وَيُكْرَهُ لَهُنَّ حُضُورُ الْجَمَاعَاتِ، يَعْنِي الشَّوَابَّ مِنْهُنَّ، لِمَا فِيهِ مِنْ خَوْفِ الْفِتْنَةِ، وَلَا بَأْسَ لِلْعَجُوزِ أَنْ تَخْرُجَ فِي الْفَجْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ، وَهَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى۔ یہاں سے یہ مسئلہ بیان کر رہے ہیں کہ جماعت کے اندر جماعت کے اندر عورتوں کی شرکت کرنا کیسا ہے۔ تو یاد رکھیے جوان عورتیں جو ہیں، جوان عورتیں ان کے لیے تمام نمازوں کے اندر جماعت کے اندر شرکت کرنا اور مسجد میں آنا، یہ ان کے لیے مکروہ ہے بھئی۔ جوان عورتوں کے لیے مکروہ ہے، جبکہ بوڑھی عورتیں جو ہیں وہ آپ کو بتلائیں گے فجر، مغرب اور عشاء کی نماز میں جماعت میں شرکت کر سکتی ہیں بھئی، وہ آ سکتی ہیں۔ تو جوان عورتوں کا البتہ جماعتوں کے اندر حاضر ہونا اور جماعت میں شرکت کرنا یہ مکروہ ہے اس وجہ سے، اس وجہ سے کیونکہ جو فاسق لوگ ہیں وہ جوان عورتوں کی تاک میں لگے رہتے ہیں تو اب جوان عورتیں اگر مسجد میں آئیں گی ہر نماز کے اندر تو اس میں فتنہ واقع ہونے کا زیادہ موقع ہے اس لیے فقہاء کیا فرماتے ہیں کہ جوان عورتوں کا جماعت میں حاضر ہونا مکروہ ہے بھئی۔ عورت کے لیے افضل یہ ہے کہ اس کی نماز گھر پر ہو بھئی، گھر پر ہو اور جتنے زیادہ پردے میں ہو اتنا ہی زیادہ افضل ہے بھئی اور اس کی نماز اتنی ہی افضل ہے۔ تو کہتے ہیں: وَيُكْرَهُ لَهُنَّ حُضُورُ الْجَمَاعَاتِ اور مکروہ ہے عورتوں کے لیے جماعتوں میں حاضر ہونا، يَعْنِي الشَّوَابَّ مِنْهُنَّ یعنی ان میں سے جو جوان ہیں، لِمَا فِيهِ مِنْ خَوْفِ الْفِتْنَةِ اس وجہ سے کہ اس میں فتنے کا خوف ہے، وَلَا بَأْسَ لِلْعَجُوزِ أَنْ تَخْرُجَ فِي الْفَجْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ اور کوئی حرج نہیں ہے بوڑھی عورت کے لیے کہ وہ نکلے فجر میں، مغرب میں اور عشاء میں۔ یعنی بوڑھی عورت جو ہے فجر، مغرب اور عشاء میں جماعت میں شرکت کر سکتی ہے بھئی۔ وَهَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى اور یہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالی کے نزدیک ہے۔ یعنی وہ فرماتے ہیں فجر، مغرب اور عشاء میں بوڑھی عورت جماعت میں شرکت کر سکتی ہے، البتہ ظہر اور عصر کی نماز میں اس کے لیے بھی جماعت میں شرکت کرنا مکروہ ہے ان کے نزدیک، جبکہ آگے بتلائیں گے صاحبین کا قول آئے گا وہ فرماتے ہیں کہ بوڑھی عورت پانچوں نمازوں میں جماعت میں شریک ہو سکتی ہے، اس کا جماعت میں شریک ہونا مکروہ نہیں ہے بھئی، مکروہ نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: وَقَالَا صاحبین فرماتے ہیں: يَخْرُجْنَ فِي الصَّلَوَاتِ كُلِّهَا کہ بوڑھی عورتیں نکل سکتی ہیں تمام نمازوں میں، لِأَنَّهُ لَا فِتْنَةَ لِقِلَّةِ الرَّغْبَةِ اس وجہ سے کیونکہ فتنہ نہیں ہے رغبت کے کم ہونے کی وجہ سے، فَلَا يُكْرَهُ تو مکروہ نہیں ہوگا، كَمَا فِي الْعِيدِ جیسے کس کے اندر؟ عید کے اندر بھئی۔ عید کی نماز جیسے پہلے بھئی پہلے اجتماعی نماز ہوتی تھی، پوری بستی والے یا پورے شہر والے بستی سے باہر نکل کر کھلے میدان میں اکٹھے عید کی نماز ادا کیا کرتے تھے اور اس میں بالاتفاق عورتوں کا حاضر ہونا جائز ہے، اس میں مکروہ نہیں ہے بھئی، مکروہ نہیں ہے۔ تو تو اب صاحبین فرماتے ہیں جیسے عید کے اندر عید کی نماز دن میں ہوتی ہے اور اس میں عورتوں کا حاضر ہونا مکروہ نہیں، اسی طرح بوڑھی عورتیں پانچوں نمازوں کے اندر جماعت میں حاضر ہو سکتی ہیں اور ان کا حاضر ہونا مکروہ نہیں۔ اور نیز وہ فرماتے ہیں کہ بوڑھی عورتوں کے آنے میں فتنے کا خوف بھی زیادہ نہیں کیونکہ فاسق لوگوں کو بوڑھی عورتوں میں کم رغبت ہوتی ہے تو لہذا فتنے کا فتنہ واقع ہونے کا امکان بھی نہیں ہے بھئی۔ تو یہ معنی ہے کہ لِأَنَّهُ لَا فِتْنَةَ لِقِلَّةِ الرَّغْبَةِ اس وجہ سے کیونکہ فتنہ نہیں ہے رغبت کے کم ہونے کی وجہ سے، فَلَا يُكْرَهُ تو مکروہ نہیں ہوگا، كَمَا فِي الْعِيدِ جیسے عید میں ہے۔ وَلَهُ اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے، امام صاحب کیا فرماتے تھے کہ بوڑھی عورت فجر، مغرب اور عشاء میں آ سکتی ہے، ظہر اور عصر میں نہیں، تو امام صاحب فرماتے ہیں چاہے بوڑھی عورت ہی کیوں نہ ہو لیکن شہوت کی زیادتی فاسق لوگوں کو فتنے پر آمادہ کر دیتی ہے بھئی، فاسق لوگوں کو فتنے پر آمادہ کر دیتی ہے لہذا بوڑھی عورت کے آنے میں بھی فتنے کا احتمال ہے، فتنے کا امکان ہے، لیکن لیکن تین وقت جو ہیں، تین اوقات میں تین جماعتوں میں بوڑھی عورت آ سکتی ہے، تو البتہ ظہر اور عصر میں نہیں، ظہر اور عصر میں بوڑھی عورت کا آنا بھی مکروہ ہے اس لیے کیونکہ ظہر اور عصر کا وقت دن کا وقت ہے اور اس وقت فساق اور فاسق لوگ جو ہیں ہر طرف پھیلے ہوتے ہیں، لیکن فجر اور عشاء کے وقت وہ سوئے ہوتے ہیں، غفلت میں ہوتے ہیں اور اسی طرح مغرب کے وقت وہ کھانے میں مشغول ہوتے ہیں، کھانے میں مشغول، تو لہذا ان اوقات میں فساق کا انتشار نہیں ہوتا یا قلیل ہوتا ہے، اس لیے ان اوقات میں بوڑھی عورت آ سکتی ہے، جبکہ باقی اوقات میں یعنی ظہر اور عصر میں اس کا آنا بھی مکروہ ہے، جماعت میں حاضر ہونا مکروہ ہے۔ تو کہتے ہیں: وَلَهُ امام صاحب کی دلیل یہ ہے: أَنَّ فَرْطَ الشَّبَقِ حَامِلٌ فَتَقَعُ الْفِتْنَةُ فرط کا معنی زیادتی، زیادہ ہونا۔ شبق، شبق کہتے ہیں شہوت کو بھئی۔ وہ امام صاحب کی دلیل یہ ہے: أَنَّ فَرْطَ الشَّبَقِ حَامِلٌ کہ شہوت کی زیادتی حامل وہ ابھارنے والی ہے، وہ فتنے پر ابھارنے والی ہے، فَتَقَعُ الْفِتْنَةُ تو فتنہ واقع ہوگا۔ غَيْرَ أَنَّ الْفُسَّاقَ یہ یہ وہ سوال کا جواب دے رہے ہیں کہ شہوت کی زیادتی کی وجہ سے جب بوڑھی عورتوں کے آنے میں بھی فتنے کا خوف ہے تو پھر آپ نے ان کو تین نمازوں میں آنے کی اجازت کیوں دی؟ تو جواب دے رہے ہیں: غَيْرَ أَنَّ الْفُسَّاقَ انْتِشَارُهُمْ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْجُمُعَةِ علاوہ اس کے کہ فاسق لوگ جو ہیں ان کا انتشار یعنی ان کا پھیلنا جو ہوتا ہے ظہر، عصر اور جمعہ کے وقت ہوتا ہے، أَمَّا فِي الْفَجْرِ وَالْعِشَاءِ فَهُمْ نَائِمُونَ اور باقی فجر اور عشاء کے وقت وہ سوئے ہوتے ہیں، وَفِي الْمَغْرِبِ بِالطَّعَامِ مَشْغُولُونَ اور مغرب کے وقت وہ کھانے کے اندر مشغول ہوتے ہیں۔ تو ان اوقات میں چونکہ فاسق لوگوں کا انتشار نہیں ہوتا یا قلیل ہوتا ہے اس لیے ان تین اوقات کے آنے میں، ان تین اوقات کی نمازوں کے میں بوڑھی عورتوں کے حاضر ہونے میں کوئی حرج نہیں ہے بھئی، کوئی حرج نہیں ہے۔ اس پر یہ آپ کے ذہن میں اشکال ہو سکتا ہے کہ جب اس وقت فاسق لوگوں کا انتشار کم ہوتا ہے تو پھر اس وقت تو جوان عورت کے لیے بھی آنا جائز ہونا چاہیے، تو جواب یہ کہ اگر جوان عورتیں اس ان کو اجازت دی جائے کہ وہ ان نمازوں میں حاضر ہو سکتی ہیں تو پھر اس صورت میں فساق اپنی نیند اور کھانے پینے کو بھی چھوڑ کر کیا ہو جائیں گے؟ وہ آئیں گے، وہ تو جوان عورتوں کے تاک میں لگے رہتے ہیں تو جب ان کو پتہ چلے گا جوان عورتیں بھی جماعت میں آتی ہیں تو وہ تو پھر اس وقت کھانے پینے کو بھی چھوڑ دیں گے، نیند کو بھی چھوڑ دیں گے، تو اسی لیے جوان عورتوں کا نماز میں جماعت میں شریک ہونا مکروہ ہے بھئی، اور جتنے پردے میں ہو اتنا بہتر ہے، جتنے پردے میں ہو۔ وَالْجَبَّانَةُ مُتَّسِعَةٌ یہاں سے صاحبِ ہدایہ جواب دے رہے ہیں صاحبین کی دلیل کا۔ صاحبین نے کہا تھا کہ بوڑھی عورتیں ساری نمازوں میں حاضر ہو سکتی ہیں یعنی دن کی جو نمازیں ہیں، ظہر اور عصر میں بھی حاضر ہو سکتی ہیں جیسے عید کی نماز میں، جیسے کس میں؟ عید، جیسے وہ بھی دن کے اندر پڑھی جاتی ہے، اس میں حاضر ہونا بالاتفاق مکروہ نہیں تو اس میں بھی حاضر ہو سکتی ہیں، اس کا جواب دے رہے ہیں صاحبِ ہدایہ کہ عید کی نماز میں ان کے حاضر ہونے میں وہاں پر چونکہ جنگل میں عید کی نماز ادا کی جاتی ہے باہر کھلے میدان میں، اور کھلا میدان وسیع ہوتا ہے تو وہاں پر عورتیں مردوں سے الگ رہ سکتی ہیں، کھلی جگہ ہے، وہاں اختلاط کا اہتما اختلاط کا اتنا امکان نہیں ہے لہذا اس پر آپ قیاس نہیں کر سکتے بھئی اس کو، وہ الگ صورت ہے اور یہ الگ صورت، وہاں الگ رہنا ممکن ہے، یہاں الگ رہنا ممکن نہیں۔ تو کہتے ہیں: وَالْجَبَّانَةُ مُتَّسِعَةٌ جبانہ کہتے ہیں جنگل کو بھئی۔ وَالْجَبَّانَةُ مُتَّسِعَةٌ اور جنگل جو ہے وہ وسیع ہوتا ہے، فَيُمْكِنُهَا الِاعْتِزَالُ عَنِ الرِّجَالِ تو ممکن ہے ان عورتوں کے لیے جدا رہنا مردوں سے، فَلَا يُكْرَهُ تو اس میں حاضر ہونا مکروہ نہیں ہوگا، لیکن یہاں پر یہاں پر تو مسجد میں ادا کی جا رہی ہے جماعت کے ساتھ تو یہاں پر الگ ہونا یہاں پر اعتزال اور علیحدہ رہنا ممکن نہیں ہے لہذا مکروہ ہوگا۔ قَالَ: وَلَا يُصَلِّي الطَّاهِرُ خَلْفَ مَنْ هُوَ فِي مَعْنَى الْمُسْتَحَاضَةِ، وَلَا الطَّاهِرَةُ خَلْفَ الْمُسْتَحَاضَةِ قدوری فرماتے ہیں: وَلَا يُصَلِّي الطَّاهِرُ خَلْفَ مَنْ هُوَ فِي مَعْنَى الْمُسْتَحَاضَةِ اور نماز نہیں پڑھے پڑھ سکتا پاک شخص آدمی خَلْفَ مَنْ اس شخص کے پیچھے هُوَ فِي مَعْنَى الْمُسْتَحَاضَةِ جو مستحاضہ کے معنی میں ہو یعنی اس کے حکم میں ہو۔ پاک آدمی بھئی وہ وہ شخص جو اس کے پیچھے نماز نہیں پڑھ سکتا جو مستحاضہ کے حکم میں ہے۔ مستحاضہ کس عورت کو کہتے ہیں؟ جس کو بیماری کی وجہ سے ہر وقت خون جاری ہے تو وہ معذور ہے۔ تو مَنْ هُوَ فِي مَعْنَى الْمُسْتَحَاضَةِ سے مراد ہوا معذور۔ مَنْ هُوَ فِي مَعْنَى الْمُسْتَحَاضَةِ سے کیا مراد ہوا؟ معذور، یعنی وہ شخص جس کو کوئی ایسا عذر ہے کہ کوئی ایسا حدث ہے جو ہر وقت اس کے ساتھ لگا ہوا ہے، اس سے جدا ہوتا ہی نہیں۔ مثلاً کسی کا کوئی زخم ہے، ہر وقت اس سے خون بہتا رہتا ہے، رکتا ہی نہیں، تو یہ شخص کیا ہے؟ معذور، تو معذور کے پیچھے تندرست آدمی کی نماز جائز نہیں۔ تو کہتے ہیں: وَلَا يُصَلِّي الطَّاهِرُ خَلْفَ مَنْ هُوَ فِي مَعْنَى الْمُسْتَحَاضَةِ اور پاک آدمی نماز نہیں پڑھے گا اس شخص کے پیچھے جو مستحاضہ کے حکم میں ہے یعنی جو معذور ہے، وَلَا الطَّاهِرَةُ خَلْفَ الْمُسْتَحَاضَةِ اور نہ پاک عورت نماز پڑھ سکتی ہے خَلْفَ الْمُسْتَحَاضَةِ کس کے پیچھے؟ مستحاضہ کے پیچھے۔ لِأَنَّ الصَّحِيحَ أَقْوَى حَالًا مِنَ الْمَعْذُورِ اس کی کیونکہ جو تندرست ہوتا ہے وہ زیادہ قوی حالت والا ہوتا ہے مِنَ الْمَعْذُورِ معذور کے مقابلے میں۔ تو ایک کی حالت قوی ہے اور ایک کی حالت کیا ہے؟ ضعیف ہے بھئی۔ جو پاک آدمی ہے اس کی حالت قوی ہے اور جو معذور ہے اس کی حالت ضعیف ہے، اور حدیث میں آیا ہے: الْإِمَامُ ضَامِنٌ امام کیا ہوتا ہے؟ ضامن ہوتا ہے یعنی مقتدی کی نماز کو اپنے نماز کے ضمن میں لیے ہوئے ہوتا ہے، یعنی امام کی نماز مقتدی کی نماز کو شامل ہوتی ہے، اس کو اپنے ضمن میں لیے ہوئے ہوتی ہے۔ تو اگر اگر امام کی حالت قوی ہے تو پھر تو وہ دوسرے کی نماز کو اپنے ضمن میں لے سکتا ہے، قوی کی نماز کو اپنے ضمن میں لے سکتا ہے، لیکن اگر امام کی امام کس کی حالت کیا ہے؟ ضعیف ہے اور مقتدی کی حالت قوی ہے تو ضعیف چیز تو قوی چیز کو اپنے ضمن میں اور اپنے اندر نہیں لے سکتی بھئی۔ یہ معنی ہے کیونکہ تندرست جو ہے أَقْوَى حَالًا مِنَ الْمَعْذُورِ وہ زیادہ قوی حالت والا ہے معذور کے مقابلے میں، وَالشَّيْءُ لَا يَتَضَمَّنُ مَا فَوْقَهُ اور کوئی چیز جو ہے وہ اپنے سے اوپر والی چیز کو متضمن نہیں ہوتی۔ کوئی چیز جو ہے اپنے برابر یا اپنے سے کمتر چیزوں کو تو اپنے ضمن میں اور اپنے اندر لے سکتی ہے، اپنے سے قوی اور اوپر والی چیزوں کو اپنے ضمن میں نہیں لے سکتی۔ وَالْإِمَامُ ضَامِنٌ اور امام ضامن ہے۔ یاد رکھیے یہ حدیث ہے بھئی، الْإِمَامُ ضَامِنٌ امام ضامن ہے، اور اس حدیث کا کیا معنی ہے؟ کہتے ہیں: بِمَعْنَى تَضَمَّنَ صَلَاتُهُ صَلَاةَ الْمُقْتَدِي یعنی امام کی نماز جو ہے مقتدی کی نماز کو متضمن ہوتی ہے، اس کو اپنے ضمن میں لیے ہوئے ہوتی ہے، اپنے اندر لیے ہوئے ہوتی ہے۔ دلیل بھی سمجھ میں آئی کہ نہیں بھئی؟ کوئی بھی چیز اپنے سے کمتر چیز یا اپنے برابر والی چیز کو تو اپنے ضمن میں لے سکتی ہے لیکن اپنے سے اوپر والی چیز کو اپنے ضمن میں نہیں لے سکتی۔ تو ایک شخص معذور ہے اور دوسرا شخص تندرست ہے، تو معذور جو ہے اس کی حالت ہوئی ضعیف اور جو تندرست ہے اس کی حالت ہوئی قوی، تو ضعیف کی نماز جو ہے وہ تندرست کی نماز کو اپنے ضمن میں نہیں لے سکتی۔ وَلَا يُصَلِّي الْقَارِئُ خَلْفَ الْأُمِّيِّ، وَلَا الْمُكْتَسِي خَلْفَ الْعَارِي اور نماز نہیں پڑھے گا قاری خَلْفَ الْأُمِّيِّ وہ اس شخص کے پیچھے جو امی ہے۔ بھئی امی یا مشدد ہے، أُمِّيٌّ۔ یہ نسبت ہے ام کی طرف، ماں کی طرف، أُمِّيٌّ یعنی ماں کی طرف منسوب۔ اور امی اس شخص کو کہتے ہیں جس نے کسی سے کچھ جس نے تعلیم نہ حاصل کی ہو، سیکھا کچھ نہ ہو بھئی، اسے کیا کہتے ہیں؟ امی کہتے ہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ جس نے سیکھا نہیں ہے اس کو امی کہتے ہیں۔ اور امی ماں کی طرف نسبت اس لیے ہے کہ یہ جب کسی سے اس نے سیکھا ہی نہیں ہے کچھ تو یہ ویسا ہی ہے جیسا ماں نے اس کو جنا تھا بھئی، جیسا ماں نے جنم دیا تھا یہ اسی حالت پر ہے، کسی سے کچھ سیکھا نہیں، تو اس لیے اس کو امی کہا جاتا ہے۔ اور یہاں لفظ آیا قاری، قاری، وَلَا يُصَلِّي الْقَارِئُ، تو قاری سے وہ نہ سمجھنا جس کو آپ حضرات قاری کہتے ہیں بھئی، قاری، بلکہ قاری سے مراد یہاں وہ شخص ہے جو اتنی قراءت جس کو آتی ہو جس سے نماز کا فرض ادا ہو جائے، جس کو اتنی قراءت آتی ہے جس سے نماز کا فرض ادا ہو جائے وہ ہے قاری۔ اور امام صاحب کے نزدیک فرض کم از کم کتنا قران پڑھنا ضروری ہے؟ ایک آیت، اور صاحبین کے نزدیک تین چھوٹی آیتیں یا ایک بڑی آیت۔ تو امام صاحب کے نزدیک جس کو ایک آیت قران کی یاد ہو اس سے فرض ادا ہو جائے گا نماز کا، تو اس کو قاری کہیں گے، اور صاحبین کے نزدیک جس کو تین چھوٹی آیتیں یا ایک بڑی آیت یاد ہو تو اس سے نماز کا فرض ادا ہو جاتا ہے لہذا جس کو اتنا یاد ہو اس کو قاری کہیں گے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو قاری سے مراد وہ نہیں جس کو آپ قاری کہتے ہیں، جو قران پورا بہترین تجوید کے ساتھ پڑھ سکے وہ مراد نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَلَا يُصَلِّي الْقَارِئُ خَلْفَ الْأُمِّيِّ اور نماز نہیں پڑھے گا قاری یعنی جس کو فرض کے بقدر قراءت آتی ہے وہ، خَلْفَ الْأُمِّيِّ اس شخص کے پیچھے جو امی ہے یعنی جس کو فرض کے بقدر قراءت بھی نہیں آتی بھئی۔ وَلَا الْمُكْتَسِي خَلْفَ الْعَارِي مکتسی جس نے کپڑے پہنے ہوئے ہوں، عاری جو ننگا ہے جس کے پاس کپڑے نہیں، اور نہ ہی کپڑے پہنے ہوئے شخص نماز پڑھے گا خَلْفَ الْعَارِي ننگے کے پیچھے۔ کیوں؟ لِقُوَّةِ حَالِهِمَا بوجہ ان دونوں کی حالت کے قوی ہونے کے۔ اس لیے کیونکہ ایک ہے قاری اور ایک ہے امی، قاری کی حالت کیا ہے؟ قوی، اور امی کی حالت ضعیف ہے، تو لہذا یہ اس کے پیچھے نماز درست نہیں۔ اسی طرح ایک شخص نے کپڑے پہنے ہوئے ہیں، اس کی حالت ہے قوی، اور جس کے پاس کپڑے نہیں اس کی حالت ہے ضعیف ہے، تو قوی جس کی حالت ہو وہ تو نماز کروائے ٹھیک ہو جائے گی، لیکن ضعیف حالت والا کروائے تو پھر صحیح نہیں۔ وَيَجُوزُ أَنْ يَؤُمَّ الْمُتَيَمِّمُ الْمُتَوَضِّئِينَ اور جائز ہے کہ امامت کروائے تیمم کرنے والا وضو کرنے والوں کی۔ امام کون ہوا؟ اس نے کیا کیا ہے؟ تیمم، اور مقتدیوں نے کیا کر رکھا ہے؟ وضو کر رکھا ہے، تو یاد رکھیے یہ تیمم کرنے والا ان وضو کرنے والوں کی امامت کروا سکتا ہے، وہ امام بن سکتا ہے۔ وَهَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُمَا اللَّهُ اور یہ شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک ہے۔ وَقَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ: لَا يَجُوزُ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں جائز نہیں۔ وضو کرنے والے کی حالت قوی اور تیمم کرنے والے کی حالت ضعیف ہے، کیونکہ وہ فرماتے ہیں تیمم طہارتِ ضروریہ ہے۔ تیمم کیا ہے؟ طہارتِ ضروریہ ہے، شریعت نے ضرورت کی وجہ سے اجازت دی کہ ایک شخص کے پاس پانی نہیں ہے یا پانی کے استعمال پر وہ قادر نہیں ہے اور نماز کا وقت ہو گیا ہے تو شریعت نے اجازت دی کہ کیا کر لو؟ تیمم، تو یہ طہارتِ ضروریہ ہے۔ تو تیمم کرنے کی حوالے کی حالت ضعیف ہوئی اور وضو کرنے والے کی حالت قوی ہوئی، اور ضعیف پر قوی کی بنیاد نہیں رکھی جا سکتی، قوی پر تو ضعیف کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے لیکن ضعیف پر قوی کی نہیں۔ تو کہتے ہیں: وَقَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ اور امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: لَا يَجُوزُ یہ جائز نہیں ہے، لِأَنَّهُ طَهَارَةٌ ضَرُورِيَّةٌ اس لیے کیونکہ تیمم طہارتِ ضروریہ ہے، وَالطَّهَارَةُ بِالْمَاءِ أَصْلِيَّةٌ اور طہارت بالماء جو ہے وہ اصل ہے، وہ طہارتِ اصلیہ ہے۔ وَلَهُمَا اور شیخین رحمہما اللہ کی دلیل یہ ہے: أَنَّهُ طَهَارَةٌ مُطْلَقَةٌ کہ تیمم طہارتِ مطلقہ ہے، تیمم طہارتِ ضروریہ نہیں ہے بلکہ کیا ہے؟ طہارتِ مطلقہ ہے، وَلِهَذَا لَا يَتَقَدَّرُ بِقَدْرِ الْحَاجَةِ اور اسی وجہ سے لَا يَتَقَدَّرُ تیمم متعین نہیں ہوتا، مقرر نہیں ہوتا، بِقَدْرِ الْحَاجَةِ ضرورت کے بقدر، اسی لیے تیمم بقدرِ حاجت متعین نہیں ہوتا۔ بھئی دیکھیے، شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ تیمم طہارتِ ضروریہ نہیں، طہارتِ مطلقہ ہے۔ اگر طہارتِ ضروریہ ہوتی تو پھر ضرورت کی وجہ سے اجازت ہوتی کہ نماز کا وقت آ گیا اور اب پانی تو ہے نہیں تو کیا کر لے؟ تیمم کر لے، تیمم کر لیا اور ضرورت پوری ہو گئی یا نہیں ہو گئی؟ ضرورت پوری ہو گئی، تو اسی تیمم کے ساتھ اگلی نماز جائز نہیں ہونی چاہیے تھی، لیکن اسی تیمم کے ساتھ اگلی نماز اگر اس وقت تک یہ تیمم برقرار ہے تو اگلی نماز بھی پڑھ سکتے ہیں، اس سے اگلی نماز تک اگر تیمم برقرار ہے تو اسی تیمم کے ساتھ کیا کر سکتے ہیں؟ اس سے اگلی نماز، معلوم ہوا تیمم طہارتِ ضروریہ نہیں، اگر یہ طہارتِ ضروریہ ہوتی تو ضرورت تو کس وقت تھی؟ پہلی نماز، اور نماز پڑھتے ہی ضرورت کیا ہو گئی تھی؟ پوری، جب نماز ضرورت پوری ہو گئی تو پھر اس تیمم کو کیا ہو جانا چاہیے تھا؟ ختم ہو جانا چاہیے تھا، لیکن آپ بھی کہتے ہیں کہ نہیں، تیمم جب تک ہے کیا کر سکتا ہے؟ اگلی نمازیں بھی، معلوم ہوا یہ تیمم طہارتِ ضروریہ نہیں بلکہ طہارتِ مطلقہ ہے۔ اگر طہارتِ ضروریہ ہوتا تو پھر تو یہ ضرورت کے بقدر ہی متعین ہوتا، اس سے زائد یہ نہ رہتا۔ یہ معنی ہے کہ یہ طہارتِ مطلقہ ہے، وَلِهَذَا لَا يَتَقَدَّرُ بِقَدْرِ الْحَاجَةِ اسی لیے یہ مقرر نہیں ہوتا، متعین نہیں ہوتا بقدرِ حاجت، ضرورت کے بقدر، صرف وہ نماز پڑھنے تک ہی نہیں رہتا بلکہ بعد میں بھی تیمم باقی رہتا ہے، معلوم ہوا یہ طہارتِ مطلقہ ہے۔ وَيَؤُمُّ الْمَاسِحُ الْغَاسِلِينَ اور امامت کر سکتا ہے مسح کرنے والا الْغَاسِلِينَ دھونے والوں کی، ایک ہے مسح کرنے والا، ایک ہے عضو کو دھونے والا، مثلاً بھئی ایک شخص ہے وہ موزوں پر مسح کرتا ہے اور ایک شخص ہے اس نے پاؤں کو دھویا ہے، تو کیا یہ مسح کرنے والا اس پاؤں کو دھونے والے کی امامت کر سکتا ہے یا نہیں؟ تو انہوں نے صاحبِ قدوری نے کیا بتلایا کہ مسح کرنے والا دھونے والوں کی امامت کر سکتا ہے۔ اس پر اشکال ہوتا ہے کہ کہ بھئی پاؤں کو دھونے والے کی حالت ہے قوی اور مسح کرنے والے کی حالت ہے ضعیف، تو پھر یہ کیسے اس کی امامت کر سکتا ہے؟ تو آگے آپ کو بتلائیں گے، کہتے ہیں نہیں، یہ مسح موزوں پر مسح کرنے والا بھی اسی طرح ہے جیسے پاؤں کو دھونے والا۔ تو گویا دونوں پاؤں کو دھونے والے ہیں تو دونوں کی حالت قوی ہوئی، جب دونوں کی حالت قوی ہوئی تو دونوں میں سے کوئی بھی امام بن سکتا ہے، چاہے دھونے والا ہے چاہے مسح کرنے والا ہے۔ اس پر اشکال ہوتا ہے کہ مسح کرنے والے نے تو مسح کیا ہے، پاؤں کو دھویا کب ہے کہ آپ نے اس کو بھی دھونے والے کی طرح قرار دے دیا؟ تو آگے بتلائیں گے آپ کو کہ بھئی دیکھیے، اس نے جو موزے پہنے تھے وہ پاؤں کو دھو کر پہنے تھے موزے، اور پھر حدث جو لاحق ہوا وہ صرف کس پر آیا؟ موزوں پر اترا، موزوں نے اس حدث کو پاؤں تک نہیں جانے دیا، اپنے اوپر ہی روک لیا، تو صرف موزوں پر حدث آیا، اور اس حدث کو بھی جب وہ مسح کرے گا یہ حدث بھی کیا ہو جائے گا؟ ختم ہو جائے گا، تو اس کے پاؤں اسی طرح اندر موزے میں گویا دھلے ہوئے ہیں بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے: لِأَنَّ الْخُفَّ مَانِعٌ سِرَايَةَ الْحَدَثِ إِلَى الْقَدَمِ اس لیے کیونکہ موزہ جو ہے وہ مانع ہے اس بات سے کہ پہنچے حدث پاؤں تک، کیونکہ موزہ پاؤں تک حدث کے پہنچنے سے مانع ہے، وَمَا حَلَّ بِالْخُفِّ يُزِيلُهُ الْمَسْحُ اور وہ حدث جو اترا ہے موزے پر يُزِيلُهُ الْمَسْحُ اس کو مسح دور کر دے گا، مسح سے موزے کے اوپر سے بھی مسح حدث دور ہو جائے گا، بِخِلَافِ الْمُسْتَحَاضَةِ بخلاف کس کے؟ مستحاضہ کے، یعنی مستحاضہ ہے جو یا جو معذور ہے، لِأَنَّ الْحَدَثَ لَمْ يُعْتَبَرْ زَوَالُهُ شَرْعًا اس لیے کیونکہ ان کا جو حدث ہے شریعت نے اس کے زوال کا اعتبار نہیں کیا، شریعت نے اس کے زوال کا اعتبار نہیں کیا۔ بھئی دیکھیے، معذور آدمی ہے معذور، مثلاً ایک شخص ہے اس کے ہر وقت خون زخم سے بہہ رہا ہے، اس کی تفصیل آپ پیچھے پڑھ چکے ہیں کہ اس شخص کو اب خون کا بدن سے نکلنا یہ تو حدث ہے، حدث ہے، لیکن اب نماز کا وقت آ گیا، اب خون رک ہی نہیں رہا، تھوڑی دیر کے لیے بھی نہیں رکتا کہ جس میں کیا کرے؟ یہ وضو کر کے نماز پڑھ لے، تو شریعت نے ایسے شخص کو معذور قرار دیا ہے، کیا قرار دیا ہے؟ کہ یہ وقت کے اندر وضو کر کے جتنی نمازیں پڑھنا چاہے پڑھ سکتا ہے۔ کیا کر سکتا ہے؟ شریعت نے اس کو رخصت دے دی، شریعت نے یہ نہیں کہا تمہارا حدث ہی ختم ہو گیا۔ شریعت نے یہ نہیں کہا، بلکہ شریعت نے کیا کیا؟ رخصت دے دی۔ یہ نہیں کہا کہ تمہارا حدث ختم ہو گیا، حدث ہے ہی نہیں، شریعت اس کا اعتبار ہی نہیں کر رہی، نہیں نہیں۔ اعتبار ہے لیکن شریعت نے اجازت دے دی۔ اسی لیے جیسے ہی وقت نکلے گا اس نماز کا، اس حدث کا اثر ظاہر ہو جائے گا اور کیا کہیں گے ہم؟ وضو ختم ہوا، اب نئے وقت کے لیے کیا کرنا پڑے گا؟ نیا وضو کرنا پڑے گا، معلوم ہوا وہ حدث اس کے ختم ہونے کا شریعت نے اعتبار نہیں کیا تھا، صرف صرف رخصت دی تھی، کیا کر سکتے ہو؟ تم اسی حالت میں کیا کر لو؟ نماز پڑھ لو، صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے: لِأَنَّ الْحَدَثَ لَمْ يُعْتَبَرْ زَوَالُهُ شَرْعًا کہ شرعاً اس کے حدث وہ جو حدث ہے اس کے زوال کا اعتبار نہیں کیا گیا کہ وہ ختم ہو گیا، زوال کا اعتبار نہیں کیا گیا بلکہ صرف کیا کیا گیا؟ رخصت دی گئی تھی، مَعَ قِيَامِهِ حَقِيقَةً ساتھ اس کے کہ وہ حدث حقیقتاً قائم ہے، حقیقتاً اس کے ساتھ لگا ہوا ہے، خون بہہ رہا ہے اس کا، تو شریعت نے اس کے زوال کا اعتبار نہیں کیا۔ دلیل سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو آپ یہ جو ذکر کیا: بِخِلَافِ الْمُسْتَحَاضَةِ، یہ فرق بیان کر رہے ہیں کہ ایک ہے مسح کرنے والا اور ایک ہے معذور بھئی، تو یہ مسح کرنے والے کو معذور کی طرح نہیں آپ قرار دے سکتے، دونوں میں بڑا فرق ہے۔ موزے پر جس نے مسح کیا تھا اس نے پاؤں دھو کر موزے پہنے تھے اور موزے مانع بن گئے، اب حدث جو آیا وہ صرف موزے پر آیا اور پھر اس کو بھی مسح نے دور کر دیا، تو اس حدث کو دور کر دیا تو اس کے ساتھ حدث ہے ہی نہیں اس وقت، جبکہ معذور کے ساتھ تو حدث ساتھ لگا ہوا ہے، شریعت نے بھی یہ نہیں کہا کہ اس کا حدث ختم ہو گیا ہے، ہاں شریعت نے کیا کیا اس کو؟ رخصت دی ہے صرف بھئی، تو اس کو ان میں تو مسح کرنے والا اور معذور دونوں میں بڑا فرق ہے بھئی۔ وَيُصَلِّي الْقَائِمُ خَلْفَ الْقَاعِدِ اور پڑھ سکتا ہے نماز کھڑا ہوا شخص خَلْفَ الْقَاعِدِ بیٹھے ہوئے شخص کے پیچھے۔ بھئی ایک شخص ہے وہ کھڑا نہیں ہو سکتا تو وہ بیٹھ کر کیا کرتا ہے؟ رکوع اور سجدہ کرتا ہے، اور ایک شخص ہے وہ تندرست ہے، وہ کھڑا ہو سکتا ہے، تو یہ جو شخص بیٹھ سکتا ہے جو شخص بیٹھ کر نماز ادا کر رہا ہے یہ بن جاتا ہے امام، اور جو کھڑا ہوا ہے وہ مقتدی، تو کیا اس طرح صحیح ہے؟ تو بتلا رہے ہیں کہتے ہیں پڑھ سکتا ہے: يُصَلِّي الْقَائِمُ خَلْفَ الْقَاعِدِ اور نماز پڑھ سکتا ہے کھڑا ہوا شخص بیٹھے ہوئے شخص کے پیچھے، وَقَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ: لَا يَجُوزُ اور امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ جائز نہیں ہے یعنی کیونکہ جو پیچھے کھڑا ہوا ہے اس کی حالت ہوئی قوی اور جو بیٹھا ہوا ہے اس کی حالت ہے ضعیف۔ تو کہتے ہیں امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ جائز نہیں ہے: وَهُوَ الْقِيَاسُ اور یہی قیاس بھی ہے، لِقُوَّةِ حَالِ الْقَائِمِ اس وجہ سے کہ کھڑے ہوئے شخص کی حالت قوی ہے، تو کھڑے ہوئے شخص کی حالت قوی ہونے کی وجہ سے۔ وَنَحْنُ تَرَكْنَاهُ بِالنَّصِّ اور ہم نے اس قیاس کو چھوڑ دیا نص کی وجہ سے، وَهُوَ مَا رُوِيَ اور وہ وہ حدیث ہے جس کو روایت کیا گیا ہے: أَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ صَلَّى آخِرَ صَلَاتِهِ قَاعِدًا وَالْقَوْمُ خَلْفَهُ قِيَامٌ وہ جو روایت کیا گیا ہے کہ حضور علیہ السلام نے پڑھی اپنی آخری نماز بیٹھ کر، وَالْقَوْمُ خَلْفَهُ قِيَامٌ اور لوگ جو تھے آپ کے پیچھے کھڑے ہوئے تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم مرض الوفات کے اندر، مرض الوفات کے اندر آپ کے ضعف کی وجہ سے نماز کے لیے تشریف لانا مشکل تھا تو آپ نے حکم دیا کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نماز پڑھائیں۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نماز شروع فرما دی، پھر حضور علیہ السلام کو کچھ طبیعت میں بہتر محسوس ہوئی، کچھ افاقہ محسوس ہوا، تو آپ حضرت علی اور حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے سہارے سے مسجد میں تشریف لائے، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کی آہٹ سنی تو وہ پیچھے ہٹ گئے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر نماز پڑھائی بیٹھ کر بھئی، تو اس سے معلوم ہوا کہ جو امام ہو بیٹھا ہوا ہو اور مقتدی کھڑا ہوا ہو تو بھی نماز جائز ہے بھئی۔ وَيُصَلِّي الْمُؤْمِي خَلْفَ مِثْلِهِ اور نماز پڑھ سکتا ہے الْمُؤْمِي اشارہ کرنے والا خَلْفَ مِثْلِهِ اپنے جیسے کے پیچھے۔ جو اشارے سے نماز پڑھنے والا ہے وہ اپنے جیسے کے پیچھے نماز پڑھ سکتا ہے یعنی امام بھی اشارے سے نماز پڑھ رہا ہے بیٹھا اور مقتدی بھی، لِاسْتِوَائِهِمَا فِي الْحَالِ بوجہ ان دونوں کے برابر ہونے حالت میں، إِلَّا أَنْ يُؤْمِيَ الْمُؤْتَمُّ قَاعِدًا وَالْإِمَامُ مُسْتَضْجِعًا مگر یہ کہ اشارہ کرے الْمُؤْتَمُّ مقتدی جو ہے قَاعِدًا بیٹھ کر، مقتدی کیا ہے؟ اشارہ کرتا ہے کس طرح؟ بیٹھ کر اشارے سے نماز پڑھ رہا ہے، وَالْإِمَامُ مُسْتَضْجِعًا اور امام اشارہ کر رہا ہے لیٹ کر، پھر درست نہیں بھئی، پھر درست نہیں۔ لِأَنَّ الْقُعُودَ مُعْتَبَرٌ اس لیے کیونکہ بیٹھنا معتبر ہے، فَيَثْبُتُ بِهِ الْقُوَّةُ اس سے کیا ثابت ہو جائے گی؟ قوت۔ تو اگر دونوں اشارے سے نماز پڑھ رہے ہیں تو بھی یہ دیکھا جائے گا کہ دونوں کی حالت برابر ہو۔ ایک بیٹھ کر اشارے سے نماز پڑھ رہا ہے تو اگر امام لیٹ کر اشارے سے نماز پڑھ رہا ہے تو اور مقتدی بھی لیٹ کر اشارے سے نماز پڑھ رہا ہے پھر تو اقتداء صحیح ہے، اور اگر امام لیٹ کر اشارے سے نماز پڑھ رہا ہے اور مقتدی بیٹھ کر اشارے سے نماز پڑھ رہا ہے تو پھر بیٹھنے والے کی حالت تو قوی ہے لہذا پھر درست نہیں۔ وَلَا يُصَلِّي الَّذِي يَرْكَعُ وَيَسْجُدُ خَلْفَ الْمُؤْمِي اور نہ نہیں پڑھ سکتا وہ شخص جو رکوع اور سجدہ کرتا ہے خَلْفَ الْمُؤْمِي اشارہ کرنے والے کے پیچھے، لِأَنَّ حَالَ الْمُقْتَدِي أَقْوَى اس لیے کیونکہ مقتدی کی حالت زیادہ قوی ہے، وَفِيهِ خِلَافُ زُفَرَ رَحِمَهُ اللَّهُ اور اس میں اختلاف ہے امام زفر رحمہ اللہ کا۔ بھئی ایک آدمی ہے وہ اشارے سے نماز پڑھ رہا ہے اور دوسرا کیا ہے؟ رکوع اور سجدہ کر سکتا ہے۔ پہلا شخص جو نماز پڑھا رہا ہے وہ رکوع اور سجدہ نہیں کر سکتا اور مقتدی رکوع اور سجدہ کر سکتا ہے تو یہ اقتداء صحیح نہیں بھئی۔ اور امام زفر کا اس میں اختلاف ہے، وہ فرماتے ہیں کہ نہیں اقتداء کر سکتا ہے۔ وَلَا يُصَلِّي الْمُفْتَرِضُ خَلْفَ الْمُتَنَفِّلِ اور نماز نہیں پڑھ سکتا فرض پڑھنے والا نفل پڑھنے والے کے پیچھے۔ امام نے امام نفل پڑھ رہا ہے اور مقتدی کیا کر رہا ہے؟ وہ فرض پڑھنا چاہتا ہے، فرض پڑھ رہا ہے اس کے پیچھے، تو یہ درست نہیں ہے بھئی۔ لِأَنَّ الِاقْتِدَاءَ بِنَاءٌ اس لیے کیونکہ اقتداء یہ بناء ہے۔ اقتداء کرنا یہ بناء کرنا ہے یعنی بنیاد رکھنا ہے یعنی مقتدی اپنی نماز کی بنیاد رکھتا ہے امام کی نماز پر۔ اقتداء کس چیز کا نام ہے؟ بناء، یعنی مقتدی کیا کرتا ہے؟ اپنی نماز کی بنیاد کس پر رکھتا ہے؟ امام کی نماز پر اپنی نماز کی بنیاد رکھتا ہے، تو امام اگر فرض پڑھنے والا ہوگا تو مقتدی کے لیے اپنے فرضوں کی بنیاد اس کے فرضوں پر رکھنا صحیح ہوگا۔ امام اگر نفل پڑھنے والا ہے تو مقتدی اس کے پیچھے نفل پڑھنا چاہتا ہے تو مقتدی کے لیے اپنے نفلوں کی بنیاد اس کے نفلوں پر رکھنا صحیح ہوگا۔ لیکن اگر امام کیا پڑھنے والا ہے؟ نفل پڑھنے والا ہے اور مقتدی کیا پڑھنا چاہتا ہے؟ فرض پڑھنا چاہتا ہے تو فرضوں کی بنیاد تو فرضوں پر ہو سکتی ہے اور امام کی نماز میں فرض ہونے والا وصف ہے؟ نہیں، فرض ہونے والا وصف نہیں، تو گویا مقتدی اپنے فرضوں کی بنیاد ایک معدوم چیز پر رکھ رہا ہے جس کا وجود ہی نہیں ہے تو یہ تو بنیاد رکھی ہی نہیں، بنیاد وجودی چیز پر تو رکھی جا سکتی ہے، عدمی چیز پر بنیاد نہیں، تو مقتدی جب فرض پڑھنا چاہتا ہے تو ضروری ہے کہ امام کی نماز بھی کس قسم کی ہو؟ فرض نماز ہو تاکہ فرضوں پر فرضوں کی بنیاد رکھی جا سکے۔ وَلَا يُصَلِّي الْمُفْتَرِضُ خَلْفَ الْمُتَنَفِّلِ اور نہیں نماز پڑھ سکتا فرض پڑھنے والا نفل پڑھنے والے کے پیچھے، لِأَنَّ الِاقْتِدَاءَ بِنَاءٌ اس لیے کیونکہ اقتداء جو ہے وہ بنیاد رکھنا ہے، وَوَصْفُ الْفَرْضِيَّةِ مَعْدُومٌ فِي حَقِّ الْإِمَامِ اور فرض ہونے کا وصف یہ تو امام کے حق میں معدوم ہے یعنی اس کی نماز میں تو فرض ہونے کا وصف نہیں ہے، فَلَا يَتَحَقَّقُ الْبِنَاءُ عَلَى الْمَعْدُومِ تو لہذا بنیاد ثابت نہیں ہوگی عَلَى الْمَعْدُومِ کس پر؟ ایک معدوم چیز پر بنیاد نہیں پائی جائے گی، وہ بنیاد نہیں رکھی جا سکتی۔ قَالَ: وَلَا مَنْ يُصَلِّي فَرْضًا خَلْفَ مَنْ يُصَلِّي فَرْضًا آخَرَ اور نہ وہ شخص جو ایک فرض پڑھ رہا ہے خَلْفَ مَنْ يُصَلِّي فَرْضًا آخَرَ اس شخص کے پیچھے جو کوئی دوسرا فرض پڑھ رہا ہے۔ بھئی مقتدی اگر فرض پڑھنا چاہتا ہے تو امام کی نماز بھی کیا ہونی چاہیے؟ فرض، اور نیز نماز بھی وہی ہونی چاہیے، یعنی مقتدی ظہر کی نماز پڑھنا چاہتا ہے تو امام بھی ظہر کی نماز پڑھ رہا ہو فرض بھئی، اور اگر مقتدی ادا پڑھنا چاہتا ہے یعنی وقت کے اندر تو ضروری ہے کہ وہ امام بھی کیا ہو؟ اسی وقت کے فرض پڑھ رہا ہو، کوئی قضاء فرض نہ پڑھ رہا ہو بھئی۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّ الِاقْتِدَاءَ شِرْكَةٌ وَمُوَافَقَةٌ اس لیے کیونکہ اقتداء شرکت اور موافقت کا نام ہے۔ اقتداء کس چیز کا نام ہے؟ اقتداء شرکت اور موافقت کا نام ہے۔ یعنی اقتداء اس چیز کو کہتے ہیں کہ دونوں مقتدی اور امام کی شرکت ہو یعنی ایک ہی نماز پڑھ رہے ہوں، کیا کر رہے ہوں؟ ایک ہی نماز پڑھ رہے ہوں۔ لہذا مقتدی اگر اج کے ظہر کی نماز پڑھ رہا ہے تو امام بھی کی نماز بھی کون سی ہونی چاہیے؟ اج کے ظہر کی، مقتدی اگر کل کے ظہر کی قضاء پڑھ رہا ہے تو امام کی نماز بھی کون سی ہونی چاہیے؟ کل کے ظہر کی قضاء ہونی چاہیے تاکہ ایک نماز ہو، شرکت کا یہ معنی ہے کہ ایک ہی نماز ہو دونوں کی۔ کہتے ہیں: لِأَنَّ الِاقْتِدَاءَ شِرْكَةٌ وَمُوَافَقَةٌ اس لیے کیونکہ اقتداء شرکت اور موافقت کا نام ہے۔ شرکت ہوگی یعنی تحریمہ کے اندر شرکت ہوگی، دونوں کی تحریمہ ایک ہی نماز کی ہونی چاہیے، امام کی بھی اور مقتدی کی بھی، اور موافقت بھی ہوگی اعمال کے اندر بھئی، یعنی جیسے امام رکوع کرے گا تو مقتدی بھی رکوع کرے گا، امام سجدہ کرتا ہے تو مقتدی بھی کیا کرتا ہے؟ سجدہ۔ تو یہ جماعت کے ساتھ جو نماز پڑھی جاتی ہے یہ شرکت اور موافقت کا نام ہے۔ جماعت کے ساتھ میں جو نماز پڑھی جاتی ہے یہ کس چیز کا نام ہے؟ جماعت میں شرکت بھی ہوتی ہے یعنی تحریمہ میں دونوں شریک ہوتے ہیں اور موافقت بھی ہوتی ہے، مقتدی اور امام کیا کرتے ہیں؟ اکٹھے نماز ادا کرتے ہیں، جیسے جیسے امام ادا کرتا جاتا ہے مقتدی بھی اسی طرح ادا کرتا ہے اس کے ساتھ، تو اقتداء جو ہے وہ شرکت اور موافقت کا نام ہے، فَلَا بُدَّ مِنَ الِاتِّحَادِ لہذا اتحاد کا ہونا ضروری ہے کہ ایک ہی نماز ہو۔ وَعِنْدَ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ يَصِحُّ فِي جَمِيعِ ذَلِكَ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک ان تمام صورتوں میں نماز صحیح ہے۔ یہ جتنی صورتیں ذکر ہوئی تھیں بھئی، شروع میں جو آیا تھا: وَلَا يُصَلِّي الطَّاهِرُ خَلْفَ مَنْ هُوَ فِي مَعْنَى الْمُسْتَحَاضَةِ جہاں سے یہ بات شروع ہوئی تھی، وہاں سے لے کر یہاں تک جتنی صورتیں ذکر ہوئیں، جتنی صورتیں ان سب کے اندر امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں نماز جائز ہے، نماز جائز ہے۔ البتہ بعض علماء نے لکھا ہے کہ ایک صورت اس میں داخل نہیں ہے کہ قاری امی کی اقتداء کرے، یہ ان کے نزدیک بھی جائز نہیں ہے بھئی، یہ ان کے نزدیک بھی جائز نہیں۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک يَصِحُّ فِي جَمِيعِ ذَلِكَ اقتداء صحیح ہو جائے گی ان تمام صورتوں میں، لِأَنَّ الِاقْتِدَاءَ عِنْدَهُ أَدَاءٌ عَلَى سَبِيلِ الْمُوَافَقَةِ اس لیے کیونکہ اقتداء ان کے نزدیک وہ ادا کرنا ہے موافقت کے طریقے پر۔ بھئی ہمارے نزدیک تو اقتداء کس چیز کا نام تھا؟ شرکت اور موافقت کا یعنی تحریمہ میں بھی شرکت ہو دونوں کی، امام اور مقتدی کی، اور موافقت بھی ہو اعمال کے اندر، اکٹھے اعمال ادا کرتے جا رہے ہیں۔ اور جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اقتداء صرف موافقت فی الاعمال کا نام ہے یعنی دونوں کیا کر رہے ہیں؟ اعمال اکٹھے ادا کر رہے ہیں، بس۔ دونوں اکٹھے ادا کر رہے، لہذا اگر امام کی نماز فاسد ہوئی بعد میں پتہ چلا کہ امام کا تو وضو ہی نہیں تھا، امام کا مثلاً وضو ہی نہیں تھا، تو امام کی نماز تو نہیں ہوئی لیکن وہ فرماتے ہیں مقتدی کی نماز ہو گئی، کیونکہ یہ جو اقتداء جو ہے وہ صرف موافقت فی الاعمال کا نام ہے، ہے نماز دونوں کی اپنی اپنی، ہاں پڑھ اکٹھے رہے ہیں، نماز دونوں کی اپنی اپنی ہے لیکن اکٹھے اعمال اکٹھے کر رہے ہیں، رکوع اکٹھا کر رہے ہیں، قیام اکٹھا کر رہے ہیں، سجدہ اکٹھا کر رہے ہیں، تو ہمارے نزدیک اقتداء شرکت اور موافقت کا نام ہے جبکہ ان کے نزدیک اقتداء صرف کس چیز کا نام ہے؟ موافقت ہونی چاہیے بھئی، بس۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں تمام صورتوں میں اقتداء صحیح ہے: لِأَنَّ الِاقْتِدَاءَ عِنْدَهُ أَدَاءٌ عَلَى سَبِيلِ الْمُوَافَقَةِ اس لیے کیونکہ اقتداء ان کے نزدیک ادا کرنا ہے موافقت کے طریقے پر، وَعِنْدَنَا مَعْنَى التَّضَمُّنِ مُرَاعًى اور ہمارے نزدیک تضمن کا معنی ملحوظ ہے، اس کی رعایت رکھی جائے گی یہ کہ امام کی نماز مقتدی کی نماز کو اپنے ضمن میں لیے ہوئے ہے، اس کی رعایت رکھی جائے گی، امام کی نماز جائز ہوگی تو مقتدی کی نماز بھی جائز ہوگی، امام کی نماز جائز نہیں تو مقتدی کی نماز بھی جائز نہیں ہوگی بھئی۔ تو اس لیے کیونکہ حدیث میں ایا، کیا ایا؟ الْإِمَامُ ضَامِنٌ امام ضامن ہے، اور اس کا کیا معنی ہے؟ کہ امام کی نماز مقتدی کی نماز کو اپنے ضمن میں لیے ہوئے ہے۔ اس لیے کیونکہ اگر اس کا یہ معنی کیا جائے کہ امام ضامن ہے، ضامن ہے یعنی ذمہ دار ہے نماز کا، نماز کا تو کوئی شخص دوسرے کی نماز کا تو ذمہ دار نہیں ہوتا تو یہی کہیں گے کہ اپنی نماز کا ذمہ دار ہے، کس کا ذمہ دار ہے؟ اپنی نماز کا ذمہ دار ہے، اور یہ بات تو پہلے ہی ظاہر ہے، ہر شخص اپنی نماز کا ذمہ دار ہوتا ہے تو لہذا کیا معنی کرنا پڑے گا؟ کہ امام کی نماز مقتدی کی نماز کو اپنے ضمن میں لیے ہوئے ہوتی ہے، اگر اس کی نماز جائز ہو جائے گی تو مقتدی کی نماز بھی جائز ہو جائے گی، اگر اس کی نماز فاسد ہو جائے گی تو مقتدی کی نماز بھی فاسد۔ یہ معنی ہے: وَعِنْدَنَا مَعْنَى التَّضَمُّنِ مُرَاعًى کہ تضمن کے معنی جو ہے اس کی رعایت رکھی جائے گی، وَيُصَلِّي الْمُتَنَفِّلُ خَلْفَ الْمُفْتَرِضِ اور نفل پڑھنے والا نماز پڑھ سکتا ہے فرض پڑھنے والے کے پیچھے۔ امام کیا پڑھ رہا ہے؟ فرض، اور مقتدی کیا پڑھنا چاہتا ہے؟ نفل، تو اس کے پیچھے نماز پڑھ سکتا ہے۔ بھئی آپ نے پڑھا تھا کہ فرض نماز جب پڑھنے لگیں تو نیت ضروری ہے اور کیا نیت ضروری ہے؟ فرضوں کی بھی اور تعین بھی ہونی چاہیے، تعین بھی ہونا چاہیے کون سے فرض پڑھنا چاہتا ہے کیونکہ فرض تو فجر بھی ہے، ظہر بھی ہے، عصر بھی ہے، مغرب بھی ہے اور عشاء بھی، تو تعین بھی ہونا چاہیے کہ کون سے فرض پڑھنا چاہتا ہے۔ اور نفل، جب کوئی نفل پڑھنا چاہے تو آپ نے پڑھا تھا کہ صرف مطلقِ نماز کی نیت کافی ہے، سمجھ رہے ہیں؟ تو لہذا اب یہاں پر بھی اقتداء کے اندر ایک امام ہے اور دوسرا مقتدی، امام فرض پڑھ رہا ہے اور مقتدی کیا کرنا چاہتا ہے؟ نفل پڑھنا چاہتا ہے، اور نفل والے کے لیے کیا نیت ضروری تھی؟ مطلق نماز کی نیت، تو گویا کیونکہ نفل تو مطلق نماز ہیں، مطلق کیا ہیں؟ مطلق نماز ہے، تو مطلق نماز کی بنیاد کس پر رکھی جا سکتی ہے؟ مطلق نماز کس پر؟ بھئی فرضوں کی بنیاد تو فرضوں پر ہی رکھنا پڑے گی، لیکن مطلق نماز کی بنیاد مطلق نماز ہونی چاہیے، بس نماز کی یہ بھی نماز ہے وہ بھی کیا ہے؟ نماز ہے تو اس پر اس کی بنیاد رکھنا کیا ہوگا؟ صحیح۔ دلیل سمجھ میں آ گئی بھئی؟ کہتے ہیں: لِأَنَّ الْحَاجَةَ فِي حَقِّهِ إِلَى أَصْلِ الصَّلَاةِ اس لیے کیونکہ ضرورت اس نفل پڑھنے والے کے حق میں اصلِ صلاۃ کی ضرورت ہے، وَهُوَ مَوْجُودٌ فِي حَقِّ الْإِمَامِ اور وہ کس کے حق میں موجود ہے؟ امام۔ امام جو فرض پڑھ رہا ہے تو نماز ہے یا نہیں؟ وہ تو نماز تو ہے وہ، اور مقتدی کے لیے بھی وہ اقتداء کرنا چاہتا ہے تو اپنی نماز کی بنیاد کس پر رکھے گا؟ نماز پر رکھے گا، اور جب وہ آگے والا فرض پڑھ رہا ہے تو وہ بھی نماز ہے، جب نماز ہے تو اس پر اس کی بنیاد رکھنا صحیح ہوگا۔ تو فَيَتَحَقَّقُ الْبِنَاءُ تو بنیاد پائی جائے گی، بنیاد ثابت ہو جائے گی۔ وَمَنِ اقْتَدَى بِإِمَامٍ ثُمَّ عَلِمَ أَنَّ إِمَامَهُ مُحْدِثٌ أَعَادَ اور جس نے کسی امام کی اقتداء کی، ثُمَّ عَلِمَ پھر اس کو علم ہوا کہ امام جو تھا اس کا امام مُحْدِثٌ بے وضو تھا۔ یعنی اس کو حدث لاحق تھا، کیا تھا؟ اس کو حدث لاحق تھا، مثلاً امام کو بعد میں یاد ایا اس نے ان کو بتلا دیا کہ بھئی میرا تو وضو نہیں تھا، تو اب اس کو پتہ لگ گیا، أَعَادَ تو یہ کیا کرے گا؟ نماز کا اعادہ کرے گا، نماز لوٹائے گا، لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ بوجہ حضور علیہ السلام کے اس قول کے کہ مَنْ أَمَّ قَوْمًا جس نے امامت کی کچھ لوگوں کی، ثُمَّ ظَهَرَ پھر یہ معلوم ہوا اسے أَنَّهُ كَانَ مُحْدِثًا أَوْ جُنُبًا کہ یہ امام جو تھا اس کو معلوم ہوا کہ یہ بے وضو تھا أَوْ جُنُبًا یا کیا تھا؟ ہاں جنبی تھا، بھئی یہ لفظ غلط رائج ہے، سمجھ میں آیا؟ جنب، جنب کا معنی ہے جنابت والا، جنب کا کیا معنی؟ جنابت والا۔ بھئی لاہور، لاہور تو شہر کا نام ہے، لاہوری کیا معنی؟ لاہور والا، تو یاء مشدد کیوں ملاتے ہیں؟ نسبت کرنے کے لیے، تو لاہوری کا کیا معنی؟ لاہور والا، تو یہ یاء مشدد جو ساتھ ملائی جاتی ہے نسبت کے لیے ملائی جاتی ہے، اور جنب کا اپنا معنی ہے جنابت والا، اب پھر یاء مشدد ساتھ ملانے کی کیا ضرورت ہے؟ سمجھ میں آیا؟ تو یہ عام رائج ہے اور یہ درست نہیں ہے بھئی، جنب ہے لفظ۔ جنب کا معنی ہی یہ ہے جنابت والا۔ اگر اس کو یہ معلوم ہوا أَنَّهُ كَانَ مُحْدِثًا کہ وہ بے وضو تھا أَوْ جُنُبًا یا جنابت میں جنابت میں تھا، أَعَادَ صَلَاتَهُ تو وہ اپنی نماز کو لوٹائے، وَأَعَادُوا اور وہ لوگ بھی اپنی نمازوں کو لوٹائیں، یہ حدیث میں آیا ہے۔ وَفِيهِ خِلَافُ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ اور اس میں امام شافعی رحمہ اللہ کا اختلاف ہے، بِنَاءً عَلَى مَا تَقَدَّمَ بوجہ اس کے جو ماقبل میں گزر گیا۔ ماقبل میں کیا گزرا تھا؟ کہ ان کے نزدیک اقتداء کس چیز کا نام ہے؟ صرف موافقت کا نام ہے جبکہ ہمارے نزدیک شرکت اور موافقت دونوں کا نام ہے، تو ان کے نزدیک صرف نماز اپنی اپنی پڑھ رہے ہیں، ہاں پڑھ اکٹھے رہے ہیں، تو امام اگر بے وضو تھا بھی تو مقتدی نے تو اپنی نماز پڑھی تھی، اس کی نماز ہو گئی۔ وَنَحْنُ نَعْتَبِرُ مَعْنَى التَّضَمُّنِ اور ہم اعتبار کرتے ہیں تضمن کے معنی کی بھی، وَذَلِكَ فِي الْجَوَازِ وَالْفَسَادِ اور یہ تضمن جواز اور فساد میں ہوگا، سمجھ میں آیا؟ ہم کس بات کی رعایت رکھتے ہیں؟ کس کا لحاظ رکھتے ہیں؟ تضمن، تضمن یعنی امام کی نماز مقتدی کی نماز کو اپنے ضمن میں لیے ہوئے ہوتی ہے، اور ضمن میں لیے ہوئے ہونے کا کیا معنی؟ یعنی معنی یہ ہے یہ جواز اور فساد میں ہے یعنی امام کی نماز اگر جائز ہو گئی یعنی ہو گئی تو مقتدی کی نماز بھی ہو جائے گی اور اگر امام کی نماز فاسد ہو گئی تو مقتدی کی نماز بھی فاسد۔ تو یہ معنی ہے کیونکہ ہم اعتبار کرتے ہیں تضمن کے معنی کی بھی: وَذَلِكَ فِي الْجَوَازِ وَالْفَسَادِ اور یہ تضمن کس میں ہوتا ہے؟ جواز اور فساد میں ہوتا ہے۔ وَإِذَا صَلَّى أُمِّيٌّ بِقَوْمٍ يَقْرَءُونَ وَبِقَوْمٍ أُمِّيِّينَ فَصَلَاتُهُمْ فَاسِدَةٌ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى صورتِ مسئلہ یہ ہے بھئی، توجہ سے سننا بھئی۔ صورتِ مسئلہ یہ ہے بھئی، ابھی آپ نے پڑھا: ایک شخص کو قران بقدرِ ضرورت آتا ہے اور دوسرے کو بالکل نہیں اتا، فرض مقدار کے بقدر بھی نہیں آتا، تو امی کا امام بننا اور قاری کا مقتدی بننا یہ صحیح نہیں۔ اب دوسری صورت ہے، ایک امی ہے، وہ بنتا ہے امام، امی کیا بنا؟ امام، اور اس کے پیچھے جو نماز پڑھنے والے ہیں ان میں امی بھی ہیں اور قاری بھی ہیں، یعنی کچھ وہ ہیں جن کو قران بقدرِ فرض بھی نہیں آتا اور کچھ وہ ہیں جن کو قران بقدرِ فرض آتا ہے، اب انہوں نے نماز ادا کی، نماز ادا کی، تو آپ کیا کہیں گے؟ آپ سے کوئی یہ مسئلہ پوچھے آپ کیا کہیں گے؟ جن کو قراءت اتی ہے ان کی نماز نہیں ہوگی اور جن کو قراءت نہیں اتی تو امام بھی امی، مقتدی بھی امی، ان کی نماز ہو جائے گی بھئی۔ دیکھیے، یہ کیا بتلاتے ہیں؟ دیکھیے بھئی، کہتے ہیں: وَإِذَا صَلَّى أُمِّيٌّ بِقَوْمٍ اور جب نماز پڑھی کسی جب صَلَّى أُمِّيٌّ بِقَوْمٍ صَلَّى کا صلہ باء ایا، بِقَوْمٍ، میں نے بتلایا تھا پھر اس کا کیا معنی ہوتا ہے؟ نماز پڑھانا، اور جب نماز پڑھائی کسی امی نے کچھ ایسے لوگوں کو يَقْرَءُونَ جو قراءت کرتے ہیں، وَبِقَوْمٍ أُمِّيِّينَ اور ایسے لوگوں کو جو امی ہیں، فَصَلَاتُهُمْ فَاسِدَةٌ تو ان سب کی نماز فاسد ہے، عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ امام صاحب کے نزدیک۔ امام کی نماز بھی فاسد، پیچھے جو امی ہیں ان کی نماز بھی فاسد، جو قاری ہیں ان کی نماز بھی فاسد۔ وَقَالَا اور صاحبین فرماتے ہیں: صَلَاةُ الْإِمَامِ وَمَنْ لَمْ يَقْرَأْ تَامَّةٌ صاحبین فرماتے ہیں امام کی نماز اور پیچھے جو قراءت نہیں کرتے تھے یعنی جو امی تھے ان کی نماز پوری ہو گئی، یعنی جو ابھی آپ نے مجھے بتایا کہ امی امام کی نماز بھی ہو جائے گی اور جو امی مقتدی ہیں ان کی نماز بھی ہو جائے گی۔ کہتے ہیں: لِأَنَّهُ مَعْذُورٌ أَمَّ قَوْمًا مَعْذُورِينَ اس لیے کیونکہ وہ ایک ایسا معذور ہے جس نے امامت کی ہے معذور لوگوں کی، امام خود بھی معذور، قراءت نہیں اتی اس کو، تو اس کے مقتدی بھی جو امی ہیں وہ بھی کیا ہیں؟ معذور، تو معذور نے معذور کی امامت کی ہے لہذا جو پیچھے امی ہیں ان کی نماز بھی ہو جائے گی اور امام کی بھی نماز ہو جائے گی۔ فَصَارَ كَمَا إِذَا أَمَّ الْعَارِي عُرَاةً یہ اسی طرح ہو گیا جیسے امامت کروائے ننگا ننگا شخص عُرَاةً وَلَابِسِينَ ننگے اور کپڑے پہنے ہوئے کو۔ یہ وہی صورت کہتے ہیں یہ اسی طرح ہو گیا جیسے امام کیا ہو؟ ننگا، اور جو مقتدی ہیں ان میں کچھ ننگے ہیں اور کچھ نے کپڑے پہنے ہوئے ہیں، تو جیسے اس صورت کے اندر بالاتفاق امام کی نماز بھی ہو جائے گی اور جو ننگے پیچھے ہیں ان کی نماز بھی ہو جائے گی، البتہ جنہوں نے کپڑے پہن رکھے ہیں ان کی نماز نہیں ہوگی کیونکہ ان کی حالت قوی ہے اور قوی کی بنیاد ضعیف پر نہیں رکھی جا سکتی۔ یہ صاحبین کی دلیل ہے، صاحبین کی دلیل۔ وَلَهُ اور امام صاحب کی دلیل، امام صاحب کی عجیب دلیل ہے۔ امام صاحب فرماتے ہیں کہ سب کی نماز فاسد ہو جائے گی۔ جو امی امام ہے اس کی بھی نماز فاسد، جو امی مقتدی ہیں ان کی بھی نماز فاسد، اور جو قاری ہیں مقتدی ان کی نماز بھی فاسد۔ وہ فرماتے ہیں کہ دیکھیے یہ جماعت کروا رہے ہیں اور مقتدی امام جو ہے، امام، وہ قراءت پر قادر نہیں، قراءت پر قادر لیکن اس کے لیے ممکن تھا کہ وہ قاری کو اپنا امام بنا لیتا اور قاری کو جب امام کرتا تو قاری کی قراءت اس مقتدی کی بھی قراءت بن جاتی، مقتدی کی بھی کیا بن جاتی؟ قراءت بن جاتی۔ تو یہ جو امی جس نے امامت کروائی یہ قراءت پر قادر ہونے کے باوجود اس نے قراءت نہیں کی لہذا اس کی نماز نہیں ہوئی۔ قدرت تھی یا نہیں؟ کیسے تھی؟ قاری کو اپنا امام بنا دیتا تو اس کی قراءت اس کی بھی قراءت بن جاتی، تو قراءت پر گویا قدرت تھی اس کو اور پھر بھی اس نے قراءت نہیں کی، اور قراءت پر قدرت کے باوجود کوئی قراءت نہ کرے تو اس کی تو نماز نہیں ہوتی لہذا اس کی نماز نہیں، اور جب اس کی نماز نہیں ہوئی تو سارے مقتدیوں کی نماز بھی نہیں ہوئی۔ دلیل سمجھ میں آئی بھئی؟ تو کہتے ہیں: وَلَهُ امام صاحب کی دلیل یہ ہے: أَنَّ الْإِمَامَ تَرَكَ فَرْضَ الْقِرَاءَةِ مَعَ الْقُدْرَةِ عَلَيْهَا کہ امام نے قراءت کے فرض کو چھوڑ دیا باوجود اس پر قدرت ہونے کے، فَتَفْسُدُ صَلَاتُهُ تو اس کی نماز فاسد ہو جائے گی، وَهَذَا اور یہ اس لیے، اب تفصیل بیان کر رہے ہیں کہ یہ قراءت پر قادر کیسے تھا؟ کہتے ہیں: لِأَنَّهُ لَوِ اقْتَدَى بِالْقَارِئِ تَكُونُ قِرَاءَتُهُ قِرَاءَةً لَهُ اس لیے کیونکہ اگر یہ قاری کی اقتداء کر لیتا تو اس کی قراءت اس کی قراءت ہو جاتی، بِخِلَافِ تِلْكَ الْمَسْأَلَةِ بخلاف اس مسئلے کے، یہ وہ جو صاحبین نے اس کو کس پر قیاس کیا تھا؟ صاحبین نے تو ایک تو یہ کہا تھا کیونکہ یہ معذور کس کی امامت کر رہا ہے؟ معذوروں کی امامت کر رہا ہے، اور کس پر قیاس کیا تھا؟ جیسے ننگا شخص وہ اس کی اقتداء کون کرتے ہیں؟ ننگے بھی اور کپڑے پہنے۔ امام صاحب فرماتے ہیں کہ اس پر قیاس نہیں کر سکتے آپ، اس لیے کیونکہ یہاں پر صورت الگ ہے، وہاں صورت الگ ہے۔ یہاں اگر قاری کو آگے کرو گے اس کی قراءت پیچھے سب کی قراءت شمار ہوگی، اور وہاں پر اگر کپڑے پہنے ہوئے کو آگے کر بھی دیں تو اس کے کپڑے پہننا سب کے کپڑے پہننا تو پھر بھی شمار نہیں ہوگا۔ فرق سمجھ میں آیا بھئی؟ تو دونوں میں فرق ہے بھئی۔ بِخِلَافِ تِلْكَ الْمَسْأَلَةِ وَأَمْثَالِهَا بخلاف اس مسئلے کے اور اس جیسے جو مسئلے ہیں، لِأَنَّ الْمَوْجُودَ فِي حَقِّ الْإِمَامِ لَا يَكُونُ مَوْجُودًا فِي حَقِّ الْمُقْتَدِي اس لیے کیونکہ وہاں پر جو چیز امام کے حق میں موجود ہوگی وہ مقتدی کے حق میں موجود نہیں ہوگی، اور یہاں پر جو امام کے حق میں جو چیز یعنی قراءت موجود ہے وہ مقتدی کے حق میں بھی موجود ہوگی۔ وَلَوْ كَانَ يُصَلِّي الْأُمِّيُّ وَحْدَهُ وَالْقَارِئُ وَحْدَهُ جَازَ اور اگر نماز پڑھے امی اکیلا اور قاری اکیلا تو جائز ہے، صورت یہ ہے، توجہ ہے سبق کی طرف؟ ایک شخص ہے امی اور ایک ہے قاری، وہ دونوں آئے، امی نے اپنی نماز اپنی نماز پڑھنے لگا ہے، قاری اپنی نماز پڑھنے لگا ہے، اب دونوں کی نماز کہتے ہیں نماز امی کی بھی ہو جائے گی۔ بھئی کیسے ہو جائے گی؟ وہ تو کیا کر لیتا؟ قاری کو اپنا امام بنا لیتا تو قاری کی قراءت اس کی بھی قراءت بن جاتی، تو اس نے تو امام بنایا نہیں، تو قراءت پر قدرت ہونے کے باوجود اس نے قراءت نہیں کی تو اس کی نماز نہیں ہونی چاہیے؟ کہتے ہیں نہیں بھئی نہیں، نماز اب ہو، جب الگ الگ دونوں پڑھ رہے ہیں تو نماز ہو جائے گی، اس وجہ سے کہتے ہیں کہ امی جو ہے امی وہ قراءت پر قادر نہیں، قراءت پر قادر نہیں۔ ہاں قراءت پر قادر یعنی یوں کہیں، اس میں دونوں جہتیں پائی جا رہی ہیں، بعض اعتبارات سے دیکھیں تو وہ قراءت پر قادر نہیں کیونکہ اسے تو قراءت نہیں اتی، اور بعض اعتبارات سے دیکھیں تو وہ قراءت پر قادر ہے اس وقت کہ کیا کرے؟ قاری کی اقتداء کر لے، تو من وجہ گویا یہ قراءت پر قادر ہے، من وجہ قراءت پر قادر نہیں، دونوں جہتیں آ گئیں، دونوں جہتیں آ گئیں، لیکن ابھی اس کی طرف سے جماعت کی رغبت ظاہر نہیں ہوئی، جب دونوں الگ الگ پڑھ رہے ہیں نماز، معلوم ہوا ان کو جماعت میں رغبت نہیں، جماعت کروانے کا ارادہ نہیں ہے۔ ہاں اگر جماعت کی رغبت جب ظاہر ہو جائے گی، جب جماعت کی رغبت ظاہر ہوگی تب قراءت پر قادر ہونا یہ ظاہر ہوگا کہ یہ قراءت پر کیا ہو گیا؟ قادر۔ جب تک جماعت کی رغبت نہیں اس وقت تک قراءت پر قدرت بھی ظاہر نہیں، اور اس سے پہلے یوں ہی سمجھا جائے گا گویا عاجز ہی ہے۔ ہاں جب جماعت کا ارادہ ظاہر ہوگا تو اب ہم کہیں گے کہ یہ قراءت پر قادر ہو گیا، اب قاری ہی کو آگے کرنا پڑے گا، کسی امی کو آگے نہیں کیا جا سکتا، لیکن جب تک جماعت کی رغبت نہیں دونوں کے اندر اس وقت تک اس کی قدرت علی القراءۃ بھی ظاہر نہیں ہوگی بھئی، تو یوں ہی سمجھا جائے گا یہ عاجز ہی ہے، اور جب عاجز ہے اپنی نماز پڑھ رہا ہے بغیر قراءت کے تو نماز ہو جائے گی۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟ وَلَوْ كَانَ يُصَلِّي الْأُمِّيُّ وَحْدَهُ وَالْقَارِئُ وَحْدَهُ جَازَ اور اگر امی جو ہے وہ اکیلا نماز پڑھے اور قاری اکیلا تو یہ جائز ہے، هُوَ الصَّحِيحُ یہی قول صحیح ہے، لِأَنَّهُ لَمْ يَظْهَرْ مِنْهَا رَغْبَةٌ فِي الْجَمَاعَةِ اس لیے کیونکہ ان دونوں کی طرف سے جماعت میں رغبت ظاہر نہیں ہوئی۔ چلیے بس بھئی، ہٰذا ہو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔