وَيَصُفُّ الرِّجَالُ ثُمَّ الصِّبْيَانُ ثُمَّ النِّسَاءُ لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ ”لِيَلِنِي مِنْكُمْ أُولُو الْأَحْلَامِ وَالنُّهَى“ وَلِأَنَّ الْمُحَاذَاةَ مُفْسِدَةٌ فَيُؤَخَّرْنَ، وَإِنْ حَاذَتْهُمُ امْرَأَةٌ وَهُمَا مُشْتَرِكَانِ فِي صَلَاةٍ وَاحِدَةٍ فَسَدَتْ صَلَاتُهُ إِنْ نَوَى الْإِمَامُ إِمَامَتَهَا۔ گزشتہ سبق کے آخر میں یہ مسئلہ ذکر ہوا تھا کہ فقہائے بلخ جو ہیں وہ فرماتے ہیں کہ سننِ مطلقہ کے اندر بچے کو امام بنانا جائز ہے اور مرد کے لیے اس کی اقتدا جائز ہے، اور اس کو انہوں نے قیاس کیا تھا مظنون پر بھئی، کس پر؟ صلاۃِ مظنون پر۔ اور صلاۃِ مظنون میں نے آپ کو بتایا کہ مثلاً ایک شخص جو ہے وہ ظہر کی یا کوئی نماز پڑھ رہا ہے اور وہ نماز مکمل ہو گئی، آخری قعدہ اس نے کر لیا، لیکن پھر اس کا خیال ہوا، گمان ہوا شاید میری نماز مکمل نہیں ہوئی، وہ کھڑا ہو گیا اور مزید دو رکعتیں پڑھ لیتا ہے، تو یہ دو رکعتیں جو وہ زائد پڑھ رہا ہے اپنے گمان کی وجہ سے ان کو کہتے ہیں مظنون بھئی، کیا کہیں گے؟ مظنون۔ تو یہ نفل ہیں اور نفلِ مظنون ہیں۔ اور ان کو اگر وہ شخص فاسد کر دیتا ہے تو اس کے ذمے قضا نہیں کیونکہ یہ پڑھنے کا اس کا ارادہ نہیں تھا، اپنے غلط گمان کی وجہ سے اس نے ان کو شروع کر دیا ہے۔ تو فقہائے بلخ فرماتے ہیں کہ اگر اس مظنون کی کوئی اقتدا کرنا چاہے، مثلاً یہ اس کے نفل ہیں کوئی دوسرا آ کر اس کے ساتھ کھڑا ہو گیا، اقتدا اس کی کر لیتا ہے اور وہ بھی نفل پڑھ رہا ہے، اب دیکھیے مظنون اگر اپنے ان نفلوں کو فاسد کر دے تو اس کے ذمے ان کی قضا نہیں، اور جو مقتدی ہے وہ نفل پڑھ رہا ہے اس پر اس کی قضا ہے اگر وہ ان کو فاسد کر دیتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود فقہا فرماتے ہیں کہ اس مظنون کی اقتدا کرنا نفل والے کے لیے جائز ہے۔ جب اس کی اقتدا جائز ہے تو بچے میں بھی اسی طرح ہے، بچہ جب اپنے نفلوں کو فاسد کر دیتا ہے تو اس پر اس کی قضا نہیں ہوتی اور جو پیچھے کوئی مرد اس کی اقتدا کرتا ہے اس کے ذمے قضا واجب ہوتی ہے، تو بالکل یہ مظنون والی صورت بن گئی جس میں امام کے ذمے قضا لازم نہیں ہوتی اور مقتدی کے ذمے قضا لازم ہوتی ہے۔ تو لہٰذا جب مظنون والے کی اقتدا کرنا کسی نفل پڑھنے والے کے لیے جائز ہے تو بچے کی اقتدا کرنا بھی جائز ہو گئی۔ تو اس کا جواب دیا تھا صاحبِ ہدایہ نے اور بتلایا تھا کہ ہمارے فقہا یعنی ماوراء النہر کے جو فقہا ہیں ان کے نزدیک جائز نہیں اور مظنون پر قیاس کرنا صحیح نہیں۔ اس لیے کیونکہ مظنون کا جو مسئلہ ہے وہ تو خود مجتہد فیہ ہے یعنی اس میں اجتہاد کی گنجائش ہے، اس لیے وہ اتفاقی مسئلہ نہیں، ائمہ ثلاثہ جو ہیں ہمارے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور صاحبین رحمہما اللہ وہ تو فرماتے ہیں کہ اس کے ذمے اس کی قضا نہیں، لیکن امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کے ذمے اس کی قضا واجب ہے۔ اگر مظنون نفلوں کو بھی توڑ دے گا تو اس شخص پر کیا واجب ہو گی؟ قضا۔ تو معلوم ہوا یہ تو مجتہد فیہ مسئلہ ہے اس میں اجتہاد کی گنجائش ہے، جبھی کچھ فقہا ایک طرف گئے اور کچھ فقہا دوسری طرف چلے گئے۔ ہاں اتفاقی مسئلہ ہوتا پھر آپ قیاس کرتے تو بھی بات بنتی، لیکن یہ تو کس قسم کا مسئلہ ہے؟ مجتہد فیہ مسئلہ ہے۔ اور نیز اس لیے بھی اس پر قیاس کرنا صحیح نہیں ہے کیونکہ یہ جو مظنون ہے اس کا عارض اور جو بچے کا عارض ہے ان دونوں میں فرق ہے۔ مظنون کا عارض کیا ہے؟ یہ نفل اس نے کیوں شروع کیے؟ اپنے غلط گمان کی وجہ سے، اور یہ گمان ہر وقت اس کے ساتھ رہتا ہے یا تھوڑی دیر کے لیے اس کو پیش آیا؟ تھوڑی دیر کے لیے پیش آیا ہے۔ جبکہ بچے کا جو عارض ہے بچپنا یعنی جو اس کے ساتھ لگا ہوا ہے وہ اس کے ساتھ مستقل ہے جب تک وہ بالغ نہیں ہو جاتا بھئی، تو وہ عارض اور قسم کا ہے اور یہ عارض اور قسم کا ہے لہٰذا مظنون پر اس کو قیاس کرنا صحیح نہیں ہے۔ ہاں اس کے برعکس اگر کوئی بچہ اقتدا کرتا ہے بچے کی نفلوں میں یعنی امام بھی بچہ ہے اور یعنی امام بھی نابالغ ہے اور مقتدی بھی نابالغ ہے پھر اقتدا صحیح ہو جائے گی بھئی، اس لیے کیونکہ ان کی نماز متحد ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ اب آگے بتلا رہے ہیں کہتے ہیں: ”وَيَصُفُّ الرِّجَالُ ثُمَّ الصِّبْيَانُ ثُمَّ النِّسَاءُ“ اور صفیں بنائیں گے مرد پھر بچے پھر عورتیں، یعنی صفوں کی ترتیب کیا ہو گی جماعت کے اندر؟ سب سے پہلے مردوں کی صفیں ہونی چاہئیں، اس کے بعد بچوں کی صف ہو، اس کے بعد عورتوں کی صف ہو۔ دلیل کیا ہے؟ کہتے ہیں: ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ“ بوجہ حضور علیہ السلام کے اس قول کے: ”لِيَلِنِي“، یہ یہاں ”لِيَلِنِي“ نون سے پہلے جو یا آئی یہ یا نہیں ہونی چاہیے یہ کتابت کی غلطی ہے بھئی، لیکن بہرحال ہدایہ کے نسخوں میں اسی طرح نقل ہوتا چلا آیا ہے بھئی۔ تو یہ امر ہے اور امر کی وجہ سے صیغہ امر میں آخر سے حرفِ علت گر جاتا ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو ”وَلِيَ يَلِي“ کے معنی ملنے کے، قریب ہونے کے۔ حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: ”لِيَلِنِي مِنْكُمْ أُولُو الْأَحْلَامِ وَالنُّهَى“، ”أُولُو الْأَحْلَامِ“ بالغ بھئی، جو بالغ ہیں۔ ”أُولُو النُّهَى“ عقل والے، عقل والے یعنی عاقل۔ حضور علیہ السلام کے اس قول کی وجہ سے آپ فرماتے ہیں: ”لِيَلِنِي مِنْكُمْ أُولُو الْأَحْلَامِ وَالنُّهَى“ کہ میرے قریب تم میں سے عاقل بالغ ہوں، میرے قریب تم میں سے عاقل بالغ رہیں، یعنی عاقل بالغ میرے قریب رہیں نماز کے اندر عاقل بالغ جو ہیں میرے قریب یعنی ان کی صف ہو، تو اس سے پتہ لگا کہ مردوں کی صف پہلے ہے اور اس کے بعد بچوں کی صف آئے گی۔ ”وَلِأَنَّ الْمُحَاذَاةَ مُفْسِدَةٌ فَيُؤَخَّرْنَ“ اچھا ایک تو صاحبِ ہدایہ نے یہ حدیث دلیل ذکر کر دی کہ معلوم ہوا پہلے مردوں کی صف ہو پھر بچوں کی اور پھر آخر میں کس کی ہو گی؟ عورتوں کی صف ہو گی۔ اور دوسری وجہ، عقلی دلیل بھی ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّ الْمُحَاذَاةَ مُفْسِدَةٌ فَيُؤَخَّرْنَ“ اس لیے کیونکہ برابری جو ہے وہ تو نماز کو فاسد کر دینے والی ہے تو عورتوں کو مؤخر کیا جائے گا۔ عورت اگر نماز میں جماعت کے اندر مرد کے ساتھ کھڑی ہو جائے، برابر میں کھڑی ہو جائے تو جو برابر جس مرد کے برابر میں کھڑی ہو گی اس مرد کی نماز فاسد ہو جائے گی۔ تو عورت کا مرد کے ساتھ برابر کھڑے ہونا ایک نماز میں، یہ اس مرد کی نماز کو فاسد کر دیتا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اسی لیے کہا: ”وَلِأَنَّ الْمُحَاذَاةَ مُفْسِدَةٌ“ اس لیے کیونکہ برابری جو ہے، محاذاۃ کا معنی برابر ہونا، ”لِأَنَّ الْمُحَاذَاةَ مُفْسِدَةٌ“ اس لیے کیونکہ برابر ہونا برابری جو ہے وہ نماز کو فاسد کر دینے والی ہے، ”فَيُؤَخَّرْنَ“ تو عورتوں کو کیا کیا جائے گا؟ مؤخر کیا جائے گا بھئی۔ تو یہ محاذاۃ والا مسئلہ آیا بھئی، تو یہ آگے متن میں بیان ہو رہا ہے صاحبِ ہدایہ نے دلیل کے طور پر بھی ذکر کر دیا اور یہ بطورِ تمہید بھی ہو گئی کہ آگے محاذاۃ کا مسئلہ آ رہا ہے۔ تو محاذاۃ، عورت مرد کے برابر نماز میں کھڑی ہو جائے تو مرد کی نماز فاسد ہو جاتی ہے، تفصیل اس مسئلے کی کیا ہے یہ آگے متن میں آ رہا ہے۔ کہتے ہیں: ”وَإِنْ حَاذَتْهُمُ امْرَأَةٌ وَهُمَا مُشْتَرِكَانِ فِي صَلَاةٍ وَاحِدَةٍ“ اور اگر برابر ہو گئی اس نماز پڑھنے والے کے ”امْرَأَةٌ“ کوئی عورت، ”وَهُمَا مُشْتَرِكَانِ فِي صَلَاةٍ وَاحِدَةٍ“ اس حال میں کہ دونوں جو ہیں یعنی وہ مرد اور عورت مشترک ہیں، شریک ہیں ”فِي صَلَاةٍ وَاحِدَةٍ“ کس میں؟ ایک ہی نماز میں مشترک ہیں یعنی اس ایک میں ہی دونوں ایک ہی نماز پڑھ رہے ہیں اس میں ان کی شرکت ہے، ”فَسَدَتْ صَلَاتُهُ“ تو فاسد ہو جائے گی ”صَلَاتُهُ“، مذکر کی ضمیر آ رہی ہے یا مؤنث کی بھئی؟ مذکر کی، تو اس مرد کی نماز فاسد ہو جائے گی، ”إِنْ نَوَى الْإِمَامُ إِمَامَتَهَا“ اگر نیت کی ہو امام نے ”إِمَامَتَهَا“ اس عورت کی امامت کی۔ اس عورت کی امامت کی نیت کی ہو تو وہ عورت جو مرد کے ساتھ کھڑی ہوئی ہے اس کے ساتھ جو مرد ہوا اس کی نماز فاسد ہو جائے گی بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ یاد رکھیے مرد کی اقتدا کر سکتا ہے نماز میں اور اس میں امام کے لیے نیت کرنا بھی ضروری نہیں۔ ایک آدمی نماز پڑھ رہا ہے اور آپ جا کر اس کی اقتدا میں نماز شروع کر دیتے ہیں تو آپ کا اقتدا کرنا صحیح ہے، چاہے وہ چاہے وہ امامت کی نیت کرے یا نہ کرے۔ بیچ نماز میں اس کو پتہ لگ گیا کہ آپ آ کر اس کے ساتھ کھڑے ہو گئے ہیں، اس کی اقتدا کر رہے ہیں تو وہ چاہے نیت کرے یا نیت نہ کرے اقتدا کرنا آپ کی صحیح ہو گیا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اور اس کی نماز صحیح ہو جائے گی تو آپ کی نماز بھی صحیح کیونکہ وہ امام آپ نے اس کو بنا دیا، اور اس کی نماز فاسد ہو گی تو آپ کی نماز بھی فاسد ہو جائے گی۔ جبکہ عورت، عورت کے لیے امام کو نیت کرنا پڑے گی۔ آگے بلکہ تفصیل آ رہی ہے کہ اگر عورت برابر کھڑی ہوئی ہے کسی مرد کے تو پھر نیت شرط ہے، اور اگر عورت کسی مرد کے برابر نہیں بلکہ اپنی جگہ پر ہے، مرد سے پچھلی صف میں کھڑی ہے تو اس میں پھر دو روایتیں ہیں: ایک روایت یہ کہ اس میں بھی امام کا نیت کرنا شرط ہے کہ امام کیا کرے؟ اس کی نیت کرے تو پھر اس کے لیے اقتدا صحیح ہو گی، اور دوسری روایت یہ کہ امام کے لیے نیت کرنا شرط نہیں جب عورت پیچھے کھڑی ہو۔ ہاں اگر عورت مرد کے برابر میں کھڑی ہوئی ہے تو پھر اس صورت میں امام نیت کرے گا اس کے امام ہونے کی تو پھر اس ساتھ والے مرد کی نماز فاسد ہو گی، اور اگر امام اس عورت کے امام ہونے کی نیت نہیں کرتا تو پھر اس عورت کے ساتھ جو مرد تھا اس کی نماز بھی فاسد نہیں کیونکہ اس عورت کی نماز ہی نہیں ہو گی۔ جب امام نے اس کی نیت ہی نہیں کی تو اس عورت کی نماز بھی نہیں، جب اس کی نماز ہی نہیں تو نماز کے اندر محاذاۃ اور برابری بھی نہ پائی گئی، مرد تو نماز میں ہے عورت تو نماز میں ہے ہی نہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں اور کوئی عورت نماز پڑھنے والے کے برابر آ جائے ”وَهُمَا مُشْتَرِكَانِ فِي صَلَاةٍ وَاحِدَةٍ“ اور وہ دونوں مشترک ہیں یعنی شریک ہیں ایک ہی نماز کے اندر، ”فَسَدَتْ صَلَاتُهُ“ تو اس مرد کی نماز فاسد ہو جائے گی، ”إِنْ نَوَى الْإِمَامُ إِمَامَتَهَا“ اگر اس امام نے اس عورت کے امام ہونے کی نیت کی ہو۔ ”وَالْقِيَاسُ أَنْ لَا تَفْسُدَ“ اور قیاس تو یہ ہے کہ نماز فاسد نہ ہو اس مرد کی، قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ اس مرد کی نماز فاسد نہ ہو، ”وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ رَحْمَةُ اللهِ تَعَالَى عَلَيْهِ“ اور یہی قول ہے امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ کا بھی، ”اعْتِبَارًا بِصَلَاتِهَا حَيْثُ لَا تَفْسُدُ“ قیاس کرتے ہوئے اس عورت کی نماز پر، کیونکہ وہ فاسد نہیں ہوتی۔ ”حَيْثُ“ تعلیل کے لیے آتا ہے، علت بیان کرنے کے لیے بھی آتا ہے تو یہاں تعلیل کے لیے ہے علت بیان کر رہا ہے قیاس کرتے ہوئے ”بِصَلَاتِهَا“ اس عورت کی نماز پر ”حَيْثُ لَا تَفْسُدُ“ کیونکہ وہ عورت کی نماز فاسد نہیں۔ بھئی دیکھیے اوپر مسئلہ بیان یہ ہوا کہ عورت اگر مرد کے برابر کھڑی ہو گی نماز کے اندر اور وہ ایک نماز میں شریک ہیں یعنی دونوں کا امام ایک ہے تو مرد کی نماز فاسد ہو جائے گی عورت کی نماز فاسد نہیں۔ اور قیاس بھی یہی تقاضا کرتا ہے کہ عورت کی نماز جیسے فاسد نہیں ہے تو مرد کی نماز بھی فاسد نہیں ہونی چاہیے بھئی، اس لیے کیونکہ برابری کا فعل دونوں جانب سے پایا گیا، عورت مرد کے برابر ہے تو مرد کس کے برابر ہے؟ عورت کے برابر، تو فعل دونوں طرف سے پایا گیا ہے اور جب عورت کی نماز فاسد نہیں تو دوسرے کی نماز بھی فاسد نہیں ہونی چاہیے، قیاس تو یہی تقاضا کرتا ہے، لیکن ہم نے استحساناً کہا مرد کی نماز نہیں ہو گی بھئی۔ اور استحسان کی وجہ جو ہے وہ حدیث، جو آیا حدیث میں کیا آیا تھا؟ ”أَخِّرُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَخَّرَهُنَّ اللهُ“، ”أَخِّرُوهُنَّ“ ان عورتوں کو کیا کرو؟ مؤخر کرو، پیچھے کرو۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو قیاس یہ تقاضا کرتا ہے کہ عورت کی نماز فاسد نہیں تو مرد کی بھی فاسد نہیں ہونی چاہیے اور اسی کی طرف امام شافعی رحمہ اللہ گئے ہیں، تو انہوں نے اس مرد کی نماز کو قیاس کیا اس عورت کی نماز پر، عورت کی فاسد نہیں تو مرد کی بھی فاسد نہیں۔ یہ معنی ہے: ”اعْتِبَارًا بِصَلَاتِهَا حَيْثُ لَا تَفْسُدُ“ قیاس کرتے ہوئے اس عورت کی نماز پر کیونکہ وہ فاسد نہیں ہوتی۔ ”وَوَجْهُ الِاسْتِحْسَانِ مَا رَوَيْنَا“ اور استحسان کی وجہ وہ حدیث ہے جس کو ہم نے روایت کیا بھئی کہ ”أَخِّرُوهُنَّ“، تو استحساناً ہم نے کہا مرد کی نماز فاسد ہو جائے گی۔ ”وَإِنَّهُ مِنَ الْمَشَاهِيرِ“ اور یہ حدیث مشہور حدیثوں میں سے ہے، کس میں سے ہے؟ مشہور حدیثوں میں سے ہے۔ یہ ایک اشکال کا جواب دے رہے ہیں صاحبِ ہدایہ کہ ”أَخِّرُوهُنَّ“ یہ حدیث کیا ہے؟ اس میں کیا آیا؟ عورتوں کو مؤخر کرنے کا حکم آیا، معلوم ہوا عورتوں کا مؤخر کرنا فرض ہے، اور فرض کے لیے تو قطعی دلیل چاہیے اور یہ تو خبرِ واحد ہے اور خبرِ واحد سے تو فرضیت ثابت نہیں ہوتی، تو آپ کس طرح اے احناف کہتے ہیں کہ ان عورتوں کو مؤخر کرنا فرض ہے؟ تو جواب دے دیا: ”إِنَّهُ مِنَ الْمَشَاهِيرِ“ کہ یہ حدیث کس میں سے ہے؟ مشہور احادیث میں سے ہے اور اس کے ذریعے فرضیت ثابت کرنا صحیح ہے۔ اور نیز اس لیے کیونکہ بھئی ویسے تو یہ خبرِ واحد ہے، خبرِ واحد سے تو فرض ثابت نہیں ہوتا لیکن بات چل رہی ہے جماعت کی، کس کی؟ جماعت، اور جماعت کا ثبوت خود سنت سے آیا ہے یعنی حدیث سے آیا ہے تو جماعت کا فرض بھی کس سے ثابت ہو جائے گا؟ حدیث سے ثابت ہو جائے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنَّهُ مِنَ الْمَشَاهِيرِ“ اور یہ حدیث جو ہے مشہور احادیث میں سے ہے، ”وَهُوَ الْمُخَاطَبُ بِهِ دُونَهَا“ اچھا سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر مرد کی کیوں نماز فاسد ہو گی، عورت کی نماز فاسد کیوں نہیں ہو گی؟ وجہ آگے بتلائیں گے صاحبِ ہدایہ کہ بھئی حدیث میں آیا: ”أَخِّرُوا“، ”أَخِّرُوا“ کون سا صیغہ ہے؟ امر کا ہے اور جمع مذکر کا ہے، معلوم ہوا جمع مذکر کو خطاب کیا جا رہا ہے کہ تم لوگ کیا کرو؟ عورتوں کو پیچھے کرو۔ تو گویا یہ مردوں کی ذمہ داری ہوئی کہ عورتوں کو کیا کریں؟ پیچھے کریں۔ معلوم ہوا مرد کی ذمہ داری ہوئی کہ وہ مقدم ہو تو اس نے اپنی ذمہ داری کو چھوڑ دیا، اپنے مقام کو چھوڑ دیا جب عورت کے برابر ہوا تو اس لیے اس کی نماز فاسد ہو گی، عورت کی نماز فاسد نہیں ہو گی۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟ ”وَهُوَ الْمُخَاطَبُ بِهِ دُونَهَا“ اور مرد ہی اس کا مخاطب ہے ”دُونَهَا“ نہ کہ عورت، ”فَيَكُونُ هُوَ التَّارِكَ لِفَرْضِ الْمَقَامِ“ تو مرد ہی جو ہے وہ مقام کے فرض کو چھوڑنے والا ہوا، ”فَتَفْسُدُ صَلَاتُهُ دُونَ صَلَاتِهَا“ تو مرد کی نماز فاسد ہو گی نہ کہ عورت کی نماز، ”كَالْمَأْمُومِ إِذَا تَقَدَّمَ عَلَى الْإِمَامِ“ جیسے کہ مقتدی جب وہ مقدم ہو جائے امام پر۔ مقتدی جو ہے جب وہ امام پر مقدم ہو جائے تو مقتدی کی نماز فاسد ہوتی ہے، امام کی نماز فاسد نہیں کیونکہ مقتدی نے اپنے مقام کو چھوڑ دیا، اس نے جب دوسرے کو امام بنایا تو امام کو آگے ہونا چاہیے اور مقتدی کو پیچھے ہونا چاہیے پھر یہ اپنے مقام کو چھوڑ کر امام سے آگے بڑھتا ہے تو اس نے اپنے فرض کو چھوڑ دیا، امام نے فرض کو نہیں چھوڑا تو اس کی نماز فاسد ہو گی۔ ”وَإِنْ لَمْ يَنْوِ إِمَامَتَهَا لَمْ تَضُرَّهُ وَلَا تَجُوزُ صَلَاتُهَا“ اور اگر امام نے اس عورت کا امام ہونے کی نیت نہیں کی ”لَمْ تَضُرَّهُ“ تو پھر وہ عورت کی محاذاۃ اس مرد کو اس مقتدی کو نقصان نہیں دے گی، ہاں ”وَلَا تَجُوزُ صَلَاتُهَا“ اس عورت کی نماز جائز نہیں ہو گی۔ جب امام نے کیا کیا؟ اس عورت کے امام ہونے کی نیت ہی نہیں کی تو نماز عورت کی ہوئی ہی نہیں، جب ہوئی نہیں تو نماز کے اندر عورت مرد کے ساتھ شریک ہی نہیں ہوئی، اور نماز میں تو شرکت ضروری تھی پھر ہی اس کے بعد محاذاۃ کو دیکھا جائے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں پھر ”لَمْ تَضُرَّهُ“ تو پھر وہ محاذاۃ اس شخص کو، اس نماز پڑھنے والے کو، اس مقتدی کو نقصان نہیں دے گی ”وَلَا تَجُوزُ صَلَاتُهَا“ اور اس عورت کی نماز جائز نہیں ہو گی، کب؟ جب اس امام نے اس عورت کا امام ہونے کی نیت نہ کی ہو۔ ”لِأَنَّ الِاشْتِرَاكَ دُونَهَا لَا يَثْبُتُ عِنْدَنَا“ اس لیے کیونکہ اشتراک اس کے بغیر وہ ہمارے نزدیک ثابت نہیں ہوتا۔ کس کے بغیر؟ نیت، یعنی امام کا نیت کرنا ضروری ہے اسی سے اشتراک ثابت ہو گا، اس کے بغیر اشتراک ہمارے نزدیک ثابت نہیں، پھر تو دونوں ایک نماز میں ان دونوں کا اشتراک ہی نہیں پایا جائے گا، اور اشتراک کے لیے معلوم ہوا کیا شرط ہے ہمارے نزدیک؟ امام بھی اس عورت کی امامت کی نیت کرے۔ ”خِلَافًا لِزُفَرَ“ بخلاف امام زفر رحمہ اللہ کے، وہ فرماتے ہیں نہیں، امام کی نیت کرنا ضروری نہیں ہے بھئی، تو ان کے نزدیک امام نیت نہ کرے پھر بھی عورت جب نماز میں آ کر شریک ہو گی تو اس کے برابر میں جو مرد ہو گا اس کی نماز فاسد ہو جائے گی۔ آگے صاحبِ ہدایہ دلیل ذکر کر رہے ہیں ہماری، وہ فرماتے ہیں: ”أَلَا تَرَى أَنَّهُ يَلْزَمُهُ التَّرْتِيبُ فِي الْمَقَامِ فَيَتَوَقَّفُ عَلَى الْتِزَامِهِ كَالِاقْتِدَاءِ“ بھئی دیکھیے یہ دلیل ذکر کر رہے ہیں ہدایہ کی فصیح و بلیغ عبارات چل رہی ہیں، بڑی لمبی بات بڑے مختصر لفظوں میں وہ ذکر کرتے چلے جاتے ہیں۔ بھئی دیکھیے دو آدمی نماز پڑھ رہے ہیں۔ ایک آدمی مثلاً آپ دیکھ رہے ہیں ایک آدمی نماز پڑھ رہا ہے، ایک اور آیا وہ بھی الگ اس نے اپنی نماز پڑھنا شروع کر دی۔ اب آپ مجھے بتائیے، ایک ان میں سے ایک آدمی کی نماز فاسد ہو گئی تو کیا دوسرے کی نماز بھی فاسد ہو جائے گی؟ نہیں، دوسرے کی ایک آدمی کی نماز سے دوسرے آدمی کی نماز پر تو کوئی اثر نہیں پڑتا، وہ الگ پڑھ رہا تھا یہ الگ پڑھ رہا ہے، تو ایک آدمی کی نماز فاسد ہونے سے دوسرے آدمی کی نماز فاسد نہیں ہوئی۔ تو دیکھیے ایک آدمی کی نماز فاسد ہونے سے دوسرے آدمی کی نماز پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ لیکن اب دوسری صورت ذرا مجھے بتائیے، امام جماعت کروا رہا ہے امام کی نماز فاسد ہو گئی تو آپ کیا کہیں گے؟ مقتدیوں کی فاسد ہوئی یا فاسد نہیں ہوئی؟ مقتدیوں کی بھی فاسد ہو گئی، تو دیکھو امامت کے مسئلے میں آپ کہتے ہیں کہ امام کی نماز فاسد ہوتی ہے تو مقتدیوں کی بھی فاسد ہو جاتی ہے اور امام کی نماز ٹھیک ہو جاتی ہے تو مقتدیوں کی نماز بھی ٹھیک ہو جاتی ہے، اس کی کیا وجہ ہے؟ وجہ یہ کہ جب ایک شخص کو امام بنایا جاتا ہے اور دوسرے اس کے پیچھے کھڑے ہو جاتے ہیں تو گویا انہوں نے اس کی اقتدا کو اپنے اوپر لازم کر لیا، کیا کر لیا؟ لازم، یعنی اس کو قبول کر لیا کہ ہم اس کی اقتدا کر رہے ہیں اگر کوئی خرابی آئی تو وہ بھی ہمیں قبول ہے۔ کوئی خرابی آئی تو ہمیں بھی وہ بھی ہمیں قبول ہے اس سے ہماری بھی نماز فاسد ہو گی ہمیں یہ منظور ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو دیکھو اقتدا کے اندر ایک چیز کا التزام کرتا ہے، اپنے اوپر لازم کر رہا ہے، کس چیز کو لازم کر رہا ہے؟ کہ اگر اس کی طرف سے کوئی خرابی آئی تو وہ خرابی میرے اوپر بھی آئے گی مجھے منظور ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ ہے التزام یعنی اپنے اوپر ایک چیز کو لازم کر لینا۔ تو اقتدا کے اندر التزام کیا جاتا ہے، اقتدا میں التزام کیا جاتا ہے۔ نیز اسی طرح دیکھیے بھئی قاضی ہے قاضی، قاضی جب کوئی فیصلہ کرتا ہے تو قاضی کو ولایتِ عامہ حاصل ہوتی ہے اور اس کا فیصلہ سب پر نافذ ہو جاتا ہے اور زبردستی جبراً وہ سب پر فیصلہ نافذ کر سکتا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ لیکن اگر اس کے بجائے دو آدمیوں میں جھگڑا ہوا اور ایک تیسرا آدمی ان میں فیصلہ کرتا ہے تو یہ تیسرا عام آدمی جو ہے جو ثالث بن گیا، فیصلہ کرنے والا بنا، اس کا فیصلہ ان دونوں پر نافذ نہیں ہو گا، الّا یہ کہ دونوں اس کا التزام کر لیں یعنی اس کو اپنے اوپر لازم قرار دے دیں یعنی خود دونوں اس کو اپنا منصف بنا لیں کہ تم ہم دونوں میں کیا کرو؟ فیصلہ۔ جب خود اس کو اپنے درمیان منصف بنایا تو گویا ان دونوں نے التزام کر لیا، اپنے اوپر اس بات کو لازم کر لیا کہ جو فیصلہ کرو گے ہمیں وہ قبول ہو گا، منظور ہو گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو اقتدا میں بھی اسی طرح ہوتا ہے کہ مقتدی جو ہے وہ کیا کرتا ہے؟ التزام کرتا ہے، تو اس صورت میں اب اگر کوئی امام کی طرف سے کوئی خرابی آئی تو معلوم ہوا یہ اس کی رضا سے خرابی آ رہی ہے بھئی، جبراً اس پر کوئی ہم یہ خرابی مسلط نہیں کر رہے۔ تو امام کی طرف سے فساد آئے گا تو یہ فساد گویا اپنی مرضی سے قبول کر رہا ہے جب اس نے اقتدا کی نیت کی تھی تو اس بات کا التزام کیا تھا، اس بات کو اپنے اوپر لازم کیا تھا، خود قبول کیا تھا کہ اس کی طرف سے جو خرابی آئی میں بھی اس کو کیا کروں گا؟ قبول کروں گا۔ تو یہاں پر بھی اسی طرح صفوں کے اندر ترتیب بنانا ہے یعنی مردوں کو آگے کرنا، مردوں کی صف پہلے بنانا اور بچوں کی صف ان کے بعد بنانا اور عورتوں کی صف ان سے پیچھے بنانا یہ امام کی ذمہ داری ہے، کس کی؟ امام کی ذمہ داری ہے، اور یہ امام کی ذمہ داری ہے تو وہ اس کو قبول کرے گا تو اس پر یہ چیز لازم ہو گی ویسے لازم نہیں۔ وہ اس کا کیا کرے گا؟ التزام کرے گا تو وہ اس پر لازم ہو گی ورنہ لازم نہیں۔ تو یہاں پر بھی دیکھیے امام جو ہے عورت کی نیت کرے گا تو خرابی لازم ہو گی ورنہ خرابی لازم نہیں۔ توجہ ہے سبق کی طرف؟ بڑی گہری بات ذکر کر رہے ہیں صاحبِ ہدایہ اور اسی کی تشریح کر رہا ہوں۔ تو یہاں پر بھی خرابی کس کی طرف سے آئے گی؟ عورت کی طرف سے آئے گی، اور دوسرے کی طرف سے خرابی آئے وہ خود بخود دوسرے کی نماز پر پڑتی ہے یا التزام کیا ہو تو پھر وہ خرابی کا اثر پڑتا ہے؟ التزام کیا ہو تو خرابی کا اثر پڑتا ہے، تو یہاں پر بھی عورت جب پیچھے ہے تو امام اس کی نیت جب کرے گا تو اس نے اس التزام کر لیا کہ اس کی طرف سے جو خرابی آئی وہ ہمیں قبول ہے، اور امام نیت نہیں کرتا تو امام اس کی طرف سے آنے والی خرابی کو بھی قبول گویا پھر اس کی طرف سے خرابی آئے گی بھی نہیں جب التزام ہی نہیں کیا، جب التزام ہی نہیں کیا۔ تو یہاں پر بھی امام کے لیے اس عورت کی امامت کی نیت ضروری ہے اور یہ نیت یہی دراصل التزام ہے، یہ کیا ہے؟ التزام ہے کہ اس کی طرف سے جو خرابی آئی نماز کے اندر وہ ہمیں منظور ہے، کیونکہ یہ خرابی صرف مقتدیوں کے نماز میں نہیں خود امام کی نماز میں بھی خرابی آ سکتی ہے، وہی عورت آگے بڑھ کر امام کے ساتھ کھڑی ہو جائے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو خرابی تبھی اس پر آئے گی جب امام نے کیا کیا ہو؟ التزام کیا ہو۔ دلیل سمجھ میں آئی بھئی؟ یہ معنی ہے: ”أَلَا تَرَى أَنَّهُ يَلْزَمُهُ التَّرْتِيبُ فِي الْمَقَامِ فَيَتَوَقَّفُ عَلَى الْتِزَامِهِ“ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ اس امام پر ترتیب لازم ہے ”فِي الْمَقَامِ“ مقام کے اندر، مقام میں ترتیب کس پر لازم ہے؟ امام پر لازم ہے کہ مرد آگے ہوں، بچے ان سے پیچھے ہوں اور عورتیں ان سے پیچھے ہوں۔ ”أَلَا تَرَى“ کیا آپ دیکھتے نہیں ”أَنَّهُ يَلْزَمُهُ التَّرْتِيبُ فِي الْمَقَامِ“ کہ امام پر لازم ہے ترتیب مقام کے اندر ”فَيَتَوَقَّفُ عَلَى الْتِزَامِهِ“ تو یہ یہ بھی اس امام کے یہ چیز بھی امام کے التزام پر موقوف رہے گی، یہ اشتراک بھی امام کے التزام پر موقوف رہے گا، امام نیت کرے گا تو عورت کا نماز میں اشتراک آئے گا وہ ساتھ شامل ہو گی، نیت نہیں کرے گا تو اشتراک بھی نہیں۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ ”كَالِاقْتِدَاءِ“ جیسے کس میں ہوتا ہے؟ اقتدا، تو دیکھو اقتدا کے اندر بھی باقاعدہ صاحبِ ہدایہ نے تو دو لفظوں میں ذکر کر دیا جیسے کیا ہے؟ اقتدا ہے، اور ہمیں تشریح کرنا پڑی کہ اقتدا میں بھی کیا کرتا ہے دراصل ایک آدمی اپنے التزام کرتا ہے اس بات کا کہ امام کی طرف سے نماز میں کوئی فساد آیا تو وہ ہمارے اوپر بھی لازم ہو گا۔ ”وَإِنَّمَا يُشْتَرَطُ نِيَّةُ الْإِمَامَةِ إِذَا ائْتَمَّتْ مُحَاذِيَةً“ امامت کی نیت اسی وقت شرط ہو گی ”إِذَا ائْتَمَّتْ مُحَاذِيَةً“، ائتم اقتدا کرنا، ائتم کے کیا معنی؟ مؤتم، مؤتم اقتدا کرنے والا، لفظ گزرا ہے یعنی کئی دفعہ؟ سمجھ میں آیا؟ تو ”ائْتَمَّ يَأْتَمُّ“ کے معنی ہوتے ہیں اقتدا کرنا، کہتے ہیں امامت کی نیت اسی وقت شرط ہو گی ”إِذَا ائْتَمَّتْ مُحَاذِيَةً“ جب وہ عورت اقتدا کرے برابر ہو کر، برابر کھڑی ہو کر کیا کرے؟ اقتدا، یعنی کسی مرد کے برابر کھڑی ہو کر اقتدا کرے تو پھر ہم کہیں گے کہ امامت کی نیت شرط ہے یعنی یہ تبھی مقتدی بنے گی جب امام کیا کر لے؟ اس کی نیت کر لے۔ ”وَإِنْ لَمْ يَكُنْ بِجَنْبِهَا رَجُلٌ فَفِيهِ رِوَايَتَانِ“ اور اگر اس عورت کے برابر میں کوئی مرد نہ ہوا تو اس میں دو روایتیں ہیں، دو روایتیں ہیں۔ بھئی عورت اگر کسی مرد کے برابر کھڑی ہو کر نماز پڑھتی ہے، اقتدا کرتی ہے امام کی تو وہ مقتدی تبھی بنے گی جب امام کیا کر لے؟ اس کی نیت کر لے، اور اگر عورت پچھلی صف میں کھڑی ہوئی، اپنی جگہ پر کھڑی ہوئی اب جب اپنی جگہ پر کھڑی ہے تو وہاں اس کے برابر میں تو کوئی مرد نہیں ہے تو کیا اس صورت میں بھی امام کے لیے نیت کرنا ضروری ہے تبھی یہ مقتدی بنے گی ورنہ مقتدی نہیں بنے گی؟ تو بتلا رہے ہیں: ”فَفِيهِ رِوَايَتَانِ“ اس میں دو روایتیں ہیں، دو روایتیں ہیں۔ کیا کیا روایتیں ہیں؟ یہ صاحبِ ہدایہ بیان نہیں کریں گے کیونکہ یہ تو آپ کو خود ہی سمجھ میں بات آ گئی دو روایتیں، معلوم ہوا ایک روایت یہ ہے کہ اس صورت میں بھی امام کے لیے نیت کرنا ضروری ہے پھر ہی مقتدی بنے گی، اور دوسری روایت یعنی کیا ہو گئی کہ اس صورت میں امام کے لیے اس کی امامت کی نیت کرنا ضروری نہیں ہے بھئی، ویسے ہی یہ مقتدی بن جائے گی۔ تو کہتے ہیں: ”فَفِيهِ رِوَايَتَانِ“ تو اس میں دو روایتیں ہیں، جی یعنی دو روایتیں آ گئیں ایک روایت کے مطابق امامت کی نیت شرط ہے دوسری روایت کے مطابق امامت کی نیت شرط نہیں۔ ”وَالْفَرْقُ عَلَى إِحْدَاهُمَا أَنَّ الْفَسَادَ فِي الْأَوَّلِ لَازِمٌ وَفِي الثَّانِي مُحْتَمَلٌ“ اب فرق بیان کر رہے ہیں، بھئی پہلا مذہب کیا بیان ہوا متن کے اندر؟ اگر عورت مرد کے برابر کھڑی ہو کر اقتدا کرے تو امام کے لیے اس کی امامت کی نیت کرنا ضروری ہے ورنہ وہ وہ مقتدی بنے گی ہی نہیں اس کی نماز نہیں ہو گی۔ توجہ ہے سبق کی طرف؟ کہ اگر عورت کیا ہو؟ مرد کے برابر کھڑی ہو کر نماز شروع کرے گی تو وہ مقتدی تبھی بنے گی جب امام کیا کرے؟ اس کی نیت کرے گا، اور اگر وہ اپنی جگہ پر تھی پچھلی صف میں تھی اب اس میں دو روایتیں ہیں کہ ایک روایت یہ کہ اس صورت میں بھی امام کے لیے نیت کرنا ضروری ہے اور دوسری روایت کہ اس صورت میں امام کے لیے اس کی امامت کی نیت کرنا ضروری نہیں۔ تو ایک روایت تو اسی طرح ہوئی، محاذاۃ کی صورت میں برابری کی صورت میں امامت کی نیت ضروری تھی اور پیچھے ہو پھر بھی ایک روایت کیا آئی؟ نیت ضروری ہے، تو ایک روایت تو جو متن میں مسئلہ ہے اس کے مطابق ہے، ایک روایت کیا آئی؟ محاذاۃ کی صورت میں نیت ضروری ہے جیسے متن میں آیا تھا، اسی طرح اگر اپنے مقام پر کھڑی ہوئی پیچھے کھڑی ہوئی تو اس صورت میں بھی امام کے لیے اس کی امامت کی نیت کرنا ضروری ہے اس کی امامت کی نیت کرنا ضروری ہے، تو اس صورت میں تو کوئی اشکال لازم نہیں آتا، اشکال لازم نہیں۔ ہاں دوسری صورت، دوسری روایت جو آئی کہ اگر اپنے مقام پر کھڑی ہو تو پھر امام کے لیے اس کی امامت کی نیت کرنا ضروری نہیں ہے پھر امام چاہے نیت نہ کرے پھر بھی اس کی اقتدا کیا ہو جائے گی؟ صحیح ہو جائے گی، تو یہ اس روایت میں گویا فرق کیا گیا کہ برابری کی صورت میں برابر ہو مرد کے برابر کھڑی ہو تو امام کے لیے امامت کی نیت کرنا ضروری ہے اور اگر پیچھے کھڑی ہو تو امام کے لیے امامت کی نیت کرنا اس کے لیے ضروری نہیں، فرق کیا گیا ہے یا نہیں؟ تو اس روایت میں فرق کیا گیا ہے وہ وجہ ذکر کرنے لگے ہیں۔ کہتے ہیں: ”وَالْفَرْقُ عَلَى إِحْدَاهُمَا“ اور فرق ان دونوں میں علی احداہما ان دونوں روایتوں میں سے ایک پر، کیونکہ ایک میں فرق کیا گیا نا، دوسری روایت میں تو کیا آیا تھا؟ برابر کھڑی ہو پھر بھی نیت ضروری، پیچھے کھڑی ہو پھر بھی نیت ضروری، لیکن دوسری روایت میں آیا برابر کھڑی ہو تو نیت ضروری ہے پیچھے کھڑی ہو تو نیت ضروری نہیں، تو اس میں فرق کیا گیا ایک روایت میں، تو ”وَالْفَرْقُ عَلَى إِحْدَاهُمَا“ تو دونوں روایتوں میں سے ایک میں جو فرق کیا گیا اس کی وجہ یہ ہے کہ ”أَنَّ الْفَسَادَ فِي الْأَوَّلِ لَازِمٌ“ کہ پہلی صورت میں فساد لازم ہے، پہلی صورت میں فساد لازم ہے، کون سی پہلی صورت؟ جب وہ برابر کھڑی ہو گی مرد کے تو اس صورت میں تو فساد لازم ہے اس مرد کی نماز یقیناً فاسد ہو گی، ”وَفِي الثَّانِي مُحْتَمَلٌ“ اور دوسری صورت میں فساد کا احتمال ہے فساد لازم نہیں۔ کون سی دوسری صورت؟ جب عورت پیچھے کھڑی ہوئی اپنی جگہ پر مردوں سے پیچھے کھڑی ہوئی ہے تو اس صورت میں فساد لازم نہیں ہے کیونکہ وہ تو اپنے مقام پر کھڑی ہے وہاں تو کوئی مرد نہیں، ہاں فساد کا احتمال ہے کہ وہ دو تین قدم بڑھائے اور مردوں کے برابر کھڑی ہو جائے، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو اس صورت میں فساد کا احتمال ہے صرف، تو صرف احتمال کی ہے چونکہ لہٰذا اس لیے امام کے لیے اس کی امامت کی نیت کرنا ضروری نہیں، جبکہ پہلی صورت میں تو فساد لازم تھا لازم آ رہا تھا ساتھ والے شخص کی نماز فاسد ہو رہی تھی تو وہاں پر امام کے لیے امامت کی نیت کرنا ضروری ہے ورنہ تو فساد آئے گا اور فساد بغیر التزام کے آئے گا اور بغیر التزام کے تو فساد نہیں آ سکتا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی۔ تو دیکھیے ترجمہ کہتے ہیں: ”وَالْفَرْقُ عَلَى إِحْدَاهُمَا أَنَّ الْفَسَادَ فِي الْأَوَّلِ لَازِمٌ وَفِي الثَّانِي مُحْتَمَلٌ“ اور فرق جو ہے دونوں روایتوں میں سے ایک پر وہ فرق وہ یہ ہے کہ ”أَنَّ الْفَسَادَ فِي الْأَوَّلِ لَازِمٌ“ کہ فساد پہلی صورت میں یعنی محاذاۃ کی صورت میں تو لازم آتا ہے لہٰذا اس میں امامت کی نیت ضروری قرار دیا گیا، ”وَفِي الثَّانِي مُحْتَمَلٌ“ اور دوسری صورت میں فساد کا احتمال ہے جب وہ عورت پیچھے کھڑی ہوئی ہے تو لہٰذا اس وجہ سے امامت کی نیت کو ضروری قرار نہیں دیا گیا۔ ”وَمِنْ شَرَائِطِ الْمُحَاذَاةِ أَنْ تَكُونَ الصَّلَاةُ مُشْتَرَكَةً وَأَنْ تَكُونَ مُطْلَقَةً وَأَنْ تَكُونَ الْمَرْأَةُ مِنْ أَهْلِ الشَّهْوَةِ وَأَنْ لَا يَكُونَ بَيْنَهُمَا حَائِلٌ“ جی یہاں سے شرائطِ محاذاۃ ذکر کر رہے ہیں کہ کون سی برابری مراد ہے کہ اس صورت میں نماز ساتھ والے مرد کی فاسد ہو گی، اس کی کیا کیا شرائط ہیں؟ کہتے ہیں: ”وَمِنْ شَرَائِطِ الْمُحَاذَاةِ“ اور محاذاۃ یعنی برابری کی شرائط میں سے ہے: ”أَنْ تَكُونَ الصَّلَاةُ مُشْتَرَكَةً“ کہ نماز کیا ہو؟ مشترک ہو یعنی دونوں ایک ہی امام کی اقتدا کر رہے ہوں، وہ مرد بھی اور وہ عورت بھی، نماز مشترک ہو۔ نماز کیا ہو؟ مشترک ہو۔ تو وہ دونوں ایک ہی امام کی اقتدا کر رہے ہوں یا انہی میں سے ایک امام ہے ایک مقتدی، یعنی مرد امام ہے اور وہ عورت کیا ہے؟ مقتدی ہے تو دیکھو نماز دونوں کی کیا ہو گئی؟ مشترک ہو گئی۔ تو نماز مشترک ہونی چاہیے یعنی دونوں ایک ہی امام کی اقتدا کر رہے ہوں یا دونوں میں سے ایک امام ہو، ”وَأَنْ تَكُونَ مُطْلَقَةً“ اور یہ کہ نماز جو ہے وہ مطلق ہونی چاہیے، نماز کیا ہونی چاہیے؟ مطلق ہونی چاہیے یعنی پورے کامل رکوع سجدے والی نماز ہو، لہٰذا نمازِ جنازہ میں محاذاۃ ہو تو اس سے مرد کی وہ نماز فاسد نہیں ہو گی۔ تو دوسری شرط یہ کہ نماز مطلق ہو یعنی رکوع سجدے والی ہو، ”وَأَنْ تَكُونَ الْمَرْأَةُ مِنْ أَهْلِ الشَّهْوَةِ“ تیسری شرط یہ کہ وہ عورت جو ہے اہلِ شہوت میں سے ہو یعنی قابلِ شہوت ہو، وہ عورت کیا ہو؟ قابلِ شہوت ہو فی ذاتہٖ وہ قابلِ شہوت ہو۔ پھر چاہے بیوی ہی کیوں نہ ہو، کوئی محرم ہی کیوں نہ ہو، نماز فاسد ہو جائے گی۔ نماز کیا ہو جائے گی؟ فاسد ہو جائے گی، چاہے جس مرد کے ساتھ کھڑی ہوئی ہے چاہے اس کی بیوی ہے، چاہے اس کی کوئی محرم ہی کیوں نہ ہو لیکن وہ عورت فی ذاتہٖ کیا ہے؟ جی؟ اہلِ شہوت ہے تو اس صورت میں وہ نماز فاسد ہو جائے گی۔ اہلِ شہوت میں سے ہونے کا معنی یہ ہے کہ عورت یعنی بالغہ ہو یا قریب البلوغ ہو، بالغہ ہو یا قریب البلوغ، کیونکہ قَرِيبٌ إِلَى الشَّيْءِ فِي حُكْمِ الشَّيْءِ ہوتا ہے، تو جو بالغ ہونے کے قریب ہے وہ بھی کس کے حکم میں ہو گئی گویا؟ بالغ، تو یعنی عورتیں بالغہ ہوں یا بالغ ہونے کے قریب ہو تو یہ تیسری شرط ہے محاذاۃ کے اندر بھئی محاذاۃ کے اندر۔ جو بالغ ہو یا بالغ ہونے کے قریب، اور آپ جانتے ہیں کہ لڑکی جو ہے وہ اس میں احتمال ہے نو سال کی عمر میں بھی بالغ ہو سکتی ہے لہٰذا اس عمر والی بھی اسی حکم میں داخل ہو جائے گی بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ تیسری شرط ہے، تیسری شرط کہ عورت اہلِ شہوت میں سے ہو یعنی یوں کہیں بھئی نو سال یا اس سے زائد عمر والی ہو اور اس میں محاذاۃ آ جائے ان تمام شرطوں کے ساتھ تو اس صورت میں مرد کی نماز فاسد ہو جائے گی، ”وَأَنْ لَا يَكُونَ بَيْنَهُمَا حَائِلٌ“ اور یہ کہ ان دونوں کے درمیان کوئی حائل، کوئی آڑ اور رکاوٹ بھی نہ ہو، اگر درمیان میں کوئی رکاوٹ ہے مثلاً ستون درمیان میں ہے تو مرد ستون کے ایک طرف ہے عورت ستون کے دوسری جانب ہے تو رکاوٹ آ گئی تو پھر اس صورت میں نماز اس کی فاسد نہیں ہو گی۔ تو چار شرطیں انہوں نے ذکر کر دیں: ایک یہ کہ دونوں کی نماز کیا ہو؟ مشترکہ ہو، اور نماز بھی رکوع سجدے والی ہو، اور عورت کس میں سے ہو؟ اہلِ شہوت میں سے ہو، اور یہ کہ ان دونوں کے درمیان کوئی آڑ اور رکاوٹ بھی نہ ہو۔ بھئی یہ شرطیں کیوں لگائی گئیں؟ اس کی دلیل کیا ہے؟ کہتے ہیں: ”لِأَنَّهَا عُرِفَتْ مُفْسِدَةً بِالنَّصِّ“ اس لیے کیونکہ محاذاۃ کو فاسد کر دینے والا جانا گیا ہے ”بِالنَّصِّ“ کس کی وجہ سے؟ نص کی وجہ سے، حدیث میں کیا آیا تھا؟ ”أَخِّرُوهُنَّ“ ان کو کیا کرو؟ پیچھے کرو، تو یہ نص سے پتہ لگا کہ محاذاۃ جو ہے نماز کو فاسد کرنے والی ہے، ”بِخِلَافِ الْقِيَاسِ“ بخلاف قیاس کے، تو اس کا پتہ نص سے چلا ہے نہ کہ قیاس سے، اس سے تو قیاس تو تقاضا کر رہا تھا نماز فاسد نہیں ہونی چاہیے تھی مرد کی، ”فَيُرَاعَى جَمِيعُ مَا وَرَدَ بِهِ النَّصُّ“ تو رعایت رکھی جائے گی ان سب چیزوں کی جس کے ساتھ نص وارد ہوئی ہے یعنی جو نص میں آئی ہیں، جو کس میں آئی ہیں؟ نص میں۔ توجہ ہے بھئی سبق کی طرف بھئی؟ صاحبِ ہدایہ دلیل ذکر کر رہے ہیں کہ محاذاۃ کے لیے یہ چار شرطیں ہیں، چار شرطیں پائی جائیں گی تو عورت کا مرد کے برابر ہونا اس مرد کی نماز کو فاسد کر دے گا، اور اگر ان چار میں سے کوئی ایک شرط بھی پوری نہ ہوئی یا چاروں ہی پوری نہ ہوئیں تو اس صورت میں محاذاۃ سے مرد کی نماز فاسد نہیں ہو گی، فاسد نہیں ہو گی۔ اور دلیل کیا ذکر کر رہے ہیں؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ محاذاۃ کا مفسد ہونا یہ نص سے معلوم ہوا ہے ”بِخِلَافِ الْقِيَاسِ“ بخلاف کس کے؟ قیاس، یعنی یہ خلافِ قیاس ہے کیونکہ قیاس تو کہہ رہا تھا مرد کی نماز فاسد نہیں ہونی، تو اس کا پتہ نص سے چلا اور یہ حکم خلافِ قیاس ہے اور آپ جانتے ہیں کہ جو حکم خلافِ قیاس ہو وہ اپنے مورد پر بند رہتا ہے اس پر دوسری چیزوں کو قیاس نہیں کیا جا سکتا اس لیے کیونکہ جب وہ حکم خود خلافِ قیاس ہے تو پھر باقیوں کو کیسے اس پر قیاس کیا جائے گا؟ تو لہٰذا یہ حکم بھی اپنے مورد پر بند رہے گا، یعنی جس طرح نص میں آیا تھا صرف اسی صورت میں نماز مرد کی فاسد ہو گی باقی صورتوں میں مرد کی نماز فاسد نہیں، اور نص کے اندر تو یہ چاروں چیزوں کا ذکر آیا تھا اس لیے صرف اس صورت میں نماز فاسد ہو گی باقی صورتوں میں نماز فاسد نہیں۔ دلیل سمجھ میں آئی؟ اس پر آپ کے ذہن میں آئے گا کہ نص کے اندر یہ چار چیزیں کہاں ذکر ہیں؟ نص میں تو صرف اتنا آیا: ”أَخِّرُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَخَّرَهُنَّ اللهُ“ ان عورتوں کو مؤخر کرو جہاں اللہ نے ان کو مؤخر کیا ہے۔ نص میں تو صرف اتنا آیا اس میں کہاں ذکر ہے کہ ایک نماز میں شریک ہوں اور نماز بھی مطلق ہو، عورت اہلِ شہوت میں سے ہو اور ان میں کوئی حائل نہ ہو؟ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یاد رکھیے بھئی یہ یہ ہے فقاہت مولانا، فقاہت کہ اللہ نے جس کو دین کی سمجھ دی ہوتی ہے، دین کی سمجھ، فقہا اسی لیے علما سب لکھتے ہیں کہ حدیث کے معانی فقہا ہی پورے طور پر جانتے ہیں، ظاہرِ الفاظ کو دیکھ کر ایک معنی کی طرف آپ ویسے ہی نہ جائیں بلکہ کس کو دیکھیں؟ فقہا اس بارے میں کیا فرماتے ہیں، انہوں نے اس حدیث کا کیا معنی سمجھا ہے۔ تو دیکھیے حدیث میں تو صرف اتنا آیا کہ ”أَخِّرُوهُنَّ حَيْثُ أَخَّرَهُنَّ اللهُ“ کہ ان عورتوں کو پیچھے کرو جہاں ان کو اللہ نے پیچھے فرمایا ہے۔ یہ چار شرطیں بھی اس حدیث کے ساتھ اسی میں آ گئیں، بھئی چار شرطیں کس طرح آئیں؟ بھئی یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا جو عورتیں مسجد میں آتی تھیں نماز پڑھتی تھیں ان کے بارے میں اور اس موقع پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”أَخِّرُوهُنَّ حَيْثُ أَخَّرَهُنَّ اللهُ“ ان کو مؤخر کرو جہاں ان کو اللہ نے، اور وہاں پر یہ ساری شرطیں موجود تھیں، وہاں جب جماعت میں آتی تھیں تو ایک ہی جماعت ہوتی تھی یا نہیں؟ ہاں، تو دیکھو وہاں جماعت میں بھی شرکت ہوتی تھی اور وہ جماعت بھی مطلق ہوتی تھی یہ نماز بھئی، رکوع اور سجدے والی نماز ہوتی تھی، اور نیز وہ جو عورتیں ہوتی تھیں وہ بھی کس میں سے تھیں؟ اہلِ شہوت میں سے تھیں، ان کی الگ صف پیچھے بنتی تھی، اور یہ کہ ان کے درمیان کوئی حائل بھی نہ ہو یہ بھی یہی صورت تھی وہاں پر بھی بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو یہ سب چیزیں وہاں تھیں، وہ نماز بھی مشترک ہوتی تھی اور نماز مطلق ہوتی تھی، عورت بھی کس میں سے؟ اہلِ شہوت میں سے ہو، اور یہ کہ وہاں پر کوئی حائل بھی نہیں ہوتا تھا اس موقع پر منع فرمایا بھئی، تو معلوم ہوا حائل بیچ میں آ جائے رکاوٹ آ جائے پھر محاذاۃ مفسد نہیں۔ چلیے بس بھئی ”هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ“۔