”قَالَ: وَلَوْ لَمْ يَجِدْ مَا يُزِيلُ بِهِ النَّجَاسَةَ صَلَّى مَعَهَا وَلَمْ يُعِدْ، وَهَذَا عَلَى وَجْهَيْنِ: إِنْ كَانَ رُبْعُ الثَّوْبِ أَوْ أَكْثَرُ مِنْهُ طَاهِرًا يُصَلِّي فِيهِ، وَلَوْ صَلَّى عُرْيَانًا لَا يُجْزِيهِ؛ لِأَنَّ رُبْعَ الشَّيْءِ يَقُومُ مَقَامَ كُلِّهِ، وَإِنْ كَانَ الطَّاهِرُ أَقَلَّ مِنَ الرُّبْعِ فَكَذَلِكَ عِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى.“ صاحبِ ہدایہ نماز کی ان شرطوں کا بیان کر رہے ہیں جن کا نماز پر مقدم ہونا اور ان کا پایا جانا ضروری ہے۔ اب تک دو شرطیں انہوں نے ذکر کر دیں۔ پہلی شرط یہ کہ بدن اور کپڑے پاک ہونے چاہئیں، ہر قسم کے حَدَث سے بھی اور نجاستوں سے بھی۔ اور دوسری شرط یہ ذکر کر دی کہ سَتْرِ عَوْرَت بھی ہو بھئی! انسان نے اپنے سَتْر کو ڈھانپا ہوا ہو۔ پھر سَتْر مرد کا کیا ہے، عورت کا کیا ہے، وہ بھی بیان کر دیا۔ آج آپ کو یہ مسئلہ بتلا رہے ہیں کہ صورت یہ ہے کہ ایک شخص ہے، اس کے پاس کپڑے تو ہیں لیکن ان کپڑوں پر نجاست لگی ہوئی ہے اور نجاست بھی زیادہ لگی ہوئی ہے۔ آپ نے پڑھا ہے کہ نجاستِ غلیظہ ہو تو وہ ایک درہم کی مقدار معاف ہے اور ایک درہم سے زائد ہو تو معاف نہیں، اس میں نماز جائز نہیں۔ تو اب ایک شخص ہے اس کے پاس کپڑے تو موجود ہیں لیکن ان پر نجاست لگی ہوئی ہے، مثلاً نجاستِ غلیظہ ہے اور وہ زیادہ حصے پر لگی ہے، یا نجاستِ خفیفہ لگی ہے اور نجاستِ خفیفہ آپ نے پڑھا کپڑے کے جس حصے پر لگی ہے اس کے چوتھائی حصے تک پہنچ جائے تو اس میں نماز جائز نہیں، چوتھائی سے تو کم تو معاف ہے لیکن چوتھائی یا اس سے زیادہ معاف نہیں۔ اب صورت یہ کہ آدمی کے پاس کپڑے ہیں، ان پر یہ نجاست لگی ہوئی ہے چاہے غلیظہ ہے چاہے خفیفہ ہے لیکن زیادہ حصے پر لگی ہے، اتنے حصے پر کہ جس میں اب نماز جائز نہیں بھئی، نماز جائز نہیں۔ تو اب کیا کرے؟ اور کپڑے اس کے پاس نہیں ہیں۔ اگر ان کپڑوں کے ساتھ نماز پڑھتا ہے تو کپڑوں کا تو پاک ہونا شرط تھا، یہ شرط پوری نہیں ہوتی۔ اور اگر ان کپڑوں کو اتار کر ننگے نماز پڑھتا ہے تو سَتْرِ عَوْرَت بھی فرض تھا، تو وہ فرض رہ جاتا ہے۔ تو کیا کرے گا اس صورت میں؟ تو وہ ذکر کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: ”قَالَ: وَلَوْ لَمْ يَجِدْ مَا يُزِيلُ بِهِ النَّجَاسَةَ“، اگر کوئی شخص نہ پائے کوئی ایسی چیز جس کے ذریعے نجاست کو زائل کر دے، یعنی پانی وغیرہ نہیں ہے جس سے کیا کر لے؟ کپڑے کو دھو لے، ”صَلَّى مَعَهَا وَلَمْ يُعِدْ“، تو اسی کے ساتھ نماز پڑھ لے، ”وَلَمْ يُعِدْ“ اور پھر اس نماز کا اعادہ بھی نہیں ہے، اس کا اعادہ بھی نہیں کرے گا، نماز ہو گئی۔ آگے صاحبِ ہدایہ اب تشریح فرما رہے ہیں، کہتے ہیں: ”وَهَذَا عَلَى وَجْهَيْنِ“، یہ دو صورت پر، دو طرح پر ہو گا۔ ایک صورت تو یہ کہ کپڑے پر کپڑے کا چوتھائی یا چوتھائی سے زیادہ حصہ پاک ہو گا۔ کپڑے کا باقی کپڑے پر نجاست لگی ہے لیکن کتنا حصہ پاک؟ چوتھا حصہ پاک ہے، یعنی باقی تین چوتھائی پر نجاست لگی ہوئی ہے۔ تو چوتھا حصہ پاک یا چوتھے سے زیادہ حصہ پاک ہے، ایک صورت یہ۔ دوسری صورت یہ کہ چوتھائی سے بھی کم پاک ہے بھئی، سارے ہی تقریباً کپڑے پر کیا لگی ہوئی ہے؟ نجاست لگی ہوئی، تو دو صورتیں بنیں گی۔ تو کہتے ہیں: ”إِنْ كَانَ رُبْعُ الثَّوْبِ أَوْ أَكْثَرُ مِنْهُ طَاهِرًا“، اگر چوتھائی کپڑا یا اس سے زیادہ پاک ہے، ”يُصَلِّي فِيهِ“، تو اسی کے اندر نماز پڑھے، ”وَلَوْ صَلَّى عُرْيَانًا لَا يُجْزِيهِ“، اگر اس نے ننگے نماز پڑھی تو ”لَا يُجْزِيهِ“ یہ اس کے لیے کافی نہیں بھئی۔ معلوم ہوا اب اگر چوتھائی کپڑا یا چوتھائی سے زیادہ پاک ہے تو انہی کپڑوں میں نماز پڑھنا واجب ہے بھئی، انہی کپڑوں میں اگر ننگے نماز پڑھے گا تو نماز نہیں ہو گی۔ ”لِأَنَّ رُبْعَ الشَّيْءِ يَقُومُ مَقَامَ كُلِّهِ“، اس لیے کیونکہ کسی چیز کا چوتھا حصہ وہ اس کے کل کے قائم مقام ہو جاتا ہے جیسے کہ کل بعض مسائل میں ذکر ہوا تھا بھئی۔ چوتھائی سر پر مسح ہی کو کل کا قائم مقام کیا ہے شریعت نے۔ اسی طرح احرام کی حالت میں اگر سر منڈوا لے تو دم واجب ہوتا ہے، تو اگر صرف چوتھائی سر کوئی منڈوا لے تو بھی گویا کل سر ہی منڈوا لیا، اس صورت میں بھی دم واجب ہو گا۔ تو دیکھو چوتھائی کو کل کے قائم مقام۔ تو یہاں پر بھی جب چوتھائی کپڑا پاک ہے یا اس سے زیادہ پاک ہے تو یوں سمجھا جائے گا گویا کل کپڑا ہی پاک ہے، اسی کے اندر نماز پڑھے گا، اس کے بغیر نماز جائز نہیں۔ ”وَإِنْ كَانَ الطَّاهِرُ أَقَلَّ مِنَ الرُّبْعِ فَكَذَلِكَ عِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ“، اور اگر وہ جو پاک حصہ ہے وہ چوتھائی حصے سے کم ہے تو بھی اسی طرح حکم ہے امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک۔ یعنی سارے کپڑے پر نجاست لگی ہے، چوتھائی سے بھی کم حصہ پاک ہے، تو امام محمد رحمہ اللہ اس صورت میں بھی یہی فرماتے ہیں کہ کپڑوں ہی میں نماز پڑھنا واجب ہے، ننگے نماز پڑھے گا تو نماز نہیں ہو گی۔ ”وَهُوَ أَحَدُ قَوْلَيِ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ“، اور یہی ایک قول ہے امام شافعی رحمہ اللہ کا بھی۔ ”لِأَنَّ فِي الصَّلَاةِ فِيهِ تَرْكَ فَرْضٍ وَاحِدٍ، وَفِي الصَّلَاةِ عُرْيَانًا تَرْكُ فُرُوضٍ“، یا اسی پر عطف کریں ”تَرْكَ فُرُوضٍ“، اس لیے کیونکہ ”فِي الصَّلَاةِ فِيهِ“، کیونکہ انہی کپڑے انہی کپڑوں میں نماز کا پڑھنا اس صورت میں ”تَرْكُ فَرْضٍ وَاحِدٍ“، ایک فرض کا چھوڑنا لازم آتا ہے۔ انہی کپڑوں میں نماز پڑھے گا تو کیا امام محمد رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ ان کا مذہب کیا ذکر ہوا؟ کہ اگر چوتھائی سے کم حصہ پاک ہے، اکثر کپڑے پر کیا لگی ہوئی ہے؟ نجاست، پھر بھی ننگے نماز پڑھنا جائز نہیں بلکہ انہی کپڑوں میں نماز پڑھنا واجب۔ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ اگر انہی کپڑوں میں نماز پڑھے گا تو ایک فرض چھوٹے گا اور اگر ننگے نماز پڑھے گا تو کئی فرض چھوٹ جائیں گے۔ تو ایک صورت میں ایک فرض چھوٹ رہا ہے، ایک صورت میں کئی فرض چھوٹ رہے ہیں، تو لہٰذا اسی صورت کو اختیار کیا جائے گا جس میں ایک فرض چھوٹ رہا ہے، اس کو اختیار کرنا لازم ہے۔ اور کیا فرض چھوٹ رہا ہے؟ کپڑے کا پاک ہونا ضروری تھا، وہ فرض چھوٹ رہا ہے، کپڑا پاک نہیں ہے۔ لیکن اگر ننگے نماز پڑھتا ہے پھر کئی فرض چھوٹ جائیں گے، اس لیے کیونکہ ننگے نماز پڑھے گا تو بیٹھ کر اشارے کے ساتھ پڑھے گا۔ تو قیام بھی چھوٹ گیا، اور رکوع بھی چھوٹ گیا، رکوع بھی اشارے سے ہو گا۔ سجدہ بھی اشارے سے ہو گا، تو دیکھو قیام بھی چھوٹ گیا، رکوع بھی چھوٹ گیا، سجدہ بھی چھوٹ گیا، نیز سَتْرِ عَوْرَت بھی چھوٹ گیا کیونکہ ننگے ہو کر بیٹھ کر نماز پڑھ رہا ہے، تو دیکھو کئی فرض چھوٹ گئے۔ لہٰذا کون سی صورت اختیار کی جائے گی؟ انہی کپڑوں کے اندر نماز پڑھی جائے گی۔ یہ معنی ہے: ”لِأَنَّ فِي الصَّلَاةِ فِيهِ تَرْكَ فَرْضٍ وَاحِدٍ“، اس لیے کیونکہ انہی کپڑوں کے اندر نماز جو ہے اس میں ایک فرض کا چھوڑنا ہے، ”وَفِي الصَّلَاةِ عُرْيَانًا تَرْكُ الْفُرُوضِ“، اور ننگے نماز پڑھنے کے اندر کئی فرضوں کا چھوڑنا ہے۔ ”وَعِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى يَتَخَيَّرُ بَيْنَ أَنْ يُصَلِّيَ عُرْيَانًا وَبَيْنَ أَنْ يُصَلِّيَ فِيهِ، وَهُوَ الْأَفْضَلُ“، شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ اختیار ہو گا اس آدمی کو، کس آدمی کو؟ چوتھائی سے کم کپڑا پاک ہے۔ چوتھائی یا چوتھائی سے زیادہ ہو پھر تو اس میں واجب ہے کپڑوں سمیت نماز پڑھے گا لیکن اگر چوتھائی سے بھی کم کپڑا پاک ہے تو اس آدمی کو اختیار ہے: ”بَيْنَ أَنْ يُصَلِّيَ عُرْيَانًا وَبَيْنَ أَنْ يُصَلِّيَ فِيهِ“، اس بات کے بھی اس میں کہ وہ ننگے ہو کر نماز پڑھے یا انہی کے اندر نماز پڑھے، اس کو اختیار ہو گا۔ چاہے وہ ننگے ہو کر نماز پڑھنا چاہتا ہے پڑھ سکتا ہے، چاہے انہی کپڑوں میں پڑھنا چاہتا ہے تو پڑھ سکتا ہے۔ ”وَهُوَ الْأَفْضَلُ“، اور یہ افضل ہے، ”وَأَنْ يُصَلِّيَ فِيهِ“، کہ اسی کے انہی کپڑوں میں نماز پڑھنا یہ افضل ہے، یہ افضل۔ دلیل ان کی کیا؟ امام محمد رحمہ اللہ کی تو دلیل گزر گئی، وہ فرماتے ہیں اگر ننگے نماز پڑھے گا تو کئی فرض چھوٹ جائیں گے اور اگر انہی کپڑوں میں نماز پڑھے گا تو ایک فرض چھوٹے گا۔ اب شیخین رحمہما اللہ کی دلیل آئی، وہ فرماتے ہیں: ”لِأَنَّ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مَانِعٌ جَوَازَ الصَّلَاةِ حَالَةَ الِاخْتِيَارِ“، اس لیے کیونکہ ان میں سے ہر ایک مانع ہے نماز کے جائز ہونے سے اختیاری حالت میں۔ شیخین رحمہما اللہ کیا فرماتے ہیں؟ ان میں سے ہر ایک اختیاری حالت میں مانع ہے جوازِ صلاۃ سے۔ مثلاً حالتِ اختیار ہے۔ ایک شخص کے پاس کے کپڑوں پر نجاست لگی ہوئی ہے لیکن دوسرے کپڑے بھی موجود ہیں پاک کپڑے، تو کیا اب ان نجس کپڑوں میں اس کے لیے نماز جائز ہو گی؟ نہیں۔ جب صاف کپڑے موجود ہیں تو وہ بدل کر وہ پہن کر پھر نماز پڑھنا پڑے گی۔ تو دیکھا یہ کپڑے کا نجس ہونا یہ حالتِ اختیاری میں مانعِ جوازِ صلاۃ ہے یعنی مانعِ صلاۃ ہے، یہ کیا ہے؟ مانعِ صلاۃ۔ اسی طرح ننگے ہو کر نماز پڑھنا حالتِ اختیاری میں یہ بھی مانعِ صلاۃ ہے۔ کپڑے موجود ہیں اور پھر ایک آدمی کیا کرتا ہے؟ ننگے ہو کر نماز پڑھتا ہے حالانکہ سَتْرِ عَوْرَت تو فرض تھا لہٰذا اس صورت میں نماز نہیں ہو گی۔ تو معلوم ہوا اختیاری حالت میں یہ دونوں چیزیں مانعِ صلاۃ ہیں۔ کپڑے کا نجس ہونا یہ بھی کیا ہے؟ مانعِ صلاۃ، اور ننگے ہو کر نماز پڑھنا یہ بھی کیا ہے؟ مانع، تو دونوں برابر ہوئے۔ دونوں کیا ہوئے؟ برابر ہوئے۔ ”وَيَسْتَوِيَانِ فِي حَقِّ الْمِقْدَارِ“، اور یہ دونوں مقدار کے حق میں بھی برابر ہیں، کس میں؟ مقدار کے حق میں بھی برابر ہیں۔ یعنی دونوں کے اندر قلیل معاف ہے، کثیر معاف نہیں۔ قلیل معاف ہے، کثیر معاف نہیں۔ بھئی سَتْرِ عَوْرَت ضروری ہے یا نہیں؟ سَتْرِ عَوْرَت ضروری، لیکن قلیل معاف ہے۔ لہٰذا اگر آپ نے کل پڑھا کوئی عضو جس کا چھپانا ضروری تھا، اس کا چوتھائی سے کم حصہ کھلا تو اس میں نماز ہو جائے گی۔ چوتھائی سے کم ہے تو نماز ہو جائے گی۔ ہاں چوتھائی یا چوتھائی سے زیادہ ہوا تو اس میں نماز نہیں ہو گی۔ تو معلوم ہوا قلیل دیکھو معاف ہے، سَتْرِ عَوْرَت کی صورت میں بھی قلیل حصہ کھل جائے تو وہ معاف۔ اسی طرح نجاست کے مسئلے میں بھی ایسا ہے کہ نجاست بھی اگر قلیل ہو تو معاف ہوتی ہے اور کثیر ہو تو معاف نہیں، نجاستِ غلیظہ وہ درہم یا اس سے کم ہو تو معاف ہے اس سے زائد معاف نہیں، اور نجاستِ خفیفہ رُبْعِ ثَوْب سے کم ہو تو معاف ہے، رُبْعِ ثَوْب یا اس سے زائد ہو تو معاف نہیں۔ تو دیکھو معلوم ہوا سَتْرِ عَوْرَت کے مسئلے میں بھی قلیل معاف ہے، کثیر معاف نہیں، نجاست کے مسئلے میں بھی قلیل معاف ہے، کثیر معاف نہیں، تو مقدار میں بھی دونوں برابر ہوئے یعنی دونوں میں کثیر اور قلیل کا فرق ہے، دونوں میں کثیر اگرچہ وہ مختلف ہے، سَتْرِ عَوْرَت کے اندر ربع سے کم معاف ہے اور نجاست میں اگر غلیظہ ہو تو درہم تک معاف ہے، تو وہ مقدار وہ مراد نہیں معنی یہ ہے کہ کثیر اور قلیل کا یعنی دونوں میں فرق ہے۔ تو جب برابر ہیں مقدار کے حق میں بھی، ”فَيَسْتَوِيَانِ فِي حُكْمِ الصَّلَاةِ“، تو دونوں نماز کے حکم میں بھی برابر ہوں گے بھئی، نماز کے حکم میں بھی برابر ہوں گے۔ یعنی اس نجس کپڑے کے ساتھ پڑھے یا ننگے ہو کر پڑھے دونوں برابر ہیں، اس کو اختیار ہو گا جس طرح کرنا چاہے کر لے۔ دلیل سمجھ میں آئی؟ شیخین رحمہما اللہ کیا فرماتے ہیں؟ کیونکہ حالتِ اختیار کے اندر یہ دونوں چیزیں مانعِ صلاۃ ہیں، سَتْر کا کھلا ہونا یہ بھی مانعِ صلاۃ، کپڑے کا نجس ہونا یہ بھی مانعِ صلاۃ، نیز مقدار کے حق میں بھی دونوں برابر ہیں یعنی دونوں میں قلیل معاف ہے کثیر معاف نہیں، لہٰذا ”فَيَسْتَوِيَانِ فِي حُكْمِ الصَّلَاةِ“، تو یہ دونوں نماز کے حکم میں برابر ہوں گے تو لہٰذا یہاں اس کو اختیار ہو گا چاہے ننگے ہو کر نماز پڑھے اور چاہے انہی کپڑوں کے ساتھ نماز پڑھ لے۔ اور باقی امام محمد رحمہ اللہ کی دلیل کا جواب دے رہے ہیں، انہوں نے کیا فرمایا تھا؟ کہ اگر ننگے ہو کر نماز پڑھے گا تو کئی فرض چھوٹ جائیں گے اور کپڑوں سمیت پڑھے گا تو ایک فرض چھوٹے گا، تو اس کا جواب دے رہے ہیں کہ بھئی قیام بھی چھوٹے گا لیکن قیام کا خلیفہ کیا ہو گا؟ بیٹھ کر، بیٹھنا قیام کا خلیفہ ہو گیا۔ اور رکوع اور سجدے کا خلیفہ کیا ہے؟ اشارہ، وہ جو رکوع کا اشارہ کرے گا وہ رکوع کا خلیفہ اور نائب ہو گیا اس کا قائم مقام ہو گیا، اور سجدے کا اشارہ سجدے کے قائم مقام ہو گیا، تو ہر ان باقی چیزوں کا خلیفہ آ گیا، کیا آ گیا؟ خلیفہ، اور جس چیز کا خلیفہ موجود ہے گویا وہ چیز خود ہی موجود ہے تو گویا اس کا ترک کرنا ہے ہی نہیں، قیام رکوع اور سجدے کا ترک کرنا ہے ہی نہیں کیونکہ جب خلیفہ نائب موجود ہے تو گویا کہ اصل موجود ہے بھئی۔ کہتے ہیں: ”وَتَرْكُ شَيْءٍ إِلَى خَلَفٍ لَا يَكُونُ تَرْكًا“، اور چھوڑنا کسی چیز کا ”إِلَى خَلَفٍ“ کس کی طرف؟ نائب کی طرف، ”لَا يَكُونُ تَرْكًا“ یہ ترک نہیں، لہٰذا جب نائب آ گئے تو گویا ان کو چھوڑا ہی نہیں، جب چھوڑا ہی نہیں تو صرف ایک ہی فرض چھوٹا اور وہ کیا؟ سَتْرِ عَوْرَت والا فرض چھوٹا۔ بیٹھ کر ننگے ہو کر نماز پڑھ رہا ہے تو کئی فرض اب یوں نہیں کہیں گے کئی فرض چھوٹے بلکہ کیا چھوٹا؟ ایک ہی فرض چھوٹا سَتْرِ عَوْرَت والا جب ننگے ہو کر بیٹھ کر اشارے سے نماز پڑھ رہا ہے، اور کپڑوں سمیت اگر نماز پڑھے گا تب بھی ایک ہی فرض چھوٹے گا اور وہ کیا کہ کپڑوں کا پاک ہونا نہیں پایا گیا بھئی۔ ”وَالْأَفْضَلِيَّةُ“، باقی شیخین رحمہما اللہ نے کیا ذکر کیا تھا کہ افضل کیا ہے؟ کپڑوں سمیت نماز پڑھ لے، اس کی کیا وجہ ہے؟ کہتے ہیں: ”وَالْأَفْضَلِيَّةُ لِعَدَمِ اخْتِصَاصِ السَّتْرِ بِالصَّلَاةِ، وَاخْتِصَاصِ الطَّهَارَةِ بِهَا“، اور افضل ہونا اس وجہ سے ہے کہ سَتْر کا اختصاص نماز کے ساتھ نہیں ہے جبکہ طہارت کا نماز کے ساتھ اختصاص ہے۔ بھئی دیکھیے، ایک ہے سَتْرِ عَوْرَت، ایک ہے طہارت۔ ایک ہے سَتْرِ عَوْرَت، ایک ہے طہارت۔ تو کپڑوں سمیت نماز پڑھتا ہے تو طہارت والا فرض چھوٹتا ہے، ننگے ہو کر نماز پڑھتا ہے تو سَتْرِ عَوْرَت والا فرض چھوٹتا ہے فرض چھوٹتا ہے، لیکن افضل کیا ہے؟ کپڑوں سمیت نماز پڑھے، اس لیے کیونکہ یہ فرض زیادہ قوی ہے، زیادہ مؤکد ہے، اس لیے کیونکہ سَتْرِ عَوْرَت یہ حَقُّ الصَّلَاةِ بھی ہے اور حَقُّ النَّاسِ بھی ہے۔ سَتْرِ عَوْرَت کیا ہے؟ سَتْر کو ڈھانپ کر رکھنا یہ صرف نماز میں ضروری ہے یا نماز کے باہر بھی ضروری ہے؟ نماز کے باہر بھی ضروری ہے، تو معلوم ہوا یہ حَقُّ النَّاسِ بھی ہے اور حَقُّ الصَّلَاةِ بھی ہے، جبکہ طہارت نماز میں تو ضروری نماز سے باہر ضروری نہیں تو یہ صرف حَقُّ الصَّلَاةِ ہے۔ تو ایک چیز جو ہے وہ حَقُّ النَّاسِ اور حَقُّ الصَّلَاةِ دونوں ہے اور ایک صرف حَقُّ الصَّلَاةِ ہے تو کیا زیادہ قوی اور اعلیٰ؟ جو حَقُّ النَّاسِ بھی ہے اور حَقُّ الصَّلَاةِ بھی ہے، اور وہ کیا ہے؟ سَتْرِ عَوْرَت، کہ عورت کو ڈھانپ کر سَتْر کو ڈھانپ کر نماز پڑھے یعنی انہی کپڑوں میں نماز پڑھے بھئی، تو یہ افضل ہے۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے: ”وَالْأَفْضَلِيَّةُ لِعَدَمِ اخْتِصَاصِ السَّتْرِ بِالصَّلَاةِ“، اور افضل ہونا جو ہے وہ سَتْر کا خاص نہ ہونا ہے نماز کے ساتھ، ”وَاخْتِصَاصِ الطَّهَارَةِ بِهَا“، اور طہارت کا نماز کے ساتھ خاص ہونا ہے۔ ”وَمَنْ لَمْ يَجِدْ ثَوْبًا صَلَّى عُرْيَانًا قَاعِدًا يُومِئُ بِالرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ“، اور جس شخص کو کپڑا نہ ملے، اب وہ صورت آ گئی کہ کپڑا ہے ہی نہیں اس کے پاس، اور جس کو کپڑا نہ ملے ”صَلَّى عُرْيَانًا“، تو وہ ننگے نماز پڑھے گا ”قَاعِدًا“ بیٹھ کر، ”يُومِئُ بِالرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ“ اشارہ کرے گا رکوع اور سجدے میں۔ ”هَكَذَا فَعَلَهُ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ“، اسی طرح کیا ہے سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے۔ یہ روایات میں آتا ہے بھئی بعض صحابہ سفر پر تھے اور سمندر میں سفر کر رہے تھے بھئی اور پھر وہ کشتی وغیرہ ان کی ٹوٹ گئی اور وہ جب سمندر سے نکلے تو ننگے تھے بھئی، وہ کپڑے وغیرہ بھی پھٹ گئے ہوں گے اسی میں کشتی اور جہاز کے ساتھ غرق ہو گئے ہوں گے، اب وہ کسی طرح جان بچا کر نکل آئے تو اب کپڑے تھے نہیں تو انہوں نے بیٹھ کر اشارے کے ساتھ نماز ادا کی بھئی، بیٹھ کر اشارے کے ساتھ۔ یہ معنی ہے: ”هَكَذَا فَعَلَهُ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ“، اسی طرح کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے۔ ”فَإِنْ صَلَّى قَائِمًا أَجْزَأَهُ“، بھئی صورت تو انہوں نے بتا دی، کپڑا نہ ملے تو ننگے ہی پڑھے گا نماز اور بیٹھ کر اشارے سے رکوع سجدہ کرے گا، ”فَإِنْ صَلَّى قَائِمًا“، اگر وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھتا ہے ”أَجْزَأَهُ“، تو یہ بھی کافی ہے اس کے لیے۔ ”لِأَنَّ فِي الْقُعُودِ سَتْرَ الْعَوْرَةِ الْغَلِيظَةِ، وَفِي الْقِيَامِ أَدَاءَ هَذِهِ الْأَرْكَانِ، فَيَمِيلُ إِلَى أَيِّهِمَا شَاءَ“، اس لیے کیونکہ بیٹھنے کی صورت میں تو عورتِ غلیظہ یعنی شرمگاہ کا ڈھانپنا ہے اور قیام کے اندر ان ارکان کا ادا کرنا ہے تو لہٰذا مائل ہو جائے ان میں سے جس کی طرف چاہے بھئی۔ کپڑے نہیں تو ہونا کیا چاہیے؟ بیٹھ کر اشارے کے ساتھ رکوع اور سجدہ کرے کیونکہ اس صورت میں سَتْرِ عَوْرَت ہو گا یعنی عورتِ غلیظہ یعنی شرمگاہ کیا رہے گی؟ چھپی رہے گی، اور اگر کھڑے ہو کر رکوع سجدے کے ساتھ نماز پڑھتا ہے تو اس صورت میں قیام، رکوع اور سجدہ وغیرہ ادا ہو جائیں گے تو لہٰذا جو صورت وہ اختیار کرنا چاہے کر سکتا ہے، اس لیے کیونکہ بیٹھ کر پڑھنے میں اگر سَتْرِ عَوْرَت ہے تو کھڑے ہو کر ادا کرنے میں قیام اور رکوع کا ادا کرنا ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے: ”لِأَنَّ فِي الْقُعُودِ سَتْرَ الْعَوْرَةِ الْغَلِيظَةِ“، اس لیے کیونکہ بیٹھنے میں جو ہے عورتِ غلیظہ یعنی شرمگاہ کا سَتْر ہے، ”وَفِي الْقِيَامِ أَدَاءَ هَذِهِ الْأَرْكَانِ“، اور قیام کے اندر ان ارکان کا یعنی قیام، رکوع اور سجدے وغیرہ کا ادا کرنا ہے، ”فَيَمِيلُ إِلَى أَيِّهِمَا شَاءَ“، تو وہ مائل ہو جائے ان میں سے جس کی طرف وہ چاہے۔ ”إِلَّا أَنَّ الْأَوَّلَ أَفْضَلُ“، مگر یہ کہ پہلی صورت افضل ہے۔ پہلی صورت کیا ہے؟ افضل ہے کہ بیٹھ کر اشارے کے ساتھ رکوع اور سجدہ کرے۔ کیوں؟ کہتے ہیں: ”لِأَنَّ السَّتْرَ وَجَبَ لِحَقِّ الصَّلَاةِ وَحَقِّ النَّاسِ“، اس لیے کیونکہ سَتْر وہ واجب ہے حَقُّ الصَّلَاةِ کی وجہ سے بھی اور حَقُّ النَّاسِ کی وجہ سے بھی کہ سَتْر ڈھانپا ہونا چاہیے نماز کا بھی حق ہے اور یہ لوگوں کا بھی حق ہے، ”وَلِأَنَّهُ لَا خَلَفَ لَهُ“، اور نیز اس لیے کیونکہ اس کا کوئی خلیفہ نہیں ہے، سَتْرِ عَوْرَت کا کوئی خلیفہ نہیں، ”وَالْإِيمَاءُ خَلَفٌ عَنِ الْأَرْكَانِ“، اور اشارہ یہ نائب ہے ارکان کا۔ بھئی دلیل ذکر کر رہے ہیں کہ بیٹھ کر رکوع اور سجدہ اشارے سے کرے اس طرح نماز پڑھنا افضل ہے۔ کیوں افضل ہے؟ وجہ یہ کہ جب بیٹھے گا تو عورتِ غلیظہ چھپ جائے گی اور یہ حَقُّ النَّاسِ بھی ہے اور حَقُّ الصَّلَاةِ بھی ہے، تو لہٰذا اس کا چھپانا بہتر ہے۔ اور نیز اس لیے کہ اگر کھڑے ہو کر نماز پڑھے گا تو سَتْرِ عَوْرَت کا کوئی خلیفہ نہ آیا۔ بیٹھ کر پڑھتا تو کم از کم عورتِ غلیظہ تو چھپ جاتی، اب کھڑے ہو کر پڑھے گا تو اس میں عورتِ غلیظہ کا ڈھانپنا بھی ضروری تھا، اس کا کوئی نائب نہیں، اس کا کوئی قائم مقام نہیں، سَتْرِ عورتِ غلیظہ ہے ہی نہیں یہاں پر۔ لیکن اگر بیٹھ کر پڑھے گا اشارہ کرنا وہ رکوع، سجدے اور قیام کا کیا ہو جائے گا؟ نائب ہے، تو ان کا تو نائب پایا جائے گا بیٹھ کر پڑھنے کی صورت میں۔ تو کھڑے ہو کر نماز پڑھے گا تو اس کا کوئی خلیفہ بھی نہیں ہو گا جبکہ بیٹھ کر پڑھے گا تو اس صورت میں جو بیٹھنا ہے وہ قیام کا خلیفہ ہوا اور اشارہ کرنا یہ رکوع اور سجدے کا خلیفہ ہوا تو لہٰذا بیٹھنے کی صورت میں ان کے خلیفہ بھی آ گئے اور سَتْرِ عورتِ غلیظہ بھی پایا گیا جبکہ کھڑے ہونے کی صورت میں سَتْرِ عورتِ غلیظہ نہیں اور اس کا کوئی نائب بھی نہیں ہے بھئی، نائب بھی نہیں ہے۔ یہ معنی ہے: ”لِأَنَّ السَّتْرَ وَجَبَ لِحَقِّ الصَّلَاةِ وَحَقِّ النَّاسِ“، اس لیے کیونکہ سَتْر واجب ہے نماز کے حق کی وجہ سے بھی اور لوگوں کے حق کی وجہ سے بھی، ”وَلِأَنَّهُ لَا خَلَفَ لَهُ“، اور اس لیے کیونکہ اس کا تو کوئی خلیفہ نہیں ہے، ”وَالْإِيمَاءُ خَلَفٌ عَنِ الْأَرْكَانِ“، اور اشارہ کرنا یہ تو ارکان کا خلیفہ ہے یعنی بیٹھنے کی صورت میں یہ پایا جائے گا تو اس لیے بیٹھ کر نماز پڑھنا افضل ہے۔ ”قَالَ: وَيَنْوِيَ الصَّلَاةَ الَّتِي يَدْخُلُ فِيهَا بِنِيَّةٍ لَا يَفْصِلُ بَيْنَهَا وَبَيْنَ التَّحْرِيمَةِ“، ”يَنْوِيَ“ میں نے منصوب پڑھا بھئی، اس کا عطف وہ جو پیچھے آیا تھا ”وَيَسْتُرَ عَوْرَتَهُ“ اس پر عطف ہے، یا ”يُقَدِّمَ الطَّهَارَةَ“ اس پر عطف ہے اور اس پر ”أَنْ“ داخل ہوا تھا وہ منصوب تھا تو یہ بھی کیا پڑھیں گے؟ منصوب پڑھیں گے بھئی۔ یہ تیسری شرط آ گئی۔ پہلی شرط کیا تھی؟ طہارت کا مقدم کرنا، دوسری شرط؟ سَتْرِ عَوْرَت، اور تیسری شرط کیا ہے؟ نماز کی نیت کرنا۔ ”وَيَنْوِيَ الصَّلَاةَ“، اور فرض ہے نماز پڑھنے والے پر کہ وہ نماز کی نیت کرے، وہ نماز ”الَّتِي يَدْخُلُ فِيهَا“، جس میں وہ داخل ہو رہا ہے یعنی جسے شروع کر رہا ہے، ”بِنِيَّةٍ“، ایسی نیت کے ساتھ ”لَا يَفْصِلُ بَيْنَهَا وَبَيْنَ التَّحْرِيمَةِ“، کہ جدائی نہ ہو اس نماز کے درمیان اس نیت کے درمیان، کہ جدائی نہ ہو اس نیت کے درمیان اور تحریمہ کے درمیان ”بِعَمَلٍ“، کسی عمل کے ساتھ۔ یعنی نیت کرنا بھی فرض ہے اور نیت ایسی ہونی چاہیے کہ نیت اور تکبیرِ تحریمہ، جو نماز کے شروع میں ”اللهُ أَكْبَرُ“ کہتے ہیں تو یہ جو نیت اور تکبیرِ تحریمہ کے درمیان کسی عمل کا فصل نہیں ہونا چاہیے، کسی عمل کے ذریعے جدائی نہ آئے، ایسا نہ ہو نیت کی نماز کی اور تکبیرِ تحریمہ کہنے سے پہلے کسی کے ساتھ باتیں شروع کر دیں اور پھر تحریمہ کہتا ہے، اللہ اکبر کہتا ہے تو یہ درست نہیں بھئی۔ نیت تو کیا تھی؟ فرض تھی، اور کیسی نیت ہونی چاہیے؟ جو تحریمہ کے ساتھ ملی ہوئی ہو، یہاں تو ایسا عمل آ گیا جس نے اس نیت کو ختم کر دیا، اب اس کا کوئی اعتبار نہیں۔ یہ معنی ہے کہ ”لَا يَفْصِلُ بَيْنَهَا وَبَيْنَ التَّحْرِيمَةِ بِعَمَلٍ“، کہ جدائی نہ ہو اس نیت اور اس تحریمہ کے درمیان کسی عمل کا۔ ”وَالْأَصْلُ فِيهِ قَوْلُهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ“، اور اصل جو ہے اس کے اندر حضور علیہ السلام کا قول ہے: ”الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ“، اعمال نیتوں کے ساتھ ہیں یعنی اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے، نیت ہے تو عمل ہے یعنی اس کا ثواب ملے گا، نیت نہیں تو اس کا ثواب بھی نہیں۔ ”وَلِأَنَّ ابْتِدَاءَ الصَّلَاةِ بِالْقِيَامِ، وَهُوَ مُتَرَدِّدٌ بَيْنَ الْعَادَةِ وَالْعِبَادَةِ“، یہ دوسری عقلی دلیل ذکر کر رہے ہیں، ایک نقلی دلیل ذکر کر دی، نیت ہونا کیوں ضروری؟ کیونکہ حضور علیہ السلام نے فرمایا ہے: ”الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ“، اور دوسری دلیل کہتے ہیں اس لیے کیونکہ نماز کی ابتدا قیام سے ہو گی، نماز کی ابتدا کس سے؟ قیام سے ہو گی اور قیام یعنی کھڑے ہونا، یہ کھڑا ہونا ہمیشہ عبادت کے طور پر تو نہیں ہوتا، انسان ویسے بھی کھڑا ہوتا ہے، تو تاکہ فرق ہو جائے نیت کے ذریعے، نیت کرے گا تو عادت اور عبادت میں فرق آئے گا، اگر نیت نہیں کرتا تو پھر تو فرق ہی نہیں ہو سکے گا کہ یہ عادۃً کھڑا ہے یا عبادۃً کھڑا ہے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی۔ یہ معنی ہے: ”وَلِأَنَّ ابْتِدَاءَ الصَّلَاةِ بِالْقِيَامِ“، اس لیے کیونکہ نماز کی ابتدا جو ہے وہ قیام کے ساتھ ہے، ”وَهُوَ مُتَرَدِّدٌ بَيْنَ الْعَادَةِ وَالْعِبَادَةِ“، اور قیام وہ تو متردد ہے عادت اور عبادت کے درمیان یعنی عادۃً بھی قیام ہوتا ہے اور بطورِ عبادت کے بھی قیام ہوتا ہے تو یہ متردد ہوا ان دونوں کے درمیان یعنی دونوں میں پایا جاتا ہے، ”وَلَا يَقَعُ التَّمَيُّزُ إِلَّا بِالنِّيَّةِ“، اور امتیاز واقع نہیں ہو گا مگر نیت کے ساتھ، یعنی فرق صرف کس سے ہو گا؟ نیت، نیت کی ہے تو پتہ چل گیا یہ قیام عبادت کے طور پر ہے، نماز پڑھ رہا ہے، اور نیت نہیں کی تو معلوم ہوا کہ یہ قیام ویسے ہی ہے بھئی، عبادت کے طور پر نہیں ہے بلکہ عادۃً ہے ویسے ہی۔ آپ کہیں گے کہ ”اللهُ أَكْبَرُ“ جو اس نے کہہ دیا اس سے پتہ چل گیا کہ وہ نماز پڑھ رہا ہے، بغیر نیت نہیں کی لیکن کیا کہہ دیا ہے؟ اللہ اکبر، تو جواب یہ کہ ”اللهُ أَكْبَرُ“ بھی تو کوئی ویسے کبھی کہتا ہے یا نہیں کہتا بھئی؟ سمجھ میں آیا تو وہ تو ویسے ذکر کے طور پر بھی انسان کہہ سکتا ہے تو لہٰذا اس سے فرق نہیں ہو گا، نیت کا ہونا ضروری ہے۔ ”وَالْمُتَقَدِّمُ عَلَى التَّكْبِيرِ كَالْقَائِمِ عِنْدَهُ إِذَا لَمْ يُوجَدْ مَا يَقْطَعُهُ، وَهُوَ عَمَلٌ لَا يَلِيقُ بِالصَّلَاةِ“، ”وَالْمُتَقَدِّمُ“، اور وہ نیت جو وہ چیز جو مقدم ہو ”عَلَى التَّكْبِيرِ“، کس پر؟ تکبیر پر، مراد وہ نیت ہے، وہ جب مقدم ہو کس پر؟ یعنی تکبیرِ تحریمہ پر جو نیت مقدم ہے، ”كَالْقَائِمِ عِنْدَهُ“، وہ اسی طرح ہے جیسے کہ وہ قائم یعنی موجود ہے تکبیر کے وقت، ”عِنْدَهُ أَيْ عِنْدَ التَّكْبِيرِ“، تکبیر کے وقت، ”إِذَا لَمْ يُوجَدْ“، جب نہ پائی جائے ”مَا يَقْطَعُهُ“، کوئی ایسی چیز جو اس کو ختم کر دے، جو اس کو کاٹ دے یعنی ختم کر دے۔ اور وہ کیا چیز ہے جو اس کو ختم کرے گی؟ کہتے ہیں: ”وَهُوَ عَمَلٌ“، وہ کوئی ایسا عمل ہے، دیکھیے عمل نکرہ آیا اس کے بعد ”لَا يَلِيقُ“ فعل آیا اس کی صفت بنے گا، ”وَهُوَ عَمَلٌ لَا يَلِيقُ بِالصَّلَاةِ“، اور وہ کوئی ایسا عمل جو نماز کے لائق نہ ہو۔ بھئی دیکھیے، نیت اور تکبیرِ تحریمہ کے درمیان فصل نہیں ہونا چاہیے، فصل نہیں ہونا چاہیے، جدائی نہیں ہونی چاہیے۔ اس کا یہ معنی نہیں کہ عین تکبیرِ تحریمہ سے پہلے نیت کرنا ضروری ہے بلکہ آپ کو بتلا رہے ہیں کہ تکبیرِ تحریمہ سے کچھ دیر پہلے بھی اگر آپ نے کیا کر لی؟ نیت کر لی تو بھی یہ اسی طرح سمجھا جائے گا کہ گویا تکبیرِ تحریمہ کے وقت نیت پائی جا رہی ہے، جب کچھ دیر پہلے کر لی تو ”كَالْقَائِمِ عِنْدَهُ“، گویا یہ نیت اس وقت بھی موجود ہے ”عِنْدَهُ“، کس وقت؟ تکبیر کے وقت بھی موجود ہے جب تک کوئی بیچ میں ایسا عمل نہ آ جائے جو اس کو ختم کر دے یعنی کوئی ایسا عمل جو نماز کے لائق نہ ہو، نماز کے منافی ہو تو پھر یہ نیت پھر اس کا اعتبار نہیں ہے، مثلاً نیت کی اور پھر جیسے میں نے ابھی مثال ذکر کی کہ کسی کے ساتھ باتیں کرنا شروع کر دیں، اب باتیں کرنا تو نماز کے لائق نہیں، باتیں تو نماز کے منافی ہیں، اس سے تو نماز ٹوٹ جاتی ہے، یا اسی طرح نیت کی اور پھر اس کے بعد کھانا پینے میں مشغول ہوا کوئی چیز کھا پی لی اور پھر اس کے بعد تکبیرِ تحریمہ کہتا ہے تو یہ تو درمیان میں ایسا عمل آ گیا جو نماز کے لائق نہیں، کھانے پینے سے تو نماز ٹوٹ جایا کرتی ہے تو لہٰذا یہ ایسا عمل آیا اس نے اس نیت کو ختم کر دیا۔ تو بیچ میں ایسا کوئی عمل نہ ہو تو پھر کچھ پہلے بھی نیت کی ہو تو وہ نیت ٹھیک ہے، یوں ہی سمجھا جائے گا گویا تکبیرِ تحریمہ کے وقت یہ نیت موجود ہے۔ مثلاً ایک آدمی ہے وہ وضو کر رہا ہے، وضو کرتے ہوئے ہی نیت کر لیتا ہے کہ میں جا کر یہ امام نماز پڑھا رہا ہے میں جا کر کیا کروں گا؟ اس کے ساتھ یہ ظہر کی نماز ادا کروں گا، یہ نیت کر لی ہے، اس نیت کے ساتھ وہ وضو کر رہا ہے اور پھر اور کوئی عمل نہیں کرتا، سیدھا جا کر نماز میں ”اللهُ أَكْبَرُ“ کہہ کر شریک ہو جاتا ہے تو فقہاء لکھتے ہیں یہ نیت معتبر ہے، اس کی نماز ٹھیک ہے بھئی ہو جائے گی کیونکہ درمیان میں کوئی ایسا عمل نہیں آیا جو نماز کے منافی ہو بھئی، تو اگرچہ کچھ وقت گزرا ہے لیکن پھر بھی یوں ہی سمجھا جائے گا کہ گویا تکبیرِ تحریمہ کے وقت ہی یہ نیت موجود ہے پائی جا رہی ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے: ”وَالْمُتَقَدِّمُ عَلَى التَّكْبِيرِ“، اور وہ نیت جو مقدم ہو تکبیرِ تحریمہ پر، ”كَالْقَائِمِ عِنْدَهُ“، وہ اسی نیت کی طرح ہے جو موجود ہو تکبیرِ تحریمہ کے وقت، ”إِذَا لَمْ يُوجَدْ مَا يَقْطَعُهُ“، جب نہ پائی جائے کوئی ایسی چیز جو اس کو ختم کر دے، بھئی وہ کیا چیز ہے جو اس کو ختم کرے گی؟ کہتے ہیں: ”وَهُوَ عَمَلٌ لَا يَلِيقُ بِالصَّلَاةِ“، اور وہ کوئی ایسا عمل ہے جو نماز کے لائق نہ ہو یعنی منافیِ صلاۃ ہو۔ ”وَلَا عِبْرَةَ بِالْمُتَأَخِّرَةِ مِنْهَا عَنْهُ“، اور اس نیت کا کوئی اعتبار نہیں ہے جو تکبیرِ تحریمہ سے متاخر ہو اس کے بعد ہو۔ بھئی ایک آدمی تکبیرِ تحریمہ یاد رکھیے یہ مسئلہ آگے یہ آپ کو بتلائیں گے، ”اللهُ أَكْبَرُ“ آپ کہتے ہیں نماز کے شروع میں، تو یہ جو تکبیرِ تحریمہ ہے یہ نماز میں داخل نہیں۔ تکبیرِ تحریمہ جیسے ہی پورا لفظ ہو گا ساتھ ہی نماز شروع ہو جائے گی۔ دلائل آپ پڑھ چکے ہوں گے بھئی اصولِ فقہ وغیرہ میں بھی: ﴿وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّى﴾، اللہ کا نام ذکر کیجیے اور نماز پڑھ لیے، تو دیکھیے اللہ کا نام ذکر کیجیے ”فَصَلَّى“، دیکھو فا، فا کس لیے آتی ہے؟ تعقیب مع الوصل، یعنی اس کے فوراً بعد اب نماز شروع ہو گی، یہ خود نماز کے اندر داخل نہیں، ہاں البتہ اس کو شمار نماز کے ارکان ہی میں سے کیا جاتا ہے اس لیے کیونکہ یہ بالکل نماز کے ساتھ متصل ہے۔ تکبیرِ تحریمہ میں ”اللهُ أَكْبَرُ“، جیسے ہی اکبر کی را ختم ہوئی پوری کی آپ نے، جیسے ہی را پوری کی ساتھ ہی نماز شروع ہو گئی، درمیان میں فرق ہے ہی نہیں، جدائی ہے ہی نہیں۔ اسی لیے فقہاء مسئلہ لکھتے ہیں کہ آپ امام کے پیچھے نماز پڑھ رہے ہیں، پڑھنے لگے ہیں، امام نے کہا ”اللهُ أَكْبَرُ“، امام نے اللہ اکبر کو ذرا لمبا کر دیا ”اللهُ أَكْبَرُ“، آپ نے امام کی را سے پہلے ہی اپنا اکبر کا لفظ پورا کر دیا ”اللهُ أَكْبَرُ“، تو آپ کی نماز پہلے شروع ہو گئی اور امام کی نماز بعد میں شروع ہو گئی، لہٰذا آپ کی نماز صحیح نہیں کیونکہ آپ تو کیا کر رہے ہیں؟ امام کا اتباع کر رہے ہیں، اس کی اقتداء کر رہے ہیں، تو لہٰذا امام کے امام کے ”اللهُ أَكْبَرُ“ سے پہلے آپ کی را ختم نہیں ہونی چاہیے بھئی، اس میں احتیاط کرے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ کیونکہ نماز را پورا اس پر تلفظ ہو گا تو نماز شروع ہو جائے گی۔ اب دیکھیے ایک آدمی تکبیرِ تحریمہ کے بعد نیت کرتا ہے، صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں اس کا کوئی اعتبار نہیں کیونکہ ”اللهُ أَكْبَرُ“ کہتے ہی پھر اب وہ نیت کرتا ہے تو کچھ لمحے گزر گئے یا نہیں گزرے؟ گزر گئے، کچھ لمحے تو گزر گئے، چاہے بہت ہی قلیل گزرے ہوں لیکن گزر تو گئے۔ اور وہ تکبیر تحریمہ کے فوراً بعد تو کیا شروع ہو جاتی ہے؟ نماز شروع ہو جاتی ہے۔ تو گویا را کے ختم ہوتے ہی نماز نے شروع ہونا تھا، اور نماز کے اول حصے کی بنیاد نماز کے آخری حصے کی بنیاد ہوتی ہے اول حصے پر۔ آخری حصہ تبھی صحیح ہوگا جب پہلا حصہ صحیح ہو۔ پہلا صحیح نہیں تو آخری بھی صحیح نہیں۔ اگر پہلی رکعت میں ایک آدمی دوسرے سے باتیں کر لیتا ہے اور باقی پھر اگلی بھی تین رکعتیں پوری کر لیتا ہے، آپ بتائیے نماز ہوگی یا نہیں ہوگی؟ نماز نہیں ہوگی۔ اس لیے، کیونکہ، نماز کیوں نہیں ہوگی؟ کیونکہ نماز کے آخری حصے کی بنیاد کس پر ہے؟ پہلے۔ یعنی ہر جو بعد میں جو بھی حصہ آ رہا ہے وہ اس سے ماقبل پر اس کی بنیاد ہے۔ جہاں کہیں بھی خرابی آئی تو باقی ساری بھی کیا ہو جائے گی نماز؟ فاسد ہو جائے گی۔ تو یہاں پر بھی تکبیر تحریمہ کے فوراً بعد نماز شروع ہونی تھی، لیکن ابھی اس نے نیت ہی نہیں کی تھی۔ نیت اب کر رہا ہے اور معمولی سا، چلیں فوراً ہی وہ نیت کرتا ہے لیکن پھر بھی ادنیٰ معمولی سا وقت، ایک سیکنڈ سے بھی کم چلو لگا لیں۔ کچھ حصہ گزر گیا یا نہیں گزر گیا بغیر نیت؟ اور وہ نماز نہیں۔ اور اگلے حصے کی تو بنیاد اسی پر تھی، جب وہ نماز نہیں تو آگے والے کی بنیاد بھی اس پر صحیح نہیں ہوگی۔ لہٰذا اسی لیے جو وہ نیت جو تکبیر تحریمہ سے مؤخر ہو اس کا اعتبار نہیں ہے، اس صورت میں نماز نہیں ہوگی بھئی۔ دلیل سمجھ میں آگئی؟ یہ معنیٰ ہے۔ "وَلَا مُعْتَبَرَ بِالْمُتَأَخِّرَةِ مِنْهَا" اور کوئی اعتبار نہیں ہے وہ جو مؤخر ہو مِنْهَا أَيْ مِنَ النِّيَّةِ، کس میں سے؟ نیت میں سے، وہ نیت جو متاخر ہے عَنْهُ أَيْ عَنِ التَّكْبِيرِ، کس سے؟ تکبیر، تو کوئی اعتبار نہیں ہے اس نیت کا جو مؤخر ہو تکبیر تحریمہ سے۔ "لِأَنَّ مَا مَضَى لَا يَقَعُ عِبَادَةً" اس لیے کیونکہ وہ حصہ جو وقت وہ وقت، وہ حصہ جو گزر گیا ہے "لَا يَقَعُ عِبَادَةً" وہ تو عبادت ہو کر واقع نہیں ہوا بھئی۔ کچھ حصہ جو وقت گزرا ہے وہ تو عبادت نہیں بنا، وہ نماز نہیں بنا، لِعَدَمِ النِّيَّةِ نیت نہ ہونے کی وجہ سے۔ "وَفِي الصَّوْمِ جُوِّزَتْ لِلضَّرُورَةِ" اور روزے میں اجازت دی گئی، جائز قرار دیا گیا ضرورت کی بناء پر۔ یہ ایک اعتراض کا جواب دے رہے ہیں صاحبِ ہدایہ۔ اعتراض یہ ہوتا ہے کہ آپ نے ابھی ہمیں بتایا نماز کے مسئلے کے اندر بھئی کہ ابتدائے نماز میں اگر نیت نہیں تھی یعنی چند لمحے بھی نیت مؤخر ہو گئی تو کچھ لمحے وہ عبادت نہ بنے، جب وہ عبادت نہ بنے تو اگلے حصے کی بنیاد بھی اس پر صحیح نہیں، لہٰذا نماز سرے سے ہوگی ہی نہیں بھئی۔ تو پھر روزے میں بھی ایسا ہونا چاہیے، حالانکہ روزے میں آپ کہتے ہیں کہ اگر زوال سے پہلے بھی کوئی نیت کر لے تو روزہ ہو جائے گا۔ روزے میں زوال سے پہلے بھی کیا کر لے؟ نیت کر لے تو روزہ ہو جائے گا، حالانکہ کچھ حصہ تو گزر چکا ہے، وقت گزر چکا ہے، وہ تو عبادت نہ بنا کیونکہ اس میں تو نیت نہ پائی گئی۔ تو صاحبِ ہدایہ جواب دے رہے ہیں: "وَفِي الصَّوْمِ جُوِّزَتْ لِلضَّرُورَةِ" اور روزے میں جائز قرار دیا گیا ضرورت کی بناء پر، کیونکہ وہاں ضرورت ہے، حاجت ہے۔ ضرورت یہ ہے، وجہ یہ ہے کیونکہ روزے کی ابتداء کا وقت جو ہے فجر صادق ہے اور وہ وقت نیند اور غفلت کا ہے۔ اگر وہاں پر بھی نیت کو مقدم کرنے کی شرط لگا دی جائے تو لوگ تنگی اور تکلیف میں پڑ جائیں گے، حرج میں پڑ جائیں گے، اور حرج تو دین میں نہیں ہے، حرج کو تو دور کیا گیا ہے۔ اس لیے وہاں اس حاجت اور ضرورت کی بناء پر نیت کے متاخر ہونے کو بھی جائز قرار دیا گیا۔ دلیل سمجھ میں آگئی؟ یہ معنیٰ ہے "وَفِي الصَّوْمِ جُوِّزَتْ لِلضَّرُورَةِ" اور روزے میں جائز قرار دیا گیا ضرورت کی وجہ سے۔ "وَالنِّيَّةُ" جی، اب بتلا رہے ہیں نیت کہتے کس کو ہیں؟ نیت کہتے، میں نے آپ کو بتلایا تھا بھئی، جی، ذکر ہوا تھا کہ نیت جو ہے وہ دل کے ارادے کا نام ہے اور یہ جو زبان سے کہا، نیت کی جاتی ہے، یہ، یہ ضروری نہیں ہے بھئی، ضروری نہیں ہے۔ سمجھ میں آئی بات؟ ہاں تو یہ ضروری نہیں ہے۔ اور بعض لوگ اس کو بدعت کہتے ہیں بھئی، بدعت کہتے ہیں لیکن فقہاء فرماتے ہیں یہ بہتر ہے کہ زبان سے بھی کیا کر لے انسان؟ نیت کر لے۔ بھئی عام آدمیوں کے لیے تو دل سے ارادہ کرنے میں کوئی مشکل نہیں، لیکن جو سادہ لوگ ہیں کوئی دیہاتی آدمی وغیرہ ہیں ان کے لیے صرف دل کے ارادے کو اگر بیان کیا جائے ان کے لیے نیت مشکل ہو جائے گی۔ وہ جب تک زبان سے نہیں کہتے ان کی نیت بنتی نہیں، توجہ ہی نہیں ہوتی ایک چیز کی طرف پورے طور پر۔ تو اس لیے فقہاء کیا فرماتے ہیں کہ زبان سے بھی کہہ لے تاکہ نیت مجتمع ہو جائے، نیت ٹھیک طرح بن جائے پورے طور پر بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو بہرحال یہ نیت دل کے ارادے کا نام ہے، زبان سے نیت کرنا ضروری نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: "وَالنِّيَّةُ هِيَ الْإِرَادَةُ" اور نیت یہ ارادہ ہی ہے۔ "وَالشَّرْطُ أَنْ يَعْلَمَ بِقَلْبِهِ أَيَّ صَلَاةٍ يُصَلِّي" اور شرط اس کی یہ ہے کہ جانتا ہو اپنے دل سے کہ کون سی نماز پڑھ رہا ہے۔ نماز شروع کرنے لگا ہے تو دل میں ارادہ ہو نماز پڑھنے کا، یعنی یہ پتہ ہو کہ کون سی نماز میں پڑھ رہا ہوں، فجر کی پڑھ رہا ہوں یا ظہر کی پڑھ رہا ہوں یا عصر کی پڑھ رہا ہوں، بس یہ کافی ہے۔ "أَمَّا الذِّكْرُ بِاللِّسَانِ فَلَا مُعْتَبَرَ بِهِ" اور باقی جو زبان سے ذکر کرنا ہے نیت کا، یعنی "فَلَا مُعْتَبَرَ بِهِ" اس کا کوئی اعتبار نہیں، "وَيَحْسُنُ ذَلِكَ لِاجْتِمَاعِ عَزِيمَتِهِ" ہاں، اچھی ہے یہ، یہ زبان سے ذکر کرنا بھی اچھا ہے "لِاجْتِمَاعِ عَزِيمَتِهِ" یرحمک اللہ، "لِاجْتِمَاعِ عَزِيمَتِهِ" تاکہ اس کی عزیمت مجتمع ہو جائے یعنی ارادہ پورے طور پر بن جائے بھئی۔ "ثُمَّ إِنْ كَانَتِ الصَّلَاةُ نَفْلًا يَكْفِيهِ" اب آپ کو یہ بتلا رہے ہیں کہ دل کے، انہوں نے یہ تو بتلا دیا نیت دل کے ارادے کا نام ہے، تو کیا نیت کافی ہوگی نماز کے لیے، فرضوں کے لیے، نفلوں کے لیے، سنتوں کے لیے؟ تو آپ یاد رکھیے بھئی، نفلوں کے لیے اور تو اور اسی طرح سنتوں کے لیے تو صرف مطلقِ نماز کی نیت ہی کافی ہے۔ اتنا ہو دل میں: میں نماز پڑھنے لگا ہوں، بس یہ کافی ہے۔ میں کیا کرنے لگا ہوں؟ نماز پڑھنے لگا ہوں۔ ہاں، فرضوں کے اندر فرض کی تعیین بھی ضروری ہے۔ صرف یہ نیت کافی نہیں: میں فرض نماز پڑھنے لگا ہوں، بلکہ وقت کی بھی تعیین، کس ظہر کے فرض پڑھنے لگا ہوں یا عصر کے پڑھنے لگا ہوں یا مغرب کے، وہ فرضوں کی تعیین بھی اس میں ضروری ہے۔ اس لیے کیونکہ فرض مختلف ہیں، میں فرض نماز پڑھنے لگا ہوں، کچھ پتہ چلا کون سے فرض؟ فرض تو مختلف ہیں، عصر کی بھی نماز فرض ہے، مغرب کی بھی فرض ہے، عشاء کی بھی، فجر کی بھی، ظہر کی بھی۔ تو لہٰذا وہاں صرف فرض نماز یہ نیت کافی نہیں بلکہ تعیین بھی ہونی چاہیے۔ اور پھر اس میں یہ بھی یاد رکھیے کہ مثلاً ایک آدمی زبان سے بھی نیت کے الفاظ کہتا ہے اور دل میں ہے کہ میں ظہر کی نماز پڑھنے لگا ہوں، دل میں کیا ہے؟ لیکن زبان سے غلطی سے نکل گیا: میں عصر کی نماز پڑھتا ہوں اور نماز شروع کر دی۔ پھر فوراً خیال آیا اوہو! میں نے تو کیا کہہ دیا؟ عصر کہہ دیا۔ کوئی حرج نہیں، فقہاء فرماتے ہیں نماز ہو جائے گی، کیونکہ نیت کس چیز کے ارادے کا نام ہے؟ دل، اور دل میں تو کیا تھا؟ ظہر ہی کی نیت تھی، لہٰذا ظہر کی نماز ہو گئی بھئی۔ اسی طرح اگر رکعتوں میں غلطی ہو گئی، میں ظہر کی نماز پڑھنے لگا ہوں دو رکعت اور ساتھ ہی اللہ اکبر کہہ دیا، پھر خیال آیا اوہو! ظہر کی نماز تو کتنے رکعت ہوتی ہے؟ چار۔ کوئی حرج نہیں فقہاء فرماتے ہیں، کیونکہ فرضوں کی تعیین کر دی، کون سے فرض پڑھنے لگا ہے؟ ظہر کے، تو ظہر کے تو ہوتے ہی چار ہیں، دو کہہ بھی دیا تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا بھئی۔ مسئلہ سمجھ میں آگیا؟ کہتے ہیں: "ثُمَّ إِنْ كَانَتِ الصَّلَاةُ نَفْلًا يَكْفِيهِ مُطْلَقُ النِّيَّةِ" پھر کہتے ہیں اگر نماز وہ نفل نماز ہے تو کافی ہے اس کے لیے مطلق نیت، یعنی کیا نیت کرے؟ میں نماز پڑھ رہا ہوں، بس یہ نیت کافی ہے۔ "وَكَذَا إِذَا كَانَتْ سُنَّةً فِي الصَّحِيحِ" اور اسی طرح جبکہ وہ نماز سنت ہو صحیح قول کے مطابق۔ یعنی سنت پڑھنے لگا ہے تو صرف یہ نیت کافی ہے کہ میں کیا کرنے لگا ہوں؟ نماز پڑھنے لگا ہوں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ ہاں سنت کی باقاعدہ کرے تو اور اچھی بات ہے۔ "وَإِنْ كَانَتْ فَرْضًا" اور اگر فرض نماز ہے وہ "فَلَا بُدَّ مِنْ تَعَيُّنِ فَرْضٍ كَالظُّهْرِ" تو پھر فرض کا تعیین ضروری ہے، کالظہر مثلاً جیسے کہ ظہر کی نماز مثال کے طور پر کہ اس کی باقاعدہ نیت کرے، "لِاخْتِلَافِ الْفُرُوضِ" بوجہ فرضوں کے مختلف ہونے کی، کیونکہ فرض تو کیا ہیں؟ مختلف ہیں، فجر بھی فرض ہے، ظہر بھی فرض ہے، عصر بھی، تو تعیین ضروری ہے۔ "وَإِنْ كَانَ مُقْتَدِيًا بِغَيْرِهِ يَنْوِي الصَّلَاةَ وَمُتَابَعَتَهُ" اور اگر وہ شخص اقتداء کرنے والا ہے کسی دوسرے کی، یعنی اگر آپ امام کے پیچھے نماز پڑھ رہے ہیں، اس کی اقتداء کرنا چاہتے ہیں، اس کی اقتداء میں نماز پڑھنا چاہتے ہیں تو پھر نماز کی بھی نیت کریں گے اور اس کے متابعت کی بھی نیت کریں گے کہ میں اس امام کے پیچھے نماز پڑھ رہا ہوں۔ یہ بھی ضروری ہے۔ تو کہتے ہیں: "وَإِنْ كَانَ مُقْتَدِيًا بِغَيْرِهِ" اور اگر وہ اقتداء کرنے والا تھا اپنے علاوہ کسی کی، "يَنْوِي الصَّلَاةَ" تو نیت کرے نماز کی بھی، "وَمُتَابَعَتَهُ" اور اس دوسرے کی متابعت کی، اقتداء کی بھی نیت کرے۔ "لِأَنَّهُ يَلْزَمُهُ فَسَادُ الصَّلَاةِ مِنْ جِهَتِهِ فَلَا بُدَّ مِنِ الْتِزَامِهِ" اس لیے کیونکہ اس شخص کو، مقتدی پر لازم آتا ہے نماز کا فساد اس امام کی طرف سے، تو ضروری ہے اس کا التزام کرنا۔ بھئی دیکھیے، اکیلے نماز پڑھ رہے ہیں تو نفلوں میں صرف نماز کی نیت کافی اور فرض اکیلے پڑھ رہے ہیں تو صرف اس فرض کی تعیین کی نیت یہ کافی ہے، لیکن اگر امام کے پیچھے نماز پڑھ رہے ہیں تو اس نماز کی بھی نیت ہو اور ساتھ ساتھ اس امام کی اقتداء کی بھی نیت کرنا ضروری ہے۔ اس لیے کیونکہ اب آپ اس کی اقتداء کرنے لگے ہیں، اس کی قراءت آپ کی قراءت بنے گی، اس کی نماز ٹھیک ہوئی تو آپ کی نماز ٹھیک ہو گئی، اس کی نماز اگر فاسد ہوئی تو آپ کی نماز فاسد ہوگی، تو یہ گویا اس کے عمل کو اپنے اوپر آپ لازم کر رہے ہیں۔ کیا کر رہے ہیں؟ تو لہٰذا اس کو، اس کے لیے التزام آپ کو باقاعدہ کرنا پڑے گا، تبھی اس کی قراءت آپ کی قراءت بنے گی، اس کی نماز صحیح ہوتی ہے تو آپ کی نماز صحیح اور اس کی نماز فاسد ہوتی ہے تو آپ کی بھی نماز فاسد۔ اگر آپ التزام، اگر آپ متابعت کی نیت نہیں کرتے تو پھر تو اس کی نماز سے آپ کی نماز پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، آپ کی تو گویا الگ نماز ہو گئی بھئی، صورت سمجھ میں آگئی؟ کہتے ہیں: "لِأَنَّهُ يَلْزَمُهُ فَسَادُ الصَّلَاةِ مِنْ جِهَتِهِ" اس لیے کیونکہ یہ جو اس کے اقتداء کرنے والا ہے اس پر نماز کا فاسد ہونا لازم ہوتا ہے مِنْ جِهَتِهِ اس کی طرف سے، کس کی طرف سے؟ امام کی طرف سے اس کی، اس کی نماز کا فساد اس پر لازم ہوتا ہے، "فَلَا بُدَّ مِنِ الْتِزَامِهِ" تو ضروری ہے اس کا التزام، اس کو اپنے اوپر لازم کرنا ضروری ہے، یعنی یہ کہے کہ میں اس کی کیا کر رہا ہوں؟ اقتداء کر رہا ہوں۔ تو یہ جب نیت کر لے گا اب اس نے گویا التزام کر لیا، اب اس کی قراءت اس کی قراءت بن گئی، اس کے، اس کی طرف سے نماز میں فساد آیا تو اس کی نماز میں بھی کیا آئے گا؟ فساد، کیونکہ اس نے التزام کر لیا بھئی۔ "قَالَ: وَيَسْتَقْبِلُ الْقِبْلَةَ" "وَيَسْتَقْبِلُ الْقِبْلَةَ" یہ چوتھی شرط آگئی، اور قبلے کا استقبال کرے یعنی قبلے کی طرف رخ کرے۔ نمازی پر فرض ہے کہ نماز میں کیا کرے؟ قبلے کی طرف رخ کرے، "لِقَوْلِهِ تَعَالَى: فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ" اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے، پس تم پھیرو اپنے چہروں کو شطر، یعنی کرو اپنے چہروں کو شَطْرَهُ اس کی جانب یعنی مسجدِ حرام کی طرف کرو۔ "ثُمَّ مَنْ كَانَ بِمَكَّةَ فَفَرْضُهُ إِصَابَةُ عَيْنِهَا" پھر جو شخص مکہ میں ہے تو اس کا فرض عینِ کعبہ کو پہنچنا ہے۔ "وَمَنْ كَانَ غَائِبًا فَفَرْضُهُ إِصَابَةُ جِهَتِهَا، هُوَ الصَّحِيحُ" اور جو مکہ سے غائب ہے تو اس کا فرض کعبے کی جہت کو پانا ہے، اس کو پہنچنا ہے، هُوَ الصَّحِيحُ یہی قول صحیح ہے۔ بھئی دیکھیے، یاد رکھیے جو شخص مکہ مکرمہ میں ہے اس کے لیے عینِ قبلے کی طرف رخ کرنا ضروری ہے، عینِ کعبہ کی طرف، اور جو مکہ سے دور ہے مکہ میں نہیں ہے ان کے لیے عینِ کعبہ کو پانا نہیں ضروری بلکہ جہتِ کعبہ کافی ہے، یعنی کعبے کی طرف رخ کر لے، کعبے کی طرف رخ کر لے تو یہ اس کے لیے کافی ہے۔ صورت سمجھ میں آرہی ہے؟ جو مثلاً لاہور میں رہنے والا ہے اس کے لیے عینِ کعبے کی طرف رخ کرنا ضروری نہیں۔ کیوں نہیں ضروری؟ بھئی وجہ یہ کہ اس کے لیے ممکن ہی نہیں ہے اس کے عینِ کعبے کی طرف رخ کرنا۔ آج اتنی ترقی ہو گئی اور کوئی آلہ آپ کو ایسا مل جاتا ہے کہ یہاں سے لکیر اور خط کھینچیں سیدھا بیت اللہ کو جا کر وہ خط ٹکرائے، بیت اللہ کو، اب آپ کو عینِ کعبہ کا پتہ چل گیا یا نہیں بھئی؟ ہیں۔ اب آپ اس طرح نماز ادا کرتے ہیں کہ عین اس لکیر پر سجدہ کرتے ہیں تو یاد رکھیے پھر بھی ضروری نہیں کہ آپ کا رخ عینِ کعبہ کو ہو جائے۔ اس لیے کیونکہ اس لکیر سے اگر ایک سوئی کی نوک کے برابر بھی آپ کا ماتھا ادھر ادھر ہوا، کتنا؟ سوئی کی نوک، اس کا تو احساس ہی نہیں ہو سکتا کسی کو، تو سوئی کی نوک کے برابر بھی اگر آپ کا ماتھا ایک جانب کو ہوا تو جوں جوں فاصلہ بڑھتا جائے گا یہ آپ کے ماتھے سے نکلا ہوا خط بھی دور ہوتا چلا جائے گا اور ہو سکتا ہے کعبہ کو تو کیا، ماتھے سے اب، اب آپ کا ماتھا سوئی کے برابر ہلا ہوا ہے، اب اس سے ایک خط سیدھا کھینچیں جو اس خط سے ایک سوئی کے برابر ہلا ہوا ہے، تو جوں جوں فاصلہ بڑھتا گیا یہ خط دور ہوتا جائے گا یا نہیں بھئی؟ دور ہوتا چلا جائے گا۔ حتیٰ کہ خانہ کعبہ کو تو کیا لگنا ہے ہو سکتا ہے یہ خط مکہ کو بھی جا کر نہ لگے، مکہ سے بھی باہر باہر ہی کہیں سے نکل جائے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو لہٰذا دور والے جو ہیں ان کے لیے عینِ کعبہ کی طرف رخ کرنا ممکن ہی نہیں ہے بھئی، ممکن ہی نہیں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اتفاقاً تو ہو سکتا ہے لیکن ہمیشہ نہیں، اگر بتا بھی دیا جائے، میں نے بتایا بھئی۔ تو ان کے لیے ممکن ہی نہیں ہے تو چنانچہ ان کے لیے عینِ کعبہ کی طرف رخ نہیں ضروری کیونکہ اس پر تو وہ قادر ہی نہیں ہیں، ہاں کعبے کی جانب کو رخ کر لیں، کعبے کی جانب کو۔ جیسے دیکھیے اب میں بیٹھا ہوں، میرے سامنے کی طرف خانہ کعبہ ہے اور یہ ایک میری دائیں جانب ہے، ایک بائیں جانب ہے، ایک پشت کی جانب ہے تو دائیں، بائیں یا پشت کی جانب ادھر کو رخ نہیں کرنا، ہاں سامنے کی طرف رخ کر لے کیونکہ یہ کعبے کی جہت ہے۔ اس میں اب گنجائش نکل آئی، اگر انسان تھوڑا بہت دائیں طرف بھی اس کا رخ ہو گیا یا بائیں طرف بھی رخ ہو گیا لیکن ہے تو کس جانب کو رخ؟ کعبے کی جہت میں ہے، کعبے کی جانب میں رخ ہے تو نماز ہو جائے گی بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ جبکہ جو شخص مکہ مکرمہ میں ہے اس کے لیے عینِ کعبہ کی طرف رخ کرنا ضروری ہے، عینِ کعبہ۔ اس پر اشکال ہوتا ہے کہ جو مکہ میں ہے عینِ کعبہ کی طرف رخ کرنا تو اس کے لیے بھی ممکن نہیں۔ کیونکہ کعبہ جو ہے، بیت اللہ جو ہے وہ تو ایک بڑا کمرہ، کمرے کی مثل ہے، کس کی طرح ہے؟ ایک بڑے کمرے کی طرح ہے۔ ٹھیک ہے مسجدِ حرام کے اندر جو نماز ادا کرتا ہے اس کو تو آنکھوں سے ہی دکھائی دے رہا ہے، وہ اس کی طرف سیدھا رخ کرنے پر قادر ہے، لیکن جو مثلاً مکہ کے ذرا دور کے حصے میں رہتا ہے لیکن ہے مکہ میں، تین چار کلو میٹر، پانچ کلو میٹر دور رہتا ہے، اب وہاں سے وہ رخ کرتا ہے خانہ کعبہ کی طرف لیکن خانہ کعبہ تو اس کو دکھائی نہیں دے رہا تو اس سے بھی اگر خط کھینچا جائے تو ضروری تو نہیں خانہ کعبہ کو جا کر لگے، ہو سکتا ہے تھوڑا سا ایک طرف کو ہو یا تھوڑا سا دوسری طرف کو ہو۔ صورت سمجھ بھی آرہی ہے کہ نہیں؟ ہاں تو اس کے لیے بھی بڑا مشکل ہے، تو پھر یہ کیا معنیٰ کہ "ثُمَّ مَنْ كَانَ بِمَكَّةَ فَفَرْضُهُ إِصَابَةُ عَيْنِهَا" جو شخص مکہ میں ہے تو اس کا فرض إِصَابَةُ عَيْنِهَا أَيْ عَيْنِ الْكَعْبَةِ عینِ کعبہ کو پا لینا ہے، عینِ کعبہ کو پہنچنا ہے کہ اس کا فرض کیا ہے جو مکہ میں ہے؟ اس کا رخ کس طرف ہونا چاہیے؟ عینِ کعبہ، بیت اللہ کی طرف ہونا چاہیے بھئی۔ تو مراد یہ ہے کہ نیت اس کی یہ ہونی چاہیے۔ کیا ہونی چاہیے؟ نیت اور کوشش اس کی یہ ہونی چاہیے بھئی کہ کس کی طرف میرا رخ ہو؟ عینِ کعبہ کی طرف میرا رخ ہو بھئی، اور جو شخص مکہ سے غائب ہے اس کی نیت کیا ہو؟ کہ کعبے کے جانب، کعبے کی جہت میں میرا رخ ہے بھئی، کیونکہ عینِ کعبہ کی طرف تو وہ رخ کر ہی نہیں سکتا۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ یہ معنیٰ ہے، تو کہتے ہیں: "ثُمَّ مَنْ كَانَ بِمَكَّةَ فَفَرْضُهُ إِصَابَةُ عَيْنِهَا، وَمَنْ كَانَ غَائِبًا فَفَرْضُهُ إِصَابَةُ جِهَتِهَا، هُوَ الصَّحِيحُ" تو جو شخص مکہ میں ہوا اس کا فرض جو ہے عینِ کعبہ کو پا لینا ہے، اس تک پہنچنا ہے، اور جو مکہ سے غائب ہے یعنی دور ہے اس کا فرض جو ہے جہتِ کعبہ تک کو پہنچنا ہے یعنی اس کو پانا ہے، هُوَ الصَّحِيحُ یہی قول صحیح ہے۔ "لِأَنَّ التَّكْلِيفَ بِحَسَبِ الْوُسْعِ" اس لیے کیونکہ مکلف بنانا جو ہے وہ گنجائش کے بقدر ہوتا ہے۔ اس لیے کیونکہ مکلف بنانا، اس لیے کیونکہ تکلیف کا کیا معنیٰ؟ مکلف بنانا، کَلَّفَ يُكَلِّفُ تَكْلِيفًا، تو مکلف بنانا گنجائش کے بقدر ہوگا۔ یعنی مکلف بنانا یعنی ذمہ دار بنانا، کسی شخص کو اسی قدر ذمہ دار بنایا جائے گا جتنی اس کے لیے گنجائش ہے بھئی، جتنا وہ کر سکتا ہے۔ تو شریعت، شریعت کے احکام جو ہیں وہ ایسے ہیں کہ انسان ان کو کر سکتا ہے، کوئی حکم ایسا نہیں کہ اس پر قادر ہی نہیں۔ تو اگر یہ کہا جائے عینِ کعبہ کو رخ کرنا پڑے گا پھر تو انسان اس پر قادر ہی نہ رہے گا، تو لہٰذا ہر ایک کی گنجائش کے بقدر وہ مکلف ہے، اس کی ذمہ داری ہے۔ تو جو مکہ والے ہیں ان کی گنجائش کتنی ہے؟ وہ کیا کر سکتے ہیں؟ وہ عینِ کعبہ کی نیت اور اس کی طرف رخ کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں، جبکہ جو مکہ سے دور ہیں وہ تو عینِ کعبہ کی طرف رخ کرنے پر قادر ہی نہیں ہیں، وہ تو صرف کس چیز پر قادر ہیں؟ جہت پر قادر ہیں کہ کعبے کی جہت میں کعبے کی جانب میں رخ کر لیں بھئی۔ یہ معنیٰ ہے "لِأَنَّ التَّكْلِيفَ بِحَسَبِ الْوُسْعِ" اس لیے کیونکہ مکلف بنانا وہ گنجائش کے بقدر ہوتا ہے۔ "وَمَنْ كَانَ خَائِفًا يُصَلِّي إِلَى أَيِّ جِهَةٍ قَدَرَ" اور جو شخص خوف زدہ ہے، ڈر رہا ہے یعنی خوف کی حالت میں ہے، يُصَلِّي وہ نماز پڑھے گا إِلَى أَيِّ جِهَةٍ قَدَرَ جس جہت پر بھی وہ قادر ہو۔ جس جانب رخ کرنے پر وہ قادر ہے اس طرف کو رخ کر کے نماز پڑھ لے۔ ایک شخص ہے اس کے سامنے دشمن دور کھڑے ہیں، اب اس کو خوف ہے مثلاً دائیں طرف قبلہ ہے، اگر میں اس طرف رخ کروں گا تو دشمن مجھ پر حملہ کر دیں گے بھئی۔ تو لہٰذا شریعت نے آسانی دے دی کہ جس طرف کو رخ کرنے پر یہ قادر ہے اسی طرف کو رخ کر کے نماز پڑھ لے بھئی۔ اسی طرف کو رخ کر کے نماز پڑھ لے، اس لیے کیونکہ یہ معذور ہوا، عذر ہے اس شخص کا بھئی، عذر ہے۔ جیسے بھئی جیسے ایک آدمی جنگل میں ہے اور نماز کے اندر تو استقبالِ قبلہ ضروری ہے لیکن وہاں اب اس کو قبلے کی جانب کا پتہ ہی نہیں کہ کعبہ کس طرف کو ہے اور کوئی بتانے والا بھی نہیں ہے تو وہ اس صورت میں شریعت نے کیا حکم دیا ہے؟ کہ وہ تحری کر لے اور جس طرف ذہن گواہی دے اس طرف رخ کر کے نماز پڑھ لے، تو وہ جس رخ پر بھی تحری کر کے نماز پڑھے گا اس کی نماز ہو جائے گی۔ اگرچہ بعد میں پتہ چلا کہ اس نے دوسری طرف رخ کیا تھا، خانہ کعبہ تو دوسری طرف ہے بھئی، پھر بھی نماز ہو جائے گی۔ کیوں ہو جائے گی؟ کیونکہ اس کا عذر ہے، اس کو کوئی بتانے والا ہی نہیں۔ یہاں بھی، یہاں پر بھی اس شخص کا عذر ہے تو جس طرف یہ رخ کرنے پر قادر ہے اسی طرف رخ کر کے نماز پڑھ لے۔ تو کہتے ہیں: "وَمَنْ كَانَ خَائِفًا يُصَلِّي إِلَى أَيِّ جِهَةٍ قَدَرَ" اور جو شخص خوف زدہ ہے تو وہ نماز پڑھے گا جس جہت پر بھی وہ قادر ہے، "لِتَحَقُّقِ الْعُذْرِ" بوجہ عذر کے پائے جانے کے، "فَأَشْبَهَ حَالَةَ الِاشْتِبَاهِ" تو یہ شخص مشابہ ہو گیا کس کے؟ اشتباہ کی حالت کے، جیسے وہ جو جنگل میں تھا اس پر قبلہ مشتبہ ہوا تھا اور اس کا عذر تھا تو اس نے جس طرف بھی رخ کر کے نماز پڑھی ہے تحری کے بعد اس کی نماز ہو جائے گی تو یہاں پر بھی اس کا بھی عذر ہے تو یہ بھی جس رخ پر قادر ہے اس پر نماز پڑھ لے گا تو اس کی نماز ہو جائے گی۔ "فَإِنِ اشْتَبَهَتْ عَلَيْهِ الْقِبْلَةُ وَلَيْسَ بِحَضْرَتِهِ مَنْ يَسْأَلُهُ عَنْهَا اجْتَهَدَ" اگر مشتبہ ہو گیا نماز پڑھنے والے پر قبلہ، وَلَيْسَ بِحَضْرَتِهِ اور نہیں ہے کوئی اس کے پاس موجود، کوئی اس کے پاس، وَلَيْسَ بِحَضْرَتِهِ اور اس کے پاس بھی نہیں ہے کوئی مَنْ يَسْأَلُهُ عَنْهَا کوئی ایسا شخص کہ اس سے پوچھ لے عَنْهَا اس قبلے کے بارے میں، اجْتَهَدَ تو یہ شخص کیا کرے گا؟ اجتہاد کرے گا یعنی کوشش کرے گا۔ "لِأَنَّ الصَّحَابَةَ تَحَرَّوْا وَصَلَّوْا وَلَمْ يُنْكِرْ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ" اس لیے کیونکہ صحابہ کرام نے تحری کی وَصَلَّوْا اور نماز پڑھی وَلَمْ يُنْكِرْ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ اور انکار نہیں فرمایا ان پر حضور علیہ السلام نے یعنی رد نہیں فرمایا۔ صحابہ ایسے ہی ایک موقع تھا اور تاریک رات تھی اور ان کو قبلے کا پتہ نہیں تھا، انہوں نے کیا کیا؟ سفر میں تھے قبلے، تو انہوں نے تحری کر کے نماز پڑھ لی بھئی۔ بعد میں پتہ چلا کہ کعبہ تو دوسری طرف تھا۔ حضور علیہ السلام کے سامنے یہ بات ذکر کی تو حضور علیہ السلام نے رد نہیں فرمایا بھئی۔ معلوم ہوا ان کا یہ عمل ٹھیک تھا کیونکہ اور کوئی صورت ہی نہیں تھی وہاں پتہ چلنے کی، کوئی بتانے والا بھی نہیں۔ تو حضور علیہ السلام نے ان پر انکار نہیں فرمایا۔ "وَلِأَنَّ الْعَمَلَ بِالدَّلِيلِ الظَّاهِرِيِّ وَاجِبٌ عِنْدَ انْعِدَامِ دَلِيلٍ فَوْقَهُ، وَالِاسْتِخْبَارُ فَوْقَ التَّحَرِّي" کہتے ہیں اس لیے کیونکہ ظاہری دلیل پر عمل واجب ہوتا ہے جب اس سے اوپر کی دلیل نہ پائی جائے۔ "وَلِأَنَّ الْعَمَلَ بِالدَّلِيلِ الظَّاهِرِيِّ وَاجِبٌ" اس لیے کیونکہ ظاہری دلیل پر عمل جو ہے وہ واجب ہوتا ہے عِنْدَ انْعِدَامِ دَلِيلٍ فَوْقَهُ جب ایسی دلیل معدوم ہو فوقہ جو اس سے بڑھ کر ہے۔ جب اوپر والی دلیل موجود نہیں تو اس کے نیچے نچلے درجے پہ جو دلیل ہے اس پر عمل کرنا واجب ہو جاتا ہے۔ "وَالِاسْتِخْبَارُ فَوْقَ التَّحَرِّي" اور پوچھنا جو ہے یہ تحری سے اوپر ہے۔ پوچھنا کیا ہے؟ اگر پوچھنا، اگر کوئی آدمی ہے تو پھر پوچھنا ضروری ہے پھر تحری کی اجازت نہیں ہے، اور اگر کوئی بتانے والا نہیں ہے تو پھر پوچھنا تو ممکن ہی نہیں ہے تو پھر کیا کرے گا؟ تحری پر عمل کرے گا کیونکہ تحری استخبار سے نیچے پھر تحری کی دلیل ہی رہ گئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تحری کا معنیٰ ہے کہ انسان غور و فکر کرے کہ قبلہ کس طرف ہوگا اور پھر جس طرف ذہن کہہ دے اس رخ پر وہ نماز پڑھ لے گا۔ تو یہ جو اس نے غور و فکر کیا یہ ہے تحری، یہ کیا ہے؟ تحری۔ غور و فکر کر کے جو غالب گمان بنتا ہے یہ ہے تحری بھئی کہ اس طرف کو ہوگا بھئی۔ تو لہٰذا تحری، غور و فکر کر کے اپنی جس جہت پر ذہن گواہی دے اس طرف نماز پڑھنے کی تبھی اجازت ہوگی جب کوئی ایسا آدمی نہ ہو جس سے پوچھ سکے۔ اگر ایسا بتانے والا آدمی موجود ہے پھر تحری کے ساتھ نماز جائز نہیں ہوگی، الا یہ کہ تحری کر کے پھر بھی اس نے نماز پڑھ لی اور پتہ چلا صحیح رخ پر پڑھی ہے پھر ہو جائے گی بھئی، صورت سمجھ میں آگئی؟ "فَإِنْ عَلِمَ أَنَّهُ أَخْطَأَ بَعْدَ مَا صَلَّى لَا يُعِيدُهَا" پھر اگر اس کو علم ہوا کہ اس نے غلطی کی ہے بَعْدَ مَا صَلَّى بعد اس کے کہ جب اس نے نماز پڑھ لی تھی لَا يُعِيدُهَا تو پھر اس کا اعادہ نہیں کرے گا۔ ایک آدمی نے تحری کی، تحری کر کے ایک طرف کو رخ کر کے نماز پڑھ لی اور بعد میں پتہ چلا کہ قبلہ اس طرف نہیں تھا تو کہتے ہیں اب نماز کا اعادہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ "وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: يُعِيدُهَا إِذَا اسْتَدْبَرَ" اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نماز کا اعادہ کرے گا إِذَا اسْتَدْبَرَ، استدبار کا معنیٰ ہے پشت کرنا، إِذَا اسْتَدْبَرَ جب اس نے پشت کی ہو، قبلے کی طرف جب پشت کی ہو۔ یعنی جب نماز پڑھتے ہوئے قبلہ کس طرف کو تھا؟ اس نے تو تحری کر کے نماز پڑھی ہے لیکن اصل میں قبلہ اس کی پشت کی جانب تھا، اس صورت میں امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کو اس کو نماز لوٹانا پڑے گی۔ ہاں دائیں بائیں تھا پھر لوٹانے کی ضرورت نہیں۔ کہتے ہیں: "وَقَالَ الشَّافِعِيُّ: يُعِيدُهَا إِذَا اسْتَدْبَرَ لِتَيَقُّنِهِ بِالْخَطَإِ" امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں يُعِيدُهَا نماز کا اعادہ کرے گا إِذَا اسْتَدْبَرَ جب اس نے پشت کی ہو لِتَيَقُّنِهِ بِالْخَطَإِ اس لیے کیونکہ یقینی ہو گیا اس کا اس کے، اس کو لِتَيَقُّنِهِ بِالْخَطَإِ اس لیے کیونکہ اس کو یقین ہو گیا غلطی کا، پتہ چل گیا کہ اس نے غلط نماز پڑھی ہے، غلط رخ پر۔ "وَنَحْنُ نَقُولُ" ہم کہتے ہیں نہیں، اس صورت میں بھی اعادہ نہیں کرے گا۔ دلیل دے رہے ہیں: "وَنَحْنُ نَقُولُ: لَيْسَ فِي وُسْعِهِ إِلَّا التَّوَجُّهُ إِلَى جِهَةِ التَّحَرِّي" ہم کہتے ہیں کہ اس کی گنجائش میں نہیں ہے مگر متوجہ ہونا تحری کی جہت پر۔ ہم کہتے ہیں اس نے تو اپنی پوری کوشش کر لی، اس کی گنجائش کتنی تھی؟ کوئی بتانے والا تھا نہیں، کہ تحری کرے، ذہن دوڑائے، کس طرف ذہن بتلاتا ہے کہ خانہ کعبہ ہے اور ذہن اس نے کوشش کی اور غور کیا اور جو اس سے ہو سکتا تھا وہ اس نے کر لیا، لہٰذا اب غلطی کا بے شک پتہ چل بھی جائے بعد میں اب نماز کا اعادہ اس پر نہیں۔ اس لیے کیونکہ اس کے پاس اسی کی گنجائش تھی اور کوئی صورت ہی نہیں تھی اور جو گنجائش تھی اس کے مطابق تو اس نے اپنی پوری کوشش کی ہے بھئی، صورت سمجھ میں آگئی؟ ہم کہتے ہیں: "لَيْسَ فِي وُسْعِهِ إِلَّا التَّوَجُّهُ إِلَى جِهَةِ التَّحَرِّي" ہم کہتے ہیں کہ نہیں ہے اس کی گنجائش میں مگر متوجہ ہونا تحری کی جانب کو، "وَالتَّكْلِيفُ مُقَيَّدٌ بِالْوُسْعِ" اور مکلف بنانا یہ تو مقید ہے کس کے ساتھ؟ گنجائش، یعنی جتنی گنجائش ہوتی ہے اسی قدر آدمی ذمہ دار ہوتا ہے، اسی کے بقدر اس نے کوشش کر لی ہے۔ "وَإِنْ عَلِمَ ذَلِكَ فِي الصَّلَاةِ اسْتَدَارَ إِلَى الْقِبْلَةِ" اور اگر اس نے جان لیا اس بات کو نماز کے اندر ہی تو گھوم جائے، اسْتَدَارَ گھوم جائے إِلَى الْقِبْلَةِ قبلے کی طرف۔ بھئی ایک آدمی ہے اس کو کوئی بتانے والا بھی نہیں ہے، وہ نماز پڑھنا چاہتا ہے، اس نے تحری کی اور اس ایک رخ پر اس نے نماز شروع کر دی تحری کرنے کے بعد۔ نماز کے اندر تھا کہ اچانک ایک اور آدمی وہاں پہنچا بھئی اور اس نے اس کو بتلایا کہ بھئی قبلہ بائیں طرف کو ہے، بائیں طرف کو ہے، تو اب یہ نہیں کہ نماز توڑنے کی ضرورت ہے، اسی نماز کے اندر گھوم کر اپنا رخ اس جانب کو کر لے بھئی، صورت سمجھ میں آگئی؟ کہتے ہیں: "وَإِنْ عَلِمَ ذَلِكَ فِي الصَّلَاةِ" اور اگر اس کو علم ہو گیا اس کا نماز میں ہی یعنی کعبے کی جہت کا پتہ چل گیا، "اسْتَدَارَ إِلَى الْقِبْلَةِ" تو قبلے کی طرف گھوم جائے۔ "لِأَنَّ أَهْلَ قُبَاءٍ لَمَّا سَمِعُوا بِتَحَوُّلِ الْقِبْلَةِ اسْتَدَارُوا كَهَيْئَتِهِمْ فِي الصَّلَاةِ وَاسْتَحْسَنَهَا النَّبِيُّ عَلَيْهِ السَّلَامُ" بھئی ابتدائے اسلام میں بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی جاتی تھی اور پھر بعد میں قبلے کی طرف یعنی خانہ کعبہ کی طرف نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا، اس طرف رخ کر کے۔ تو یہ حکم نازل ہوا اور اہل قباء نماز کے اندر، صبح کی نماز میں مشغول تھے تو ایک شخص آیا، مدینہ یہ قباء مدینہ کے قریب ہی ایک بستی ہے چند میل کے فاصلے پر بھئی، تو مدینہ سے کوئی شخص آیا اس نے ان کو دیکھا کہ وہ بیت المقدس کی طرف رخ کیے فجر کی نماز پڑھ رہے ہیں تو اس نے کہا اونچی آواز سے کہا ان سے کہ قرآن، حضور علیہ السلام پر رات کو قرآن نازل ہوا ہے اور قرآن نازل ہوا ہے اور حکم دیا گیا ہے کہ خانہ کعبہ کی طرف رخ کر لیں، قبلے کی طرف رخ کرنے کا حکم دیا گیا ہے، تو تم لوگ بھی قبلے کی طرف رخ کر لو۔ چنانچہ وہ نماز کے اندر ہی گھوم کر انہوں نے اپنا رخ قبلے کی طرف کر لیا بھئی، خانہ کعبہ کی طرف انہوں نے رخ کر، نماز کے اندر ہی صفیں کی صفیں گھوم گئیں اپنی جگہ پر اور رخ کس طرف کر لیا؟ قبلے کی طرف رخ کر لیا۔ حضور علیہ السلام کو اس بات کا علم ہوا تو آپ نے اس کو پسند فرمایا، آپ نے اس کو پسند فرمایا۔ کہتے ہیں: "لِأَنَّ أَهْلَ قُبَاءٍ لَمَّا سَمِعُوا بِتَحَوُّلِ الْقِبْلَةِ" اس لیے کیونکہ اہل قباء نے جب سنا قبلے کے بدلنے کے بارے میں، "اسْتَدَارُوا كَهَيْئَتِهِمْ فِي الصَّلَاةِ" تو وہ گھوم گئے جیسے کہ ان کی ہیئت تھی نماز میں اسی طرح وہ گھوم گئے، "وَاسْتَحْسَنَهَا النَّبِيُّ عَلَيْهِ السَّلَامُ" اور اس کو پسند فرمایا حضور علیہ السلام نے۔ "وَكَذَا إِذَا تَحَوَّلَ رَأْيُهُ إِلَى جِهَةٍ أُخْرَى تَوَجَّهَ إِلَيْهَا" اور اسی طرح اگر اس کی رائے پھر گئی، پلٹ گئی إِلَى جِهَةٍ أُخْرَى دوسری جانب کو، تَوَجَّهَ إِلَيْهَا تو اس طرف کو متوجہ ہو جائے، اس طرف کو۔ بھئی دیکھیے ایک شخص نے تحری کی، ذہن نے کہا اس طرف کو ہوگا کعبہ اور اس نے اس طرف رخ کر کے نماز شروع کر دی۔ نماز کے بیچ میں ذہن نے کہا کہ نہیں بھئی، اس طرف نہیں، فلاں طرف کو ہوگا، اس طرف کو غالب گمان بن گیا۔ تو اب کہتے ہیں نماز کے اندر ہی اس جانب کو گھوم جائے، اس جانب کو گھوم جائے اور اس کی طرف رخ کر لے، اور پہلے والی نماز نہیں ٹوٹی جو پہلے حصہ ادا کیا تھا کیونکہ اس سے پہلے اس کا ذہن اسی طرف تھا کہ اس طرف کو قبلہ ہے، لیکن اب ذہن نے کہا دوسری طرف ہے تو اب جو ذہن نے کہا ہے آئندہ مستقبل میں اس پر عمل کرنا ضروری ہوا، لہٰذا اب اگر یہ تاخیر کرتا ہے تو اب نماز اس کی نہیں ہوگی کیونکہ اب ذہن کیا بتلا رہا ہے کہ قبلہ دوسری جانب ہے، اب اسی طرح پڑھتا رہا تو نماز نہیں ہوگی بلکہ اسی جانب کو گھومنا پڑے گا بھئی، صورت سمجھ میں آگئی؟ یہ معنیٰ ہے "وَكَذَا إِذَا تَحَوَّلَ رَأْيُهُ إِلَى جِهَةٍ أُخْرَى تَوَجَّهَ إِلَيْهَا" اور اسی طرح اگر اس کی رائے پھر گئی کسی دوسری جانب کو تو اس طرف کو متوجہ ہو جائے، "لِوُجُوبِ الْعَمَلِ بِالِاجْتِهَادِ فِيمَا يَسْتَقْبِلُ" اس لیے کیونکہ اجتہاد پر عمل کرنا واجب ہے فِيمَا يَسْتَقْبِلُ مستقبل، زمانہ آئندہ زمانے کے اندر، اب اجتہاد پر عمل کرنا واجب ہوتا ہے، گزشتہ زمانے پر تو عمل نہیں ہو سکتا۔ "مِنْ غَيْرِ نَقْضِ الْمُؤَدَّى قَبْلَهُ" بغیر توڑے وہ جو ادا کی ہے اس سے پہلے۔ اجتہاد پر عمل آئندہ زمانے کے لیے واجب ہوتا ہے، جو گزشتہ زمانے میں اس سے پہلے ادا کی ہے اس کو توڑے بغیر۔ تو آئندہ زمانے کے اندر اب تاخیر نہ کرے فوراً دوسری جانب کو گھوم جائے، اب اگر تاخیر کرتا ہے اور اس طرف رخ نہیں کرتا، پہلی ہی جہت پر نماز پڑھتا رہتا ہے تو اس کی نماز نہیں ہوگی بھئی۔ چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔