”وَإِنْ سَبَقَهُ الْحَدَثُ بَعْدَ التَّشَهُّدِ تَوَضَّأَ وَسَلَّمَ لِأَنَّ التَّسْلِيمَ وَاجِبٌ فَلَا بُدَّ مِنَ التَّوَضُّئِ لِيَأْتِيَ بِهِ، وَإِنْ تَعَمَّدَ الْحَدَثَ فِي هَذِهِ الْحَالَةِ أَوْ تَكَلَّمَ أَوْ عَمِلَ عَمَلًا يُنَافِي الصَّلَاةَ تَمَّتْ صَلَاتُهُ لِأَنَّهُ تَعَذَّرَ الْبِنَاءُ لِوُجُودِ الْقَاطِعِ“ نماز میں کسی کو حدث پیش آ جائے اس سے متعلقہ مسائل ذکر فرما رہے ہیں صاحبِ ہدایہ۔ تو فرماتے ہیں: ”وَإِنْ سَبَقَهُ الْحَدَثُ بَعْدَ التَّشَهُّدِ تَوَضَّأَ وَسَلَّمَ“ اور اگر نماز پڑھنے والے کو حدث پیش آیا، سبقہ الحدث، اس کو حدث پیش آیا، بعد التشہد، تشہد کے بعد۔ آپ نے پڑھا ہے آخری قعدہ تشہد کی مقدار بیٹھنا یہ فرض ہے، اس کے بعد اس کو حدث پیش آیا تو وضو کرے اور سلام پھیرے، پھر جائے جا کر کیا کرے؟ وضو کرے اور آ کر بیٹھ کر پھر سلام پھیر دے۔ اور یہ بھی یاد رکھیے آگے خود بھی بتلائیں گے کہ یہ وہ صورت ہے جب اس کو خود غیر اختیاری حدث پیش آیا ہے، غیر اختیاری۔ تو اگر اس کو حدث پیش آیا تشہد کے بعد تو جائے، وضو کرے اور سلام پھیرے ”لِأَنَّ التَّسْلِيمَ وَاجِبٌ“ کیونکہ سلام کرنا واجب ہے، عند الاحناف سلام بھئی واجب ہے ”فَلَا بُدَّ مِنَ التَّوَضُّئِ لِيَأْتِيَ بِهِ“ تو ضروری ہے وضو کرنا تاکہ اس کو ادا کرے۔ تو سلام کو ادا کرنے کے لیے پھر وضو کرے گا، پھر ادا کرے گا۔ ”وَإِنْ تَعَمَّدَ الْحَدَثَ فِي هَذِهِ الْحَالَةِ أَوْ تَكَلَّمَ أَوْ عَمِلَ عَمَلًا يُنَافِي الصَّلَاةَ تَمَّتْ صَلَاتُهُ“ اور اگر اس نے جان بوجھ کر حدث لاحق کیا فی ھذہ الحالۃ، اس حالت میں، یعنی تشہد کی مقدار کے بعد اگر کسی نے جان بوجھ کر وضو توڑا ”أَوْ تَكَلَّمَ“ یا کسی سے کلام کیا ”أَوْ عَمِلَ عَمَلًا يُنَافِي الصَّلَاةَ“ یا کوئی ایسا عمل کیا جو نماز کے منافی ہے ”تَمَّتْ صَلَاتُهُ“ تو اس کی نماز پوری ہو گئی ”لِأَنَّهُ تَعَذَّرَ الْبِنَاءُ لِوُجُودِ الْقَاطِعِ“ اس لیے کیونکہ اب بنا ممکن نہ رہی لوجود القاطع، نماز کو قطع کرنے والی چیز کے پائے جانے کی وجہ سے۔ کیونکہ اب ایسی چیز آ گئی جو نماز کو توڑنے والی ہے۔ سمجھ میں آیا جی؟ یہ جب جان بوجھ کر حدث لاحق کیا یا کلام کیا کسی سے وہ بھی جان بوجھ کر ہوتا ہے، عمل کیا کوئی نماز کے منافی وہ بھی ارادے سے ہو گا، تو یہ سب چیزیں کیا کرنے والی ہیں؟ نماز کو توڑنے والی ہیں۔ لہٰذا اب بنا بھی نہیں کر سکتا، بنا بھی نہیں کر سکتا۔ تو ہاں البتہ اس نے برا کیا، برا عمل کیا۔ نماز سے نکلنا تو کیسے چاہیے تھا؟ سلام کر کے۔ اگر غیر اختیاری وضو ٹوٹا ہوتا تو جیسے انہوں نے بتایا جا کر وضو کر کے آتا اور آ کر پھر بیٹھ کر سلام پھیر دیتا۔ لیکن اب تو بنا بھی نہیں ہو سکتی کیونکہ ایسی چیز درمیان میں آ گئی جو نماز کو توڑنے والی ہے۔ یہ معنی ہے ”لِأَنَّهُ تَعَذَّرَ الْبِنَاءُ لِوُجُودِ الْقَاطِعِ“ اس لیے کیونکہ اب بنا کرنا ممکن نہ رہا لوجود القاطع، توڑنے والی چیز کے پائے جانے کی وجہ سے۔ ”لَكِنْ لَا إِعَادَةَ عَلَيْهِ“ لیکن اس پر اعادہ نہیں نماز کا، نماز کا اعادہ نہیں ہے ”لِأَنَّهُ لَمْ يَبْقَ عَلَيْهِ شَيْءٌ مِنَ الْأَرْكَانِ“ اس لیے کیونکہ اس پر کوئی بھی چیز ارکان میں سے باقی نہیں رہی۔ نماز کے تمام فرائض پورے ہو چکے ہیں، تمام ارکان پورے ہو چکے ہیں۔ آخری قعدہ جو ہے اس میں بھی تشہد کی مقدار بیٹھنے کے بعد یہ چیز پیش آئی ہے، تو نماز پوری ہو گئی بھئی۔ البتہ میں نے بتایا کہ گناہ گار ہو گا کیونکہ اس نے اس نے سلام کے ساتھ نماز سے نکلنا چاہیے تھا اس کو اس نے چھوڑ دیا۔ ”فَإِنْ رَأَى الْمُتَيَمِّمُ الْمَاءَ فِي صَلَاتِهِ بَطَلَتْ وَقَدْ مَرَّ مِنْ قَبْلُ“ اور اگر دیکھے تیمم کرنے والا پانی کو اپنی نماز میں تو اس کی نماز باطل ہو جاتی ہے وقد مر من قبل، اور تحقیق یہ بات گزر چکی ہے اس سے پہلے بھئی۔ تیمم کے باب میں یہ بات بیان ہوئی تھی کہ اگر تیمم کرنے والا پانی کو دیکھ لے اور یا پانی کے استعمال پر قادر ہو جائے تو اس کا تیمم ختم ہو جاتا ہے، تیمم ختم ہو جاتا ہے۔ تو اگر نماز کے بعد یہ حالت پیش آئی، نماز پڑھ چکا ہے تیمم کے ساتھ، اب پانی ملا، اب پانی کے استعمال پر قادر ہوا پھر تو نماز تیمم کے ساتھ ہوئی تھی کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ لیکن اگر نماز کے بیچ میں پانی مل گیا اور پانی کے استعمال پر وہ قادر ہے تو یاد رکھیے اس صورت میں اس کی نماز ہی فاسد ہو جائے گی۔ کیوں؟ وجہ یہ کہ مٹی جو ہے وہ وہ حدث کو دور کرنے والی ہے کس وقت؟ جب پانی موجود نہ ہو یا پانی کے استعمال پر قادر نہ ہو۔ تو لہٰذا مٹی مطہر ہے جب تک پانی نہیں۔ اور جب پانی مل گیا تو مٹی کا مطہر ہونا ختم ہو گیا۔ اور وہ جو سابقہ حدث تھا اب وہ ظاہر ہو جائے گا۔ تو گویا یوں ہی ہو گیا بے وضو ہی نماز پڑھ رہا تھا اور بے وضو تو نماز ہوتی نہیں تو نماز کیا ہو جائے گی؟ فاسد ہو جائے گی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو وہ سابقہ حدث ہی ظاہر ہو گا جب پانی مل جائے گا۔ تو یہ بات پہلے گزر چکی۔ ”فَإِنْ رَآهُ بَعْدَمَا قَعَدَ قَدْرَ التَّشَهُّدِ“ پس اگر پانی کو اس نے دیکھا تشہد کی مقدار بیٹھنے کے بعد، ایک شخص ہے اس نے تیمم کیا تھا اور اس کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا اور تشہد کی مقدار بیٹھنے کے بعد، یعنی فرض پورا کر لینے کے بعد اس نے پانی کو دیکھ لیا، پانی کو دیکھ لیا ”أَوْ كَانَ مَاسِحًا“ یاد رکھیے یہ ہیں مسائلِ اثنا عشریہ۔ مسائلِ اثنا عشریہ کے نام سے یہ مشہور ہیں اور یہ بارہ مسائل ہیں بارہ مسائل، جس میں تشہد کے بعد مختلف جو عوارض پیش آتے ہیں اور ان میں امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک اس کی نماز باطل ہو جائے گی، جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ اس کی نماز پوری ہو جائے گی بھئی۔ تو یہ وہ بارہ مسائل ہیں، بارہ صورتیں ہیں، وہ ذکر کر رہے ہیں۔ پہلی صورت کیا؟ ”فَإِنْ رَآهُ بَعْدَمَا قَعَدَ قَدْرَ التَّشَهُّدِ“ اگر تیمم کرنے والے نے پانی کو دیکھا بعد اس کے جبکہ وہ بیٹھ گیا تھا تشہد کی مقدار۔ ”أَوْ كَانَ مَاسِحًا فَانْقَضَتْ مُدَّةُ مَسْحِهِ“ یا وہ نماز پڑھنے والا مسح کرنے والا تھا تو اس کی مدتِ مسح پوری ہو گئی۔ یعنی اس نے مسح کیا تھا موزوں پر اور آپ جانتے ہیں کہ مقیم شخص ایک دن اور ایک رات اور مسافر تین دن اور تین راتوں تک موزوں پر مسلسل مسح کر سکتا ہے بغیر اتارے ہی۔ تو اب یہ شخص جس نے موزوں پر مسح کیا ہوا تھا جب تشہد کی مقدار بیٹھ چکا تو اس کے بعد عین وہی وقت آ گیا کہ اس کے تین دن پورے ہو رہے ہیں اگر مسافر ہے، یا مقیم ہے تو ایک دن ایک رات اس کے پورے ہوئے۔ اور یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ موزے پہنتے ہی فوراً مدت شمار نہیں کریں گے بلکہ جب حدث لاحق ہو گا اس وقت سے مدت شمار، تو اس اعتبار سے پورا وہ وقت ہو گیا یعنی وہ اس کی مدتِ مسح پوری ہو گئی۔ یہ دوسری صورت۔ ”أَوْ خَلَعَ خُفَّيْهِ بِعَمَلٍ يَسِيرٍ“ یا اتار دیا اس نے اپنے موزوں کو تھوڑے سے عمل سے۔ عملِ کثیر تو خود منافیِ صلاۃ ہے۔ عملِ قلیل سے اس کا موزہ اتر گیا، مثلاً موزے کھلے موزے تھے، پاؤں ہلانے سے ہی وہ نکل گئے، پاؤں ہلانے سے ہی نکل گئے۔ ایک نکلا ہو، ایک اترا ہو یا دونوں۔ تو یہ تیسری صورت ہو گئی۔ یہ موزے اترے بھئی کس حالت میں؟ تشہد کی مقدار کے بعد، یہ سب صورتوں میں یہ قید یاد رکھنا۔ ”أَوْ كَانَ أُمِّيًّا فَتَعَلَّمَ سُورَةً“ یا وہ شخص امی تھا یعنی فرض کے بقدر قرأت پر قادر بھی نہیں تھا، ”فَتَعَلَّمَ سُورَةً“ تو اس نے ایک سورت سیکھ لی ہے، یاد کر لی۔ یعنی بھولا ہوا تھا، یاد ہی نہیں آ رہی تھی، کوئی بتانے والا بھی نہیں تھا، اس نے اسی طرح نماز شروع کر دی تھی اور یہاں جب تشہد میں پہنچا تو اس کو سورت یاد آ گئی، وہ سورت یاد آ، یا کوئی پاس بیٹھا ہوا تلاوت کر رہا تھا اس سے سن کر خود ہی اس کو کیا ہو گئی؟ وہ یاد ہو گئی، تو کوئی سورت یا فرض کے بقدر جو ہے قرآن میں سے اس کو یاد ہو گیا۔ اور کس وقت؟ تشہد کی مقدار بیٹھنے کے بعد۔ ”أَوْ عُرْيَانًا فَوَجَدَ ثَوْبًا“ یا وہ ننگا تھا تو اس نے کپڑا پا لیا۔ کپڑا تھا ہی نہیں اس کے پاس، کہیں سے بھی نہیں مل رہا، اب وہ ایسے ہی نماز ادا کر رہا ہے اور جب تشہد کی مقدار بیٹھ چکا اس کے بعد اس کو کپڑا مل گیا، کسی نے اسی وقت کوئی آ گیا، دیا اس نے۔ ”أَوْ مُؤْمِيًا فَقَدَرَ عَلَى الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ“ یا وہ اشارے سے نماز پڑھنے والا تھا تو وہ رکوع اور سجدے پر قادر ہو گیا۔ کس وقت؟ تشہد کی مقدار بیٹھنے کے بعد۔ ”أَوْ تَذَكَّرَ فَائِتَةً عَلَيْهِ قَبْلَ هَذِهِ“ یا اس کو یاد آ گئی ایک فوت شدہ نماز جو اس پر تھی اس سے پہلے، جو اس پر باقی تھی اس سے پہلے۔ بھئی یہ صاحبِ ترتیب کی بات آئی۔ یاد رکھیے صاحبِ ترتیب وہ شخص جس کی نماز کوئی قضا نہ ہوئی ہو وہ صاحبِ ترتیب ہے اور اس کی اگر کوئی نماز رہ جائے اور وہ اس سے اگلی ادا کرنا چاہتا ہے تو اس سے اگلی ہو گی نہیں بلکہ پہلے جو رہ گئی ہے اس کی قضا کرنا پڑے گی، وہ قضا کر لے گا تو پھر اگلی نماز ہو گی ورنہ اگلی نماز ہی اس کی نہیں ہو گی الا یہ کہ وقت ہی اتنا تنگ ہو جائے کہ اس میں صرف یہ وقتی نماز ادا ہو سکتی ہے وہ والی پچھلی قضا نہیں، پھر اس صورت میں اس کی یہ اگلی نماز ہو جائے گی ورنہ اگلی نماز ہو گی نہیں جب تک وہ پچھلی نماز نہ پڑھ لے۔ آگے اس کی تفصیلی اس سے متعلقہ مسائل آگے آ رہے ہیں بھئی۔ تو تشہد کے بعد ایک شخص نماز پڑھ چکا ہے، تشہد کی مقدار بیٹھنے کے بعد اس کو یاد آیا کہ میری تو ایک پچھلی نماز باقی ہے بھئی۔ وہ تو اسے یاد خیال ہی نہیں تھا اور شخص وہ شخص بھی کیسا ہے؟ صاحبِ ترتیب ہے بھئی۔ ”أَوْ تَذَكَّرَ فَائِتَةً عَلَيْهِ قَبْلَ هَذِهِ“ یا اس کو یاد آ گئی کوئی فوت شدہ نماز جو اس کے ذمے باقی ہے اس سے پہلے ہی۔ ”أَوْ أَحْدَثَ الْإِمَامُ الْقَارِئُ“ یا حدث لاحق ہوا ایسے امام کو، اس امام کو جو قاری تھا یعنی جس کو کم از کم فرض کے بقدر قرأت آتی تھی ”فَاسْتَخْلَفَ أُمِّيًّا“ تو اس نے امی کو خلیفہ بنا دیا۔ کس کو خلیفہ بنایا؟ امی کو۔ بھئی امام قاری تھا، اس نے خلیفہ بنایا امی کو اور کس وقت بنایا؟ تشہد کی مقدار بیٹھنے کے بعد بنایا۔ ”أَوْ طَلَعَتِ الشَّمْسُ فِي الْفَجْرِ“ یا سورج طلوع ہو گیا فجر کی نماز میں۔ اور کس وقت بھئی؟ یہ تشہد کی مقدار بیٹھ چکا ہے اس کے بعد طلوع ہوا ہے۔ بھئی دیکھیے، سورج طلوع ہوا فجر کے بعد، تو فجر کا وقت تھا کامل اور سورج کے طلوع کا وقت کیا ہے؟ جب سورج طلوع ہو یہ وقت ہے ناقص، تو اس کی نماز کیا ہو جائے گی؟ نماز بھئی کامل فرض ہوئی تھی تو کامل ہی ادا چاہیے، لہٰذا اس کی نماز نہیں ہو گی۔ جی۔ ”أَوْ دَخَلَ وَقْتُ الْعَصْرِ وَهُوَ فِي الْجُمُعَةِ“ یا عصر کا وقت داخل ہوا اس حال میں کہ وہ شخص جمعے کی نماز میں ہے۔ اس وہ شخص کس میں ہے؟ جمعے کی نماز میں ہے۔ ”أَوْ كَانَ مَاسِحًا عَلَى الْجَبِيرَةِ فَسَقَطَتْ عَنْ بُرْءٍ“ یا وہ شخص مسح کرنے والا تھا جبیرہ پر، وہ پٹی پر، تو وہ پٹی کھل گئی تندرست ہونے پر، تندرست ہونے پر۔ یعنی پٹی بندھی ہوئی تھی اسی پر مسح کر کے نماز پڑھ رہا تھا اور تشہد کے بعد وہ پٹی کھل کر گر گئی اور وہ زخم وغیرہ بھی ٹھیک ہو چکا ہے بھئی، ٹھیک ہو چکا ہے۔ ”أَوْ كَانَ صَاحِبَ عُذْرٍ فَانْقَطَعَ عُذْرُهُ“ یا یہ نماز پڑھنے والا صاحبِ عذر تھا یعنی معذور تھا، تو اس کا عذر منقطع ہو گیا، ختم ہو گیا۔ اور کس وقت ختم ہوا؟ تشہد کی مقدار بیٹھنے کے بعد بھئی، یہ سب صورتوں کے ساتھ یہ قید ہے۔ تو اس کا عذر منقطع ہو گیا ”كَالْمُسْتَحَاضَةِ وَمَنْ بِمَعْنَاهَا“ جیسے کہ مستحاضہ ہے اور وہ شخص جو اس مستحاضہ کے معنی میں یعنی اس کے حکم میں ہے، تو یہ معذوروں کی مثال ذکر کر دی۔ ان کا عذر ختم ہو گیا، مستحاضہ تھی خون اس کا رک گیا یا کوئی اور شخص معذور تھا اور تو اس کا وہ عذر ختم ہوا، ”بَطَلَتِ الصَّلَاةُ فِي قَوْلِ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ تو نماز باطل ہو جائے گی امام صاحب کے نزدیک ”وَقَالَا تَمَّتْ صَلَاتُهُ“ اور صاحبین فرماتے ہیں اس کی نماز پوری ہو جائے گی، نماز پوری ہو جائے گی۔ ”وَقِيلَ الْأَصْلُ فِيهِ أَنَّ الْخُرُوجَ عَنِ الصَّلَاةِ بِصُنْعِ الْمُصَلِّي فَرْضٌ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ وَلَيْسَ بِفَرْضٍ عِنْدَهُمَا“ اور کہا گیا ہے کہ ضابطہ اس کے اندر یہ ہے، اصل اس میں یہ ہے کہ نماز سے نکلنا نمازی کے اپنے عمل کے ساتھ، یہ فرض ہے امام صاحب کے نزدیک، اور صاحبین کے نزدیک یہ فرض نہیں۔ کیا کہا گیا کہ یہاں پر امام صاحب کے نزدیک نماز سب کی باطل ہو جائے گی ان تمام صورتوں میں، اور صاحبین فرماتے ہیں نماز پوری ہو جائے گی۔ اور ضابطہ کیا ہے؟ کس وجہ سے امام صاحب فرما رہے ہیں نماز باطل ہو گی اور صاحبین فرما رہے ہیں نماز باطل نہیں ہو گی بلکہ پوری ہو جائے گی؟ تو کہتے ہیں ضابطہ یہ کہ امام صاحب کے نزدیک نماز سے نمازی اپنے عمل کے ساتھ، اپنے ارادے کے ساتھ نماز سے نکلنا اس کا فرض ہے، اس کا اپنے ارادے کے ساتھ اپنے عمل کے ساتھ نماز سے نکلنا فرض ہے، اور صاحبین کے نزدیک یہ فرض نہیں ہے بھئی، صاحبین کے نزدیک فرض نہیں۔ اور اس مسئلے میں یہ بھی یاد رکھیے بھئی کہ امام صاحب سے خود یہ روایت نہیں ہے کہ خروج بصنع المصلی فرض ہے، نمازی کا اپنے عمل کے ساتھ نماز سے نکلنا فرض، ہاں اتنا آیا امام صاحب سے اتنا نقل ہے کہ ان صورتوں میں نماز باطل ہو جائے گی اور جبکہ صاحبین سے روایت ہے کہ ان صورتوں میں نماز پوری ہو جائے گی۔ بعد والے بعض متاخرین نے غور کیا اور انہوں نے یہ وجہ بیان کی کہ یہ وجہ بنتی ہے یہاں پر بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو خود امام صاحب سے اس بارے میں روایت نقل نہیں کہ کیوں باطل ہو گی۔ تو متاخرین نے غور کیا بعد میں اور بتلایا کہ یہاں یہ وجہ بنتی ہے کہ امام صاحب کے نزدیک معلوم ہوا نماز سے نمازی کا اپنے عمل کے ذریعے نکلنا فرض ہے اور یہاں یہ نہیں پایا گیا، یہ سب جتنے عوارض اوپر ذکر ہوئے آپ غور کر لیں ان میں سے کوئی بھی نمازی کے اپنے ارادے سے نہیں ہے۔ پانی کو دیکھ لیا، پانی مل گیا، یہ بھی غیر اختیاری طور پر ہوا۔ اسی طرح مسح کرنے والا تھا، مدت پوری ہو گئی، یہ بھی اس کے اختیار میں نہیں ہے۔ اسی طرح موزہ تھوڑے سے پاؤں ہلانے سے ہی نکل گیا، یہ بھی کوئی اختیاری عمل نہیں ہے، یعنی جان بوجھ کر نہیں ہے۔ یا سورت یاد آ گئی، یہ بھی دیکھو کوئی اپنے ارادے سے کوئی عمل نہیں، خود یاد آ گئی اس کو۔ تو یہ سب صورتوں میں اسی طرح ہے۔ تو امام صاحب کے نزدیک چونکہ نماز سے اپنے ارادے کے ساتھ نکلنا فرض تھا اور یہ فرض پورا نہیں ہوا، نہیں پایا گیا، تو نماز ہی باطل ہو گئی۔ صاحبین فرماتے ہیں اپنے ارادے سے نکلنا فرض ہے ہی نہیں، فرائض سارے پورے ہو چکے ہیں لہٰذا ان میں سے کوئی صورت پیش آئے تو نماز کیا ہو جائے گی؟ مکمل ہو جائے گی کیونکہ تمام ارکان اور فرائض پورے ہو چکے ہیں۔ ”فَاعْتِرَاضُ هَذِهِ الْعَوَارِضِ عِنْدَهُ فِي هَذِهِ الْحَالَةِ كَاعْتِرَاضِهَا فِي خِلَالِ الصَّلَاةِ“ تو پیش آنا ان عوارض کا امام صاحب کے نزدیک اس حالت میں، کون سی حالت؟ تشہد کی مقدار بیٹھنے کے بعد، اس حالت میں ان عوارض کا پیش آنا بھی کَاعْتِرَاضِهَا فِي خِلَالِ الصَّلَاةِ، یہ اسی طرح ہے جیسے یہ عوارض پیش آئے ہوں نماز کے بیچ میں۔ اور نماز کے بیچ میں ان میں بیچ میں ان میں سے کوئی عارض پیش آئے پھر تو نماز بالاتفاق باطل ہو جاتی ہے، تو یہاں بھی نماز کیا ہو گی؟ باطل ہو جائے گی۔ ”وَعِنْدَهُمَا كَاعْتِرَاضِهَا بَعْدَ التَّسْلِيمِ“ اور صاحبین کے نزدیک کہ ان عوارض کا اس حالت میں پیش آنا کَاعْتِرَاضِهَا بَعْدَ التَّسْلِيمِ، یہ اسی طرح ہے جیسے یہ عوارض پیش آئے ہوں سلام کے بعد پیش آئے ہیں۔ سلام کے، کیونکہ فرائض تو سارے پورے ہو چکے ہیں، اور سلام کے بعد ان عوارض میں سے کوئی عوارض پیش آئے تو بالاتفاق نماز باطل نہیں کیونکہ نماز تو مکمل ہو چکی ہوتی ہے، تو لہٰذا یہاں پر بھی کیا ہو گی؟ نماز مکمل ہو جائے گی۔ ”لَهُمَا مَا رَوَيْنَا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ“ صاحبین رحمہما اللہ کی دلیل وہ ہے جس کو ہم نے وہ حدیث ہے جس کو ہم نے روایت کیا، یعنی حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کی حدیث، جو وہ حدیث میں جو پیچھے آیا تھا حضور علیہ السلام نے کیا فرمایا ان سے؟ ”إِذَا قُلْتَ هَذَا أَوْ فَعَلْتَ هَذَا فَقَدْ تَمَّتْ صَلَاتُكَ“ جب تو یہ کہہ لو یا یہ کر لو یعنی اتنا قعدہ کر لو تو پھر تمہاری نماز پوری ہو گئی۔ تو یہ ان کی دلیل ہے صاحبین کی۔ ”وَلَهُ“ اور امام صاحب کی دلیل، امام صاحب کی دلیل بھئی وہ فرماتے ہیں کہ یہ ایک جو شخص کوئی نماز ادا کر رہا ہو تو اس سے اگلی نماز وہ ادا کر ہی نہیں سکتا جب اس نماز سے جب تک اس نماز سے نہیں نکلے گا۔ جب تک اس نماز میں ہے اگلی نماز ادا کر سکتا ہے؟ نہیں۔ تو اگلی نماز تب ہی ادا کر سکتا ہے جب اس نماز سے نکلے گا۔ تو اگلی نماز اس کے بغیر ہو ہی نہیں سکتی جب تک اس نماز سے وہ نکلے نہ۔ اور جو چیز جو چیز کسی چیز کے بغیر نہ ہو سکے وہ اس کے لیے شرط اور فرض کے درجے میں ہوتی ہے۔ بھئی نماز بغیر وضو کے ہو سکتی ہے؟ نہیں۔ تو وضو نماز کے لیے شرط ہے، فرض ہے۔ اور بغیر قبلہ رخ ہوئے ہو سکتی ہے نماز؟ نہیں۔ تو معلوم ہوا قبلہ رخ ہونا بھی نماز کے لیے شرط ہے اور فرض۔ تو یہاں پر بھی اگلی نماز اس نماز سے نکلے بغیر ہو ہی نہیں، اور جس کے بغیر کسی چیز کو ادا کرنا ممکن نہ ہو وہ اس چیز کے لیے شرط اور فرض کے درجے میں ہوتی ہے۔ تو لہٰذا اس نماز سے نکلنا بھی کس طرح کیا ہے؟ شرط اور فرض، تو یہ فرض کی طرح ہے فرض کی طرح، تو اس نماز سے نکلنا بھی معلوم ہوا فرض ہوا تاکہ وہ پھر قادر ہو سکے، کس پر؟ اگلی نماز پر۔ اگلی نماز اس نے پڑھنی ہے یعنی ظہر کی پڑھ رہا ہے، عصر کی پڑھنی ہے یا نہیں پڑھنی اس نے؟ تو عصر کی نماز تو وہ تبھی پڑھ سکتا ہے جب اس نماز سے نکلے گا، تو اس کے بغیر وہ نماز ہو ہی نہیں سکتی۔ اور جس چیز کے بغیر وہ نماز نہ ہو سکے وہ اس کے لیے کیا ہوتی ہے؟ شرط اور فرض، تو لہٰذا معلوم ہوا یہ نماز سے نکلنا بھی کیا ہوا؟ شرط اور فرض ہوا۔ ”وَلَهُ أَنَّهُ لَا يُمْكِنُهُ أَدَاءُ صَلَاةٍ أُخْرَى إِلَّا بِالْخُرُوجِ مِنْ هَذِهِ وَمَا لَا يُتَوَصَّلُ إِلَى الْفَرْضِ إِلَّا بِهِ يَكُونُ فَرْضًا“ اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے کہ ممکن نہیں ہے اگلی دوسری نماز کو ادا کرنا مگر اس نماز سے نکلنے کے ساتھ، اور وہ چیز کہ نہ پہنچا جا سکے فرض تک مگر اسی چیز کے ساتھ، وہ چیز بھی کیا ہوتی ہے؟ فرض۔ یعنی وہ چیز کہ اس کے اسی کے ذریعے فرض تک پہنچا جا سکے وہ بھی فرض ہوتی ہے، وہ بھی تو یہ لہٰذا اس لیے خروج بصنع المصلی کیا ہے؟ نمازی کا نماز سے اپنے ارادے سے نکلنا فرض ہے، فرض ہے۔ اور بھئی وہ تو حدیث میں تو آیا تھا ”إِذَا قُلْتَ هَذَا أَوْ فَعَلْتَ هَذَا فَقَدْ تَمَّتْ صَلَاتُكَ“ تحقیق تمہاری نماز پوری ہو گئی، تو وہاں پر تو خروج بصنع المصلی کا ذکر ہے ہی نہیں، اس سے تو یہ پتہ چل رہا ہے کہ نماز پوری ہو گئی، اس کا بھی جواب دیتے ہیں صاحبِ ہدایہ امام صاحب کی طرف سے۔ فرماتے ہیں: ”وَمَعْنَى قَوْلِهِ تَمَّتْ قَارَبَتِ التَّمَامَ“ کہ پوری ہونے کا معنی یہ ہے پوری ہونے کے قریب ہو گئی۔ جو حدیث میں کیا آیا؟ تمہاری نماز پوری ہو گئی، اس سے کیا مراد ہے؟ پوری ہونے کے قریب ہو گئی۔ بھئی یہ کیسا معنی آپ کر رہے ہیں کہ پوری ہونے کے قریب ہو گئی؟ حدیث میں تو آیا پوری ہو گئی! کہتے ہیں بھئی، احادیث میں اس طرح یہ آیا اور بھی جگہ آیا ہے۔ مثلاً حضور علیہ السلام فرماتے ہیں، یہ آپ کے حاشیے میں حدیث دی ہوئی ہے: ”مَنْ وَقَفَ بِعَرَفَةَ فَقَدْ تَمَّ حَجُّهُ“ جس نے وقوف کر لیا عرفات میں تو تحقیق اس کا حج پورا ہو گیا، حالانکہ حالانکہ وقوفِ عرفات کے بعد ابھی طوافِ زیارت باقی ہے اور وہ بھی حج میں فرض ہے۔ تو دیکھو وہاں پر بھی جس نے وقوفِ عرفہ کر لیا تو اس کا حج پورا ہو گیا یعنی پورا ہونے کے قریب ہو گیا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو لہٰذا یہاں پر بھی یہی معنی ہے، حضور علیہ السلام کے قول تمت کا معنی جو ہے قاربت التمام کہ نماز پوری ہونے کے قریب ہو گئی، نماز پوری ہونے کے قریب ہو گئی۔ ”وَالِاسْتِخْلَافُ لَيْسَ بِمُفْسِدٍ“ بھئی دیکھیے، درمیان میں ایک مسئلہ ذکر ہوا تھا ”أَوْ أَحْدَثَ الْإِمَامُ الْقَارِئُ فَاسْتَخْلَفَ أُمِّيًّا“ اور وہ امام جو قاری تھا اس کو حدث پیش آیا اور اس نے امی کو اپنا خلیفہ بنا دیا، کس کو؟ امی کو۔ تو یہاں پر بتلا رہے ہیں آگے صاحبِ ہدایہ کہ یہ نہ سمجھنا کہ خلیفہ بنانے کی وجہ سے نماز فاسد ہوئی ہے۔ خلیفہ بنانے کی وجہ سے نماز فاسد نہیں، خلیفہ بنا سکتا ہے۔ لہٰذا اگر اسی مقام پر کسی قاری کو خلیفہ بناتا تو نماز فاسد اور باطل نہ ہوتی، تو یہاں نماز جو فاسد ہوئی ہے وہ خلیفہ بنانے کی وجہ سے نہیں بلکہ امی کو خلیفہ بنانے کی وجہ سے فاسد ہوئی ہے، اس لیے کیونکہ اس نے امی کو خلیفہ بنایا اور امی تو وہ شخص ہے جس میں امام بننے کی صلاحیت ہی نہیں۔ تو ایسے شخص کو امام بنا دیا جس میں امام بننے کی صلاحیت، اس لیے نماز فاسد ہوئی ہے، خلیفہ بنانے کی وجہ سے نہیں، لہٰذا اگر کسی قاری کو خلیفہ بناتا تو بنا سکتا تھا۔ یہ معنی ہے ”وَالِاسْتِخْلَافُ لَيْسَ بِمُفْسِدٍ حَتَّى يَجُوزَ فِي حَقِّ الْقَارِئِ“ اور خلیفہ بنانا یہ نماز کو فاسد کرنے والا نہیں ہے یہاں تک کہ یہ جائز ہو گا قاری کے حق میں، یعنی قاری کو خلیفہ بنا سکتا ہے ”وَإِنَّمَا الْفَسَادُ لِضَرُورَةِ حُكْمٍ شَرْعِيٍّ وَهُوَ عَدَمُ صَلَاحِيَةِ الْإِمَامَةِ“ اور فساد جو ہے وہ ایک حکمِ شرعی کی ضرورت کی بنا پر ہے اور وہ کیا ہے؟ امامت کی صلاحیت کا نہ ہونا ہے کہ امی میں امامت کی صلاحیت ہی نہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ بھئی ان مسائل میں کچھ میں تو وجہ ظاہر ہے، تشہد کی مقدار بیٹھنے کے بعد کس کو پا لیا؟ پانی کو دیکھ لیا، پانی کے استعمال پر قادر ہوا اور آپ نے پڑھا ہے کہ پانی کو جب استعمال پر جب قادر ہو گا تو وہی پچھلے حدث کا اثر ظاہر ہو گا۔ سمجھ میں آیا؟ صرف پانی کو دیکھ آپ خود غور کریں، پانی کو دیکھنے سے ہم کہتے ہیں تیمم ختم ہو گیا، تیمم کیا ہوا؟ ختم ہو گیا۔ معلوم ہوا اس پچھلے حدث کا اثر ظاہر ہوا ہے۔ پچھلے حدث کا اثر ظاہر، ورنہ صرف پانی کا دیکھنا وضو کو توڑنے والی چیزوں میں کہیں پانی دیکھنا ذکر تھا؟ نہیں، وہ تو تھا بدن سے اگر نجاست خارج ہو گی تب وضو ٹوٹتا ہے۔ تو معلوم ہوا یہاں پر تو صرف پانی کو دیکھا ہے، کوئی حدث تو ہوا نہیں اور تو معلوم ہوا اسی پچھلے حدث کا اثر کیا ہوا؟ ظاہر ہو گیا ہے اور بیچ نماز میں ہوا تو گویا اسی طرح ہوا یہ بے وضو ہی کیا کر رہا تھا؟ نماز پڑھ رہا تھا۔ ”أَوْ كَانَ مَاسِحًا فَانْقَضَتْ مُدَّةُ مَسْحِهِ“ یا مسح کرنے والے تھے اس کی مدتِ مسح، تو اس طرح سب کے اندر صورتیں مسئلہ واضح ہے۔ البتہ ایک دو میں ذرا اشکال تھوڑا سا پڑتا ہے، وہ اس کی میں وضاحت کر دیتا ہوں۔ سورج طلوع ہو جائے فجر کی نماز میں، کس میں؟ تو یہاں نماز اس لیے باطل ہو جائے گی کیونکہ وہ نماز کیسی واجب ہوئی تھی؟ کامل، اور سورج جب طلوع ہوا کون سا وقت شروع ہو گیا؟ ناقص وقت شروع ہو گیا، اس لیے وہ نماز کیا ہو جائے گی؟ باطل ہو جائے گی۔ اور اسی طرح وہ جمعے کی نماز پڑھ رہا تھا اور عصر کا وقت داخل ہو گیا۔ کون سا وقت داخل ہو گیا؟ عصر کا وقت داخل ہو گیا، تو وہ نماز باطل ہو جائے گی بھئی، اس لیے کیونکہ جمعے کے لیے ظہر کا وقت شرط ہے۔ جمعے کے لیے کیا ہے؟ ظہر کا وقت شرط ہے، ظہر کے وقت کے اندر جمعہ ہو سکتا ہے اس کے بعد جمعہ نہیں ہو سکتا بھئی، تو اس لیے اس کی جمعے کی نماز کیا ہو جائے گی؟ باطل ہو جائے گی۔ ہاں اگر یہی صورت ہوئی ظہر کے اندر، ذہن میں فوراً سوال ابھرتا ہے جمعے کو ذکر کیا ظہر کو ذکر نہیں کیا صاحبِ ہدایہ نے، ماتن نے، یعنی صاحبِ قدوری نے۔ تو بھئی ظہر کی نماز کوئی پڑھ رہا ہو پھر نماز باطل نہیں ہو گی۔ ظہر کی نماز پڑھ رہا ہے اور کون سا وقت داخل ہو گیا؟ عصر کا وقت داخل ہو گیا، پھر باطل نہیں ہو گی۔ کیوں؟ کیونکہ ظہر کا وقت بھی کامل اور آگے عصر کا وقت ناقص ہے یا کامل وقت ہے؟ کامل۔ سورج غروب ہوتے وقت تب بھی ناقص وقت، سورج عین سر پر ہو تب بھی ناقص وقت، سورج اب طلوع ہو رہا ہو تب بھی ناقص وقت ہے، ان کے علاوہ باقی اوقات ناقص نہیں ہیں، تو لہٰذا اس صورت میں ظہر کا وقت بھی کامل تھا اور عصر کے بعد کا وقت بھی کیا ہے؟ کامل ہے، تو نماز ہو جائے گی بھئی، نماز ظہر کی نماز اس صورت میں باطل نہیں ہو گی۔ تو ادا ہو گی یا قضا؟ وہ اور چیز ہے، ادا اکثر کا اعتبار کر لیں گے اگر اکثر حصہ کس کے اندر ہے؟ تو ادائی کہہ لیں گے، سمجھ میں آیا؟ لیکن بہرحال نماز ہو جائے گی، نماز ہو جائے گی بھئی۔ اب دیکھیے آگے کتاب پر: ”وَمَنِ اقْتَدَى بِالْإِمَامِ بَعْدَمَا صَلَّى رَكْعَةً فَأَحْدَثَ الْإِمَامُ فَقَدَّمَهُ أَجْزَأَهُ“ صورتِ مسئلہ یہ کہ ایک شخص نے امام کی اقتدا کی ہے جبکہ امام ایک رکعت پڑھ چکا ہے، کم از کم ایک رکعت نکل چکی ہے اب ایک شخص آ کر شامل ہوا اس کو کیا کہتے ہیں؟ مسبوق، کیا کہتے ہیں؟ مسبوق، اور جو شخص شروع سے ہی شامل ہو اس کو کہتے ہیں مدرک، اسی طرح اس کو مقتدی بھی کہتے ہیں، اسی طرح اس کو مؤتم بھی کہتے ہیں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو ”وَمَنِ اقْتَدَى بِالْإِمَامِ بَعْدَمَا صَلَّى رَكْعَةً“ اور جس نے اقتدا کی امام کی بعد اس کے کہ جب امام ایک رکعت پڑھ چکا ہے ”فَأَحْدَثَ الْإِمَامُ“ تو امام کو حدث لاحق ہوا، اس کا وضو ٹوٹ گیا ”فَقَدَّمَهُ“ تو اس امام نے اس کو آگے کر دیا یہ جو مسبوق تھا جس کی ایک رکعت یا زیادہ رہ چکی ہیں ”أَجْزَأَهُ“ تو یہ کافی ہے یعنی یہ امام بن جائے گا۔ کیوں؟ کہتے ہیں: ”لِوُجُودِ الْمُشَارَكَةِ فِي التَّحْرِيمَةِ“ اس وجہ سے کہ تحریمہ کے اندر شراکت پائی گئی ہے۔ یہ بھی اس کی تحریمہ کی بنیاد بھی کس پر تھی مسبوق کی؟ مسبوق کی تحریمہ کی بنیاد بھی امام کی تحریمہ پر ہی ہے، اسی کے پیچھے نماز ادا کر رہا ہے تو دونوں تحریمہ کے اندر شریک ہیں۔ تو اس مسبوق کو آگے کر دے گا تو اس کو خلیفہ بنانا ٹھیک، نماز ہو جائے گی۔ ”وَالْأَوْلَى أَنْ يُقَدِّمَ مُدْرِكًا“ لیکن بہتر یہ ہے کہ امام کس کو آگے کرے؟ مدرک کو آگے کرے جو شروع سے نماز میں شریک ہے، شروع سے۔ کیوں؟ وجہ ظاہر ہے، یہ مسبوق ہے اس کی ایک رکعت رہتی ہے، یہ جب نماز پڑھائے گا تو جب سلام، یرحمک اللہ، جب سلام کا وقت آئے گا تو مسبوق کی تو ابھی ایک رکعت باقی ہے، باقی سارے لوگوں کی نماز پوری ہو چکی ہے تو مسبوق تو سلام نہیں پھیر سکتا، اسے سلام کے لیے پھر کسی اور کو آگے کرنا پڑے گا اور خلیفہ بنانا پڑے گا بھئی۔ تو لہٰذا بہتر یہ ہے کہ امام شروع سے ہی مسبوق کو اپنا خلیفہ نہ بنائے بلکہ کس کو خلیفہ بنائے؟ مدرک کو خلیفہ بنائے تاکہ وہ سلام پھیر سکے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ ”وَالْأَوْلَى لِلْإِمَامِ أَنْ يُقَدِّمَ مُدْرِكًا“ اور بہتر یہ ہے امام کے لیے کہ وہ مدرک کو مقدم کرے جس نے پوری شروع سے اس کے ساتھ نماز پڑھی ہے ”لِأَنَّهُ أَقْدَرُ عَلَى إِتْمَامِ صَلَاتِهِ“ اس لیے کیونکہ وہ زیادہ قادر ہے اس کی نماز کے پورا کروانے پر ”وَيَنْبَغِي لِهَذَا الْمَسْبُوقِ أَنْ لَا يَتَقَدَّمَ“ اور مناسب ہے اس مسبوق کے لیے بھی کہ یہ آگے نہ ہو ”لِعَجْزِهِ عَنِ التَّسْلِيمِ“ اس لیے کیونکہ یہ سلام کرنے سے عاجز ہے ”فَلَوْ تَقَدَّمَ يَبْتَدِئُ مِنْ حَيْثُ انْتَهَى إِلَيْهِ الْإِمَامُ“ پس اگر یہ آگے ہو گیا، اگر یہ مسبوق آگے ہو گیا، ”يَبْتَدِئُ“ تو ابتدا کرے ”مِنْ حَيْثُ انْتَهَى إِلَيْهِ الْإِمَامُ“ اسی جگہ سے جہاں سے جہاں پر امام نے انتہا کی ہے جہاں تک امام پہنچا ہے۔ اسی سے آگے کیا کرے؟ ابتدا کریں اسی سے آگے نماز پڑھائے ”لِقِيَامِهِ مَقَامَهُ“ اس وجہ سے کہ یہ اس امام کا قائم مقام ہے ”وَإِذَا انْتَهَى إِلَى السَّلَامِ يُقَدِّمُ مُدْرِكًا يُسَلِّمُ بِهِمْ“ اور جب یہ مسبوق سلام تک پہنچ جائے ”يُقَدِّمُ مُدْرِكًا“ پھر کیا کرے؟ کسی مدرک کو آگے کر دے ”يُسَلِّمُ بِهِمْ“ جو ان مقتدیوں کو سلام پھروا دے۔ جی، یہاں تک بات پوری ہو گئی۔ تو پھر کیا کرے آخر میں؟ کسی مقتدی کو یعنی مدرک کو آگے کر دے وہ ان کو سلام پھروا دے اور خود اپنی بقیہ رکعتیں پوری کرے، مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟ ”فَلَوْ أَنَّهُ حِينَ أَتَمَّ صَلَاةَ الْإِمَامِ قَهْقَهَ أَوْ أَحْدَثَ مُتَعَمِّدًا أَوْ تَكَلَّمَ أَوْ خَرَجَ مِنَ الْمَسْجِدِ فَسَدَتْ صَلَاتُهُ وَصَلَاةُ الْقَوْمِ تَامَّةٌ“ صورتِ مسئلہ یہ، فقہائے کرام پر بھئی اللہ تعالی کی کروڑہا رحمتیں نازل ہوں، دیکھو کتنی نادر نادر صورتیں بھی جو پیش آ سکتی ہیں ان تمام کو انہوں نے درج کر دیا ساتھ دلائل کے بھئی۔ جہاں قرآن اور حدیث سے دلیل ملی وہاں قرآن اور حدیث کو دلیل بنایا اور جہاں حدیث اور قرآن میں نہیں، اجماع دلیل ملی کہ سب لوگ اس پر تمام فقہا اس پر اکٹھے ہیں وہاں اجماع کو دلیل بنایا، اور جہاں قرآن اور حدیث، اجماع وغیرہ کس میں بھی نہیں تو پھر کیا کیا ہر ایک نے؟ قیاس کیا بھئی، قیاس کیا اور ایک ایک صورت بیان کر دی۔ بعض لوگ کہتے ہیں قیاس کو نہیں تسلیم کرتے بھئی، بھئی قیاس کو تسلیم نہیں کیا جائے گا تو قرآن اور حدیث میں تو یہ ایک ایک مسئلہ ذکر ہے ہی نہیں، پھر کیا کیا جائے گا ان مسئلوں کے اندر بھئی؟ کتنے ہی مسائل ہیں بھئی، سمجھ میں آیا؟ ہاں حدیث میں، قرآن میں ان کی بنیاد موجود ہے ان سے ہم قیاس کر سکتے ہیں اور ہم قیاس کرتے بھی کس سے ہیں؟ قرآن اور حدیث سے ہی قیاس کرتے ہیں، انہی کے ذریعے مسائل کی بنیاد انہی پر ہے بھئی۔ تو اللہ ان لوگوں کو ہدایت نصیب فرمائے جو فقہا کے خلاف بولتے ہیں بھئی۔ دشمنانِ اسلام کیا تھوڑے پڑ گئے کہ آپ لوگ بھی فقہا کے خلاف بول رہے ہیں بھئی؟ حالانکہ انسان اپنی صلاحیتیں مخالفینِ اسلام کے خلاف صرف کرے، فقہا کے خلاف بول رہے ہیں، کتابیں لکھ رہے ہیں یا کچھ کر رہے ہیں، اپنی صلاحیت ہی ضائع کر رہے ہیں بھئی۔ وہ فقہا تھے، وہ آسمان کے چاند اور ستارے تھے، اگر ان پر کچھ برائی ان کی کرو گے بھی اپنا ہی نقصان کرو گے، ان کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ وہ تو اللہ کے ایسے اولیاء ایسے اولیاء، اتنا اونچا مقام ان لوگوں کا کہ دیکھو لاکھوں کروڑوں لوگ ان کے بتلائے ہوئے مسائل کے مطابق زندگیاں گزار رہے ہیں بھئی۔ اللہ تعالی ہمیں ان بزرگوں کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق نصیب فرمائے، اور ان لوگوں کو بھی اللہ سمجھ نصیب فرمائے جو اس راستے پر چلتے ہیں اور اپنی صلاحیتوں کو ضائع کرتے ہیں بھئی۔ اور دین کے کتنے ہی کام ہیں وہ کر سکتے ہیں، بلا وجہ کے ان چیزوں کے اندر اپنا وقت ضائع کرتے ہیں بھئی۔ صورتِ مسئلہ اب یہ ذکر ہو رہی ہے بھئی کہ یہ جو مسبوق تھا جس کو امام نے آگے کر دیا، کیا کیا؟ آگے کر دیا۔ اس نے جب نماز پوری کروا دی، سلام تک پہنچ گیا۔ اب اس نے کیا کرنا ہے؟ کسی اور کو مدرک کو آگے کرے گا، اس سے پہلے اس نے کیا کر دیا؟ قہقہہ لگایا یا جان بوجھ کر وضو توڑ دیا ”أَوْ تَكَلَّمَ“ یا کسی سے کلام کر لیا یا مسجد سے نکل گیا، تو یاد رکھیے ان سب صورتوں میں اس کی نماز تو فاسد ہو جائے گی کیونکہ اس کے ذمے تو ابھی کچھ رکعتیں باقی ہیں، کم از کم ایک رکعت تو باقی ہے یا زیادہ رکعتیں باقی ہیں کیونکہ یہ مسبوق ہے، جبکہ باقی لوگ ان کی تو نماز کے تمام فرائض پورے ہو چکے ہیں، جو مقتدی ہیں ان کی نماز پوری ہو جائے گی۔ مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟ یہ معنی ہے ”فَلَوْ أَنَّهُ حِينَ أَتَمَّ صَلَاةَ الْإِمَامِ“ پس یہ جو مقتدی ہے اس نے جس وقت اس امام کی نماز کو پورا کروا دیا ”قَهْقَهَ“ تو اس نے قہقہہ لگایا ”أَوْ أَحْدَثَ مُتَعَمِّدًا“ یا اس نے حدث لاحق کیا جان بوجھ کر، یعنی جان بوجھ کر وضو توڑا ”أَوْ تَكَلَّمَ“ یا کلام کر دیا کسی سے ”أَوْ خَرَجَ مِنَ الْمَسْجِدِ“ یا مسجد سے نکل گیا ”فَسَدَتْ صَلَاتُهُ“ تو اس کی نماز فاسد ہو گئی کیونکہ اس کی کچھ رکعتیں ابھی باقی ہیں ”وَصَلَاةُ الْقَوْمِ تَامَّةٌ“ اور لوگوں کی یعنی مقتدیوں کی نماز پوری ہے ”لِأَنَّ الْمُفْسِدَ فِي حَقِّهِ وُجِدَ فِي خِلَالِ الصَّلَاةِ وَفِي حَقِّهِمْ بَعْدَ تَمَامِ أَرْكَانِهَا“ اس لیے کیونکہ وہ چیز جو نماز کو فاسد کرنے والی ہے یعنی یہ قہقہہ یا یہ جان بوجھ کر حدث یا تکلم یا خروج من المسجد، یہ مفسد چیزیں جو ہیں، اس لیے کیونکہ یہ جو مفسد چیز ہے فی حقہ، اس اس مسبوق کے حق میں ”وُجِدَ فِي خِلَالِ الصَّلَاةِ“ یہ نماز کے بیچ میں پائی گئی، نماز کے بیچ میں یہ مفسد اس کے حق میں پایا گیا ”وَفِي حَقِّهِمْ بَعْدَ تَمَامِ أَرْكَانِهَا“ اور مقتدیوں کے حق میں اس نماز کے تمام ارکان کے پورا ہونے کے بعد یہ مفسد پایا گیا، تو ان کی نماز تو پوری ہو جائے گی اور اس کی نماز فاسد۔ ”وَالْإِمَامُ الْأَوَّلُ إِنْ كَانَ فَرَغَ لَا تَفْسُدُ صَلَاتُهُ وَإِنْ لَمْ يَفْرُغْ تَفْسُدُ وَهُوَ الْأَصَحُّ“ اور وہ پہلا امام اس کی نماز فاسد ہو گی یا نہیں؟ کہتے ہیں اگر وہ نماز سے فارغ ہو چکا یعنی اس کی کوئی رکعت رہی نہیں، جیسے ہی وضو ٹوٹا تھا اس نے اس مسبوق کو آگے کیا تھا اور ساتھ قریبی پانی تھا اس نے فوراً وضو کیا اور آ کر شامل ہو گیا، اس کی کوئی رکعت بھی نہ رہی، کوئی رکعت بھی نہ رہی تو لہٰذا جب باقیوں کی نماز پوری ہو گی تو اس امام کی بھی نماز کیا ہو جائے گی؟ پوری ہو جائے گی۔ لیکن اگر امام کی کوئی رکعت چھوٹ گئی تھی، وہ وضو کرنے گیا اور آیا تو ایک رکعت گزر چکی تھی اب امام کی نماز مکمل نہیں ہوئی تو اس صورت میں امام کی نماز بھی فاسد ہو جائے گی، امام کی نماز بھی فاسد ہو جائے گی۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْإِمَامُ الْأَوَّلُ إِنْ كَانَ فَرَغَ لَا تَفْسُدُ صَلَاتُهُ“ اور وہ پہلا امام اگر وہ نماز سے فارغ ہو چکا ہے تو اس کی نماز فاسد نہیں ہو گی ”وَإِنْ لَمْ يَفْرُغْ تَفْسُدُ“ اور اگر وہ نماز سے فارغ نہیں ہو چکا ہے تو اس کی نماز فاسد ہو جائے گی ”وَهُوَ الْأَصَحُّ“ اور یہی قول زیادہ صحیح ہے بھئی، یہی قول زیادہ صحیح ہے۔ ”فَإِنْ لَمْ يُحْدِثِ الْإِمَامُ الْأَوَّلُ وَقَعَدَ قَدْرَ التَّشَهُّدِ ثُمَّ قَهْقَهَ أَوْ أَحْدَثَ مُتَعَمِّدًا فَسَدَتْ صَلَاةُ الَّذِي لَمْ يُدْرِكْ أَوَّلَ صَلَاتِهِ“ اب دوسری صورت ذکر ہو رہی ہے، دوسری صورت ذکر ہو رہی ہے۔ اگر حدث پیش نہ آیا پہلے امام کو، کس کو؟ پہلے امام کو۔ یہاں شارحین لکھتے ہیں کہ یہ الاول کا لفظ زائد ہے، اس کو ذکر کرنے کی ضرورت نہیں اس لیے کیونکہ یہاں امام نے کسی کو خلیفہ بنایا ہی نہیں کہ وہ پہلا امام ہو اور خلیفہ دوسرا امام بن جائے بلکہ یہ الگ صورت ذکر ہو رہی ہے۔ لیکن بہرحال چونکہ یہاں ماقبل کے مسائل میں اولِ امام کا ذکر آ رہا تھا تو اس لیے یہاں پر کیا کیا ماتن نے؟ اول کی قید بڑھا دی تاکہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ دوسرے امام کی بات ہو رہی ہے وہ جو مسبوق تھا، اس کی بات نہیں ہو رہی بھئی۔ تو اگر اس پہلے امام کو حدث پیش نہ آیا یعنی اس نے حدث، بھئی اس نے پہلے امام کو حدث پیش آیا تھا تو اس نے کیا بنایا تھا؟ خلیفہ۔ اب دوسری صورت ذکر کر رہے ہیں کسی کو خلیفہ نہیں بنایا، حدث پیش آیا ہی نہیں تو خلیفہ بھی نہیں بنایا، یہ صورت ہے۔ تو پہلے امام کو اگر حدث پیش نہیں آیا اور وہی نماز پڑھا رہا ہے ”وَقَعَدَ قَدْرَ التَّشَهُّدِ“ اور یہ امام بیٹھ گیا کتنی مقدار؟ تشہد کی مقدار یعنی فرض پورا ہو چکا ”ثُمَّ قَهْقَهَ“ پھر اس نے قہقہہ لگایا ”أَوْ أَحْدَثَ مُتَعَمِّدًا“ یا جان بوجھ کر وضو توڑا ”فَسَدَتْ صَلَاةُ الَّذِي لَمْ يُدْرِكْ أَوَّلَ صَلَاتِهِ“ تو فاسد ہو گئی نماز اس شخص کی جس نے نماز کا اول حصہ نہیں پایا، یعنی جو مسبوقین ہیں ان کی نماز فاسد ہو جائے گی اور جن جو مدرک ہیں ان کی نماز جیسے امام کی نماز پوری ہو جائے گی مدرک کی نماز بھی پوری۔ مسئلہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ ایک شخص ہے، خلافت والی صورت نکال لیں کسی کو خلیفہ نہیں بنایا، ایک شخص نماز پڑھا رہا ہے اور تشہد کی مقدار بیٹھنے کے بعد آخری قعدے میں اس کا اس نے قہقہہ لگایا یا جان بوجھ کر وضو توڑا تو اس کی نماز پوری ہو گئی، اس کی نماز اور جو اس کے ساتھ شروع سے شریک تھے ان کی نماز بھی پوری ہو گئی کیونکہ تمام ارکان اور فرائض نماز کے پورے ہو چکے ہیں، سمجھ میں آیا؟ اور خروج بصنع المصلی بھی پایا گیا، وہ اپنے ارادے سے نماز کو توڑ رہا ہے، سمجھ میں آیا؟ تو نماز سے نکل رہا ہے، تو نماز پوری۔ البتہ وہ لوگ جو ایک رکعت یا ایک رکعت سے بھی دو یا تین رکعتوں کے بعد نماز میں شریک ہوئے ہیں یعنی جن کی شروع کی کوئی ایک رکعت کم از کم رہتی ہے مسبوقین، ان کی نماز فاسد ہو جائے گی، ان کی نماز اور یہ امام صاحب کے نزدیک۔ اور صاحبین فرماتے ہیں نہیں، ان مسبوقین کی نماز بھی فاسد نہیں ہو گی، ان کی نماز بھی فاسد نہیں۔ صاحبین فرماتے ہیں کہ مسبوق جو ہیں وہ امام کے تابع ہیں، امام کی نماز صحیح ہو گی تو مسبوق کی نماز بھی صحیح، امام کی نماز فاسد تو مسبوق کی نماز بھی فاسد۔ اور امام کی نماز تو پوری ہو گئی، فاسد ہوئی کہ نہیں ہوئی؟ فاسد تو نہیں ہوئی، وہ تو سارے فرائض پورے کر چکا ہے تو امام کی نماز تو پوری ہو گئی، اور جب امام کی نماز فاسد نہیں تو مسبوق کی نماز بھی فاسد نہیں، وہ نماز پوری کر لے بھئی۔ صورت سمجھ، جبکہ امام صاحب فرماتے ہیں کہ جب یہ مفسدِ صلاۃ چیز پائی گئی یعنی قہقہہ یا جان بوجھ کر وضو کا توڑنا تو نماز کا وہ جز جو اس کے ساتھ ملا ہوا تھا، آخری جز وہ فاسد ہو گیا۔ امام نے جب قہقہہ لگایا تو اس کے ساتھ جو آخری جز نماز کا ملا ہوا تھا وہ جز کیا ہوا؟ فاسد ہو گیا۔ اور پھر نماز پر امام کو تو مزید بنا کی ضرورت نہیں کیونکہ اس کے تو سارے فرائض پورے ہو چکے، اس لیے ہم نے کہا اس کی نماز پوری ہو گئی لیکن مسبوق اس نے تو ابھی بقیہ رکعتیں پڑھنی ہیں، تو یہ جز تو فاسد ہو گیا تھا اور جب امام کی نماز کا یہ جز فاسد ہوا تو جو پیچھے تھے ان کی بھی نماز کا یہ جز فاسد ہو گیا کیونکہ امام کی نماز فاسد ہو تو مقتدی کی نماز بھی کیا ہوتی ہے؟ فاسد۔ لیکن جو مدرک تھے ان کی نماز تو پوری ہو چکی، ان کو تو آگے بنا کرنے کی ضرورت نہیں لیکن مسبوق کا تو ابھی کچھ حصہ باقی ہے اور نماز کا ہر اگلا حصہ اس کی بنیاد پچھلے حصے پر ہوتی ہے، تو اگلے حصے کی بنیاد جزِ فاسد پر ہو جائے گی اور جزِ فاسد پر جو بنا ہو گی وہ بھی کیا ہو گی؟ فاسد ہو گی، لہٰذا ان کی نماز ہی نہیں ہو گی، جو مسبوق ہیں ان کی نماز فاسد ہو جائے گی وہ اس پر بنا نہیں کر سکتے جبکہ امام اور جو مدرک ہیں ان کی نماز کیا ہو جائے گی؟ پوری ہو جائے گی۔ مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟ یہ معنی ہے ”ثُمَّ قَهْقَهَ أَوْ أَحْدَثَ مُتَعَمِّدًا“ پھر تشہد کی مقدار کے بعد امام نے قہقہہ لگایا یا جان بوجھ کر وضو توڑا ”فَسَدَتْ صَلَاةُ الَّذِي لَمْ يُدْرِكْ أَوَّلَ صَلَاتِهِ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ تو فاسد ہو جائے گی نماز اس شخص کی جس نے اولِ نماز کو نہیں پایا امام صاحب کے نزدیک ”وَقَالَا لَا تَفْسُدُ“ اور صاحبین فرماتے ہیں اس کی یعنی مسبوق کی نماز فاسد نہیں ہو گی ”وَإِنْ تَكَلَّمَ أَوْ خَرَجَ مِنَ الْمَسْجِدِ لَمْ تَفْسُدْ فِي قَوْلِهِمْ جَمِيعًا“ اور اگر کلام کیا یا مسجد سے نکل گیا تو پھر نماز فاسد نہیں ہو گی مسبوق کی ان سب کے قول میں۔ بھئی اوپر دو صورتیں متن میں ذکر ہوئیں: اگر قہقہہ لگایا یا جان بوجھ کر وضو توڑا اس صورت میں مسبوق کی نماز فاسد ہو گی امام صاحب کے نزدیک اور صاحبین کے نزدیک فاسد نہیں۔ اور اس کے بجائے اگر امام نے تشہد کی مقدار بیٹھنے کے بعد کسی سے کلام کیا یا اٹھ کر مسجد سے نکل گیا تو بالاتفاق، بالاتفاق کسی کی بھی نماز فاسد نہیں کیونکہ تمام فرائض اور ارکان کیا ہو چکے؟ پورے ہو چکے، تو مدرک جو ہیں ان کی تو نماز ہو گئی اور امام جو ہے امام نے جب کیا کیا؟ کلام کیا یا مسجد سے باہر نکلا تو خروج بصنع المصلی پایا گیا۔ خروج بصنع المصلی، وہ اپنے ارادے سے نماز سے نکل گیا، اپنے ارادے سے۔ جبکہ حدث اور قہقہہ یہ تو نماز کو فاسد کر دیتے ہیں، کیا کر دیتے ہیں؟ تو وہ جز فاسد ہو جائے گا لہٰذا اس صورت میں نماز فاسد ہو گی مسبوق کی اور یہ کلام اور خروج من المسجد کی صورت میں نہیں ہو گی۔ دیکھیے آگے تفصیل بھی آ رہی ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ تَكَلَّمَ أَوْ خَرَجَ مِنَ الْمَسْجِدِ لَمْ تَفْسُدْ فِي قَوْلِهِمْ جَمِيعًا“ اور اگر امام نے کلام کیا یا مسجد سے نکلا تو پھر نماز فاسد نہیں ہو گی مسبوق کی فی قولہم جمیعا، ان سب کے قول میں۔ ”لَهُمَا أَنَّ صَلَاةَ الْمُقْتَدِي بِنَاءٌ عَلَى صَلَاةِ الْإِمَامِ جَوَازًا وَفَسَادًا وَلَمْ تَفْسُدْ صَلَاةُ الْإِمَامِ فَكَذَا صَلَاتُهُ“ صاحبین کی دلیل یہ ہے کہ مقتدی کی نماز جو ہے اس کی بنا امام کی نماز پر ہے جواز اور فساد کے اعتبار سے، اور امام کی نماز تو فاسد نہیں ہوئی تو اسی طرح مقتدی کی بھی مقتدی کی بھی نماز ہے ”وَصَارَ كَالسَّلَامِ وَالْكَلَامِ“ اور یہ اسی طرح ہو گیا جیسے سلام ہے اور کلام ہے، اور سلام اور کلام کی صورت میں تو بالاتفاق نماز فاسد، مسبوق کی نماز کی بات ہو رہی ہے اور سلام اور کلام کی صورت میں تو امام صاحب بھی فرماتے ہیں کہ مسبوق کی نماز فاسد نہیں۔ ”وَلَهُ أَنَّ الْقَهْقَهَةَ مُفْسِدَةٌ لِلْجُزْءِ الَّذِي يُلَاقِيهِ مِنْ صَلَاةِ الْإِمَامِ“ اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے کہ قہقہہ وہ فاسد کر دینے والا ہے اس جز کو جو ملا ہوا ہے من صلاۃ الامام، امام کی نماز سے۔ یعنی امام کی نماز میں سے نماز کا وہ جز جو اس قہقہے کے ساتھ ملا ہوا ہے وہ قہقہہ اس جز کو کیا کر دے گا؟ فاسد، کہ قہقہہ جو ہے فاسد کر دینے والا ہے اس جز کو جو اس کے ساتھ ملا ہوا ہے امام کی نماز میں سے ”فَيَفْسُدُ مِثْلُهُ مِنْ صَلَاةِ الْمُقْتَدِي“ تو فاسد ہو جائے گا اسی کے مثل مقتدی کی نماز میں سے بھی ”غَيْرَ أَنَّ الْإِمَامَ لَا يَحْتَاجُ إِلَى الْبِنَاءِ“ علاوہ اس کے کہ امام وہ بنا کا محتاج نہیں کیونکہ اس کے فرائض سارے پورے ہو چکے ”وَالْمَسْبُوقُ مُحْتَاجٌ إِلَيْهِ“ اور مسبوق کیا ہے؟ وہ محتاج الیہ ہے، اس کو ضرورت ہے بھئی ”وَالْبِنَاءُ عَلَى الْفَاسِدِ فَاسِدٌ“ اور فاسد جز پر جو بنا ہو وہ بھی کیا ہو گی؟ فاسد ہو گی ”بِخِلَافِ السَّلَامِ لِأَنَّهُ مُنْهٍ“ بخلاف کس کے؟ سلام کے، کیونکہ وہ وہ نماز کو پورا کرنے والا ہے ”وَالْكَلَامُ فِي مَعْنَاهُ“ اور کلام بھی اسی کے معنی میں ہے کیونکہ سلام بھی کلام کی طرح ہے نا، ”السَّلَامُ عَلَيْكُمْ“ تو دیکھو تم، تم پر سلامتی ہو، خطاب ہو رہا ہے یا نہیں؟ تو دائیں اور بائیں والے لوگوں کو خطاب ہو رہا ہے تو یہ بھی کلام کی طرح ہے۔ اسی لیے کہا ”وَالْكَلَامُ فِي مَعْنَاهُ“ اور کلام بھی سلام کے معنی ہی میں ہے۔ ”وَيَنْتَقِضُ وُضُوءُ الْإِمَامِ لِوُجُودِ الْقَهْقَهَةِ فِي حُرْمَةِ الصَّلَاةِ“ اور ٹوٹ جائے گا امام کا وضو قہقہہ پائے جانے کی وجہ سے حرمتِ صلاۃ کے اندر، حرمتِ صلاۃ۔ ہاں، امام کی نماز تو پوری ہو گئی لیکن وضو اس کا ٹوٹ جائے گا کیونکہ قہقہہ اگر نماز کے اندر لگایا جائے تو اس سے نماز کے بیچ میں ہو تو نماز بھی ٹوٹ جاتی ہے اور وضو بھی ٹوٹ جاتا ہے، لیکن یہاں سارے فرائض چونکہ پورے ہو چکے تو لہٰذا نماز تو پوری ہو جائے گی اور وضو کیا ہے؟ ٹوٹ جائے گا اس کا بھئی، وضو ٹوٹ جائے گا۔ چلیے بس بھئی، ہذا ہو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔