”وَلَا بَأْسَ بِقَتْلِ الْحَيَّةِ وَالْعَقْرَبِ فِي الصَّلَاةِ“ لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ: ”اُقْتُلُوا الْأَسْوَدَيْنِ وَلَوْ كُنْتُمْ فِي الصَّلَاةِ“، ”وَلِأَنَّ فِيهِ إِزَالَةَ الشُّغْلِ فَأَشْبَهَ دَرْءَ الْمَارِّ“، ”وَيَسْتَوِي جَمِيعُ أَنْوَاعِ الْحَيَّاتِ هُوَ الصَّحِيحُ لِإِطْلَاقِ مَا رَوَيْنَا“. ”وَلَا بَأْسَ بِقَتْلِ الْحَيَّةِ وَالْعَقْرَبِ فِي الصَّلَاةِ“ اور کوئی حرج نہیں ہے سانپ کو اور بچھو کو قتل کرنے میں ”فِي الصَّلَاةِ“ نماز میں۔ ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ“ بوجہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کے کہ آپ فرماتے ہیں: ”اُقْتُلُوا الْأَسْوَدَيْنِ“ کہ تم دو اسود کو قتل کرو، ”وَلَوْ كُنْتُمْ فِي الصَّلَاةِ“ اگرچہ تم نماز میں ہو۔ تو یاد رکھیے بھئی کہ کوئی شخص نماز میں مصروف ہے اور سامنے سانپ آ گیا تو وہ اس کو قتل کر کے پھر وہیں سے نماز شروع کر سکتا ہے، نماز اس کے قتل سے نماز نہیں ٹوٹے گی۔ اور اسی طرح بچھو آ گیا، اس کو قتل کر کے پھر کیا کر دے؟ وہیں سے نماز کو جاری رکھے بھئی، وہیں سے نماز کو جاری رکھے۔ اور دلیل یہ حدیث آ گئی کہ حضور علیہ السلام فرماتے ہیں کہ دو اسود جو ہیں یعنی بچھو اور سانپ جو ہیں ان کو تم قتل کرو اگرچہ تم کس میں ہو؟ نماز میں ہو۔ یہ تو نقلی دلیل تھی۔ آگے عقلی دلیل بھی صاحبِ ہدایہ ذکر فرما رہے ہیں۔ کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّ فِيهِ إِزَالَةَ الشُّغْلِ“ اس لیے کیونکہ اس کے اندر شغل کو دور کرنا ہے، اس کو ختم کرنا ہے۔ بھئی نماز کے اندر کامل توجہ انسان کی اللہ کی طرف ہونی چاہیے، کامل توجہ۔ اور تو یہ چیزیں جو ہیں انسان کے دل کو مشغول کرنے والی ہیں، انسان کا توجہ ان کی طرف لگی رہے گی۔ تو شریعت نے اس چیز کو ہی ختم کرنے کا حکم دیا جو کیا کرے؟ انسان کی توجہ دوسری طرف پھیر دے۔ تو اس میں وہ دل کی مشغولیت جو ہے اس کو ختم کرنا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّ فِيهِ إِزَالَةَ الشُّغْلِ“ اس لیے کیونکہ اس کے اندر دل کی مشغولیت کو ختم کرنا ہے، ”فَأَشْبَهَ دَرْءَ الْمَارِّ“ تو یہ مشابہ ہوا گزرنے والے کو دور کرنے کے، گزرنے والے کے دور کرنے کے مشابہ ہوا جیسے اس کو شریعت نے اس کے اجازت دی ہے کہ اس کو انسان کیا کر سکتا ہے؟ روک سکتا ہے بھئی۔ ”وَيَسْتَوِي جَمِيعُ أَنْوَاعِ الْحَيَّاتِ“ اور برابر ہیں اس میں تمام اقسام کے سانپ۔ بھئی عرب میں سانپ کو اسود کہتے ہیں بھئی، اسود بھئی۔ اسود کا لفظ کس پر عام استعمال ہوتا ہے؟ سانپ پر استعمال ہوتا ہے۔ اور اس سے یہ معنی نہیں کہ اسود وہ کالا ہی ہو تو پھر ہی اس کو اسود کہیں گے بلکہ اب ہر عام سانپ کے لیے بھی کیا استعمال ہوتا ہے؟ اسود کا لفظ۔ تو اس میں تمام اقسامِ سانپ برابر ہیں، کسی بھی قسم کا سانپ ہو۔ ”هُوَ الصَّحِيحُ“ یہی قول صحیح ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَيَسْتَوِي جَمِيعُ أَنْوَاعِ الْحَيَّاتِ“ اور برابر ہیں تمام اقسام کے سانپ، ”هُوَ الصَّحِيحُ“ یہی قول صحیح ہے، ”لِإِطْلَاقِ مَا رَوَيْنَا“ بوجہ مطلق ہونے اس حدیث کے جس کو ہم نے روایت کیا کہ وہاں کیا آیا تھا؟ ”اُقْتُلُوا الْأَسْوَدَيْنِ“ وہاں کوئی تفصیل نہیں تھی کہ کس قسم کا سانپ ہو تو اس کو قتل کرو اور کس قسم کا ہو تو اسے قتل نہ کرو بلکہ مطلق حکم دیا گیا کہ ان کو قتل کرو بھئی۔ تو سانپ جو ہے، یاد رکھیے، سانپ عموماً جنات بھی سانپ کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ تو لہٰذا کسی بھی سانپ کو قتل کرنے سے پہلے اس کو کہہ دینا چاہیے اگر تو جن ہے تو یہاں سے چلا جا ورنہ ہم تجھے قتل کر دیں گے۔ پھر بھی اگر وہ نہیں جاتا پھر قتل کرنا جائز، صحیح ہے بھئی۔ چنانچہ واقعہ بھی بزرگوں نے نقل کیا ہے کہ حضرت شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ جو عظیم محدث گزرے ہیں برصغیر کے بھئی، اکثر جو حدیث کی اسناد ہیں برصغیر کے اندر وہ حضرت شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ تک پہنچتی ہیں بھئی، تو ان کے بھئی تھے شاہ اہل اللہ رحمہ اللہ۔ وہ بڑے نیک اور ولی انسان تھے، وہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں گھر میں تھا کہ دروازہ کسی نے کھٹکھٹایا، میں پوچھنے کے لیے نکلا تو دیکھا ایک سپاہی ہے، اس نے کہا مجھے بادشاہ نے بھیجا ہے، آپ کو طلب کیا ہے، آپ ہمارے ساتھ چلیں۔ چنانچہ کہتے ہیں میں اس کے ساتھ چل پڑا اور وہ مختلف راستوں سے مجھے لے جاتا ہوا شہر سے باہر نکلا، میں اس کے پیچھے پیچھے چل رہا ہوں، یہاں تک کہ چلتے چلتے ہم ایک غار میں داخل ہوئے بھئی۔ کہتے ہیں غار کے اندر میں داخل ہوا تو کیا دیکھتا ہوں کہ جنات کا دربار لگا ہوا ہے اور جنات بہت جنات بیٹھے ہیں، جنات کا بادشاہ بھی تخت پر بیٹھا ہوا ہے اور جنات اپنے اپنے مقدمات اس کے سامنے پیش کر رہے ہیں اور وہ ان کے درمیان فیصلہ کر رہا ہے بھئی، فیصلہ۔ چنانچہ جب میری باری آئی تو مجھے بھی چند جنات لے کر آگے حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ بادشاہ سلامت! اس نے ہمارے فلاں جن کو قتل کر دیا ہے، ہمارے اس رشتہ دار کو قتل کر دیا ہے، لہٰذا آپ ہمیں انصاف دلائیں، اس نے قتل کیا ہے ہمارا۔ تو بادشاہ میری طرف متوجہ ہوا کہ ہاں بھئی کیوں تم نے قتل کیا ان کے رشتہ دار کو؟ تو میں نے کہا کہ میں نے تو کسی جن کو قتل نہیں کیا، ہاں ایک سانپ کو میں نے قتل کیا تھا اور حدیث میں آتا ہے کہ جس چیز نے اپنی صورت بدل لی اس کا خون رائیگاں ہے بھئی، یعنی اس کی صورت میں کوئی سزا وغیرہ نہیں ہے۔ تو میں نے تو سانپ کو قتل کیا تھا تو اگر وہ جن تھا تو اس نے تو اپنی صورت بدلی ہوئی تھی اور حدیث میں کیا آیا جس نے اپنی صورت بدل لی اس کا خون رائیگاں ہے۔ تو کہتے ہیں جب میں نے یہ حدیث ذکر کی تو بادشاہ کے ساتھ ایک بہت بڑا اور بہت بوڑھا جن بیٹھا ہوا تھا سر جھکائے ہوئے، اس نے جب میری یہ بات سنی تو اس نہایت بوڑھا جن جو تھا اس نے اپنا سر اٹھایا اور کہنے لگا کہ بادشاہ سلامت! یہ شخص واقعی سچ کہہ رہا ہے، جس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ قول ارشاد فرمایا تھا میں بھی ان کے پاس موجود تھا۔ معلوم ہوا وہ جن کیا تھا؟ صحابی تھا بھئی صحابی۔ چنانچہ پھر بادشاہ نے کہتے ہیں مجھے چھوڑ دیا اور کچھ نہیں کہا۔ تو جنات کی عمریں بڑی طویل عمریں ہوتی ہیں بھئی۔ حتی کہ بعض لوگوں نے بتلایا کہ یہ جیسے انسانوں کے اندر تبلیغی جماعتیں نکلتی ہیں اور دعوت و اصلاح کا کام سرانجام دیتی ہیں، اسی طرح ایسی ہی ایک مبارک جماعت جنات کے اندر بھی ہے جو اسی طرح تبلیغ کا عمل کرتے ہیں اور ان کی جو مجلسِ شوریٰ ہے اس میں کہتے ہیں بعض صحابہ جنات بھی شامل ہیں بھئی، یہ روایت سنی ہے، تو باقی اللہ تعالیٰ بہتر جانتے ہیں۔ تو بہرحال جنات کی عمریں بڑی طویل ہوتی ہیں بھئی، تو اس میں کوئی حیرت کی بات نہیں جیسے ابھی واقعہ بھی ذکر ہوا کہ جنات کی عمریں بڑی طویل عمریں ہوتی ہیں۔ اور یہ واقعہ یہ آپ کو ملے گا اس میں ملفوظاتِ علامہ انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ کتاب کے اندر، اس میں یہ واقعہ درج ہے، یہ شاہ اہل اللہ رحمہ اللہ کا واقعہ بھئی۔ جی اب دیکھیے آگے کتاب پر۔ کہتے ہیں: ”وَيُكْرَهُ عَدُّ الْآيِ“۔ بھئی ”الْآيِ“ جمع ہے ”آيَةٌ“ کی۔ آیت، آیت کی ایک جمع تو آیات آتی ہے، اسی طرح آیت کی ایک جمع ہے ”آيٌ“ بھئی ”آيٌ“، یہ یا مشدد نہیں پڑھنی بھئی، تخفیف کے ساتھ ”آيٌ“۔ تو کہتے ہیں: ”وَيُكْرَهُ عَدُّ الْآيِ“ اور مکروہ ہے آیتوں کو شمار کرنا، ”وَالتَّسْبِيحَاتِ“ اور تسبیحات کو شمار کرنا ”بِالْيَدِ“ ہاتھ کے ساتھ ”فِي الصَّلَاةِ“ کس کے اندر؟ نماز میں۔ تو نماز کے اندر آیتوں کو اور تسبیحات کو ہاتھ سے شمار کرنا یہ مکروہ ہے بھئی، یہ مکروہ ہے۔ ”وَكَذَلِكَ عَدُّ السُّوَرِ“ اور اسی طرح سورتوں کو شمار کرنا، ”لِأَنَّ ذَلِكَ لَيْسَ مِنْ أَعْمَالِ الصَّلَاةِ“ اس لیے کیونکہ یہ نماز کے اعمال میں سے نہیں ہے کہ انسان کیا کرے باقاعدہ ہاتھ پر آیتوں اور تسبیحات وغیرہ کو شمار کرے۔ ”وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِذَلِكَ فِي الْفَرَائِضِ وَالنَّوَافِلِ جَمِيعًا“ اور صاحبین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ کوئی حرج نہیں ہے اس کا، یعنی آیتوں اور تسبیحات وغیرہ کو شمار کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے ”فِي الْفَرَائِضِ وَالنَّوَافِلِ جَمِيعًا“ فرائض اور نوافل سب کے اندر بھئی، یعنی فرائض میں بھی شمار کر سکتے ہیں اور نوافل میں بھی، ”مُرَاعَاةً لِسُنَّةِ الْقِرَاءَةِ“ رعایت رکھتے ہوئے قراءت کی سنت کی، رعایت رکھتے ہوئے قراءت کی سنت کی، اس لیے کیونکہ آپ پڑھ چکے کہ کس نماز میں کتنی قراءت ہونی چاہیے مسنون کتنی ہے، مثلاً فجر کے بارے میں آپ نے پڑھا کہ چالیس سے پچاس یا پچاس سے ساٹھ آیتیں ہونی چاہئیں دو رکعتوں کے اندر، تو ایک رکعت میں گویا بیس آئیں گی یا پچیس آئیں گی تو وہ ان کو انسان شمار کر سکتا ہے انگلیوں پر تاکہ قراءت میں سنت کی رعایت ہو جائے بھئی۔ تو یہ دلیل چل رہی ہے صاحبین کی، وہ فرماتے ہیں: ”مُرَاعَاةً لِسُنَّةِ الْقِرَاءَةِ“ قراءت کی سنت کی رعایت رکھنے کے لیے، ”وَالْعَمَلِ بِمَا جَاءَتْ بِهِ السُّنَّةُ“ اور عمل کرنے کے لیے اس چیز پر جس کے ساتھ سنت آئی ہے، یعنی جس کے ساتھ سنت وارد ہوئی ہے۔ سمجھ میں آیا؟ یعنی تسبیحات بھی شمار کر سکتا ہے۔ تو صاحبِ ہدایہ اب جواب دے رہے ہیں امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی طرف سے کہ فرماتے ہیں: ”قُلْنَا“ ہم کہتے ہیں جواب میں صاحبین کو: ”يُمْكِنُهُ أَنْ يَعُدَّ ذَلِكَ قَبْلَ الشُّرُوعِ“ کہ ممکن ہے اس شخص کے لیے کہ وہ شمار کر لے اس کو نماز شروع کرنے سے صاحبین نے کیا فرمایا تھا کہ شمار کرنا جائز ہے تاکہ کس کی رعایت ہو سکے؟ سنت قراءت کی رعایت ہو سکے، تو اس کا جواب دے رہے ہیں کہ یہ کیا کر سکتا ہے وہ نماز سے پہلے شمار کر لے کہ یہاں سے یہاں تک پڑھنا ہے، اتنی سورتیں ہو جائیں گی، اتنی آیتیں ہو جائیں گی۔ تو ہم کہتے ہیں: ”يُمْكِنُهُ أَنْ يَعُدَّ ذَلِكَ قَبْلَ الشُّرُوعِ“ کہ ممکن ہے اس کے لیے کہ وہ اس کو شمار کر لے شروع کرنے سے پہلے ہی، ”فَيَسْتَغْنِيَ عَنِ الْعَدِّ بَعْدَهُ“ تو وہ بے نیاز ہوگا، بے پروا ہوگا اس کے بعد شمار کرنے سے، یعنی بعد میں پھر نماز میں شمار کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ”وَاللَّهُ أَعْلَمُ“ اور اللہ خوب جاننے والے ہیں۔ ”فَصْلٌ: وَيُكْرَهُ اسْتِقْبَالُ الْقِبْلَةِ بِالْفَرْجِ فِي الْخَلَاءِ“ اور مکروہ ہے استقبالِ قبلہ یعنی قبلے کی طرف رخ کرنا ”بِالْفَرْجِ“ شرمگاہ کے ساتھ ”فِي الْخَلَاءِ“ بیت الخلاء میں۔ بھئی گذشتہ فصل میں وہ چیزیں ذکر ہوئی تھیں جو نماز کے اندر کیا ہیں؟ مکروہ ہیں۔ اب کچھ وہ چیزیں ذکر فرما رہے ہیں جو نماز سے باہر بھی مکروہ ہیں بھئی۔ تو اب کچھ وہ چیزیں ذکر کر رہے ہیں اس فصل میں جو نماز کے باہر بھی مکروہ ہیں بھئی۔ تو ان میں سے ایک یہ ہے کہ انسان پیشاب پاخانہ کرتے ہوئے جب بیٹھے تو قبلہ قبلے کی طرف رخ ہو یا قبلے کی طرف پشت ہو تو یہ مکروہ ہے، یہ کیا ہے؟ مکروہ ہے۔ یہی ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں: ”وَيُكْرَهُ اسْتِقْبَالُ الْقِبْلَةِ بِالْفَرْجِ فِي الْخَلَاءِ“ اور مکروہ ہے قبلے کا استقبال کرنا یعنی اس کی طرف رخ کرنا شرمگاہ کے ساتھ بیت الخلاء میں، ”لِأَنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ نَهَى عَنْ ذَلِكَ“ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے۔ ”وَالِاسْتِدْبَارُ يُكْرَهُ فِي رِوَايَةٍ“ اور استدبار کا معنی ہے پشت کرنا، استقبال کا معنی رخ کرنا، چہرہ کرنا اور استدبار یعنی پشت کرنا، ”يُكْرَهُ فِي رِوَايَةٍ“ یہ بھی مکروہ ہے ایک روایت میں۔ ایک روایت کے مطابق پشت کرنا بھی مکروہ ہے، ”لِمَا فِيهِ مِنْ تَرْكِ التَّعْظِيمِ“ اس وجہ سے کہ اس کے اندر تعظیم کو چھوڑنا لازم آتا ہے اور بیت اللہ کی تو تعظیم کا حکم دیا گیا ہے، تو لہٰذا پشت بھی نہ کرے اس کی طرف۔ ”وَلَا يُكْرَهُ فِي رِوَايَةٍ“ اور ایک روایت کے مطابق مکروہ نہیں ہے بھئی، ایک روایت کے مطابق مکروہ نہیں، لیکن صحیح روایت وہی ہے جو پہلے ذکر ہوئی کہ پشت کرنا بھی کیا ہے؟ مکروہ ہے۔ تو دوسری روایت کے مطابق مکروہ نہیں ہے، اس کی بھی وجہ ذکر کر رہے ہیں کہ اس میں یہ کیوں آیا کہ مکروہ نہیں؟ کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْمُسْتَدْبِرَ فَرْجُهُ غَيْرُ مُوَاذٍ لِلْقِبْلَةِ“ اس لیے کیونکہ جو پشت کرنے والا ہے اس کی شرمگاہ جو ہے وہ قبلے کے مقابل نہیں ہے یعنی قبلے کی طرف نہیں ہے، ”وَمَا يَنْحَطُّ مِنْهُ يَنْحَطُّ إِلَى الْأَرْضِ“ اور وہ جو اس شرمگاہ میں سے گرتا ہے وہ کس طرف گرتا ہے؟ زمین پر، یعنی پیشاب بھئی۔ تو اگر قبلہ رخ ہوگا تو پھر تو شرمگاہ کا رخ قبلے کی طرف ہوگا اور پیشاب کا رخ بھی کس طرف ہو جائے گا؟ قبلے کی طرف، تو لہٰذا اس سے تو منع کیا گیا ہے وہ مکروہ ہوگا لیکن اگر قبلے کی طرف پشت ہو تو پھر اس صورت میں شرمگاہ کا رخ بھی قبلے کی طرف نہیں اور جو پیشاب وغیرہ بھی گر رہا ہے وہ قبلے کی طرف نہیں ہے اس لیے مکروہ نہیں۔ یہ دوسری روایت کی وجہ ذکر کر دی، لیکن میں نے بتلایا صحیح قول کون سا ہے؟ پہلی ہی روایت ہے کہ پشت کرنا بھی مکروہ ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَمَا يَنْحَطُّ مِنْهُ يَنْحَطُّ إِلَى الْأَرْضِ“ اور وہ جو اس میں سے گرتا ہے وہ زمین کی طرف گرتا ہے، ”بِخِلَافِ الْمُسْتَقْبِلِ“ بخلاف اس کے جس کا رخ قبلے کی طرف ہو، ”لِأَنَّ فَرْجَهُ مُوَاذٍ لَهَا“ اس لیے کیونکہ اس کی شرمگاہ قبلے کے مقابل ہے، ”وَمَا يَنْحَطُّ مِنْهُ يَنْحَطُّ إِلَيْهَا“ اور اس سے جو گرے گا، جو نکلے گا وہ کس کی طرف نکلے گا؟ کس کی طرف گرے گا؟ قبلے کی طرف گرے گا اس لیے وہ مکروہ ہے۔ ”وَيُكْرَهُ الْمُجَامَعَةُ فَوْقَ الْمَسْجِدِ وَالْبَوْلُ وَالتَّخَلِّي“۔ جی یاد رکھیے یہ جو مسجد ہے مسجد کوئی بنائی جائے تو وہ وہ آسمان تک سارا حصہ مسجد کے حکم میں ہوتا ہے، سارا کس کے حکم میں ہے؟ مسجد۔ لہٰذا مسجد کی چھت پر بھی بیوی کے ساتھ صحبت کرنا مکروہ ہے، مسجد کی چھت پر بھی پیشاب کرنا مکروہ ہے، مسجد کی چھت پر بھی پاخانہ کرنا مکروہ ہے بھئی۔ کہتے ہیں: ”وَيُكْرَهُ الْمُجَامَعَةُ فَوْقَ الْمَسْجِدِ وَالْبَوْلُ وَالتَّخَلِّي“ اور مکروہ ہے صحبت کرنا مسجد کی چھت پر اور پیشاب کرنا اور تخلی یعنی قضائے حاجت کرنا، ”لِأَنَّ سَطْحَ الْمَسْجِدِ لَهُ حُكْمُ الْمَسْجِدِ“ اس لیے کیونکہ مسجد کی جو چھت ہوتی ہے اس کے لیے مسجد ہی کا حکم ہے، ”حَتَّى يَصِحَّ الِاقْتِدَاءُ مِنْهُ بِمَنْ تَحْتَهُ“ یہاں تک کہ صحیح ہے اقتداء کرنا چھت سے اس امام کی جو کس کے چھت کے نیچے ہے، تو یہ صحیح ہے اس چھت پر اقتداء کرنا اس شخص کی جو چھت کے نیچے ہے، معلوم ہوا یہ مسجد کے حکم میں ہے، ”وَلَا يَبْطُلُ الِاعْتِكَافُ بِالصُّعُودِ إِلَيْهِ“ اور نیز اعتکاف بھی باطل نہیں ہوتا چھت پر چڑھنے سے، معلوم ہوا چھت کس کے حکم میں ہے؟ مسجد کے، ورنہ تو اعتکاف تو ایک لمحے کے لیے بھی مسجد سے کوئی نکلے تو اعتکاف کیا ہو جاتا ہے؟ باطل ہو جاتا ہے، لیکن مسجد کی چھت پر چڑھنے سے بھی اعتکاف نہیں ٹوٹ رہا، معلوم ہوا مسجد کی چھت بھی کس کے حکم میں ہے؟ مسجد کے حکم میں، ”وَلَا يَحِلُّ لِلْجُنُبِ الْوُقُوفُ عَلَيْهِ“ اور جنابت والے کے لیے حلال نہیں ہے مسجد کی چھت پر کھڑا ہونا، معلوم ہوا مسجد کی چھت بھی کس کے حکم میں ہے؟ مسجد کے حکم میں۔ ”وَلَا بَأْسَ بِالْبَوْلِ فَوْقَ بَيْتٍ فِيهِ مَسْجِدٌ“ اور کوئی حرج نہیں ہے پیشاب کرنے میں ایسے کمرے کے گھر کے ایسے گھر کے اوپر ”فِيهِ مَسْجِدٌ“ جس میں کیا ہو؟ مسجد۔ بیت نکرہ آیا اور نکرہ کے بعد جملہ آئے تو اس کے لیے کیا بنتا ہے؟ صفت۔ تو یہ ”فِيهِ“ خبرِ مقدم ہے اور ”مَسْجِدٌ“ مبتدائے مؤخر ہے اور یہ پورا جملہ اسمیہ صفت ہے بیت کی، تو ترجمہ کیسے کریں گے؟ بیت سے پہلے ایسا یا ایسی کا لفظ لائیں گے: اور ”وَلَا بَأْسَ بِالْبَوْلِ فَوْقَ بَيْتٍ فِيهِ مَسْجِدٌ“ اور کوئی حرج نہیں پیشاب کرنے میں ایسے گھر کے اوپر جس میں مسجد ہو، ”وَالْمُرَادُ مَا أَعَدَّ لِلصَّلَاةِ فِي الْبَيْتِ“ اور مراد وہ جگہ ہے جس کو تیار کیا ہو اس شخص نے نماز کے لیے گھر میں۔ بھئی یاد رکھیے، مستحب ہے یہ مستحب ہے کہ انسان اپنے گھر میں کوئی حصہ نماز کے لیے مخصوص کرے بھئی اور اس کی پھر پاکی کا خیال رکھے اور جوتے وغیرہ ادھر نہ لے جائے، صاف ستھرا رکھے جہاں نماز ادا کی جائے بھئی، نماز ادا کی جائے۔ اور یاد رکھیے نماز کا مسنون طریقہ، آج کل تو ہم سنتیں جو ہیں مسجد ہی میں ادا کرتے ہیں حالانکہ یہ مسنون طریقہ نہیں، مسنون طریقہ یہ ہے کہ فرائض مسجد میں ادا کیے جائیں اور سنتیں گھر پر ادا کی جائیں بھئی، سنتیں گھر پر ادا کی جائیں تو مسنون طریقہ یہی ہے۔ پھر متاخرین فقہاء نے اجازت دی کہ مسجد میں ہی سنتیں ادا کی جا سکتی ہیں اس لیے کیونکہ دینی امور میں سستی آ گئی ہے تو کہیں ایسا نہ ہو گھر جائے بیوی ہے اولاد بچے ہیں کسی کام وغیرہ میں مشغول ہو اور سنتیں ہی نہ رہ جائیں تو اس لیے مسجد کے اندر بھی اب سنتیں ادا کرنا درست ہے، لیکن مسنون طریقہ کیا ہے کہ گھر میں سنتیں ادا کی جائیں اور گھر میں نماز کی جگہ بنائی جائے تاکہ اس سے سارے گھر والوں پر بھی اثر پڑے گا، بچوں پر بھی، عورتوں پر بھی، تو یہ طریقہ ہے بھئی۔ تو اب بتلا رہے ہیں اب کسی شخص نے کوئی کمرہ وغیرہ مختص کیا ہوا ہے نماز کے لیے، نماز کے لیے، تو اب اس کی چھت وغیرہ پر پیشاب وغیرہ اور اس طرح کے امور سرانجام دینا کیا وہ جائز ہیں یا جائز نہیں؟ کہتے ہیں بھئی اس میں کوئی حرج نہیں کیونکہ یہ یہ حقیقتاً مسجد نہیں ہے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی، یہ تو اس کا گھر ہی کا ایک حصہ ہے البتہ اس نے کیا کر لیا ہے نماز کے لیے مخصوص کر لیا ہے۔ یہ معنی ہے: ”وَلَا بَأْسَ بِالْبَوْلِ فَوْقَ بَيْتٍ فِيهِ مَسْجِدٌ“ اور کوئی حرج نہیں پیشاب کرنے میں ایسے گھر کے اوپر جس میں مسجد ہے، ”وَالْمُرَادُ مَا أَعَدَّ لِلصَّلَاةِ فِي الْبَيْتِ“ اور مراد وہ جگہ ہے جس کو اس گھر والے نے تیار کیا ہو نماز کے لیے گھر میں، ”لِأَنَّهُ لَمْ يَأْخُذْ حُكْمَ الْمَسْجِدِ“ اس لیے کیونکہ اس نے مسجد کا حکم نہیں لیا، یہ مسجد کے حکم میں نہیں ہے، ”وَإِنْ نُدِبْنَا إِلَيْهِ“۔ ”نَدَبَ إِلَيْهِ“ کا معنی ہوتا ہے کسی چیز کی طرف دعوت دینا، ”وَإِنْ نُدِبْنَا إِلَيْهِ“ اگرچہ ہمیں اس کی طرف دعوت دی گئی ہے یعنی ہمیں کہا گیا ہے کہ گھر میں کیا کرنا چاہیے کوئی جگہ نماز کے لیے مخصوص کرنی چاہیے، مستحب ہے۔ ”وَيُكْرَهُ أَنْ يُغْلَقَ بَابُ الْمَسْجِدِ“ اور مکروہ ہے کہ مسجد کا دروازہ بند کیا جائے، مسجد کا دروازہ بند کرنا مکروہ ہے یعنی اس کو تالے لگا دینا، ”لِأَنَّهُ يُشْبِهُ الْمَنْعَ مِنَ الصَّلَاةِ“ اس لیے کیونکہ یہ نماز سے روکنے کے مشابہ ہے۔ تو مسجد کو کیا ہونا چاہیے؟ ہر وقت کھلا ہونا چاہیے، جب بھی کوئی شخص نماز اس میں پڑھنا چاہے پڑھ سکے۔ ”وَقِيلَ لَا بَأْسَ بِهِ“ اور کہا گیا ہے اس میں کوئی حرج نہیں ہے مسجد کو تالا لگانے میں، بند کرنے میں ”إِذَا خِيفَ عَلَى مَتَاعِ الْمَسْجِدِ“ جبکہ خوف ہو مسجد کے سامان پر کہ یعنی اس کو کوئی چرا لے گا وغیرہ اس کا خوف ہو ”فِي غَيْرِ أَوَانِ الصَّلَاةِ“ نماز کے اوقات کے علاوہ میں۔ یعنی نماز کے اوقات میں تو کھلی ہی رہے گی باقی اوقات میں اگر اس کو تالا لگایا جاتا ہے چوری وغیرہ کے خوف کی وجہ سے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے بھئی۔ ”وَلَا بَأْسَ بِأَنْ يُنَقَّشَ الْمَسْجِدُ بِالْجَصِّ وَالسَّاجِ وَمَاءِ الذَّهَبِ“ اور کوئی حرج نہیں ہے مسجد کو مزین کرنے میں یعنی اس پر نقش و نگار بنانے میں ”بِالْجَصِّ“، جَصٌّ اور جِصٌّ دونوں طرح پڑھ سکتے ہیں، یہ پہلے بھی ذکر ہو چکا بھئی، یہ خاص قسم کا مصالحہ تیار کیا جاتا تھا چونے سے قدیم زمانے میں جس سے سیمنٹ کا کام لیا جاتا تھا جیسے آج کل سیمنٹ کے ساتھ اینٹوں وغیرہ کو آپس میں جوڑا جاتا ہے تو قدیم زمانے میں یہ چونے سے ایک مصالحہ تیار کیا جاتا تھا اور یہ سیمنٹ سے بھی کئی گنا زیادہ مضبوط ہوتا ہے چنانچہ اسی لیے آپ دیکھتے ہیں کہ قدیم بادشاہوں کی عمارتیں آپ دیکھتے ہیں ابھی تک سینکڑوں سال گزرنے کے باوجود اسی طرح مضبوطی کے ساتھ قائم دائم ہیں حالانکہ سیمنٹ کی عمارت اتنا عرصہ نہیں گزار سکتی بھئی، تو اس کو جص کہتے تھے۔ تو کوئی اگر نقش و نگار بناتا ہے مسجد پر ”بِالْجَصِّ“ کس کے ساتھ؟ اس مصالحے کے ساتھ ہی تو ”وَالسَّاجِ“ اور ساج کہتے ہیں یہ ایک لکڑی ہے ساگوان بھئی قیمتی لکڑی ہے، اس کے ساتھ نقش و نگار بناتا ہے، ”وَمَاءِ الذَّهَبِ“ اور سونے کے پانی کے ساتھ نقش و نگار وغیرہ بناتا ہے اور اس کو مزین کرتا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ ”وَقَوْلُهُ لَا بَأْسَ يُشِيرُ إِلَى أَنَّهُ لَا يُؤْجَرُ عَلَيْهِ“ اور کہتے ہیں مصنف کا ماتن کا جو قول آیا نا ”وَلَا بَأْسَ“ کوئی حرج نہیں، یہ اس بات کی طرف اشارہ کر رہا ہے ”أَنَّهُ لَا يُؤْجَرُ عَلَيْهِ“ کہ ایسا کرنے والے کو اس پر اجر نہیں ملے گا یعنی یہ کوئی ثواب کا کام نہیں تو اس پر ”أَنَّهُ لَا يُؤْجَرُ عَلَيْهِ“ کہ اس پر اس کو اجر نہیں دیا جائے گا، ”لَكِنَّهُ لَا يَأْثَمُ بِهِ“ لیکن یہ کہ اس سے گناہگار نہیں ہوگا یعنی جائز ہے۔ تو یہ اشارہ کس کے ذریعے ہوا؟ ”لَا بَأْسَ“ کے ذریعے کہ کوئی حرج نہیں۔ ”وَقِيلَ هُوَ قُرْبَةٌ“ اور کہا گیا ہے کہ یہ قربت ہے یعنی اس میں بھی کیا ہے؟ ثواب ہے کیونکہ اس میں تعظیم ہے مسجد کی ۔ صاحبِ ہدایہ بتلا رہے ہیں: ”وَهَذَا إِذَا فَعَلَ مِنْ مَالِ نَفْسِهِ“ یہ اس وقت ہے جب اس نے یہ کام کیا ہو اپنے ذاتی مال میں سے۔ یہ مسجد کو مزین کرتا ہے، نقش و نگار بنواتا ہے وہ کوئی شخص اپنے ذاتی مال میں سے، ”أَمَّا الْمُتَوَلِّي يَفْعَلُ مِنْ مَالِ الْوَقْفِ مَا يَرْجِعُ إِلَى إِحْكَامِ الْبِنَاءِ دُونَ مَا يَرْجِعُ إِلَى النَّقْشِ“ باقی جو مسجد کا متولی ہے جو اس کا نگران ہے تو وہ ”يَفْعَلُ مِنْ مَالِ الْوَقْفِ“ وہ کر سکتا ہے مالِ وقف میں سے ”مَا“ اس عمل کو ”يَرْجِعُ إِلَى إِحْكَامِ الْبِنَاءِ“، إِحْكَامٌ کا معنی مضبوط کرنا، بِنَاءٌ کا معنی تعمیر، تو وہ وقف مال میں سے وہ چیز کر سکتا ہے جو لوٹتی ہو تعمیر کی مضبوطی کی طرف، کس کی طرف؟ تعمیر، ہاں تو متولی جو نگران ہے جس کو اور لوگ پیسے دیتے ہیں مسجد کے لیے تو یہ اب مسجد پر نقش و نگار نہیں کروا سکتا بلکہ صرف کیا کر سکتا ہے؟ مسجد کی تعمیر سے جو چیزیں اور اس کی تعمیر میں مضبوطی سے متعلق جو چیزیں ہیں وہ کر سکتا ہے، ”دُونَ مَا يَرْجِعُ إِلَى النَّقْشِ“ نہ کہ ان چیزوں کو جو لوٹتی ہیں کس کی طرف؟ نقش و نگار کی طرف زیب و زینت کی طرف، ”حَتَّى لَوْ فَعَلَ يَضْمَنُ“ یہاں تک کہ اگر اس نے کر لیا ”يَضْمَنُ“ تو یہ ضامن ہوگا، اس ضمان دینا پڑے گا۔ ”وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ“ اور اللہ ہی درست کو جاننے والے ہیں۔ ”بَابُ صَلَاةِ الْوِتْرِ“ یہ باب ہے صلاۃ وتر کے بیان میں یعنی وتر کی نماز کے بیان میں۔ ”الْوِتْرُ وَاجِبٌ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ وتر جو ہیں واجب ہیں امام صاحب کے نزدیک، ”وَقَالَا سُنَّةٌ“ اور صاحبین فرماتے ہیں سنت ہیں۔ وتر کیا ہیں؟ سنت۔ دلیل ان کی: کہتے ہیں ”لِظُهُورِ آثَارِ السُّنَنِ فِيهِ“ وہ فرماتے ہیں کہ اس وتر کے اندر سنتوں کے آثار ظاہر ہیں یعنی سنتوں کی علامتیں اس کے اندر سنتوں کی نشانیاں اس میں ظاہر ہیں۔ بھئی وہ کیا نشانیاں ہیں؟ کہتے ہیں: ”حَيْثُ لَا يُكَفَّرُ جَاحِدُهُ“ کیونکہ کافر قرار نہیں دیا جاتا ”جَاحِدُهُ“ اس کے انکار کرنے والے کو۔ بھئی فرائض ہیں فرائض کا جو انکار کرے اس کو کیا قرار دیا جاتا ہے؟ اس کو کافر قرار دیا جاتا ہے، ہاں سنتوں کا کوئی انکار کرے اس کو کافر قرار نہیں دیا جاتا تو وتروں کا بھی انکار کرنے والے کو کافر قرار نہیں دیا جاتا، معلوم ہوا یہ فرض نہیں، فرض نہیں بھئی اور سنت ہیں بھئی۔ ”وَلَا يُؤَذَّنُ لَهُ“ اور نیز وتروں کے لیے اذان بھی نہیں دی جاتی جیسے سنتوں کے لیے اذان نہیں۔ تو جس طرح سنتوں کے انکار کرنے والے کو کافر قرار نہیں دیا جاتا اسی طرح وتر بھی ہیں، ان کے انکار کرنے والے کو بھی کافر قرار نہیں دیا جاتا، معلوم ہوا وتر سنت ہیں۔ اور نیز جیسے سنتوں کے لیے اذان نہیں دی جاتی اسی طرح وتر کے لیے بھی اذان نہیں دی جاتی، معلوم ہوا وتر کیا ہیں؟ سنت ہیں۔ یہ معنی ہے، وہ فرماتے ہیں: ”لِظُهُورِ آثَارِ السُّنَنِ فِيهِ“ اس وجہ سے کہ وتروں کے اندر سنت ہونے کے علامتیں ظاہر ہیں ”حَيْثُ لَا يُكَفَّرُ جَاحِدُهُ وَلَا يُؤَذَّنُ لَهُ“ اس حیثیت سے کہ کافر قرار نہیں دیا جاتا وتر کے انکار کرنے والے کو اور نہ وتر کے لیے اذان دی جاتی ہے، یہ ان کی دلیل تھی صاحبین کی۔ امام صاحب کیا فرماتے ہیں وتر کیا ہیں؟ واجب۔ ”وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور امام صاحب کی دلیل جو ہے: ”قَوْلُهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ“ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول ہے: ”إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى زَادَكُمْ صَلَاةً أَلَا وَهِيَ الْوِتْرُ فَصَلُّوهَا مَا بَيْنَ الْعِشَاءِ إِلَى طُلُوعِ الْفَجْرِ“ کہ یقیناً اللہ نے بڑھا دیا ہے تمہارے لیے ایک نماز کو، آگاہ رہو اور وہ وتر ہی ہے، پس تم لوگ پڑھو اس نماز کو عشاء سے لے کر طلوعِ فجر کے درمیان تک، اس کے درمیان میں ادا کرو۔ تو یہ ہے حدیث بھئی، یہ کیا ہے؟ حدیث۔ تو حضور علیہ نے فرمایا کہ تمہارے لیے اللہ نے ایک نماز کو بڑھا دیا ہے اور وہ وتر ہے تو اس کو تم عشاء اور فجر کے درمیان پڑھو، تو امام صاحب فرماتے ہیں کہ حضور علیہ السلام کا یہ جو قول آیا ”أَمْرٌ“ یہ کیا ہے؟ امر ہے۔ بھئی اس میں امر کا صیغہ آ رہا ہے: ”فَصَلُّوهَا“ تم کیا کرو ان کو؟ پڑھو، اور امر کس لیے آتا ہے؟ وجوب کے لیے، تو کہتے ہیں یہ حضور علیہ السلام کا یہ قول ”أَمْرٌ“ یہ امر ہے ”وَهُوَ لِلْوُجُوبِ“ اور امر کس سے آتا ہے؟ وجوب کے لیے، لہٰذا وتر واجب ہیں۔ ”وَلِهَذَا وَجَبَ الْقَضَاءُ بِالْإِجْمَاعِ“ اور اسی وجہ سے اس کی قضا جو ہے، یہاں ”وَجَبَ“ بمعنی ”ثَبَتَ“ کے ہے۔ ”وَجَبَ“ کس معنی میں ہے؟ ”ثَبَتَ“ کے معنی میں ہے کیونکہ وتر امام صاحب کے نزدیک واجب، صاحبین کے نزدیک سنت سنت ہے۔ البتہ باقی سنتوں کی تو قضا نہیں، وتر میں صاحبین کیا فرماتے ہیں؟ وتروں کی قضا کر لے تو بہتر ہے، وتروں کی قضا کر لے، سمجھ میں آیا؟ جی تو ایک جیسے وہ فجر کی سنتیں ہیں اس میں بھی نہایت تاکید وارد ہوئی ہے تو ایک ان کی قضا کی جاتی ہے اور اس میں بھی قضا یاد رکھیے کہ اگر اسی دن زوال سے پہلے پہلے وہ وہ فجر کی نماز ادا کرتا ہے تو کس کے ساتھ ادا کرے؟ سنتوں کے ساتھ ادا کرے اور اگر زوال کے بعد ادا کرتا ہے تو پھر صرف فرض پڑھے گا، سنتیں پھر نہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں تو دیکھیے تو وتروں کی قضا ثابت ہے بالاجماع، اور اجماع سے تمام فقہاء کا اجماع نہیں مراد، صرف فقہائے احناف کا اجماع مراد ہے یعنی ہمارے ائمہ ثلاثہ: امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور امام ابو یوسف اور امام محمد رحمہم اللہ۔ ”وَلِهَذَا وَجَبَ الْقَضَاءُ بِالْإِجْمَاعِ“ اور اسی وجہ سے وتروں کی قضا ثابت ہے بالاجماع، معلوم ہوا وتر کیا ہیں؟ واجب ہیں، یہ امام صاحب کی دلیل چل رہی ہے۔ ”وَإِنَّمَا لَا يُكَفَّرُ جَاحِدُهُ“ یہاں سے وہ صاحبین کی دلیل کا جواب دے رہے ہیں، انہوں نے کیا ذکر کیا تھا؟ کہ وتروں کا انکار کرنے والے کو کافر قرار نہیں دیتے، معلوم ہوا یہ سنت ہیں، وتروں کے لیے اذان نہیں دی جاتی، معلوم ہوا یہ سنت ہیں۔ اس کا بھی جواب دے رہے ہیں۔ وَإِنَّمَا لَا يُكَفَّرُ جَاحِدُهُ اور وتروں کے انکار کرنے والے کو کافر قرار نہیں دیا جاتا، لِأَنَّ وُجُوبَهُ ثَبَتَ بِالسُّنَّةِ اس لیے کیونکہ وتروں کا وجوب سنت سے ثابت ہے۔ کس سے ثابت ہے؟ سنت سے ثابت ہے، یعنی حدیث سے۔ وَهُوَ الْمَعْنِيُّ بِمَا رُوِيَ عَنْهُ أَنَّهُ سُنَّةٌ۔ بھئی یہ معنِیّ یہ لفظ بھی عبارتوں میں بعض جگہ استعمال ہوتا ہے اور بمعنیٰ مراد کے ہے۔ کس معنی میں ہوتا ہے؟ مراد۔ بھئی امام صاحب سے ایک روایت یہ بھی آئی ہے کہ وتر سنت ہیں۔ ایک روایت تو کیا آئی؟ وتر واجب ہیں اور جو صحیح روایت ہے اور جس کو متن میں ذکر کیا انہوں نے۔ ایک روایت یہ آئی کہ وتر سنت ہیں۔ تو صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں کہ وتر کا وجوب جو ہے سنت سے ثابت ہے، وَهُوَ الْمَعْنِيُّ بِمَا رُوِيَ عَنْهُ أَنَّهُ سُنَّةٌ اور یہی مراد ہے اس روایت سے جو روایت کی گئی ہے امام صاحب سے کہ وتر کیا ہیں؟ سنت۔ وہ جو انہوں نے سنت کہا اس سے ان کی کیا مراد ہے؟ یعنی ان کا وجوب کس سے ثابت ہے؟ سنت سے ثابت ہے۔ اور باقی اذان کیوں نہیں دی جاتی؟ اس کا بھی جواب دے رہے ہیں۔ کہتے ہیں: وَهُوَ يُؤَدَّى فِي وَقْتِ الْعِشَاءِ اور وتروں کو عشاء کے وقت میں ادا کیا جاتا ہے، فَاكْتُفِيَ بِأَذَانِهِ وَإِقَامَتِهِ تو اکتفا کیا جائے گا اسی عشاء کی اذان اور عشاء کی اقامت پر۔ قَالَ: وَالْوِتْرُ ثَلَاثُ رَكَعَاتٍ لَا يَفْصِلُ بَيْنَهُنَّ بِسَلَامٍ۔ بھئی وتروں میں یاد رکھیے ہمارے نزدیک تو تین وتر ہیں اور آخر میں ایک ہی سلام ہوگا، ایک ہی سلام۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ وہ ان کے نزدیک ایک روایت کے مطابق دو سلام ہوں گے۔ دو رکعتیں پڑھنے کے بعد بھی سلام پھیرے گا نماز پڑھنے والا اور پھر اس کے بعد ایک رکعت الگ پڑھ کر بھی سلام پھیرے گا۔ تو کہتے ہیں: وَالْوِتْرُ ثَلَاثُ رَكَعَاتٍ لَا يَفْصِلُ بَيْنَهُنَّ بِسَلَامٍ وتر جو ہیں وہ تین رکعتیں ہیں، لَا يَفْصِلُ بَيْنَهُنَّ بِسَلَامٍ جدائی نہ کرے ان کے درمیان سلام کے ساتھ، یعنی درمیان میں سلام نماز پڑھنے والا نہ پھیرے۔ لِمَا رَوَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا أَنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ كَانَ يُوتِرُ بِثَلَاثٍ، بوجہ اس حدیث کے جس کو روایت کیا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم كَانَ يُوتِرُ بِثَلَاثٍ وہ وتر پڑھتے تھے بثلاثٍ تین کے، تین رکعت کے ساتھ، یعنی کتنی رکعت؟ تین رکعت وتر۔ كَانَ يُوتِرُ بِثَلَاثٍ کہ حضور علیہ السلام تین رکعت وتر پڑھتے تھے۔ وَحَكَى الْحَسَنُ إِجْمَاعَ الْمُسْلِمِينَ عَلَى الثَّلَاثِ، اور حکایت کیا ہے یعنی روایت کیا ہے حسن بصری رحمہ اللہ نے مسلمانوں کے اجماع کو عَلَى الثَّلَاثِ تین رکعت پر۔ حسن بصری جلیل القدر تابعی گزرے ہیں بھئی، وہ فرماتے ہیں کہ وتر کے تین رکعت ہونے پر تمام مسلمانوں کا اجماع ہے بھئی۔ وَهَذَا أَحَدُ أَقْوَالِ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ، اور یہ امام شافعی رحمہ اللہ کے اقوال میں سے ایک قول ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ سے بھی ایک روایت کیا آئی ہے کہ وتر کتنی رکعت ہیں؟ تین رکعت ہیں۔ وَفِي قَوْلٍ اور ایک قول کے اندر يُوتِرُ بِتَسْلِيمَتَيْنِ وتر پڑھے گا بتسلیمتین دو سلاموں کے ساتھ، وتر پڑھنے والا وتر پڑھے گا، دو سلام پھیرے گا یعنی دو رکعت کے بعد بھی سلام پھیرے گا اور پھر آخر میں بھی۔ وَهُوَ قَوْلُ مَالِكٍ رَحِمَهُ اللَّهُ، اور یہی قول ہے امام مالک رحمہ اللہ تعالیٰ رحمۃً واسعۃً کا بھی۔ وَالْحُجَّةُ عَلَيْهِمَا مَا رَوَيْنَاهُ، اور دلیل ان دونوں کے خلاف ہماری دلیل جو ہے مَا وہ حدیث ہے رَوَيْنَاهُ جس کو ہم نے روایت کیا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کیا فرماتی ہیں کہ حضور علیہ السلام تین رکعت وتر ادا فرماتے تھے۔ وَيَقْنُتُ فِي الثَّالِثَةِ قَبْلَ الرُّكُوعِ، اور دعائے قنوت پڑھے گا تیسری رکعت میں رکوع سے پہلے۔ بھئی ہمارے نزدیک دعائے قنوت رکوع سے پہلے پڑھی جائے گی۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں دعائے قنوت جو ہے رکوع کے بعد پڑھی جائے گی۔ کہتے ہیں: وَيَقْنُتُ فِي الثَّالِثَةِ قَبْلَ الرُّكُوعِ اور دعائے قنوت پڑھے تیسری رکعت میں رکوع سے پہلے۔ وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: بَعْدَهُ، اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رکوع کے بعد پڑھے، لِمَا رُوِيَ أَنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَنَتَ فِي آخِرِ الْوِتْرِ، بوجہ اس حدیث کے جو روایت کی گئی کہ حضور علیہ السلام نے دعائے قنوت پڑھی فِي آخِرِ الْوِتْرِ، وہ دعائے قنوت پڑھتے تھے فِي آخِرِ الْوِتْرِ وتروں کے آخر میں، وَهُوَ بَعْدَ الرُّكُوعِ اور وہ کس کے بعد ہوگا؟ بھئی آخر میں پڑھتے تھے اور آخر کس کے بعد ہوگا؟ رکوع کے بعد ہوگا، رکوع سے پہلے تو آخر نہیں۔ تو رکوع کے بعد پڑھیں گے۔ وَلَنَا اور ہماری دلیل مَا رُوِيَ وہ حدیث ہے جس کو روایت کیا گیا ہے أَنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَنَتَ قَبْلَ الرُّكُوعِ کہ حضور علیہ السلام قنوت پڑھتے تھے قَبْلَ الرُّكُوعِ رکوع سے پہلے، رکوع سے پہلے۔ تو ہماری حدیث کے اندر صراحۃً آگیا کہ حضور علیہ السلام رکوع سے پہلے پڑھتے تھے دعائے قنوت۔ اور امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل میں آیا کہ حضور علیہ السلام قنوت پڑھتے تھے وتروں کے آخر میں، اور آخر سے کیا مراد ہے؟ وتروں کے بعد۔ تو انہوں نے اس کا مرادی معنیٰ لیا کہ مراد یہ ہے، جبکہ ہماری دلیل کو ترجیح ہے کیونکہ اس میں صراحۃً کیا آرہا ہے؟ قبل الرکوع صراحۃً آرہا ہے۔ اس حدیث میں تو بعد الرکوع صراحۃً نہیں، وہاں تو صرف کیا آیا؟ آخر، وتر کے آخر میں دعائے قنوت پڑھتے تھے اور آخر کا معنی کیا کیا امام شافعی رحمہ اللہ نے؟ رکوع کے بعد۔ تو وہ انہوں نے اس کا معنی کیا اور ہماری حدیث کے اندر صراحۃً کیا آگیا کہ رکوع سے پہلے پڑھتے تھے۔ وَمَا زَادَ عَلَى نِصْفِ الشَّيْءِ آخِرُهُ، باقی اس کا بھی جواب دے رہے ہیں: وَمَا زَادَ عَلَى نِصْفِ الشَّيْءِ آخِرُهُ اور وہ جو زائد ہو جائے نصفِ شے پر وہ اس کا آخر ہوتا ہے۔ تو حدیث کا معنی امام شافعی رحمہ اللہ نے کیا کیا؟ حدیث میں کیا آیا تھا کہ حضور علیہ السلام وتر قنوت پڑھتے تھے وتروں کے آخر میں، اور آخر سے کیا مراد ہے؟ رکوع کے بعد۔ ہم کہتے ہیں نہیں، رکوع کے بعد نہیں بلکہ رکوع سے پہلے ہو تو بھی یہ آخر ہے، اس لیے کیونکہ آخرِ شے اس کو کہتے ہیں آخری حصہ چیز کا وہ ہے جو آدھے کے بعد آئے، نصف کے بعد آئے اور وتر کل کتنے رکعت؟ تین اور دعائے قنوت کس رکعت میں ہے؟ تیسرے میں۔ تو تین کے نصف تو ہوا ڈیڑھ، تو اس نصف کے بعد دیکھو آرہی ہے دعائے قنوت، تو آخرِ صلاۃ میں ہی ہوئی۔ سمجھ میں آیا؟ دلیل سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو کہتے ہیں: وَمَا زَادَ عَلَى نِصْفِ الشَّيْءِ آخِرُهُ اور وہ جو بڑھ جائے نصفِ شے پر وہ اس کا آخر ہے، تو دعائے قنوت بھی دو رکعتوں کے بعد ہوتی ہے تو وہ آخرِ وتر ہی ہے۔ وَيَقْنُتُ فِي جَمِيعِ السَّنَةِ، اور دعائے قنوت پڑھے سارا سال، خِلَافًا لِلشَّافِعِيِّ ہمارے نزدیک سارا سال وتروں میں دعائے قنوت پڑھی جائے گی، خِلَافًا لِلشَّافِعِيِّ رحمہ اللہ، بخلاف امام شافعی رحمہ اللہ کے، فِي غَيْرِ النِّصْفِ الْأَخِيرِ مِنْ رَمَضَانَ علاوہ آخری نصف کے رمضان میں سے۔ امام شافعی رحمہ اللہ اختلاف فرماتے ہیں، وہ صرف نصفِ اخیر جو ہے رمضان کا، دوسرا آخری حصہ، رمضان کے دو حصے کریں یعنی آخر والا جو نصف ہے آخری چودہ پندرہ دن جو ہیں، ان میں وہ فرماتے ہیں کہ دعائے قنوت پڑھی جائے گی۔ تو ہمارے نزدیک تو سارا سال پڑھیں گے تو ان پندرہ دنوں میں بھی پڑھیں گے یا نہیں پڑھیں گے؟ اور اس میں امام شافعی رحمہ اللہ بھی فرماتے ہیں اس میں پڑھیں گے، تو اس میں اختلاف نہیں، اس کے علاوہ باقی سارے سال میں وہ کیا کرتے ہیں؟ اختلاف کرتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں باقی سارا سال بھی قنوت پڑھے گا وتروں میں، وہ فرماتے ہیں کہ نہیں بھئی۔ یہ معنی ہے خِلَافًا لِلشَّافِعِيِّ فِي غَيْرِ النِّصْفِ الْأَخِيرِ مِنْ رَمَضَانَ، بخلاف امام شافعی رحمہ اللہ کے رمضان کے نصفِ اخیر کے علاوہ میں، کیونکہ اس میں اختلاف نہیں ہے۔ لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ ہماری دلیل کیا ہے؟ بوجہ حضور علیہ السلام کے یہ فرمانے کے لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا، حسن ابن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے حضور علیہ السلام نے فرمایا، حِينَ عَلَّمَهُ دُعَاءَ الْقُنُوتِ جب انہوں نے ان کو دعائے قنوت سکھائی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے: ”اِجْعَلْ هَذَا فِي وِتْرِكَ“ اس کو تم اپنے وتروں میں کر لو، یعنی اس میں شامل کر لو، اس کو کیا کر لو اس میں؟ وتروں میں شامل کر لو یعنی اس میں پڑھا کرو، مِنْ غَيْرِ فَصْلٍ بغیر کسی فرق کے۔ یعنی حدیث میں یہ نہیں آیا کہ نصفِ اخیر میں پڑھا کرو۔ نصفِ اخیر رمضان میں پڑھا کرو، بس اتنا کہا گیا اس کو کیا کر لو؟ اپنے وتروں میں شامل کر لو۔ اگر نصفِ اخیر رمضان میں ہوتا تو حضور علیہ السلام بھی فرماتے کہ کیا کر لینا؟ نصفِ اخیر رمضان میں اس کو وتروں میں شامل کر لینا، تو یہاں کوئی فرق نہیں کیا گیا۔ لہٰذا اس لیے معلوم ہوا سارا سال پڑھیں گے۔ دلیل سمجھ میں آگئی؟ وَيَقْرَأُ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ مِنَ الْوِتْرِ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ وَسُورَةً، اور پڑھے گا ہر رکعت کے اندر وتر میں سورۂ فاتحہ بھی اور اس کے ساتھ کوئی سورت بھی۔ وتر کی ہر رکعت، پہلی دو رکعتوں کے اندر تو سورۂ فاتحہ اور قراءت ہوتی ہی ہے جیسے فرائض میں، وتر کی آخری رکعت میں بھی کیا کرے گا؟ سورۂ فاتحہ بھی پڑھے اور ساتھ اس کے سورت بھی ملائے گا۔ لِقَوْلِهِ تَعَالَى بوجہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کے: ﴿فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ﴾ پس تم پڑھو جو تمہیں میسر ہو قرآن میں سے، جو آسان لگے قرآن میں سے۔ دلیل سمجھ میں آئی؟ شارحین حضرات فرماتے ہیں کہ صاحبِ ہدایہ کو یہ آیت بطورِ دلیل کے یہاں ذکر کیا جائے بطورِ دلیل کے یہاں ذکر کرنا درست نہیں۔ اس لیے کیونکہ اس سے تو مطلق قراءت کی فرضیت ثابت ہوتی ہے۔ معلوم ہوا مطلق قراءت کیا ہے؟ فرض ہے۔ البتہ فاتحہ ہو اور فاتحہ کے ساتھ سورت بھی ملائی جائے گی یہ تو اس سے ثابت نہیں ہوتا۔ تو دلیل یاد رکھیے بھئی کہ وتر کی، وتر جو ہیں، بھئی دیکھیے، فرض نماز، فرض نماز اگر چار رکعت ہو تو اس میں پہلی دو رکعتوں میں فاتحہ کے ساتھ سورت کو ملایا جاتا ہے اور آخری دو رکعتوں میں نہیں۔ اور سنتوں اور نوافل کے اندر اس میں ساری رکعتوں کے اندر فاتحہ کے ساتھ کیا ملاتے ہیں؟ سورت بھی ملاتے ہیں۔ تو یہاں جو وتروں کے اندر بھی فاتحہ کے ساتھ، آخری رکعت میں فاتحہ کے ساتھ سورت ملانے کا حکم دیا گیا یہ بطورِ احتیاط کے ہے، کیونکہ ابھی آپ پڑھ چکے کہ وتر کی مشابہت کس کے ساتھ ہے؟ سنتوں کے ساتھ بھی مشابہت ہے بھئی، تو بطورِ احتیاط کے اس میں بھی کیا حکم دیا ہمارے فقہاء نے کہ آخری رکعت میں فاتحہ کے ساتھ ساتھ سورت بھی ملائے بھئی۔ وَإِنْ أَرَادَ أَنْ يَقْنُتَ كَبَّرَ، اور جس وقت ارادہ کرے دعائے قنوت پڑھنے کا كَبَّرَ تو تکبیر کہے، لِأَنَّ الْحَالَةَ قَدِ اخْتَلَفَتْ اس لیے کیونکہ حالت جو ہے وہ تحقیق مختلف ہوگئی، بدل گئی اور جب بھی نماز میں حالت بدلتی ہے تو کیا کہی جاتی ہے؟ تکبیر کہی جاتی ہے، تو جب قراءت کے بعد اب قنوت پڑھنے لگا ہے تو کیا کر لے؟ تکبیر کہہ لے، وَرَفَعَ يَدَيْهِ اور کیا کرے؟ دونوں ہاتھ اٹھائے، وَقَنَتَ اور دعائے قنوت پڑھے، لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ بوجہ حضور علیہ السلام کے اس قول کے: ”لَا تُرْفَعُ الْأَيْدِي إِلَّا فِي سَبْعِ مَوَاطِنَ“ کہ ہاتھ نہیں اٹھائے جائیں گے مگر سات جگہوں کے اندر، وَذَكَرَ مِنْهَا الْقُنُوتَ اور ان میں سے ایک جگہ حضور علیہ السلام نے کیا ذکر فرمائی؟ قنوت، یعنی کہ قنوت کے وقت بھی کیا کیا جائے گا؟ ہاتھوں کو اٹھایا جائے گا۔ اور نیز اسی سے تکبیر کا بھی ثبوت آگیا اسی حدیث سے، اس لیے کیونکہ حضور علیہ السلام جہاں کہیں بھی یہ ہاتھ اٹھانا آتا ہے اس کے ساتھ تکبیر ضرور ہوتی ہے۔ آپ خود دیکھ لیجیے، تکبیرِ تحریمہ کے وقت ہاتھ اٹھائے جاتے ہیں تو تکبیر بھی کہی جاتی ہے، عیدین کے اندر ہاتھ اٹھائے جاتے ہیں تو ان کے ساتھ کیا کہی جاتی ہے؟ تکبیر بھی کہی جاتی ہے۔ اور یاد رکھیے، وتروں میں یہ جو ہاتھ اٹھاتے ہیں دعائے قنوت کے لیے اور تکبیر کہتے ہیں، تو یہ ہاتھوں کا اٹھانا بھی واجب اور تکبیر کا کہنا بھی واجب۔ تو یہ دونوں واجب ہیں اور واجب کوئی چھوٹ جائے بھولے سے تو کیا کرنا پڑتا ہے؟ سجدۂ سہو کرنا پڑتا ہے۔ وَلَا يَقْنُتُ فِي صَلَاةٍ غَيْرِهَا، اور دعائے قنوت نہیں پڑھے گا فِي صَلَاةٍ غَيْرِهَا اس کے علاوہ کسی دوسری نماز میں۔ یعنی نماز پڑھنے والا اس وتر کے علاوہ کسی اور نماز میں دعائے قنوت نہیں پڑھے گا۔ تو ہمارے نزدیک یاد رکھیے، صرف وتروں میں دعائے قنوت کا پڑھنا مسنون ہے اور کسی نماز میں مسنون نہیں۔ خِلَافًا لِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ فِي الْفَجْرِ، بخلاف امام شافعی رحمہ اللہ کے فجر کے اندر۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ فجر کے اندر بھی دعائے قنوت کا پڑھنا سنت ہے بھئی، دعائے قنوت کا پڑھنا سنت ہے۔ جبکہ ہمارے نزدیک صرف وتروں میں پڑھنا سنت ہے اور فجر وغیرہ اور نمازوں میں پڑھنا دعائے قنوت کا یہ مسنون نہیں ہے بھئی۔ دلیل ہماری آگے ہماری دلیل ذکر ہو رہی ہے: لِمَا رَوَى ابْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ أَنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَنَتَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ شَهْرًا ثُمَّ تَرَكَهُ، یہ ہماری دلیل ہے کہ بوجہ اس حدیث کے جس کو روایت کیا حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعائے قنوت پڑھی فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ فجر کی نماز میں شَهْرًا ایک مہینے تک، ثُمَّ تَرَكَهُ پھر کیا کیا اس کو؟ چھوڑ دیا۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں نہیں، فجر میں دعائے قنوت سنت ہے۔ چنانچہ بعض روایات میں بعض احادیث میں ثبوت اس کا ملتا ہے۔ لیکن احناف کی دلیل یہ حدیث ہے بھئی اور اس میں کیا آیا کہ حضور علیہ السلام نے صرف ایک ماہ تک دعائے قنوت پڑھی اور اس کے بعد چھوڑ دیا۔ اسی طرح بعض روایات میں چالیس دن کا ذکر آتا ہے کہ چالیس دن تک حضور علیہ السلام نے دعائے قنوت پڑھی اور پھر اس کے بعد چھوڑ دی۔ تو دیکھیے یہاں آیا کہ پھر آپ نے چھوڑ دیا اس کو، معلوم ہوا یہ مسنون نہیں ہے بھئی۔ یہ تو صاحبِ، جیسے میں پہلے ذکر کر چکا ہوں، صاحبِ ہدایہ مختصر طریقے پر بس ایک آدھ دلیل ذکر کرتے ہوئے چلے جاتے ہیں، یہ نہیں کہ ہمارے پاس اس مسئلے میں یہ ایک حدیث ہے، یہ ایک ہی ایک دلیل ہے۔ بہت سی احادیث احناف کی مؤید ہیں بھئی، سمجھ میں آیا؟ جی۔ اور یہ جو حضور علیہ السلام نے یہ ایک ماہ تک دعائے قنوت پڑھی تھی، یہ واقعہ پیش آیا تھا وہ بئرِ معونہ والا واقعہ بھئی، جس میں آپ نے ستر حافظِ قرآن صحابہ کو تبلیغ کے لیے اہلِ نجد کی طرف بھیجا بھئی اور ان لوگوں نے ان صحابہ کو بے دردی سے شہید کر دیا اور صرف ایک آدھ صحابی زندہ بچے اور وہ واپس آئے اور آ کر انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اس واقعے کی اطلاع دی بھئی۔ تو یہ اتنا بڑا غم تھا کہ ستر صحابہ بھئی ستر صحابہ اور سارے حافظِ قرآن بھئی، حافظِ قرآن ان کو شہید کر دیا گیا تھا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر ایک ماہ تک اور بعض روایات میں چالیس دن تک فجر کی نماز میں قنوت پڑھ کر ان لوگوں کے لیے بددعا فرماتے رہے بھئی، بددعا فرماتے رہے۔ تو اسی طرح یاد رکھیے یہ بھی، جیسے فجر کا ذکر آیا ہے بعض روایات میں مغرب کا بھی ذکر آیا ہے، مغرب کا بھی ذکر آیا ہے بھئی۔ فَإِنْ قَنَتَ الْإِمَامُ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ يَسْكُتُ مَنْ خَلْفَهُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى، وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ: يَتْبَعُهُ۔ بھئی اب صورت یہ ذکر کر رہے ہیں، ہمارے نزدیک تو فجر کی نماز میں دعائے قنوت پڑھنا مسنون نہیں اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک دعائے قنوت پڑھنا مسنون ہے۔ اب اگر امام کوئی شافعی المسلک ہوا اور وہ فجر کی نماز میں کیا پڑھتا ہے؟ دعائے قنوت پڑھتا ہے، تو پیچھے جو حنفی مقتدی ہے وہ کیا کرے گا؟ تو بتلا رہے ہیں طرفین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ وہ خاموش رہے۔ وہ کیا کرے؟ وہ خاموش رہے، وہ دعائے قنوت نہ پڑھے، اس لیے کیونکہ ہمارے نزدیک یہ مسنون نہیں، حضور علیہ السلام نے اس کو ترک فرما دیا تھا، چھوڑ دیا تھا۔ تو کہتے ہیں: فَإِنْ قَنَتَ الْإِمَامُ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ اگر دعائے قنوت پڑھے امام فجر کی نماز میں، يَسْكُتُ مَنْ خَلْفَهُ تو خاموش رہے وہ شخص جو اس کے پیچھے ہے، وہ مقتدی جو اس کے پیچھے ہے، عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ طرفین رحمہما اللہ کے نزدیک۔ وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ: يَتْبَعُهُ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کا اتباع کرے بھئی، اس کی پیروی اس کی اقتداء کرے، پیروی کرے یعنی مقتدی حنفی بھی کیا کر لے؟ دعائے قنوت پڑھ لے۔ لِأَنَّهُ تَبَعٌ لِإِمَامِهِ، اس لیے کیونکہ وہ اپنے امام کے تابع ہے۔ وَالْقُنُوتُ فِي الْفَجْرِ مُجْتَهَدٌ فِيهِ، اور نیز اس لیے کیونکہ دعائے قنوت جو ہے فجر میں یہ مجتہد فیہ ہے، اس میں اجتہاد کی گنجائش ہے۔ جبھی تو امام شافعی رحمہ اللہ اس طرف گئے کہ یہ پڑھنا مسنون ہے اور ہمارے ائمہ کس طرف گئے کہ یہ پڑھنا مسنون نہیں۔ تو جب اس میں اجتہاد کی گنجائش بھی ہے تو معلوم ہوا معاملے کے اندر اتنی سختی نہیں ہے، جب اتنی سختی نہیں تو حنفی کو بھی کیا کرنا چاہیے؟ پڑھ لینا چاہیے۔ وَلَهُمَا اور طرفین کی دلیل یہ ہے: أَنَّهُ مَنْسُوخٌ یہ کیا ہے؟ منسوخ، دعائے قنوت کا فجر میں پڑھنا منسوخ ہے، وَلَا مُتَابَعَةَ فِيهِ اور منسوخ کے اندر متابعت نہیں کی جاتی، اس میں پیروی نہیں کی جاتی۔ ثُمَّ قِيلَ: يَقِفُ قَائِمًا اچھا اب سوال کہ خاموش رہے گا، یہ تو ٹھیک ہے۔ طرفین کیا فرماتے ہیں؟ خاموش رہے۔ تو خاموش کھڑا ہی رہے گا یا کیا کرے گا مقتدی جو حنفی ہے پیچھے؟ تو بعض فقہاء پھر فرماتے ہیں کہ جو حنفی مقتدی ہے وہ پیچھے اس کے خاموش کھڑا رہے۔ تو دعائے قنوت میں تو اس کی متابعت نہ کرے کیونکہ یہ ہمارے نزدیک مسنون نہیں، خاموش رہے۔ البتہ کھڑا رہے، قیام کے اندر کیا کرے؟ اپنے امام کی متابعت کرے۔ جبکہ بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ نہیں، کھڑا نہ رہے بلکہ بیٹھ جائے۔ مقتدی کیا کرے؟ بیٹھ جائے۔ اور دعائے قنوت تو پڑھنی نہیں کیونکہ ہمارے نزدیک تو مسنون نہیں اور کھڑا بھی نہ رہے کیونکہ کھڑا رہے گا تو وہ گویا اس کے ساتھ شریک ہے۔ لہٰذا اپنے اختلاف کا اظہار کرتے ہوئے کیا کرے؟ بیٹھ جائے بھئی۔ لیکن صحیح قول وہ پہلا ہی ہے بھئی کہ کیا کرنا چاہیے؟ کھڑا رہے، امام کی متابعت کرے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ثُمَّ قِيلَ: يَقِفُ قَائِمًا لِيُتَابِعَهُ فِيمَا تَجِبُ مُتَابَعَتُهُ، پھر کہا گیا ہے کہ اس کے پیچھے کھڑا رہے تاکہ اس کا اتباع کر لے فِيمَا اس چیز کے اندر تَجِبُ مُتَابَعَتُهُ جس کی متابعت، جس میں متابعت واجب ہے یعنی قیام۔ وَقِيلَ: يَقْعُدُ اور کہا گیا ہے کہ یہ مقتدی بیٹھ جائے، تَحْقِيقًا لِلْمُخَالَفَةِ مخالفت کو ثابت کرنے کے لیے، لِأَنَّ السَّاكِتَ شَرِيكُ الدَّاعِي اس لیے کیونکہ خاموش رہنے والا وہ بھی دعا کرنے والے کے ساتھ شریک ہوتا ہے۔ وَالْأَوَّلُ أَظْهَرُ، صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں کہ پہلا قول زیادہ ظاہر ہے۔ وَدَلَّتِ الْمَسْأَلَةُ عَلَى جَوَازِ الِاقْتِدَاءِ بِالشَّفَعَوِيَّةِ، اور اس مسئلے نے اس بات پر بھی دلالت کر دی کہ اقتداء کرنا جائز ہے شافعی المسلک کی حنفی کے لیے، شافعی المسلک امام کی اقتداء کرنا جائز ہے۔ تو کہتے ہیں، سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ بھی اس مسئلے سے پتہ لگ گیا۔ کہتے ہیں: وَدَلَّتِ الْمَسْأَلَةُ اور مسئلے نے دلالت کر دی عَلَى جَوَازِ الِاقْتِدَاءِ کس بات پر؟ کہ اقتداء جائز ہے بِالشَّفَعَوِيَّةِ، یہ بعض نسخوں میں بِالشَّافِعِيَّةِ آیا ہے اور وہ درست ہے بھئی، کہ شافعیہ کی اقتداء کرنا جائز ہے یعنی جو امام شافعی رحمہ اللہ کے مسلک پر ہیں۔ وَعَلَى الْمُتَابَعَةِ فِي قِرَاءَةِ الْقُنُوتِ فِي الْوِتْرِ، بھئی اس مسئلے نے دو اور چیزوں پر بھی دلالت کی۔ ایک تو یہ مسئلہ پتہ لگ گیا آپ کو کہ شافعی المسلک امام کے پیچھے حنفی مقتدی خاموش کھڑا رہے، دعائے قنوت نہ پڑھے۔ اور نیز یہ بھی پتہ چل گیا کہ شافعی المسلک امام کی اقتداء حنفی کے لیے جائز ہے یعنی اس کی اقتداء میں نماز پڑھنا جائز ہے۔ اور نیز اس بات کا بھی پتہ چل گیا اسی مسئلے سے کہ وتروں میں جب جماعت کروائی جائے تو مقتدی بھی دعائے قنوت پڑھے گا۔ وتروں میں، توجہ ہے سبق کی طرف؟ وتروں میں جب امام دعائے قنوت پڑھے گا تو حنفی مقتدی بھی کیا کرے گا؟ دعائے قنوت پڑھے گا۔ کیونکہ احناف کے نزدیک تو وتروں میں پڑھنا مسنون ہے، وہاں خاموش کیوں رہا تھا فجر میں؟ کیونکہ ہمارے نزدیک مسنون نہیں اور وتر میں تو مسنون ہے، لہٰذا معلوم ہوا وتروں میں مقتدی کیا کرے گا؟ خاموش نہیں کھڑا رہے گا بلکہ دعائے قنوت پڑھے گا۔ دلیل سمجھ میں آگئی؟ تو اس مسئلے نے اس بات پر بھی دلالت کی، کس پر؟ ایک تو شافعی المسلک کی اقتداء کے جائز ہونے پر دلالت کی، وَعَلَى الْمُتَابَعَةِ فِي قِرَاءَةِ الْقُنُوتِ فِي الْوِتْرِ اور وتروں میں دعائے قنوت کے پڑھنے میں متابعت پر بھی دلالت کی کہ اس میں کیا کیا جائے گا؟ متابعت کی جائے گی، اقتداء کی جائے گی یعنی پڑھا جائے گا دعائے قنوت کو۔ وَإِذَا عَلِمَ الْمُقْتَدِي مِنْهُ، اور جب جان لے مقتدی مِنْهُ یعنی من الامام یا من الشافعی کہ وہ جو شافعی المسلک ہے اس سے بارے میں مقتدی جان لے اس کو پتہ لگ جائے، اس کی طرف سے جان لے، مَا ایسی چیز کو يَزْعُمُ بِهِ فَسَادَ صَلَاتِهِ کہ مقتدی جو ہے یہ گمان کرتا ہے اس کے ساتھ اپنی نماز کے فاسد ہونے کا، تو پھر اقتداء اس کے لیے درست نہیں کرنا بھئی، کافی نہیں ہوگی اقتداء کرنا۔ مثلاً دیکھیے بھئی، امام شافعی المسلک ہو اقتداء تو جائز ہے لیکن اگر وہ کوئی ایسا عمل کرتا ہے جس سے ہمارے نزدیک نماز کیا ہو جاتی ہے؟ فاسد ہو جاتی ہے یا وضو برقرار نہیں رہتا پھر اقتداء نہیں کی جائے گی اس کی، مثلاً ہمارے نزدیک بدن سے خون نکلے تو وضو ٹوٹ جاتا ہے جبکہ شوافع کے نزدیک بدن سے خون نکلے تو وضو نہیں ٹوٹتا، کیونکہ وہ فرماتے ہیں صرف خروجِ نجاست سے وضو نہیں ٹوٹتا بلکہ خروجِ نجاست سبیلِ معتاد سے ہو جہاں سے عموماً نجاست کا خروج ہوتا ہے، وہاں سے اگر نجاست نکلے گی تو وضو ٹوٹے گا۔ اب کوئی زخم لگا خون نکلا تو اس صورت میں وضو نہیں ٹوٹے گا ان کے نزدیک۔ لہٰذا ان کے امام کا خون نکلا اور پھر بھی وہ نماز پڑھا رہا ہے، وضو کے بعد خون نکلا ہے اور پھر بھی کیا کر رہا ہے اسی طرح وہ؟ نماز پڑھا رہا ہے۔ یا وضو کرنے کے بعد امام نے فصد لگوائی، فصد یہ قدیم طریقہ علاج تھا جس میں جسم کے بعض مخصوص حصوں پر رگ کاٹ کر جو گندا خون ہوتا تھا اس کو بدن سے نکال دیا جاتا اور یہ بہت سے امراض کے لیے شفا ہے۔ تو امام نے فصد لگوائی، وضو کے بعد فصد لگوائی خون نکلا اس میں، تو خون نکالا جاتا ہے اور پھر اسی طرح وہ نماز پڑھا رہا ہے تو ہمارے نزدیک تو خون نکلنے کی صورت میں وضو باقی نہیں رہتا، لہٰذا اب اس امام کی اقتداء کرنا حنفی مقتدی کے لیے کافی نہیں ہوگا اس کی نماز نہیں ہوگی۔ یہ معنی ہے: وَإِذَا عَلِمَ الْمُقْتَدِي مِنْهُ اور اگر جب جان لے مقتدی اس شافعی امام کی طرف سے کس چیز کو جان لے؟ مَا ایسی چیز کو يَزْعُمُ بِهِ فَسَادَ صَلَاتِهِ کہ جس کو گمان کرتا ہے، جس کے ذریعے یہ گمان کرتا ہے حنفی مقتدی فَسَادَ صَلَاتِهِ اپنی نماز کا فاسد ہو جانا، كَالْفَصْدِ وَغَيْرِهِ جیسے فصد وغیرہ لگوانا، لَا يُجْزِيهِ الِاقْتِدَاءُ بِهِ تو اس کی اقتداء اس کے لیے کافی نہیں۔ وَالْمُخْتَارُ فِي الْقُنُوتِ الْإِخْفَاءُ لِأَنَّهُ دُعَاءٌ، اور مختار جو ہے پسندیدہ دعائے قنوت میں وہ اخفا ہے کہ وہ آہستہ آواز سے پڑھی جائے، لِأَنَّهُ دُعَاءٌ اس لیے کیونکہ وہ کیا ہے؟ دعا ہے اور دعا میں دعا کا طریقہ کس طرح ہونی چاہیے دعا؟ اس میں اخفا ہو آہستہ آواز کے ساتھ ہو، پوشیدہ طور پر ہو۔ بھئی وتر کی تفصیل تو بیان ہو گئی بھئی اور آپ نے اس میں پڑھ لیا کہ عند الاحناف دعائے قنوت جو ہے صرف وتروں میں پڑھی جائے گی سارا سال، جبکہ عند الشوافع فجر کی نماز میں بھی دعائے قنوت کا پڑھنا مسنون ہے۔ یاد رکھیے، یاد رکھیے بھئی یہ قیمتی بات، کہ قنوت کی تین قسمیں ہیں بھئی۔ قنوت کی تین قسمیں ہیں: نمبر ایک جو ہے: وتر میں پڑھنا۔ نمبر ایک: وتر میں پڑھنا اور وتر میں اس کو سارا سال پڑھنا عند الاحناف یہ مسنون ہے، وتر میں سارا سال دعائے قنوت پڑھی جائے گی۔ تو پہلی قسم کیا ہوئی قنوت کی؟ وتروں میں جو پڑھی جاتی ہے۔ دوسری قسم ہے: قنوت فی الفجر، کہ فجر میں دعائے قنوت پڑھی جائے اور اس کی بھی تفصیل گزر گئی کہ عند الاحناف یہ مسنون نہیں جبکہ عند الشوافع یہ مسنون ہے۔ تیسری قسم ہے: قنوت فی النوازل، قنوت فی النوازل یعنی فی المصائب بھئی، نوازل کسے کہتے ہیں؟ مصائب کو، مصیبتوں میں دعائے قنوت پڑھنا۔ اور یاد رکھیے بھئی، یہ بھی دعائے قنوت کی ایک قسم ہے جو کسی مصیبت، تکلیف وغیرہ کے موقع پر پھر نمازوں میں پڑھی جاتی ہے اور یہ عند الاحناف جہری نمازوں میں جائز ہے یعنی فجر، مغرب اور عشاء میں، عشاء میں۔ تو عند الاحناف یہ جہری نمازوں میں جائز ہے عند الضرورۃ وعند الحاجۃ جب ضرورت پیش آئے۔ چنانچہ احناف کے نزدیک یہ جو بعض احادیث میں فجر وغیرہ میں قنوت پڑھنے کا ذکر آیا ہے اس سے یہ تیسری قسم مراد ہے، یعنی قنوت فی النوازل، یہ تیسری قسم مراد ہے اور قنوتِ نازلہ پر عمل تو عند الاحناف بھی مسنون ہے بھئی اور تا قیامت یہ اسی طرح ہے عند الضرورۃ، ضرورت کی وجہ سے بھئی۔ پھر یاد رکھیے، قنوتِ نازلہ میں تفصیل ہے، عند الاحناف قنوتِ نازلہ صرف جہری نمازوں میں پڑھنی چاہیے، لیکن بعض فقہاء احناف کہتے ہیں کہ اگر مصیبت بہت بڑھ جائے تو پھر پانچوں نمازوں میں بھی پڑھ سکتے ہیں۔ ویسے عموماً صرف فجر میں پڑھنی چاہیے، مصیبت زیادہ ہو تو مغرب میں بھی پڑھ لے، مزید بڑھ جائے مصیبت تو عشاء میں بھی پڑھ سکتا ہے اور مزید مصیبت بڑھ جائے تو پانچوں نمازوں میں قنوتِ نازلہ پڑھ سکتے ہیں بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی بھئی؟ دوسری قسم وہ فجر میں، جو فجر میں جس میں اختلاف کا ذکر ہو گیا وہ قسم ہے۔ چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔