فَصْلٌ فِي الْأَوْقَاتِ الَّتِي تُكْرَهُ فِيهَا الصَّلَاةُ لَا تَجُوزُ الصَّلَاةُ عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ، وَلَا عِنْدَ قِيَامِهَا فِي الظَّهِيرَةِ، وَلَا عِنْدَ غُرُوبِهَا؛ لِحَدِيثِ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ قَالَ: ”ثَلَاثَةُ أَوْقَاتٍ نَهَانَا رَسُولُ اللهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَنْ نُصَلِّيَ، وَأَنْ نَقْبِرَ فِيهَا مَوْتَانَا: عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ حَتَّى تَرْتَفِعَ، وَعِنْدَ زَوَالِهَا حَتَّى تَزُولَ، وَحِينَ تَضَيَّفُ لِلْغُرُوبِ حَتَّى تَغْرُبَ“. فَصْلٌ فِي الْأَوْقَاتِ الَّتِي تُكْرَهُ فِيهَا الصَّلَاةُ: یہ فصل ہے ان اوقات کے بیان میں جن میں نماز کا پڑھنا مکروہ ہے بھئی، جن میں نماز کا پڑھنا مکروہ ہے بھئی۔ تو یہاں اس فصل میں وہ اوقات بیان ہوں گے جن میں نماز کا پڑھنا مکروہ ہے، اسی طرح وہ اوقات بھی بیان ہوں گے جن میں نماز کا پڑھنا جائز ہی نہیں ہے بھئی، نماز کا پڑھنا جائز ہی نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: فَصْلٌ فِي الْأَوْقَاتِ الَّتِي تُكْرَهُ فِيهَا الصَّلَاةُ، یہ فصل ہے ان اوقات کے بیان میں جن میں نماز مکروہ ہے۔ لَا تَجُوزُ الصَّلَاةُ عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَلَا عِنْدَ قِيَامِهَا فِي الظَّهِيرَةِ، جائز نہیں ہے نماز عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ سورج کے طلوع ہوتے وقت، وَلَا عِنْدَ قِيَامِهَا فِي الظَّهِيرَةِ، ظہیرہ کہتے ہیں نِصْفُ النَّهَارِ کو بھئی، جب سورج عین سر پر ہو۔ وَلَا عِنْدَ قِيَامِهَا اور نہ سورج کے قیام کے وقت، سورج کے قائم ہوتے وقت فِي الظَّهِيرَةِ دوپہر کو یعنی نِصْفُ النَّهَارِ کو بھئی۔ وَلَا عِنْدَ غُرُوبِهَا اور نہ غروب کے وقت بھئی۔ بھئی، یہ تین اوقات ہیں بھئی: ایک سورج طلوع ہوتے وقت، ایک جب سورج عین سر پر ہو، اور ایک سورج غروب ہوتے وقت۔ ان اوقات میں نماز پڑھنا جائز نہیں ہے۔ کیا وجہ اس کی؟ کہتے ہیں: لِحَدِيثِ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ، حضرت عقبہ ابن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث کی وجہ سے، قَالَ وہ فرماتے ہیں: ثَلَاثَةُ أَوْقَاتٍ نَهَانَا رَسُولُ اللهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ، کہ تین اوقات ہیں کہ منع فرمایا حضور علیہ السلام نے اس میں ہمیں، أَنْ نُصَلِّيَ یہ کہ ہم اس میں نماز پڑھیں، وَأَنْ نَقْبِرَ فِيهَا مَوْتَانَا، قَبَرَ يَقْبِرُ کے معنی دفن کرنا، اور یہ کہ ہم اس میں اپنے مردے دفن کریں۔ عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ حَتَّى تَرْتَفِعَ، ایک سورج طلوع ہوتے وقت یہاں تک کہ سورج بلند ہو جائے، وَعِنْدَ زَوَالِهَا حَتَّى تَزُولَ، اور دوسرا سورج کے زوال کے وقت یہاں تک کہ سورج کو زوال ہو جائے یعنی سورج ڈھل جائے، وَحِينَ تَضَيَّفُ لِلْغُرُوبِ، اور ایک تَضَيُّفُ کا معنی ہے مائل ہونا، قریب ہونا، وَحِينَ تَضَيَّفُ لِلْغُرُوبِ حَتَّى تَغْرُبَ، اور جب سورج غروب کے قریب ہو جائے یہاں تک کہ غروب۔ تو حضرت عقبہ ابن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ تین اوقات ایسے ہیں کہ ان میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں منع فرمایا کہ ہم اس میں نماز پڑھیں یا یہ کہ اس میں اپنے مردے دفن کریں، اور وہ تین اوقات کون سے ہیں؟ ایک تو سورج طلوع ہوتے وقت، یہاں تک کہ سورج کچھ بلند ہو جائے بھئی۔ جب سورج کچھ بلند ہو جائے پھر اس کے بعد پڑھ سکتے ہیں۔ اور ایک عین زوال کے وقت، یہاں تک کہ سورج جب ڈھل جائے۔ تو عین زوال کے وقت بھی نماز وغیرہ جائز نہیں، ہاں جب سورج ڈھل جائے، کچھ منٹ گزر جائیں تو پھر جائز ہوگا۔ اور وَحِينَ تَضَيَّفُ لِلْغُرُوبِ، اور ایک تیسرا وقت جبکہ سورج غروب کے قریب ہو جائے حَتَّى تَغْرُبَ یہاں تک کہ غروب۔ تو غروب ہونے کے بعد نماز پڑھ سکتے ہیں، لیکن جب غروب ہونے کے قریب ہو اس وقت نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔ وَالْمُرَادُ بِقَوْلِهِ: ”وَأَنْ نَقْبِرَ“ صَلَاةُ الْجَنَازَةِ، صاحب ہدایہ حدیث کا مفہوم بیان فرما رہے ہیں، کہ حدیث کے اندر تو یہ آیا کہ یہ کس سے منع فرمایا؟ یہ کہ ہم نماز پڑھیں اور یہ کہ ہم اپنے مردوں کو دفن کریں۔ تو کہتے ہیں مردوں کو دفن کرنے سے مردے دفن کرنا ہی نہیں مراد، بلکہ اس سے مراد نماز جنازہ ہے۔ کیا مراد ہے؟ نماز جنازہ ہے بھئی۔ آگے وجہ بھی ذکر کریں گے۔ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ اس وقت دفن کرنا بِالْإِجْمَاعِ غیر مکروہ ہے۔ تمام علماء، فقہاء کے نزدیک دفن کرنے میں کوئی کراہت نہیں ہے۔ تو کراہت کس چیز کے اندر ہے؟ نماز اور اسی طرح نماز جنازہ میں ہے۔ تو کہتے ہیں: وَالْمُرَادُ بِقَوْلِهِ، اور حضور علیہ السلام کے قول جو ہے وَأَنْ نَقْبِرَ، اس سے مراد جو ہے صَلَاةُ الْجَنَازَةِ نماز جنازہ ہے، لِأَنَّ الدَّفْنَ غَيْرُ مَكْرُوهٍ، اس لیے کیونکہ دفن جو ہے وہ غیر مکروہ ہے، جی۔ اور حاشیے میں انہوں نے بتلایا کہ یہ بِالْإِجْمَاعِ بھئی، اس وقت دفن کرنا غیر مکروہ ہے بھئی۔ وَالْحَدِيثُ بِإِطْلَاقِهِ حُجَّةٌ عَلَى الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ فِي تَخْصِيصِ الْفَرَائِضِ وَبِمَكَّةَ، وَبِمَكَّةَ، یہ باء ہونی نہیں چاہیے بھئی، اور محشی حضرات بھی لکھتے ہیں کہ بعض نسخوں میں باء موجود نہیں ہے بھئی۔ اچھا، یاد رکھیے امام شافعی رحمہ اللہ وہ تخصیص فرماتے ہیں فرائض کی۔ اس حدیث میں تو کیا آیا؟ مطلقاً ہر نماز سے منع کیا گیا، یہاں فرض اور نفل وغیرہ میں کوئی فرق نہیں کیا گیا۔ معلوم ہوا ان تین اوقات میں کوئی بھی نماز نہیں پڑھنی چاہیے۔ لیکن امام شافعی رحمہ اللہ اس سے تخصیص کرتے ہیں، اس حکم سے نکالتے ہیں فرائض کو، کہ فرائض پڑھنا ان اوقات میں جائز ہیں بھئی۔ دنیا کے کسی بھی حصے میں کوئی انسان رہتا ہو اور وہ اس وقت کے ان تین اوقات کے اندر کوئی فرض نماز پڑھنا چاہتا ہے تو فرض نماز وہ فرماتے ہیں پڑھ سکتا ہے۔ اور اسی طرح انہوں نے اس حدیث سے تخصیص کی ہے مکہ مکرمہ کی بھئی، کہ یہ حکم مکہ مکرمہ کے علاوہ کے لیے ہے، مکہ میں یہ حکم نہیں ہے، یعنی وہاں انسان مطلقاً نماز پڑھ سکتا ہے، چاہے فرائض پڑھنا چاہے، چاہے نوافل ان تین اوقات میں وہ پڑھ سکتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو صاحب ہدایہ فرما رہے ہیں کہ یہ حدیث امام شافعی رحمہ اللہ نے جو فرائض اور مکہ کی تخصیص کی ہے تو یہ امام شافعی رحمہ اللہ کے خلاف یہ حدیث حجت ہے، دلیل ہے، کیونکہ اس کے اندر کہیں فرائض اور نوافل کا فرق نہیں کیا گیا، یہ حدیث مطلق ہے، سب نمازوں کو شامل ہے، چاہے نوافل ہوں چاہے فرائض ہوں، معلوم ہوا کوئی بھی ان اوقات میں نہیں پڑھ سکتے۔ اور نیز یہ حدیث مطلق ہے، اس میں کسی جگہ کا ذکر نہیں ہے، معلوم ہوا سب جگہ یہی حکم ہے، چاہے مکہ میں ہو چاہے مکہ کے علاوہ میں ہو۔ یہ معنی ہے: وَالْحَدِيثُ بِإِطْلَاقِهِ حُجَّةٌ عَلَى الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ، اور یہ حدیث اپنے اطلاق کے ساتھ حجت ہے یا یوں اپنے اطلاق کی وجہ سے حجت ہے امام شافعی رحمہ اللہ کے خلاف، فِي تَخْصِيصِ الْفَرَائِضِ فرائض کی تخصیص کرنے میں، وَبِمَكَّةَ اور مکہ کی تخصیص میں۔ وَحُجَّةٌ عَلَى أَبِي يُوسُفَ، امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں وہ جمعہ کے دن زوال کے وقت نفل پڑھنے کو جائز قرار دیتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں ان تین اوقات کے اندر اور نمازیں پڑھنا تو جائز نہیں ہے، لیکن جمعہ کے دن زوال کے وقت یعنی جب سورج عین سر پر ہو، اس وقت نوافل پڑھنا جائز ہیں بھئی، نفل انسان پڑھ سکتا ہے۔ لیکن یہ حدیث ان کے خلاف بھی حجت ہے بھئی، اس حدیث میں کوئی جمعہ وغیرہ کے دن کی تخصیص نہیں کی گئی، مطلقاً منع کیا گیا بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَحُجَّةٌ عَلَى أَبِي يُوسُفَ، اور یہ حدیث دلیل ہے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے خلاف بھی، فِي إِبَاحَةِ النَّفْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، نفلوں کو مباح قرار دینے میں جمعہ کے دن زوال کے وقت، کہ انہوں نے جمعہ کے دن زوال کے وقت نفلوں کو مباح قرار دیا ہے، اس میں یہ حدیث امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے خلاف بھی حجت ہے بھئی۔ قَالَ: وَلَا صَلَاةُ جَنَازَةٍ لِمَا رَوَيْنَا، اس کا عطف بھی پیچھے الصَّلَاةُ پر آیا تھا: لَا تَجُوزُ الصَّلَاةُ، اور جائز نہیں ہے نماز جنازہ بھی ان تین اوقات میں، لِمَا رَوَيْنَا اس حدیث کی وجہ سے جو ہم نے روایت کر دی، یہ جو ابھی حدیث آئی تھی، اور صاحب ہدایہ نے بتلا دیا: أَنْ نَقْبِرَ مَوْتَانَا، کیا معنی ہے أَنْ نَقْبِرَ فِيهَا مَوْتَانَا کا؟ نماز جنازہ مراد ہے، تو اس حدیث سے پتہ چلا نماز جنازہ بھی اس وقت جائز نہیں۔ وَلَا سَجْدَةُ تِلَاوَةٍ؛ اور نہ ہی سجدۂ تلاوت جائز ہے، لِأَنَّهَا فِي مَعْنَى الصَّلَاةِ، کیونکہ سجدۂ تلاوت بھی کس کے معنی میں ہے؟ نماز ہی کے معنی میں ہے، اس کے لیے بھی وہی نماز کی شرائط وغیرہ ہیں تو یہ بھی اسی کی طرح ہے، تو اس کا بھی وہی حکم ہے۔ إِلَّا عَصْرَ يَوْمِهِ عِنْدَ الْغُرُوبِ، سوائے اسی دن کے عصر کے غروب کے وقت۔ اسی دن کی عصر غروب کے وقت پڑھنا چاہتے ہیں، وہ ہو جائے گی بھئی، ہو جائے گی۔ سورج غروب ہو رہا ہے، غروب ہونے والا ہے، اور ایک شخص کی اسی دن کی عصر کی نماز باقی ہے، وہ نماز پڑھے گا وہ ہو جائے گی، لیکن اگر قضا کوئی عصر پڑھتا ہے اس وقت وہ نہیں ہوگا۔ اس لیے کہا عَصْرَ يَوْمِهِ، اسی دن کی عصر پڑھنا چاہے تو وہ غروب کے وقت پڑھ سکتا ہے یعنی ہو جائے گی، لیکن قضا کوئی عصر پڑھنا چاہے وہ نہیں ہوگی۔ یہ معنی ہے إِلَّا عَصْرَ يَوْمِهِ عِنْدَ الْغُرُوبِ، مگر اسی دن کی عصر غروب کے وقت، لِأَنَّ السَّبَبَ هُوَ الْجُزْءُ الْقَائِمُ مِنَ الْوَقْتِ۔ بھئی دیکھیے، یہ دلیل ذکر کر رہے ہیں صاحب ہدایہ، کہ اسی دن کی کی عصر کی نماز غروب کے وقت پڑھنا کیوں جائز ہے؟ دلیل ذکر کر رہے ہیں، آپ اصول فقہ کے اندر پڑھ چکے ہوں گے۔ بھئی دیکھیے، نماز کے وجوب کا سبب وقت ہے۔ مثلاً ظہر کی نماز جب ظہر کا وقت آئے گا تو آپ پر فرض ہوگی، اس سے پہلے فرض ہی نہیں۔ لہٰذا ایک آدمی کا انتقال ظہر کے وقت ہو گیا، ظہر کے وقت، تو اب ابھی تو عصر کا وقت آیا ہی نہیں تھا پہلے انتقال ہو گیا، لہٰذا عصر کی نماز اس کے ذمے باقی بھی نہیں اس دن کی، کیونکہ اس وقت کو اس نے پایا ہی نہیں۔ تو جب وقت کو پائے گا کوئی شخص تو اس پر وہ نماز واجب اور فرض ہوگی۔ تو معلوم ہوا نماز کے وجوب کا سبب کیا ہے؟ وقت ہے بھئی، وقت ہے۔ وقت ہے اور اگر یہ وقت کامل ہوگا تو وجوب بھی کامل درجے کا ہوگا، تو ادا بھی کس قسم کی چاہیے؟ کامل ادا چاہیے بھئی۔ جب وقت کامل ہے تو وجوب اس وقت کی وجہ سے آ رہا ہے تو وجوب بھی کس قسم کا آئے گا؟ کامل آئے گا، تو کامل ہی ادا بھی چاہیے پھر ہی ادا ہوگی۔ اور اگر وہ وقت ناقص ہے تو وجوب بھی ناقص ہوگا، تو لہٰذا ناقص بھی ادا کر دی جائے تو وہ نماز ادا ہو جائے گی۔ لیکن اگر واجب تو ہوئی تھی کامل کہ وقت کیسا تھا؟ کامل تھا، تو نماز بھی کامل واجب ہوئی، لیکن وہ شخص اس کو ادا کرتا ہے وقت ناقص کے اندر، تو بھئی ادا تو واجب تو ہوئی تھی کامل اور یہ ادا کر رہا ہے ناقص، تو یہ ادا صحیح نہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اب یہاں صاحب ہدایہ آپ کو بتلائیں گے، کہتے ہیں دیکھیے: (يَرْحَمُكَ اللهُ) صاحب ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ دیکھیے یہاں وجوب کا سبب وقت ہے۔ وجوب کا سبب وقت ہے۔ اب اس میں تین صورتیں ہیں، تین احتمال ہیں۔ یا تو سارے وقت کو وجوب کا سبب قرار دیا جائے، مثلاً ظہر کی نماز اس کے وجوب کا سبب سارے ظہر کے وقت کو قرار دیا جائے، یعنی زوال سے لے کر عصر کا وقت شروع ہونے تک، اس سارے وقت کو سبب قرار دیا جائے کہ یہ سبب ہے وجوب کا، اس کی وجہ سے نماز ظہر کی واجب ہوتی ہے، اس کی وجہ سے۔ تو اگر سارے وقت کو وجوب کا سبب قرار دیا جائے تو پھر ظہر کی نماز ظہر کے وقت میں کوئی پڑھے تو وہ جائز ہی نہیں ہونی چاہیے بھئی۔ کیوں؟ کیونکہ نماز واجب کب ہوگی؟ جب پورے وقت کو، ظہر کے پورے وقت کو ایک آدمی پا لے گا، کیونکہ آپ نے کس کو قرار دیا ہے وجوب کا سبب؟ فرض کریں اگر آپ سارے وقت کو وجوب کا سبب قرار دیتے ہیں تو پورا سبب پایا جائے گا تو نماز واجب ہوگی، اور واجب ہونے سے پہلے کوئی نماز ادا کرے تو نماز ادا ہوتی ہے؟ نہیں۔ ابھی عصر، عصر کا وقت نہیں آیا تو عصر کی نماز بھی آپ پر واجب نہیں، لہٰذا آپ عصر سے پہلے ہی عصر کی نماز پڑھنا چاہتے ہیں، بھئی ابھی واجب ہی نہیں ہوئی آپ کیسے ادا کر رہے ہیں اس کو بھئی؟ تو وہ نماز بھی نہیں۔ لہٰذا اگر آپ پورے وقت کو وجوب کا سبب قرار دیتے ہیں تو ضروری ہوگا کہ پورا وقت گزرنے کے بعد اس نماز کو ادا کیا جائے، کیونکہ جب تک پورا وقت نہیں گزرا، پورا وقت تو سبب ہے کس چیز کا؟ تو جب تک پورا وقت نہیں گزرا وجوب بھی نہیں آیا، نماز بھی آپ پر واجب نہیں۔ تو معلوم ہوا جب پورا وقت گزرے گا ظہر کا پھر آپ پر کون سی نماز واجب ہو جائے گی؟ ظہر کی، اور پھر آپ کو عصر میں جا کر پڑھنا پڑے گی، اس سے پہلے پڑھیں گے تو ادا ہی نہیں ہوگی۔ یہ خرابی کس صورت میں لازم آتی ہے؟ اگر پورے وقت کو وجوب کا سبب قرار دیا جائے تو پھر یہ خرابی لازم آتی ہے کہ وقت کے اندر نماز ادا کرنے سے وہ ادا ہی نہیں ہوگی، بلکہ بعد میں جا کر ادا کرنا پڑے گی تاکہ پہلے وجوب ہوگا تو نماز ادا ہوگی، وجوب ہی نہیں تو ادا کیسے بھئی؟ صورت سمجھ میں آ گئی؟ دوسری صورت یہ ہے کہ نماز آپ ظہر کی پڑھنے لگے ہیں تو جو تھوڑا سا وقت ظہر کا پہلے گزر گیا، اس وقت ماضی کو سبب قرار دیا جائے وجوب کا۔ پہلی صورت کیا تھی؟ پورے وقت کو۔ اب دوسری، اس میں تو خرابی لازم آئی لہٰذا پورے وقت کو سبب نہیں قرار دیا۔ دوسری صورت یہ ہے کہ کچھ وقت جو گزر گیا ہے ماضی کے اندر اس وقت کو وجوب کا سبب قرار دیا جائے، مثلاً ظہر کا وقت شروع ہوتا ہے ساڑھے بارہ، مثلاً زوال کتنے بجے ہے؟ ساڑھے بارہ، اور ایک شخص اس نماز کو ادا کرتا ہے ڈیڑھ بجے یا دو بجے، جب دو بجے ادا کر رہا ہے تو جو وقت پیچھے ظہر کا گزر چکا یعنی گھنٹہ ڈیڑھ جو پہلے گزر چکا، اس کو وجوب کا سبب قرار دیا جائے، یہ دوسری صورت ہے۔ اس صورت میں بھی خرابی لازم آتی ہے، کیا خرابی؟ وجوب کا سبب کس کو قرار دیا؟ یہ جو وقت گزر گیا تھا، تو اس وقت کے بعد نماز ادا کر رہا ہے وہ، وقت کے اندر ادا کر رہا ہے یا وقت کے بعد ادا کر رہا ہے؟ وقت کے بعد ادا کر رہا ہے، اور وقت کے بعد جو نماز ادا کی جائے وہ ادا کہلاتی ہے یا قضا کہلاتی ہے؟ وہ تو قضا کہلاتی ہے، تو اس ادا کو بھی قضا کہنا لازم آئے گا۔ اس ادا کو بھی، کیونکہ نماز تو اپنے وقت میں پڑھنی چاہیے نہ کہ وقت کے بعد، اور خرابی کس وجہ سے آئی کہ آپ نے کس وقت کو وجوب کا سبب قرار دیا تھا؟ وقت ماضی کو بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تیسری صورت ہے جس میں پھر یہ خرابی لازم نہیں، کہ نماز کے ساتھ جو وقت، جو لمحہ ملا ہوا ہے، متصل ہے، اس کو وجوب کا سبب قرار دیا جائے۔ آپ نماز شروع کرنے لگے ہیں، عین شروع کرتے وقت جو وقت کا چھوٹے سے چھوٹا جز، سیکنڈوں سے سیکنڈ سے بھی یوں کہیں کروڑوں گنا چھوٹا جز جو نماز کے ساتھ جڑا ہوا ہے، متصل ہے، جس کے ساتھ ہی آپ کی نماز شروع ہو رہی ہے، وہ جو جڑا ہوا وقت ہے اس کو کیا کیا جائے؟ وجوب کا سبب قرار دیا جائے۔ اس صورت میں پھر یہ خرابیاں لازم نہیں آتیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو لہٰذا جب اس جز کو سبب قرار دے دیا گیا تو اب عصر کی نماز، بات چل رہی ہے کہ اسی دن کی عصر کی نماز غروب کے وقت بھی جائز ہے۔ اسی دن کی عصر کی نماز کیوں جائز ہے؟ وجہ اب ذکر کرنے لگے ہیں کہ دیکھیے وجوب کا سبب ہم نے کس وقت کو قرار دیا، کس لمحے کو قرار دیا ہے؟ جو عین اس نماز کے ساتھ متصل ہے، ملا ہوا ہے۔ تو جب ایک شخص سورج غروب ہونے والا ہے اور عصر کی نماز شروع کرتا ہے تو کون سا لمحہ نماز کے وجوب کا سبب ہے؟ جو اس نماز کے ساتھ ملا ہوا ہے، اور اس وقت تو سورج غروب ہونے والا ہے وقت ہے مکروہ، تو معلوم ہوا یہ وقت مکروہ ہے تو اس کی، جو نماز کے ساتھ ملا ہوا ہے جو وہ لمحہ وہ بھی کیا ہے؟ مکروہ وقت ہے۔ تو اس کی وجہ سے جو وجوب آئے گا وہ، وہ یہ یوں کہیں وہ یہ وقت ہے ناقص، یہ وقت کیا ہے؟ ناقص ہے، تو جب یہ وقت ناقص تو اس کی وجہ سے جو وجوب آیا وہ بھی کس قسم کا؟ ناقص۔ جب ناقص وجوب آیا تو یہ جو ادا کر رہا ہے یہ کامل وقت میں ہے یا ناقص وقت میں؟ ناقص وقت میں، تو ادا بھی کس قسم کی ہو گئی؟ ناقص۔ تو لہٰذا اسی وجہ سے اس دن کی عصر کی نماز جائز ہے کیونکہ اس کا وجوب جس وقت کی وجہ سے آیا وہ وقت بھی کیا؟ ناقص، تو وجوب آیا ناقص، جب وجوب ناقص تو ادا ناقص سے بھی کام چل جائے گا، لہٰذا اس وقت نماز ادا کرے گا تو نماز ہو جائے گی۔ جبکہ باقی نمازوں کے جو اوقات ہیں ان میں جو پورا وقت کامل ہے، جب پورا وقت کامل ہے تو وجوب بھی کس قسم کا آئے گا؟ کامل، تو لہٰذا وہ کامل ادا کے ساتھ ہی وہ ادا ہوگی، ناقص وقت میں وہ ادا، تو کامل وقت میں ہی ادا ہوگی، ناقص وقت میں ادا نہیں۔ اور جب یہ تو تھا وہ صورت جب نماز وقت کے اندر پڑھے، تو وہ جز جو نماز کے ساتھ متصل ہے اس کو وجوب کا سبب قرار دیا جائے گا۔ اور اگر وقت پورا گزر جائے اور ایک شخص نے نماز ہی نہیں پڑھی تو اب پورے وقت کو وجوب کا سبب قرار دیا جائے گا۔ اب پورے وقت کو وجوب کا سبب قرار دیا جائے گا۔ مثلاً ظہر کی نماز ہے اور ایک عصر کا وقت شروع ہو گیا، ایک شخص نے ابھی تک نماز ظہر کی نہیں پڑھی، اب وہ قضا نماز پڑھنا چاہتا ہے، تو کیا کہیں گے؟ قضا اس کے ذمے ہے یا نہیں ہے؟ قضا ہے، قضا اس کے ذمے واجب۔ تو یہ وجوب کس وقت کی وجہ سے آیا؟ اب کہیں گے پورے ظہر کا وقت جو ساڑھے بارہ سے لے کر مثلاً ساڑھے چار یا پانچ بجے تک جتنا بھی وقت ہے، یہ سارا وقت اس نماز کے وجوب کا سبب ہے۔ اس نے اس وقت کو پایا لہٰذا اس پر نماز کیا ہو گئی؟ واجب ہو گئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو وقت کے بعد جب ادا کریں گے تو پھر پورے وقت کو وجوب کا سبب قرار دیں گے۔ بھئی کیوں؟ اب پورے وقت کو کیوں وجوب کا سبب قرار دیتے ہیں؟ کہتے ہیں بھئی ہم تو پہلے بھی پورے وقت ہی کو وجوب کا سبب قرار دینا چاہتے تھے، لیکن اس میں کیا لازم آ رہی تھی؟ اس میں خرابی لازم آ رہی تھی کہ وقت کے اندر تو پھر کوئی ادا کر ہی نہیں سکتا، ادا کرنا ہی کب پڑے گی؟ وقت کے بعد بھئی۔ اور اب تو وقت گزر گیا ہے اب پورے وقت کو اگر وجوب کا سبب قرار دے بھی دیا جائے تو وہ خرابی لازم نہیں آتی، اب تو نماز ویسے ہی قضا ہو چکی ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے إِلَّا عَصْرَ يَوْمِهِ عِنْدَ الْغُرُوبِ، مگر اسی دن کی عصر کی نماز غروب کے وقت، لِأَنَّ السَّبَبَ هُوَ الْجُزْءُ الْقَائِمُ۔ اچھا بھئی، میں نے کیا بتلایا؟ اسی دن کی عصر کی نماز پڑھنا چاہے تو اس وقت پڑھ سکتا ہے، گزشتہ دن کے عصر کی قضا کرنا چاہتا ہے غروب کے وقت وہ نہیں ہوگی ادا، اس لیے کیونکہ اس کے وجوب کا سبب کیا بنا؟ پورا وقت عصر۔ گزشتہ دن کا عصر کی نماز اس نے نہیں پڑھی اور نماز قضا ہو گئی، اب کیا کہیں گے؟ پورا عصر کا وقت یہ کیا ہے؟ وجوب کا سبب، اور اس میں سے اکثر وقت کیا ہے؟ کامل ہے یا ناقص ہے؟ اکثر وقت کامل ہے تھوڑا سا ناقص ہے، اور لِلْأَكْثَرِ حُكْمُ الْكُلِّ، تو گویا سارا وقت ہی گویا کس قسم کا تھا؟ کامل، تو وجوب بھی کس قسم کا آیا؟ کامل، تو نماز کی ادا بھی کامل وقت میں ہونی چاہیے، ناقص وقت میں غروب کے وقت ادا کرے گا تو ادا نہیں ہوگی۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں مگر یہ کہ اسی دن کی عصر غروب کے وقت، لِأَنَّ السَّبَبَ هُوَ الْجُزْءُ الْقَائِمُ مِنَ الْوَقْتِ، اس لیے کیونکہ سبب جو ہے یعنی وجوب کا سبب جو ہے وہ جز ہے وقت کا الْقَائِمُ جو قائم ہے یعنی موجود ہے مِنَ الْوَقْتِ وقت میں سے، کیونکہ نماز کے وجوب کا سبب وہ جز ہے جو موجود ہے وقت میں سے، اس نماز کے ساتھ ملا ہوا ہے، متصل ہے۔ لِأَنَّهُ لَوْ تَعَلَّقَ بِالْكُلِّ، اس لیے کیونکہ اگر وجوب کا تعلق سارے وقت کے ساتھ ہو، لَوَجَبَ الْأَدَاءُ بَعْدَهُ، تو واجب ہوگا ادا کو وقت کے بعد کیا جائے بھئی، کہ تو پھر اس صورت میں لازم آئے گا کہ ادا جو ہے وہ واجب ہوگی وقت کے گزرنے کے بعد۔ وَلَوْ تَعَلَّقَ بِالْجُزْءِ الْمَاضِي، اور اگر وجوب کا تعلق کس کے ساتھ ہو؟ اس جز کے ساتھ جو گزر چکا ہے، فَالْمُؤَدِّي فِي آخِرِ الْوَقْتِ قَاضٍ، تو نماز کو ادا کرنے والا آخر وقت میں قَاضٍ وہ قضا کرنے والا ہے، کیونکہ وقت کے بعد ادا کر رہا ہے۔ آپ نے وجوب کا سبب کس کو قرار دیا؟ جو وقت گزر چکا ہے، صورت وہی بات بیان کر رہے ہیں میں نے کہا پہلے انہوں نے ذکر کر دیا سارے وقت کو وجوب کا سبب نہیں دیا جا سکتا، کیوں؟ کیونکہ لَوْ تَعَلَّقَ بِالْكُلِّ، اگر سارے وقت کو کیا کیا جائے؟ وجوب کا سبب قرار دیا جائے، لَوَجَبَ الْأَدَاءُ بَعْدَهُ، تو واجب ہوگی ادا اس وقت کے گزرنے کے بعد، اس سے پہلے ادا ہی نہیں کر سکتا۔ اور دوسری صورت کیا ذکر کی تھی؟ اگر جز ماضی کا جو وقت گزر چکا ہے ماضی کے اندر اگر اس کو کیا کیا جائے؟ وجوب کا سبب قرار دیا جائے تو پھر اس وقت آپ وقت کے اندر ادا کر رہا ہے لیکن اس کو کیا کہنا لازم آئے گا کہ یہ کیا کر رہا ہے؟ قضا کر رہا ہے، کیونکہ وجوب کا سبب جو وقت تھا وہ تو ماضی میں گزر چکا ہے اور یہ اس کے بعد ادا کر رہا ہے تو یہ کیا ہے؟ قضا کرنے والا ہے، ادا کرنے والا نہیں۔ یہی بات بیان کر رہے ہیں: وَلَوْ تَعَلَّقَ بِالْجُزْءِ الْمَاضِي، اور اگر وجوب کا تعلق ماضی کے جز کے ساتھ ہو، فَالْمُؤَدِّي، تو وہ شخص جو نماز کو ادا کرنے والا ہے، فِي آخِرِ الْوَقْتِ، کس میں؟ آخر وقت کے اندر، ہے وقت کے اندر ہی لیکن آخر وقت ہے، تو وہ قَاضٍ وہ کیا ہوگا؟ نماز کو قضا کرنے والا ہے، یعنی اس کی قضا کر رہا ہے، حالانکہ وہ تو قضا نہیں کر رہا بلکہ ادا کر رہا ہے۔ معلوم ہوا ان دونوں صورتوں میں خرابی لازم آتی ہے، پورے وقت کو بھی وجوب کا سبب قرار نہیں دے سکتے اور جز ماضی کو بھی وجوب کا سبب قرار نہیں دے سکتے۔ تو وَإِذَا كَانَ كَذَلِكَ، تو اور جب اسی طرح جب اس طرح ہے بات، فَقَدْ أَدَّاهَا كَمَا وَجَبَتْ، تو تحقیق اس نے نماز کو یعنی عصر کی نماز کو اسی دن کے عصر کی نماز کو جو غروب کے وقت ادا کر رہا ہے، فَقَدْ أَدَّاهَا كَمَا وَجَبَتْ، تو اس نے بھی اس نماز کو ادا کیا جیسے وہ واجب ہوئی تھی۔ آخر وقت میں واجب بھی کیسی ہوئی؟ ناقص، اور یہ ادا بھی کس وقت میں کر رہا ہے؟ ناقص، تو جیسی واجب ہوئی تھی ویسی ہی ناقص یہ ادا کر رہا ہے تو یہ ادا ہو جائے گی۔ بِخِلَافِ غَيْرِهَا مِنَ الصَّلَوَاتِ، بخلاف کہ اس نماز کے علاوہ جو اور نمازیں ہیں، لِأَنَّهَا وَجَبَتْ كَامِلَةً، اس لیے کیونکہ وہ نمازیں جو ہیں وہ کامل ہو کر واجب ہوئی ہیں کیونکہ ان کا وقت کامل ہے، فَلَا تَتَأَدَّى بِالنَّاقِصِ، تو وہ نمازیں ادا نہیں ہوں گی کس کے ساتھ؟ ناقص کے ساتھ، ناقص وقت میں یا ناقص ادائیگی کے ساتھ وہ ادا نہیں ہوں گی۔ قَالَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ، اس سے کون مراد ہیں؟ صاحب ہدایہ، وہ فرماتے ہیں: وَالْمُرَادُ بِالنَّفْيِ الْمَذْكُورِ فِي صَلَاةِ الْجَنَازَةِ وَسَجْدَةِ التِّلَاوَةِ الْكَرَاهَةُ، صاحب ہدایہ فرما رہے ہیں متن میں تو آیا تھا: ”وَلَا صَلَاةُ جَنَازَةٍ وَلَا سَجْدَةُ تِلَاوَةٍ“، أَيْ: لَا تَجُوزُ، یہ جائز نہیں، صاحب ہدایہ آپ کو بتلا رہے ہیں کہ بھئی یہاں جائز ہونے سے مراد کراہت ہے، یہ معنی نہیں کہ یہ ہوں گی نہیں۔ ہاں، یہ کیا ہے ان کا ان اوقات میں ادا کرنا، تین اوقات میں ان کا ادا کرنا مکروہ ہے، مکروہ تحریمی۔ تو کہتے ہیں: وَالْمُرَادُ بِالنَّفْيِ الْمَذْكُورِ فِي صَلَاةِ الْجَنَازَةِ وَسَجْدَةِ التِّلَاوَةِ الْكَرَاهَةُ، اور وہ نفی جو ذکر ہوئی بھئی نماز جنازہ اور سجدۂ تلاوت کے بارے میں اس سے مراد جو ہے الْكَرَاهَةُ کراہت ہے، حَتَّى لَوْ صَلَّى فِيهِ أَوْ تَلَا سَجْدَةً فِيهِ وَسَجَدَهَا جَازَ، یہاں تک کہ اگر اس وقت کے اندر صَلَّى نماز جنازہ کو پڑھ لیا فِيهِ اس وقت کے اندر، أَوْ تَلَا سَجْدَةً فِيهِ یا تلاوت کر لی آیۂ سجدہ کی فِيهِ اس وقت میں، وَسَجَدَهَا اور اس پھر سجدہ کر لیا اس تلاوت آیۂ سجدہ کا، جَازَ تو یہ بھی جائز ہے، لِأَنَّهَا أُدِّيَتْ نَاقِصَةً كَمَا وَجَبَتْ، اس لیے کیونکہ یہ ناقص ادا کیے گئے جیسے کہ وَجَبَتْ جیسے کہ یہ واجب ہوئے تھے۔ بھئی ان اوقات میں اگر سجدۂ تلاوت کر لیتا ہے یا نماز جنازہ پڑھ لیتا ہے تو یہ ادا ہو جائیں گے۔ ادا ہو جائیں گے، اور البتہ مکروہ ہوں گے۔ بھئی کیوں ادا ہو جائیں گے؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ ان کا وجوب ناقص ہوا تو ادا بھی ناقص وقت میں ہو جائے گی۔ بھئی ان کا وجوب ناقص کیسے ہوا؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ نماز جنازہ تب واجب ہوتی ہے جب جنازہ حاضر ہو جائے، اور نماز اور جنازہ جب اس مکروہ وقت میں حاضر ہوا تو اسی وقت وجوب بھی آیا نماز جنازہ کا تو وجوب بھی کس قسم کا آئے گا؟ ناقص آئے گا، تو لہٰذا اس ناقص وقت میں ادا ہو جائے گی۔ اسی طرح سجدۂ تلاوت واجب ہوتا ہے آیۂ سجدہ تلاوت کرنے سے، اور جب اس ناقص وقت کے اندر آیۂ سجدہ تلاوت کی تو وجوب بھی کس قسم کا آیا؟ ناقص آیا، تو اس وقت میں ادا کرے گا تو ادا بھی ناقص ہوئی وجوب کے مطابق بھئی، تو ادا ہو جائے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے: لِأَنَّهَا أُدِّيَتْ نَاقِصَةً كَمَا وَجَبَتْ، اس لیے کس کے کیونکہ اس کو ادا کیا گیا ناقص ہی جیسے یہ واجب ہوئی تھی، إِذِ الْوُجُوبُ بِحُضُورِ الْجَنَازَةِ وَالتِّلَاوَةِ، اس لیے کیونکہ وجوب جو ہے واجب ہونا جو ہے وہ جنازے کے حاضر ہونے سے اور تلاوت کرنے سے ہے بھئی۔ یہاں تک دلیل سمجھ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ وَيُكْرَهُ أَنْ يَتَنَفَّلَ بَعْدَ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَبَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ، اور مکروہ ہے نفل پڑھنا فجر کے بعد حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جائے، وَبَعْدَ الْعَصْرِ اور عصر کی نماز کے بعد حَتَّى تَغْرُبَ یہاں تک کہ سورج غروب ہو جائے۔ بھئی یاد رکھیے فجر جب فجر صادق طلوع ہو جائے تو پھر فجر کی دو سنتوں کے علاوہ اور نوافل پڑھنا مکروہ ہیں بھئی، اس وقت میں اور نوافل نہیں پڑھنے چاہئیں بھئی، اور نوافل پڑھنا درست نہیں ہے۔ اور اسی طرح عصر کی نماز پڑھ لی تو عصر کی نماز کے بعد اب نوافل پڑھنا مکروہ ہیں بھئی، مکروہ ہے، نوافل نہیں پڑھنے چاہئیں۔ ہاں ان اوقات میں قضا نماز وغیرہ پڑھ سکتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے اور مکروہ ہے نفل پڑھنا فجر کے بعد حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جائے، وَبَعْدَ الْعَصْرِ اور عصر کی نماز کے بعد حَتَّى تَغْرُبَ یہاں تک کہ سورج غروب ہو جائے، دلیل اس کی کیا؟ کہتے ہیں: لِمَا رُوِيَ أَنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ نَهَى عَنْ ذَلِكَ، بوجہ اس حدیث کے جو روایت کی گئی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے، ان اوقات میں نوافل سے منع فرمایا ہے۔ وَلَا بَأْسَ بِأَنْ يُصَلِّيَ فِي هَذَيْنِ الْوَقْتَيْنِ الْفَوَائِتَ وَيَسْجُدَ لِلتِّلَاوَةِ وَيُصَلِّيَ عَلَى الْجَنَازَةِ، اور کوئی حرج نہیں ہے کہ پڑھے نماز ان اوقات کے اندر الْفَوَائِتَ فوت شدہ۔ ان اوقات میں فوت شدہ یعنی قضا نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے، وَيَسْجُدَ لِلتِّلَاوَةِ اور کوئی حرج نہیں کہ ان اوقات میں سجدۂ تلاوت کرے، وَيُصَلِّيَ عَلَى الْجَنَازَةِ، (يَرْحَمُكَ اللهُ) اور ان کوئی حرج نہیں ہے کہ ان اوقات میں يُصَلِّيَ عَلَى الْجَنَازَةِ کیا کرے؟ نماز جنازہ پڑھے بھئی، جنازے پر نماز پڑھے یعنی نماز جنازہ پڑھے۔ بھئی کیا وجہ ہے؟ فوت شدہ یعنی قضا نمازیں پڑھنے میں بھی آپ نے بتلایا، سجدۂ تلاوت کرنے میں اور اسی طرح نماز جنازہ ان دو اوقات میں یعنی طلوع فجر کے بعد طلوع شمس تک اور عصر کی نماز پڑھنے کے بعد سے لے کر غروب آفتاب تک، ان دو وقتوں میں قضا نمازیں پڑھنے میں، سجدۂ تلاوت کرنے میں اور نماز جنازہ پڑھنے کے اندر اس میں کوئی حرج نہیں وہ پڑھ سکتا ہے۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ کہتے ہیں: لِأَنَّ الْكَرَاهَةَ كَانَتْ لِحَقِّ الْفَرْضِ، کہتے ہیں اس لیے کیونکہ جو کراہت تھی وہ حق فرض کی وجہ سے تھی۔ کس کی وجہ سے؟ لِيَصِيرَ الْوَقْتُ كَالْمَشْغُولِ بِهِ، تاکہ یہ وقت اس طرح ہو جائے گویا کہ اسی فرضوں میں مشغول تھا بھئی، انہی فرضوں میں گزرا۔ بھئی دیکھیے، حدیث میں منع کیا گیا ہے فجر، فجر صادق کے طلوع ہو جانے کے بعد سے لے کر طلوع آفتاب تک اس دوران نوافل پڑھنے سے منع کیا گیا، تو صرف اس وقت فجر کی دو سنتیں پڑھ سکتا ہے اور پھر اس کے بعد جماعت ہو جائے گی، نوافل وغیرہ نہیں پڑھ سکتا بھئی۔ اسی طرح عصر کی نماز کے بعد نوافل نہیں پڑھ سکتا یہاں تک کہ سورج غروب ہو جائے۔ کیوں؟ اس کی کیا وجہ؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ یہ کراہت اس وجہ سے کہ یہ وقت جو ہے فرضوں کا حق ہے۔ یہ وقت کس کا حق ہے؟ فرضوں کا حق ہے۔ تو یہ وقت ہونا تو یہ چاہیے کہ اس سارے وقت کو فرضوں میں صرف کرنا چاہیے، یعنی فجر کی نماز اتنی لمبی ہونی چاہیے کہ کیا کر لے؟ اس سارے وقت کا احاطہ کر لے، سارے وقت کا۔ تو یہ ہونا تو اس طرح چاہیے لیکن اس کے اندر چونکہ لوگوں کے لیے مشکل تھی شریعت نے یہ حکم نہیں دیا، بس اس کے اندر جیسے نماز مسنون طریقے سے ہے وہ ادا کر لی جائے، لیکن بہرحال یہ وقت حق کس کا ہے؟ فرضوں کا حق ہے، لہٰذا اگر آپ اس میں نوافل پڑھیں گے تو یہ وقت آپ نے کس کو دے دیا؟ نوافل کو دے دیا، اور یہ وقت تو حق تھا کس کا؟ فرضوں کا، تو یہ آپ نے وقت حقدار کو دیا یا غیر حقدار کو دے دیا؟ غیر حقدار کو دینا لازم آئے گا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اس لیے ان اوقات میں نوافل کا پڑھنا مکروہ ہے۔ تو یہ وقت کس کا حق ہے؟ فرضوں کا حق ہے۔ تو جب یہ فرضوں کا حق ہے تو اس یہ کراہت جو ہے یہ فرضوں کے حق میں اور اسی طرح واجب کے حق میں ظاہر نہیں ہوگی، واجب لذاتہٖ کے حق میں۔ یعنی اسی وقت میں اگر کوئی قضا نماز پڑھنا چاہے تو قضا نماز بھی کیا ہے؟ فرض ہے۔ تو حق بھی کس کا تھا؟ فرض کا، اور ادا بھی کس کو کیا؟ فرض ہی کو، لہٰذا یہ فرض ہو جائیں گے، صحیح ہیں بھئی۔ اور اسی طرح وہ چیز جو اپنی ذات کی وجہ سے واجب ہے، جو اپنی ذات کی وجہ سے واجب ہے جیسے نماز جنازہ ہے جب جنازہ حاضر ہو گیا تو جو موجود لوگ ہیں ان پر کیا ہو جاتا ہے؟ جنازہ نماز جنازہ ان پر واجب ہو جاتی ہے۔ تو اسی طرح سجدۂ تلاوت ہے تو یہ چیزیں اپنی ذات کے اعتبار سے واجب ہیں، یعنی یوں کہیں شریعت کی طرف سے واجب ہیں بندے کے عمل کا اس میں دخل نہیں۔ کس کی طرف سے واجب ہیں؟ شریعت کی طرف سے واجب ہیں بندے کے عمل کا اس میں دخل نہیں، جب بندے کے عمل کا دخل نہیں شریعت کی طرف سے واجب ہیں، ضروری ہیں، تو لہٰذا فرض بھی کیا تھے؟ ضروری، اسی طرح یہ واجب لذاتہٖ بھی کیا ہے؟ ضروری، تو لہٰذا ان کو بھی پڑھے گا تو یہ صحیح ہیں بھئی۔ کیونکہ حق کس کا تھا؟ فرض، یعنی وہ بھئی نفل ہیں وہ آپ اپنی طرف سے زائد پڑھتے ہیں اور فرض کس کی طرف سے ہیں؟ شریعت کی طرف سے، تو جب آپ اس وقت کو فرضوں میں لگاتے ہیں تو اسی چیز میں لگا رہے ہیں جو شریعت کی طرف سے ہے، یعنی حقدار کو حق دے رہے ہیں۔ سجدۂ تلاوت کر رہے ہیں یا نماز جنازہ پڑھ رہے ہیں یہ بھی کس کی طرف سے ہیں؟ شریعت کی طرف سے، تو اسی چیز کو وقت ادا کر رہے ہیں، اسی چیز کو حق دے رہے ہیں جس کا وہ حق ہے تو وہ ادا ہو جائیں گی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ دلیل سمجھ میں آئی؟ کہتے ہیں: لِأَنَّ الْكَرَاهَةَ كَانَتْ لِحَقِّ الْفَرْضِ لِيَصِيرَ الْوَقْتُ كَالْمَشْغُولِ بِهِ، اس لیے کیونکہ کراہت جو ہے یہ فرضوں کے حق کی وجہ سے ہے تاکہ یہ وقت جو ہے اس میں مشغول کی طرح ہی ہو جائے، لَا لِمَعْنًى فِي الْوَقْتِ، نہ کہ کسی سبب کی وجہ سے وقت کے اندر، یعنی وقت کے اندر کوئی علت نہیں، وقت کے اندر کوئی خرابی نہیں، بلکہ خرابی کیا تھی کہ یہ وقت حق کس کا ہے؟ فرضوں کا، تو فرض یا شریعت کی طرف سے جو چیز واجب ہے ان کو تو پڑھا جا سکتا ہے، جو شریعت کی طرف سے واجب نہیں وہ ان کو ان کو نہیں کی ادا کی، ان کو یہ وقت نہیں دیا جا سکتا۔ اچھا بھئی، کیا دلیل چل رہی ہے؟ یہاں کراہت کس وجہ سے ہے؟ کہ یہ وقت کس کا حق ہے؟ فرضوں کا، معلوم ہوا وقت کے اپنی ذات میں کوئی خرابی نہیں ہے، بلکہ صرف کیا وجہ ہے کہ یہ وقت فرضوں کا حق ہے، تو لہٰذا یہ کراہت جو ہے دوسرے فرضوں کے لیے بھی ظاہر نہیں ہوگی، دوسرے فرائض پڑھتا ہے یعنی قضا نمازیں پڑھتا ہے وہ پڑھنا بھی مکروہ نہیں۔ سجدۂ تلاوت کے حق میں بھی یہ کراہت ظاہر نہیں ہوگی، معلوم ہوا سجدۂ تلاوت بھی اس وقت کرنا مکروہ نہیں۔ نماز جنازہ بھی شریعت کی طرف سے واجب ہے لہٰذا اس کے حق میں بھی کراہت ظاہر نہیں ہوگی تو نماز جنازہ اگر پڑھے گا تو مکروہ نہیں بلکہ صحیح ہے۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے لَا لِمَعْنًى فِي الْوَقْتِ، اس وجہ سے نہیں کہ کوئی علت پائی جا رہی ہے وقت کے اندر یعنی کوئی خرابی وقت میں ہے، وقت میں کوئی خرابی نہیں بلکہ یہ وقت جو ہے فرضوں کا حق تھا۔ فَلَمْ تَظْهَرْ فِي حَقِّ الْفَرَائِضِ، تو یہ کراہت ظاہر نہیں ہوگی فرضوں کے حق میں بھی، وَفِيمَا وَجَبَ لِعَيْنِهِ، اور ان چیزوں کے اندر بھی جو اپنی ذات کے اعتبار سے واجب ہیں، كَسَجْدَةِ التِّلَاوَةِ، جیسے کہ سجدۂ تلاوت ہے۔ آپ کے ذہن میں اشکال آئے گا کہ سجدۂ تلاوت تو شریعت کی طرف سے واجب نہیں، ہم تلاوت کریں گے آیۂ سجدہ تو سجدہ ہم پہ واجب ہوگا۔ تو ہمارے عمل کا دخل آ گیا۔ اور بات چل رہی ہے ان چیزوں کی جو واجب لعینہٖ ہیں جس میں بندے کے عمل کا دخل نہ ہو، صورت سمجھ میں؟ آگے آپ کو یہ بتائیں گے یہ جو دو وقت ہیں یہ فجر کے بعد سے طلوع شمس تک اور عصر کی نماز کے بعد سے لے کر غروب آفتاب تک، ان وقتوں میں اگر آپ نے منت مانی تھی نفلوں کی اور وہ منت پوری ہوئی اب آپ کے ذمے دس نفل واجب ہو گئے، اب وہ نفل آپ اس وقت میں پڑھنا چاہتے ہیں وہ منت والے، تو کہیں گے نہیں وہ پڑھنے کی وہ بھی پڑھنا مکروہ ہے۔ کیوں مکروہ ہیں؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ وہ واجب لعینہٖ نہیں، وہ شریعت کی جانب سے واجب نہیں وہ تو نفل ہی تھے، آپ نے اپنے اوپر ان کو کیا کیا ہے؟ واجب کیا، تو اس میں آپ کے عمل کا دخل آ گیا۔ تو یہ معلوم ہوا وہ واجب لعینہٖ نہیں۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو یہی اشکال یہاں بھی ہوتا ہے کہ سجدۂ تلاوت بھی اس میں بھی بندے کے عمل کا دخل ہے، آپ آیۂ سجدہ تلاوت کریں گے تو آپ پر سجدہ واجب ہے، آپ آیۂ سجدہ تلاوت نہیں جب تک کرتے آپ پر سجدہ کرنا بھی واجب نہیں، تو اس میں بھی کس کے عمل کا دخل آ گیا؟ بندے کے عمل کا دخل آ گیا تو پھر آپ کیسے کہہ رہے ہیں کہ یہ سجدۂ تلاوت واجب لعینہٖ کی مثال ہے؟ جواب یہ کہ سجدۂ تلاوت جو ہے وہ واجب لعینہٖ ہے، اپنی ذات کے اعتبار سے واجب ہے۔ بھئی کیسے واجب ہے؟ وہ تو ہم تلاوت کریں گے پھر واجب ہوگا ویسے واجب ہی نہیں ہوگا؟ کہتے ہیں نہیں، آپ کی تلاوت کے بغیر بھی آپ پر واجب ہو جاتا ہے، آپ بیٹھے ہوئے تھے آپ کے ساتھی نے آیۂ سجدہ تلاوت کر لی، آپ پر واجب ہوا یا نہیں ہوا؟ واجب ہو گیا، معلوم ہوا اس میں آپ کے عمل کا دخل نہیں۔ کیوں واجب ہوا؟ کیونکہ آپ نے آیۂ سجدہ کو سن لیا، سن لیا بھئی۔ بات سمجھ میں آئی؟ تو معلوم ہوا سجدۂ تلاوت کیا ہے؟ واجب لعینہٖ ہے۔ تو کہتے ہیں لہٰذا یہ کراہت ظاہر نہیں ہوگی فرضوں کے حق میں بھی یعنی فرض بھی مکروہ نہیں ہوں گے، وَفِيمَا وَجَبَ لِعَيْنِهِ، اور ان چیزوں کے بارے میں بھی جو اپنی ذات کے اعتبار سے واجب ہیں جیسے سجدۂ تلاوت، لہٰذا وہ بھی مکروہ نہیں ہوں گے۔ وَظَهَرَتْ فِي حَقِّ الْمَنْذُورِ، ہاں البتہ یہ کراہت ظاہر ہوگی نذر کے حق میں، نذر منت کو کہتے ہیں، منذور جن کی جس چیز جن نوافل کی منت مانی گئی ہے، ان کے حق میں یہ کراہت ظاہر ہوگی یعنی وہ منت والے نفل اس وقت پڑھنا مکروہ ہوں گے، لِأَنَّهُ تَعَلَّقَ وُجُوبُهُ بِسَبَبٍ مِنْ جِهَتِهِ، اس لیے کیونکہ تعلق ہوا ہے ان کے وجوب کا ایک ایسے سبب کے ساتھ مِنْ جِهَتِهِ یہ جو اس شخص کی طرف سے ہے، جو اس منت ماننے والے کی طرف سے ہے۔ بھئی یہ منت والے نوافل آپ پر کیوں واجب ہوئے؟ منت پوری ہو گئی، اور وہ منت کس نے مانی تھی؟ اس منت ماننے والے نے مانی تھی، اگر وہ منت نہ مانتا تو اس پر یہ دس نفل واجب ہوتے؟ نہیں، تو معلوم ہوا اس میں اس کے عمل کا دخل آ گیا، معلوم ہوا یہ واجب لعینہٖ نہیں۔ جب واجب لعینہٖ نہیں تو ان کے ان کے لیے وہ کراہت ظاہر ہوگی اور ان کی اس وقت ادائیگی مکروہ ہوگی۔ یہ معنی ہے لِأَنَّهُ تَعَلَّقَ وُجُوبُهُ بِسَبَبٍ مِنْ جِهَتِهِ، اس لیے کیونکہ وہ جو منذور ہے اس کے وجوب کا تعلق ایک ایسے سبب سے ہے مِنْ جِهَتِهِ جو اس منت ماننے والے کی جانب سے ہے یعنی اس کے عمل کا دخل ہے۔ وَفِي حَقِّ رَكْعَتَيِ الطَّوَافِ، یاد رکھیے بیت اللہ کے گرد سات چکر لگائے جائیں تو یہ ایک طواف کہلاتا ہے، کتنے چکر؟ سات۔ حجر اسود سے طواف کی ابتدا ہوتی ہے اور پھر حجر اسود حجر اسود سے دروازے کی جانب چلتے ہوئے یعنی بایاں کندھا بیت اللہ کی طرف رہتا ہے طواف میں، بایاں کندھا بیت اللہ کی طرف رہتا ہے، یعنی یوں کہیں انسان کا قلب جو ہے وہ بیت اللہ کی طرف رہتا ہے، کیونکہ دل کس جانب ہوتا ہے؟ بائیں جانب ہوتا ہے، تو قلب بیت اللہ کی جانب رہتا ہے اور اس طرح سات چکر جب ہو جائیں گے اور ساتویں چکر پر جب حجر اسود پر پہنچ جائے گا تو یہ ایک طواف مکمل ہوا، اور ہر طواف کے بعد دو دو رکعتیں پڑھنا واجب ہیں بھئی۔ ہر طواف کے ساتھ دو رکعتیں پڑھنا واجب ہیں، تو یہ سات چکر جب لگا لے گا پھر دو رکعتیں بھی اس کو پڑھنا پڑیں گی بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو یہ دو رکعتیں واجب الطواف ہیں، کیا ہیں؟ واجب الطواف۔ اب کوئی شخص طواف کرتا ہے اور اس پر دو یہ دو رکعتیں واجب ہیں اور ان کو وہ اس وقت ادا کرنا چاہتا ہے کہتے ہیں بھئی اس میں بھی اس کے عمل کا دخل ہے لہٰذا ان کا ادا کرنا بھی مکروہ ہوگا۔ بھئی اس کے عمل کا کیسے دخل ہے؟ کہتے ہیں بھئی اس نے طواف کیا تو اس پر یہ دو رکعتیں واجب ہوئیں، اگر یہ طواف نہ کرتا تو اس پر یہ دو رکعتیں بھی واجب نہ ہوتیں۔ یہ معنی ہے: وَفِي حَقِّ رَكْعَتَيِ الطَّوَافِ، اور طواف کی دو رکعتوں کے حق میں، اصل میں تھا رَكْعَتَيْنِ نون اضافت کی وجہ سے گر گیا۔ وَفِي الَّذِي شَرَعَ فِيهِ ثُمَّ أَفْسَدَهُ، اسی طرح یاد رکھیے آپ نے پڑھا ہوگا کہ نوافل، نوافل ہیں جب تک شروع نہ کیے جائیں، مرضی ہے پڑھیں نہ پڑھیں، لیکن جب ایک دفعہ شروع کر دیے اب یہ واجب ہو گئے، لہٰذا اگر کسی وجہ سے درمیان میں نفل کو توڑنا پڑا تو آپ پر اس کی قضا ضروری ہوگی، آپ کو پھر اب دو رکعتیں پڑھنا پڑیں گی بعد میں، اب وہ نفل نہیں ہیں بلکہ اب وہ واجب بن چکے آپ کے ذمے ہیں بھئی۔ تو کیا یہ جو نفل توڑ دیے تھے نفل فاسد ہو گئے تھے اور پھر ان کو کیا کرتا ہے وہ؟ پھر لوٹاتا ہے، تو کیا ان اوقات میں وہ پڑھ سکتا ہے؟ کہتے ہیں نہیں، اس میں بھی اس کے عمل کا دخل ہے لہٰذا ان کا پڑھنا بھی مکروہ ہوگا بھئی، مکروہ ہوگا۔ بھئی اس کے عمل کا کیسے دخل ہے؟ کہتے ہیں بھئی یہ نہ شروع کرتا تو اس پر واجب بھی نہ ہوتے بھئی۔ کہتے ہیں: وَفِي الَّذِي شَرَعَ فِيهِ ثُمَّ أَفْسَدَهُ، اور اسی طرح یہ کراہت ظاہر ہوگی ان نفلوں کے حق میں بھی، اس نماز کے حق میں بھی شَرَعَ فِيهِ جس میں یہ شخص شروع ہو گیا یعنی اس کو شروع کر دیا ثُمَّ أَفْسَدَهُ پھر اس کو کیا کر دیا؟ فاسد کر دیا یعنی توڑ دیا۔ لِأَنَّ الْوُجُوبَ لِغَيْرِهِ، اب یہ دلیل ذکر کر رہے ہیں، پیچھے دو باتیں ذکر کیں: طواف کی دو رکعتوں کے حق میں بھی کراہت ظاہر ہوگی اور وہ نفل جو شروع کیے تھے اور پھر فاسد کر دیے ان کے حق میں بھی یہ کراہت ظاہر ہوگی، کیوں؟ کہتے ہیں لِأَنَّ الْوُجُوبَ لِغَيْرِهِ، اس لیے کیونکہ یہاں وجوب کس کی وجہ سے ہے؟ غیر کی وجہ سے ہے، یعنی اس شخص کے اپنے عمل کا دخل ہے بھئی، وہ کیا؟ کہتے ہیں: وَهُوَ خَتْمُ الطَّوَافِ، اور وہ طواف کا ختم کرنا، پورا کرنا ہے، اس وقت میں طواف کو اس نے پورا کیا ہے، اگر یہ اس وقت نہ کرتا تو اس یہ دو بھی اس پر واجب نہ ہوتیں۔ وَصِيَانَةُ الْمُؤَدَّى عَنِ الْبُطْلَانِ، اور وہ جو نفل پڑھ کر نفل شروع کر کے فاسد کر دیے تھے اس میں بھی اس میں بھی کس کے عمل کا دخل آیا اور اب اس کو بطلان سے بچانے کے لیے اس پر یہ نفل کیا ہیں؟ بھئی دیکھیے، جب ایک شخص نفل شروع کرتا ہے، شروع کرنے سے پہلے نفل ہیں پڑھنا چاہے پڑھے، نہیں پڑھنا چاہتا نہ پڑھے، لیکن جب شروع کر دیے اب واجب ہو گئے۔ کیوں واجب ہو گئے؟ وجہ اس کی یہ کہ جب یہ نفلوں کو بیچ میں فاسد کرے گا تو کچھ حصہ نفل کا پیچھے گزر گیا یا نہیں گزر گیا؟ کچھ حصہ گزر گیا اور وہ حصہ صحیح تھا یا صحیح نہیں تھا؟ وہ حصہ تو صحیح تھا، تو اس کو باطل ہونے سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ آپ اس کو پھر ادا کر کے پورا کر دیں۔ کیا کر دیں؟ ورنہ اگر اگر واجب نہ قرار دیا جائے تو وہ جو صحیح حصہ تھا عبادت کا وہ باطل ہو جائے گا یا نہیں ہو جائے گا؟ وہ تو باطل ہو جائے گا، ختم ہوا، رہ گئے ویسے ہی، لہٰذا شریعت نے کیا کہا کہ جب نفل شروع کر دیے ہیں تو اب آپ پر کیا ہو گئے؟ واجب۔ دلیل اس کی کیا؟ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: وَلَا تُبْطِلُوا أَعْمَالَكُمْ، اپنے عملوں کو باطل نہ کرو، اور یہ جو صحیح ہوا تھا یہ بھی عمل تھا یا عمل نہیں تھا؟ یہ بھی عمل تھا، عبادت تھی، لہٰذا اس کو باطل نہیں کر سکتے اب، اب اس کو پورا کرنا پڑے گا، اور پورا کرنے کی کیا صورت ہے؟ اس سے آگے تو پڑھ نہیں سکتے، تو نئے سرے سے اسی کو پورے طور پر پڑھ لے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ معنی ہے: وَصِيَانَةُ الْمُؤَدَّى عَنِ الْبُطْلَانِ، اور بچانے کے لیے اس کو وہ جو ادا کیا گیا تھا عَنِ الْبُطْلَانِ کس چیز سے؟ باطل ہونے سے بچانے کے لیے اس پر یہ نماز واجب ہوئی ہے اور اس میں اس کے عمل کا دخل ہے کہ اس نے خود شروع کیے تھے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ دوبارہ دیکھیے بھئی: لِأَنَّ الْوُجُوبَ لِغَيْرِهِ، اس لیے کیونکہ وجوب جو ہے غیر کی وجہ سے آیا ہے، اس کی ذات کی وجہ سے وجوب نہیں آیا بلکہ غیر کی وجہ سے وجوب آیا، بھئی وہ کیا غیر ہے جس کی وجہ سے وجوب آیا یہ طواف کی دو رکعتوں کا؟ کہتے ہیں: وَهُوَ خَتْمُ الطَّوَافِ، اور وہ طواف کا ختم کرنا ہے، اس کی وجہ سے وجوب آیا اور وہ اس کے عمل کی وجہ سے تھا، اور نیز یہ نفلوں کو شروع کرنے کے بعد جب فاسد کیا تھا اس میں بھی وجوب آیا، وجوب ان کی اپنی ذات کی وجہ سے نہیں وہ تو نفل تھے بلکہ وجوب کس وجہ سے آیا ہے؟ غیر کی وجہ سے، اور وہ غیر کیا ہے؟ صِيَانَةُ الْمُؤَدَّى عَنِ الْبُطْلَانِ، اس ادا کیے ہوئے حصے کو باطل ہونے سے بچانے کے لیے ہے اور وہ جو حصہ تھا وہ اس نے خود شروع کیا تھا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ وَيُكْرَهُ أَنْ يَتَنَفَّلَ بَعْدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ بِأَكْثَرَ مِنْ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، اور مکروہ ہے نفل پڑھنا فجر طلوع ہو جانے کے بعد بِأَكْثَرَ مِنْ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ فجر کی دو رکعت سے زیادہ۔ بھئی یہی مسئلہ جو میں نے ابھی بیان کیا، طلوع فجر کے بعد سے طلوع آفتاب تک اس کے اندر فجر کی نماز واجب ہے اور اس کے ساتھ صرف کیا پڑھ سکتے ہیں؟ صرف دو سنتیں پڑھ سکتے ہیں اور نوافل کا پڑھنا مکروہ ہے، یہی بات بیان کر رہے ہیں: وَيُكْرَهُ أَنْ يَتَنَفَّلَ بَعْدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ بِأَكْثَرَ مِنْ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، اور مکروہ ہے نفل پڑھنا فجر طلوع ہو جانے کے بعد بِأَكْثَرَ مِنْ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ فجر کی دو رکعتوں سے زیادہ، ان دو سے زیادہ نفل پڑھنا مکروہ ہے، وہ دو اور وہ دو تو کیا ہیں؟ سنت ہیں بھئی۔ لِأَنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ لَمْ يَزِدْ عَلَيْهِمَا مَعَ حِرْصِهِ عَلَى الصَّلَاةِ، بھئی مکروہ کیوں ہے اور نفلوں کا پڑھنا؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ حضور علیہ السلام نے لَمْ يَزِدْ عَلَيْهِمَا ان دو رکعتوں پر زیادتی نہیں فرمائی، حضور علیہ السلام نے ہمیشہ طلوع فجر کے بعد صرف یہی دو سنتیں ہی ادا فرمائی ہیں، مَعَ حِرْصِهِ عَلَى الصَّلَاةِ باوجود حضور علیہ السلام کے نماز پر حرص کے، باوجود اس کے کہ حضور علیہ السلام نماز کے بڑے حریص تھے اور آپ کی کوشش ہوتی تھی زیادہ سے زیادہ ادا فرمائیں، لیکن آپ نے کبھی بھی طلوع فجر کے بعد ان دو سنتوں پر زائد نوافل ادا نہیں کیے، معلوم ہوا یہ دلیل ہے اس بات کی کہ اور نوافل کا ادا کرنا مکروہ ہے۔ وَلَا يَتَنَفَّلُ بَعْدَ الْغُرُوبِ قَبْلَ الْفَرْضِ، اور نفل نہ پڑھے سورج غروب ہو جانے کے بعد قَبْلَ الْفَرْضِ مغرب کے فرضوں سے پہلے۔ سورج غروب ہو گیا اب مغرب کی نماز کا وقت ہو گیا ہے، اس نماز سے پہلے آپ نفل پڑھنا چاہتے ہیں کہتے ہیں نفل پڑھنا مکروہ ہے۔ کیوں؟ کہتے ہیں: لِمَا فِيهِ مِنْ تَأْخِيرِ الْمَغْرِبِ، کیونکہ اس کے اندر مغرب میں تاخیر لازم آئے گی، مغرب کو مؤخر کرنا لازم آئے گا۔ وَلَا إِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ لِلْخُطْبَةِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِلَى أَنْ يَفْرُغَ مِنْ خُطْبَتِهِ، اور اسی طرح نفل نہ پڑھے جس وقت امام نکل آئے، نکل آئے لِلْخُطْبَةِ کس کیا دینے کے لیے؟ خطبہ دینے کے لیے يَوْمَ الْجُمُعَةِ جمعے کے دن، إِلَى أَنْ يَفْرُغَ مِنْ خُطْبَتِهِ یہاں تک کہ وہ خطبے سے فارغ ہو جائے۔ جمعے کے دن جب امام خطبہ دینے کے لیے نکل آئے تو اس کے بعد نفل پڑھنا مکروہ ہے یہاں تک کہ امام خطبہ دے کر فارغ ہو جائے پھر پڑھ سکتے ہیں اس سے پہلے پڑھنا مکروہ۔ بھئی اس کی کیا وجہ؟ کہتے ہیں: لِمَا فِيهِ مِنَ الِاشْتِغَالِ عَنِ اسْتِمَاعِ الْخُطْبَةِ، اس وجہ سے کہ اس میں مشغول ہونا ہے، اِسْتِمَاع کا معنی توجہ سے سننا، عَنِ اسْتِمَاعِ الْخُطْبَةِ خطبہ توجہ سے سننے سے مشغول ہونا یعنی اس سے اعراض کرنا ہے۔ اِشْتَغَلَ کا صلہ جب عَنْ آ جائے تو اس کے معنی ہوتے ہیں اعراض کرنے کے، منہ موڑنا بھئی۔ اس وجہ سے کہ اس کے اندر اعراض کرنا ہے، رخ پھیرنا ہے کس چیز سے؟ خطبے کو توجہ سے سننے سے، یعنی اس سے منہ موڑنا ہے، حالانکہ خطبے کو تو توجہ کے ساتھ سننا ضروری ہے بھئی، سننا ضروری ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جی، چلیے بس بھئی۔ هَذَا هُوَ الْمَرَامُ، وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔ طالب علم: بھئی یہ جو عصر کا عصر کے وقت نوافل مکروہ ہیں، یہ عصر کا وقت شروع ہونے کے بعد ہے یا عصر کی سنتوں کے بعد؟ مدرس: عصر کی، بھئی یہ پوچھ رہے ہیں کہ یہ عصر کے بعد نوافل کا پڑھنا مکروہ ہے تو کیا عصر کا وقت شروع ہو جانے کے بعد؟ تو یاد رکھیے عصر کا وقت شروع ہو جانے کے بعد نوافل پڑھنا مکروہ نہیں ہے، کیونکہ آپ نے ابھی پچھلے سبق میں پڑھا تھا کہ عصر کے اندر تاخیر مستحب ہے، عصر کی نماز ذرا دیر کر کے پڑھی جائے، مؤخر کر کے۔ کیوں دیر کر کے پڑھی جائے؟ حالانکہ عصر کا وقت شروع ہو چکا ہے، اور وجہ انہوں نے ذکر کی تھی تکثیرِ نوافل تاکہ نفل زیادہ سے زیادہ ہو سکیں وقت مل جائے۔ تو عصر کا وقت شروع ہو گیا آپ پھر بھی نوافل پڑھ سکتے ہیں جب تک آپ نے عصر کے فرض نہیں پڑھے، جب فرض پڑھ لیں گے اس کے بعد اب نوافل کا پڑھنا مکروہ ہے بھئی۔