وَيُصَلِّي النَّافِلَةَ قَاعِدًا مَعَ الْقُدْرَةِ عَلَى الْقِيَامِ لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ ”صَلَاةُ الْقَاعِدِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ صَلَاةِ الْقَائِمِ“ وَلِأَنَّ الصَّلَاةَ خَيْرُ مَوْضُوعٍ وَرُبَّمَا يَشُقُّ عَلَيْهِ الْقِيَامُ فَيَجُوزُ لَهُ تَرْكُهُ كَيْ لَا يَنْقَطِعَ عَنْهُ۔ اور نفل پڑھنے والا، نماز پڑھنے والا پڑھ سکتا ہے، النَّافِلَةَ نفلوں کو، قَاعِدًا بیٹھ کر، نفل پڑھنے والا نفلوں کو بیٹھ کر پڑھ سکتا ہے، مَعَ الْقُدْرَةِ عَلَى الْقِيَامِ باوجود قدرت ہونے کے قیام پر۔ قیام پر قدرت کے باوجود نفلوں کو بیٹھ کر پڑھ سکتا ہے، لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ بوجہ حضور علیہ السلام کے اس قول کے: ”صَلَاةُ الْقَاعِدِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ صَلَاةِ الْقَائِمِ“ کہ بیٹھے ہوئے کی نماز کھڑے ہوئے کی نماز کے نصف کے برابر ہے۔ بیٹھ کر نماز پڑھنے والے کی نماز کھڑے ہو کر نماز پڑھنے والے سے نصف پر ہے یعنی اس کو نصف اجر ملے گا بھئی۔ اور یہ بات تو ظاہر ہے کہ کوئی شخص اگر عذر کی وجہ سے نماز بیٹھ کر پڑھتا ہے تو اس کی نماز اور کھڑے ہو کر نماز جو پڑھتا ہے ان دونوں کو برابر اجر ملتا ہے، کیونکہ وہ جو بیٹھا ہے وہ مجبوری کی وجہ سے بیٹھا ہے، عذر کی وجہ سے بیٹھا ہے۔ تو معلوم ہوا اس حدیث میں غیر معذور کی بات ہو رہی ہے جس کو عذر نہیں ہے۔ تو معلوم ہوا بغیر عذر کے بھی بیٹھنا جائز ہے جائز ہے، البتہ اس صورت میں ثواب نصف ہوگا۔ وَلِأَنَّ الصَّلَاةَ خَيْرُ مَوْضُوعٍ اب آگے عقلی دلیل بھی ذکر کر رہے ہیں صاحبِ ہدایہ نقلی دلیل کے بعد بھئی۔ کہتے ہیں: وَلِأَنَّ الصَّلَاةَ خَيْرُ مَوْضُوعٍ اور اس لیے کیونکہ نماز جو ہے وہ بہترین مقرر کی ہوئی چیز ہے، بہترین مقرر کی ہوئی نیکی ہے، یعنی اس سے انسان ہر وقت ادا کر سکتا ہے، بہترین مقرر کی ہوئی نیکی ہے یعنی اسے ہر وقت ادا کر سکتا ہے اور ہر وقت اس کے ذریعے اس نیکی ہر وقت اس نیکی کو سرانجام دے سکتا ہے۔ تو یہ یاد رکھیے حدیث میں آیا ہے کہ نماز کیا ہے؟ بہترین مقرر کی ہوئی چیز ہے، بہترین مقرر کی ہوئی نیکی ہے کہ جو جتنا چاہے اس کے ذریعے ثواب کما سکتا ہے۔ جو زیادہ ادا کرے گا اسے زیادہ وہ زیادہ ثواب سمیٹ لے گا، جو کم ادا کرے گا وہ اسے کم ثواب ملے گا۔ تو عقلی دلیل صاحبِ ہدایہ ذکر فرما رہے ہیں، کہتے ہیں اس لیے کیونکہ نماز بہترین مقرر کی ہوئی نیکی ہے، وَرُبَّمَا يَشُقُّ عَلَيْهِ الْقِيَامُ اور بسا اوقات نماز پڑھنے والے پر دشوار ہوتا ہے کھڑا ہونا، کوئی تھکا ہوا ہے یا کسی اور وجہ سے اس کے لیے کھڑا ہونا دشوار ہو جاتا ہے، فَيَجُوزُ لَهُ تَرْكُهُ تو اس کے لیے قیام کو ترک کرنا جائز ہے، كَيْ لَا يَنْقَطِعَ عَنْهُ تاکہ کہیں وہ اس خَيْرِ مَوْضُوعٍ سے منقطع نہ ہو جائے، تاکہ وہ اس بہترین وضع کی ہوئی، مقرر کی ہوئی نیکی سے منقطع نہ ہو جائے، اس سے کٹ نہ جائے یعنی اس سے رہ نہ جائے۔ بھئی بسا اوقات انسان تھکا ہوتا ہے یا کوئی اور وجہ ہے جس کی وجہ سے وہ کھڑا نہیں ہو سکتا تو اس صورت میں اسے بیٹھ کر نماز پڑھنے کی اجازت ہونی چاہیے تاکہ وہ اس نیکی سے پورے طور پر کہیں محروم نہ رہ جائے بھئی۔ کیونکہ نماز کیا ہے؟ بہترین مقرر کی ہوئی نیکی ہے جسے انسان ہر وقت کر سکتا ہے تو اگر یہ کہا جائے کہ بیٹھ کر وہ اسے ادا نہیں کر سکتا تو پھر تو وہ اس دوران جب اس کے لیے مشکل ہے کھڑا ہونا وہ تو اس نیکی سے محروم رہ جائے گا، حالانکہ نماز تو ایسی نیکی ہے جسے انسان ہر وقت سرانجام دے سکتا ہے اور اس کے ذریعے جتنا ثواب سمیٹنا چاہے سمیٹ سکتا ہے، حدیث میں آیا ہے۔ تو عقلی دلیل ذکر کر رہے ہیں صاحبِ ہدایہ کہ بیٹھ کر نماز یعنی نوافل پڑھنا جائز ہونے چاہییں، کیونکہ بسا اوقات انسان ایسی حالت میں ہوتا ہے کہ اس کے لیے کھڑا ہونا دشوار ہوتا ہے، تو اس صورت میں اس کے لیے بیٹھ کر نماز پڑھنا جائز ہونا چاہیے تاکہ کہیں اس نیکی سے پورے طور پر محروم نہ رہ جائے۔ وَاخْتَلَفُوا فِي كَيْفِيَّةِ الْقُعُودِ اور اختلاف کیا ہے فقہاء نے بیٹھنے کی کیفیت میں، بیٹھنے کی حالت میں۔ بھئی اس میں تو اتفاق علماء کا فقہاء کا کہ نوافل بیٹھ کر بغیر یعنی بغیر عذر کے، عذر کے ساتھ تو فرضوں کو بھی بیٹھ کر ادا کیا جا سکتا ہے اور بغیر عذر کے نوافل انسان بیٹھ کر ادا کر سکتا ہے، لیکن بیٹھنا کس طرح ہے، کس کیفیت پر بیٹھنا چاہیے؟ اس میں فقہاء کا اختلاف۔ بعض فرماتے ہیں کہ چونکڑی مار کر بیٹھ کر نوافل پڑھ سکتا ہے۔ بعضوں نے کہا کہ احتباء کی صورت میں پڑھنے چاہییں، احتباء یہ کہ انسان نیچے بیٹھے اور گھٹنے اپنے سامنے کھڑے کر لے بھئی، گھٹنے اپنے سامنے کھڑے کر لے، تو نیچے بیٹھا ہوا ہے گھٹنے سامنے کھڑے ہیں پاؤں کے تلوے بھی زمین پر لگے ہوئے ہیں، اس طرح وہ نوافل ادا کرنے چاہییں، اور لیکن صاحبِ ہدایہ بتلائیں گے کہ پسندیدہ یہ ہے، مختار قول یہ ہے کہ تشہد کی حالت میں بیٹھ کر نوافل ادا کرنے چاہییں اگر بیٹھتا ہے انسان۔ تو کہتے ہیں: وَاخْتَلَفُوا فِي كَيْفِيَّةِ الْقُعُودِ اور اختلاف کیا ہے مشائخ نے بیٹھنے کی کیفیت میں، وَالْمُخْتَارُ أَنْ يَقْعُدَ كَمَا يَقْعُدُ فِي حَالَةِ التَّشَهُّدِ اور مختار یہ ہے کہ وہ بیٹھے اسی طرح جیسے کہ بیٹھتا ہے تشہد کی حالت میں، لِأَنَّهُ عُهِدَ مَشْرُوعًا فِي الصَّلَاةِ اس لیے کیونکہ یہی بیٹھنا جو ہے اس کو مشروع جانا گیا ہے نماز میں، نماز میں یہی بیٹھنے کا طریقہ معروف ہے، اس کو جانا گیا ہے، مشروع جانا گیا ہے۔ وَإِنْ افْتَتَحَهَا قَائِمًا ثُمَّ قَعَدَ مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ جَازَ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ۔ بھئی ایک شخص ہے اس نے، بھئی نوافل میں ویسے بیٹھنا تو جائز کہ ابتدا سے انسان کیا کرے بیٹھ کر نوافل کا آغاز کرے۔ اب ایک شخص ہے اس نے کھڑے ہو کر نفلوں کا کی ابتدا کی اور اب درمیان میں وہ بیٹھ کر باقی ادا کرنا چاہتا ہے تو کیا ایسا کر سکتا ہے یا نہیں؟ امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کر سکتا ہے۔ کچھ حصہ کھڑے ہو کر ادا کر لیا اور کچھ حصہ بیٹھ کر ادا کرنا چاہتا ہے تو یہ اس کے لیے جائز ہے، جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ نہیں، ایسا کرنا اس کے لیے جائز نہیں۔ جب ایک دفعہ اس نے کھڑے ہو کر نفل شروع کیے تو قیام اس پر لازم ہو گیا، جیسے منت کی وجہ سے کوئی چیز واجب ہو جاتی ہے اسی طرح شروع کرنے سے بھی ایک چیز واجب ہو جاتی ہے، تو اس نے کھڑے ہو کر نفل شروع کیے ہیں تو قیام اس پر واجب ہوا۔ تو کہتے ہیں: وَإِنْ افْتَتَحَهَا قَائِمًا اور اگر نفلوں کو شروع کیا کھڑے ہو کر، ثُمَّ قَعَدَ مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ پھر بیٹھ گیا بغیر کسی عذر کے، جَازَ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تو یہ جائز ہے امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک، وَهَذَا اسْتِحْسَانٌ اور یہ کیا ہے؟ استحسان ہے، استحساناً امام صاحب فرماتے ہیں کہ اس کے لیے بیٹھنا جائز ہے، وَعِنْدَهُمَا لَا يُجْزِيهِ اور صاحبین کے نزدیک اس کے لیے یہ کافی نہیں ہے، وَهُوَ قِيَاسٌ اور یہی قیاس ہے بھئی۔ آپ نے پڑھا تھا استحسان کے مقابلے میں قیاس کا ہونا ضروری، کسی شرعی دلیل کو تب ہی استحسان کہیں گے جب اس کے مقابلے میں کیا ہو؟ قیاس ہو بھئی، اگر قیاس اس کے مقابلے میں نہ ہو تو پھر اس کو استحسان نہیں کہیں گے۔ تو صاحبین فرماتے ہیں یہ اس کے لیے کافی نہیں ہے، وَهُوَ قِيَاسٌ اور یہی قیاس ہے، لِأَنَّ الشُّرُوعَ مُعْتَبَرٌ بِالنَّذْرِ اس لیے کیونکہ شروع کرنا اس کو قیاس کیا گیا ہے منت پر۔ اس کو کس پر قیاس کیا گیا؟ منت پر۔ اور منت سے جیسے ایک چیز لازم ہوتی ہے اسی طرح شروع کرنے سے بھی لازم، تو یہاں اس نے قیام کے ساتھ نماز شروع کی ہے تو قیام اس پر لازم ہوگا۔ لَهُ امام صاحب کی دلیل یہ ہے: أَنَّهُ لَمْ يُبَاشِرْ الْقِيَامَ فِيمَا بَقِيَ کہ اس نے، باشر یباشر کے معنی ہوتے ہیں سرانجام دینا، أَنَّهُ لَمْ يُبَاشِرْ الْقِيَامَ کہ اس نفل پڑھنے والے نے قیام کو سرانجام نہیں دیا، فِيمَا بَقِيَ اس حصے میں جو ابھی باقی ہے۔ بھئی ایک شخص نے کھڑے ہو کر نفل پڑھنا شروع کیے، اب کچھ حصہ تو قیام میں گزر گیا اب باقی حصے میں وہ بیٹھنا چاہتا ہے تو امام صاحب فرماتے ہیں جائز ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ جو حصہ باقی ہے اس میں تو ابھی اس نے قیام کو سرانجام ہی نہیں دیا لہٰذا اس پر ان میں قیام واجب بھی نہیں۔ اور وَلِمَا بَاشَرَ صِحَّةٌ بِدُونِهِ اور جس حصے میں وہ قیام کو سرانجام دے چکا ہے وہ صحیح ہے بِدُونِهِ بغیر بعد والے حصے میں قیام کے۔ بعد والے حصے میں جو قیام ہے اس پر جو حصہ جس میں وہ قیام سرانجام دے چکا وہ اس پر موقوف نہیں۔ بھئی دیکھیے پیچھے ایک دلیل ذکر ہوئی تھی گزشتہ سبق کے اندر کہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ جس نے چار رکعت کی نفل نیت چار رکعت کی نیت سے نفل پڑھنا شروع کیے تو چاروں اس پر لازم ہو جائیں گے اور انہوں نے شروع کرنے کو قیاس کیا تھا منت پر کہ جیسے منت سے ایک چیز لازم ہوتی ہے اسی طرح شروع کرنے سے بھی ایک چیز کیا ہو جاتی ہے؟ لازم ہو جاتی ہے اور اس نے چار کی نیت سے شروع کیے ہیں تو چاروں اس پر لازم ہو جائیں گے۔ جبکہ طرفین نے پھر جواب دیا تھا کہ شروع کرنے سے وہ چیز لازم ہوتی ہے جس میں شروع ہوا جائے اور نیز وہ چیز لازم ہوتی ہے جس میں شروع والی چیز جس پر موقوف ہو، یعنی یوں کہیں، شروع کرنے سے مَا شُرِعَ فِيهِ جس میں شروع ہوا جائے، شروع کرنے سے مَا شُرِعَ فِيهِ لازم ہوتا ہے اور جس پر مَا شُرِعَ فِيهِ کی صحت موقوف ہو وہ بھی کیا ہوتا ہے؟ لازم۔ دلیل ذہن میں آئی کہ نہیں آئی؟ تو پہلی رکعت شروع کی تھی لہٰذا وہ پہلی رکعت بھی اس پر لازم ہوئی اور پہلی رکعت جو ہے یعنی مَا شُرِعَ فِيهِ جو ہے جس میں شروع ہوا ہے اس کا وجود دوسری رکعت پر موقوف ہے تو دوسری رکعت بھی اس پر لازم ہو گئی۔ تو شروع کرنے سے صرف پہلی دو لازم ہوئی ہیں، آخری دو ابھی اس میں شروع ہی نہیں ہوا تو وہ اس پر لازم بھی نہیں۔ تو طرفین کی کیا دلیل تھی کہ شروع کرنے سے مَا شُرِعَ فِيهِ لازم ہوتا ہے اور وہ چیز کہ مَا شُرِعَ فِيهِ صحیح ہی نہیں ہوتا اس کے بغیر یعنی مَا شُرِعَ فِيهِ جس پر موقوف ہے وہ بھی کیا ہوتی ہے؟ لازم۔ خلاصہ کیا تھا دلیل کا؟ کہ شروع کرنے سے ایک تو وہ چیز لازم ہوتی ہے جس میں شروع ہوا اور ایک وہ چیز لازم ہوتی ہے جس پر یہ شروع والی چیز موقوف ہے وہ بھی لازم ہوتی ہے۔ تو وہی دلیل یہاں بھی امام صاحب ذکر فرما رہے ہیں لیکن یہاں شروع کرنے کا ذکر نہیں بلکہ یہاں سرانجام دینا ہے۔ کیا ہے؟ سرانجام دینا۔ امام صاحب فرماتے ہیں کہ قیام جو ہے کچھ حصے میں اس نے سرانجام دے دیا ہے اب بیٹھنا چاہتا ہے، اس حصے میں ابھی اس نے قیام کو سرانجام نہیں دیا تو سرانجام دینے سے وہ قیام جو اس نے سرانجام دیا تھا اس پر لازم تھا اور وہ تو گزر گیا اور جو حصہ باقی ہے اس کو ابھی اس نے اس میں قیام کو سرانجام ہی نہیں دیا، جب قیام کو ابھی سرانجام ہی نہیں دیا تو وہ اس پر لازم بھی نہیں اور نیز جس میں ابھی قیام کو سرانجام نہیں دیا اس پر ماقبل جس میں قیام کو سرانجام دے چکا ہے اس کا صحیح ہونا اس پر موقوف بھی نہیں۔ جس میں قیام کو سرانجام دے چکا ہے وہ قیام آگے جو قیام باقی ہے اس قیام پر موقوف بھی نہیں۔ تو لہٰذا یہ اس پر جو باقی کا قیام ہے اس پر لازم بھی نہیں، کیونکہ لازم کیا چیز ہوتی ہے؟ پچھلی دلیل کو ذرا ساتھ ملائیں۔ جس میں شروع ہو جائے اور جس پر وہ شروع والی چیز موقوف ہو۔ یہاں پر بھی جس کو سرانجام دیا وہ تو ہے لازم یا جس کو سرانجام دیا ہے اس کا صحیح ہونا اگر کسی پر موقوف ہو تو وہ بھی اس پر کیا ہو جائے گی؟ لازم ہو جائے گی، اور یہ قیام جو اس نے سرانجام دیا یہ آگے آنے والے قیام پر اس کا اس کا صحیح ہونا موقوف نہیں، لہٰذا آگے آنے والا قیام بھی اس پر لازم نہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ وہ فرماتے ہیں: لَهُ ان کی دلیل یہ ہے: أَنَّهُ لَمْ يُبَاشِرْ الْقِيَامَ فِيمَا بَقِيَ کہ اس نے سرانجام ہی نہیں دیا قیام کو ابھی مَا بَقِيَ حصے کے اندر، وَلِمَا بَاشَرَ اور جس حصے میں وہ قیام کو سرانجام اور جس قیام کو وہ سرانجام دے چکا ہے، صِحَّةٌ بِدُونِهِ وہ صحیح ہے بغیر اس مَا بَقِيَ قیام کے۔ وہ صحیح ہے۔ جس میں قیام جو قیام کر چکا ہے اس قیام کا صحیح ہونا جو قیام ابھی باقی ہے اس پر موقوف نہیں ہے۔ بِخِلَافِ النَّذْرِ بخلاف منت کے، لِأَنَّهُ الْتَزَمَهُ نَصًّا اس لیے کیونکہ منت میں اس نے اس کا اپنے اوپر التزام کیا یعنی لازم کیا ہے نَصًّا صراحت کرتے ہوئے۔ منت میں تو وہ صراحت کرتے ہوئے اپنے اوپر قیام کو لازم کرتا ہے مثلاً یوں کہتا ہے کہ اے اللہ اگر میرا یہ کام ہو گیا تو میں چار رکعت نفل کھڑے ہو کر ادا کروں گا۔ تو وہاں تو اس نے باقاعدہ صراحت کی ہے قیام کی، اس وجہ سے اس پر وہ قیام کیا ہو جاتا ہے؟ لازم ہو جاتا ہے۔ چنانچہ اسی لیے کہتے ہیں بعض مشائخ لکھتے ہیں اگر اس نے منت کے اندر کھڑے ہونے کی تصریح نہ کی تو اس کے لیے بیٹھ کر بھی نفل ادا کرنا جائز ہے بھئی۔ تو لہٰذا اس کو منت پر قیاس نہیں کیا جائے گا کیونکہ منت میں اس نے تصریح کی ہے جبکہ ان کے اندر اس نے تصریح نہیں کی بھئی۔ تو کہتے ہیں: بِخِلَافِ النَّذْرِ بخلاف منت کے، لِأَنَّهُ الْتَزَمَهُ نَصًّا کیونکہ اس نے اس میں اس نے قیام کا التزام کیا ہے نَصًّا صراحت کرتے ہوئے، حَتَّى لَوْ لَمْ يَنُصَّ عَلَى الْقِيَامِ یہاں تک کہ اگر اس نے صراحت نہ کی قیام پر منت میں، لَا يَلْزَمُهُ الْقِيَامُ عِنْدَ بَعْضِ الْمَشَايِخِ تو اس پر قیام بھی لازم نہیں ہوگا عِنْدَ بَعْضِ الْمَشَايِخِ کس کے نزدیک؟ بعض مشائخ، بعض فقہاء کے نزدیک بھئی۔ وَمَنْ كَانَ خَارِجَ الْمِصْرِ تَنَفَّلَ عَلَى دَابَّتِهِ إلَى أَيِّ جِهَةٍ تَوَجَّهَتْ يُؤْمِي إيمَاءً اور جو شخص شہر سے باہر ہوا، تَنَفَّلَ عَلَى دَابَّتِهِ وہ نفل پڑھ سکتا ہے اپنی سواری پر ہی، إلَى أَيِّ جِهَةٍ تَوَجَّهَتْ جس جانب کو بھی وہ سواری متوجہ ہو، يُؤْمِي إيمَاءً اس حال میں کہ یہ اشارہ کرے گا، اشارے سے نماز پڑھے گا۔ بھئی یاد رکھیے سواری پر نوافل ادا کرنا چاہتے ہیں تو سواری پر آپ نوافل ادا کر سکتے ہیں اور رکوع اور سجدے کا اشارہ، رکوع اور سجدے کو اشارے سے ادا کیا جائے گا۔ کیونکہ سواری پر سوار ہے تو رکوع اور سجدہ تو ہو نہیں سکتا تو ان کو کس سے ادا کرے گا؟ اشارے سے ادا کرے گا، اور نیز یہ بھی یاد رکھیں سواری کا جدھر کو بھی رخ ہو تو آپ اس طرف کیا کر سکتے ہیں؟ اسی رخ پر نوافل کو ادا کر سکتے ہیں۔ قبلہ رخ ہونا ضروری نہیں بھئی۔ آپ نے کسی طرف جانا ہوگا، اگر قبلہ رخ کی قید لگا دی جائے پھر تو سواری پر نفل پڑھنا ہی ممکن نہ رہے گا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اور نیز کبھی سواری ایک طرف مڑے گی کبھی دوسری طرف مڑے گی، اگر قبلہ رخ کا اہتمام کر بھی لیا جائے تو اس پر انسان پھر باقی نہیں رہ سکتا۔ تو سواری پر آپ نفل پڑھنا چاہتے ہیں، مثلاً آج کل گاڑیاں ہیں گاڑی کے اندر آپ نفل پڑھنا چاہتے ہیں تو جس رخ پر گاڑی چل رہی ہے بس اسی رخ پر کیا کر لیجیے؟ نفل شروع کر لیجیے اور رکوع اور سجدہ کس کے ساتھ کر لیجیے؟ اشارے کے ساتھ بھئی، اشارے کے ساتھ۔ تو کہتے ہیں: وَمَنْ كَانَ خَارِجَ الْمِصْرِ تَنَفَّلَ عَلَى دَابَّتِهِ اور جو شخص شہر سے باہر ہو وہ نفل پڑھ سکتا ہے اپنی سواری پر، إلَى أَيِّ جِهَةٍ تَوَجَّهَتْ جس جانب بھی وہ سواری متوجہ ہو، يُؤْمِي إيمَاءً اس حال میں کہ یہ کیا کرے گا؟ اشارہ کرے گا نفل پڑھنے والا، لِحَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا قَالَ: ”رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى حِمَارٍ وَهُوَ مُتَوَجِّهٌ إلَى خَيْبَرَ يُؤْمِي إيمَاءً“ حضرت عمر رضی اللہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما کی حدیث کی وجہ سے وہ فرماتے ہیں: ”رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ“ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، ”يُصَلِّي عَلَى حِمَارٍ“ کہ وہ نماز پڑھ رہے ہیں گدھے پر، ”وَهُوَ مُتَوَجِّهٌ إلَى خَيْبَرَ“ اور وہ متوجہ ہیں خیبر کی طرف یعنی رخ کس طرف ہے؟ ”يُؤْمِي إيمَاءً“ اس حال میں کہ وہ اشارہ کر رہے تھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم۔ وَلِأَنَّ النَّوَافِلَ غَيْرُ مُخْتَصَّةٍ بِوَقْتٍ اور جی، یہ تو دلیل ذکر کر رہے ہیں کہ شہر سے باہر سواری پر بھی نفل ادا کرنا درست ہے اشارے کے ساتھ۔ ایک تو دلیل یہ حدیث ذکر کر دی۔ اب عقلی دلیل بھی ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں: وَلِأَنَّ النَّوَافِلَ غَيْرُ مُخْتَصَّةٍ بِوَقْتٍ اس لیے کیونکہ نوافل کسی وقت کے ساتھ خاص نہیں ہیں، فَلَوْ أَلْزَمْنَاهُ النُّزُولَ وَالِاسْتِقْبَالَ اگر ہم اس شخص پر لازم کر دیں اترنا اور قبلہ رخ ہونا، اگر ہم کیا کہیں؟ یہ نوافل سواری پر ادا نہیں کر سکتا بلکہ کیا کرنا پڑے گا؟ نیچے اترنا پڑے گا اور کس طرف رخ کرنا پڑے گا؟ قبلے کی طرف، تَنْقَطِعُ عَنْهُ النَّافِلَةُ أَوْ يَنْقَطِعُ هُوَ عَنْ الْقَافِلَةِ تو دو باتوں میں سے ایک بات ضرور پیش آئے گی، یا تو یہ نیچے اترے گا یا نہیں اترے گا۔ اگر نیچے نہیں اترتا تو پھر تو اس کے نفل رہ گئے اور اگر نیچے اتر کر ادا کرتا ہے تو پھر یہ قافلے سے رہ جائے گا اور بچھڑ جائے گا ان سے بھئی۔ تو لہٰذا اس کے اس کے لیے کیا ہونا چاہیے؟ اجازت ہونی چاہیے۔ تو عقل بھی یہی کہتی ہے اور حدیث سے بھی یہی معلوم ہوا بھئی۔ فَلَوْ أَلْزَمْنَاهُ النُّزُولَ وَالِاسْتِقْبَالَ تَنْقَطِعُ عَنْهُ النَّافِلَةُ أَوْ يَنْقَطِعُ هُوَ عَنْ الْقَافِلَةِ اگر ہم اس پر لازم کر دیں نیچے اترنا اور قبلہ رخ ہونا، استقبال کا کیا معنی؟ یہاں استقبالِ قبلہ بھئی، تو اور استقبالِ قبلہ یعنی قبلہ رخ ہونا، تَنْقَطِعُ عَنْهُ النَّافِلَةُ تو منقطع ہو جائے گا اس منقطع ہو جائیں گے اس سے نفل یعنی رہ جائیں گے اس سے نفل، أَوْ يَنْقَطِعُ هُوَ عَنْ الْقَافِلَةِ یا یہ رہ جائے گا کس سے؟ قافلے سے۔ أَمَّا الْفَرَائِضُ باقی فرائض جو ہیں، ہاں فرائض کے لیے بھئی وہ سواری پر ادا اشارے کے ساتھ نہیں کر سکتا، اس کے لیے قبلہ رخ ہونا بھی ضروری اور رکوع اور سجدے کا ہونا بھی ضروری ہے، الا یہ کہ کوئی عذر ہو تو وہ پھر الگ بات ہے۔ تو فرضوں کے اندر فرضوں کے اندر قبلہ رخ ہونا بھی ضروری اور اور رکوع اور سجدے کا کرنا بھی ضروری ہے اور تو اس میں ہم نے اس پر اترنے کو بھی لازم قرار دے دیا تاکہ رکوع اور سجدہ کرے اور قبلہ رخ ہونے کو بھی لازم قرار دے دیا اور اس میں کوئی حرج بھی نہیں، کیونکہ فرائض ہر وقت نہیں ادا کیے جاتے، فرضوں کے مخصوص اوقات مقرر ہیں تو اس وقت میں اگر تھوڑی دیر کے لیے اتر کر ادا کر بھی لے گا تو کوئی حرج نہیں ہے بھئی۔ یہ معنی ہے: أَمَّا الْفَرَائِضُ مُخْتَصَّةٌ بِوَقْتٍ اور باقی فرائض وہ تو خاص ہیں وقت کے ساتھ تو اس میں کوئی حرج نہیں اترنے میں اور قبلہ رخ ہونے میں۔ وَالسُّنَنُ الرَّوَاتِبُ نَوَافِلُ، سننِ رواتب بھئی یہ جو نماز سے پہلے اور بعد میں ہم سنتیں ادا کرتے ہیں بھئی یہ ہیں سننِ رواتب، ان کو سننِ رواتب کہتے ہیں۔ تو کہتے ہیں: وَالسُّنَنُ الرَّوَاتِبُ نَوَافِلُ اور سننِ رواتب بھی نوافل ہیں بھئی، وہ بھی نفل ہیں۔ اور نفل کے بارے میں تو ہم نے آپ کو بتا دیا کہ وہ کیا کر سکتا ہے؟ سواری پر اشارے کے ساتھ بھی ادا کر سکتا ہے، لہٰذا معلوم ہوا سننِ رواتب کو بھی سواری پر ادا کر سکتا ہے۔ مسئلہ سمجھ میں آگیا؟ وَعَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ اور امام صاحب سے ایک روایت یہ ہے: أَنَّهُ يَنْزِلُ لِسُنَّةِ الْفَجْرِ کہ یہ شخص جو ہے اترے گا فجر کی سنتوں کے لیے، لِأَنَّهَا آكَدُ مِنْ سَائِرِهَا اس لیے کیونکہ وہ زیادہ مؤکد ہیں، ان میں زیادہ تاکید ہے مِنْ سَائِرِهَا باقی سنتوں کے مقابلے میں۔ باقی سنتوں کے مقابلے میں فجر کی سنتوں کے بارے میں زیادہ تاکید آئی ہے احادیث کے اندر، لہٰذا ان کو سواری پر نہ ادا کرے بلکہ ان کے لیے بھی نیچے اترے اور قبلہ رخ ہو۔ وَالتَّقْيِيدُ بِخَارِجِ الْمِصْرِ يَنْفِي اشْتِرَاطَ السَّفَرِ وَالْجَوَازَ فِي الْمِصْرِ اور خارجِ مصر کے ساتھ مقید کرنا یہ نفی کرتا ہے سفر کے شرط ہونے کو، وَالْجَوَازَ فِي الْمِصْرِ اور شہر میں جائز ہونے کو۔ بھئی دیکھیے متن پہ آئیے ذرا۔ متن میں کیا آیا تھا؟ وَمَنْ كَانَ خَارِجَ الْمِصْرِ صاحبِ قدوری نے کیا قید لگائی؟ شہر سے باہر ہو جو شخص۔ معلوم ہوا سفر شرط نہیں ہے۔ ہاں، شہر سے باہر ہونا شرط ہے۔ سفر کی قید نہیں لگائی بلکہ کیا قید لگائی؟ شہر سے باہر۔ معلوم ہوا یہ ضروری نہیں کہ آپ مسافر ہوں شرعاً پھر ہی نفل سواری پر ادا کر سکتے ہیں۔ سمجھ میں آیا؟ اور کیونکہ مسافر شرعاً مسافر کسے کہتے ہیں؟ جس نے ایسی جگہ جانے کا ارادہ کیا ہے جو اس سے کم از کم اڑتالیس میل کے فاصلے پر ہو۔ اس نیت کے ساتھ جب آپ شہر سے نکلیں گے تو جیسے ہی شہر کی آبادی سے جدا ہوں گے اب آپ شرعاً مسافر ہوئے، اس سے پہلے مسافر نہیں۔ لیکن بتلایا کہ متن میں مسافر کی کوئی قید نہیں آئی بلکہ کیا قید آئی ہے؟ شہر سے باہر۔ معلوم ہوا جو بھی شہر سے باہر ہو اور سواری پر سوار ہو مثلاً آپ نے کہیں قریب ہی جانا تھا سواری پر تو آپ مسافر تو نہیں ہیں لیکن شہر سے باہر ہیں اور سواری پر ہیں تو کیا کر سکتے ہیں؟ سواری پر ہی نوافل ادا کر سکتے ہیں۔ نیز اسی طرح متن میں کیا قید آئی؟ شہر سے باہر ہونے کی قید آئی، معلوم ہوا شہر کے اندر اس طرح نوافل پڑھنا جائز نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَالتَّقْيِيدُ بِخَارِجِ الْمِصْرِ اور خارجِ مصر کے ساتھ مقید کرنا یعنی شہر سے باہر ہونے کے ساتھ مقید کرنا، يَنْفِي اشْتِرَاطَ السَّفَرِ یہ نفی کرتا ہے کس چیز کی؟ سفر کے شرط ہونے کی نفی کرتا ہے، یعنی سفر شرط نہیں ہے اس کے بغیر بھی نوافل سواری پر ادا کر سکتا ہے۔ وَالْجَوَازَ فِي الْمِصْرِ اور نیز خارجِ مصر کے ساتھ مقید کرنا یہ نفی کرتا ہے کس چیز کی؟ الْجَوَازَ فِي الْمِصْرِ شہر میں جائز ہونے کی، معلوم ہوا شہر میں جائز نہیں۔ وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ أَنَّهُ يَجُوزُ فِي الْمِصْرِ أَيْضًا امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ شہر میں بھی جائز ہے، شہر میں بھی جائز ہے۔ اور امام محمد رحمہ اللہ سے بھی ایک روایت ایسی ہی آئی ہے، ایسی ہی آئی ہے۔ کہتے ہیں امام صاحب سے یہ مسئلہ پوچھا گیا تو امام صاحب فرمانے لگے کہ شہر کے اندر جائز نہیں ہے۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے پھر حدیث ذکر کی کہ ایک حدیث ہے اس میں آتا ہے کہ حضور علیہ السلام ایک صحابی کی عیادت کے لیے گدھے پر شہر کے اندر مدینہ کے اندر ہی تشریف لے جا رہے تھے اور آپ سواری پر ہی نوافل میں مشغول تھے۔ معلوم ہوا شہر کے اندر بھی کیا کر سکتا ہے؟ نوافل پر نوافل کو سواری پر ادا کر سکتا ہے۔ تو امام صاحب نے جب یہ مسئلہ ذکر کیا تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے یہ حدیث ان کے سامنے ذکر کی کہ یہ حدیث میں یہ آیا ہے۔ تو امام صاحب نے امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے حدیث سننے کے بعد دوبارہ سر نہیں اٹھایا بھئی، دوبارہ یہ تھے ہمارے ائمہ بھئی۔ جب حدیث آ جاتی تھی اس کے سامنے سر نہیں اٹھاتے تھے اور جو حدیث پر مسئلہ آ جاتا اس پر خاموش رہتے، وہ تو اسی پر عمل ہوتا تھا اور اس کے مقابلے میں کبھی بھی اپنی رائے پیش نہیں فرماتے تھے بھئی، کبھی۔ تو امام صاحب نے اپنا سر جھکا لیا بھئی۔ اب بعد میں بعد میں فقہاء بعض فرماتے ہیں امام صاحب نے اس لیے سر جھکایا کہ حدیث کے سامنے ادب کے طور پر اس کو تسلیم کر لیا۔ اور بعض کہتے ہیں کہ نہیں، امام صاحب خاموش اس لیے ہو گئے کیونکہ اس میں کوئی ایک واقعہ ذکر ہوا تھا، شاذ واقعہ، اور شاذ واقعے کے ذریعے کوئی شرعی حکم ثابت نہیں کیا جا سکتا بھئی۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ جی، تو بعضوں نے اس طرف گئے، بعض اس طرف بھئی۔ تو بہرحال امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جائز ہے شہر کے اندر، شہر کے اندر۔ اور امام محمد رحمہ اللہ سے بھی ایک روایت یہی آئی ہے کہ شہر کے اندر بھی سواری پر کیا کر سکتے ہیں؟ نوافل ادا کر سکتے ہیں۔ البتہ وہ فرماتے ہیں مکروہ ہے، مکروہ ہے۔ بھئی مکروہ کیوں ہے؟ حدیث میں آیا ہے، وہ فرماتے ہیں کہ بھئی شہر میں چونکہ ہجوم اور بھیڑ زیادہ ہوتی ہے تو لہٰذا اب ہجوم اور بھیڑ کی وجہ سے اس شخص کی توجہ ان لوگوں ادھر ادھر ہوگی اور قرأت میں بھی خلل آئے گا اور نماز میں بھی خلل آنے کا احتمال ہے، لہٰذا اس لیے سواری پر شہر کے اندر پڑھنا مکروہ ہے بھئی، مکروہ ہے۔ وَوَجْهُ الظَّاهِرِ اور ظاہرِ روایت کی وجہ یہ ہے، ظاہرِ روایت کیا آئی متن میں؟ کہ شہر سے باہر پڑھنا جائز ہے، معلوم ہوا شہر کے اندر پڑھنا جائز نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے: أَنَّ النَّصَّ وَرَدَ خَارِجَ الْمِصْرِ کہ نص جو حدیث آئی جو ابن حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی حدیث آئی ہے وہ کس سے متعلق ہے؟ وَرَدَ خَارِجَ الْمِصْرِ کس کے بارے میں آئی ہے؟ شہر سے باہر ہونے کے بارے میں آئی ہے۔ وَالْحَاجَةُ إلَى الرُّكُوبِ فِيهِ أَغْلَبُ اور دوسری وجہ صاحبِ ہدایہ ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں اس لیے کہ سوار ہونے کی ضرورت شہر سے باہر زیادہ غالب ہے، یعنی شہر سے باہر ہو تب ہی سوار ہونے کی زیادہ ضرورت پیش آتی ہے، شہر کے اندر زیادہ ضرورت پیش نہیں آتی۔ بھئی دلیل ذکر کر رہے ہیں نا، امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا ذکر کر دیا کہ بھئی متن میں تو آیا تھا شہر میں جائز نہیں لیکن امام ابو یوسف رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ شہر میں بھی جائز ہے۔ لیکن متن میں جو آیا وہ ہے ظاہرِ روایت اور ظاہرِ روایت کی وجہ کہتے ہیں بھئی دراصل وہ حدیث ہے۔ حدیث کے اندر شہر سے باہر کا ذکر کیا گیا ہے تو معلوم ہوا شہر سے باہر ہی جائز ہے، شہر کے اندر جائز نہیں۔ اور نیز دوسری وجہ بھی صاحبِ ہدایہ ذکر فرما رہے ہیں، کہتے ہیں اس لیے بھی شہر سے باہر ہی جائز ہونا چاہیے کیونکہ سوار ہونے کی زیادہ ضرورت شہر سے باہر پیش آتی ہے زیادہ ضرورت۔ لیکن یہ دلیل تو آج کل کام نہیں دے سکتی بھئی۔ آج کل تو زیادہ سواری کی ضرورت کہاں پیش آتی ہے؟ شہر میں، جہاں بھی ایک جگہ سے دوسری جگہ آپ کو جانا ہوتا ہے تو سواری کی ضرورت پیش آتی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَالْحَاجَةُ إلَى الرُّكُوبِ فِيهِ أَغْلَبُ اور سواری کی ضرورت شہر سے باہر زیادہ غالب ہے یعنی وہاں زیادہ پیش آتی ہے۔ فَإِنْ افْتَتَحَ التَّطَوُّعَ رَاكِبًا ثُمَّ نَزَلَ يَبْنِي وَإِنْ صَلَّى رَكْعَةً نَازِلًا ثُمَّ رَكِبَ اسْتَقْبَلَ۔ فَإِنْ افْتَتَحَ التَّطَوُّعَ رَاكِبًا اگر شروع کیا نفلوں کو، تَطَوُّع نفل بھئی، اگر شروع کیا نفل کو سوار ہو کر، ثُمَّ نَزَلَ پھر اتر آیا۔ بھئی ایک آدمی ہے اس نے سواری پر ہی نفل پڑھنا شروع کیے اور سواری پر وہ رکوع اور سجدہ اشارے سے ادا کر رہا ہے، پھر وہ سواری سے نیچے اترتا ہے درمیانِ صلاۃ میں اور بقیہ نماز نیچے اتر کر کس کے ساتھ ادا کرنا چاہتا ہے؟ رکوع اور سجدے کے ساتھ ادا کرنا چاہتا ہے، تو کیا اسی نماز پر بنا کر سکتا ہے یا بنا نہیں کر سکتا یا نئے سرے سے پڑھنا پڑے گا؟ تو صاحبِ قدوری نے بتلایا مسئلہ آپ کو کہ اس پر بنا کر سکتا ہے، کیا کر سکتا ہے؟ بنا کر سکتا ہے۔ اور اس کا عکس نہیں، یعنی ایک شخص نے قبلہ رخ ہو کر نیچے تھا سواری پر نہیں ہے اور قبلہ رخ ہو کر رکوع اور سجدے کے ساتھ نماز پڑھنا نفل پڑھنا شروع کر دیے اور پھر بیچ میں اب وہ سواری پر سوار ہوتا ہے اور اسی پر بنا کرنا چاہتا ہے یعنی ایک رکعت جو پڑھ چکا ہے تو بقیہ ایک پڑھنا چاہتا ہے اسی کے ساتھ ملا کر، کہتے ہیں نہیں بھئی، اس صورت میں جائز نہیں۔ یعنی نیچے سے نفل شروع کیے ہوں پھر سواری پر ان پر بنا نہیں کر سکتا۔ یہ معنی ہے: فَإِنْ افْتَتَحَ التَّطَوُّعَ رَاكِبًا پس اگر شروع کیا نفلوں کو سوار ہو کر، ثُمَّ نَزَلَ پھر نیچے اتر آیا، يَبْنِي تو کیا کر سکتا ہے؟ اس پر بنا کر سکتا ہے۔ وَإِنْ صَلَّى رَكْعَةً نَازِلًا اور اگر وہ اس نے ایک رکعت نماز پڑھ لی نازلاً اتر کر یعنی نیچے ہی، ثُمَّ رَكِبَ اور پھر سوار ہوا، اسْتَقْبَلَ تو نئے سرے سے پڑھے گا۔ اسْتَقْبَلَ کا ایک معنی کیا ہے؟ استقبال کا معنی ہے نئے سرے سے کرنا بھئی، نئے سرے سے پڑھنا۔ تو اسْتَقْبَلَ نئے سرے سے پڑھے گا یعنی اب بنا نہیں کر سکتا۔ لِأَنَّ إحْرَامَ الرَّاكِبِ انْعَقَدَ مُجَوِّزًا لِلرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ لِقُدْرَتِهِ عَلَى النُّزُولِ فَإِذَا أَتَى بِهِمَا صَحَّ۔ کہتے ہیں: لِأَنَّ إحْرَامَ الرَّاكِبِ اس لیے کیونکہ سوار آدمی کا جو احرام ہے یعنی تکبیرِ تحریمہ، احرام سے کیا مراد ہے؟ تکبیرِ تحریمہ۔ تکبیرِ تحریمہ کو تکبیرِ تحریمہ کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ یہ نماز کے منافی چیزوں کو حرام کرنے والی ہے۔ تو اسی یہی احرام ہے بھئی، احرامِ صلاۃ۔ تو دلیل ذکر کر رہے ہیں، اول کس کی دلیل ذکر کریں گے؟ کہ سواری پر سوار ہو کر نماز شروع کیا اور اشارے سے رکوع سجدہ کر رہا ہے اب نیچے اتر کر اس پر بنا کرنا جائز ہے، اس کی دلیل ذکر کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ جس شخص نے سواری پر تحریمہ باندھی، تکبیرِ تحریمہ کہی تو یہ تحریمہ اس تحریمہ کے ساتھ وہ کس طرح نماز ادا کرے گا؟ سواری پر ہے نا، تو اشارے کے ساتھ رکوع اور سجدہ کرے گا۔ لیکن یہ تحریمہ رکوع اور سجدے کو بھی جائز قرار دے رہا ہے، رکوع اور سجدے کو بھی کہ اگر وہ رکوع اور سجدے پر قادر ہو جائے تو رکوع اور سجدہ بھی کر سکتا ہے، کیونکہ وہ تو اور اعلیٰ حالت ہے۔ اشارے سے پڑھنا اعلیٰ یا رکوع اور سجدے کے ساتھ پڑھنا اعلیٰ؟ رکوع اور سجدے کے ساتھ پڑھنا اعلیٰ ہے یقیناً۔ تو جب سمجھ میں آیا بھئی، تو لہٰذا ایک تحریمہ کے ساتھ جب ادنیٰ صورت کی نماز جائز ہو گئی تو اعلیٰ کی بطریقِ اولیٰ جائز ہو جائے گی۔ تو رکوع اور سجدے اس وقت کر تو وہ رکوع اور سجدہ رہا ہے لیکن یہی تحریمہ اس کے لیے اس وقت اس وقت تو اشارہ کر رہا ہے لیکن یہی تحریمہ اس کے لیے رکوع اور سجدے کو بھی جائز قرار دے رہی ہے، کیوں؟ کہتے ہیں: لِقُدْرَتِهِ عَلَى النُّزُولِ اس لیے کیونکہ وہ نیچے اترنے پر قادر ہے کہ نیچے اترے اور کس کے ساتھ ادا کر لے؟ رکوع اور سجدے کے ساتھ ادا کر لے، تو یہ تحریمہ اس سے جس طرح اشارہ کے ساتھ نماز پڑھنا جائز ہوا تھا اسی طرح اس سے رکوع اور سجدے کے ساتھ بھی نماز پڑھنا جائز ہوگا۔ صورت سمجھ میں لیکن اس کا عکس نہیں۔ اگر اس نے نیچے نماز شروع کی تھی تو یہ جو تحریمہ تھا اس تحریمہ میں وہ نماز کس طرح شروع کی ہے اس نے؟ رکوع اور سجدے کے ساتھ، تو یہ تحریمہ رکوع اور سجدے کو اس پر لازم کرنے والا ہے۔ اب اشارے کے ساتھ وہ نہیں پڑھ سکتا کیونکہ اس نے شروع کرتے ہی کس کو لازم کر لیا؟ رکوع اور سجدے کو اپنے اوپر لازم کر لیا ہے۔ اب آگے چل کر وہ آدھی نماز اشارے کے ساتھ سواری پر پڑھنا چاہتا ہے تو اس کی اجازت نہیں ہوگی، اس پر بنا نہیں کر سکتا۔ دلیل سمجھ میں آگئی؟ کیونکہ یہ نماز اس نے اعلیٰ حالت میں شروع کی ہے تو اب اس میں ادنیٰ کی گنجائش نہیں ہوگی۔ ہاں عذر ہو تو پھر تو اور صورت ہے، بیچ میں عذر پیش آ گیا کوئی جس کی وجہ سے اب انسان کھڑا نہیں ہو سکتا یا رکوع اور سجدہ نہیں کر سکتا تو پھر اسی پر میں رکوع اور سجدے کے ساتھ پوری کر سکتا ہے، لیکن یہاں تو کوئی اور عذر نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّ إحْرَامَ الرَّاكِبِ انْعَقَدَ مُجَوِّزًا لِلرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ اس لیے کیونکہ سوار کا جو احرام ہے یعنی اس کی جو تکبیرِ تحریمہ ہے وہ منعقد ہوئی ہے اس حال میں کہ مُجَوِّزًا لِلرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ یہ تحریمہ جس میں وہ نماز ادا تو کس طرح کر رہا ہے؟ سواری پر تحریمہ باندھی ہے بھئی، کس طرح ادا کر رہا ہے؟ ادا تو اشارے سے کر رہا ہے لیکن یہ تحریمہ مُجَوِّزًا لِلرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ یہ تحریمہ رکوع اور سجدے کو بھی جائز قرار دینے والی ہے، کیوں؟ کہتے ہیں لِقُدْرَتِهِ عَلَى النُّزُولِ اس لیے کیونکہ یہ نیچے اترنے پر قادر ہے، تو نیچے اتر کر بھی کیا کر سکتا ہے؟ اس پر بنا کر سکتا ہے۔ تو فَإِذَا أَتَى بِهِمَا پس جب وہ رکوع اور سجدے کو لے آتا ہے یعنی ان کو کر لیتا ہے، صَحَّ تو یہ صحیح ہو جائے گا۔ اس کے مقابلے میں إحْرَامَ النَّازِلِ انْعَقَدَ لِوُجُوبِ الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ، جو نیچے اترا ہوا تھا اس کا احرام یعنی اس کی تکبیرِ تحریمہ وہ منعقد ہوئی ہے لِوُجُوبِ الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ کہ وہ واجب کرنے والی ہے کس کو؟ رکوع اور سجدے کو واجب کرنے والی ہے، فَلَا يَقْدِرُ عَلَى تَرْكِ مَا لَزِمَهُ مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ پس یہ شخص قادر نہیں ہوگا کہ یہ چھوڑ دے اس چیز کو جو اس پر لازم ہوئی تھی بغیر کسی عذر کے۔ وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ أَنَّهُ يَسْتَقْبِلُ إذَا نَزَلَ أَيْضًا اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے ایک روایت یہ ہے کہ وہ نئے سرے سے شروع کرے گا، نئے سرے سے پڑھے گا إذَا نَزَلَ أَيْضًا جب وہ اتر جائے، یعنی وہ فرماتے ہیں نیچے اترنے کی صورت میں بھی نئے سرے سے نماز پڑھنا پڑے گی، بنا نہیں کر سکتا، یہ ان سے ایک روایت ہے۔ وَكَذَا عَنْ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ اور اسی طرح ایک روایت امام محمد رحمہ اللہ سے بھی ہے کہ إذَا نَزَلَ بَعْدَ مَا صَلَّى رَكْعَةً وہ فرماتے ہیں جب یہ اترا ہو ایک رکعت پڑھنے کے بعد تو اب اس پر بنا نہیں کر سکتا بلکہ کیا کرے؟ نئے سرے سے بنا نئے سرے سے نماز پڑھے گا۔ آگے صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: وَالْأَصَحُّ هُوَ الظَّاهِرُ اور زیادہ صحیح قول جو ہے وہ کون سا ہے؟ وہ جو ظاہرِ روایت ہے جو متن میں آیا وہ زیادہ صحیح ہے۔ معلوم ہوا باقی بھی جو ائمہ کے قول آئے ہیں وہ بھی صحیح ہیں لیکن وہ یہ جو متن میں آیا وہ زیادہ صحیح ہے بھئی۔ فَصْلٌ فِي قِيَامِ رَمَضَانَ یہ فصل ہے قیامِ رمضان کے بارے میں یعنی تراویح کے بارے میں۔ يُسْتَحَبُّ أَنْ يَجْتَمِعَ النَّاسُ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ بَعْدَ الْعِشَاءِ فَيُصَلِّيَ بِهِمْ إمَامُهُمْ خَمْسَ تَرْوِيحَاتٍ اور مستحب ہے لوگوں کے لیے کہ وہ جمع ہوں رمضان کے مہینے میں عشاء کے عشاء کے بعد، فَيُصَلِّيَ بِهِمْ إمَامُهُمْ خَمْسَ تَرْوِيحَاتٍ پس پڑھائے ان کو ان کا امام پانچ ترویحے، كُلُّ تَرْوِيحَةٍ بِتَسْلِيمَتَيْنِ ہر ترویحہ کس کے ساتھ ہو؟ دو سلاموں کے ساتھ۔ خَمْسَ تَرْوِيحَاتٍ پانچ ترویحے پڑھائے۔ ترویحہ بھئی، رَوَّحَ يُرَوِّحُ تَرْوِيحٌ کا معنی ہوتا ہے راحت دینا، آرام پہنچانا۔ تو چار رکعتوں میں کے بعد بھئی یہ تراویح کا طریقہ تراویح کا طریقہ اہل حرمین کے نزدیک یعنی مکہ اور مدینہ والے تراویح اس طرح ادا کرتے کہ ہر چار رکعت کے بعد کچھ وقفہ کرتے بھئی، کچھ وقفہ کرتے اسی کے بقدر، انہی چار رکعت جو تراویح پڑھ لی تھیں انہی کے بقدر کیا کر لیتے؟ وقفہ کرتے تھے۔ مکہ والے اس دوران طواف وغیرہ کر لیتے اور مدینہ والے کوئی نوافل وغیرہ پڑھ لیتے، تو یہ چار تراویح کے بعد چونکہ وقفہ بیچ میں آ جاتا تھا تو یہ چار رکعت کا نام ہی ترویحہ رکھ دیا گیا کیونکہ وقفہ آیا تو راحت آگئی، کیا آگئی؟ راحت آگئی۔ تو یہ چار رکعت راحت تک پہنچانے والی ہیں اس لیے ان کا نام ہی کیا رکھ دیا گیا؟ ترویحہ رکھ دیا گیا بھئی۔ ترویحہ وہ چیز جو راحت تک پہنچانے والی ہو۔ صورت سمجھ میں آرہی ہے بھئی؟ تو ان کو امام پانچ ترویحے پڑھائے گا اور ہر ترویحے میں دو سلام ہوں گے یعنی ہر دو رکعت پر کیا کرے گا امام؟ سلام پھیرے گا اس لیے کیونکہ جماعت ہو رہی ہے لوگ جمع ہیں تو آسانی اسی میں ہے لوگوں کے لیے کہ ہر دو رکعت پر سلام پھیرا جائے بھئی، آپ پیچھے پڑھ چکے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ اب دیکھیے یہاں پر آیا کہ نماز پڑھائے ان امام ان کو خَمْسَ تَرْوِيحَاتٍ کتنے؟ پانچ پانچ ایسے ترویحے، كُلُّ تَرْوِيحَةٍ بِتَسْلِيمَتَيْنِ کہ ہر ترویحہ کیا ہو؟ دو سلاموں کے ساتھ ہو۔ وَيَجْلِسُ بَيْنَ كُلِّ تَرْوِيحَتَيْنِ مِقْدَارَ تَرْوِيحَةٍ اور بیٹھے ہر دو ترویحوں کے درمیان ایک ترویحے کی مقدار، بیٹھے یعنی بیٹھنے سے مراد ہے وقفہ کرے، کیا کرے؟ وقفہ کرے، چاہے اس دوران انسان خاموش بیٹھا رہے، چاہے تو تسبیحات وغیرہ پڑھ لے، چاہے نوافل پڑھ لے، حرم میں ہے تو چاہے کیا کر لے؟ نفل پڑھ لے بھئی۔ تو بیٹھیں ان کے درمیان مِقْدَارَ تَرْوِيحَةٍ ایک ترویحے کی مقدار۔ ثُمَّ يُوتِرُ بِهِمْ پھر امام ان کو وتر پڑھائے۔ تراویح کے بعد کیا کرے؟ پانچ ترویحے جب مکمل ہو جائیں تو ان کو وتر پڑھائے بھئی، وتر۔ اور یہ بھی یاد رکھیے یہ بھی مسئلہ یاد رکھیے کہ یہ ترویحہ یعنی چار رکعت کے بعد اسی میں اسی قدر بیٹھنا اور انتظار کرنا یہ مستحب ہے، واجب نہیں۔ لہٰذا اگر یہ خوف ہے آپ کو کہ میں اس طرح کروں گا تو جماعت کم ہو جائے گی، لوگ تنگ ہوں گے کہ دیر ہو رہی ہے، تو اس صورت میں اس کو چھوڑا بھی جا سکتا ہے جیسا آج کل عموماً اس کو کیا کر دیا جاتا ہے؟ چھوڑ دیا جاتا ہے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ ہاں، چھوڑ دیا جاتا ہے۔ تو وہ بیٹھتے تو ہیں لیکن وہ چند لمحوں کے لیے ہی بیٹھتے ہیں، پورے ترویحے کی مقدار تو نہیں بیٹھتے، اسی لیے کیونکہ خط پھر اس صورت میں خوف ہے کہ جماعت کم ہو جائے گی، لوگ آئیں گے ہی نہیں تراویح کے اندر بھئی۔ ذَكَرَ لَفْظَ الِاسْتِحْبَابِ بھئی متن میں کیا صاحبِ قدوری نے کیا ذکر کیا؟ يُسْتَحَبُّ أَنْ يَجْتَمِعَ النَّاسُ صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں کہ ذکر کیا صاحبِ قدوری نے لفظ الاستحباب، استحباب کے لفظ کو، وَالْأَصَحُّ أَنَّهَا سُنَّةٌ اور زیادہ صحیح قول یہ ہے کہ تراویح کیا ہیں؟ مستحب نہیں ہیں بلکہ سنت ہیں، كَذَا رَوَى الْحَسَنُ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ اسی طرح روایت کیا ہے حسن ابن زیاد رحمہ اللہ نے امام صاحب سے، لِأَنَّهُ وَاظَبَ عَلَيْهَا الْخُلَفَاءُ الرَّاشِدُونَ اس لیے کیونکہ اس پر پابندی فرمائی ہے خلفائے راشدین نے بھئی۔ کس نے؟ خلفائے راشدین نے اس پر پابندی فرمائی ہے، اور حضور علیہ السلام بھی فرماتے ہیں: ”عَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ“ کہ تم میری سنت کو اور خلفائے راشدین کی سنت کو لازم پکڑو بھئی۔ تو یہ خلفائے راشدین کی سنت ہے، انہوں نے اس پر پابندی فرمائی ہے۔ نیز: وَالنَّبِيُّ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ بَيَّنَ الْعُذْرَ فِي تَرْكِهِ الْمُوَاظَبَةَ حضور علیہ السلام نے عذر بیان فرمایا تھا فِي تَرْكِهِ الْمُوَاظَبَةَ اپنے پابندی کو چھوڑنے پر۔ اپنے حضور علیہ السلام نے تراویح پر پابندی نہیں فرمائی بھئی۔ بھئی یہ حاشیے میں اپ کی حدیث دی ہوئی ہے کہ روایات میں اتا ہے کہ حضور علیہ السلام ایک مرتبہ رمضان کی رات میں نکلے اور لوگوں کو بیس رکعت پڑھائیں تراویح، پس اگلی رات جب آئی پھر لوگ اکٹھے ہوئے پھر حضور علیہ السلام نے ان کو بیس رکعت تراویح پڑھائیں۔ پھر تیسری رات جب آئی تو اب لوگ پھر جمع ہو گئے، زیادہ جمع ہو گئے، تو پھر حضور علیہ السلام تشریف نہیں لائے نماز پڑھانے کے لیے، اور فرمانے لگے کہ مجھے معلوم ہے تم کہ تم لوگ جمع ہو گئے ہو لیکن مجھے یہ خوف ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو یہ جماعت تم پر فرض کر دی جائے، کہیں ایسا نہ ہو یہ جماعت تم پر فرض کر دی جائے۔ تو چنانچہ پھر اس کے بعد حضور علیہ السلام نے اس طرح تراویح نہیں پڑھائیں بھئی۔ تو پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے زمانے تک لوگ اس کو علیحدہ پڑھتے تھے۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے دوبارہ لوگوں کو جمع کیا ایک امام کے پیچھے اور پھر با باقاعدہ اسی طرح جس طرح حضور علیہ السلام نے ادا فرمائی تھی جماعت کے ساتھ اسی طریقے پر تراویح کو کے ادا کرنے کا سلسلہ شروع ہوا اور جو آج تک اسی طرح جاری ہے بھئی، جاری ہے۔ بعض لوگوں پر حیرت ہوتی ہے وہ کہتے ہیں وہ اور دلائل ذکر کرتے ہیں اور کہتے ہیں اٹھ رکعت ہیں۔ چلیں ٹھیک ہے اور دلائل پیش کریں، لیکن جب حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ ہم کہتے ہیں دیکھو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ بیس رکعت ادا فرماتے تھے تو وہ کہتے ہیں یہ ان کی بدعت ہے۔ کیا کہتے ہیں؟ بدعت۔ یہ عجیب لفظ استعمال کرتا ہے جس سے سن کر انسان کانپ کانپ اٹھتا ہے کہ کس جلیل القدر صحابی اور کس خلیفہ راشد کے بارے میں وہ بدعت کا لفظ استعمال کر رہے ہیں۔ کوئی میری آپ کی بات نہیں، صحابہ؟ صحابہ تو حضور علیہ السلام کے ایک اشارے پر گردنیں کٹوا دیتے تھے، جانیں قربان کر دیتے تھے۔ کیا آپ ایسا سوچ سکتے ہیں کہ کوئی صحابی اور پھر حضرت عمر جیسا صحابی کہ حضور علیہ السلام کی مخالفت کرے اپنے کسی عمل میں؟ ایسا ممکن ہی نہیں ہے بھئی۔ تو بہرحال یہ بڑا ہی قبیح لفظ ہے جو وہ استعمال کرتے ہیں بھئی، اور دلائل دیں ٹھیک ہے بات کریں وہ وہ الگ بات ہے، میں اس پر بحث نہیں کر رہا کہ ان کی دلائل قوی ہیں یا قوی نہیں ہیں، دلائل ہمارے بڑے قوی ہیں بھئی، سمجھ میں آیا؟ وہ آٹھ کا جو ذکر آتا ہے وہ تہجد کا ذکر آتا ہے، صلاۃ اللیل کا ذکر آتا ہے، تو وہ تہجد کا ہے اور یہ رمضان میں جو حضور علیہ السلام نے وہ بیس رکعت ادا فرمائیں پھر حضرت عمر نے بھی بیس پر ہی سب کو باقی رکھا۔ یہ حضرت عمر کا بیس پڑھانا یہی دلیل ہے کہ حضور علیہ السلام نے جو حدیث میں بھی آیا کتنی پڑھا کتنی پڑھائی تھیں؟ بیس رکعت پڑھائی تھیں، اور نیز آج تک حرمین میں اسی پر عمل ہے، اسی پر عمل ہے۔ حرمین میں آج بھی کتنی رکعت ادا کی جاتی ہیں؟ بیس رکعت ہی ادا کی جاتی ہیں بھئی۔ تو یہ حدیث آئی تو حضور علیہ السلام نے اپنا عذر بیان فرمایا کہ میں نے اس لیے چھوڑ دیا ہے کہ کہیں ہم پر تم لوگوں پر یہ نماز فرض ہی نہ کر دی جائے۔ تو کہتے ہیں وہ کیونکہ خلفائے راشدین نے اس پر پابندی فرمائی ہے، وَالنَّبِيُّ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ بَيَّنَ الْعُذْرَ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بَيَّنَ الْعُذْرَ اس میں عذر بیان فرمایا فِي تَرْكِهِ الْمُوَاظَبَةَ اپنے مواظبت کو چھوڑنے پر، وَهُوَ خَشْيَةُ أَنْ تُكْتَبَ عَلَيْنَا اور وہ یہ خوف تھا کہ کہیں ہم پر فرض نہ کر دی جائے، وَالسُّنَّةُ فِيهَا الْجَمَاعَةُ اور تراویح کے اندر مسنون جو ہے جماعت ہے، لَكِنْ عَلَى وَجْهِ الْكِفَايَةِ لیکن یہ جماعت کس طریقے پر ہے؟ سنتِ کفایہ ہے، کیا ہے؟ سنتِ کفایہ ہے یعنی ہر مسجد والے جو ہیں ہر مسجد والوں پر ہے کہ وہ جماعت کا اہتمام کروائیں تراویح کے لیے۔ حَتَّى لَوْ امْتَنَعَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ عَنْ إقَامَتِهَا كَانُوا مُسِيئِينَ یہاں تک کہ اگر باز رہے یعنی رک گئے کسی مسجد والے اس سنت کو قائم کرنے سے، كَانُوا مُسِيئِينَ تو وہ برا عمل کرنے والے ہیں، کیا کرنے والے ہیں؟ برا عمل کرنے والے ہیں۔ وَلَوْ أَقَامَهَا الْبَعْضُ فَالْمُتَخَلِّفُ عَنْ الْجَمَاعَةِ تَارِكٌ لِلْفَضِيلَةِ اور اگر اس کو بعض لوگوں نے قائم کیا، بعضوں نے تراویح کو ادا کیا اور بعضوں نے ادا نہیں کیا، تو جب بعضوں نے ادا کر دیا انہوں نے سنتِ کفایہ قائم کر دی، سنت پر عمل ہو گیا اور جو پیچھے رہ گئے انہوں نے وہ فضیلت چھوڑنے والے ہیں، فضیلت سے محروم رہنے والے ہیں۔ وَلَوْ أَقَامَهَا الْبَعْضُ پس اگر قائم کر دیا اس کو اس سنت کو بعضوں نے، فَالْمُتَخَلِّفُ عَنْ الْجَمَاعَةِ تو وہ جو پیچھے رہنے والے ہیں جماعت سے، تَارِكٌ لِلْفَضِيلَةِ وہ فضیلت کو چھوڑنے والے ہیں، وہ تارکِ سنت نہیں کہیں گے ان کو ہم، کیا کہیں گے؟ تارکِ جماعت کو چھوڑنے والے ہیں۔ کیوں؟ لِأَنَّ أَفْرَادَ الصَّحَابَةِ يُرْوَى عَنْهُمْ التَّخَلُّفُ صحابہ کے جو افراد ہیں ان سے بھی روایت کیا گیا ہے پیچھے رہنا کہ بعض صحابہ بھی کیا کرتے تھے؟ وہ اکیلے ادا کرتے تھے یعنی جماعت سے پیچھے رہتے تھے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو لہٰذا جماعت سے پیچھے رہنے والے کو یہ کہا جائے گا اس نے جماعت کی فضیلت اس کو نہیں ملی، ہاں البتہ سنت کو چھوڑ دیا یہ نہیں کہا جائے گا کیونکہ اکیلے ادا وہ کر رہا ہے۔ وَالْمُسْتَحَبُّ فِي الْجُلُوسِ بَيْنَ التَّرْوِيحَتَيْنِ مِقْدَارَ تَرْوِيحَةٍ اور مستحب بیٹھنے کے اندر جو ہے دو ترویحوں کے درمیان وہ ایک ترویحے کی مقدار ہے، وَكَذَا بَيْنَ الْخَامِسَةِ وَبَيْنَ الْوِتْرِ اور اسی طرح پانچویں ترویحے اور وتر کے درمیان بھی کتنی مقدار بیٹھنا مستحب ہے؟ ایک ترویحے کی مقدار، لِعَادَةِ أَهْلِ الْحَرَمَيْنِ بوجہ اہلِ حرمین کی عادت کے۔ اہلِ حرمین یعنی مکہ اور مدینہ والے جو تھے ان کی عادت تھی اس کے مطابق وتر اور پانچویں ترویح پانچویں ترویحے کے درمیان بھی اتنا ہی وقفہ کیا جائے گا۔ وَاسْتَحْسَنَ الْبَعْضُ الِاسْتِرَاحَةَ عَلَى خَمْسِ تَسْلِيمَاتٍ اور بعض مشائخ نے انہوں نے استراحت کو مستحسن قرار دیا ہے، اچھا قرار دیا ہے، عَلَى خَمْسِ تَسْلِيمَاتٍ پانچ سلاموں پر، کہ پانچ سلاموں کے بعد کیا کرنا چاہیے؟ کچھ وقفہ ہونا چاہیے یعنی دس رکعت کے بعد، کتنی رکعت کے بعد؟ دس رکعت، وَلَيْسَ بِصَحِيحٍ صاحبِ ہدایہ کیا فرما رہے ہیں؟ یہ صحیح نہیں ہے بھئی۔ وَقَوْلُهُ ”ثُمَّ يُوتِرُ بِهِمْ“ متن میں کیا آیا تھا؟ پانچ ترویحے پڑھائے، ”ثُمَّ يُوتِرُ بِهِمْ“ پھر امام ان کو کیا کرے؟ وتر پڑھائے، وتر پڑھائے۔ معلوم ہوا تراویح کا وقت عشاء کے بعد ہے اور وتر سے پہلے ہے۔ کہتے ہیں: وَقَوْلُهُ ”ثُمَّ يُوتِرُ بِهِمْ“ اور صاحبِ قدوری کا قول ”ثُمَّ يُوتِرُ بِهِمْ“، يُشِيرُ یہ اشارہ کر رہا ہے إلَى أَنَّ وَقْتَهَا بَعْدَ الْعِشَاءِ قَبْلَ الْوِتْرِ کہ تراویح کا وقت جو ہے عشاء کے بعد ہے اور وتر سے پہلے ہے، وَبِهِ قَالَ عَامَّةُ الْمَشَايِخِ اور اسی کے قائل ہیں اکثر مشائخ، وَالْأَصَحُّ اور زیادہ صحیح یہ ہے أَنَّ وَقْتَهَا بَعْدَ الْعِشَاءِ إلَى آخِرِ اللَّيْلِ قَبْلَ الْوِتْرِ وَبَعْدَهُ کہ اس کا وقت عشاء کے بعد ہے آخرِ رات تک، قَبْلَ الْوِتْرِ وَبَعْدَهُ وتر سے پہلے بھی اور وتر کے بعد بھی، وتر سے پہلے بھی پڑھ سکتے ہیں وتر کے بعد بھی پڑھ سکتے ہیں، لِأَنَّهَا نَوَافِلُ سُنَّتْ بَعْدَ الْعِشَاءِ اس لیے کیونکہ یہ ایسے نوافل ہیں سنت بعد العشاء جن کا جو مسنون ہیں جن کو مقرر کیا گیا ہے بعد العشاء کس کے بعد؟ عشاء کے بعد۔ وَلَمْ يَذْكُرْ قَدْرَ الْقِرَاءَةِ اور صاحبِ قدوری نے قرأت کی مقدار نہیں ذکر کی۔ اچھا بھئی پیچھے کیا مسئلہ ذکر ہوا؟ یاد رکھیے تراویح کا وقت عشاء کی نماز کے بعد ہے، لہٰذا ایک شخص نے عشاء کی نماز ادا کی تھی، تراویح بھی ادا کر لیں، پھر پتہ چلا کہ عشاء کی نماز نہیں ہوئی تھی کسی وجہ سے، تو پھر یاد رکھو دوبارہ جب عشاء کی نماز پڑھے گا تو تراویح دوبارہ پڑھی دوبارہ وہ پڑھے گا کیونکہ وہ اگر ان کو مانا جائے پھر تو وہ تو عشاء سے پہلے ہو گئیں حالانکہ تراویح تو عشاء سے پہلے نہیں، یہ ان کے تابع ہیں، تابع۔ ہاں وتروں سے پہلے بھی تراویح ہو سکتی ہیں اور بعد میں بھی، تو بہتر تو یہ ہے تراویح کیا ہونی چاہییں؟ وتر سے پہلے، لیکن اگر بعد میں بھی ہو جائے تو ٹھیک ہے بھئی۔ لہٰذا کوئی شخص دیر سے مسجد میں پہنچا تراویح شروع ہو چکی ہیں تو وہ پہلے فرض نماز پڑھ لے اور پھر اس کے بعد تراویح میں شریک ہو جائے اور وتر بھی امام کے ساتھ ہی ادا کر لے اور جو تراویح بچ گئی ہیں، رہ گئی تھیں وہ ان کے وتروں کے بعد ان کو ادا کر لے بھئی۔ مسئلہ سمجھ میں آیا؟ تو بتلانا مقصد یہ ہے کہ تراویح کو عشاء کی نماز سے پہلے نہیں ہونا چاہیے، عشاء کے بعد ہی ہونا چاہیے، ہاں وتروں سے پہلے بھی ہو سکتی ہیں اور بعد میں بھی، دونوں طرح صحیح ہیں۔ وَلَمْ يَذْكُرْ قَدْرَ الْقِرَاءَةِ اور صاحبِ قدوری نے قرأت کی مقدار نہیں ذکر کی کہ کتنی قرأت کرنی چاہیے تراویح کی ایک رکعت میں امام کو؟ کہتے ہیں: وَأَكْثَرُ الْمَشَايِخِ اور اکثر مشائخ جو ہیں عَلَى اس بات پر ہیں أَنَّ السُّنَّةَ فِيهَا الْخَتْمُ مَرَّةً کہ سنت تراویح کے اندر وہ ایک مرتبہ ختمِ قرآن کرنا ہے، فَلَا يُتْرَكُ لِكَسَلِ الْقَوْمِ لہٰذا اس ختمِ قرآن کو نہ چھوڑا جائے لوگوں کی سستی کی وجہ سے۔ لوگوں کی سستی کی وجہ سے ختمِ قرآن کو نہ چھوڑا جائے کہ لوگ سستی کر رہے ہیں تو آپ ختمِ قرآن کو چھوڑ دیں، نہیں، بلکہ کیا کرنا چاہیے؟ ختمِ قرآن کرنا چاہیے، سمجھ میں آئی بات؟ ختمِ قرآن کرنا۔ ہاں اگر آپ کسی ایسی جگہ ہیں یاد مسئلہ یاد رکھنا، اگر آپ کسی ایسی جگہ پر ہیں کہ جہاں آپ دیکھتے ہیں کہ اگر میں نے ختمِ قرآن کیا تو لوگ تو نماز میں تراویح میں آنا ہی چھوڑ دیں گے، کیونکہ ختمِ قرآن کے لیے ہر تراویح میں کچھ مقدار تو پڑھنا پڑے گی بھئی تب ہی پورے مہینے میں کیا ہوگا؟ قرآن ختم ہوگا، تو تھوڑی زیادہ مقدار اس ختم کے اعتبار سے یعنی دس رکعت دس بارہ رکعت دس بارہ آیتیں تو پڑھنی پڑیں گی بھئی، تو اگر آپ کو یہ خوف ہے کہ یہ لوگ نماز میں پھر آئیں گے ہی نہیں اگر میں ختمِ قرآن کروں گا تو پھر یاد رکھیے ختمِ قرآن کو چھوڑنا بھی اس صورت میں جائز ہے اور مختصر سورتوں کے ساتھ تراویح پڑھانا بھی جائز، لیکن عام حالات میں تو صرف لوگوں کی سستی کی وجہ سے ختمِ قرآن کو چھوڑ دے یہ درست نہیں ہے بلکہ کیا کرنا چاہیے؟ ختمِ قرآن کرنا چاہیے بھئی۔ فَلَا يُتْرَكُ لِكَسَلِ الْقَوْمِ لہٰذا ختمِ قرآن کو چھوڑا نہ جائے لوگوں کی سستی کی وجہ سے، بِخِلَافِ مَا بَعْدَ التَّشَهُّدِ مِنْ الدَّعَوَاتِ حَيْثُ يَتْرُكُهَا لِأَنَّهَا لَيْسَتْ بِسُنَّةٍ ہاں، تراویح کے اندر تشہد کے بعد جو نماز میں دعائیں پڑھی جاتی ہیں ان کو چھوڑ سکتا ہے انسان۔ مختصر کروانے کے لیے کیا کر سکتا ہے؟ اگر پتہ ہے لوگ سست ہیں سستی کریں گے تو یہ کر سکتا ہے پھر کیا کیا کرے؟ تشہد کے بعد جو دعائیں ہیں ان کو چھوڑ سکتا ہے۔ ہاں البتہ درود پڑھ لے کیونکہ درود امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک فرض ہے، ہمارے نزدیک تو فرض نہیں لیکن ان کے نزدیک فرض ہے تو احتیاط اسی میں ہے کہ درود پڑھ لے بھئی، ہاں باقی دعائیں چھوڑ کر مختصر مختصر اختصار کرتے ہوئے سلام پھیر سکتا ہے۔ بِخِلَافِ مَا بَعْدَ التَّشَهُّدِ مِنْ الدَّعَوَاتِ بخلاف وہ تشہد کے بعد جو دعائیں ہیں، حَيْثُ يَتْرُكُهَا کیونکہ ان کو چھوڑ سکتا ہے، لِأَنَّهَا لَيْسَتْ بِسُنَّةٍ کیونکہ وہ سنت نہیں۔ وَلَا يُصَلَّى الْوِتْرُ بِجَمَاعَةٍ فِي غَيْرِ شَهْرِ رَمَضَانَ اور نہ پڑھے جائیں وتر جماعت کے ساتھ رمضان کے مہینے کے علاوہ، یعنی باقی سال بھر وتر جماعت کے ساتھ ادا نہیں کرنے چاہییں، عَلَيْهِ إجْمَاعُ الْمُسْلِمِينَ اسی پر کیا ہے؟ مسلمانوں کا اجماع ہے۔ رمضان میں تو وتر جماعت کے ساتھ ہوں اور باقی بغیر جماعت کے اکیلے ادا کرنے چاہییں، وَاللَّهُ أَعْلَمُ اور اللہ ہی خوب جاننے والے ہیں۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله اعلم بحقيقة الكلام۔