فَلَوْ أَجَابَ فِي الصَّلَاةِ رَجُلًا بِلَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ فَهٰذَا كَلَامٌ مُفْسِدٌ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللّٰهُ تَعَالَى وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللّٰهُ: لَا يَكُونُ مُفْسِدًا. باب چل رہا ہے ان چیزوں کے بیان میں جو نماز کو فاسد کر دیتی ہیں، اور وہ چیزیں جو نماز کے اندر مکروہ ہیں بھئی مکروہ۔ اور یہ بات پہلے ذکر ہو چکی ہے کہ فقہ کی کتابوں کے اندر جب مکروہ کا لفظ آئے، یُکْرَہُ کا لفظ آئے، تو اس سے کراہتِ تحریمی مراد ہوتی ہے، کراہتِ تحریمی، یعنی مکروہِ تحریمی مراد ہوتا ہے۔ آپ نے پڑھا ہے مکروہ دو قسم پر ہے: ایک مکروہِ تحریمی اور ایک مکروہِ تنزیہی۔ مکروہِ تحریمی وہ ہے جو حرام کے زیادہ قریب ہے، اور مکروہِ تنزیہی وہ ہے جو حلال کے زیادہ قریب ہے بھئی۔ تو اب صورت یہ ذکر کر رہے ہیں: فَلَوْ أَجَابَ فِي الصَّلَاةِ رَجُلًا بِلَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ فَهٰذَا كَلَامٌ مُفْسِدٌ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللّٰهُ تَعَالَى۔ تو اگر نماز پڑھنے والے نے جواب دیا نماز کے اندر رَجُلًا کسی آدمی کو بِلَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰہ، لا الہ الا اللہ کے ساتھ اس کو جواب دیا، فَهٰذَا كَلَامٌ مُفْسِدٌ تو یہ کلام مفسد ہے، نماز کو فاسد کرنے والا ہے، عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللّٰهُ طرفین رحمہما اللہ کے نزدیک بھئی، یہ کلام نماز کو فاسد کر دے گا۔ وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللّٰهُ: لَا يَكُونُ مُفْسِدًا اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ کلام مفسدِ صلاۃ نہیں۔ لا الہ الا اللہ کہنے سے نماز فاسد نہیں ہوگی۔ وَهٰذَا الْخِلَافُ فِيمَا إِذَا أَرَادَ بِهِ جَوَابَهُ اور یہ اختلاف اس صورت میں ہے جب اس لا الہ الا اللہ جس نے کہا وہ جو آدمی نماز میں تھا، جب اس نے ارادہ کیا ہو اس لا الہ الا اللہ کے ساتھ جَوَابَهُ اس دوسرے آدمی کو جواب دینے کا۔ بھئی دیکھیے، ایک آدمی ہے وہ نماز کے اندر لا الہ الا اللہ کہتا ہے اونچی آواز سے، اور یہ لا الہ الا اللہ کہنے کے ذریعے یا تو وہ دوسرے شخص کو یہ بتلانا چاہتا ہے کہ میں نماز پڑھ رہا ہوں، میں کیا کر رہا ہوں؟ یعنی اس کو باخبر کرنا چاہتا ہے کسی وجہ سے، مثلاً وہ آگے سے گزرنے لگا تو اس نے کیا کیا؟ لا الہ الا اللہ پڑھا یا تسبیح پڑھ لی وغیرہ۔ تو لا الہ الا اللہ کہتا ہے تو اگر اس کا ارادہ دوسرے کو اطلاع دینا ہے کہ میں نماز میں ہوں، تو یاد رکھیے بالاتفاق اس صورت میں نماز فاسد نہیں ہوگی۔ نماز فاسد نہیں ہوگی بھئی۔ اور اگر وہ اس لا الہ الا اللہ کے ذریعے دوسرے کو جواب دینا چاہتا ہے، مثلاً دوسرے نے سوال کیا: کیا اللہ کے علاوہ اور کوئی معبود ہے؟ اور یہ جواب میں کیا کہتا ہے؟ لا الہ الا اللہ، اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں ہے۔ تو اگر جواب دینے کا ارادہ کیا ہے تو اس صورت میں طرفین رحمہما اللہ فرماتے ہیں اس کی نماز فاسد ہو جائے گی، جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کی نماز فاسد نہیں ہوگی۔ تو یہ اختلاف اس صورت میں ہے جب اس نے اس کے ذریعے جواب دینے کا ارادہ کیا ہو۔ اگر اطلاع دینے کا ارادہ ہے کہ میں نماز میں ہوں تو پھر بالاتفاق نماز فاسد نہیں۔ یہ معنی ہے: وَهٰذَا الْخِلَافُ فِيمَا إِذَا أَرَادَ بِهِ جَوَابَهُ اور یہ اختلاف اس صورت میں ہے جب اس نماز پڑھنے والے نے ارادہ کیا ہو بِهِ اس لا الہ الا اللہ کے ذریعے جَوَابَهُ اس کو جواب دینے کا۔ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کی نماز فاسد نہیں ہوگی۔ ان کی دلیل یہ ہے جو وہ آگے ذکر کر رہے ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ یہ لا الہ الا اللہ یہ اللہ کی ثنا ہے۔ اللہ کی وحدانیت بیان ہو رہی ہے تو یہ ثنا ہے۔ صیغے کے اعتبار سے یہ اللہ کی ثنا ہے، لہٰذا اس آدمی نے اگرچہ ارادہ تو جواب دینے کا کیا لیکن اس کے ارادے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ یہ صیغے کے اعتبار سے کیا ہے؟ اللہ کی ثنا۔ اور نماز تو مشتمل ہی اللہ کی ثنا پر مشتمل ہے، تو لہٰذا کوئی ایسی چیز نہیں آئی جس سے نماز پر اثر پڑے گا۔ اللہ کی ثنا آئی اور نماز میں بھی اللہ کی ثنا ہے، تسبیحات وغیرہ ہی ہوتی ہیں بھئی۔ بات سمجھ میں آئی؟ دلیل سمجھ میں آئی ان کی؟ لَهُ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے: أَنَّهُ ثَنَاءٌ بِصِيغَتِهِ کہ یہ لا الہ الا اللہ جو ہے یہ اللہ کی ثنا ہے، اللہ کی تعریف ہے بِصِيغَتِهِ اپنے صیغے کے اعتبار سے، یعنی اس کو اسی لیے وضع کیا گیا ہے، فَلَا يَتَغَيَّرُ بِعَزِيمَتِهِ تو یہ بدلے گا نہیں اس شخص کے ارادے سے، یعنی یہ پھر بھی کیا ہے؟ ثنا ہی ہے بھئی۔ وَلَهُمَا طرفین کی دلیل یہ ہے: أَنَّهُ أَخْرَجَ الْكَلَامَ مَخْرَجَ الْجَوَابِ کہ اس نے کلام کو ادا کیا ہے جواب کے طور پر۔ اس نے یہ لا الہ الا اللہ کس طریقے پر کہا ہے؟ جواب کے طور پر کہا ہے، وَهُوَ يَحْتَمِلُهُ اور یہ اس کا احتمال بھی رکھتا ہے۔ یعنی لا الہ الا اللہ یہ ہے تو اللہ کی ثنا لیکن یہ جواب بننے کی بھی صلاحیت رکھتا ہے، اس کا بھی اس میں احتمال ہے، اور جب اس نے ارادہ کر لیا تو ایسی چیز کا ارادہ کیا جس کا وہ لفظ احتمال بھی رکھتے تھے تو یہ اس صورت میں پھر جواب ہی بنے گا، اور جواب جو ہے وہ تو کلام ہے اور کلام کی تو نماز میں گنجائش نہیں، لہٰذا اس کی نماز فاسد ہو جائے گی۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟ تو وہ کہتے ہیں کہ اس نے اس کلام کو ادا کیا ہے جواب کے طور پر، وَهُوَ يَحْتَمِلُهُ اور یہ جو ہے اس جواب بننے کا احتمال بھی رکھتا ہے، فَيُجْعَلُ جَوَابًا تو اس کو جواب قرار دیا جائے گا، كَالتَّشْمِيتِ جیسے کہ تشمیت ہے، چھینک کا جواب دینا ہے بھئی، يَرْحَمُكَ اللّٰهُ، پیچھے مسئلہ گزر چکا ہے کہ اگر یہ کہے کسی کو انسان تو اس کی نماز کیا ہو جائے گی؟ فاسد ہو جائے گی۔ وَالِاسْتِرْجَاعُ عَلَى الْخِلَافِ فِي الصَّحِيحِ۔ استرجاع، استرجاع کا معنی ہے: إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ کہنا بھئی۔ اِسْتَرْجَعَ الرَّجُلُ أَيْ قَالَ: إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔ تو استرجاع یعنی إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ جو ہے وہ بھی عَلَى الْخِلَافِ وہ بھی اسی اختلاف پر ہے فِي الصَّحِيحِ صحیح قول کے مطابق بھئی۔ صحیح قول کے مطابق اس میں بھی یہی اختلاف ہے۔ طرفین کے نزدیک جو ہے اس سے نماز فاسد ہوگی جواب کے طور پر، اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک نماز فاسد نہیں ہوگی۔ وَإِنْ أَرَادَ بِهِ إِعْلَامَهُ اور اگر نماز پڑھنے والے نے اس لا الہ الا اللہ کے ذریعے ارادہ کیا إِعْلَامَهُ اس آدمی کو اطلاع دینے کا أَنَّهُ فِي الصَّلَاةِ کہ وہ کس میں ہے؟ نماز میں ہے، لَمْ تَفْسُدْ بِالْإِجْمَاعِ تو بالاجماع اس کی نماز فاسد نہیں ہوگی، لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ: ”إِذَا نَابَتْ أَحَدَكُمْ نَائِبَةٌ فِي الصَّلَاةِ فَلْيُسَبِّحْ“ بوجہ حضور علیہ السلام کے اس قول کے: جب پیش آ جائے تم میں سے کسی ایک کو کوئی واقعہ فِي الصَّلَاةِ نماز میں، فَلْيُسَبِّحْ تو اسے چاہیے کہ تسبیح کہے، یعنی سُبْحَانَ اللّٰهِ کہہ دے۔ کیا کہہ دے؟ سُبْحَانَ اللّٰهِ کہہ دے، اور سُبْحَانَ اللّٰهِ کیا ہے؟ تسبیح ہے، اللہ کی پاکی بیان ہو رہی ہے، تو لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ بھی اسی طرح اللہ کی اس میں ثنا ہے، اللہ کی حمد ہے، اللہ کی وحدانیت بیان ہو رہی ہے، تو دونوں کا ایک ہی حکم ہے بھئی۔ تو یاد رکھیے یہ مردوں کا طریقہ ذکر ہوا حدیث کے اندر۔ مرد جو ہیں جب وہ کسی کوئی بات پیش آئے تو کیا کہیں گے؟ تسبیح، سُبْحَانَ اللّٰهِ کہہ سکتے ہیں یا اسی طرح لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وغیرہ کہہ سکتے ہیں۔ لیکن اگر عورت ہے تو وہ اس کے لیے وہ اس کے لیے تالی بجانا ہے، لیکن عام جس طرح دونوں ہتھیلیوں کو ایک دوسرے سے مار کر تالی بجائی جاتی ہے اس طرح نہیں، بلکہ جس طرح ہاتھ باندھا ہوا ہے تو اسی بائیں ہاتھ کی پشت پر دائیں ہاتھ کو زور سے مار دے گی۔ یعنی دائیں ہاتھ کی ہتھیلی، یعنی اندر والی جانب ہتھیلی، یہ کس پر مار دے گی؟ بائیں ہاتھ کی پشت پر جس سے آواز پیدا ہو جائے اور دوسرے متوجہ ہو جائیں کہ کچھ نماز میں غلطی ہوئی ہے یا کوئی بات ہے بھئی۔ وَمَنْ صَلَّى رَكْعَةً مِنَ الظُّهْرِ ثُمَّ افْتَتَحَ الْعَصْرَ أَوِ التَّطَوُّعَ فَقَدْ نَقَضَ الظُّهْرَ لِأَنَّهُ صَحَّ شُرُوعُهُ فِي غَيْرِهِ فَيَخْرُجُ عَنْهُ۔ اور جس نے ایک رکعت پڑھی ظہر کی نماز میں سے، پھر اس نے شروع کر دی عصر کی نماز یا نفل، تو تحقیق اس نے ظہر کی نماز کو توڑ دیا، کیونکہ اس کے لیے دوسری نماز کو شروع کرنا اس میں شروع ہونا صحیح ہے، تو اس نماز سے نکل جائے گا۔ بھئی صورتِ مسئلہ یہ: ایک آدمی نے ظہر کی نماز شروع کی بھئی، ظہر کی نماز پڑھ رہا ہے، ایک رکعت پڑھنے کے بعد اس کا ارادہ ہوا عصر کی پڑھتا ہوں، کون سی پڑھتا ہوں؟ عصر کی پڑھتا ہوں، یا نفل پڑھتا ہوں، تو اس نے عصر کا ارادہ کر لیا، عصر کی نیت کر لی یا نفلوں کی نیت کر لی، نفلوں کی نیت کر لی، چاہے دل میں نیت کر لی یا ہاتھ اٹھا کر اَللّٰهُ أَكْبَرُ بھی کہہ دیا، ہاتھ اٹھا کر اَللّٰهُ أَكْبَرُ بھی کہہ دیا، تو یاد رکھیے بھئی، تو اس کی ظہر کی نماز ٹوٹ گئی، وہ ختم ہو گئی۔ ظہر کی نماز کیا ہوئی؟ ختم ہو گئی، اب وہ آگے ظہر کو جاری نہیں رکھ سکتا۔ اب کون سی؟ اسی کو مکمل کرے جس کی اگلی نماز کی اس نے نیت کی ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے کہ جس نے ظہر کی ایک رکعت پڑھی ثُمَّ افْتَتَحَ الْعَصْرَ أَوِ التَّطَوُّعَ پھر اس نے شروع کر دیا عصر کو یا نفلوں کو، فَقَدْ نَقَضَ الظُّهْرَ تو تحقیق اس نے توڑ دیا ظہر کی نماز کو، ظہر کی نماز کو توڑ دیا۔ ہاں۔ کہتے ہیں: لِأَنَّهُ، دلیل دے رہے ہیں کیوں؟ کہتے ہیں: اس لیے کیونکہ لِأَنَّهُ صَحَّ شُرُوعُهُ فِي غَيْرِهِ، یہ جو ظہر کی نماز پڑھ رہا ہے اس آدمی کے لیے صحیح ہے دوسری نماز شروع کرنا۔ دوسری نماز وہ شروع کر سکتا ہے یا نہیں کر سکتا؟ اور دوسری نماز شروع کرنے کے لیے کیا ضروری ہے؟ اس نماز سے نکلنا ضروری ہے، اور جب اس نماز سے نکلا تو گویا اس نے اس نماز کو توڑ دیا، ختم کر دیا۔ یہ معنی ہے: فَيَخْرُجُ عَنْهُ تو یہ اس سے نکل جائے گا۔ وَلَوِ افْتَتَحَ الظُّهْرَ بَعْدَ مَا صَلَّى مِنْهَا رَكْعَةً فَهِيَ هِيَ وَيَجْتَزِئُ بِتِلْكَ الرَّكْعَةِ۔ دوسری صورت بھئی: ایک آدمی نے ظہر کی نماز پڑھنا شروع کی اور اس کے بعد جب کہ وہ ایک یا دو جتنی بھی رکعتیں پڑھ چکا تھا، بہرحال یہاں ایک، وہ اس طرح ہم صورت بنا لیتے ہیں تاکہ وضاحت ہو جائے پوری۔ ایک آدمی نے ظہر کی نماز پڑھنا شروع کی اور ایک رکعت پڑھنے کے بعد اس کا ارادہ ہوا پھر ظہر شروع سے پڑھے۔ کیا ارادہ ہوا؟ پھر ظہر کی نماز شروع سے پڑھنا شروع کرے، چنانچہ اس نے نیت کر لی اور پھر شروع سے نماز پڑھنا شروع کر دی، یا باقاعدہ دونوں ہاتھ بھی اٹھا کر اَللّٰهُ أَكْبَرُ بھی کہہ دیا۔ تو آگے آپ کو یہ بتلائیں گے مسئلہ کہ بھئی یہ وہی ظہر کی نماز ہے۔ یہ وہی ظہر کی نماز ہے اور جب یہ وہی ظہر کی نماز ہے تو وہ جو ایک رکعت پہلے ہوئی تھی یا دو ہوئی تھیں یا تین جتنی بھی رکعتیں پہلے ہوئی تھیں ان سب کو بھی شمار کرنا پڑے گا، اور جب ان کو شمار کرے گا تو آگے جب آخری رکعت جو بن رہی ہو یعنی چوتھی رکعت، شروع سے لے کر جب چوتھی رکعت پوری ہو جائے تو آخری قعدے کا وقت آئے گا۔ اگر اس وقت پر اس نے کیا کر لیا؟ قعدہ کر لیا کیونکہ قعدہ تو فرض ہے آخری قعدہ، اگر قعدہ کر لیا تو اس کی ظہر کی نماز پوری ہو جائے گی۔ اور اگر اس موقع پر اس نے قعدہ نہ کیا اور اگلے اگلی رکعتوں کو ساتھ ملا لیا تو ظہر کی نماز باطل ہو جائے گی، دوبارہ نئے سرے سے پڑھنا پڑے گی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ لہٰذا اگر ایک رکعت گزری تھی اور اس نے پھر ظہر کی نماز شروع سے پڑھنا شروع کی تو وہی ظہر شمار ہوگی کیونکہ یہ وہی نماز ہے اور اس کی نیت لغو ہو جائے گی، يَرْحَمُكَ اللّٰهُ، تو اس کی نیت کیا ہو جائے گی؟ لغو ہو جائے گی، یہ وہی نماز ہوگی اور وہ پہلی رکعت بھی شمار ہوگی، لہٰذا اگلی تین رکعتیں جب پڑھ لے گا تو چار پوری ہو گئیں۔ اب اس پر کیا کرنا پڑے گا اسے؟ قعدہ کرنا پڑے گا کیونکہ آخری قعدہ ہوگا اور یہ فرض ہے۔ اور اگر اس موقع پر اس نے قعدہ نہ کیا، اس نے پہلی کو شمار ہی نہیں کیا، اگلی ایک ملا کر پھر چار پوری کرنا چاہتا ہے تو پھر اگلی ملا لے گا تو ظہر کی نماز ہی باطل ہو جائے گی کیونکہ فرض رہ گیا، اور فرض رہ جائے تو نماز ہی نہیں ہوتی۔ یہ معنی ہے: وَلَوِ افْتَتَحَ الظُّهْرَ بَعْدَ مَا صَلَّى مِنْهَا رَكْعَةً اور اگر اس نے شروع کیا ظہر کی نماز کو بعد اس کے کہ جب وہ اس ظہر میں سے ایک رکعت پڑھ چکا تھا، فَهِيَ هِيَ تو یہ وہی نماز ہے، یہ وہی شمار ہوگی، وَيَجْتَزِئُ بِتِلْكَ الرَّكْعَةِ اور کافی ہوگی وہ وہ والی رکعت بھی، یعنی اس کو بھی شمار کرے گا، لِأَنَّهُ نَوَى الشُّرُوعَ فِي عَيْنِ مَا هُوَ فِيهِ اس لیے کیونکہ اس نے نیت کی ہے اس چیز کو شروع کرنے کی اسی عین اسی چیز کو شروع کرنے کی جس کے اندر وہ تھا، فَلَغَتْ نِيَّتُهُ تو اس کی نیت کیا ہو جائے گی؟ لغو ہو جائے گی، بےکار چلی جائے گی، وَبَقِيَ الْمَنْوِيُّ عَلَى حَالِهِ اور وہ جس چیز کی اس نے نیت کی تھی وہ اپنی حالت پر باقی رہے گا، یعنی وہ ظہر کی نماز اپنی حالت پر باقی رہے گی، یعنی شروع سے ساری شمار ہوگی۔ وَإِذَا قَرَأَ الْإِمَامُ مِنَ الْمُصْحَفِ فَسَدَتْ صَلَاتُهُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ وَقَالَا: هِيَ تَامَّةٌ۔ اور جس وقت پڑھی امام جس وقت امام قرأت کرے قرآن میں سے، امام اگر قرأت کرتا ہے قرآن کو کھول کر اس میں سے دیکھ کر قرأت کرتا ہے، چاہے اس کو ہاتھ میں اٹھایا ہوا ہو یا اور چاہے سامنے کسی چیز پر رکھا ہوا ہو، تو اس صورت میں اس کی نماز کیا ہو جائے گی؟ فاسد ہو جائے گی۔ جبکہ یہ امام صاحب کے نزدیک، اور صاحبین فرماتے ہیں اس کی نماز پوری ہو جائے گی۔ تو کہتے ہیں: وَإِذَا قَرَأَ الْإِمَامُ، امام کو ویسے ذکر کر دیا، ہر نمازی کا یہی حکم ہے۔ وَإِذَا قَرَأَ الْإِمَامُ مِنَ الْمُصْحَفِ اور جب امام نے قرأت کی قرآن میں سے یعنی دیکھ کر، فَسَدَتْ صَلَاتُهُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ تو اس کی نماز فاسد ہو گئی امام صاحب کے نزدیک، وَقَالَا: هِيَ تَامَّةٌ اور صاحبین فرماتے ہیں اس کی نماز پوری ہے۔ لِأَنَّهُ عِبَادَةٌ انْضَافَتْ إِلَى عِبَادَةٍ اس لیے کیونکہ یہ ایک عبادت ہے جو مل گئی ہے دوسری عبادت کے ساتھ، کیونکہ قرآن کو دیکھ کر پڑھنا یہ بھی کیا ہے؟ عبادت ہے بھئی عبادت ہے۔ چنانچہ یہ حاشیے میں آپ کے حدیث دی ہوئی ہے، حضور علیہ السلام فرماتے ہیں کہ: ”أَعْطُوا أَعْيُنَكُمْ مِنَ الْعِبَادَةِ حَظَّهَا“ کہ تم اپنی آنکھوں کو بھی عبادت میں سے ان کا حصہ دو، قِيلَ: تو کہا گیا: ”وَمَا حَظُّهَا مِنَ الْعِبَادَةِ؟“ آنکھوں کا کیا حصہ ہے عبادت میں سے؟ قَالَ: ”النَّظَرُ فِي الْمُصْحَفِ“ تو حضور علیہ السلام فرمانے لگے: قرآن میں دیکھنا، قرآن میں نظر ڈالنا۔ تو یہ بھی کیا ہے؟ عبادت ہے بھئی۔ تو قرآن کو کھول کر دیکھنا اور دیکھ کر تو یہ بھی کیا ہے؟ یہ عبادت ہے بھئی یہ عبادت ہے۔ اور اسی طرح یاد رکھیے، بیت اللہ جو ہے، بیت اللہ کی طرف دیکھنا بھی عبادت ہے۔ بیت اللہ کی طرف دیکھنا بھی عبادت ہے بھئی۔ تو صاحبین فرماتے ہیں کہ یہ نماز پڑھ رہا ہے اور نماز عبادت ہے، اور نماز کے اندر قرآن میں سے دیکھ کر قرأت کرتا ہے تو دیکھ کر قرأت کرنا اور اس میں نظر ڈالنا قرآن میں یہ بھی کیا ہے؟ عبادت۔ تو ایک عبادت کے ساتھ دوسری عبادت مل گئی تو اس سے کوئی خرابی نہیں آئی، نماز اس کی پوری ہو جائے گی۔ إِلَّا أَنَّهُ يُكْرَهُ البتہ صاحبین فرماتے ہیں کہ یہ مکروہ ہے، یہ کیا ہے؟ مکروہ ہے، لِأَنَّهُ يُشْبِهُ بِصُنْعِ أَهْلِ الْكِتَابِ اس لیے کیونکہ اہلِ کتاب کے عمل کے مشابہ ہے۔ کس کے مشابہ ہے؟ اہلِ کتاب کے، یہودی وغیرہ جو ہیں ان کے مشابہ ہے، یہودی، عیسائی۔ بھئی یہ قرآن کا اعجاز ہے، قرآن کا کمال ہے کہ یہ اتنی بڑی کتاب ایک سات آٹھ سال کے بچے کے سینے میں اللہ اس کو ابتدا سے انتہا تک بغیر کسی حرف کے، بغیر کسی نقطے کے، بغیر کسی حرکت کی تبدیلی کے، پورے طور پر اللہ اس کے سینے میں محفوظ فرما دیتے ہیں۔ ورنہ ورنہ دوسری کتابیں جو ہیں اہلِ کتاب جو ہیں وہ ان کو اپنے اذکار وغیرہ اپنی کتابیں وہ ان کو یاد نہیں ہوتیں بھئی، کیونکہ یاد ہو ہی نہیں سکتی یہ کتاب اس طرح کہ پوری کتاب۔ اور قرآن کا کمال یہ ہے کہ یہ لاکھوں سینوں کے اندر محفوظ ہے بھئی۔ جو اس کو یاد کرنا چاہتا ہے یہ اس کے سینے میں محفوظ ہو جاتا ہے، جو بھی یاد کرنا چاہتا ہے۔ سمجھ میں آیا؟ تو ان کو یہود اہلِ کتاب وغیرہ جو ہیں ان کو اپنی کتابیں نہیں یاد، بلکہ اس کا کچھ حصہ بھی ان کو نہیں یاد، چند صفحات بھی نہیں یاد ہوتے بھئی۔ تو وہ پھر کتاب کھول کر دیکھ کر اس میں سے پڑھتے ہیں بھئی۔ تو لہٰذا صاحبین بھی فرماتے ہیں اگر کوئی نمازی اس طرح دیکھ کر پڑھتا ہے تو اس کا یہ عمل اہلِ کتاب کے عمل کے مشابہ ہو گیا اور ان کے ساتھ مشابہت سے تو ہمیں منع کیا گیا ہے، لہٰذا اس کا یہ عمل مکروہ ہوگا۔ البتہ بہرحال نماز ہو جائے گی۔ نماز کیا ہے؟ ہو جائے گی۔ یہ معنی ہے: لِأَنَّهُ يُشْبِهُ، اس کو يُشْبِهُ پڑھنا۔ جہاں کہیں بھی عبارت میں یہ مادہ آئے: ش، ب، ہ، اس یہ تو یہ بابِ افعال سے آئے گا عموماً، یا بابِ تفعیل وغیرہ سے، یعنی میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ مجرد سے شَبِهَ يَشْبَهُ وغیرہ نہ پڑھنا اس کو، کیونکہ مجرد سے یہ باب استعمال نہیں ہوتا عربی زبان میں بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو یہ أَشْبَهَ يُشْبِهُ یا موقع ہو تو شَبَّهَ يُشَبِّهُ بھی اس طرح استعمال ہوتا ہے۔ لِأَنَّهُ يُشْبِهُ بِصُنْعِ أَهْلِ الْكِتَابِ اس لیے کیونکہ اس نمازی کا یہ عمل جو ہے اہلِ کتاب کے عمل کے مشابہ ہے، اس لیے مکروہ ہوگا۔ وَلِأَبِي حَنِيفَةَ اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے: أَنَّ حَمْلَ الْمُصْحَفِ وَالنَّظَرَ فِيهِ وَتَقْلِيبَ الْأَوْرَاقِ عَمَلٌ كَثِيرٌ وہ فرماتے ہیں کہ قرآن کو اٹھانا اور اس میں نظر ڈالنا وَتَقْلِيبَ الْأَوْرَاقِ اور ورقوں کو پلٹنا، عَمَلٌ كَثِيرٌ یہ سارا کیا ہے؟ عملِ کثیر ہے، اور عملِ کثیر سے تو نماز فاسد ہو جاتی ہے، تو اس کی بھی نماز فاسد ہو جائے گی۔ یہ ایک دلیل۔ دوسری دلیل: وَلِأَنَّهُ تَلَقُّنٌ مِنَ الْمُصْحَفِ اور نیز اس لیے کیونکہ اس میں قرآن سے سیکھنا ہے، اور آپ پڑھ چکے کہ تعلیم و تعلم سے نماز کیا ہو جاتی ہے؟ فاسد۔ تو یہاں بھی قرآن سے سیکھنا پایا گیا، فَصَارَ كَمَا إِذَا تَلَقَّنَ مِنْ غَيْرِهِ تو یہ اسی طرح ہو گیا جیسے اس نے کسی دوسرے سے سیکھا ہو، تو اس کی نماز کیا ہو جائے گی؟ فاسد ہو جائے گی۔ وَعَلَى هٰذَا لَا فَرْقَ بَيْنَ الْمَحْمُولِ وَالْمَوْضُوعِ۔ صاحبِ ہدایہ مزید وضاحت فرما رہے ہیں، کہتے ہیں: دو دلیلیں ذکر ہوئیں۔ ایک دلیل یہ کہ قرآن کے اندر دیکھنے کی وجہ سے عملِ کثیر لازم آئے گا کیونکہ وہ قرآن اٹھائے گا اور اس میں نظر ڈالے گا اور اوراق پلٹنے پڑیں گے تو یہ عملِ کثیر ہے اور عملِ کثیر سے نماز کیا ہو جاتی ہے؟ فاسد۔ اور دوسری دلیل یہ ذکر ہوئی کیونکہ اس صورت میں قرآن سے سیکھنا پایا گیا اور سیکھنے اور سکھانے سے تو کیا ہوتی ہے؟ نماز فاسد ہو جاتی ہے۔ تو کہتے ہیں: یہ جو دلیل ہے، یہ دلیل کہ اس میں سیکھنا پایا جا رہا ہے، یہ تو دونوں صورتوں کو شامل ہوگی۔ چاہے قرآن کو اٹھا کر پڑھے تب بھی کیا ہے؟ سیکھنا ہے۔ چاہے قرآن سامنے رکھا ہو، اس کو ہاتھ نہیں لگایا لیکن سامنے کسی چیز پر کھول کر رکھا ہوا ہے اور وہیں یہیں کھڑے کھڑے اس میں سے پڑھ رہا ہے نماز کے اندر، تو اس صورت میں بھی سیکھنا پایا جائے گا۔ تو یہ دونوں اس میں کوئی فرق نہیں ہوگا، قرآن اٹھا کر پڑھے تب بھی کیا ہوگا؟ سیکھنا۔ اٹھایا نہیں ہے بلکہ سامنے رکھا ہے پھر بھی کیا ہے؟ سیکھنا، تو دونوں صورتوں کو یہ شامل ہو جائے گا، اور اس دلیل کی بنا پر تو دونوں صورتوں میں نماز فاسد ہو جائے گی۔ چاہے سامنے رکھا ہو چاہے قرآن کو اٹھایا ہوا ہو کیونکہ تلقن دونوں میں پایا جا رہا ہے، سیکھنا دونوں میں ہے۔ اور اگر دوسری دلیل کی طرف نظر کی جائے تو اس کے اندر تو عملِ کثیر کا ذکر ہے، وہاں فرق آ جائے گا۔ اٹھا کر، نظر ڈال کر، اوراق پلٹتے ہوئے، دیکھ کر پڑھ رہا ہے تو اس میں ہے عملِ کثیر، اور اگر سامنے رکھا ہوا ہے اس صورت میں تو پھر عملِ کثیر نہیں ہے، پھر تو اس دلیل کی بنیاد پر اس صورت میں نماز فاسد نہیں ہونی چاہیے بھئی۔ فرق سمجھ میں آیا؟ کہ پہلی دلیل پہلی دلیل جو ذکر ہوئی عملِ کثیر والی وہ صرف کس صورت میں ہے؟ قرآن اٹھایا ہو تب ہے، قرآن سامنے رکھا ہو تو پھر عملِ کثیر نہیں۔ تو اس میں دونوں صورتوں میں فرق آ جائے گا۔ اور تلقن والی دلیل کو اگر دیکھا جائے تو اس میں دونوں صورتوں میں کوئی فرق نہیں۔ سیکھنا، اٹھا کر پڑھے گا تب بھی سیکھنا ہے، سامنے رکھا ہو تب بھی سیکھنا ہے۔ تو کہتے ہیں: وَعَلَى هٰذَا لَا فَرْقَ بَيْنَ الْمَحْمُولِ وَالْمَوْضُوعِ اور اس دلیل کی بنیاد پر، یہ جو تلقن والی دلیل ہے، لَا فَرْقَ بَيْنَ الْمَحْمُولِ وَالْمَوْضُوعِ کوئی فرق نہیں ہے اٹھائے ہوئے اور رکھے ہوئے قرآن کے درمیان۔ محمول جس کو اٹھایا ہو، موضوع جس کو سامنے جس کو رکھا ہو۔ وَعَلَى الْأَوَّلِ يَفْتَرِقَانِ اور پہلی دلیل کی بنیاد پر يَفْتَرِقَانِ یہ دونوں مختلف ہوں گے، جدا ہوں گے۔ کون کون بھئی؟ وہ قر وہ جو قرآن کو اٹھایا ہوا ہے اور وہ صورت جس میں قرآن کو سامنے رکھا ہوا ہے، دونوں الگ الگ ہوں گے۔ وَلَوْ نَظَرَ إِلَى مَكْتُوبٍ وَفَهِمَهُ فَالصَّحِيحُ أَنَّهُ لَا تَفْسُدُ صَلَاتُهُ بِالْإِجْمَاعِ۔ اور اگر کسی شخص نے نظر کی، نگاہ کی إِلَى مَكْتُوبٍ کسی لکھی ہوئی چیز کی طرف، وَفَهِمَهُ اور اس کو سمجھ لیا۔ کوئی چیز سامنے لکھی ہوئی تھی، قرآن نہیں بھئی، کوئی اور چیز ویسے لکھی ہوئی تھی اور اس نے اس تحریر پر نظر ڈالی اور اس کو سمجھ لیا، وہ تحریر اس کو سمجھ میں آ گئی۔ البتہ اس نے زبان کو حرکت نہیں دی، زبان نہیں ہلائی، صرف نظر ڈالی اور وہ چیز اس کو سمجھ میں آ گئی۔ فَالصَّحِيحُ تو صحیح قول یہ ہے: أَنَّهُ لَا تَفْسُدُ صَلَاتُهُ بِالْإِجْمَاعِ کہ اس کی نماز بالاجماع فاسد نہیں ہوگی۔ بِخِلَافِ مَا إِذَا حَلَفَ لَا يَقْرَأُ كِتَابَ فُلَانٍ حَيْثُ يَحْنَثُ بِالْفَهْمِ عِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللّٰهُ۔ بخلاف اس کے کہ اگر کسی نے قسم اٹھائی ہوئی ہو کہ میں فلاں کا خط یا فلاں کی کتاب نہیں پڑھوں گا۔ کتاب میں نے بتلایا تھا یہ جو کتاب جس میں سے آپ پڑھ رہے ہیں اس کو بھی عربی زبان میں کتاب کہتے ہیں اور خط کو بھی کیا کہتے ہیں؟ کتاب۔ تو اگر کسی نے قسم اٹھائی کہ وہ فلاں کا خط نہیں پڑھے گا تو وہاں پر اگر وہ اس کو اس پر نظر ڈالے اور صرف سمجھ لے اس کو، زبان سے نہ پڑھے، تو بھی امام امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک وہ حانث ہو جائے گا۔ کیا ہو جائے گا؟ حانث ہو جائے گا۔ اس لیے کیونکہ وہاں جو لفظ لکھے گئے ہیں ان سے سمجھنا اور سمجھانا ہی مقصود ہے، وہاں قرأت اور پڑھنا اس کو مقصود نہیں ہے۔ تو وہ مقصد تو پایا گیا، لہٰذا وہ حانث ہو جائے گا۔ بِخِلَافِ مَا إِذَا حَلَفَ لَا يَقْرَأُ كِتَابَ فُلَانٍ بخلاف اس صورت کے کہ جب کسی شخص نے قسم اٹھا لی کہ وہ فلاں کا خط نہیں پڑھے گا، حَيْثُ يَحْنَثُ کیونکہ وہ حانث ہو جائے گا بِالْفَهْمِ سمجھنے کی وجہ سے، یعنی یہ مسئلہ اس مسئلے کے خلاف ہے جو کس میں ذکر ہوا؟ متن میں ذکر ہوا، کیونکہ اس مسئلے میں حَيْثُ يَحْنَثُ کیونکہ اس میں کیا ہو جائے گا وہ؟ حانث ہو جائے گا، تو یہ اس مسئلے کے خلاف ہے۔ حَيْثُ يَحْنَثُ بِالْفَهْمِ عِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللّٰهُ کیونکہ وہ حانث ہو جائے گا سمجھنے کی وجہ سے امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک، لِأَنَّ الْمَقْصُودَ هُنَالِكَ الْفَهْمُ اس لیے کیونکہ وہاں پر مقصود ہی فہم ہے، خط کے اندر مقصود ہی کیا ہوتا ہے؟ سمجھنا مقصود ہوتا ہے۔ أَمَّا فَسَادُ الصَّلَاةِ فَبِالْعَمَلِ الْكَثِيرِ وَلَمْ يُوجَدْ۔ اور باقی نماز کا فاسد ہونا تو وہ عملِ کثیر کی وجہ سے ہوتا ہے وَلَمْ يُوجَدْ اور عملِ کثیر تو یہاں پر نہیں پایا گیا بھئی، عملِ کثیر نہیں پایا گیا۔ اس نے صرف اس پر نظر ڈالی ہے اور سمجھ میں آ گیا، کوئی عمل تو کرنا ہی نہیں پڑا، صرف نظر ڈالی۔ وَإِنْ مَرَّتِ امْرَأَةٌ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي لَمْ يَقْطَعِ الصَّلَاةَ لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ: ”لَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ مُرُورُ شَيْءٍ“ إِلَّا أَنَّ الْمَارَّ آثِمٌ۔ اچھا بھئی۔ وَإِنْ مَرَّتِ امْرَأَةٌ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي اور اگر گزری کوئی عورت کسی نمازی کے سامنے سے، لَمْ يَقْطَعِ الصَّلَاةَ تو وہ نماز کو نماز کو نہیں توڑے گی، اس شخص کی نماز کو نہیں توڑے گی۔ دلیل کیا ہے؟ کہتے ہیں: لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ بوجہ حضور علیہ السلام کے اس قول کے: ”لَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ مُرُورُ شَيْءٍ“ نماز کو نہیں توڑتا کسی چیز کا گزرنا، یعنی کوئی چیز سامنے سے گزرے تو یہ نماز کو نہیں توڑتا بھئی اس کا گزرنا۔ آگے صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں: إِلَّا أَنَّ الْمَارَّ آثِمٌ مگر یہ کہ گزرنے والا گناہ گار ہوگا، گناہ گار ہوگا۔ اور اس کی بھی دلیل ذکر کر رہے ہیں: لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ: ”لَوْ عَلِمَ الْمَارُّ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي مَاذَا عَلَيْهِ مِنَ الْوِزْرِ لَوَقَفَ أَرْبَعِينَ“ بوجہ حضور علیہ السلام کے اس قول کے: اگر جان لے وہ شخص جو گزرنے والا ہے نمازی کے آگے سے، اگر اس کو علم ہو جائے مَاذَا عَلَيْهِ مِنَ الْوِزْرِ کہ کتنا گناہ ہے اس پر، لَوَقَفَ أَرْبَعِينَ تو وہ البتہ کھڑا رہے چالیس تک۔ وزر کہتے ہیں بوجھ کو بوجھ کو، مراد گناہ ہے یہاں، کہ اگر کسی نمازی کے آگے سے گزرنے والے کو معلوم ہو جائے کہ اس پر کتنا بوجھ ہے یعنی کتنا گناہ ہے اس کا، لَوَقَفَ أَرْبَعِينَ تو وہ چالیس کھڑا رہے۔ راوی فرماتے ہیں کہ میں نہیں جانتا یعنی کوئی بھول گئے ہوں گے کہ حضور علیہ السلام نے کیا فرمایا: چالیس دن کہے، یا چالیس مہینے کہے، یا چالیس سال کہے بھئی، چالیس سال۔ البتہ علماء لکھتے ہیں کہ اور بعض احادیث سے میں چالیس سال کا ذکر آیا ہے، چالیس اگر نمازی کو پتہ لگ جائے اگر کسی شخص کو پتہ لگ جائے کہ نمازی سے کے آگے سے گزرنے کا کتنا گناہ ہوتا ہے تو وہ چالیس سال کھڑا رہے، اتنا انتظار کر لے، لیکن نمازی کے آگے سے وہ نہیں گزرے گا، کتنا عظیم اس گناہ سے اتنا بچنے کی کوشش کرے گا بھئی۔ اچھا بھئی، مسئلہ ذکر ہوا کہ اگر کوئی عورت گزر گئی نمازی کے آگے سے تو اس کی نماز پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ اس مسئلے کو ذکر کیا اس لیے کیونکہ بعض فقہاء کے نزدیک اس اگر نمازی کے آگے سے عورت گزرے تو اس کی نماز جو ہے وہ فاسد ہو جائے گی، اور وہ روایت ذکر کرتے ہیں کہ حدیث کے اندر آتا ہے کہ اگر نمازی کے سامنے سے عورت گزر جائے یا گدھا گزر جائے یا اسی طرح کتا گزر جائے تو اس کی نماز فاسد ہو جاتی ہے، نماز کیا ہو جاتی ہے؟ فاسد ہو جاتی ہے۔ تو یہ روایت حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو بھی پہنچی بھئی، تو وہ اس پر بڑی غضب ناک ہوئیں، بڑی ناراض ہوئیں، اور فرمانے لگیں: اے اہلِ عراق، اے اہلِ عراق اور اے اہلِ نفاق، اے اہلِ شقاق، تم لوگوں نے اور ہم عورتوں کو کتوں اور گدھوں کے ساتھ ملا دیا ہے؟ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم حجرے میں نماز پڑھا کرتے تھے اور میں اس طرح لیٹی ہوتی کہ میرے پاؤں وغیرہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہوتا تھا، اور پھر جب حضور علیہ السلام سجدے میں جانے لگتے تو میں پاؤں سمیٹ لیتی تھی اور پھر جب وہ سجدے سے اٹھ جاتے تو میں پھر پاؤں لمبے کر لیتی تھی۔ اس سے کیا معلوم ہوا؟ اس حدیث سے کہ جب عورت سامنے ہو تو پھر نماز نہیں ٹوٹتی تو آگے گزرنے سے تو بطریقِ اولیٰ نماز نہیں ٹوٹے گی بھئی۔ تو ہم احناف کے نزدیک اس سے نماز پر کوئی اثر نہیں پڑتا بھئی۔ اچھا جی، آگے دیکھیے کتاب پر بھئی۔ وَإِنَّمَا يَأْثَمُ إِذَا مَرَّ فِي مَوْضِعِ سُجُودِهِ عَلَى مَا قِيلَ، يَرْحَمُكَ اللّٰهُ، اچھا بھئی، بات یہ ہو رہی ہے کہ نمازی کے آگے سے نہیں گزرنا چاہیے کیونکہ حدیث میں آیا کہ اگر نمازی کے آگے سے کوئی کسی کو پتہ لگ جائے گزرنے والے کو کہ کتنا گناہ ہوتا ہے تو وہ چالیس سال تک کھڑا رہے لیکن اس کے آگے سے نہ گزرے۔ اب کس کس مقام سے گزرے گا تو اس کو کہیں گے یہ نمازی کے آگے سے گزرا ہے؟ کتنی قریب سے گزرے اور کتنی دور سے گزرنے کی گنجائش ہے؟ وہ ذکر فرما رہے ہیں۔ تو فرماتے ہیں: وَإِنَّمَا يَأْثَمُ إِذَا مَرَّ فِي مَوْضِعِ سُجُودِهِ کہ وہ شخص گناہ گار ہوگا گزرنے والا جب وہ گزرے فِي مَوْضِعِ سُجُودِهِ اس نمازی کے سجدے کی جگہ سے۔ اس سجدے کی جگہ کے میں سے گزرے، کس جگہ سے؟ ہاں، یعنی اس کے اندر اندر سے گزرے، عَلَى مَا قِيلَ بنا پر اس کے جو کہا گیا ہے، وَلَا يَكُونُ بَيْنَهُمَا حَائِلٌ اور ان کے درمیان کوئی حائل اور کوئی آڑ اور کوئی رکاوٹ بھی نہ ہو بھئی۔ وَيُحَاذِي أَعْضَاءَ الْمَارِّ أَعْضَاؤُهُ لَوْ كَانَ يُصَلِّي عَلَى الدُّكَّانِ اور برابر ہو جائیں گزرنے والے کے اعضا نمازی کے اعضا کے اگر نماز پڑھنے والا نماز پڑھ رہا ہو عَلَى الدُّكَّانِ کسی چبوترے پر بھئی، کسی چبوترے یعنی اونچی جگہ پر۔ ایک آدمی ہے وہ ذرا اونچی جگہ پر نماز پڑھ رہا ہے تو یعنی یوں سمجھیں سر کے برابر اونچی جگہ ہے، تو اب وہ جو سامنے نیچی جگہ ہے وہاں سے کوئی گزرتا ہے تو اس کو گزرنے والا نہیں کہا جائے گا اس لیے کیونکہ اس کے اعضا نمازی کے اعضا کے مقابل نہیں آئے، نماز پڑھنے والا تو اس کے سر سے بھی اونچا ہے۔ ہاں اگر دو تین فٹ صرف اونچی جگہ تھی جس پر وہ نماز پڑھ رہا ہے اور سامنے جو گزرنے والی جگہ ہے وہ دو تین فٹ اس نماز کی جگہ سے نیچے ہے، اب جب گزرے گا تو اعضا اس کے مقابل آئیں گے یا نہیں آئیں گے؟ اعضا اس کے مقابل آئیں گے نمازی کے اعضا گزرنے والے کے اعضا نمازی کے اعضا کے سامنے آئیں گے مقابل آئیں گے تو پھر اس صورت میں گناہ گار ہوگا بھئی، گناہ گار۔ اور یاد رکھیے یہ جو ذکر کیا یہ صحرا میں یا ایسی جگہ جہاں کوئی رکاوٹ نہیں، کھلی جگہ ہے، اس بارے میں یہ مسئلہ ذکر ہوا کہ کتنی جگہ سے وہ گزرے تو گناہ گار ہوگا؟ سجدے کی جگہ کے اندر سے۔ بعضوں نے کہا کہ نہیں، سجدے کی جگہ پر اگر نمازی کی نظر ہو اور پھر جہاں تک اس کی نظر پہنچ رہی ہو۔ بھئی جب انسان ایک چیز پر نظر ڈالتا ہے تو نظر صرف اسی وہی چیز نظر آتی ہے یا اس کے اردگرد کی بھی کچھ چیزیں نظر آتی رہتی ہیں؟ ہاں، آپ ایک سیدھا مثلاً آپ گھڑی کو مثلاً سامنے دیکھ رہے ہیں تو پھر بھی گھڑی کے اس دائیں بائیں چیزیں بھی آپ کو نظر، تو اسی طرح جب نماز پڑھنے والا نماز میں سجدے کی جگہ پر نظر رکھے گا تو کچھ تھوڑی سی آگے کی چیزیں بھی اس کو نظر آئیں گی۔ تو یہ جہاں تک اس کی نظر جا رہی ہے، نگاہیں ہیں کس جگہ پر؟ سجدے کی جگہ پر۔ اسی حالت میں جہاں تک کچھ دکھائی دے رہا ہے اس جگہ میں سے کوئی گزرے تو گناہ گار ہوگا، اس کے آگے سے گزرے تو گناہ گار نہیں ہوگا بھئی، گناہ گار نہیں ہوگا۔ تو بعضوں نے اس کی مقدار دو صفیں بیان کی، بعضوں نے تین صفوں تک بیان کی، لیکن یہ صحرا کا حکم ہے۔ اور مسجد کے اندر؟ مسجد کے اندر کتنی آگے سے گزرنے والا گناہ گار ہوگا اور کون گزر گناہ گار نہیں؟ تو اس میں بعضوں نے لکھا کہ مسجد میں تو نمازی سے لے کر اگ اگلے حصے تک مسجد کے اس درمیان میں کہیں سے بھی نہیں گزرنا چاہیے۔ بعضوں نے کہا پچاس ذراع آگے سے، یعنی پچھتر فٹ آگے سے کوئی گزرنا چاہے مسجد کے اندر ہی ہے وہ جگہ تو پچھتر فٹ آگے سے گزرنا چاہے تو گزر سکتا ہے، اس سے درمیان سے قریب سے اور درمیان میں سے نہیں گزر سکتا۔ تو اس مسئلے میں خصوصاً بڑی احتیاط کرنی چاہیے بھئی، خصوصاً بڑی احتیاط۔ وَيَنْبَغِي لِمَنْ يُصَلِّي فِي الصَّحْرَاءِ أَنْ يَتَّخِذَ أَمَامَهُ سُتْرَةً اور مناسب ہے اس شخص کے لیے جو نماز پڑھ رہا ہو صحرا کے اندر أَنْ يَتَّخِذَ أَمَامَهُ سُتْرَةً کہ وہ بنا لے اپنے سامنے، پکڑ لے اپنے سامنے سُتْرَةً کوئی سترہ۔ سترہ بھئی وہ چیز جس کو نماز پڑھنے والا اپنے آگے کوئی لکڑی وغیرہ یا کوئی ایسی رکاوٹ یا کوئی لکڑی گاڑ دیتا ہے تاکہ آگے سے کوئی گزرنا چاہے تو گزر سکے بھئی، گزر سکے، تو اس کو سترہ کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ سترہ کہتے ہیں۔ تو کہتے ہیں: وَيَنْبَغِي لِمَنْ يُصَلِّي فِي الصَّحْرَاءِ اور مناسب ہے اس شخص کے لیے جو صحرا میں نماز پڑھ رہا ہو، مراد یعنی کھلی جگہ ہے کہیں بھی کوئی بھی جگہ، وہاں پر نماز پڑھ رہا ہے اس کے لیے مناسب یہ ہے أَنْ يَتَّخِذَ أَمَامَهُ سُتْرَةً کہ وہ اپنے آگے سترہ پکڑ لے یعنی سترہ بنا لے، کسی لکڑی وغیرہ کو کھڑا کر دے، لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ بوجہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کے: ”إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فِي الصَّحْرَاءِ فَلْيَجْعَلْ بَيْنَ يَدَيْهِ سُتْرَةً“ کہ تم میں سے جو شخص صحرا کے اندر نماز پڑھے تو اس کو چاہیے کہ وہ اپنے سامنے کوئی سترہ مقر سترہ بنا لے، کوئی سترہ لگا دے بھئی۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ وَمِقْدَارُهَا ذِرَاعٌ فَصَاعِدًا اور سترے کی مقدار کتنی ہونی چاہیے؟ کتنا اونچا کم از کم ہونا چاہیے؟ کہتے ہیں: وَمِقْدَارُهَا ذِرَاعٌ فَصَاعِدًا اور سترے کی مقدار جو ہے ایک ذراع ہے فَصَاعِدًا یا اس سے زیادہ۔ کم از کم یعنی ایک ذراع ہو یا اس سے زیادہ ہو، جتنا زیادہ ہو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ تو ایک ذراع، اور ذراع کیا ہے؟ شرعی گز ہے یعنی ڈیڑھ فٹ، یعنی وہ سترہ زمین سے ڈیڑھ فٹ اونچا ہو بھئی۔ لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ بوجہ حضور علیہ السلام کے اس قول کے: ”أَيَعْجِزُ أَحَدُكُمْ إِذَا صَلَّى فِي الصَّحْرَاءِ أَنْ يَكُونَ أَمَامَهُ مِثْلُ مُؤْخِرَةِ الرَّحْلِ؟“ کیا تم میں سے کوئی شخص عاجز ہے اس بات سے کہ جب وہ صحرا میں نماز پڑھے تو یہ کہ اس کے سامنے ہو اس کے سامنے ہو کیا؟ مِثْلُ مُؤْخِرَةِ الرَّحْلِ۔ رحل کہتے ہیں کجاوے کو کجاوے کو، مؤخرۃ کنارہ کنارہ، کجاوے کے کنارے کے مثل کوئی چیز اس کے سامنے ہو۔ کیا اس سے بھی جو شخص صحرا میں نماز پڑھتا ہے کیا وہ اس بات سے عاجز ہے کہ اس کے سامنے کجاوے کے کنارے جیسی کوئی چیز ہو؟ یعنی اس کے کجاوے کے کنارے جیسی کسی چیز کو اپنے سامنے رکھ لے، کیا اس سے بھی وہ عاجز ہے، اتنا بھی وہ نہیں کر سکتا؟ معنی سمجھ میں آیا؟ حدیث میں کیا ہے کہ کیا تم میں سے کوئی شخص عاجز ہے اس بات سے کہ جب وہ صحرا میں نماز پڑھے کہ اس کے سامنے کجاوے کے کنارے کے جیسی کوئی چیز ہو؟ اور کجاوہ آپ جانتے ہیں وہ اس میں کنارے پر جو لکڑیاں لگی ہوتی ہیں اس کی لمبائی تقریباً یہ ایک ذراع ہی بنتی ہے بھئی، کتنی؟ ایک ذراع۔ معلوم ہوا ایک ذراع اونچائی ہونی چاہیے کم از کم سترے کی۔ وَقِيلَ: يَنْبَغِي أَنْ يَكُونَ فِي غِلَظِ الْإِصْبَعِ اور کہا گیا ہے: مناسب یہ ہے کہ وہ سترہ جو ہے انگلی کی موٹائی میں ہو یعنی اس کے برابر ہو، لِأَنَّ مَا دُونَهُ لَا يَبْدُو لِلنَّاظِرِينَ مِنْ بَعِيدٍ اس لیے کیونکہ اس سے کم جو ہے یعنی انگلی کی موٹائی سے بھی کم باریک یعنی باریک ہے تو وہ تو ظاہر ہی نہیں ہوگا دیکھنے والوں کو، ان کو نظر ہی نہیں آئے گا مِنْ بَعِيدٍ دور سے، فَلَا يَحْصُلُ الْمَقْصُودُ تو مقصد حاصل نہیں ہوگا، مقصد حاصل نہیں ہوگا۔ وَيَقْرُبُ مِنَ السُّتْرَةِ اور نماز پڑھنے والا سترے کے قریب رہے، یعنی سترے کے قریب نماز پڑھے، سترہ سر کے قریب ہی ہو، لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ بوجہ حضور علیہ السلام کے اس قول کے: ”مَنْ صَلَّى إِلَى سُتْرَةٍ فَلْيَدْنُ مِنْهَا“ اور جو شخص نماز پڑھے سترے کی طرف یعنی یعنی جس کے سامنے سترہ ہو، تو جو جو نماز پڑھے سترے کی طرف فَلْيَدْنُ مِنْهَا تو اس کو چاہیے کہ اس کے قریب ہو۔ وَيَجْعَلُ السُّتْرَةَ عَلَى حَاجِبِهِ الْأَيْمَنِ أَوِ الْأَيْسَرِ۔ حاجب کہتے ہیں بھووں کو بھووں کو۔ یہ جو آنکھ اور ماتھے کے درمیان ماتھے جہاں سے ماتھا شروع ہو رہا ہے تو یہ جو ماتھے اور آنکھ کے درمیان یہ جو بال ہیں ہڈی کے کنارے پر، یہ ہے حاجب بھئی حاجب۔ اردو میں ان کو کیا کہتے ہیں؟ بھویں۔ تو اب یہ جو سترہ رکھا جائے یاد رکھیے یہ بالکل درمیان میں نہ ہو بلکہ دائیں حاجب کی سیدھ میں ہو یا بائیں حاجب کی سیدھ میں ہونا چاہیے۔ یہ معنی ہے: وَيَجْعَلُ السُّتْرَةَ عَلَى حَاجِبِهِ الْأَيْمَنِ أَوِ الْأَيْسَرِ اور کر دے سترے کو اپنی دائیں حاجب پر یا بائیں حاجب پر یعنی اس کی سیدھ میں رکھے، بِهِ وَرَدَ الْأَثَرُ اسی کے ساتھ اثر یعنی حدیث وارد ہوئی ہے۔ وَلَا بَأْسَ بِتَرْكِ السُّتْرَةِ إِذَا أَمِنَ الْمُرُورَ وَلَمْ يُوَاجِهِ الطَّرِيقَ اور کوئی حرج نہیں ہے سترے کو ترک کر دینے میں، یعنی سترہ رکھنا ضروری نہیں ہے، سترہ نہ رکھنا چاہے اس کو چھوڑ دے یہ بھی کر سکتا ہے، کب؟ إِذَا أَمِنَ الْمُرُورَ جب یہ شخص مامون ہو گزرنے سے یعنی وہاں سے کسی گزر کسی کے گزرنے کا احتمال نہیں ہے، وَلَمْ يُوَاجِهِ الطَّرِيقَ اور یہ راستے کے سامنے بھی نہیں ہے۔ ہاں راستے کے سامنے ہے یہاں یا وہاں سے کوئی شخص گزر سکتا ہے تو پھر سترہ رکھنا چاہیے، ورنہ ویسے سترہ چھوڑ بھی دے کوئی حرج نہیں۔ وَسُتْرَةُ الْإِمَامِ سُتْرَةٌ لِلْقَوْمِ اور امام کا جو سترہ ہے وہ لوگوں کا بھی یعنی جو مقتدی ہیں اس کے ان کا بھی سترہ ہے، لِأَنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ صَلَّى بِبَطْحَاءِ مَكَّةَ إِلَى عَنَزَةٍ وَلَمْ يَكُنْ لِلْقَوْمِ سُتْرَةٌ اس لیے کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی کس میں؟ بِبَطْحَاءِ مَكَّةَ، اس میں نماز پڑھی بِبَطْحَاءِ مَكَّةَ، بطحاء کہتے ہیں وادی کو، مکہ کی وادی میں إِلَى عَنَزَةٍ، ایک عنزہ کہتے ہیں وہ لکڑی جس کے کنارے پر کوئی نوک دار چیز لگی ہوئی ہو، جیسا نیزے میں ہوتا ہے، نیزے کے کنارے پر کیا لگی ہوتی ہے؟ نوک دار نوک دار چیز لگی ہوتی ہے، کوئی نوک دار لوہا وغیرہ یا اس جیسی چیز لگی ہوتی ہے، تو تو بہرحال یہ نیزہ نہیں نیزہ نہیں مراد بلکہ عام لکڑی جس کے کنارے پر کیا ہو؟ کوئی نوک دار چیز لگا دی جائے۔ تو حضور علیہ السلام نے مکہ کی وادی میں ایک نوک دار لکڑی کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی یعنی وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تھا، وَلَمْ يَكُنْ لِلْقَوْمِ سُتْرَةٌ اور باقی لوگوں کے لیے سترہ نہیں تھا۔ تو باقی لوگوں کے لیے سترہ نہیں تھا، صرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم جو امامت فرما رہے تھے آپ کے سامنے سترہ تھا، اس سے معلوم ہوا کہ امام کا سترہ سب لوگوں کے لیے، سب مقتدیوں کے لیے بھی سترہ ہے بھئی۔ تو سامنے سے کوئی آدمی گزرنا چاہے اس سترے کے آگے سے تو گزر سکتا ہے۔ اب دیکھیے بےشک کئی نمازیوں کے سامنے سے گزر رہا ہے، سترہ صرف کس کے سامنے ہے؟ امام کے سامنے، کوئی حرج نہیں بھئی۔ طریقہ ہی یہی ہے، بےفکر ہو کر انسان گزر جائے کیونکہ سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا ہے کہ آپ کے سامنے صرف سترہ تھا باقیوں کے سامنے سترہ نہیں تھا۔ وَيُعْتَبَرُ الْغَرْزُ دُونَ الْإِلْقَاءِ غرز کا معنی ہے گاڑ دینا، اور اس سترے کا زمین میں گاڑ دینا اس کا یہ معتبر ہے، اس کا اعتبار کیا جائے گا دُونَ الْإِلْقَاءِ وَالْخَطِّ نہ کہ اس کو زمین پر ڈال دینا وَالْخَطِّ یا اور خط کھینچنا یعنی زمین پر لکیر کھینچ دینا۔ بعض فقہاء فرماتے ہیں جیسے امام شافعی رحمہ اللہ وغیرہ کہ اگر اور کوئی چیز نہ ہو تو پھر کیا کر دے؟ اپنے سامنے ایک لکیر کھینچ دے زمین پر، یعنی آگے کی طرف لمبائی میں، آگے کی طرف لمبائی میں ایک لکیر کھینچ دے تو بھی کوئی اس کے آگے سے گزرنا چاہے تو گزر سکتا ہے، لیکن ہمارے نزدیک یہ لکیر کھینچنے کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ اسی طرح اگر لکڑی ہے اس کو سامنے گاڑنے کے بجائے اور کھڑا کرنے کے بجائے اس کو سامنے زمین پر لٹا دیتا ہے، اس کو اس کو زمین پر لٹا دیتا ہے اور زمین پر ڈال دیتا ہے تو اس زمین پر ڈالنے کا اعتبار نہیں ہے بلکہ کیا کرنا پڑے گا؟ اس کو زمین میں گاڑنا پڑے گا کہ وہ سامنے لکڑی کھڑی ہو جائے اور وہ رکاوٹ بن جائے نمازی کے درمیان اور گزرنے والے کے درمیان بھئی۔ ہاں البتہ اگر کوئی ایسی جگہ ہے کہ زمین سخت ہے وہاں وہ لکڑی کو گاڑ ہی نہیں سکتا یا گاڑنا بڑا مشکل ہے تو پھر اس صورت میں اس کو زمین پر ڈال دینا بھی جائز ہے، لیکن پھر لمبائی کے رخ ڈالے، چوڑائی میں نہیں، تاکہ جس طرح گاڑا جاتا ہے اسی شکل پر ہو جائے لمبائی میں، یعنی اس لکڑی کا ایک سرا نمازی کے سر کی طرف ہے تو دوسرا سرا آگے قبلے کی طرف ہو، اس طرح لمبائی میں ڈال دے۔ تو کہتے ہیں: وَيُعْتَبَرُ الْغَرْزُ دُونَ الْإِلْقَاءِ وَالْخَطِّ اور معتبر جو ہے اس سترے کو گاڑ دینا ہے نہ کہ اس کو زمین پر ڈالنا اور نہ خط کھینچنا لکیر لگانا، لِأَنَّ الْمَقْصُودَ لَا يَحْصُلُ بِهِ اس لیے کیونکہ مقصد کیا ہے؟ وہ اس سے حاصل نہیں ہوگا، خط کھینچنے سے یا زمین پر ڈالنے سے مقصد حاصل نہیں ہوگا، اس لیے کیونکہ مقصد تو کیا ہے؟ نما جو گزرنے والے کو دور کرنا ہے کہ وہ ادھر سے نہ گزرے بلکہ اس کے دوسری طرف سے گزرے، تو وہ خط وغیرہ کھینچنے سے حاصل نہیں ہوگا۔ وَيَدْرَأُ الْمَارَّ إِذَا لَمْ يَكُنْ بَيْنَ يَدَيْهِ سُتْرَةٌ أَوْ مَرَّ بَيْنَهُ وَبَيْنَ السُّتْرَةِ۔ صورت یہ: ایک شخص نے ایک شخص نماز پڑھ رہا ہے اور اس نے سامنے سترہ بھی لگایا ہے۔ اب کوئی شخص اس نمازی اور سترے کے درمیان سے گزرنا چاہتا ہے تو اس کو دور کرے، اس کو کیا کرے؟ اس کو روکے، اس کو اشارہ کر دے کہ میں کیا کر رہا ہوں؟ نماز پڑھ رہا ہوں۔ تو اس کو دور کرے تو اگر سترے اور اس کے درمیان سے گزر رہا ہے، یا سامنے سترہ نہیں ہے اور کوئی اس کے آگے سے گزرنا چاہتا ہے تو اس کو دور کرے یعنی اشارہ کرے کہ میں نماز پڑھ رہا ہوں۔ تو کہتے ہیں: يَدْرَأُ الْمَارَّ إِذَا لَمْ يَكُنْ بَيْنَ يَدَيْهِ سُتْرَةٌ دور کرے گزرنے والے کو جب اس نمازی کے سامنے کوئی سترہ نہ ہو، یا سترہ تو ہے لیکن مَرَّ بَيْنَهُ وَبَيْنَ السُّتْرَةِ وہ گزرنے والا اس نمازی اور اس کے سترے کے درمیان سے گزرتا ہے تو اس کو دور کرے، لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ بوجہ حضور علیہ السلام کے اس قول کے: ”فَادْرَءُوا مَا اسْتَطَعْتُمْ“ کہ تم دور کرو جس قدر تم سے ہو سکے، جس قدر تم میں استطاعت ہو یعنی جتنا تم سے ہو سکے۔ اب دور کس طرح کرے گا؟ وہ بتلا رہے ہیں: وَيَدْرَأُ بِالْإِشَارَةِ اور دور کرے اس کو اشارے سے، كَمَا فَعَلَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَلَدَيْ أُمِّ سَلَمَةَ جیسے کہ حضور علیہ السلام نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے دو بیٹوں کو کو اشارہ ان کے ساتھ کیا تھا، یعنی جیسے ان کو اشارہ کیا تھا۔ تو یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے وہ نماز پڑھ رہے تھے سامنے سے گزر رہے گزرنے لگے تو حضور علیہ السلام نے ان کو ہاتھ کے اشارے سے منع فرمایا۔ اور پھر جو بیٹا تھا چھوٹا سا، چھوٹے بچے تھے، وہ بیٹا جو تھا وہ تو رک گیا، البتہ جو ان کی بیٹی تھی وہ سامنے سے گزر گئی تو حضور علیہ السلام نے کچھ ناراضگی والے الفاظ بھی کہے بھئی بعد میں۔ أَوْ يَدْفَعُ بِالتَّسْبِيحِ لِمَا رَوَيْنَا اور یا دور کرے اس کو بالتسبیح، کس کے ساتھ؟ تسبیح کے ساتھ، یعنی زور سے سُبْحَانَ اللّٰهِ یا لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وغیرہ کہہ دے، لِمَا رَوَيْنَا مِنْ قَبْلُ اس حدیث کی وجہ سے جو ہم نے اس سے پہلے روایت کی، وہ کیا حدیث آئی تھی؟ کہ تم میں سے اگر کسی کو نماز میں کوئی واقعہ پیش آئے تو کیا کرے؟ تو پھر تس تو اسے نمازی کو چاہیے کہ وہ تسبیح پڑھے بھئی۔ وَيُكْرَهُ الْجَمْعُ بَيْنَهُمَا اور ان دونوں کو جمع کرنا مکروہ ہے کہ اشارہ بھی کرے اور تسبیح بھی پڑھے، تو دونوں کو جمع کرنا مکروہ ہے، لِأَنَّ بِأَحَدِهِمَا كِفَايَةً اس لیے کیونکہ ان دونوں میں سے ایک کے ساتھ کفایت ہو جائے گی۔ ایک جب کافی ہو جائے گا تو دونوں چیزیں نہ کرے کہ تسبیح بھی کہے زور سے اور اور اشارہ وغیرہ بھی ہاتھ سے کرے، بھئی دونوں نہ کرے بھئی۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔