”وَالطُّهْرُ إِذَا تَخَلَّلَ بَيْنَ الدَّمَيْنِ فِي مُدَّةِ الْحَيْضِ فَهُوَ كَالدَّمِ الْمُتَوَالِي، قَالَ: هَذِهِ إِحْدَى الرِّوَايَاتِ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى، وَوَجْهُهُ أَنَّ اسْتِيعَابَ الدَّمِ مُدَّةَ الْحَيْضِ لَيْسَ بِشَرْطٍ بِالْإِجْمَاعِ، فَيُعْتَبَرُ أَوَّلُهُ وَآخِرُهُ كَالنِّصَابِ فِي بَابِ الزَّكَاةِ“. گزشتہ سبق میں حیض کے مسائل شروع ہوئے تھے اور آپ نے پڑھا کہ حیض وہ خون ہے جو ہر ماہ عورت کو آتا ہے اور اس کی کم سے کم مدت تین دن ہے اور زیادہ سے زیادہ دس دن ہے۔ اور حیض کے ایام میں عورت سے نماز ساقط ہو جاتی ہے، روزہ نہیں رکھ سکتی ان ایام میں، البتہ روزے کی قضا کرنا پڑے گی جبکہ نماز کی قضا بھی اس کے ذمے نہیں بھئی۔ اور اسی طرح ان ایام کے اندر خاوند اس سے صحبت نہیں کر سکتا اور وہ قرآن کی تلاوت نہیں کر سکتی وغیرہ۔ یاد رکھیے! ایامِ حیض کے اندر عورت کے لیے قرآن کی تلاوت جائز نہیں۔ اور اگر کوئی استانی ہے اس کو پڑھانے کی ضرورت ہے، میں نے بتلایا تھا وہ کیا کرے کہ دو دو تین تین لفظ جدا جدا کر کے پڑھائے، پوری آیت نہ پڑھے بھئی۔ اور نصف آیت بھی اگر کسی چھوٹی آیت کے برابر ہوتی ہے تو نصف بھی نہ پڑھے، بس یہی بہتر طریقہ ہے دو دو تین تین لفظ پڑھائے بھئی۔ اور اس میں پھر یاد رکھیے صرف قرآن کی تلاوت منع ہے، قرآن نہیں پڑھ سکتی۔ باقی ذکر و اذکار عورت کے لیے جائز ہیں بھئی: ”سُبْحَانَ اللَّهِ“، ”اَلْحَمْدُ لِلَّهِ“، ”لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ“، ”لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ“ اور اسی طرح درود شریف وغیرہ یہ سب چیزیں وہ پڑھ سکتی ہے بھئی۔ اور علماء نے، فقہاء نے لکھا ہے کہ ایامِ حیض کے اندر مستحب یہ ہے عورت کے لیے کہ جب نماز کا وقت آئے تو وضو کر کے کچھ دیر مصلے پر بیٹھ جایا کرے اور نماز کے بقدر کچھ ذکر وغیرہ کر لیا کرے تاکہ وہ نماز کی عادت چھوٹنے نہ پائے بھئی۔ طریقہ سمجھ میں آیا بھئی؟ نماز تو نہیں پڑھ سکتی لیکن اس کی عادت برقرار رہے تو اس وقت پھر وضو کر کے اور پھر مصلے پر بیٹھ کر کچھ دیر ذکر وغیرہ کر لیا کرے بھئی۔ ”وَالطُّهْرُ إِذَا تَخَلَّلَ“ آج طہرِ متخلل کا مسئلہ ہم پڑھیں گے بھئی، طہرِ متخلل۔ یاد رکھیے یہ طہر جو ہے، طہر، پاکی کا زمانہ، دو حیضوں کے درمیان کا جو پاکی کا زمانہ ہے اس کو طہر کہتے ہیں۔ اور پھر اس میں تفصیل یاد رکھیے، آگے یہ آپ کو بتلائیں گے بھی کہ طہر کی کم سے کم مدت پندرہ دن ہے اور زیادہ کی کوئی حد نہیں۔ تو یہ جو طہر ہے اگر کم سے کم پندرہ دن ہو تو اس کو طہرِ صحیح کہیں گے۔ لیکن اگر یہ پاکی کا زمانہ پندرہ دن سے کم ہو جائے مثلاً چودہ دن کا ہوا یا بارہ دن کا ہوا یا دس دن کا ہوا، تو یہ طہر، طہرِ فاسد ہے بھئی، فاسد۔ اور یہ ہے طہرِ متخلل بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ طہرِ متخلل ہے، یہ جو طہرِ فاسد آیا۔ اور اس کا حکم آپ کو بتلائیں گے کہ یہ جاری خون کی طرح ہے۔ مثلاً بھئی ایک عورت نے ایک دن خون دیکھا، پھر آٹھ دن اس نے خون نہیں دیکھا بھئی، اور پھر ایک دن خون دیکھا، تو یہ سارا جاری خون کی طرح ہے اور یہ سمجھا جائے گا کہ گویا عورت کو دس دن مسلسل خون آیا۔ طہرِ متخلل کس کی طرح ہے بھئی؟ جاری خون کی طرح بھئی۔ حیض کے مسائل اچھی طرح سمجھ لیجیے، آگے اتنی تفصیل نہیں آئے گی بھئی۔ تو یہ ہے طہرِ متخلل بھئی۔ اور یوں سمجھا جائے گا بھئی دیکھا تو اس نے خون صرف پہلے دن اور دسویں دن، اور درمیان کے آٹھ دن خون آیا ہی نہیں، لیکن کیا سمجھا جائے گا اس کو؟ کس طرح سمجھا جائے گا؟ گویا دس دن مسلسل خون اسے آیا بھئی، مسلسل خون آیا۔ اور یہ سارے بیچ کے ایام بھی شامل ہیں، تو دس دن خون آیا۔ اور حیض کتنا، دس دن کا ہو سکتا ہے یا نہیں ہو سکتا؟ حیض کی اکثر مدت دس دن ہے، دس دن کا بھی حیض ہو سکتا ہے۔ تو اس سارے کو حیض شمار کیا جائے گا۔ اس سارے کو کیا شمار کریں گے؟ حیض شمار کریں گے۔ یہ ہے طہرِ متخلل۔ اور اگر وہ پاکی کا زمانہ پندرہ دن کا ہوا تو پھر یہ بہتے خون کے حکم میں نہیں ہے بلکہ یہ پاکی ہی کا زمانہ ہے اور پاکی کے زمانے میں تو عورت پر نماز، روزہ وغیرہ یہ سب چیزیں لازم ہوتی ہیں تو ان ایام میں بھی وہ چیزیں لازم ہوں گی بھئی۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ چلیے، اور وضاحت میں کر دیتا ہوں۔ یاد رکھیے یہ حیض میں ہر عورت کی عادت مقرر ہوتی ہے۔ مثلاً ایک عورت ہے ایک مہینے چھ دن خون اس نے دیکھا، تو اگلے مہینے بھی اسی طرح ہو گا، چھ دن ہی اس کے حیض کے ہوں گے۔ اس سے اگلے مہینے بھی اس کے چھ دن اسی طرح حیض کے ہوں گے بھئی۔ یہ عورتوں کی عادت ہوتی ہے ان کو علم ہوتا ہے بھئی۔ تو کسی کو چار دن حیض کی عادت، کسی کے پانچ دن، کسی کے چھ دن بھئی۔ اور آپ پڑھ چکے کم سے کم مدت کتنی ہے حیض کی؟ تین دن۔ زیادہ سے زیادہ کتنی ہے؟ دس دن ہے۔ تو اس کے درمیان کی کوئی بھی عادت ہو سکتی ہے عورت کی۔ اور یہ عموماً جیسے عادت ہوتی ہے اسی کے مطابق آتا ہے۔ لیکن بعض اوقات عادت بدلتی بھی ہے۔ مثلاً ایک عورت ہے وہ ہر مہینے چار دن حیض کی عادت ہے اس کی، چار دن خون آتا ہے۔ لیکن ایک مہینہ ایسا آیا کہ اس نے پانچ دن خون دیکھا، تو اب آپ یہ نہ کہیں کہ چار دن حیض کے اور ایک دن استحاضہ کا، بلکہ یوں کہیں گے اس کی عادت بدل گئی۔ جب تک وہ خون تین اور دس کے درمیان ہے تو کہیں گے عادت بدل گئی۔ اس سے اگلے مہینے فرض کرو اسے سات دن خون آیا، پھر کہیں گے ہم کہ اس کی عادت بدل گئی، یہ سات کے سات دن کیا ہیں؟ حیض۔ اس سے اگلے مہینے اسے دس دن خون آیا، تو کیا کہیں گے ہم کہ اس کی عادت بدل گئی۔ تو چاہے عادت کبھی بدلے، چاہے ہر مہینے ہی بدلتی جا رہی ہے، لیکن جب وہ تین اور دس کے درمیان ہے اس کو کیا شمار کریں گے؟ حیض شمار کریں گے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اور اگر یہ خون دس دن سے بڑھ جائے، پھر سمجھ جائیں گے یہ استحاضہ ہے۔ یہ کیا ہے؟ زائد استحاضہ ہے۔ اب ایک عورت کی عادت ہے تو یہ جو دس دن سے بڑھ گیا تو اب آپ یہ نہ کہیں دس دن حیض کے اور مثلاً باقی زائد دن استحاضہ کے، بلکہ اس عورت کی پچھلی عادت کو دیکھا جائے گا۔ مثلاً اس عورت کی عادت تھی پانچ دن کی، تو وہ پانچ دن اس میں سے حیض شمار ہو گا اور باقی سارے کیا شمار ہوں گے؟ استحاضہ شمار ہو گا بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو پانچ دن حیض کے، پچھلی عادت کو دیکھا جائے گا۔ لہٰذا یہ پانچ، چھ، سات دن جو اوپر ہوئے، ان میں خون آ رہا تھا اور اس میں اس نے نمازیں وغیرہ نہیں پڑھی تھیں۔ جب دس سے اوپر چلا گیا اب پتہ چلا کہ استحاضہ ہے۔ پہلے تو پتہ ہی نہیں تھا، احتمال تھا دس پہ ہی رک جائے، دس پہ ہی رک جاتا تو سارا ہی کیا شمار ہوتا؟ حیض، اور ہم کیا کہتے؟ عادت بدل گئی۔ لیکن جب دس سے اوپر چلا گیا، پتہ چلا استحاضہ ہے بھئی۔ تو اب پچھلی عادت کو دیکھیں گے بھئی، پچھلی عادت کو۔ اور عادت تو کتنی تھی؟ پانچ دن۔ تو پانچ سے جو زائد دن ہیں ان میں ان کی نمازیں بھی اس کے ذمے ہیں۔ لہٰذا دس سے اوپر ہوتے ہی کیا کر لے؟ غسل فوراً کر لے اور اب نمازیں پڑھنا شروع کر دے، استحاضے کا جیسے آگے بیان بھی آئے گا، اس کے مطابق بھئی، ہر وقت کے لیے الگ وضو کرے گی۔ اور پچھلی نمازیں جو رہ گئیں، پانچ دن تو حیض تھا، پانچ دن جو تھا وہ اس نے نمازیں نہیں پڑھیں حیض سمجھ کر لیکن وہ تو کیا نکلا؟ استحاضہ معلوم ہوا، تو ان کی بھی اس کے ذمے قضا ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ ایک عورت ہے اس کو ہر مہینے مثلاً چار دن حیض آتا ہے، چار دن۔ پھر ایک مہینہ اس کو آٹھ دن حیض آیا۔ اس سے اگلے مہینے خون جاری ہوا دس دن سے اوپر چلا گیا۔ تو اب کیا کریں گے؟ پرانی عادت کو دیکھیں تو کتنا ہے؟ چار۔ پچھلے مہینے کی عادت کو دیکھیں تو کتنا حیض؟ آٹھ دن۔ یاد رکھیے پھر اس میں صرف پچھلے مہینے کو دیکھیں گے، اس سے پیچھے کو نہیں دیکھیں گے۔ پچھلے مہینے میں اس کو خون کتنا تھا؟ آٹھ دن، ہم کہیں گے آٹھ دن جب آیا تھا ہم نے اسی وقت کہا تھا عادت بدل گئی، کیونکہ دس کے درمیان ہے، تین اور دس کے درمیان۔ لہٰذا اب اس مہینے تو دس سے بھی اوپر چلا گیا، معلوم ہوا استحاضہ ہے، زائد۔ لیکن کتنا استحاضہ اور کتنا حیض؟ پچھلے مہینے میں کتنا تھا؟ آٹھ دن، تو اس میں سے بھی آٹھ دن حیض کے شمار ہوں گے، اس سے اگلے دن جو ہیں وہ استحاضہ کے شمار ہوں گے۔ مسئلہ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ اب طہرِ متخلل آیا بھئی، طہرِ متخلل میں نے بتلایا کہ جاری خون کے حکم میں ہے، جاری خون کے حکم میں۔ یہاں ایک قول متن میں ذکر ہو گا اور ایک قول آگے شرح کے اندر صاحبِ ہدایہ ذکر کریں گے۔ تو جو شرح کے اندر صاحبِ ہدایہ ذکر کریں گے اسی پر عمل کرتے ہیں فقہاء، مفتی حضرات، کیونکہ اس میں آسانی ہے، آسانی۔ اس کے مطابق یاد رکھیے کہ انہوں نے بتلایا، اقل، یہ آگے آپ کو بلکہ بتلائیں گے، اقلِ طہر جو ہے وہ پندرہ دن کا ہے۔ پندرہ دن سے اگر طہر کم ہوا تو یہ طہرِ متخلل ہو گا۔ اور یہ سارا کس کے حکم میں ہو گا؟ جاری خون کے حکم میں ہو گا۔ لہٰذا ایک عورت کی ہر مہینے عادت ہے مثلاً پہلی تاریخ سے لے کر پانچ تاریخ تک، یہ اس کے حیض کے ایام ہیں۔ اب اگلا مہینہ جب آیا تو پہلی تاریخ کو اس نے خون دیکھا ایک دن، پھر چودہ دن خون نہیں دیکھا، چودہ دن، پھر اس کے بعد ایک دن اس نے خون دیکھا۔ تو کیا سمجھا جائے گا؟ یہ بیچ میں جو طہر آیا یہ طہرِ متخلل ہے، بیچ میں آیا ہے دو خونوں کے۔ اور یہ طہرِ فاسد ہے اور یہ کس کے حکم میں ہے؟ جاری۔ گویا یوں سمجھا جائے گا: ایک دن پہلا، چودہ دن بیچ کے، اور ایک دن آخر کا، کتنے دن ہو گئے؟ سولہ۔ گویا اس عورت کو سولہ دن مسلسل خون آیا ہے، یوں سمجھا جائے گا بھئی، مسلسل۔ اب حساب لگائیں گے کہ اس میں سے حیض کیا ہے؟ اس میں سے استحاضہ کیا ہے؟ حیض کے ایام کی نمازیں ساقط، استحاضے کے ایام کی نمازیں پڑھنی پڑیں گی بھئی۔ اب آپ حساب لگائیں گے بھئی، کس کو دیکھیں گے؟ سولہ دن مسلسل خون آیا، معلوم ہوا استحاضہ، اتنا تو پتہ چل گیا۔ اب ہم نے حیض کا پتہ چلانا ہے، کس کو دیکھیں گے؟ پچھلے مہینے کو دیکھیں گے۔ پچھلے، عادت کو دیکھ لیں یا بالکل آخری، عادت اگر بدل رہی ہے تو پھر کس کو دیکھو؟ پچھلے، اور پچھلے مہینے میں کس تاریخ سے کس تاریخ تک حیض آیا تھا؟ ایک سے پانچ تک۔ لہٰذا اس مہینے کے اندر بھی یہ جو سولہ دن جاری خون کے حکم میں تھے یہ ایام، اس میں سے بھی پہلی تاریخ سے لے کر پانچ تاریخ تک ان کو کیا شمار کریں گے؟ حیض۔ ان پانچ دنوں میں پہلے دن خون تھا، اگلے چار دن میں خون نہیں ہے، لیکن یہ کس کے حکم میں ہے؟ جاری خون۔ لہٰذا ایک سے پانچ تک یہ کیا شمار ہو گا؟ حیض۔ لہٰذا ان دنوں کی نمازیں اس سے ساقط۔ اگرچہ خون رکنے کے بعد اس نے غسل کر کے فوراً ہی اگلے دن سے نمازیں شروع کر دی تھیں لیکن ان نمازوں کا بھی اعتبار نہیں، کیونکہ یہ تو کس کے ایام ہیں؟ حیض کے، لہٰذا یہ نمازیں اس سے ساقط ہو گئیں۔ ہاں، پانچ سے آگے چھٹا دن، سولہ تاریخ تک، یہ سارا استحاضہ ہے۔ اور استحاضہ کے ایام میں کیا کرنا پڑتی ہے؟ نماز، روزہ وغیرہ لازم ہے اس کے ذمے۔ لہٰذا پانچویں دن جب چھٹا دن آیا تو اب اس کے ذمے نمازیں آ گئیں۔ تو ان ایام میں اس نے اگر نمازیں پڑھی ہیں تو آپ فوراً یہ نہ کہہ دینا یہ نمازیں ہو گئیں، نہیں۔ پانچ کے بعد تو حیض ختم ہوا، پانچ تک تو کیا شمار ہے؟ حیض۔ اور حیض سے پاک ہونے کے لیے عورت کو کیا کرنا پڑتا ہے؟ غسل کرنا پڑتا ہے۔ اگر پانچ کے بعد اس نے غسل کر لیا تھا اور پھر نمازیں پڑھی تھیں تو وہ نمازیں صحیح ہو گئیں۔ اگر بغیر غسل کیے اس نے دو تین دن اور نمازیں پڑھ لی تھیں پھر یہ غسل اس نے کیا تھا تو وہ تین دن کی نمازیں بغیر غسل کے ہوئیں اور بغیر غسل کے تو وہ پاک ہی نہیں، نمازیں بھی نہیں ہوئیں، لہٰذا ان کی کیا کرنا پڑے گی؟ قضا کرنا پڑے گی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اچھی طرح؟ اچھا، اور ایک اور مثال دیکھ لیجیے بھئی تاکہ اور وضاحت ہو جائے۔ ایک عورت ہے مثلاً اس کی عادت ہے ہر مہینے کی چار تاریخ سے لے کر دس تک اسے حیض آتا ہے۔ یہ کتنے دن ہو گئے؟ چھ دن ہو گئے؟ سات دن ہو گئے۔ ہاں، اول آخر کا اعتبار کر لیں، چلیں سات دن بنا لیں۔ کتنا ہے؟ ہاں، تو یہ سات دن حیض کے ہوئے۔ کس تاریخ سے کس تاریخ تک؟ چار سے دس تک، یعنی چار ہی کو شروع ہو جاتا ہے اور دس کو بھی رہتا ہے، تو چار سے دس تک ہوا، یہ سات دن ہو گئے۔ اب اگلے مہینے کی یکم ہی کو اس نے خون دیکھ لیا، اور پھر دس دن تک خون نہیں دیکھا، اور پھر اس نے تین دن تک خون دیکھا۔ پہلی تاریخ کو بھی دیکھا اور پھر دس دن نہیں دیکھا اور پھر تین دن دیکھا، کتنے ہو گئے؟ چودہ دن۔ تو یہ بیچ میں دس دن خون نہیں دیکھا، اور طہر کی تو کم سے کم مدت کتنی ہے؟ پندرہ دن۔ تو یہ کون سا طہرِ صحیح ہوا یا فاسد ہوا؟ یہ طہرِ فاسد ہوا، تو یہ یوں سمجھا جائے گا گویا چودہ دن اسے مسلسل خون آیا ہے بھئی، چودہ دن۔ اب اس میں سے ہم نے حساب کرنا ہے کہ حیض کے ایام کون سے اور استحاضے کے ایام کون سے ہیں؟ حیض کے ایام کی نماز اس کے ذمے نہیں اور استحاضے کے ایام کی نمازیں اس کے ذمے ہیں بھئی۔ اس عورت کی عادت کیا تھی؟ چار سے دس تک۔ دس کو خون رکا تھا پچھلے مہینے اور پھر اب یکم کو آیا ہے، یعنی بیس دن بیچ میں خون نہیں آیا۔ جب بیس دن نہیں آیا معلوم ہوا یہ طہر صحیح ہے کیونکہ یہ پندرہ سے زائد ہے۔ لہٰذا ان کی تو بات ہی نہیں ہے بھئی، ان میں تو اس نے نماز وغیرہ پڑھی ہے۔ اب یکم سے خون آیا تھا اور کتنے دن ہم نے شمار کر لیے؟ چودہ دن گویا اس کو مسلسل خون آیا۔ اور اب ان میں سے حیض کا حساب لگانا ہے، تو حیض اسے کب آتا تھا؟ چار سے دس تک۔ لہٰذا ان چودہ دنوں میں سے بھی چار دن سے لے کر دس دن تک، یہ جو ایام ہیں یہ حیض کے ہیں۔ ان میں خون اس نے بالکل نہیں دیکھا لیکن یہ ایام کس کے ہیں؟ حیض، کیونکہ جاری خون کے حکم میں ہے۔ تو اس چار سے پچھلے تین دن، یکم کو اس نے خون دیکھا تھا، دو اور تین، ان تین دنوں میں استحاضہ تھا، اس کی نمازیں اس کے ذمے ہیں۔ نمازیں اس کے ذمے ہیں۔ پہلے دن خون آیا تھا اس نے نماز چھوڑ دی تھی، وہ بھی اس کے ذمے ہے۔ اور بعد میں بھی اگر اس نے غسل کیے بغیر پڑھی نہیں تو اس کے ذمے ہیں بھئی۔ اور سمجھ میں آیا؟ بعد میں غسل اس نے کر لیا ہو گا تو ان دنوں کی اگر پڑھی ہیں وہ نمازیں اس کی ہو گئیں بھئی۔ پھر اگلے چار سے دس تک کیا ہے؟ حیض۔ لہٰذا ان میں اگر اس نے پڑھی بھی ہیں لیکن یہ تو حیض کے ایام ہیں، نماز ان کا اعتبار نہیں۔ گیارہ، خون پھر کب دیکھا؟ ایک تاریخ کو دیکھا پھر کتنے دن نہیں دیکھا؟ پھر دس دن نہیں دیکھا، پھر تین دن دیکھا ہے، معلوم ہوا دو سے گیارہ تک خون نہیں آیا۔ بارہ، تیرہ، چودہ، پھر یہ تین دن خون آیا ہے، ٹھیک ہے؟ اب ان میں ایامِ حیض کون سے؟ چار سے لے کر دس تک۔ تو دس تک یہ ہیں حیض کے ایام، معلوم ہوا آگے گیارہ، بارہ، تیرہ، چودہ، یہ سارے کس کے ایام؟ استحاضہ، ان کی نماز اس کے ذمے ہے۔ اور اس میں بھی اگر اس نے نماز پڑھی بھی ہے، کس دن پڑھی ہے؟ گیارہ کو تو خون نہیں تھا، اس دن ہو سکتا ہے اس نے نماز پڑھی ہو گی، اس میں بھی اگر اس نے دس دن کے بعد غسل کر کے یہ نماز پڑھی تھی تو یہ نماز ہو گئی، ورنہ کیا کرنا پڑے گی اس کی بھی؟ قضا۔ اس گیارہویں دن کی نمازوں کی بھی قضا کرنا پڑے گی اور بارہ، تیرہ، چودہ کو جو خون دیکھا ہے اس میں بھی نمازیں اگر چھوڑی تھیں ان میں بھی کیا کرنا پڑے گی ان کی؟ قضا۔ مسئلہ سب کو اچھی طرح سمجھ میں آ گیا بھئی؟ تو یہ ہے طہرِ متخلل بھئی، طہرِ متخلل۔ کوئی بات ایسی تو نہیں جو سمجھ میں نہیں آئی؟ خوب وضاحت ہو گئی؟ جی، اب دیکھیے کتاب پر: ”وَالطُّهْرُ إِذَا تَخَلَّلَ بَيْنَ الدَّمَيْنِ فِي مُدَّةِ الْحَيْضِ فَهُوَ كَالدَّمِ الْمُتَوَالِي“ اور طہر جب وہ بیچ میں آ جائے دو خونوں کے ”فِي مُدَّةِ الْحَيْضِ“ مدتِ حیض کے اندر اندر ”فَهُوَ كَالدَّمِ الْمُتَوَالِي“ تو وہ جاری خون کی طرح ہے، متوالی جو پے در پے ہو، مسلسل، تو وہ کس کی طرح ہے؟ وہ طہر جو دو خونوں کے درمیان آئے ”فِي مُدَّةِ الْحَيْضِ“ کس کے اندر؟ مدتِ حیض کے اندر ”فَهُوَ كَالدَّمِ الْمُتَوَالِي“ وہ کس کی طرح ہے؟ جاری خون کی طرح ہے، مسلسل خون کی طرح ہے۔ بھئی یہاں متن میں قید آئی ”فِي مُدَّةِ الْحَيْضِ“، مدتِ حیض کے اندر اندر جو طہر آیا۔ مثلاً ایک دن خون دیکھا، پھر پانچ دن نہیں دیکھا، پھر ایک دن خون دیکھا۔ یہ کتنے دن ہو گئے؟ سات دن، اور یہ مدتِ حیض کے اندر ہے یا نہیں؟ مدتِ حیض تو کتنی ہے؟ دس دن۔ اس سارے کو جاری خون شمار کیا جائے گا اور اس سارے کو حیض شمار کیا جائے گا۔ پہلے دن خون دیکھا، پھر سات دن خون نہیں دیکھا، اور پھر ایک دن یا دو دن خون دیکھا، تو یہ بھی کیا ہے؟ ایک دن خون دیکھا پھر سات دن نہیں دیکھا، سات اور ایک آٹھ، پھر اس کے بعد مثلاً ایک دن اور خون دیکھا، کتنا ہوا؟ نو، تو یہ مدتِ حیض کے اندر اندر ہے۔ اس سارے کو کیا شمار کریں گے؟ حیض ہی شمار کریں گے۔ دمِ متوالی ہے، یہ جاری خون کی طرح ہے بھئی۔ متن کے قول کے مطابق جو مدتِ حیض کے اندر نہ ہو، یعنی ایک دن خون دیکھا، چودہ دن خون نہیں دیکھا، پھر ایک دن خون دیکھا، یہ سارا جاری خون کی طرح نہیں۔ کیونکہ یہ مدتِ حیض کے اندر ہے یا اس سے باہر نکل گیا؟ باہر نکل گیا، لیکن میں نے بتایا فتویٰ کس قول پر ہے جو کس میں ذکر کریں گے؟ شرح میں ذکر کریں گے، جو امام صاحب کا بھی قول ہے اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا بھی قول ہے۔ فرق سمجھ میں آ گیا دونوں قولوں میں؟ متن والے قول کے مطابق مدتِ حیض کے اندر اندر جو طہر آئے گا وہ ہے طہرِ متخلل، اور شرح والے قول کے مطابق جو طہر بھی پندرہ دن سے کم ہے وہ کیا ہے؟ طہرِ متخلل ہے اور وہ سارا جاری خون کے حکم میں ہے۔ ”قَالَ: هَذِهِ إِحْدَى الرِّوَايَاتِ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى“ صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں کہ یہ ایک روایت ہے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی روایتوں میں سے، امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے مروی روایتوں میں سے یہ ایک روایت ہے جو متن میں آئی ہے۔ ”وَوَجْهُهُ“ وجہ اس کی یہ ہے کہ جاری خون کی طرح، کیوں ہے یہ سارا؟ کہتے ہیں وجہ اس کی یہ ہے: ”أَنَّ اسْتِيعَابَ الدَّمِ مُدَّةَ الْحَيْضِ لَيْسَ بِشَرْطٍ بِالْإِجْمَاعِ“ کہ خون کا گھیر لینا، احاطہ کر لینا مدتِ حیض کا ”لَيْسَ بِشَرْطٍ“ یہ شرط نہیں ہے۔ حیض کے اندر یہ ضروری نہیں کہ خون سارے جتنے دن حیض کے ہیں ان سارے دنوں میں خون آئے، بالإجماع ان سارے دنوں میں خون کا آنا ضروری نہیں، شرط نہیں ہے۔ حیض میں ایسا ہی، کبھی خون آتا ہے کبھی رک جاتا ہے، کبھی پھر آتا ہے اور کبھی رک جاتا ہے، اور کبھی مسلسل رہتا ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو بالإجماع حیض کے دنوں میں خون کا مسلسل آنا اور خون کا سارے دنوں کا احاطہ کر لینا، گھیر لینا یہ شرط نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَوَجْهُهُ أَنَّ اسْتِيعَابَ الدَّمِ مُدَّةَ الْحَيْضِ لَيْسَ بِشَرْطٍ بِالْإِجْمَاعِ“ وجہ اس قول کی یہ ہے کہ خون کا احاطہ کر لینا مدتِ حیض کا یعنی سارے وقت کا یہ شرط نہیں ہے بالإجماع، ”فَيُعْتَبَرُ أَوَّلُهُ وَآخِرُهُ“ تو اعتبار کیا جائے گا اس کے اول اور آخر کا، خون کے اول اور آخر کا اعتبار کیا جائے گا ”كَالنِّصَابِ فِي بَابِ الزَّكَاةِ“ جیسے کہ نصاب تھا زکوٰۃ کے باب میں۔ زکوٰۃ کے مسائل میں آپ پڑھ چکے ہیں کہ اس میں نصاب کا کوئی شخص مالک ہو اور اس پر سال گزر جائے، یعنی شروع سال کے اندر نصاب کے بقدر مال اس کے پاس موجود تھا اور آخرِ سال میں بھی نصاب کے بقدر مال موجود ہے تو اس کو اس کی حساب کر کے زکوٰۃ دینا پڑے گی، درمیانِ سال میں اگرچہ مال نصاب سے کم ہی کیوں نہ ہو جائے۔ تو یہاں بھی اسی طرح ہے، اول اور آخر میں کیا ہونا چاہیے؟ خون ہونا چاہیے، درمیان میں اگر نہ بھی آئے تو اس میں کوئی حرج نہیں کیونکہ مسلسل خون آتا ہی نہیں ہے بالإجماع۔ ”وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے روایت ہے ”وَهُوَ رِوَايَةٌ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور یہی ایک روایت ہے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے بھی ”وَقِيلَ: هُوَ آخِرُ أَقْوَالِهِ“ اور کہا گیا ہے کہ یہ امام صاحب کے قولوں میں سے آخری ہے، یعنی ان کا آخری قول ہے، اور وہ کیا؟ وہ آگے یہ جو آ رہا ہے: ”أَنَّ الطُّهْرَ“ یہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے روایت ہے اور یہی امام صاحب کا کہتے ہیں آخری قول بھی ہے ”أَنَّ الطُّهْرَ إِذَا كَانَ أَقَلَّ مِنْ خَمْسَةَ عَشَرَ يَوْمًا لَا يَفْصِلُ“ کہ طہر جو ہے جب وہ پندرہ دن سے کم ہو ”لَا يَفْصِلُ“ تو وہ فصل نہیں کرے گا، یعنی فاصل نہیں بنے گا، جدائی نہیں کرے گا، بلکہ سارے کو کیا شمار کیا جائے گا؟ مسلسل خون شمار کیا جائے گا۔ طہر جب کب، پندرہ دن سے کم ہو۔ ایک عورت نے ایک دن خون دیکھا پھر چودہ دن خون نہیں دیکھا، پھر اس کے بعد ایک دن خون دیکھا، تو دیکھیے یہ طہر پندرہ دن سے کم ہے تو یہ فاصل نہیں بنے گا، ان دونوں خونوں کو الگ نہیں شمار کریں گے بلکہ گویا یہ سارا مسلسل اس کو خون ہی شمار کریں گے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے کہ ”أَنَّ الطُّهْرَ إِذَا كَانَ أَقَلَّ مِنْ خَمْسَةَ عَشَرَ يَوْمًا لَا يَفْصِلُ“ کہ طہر جب وہ پندرہ دن سے کم ہو تو وہ فصل نہیں کرے گا، جدائی نہیں کرے گا، یعنی فاصل نہیں بنے گا ”وَهُوَ كُلُّهُ كَالدَّمِ الْمُتَوَالِي“ اور وہ سارا کا سارا جو ہے کس کی طرح ہے؟ بہتے مسلسل خون کی طرح ہے ”لِأَنَّهُ طُهْرٌ فَاسِدٌ“ اس کے کیونکہ یہ طہرِ فاسد ہے ”فَيَكُونُ بِمَنْزِلَةِ الدَّمِ“ تو یہ کس کے درجے میں ہوا؟ خون ہی کے درجے میں ہوا ”وَالْأَخْذُ بِهَذَا الْقَوْلِ أَيْسَرُ“ اور لینا اس قول کو زیادہ آسان ہے، اس قول پر عمل کرنا زیادہ آسان ہے، اس کو لے لینا اور اس پر عمل کرنا، کیونکہ متن والے قول کو لیں تو مدتِ حیض کے اندر طہر ہے یعنی دس دن کے اندر اندر ہے تو وہ تو فاصل نہیں بنے گا لیکن اگر اس سے زیادہ ہو تو وہ کیا بن جائے گا؟ فاصل بن جائے گا۔ لیکن اس قول کو لیں تو پندرہ دن سے جو کم ہو گا وہ فاصل نہیں بنے گا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو اس میں آسانی ہے۔ ”وَتَمَامُهُ يُعْرَفُ فِي كِتَابِ الْحَيْضِ“ اور اس پورے کو جانا جائے گا کتاب الحیض سے بھئی، کس سے؟ یعنی وہ جو امام محمد رحمہ اللہ نے مبسوط کے اندر کتاب الحیض ذکر کی ہے وہاں اس کی ساری تفصیل مذکور ہے بھئی۔ ”وَأَقَلُّ الطُّهْرِ خَمْسَةَ عَشَرَ يَوْمًا“ اور طہر کی کم سے کم مدت جو ہے وہ پندرہ دن ہے ”هَكَذَا نُقِلَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى“ اسی طرح نقل کیا گیا ہے ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے جو جلیل القدر تابعی گزرے ہیں بھئی، ان سے نقل کیا گیا کہ طہر کی کم سے کم مدت کتنی ہے؟ پندرہ دن ہے۔ ”وَإِنَّهُ لَا يُعْرَفُ إِلَّا تَوْقِيفًا“ اور اس کو نہیں جانا جا سکتا مگر نص سے ہی۔ میں نے بتلایا تھا توقیف کا کیا معنی ہے؟ نص میں ہونا کسی چیز کا، نص کے اندر آنا، اور نص کسے کہتے ہیں؟ قرآن اور حدیث کو۔ تو صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں کہ حضرت ابراہیم نخعی رحمہ اللہ انہوں نے ذکر کیا کہ طہر کی کم سے کم مدت پندرہ دن ہوتی ہے اور یہ ایک ایسی چیز ہے جس کو بغیر سماع کے نہیں جانا جا سکتا، عقل کے ذریعے یہ بات کبھی بھی طے نہیں ہو سکتی کہ طہر کی کم سے کم مقدار کتنی ہے؟ پندرہ دن ہے۔ لیکن وہ فرما رہے ہیں کہ کم سے کم مدت کتنی ہے؟ پندرہ دن، معلوم ہوا انہوں نے کسی صحابیِ رسول سے سنا ہو گا اور صحابی نے سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہو گا۔ تو لہٰذا یہ کس کے درجے میں ہوا؟ قولِ مرفوع کے درجے ہی میں ہوا گویا، سماع پر ہی ہے یہ۔ ”وَلَا غَايَةَ لِأَكْثَرِهِ“ اور اکثر مدت کی کوئی انتہا نہیں، طہر کی کم سے کم مدت تو پندرہ دن ہے، زیادہ کی کوئی حد نہیں۔ چاہے ساری زندگی ہی خون آئے ہی نہ، سارے کو کیا شمار کریں گے؟ طہر، پاکی کے ایام ہی شمار کریں گے، تو زیادہ کی کوئی حد نہیں ہے۔ ”وَلَا غَايَةَ لِأَكْثَرِهِ“ اور اکثر کی کوئی انتہا نہیں ہے ”لِأَنَّهُ يَمْتَدُّ إِلَى سَنَةٍ وَسَنَتَيْنِ“ اس لیے کیونکہ طہر جو ہے وہ لمبا ہو جاتا ہے ایک سال تک اور دو سال تک بھی ”فَلَا يَتَقَدَّرُ بِتَقْدِيرٍ“ لہٰذا یہ مقرر نہیں ہو گا کسی اندازے سے ”إِلَّا إِذَا اسْتَمَرَّ بِهَا الدَّمُ“ مگر یہ کہ مسلسل آئے اس پر خون بھئی، اس عورت کو کیا آئے؟ مسلسل خون آئے۔ بھئی دیکھیے، طہر کی کم سے کم مدت ہے پندرہ دن، توجہ ہے سبق کی طرف؟ پندرہ دن ہے۔ زیادہ کی کوئی انتہا نہیں ہے، سال تک بھی ہو سکتا ہے، دو سال تک بھی طہر چل سکتا ہے، سارا طہر شمار ہو گا۔ ساری عمر بھی ایسا ہو سکتا ہے حیض آئے ہی نہ، سارا کیا شمار ہو گا؟ طہر شمار ہو گا کیونکہ اکثر مدت کی کوئی انتہا نہیں اس کے اندر بھئی۔ تو جب اکثر کی کوئی انتہا ہے ہی نہیں تو کسی اندازے سے یہ مقرر بھی نہیں ہو گا کیونکہ کوئی انتہا ہے ہی نہیں کہ مقرر کر لیا جائے۔ ہاں، جب عورت کو مسلسل خون آئے تو پھر اس صورت میں اندازے کے ساتھ مقرر کیا جائے گا۔ مثلاً ایک عورت بالغہ ہوئی اور بالغہ ہونے کے بعد اس نے مثلاً پانچ دن خون دیکھا، پانچ دن، اور اگلے مہینے جب خون شروع ہوا پھر رکا ہی نہیں مسلسل اب خون جاری ہے۔ تو اب اس کی عادت کا پتہ ہے، وہ پچھلے ایامِ عادت کی طرف ہم دیکھیں گے۔ پچھلے مہینے کتنے دن؟ پانچ دن، مثلاً ایک سے لے کر پانچ تاریخ تک اس کو خون آیا تھا تو آگے مسلسل خون جاری ہوا تو وہاں پر بھی ایک تاریخ سے لے کر پانچ تاریخ تک کیا شمار کریں گے؟ حیض، اور باقی ایام میں اگرچہ خون جاری ہے لیکن غسل کر کے وہ نمازیں پڑھے گی بھئی۔ نمازیں، کیسے ہو گا؟ دیکھو، دوسرے مہینے میں خون شروع ہوا پانچ دن پر رکنا چاہیے تھا لیکن رکا نہیں، چھٹے دن بھی آ رہا ہے، ساتویں دن بھی آ رہا ہے، تو وہ عورت ابھی نماز نہیں پڑھے گی، انتظار کرے گی شاید دس سے پہلے پہلے رک جائے، عادت بدل گئی ہو۔ لیکن دسواں دن بھی گزر گیا گیارہواں شروع ہوا اور خون ابھی بھی جاری ہے، اب ہم لوٹیں گے کس کی طرف؟ گزشتہ عادت کی طرف، معلوم ہوا ایک سے پانچ تک حیض آیا تھا پچھلے مہینے میں تو اس مہینے میں بھی ایک سے لے کر پانچ تک حیض ہے اور اس کے بعد کے ایام کی نمازیں اس کے ذمے ہیں، لہٰذا ان کی قضا کرے گی۔ اب ہر مہینے اب خون تو اس کو مسلسل ہے رکتا ہی نہیں ہے بیماری کی وجہ سے تو اب وہ ہر مہینے اسی طرح کرے گی بھئی۔ تو ہر مہینے پانچ دن وہ کیا کرے گی؟ پانچ دن اس میں ایک تاریخ سے لے کر پانچ تک یہ حیض کے ایام ہوں گے اور باقی چھ تاریخ سے لے کر تیس تاریخ تک یعنی پچیس دن یہ کس کے شمار ہوں گے؟ استحاضہ کے، استحاضہ کے شمار ہوں گے اور ان میں اس کے لیے وہ نمازیں بھی پڑھے گی، روزے بھی رکھے گی اور ہر وقتی نماز کے لیے الگ وضو کرے گی بھئی۔ مسئلہ سمجھ میں آیا؟ اسی طرح حساب کرے گی۔ اور اگر اس کو پہلے مہینے پانچ تاریخ سے لے کر دس تک خون آیا تھا تو اگلے مہینے پہلی ہی سے شروع ہو گیا خون اور پھر مسلسل خون ہے، تو اس میں کیا کریں گے؟ پہلے پانچ دن استحاضہ کے، کیونکہ ایک سے شروع ہو گیا حالانکہ عادت کیا تھی پچھلی؟ پانچ سے دس۔ ہاں، پانچ سے دس تک کیا شمار ہو گا؟ حیض، پھر اگلے بیس دن بھی کیا شمار ہو گا؟ استحاضہ شمار ہو گا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ استحاضہ۔ یہ تو وہ صورت تھی جب عورت کی عادت کا پہلے پتہ تھا پھر استحاضہ شروع ہو گیا۔ اور ایک عورت ہے اس کو ابتدا سے ہی وہ مستحاضہ ہو گئی، پہلے مہینے سے ہی جو خون شروع ہوا تو پھر رکا ہی نہیں، اس کا اب کیا کریں گے؟ اس کا کیا حکم ہے؟ یاد رکھیے یہ آگے صاحبِ ہدایہ بھی آپ کو بتائیں گے کہ شروع سے جب خون شروع ہوا ابتدا سے، دس دن سے بڑھ گیا تو دس دن جو ہے اس کو حیض شمار کریں گے کیونکہ عادت کا پتہ ہی نہیں، تو اکثر مدت حیض کی کتنی ہے؟ دس دن۔ تو یہاں بھی دس دن کیا شمار کریں گے؟ حیض کے، اور اگلے بیس دن کس کے شمار ہوں گے؟ استحاضہ کے۔ اب یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہے گا جب تک یہ خون رکتا نہیں بھئی۔ خون مسلسل جب تک جتنے عرصے تک بھی جاری رہے ہر مہینے میں سے وہ دس دن کیا شمار کرے گی؟ حیض کے پہلے دس دن، اگلے بیس دن استحاضہ کے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے کہ وہ مقرر نہیں ہوتا کسی اندازے سے بھی: ”إِلَّا إِذَا اسْتَمَرَّ بِهَا الدَّمُ“ مگر یہ کہ مسلسل ہو اس عورت کو خون، اس عورت کو مسلسل خون آئے پھر کسی اندازے کے ساتھ اس کو مقرر کیا جائے گا جیسے ابھی میں نے بیان کیا، یا تو پچھلی عادت کو دیکھ لو اگر عادت ہے، اور اگر عادت نہیں تو پھر ہر مہینے میں سے دس دن حیض کے اور بیس دن استحاضہ کے۔ ”يُعْرَفُ ذَلِكَ فِي كِتَابِ الْحَيْضِ“ یہ جانا جاتا ہے کس کے اندر؟ کتاب الحیض کے اندر، یعنی وہاں سے یہ معلوم ہوتا ہے جو ایسا امام محمد رحمہ اللہ نے ذکر کیا ہے۔ ”وَدَمُ الِاسْتِحَاضَةِ كَالرُّعَافِ“ اور استحاضہ کا جو خون ہے وہ رعاف کی طرح ہے، نکسیر کی طرح ہے، یعنی جو ناک سے خون آئے اس کی طرح ہے۔ ”لَا يَمْنَعُ الصَّوْمَ وَلَا الصَّلَاةَ“ نہ تو یہ روزے سے روکتا ہے اور نہ نماز سے ”وَلَا الْوَطْءَ“ اور نہ صحبت سے، خاوند صحبت بھی اس میں کر سکتا ہے۔ دلیل کیا ہے بھئی کہ دمِ استحاضہ رعاف کی طرح ہے اس میں نماز بھی پڑھے گی، روزہ بھی رکھے گی؟ تو کہتے ہیں: ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ“ بوجہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تَوَضَّئِي وَصَلِّي وَإِنْ قَطَرَ الدَّمُ عَلَى الْحَصِيرِ“. صحابہ دین کی ایک ایک بات انہوں نے ہم تک پہنچائی، اللہ تعالیٰ ان پر اپنی کروڑہا رحمتیں نازل فرمائے بھئی۔ ایک ایک بات۔ صحابیہ عورتیں ان میں سے جو جن کو استحاضہ کی بیماری تھی وہ باقاعدہ مسائل پوچھا کرتی تھیں بھئی حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اور آپ کے بعد کس سے؟ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے۔ اور ان کی تعداد علماء نے لکھی ہے کہ دس عورتیں تھیں ان میں سے جو مستحاضہ تھیں، بعض نے گیارہ لکھا ہے۔ تو انہی میں سے ایک جو ہیں حضرت فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہیں بھئی۔ وہ ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لائیں اور کہنے لگیں: یا رسول اللہ! میں ایک مستحاضہ عورت ہوں، پاک ہوتی نہیں، یعنی ہر وقت میرا خون جاری رہتا ہے، تو کیا میں نمازوں کو چھوڑ دوں؟ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے کہ یہ رگ کا خون ہے، کس کا خون ہے؟ رگ کا خون ہے، کوئی رگ وغیرہ کٹ گئی اس کی وجہ سے یہ خون جاری رہتا ہے، یہ حیض نہیں ہے، یہ کیا ہے؟ استحاضہ ہے۔ تو یہ رگ کا خون ہے، یہ حیض نہیں ہے، تو اپنے ایامِ حیض کے اندر نمازوں سے پرہیز کرو، پھر اس کے بعد غسل کرو اور ہر نماز کے لیے وضو کر لیا کرو۔ ایامِ حیض میں کیا کرو؟ نماز سے پرہیز کرو، اور پھر اس کے بعد غسل کر لو اور پھر اس کے بعد ہر نماز کے لیے کیا کر لیا کرو؟ وضو کر لو۔ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے ہیں معلوم ہوا کہ دیکھو استحاضہ ہے، خون جاری ہے پھر بھی کیا فرما رہے ہیں؟ غسل کر لو اور اس کے بعد ہر نماز کے لیے وضو، معلوم ہوا استحاضہ میں بھی نماز پڑھنا پڑے گی بھئی، لیکن ہر وقتی نماز کے لیے کیا کر لے وہ؟ وضو کر لے۔ جو حضور علیہ السلام نے فرمایا: ”تَوَضَّئِي وَصَلِّي وَإِنْ قَطَرَ الدَّمُ عَلَى الْحَصِيرِ“ تو وضو کر لے اور نماز پڑھ اگرچہ خون ٹپک رہا ہو چٹائی پر۔ ”وَلَمَّا عُرِفَ حُكْمُ الصَّلَاةِ ثَبَتَ حُكْمُ الصَّوْمِ وَالْوَطْءِ بِنَتِيجَةِ الْإِجْمَاعِ“ اور جب نماز کے حکم کو جان لیا گیا، حدیث میں تو کس کا صرف ذکر آیا ہے؟ نماز کا حکم ذکر ہوا، لیکن جب نماز کا حکم جان لیا گیا ”ثَبَتَ حُكْمُ الصَّوْمِ وَالْوَطْءِ بِنَتِيجَةِ الْإِجْمَاعِ“ تو روزے اور صحبت کا حکم بھی ثابت ہو گیا نتیجہٴ اجماع سے، کس سے؟ نتیجہٴ اجماع سے، یعنی اس پر تمام علماء کا اجماع ہے بھئی کہ استحاضے کے ایام میں نماز بھی پڑھی جائے گی اور روزہ بھی رکھا جائے گا اور خاوند کے لیے قربت کرنا بھی جائز ہے بھئی۔ تو جب نماز کا حکم جان لیا گیا حدیث سے تو روزے اور صحبت کا حکم ثابت ہو گیا کس سے؟ نتیجہٴ اجماع سے، اجماع کی دلالت سے، اجماع نے اس پر دلالت کر دی۔ بھئی دیکھیے، جب نماز کے حکم کا پتہ چل گیا حالانکہ عورت کا خون بہہ رہا ہے اور خون کا نکلنا یہ تو منافیِ طہارت ہے اور نماز کے لیے تو طہارت ضروری ہے، تو ایک منافیِ صلاۃ چیز کے ہونے کے باوجود وہ کیا کرے گی؟ نماز پڑھے گی۔ تو جب نماز اس پر واجب ہے، جب نماز وہ پڑھ سکتی ہے تو پھر روزے کے تو منافی نہیں ہے خون کا نکلنا۔ آپ نے روزہ رکھا ہو، آپ کے بدن سے کہیں سے خون نکل آئے وہ روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟ نہیں، تو روزے کے تو خون کا نکلنا منافی ہے ہی نہیں، اسی طرح صحبت کے بھی منافی نہیں۔ تو جب نماز اس کے لیے ثابت ہے، وہ نماز پڑھ سکتی ہے حالانکہ ایک منافی چیز ہونے کے باوجود، تو باقی دو چیزیں بطریقِ اولیٰ اس کے لیے ثابت ہو جائیں گی۔ دلیل سمجھ میں آ گئی بھئی؟ ”وَلَوْ زَادَ الدَّمُ عَلَى عَشَرَةِ أَيَّامٍ وَلَهَا عَادَةٌ مَعْرُوفَةٌ دُونَهَا“ اور اگر خون بڑھ گیا دس دن پر ”وَلَهَا عَادَةٌ مَعْرُوفَةٌ دُونَهَا“ اور اس عورت کی کوئی معلوم عادت ہے دونہا یعنی دس دن سے کم، بھئی ایک عورت ہے اس کو خون شروع ہوا اور وہ خون دس دن سے بڑھ گیا اور اس عورت کی ایک معلوم عادت ہے دونہا دس دن سے کم، مثلاً ہر مہینے چھ دن یا سات دن اس کی دس سے کم، چھ یا سات دن جتنے بھی ہیں وہ اس کی معلوم عادت ہے ”رُدَّتْ إِلَى أَيَّامِ عَادَتِهَا“ تو اس کو لوٹایا جائے گا اس کے عادت کے ایام کی طرف۔ جب دس سے بڑھ گیا، دس سے کم ہی رہتا خون تو سارے کو ہم کیا کہتے؟ عادت تو تھی چھ دن کی لیکن چھ سے بڑھ گیا اور دس سے کم ہی رہا، نو دن تک رہا تو ہم کیا کہیں گے؟ عادت بدل گئی۔ لیکن اگر دس سے بڑھ گیا اب پتہ چلا کیا ہے؟ زائد استحاضہ ہے۔ اب اس میں پچھلی عادت کو دیکھیں گے، پچھلے مہینے عادت تھی مثلاً چھ دن کی تو وہ چھ دن حیض کے اور باقی سارے استحاضہ۔ یہ معنی ہے: ”رُدَّتْ إِلَى أَيَّامِ عَادَتِهَا“ تو اس کو لوٹایا جائے گا اس کے عادت کے ایام کی طرف ”وَالَّذِي زَادَ اسْتِحَاضَةٌ“ اور وہ جو زائد ہوا عادت پر وہ استحاضہ ہے ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ“ بوجہ سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کے: ”الْمُسْتَحَاضَةُ تَدَعُ الصَّلَاةَ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا“ کہ مستحاضہ جو ہے ”تَدَعُ“ یہ وَدَعَ يَدَعُ کے معنی چھوڑنے کے، ”تَدَعُ الصَّلَاةَ“ وہ چھوڑے گی نماز کو ”أَيَّامَ أَقْرَائِهَا“ اپنے حیض کے ایام میں۔ مستحاضہ وہ اپنے حیض کے ایام میں نماز کو چھوڑ دے گی، چھوڑ دے گی۔ دلیل سمجھ میں آئی کہ نہیں آئی سمجھ میں بھئی؟ معلوم ہوا وہ اپنی عادت کو دیکھے گی بھئی، اس وقت تو وہ مستحاضہ ہے اور مستحاضہ کسے کہتے ہیں جس کا مسلسل خون آ رہا ہے، اور حضور علیہ السلام فرما رہے ہیں کہ یہ مستحاضہ جس کو مسلسل خون آ رہا ہے کیا کرے؟ اپنے ایامِ حیض میں نماز کو چھوڑ دے، کس میں؟ اب وہ ایامِ حیض کا یہاں پتہ ہی نہیں چل رہا یہ تو مسلسل خون ہے۔ تو ایامِ حیض کا پتہ ہی کیسے چلے گا معلوم ہوا؟ اس کی عادت کی طرف اس کو لوٹایا جائے گا، پچھلے مہینے کی عادت کو دیکھا جائے گا کہ مثلاً پانچ سے دس تک اس کو ایامِ حیض تھے تو اس مہینے میں بھی پانچ سے دس تک کیا شمار کرے؟ ایامِ حیض۔ اس عادت کو دیکھ کر طے کر لیں گے یہ ایامِ حیض ہیں، ان ایام میں کیا کر دے؟ نماز کو چھوڑ دے گی اور اس سے پہلے اور اس کے بعد میں وہ نمازیں پڑھتی رہے گی بھئی۔ يَرْحَمُكَ اللَّهُ۔ دلیل سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ دلیل ہے بھئی۔ ”وَلِأَنَّ الزَّائِدَ عَلَى الْعَادَةِ يُجَانِسُ مَا زَادَ عَلَى الْعَشَرَةِ فَيُلْحَقُ بِهِ“ اور دوسری دلیل بھئی، ایک تو یہ حدیث آ گئی۔ اس حدیث سے ہی پتہ چل گیا کہ مستحاضہ اپنے حیض کے دنوں میں نماز چھوڑے گی، اور حیض کے دنوں کا پتہ ہی کس سے چلے گا؟ اس کی پچھلی عادت کو دیکھا جائے گا۔ دوسری دلیل ذکر کر رہے ہیں کہ عادت کی طرف کیوں لوٹائیں گے؟ اور باقی زائد کو استحاضہ کیوں شمار کریں گے؟ دوسری دلیل ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّ الزَّائِدَ عَلَى الْعَادَةِ يُجَانِسُ مَا زَادَ عَلَى الْعَشَرَةِ فَيُلْحَقُ بِهِ“ اس لیے کیونکہ وہ جو عادت پر بڑھ گیا جو خون وہ اس خون کے ہم جنس ہے جو دس پر بڑھ گیا۔ دس سے زائد کیا ہوتا ہے؟ استحاضہ، اور وہ بھی ہے خون۔ اور یہ جو عادت سے بڑھ گیا یہ بھی کیا ہے؟ خون ہے، یہ عادت سے بڑھ گیا ہے تو یہ اس کے جنس میں سے ہوا۔ وہ بھی زائد ہے اور خون ہے، یہ بھی زائد ہے اور خون ہے، تو دونوں کا ایک ہی حکم ہو گا۔ دس سے زائد خون تھا، زائد تھا اور خون تھا تو اس کو کیا قرار دیا تھا؟ استحاضہ۔ یہاں بھی زائد ہے عادت سے اور کیا ہے؟ خون ہے، اس کو کیا قرار دیں گے؟ استحاضہ۔ دلیل سمجھ میں آئی بھئی؟ یہ معنی ہے: ”وَلِأَنَّ الزَّائِدَ عَلَى الْعَادَةِ يُجَانِسُ مَا زَادَ عَلَى الْعَشَرَةِ فَيُلْحَقُ بِهِ“ اس لیے کیونکہ وہ خون جو زائد ہے عادت پر وہ ہم جنس ہے اس خون کے جو زائد ہے دس پر، تو اسی کے ساتھ اس کو ملایا جائے گا۔ ”وَإِنْ ابْتَدَأَتْ مَعَ الْبُلُوغِ مُسْتَحَاضَةً“ اور اگر کسی عورت نے ابتدا ہی کی ”مَعَ الْبُلُوغِ“ بلوغ کے ساتھ ”مُسْتَحَاضَةً“ اس حال میں کہ وہ کیا تھی؟ مستحاضہ تھی ”فَحَيْضُهَا عَشَرَةُ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَالْبَاقِي اسْتِحَاضَةٌ“ تو اس کا حیض کتنا ہے؟ دس دن ہے ہر مہینے میں سے اور باقی استحاضہ ہے۔ بھئی کیا وجہ ہے دس دن کو حیض کیوں قرار دیا اور باقی کو استحاضہ؟ کہتے ہیں: ”لِأَنَّا عَرَفْنَاهُ حَيْضًا فَلَا يُخْرَجُ عَنْهُ بِالشَّكِّ“ اس لیے کیونکہ ہم نے اس کو حیض جانا ہے لہٰذا اس کو شک کی وجہ سے نکالا نہیں جائے گا۔ بھئی دیکھیے، اگر ابتدا سے ہی ایک عورت مستحاضہ ہو گئی، عادت ہے ہی نہیں پچھلی کہ عادت کی طرف دیکھا جائے، ابتدا سے ہی خون مسلسل شروع ہو گیا اب رکتا ہی نہیں۔ تو میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ اس میں کیا کریں گے؟ کیا مسئلہ ہے اس کا؟ دس دن اس کے ہر مہینے میں سے حیض کے اور بیس دن استحاضہ کے شمار کریں گے بھئی۔ بھئی یہ دس دن حیض کے کیوں شمار کریں گے؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ حیض کی زیادہ سے زیادہ کتنی مدت ہے؟ دس دن ہے، اور کم سے کم مدت کتنی ہے؟ تین دن ہے۔ تو یہ تین دن، یہ تو تین سے لے کر دس دن تک، تین سے لے کر دس دن کے اندر، ان کے اندر شک آ گیا کہ یہ حیض کے اندر داخل ہیں یا داخل نہیں۔ یہ تین دن تو یقینی حیض کے، اس تین سے لے کر دس دن تک یہ جو زائد سات دن ہیں یہ ان میں شک ہے کہ یہ حیض میں داخل ہیں یا داخل نہیں، لیکن ہم نے جانا ہے حدیث سے پتہ چلا کہ حیض کی زیادہ سے زیادہ کتنی مدت ہے؟ دس دن ہے۔ تو حدیث سے یقینی طور پر پتہ چل گیا کہ حیض کی زیادہ سے زیادہ مدت دس دن تک ہو سکتی ہے اور یہاں پر ان سات دنوں کے حیض ہونے میں شک آیا تو شک کی وجہ سے وہ حیض سے خارج نہیں ہوں گے، کیونکہ حیض دس دن تک یقینی طور پر ہو سکتا ہے یا نہیں ہو سکتا؟ ہو سکتا ہے۔ لیکن یہ سات دن جو تین سے لے کر دس تک ہیں یہ بھی حیض میں داخل ہیں یا داخل نہیں، اس میں شک آیا، لیکن شک کی وجہ سے ان کو اب حیض سے نکالیں گے نہیں بھئی۔ یہ معنی ہے: ”لِأَنَّا عَرَفْنَاهُ حَيْضًا فَلَا يُخْرَجُ عَنْهُ بِالشَّكِّ“ اس لیے کیونکہ اس کو ہم نے کیا جانا ہے؟ حیض جانا ہے دس دنوں کو، تو یہ شک کی وجہ سے خارج نہیں ہوں گے۔ ”وَاللَّهُ أَعْلَمُ“ اور اللہ خوب جاننے والے ہیں۔ چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔