہ چھوڑے۔ ترجمے پر نظر ہے: ”وَالْأَوْلَى“، اور اولیٰ یہ ہے ”أَنْ لَا يَتْرُكَهَا“، کہ ان سنتوں کو جن پر حضور علیہ السلام نے پابندی فرمائی ہے جو سنتِ مؤکدہ نمازوں کے ساتھ ادا کرتے ہیں ان میں سے کسی کو نہ چھوڑے ”فِي الْأَحْوَالِ كُلِّهَا“، کیا ترجمہ کریں گے؟ تمام احوال میں، یہ تو لفظی ترجمہ لیکن اس سے غلط شبہ ذہن میں پیدا ہوتا ہے کہ گویا معنی یہ ہوا کہ ان کو تمام احوال میں نہ چھوڑے، معلوم ہوا بعض میں چھوڑ سکتا ہے، بعض میں، حالانکہ یہ تو نہیں کہنا چاہتے صاحبِ ہدایہ، تو لہٰذا اردو میں ایسے مواقع پہ پھر ترجمہ دوسری طرح کریں گے، کسی کا لفظ استعمال کریں گے کہ ان سنتوں کو نہ چھوڑے فِي الْأَحْوَالِ كُلِّهَا کسی بھی حال میں، کسی بھی حال میں، یعنی ہر حال میں ان کو ادا کرے۔ ”لِكَوْنِهَا مُكَمِّلَاتٍ لِلْفَرَائِضِ“، اس وجہ سے کیونکہ یہ فرضوں کو پورا کرنے والی ہیں۔ بھئی فرضوں میں کوئی تاکہ کمی کوتاہی ہوئی ہو تو ان سنتوں کے ساتھ ان کی کیا ہو جائے گی؟ تکمیل ہو جائے گی۔ ”لِكَوْنِهَا مُكَمِّلَاتٍ لِلْفَرَائِضِ“، اس وجہ سے کہ یہ سنتیں فرضوں کی تکمیل کرنے والی ہیں تو ان کو کسی حال میں نہ چھوڑے، ”إِلَّا إِذَا خَافَ فَوْتَ الْوَقْتِ“، مگر اس وقت کہ جبکہ وقت کے فوت ہو جانے کا خوف ہو کہ اب تو بالکل وقت نکل ہی جائے گا، میری فرض نماز ادا کے بجائے کیا ہو جائے گی؟ قضا ہو جائے گی، تو اس وقت پہ چھوڑ سکتا ہے ورنہ وقت تنگ ہو تو پھر بھی نہیں چھوڑے گا نہ چھوڑے بھئی۔ ”وَمَنِ انْتَهَى إِلَى الْإِمَامِ فِي رُكُوعِهِ“، اب مسئلہ یہ ذکر کر رہے ہیں کہ جو شخص رکوع میں جا کر امام کے ساتھ شامل ہو گیا تو اس کو وہ رکعت مل گئی، وہ اس رکعت کو پانے والا ہے۔ اور جس کو رکوع میں جو جماعت میں جا کر شامل نہ ہو سکا، رکوع جس سے نکل گیا تو وہ اس رکعت کا پانے والا نہیں ہے بھئی۔ کہتے ہیں: ”وَمَنِ انْتَهَى إِلَى الْإِمَامِ فِي رُكُوعِهِ“، اور جو شخص پہنچا امام تک فِي رُكُوعِهِ اس کے رکوع میں، ”فَكَبَّرَ“، تو اس نے کیا کیا؟ تکبیر کہی، امام کس میں تھا؟ رکوع میں تھا اور یہ پہنچا ”فَكَبَّرَ“ اس شخص نے تکبیر کہی ”وَوَقَفَ“، اور کھڑا رہا ”حَتَّى رَفَعَ الْإِمَامُ رَأْسَهُ“، یہاں تک کہ امام نے اپنا سر اٹھا لیا یعنی رکوع سے اٹھ گیا، ”لَا يَصِيرُ مُدْرِكًا لِتِلْكَ الرَّكْعَةِ“، تو یہ شخص اس رکعت کو پانے والا نہیں۔ یہ شخص اس رکعت کو پانے والا نہ ہوا، ”خِلَافًا لِزُفَرَ رَحِمَهُ اللَّهُ“، بخلاف امام زفر رحمہ اللہ کے، ”هُوَ يَقُولُ أَدْرَكَ الْإِمَامَ“، کہ اس شخص نے پا لیا امام کو فیما اس حالت کے اندر یعنی اس رکوع کے اندر ”لَهُ حُكْمُ الْقِيَامِ“ جس کے لیے کون سا حکم ہے؟ قیام والا حکم ہے، تو اس نے رکعت کو پا لیا۔ امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ بس جماعت میں شامل ہو گیا اگرچہ فعل کے اندر یعنی رکوع میں تو شامل نہیں ہوا لیکن نماز میں تو شامل ہو گیا تھا تو اس نے امام کو ایسی حالت میں پا لیا جو جو رکوع ہے، رکوع۔ بھئی رکوع میں دیکھیے، رکوع میں جو شخص نماز کو پا لے وہ اس رکعت کو پانے والا شمار ہوتا ہے، پانے والا۔ سمجھ میں آیا؟ اور اسی طرح صحابہ سے منقول ہے بھئی، اسی طرح۔ اور بھئی قیام تو نکل چکا ہے، قیام تو اس کا رہ گیا تھا اس نے تو رکوع میں جا کر شرکت کی ہے، کہتے ہیں بھئی رکوع تو رکوع بھی من وجہ قیام ہے کیونکہ نصف بدن انسان کا انسان کا نصف بدن یعنی نچلا دھڑ دیکھو ابھی بھی قیام کی حالت میں ہے، کمر اور سر تو جھکا دیا لیکن ٹانگیں اسی طرح قیام والی صورت میں ہیں تو لہٰذا یہ رکوع کیا ہے؟ من وجہ قیام، بعض اعتبارات سے گویا قیام ہی ہے، تو رکوع کو جس نے پا لیا گویا اس نے قیام کو بھی پا لیا اور رکوع کو بھی پا لیا تو رکعت کو پانے والا ہے۔ لیکن اگر رکوع کو نہیں پایا یعنی رکوع میں ساتھ شامل نہیں ہوا تو اس کی وہ رکعت رہ گئی جیسے متن میں آیا، جبکہ امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس نے رکوع کے اندر امام کو پا لیا ہے اور رکوع کے لیے ہی کون سا حکم ہے؟ قیام والا حکم بھی ہے کیونکہ رکوع کیا ہے؟ من وجہ قیام ہے، لہٰذا گویا اس نے قیام کو بھی پا لیا اور رکوع کو بھی پا لیا۔ شرکت تو ساتھ نہیں کی رکوع تو ساتھ نہیں کیا، لیکن رکوع میں امام کو پا لیا یا نہیں؟ جماعت میں شامل ہو گیا تھا یا نہیں؟ جماعت میں تو شامل ہو گیا تھا، تو گویا اس نے رکوع کو بھی پا لیا اور قیام کو بھی پا لیا لہٰذا اس کی یہ رکعت ہو گی، شمار کیا جائے گا۔ ”هُوَ يَقُولُ أَدْرَكَ الْإِمَامَ فِيمَا لَهُ حُكْمُ الْقِيَامِ“، وہ فرماتے ہیں کہ اس شخص نے پا لیا امام کو اس چیز کے اندر جس کے لیے قیام والا حکم ہے یعنی رکوع کے اندر لہٰذا یہ رکعت کو پانے والا ہے۔ ”وَلَنَا أَنَّ الشَّرْطَ هُوَ الْمُشَارَكَةُ فِي أَفْعَالِ الصَّلَاةِ“، اور ہماری دلیل یہ ہے کہ شرط جو ہے وہ افعالِ صلاۃ میں مشارکت ہے، اس امام کے ساتھ شریک ہونا ہے، ”وَلَمْ يُوجَدْ“، اور وہ نہیں پایا گیا، ”لَا فِي الْقِيَامِ وَلَا فِي الرُّكُوعِ“، قیام کے اندر بھی مشارکت نہیں پائی گئی کیونکہ جب یہ آیا قیام تو گزر چکا تھا امام کس کے اندر تھا؟ رکوع میں، تو قیام کے اندر بھی مشارکت نہیں پائی گئی، اور رکوع کے اندر یہ نماز میں تو داخل ہو گیا تھا لیکن اس نے امام کے ساتھ پھر رکوع کیا نہیں، تو یہ اس کے اندر بھی مشارکت نہیں پائی گئی، تو لہٰذا یہ اس رکعت کو پانے والا نہیں ہے۔ ”وَلَوْ رَكَعَ الْمُقْتَدِي قَبْلَ إِمَامِهِ فَأَدْرَكَهُ الْإِمَامُ فِيهِ جَازَ“. صورتِ مسئلہ یہ: کہ ایک شخص نے جماعت میں جو شریک ہے مقتدی ہے، اس نے امام سے پہلے ہی وہ رکوع کے اندر چلا گیا اور وہ رکوع کے اندر تھا کہ امام بھی رکوع میں آ گیا، امام بھی رکوع میں۔ تو مشارکت فی الجملہ پائی گئی یعنی مجموعی اعتبار سے کچھ حصے میں مشارکت آ گئی یا نہیں آ گئی؟ آ گئی، یعنی جس وقت امام رکوع میں تھا اس وقت یہ بھی کس میں تھا؟ رکوع میں تھا، یعنی اس کے پہلے حصہ یہ تو امام سے پہلے رکوع میں گیا تھا، تو اس کے رکوع کا ابتدائی حصہ اس میں تو مشارکت نہیں، لیکن اس کے رکوع کے آخری حصے میں امام بھی رکوع میں آ گیا تھا تو اس حصے میں یہ بھی رکوع میں ہے اور امام بھی رکوع میں، تو اس میں کیا آ گئی؟ مشارکت آ گئی، تو ہمارے نزدیک یہ مشارکت کافی ہو جائے گی اگرچہ اس نے برا عمل کیا اس کو امام پر مقدم رکوع نہیں کرنا چاہیے تھا لیکن بہرحال مشارکت آ گئی لہٰذا اس کا رکوع شمار ہو گا اور اس کی نماز صحیح ہے، یہ اس کے لیے کافی ہو جائے گی۔ صورت سمجھ میں آ گئی۔ جبکہ امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، اس کا یہ رکوع شمار ہی نہیں ہو گا، رکوع شمار ہی نہیں ہو گا۔ امام زفر رحمہ اللہ امام صاحب کے وہ شاگرد ہیں جو قیاس میں سب سے بڑھ کر تھے بھئی۔ امام صاحب کے جتنے شاگرد تھے ان میں سب سے زیادہ قیاس کے ماہر امام زفر رحمہ اللہ تھے۔ تو امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، کہ اس کی اس رکعت کو کا اعتبار نہیں، اس رکوع کا اعتبار نہیں۔ جب اس رکوع کا اعتبار نہیں تو بعد میں اس کو دوبارہ رکوع کرنا پڑے گا، اگر دوبارہ رکوع نہ کیا تو اس کی نماز ہی فاسد ہو جائے گی کیونکہ بغیر رکوع کے ہو جائے گی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ وہ فرماتے ہیں اس رکوع کا اعتبار نہیں جس میں وہ امام سے پہلے رکوع میں چلا گیا تھا۔ ہم کہتے ہیں بھئی بعد میں امام کے ساتھ مشارکت بھی تو آ گئی تھی رکوع کے آخری جز میں، کہتے ہیں نہیں، مجھے یہ بتاؤ رکوع کے پہلے جز کا اعتبار ہے یا اعتبار نہیں؟ بھئی اس شخص نے جو امام سے پہلے رکوع کے اندر چلا گیا اور امام آخری اس کے رکوع کا آخری حصہ تھا اس وقت امام بھی کس میں چلا گیا؟ رکوع میں، تو اس شخص کے رکوع کا آخری حصہ جو ہے اس میں مشارکت آ گئی، ہم کہتے ہیں یہ کافی ہے۔ امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں نہیں، یہ کافی نہیں۔ کیوں نہیں کافی؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ اس کے رکوع کا جو پہلا حصہ تھا اس میں مشارکت نہیں تھی، جب اس میں مشارکت نہیں تھی تو اس کا کوئی اعتبار نہیں، ہم کہتے ہیں ٹھیک ہے بالکل آپ کی بات، اس رکوع کے اس حصے کا کوئی اعتبار نہیں لیکن آخری حصے میں تو کیا آ گئی؟ مشارکت۔ وہ فرماتے ہیں کہ جب رکوع کے پہلے حصے کا اعتبار نہیں تو رکوع کے بعد والے حصے کی بنیاد بھی اسی پر ہے جس کا کوئی اعتبار نہیں، تو لہٰذا اس حصے کا بھی کوئی اعتبار نہیں۔ دلیل سمجھ میں آئی؟ کیونکہ رکوع کے پہلے حصے کا کوئی اعتبار نہیں اور اس شخص کے رکوع کا بعد والے حصے کی بنیاد کس پر ہے؟ پہلے حصے پر، اور پہلے والے حصے کا اعتبار نہیں، لہٰذا اس پر جس کی بنیاد ہو گی اس کا بھی کوئی اعتبار نہیں، لہٰذا اس حصے کا بھی کوئی اعتبار نہیں۔ لہٰذا اس کا یہ رکوع شمار ہی نہیں، لہٰذا پھر بعد میں رکوع کرے تو اس کی جماعت صحیح ہو جائے گی ورنہ جماعت صحیح نہیں۔ لیکن ہمارے ائمہ باقی ائمہ ثلاثہ کیا فرماتے ہیں کہ ایک جز ایک حصے میں بھی مشارکت آ گئی تو وہ کافی ہے، نماز ہو جائے گی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے ”وَلَوْ رَكَعَ الْمُقْتَدِي قَبْلَ إِمَامِهِ“، اور اگر رکوع کر دیا مقتدی نے اپنے امام سے پہلے، ”فَأَدْرَكَهُ الْإِمَامُ فِيهِ جَازَ“، تو اس کو امام نے پا لیا اس رکوع کے اندر جاز، تو یہ اس کے لیے جائز ہو یعنی اس کے لیے کافی ہو جائے گا، اس کی نماز فاسد نہیں ہو گی۔ ”وَقَالَ زُفَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ: لَا يُجْزِيهِ“، امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کے لیے یہ رکوع کافی نہیں، ”لِأَنَّ مَا أَتَى بِهِ قَبْلَ الْإِمَامِ غَيْرُ مُعْتَدٍّ بِهِ“، اس لیے کیونکہ وہ جو اس نے ادا کیا ہے امام سے پہلے رکوع کا جو حصہ امام سے پہلے ادا کیا ”غَيْرُ مُعْتَدٍّ بِهِ“ اس کا کوئی اعتبار نہیں، ”فَكَذَا مَا يَبْنِي عَلَيْهِ“، تو اسی طرح جس کی بنیاد اس پر ہو گی، اس جو پہلا حصہ ادا کیا اس کا اعتبار نہیں اور اس حصے پر جس کی بنیاد رکھے گا تو اس کا بھی کوئی اعتبار نہیں ہو گا۔ بھئی یوں سمجھیں، یوں سمجھیں یہ مقتدی نے رکوع یہ رکوع میں پہلے گیا، تو رکوع کا پہلا حصہ جو ہے اول حصہ اس میں امام رکوع کے اندر نہیں، مشارکت نہیں۔ اور اس مقتدی کے رکوع کا آخری حصہ ہے اس کے اندر امام بھی رکوع کے اندر آ چکا ہے، اس کے اندر کیا پائی جا رہی ہے؟ مشارکت پائی جا رہی ہے۔ تو امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دیکھیے ایک ہے مقتدی کے رکوع کا پہلا حصہ، ایک ہے رکوع کا بعد والا حصہ۔ پہلا حصہ اس کا کوئی اعتبار نہیں، کیونکہ وہ اس نے امام سے پہلے رکوع کر لیا امام کے ساتھ اس میں مشارکت نہیں۔ اور رکوع کا جو آخری حصہ ہے اس آخری حصے کی بنیاد کس پر ہے؟ پہلے حصے پر ہے، اور پہلے حصے کا اعتبار نہیں تھا تو جس کا اعتبار نہیں اس پر جس چیز کی بنیاد رکھی جائے گی اس کا بھی اعتبار نہیں، اور تو دوسرے حصے کی بنیاد کس پر رکھی گئی؟ پہلے حصے پر اور پہلے کا اعتبار نہیں، تو لہٰذا دوسرے حصے کا بھی کوئی اعتبار نہیں کیونکہ اس کی بنیاد اس حصے پر ہے جس کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ یہ معنی ہے ”لِأَنَّ مَا أَتَى بِهِ قَبْلَ الْإِمَامِ غَيْرُ مُعْتَدٍّ بِهِ“، اس لیے کیونکہ وہ حصہ جس کو اس نے ادا کیا ہے امام سے پہلے ”غَيْرُ مُعْتَدٍّ بِهِ“ اس کا کوئی اعتبار نہیں، یعنی پہلے حصے کا کوئی اعتبار نہیں، ”فَكَذَا مَا يَبْنِي عَلَيْهِ“، تو اسی طرح اس حصے کا بھی جس کی بنیاد اس پہلے حصے پر ہے، یعنی اسی طرح دوسرا حصہ ہے اس کا بھی کوئی اعتبار نہیں کیونکہ اس کی بنیاد کس پر ہے؟ پہلے حصے پر ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ ”وَلَنَا أَنَّ الشَّرْطَ هُوَ الْمُشَارَكَةُ فِي جُزْءٍ وَاحِدٍ“، اور ہماری دلیل یہ ہے کہ شرط جو ہے وہ ایک جز کے اندر مشارکت ہے، ایک جز کے اندر کیا چاہیے؟ مشارکت۔ رکوع کے کم از کم ایک جز میں مشارکت ہونی چاہیے کہ جس وقت امام رکوع میں ہو مقتدی بھی کس میں ہو؟ رکوع میں، تو ایک جز کے اندر جب مشارکت آ گئی یعنی دونوں ایک ہی فعل کر رہے ہیں، کیا کر رہے ہیں دونوں؟ رکوع کر رہے ہیں، تو یہ اس سے جائز ہو جائے گا، یہ شرط ہے۔ اول یا آخر جز کا شرط نہیں ہے بھئی۔ تو ہم کہتے ہیں ”أَنَّ الشَّرْطَ هُوَ الْمُشَارَكَةُ فِي جُزْءٍ وَاحِدٍ“، کہ شرط جو ہے وہ ایک جز کے اندر مشارکت ہے، ”كَمَا فِي الطَّرَفِ الْأَوَّلِ“، جیسے کس میں ہوتا ہے؟ طرفِ اول میں۔ ہم کہتے ہیں ایک جز میں مشارکت بھی کافی شرط ایک جز میں مشارکت ہے، وہ کافی ہے اس کے لیے، چاہے اول جز میں مشارکت آ جائے چاہے آخر جز میں آ جائے چاہے سارے کے اندر ہی مشارکت آ جائے، لیکن کم از کم ایک جز میں مشارکت ہونی چاہیے۔ جیسے اس کا عکس کر لیں، عکس کر لیں، امام رکوع میں گیا مقتدی بھی رکوع میں چلا گیا لیکن امام کے سر اٹھانے سے پہلے مقتدی رکوع سے کھڑا ہو گیا، تو اب مشارکت صرف کس میں آئی؟ اول جز میں آئی، کس میں آئی؟ اول جز کے اندر مشارکت آئی اور آخر میں نہیں، لیکن آپ بھی اس میں فرماتے ہیں کہ یہ اس کے لیے اس کا رکوع ہو جائے گا نماز ہو جائے گی اگرچہ اس نے برا عمل کیا کیونکہ اس کو امام کے ساتھ اٹھنا چاہیے تھا یا امام کے بعد اٹھنا چاہیے تھا اس سے پہلے نہیں اٹھنا، تو جیسے اول جز کے اندر مشارکت آ جائے تو نماز ہو جاتی ہے اسی طرح آخر جز کے اندر بھی جب مشارکت آ جائے تو پھر نماز اس کی ہو جائے گی بھئی، ”وَاللَّهُ أَعْلَمُ“، اور اللہ خوب جاننے والے ہیں۔ چلیے بس ”هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ“.