فَصْلٌ فِي النِّفَاسِ وَالنِّفَاسُ هُوَ الدَّمُ الْخَارِجُ عَقِيبَ الْوِلَادَةِ لِأَنَّهُ مَأْخُوذٌ مِنْ تَنَفَّسَ الرَّحِمُ بِالدَّمِ، أَوْ مِنْ خُرُوجِ النَّفْسِ بِمَعْنَى الْوَلَدِ أَوْ بِمَعْنَى الدَّمِ، وَالدَّمُ الَّذِي تَرَاهُ الْحَامِلُ ابْتِدَاءً أَوْ حَالَ وِلَادَتِهَا قَبْلَ خُرُوجِ الْوَلَدِ اسْتِحَاضَةٌ. فَصْلٌ فِي النِّفَاسِ۔ یہ فصل ہے نفاس کے بیان میں۔ وَالنِّفَاسُ هُوَ الدَّمُ الْخَارِجُ عَقِيبَ الْوِلَادَةِ اور نفاس وہ خون ہے جو نکلتا ہے عَقِيبَ الْوِلَادَةِ، ولادت کے پیچھے یعنی ولادت کے بعد۔ بچے کی پیدائش کے بعد، بچے کی ولادت کے بعد جو خون نکلتا ہے اسے نفاس کہا جاتا ہے۔ اب تک آپ نے حیض اور استحاضہ کے بارے میں پڑھا۔ آپ نے پڑھا حیض جو ہے وہ رحم سے آنے والا خون ہے اور اس کی کم سے کم مدت تین دن اور زیادہ سے زیادہ دس دن ہے۔ اور اسی طرح یہ جو نفاس کا خون ہے یہ بھی رحم سے ہی آتا ہے اور یہ وہ خون ہے جو بچے کی پیدائش کے بعد آئے بھئی، اسے کیا کہتے ہیں؟ نفاس کہتے ہیں۔ جبکہ تیسری قسم استحاضہ ہے اور استحاضہ وہ رحم سے نہیں آتا بلکہ اس کی رگ وغیرہ کٹ جاتی ہے، کسی بیماری وغیرہ کی وجہ سے، اس سے وہ خون جاری ہوتا ہے بھئی۔ تو نفاس کے بارے میں انہوں نے آپ کو بتلا دیا: وہ خون ہے جو بچے کی پیدائش کے بعد نکلے۔ لِأَنَّهُ مَأْخُوذٌ مِنْ تَنَفَّسَ الرَّحِمُ بِالدَّمِ۔ یہ یہاں سے وجہ تسمیہ ذکر کر رہے ہیں کہ اس کو نفاس کیوں کہتے ہیں جو بچے کی پیدائش کے بعد خون آئے؟ کہتے ہیں: لِأَنَّهُ مَأْخُوذٌ مِنْ تَنَفَّسَ الرَّحِمُ بِالدَّمِ، اس لیے کیونکہ یہ ماخوذ ہے تَنَفَّسَ الرَّحِمُ بِالدَّمِ۔ تَنَفَّسَ الرَّحِمُ بِالدَّمِ: رحم نے خون اگلا، رحم نے خون ڈالا، یا رحم نے خون نکالا۔ سمجھ میں آیا، معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ عرب کا کلام ذکر کر رہے ہیں، تَنَفَّسَ الرَّحِمُ بِالدَّمِ عرب کہتے ہیں، کب کہتے ہیں؟ جب رحم سے خون نکلے وہ کیا کہتے ہیں؟ تَنَفَّسَ الرَّحِمُ بِالدَّمِ، یہ اسی سے ماخوذ ہے، اسی وجہ سے اس کو نفاس کہتے ہیں۔ تو یہ تَنَفَّسَ الرَّحِمُ بِالدَّمِ سے ماخوذ ہے، اسی لیے اس کو نفاس کہا جاتا ہے۔ أَوْ مِنْ خُرُوجِ النَّفْسِ، یا یہ ماخوذ ہے خروجِ نفس سے، بِمَعْنَى الْوَلَدِ أَوْ بِمَعْنَى الدَّمِ، کہ جو نفس ہے وہ ولد کے معنی میں ہے یا خون کے معنی میں ہے۔ تو خروجِ نفس کہا اور نفس کے دو معنی بیان کر دیے بھئی۔ نفس کے کئی معانی آتے ہیں عربی زبان میں، تو جیسے ایک معنی نفس کا کیا ہے؟ روح کو بھی کہتے ہیں، جان کو بھی کہتے ہیں، اسی طرح نفس جو ہے وہ خون کو بھی کہتے ہیں، اولاد وغیرہ بچے کو بھی کہتے ہیں۔ اور ایک لفظ ہوتا ہے نَفَس، نَفَس، فا کے فتحہ کے ساتھ، وہ سانس کو کہتے ہیں۔ نَفَس کا کیا معنی؟ سانس۔ تو یہ لفظ ہے خروجِ نفس کہ یہ نفاس کا لفظ ماخوذ ہے خروجِ نفس سے اور یہ نفس کا لفظ کس معنی میں ہے؟ ولد یعنی بچے یا خون کے معنی میں۔ تو خروجِ نفس، پہلے معنی کون سا کریں؟ بچے کا۔ خروجِ نفس، بچے کا نکلنا، یا بِمَعْنَى الدَّمِ، خون کے معنی میں، اب ترجمہ کریں: خروجِ نفس یعنی خون کا نکلنا، تو اس وجہ سے اس کو نفاس کہا جاتا ہے بھئی۔ وَالدَّمُ الَّذِي تَرَاهُ الْحَامِلُ ابْتِدَاءً أَوْ حَالَ وِلَادَتِهَا قَبْلَ خُرُوجِ الْوَلَدِ اسْتِحَاضَةٌ، اور وہ خون جسے حاملہ عورت دیکھے، دیکھیے یہاں پر الحامل آیا اور الحامل لفظ، اور اس کے ساتھ مونث کے لیے گول تا ساتھ نہیں ملائی گئی، الحاملۃ نہیں کہا گیا، کیونکہ تا کے ذریعے فرق کیا جاتا ہے بَيْنَ الْمُذَكَّرِ وَالْمُؤَنَّثِ، لیکن یہ وصف خاص ہے عورت کے ساتھ، حاملہ کون ہوتی ہے؟ عورت ہوتی ہے صرف، اس لیے یہاں تا کے ذریعے بھی فرق کرنے کی ضرورت نہیں۔ ہاں البتہ جیسا میں نے آپ کو بتایا تھا اگر حامل کا معنی بوجھ اٹھانے والا، وزن اٹھانے والا، اس معنی میں بھی یہ لفظ استعمال ہوتا ہے تو پھر وہاں پر مذکر اور مونث کا فرق تا کے ساتھ کیا جائے گا۔ مونث کے لیے تا آئے گی، مذکر کے لیے تا نہیں آئے گی۔ تو کہتے ہیں: وَالدَّمُ الَّذِي تَرَاهُ الْحَامِلُ ابْتِدَاءً، اور وہ خون جسے حاملہ عورت دیکھے ابْتِدَاءً، ابتدا میں یعنی حمل کے دنوں میں دیکھے ولادت سے پہلے۔ تو یہ سارا وقت ابتدائے حمل سے لے کر بچے کی پیدائش تک یہ سارا اس میں داخل ہو گیا، یہ مراد ہے ابتداءً سے، جس کو حاملہ کب دیکھے؟ ابتدا میں دیکھے یعنی بچے کی پیدائش سے پہلے دیکھے، أَوْ حَالَ وِلَادَتِهَا، یا ولادت کی حالت میں دیکھے، قَبْلَ خُرُوجِ الْوَلَدِ، بچے کے نکلنے سے پہلے، اسْتِحَاضَةٌ، وہ استحاضہ ہے۔ وہ کیا ہے؟ استحاضہ ہے۔ بھئی یاد رکھیے جب کوئی عورت حاملہ ہو تو حالتِ حمل میں حیض نہیں آتا بھئی، حیض، کیونکہ حیض کا خون جو ہے وہ رحم سے آتا ہے اور جب حمل ٹھہر جاتا ہے تو رحم کا منہ بند ہو جاتا ہے کیونکہ جو رحم ہے اس کی مثال انہوں نے ذکر کی تھی جیسے ایک الٹا گھڑا ہو، الٹا مٹکا۔ اب اس کے اندر بچے کی پیدائش ہوئی تو بچہ ہے اس کے اندر تو اس کے اندر تو چیز نہیں ٹھہرے گی جب الٹی ہو مگر یہ کہ اس کا منہ کیا ہو جائے؟ بند ہو جائے، پھر ہی اس کے اندر وہ حمل ٹھہرے گا بھئی۔ تو لہٰذا حمل کی حالت میں حیض نہیں آتا۔ تو اس دوران اگر کوئی خون آئے تو وہ حیض نہیں کہیں گے اسے بلکہ وہ دراصل کیا ہے؟ استحاضہ ہے کیونکہ رحم کا منہ تو بند ہے بھئی۔ اور اسی طرح بچہ نکلنے سے پہلے، اس وقت تک رحم کا منہ بند ہے تو وہ سارا کیا شمار ہو گا؟ استحاضہ ہی شمار ہو گا۔ اسی لیے کہا کہ وہ خون جسے حاملہ ابتدا میں دیکھے یا بچے کی پیدائش کی حالت میں دیکھے اس کے نکلنے سے پہلے تو وہ استحاضہ ہے۔ وَإِنْ كَانَ مُمْتَدًّا، اگرچہ وہ لمبا ہی ہو۔ ممتد کا کیا معنی؟ طویل ہو، لمبا ہی کیوں نہ ہو۔ بھئی دیکھیے اس سے پہلے حیض کے بارے میں آپ نے پڑھا کہ عورت جیسے ہی خون کو دیکھے تو کیا فوراً اس کو حیض قرار دیا جائے گا؟ نہیں، بلکہ کیا کیا جائے گا؟ تین دن تک دیکھا جائے گا، اگر تین دن پورے خون آیا تو پھر اس کو حیض کہیں گے ورنہ وہ کیا ہے؟ استحاضہ ہے۔ یہ تین دن تک کیوں دیکھتے ہیں؟ تاکہ، کیونکہ اس سے پہلے پتہ نہیں ہے کہ یہ خون کسی رگ سے آ رہا ہے یا رحم سے آ رہا ہے۔ تو تین دن تک مسلسل نکلا معلوم ہوا یہ کہاں سے آیا ہے؟ رحم سے آیا ہے تو پھر اس کو حیض کہا جاتا ہے۔ تو یہاں پر بھی اگرچہ وہ خون لمبا ہی کیوں نہ ہو جائے یعنی حیض کی مدت کو ہی کیوں نہ پہنچ جائے پھر بھی اس کو حیض نہیں کہیں گے۔ حمل کی حالت میں عورت نے خون دیکھا ابتدا میں یا بچے کے نکلنے سے پہلے، بچے کی پیدائش سے پہلے، یہ سارا استحاضہ ہی کہلائے گا اگرچہ یہ خون لمبا ہی کیوں نہ ہو یعنی حیض کی مدت کو ہی کیوں نہ پہنچ جائے یعنی تین یا تین سے زیادہ دن تک ہی کیوں نہ آ جائے پھر بھی اس کو حیض نہیں کہیں گے بلکہ اس کو کیا کہیں گے؟ استحاضہ کہیں گے کیونکہ میں نے وجہ ذکر کر دی کیونکہ جب بچہ ہے پیٹ میں تو رحم کا منہ کیا ہو جاتا ہے؟ بند ہو جاتا ہے، تو یہ خون معلوم ہوا اس سے نہیں آیا بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ وَإِنْ كَانَ مُمْتَدًّا، اگرچہ وہ خون لمبا ہی کیوں نہ ہو یعنی چاہے حیض کی مدت کو ہی کیوں نہ پہنچ جائے۔ وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى رَحْمَةً وَاسِعَةً: حَيْضٌ اعْتِبَارًا بِالنِّفَاسِ، اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ حیض ہے قیاس کرتے ہوئے نفاس پر۔ وہ اس کو نفاس پر قیاس کرتے ہوئے اسے حیض قرار دیتے ہیں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ إِذْ هُمَا جَمِيعًا مِنَ الرَّحِمِ، اس لیے کیونکہ یہ دونوں خون رحم سے آتے ہیں، حیض کا خون بھی اور نفاس کا خون بھی۔ اور نفاس کا خون تو آتا ہے بچے کی پیدائش کے بعد اور یہ اس سے پہلے ہے، لہٰذا اس کو کیا قرار دیتے ہیں وہ؟ حیض قرار دیتے ہیں بھئی، حیض قرار دیتے ہیں۔ وہ اس کو کس پر قیاس کرتے ہیں؟ نفاس پر۔ یاد رکھیے ایک مسئلہ آگے ذکر ہو گا۔ ایک عورت ہے اس کے ایک ہی حمل سے دو بچے ہوئے اور ایک بچے کی پیدائش ہوئی اور اس کے چند دن بعد پھر دوسرے بچے کی پیدائش ہوئی۔ تو پہلے بچے کی پیدائش کے بعد جو خون آئے وہ کیا ہے؟ نفاس ہے بھئی، شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک، وہ نفاس ہے۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہاں پر اس کے پیٹ میں ابھی بھی حمل ہے، ابھی بھی کیا ہے؟ حمل ہے، اور پھر بھی رحم سے خون آ رہا ہے، پھر بھی کس سے خون آ رہا ہے؟ رحم سے۔ تو حالتِ حمل میں بھی رحم سے خون آ سکتا ہے۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ ایک بچے کی پیدائش ہو گئی اس کے بعد جو خون آیا اس کو شیخین رحمہما اللہ کیا قرار دے رہے ہیں؟ نفاس قرار دے رہے ہیں حالانکہ ابھی بھی ایک بچہ جو ہے وہ پیٹ میں ہے، تو حمل ہے لیکن حمل ہونے کے باوجود خون جو نکل رہا ہے اس کو نفاس قرار دیا جا رہا ہے اور نفاس تو وہ خون ہوتا ہے جو رحم سے آتا ہے، معلوم ہوا یہ خون کس سے آ رہا ہے؟ رحم سے آ رہا ہے، معلوم ہوا حمل کی حالت میں بھی رحم سے خون آ سکتا ہے۔ رحم سے خون آ سکتا ہے۔ تو یہاں پر بھی بچے کی پیدائش سے پہلے یا ابتدا کی حالت میں عورت کو خون آتا ہے تو یہ خون رحم سے ہو سکتا ہے اور جب رحم سے خون ہے تو پھر اس کو کیا قرار دیا جائے گا؟ حیض قرار دیا جائے گا کیونکہ نفاس تو قرار نہیں دے سکتے وہ تو بچے کی پیدائش کے بعد ہوتا ہے۔ مسئلہ سمجھ میں آیا؟ دلیل ان کی سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ معنی ہے کہ وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: حَيْضٌ اعْتِبَارًا بِالنِّفَاسِ، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ حیض ہے قیاس کرتے ہوئے اس کو نفاس پر، إِذْ هُمَا جَمِيعًا مِنَ الرَّحِمِ، اس لیے کیونکہ یہ دونوں خون جو ہوتے ہیں رحم سے ہوتے ہیں۔ وَلَنَا، اور ہماری دلیل یہ ہے: أَنَّ بِالْحَبَلِ يَنْسَدُّ فَمُ الرَّحِمِ كَذَا الْعَادَةُ، کہ حبل سے، حبل حمل کو کہتے ہیں، کہ حمل کی وجہ سے يَنْسَدُّ فَمُ الرَّحِمِ، انسد ینسد کے معنی بند ہو جانا، حمل کی وجہ سے رحم کا منہ بند ہو جاتا ہے كَذَا الْعَادَةُ اسی طرح عادت ہے۔ عام طور پر اسی طرح ہوتا ہے کہ کیا؟ جب حمل عورت کو ٹھہر جائے تو رحم کا منہ بند ہو جاتا ہے۔ وَالنِّفَاسُ بَعْدَ انْفِتَاحِهِ بِخُرُوجِ الْوَلَدِ، اور نفاس جو ہوتا ہے وہ اس رحم کا منہ کھلنے کے بعد ہوتا ہے بِخُرُوجِ الْوَلَدِ، بوجہ بچے کے نکلنے کے، اس کی پیدائش کے۔ بھئی دیکھیے جب عورت حاملہ ہوئی تو رحم کا منہ بند ہو گیا اور جب رحم کا منہ بند ہوا تو اس دوران جو خون آیا معلوم ہوا وہ رحم سے نہیں آ رہا کیونکہ اس کا منہ بند ہے، اور ہاں جب بچے کی پیدائش ہوتی ہے تو رحم کا منہ کھل جاتا ہے بچے کے نکلنے کی وجہ سے، اور جب منہ کھل گیا اب جو خون آیا معلوم ہوا وہ کہاں سے آ رہا ہے؟ رحم سے آ رہا ہے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو نفاس جو ہوتا ہے بَعْدَ انْفِتَاحِهِ بِخُرُوجِ الْوَلَدِ، وہ اس رحم کا منہ کھلنے کے بعد ہوتا ہے اس بچے کے نکلنے کی وجہ سے۔ وَلِهَذَا كَانَ نِفَاسًا بَعْدَ خُرُوجِ بَعْضِ الْوَلَدِ، اسی لیے وہ خون نفاس ہو گا بعضِ ولد کے نکلنے کے بعد۔ بھئی بچے کی پیدائش ہو رہی ہے، کچھ بچے کی پیدائش ہو چکی، کچھ نکل چکا ہے، اس حالت میں بھی جو خون آئے اس کو کیا کہیں گے؟ نفاس۔ اگرچہ ابھی پورا بچہ نکلا نہیں، پورے بچے کی پیدائش نہیں ہوئی، لیکن کچھ بچہ نکل چکا، جب کچھ نکلا ہے معلوم ہوا رحم کا منہ کھل چکا ہے، جب رحم کا منہ کھل گیا تو اب جو خون آ رہا ہے معلوم ہوا کہاں سے آ رہا ہے؟ رحم سے آ رہا ہے، لہٰذا اس کو کیا قرار دیا جائے گا؟ اس کو نفاس قرار دیا جائے گا۔ اور اسی لیے وہ نفاس ہوتا ہے بَعْدَ خُرُوجِ بَعْضِ الْوَلَدِ، بعض بچے کے نکلنے کے بعد، فِيمَا يُرْوَى عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى، اس روایت میں جو مروی ہے طرفین رحمہما اللہ سے، لِأَنَّهُ يَنْفَتِحُ، اس لیے کیونکہ رحم کا منہ جو ہے وہ کھل جاتا ہے، فَيَتَنَفَّسُ بِهِ، أَيْ: فَيَتَنَفَّسُ بِالدَّمِ، تو وہ خون اگلتا ہے، خون ڈالتا ہے، رحم کا منہ کھل جاتا ہے تو وہ خون اگلتا ہے، خون نکلتا ہے اس میں سے۔ کیا دلیل ہوئی؟ امام شافعی رحمہ اللہ کیا فرماتے تھے؟ یہ حیض ہے، کس پر قیاس کیا تھا؟ نفاس پر۔ اور میں نے مسئلہ ذکر کر دیا کہ وہ جو دو بچوں میں سے ایک کی پیدائش کے بعد جو خون آتا ہے اس کو کیا ہم کہتے ہیں؟ نفاس کہتے ہیں، معلوم ہوا ابھی حالانکہ حمل پیٹ میں ہے ایک بچہ، لیکن پھر بھی معلوم ہوا رحم سے خون نکل سکتا ہے تو وہ بچے کی پیدائش کے بعد ہے اس لیے آپ نے اس کو نفاس قرار دیا اور یہاں بھی بچے کی پیدائش نہیں ہوئی لیکن خون آیا ہے تو اور حمل کے ہوتے ہوئے بھی خون آ سکتا ہے رحم سے، لہٰذا اس کو کیا قرار دیں گے؟ حیض قرار دیں گے۔ دلیل ہماری گزر گئی، ہم کہتے ہیں نہیں، ایسا ہو ہی نہیں سکتا، عادۃً ایسا نہیں ہوتا کیونکہ جب عورت کو حمل ٹھہر جاتا ہے تو رحم کا منہ بند ہو جاتا ہے، اور وہاں پر ہم نے نفاس کیوں قرار دیا تھا؟ کیونکہ وہاں ایک بچے کی پیدائش ہو گئی تھی، جب ایک بچہ نکل آیا معلوم ہوا رحم کا منہ کھل چکا ہے، اب جو خون آیا ہے وہ کہاں سے آیا ہے؟ رحم سے آیا ہے اس لیے ہم نے وہاں پر نفاس قرار دیا تھا اور یہاں تو ایسا نہیں ہے اور رحم کا منہ بند ہے، لہٰذا اب جو خون آئے گا معلوم ہوا وہ رحم سے نہیں آیا وہ کسی رگ وغیرہ سے آیا ہے تو اس کو استحاضہ قرار دیا جائے گا نہ کہ حیض۔ دلیل سمجھ میں آ گئی بھئی؟ وَالسِّقْطُ الَّذِي اسْتَبَانَ بَعْضُ خَلْقِهِ وَلَدٌ، سقط کہتے ہیں ناتمام بچہ، نامکمل بچہ۔ الَّذِي اسْتَبَانَ، استبان کے معنی ظاہر ہونے کے، وہ نامکمل بچہ کہ ظاہر ہو چکی ہو بَعْضُ خَلْقِهِ اس کی بعض پیدائش، وَلَدٌ وہ بھی بچہ ہے بھئی یعنی اسی کے حکم میں ہے۔ بھئی مسئلہ یہاں سے یہ بتلانا چاہتے ہیں، اوپر تو انہوں نے آپ کو بتا دیا کہ بچے کی پیدائش کے بعد جو خون آئے گا وہ نفاس ہے بھئی، نفاس، اور وہاں نفاس کے احکامات لگیں گے اور اس سے پہلے جو خون آیا وہ استحاضہ ہے اور وہاں استحاضہ کے احکامات لگیں گے بھئی۔ اب ایک عورت ہے اس کو ناتمام بچے کی پیدائش ہوئی بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ ناتمام بچے کی پیدائش ہو گئی وقت سے پہلے ہی، تو اب اس کے بعد جو خون آیا کیا اس کو نفاس قرار دیں گے یا اس کو استحاضہ قرار دیں گے؟ تو ذکر کر رہے ہیں کہ اگر اس بچے کی کچھ خلقت ہو چکی ہے، کچھ یعنی اس کے اعضا وغیرہ بن گئے ہیں تو پھر یہ بچے کے حکم میں ہے۔ یہ جو ناتمام بچہ ہے یہ بھی کس کے حکم میں ہے؟ بچے کے حکم میں ہے، اور بچے کی پیدائش کے بعد جو خون آتا ہے وہ تو نفاس ہوتا ہے لہٰذا اب جو خون آئے اس کو بھی کیا کہیں گے؟ نفاس۔ اور اگر اس بچے کی کچھ خلقت بھی نہیں مکمل ہوئی بلکہ صرف گوشت کا ایک لوتھڑا ہے تو پھر یہ بچے کے حکم میں نہیں ہے۔ پھر اس کے بعد جو خون نکلے گا اس کے اندر پھر غور کیا جائے گا: اگر وہ حیض کی مدت کو پہنچتا ہے تو کیا کریں گے؟ حیض کی صورت اگر وہاں بنتی ہے، طہر وغیرہ گزرا ہے اور حیض کی مدت کو وہ خون پہنچا ہے تو اس کو حیض قرار دیں گے اور اگر حیض کی مدت کو نہیں پہنچتا تو پھر اس کو کیا قرار دے دیں گے؟ استحاضہ۔ مسئلہ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ وَالسِّقْطُ الَّذِي اسْتَبَانَ بَعْضُ خَلْقِهِ وَلَدٌ، اور وہ ناتمام بچہ کہ جس کی بعض خلقت جو ہے ظاہر ہو چکی ہو یعنی بعض اعضا بن چکے ہوں، وَلَدٌ، وہ بھی کیا ہے؟ بچہ ہے، حَتَّى تَصِيرَ بِهِ نُفَسَاءَ، یہاں تک کہ ہو جائے گی اس کی وجہ سے عورت نفاس والی۔ جس کو نفاس ہو اس کو کہتے ہیں نُفَسَاء۔ تو وہ عورت نفاس والی ہو جائے گی، وَتَصِيرَ الْأَمَةُ أُمَّ وَلَدٍ بِهِ، اور باندی اس کی وجہ سے ام ولد ہو جائے گی، وَكَذَا الْعِدَّةُ تَنْقَضِي بِهِ، اور اسی طرح عدت جو ہے اس کی وجہ سے پوری ہو جائے گی۔ تو یہ بھی بچے کے حکم میں ہے، لہٰذا اس کی وجہ سے عورت کیا بن جائے گی؟ نفاس والی ہو جائے گی۔ وَتَصِيرُ الْأَمَةُ أُمَّ وَلَدٍ بِهِ، اور اس کی وجہ سے باندی ام ولد بن جائے گی۔ بھئی آپ جانتے ہیں کہ باندی سے جو اولاد ہو آقا کی اور پھر آقا اس کا دعویٰ بھی کر دے کہ یہ میری اولاد ہے تو یہ باندی ام ولد کہلاتی ہے۔ کیا کہلاتی ہے؟ ام ولد کہلاتی ہے، اور آزادی اس عورت کا، اب اس باندی کا حق ہو گیا کیونکہ یہ آقا کے بچے کی ماں ہے، لہٰذا آقا کے مرتے ہی یہ آزاد ہو جائے گی۔ لیکن اس میں یہ ضروری ہے کہ آقا دعویٰ بھی کرے کہ یہ میری اولاد ہے، جب تک آقا یہ دعویٰ نہیں کرتا اور اقرار نہیں کرتا اس وقت تک یہ ام ولد نہیں کہلائے گی بھئی۔ تو یہاں پر بھی انہوں نے کہا کہ یہ جو ناتمام بچہ ہے یہ بچے کے حکم میں ہے اور وہی احکامات لاگو ہوں گے تو جب بچہ ہوا، یہ ناتمام بچہ بھی کس کے حکم میں؟ بچے کے حکم میں، اور جب اس میں بھی آقا کہہ دے کہ یہ حمل مجھ سے تھا، یہ حمل کس سے تھا؟ تو یہ باندی ام ولد بن جائے گی، اگرچہ ناتمام بچہ تھا لیکن جب آقا نے کہہ دیا یہ حمل مجھ سے تھا تو یہ کیا بن جائے گی؟ ام ولد، اس ناتمام بچے کی وجہ سے ام ولد بن جائے گی بھئی۔ تو آقا کا دعویٰ ضروری، اسی لیے انہوں نے بین السطور لکھا: إِنِ ادَّعَاهُ الْمَوْلَى، اگر آقا کیا کرے اس کا؟ دعویٰ کرے۔ یہ معنی ہے: وَتَصِيرُ الْأَمَةُ أُمَّ وَلَدٍ بِهِ، اور باندی جو ہے اس بچے کی وجہ سے ام ولد ہو جائے گی، وَكَذَا الْعِدَّةُ تَنْقَضِي بِهِ، اور اسی طرح اس کی وجہ سے عدت گزر جائے گی، پوری ہو جائے گی۔ آپ جانتے ہیں حاملہ عورت کی عدت وضع حمل ہے۔ کوئی شخص ہے، عام عورت ہے، غیر حاملہ ہے بیوی اس کی، اس کو طلاق دیتا ہے تو کتنی عدت ہے اس پر بھئی؟ جی؟ تین حیض گزارے گی، اس کے بعد وہ آگے کہیں نکاح کر سکتی ہے، اس سے پہلے نکاح نہیں کر سکتی بھئی، تفصیل تو آپ جانتے ہوں گے لیکن یہ عام عورت جس کو حیض آتا ہے اس میں وہ تین حیض گزارے گی۔ لیکن اگر وہ حاملہ تھی تو پھر اس صورت میں اس کی عدت وضع حمل ہے، جب تک یہ بچے کی پیدائش نہیں ہو جاتی اس وقت تک یہ عورت کہیں آگے نکاح نہیں کر سکتی، عدت پوری نہیں ابھی۔ تو جیسے ہی بچے کی پیدائش ہو گی اس کی عدت پوری ہو جائے گی بھئی۔ تو یہاں پر بھی یہ جو ناتمام بچہ ہے کس کے حکم میں ہے؟ بچے کے حکم میں ہے، لہٰذا اگر اس پر عدت تھی تو وہ عدت اس کی پیدائش سے پوری ہو جائے گی۔ مسئلہ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ اور عوام میں ایک بات جو بڑی مشہور ہے کہ حالتِ حمل میں ہو، مسئلہ آ کر پوچھتے ہیں کہ خاوند نے طلاق دی، بیوی حاملہ تھی۔ وہ سمجھتے ہیں شاید حالتِ حمل میں طلاق ہوتی نہیں۔ حالانکہ طلاق تو حالتِ حمل میں بھی ہو جاتی ہے، مذاق کے اندر بھی خاوند طلاق کہے، اور پھر خاوند بیوی کے سامنے بھی کہنا نہیں ضروری، کہیں خلوت کے اندر بھی اگر کہہ دیتا ہے تب بھی طلاق ہو جائے گی بھئی۔ کاغذ پر کہتے ہیں لکھا تھا اور بیوی کو لکھا لیکن بھیجا نہیں، بھیجا نہیں تو کیا طلاق ہو گئی یا نہیں ہوئی؟ بھئی لکھ دیا تو بس طلاق ہو گئی، بیوی کو وہ کاغذ پہنچا یا نہ پہنچا، چاہے تنہائی میں اس نے لکھا کاغذ پر اور کاغذ کو پھاڑ کر پھینک دیا، بس بھئی طلاق ہو گئی۔ اب یہ اس عورت کے پاس جاتا ہے اگرچہ اور کسی کو بھی نہیں علم، صرف اللہ ہی جانتے ہیں کہ اس نے طلاق لکھی تھی، لیکن عورت مطلقہ ہو چکی ہے، اب اس کے پاس جاتا ہے مثلاً تین طلاقیں اس طرح لکھ دی تھیں اور عورت اس پر حرام ہو گئی بھئی، اب اس کے پاس جاتا ہے اس سے قربت کرتا ہے تو یہ سب زنا ہے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ جی، تو یہ لوگ مسائل پوچھتے ہیں اس طرح کے، یہ آپ یاد رکھیے ہمیشہ بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَكَذَا الْعِدَّةُ تَنْقَضِي بِهِ، اور اسی طرح عدت جو ہے اس سے پوری ہو جاتی ہے۔ وَأَقَلُّ النِّفَاسِ لَا حَدَّ لَهُ، یہاں سے اب مدتِ نفاس بیان کر رہے ہیں۔ آپ کو بتلائیں گے کہ نفاس کی زیادہ سے زیادہ مدت چالیس دن ہے اور کم سے کم مدت کی کوئی حد نہیں۔ ایک دن بھی ہو سکتا ہے، ایک دن سے کم بھی ہو سکتا ہے، چند لمحے بھی ہو سکتے ہیں، صورت سمجھ میں آ گئی؟ ہاں تو چاہے خون تھوڑی دیر کے لیے آیا اور پھر رک گیا تو بس نفاس ختم ہوا، لیکن عورتیں کیا کرتی ہیں؟ چالیس دن تک ہی وہ سمجھتی ہیں کہ ہم نفاس والیاں ہیں حالانکہ نہیں۔ جیسے ہی خون رکا وہ کیا ہو گئیں؟ پاک ہو گئیں، ہاں اگر پھر خون شروع ہو جائے وہ الگ بات ہے، خون بالکل ہی رک گیا، بند ہو گیا، بس جب خون رکا عورت کیا ہو گئی؟ نفاس ختم ہوا، لہٰذا اب غسل کرے گی اور نماز وغیرہ پڑھے گی بھئی، نماز وغیرہ۔ ہاں اگر پھر خون آ رہا ہے، کچھ دیر رکا ہے پھر آ گیا، پھر تو ابھی نفاس جاری ہے، وہ الگ صورت۔ تو اقل کی کوئی مدت نہیں ہے۔ وَأَقَلُّ النِّفَاسِ لَا حَدَّ لَهُ، اور کم سے کم جو نفاس ہے اس کی کوئی حد نہیں، لِأَنَّ تَقَدُّمَ الْوَلَدِ عَلَمُ الْخُرُوجِ مِنَ الرَّحِمِ فَأَغْنَى عَنِ امْتِدَادٍ جُعِلَ عَلَمًا عَلَيْهِ بِخِلَافِ الْحَيْضِ۔ تو ہدایہ کی فصیح و بلیغ عبارات چل رہی ہیں بھئی، صاحبِ ہدایہ بڑی مختصر عبارت کے اندر بڑی لمبی بات کہہ جاتے ہیں۔ دیکھیے اب بھئی: لِأَنَّ تَقَدُّمَ الْوَلَدِ عَلَمُ الْخُرُوجِ مِنَ الرَّحِمِ فَأَغْنَى عَنِ امْتِدَادٍ جُعِلَ عَلَمًا عَلَيْهِ بِخِلَافِ الْحَيْضِ، کتنی مختصر عبارت میں کتنی لمبی بات کر گئے۔ بھئی دیکھیے حیض کے اندر ایک عورت ہے اس کو جیسے ہی خون آتا ہے آپ اس پر کیا حیض کا حکم فوراً لگاتے ہیں؟ نہیں، بلکہ کیا کرتے ہیں؟ تین دن تک دیکھا جائے گا، تین دن مسلسل ہو گا تو پتہ چل جائے گا حیض ہے۔ تو معلوم ہوا وہاں پر خون کا لمبا ہونا ضروری ہے، یہ خون کا لمبی مدت تک یعنی تین دن تک آنا یہ علامت ہے اس بات کی کہ یہ خون کہاں سے آ رہا ہے؟ رحم سے آ رہا ہے، لہٰذا اب اس کو حیض قرار دیا جائے گا کیونکہ علامت سے ہی پتہ لگے گا، ویسے تو پتہ ہمیں نہیں چل سکتا تو علامت یہ ہے۔ اور یہاں پر جو بھی جتنا بھی خون آئے چاہے تھوڑا ہی کیوں نہ ہو، چاہے تھوڑی دیر کے لیے آیا پھر بھی اس کو نفاس قرار دیں گے کیونکہ یہاں پر علامت موجود ہے کہ یہ خون رحم سے آیا ہے، اور وہ علامت کیا ہے؟ بچے کی پیدائش۔ جب بچے کی پیدائش ہوئی معلوم ہوا رحم کا منہ کھل گیا ہے اور معلوم ہوا یہ خون وہیں سے آ رہا ہے۔ اب جب بچے کی پیدائش کی علامت آ گئی تو اب وہ وقت کے لمبا ہونے کی علامت کی ضرورت نہیں ہے بھئی۔ پہلے تو وہ علامت تھی لیکن یہاں جب دوسری علامت موجود ہے تو اس امتدادی علامت کی ضرورت نہیں ہے بھئی، دلیل سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو چاہے تھوڑی دیر ہی کیوں نہ ہو اس کو کیا قرار دیں گے؟ نفاس قرار دیں گے، یہاں اس کا لمبی مدت کے لیے تین دن کے لیے ہونا بھی ضروری نہیں۔ یہ معنی ہے: لِأَنَّ تَقَدُّمَ الْوَلَدِ عَلَمُ الْخُرُوجِ، اس لیے کیونکہ بچے کا مقدم ہونا یعنی اس خون پر بچے کا مقدم ہونا یعنی جو بچے کی پیدائش ہوئی ہے، عَلَمُ الْخُرُوجِ مِنَ الرَّحِمِ، یہ علامت ہے رحم سے نکلنے کی بھئی، فَأَغْنَى، تو اس علامت نے بے پروا کر دیا عَنِ امْتِدَادٍ، دیکھو امتداد نکرہ آیا اور اس کے بعد جُعِلَ فعل آیا، نکرہ کے بعد فعل آئے تو اس کے لیے کیا بنتا ہے؟ صفت، اور موصوف صفت کا ترجمہ کیسے کرتے ہیں؟ موصوف سے پہلے ایسا یا ایسی کا لفظ، تو امتداد کا کیا معنی ہے؟ طویل ہونا، لمبا ہونا، طوالت یعنی۔ تو فَأَغْنَى عَنِ امْتِدَادٍ، تو اس بچے کے مقدم ہونے کی جو علامت ہے اس نے بے نیاز کر دیا عَنِ امْتِدَادٍ ایسی طوالت سے جُعِلَ عَلَمًا عَلَيْهِ جس کو اس پر نشانی قرار دیا گیا ہے۔ پہلے کیا نشانی تھی؟ حیض کے اندر خون کا ممتد ہونا تین دن تک، اب جب بچے کی پیدائش ہو گئی تو اس نشانی نے اس نشانی سے کیا کر دیا؟ بے نیاز کر دیا، اب اس نشانی کی ضرورت نہیں کہ تین دن انتظار کیا جائے، دیکھا جائے تین دن ہو جاتا ہے تو پھر حکم لگائیں گے یہ رحم سے ہے، تین دن سے کم ہے تو معلوم ہوا رحم سے نہیں ہے، بلکہ یہاں پر دوسری نشانی موجود ہے تو جب یہ نشانی موجود ہے تو اس نشانی کی طرف دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے، اس کی ضرورت ہی نہ رہی۔ یہ معنی ہے کہ فَأَغْنَى عَنِ امْتِدَادٍ جُعِلَ عَلَمًا عَلَيْهِ، تو اس بچے کے مقدم ہونے کی جو نشانی ہے اس نے بے نیاز کر دیا ایسی طوالت سے جس کو اس پر علم قرار دیا گیا ہے، بِخِلَافِ الْحَيْضِ، بخلاف کس کے؟ حیض کے، کہ وہاں پر اور کوئی نشانی نہیں ہے تو وہاں پر امتداد کو علامت قرار دیا جائے گا۔ وَأَكْثَرُهُ أَرْبَعُونَ يَوْمًا، اور زیادہ سے زیادہ نفاس کی مدت جو ہے وہ چالیس دن ہے، وَالزَّائِدُ عَلَيْهِ اسْتِحَاضَةٌ، اور وہ جو اس پر زائد ہے وہ استحاضہ ہے۔ دلیل کیا ہے بھئی زیادہ سے زیادہ چالیس دن کی؟ کہتے ہیں: لِحَدِيثِ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا، حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی حدیث کی وجہ سے۔ سَلَمَةَ، لام پر فتحہ پڑھنا بھئی۔ حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی حدیث کی وجہ سے، وہ فرماتی ہیں کہ أَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَقَّتَ لِلنُّفَسَاءِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا، وہ فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وقت مقرر فرمایا نفاس والی کے لیے أَرْبَعِينَ يَوْمًا، کتنے دن؟ چالیس دن بھئی، یہ حدیث دلیل ہے۔ وَهُوَ حُجَّةٌ عَلَى الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ فِي اعْتِبَارِ السِّتِّينَ، اور یاد رکھیے امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک نفاس کی زیادہ سے زیادہ مدت ساٹھ دن ہے، ساٹھ دن۔ تو صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: وَهُوَ حُجَّةٌ، یہ حدیث دلیل ہے عَلَى الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ، امام شافعی رحمہ اللہ کے خلاف فِي اعْتِبَارِ السِّتِّينَ، ساٹھ کا اعتبار کرنے میں۔ انہوں نے زیادہ سے زیادہ مدت کتنی معتبر کی ہے؟ ساٹھ دن، تو ان کے خلاف بھی یہ حدیث دلیل ہے کہ اس حدیث میں چالیس دن کا ذکر آیا ہے۔ وَلَوْ جَاوَزَ الدَّمُ الْأَرْبَعِينَ، اور اگر تجاوز کر جائے، بڑھ جائے خون الْأَرْبَعِينَ، چالیس دن سے، وَكَانَتْ وَلَدَتْ قَبْلَ ذَلِكَ، اور یہ عورت جو ہے یہ جنم دے چکی ہے اس سے پہلے بھی، اس کی اولاد ہو چکی ہے اس سے پہلے بھی، وَلَهَا عَادَةٌ فِي النِّفَاسِ، اور اس کی کوئی عادت ہے نفاس کے اندر، رُدَّتْ إِلَى أَيَّامِ عَادَتِهَا، تو اس کو لوٹایا جائے گا اس کے عادت کے ایام کی طرف۔ بھئی جس طرح حیض کے اندر عورت کی عادت ہوتی ہے اسی طرح نفاس کے اندر بھی عورت کی عادت ہوتی ہے۔ تو مثلاً ایک عورت ہے اس کو تیس دن تک خون آتا ہے بچے کی پیدائش کے بعد، تو ہر مرتبہ ہی تقریباً اس کو تیس دن ہی آئے گا۔ لیکن اگر کسی مرتبہ بچے کی پیدائش کے بعد تیس کے بجائے پینتیس دن آ گیا تو آپ اس پر کیا حکم لگائیں گے؟ جی شاباش، حالت بدل گئی، جب تک اس اکثر کے اندر اندر ہے، چالیس دن کے اندر اندر ہے تو ہم کیا کہیں گے؟ عادت بدل گئی بھئی، یہ نہ کہہ دینا کہ تیس دن نفاس ہے اور پانچ دن استحاضہ، بلکہ جب تک اس مدت کے اندر ہے تو ہم کہیں گے عادت بدل گئی۔ ہاں جب خون چالیس دن سے بھی بڑھ گیا، اب پتہ چلا کہ یہ استحاضہ ہے، جو زائد ہے وہ استحاضہ، اور باقی جو عادت سے زائد ہے مثلاً اسے تو تیس دن تک نفاس کا خون آتا تھا تو کہتے ہیں اب عادت کا اعتبار کریں گے اور یوں کہیں گے کہ تیس دن تک جو تھا وہ نفاس کا خون تھا اور اس کے بعد کون سا خون ہے؟ استحاضہ کا، لہٰذا یہ جو اگلے آخری دس دن تھے تیس کے بعد، ان ایام کی بھی عورت کے ذمے نمازیں وغیرہ باقی ہیں، ان کی اس کو قضا کرنا پڑے گی۔ مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟ یہ معنی ہے: وَلَوْ جَاوَزَ الدَّمُ الْأَرْبَعِينَ، اور اگر تجاوز کر جائے خون چالیس دن سے، وَكَانَتْ وَلَدَتْ قَبْلَ ذَلِكَ، اور اس سے پہلے وہ جنم دے چکی ہے، وَلَهَا عَادَةٌ فِي النِّفَاسِ، اور اس کی نفاس میں کوئی عادت ہے، رُدَّتْ إِلَى أَيَّامِ عَادَتِهَا، تو اس کو لوٹایا جائے گا اس کے عادت کے ایام کی طرف، لِمَا بَيَّنَّا فِي الْحَيْضِ، بوجہ اس کے جو ہم نے بیان کیا حیض کے اندر۔ اس وجہ سے جو ہم نے حیض میں بیان کی تھی۔ حیض میں کیا وجہ بیان کی تھی؟ حیض کے اندر انہوں نے دلیل ذکر کی تھی کہ حیض میں جو دس دن سے زائد خون آئے اس کو استحاضہ قرار دیتے ہیں تو جو عادت سے زائد ہے وہ بھی زائد ہے تو اس کو بھی کیا قرار دیا جائے گا؟ استحاضہ۔ جو اکثر مدت سے زائد ہو اس کو کیا قرار دیتے تھے؟ استحاضہ، تو جو عادت سے زائد ہو گا وہ بھی زائد ہے، دونوں کا ایک ہی حکم ہو گا، اس کو بھی کیا قرار دیں گے؟ استحاضہ۔ تو یہاں پر بھی جب چالیس دن سے خون بڑھ گیا تو چالیس دن سے جو زائد ہے وہ کیا ہے؟ استحاضہ، کیونکہ وہ خون ہے اور زائد ہے۔ تو اسی طرح جو چالیس سے پچھلے دن ہیں، عادت سے زائد ہیں وہ ایام، ان میں بھی جو خون ہے وہ خون ہے اور عادت سے زائد ہے، تو جیسے چالیس سے جو زائد ہوتا تھا وہ خون تھا اور زائد تھا تو جو عادت سے زائد ہے وہ بھی خون ہے اور زائد، تو جو چالیس سے زیادہ ہوتا تھا اس کو استحاضہ قرار دیتے تھے تو جو عادت سے زائد ہے وہ بھی زائد ہے اور خون ہے اس کو بھی کیا قرار دیا جائے گا؟ استحاضہ قرار دیا جائے گا۔ وَإِنْ لَمْ تَكُنْ لَهَا عَادَةٌ فَابْتِدَاءُ نِفَاسِهَا أَرْبَعُونَ يَوْمًا، اور اگر اس کی کوئی عادت نہیں ہے یعنی پہلا بچہ ہے، فَابْتِدَاءُ نِفَاسِهَا أَرْبَعُونَ يَوْمًا، تو اس کے نفاس کی ابتدا وہ کتنے دن ہے؟ چالیس دن ہے یعنی پورے چالیس دن ہی کو جو ہے اس کو نفاس قرار دیا جائے گا۔ کب؟ جب خون چالیس دن سے بڑھ گیا ہے تو سارے چالیس دن ہی کو نفاس قرار دیا جائے گا۔ لِأَنَّهُ أَمْكَنَ جَعْلُهُ نِفَاسًا، اس لیے کیونکہ اس کو نفاس قرار دینا ممکن ہے۔ اس کو نفاس قرار دینا ممکن کیونکہ نفاس کی بھی زیادہ سے زیادہ مدت حدیث کے اندر کیا آئی؟ چالیس، اور اس عورت کا خون چالیس دن سے بھی بڑھ گیا، تو چالیس دن کو نفاس قرار دیا جا سکتا ہے یا نہیں بھئی؟ دیا جا سکتا ہے، تو لہٰذا اس کو نفاس قرار دیں گے۔ فَإِنْ وَلَدَتْ وَلَدَيْنِ فِي بَطْنٍ وَاحِدٍ فَنِفَاسُهَا مِنَ الْوَلَدِ الْأَوَّلِ، صورتِ مسئلہ یہ: ایک عورت ہے اس نے ایک ہی پیٹ سے دو بچوں کو جنم دیا جس کو آپ جڑواں کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ جڑواں۔ تو ایک ہی پیٹ سے دو بچوں کے ہونے کا معنی یہ ہے کہ ان دو بچوں کے درمیان جو وقفہ ہے وہ چھ ماہ سے کم ہو۔ بھئی آپ جانتے ہیں حمل کی کم سے کم مدت چھ ماہ ہے، چھ ماہ کے اندر ایک کامل بچے کی پیدائش ہو سکتی ہے لیکن اس سے کم کے اندر نہیں۔ لہٰذا ایک عورت نے ایک بچے کو جنم دیا اور پھر چار پانچ ماہ بعد دوسرے بچے کو جنم دیا تو کیا کہیں گے؟ یہ ایک ہی حمل سے ہیں، کس سے ہیں؟ کیونکہ پانچ ماہ گزرے ہیں، پانچ ماہ میں تو دوسرا حمل ہو ہی نہیں سکتا، اس میں پورے بچے کی پیدائش نہیں ہو سکتی، معلوم ہوا یہ ایک ہی حمل تھا، ہاں اسی میں دو بچے بنے، ایک کی پیدائش پہلے ہو گئی، ایک کی پیدائش بعد میں ہو گئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو صورت یہ کہ ایک عورت ہے اس کے اسی طرح دو جڑواں بچے ہوئے لیکن ان کے درمیان کچھ دن کا یا کچھ دیر کا فرق آیا، اب نفاس کب سے شمار کریں گے؟ پہلے بچے کی پیدائش کے بعد جو خون شروع ہوا اسی سے نفاس شروع ہو جائے گا یا دوسرے بچے کی پیدائش کے بعد جو خون آئے گا وہ نفاس کہلائے گا؟ تو یاد رکھیے آپ کو بتائیں گے کہ شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ پہلے بچے کی پیدائش کے بعد ہی جو خون ہے وہ کیا ہے؟ نفاس ہے، اور اسی سے مدتِ نفاس کا اعتبار کریں گے۔ لہٰذا دوسرے بچے کی پیدائش اگرچہ چالیس دن بعد ہی کیوں نہ ہو، چالیس دن بعد دوسرے بچے کی پیدائش ہوئی لیکن نفاس تو پورا ہو گیا چالیس دن پر، لہٰذا اس سے آگے اب نفاس والے احکام نہیں لگیں گے۔ مسئلہ سمجھ میں آیا بھئی؟ فَإِنْ وَلَدَتْ وَلَدَيْنِ فِي بَطْنٍ وَاحِدٍ فَنِفَاسُهَا مِنَ الْوَلَدِ الْأَوَّلِ، اگر جنم دیا عورت نے دو بچوں کو ایک ہی بطن سے، ایک ہی پیٹ سے، فَنِفَاسُهَا مِنَ الْوَلَدِ الْأَوَّلِ، تو اس عورت کا نفاس جو ہے پہلے بچے سے ہے، عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُمَا اللَّهُ، شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک، وَإِنْ كَانَ بَيْنَ الْوَلَدَيْنِ أَرْبَعُونَ يَوْمًا، اگرچہ دونوں بچوں کے درمیان چالیس دن ہی کیوں نہ ہوں بھئی یعنی چالیس دن کا وقفہ۔ وَقَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ: مِنَ الْوَلَدِ الْأَخِيرِ، اور امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کا نفاس کب ہو گا؟ آخری بچے سے شمار ہو گا یعنی دوسرے بچے کی پیدائش سے اس کا نفاس شمار کیا جائے گا، وَهُوَ قَوْلُ زُفَرَ رَحِمَهُ اللَّهُ، اور یہی قول ہے امام زفر رحمہ اللہ کا بھی، وہ فرماتے ہیں دوسرے بچے سے نفاس کو شمار کیا جائے گا۔ دلیل کیا ہے امام محمد اور امام زفر کی؟ وہ فرماتے ہیں: لِأَنَّهَا حَامِلٌ بَعْدَ وَضْعِ الْأَوَّلِ، اس لیے کیونکہ یہ عورت حاملہ ہے بَعْدَ وَضْعِ الْأَوَّلِ، پہلے بچے کو جنم دینے کے بعد۔ پہلے بچے کو جنم دینے کے بعد ابھی بھی یہ عورت کیا ہے؟ حاملہ ہے، فَلَا تَصِيرُ نُفَسَاءَ، تو یہ نفاس والی نہیں بنے گی، كَمَا أَنَّهَا لَا تَحِيضُ، جیسے کہ اس کو حیض نہیں آتا۔ بھئی جب تک عورت حاملہ ہے اس کو حیض نہیں آتا، اسی طرح یہ عورت جو ہے ایک بچہ تو پیدا ہو گیا لیکن دوسرا بچہ ابھی پیٹ میں ہے تو یہ حاملہ ہے، اور حاملہ جیسے حیض نہیں آتا اسی طرح اس کو نفاس بھی نہیں، وہ بچے کی پیدائش کے بعد ہو گا اور وہ دوسرا بچہ جب پیدا ہو گا پھر نفاس ہو گا۔ دلیل سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ معنی ہے: فَلَا تَصِيرُ نُفَسَاءَ كَمَا أَنَّهَا لَا تَحِيضُ، کہ یہ نفاس والی نہیں ہو گی جیسے کہ اس کو حیض نہیں آتا۔ وَلِهَذَا تَنْقَضِي الْعِدَّةُ بِالْأَخِيرِ بِالْإِجْمَاعِ، اور اسی وجہ سے اس کی عدت پوری ہو گی آخری بچے سے بالإجماع۔ کس سے پوری ہو گی؟ بالإجماع آخری بچے سے اس کی عدت پوری ہو گی۔ صورت یہ: یہی عورت ہے فرض کریں جس کا ایک بچہ پہلے ہوا اور چند دن کے بعد دوسرا بچہ ہوا۔ اس کو فرض کریں خاوند نے طلاق دی تھی تو اس پر عدت تھی اور عدت کتنی ہے عورت کی، حاملہ کی؟ وضع حمل ہے، چنانچہ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ﴿وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ﴾، اور حمل والیاں جو ہیں ان کی عدت جو ہے وہ کہ وہ اپنے حمل کو جنم دے دیں۔ کس کو جنم دے دیں؟ اپنے حمل کو جنم دے دیں، یہ ہے ان کی عدت۔ تو بالإجماع اس پہلے بچے کی پیدائش سے اس عورت کی عدت پوری نہیں بلکہ عدت کب پوری ہو گی؟ جب دوسرے بچے کی پیدائش ہو جائے گی تب اس کی عدت پوری ہو گی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ جی، تو معلوم ہوا اعتبار کس کا ہے؟ دوسرے بچے کا ہے، لہٰذا نفاس کا شمار بھی کس سے ہو گا؟ دوسرے بچے سے ہو گا بھئی۔ مسئلہ سمجھ میں آیا بھئی؟ وَلَهُمَا، اور شیخین رحمہما اللہ کی دلیل یہ ہے: أَنَّ الْحَامِلَ إِنَّمَا لَا تَحِيضُ لِانْسِدَادِ فَمِ الرَّحِمِ عَلَى مَا ذَكَرْنَا، امام محمد رحمہ اللہ کیا فرماتے تھے؟ ان کی دلیل کیا تھی؟ کہ جیسے حاملہ کو حیض نہیں آتا اسی طرح یہ عورت ابھی بھی حاملہ ہے، اس کو جو خون آئے گا اس کو نفاس بھی، تو جیسے اس کو حیض نہیں آ سکتا اسی طرح نفاس بھی نہیں آ سکتا۔ شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ حاملہ کو حیض تو اس لیے نہیں آتا لِانْسِدَادِ فَمِ الرَّحِمِ، بوجہ رحم کا منہ بند ہو جانے کی وجہ سے، کیونکہ جب حمل ٹھہر گیا تو رحم کا منہ بند ہو گیا اس لیے اس کو حیض تو نہیں آ سکتا، عَلَى مَا ذَكَرْنَا، بوجہ اس کے جو ہم نے ذکر کر دیا کہ رحم کا منہ بند ہو جاتا ہے، وَقَدِ انْفَتَحَ بِخُرُوجِ الْأَوَّلِ، اور رحم کا منہ تو تحقیق کھل چکا ہے بِخُرُوجِ الْأَوَّلِ، کس وجہ سے؟ پہلے بچے کے نکلنے کی وجہ سے، وَتَنَفَّسَ بِالدَّمِ، اور اس نے خون اگلا ہے، خون ڈالا ہے، خون اس سے نکلا ہے، فَكَانَ نِفَاسًا، تو وہ کیا ہو گا؟ نفاس۔ امام محمد رحمہ اللہ کیا فرماتے تھے؟ کہ جیسے عورت کو حالتِ حمل میں حیض نہیں آ سکتا اسی طرح نفاس بھی نہیں آ سکتا، تو شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ حیض تو اس لیے نہیں آ سکتا حاملہ کو کیونکہ دورانِ حمل رحم کا منہ بند ہوتا ہے، اور یہاں پر اس کو آپ نفاس بھی اسی وجہ سے قرار نہ دیں یہ درست نہیں اس لیے کیونکہ یہاں پر پہلے بچے کی پیدائش کی وجہ سے رحم کا منہ کھل چکا ہے، معلوم ہوا اب یہ خون اسی سے آ رہا ہے تو اس کو کیا قرار دیا جائے گا؟ نفاس قرار دیا جائے گا۔ وَالْعِدَّةُ تَعَلَّقَتْ بِوَضْعِ حَمْلٍ مُضَافٍ إِلَيْهَا فَيَتَنَاوَلُ الْجَمِيعَ، اور باقی آپ نے کہا تھا کہ آخری بچے کے ساتھ عدت پوری ہو گی بالإجماع، معلوم ہوا اعتبار کس کا ہے؟ آخری بچے کا ہے، تو ہم جواب دیتے ہیں، شیخین رحمہما اللہ جواب دیتے ہیں کہ وہاں پر قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ﴿أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ﴾، وہ جنم دے دیں وہ عورتیں، کس کو جنم دے دیں؟ ﴿حَمْلَهُنَّ﴾، اپنے حمل کو۔ جب وہ اپنے حمل کو جنم دے دیں گی تو ان کی عدت پوری ہو جائے گی۔ اب بتائیے بھئی ایک عورت ہے اس کے ایک بچے کی پیدائش ہو گئی، ایک بچہ ابھی بھی پیٹ میں ہے تو آپ کیا کہیں گے؟ اس عورت نے اپنے حمل کو، پورے حمل کو جنم دے دیا یا بعضِ حمل کو ابھی جنم دیا ہے؟ بعضِ حمل، تو قرآن میں تو اللہ فرما رہے ہیں وہ جب اپنے حمل کو جنم دے دے، تو ابھی تو اپنے حمل کو پورا اس نے جنم نہیں دیا، تو جب اپنے حمل کو پورا جنم دے دیں گی تو اب کہیں گے کہ عورت نے اپنے حمل کو جنم دے دیا ہے۔ پہلے بچے پر تو کیا کہیں گے؟ بعضِ حمل کو جنم دیا، ابھی پورے حمل کو جنم نہیں دیا اس نے، ابھی بھی حمل پیٹ میں ہے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو وہاں پر ﴿حَمْلَهُنَّ﴾، حمل کی اضافت ہے ہُنَّ ضمیر کی طرف، ان عورتوں کی طرف کہ وہ جنم دے دیں اپنے حمل کو اور اس سے پھر مراد پورا حمل ہو گا، بعضِ حمل مراد نہیں، اور پورا حمل پہلے بچے کی پیدائش پر ہو گا یا دوسرے بچے کی؟ دوسرے بچے کی پیدائش پر ہو گا، اسی لیے وہاں پر بالإجماع دوسرے بچے کی پیدائش پر عدت کے پورا ہونے کا علماء فرماتے ہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ ہَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔