وَيَجُوزُ مِنْ كُلِّ حَدَثٍ مُوجِبٍ لِلْوُضُوءِ إِذَا لَبِسَهُمَا عَلَى طَهَارَةٍ كَامِلَةٍ ثُمَّ أَحْدَثَ. خَصَّهُ بِحَدَثٍ مُوجِبٍ لِلْوُضُوءِ لِأَنَّهُ لَا مَسْحَ مِنَ الْجَنَابَةِ عَلَى مَا نُبَيِّنُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، وَبِحَدَثٍ مُتَأَخِّرٍ لِأَنَّ الْخُفَّ عُهِدَ مَانِعًا، وَلَوْ جَوَّزْنَاهُ بِحَدَثٍ سَابِقٍ كَالْمُسْتَحَاضَةِ إِذَا لَبِسَتْ ثُمَّ خَرَجَ الْوَقْتُ، وَالْمُتَيَمِّمِ إِذَا لَبِسَ ثُمَّ رَأَى الْمَاءَ كَانَ رَافِعًا. جی گزشتہ سبق میں مَسْحُ الْخُفَّيْنِ کا باب شروع ہوا تھا، اور آپ نے پڑھا کہ مَسْحُ الْخُفَّيْنِ یہ جائز ہے، ثابت ہے سنت سے، یعنی احادیث سے اس کا ثبوت ہے، اور اس کے اندر جو احادیث ہیں وہ کثیر ہیں، مشہور ہیں بھئی، مشہور ہیں۔ اور مَسْحُ الْخُفَّيْنِ یہ علامت ہے، نشانی ہے أَهْلُ السُّنَّةِ وَالْجَمَاعَةِ کی بھئی۔ چنانچہ خوارج اور جو شیعہ وغیرہ ہیں، ان کے نزدیک یہ درست نہیں بھئی۔ تو اسی لیے اس کو کیا قرار دیا گیا ہے؟ أَهْلُ السُّنَّةِ وَالْجَمَاعَةِ کی نشانی قرار دیا گیا ہے۔ جی آج فرما رہے ہیں: ”وَيَجُوزُ مِنْ كُلِّ حَدَثٍ مُوجِبٍ لِلْوُضُوءِ“ اور جائز ہے مَسْحُ الْخُفَّيْنِ ”مِنْ كُلِّ حَدَثٍ“ ہر ایسے حدث سے ”مُوجِبٍ لِلْوُضُوءِ“ جو وضو کو واجب کرنے والا ہے۔ اور مَسْحُ الْخُفَّيْنِ جائز ہے ہر ایسے حدث سے جو وضو کو واجب کرنے والا ہے۔ یہ ”مُوجِبٍ لِلْوُضُوءِ“ کی قید کے ذریعے دراصل غسل کو نکال رہے ہیں، وہ حدث جو غسل کو واجب کرنے والا ہے، اس صورت میں مَسْحُ الْخُفَّيْنِ جائز نہیں بھئی، بلکہ صرف کون سے حدث کی صورت میں مَسْحُ الْخُفَّيْنِ جائز ہے؟ وہ حدث جس سے وضو واجب ہوتا ہے، اس وقت صرف مَسْحُ الْخُفَّيْنِ جائز ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَيَجُوزُ مِنْ كُلِّ حَدَثٍ مُوجِبٍ لِلْوُضُوءِ“ اور جائز ہے مَسْحُ الْخُفَّيْنِ ہر ایسے حدث سے جو وضو کو واجب کرنے والا ہے ”إِذَا لَبِسَهُمَا عَلَى طَهَارَةٍ كَامِلَةٍ“ جبکہ پہنا ہو ان موزوں کو ”عَلَى طَهَارَةٍ كَامِلَةٍ“ کامل طہارت پر، یعنی پورے وضو پر ”ثُمَّ أَحْدَثَ“ پھر حدث لاحق ہوا ہو۔ پہنا تھا، اس وقت کیا تھا؟ کامل طہارت تھی، یعنی پورا وضو تھا ”ثُمَّ أَحْدَثَ“ پھر حدث لاحق ہوا، اور حدث بھی کون سا؟ جو وضو کو واجب کرنے والا ہے، وہ حدث لاحق ہوا، تو اس حدث سے مَسْحُ الْخُفَّيْنِ، اس حدث کی وجہ سے جائز ہے، موزوں پر مسح کیا جا سکتا ہے، موزے اتار کر پاؤں دھونا ضروری نہیں بھئی۔ ”خَصَّهُ بِحَدَثٍ مُوجِبٍ لِلْوُضُوءِ“ مصنف نے، متن نے یعنی صاحبِ قدوری نے خاص کیا اس مَسْحُ الْخُفَّيْنِ کو کس کے ساتھ؟ ”بِحَدَثٍ مُوجِبٍ لِلْوُضُوءِ“ اس حدث کے ساتھ جو وضو کو واجب کرنے والا ہے۔ بھئی یہ فوائدِ قیود ذکر کر رہے ہیں جو میں نے ذکر کر دی، یہ ”مُوجِبٍ لِلْوُضُوءِ“ کی قید کیوں لگائی؟ غسل کو نکالنے کے لیے، یہی بیان کر رہے ہیں کہ صاحبِ قدوری نے خاص کیا اس کو مَسْحُ الْخُفَّيْنِ کو ”بِحَدَثٍ مُوجِبٍ لِلْوُضُوءِ“ ایسے حدث کے ساتھ جو وضو کو واجب کرنے والا ہے ”لِأَنَّهُ لَا مَسْحَ مِنَ الْجَنَابَةِ عَلَى مَا نُبَيِّنُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ“ اس لیے کیونکہ جنابت سے مسح نہیں ہے، یعنی مَسْحُ الْخُفَّيْنِ نہیں ہے، یعنی یہ جائز نہیں ہے ”عَلَى مَا نُبَيِّنُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ“ بناء بر اس کے، بوجہ اس کے جو ہم بیان کریں گے إِنْ شَاءَ اللَّهُ۔ آگے ہم کیا کریں گے اس کی؟ وجہ بیان کریں گے کہ جنابت سے مَسْحٌ عَلَى الْخُفَّيْنِ کیوں جائز نہیں اس کی۔ ”وَبِحَدَثٍ مُتَأَخِّرٍ“ اور ایسے حدث، یہ اس کا عطف بھی پیچھے ”بِحَدَثٍ مُوجِبٍ“ جو آیا شرح کے اندر، اسی پر عطف ہے، ”خَصَّهُ بِحَدَثٍ مُتَأَخِّرٍ“ اور خاص کیا اس کو ایسے حدث کے ساتھ جو متاخر ہو، کیا ہو؟ متاخر ہو، یعنی جو طہارت کے بعد ہو۔ کیا کہا تھا متن میں؟ ”إِذَا لَبِسَهُمَا عَلَى طَهَارَةٍ كَامِلَةٍ ثُمَّ أَحْدَثَ“ کہ جب موزوں کو پہنا ہو کس پر؟ طہارتِ کاملہ پر، پھر حدث لاحق ہوا، تو دیکھو حدث بعد میں آیا، پہلے کیا تھی؟ طہارتِ کاملہ، تو صاحبِ قدوری نے یہ جو حدث کے متاخر ہونے کے ساتھ اس مَسْحُ الْخُفَّيْنِ کو خاص کیا، اس کی کیا وجہ ہے؟ کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْخُفَّ عُهِدَ مَانِعًا“ اس لیے کیونکہ موزہ جو ہے، اس عہد کے معنی ہوتے ہیں جاننے کے، اور اسی طرح عہد کے معنی ہوتے ہیں مقرر کرنے کے، ”لِأَنَّ الْخُفَّ عُهِدَ مَانِعًا“ اس لیے کیونکہ موزے کو مقرر کیا گیا ہے مانع، یعنی شرعاً، شریعت نے موزے کو کیا مقرر کیا ہے؟ مانعِ حدث مقرر کیا ہے، رافعِ حدث نہیں۔ ایک ہے مانع، ایک ہے رافع۔ رافعِ حدث، حدث کو اٹھا دینے والی چیز، وہ تو مثلاً وضو ہے، دھونا ہے پاؤں کا، اعضاء کا۔ آپ جب وضو کرتے ہیں، جب پورا وضو کر لیا تو حدث اٹھ گیا، ختم ہو گیا۔ یہ کیا ہے؟ وضو کیا ہے؟ رافعِ حدث۔ اس وضو کے اندر آپ پاؤں دھوتے ہیں، تو پاؤں کا دھونا کیا ہے؟ پاؤں سے حدث کو اٹھا دیتا ہے، ختم کر دیتا ہے یا نہیں کر دیتا؟ یہ ہے رافعِ حدث، جو چیز حدث کو دور کر دے، ختم کر دے۔ یہ کیا ہے؟ رافع۔ اور ایک ہے مانعِ حدث، موزہ مانعِ حدث ہے، حدث کو روکتا ہے، حدث کو اٹھاتا نہیں۔ مثلاً جب وضو کرتے ہیں آپ پاؤں دھوتے ہیں، تو جب پاؤں دھوئے تو اس غسل نے، پاؤں کے دھونے نے پاؤں سے حدث کو ختم کر دیا، اس کو رفع کر دیا، اٹھا دیا، تو غسل ہوا رافعِ حدث۔ لیکن جب آپ نے موزے پہنے ہوئے ہیں، تو یاد رکھیے یہ موزہ حدث کو اٹھاتا نہیں، ختم نہیں کرتا، اس کے لیے مانع ہے، اس کو روکتا ہے۔ مثلاً آپ نے وضو کر کے موزے پہن لیے تھے، اور موزے پہننے کے بعد پھر بعد میں آپ کو حدث لاحق ہوا، آپ کا وضو ٹوٹ گیا۔ اور جیسے ہی وضو ٹوٹتا ہے شریعت کیا حکم دیتی ہے، اب نماز پڑھنی ہے تو کیا کرو؟ پھر وضو کرو۔ کیوں؟ کیونکہ معلوم ہوا آپ کے یہ جو اعضاء جن کے دھونے وغیرہ، مسح کا شریعت نے حکم دیا، معلوم ہوا ان میں حدث اتر چکا، ان پر حدث آ چکا ہے۔ ان پر کیا آ چکا؟ حدث۔ تو لہٰذا آپ نے وضو کر کے موزے پہنے تھے، اب آپ کو حدث لاحق ہوا، آپ کا وضو ٹوٹا، اب وہ حدث آئے گا۔ سر پر تو کچھ نہیں، سر پر بھی حدث آ گیا، اس کا مسح اسی طرح کریں گے وضو کرتے ہوئے، چہرے پر کچھ نہیں، وہاں بھی حدث آ گیا، ہاتھوں پر کچھ نہیں، وہاں بھی حدث آ گیا، ان سب کو دھونا پڑے گا۔ لیکن موزے پہنے ہوئے ہیں، موزے مانع بن گئے، انہوں نے حدث کو روک لیا، پاؤں تک نہیں جانے دیا، اپنے ہی اوپر روک لیا۔ اب آپ کیا کریں گے؟ باقی دوبارہ وضو کرنا ہے تو باقی اعضاء تو وضو کے دھوئیں گے اور مسح وغیرہ کریں گے، لیکن پاؤں نکال کر دھونے کی ضرورت نہیں، کیونکہ پاؤں تک اندر حدث پہنچا ہی نہیں، موزہ اس کے لیے کیا بن گیا؟ مانع بن گیا، اس نے اپنے اوپر حدث کو روک لیا، اب موزے کے اوپر مسح کر لو، وہ حدث بھی ختم ہوا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو موزہ کیا ہے؟ مانعِ حدث ہے، اور رافعِ حدث نہیں، رافعِ حدث تو کیا ہے؟ دھونا ہے، دھوئیں گے تو پھر کیا ہوگا؟ حدث ختم ہوگا۔ تو موزہ مانع ہے، رافع نہیں۔ یہ بات سب کو سمجھ میں آ گئی؟ یہی بات بیان کر رہے ہیں کہ صاحبِ قدوری نے اس مسح کو خاص کیا کس کے ساتھ؟ ایسے حدث کے ساتھ جو کیا ہو؟ متاخر ہو، بعد میں ہو، کس کے بعد ہو؟ طہارتِ کاملہ کے بعد ہو، کیونکہ ”لِأَنَّ الْخُفَّ عُهِدَ مَانِعًا“ اس لیے کیونکہ موزے کو مقرر کیا گیا ہے مانع، یعنی شرعاً موزے کو مانع مقرر کیا گیا ہے۔ کس طرح؟ دیکھیے بھئی ادھر توجہ کیجیے۔ آپ نے وضو کر لیا، پاؤں بھی دھو لیے، پورا وضو کر لیا، اس کے بعد اب پاؤں پر حدث ہے؟ پاؤں پر حدث نہیں، آپ نے موزے پہن لیے۔ اب موزے پہننے کے بعد اب آپ پر جب حدث لاحق ہوا، تو یہ حدث کس کے بعد آیا؟ طہارتِ کاملہ کے بعد آیا۔ اب جو حدث آیا ہے، یہ موزے نے اپنے اوپر روک لیا، تو لہٰذا پہلے طہارت ہونی چاہیے تاکہ پاؤں پاک ہیں، اور اس پاک پاؤں پر آپ نے کیا پہن لیے؟ موزے پہن لیے۔ اب حدث پہنچنا چاہے گا تو پاؤں تک نہیں پہنچے گا، بلکہ موزہ اس کو اپنے اوپر روک لے گا۔ لیکن اگر طہارتِ کاملہ پہلے نہیں تھی، یعنی آپ نے بغیر وضو کے ہی موزے پہن لیے ہیں، تو پھر پاؤں پر تو اسی طرح حدث تھا، اب بھی اگر موزوں پر مسح جائز قرار دیا جائے، پھر تو کہنا پڑے گا کہ موزے پر مسح کرنے سے پاؤں کے اندر کا حدث ہی ختم ہوا، تو موزے کو تو رافع قرار دینا پڑے گا، حالانکہ موزہ تو رافع ہے ہی نہیں، بلکہ موزہ تو کیا ہے؟ مانع ہے۔ دلیل سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اس لیے انہوں نے قید لگائی کہ وہ حدث طہارتِ کاملہ پر مؤخر ہونا چاہیے، کیونکہ موزے کو مانع مقرر کیا گیا ہے، اور اگر پہلے طہارتِ کاملہ نہیں تھی اور پھر موزے کو مسح، موزے پر مسح کو جائز قرار دیا جائے، تو موزے کو کیا قرار دینا پڑے گا؟ رافعِ حدث قرار دینا پڑے گا، حالانکہ موزہ تو رافعِ حدث نہیں ہے بھئی۔ یہ معنی ہے ”وَبِحَدَثٍ مُتَأَخِّرٍ“ اور صاحبِ قدوری نے خاص کیا موزے کو، موزے پر مسح کو ایسے حدث کے ساتھ جو متاخر ہو، یعنی طہارتِ کاملہ کے بعد ہو، ”لِأَنَّ الْخُفَّ عُهِدَ مَانِعًا“ اس لیے کیونکہ موزہ جو ہے اس کو شرعاً جانا گیا ہے مانع، اس کو شرعاً مانع جانا گیا ہے۔ دونوں ترجمے ٹھیک بنتے ہیں بھئی، جاننے کا ترجمہ کر لیں یا مقرر کرنے کا، اس لیے کیونکہ موزے کو شرعاً مانع مقرر کیا گیا ہے، یا یوں ترجمہ کر لیں: اس لیے کیونکہ موزے کو شرعاً مانع جانا گیا ہے کہ یہ مانع ہے، رافع نہیں۔ ”وَلَوْ جَوَّزْنَاهُ بِحَدَثٍ سَابِقٍ“ اگر ہم اس مسح کو جائز قرار دے دیں سابقہ حدث کی وجہ سے، یعنی پہلے حدث تھا اور اس پر کیا پہن لیے ہیں؟ موزے پہن لیے ہیں، اگر پھر بھی ہم اس کو جائز قرار دے دیں کہ بے وضو تھا اور موزے پہن لیے ہیں اور یہ شخص ان پر اب کیا کر سکتا ہے؟ مسح کر سکتا ہے، تو دیکھو سابقہ حدث پر ہی ہم کس کو جائز قرار دے رہے ہیں؟ موزوں پر مسح کو جائز، تو اس صورت میں، سطر کے آخر میں آ رہا ہے ”كَانَ رَافِعًا“ تو موزہ کیا ہو جائے گا؟ رافعِ حدث ہو جائے گا، حالانکہ یہ تو رافعِ حدث نہیں ہے، بلکہ مانعِ حدث اس کو شریعت نے مقرر کیا۔ درمیان میں دو مثالیں ذکر کر رہے ہیں: ”كَالْمُسْتَحَاضَةِ إِذَا لَبِسَتْ ثُمَّ خَرَجَ الْوَقْتُ“ جیسے کہ مستحاضہ، بھئی آپ جانتے ہیں ہر عورت کو، بالغہ عورت کو ہر مہینے کے اندر چند مخصوص دن خون آتا ہے جسے حیض کہتے ہیں۔ اور اس حیض کے علاوہ جو خون آئے اسے کیا کہتے ہیں؟ استحاضہ، جو کسی بیماری وغیرہ کی وجہ سے ہوتا ہے، اسے کیا کہتے ہیں؟ استحاضہ کہتے ہیں، آگے اس کی باقاعدہ تفصیل اور باب وغیرہ آ جائے گا۔ اس کو استحاضہ کہتے ہیں۔ اور آپ نے پڑھا ہے کہ عورت مستحاضہ ہو، یعنی اس کو استحاضے کی بیماری ہے، ہر وقت خون جاری ہے اس کا، تو اس کے لیے شریعت کا حکم یہ ہے کہ وہ ہر نماز کے وقت کے لیے الگ وضو کرے گی۔ مثلاً ظہر کی نماز پڑھنا چاہتی ہے تو ظہر کے لیے الگ وضو کر لے گی، پھر اس کے ذریعے جو کچھ ظہر کے وقت کے اندر وہ جو پڑھنا چاہتی ہے، نمازیں وغیرہ پڑھتی رہے، پھر جیسے ظہر کا وقت نکلے گا، عصر کا وقت آئے گا، تو پھر اس کو عصر کے لیے نیا وضو کرنا پڑے گا، کیا کرنا پڑے گا؟ نیا وضو کرنا پڑے گا۔ تو ایک عورت ہے مستحاضہ، اس نے ”إِذَا لَبِسَتْ“ اس نے کیا کیا؟ موزے پہن لیے ”ثُمَّ خَرَجَ الْوَقْتُ“ پھر کیا نکل گیا؟ پھر وہ وقت نکل گیا۔ اب دیکھیے مستحاضہ کا ہر وقت خون جاری ہے، ہر وقت خون جاری ہے، اور پھر اس نے موزے پہن لیے۔ تو جب وقت گزرتا ہے تو وہ سابقہ حدث کا اثر ظاہر ہوتا ہے۔ جب کیا ہوتا ہے؟ سابقہ حدث کا اثر ظاہر ہوتا ہے۔ بھئی حدث تو ہر وقت ہے اس کا، ہر وقت خون جاری ہے، اور خون کا نکلنا کیا ہے؟ حدث ہے، اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ لیکن یہ چونکہ معذور ہے، تو اس عذر کی وجہ سے شریعت نے اس کو رخصت دے دی کہ معذور ہے، مجبوری ہے، اور نماز تو ضرور پڑھنی ہے، اب کوئی وقت ایسا بیچ میں آ ہی نہیں رہا جس میں خون کا بہنا رک جائے، تو شریعت نے کہا بس وضو کر لیا ہے اور وقت کے اندر اندر اب اس خون بہنے سے وضو نہیں ٹوٹے گا۔ اور عذر ٹوٹنے والے، وضو توڑنے والے اور عذر آ جائیں پھر تو وضو ٹوٹے گا، لیکن اس خون بہنے کے عذر کی وجہ سے وضو نہیں ٹوٹے گا۔ تو اب جب وقت نکلے گا تو جیسے ہی وقت نکلے گا، اس سابقہ حدث کا اثر ظاہر ہو جائے گا، اور کیا حدث تھا سابقہ؟ وہ جو خون بہہ رہا تھا، اور وضو ٹوٹ جائے گا۔ اسی طرح ایک شخص نے جب تیمم کیا ہو، اور تیمم کے اندر پانی نہیں تھا، اس نے تیمم کر لیا، نماز وغیرہ پڑھ سکتا ہے اس سے، لیکن جیسے ہی اس کو پانی کے استعمال پر قادر ہوگا، پانی ملے گا، وہ سابقہ حدث کا اثر ظاہر ہو جائے گا۔ پہلے تو مٹی مطہر تھی، لیکن جیسے ہی پانی پر قادر ہوا، مٹی کا مطہر ہونا ختم اور وہ سابقہ حدث کا اثر ظاہر ہو جائے گا، اور کہیں گے کہ اب یہ وضو کرے۔ بھئی وضو کیوں کرے؟ اس نے تو تیمم کیا ہوا تھا، کوئی خروجِ نجاست تو ہوا نہیں کہ آپ حکم دے رہے ہیں کہ اس کو کیا کرنا چاہیے؟ وضو کرنا۔ وضو تو کب ٹوٹتا ہے؟ خروجِ نجاست کی صورت میں ٹوٹتا ہے، اور یہاں اس کو صرف پانی ملا ہے، پانی کے استعمال پر قادر ہوا، پھر بھی شریعت کی طرف سے کیا حکم ہے؟ دوبارہ وضو کرے، اور وضو تو ٹوٹتا ہے صرف خروجِ نجاست کی صورت میں، معلوم ہوا اسی پچھلے حدث کا اثر کیا ہو گیا؟ جس کے لیے اس نے تیمم کیا تھا، اسی حدث کا اثر اب ظاہر ہو گیا ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو لہٰذا یہاں پر اگر ایک استحاضہ والی عورت ہے، اس کو، اس کے لیے ہم وقت کے گزرنے کے بعد بھی موزوں پر مسح کو جائز قرار دیں، استحاضے والی عورت ہے، خون ہر وقت جاری ہے، اس نے کیا کر لیا؟ وضو کر لیا اور وضو کر کے موزے پہن لیے، تو ان موزوں پر وہ مسح کر سکتی ہے وقت کے اندر اندر۔ وقت کے اندر کسی اور وجہ سے وضو ٹوٹتا ہے، اس خون کی وجہ سے تو وضو ٹوٹے گا ہی نہیں اب اس کا وقت کے اندر، یہ جو جاری ہے۔ ہاں کسی اور عذر کی وجہ سے، مثلاً پیشاب وغیرہ کرے، اس سے وضو ٹوٹے گا اور پھر اس کے، پھر وضو کرتی ہے اسی وقت کے اندر تو موزوں پر مسح کر لے، کیا کر لے؟ کیونکہ وضو پر اس نے کیا کیے ہیں؟ موزے پہنے ہیں۔ لیکن جیسے ہی وقت گزرے گا، اس سابقہ حدث کا اثر ظاہر ہو جائے گا، جو کس سے پہلے تھا؟ موزے پہننے سے بھی پہلے کا ہے، مسلسل ہے، تو وہ سابقہ حدث کا اثر ظاہر ہوگا، اور گویا اس نے موزے پہنے ہوئے ہیں حدث پر ہی، کس پر پہنے ہوئے ہیں؟ کیونکہ سابقہ حدث ہے نا، پہلے کا جو حدث ہے، تو اس نے گویا موزے بغیر طہارت کے ہی پہنے ہوئے ہیں، اور بغیر طہارت کے تو موزے پر مسح درست نہیں، ورنہ تو اس صورت میں کیا قرار دینا پڑے گا؟ موزے کو رافعِ حدث قرار دینا پڑے گا، حالانکہ موزہ تو رافعِ حدث نہیں، بلکہ مانعِ حدث، لہٰذا اس کے لیے وقت کے گزرنے کے بعد پھر اس پر مسح کرنا جائز نہیں ہے بھئی، لہٰذا ان کو اتارے، دوبارہ وضو کرے، پاؤں بھی دھوئے اور پھر کیا کر لے؟ موزے پہن لے۔ یہ معنی ہے: ”كَالْمُسْتَحَاضَةِ إِذَا لَبِسَتْ ثُمَّ خَرَجَ الْوَقْتُ“ جیسے کہ مستحاضہ ہے، ”إِذَا لَبِسَتْ“ جب اس نے پہنے موزے ”ثُمَّ خَرَجَ الْوَقْتُ“ پھر وقت نکل گیا، اسی لیے کہا جب وقت نکل گیا، وقت کے اندر اندر وہ کر سکتی ہے ان پر مسح۔ ”وَالْمُتَيَمِّمِ“ اس کا عطف بھی مستحاضہ پر ہے، اس پر کاف جارہ داخل تھا، مجرور تھا، تو یہ بھی مجرور، اور جیسے کہ متیمم ہے ”إِذَا لَبِسَ“ جب اس نے موزے پہن لیے ”ثُمَّ رَأَى الْمَاءَ“ پھر کس کو دیکھ لیا؟ پانی۔ ایک آدمی ہے اس کو پانی نہیں مل رہا تھا، اس نے تیمم کر لیا اور پھر موزے پہن لیے، موزے پہن لیے، اب جب پانی کو دیکھے گا، پانی کے استعمال پر قادر ہوا تو وہی سابقہ حدث کا اثر ظاہر ہوگا، اور گویا اس نے بغیر طہارت کے ہی موزے پہن رکھے ہیں بھئی، اور بغیر طہارت کے تو موزوں پر مسح جائز نہیں، لہٰذا اس کے لیے بھی موزوں پر مسح جائز نہیں ہوگا، اگر جائز قرار دے دیا جائے پھر تو کیا ماننا پڑے گا موزے کو؟ رافعِ حدث بھئی۔ یہ معنی ہے، اور جیسے کہ وہ تیمم کرنے والا جب اس نے پہنے ہوں موزے ”ثُمَّ رَأَى الْمَاءَ“ پھر کس کو دیکھا؟ پانی۔ یہ وہ جزا آ گئی: ”وَلَوْ جَوَّزْنَاهُ بِحَدَثٍ سَابِقٍ كَانَ رَافِعًا“ تو اگر ہم جائز قرار دے دیں مَسْحٌ عَلَى الْخُفَّيْنِ کو سابقہ حدث کی وجہ سے، جیسے کہ ان دو مثالوں میں ہے، ”كَانَ رَافِعًا“ تو یہ کیا ہو جائے گا موزہ؟ رافعِ حدث ہوگا۔ ”وَقَوْلُهُ: إِذَا لَبِسَهُمَا عَلَى طَهَارَةٍ كَامِلَةٍ لَا يُفِيدُ اشْتِرَاطَ الْكَمَالِ وَقْتَ اللُّبْسِ بَلْ وَقْتَ الْحَدَثِ“ اور مصنف کا قول، صاحبِ قدوری کا جو قول ہے متن میں ”إِذَا لَبِسَهُمَا عَلَى طَهَارَةٍ كَامِلَةٍ“ جب پہنے ہوں موزے کامل طہارت پر، ”لَا يُفِيدُ اشْتِرَاطَ الْكَمَالِ وَقْتَ اللُّبْسِ“ یہ قول فائدہ نہیں دیتا طہارت کے کامل ہونے کی شرط کا، اشْتِرَاطُ الْكَمَالِ، أَيْ كَمَالُ الطَّهَارَةِ، طہارت کے کامل ہونے، ترجمے پر نظر رکھنا بھئی، طہارت کے کامل ہونے کی شرط کا فائدہ نہیں دیتا یہ قول ”وَقْتَ اللُّبْسِ“ کس وقت؟ پہنتے وقت، معلوم ہوا موزے پہنتے وقت طہارت کا کامل ہونا ضروری نہیں۔ موزے پہنتے وقت طہارت کا کامل ہونا ضروری نہیں، کیونکہ یہ قول پہنتے وقت طہارت کے کامل ہونے کی شرط کا فائدہ نہیں دیتا ”بَلْ وَقْتَ الْحَدَثِ“ بلکہ حدث کے وقت کیا ہے؟ طہارت کے کامل ہونے کی شرط کا فائدہ دیتا ہے۔ صاحبِ ہدایہ یہاں سے بتلانا یہ چاہتے ہیں کہ متن میں جو عبارت آئی ”إِذَا لَبِسَهُمَا عَلَى طَهَارَةٍ كَامِلَةٍ ثُمَّ أَحْدَثَ“ جب پہنا ہو ان موزوں کو طہارتِ کاملہ پر پھر اس کو حدث لاحق ہوا، اس سے اس بات کا فائدہ نہیں، یہ کلام اس بات کا فائدہ نہیں دے رہا کہ جس وقت پہنے ہوں، موزے پہنے، اس وقت طہارت کامل ہونی چاہیے، ایسا نہیں۔ جس وقت موزے پہنے، اس وقت طہارت کا کامل ہونا ضروری نہیں۔ مثلاً ایک آدمی ہے، صرف پاؤں دھو کر موزے پہن لیتا ہے اور پھر باقی وضو پورا کر لیتا ہے۔ ایک آدمی ہے حالتِ حدث میں ہے، لیکن وہ کس طرح کرتا ہے؟ پہلے صرف پاؤں دھوئے اور موزے پہن لیے، تو موزے طہارتِ کاملہ پر ہوئے یا غیرِ کاملہ پر؟ غیرِ کاملہ پر، اور پھر کیا کر لیتا ہے؟ ساتھ ہی باقی وضو بھی پورا کر لیتا ہے بھئی۔ تو معلوم ہوا صاحبِ قدوری کے قول سے معلوم ہو رہا ہے کہ جس وقت پہنے، اس وقت طہارت کا کامل ہونا ضروری نہیں، ہاں وقتِ حدث، جس وقت حدث پیش آیا اب آگے، اس وقت وضو کا پورا ہونا ضروری ہے۔ پہننے کے بعد کیا کر لیا تھا اس نے؟ وضو پورا کر لیا، اب جب حدث پیش آئے گا کس پر پیش آئے گا؟ طہارتِ کاملہ پر پیش آئے گا، تو اب اس موزوں پر مسح جائز ہے۔ ترجمہ سمجھ میں آیا؟ تو صاحبِ ہدایہ کے کہنے کا یہ معنی کہ یہ قول پہنتے وقت طہارت کے کامل ہونے کی شرط کا فائدہ نہیں دے رہا، مطلب یہ ہے صاحبِ ہدایہ کا کہ صاحبِ قدوری کا یہ ارادہ نہیں ہے، ورنہ لفظ تو اسی چیز کا فائدہ دے رہے ہیں، لفظ سے تو یہی پتہ چل رہا ہے کہ موزے پہنتے وقت ہی کیا ہونی چاہیے؟ طہارت کامل ہونی چاہیے ”إِذَا لَبِسَهُمَا عَلَى طَهَارَةٍ كَامِلَةٍ“ جب ان کو پہنا ہو کس وقت؟ کامل طہارت پر، لیکن صاحبِ ہدایہ بتلا رہے ہیں کہ یعنی صاحبِ قدوری کا یہ ارادہ نہیں، وہ اپنے اس قول کے ذریعے یہ فائدہ نہیں دینا چاہتے کہ جس وقت پہنے موزے اس وقت طہارت کامل ہونی چاہیے، پھر کامل طہارت کے اوپر کیا کرے؟ موزوں کو پہن لے، یہ اس بات، اپنے قول کے ذریعے وہ اس کلام کا، اس شرط کا فائدہ نہیں، بلکہ ان کا ارادہ کیا ہے؟ وہ کس چیز کا فائدہ دینا چاہتے ہیں؟ کہ جب حدث لاحق ہو اس وقت کیا ہونی چاہیے؟ طہارت کامل ہونی چاہیے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو آپ کے ذہن میں یہ شک اور شبہ نہ آئے کہ بھئی لفظوں سے تو یہی پتہ چل رہا ہے کہ کامل طہارت کے بعد کیا کرے؟ موزے پہنے، متن میں، بلکہ لفظوں سے تو یہی معلوم ہو رہا ہے، لیکن صاحبِ قدوری کا یہ ارادہ نہیں ہے، بلکہ ان کے کہنے کا مطلب کیا ہے؟ ہاں، جب حدث لاحق ہو اس وقت طہارت کیا ہونی چاہیے؟ اس سے پہلے وہ کامل طہارت ہو پھر حدث پیش آئے۔ یہ معنی ہے: ”وَقَوْلُهُ: إِذَا لَبِسَهُمَا عَلَى طَهَارَةٍ كَامِلَةٍ لَا يُفِيدُ اشْتِرَاطَ الْكَمَالِ وَقْتَ اللُّبْسِ بَلْ وَقْتَ الْحَدَثِ“ اور مصنف، یعنی صاحبِ قدوری کا جو قول ہے کہ جب پہنا ہو ان موزوں کو کامل طہارت پر، یہ فائدہ نہیں دیتا کامل طہارت کی شرط کا ”وَقْتَ اللُّبْسِ“ کس وقت؟ پہنتے وقت ”بَلْ وَقْتَ الْحَدَثِ“ بلکہ کس وقت؟ حدث کے وقت جو ہے طہارت کے کامل ہونے کی شرط کا فائدہ دیتا ہے۔ ”وَهَذَا الْمَذْهَبُ عِنْدَنَا“ اور یہی مذہب ہمارے نزدیک ہے، ہمارے نزدیک بھی موزہ پہنتے وقت کامل طہارت کا ہونا ضروری نہیں، ہاں پاؤں دھو کر بھی موزے پہن سکتا ہے، البتہ حدث جب پیش آئے اس وقت کیا ہو؟ کامل طہارت ہو۔ ”حَتَّى لَوْ غَسَلَ رِجْلَيْهِ وَلَبِسَ خُفَّيْهِ“ یہاں تک کہ اگر وضو کرنے والے نے اپنے پاؤں دھو لیے ”وَلَبِسَ خُفَّيْهِ“ اور پاؤں دھو کر موزے پہن لیے ”ثُمَّ أَكْمَلَ الطَّهَارَةَ“ پھر طہارت یعنی وضو کو پورا کیا ”ثُمَّ أَحْدَثَ“ پھر اس کو حدث پیش آیا ”يُجْزِيهِ الْمَسْحُ“ تو اس کے لیے یہ مسح کافی ہے بھئی، مسح درست ہے اس کا یعنی۔ ”وَهَذَا لِأَنَّ الْخُفَّ مَانِعٌ حُلُولَ الْحَدَثِ بِالْقَدَمِ“ اور یہ اس لیے کیونکہ موزہ جو ہے وہ مانع ہے، وہی بات جو میں نے بیان کر دی، مانع ہے، کس چیز کا مانع ہے؟ ”مَانِعٌ حُلُولَ الْحَدَثِ بِالْقَدَمِ“ قدم میں، یعنی پاؤں میں حدث کے اترنے سے مانع ہے۔ کیونکہ موزہ کیا ہے پاؤں میں حدث کے اترنے سے مانع ہے، ”فَيُرَاعَى كَمَالُ الطَّهَارَةِ وَقْتَ الْمَنْعِ“ تو رعایت رکھی جائے گی طہارت کے کامل ہونے کی منع کے وقت۔ موزہ کیا ہے؟ مانعِ حدث ہے، رافعِ حدث نہیں۔ تو جب یہ مانعِ حدث ہے، یہ حدث کو روک رہا ہے، تو ضروری ہے کہ جس وقت حدث لاحق ہوا، حدث اترا ہے، اس وقت طہارت کامل ہونی چاہیے، پھر یہ مانع بنے گا، پھر یہ کیا بنے گا؟ مانع بنے گا۔ طہارت پوری تھی، وضو پورا تھا، موزے پہنے ہوئے ہیں وضو کے بعد، اب کامل طہارت پر کیا پیش آیا؟ حدث، اور موزہ کیا ہے؟ مانع، موزے نے اپنا اثر دکھانا ہے، اس نے مانع بننا ہے، تو جب مانع بنے اس وقت کیا ہونی چاہیے؟ کامل طہارت ہونی چاہیے، پوری طہارت حاصل ہو تاکہ یہ کیا بن سکے؟ مانع بن سکے بھئی۔ یہ معنی ہے: ”لِأَنَّ الْخُفَّ مَانِعٌ حُلُولَ الْحَدَثِ بِالْقَدَمِ فَيُرَاعَى كَمَالُ الطَّهَارَةِ وَقْتَ الْمَنْعِ“ اس لیے کیونکہ موزہ جو ہے وہ حدث کے پاؤں میں اترنے سے مانع ہے، تو رعایت رکھی جائے گی طہارت کے کامل ہونے کی ”وَقْتَ الْمَنْعِ“ منع کے وقت، اس وقت کامل طہارت ہو بھئی تاکہ موزہ کیا کرے؟ اپنا اثر دکھائے اور حدث کو اپنے اوپر روک لے، اس کے لیے مانع بن جائے۔ ”حَتَّى لَوْ كَانَتْ نَاقِصَةً عِنْدَ ذَلِكَ كَانَ الْخُفُّ رَافِعًا“ حتی کہ اگر اس وقت طہارت ناقص تھی، عِنْدَ ذَلِكَ اس وقت، ”كَانَ الْخُفُّ رَافِعًا“ پھر تو موزہ کیا بن جائے گا؟ رافعِ حدث بنے گا، کیا بنے گا؟ رافعِ حدث بن جائے گا، حالانکہ اس کو تو مانع قرار دیا گیا ہے، رافع نہیں۔ ”وَيَجُوزُ لِلْمُقِيمِ يَوْمًا وَلَيْلَةً وَلِلْمُسَافِرِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهَا“ اور جائز ہے موزوں پر مسح مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات، اور مسافر کے لیے تین دن اور تین راتیں، تک وہ مسح کر سکتا ہے۔ مسافر کون ہے بھئی؟ کس کو کہتے ہیں مسافر؟ جو ارادہ کرتا ہے تین دن کی مسافت تک دور جانے کا، لاہور سے جانا چاہتا ہے اور جہاں مثلاً جانا چاہتا ہے وہ لاہور سے کم از کم 77، 78 کلومیٹر ہے، 48 میل، 48 میل یہ تقریباً 78 کلومیٹر، 77 کلومیٹر بنتا ہے، تو اتنے فاصلے تک وہ جانا چاہتا ہے تو یہ لاہور سے نکلتے ہی، شہر سے نکلتے ہی مسافر بن جائے گا۔ اور وہاں پہنچا اور وہاں 15 دن سے کم اس کے رہنے کی نیت ہے تو وہاں بھی مسافر ہی ہے۔ اگر 15 دن یا 15 سے زیادہ رہنے کی نیت کرتا ہے تو وہاں بھی وہ مقیم بن جائے گا بھئی، مقیم بن جائے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اور نیز وہاں اپنا گھر وغیرہ اس کا نہ ہو بھئی، اگر اپنا اس کا یہاں بھی گھر ہے وہاں بھی اس نے گھر وغیرہ بنایا ہوا ہے، کبھی یہاں رہتا ہے کبھی وہاں رہتا ہے، تو پھر تو گھر ہے اس کا وہاں پر، لہٰذا وہاں تو کم مدت کی بھی نیت کرے پھر بھی مسافر نہیں ہے بھئی، بلکہ وہاں کیا ہے؟ مقیم ہی ہے کیونکہ اس کا اپنا گھر ہے وہاں پر، تو یہ کسی اور جگہ مثلاً جاتا ہے جہاں اس کی اقامت نہیں ہے۔ ہاں البتہ یہ ہے گھر دو جگہ ہے دونوں جگہ وہ رہتا ہے کبھی ایک جگہ رہتا ہے کبھی دوسری جگہ رہتا ہے، اور یہ گیا مثلاً، یا یوں کہیں ایک جگہ ملازمت وغیرہ، کام وغیرہ کرتا ہے تو وہاں بھی اس نے گھر بنایا ہوا ہے اور ادھر دوسری طرف بھی بچے وغیرہ، وہاں بھی گھر، تو اب یہ کیا کرتا ہے؟ یہاں لاہور سے چلا اس علاقے کی طرف بھئی، تو وہاں تو پہنچ کر مقیم ہوگا، ہاں راستے میں وہ مسافر ہی ہے، کیونکہ 77 کلومیٹر یا اس سے زیادہ کے اس نے سفر پر وہ نکلا ہے، تو کیا ہوگا؟ مسافر ہی ہے، ہاں وہاں پہنچتے ہی کیا ہو جائے گا؟ مقیم ہو جائے گا بھئی، مقیم ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَيَجُوزُ لِلْمُقِيمِ يَوْمًا وَلَيْلَةً وَلِلْمُسَافِرِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهَا“ اور جائز ہے مَسْحُ الْخُفَّيْنِ مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات، اور مسافر کے لیے تین دن ”وَلَيَالِيهَا“ اور ان کی جو راتیں ہیں، یعنی ان تین دنوں کی جو راتیں، یعنی تین دن اور تین رات تک۔ دلیل کیا ہے؟ وہ ذکر، ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ يَمْسَحُ الْمُقِيمُ يَوْمًا وَلَيْلَةً وَالْمُسَافِرُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهَا“ بوجہ نبی کریم صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کے اس قول کے کہ مسح کرے مقیم ایک دن اور ایک رات، اور مسافر کرے تین دن اور تین راتوں تک۔ ”قَالَ: وَابْتِدَاؤُهَا عَقِيبَ الْحَدَثِ“ اور ابتدا جو ہے اس کی، ہا ضمیر راجع ہے مدتِ مسح کو بھئی، اور مدتِ مسح کی جو ابتدا ہے ”عَقِيبَ الْحَدَثِ“ وہ کس کے بعد ہوگی؟ حدث کے بعد۔ بھئی دیکھیے یاد رکھیے، ایک شخص نے ظہر کے وقت وضو کیا اور اس وقت موزے پہن لیے بھئی، تو اب آپ یہ نہ کہیں مدت شروع ہو گئی اور اگلے دن ظہر تک یہ مسح کر سکتا ہے، نہیں، جب پہنے اس وقت مدت شروع نہیں ہوگی، بلکہ جس وقت حدث لاحق ہو۔ لہٰذا ایک شخص نے ظہر کے وقت موزے پہنے بھئی، موزے پہنے، اور مغرب کے وقت اس کا وضو ٹوٹا، تو جب وضو ٹوٹا، اس وقت سے مدت شروع ہوگی، تو اگلے دن مغرب تک یہ ان موزوں پر کیا کر سکتا ہے؟ مسح کر سکتا ہے، مسح کر سکتا ہے۔ وجہ اس کی یہ، کیونکہ مغرب تک تو وضو کا اثر تھا، وضو کی طہارت تھی، مغرب کے وقت وضو ٹوٹا اور موزے نے اپنا کام شروع کیا، مانع بن گیا، حدث کو اس نے قدم تک جانے نہیں دیا، تو جس وقت اس کا اثر شروع ہوگا، جب وہ مانع بنے گا اس وقت سے، اس وقت سے مدت کی ابتدا ہوگی۔ یہ معنی ہے ”وَابْتِدَاؤُهَا عَقِيبَ الْحَدَثِ“ اور اس مدت کی ابتدا جو ہے وہ حدث کے بعد ہوگی، ”لِأَنَّ الْخُفَّ مَانِعٌ سِرَايَةَ الْحَدَثِ“ اس لیے کیونکہ موزہ جو ہے وہ حدث کی سرایت سے مانع ہے، حدث کے پہنچنے سے مانع ہے، ”فَتُعْتَبَرُ الْمُدَّةُ مِنْ وَقْتِ الْمَنْعِ“ پس اعتبار کیا جائے گا اس مدت کا منع کے وقت سے، جس وقت موزہ کیا کرے؟ حدث کو منع کرے، روکے بھئی، اس وقت سے وقت کا اعتبار کیا جائے گا۔ ”وَالْمَسْحُ عَلَى ظَاهِرِهِمَا خُطُوطًا بِالْأَصَابِعِ يُبْدَأُ مِنْ قِبَلِ الْأَصَابِعِ إِلَى السَّاقِ“ اور مسح جو ہے ”عَلَى ظَاهِرِهِمَا“ موزوں کے ظاہر پر ہوگا۔ مسح کس پر ہوگا؟ موزوں کے ظاہر پر، یعنی اوپر والا حصہ، ظاہر حصہ موزوں کا یہ جو اوپر والا ہے بھئی، جس قدم کا اوپر والا حصہ، اور باطنِ خف، موزے کا نیچے والا حصہ جو زمین کی طرف ہے۔ کس کی طرف ہے؟ زمین کی طرف، جو آپ زمین پر چلتے ہیں تو حصہ زمین پر جو آپ کے پاؤں کا لگ رہا ہے، اس کے ساتھ مل جاتا ہے، وہ نیچے کی تلوہ جو ہے، تلوہ وہ ہے باطنِ خف، باطنِ خف۔ تو مسح جو کرنا ہے وہ ظاہرِ خف پر کرنا ہے، یہ اوپر والے حصے پر مسح کرنا ہے، جو زمین کی طرف حصہ ہے یعنی باطنِ خف، اس پر مسح نہیں بھئی۔ کہتے ہیں ”وَالْمَسْحُ عَلَى ظَاهِرِهِمَا“ اور مسح جو ہے موزوں کے ظاہر پر ہوگا ”خُطُوطًا بِالْأَصَابِعِ“ اس حال میں کہ وہ خط ہوں گے انگلیوں کے ساتھ۔ خط کھینچنا کس کے ساتھ؟ انگلیوں کے ساتھ، خط کھینچنا، لکیر لگانا انگلیوں کے ساتھ بھئی۔ ”يُبْدَأُ مِنْ قِبَلِ الْأَصَابِعِ إِلَى السَّاقِ“ ابتدا کی جائے گی انگلیوں کی جانب سے پنڈلی کی طرف۔ آپ جانتے ہیں موزہ پر کیسے مسح کیا جاتا ہے؟ کہ انگلیوں کو گیلا کر کے پھر موزے پر، پاؤں پر جو ہے وہ انگلیوں کی طرف، انگلیوں کی جانب میں رکھتے ہیں، پاؤں کی انگلیوں کی جانب ان ہاتھ کی انگلیوں کو رکھا اور پھر کھینچ کر اوپر کی طرف لے آئے، کس کی طرف؟ پنڈلی کی طرف، جی وہی طریقہ بیان ہو رہا ہے۔ تو کہتے ہیں ”وَالْمَسْحُ عَلَى ظَاهِرِهِمَا خُطُوطًا بِالْأَصَابِعِ“ اور مسح جو ہے موزوں کے ظاہر پر ہوگا خط کھینچتے ہوئے انگلیوں کے ساتھ ”يُبْدَأُ مِنْ قِبَلِ الْأَصَابِعِ إِلَى السَّاقِ“ ابتدا کی جائے گی انگلیوں کی جانب سے پنڈلی کی طرف۔ ”لِحَدِيثِ مُغِيرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى خُفَّيْهِ وَمَدَّهُمَا مِنَ الْأَصَابِعِ إِلَى أَعْلَاهُمَا مَسْحَةً وَاحِدَةً، وَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى أَثَرِ الْمَسْحِ عَلَى خُفِّ رَسُولِ اللَّهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ خُطُوطًا بِالْأَصَابِعِ“ حدیث ذکر کر رہے ہیں بھئی کہ موزوں کے ظاہر پر مسح کیوں ہوگا؟ باطن پر کیوں نہیں؟ دلیل کیا ہے؟ کہتے ہیں ”لِحَدِيثِ مُغِيرَةَ“ حضرت مغیرہ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ کی حدیث کی وجہ سے، وہ فرماتے ہیں کہ ”أَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى خُفَّيْهِ“ کہ سرورِ کونین صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے اپنے ہاتھ مبارک رکھے ”عَلَى خُفَّيْهِ“ اپنے موزوں پر، اپنے ہاتھ رکھے، یعنی دونوں ہاتھ بھئی، ”يَدَيْهِ“ نون تثنیہ کا اضافت کی وجہ سے گر گیا، ”عَلَى خُفَّيْهِ“ کس پر؟ اپنے دونوں موزوں پر، یعنی دائیں موزے پر دایاں ہاتھ رکھا اور بائیں موزے پر بایاں ہاتھ رکھا ”وَمَدَّهُمَا“ اور ان کو کھینچا ”مِنَ الْأَصَابِعِ إِلَى أَعْلَاهُمَا“ انگلیوں سے اوپر کی جانب ”مَسْحَةً وَاحِدَةً“ ایک ہی مرتبہ کا مسح، ایک ہی مرتبہ اس طرح حضور صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے کیا۔ حضرت مغیرہ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ فرماتے ہیں ”وَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى أَثَرِ الْمَسْحِ عَلَى خُفِّ رَسُولِ اللَّهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ خُطُوطًا بِالْأَصَابِعِ“ وہ فرماتے ہیں حضرت مغیرہ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ کہ گویا کہ میں دیکھ رہا ہوں مسح کے اثر کو، مسح کے نشان کو حضور علیہ السلام کے موزے پر ”خُطُوطًا بِالْأَصَابِعِ“ اس حال میں کہ وہ کیا تھا؟ خط تھے ”بِالْأَصَابِعِ“ کس کے ساتھ؟ انگلیوں کے ساتھ۔ تو حضرت مغیرہ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ فرماتے ہیں کہ گویا میری نگاہوں میں وہ، آج بھی وہ منظر ہے کہ حضور علیہ السلام کے انگلیوں کے نشانات تھے لکیروں کی صورت میں ان کے موزوں پر بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ ”ثُمَّ الْمَسْحُ عَلَى الظَّاهِرِ حَتْمٌ“ پھر مسح جو ہے ظاہر پر، موزوں کے ظاہر پر ”حَتْمٌ“ وہ حتمی ہے، ضروری ہے، قطعی ہے ”حَتَّى لَا يَجُوزَ عَلَى بَاطِنِ الْخُفِّ“ یہاں تک کہ مسح جائز نہیں ہے باطنِ خف پر، یعنی موزے کے نچلے حصے پر جو زمین کی طرف ہے، اس پر اگر کوئی مسح کر بھی لے اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے، بلکہ موزے کے ظاہر پر مسح ضروری ہے۔ ”حَتَّى لَا يَجُوزَ عَلَى بَاطِنِ الْخُفِّ وَعَقِبِهِ وَسَاقِهِ“ یہاں تک کہ مسح جائز نہیں ہے موزے کے باطن پر ”وَعَقِبِهِ“ اور اس کے پچھلے حصے پر، عقب کہتے ہیں ایڑی کو، ایڑی کی جانب یہ بھی جائز نہیں، ”وَسَاقِهِ“ ساق پنڈلی بھئی، اور موزے کی پنڈلی جو ہے اوپر ٹخنوں سے اوپر جو حصہ ہے اس پر بھی مسح جائز نہیں، بلکہ مسح کہاں کرنا پڑے گا؟ موزے کے ظاہر پر بھئی، سامنے والے حصے پر۔ وجہ کیا؟ بھئی باطنِ خف نچلے حصے پر کیوں نہیں جائز؟ ایڑی کی طرف مسح کیوں نہیں جائز؟ اور پنڈلی کی طرف کیوں نہیں جائز؟ کہتے ہیں ”لِأَنَّهُ مَعْدُولٌ بِهِ عَنِ الْقِيَاسِ فَيُرَاعَى جَمِيعُ مَا وَرَدَ بِهِ الشَّرْعُ“ اس لیے کیونکہ یہ جو مَسْحُ الْخُفَّيْنِ ہے معدولٌ بہ ہے قیاس سے، یعنی یہ پھیرا گیا ہے قیاس سے، یہ تو خلافِ قیاس ہے بھئی، خلافِ قیاس ہے۔ قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے حدث پیش آیا ہے، تو حدث پیش آیا ہے تو اب پاؤں کو دھونا پڑے گا، بغیر دھوئے وہ حدث دور نہیں ہوگا، لیکن شریعت نے کیا حکم دیا کہ اگر موزے پہنے ہوئے ہیں تو کیا کر سکتے ہو ان پر؟ مسح، تو یہ جو حکم آیا موزوں پر مسح کا، یہ خلافِ قیاس ہے۔ جب یہ خِلاَفُ الْقِيَاس ہوا تو اس میں ان تمام چیزوں کی رعایت رکھنا پڑے گی جس کے ساتھ شریعت وارد ہوئی ہے۔ یعنی جیسے شریعت نے حکم دیا ہے اسی طرح کرنا پڑے گا، اس میں اپنی طرف سے کوئی تبدیلی نہیں کی جا سکتی کیونکہ یہ قیاس کے مطابق ہی نہیں ہے تو پھر اس پر کیسے قیاس کرتے ہوئے عقل کے ذریعے کوئی حکم لگایا جائے۔ اور شریعت تو کیا وارد ہوئی ہے؟ کس حصے پر ہو؟ اگلے حصے پر، سامنے والے حصے پر ہو، ظاہر پر ہو اور تین خط کھینچے جائیں کس کے ساتھ؟ انگلیوں کے، تین انگلیوں کے ساتھ۔ لِأَنَّهُ مَعْدُولٌ بِهِ عَنِ الْقِيَاسِ اس لیے کیونکہ یہ مَسْحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ جو ہے، یہ قیاس سے پھیرا گیا ہے یعنی قیاس کے خلاف ہے، قیاس کے مطابق نہیں۔ فَيُرَاعَى جَمِيعُ مَا وَرَدَ بِهِ الشَّرْعُ تو رعایت رکھی جائے گی ان سب کی جن کے ساتھ شریعت وارد ہوئی ہے یعنی جس طرح شریعت نے بتلایا ہے۔ وَالْبِدَايَةُ مِنَ الْأَصَابِعِ، بھئی متن میں آیا تھا: يُبْدَأُ مِنْ قِبَلِ الْأَصَابِعِ إِلَى السَّاقِ کہ ابتدا کی جائے گی انگلیوں سے کس کی طرف؟ پنڈلی کی طرف۔ اس کی کیا وجہ؟ کہتے ہیں: وَالْبِدَايَةُ مِنَ الْأَصَابِعِ اسْتِحْبَابٌ اور انگلیوں سے ابتدا کرنا یہ استحباب ہے یعنی مستحب ہے، مستحب ہے۔ کر لو گے تو اس کے مطابق ثواب ملے گا اور اگر نہیں کرو گے تو مسح ہو جائے گا البتہ مستحب رہ جائے گا، ثواب پھر اس کا نہیں۔ تو کہتے ہیں: اور ابتدا کرنا انگلیوں کی طرف سے اسْتِحْبَابٌ یہ مستحب ہے، بھئی مستحب کس اعتبار سے ہے؟ کہتے ہیں: اعْتِبَارًا بِالْأَصْلِ اصل پر قیاس کرتے ہوئے، وَهُوَ الْغَسْلُ اور وہ ہے دھونا۔ جب ہم پاؤں دھوتے تھے، دھونا ہے اصل اور مسح کیا ہے؟ یہ اس کا نائب ہے، تو وہ دھونا جو اصل تھا اس کے اندر ابتدا کہاں سے کرتے تھے؟ انگلیوں سے دھونے کی جیسے ابتدا کرتے تھے، اسی طرح مسح کے اندر بھی ابتدا کہاں سے کریں گے؟ انگلیوں کی طرف سے کریں گے بھئی۔ لہٰذا اگر کوئی موزے پر مسح کرتا ہے اور اگلے حصے پر ہی پاؤں کے اور ظاہر پر ہی کرتا ہے لیکن چوڑائی میں کرتا ہے، یعنی یہ بڑی انگلی کی جانب سے شروع کرتا ہے چھوٹی انگلی کی جانب چوڑائی میں تین انگلیوں کی مقدار مسح کر لیتا ہے تو بھی اس کا مسح ہو گیا بھئی۔ یا اوپر والے حصے سے نیچے والے حصے کی طرف مسح کر لیتا ہے تین انگلیوں کے ساتھ تو بھی اس کا مسح ہو گیا، البتہ یہ مستحب کے خلاف ہوا بھئی، سمجھ میں آیا؟ مستحب کے مطابق نہ ہوا بھئی۔ تو یہاں سے آپ کو پتہ چل گیا بھئی کہ مسح جو ہے ظَاهِرِ خُفّ پر ہو گا، باطن پر نہیں بھئی، باطن پر نہیں۔ چنانچہ حضرت علی رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ فرماتے ہیں کہ اگر دین رائے کے تابع ہوتا تو بَاطِنِ خُفّ وہ مسح کے زیادہ لائق ہے ظَاهِرِ خُفّ سے۔ حضرت علی رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ کیا فرماتے ہیں کہ یہ دین عقل سے نہیں ہے، بس جیسا شریعت نے حکم دے دیا اس کے مطابق اس پر عمل کرنا پڑے گا، چاہے آپ کی عقل میں بات آئے یا عقل میں نہ آئے، ورنہ اگر عقل سے ہوتا تو عقل کے اعتبار سے دیکھا جائے پھر تو موزے کے باطن پر مسح کرنا زیادہ بہتر تھا بجائے ظاہر کے۔ کیونکہ باطن نیچے والا حصہ جو ہے جو تلوا ہے وہ تو زمین پر لگتا جا رہا ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو اس پر کیا تھا مسح، عقل تو کہتی ہے اس پر مسح اولیٰ ہے، لیکن کہتے ہیں: میں نے دیکھا نبی کریم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کو کہ آپ اپنے موزوں کے ظاہر پر مسح فرما رہے ہیں نہ کہ باطن پر۔ وَفَرْضُ ذَلِكَ مِقْدَارُ ثَلَاثِ أَصَابِعَ مِنْ أَصَابِعِ الْيَدِ اور فرض جو ہے اس مسح کی مقدار جو ہے وہ تین انگلیاں ہیں مِنْ أَصَابِعِ الْيَدِ ہاتھ کی انگلیوں میں سے۔ کتنی مقدار فرض ہے کہ جس سے مسح ادا ہو جائے گا؟ تو کیا بتلایا انہوں نے؟ تین انگلیوں کی مقدار اور انگلیاں بھی ہاتھ کی انگلیاں مراد ہیں، پاؤں کی انگلیاں مراد نہیں ہیں بھئی۔ تو اتنی مقدار مسح کر لے۔ وَقَالَ الْكَرْخِيُّ رَحِمَهُ اللهُ مِنْ أَصَابِعِ الرِّجْلِ اور امام کرخی رَحِمَهُ اللهُ فرماتے ہیں: مِنْ أَصَابِعِ الرِّجْلِ پاؤں کی انگلیوں میں سے۔ کس کا اعتبار ہے؟ پاؤں کی انگلیوں کا اعتبار ہے۔ وَالْأَوَّلُ أَصَحُّ اعْتِبَارًا لِآلَةِ الْمَسْحِ صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: پہلا قول صحیح ہے اعْتِبَارًا لِآلَةِ الْمَسْحِ آلۂ مسح کا اعتبار کرتے ہوئے۔ مسح کس سے کر رہے ہیں؟ ہاتھ کی انگلیوں سے، ہاتھ سے کر رہے ہیں تو ہاتھ ہوا آلۂ مسح، تو اس کا اعتبار کیا جائے گا اور اس ہاتھ کی تین انگلیاں مراد ہیں، پاؤں کی انگلیاں مراد نہیں بھئی۔ تو اعتبار کس کا کرتے ہوئے؟ آلۂ مسح کا۔ جی فرض مقدار بھی آپ کو پتہ چل گئی بھئی، مسح کرنا ہے ظَاهِرِ خُفّ پر اور کم از کم کتنی مقدار؟ تین انگلیوں کی مقدار بھئی۔ اور کیا طریقہ بتلایا؟ کہ پاؤں کی انگلیوں کی جانب سے شروع کرے اور اوپر کی جانب انگلیوں کو کھینچ کر لے جائے، یہ ہے طریقہ۔ تفصیل یاد رکھیے بھئی، تفصیل۔ آپ موزوں پر مسح کرنا چاہتے ہیں اور کتنی انگلیوں سے کریں گے؟ تین انگلیوں سے۔ آپ تین انگلیاں موزوں پر پاؤں کی انگلیوں کی جانب رکھتے ہیں، تو یہ انگلیوں کے صرف سرے نہیں رکھنے، ہاتھ کی انگلیوں کے صرف سرے نہیں لگانے مسح کرتے ہوئے بلکہ پوری انگلی موزے پر بچھا دیں ہاتھ کی، ہتھیلی کو جدا رکھیں، انگلی پوری تینوں انگلیاں پوری پوری موزے پر لگی ہوئی ہیں پھر اس کو کھینچ کر اوپر کی طرف لے آئیں بھئی۔ طریقہ سمجھ میں آیا؟ کہ صرف انگلیوں کے سرے نہیں رکھنے بلکہ پوری انگلی رکھنی ہے بھئی، پوری انگلی رکھنی ہے۔ ہاں اگر صرف انگلیوں کے سرے رکھے تو بھی آپ کا مسح درست ہو جائے گا بشرطیکہ انگلیوں سے مسلسل پانی ٹپک رہا ہے، ہاتھ اتنا گیلا ہے کہ آپ نے صرف انگلیوں کے سرے رکھے اور ان کو کھینچ کر اوپر کی طرف لے گئے، تین انگلیوں کی مقدار کھینچ کر لے گئے اور وہ جوں جوں آپ انگلیوں کے سرے موزے پر کھینچ کر اوپر لے جا رہے ہیں وہ جگہ ساری گیلی ہی ہوتی جا رہی ہے بھئی، پانی اتنا ہے، تو پھر اس صورت میں بھی مسح صحیح ہو جائے گا۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ تو ہاں کم از کم اتنا پانی لگے، اتنی جگہ پر مسح ہو پھر ہو گا۔ اور ایک انگلی سے کوئی مسح کرنا چاہے تو بھی مسح ہو سکتا ہے بشرطیکہ اس میں ہر مرتبہ نیا پانی لے، انگلی کو دوبارہ گیلا کرے اور ہر مرتبہ اس سے خط کھینچے بھئی۔ تو ایک مرتبہ خط کھینچا، پھر انگلی کو گیلا کیا پھر دوسرا خط کھینچا، پھر تیسری مرتبہ گیلا کیا، تیسرا خط تیسری لکیر کھینچ دی موزوں پر تیسرے، تو اب یہ مسح درست ہو گیا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو بھئی یہاں ذکر آیا کہ امام کرخی رَحِمَهُ اللهُ جو ہیں وہ پاؤں کی انگلیوں کا، وہ فرماتے ہیں پاؤں کی انگلیوں کا اعتبار کیا جائے گا، جبکہ متن میں کیا آیا کہ مسح کی مقدار کے اندر ہاتھ کی انگلیوں کا اعتبار کیا جائے گا، تو ہاتھ کی تین انگلیوں کے برابر مسح کر لے گا تو مسح ہو جائے گا، فرض ادا ہو جائے گا بھئی۔ تو امام کرخی رَحِمَهُ اللهُ کا ذکر آیا بھئی، امام کرخی رَحِمَهُ اللهُ۔ یاد رکھیے، امام کرخی رَحِمَهُ اللهُ ان کا یہ نام جو ہے ابوالحسن عبید اللہ ابنِ حسین ہے بھئی، ابوالحسن عبید اللہ ابنِ حسین بھئی۔ ابوالحسن عبید اللہ ابنِ حسین۔ اور ان کی پیدائش ہوئی ہے 260 ہجری میں اور وفات ہوئی ہے 340 ہجری میں۔ اور یہ بہت بڑے فقیہ اور اصولی گزرے ہیں اور یہ استاد ہیں ابوبکر جصاص رَحِمَهُ اللهُ کے۔ یہ عراق کے رہنے والے تھے، مفتیِ عراق۔ اور ان کا ایک رسالہ ہے اصول کے اندر، اصول کے اندر اصولِ کرخی اور اس پر احناف کی فروع کا مدار ہے، بڑا ہی قیمتی رسالہ انہوں نے تصنیف فرمایا۔ تو یہ بہت بڑے فقیہ تھے، ان کی بڑی شہرت تھی، اللہ نے ان کو بڑا اونچا مقام نصیب فرمایا تھا، فقہ کے اندر ان کا مقام بڑا اونچا، تو اصول کے اندر جو انہوں نے رسالہ لکھا اس پر احناف کی فروع کا مدار ہے۔ اسی طرح انہوں نے جامعِ صغیر کی بھی شرح لکھی اور جامعِ کبیر کی بھی جو ظَاهِرِ الرِّوَايَة آپ پڑھ چکے ہیں بھئی، امام محمد رَحِمَهُ اللهُ کی کتابیں، ان کی بھی انہوں نے شروحات لکھیں بھئی۔ جی تو سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ امام کرخی رَحِمَهُ اللهُ بہت بڑے امام گزرے ہیں احناف کے بھئی اور 340 ہجری میں ان کا انتقال ہوا ہے اور یہ ابوبکر جصاص رَحِمَهُ اللهُ کے استاد ہیں، عراق کے رہنے والے تھے اور بڑی اللہ نے ان کو مقبولیت اور شہرت اور نام نصیب فرمایا، بہت اونچا مقام تھا، بہت علم اللہ نے نصیب فرمایا۔ فقہ کے اندر اتنا اونچا مقام کہ اصول کے اندر انہوں نے ایک رسالہ لکھا جس پر احناف کی فروع کا مدار ہے بھئی، احناف کی فروع کا یہ فروعی مسائل کا مدار ہے بھئی۔ اسی طرح انہوں نے جامعِ صغیر اور جامعِ کبیر کی بھی شرح لکھی بھئی۔ تو ان کا ذکر جگہ جگہ ملے گا بھئی، یہ تو ان کا یاد رکھنا کہ ان کا انتقال کس وقت ہوا ہے؟ 340 ہجری کے اندر، تو پیدائش ہے 260 ہجری کی اور انتقال ہے 340 ہجری میں۔ وَلَا يَجُوزُ الْمَسْحُ عَلَى خُفٍّ فِيهِ خَرْقٌ كَثِيرٌ يَتَبَيَّنُ مِنْهُ قَدْرُ ثَلَاثِ أَصَابِعَ مِنْ أَصَابِعِ الرِّجْلِ وَإِنْ كَانَ أَقَلَّ مِنْ ذَلِكَ جَازَ۔ یہاں سے آپ کو یہ مسئلہ بتلا رہے ہیں کہ مسح کرنا اس موزے پر جائز ہو گا جس میں زیادہ پھٹن نہ ہو، زیادہ پھٹا ہوا نہ ہو۔ اگر تھوڑا پھٹا ہوا ہے تو اس موزے پر مسح جائز ہے اور اگر موزہ زیادہ پھٹا ہوا ہے تو اس پر مسح جائز نہیں۔ اب کیسے کس کو زیادہ پھٹن کہیں گے اور کس کو کم پھٹن؟ وہ بتلائیں گے آپ کو، کہ اگر موزہ اتنا پھٹا ہوا ہے کہ اس سے پاؤں کی تین چھوٹی انگلیاں جو ہیں وہ ظاہر ہو جاتی ہیں، اتنا پاؤں چلتے ہوئے اتنا حصہ پاؤں کا ظاہر ہوتا ہے۔ یعنی موزے کے موزہ جس حصے سے بھی پھٹا ہو، چاہے ایڑی کی طرف پھٹا ہو چاہے کسی دوسری جانب سے پھٹا ہو، لیکن کتنا پھٹا ہو؟ کہ اتنا پھٹا ہوا ہے جس سے تین انگلیاں کی مقدار جو ہے ظاہر ہو جاتی ہے، اتنا حصہ پاؤں کا ظاہر ہو جاتا ہے چلتے ہوئے، تو یہ کثیر پھٹن ہے، اس پر پھر مسح کرنا جائز نہیں۔ ہاں اس سے کم ہے تو پھر وہ قلیل ہے بھئی، وہ کیا ہے؟ قلیل ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَلَا يَجُوزُ الْمَسْحُ عَلَى خُفٍّ فِيهِ خَرْقٌ كَثِيرٌ اور جائز نہیں ہے مسح کرنا ایسے موزے پر جس میں اتنی کثیر پھٹن ہو، يَتَبَيَّنُ مِنْهُ کہ ظاہر ہوتی ہو اس پھٹن میں سے، قَدْرُ ثَلَاثِ أَصَابِعَ مِنْ أَصَابِعِ الرِّجْلِ تین انگلیوں کی مقدار پاؤں کی انگلیوں میں سے، وَإِنْ كَانَ أَقَلَّ مِنْ ذَلِكَ اور اگر اس سے کم پھٹن ہے، جَازَ پھر اس موزے پر مسح کرنا جائز ہے بھئی، جائز ہے۔ بھئی دیکھیے، یہاں پر وَلَا يَجُوزُ الْمَسْحُ عَلَى خُفٍّ، یہ خُفٍّ نکرہ آیا اور نکرہ کے بعد میں نے آپ کو بتلایا تھا فعل آئے تو وہ اس کے لیے کیا بنتا ہے؟ صفت بنتا ہے، کیونکہ فعل نے اپنے فاعل یا نائب فاعل سے مل کر جملہ بننا ہے اور جملہ کس کے حکم میں ہے؟ نکرہ کے حکم میں، تو گویا نکرہ کے بعد نکرہ آ گیا اور نکرہ کے بعد نکرہ آئے تو وہ عموماً آپس میں کیا بنتے ہیں؟ موصوف صفت۔ اسی طرح یہ تو تھا نکرہ کے بعد فعل آئے، اگر نکرہ کے بعد جملہ اسمیہ آ گیا وہ بھی جملہ ہے اور جملہ کس کے حکم میں؟ نکرہ کے حکم میں، تو وہ بھی صفت بنے گا اس ماقبل کے نکرہ کے لیے۔ یہاں دیکھیے: عَلَى خُفٍّ، خُفٍّ آیا نکرہ، فِيهِ خَرْقٌ، فِيهِ خبرِ مقدم، خَرْقٌ مبتدائے مؤخر، مبتدا اپنی خبر سے مل کر کیا بنا؟ جملہ اور جملہ کس کے حکم میں؟ نکرہ، تو یہ صفت بنے گا خُفّ کی، ایسا موزہ فِيهِ خَرْقٌ جس میں کیا ہو؟ پھٹن ہو۔ پھر اس کے بعد دوبارہ دیکھیے: خَرْقٍ كَثِيرٍ، خَرْقٌ نکرہ آیا، اس کے بعد پھر كَثِيرٌ نکرہ آیا، یہ اس کی صفتِ اول، پھر يَتَبَيَّنُ فعل آیا اور فعل اپنے فاعل سے مل کر کیا بنتا ہے؟ جملہ، تو نکرہ کے بعد فعل آ گیا اور نکرہ کے بعد فعل آئے تو وہ اس کے لیے کیا بنتا ہے؟ صفت، تو یہ يَتَبَيَّنُ مِنْهُ یہ جملہ جو ہے یہ صفتِ ثانی بنے گا خَرْق کے لیے۔ کیا بنے گا؟ اور موصوف صفت کا ترجمہ میں نے کیا طریقہ بتلایا تھا؟ پوری بات کریں بھئی، ایسا یا ایسی ادھوری بات کر... موصوف سے پہلے ایسا یا ایسی کا لفظ لائیں۔ تو یہاں دو ہو گئے موصوف، ایک تو خُفّ ہے اس کی صفت ہے فِيهِ خَرْقٌ كَثِيرٌ اور ایک خَرْقٌ ہے اس کی صفت کیا ہے؟ كَثِيرٌ اور يَتَبَيَّنُ۔ اب ترجمہ دیکھیے: وَلَا يَجُوزُ الْمَسْحُ عَلَى خُفٍّ فِيهِ خَرْقٌ كَثِيرٌ يَتَبَيَّنُ مِنْهُ قَدْرُ ثَلَاثِ أَصَابِعَ مِنْ أَصَابِعِ الرِّجْلِ، وَلَا يَجُوزُ الْمَسْحُ عَلَى خُفٍّ اور جائز نہیں ہے مسح کرنا ایسے موزے پر، فِيهِ خَرْقٌ كَثِيرٌ جس میں ایسی کثیر پھٹن ہو، يَتَبَيَّنُ مِنْهُ کہ ظاہر ہوتے ہوں اس پھٹن میں سے، قَدْرُ ثَلَاثِ أَصَابِعَ مِنْ أَصَابِعِ الرِّجْلِ تین انگلیوں کی مقدار پاؤں کی انگلیوں میں سے۔ جی ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟ دیکھیے یہ قواعد کا خیال رکھیں گے تو بڑا بہترین ترجمہ ہو جاتا ہے۔ وَإِنْ كَانَ أَقَلَّ مِنْ ذَلِكَ جَازَ اور اگر وہ پھٹن اس سے کم ہے تو پھر اس موزے پر مسح جائز ہے۔ وَقَالَ زُفَرُ وَالشَّافِعِيُّ رَحِمَهُمَا اللهُ تَعَالَى لَا يَجُوزُ اور امام زفر اور امام شافعی رَحِمَهُمَا اللهُ فرماتے ہیں کہ جائز نہیں۔ وَإِنْ قَلَّ اگرچہ پھٹن تھوڑی ہی ہو۔ لِأَنَّهُ لَمَّا وَجَبَ غَسْلُ الْبَادِي يَجِبُ غَسْلُ الْبَاقِي اس لیے کیونکہ جب ظاہر کا دھونا واجب ہوا، الْبَادِي ظاہر بھئی ظاہر، بَدَا يَبْدُو سے ہے، جب واجب ہوا ظاہر کا دھونا تو واجب ہوا باقی کا بھی دھونا۔ امام زفر، امام شافعی رَحِمَهُمَا اللهُ فرماتے ہیں کہ بھئی موزے کے اندر اگر قلیل پھٹن ہی کیوں نہ ہو پھر بھی اس پر مسح جائز نہیں ہے، اس لیے کیونکہ وہ فرماتے ہیں، دلیل دیتے ہیں کہ جو حصہ ظاہر ہے اگرچہ تھوڑی سی پھٹن ہے لیکن تھوڑا سا حصہ نظر آ رہا ہے یا نہیں؟ تھوڑا سا حصہ نظر آ رہا ہے اور جو حصہ نظر آ رہا ہے اس کا تو دھونا واجب ہے۔ جب اس کا دھونا واجب تو باقی پاؤں کا بھی دھونا واجب ہو گا، اس لیے کیونکہ یہ نہیں ہو سکتا کچھ پر مسح کو ضروری قرار دیا جائے اور کچھ پر دھونے، ایک ہی وظیفے کے اندر، ایک ہی فرض کے اندر غسل اور مسح دونوں جمع نہیں ہو سکتے۔ یا تو مسح ہے تو غسل نہیں، غسل ہے تو مسح نہیں، تو یہاں پر کچھ حصہ تو ظاہر ہے اور جو حصہ ظاہر ہے اس پر اس کا تو دھونا واجب، جب اس کا دھونا واجب تو کہنا پڑے گا باقی کا دھونا بھی واجب۔ ورنہ اگر باقی پر مسح جائز قرار دیا جائے تو پھر تو کیا صورت بن جائے گی؟ ایک ہی وظیفے کے اندر کچھ غسل آ گیا اور کچھ مسح، ایسا نہیں ہو سکتا، ایسا جائز نہیں، صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے: لِأَنَّهُ لَمَّا وَجَبَ غَسْلُ الْبَادِي يَجِبُ غَسْلُ الْبَاقِي اس لیے کیونکہ جب ظاہر حصہ الْبَادِي وہ جو ظاہر حصہ ہے اس کا دھونا واجب ہے تو يَجِبُ غَسْلُ الْبَاقِي تو باقی کا دھونا بھی واجب ہو گا۔ وَلَنَا ہماری دلیل یہ ہے بھئی، احناف کی دلیل: أَنَّ الْخِفَافَ لَا تَخْلُو عَنْ قَلِيلِ خَرْقٍ کہ موزے جو ہیں، خِفَاف جمع ہے خُفّ کی، ہماری دلیل یہ کہ موزے وہ خالی نہیں ہوتے عَنْ قَلِيلِ خَرْقٍ عادۃً تھوڑی پھٹن سے عادۃً۔ عادۃً یعنی عام طور پر موزے تھوڑی پھٹن سے خالی نہیں ہوتے، تھوڑا بہت تو موزہ کسی نہ کسی جانب سے پھٹا ہی ہوتا ہے بھئی، تو موزوں میں عام طور پر تھوڑی بہت پھٹن ہوتی ہے۔ آج کل تو اگرچہ بڑی سہولیات آ گئیں خاص بڑے خاص قسم کے موزے، لیکن قدیم زمانے میں موزے کہاں کسی غریب بیچارے کو ملتے تھے، کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا الّا یہ کہ کوئی بڑا ہی مالدار ہو تو اس کو موزے مل جاتے۔ تو وہ ہم دلیل دیتے ہیں کہ موزے جو ہیں وہ تھوڑی پھٹن سے خالی نہیں ہوتے عادۃً، تو اگر تھوڑی پھٹن کی صورت میں بھی موزہ اتار کر پاؤں دھونے کو واجب قرار دیا جائے تو لوگ حرج میں، تنگی میں اور مشکل میں پڑ جائیں گے۔ سردیوں کے اندر ہیں، موزے پہنے ہوئے ہیں اور شریعت کا حکم کیا قرار دیا جائے کہ موزے اتار کر پاؤں دھونا پڑیں گے تو لوگ تو مشکل میں پڑ جائیں گے بھئی، کیونکہ تھوڑی بہت پھٹن تو ہر موزے میں ہی ہوتی ہے۔ ہاں کثیر پھٹن کم ہی ہوتی ہے، وہ کسی کسی کے ہی موزے میں ہو گی، تو اس صورت میں پھر تنگی نہیں صرف اسی کو حکم ہو گا کہ وہ کیا کرے؟ کثیر پھٹن ہے اور اس پر تو مسح جائز نہیں، موزہ اتارے اور پاؤں دھوئے بھئی۔ جبکہ قلیل تو ہر موزے میں ہی ہوتی ہے، سب سب کی مشکل میں پڑ جائیں گے۔ ہماری دلیل یہ ہے: أَنَّ الْخِفَافَ لَا تَخْلُو عَنْ قَلِيلِ خَرْقٍ عَادَةً کہ موزے جو ہیں وہ خالی نہیں ہوتے تھوڑی پھٹن سے عام طور پر، فَيَلْحَقُهُمُ الْحَرَجُ فِي النَّزْعِ تو لوگوں کو حرج اور تنگی لاحق ہو گی، تنگی پیش آئے گی موزے اتارنے میں، وَتَخْلُو عَنِ الْكَثِيرِ اور موزے جو ہیں وہ خالی ہوتے ہیں کس سے؟ کثیر پھٹن سے تو خالی ہوتے ہیں، فَلَا حَرَجَ تو اس کے اتارنے میں کوئی حرج نہیں۔ وَالْكَثِيرُ اب کثیر کہتے کسے ہیں؟ وہی متن والی شرح کر رہے ہیں اسی کی، کہتے ہیں: وَالْكَثِيرُ أَنْ يَنْكَشِفَ قَدْرُ ثَلَاثِ أَصَابِعِ الرِّجْلِ أَصْغَرِهَا اور کثیر یہ ہے کہ کھل جائے، اِنْكَشَفَ کا معنی کھل جانا، کہ کھل جائے یعنی ظاہر ہو قَدْرُ ثَلَاثِ أَصَابِعِ الرِّجْلِ پاؤں کی تین انگلیوں کی مقدار اس میں سے کھل جائیں یعنی نظر آتی ہوں، أَصْغَرِهَا ان انگلیوں میں سے جو چھوٹی ہیں، وہ انگلیاں بھئی۔ وَهُوَ الصَّحِيحُ یہی قول صحیح ہے بھئی۔ لِأَنَّ الْأَصْلَ فِي الْقَدَمِ هُوَ الْأَصَابِعُ بھئی انگلیوں کا اعتبار کیوں کیا؟ کہتے ہیں: لِأَنَّ الْأَصْلَ فِي الْقَدَمِ هُوَ الْأَصَابِعُ اس لیے کیونکہ پاؤں کے اندر جو اصل ہیں وہ انگلیاں ہیں، پاؤں میں اصل۔ جیسے ہاتھ میں آپ پڑھ چکے اصل کیا ہیں؟ انگلیاں، چنانچہ اسی وجہ سے اگر ایک ہاتھ کے اندر کسی کا ہاتھ کاٹ دے تو دیت پچاس اونٹ ہے، پچاس اونٹ دینے پڑیں گے، لیکن اگر ایک انگلی کاٹ دیتا ہے تو پانچ انگلیاں ہیں تو ایک انگلی کے مقابلے میں کتنے آئے؟ دس، تو ایک انگلی کاٹے تو دس اونٹ دینے پڑیں گے، دو کاٹی ہیں تو بیس دینے پڑیں گے اور اگر پانچوں انگلیاں کاٹ دیں تو کتنے دینے پڑیں گے؟ پچاس اونٹ، حالانکہ ہتھیلی تو ابھی بھی پوری باقی ہے لیکن پھر بھی انگلیوں ہی پر کیا آ گئی؟ ساری دیت آ گئی، معلوم ہوا انگلیاں اصل ہیں، ہتھیلی ان کے تابع ہے۔ لہٰذا جس کی انگلیاں نہیں وہ ہاتھ سے کوئی کام سرانجام بھی نہیں دے سکتا، اگرچہ ہتھیلی موجود ہے لیکن وہ کسی کام کی نہیں بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ اسی طرح پاؤں کی انگلیاں پاؤں میں بھی انگلیاں اصل ہیں، چنانچہ پورے ایک پاؤں کے اندر پچاس اونٹ ہیں تو ایک انگلی میں کتنے ہیں؟ دس اونٹ ہیں، تو کوئی کسی کے پاؤں کی ایک انگلی کاٹے تو اس میں بھی دس اونٹوں کی دیت آئے گی، دو کاٹے تو بیس، تین کاٹے تو تیس، معلوم ہوا پاؤں کے اندر بھی کیا ہیں؟ انگلیاں اصل ہیں، اسی لیے ان کے مقابلے میں دیت آ رہی ہے اگرچہ باقی پاؤں باقی بھی ہے لیکن دیت کس کے مقابلے میں آتی جا رہی ہے؟ صرف انگلیوں کے مقابلے میں، معلوم ہوا انگلیاں اصل ہیں اصل بھئی۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّ الْأَصْلَ فِي الْقَدَمِ هُوَ الْأَصَابِعُ اس لیے کیونکہ اصل جو ہیں قدم میں یعنی پاؤں کے اندر هُوَ الْأَصَابِعُ وہ انگلیاں ہیں، وَالثَّلَاثُ أَكْثَرُهَا اور تین ان کا اکثر ہیں۔ بھئی نصف سے چیز زائد ہو تو اس کو اکثر شے کہتے ہیں، اکثر شے، تو ہاتھ کے اندر دو انگلیوں کا دیکھیں تو یہ نصف سے زائد ہیں یا کم ہیں؟ کم ہیں، تو اس کو اقل کہیں گے، اقل۔ اور اگر تین انگلیاں دیکھیں تو یہ نصف سے، کیونکہ ہاتھ میں کل پانچ انگلیاں ہیں تو تین جو ہیں یہ نصف سے بڑھ گئیں اور نصف سے جو چیز زائد ہو اس کو کیا کہتے ہیں؟ اکثر شے، تو تین انگلیاں کیا ہیں؟ اکثر، أَكْثَرُ الْأَصَابِع ہیں بھئی تو... اور آپ نے ضابطہ پڑھا ہے: لِلْأَكْثَرِ حُكْمُ الْكُلِّ تو اکثر کے لیے کل ہی کا حکم ہوتا ہے، تو یہاں پر بھی تین انگلیاں جو ہیں وہ کل کے قائم مقام ہو گئیں بھئی۔ تو جب موزے کے اندر تین چھوٹی انگلیوں کے برابر پھٹن ہے تو تین انگلیاں کیا ہیں؟ اکثر انگلیوں، اور لِلْأَكْثَرِ حُكْمُ الْكُلِّ تو جب تین انگلیوں کے برابر قدم ظاہر ہے تو یوں ہی سمجھا جائے گا گویا سارا قدم ہی ظاہر ہے بھئی، کیونکہ لِلْأَكْثَرِ حُكْمُ الْكُلِّ۔ اور جب سارا قدم ظاہر ہو پھر تو حکم کیا ہوتا ہے؟ اس کو دھونا ضروری ہے، تو لہٰذا اتنی پھٹن ہو تو اس صورت میں بھی پاؤں کا دھونا ضروری ہو گا۔ یہ معنی ہے: وَالثَّلَاثُ أَكْثَرُهَا اور تین انگلیاں جو ہیں وہ اس انگلیوں کا اکثر ہیں کیونکہ انگلیاں کل پانچ بھئی ایک پاؤں میں، فَتُقَامُ مَقَامَ الْكُلِّ تو ان کو کل کے قائم مقام کر دیا جائے گا۔ وَاعْتِبَارُ الْأَصْغَرِ لِلِاحْتِيَاطِ اور جو چھوٹی انگلی کا اعتبار کیا گیا وہ بطورِ احتیاط کے ہے، کس کے ہے؟ بھئی انہوں نے کہا نا پاؤں کی چھوٹی تین انگلیوں کی مقدار بھئی۔ وجہ اس کی یہ کہ اگر بڑی انگلی کا اعتبار کریں تو پھر تو زیادہ پھٹن میں بھی مسح کی گنجائش ہو گی اور چھوٹی انگلی کا اعتبار کریں تو اس میں پھر تھوڑی پھٹن کے اندر تو مسح جائز ہو گا، کیونکہ تین انگلیاں اس میں سے ظاہر ہو رہی ہیں بھئی، جس میں سے تین انگلیاں کیا ہیں؟ بھئی جس میں سے اتنا موزہ پھٹا ہوا ہے اس میں سے چھوٹی تین انگلیاں ظاہر ہو جاتی ہیں تو اس پر مسح جائز نہیں۔ لیکن اگر بڑی انگلی کا اعتبار کیا جائے وہ بڑی تو اس میں سے ظاہر نہیں ہوں گی تو کیا کہنا پڑے گا؟ کہ مسح کرنا اس پر جائز ہے، وہ زیادہ پھٹن اس سے بھی زیادہ پھٹن ہو گی پھر جا کر کہیں گے مسح کرنا جائز نہیں۔ اور چونکہ یہ طہارت کا مسئلہ ہے، وضو کا مسئلہ ہے تو احتیاط کس کے اندر ہے؟ کس کا اعتبار کیا جائے؟ چھوٹی انگلی کا اعتبار کیا جائے۔ یہ معنی ہے: وَاعْتِبَارُ الْأَصْغَرِ لِلِاحْتِيَاطِ اور چھوٹی انگلی کا اعتبار جو ہے وہ احتیاط کے طور پر ہے۔ وَلَا مُعْتَبَرَ بِدُخُولِ الْأَنَامِلِ إِذَا كَانَ لَا يَنْفَرِجُ عِنْدَ الْمَشْيِ اور یہ بھی یاد رکھیے، ایک شخص ہے اس کے موزے میں پھٹن ہے اور اتنی پھٹن ہے کہ اس سے تین انگلیاں پاؤں کی ظاہر ہو جاتی ہیں، آپ نے آپ کے موزے میں پھٹن تھی آپ نے موزے کو دیکھا پاؤں کی چھوٹی انگلی کے ساتھ تو دیکھا تین انگلیاں اس میں سے ظاہر ہو جاتی ہیں اتنی پھٹن ہے۔ لیکن جب آپ اس کو پہن کر چلتے ہیں تو اتنا پاؤں کھلتا نہیں۔ ویسے آپ موزے کو پکڑ کر اس کو غور سے دیکھیں اس جگہ کو کھولیں تو آپ کو پتہ لگے گا کتنی مقدار ہے پھٹن؟ تین، لیکن جب آپ چلتے ہیں پہنے ہوئے ہیں آپ نے موزے اور چلتے ہیں اس وقت وہ اتنا کھلتا نہیں ہے، مثلاً سلائی ایک جانب سے اکھڑ گئی ہے اب وہ سلائی تو آپ ویسے دیکھیں گے موزے کو ہاتھ میں پکڑ کر پھر تو آپ کو پتہ چلے گا لیکن موزہ پہنا ہوا ہے اور آپ چل رہے ہیں اس وقت اتنا نہیں کھلتا تو پھر یاد رکھیے اس پر بھی آپ مسح کر سکتے ہیں۔ تو اعتبار کس چیز کا ہے؟ کہ ظاہر ہو اتنا حصہ پاؤں کا، چلتے ہوئے اتنا حصہ پاؤں کا کھلتا ہو نظر آتا ہو تو پھر اس پر مسح جائز... پھر اس پر مسح جائز نہیں ہو گا ورنہ جائز ہو گا۔ یہ معنی ہے: وَلَا مُعْتَبَرَ بِدُخُولِ الْأَنَامِلِ اور انگلیوں کے داخل ہونے کا کوئی اعتبار نہیں ہے، إِذَا كَانَ لَا يَنْفَرِجُ عِنْدَ الْمَشْيِ جبکہ وہ جگہ کھلتی نہ ہو چلتے وقت بھئی۔ وہ پھٹن کھلتی نہ... چلتے ہوئے جب نہیں کھلتی، ہاں اتنی پھٹن ہے انگلیاں تو اس میں داخل ہو جاتی ہیں لیکن اس کا کوئی اعتبار نہیں، جب چلتے ہوئے نہیں کھلتی اتنی جگہ ظاہر نہیں ہوتی تو اس پر مسح درست ہے بھئی۔ وَيُعْتَبَرُ هَذَا الْمِقْدَارُ فِي كُلِّ خُفٍّ عَلَى حِدَةٍ اور یہ بھی یاد رکھیے، ہر موزے کی پھٹن کا علیحدہ اعتبار ہو گا۔ ایک موزے کے اندر تھوڑی تھوڑی پھٹن ہے ان کو تو جمع کریں گے، لیکن دونوں موزوں کے اندر پھٹن جو ہے ان کو جمع نہیں کیا جائے گا۔ ایک موزے کے اندر تھوڑی تھوڑی پھٹن ہے ان ساروں کو جمع کریں گے، اگر وہ اتنی مقدار بن جاتی ہے تین انگلیوں کے برابر تو پھر اس موزے پر مسح جائز نہیں ورنہ مسح جائز ہے، دوسرے موزے کو الگ دیکھا جائے گا اس کی پھٹن کو اکٹھا کیا جائے گا۔ یہ معنی ہے: اور اعتبار کیا جائے گا اس مقدار کا فِي كُلِّ خُفٍّ عَلَى حِدَةٍ ہر موزے میں علیحدہ، فَيُجْمَعُ الْخَرْقُ فِي خُفٍّ وَاحِدٍ وَلَا يُجْمَعُ فِي خُفَّيْنِ تو جمع کیا جائے گا پھٹن کو ایک ہی موزے کے اندر یعنی اس کی جتنی پھٹن ہو گی ان کو تو جمع کریں گے، وَلَا يُجْمَعُ فِي خُفَّيْنِ اور دونوں موزوں میں پھٹن کو جمع نہیں کریں گے۔ لِأَنَّ الْخَرْقَ فِي أَحَدِهِمَا لَا يَمْنَعُ قَطْعَ السَّفَرِ بِالْآخَرِ اس لیے کیونکہ پھٹن کا ہونا کہ دونوں میں سے کسی ایک کے اندر، یہ روکتا نہیں ہے دوسرے میں سفر کو طے کرنے سے، دوسرے میں بھی کیا کیا جا سکتا ہے؟ سفر کو طے کیا جا سکتا ہے۔ بھئی دیکھیے یہ موزہ جو ہے اس پر موزہ اس پر مسح جائز ہے، شریعت نے مسح کو جائز قرار دیا۔ تو موزہ کیا بن جاتا ہے؟ مانع بن جاتا ہے یعنی محافظ بن گیا، مانع کا کیا معنی؟ محافظ، یہ پاؤں کا محافظ بن گیا اس نے پاؤں تک حدث کو پہنچنے ہی نہیں دیا، پاؤں تک حدث کو پہنچنے ہی نہیں دیا اور اسی موزے کے اندر اگر آپ چلنا چاہیں تو آپ جوتوں کی طرح ان کو چمڑے کے بنے ہوئے ہیں آپ چل سکتے ہیں بھئی، مسافت اس میں سفر اس میں کر سکتے ہیں کیونکہ یہ بھی کس کی طرح ہیں؟ جوتوں کی طرح ہیں، جیسے جوتے چمڑے سے بنے ہوتے ہیں موزے بھی کس کے بنے ہوئے ہیں؟ چمڑے کے، چمڑے کے۔ تو جب اس میں سفر کر سکتے ہیں دیکھو چلتے ہوئے بھی موزہ پاؤں کے لیے محافظ بنا ہوا ہے مانع بنا ہوا ہے، اطمینان سے آپ چل رہے ہیں کس کا کام دے رہا ہے؟ یہ جوتوں والا کام کر رہا ہے پوری طرح بھئی، تو موزہ کیا ہے پاؤں کے لیے؟ مانع ہے محافظ ہے۔ تو یہاں پر بھی موزے چمڑے والے موزوں پر اسی لیے مسح کو جائز قرار دیا گیا کہ کیونکہ یہ پاؤں کے لیے مانع ہے، اس کے لیے کیا ہے گویا محافظ ہے محافظ ہے اور اس کو پہن کر آپ چل بھی سکتے ہیں، چل لیں آپ سفر کریں دیکھیں یہ محافظ ہے یا نہیں، یہ پاؤں کی پوری حفاظت کرتا ہے۔ اور اسی لیے یہ آج کل کی جو جرابیں ہیں ان پر مسح فقہاء لکھتے ہیں جائز نہیں ہے بھئی، فقہاء فرماتے ہیں کیوں نہیں جائز؟ کیونکہ یہ پاؤں کے لیے مانع محافظ مانع بن ہی نہیں سکتیں، چنانچہ فقہاء فرماتے ہیں اگر چمڑے کے موزے نہیں ہیں بلکہ اون وغیرہ کے بنے ہوئے ہیں تو اگر وہ موٹے ہیں اتنے موٹے ہیں کہ بغیر باندھے ہی پنڈلی کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں جیسے عام موزہ ہوتا ہے۔ ہاں یہ بھی مسئلہ پھر رہ نہ جائے، یاد رکھنا موزہ کم از کم اتنا ہونا چاہیے کہ دونوں ٹخنوں کو ڈھانپ لے، اگر ٹخنوں سے نیچے ہے موزہ جیسے بوٹ ہوتے ہیں جوتے ہیں، نہیں بھئی ان پر مسح جائز نہیں بلکہ موزہ کم از کم کتنا ہو؟ ٹخنوں کو اس نے ڈھانپا ہوا ہو، باقی جتنے بھی اونچے ہوں اس کے میں کوئی حرج نہیں بھئی۔ تو کیا مسئلہ میں ذکر کر رہا تھا؟ کہ موزہ ہاں موزہ جو ہے وہ پاؤں کے لیے محافظ ہے مانع ہے اور جو نرم جرابیں آج کل والی ہیں ان پر فقہاء، مفتی حضرات فرماتے ہیں مسح جائز نہیں، اس لیے کیونکہ وہ پاؤں کے لیے مانع نہیں محافظ نہیں، آپ ان کو پہن کر سفر نہیں کر سکتے۔ کم از کم اتنی موٹی جرابیں اگر ہوں کہ وہ پنڈلی کے ساتھ بغیر باندھے ہی کھڑی رہتی ہیں یعنی خوب موٹی اون کی بنی ہوئی جرابیں ہیں اور مانع بھی ہیں یعنی محافظ بھی ہیں پاؤں کے لیے یعنی آپ ان میں چلیں تو ایک میل، دو میل تک چل بھی سکتے ہوں، ایک دو میل تک یہ آپ کا ساتھ دیں اس وقت تک نہ پھٹیں تو معلوم ہوا یہ ان پر مسح جائز ہے، یہ موٹی جرابیں ان پر کیا ہے مسح؟ کیونکہ یہ پاؤں کے لیے مانع ہیں، اس کی حفاظت کر رہی ہیں بھئی۔ جبکہ یہ باریک جرابیں جو آج کل ہوتی ہیں ان میں تو چند گز آپ چلیں گے زمین پر تو یہ فوراً پھٹ جائیں گی، تھوڑا سا ہی چلیں گے پچاس گز، سو گز، دو سو گز یہ ضرور پھٹ جائیں گی بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ اس سے بھی تھوڑا سا لیکن یہ تو تھوڑی سی مقدار ہے، تو ان میں سفر گویا ذرا بھی نہیں ہو سکتا بھئی، تو لہٰذا یہ مانع بھی نہیں بنیں گی اور ان پر مسح بھی جائز نہیں ہے۔ تفصیل اس مسئلے کی آگے بھی آئے گی بھئی اسی باب کے آخر میں۔ تو بہرحال یہاں جو مقام آیا کہ کیونکہ دونوں موزوں کے دونوں موزے ہیں ان میں پھٹن ہے تو ہر ایک کی پھٹن کو علیحدہ جمع کیا جائے گا، کیونکہ ایک موزے کی پھٹن دوسرے موزے کے مانع بننے میں رکاوٹ نہیں۔ دوسرا موزہ پھر بھی کیا بنے گا؟ مانع ہے، اس محافظ ہے، اس میں سفر ہو سکتا ہے یا نہیں ایک موزے کے اندر؟ جی؟ ہاں اس میں سفر ہو سکتا ہے، تو ایک موزے کی پھٹن سے دوسرے موزے پر اثر نہیں پڑتا بھئی، دوسرے موزے پر اثر نہیں پڑتا۔ تو ایک میں پھٹن ہے اس کو الگ دیکھا جائے گا، دوسرے میں پھٹن ہے اس کو الگ دیکھا جائے گا، الگ جمع کیا جائے گا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ جی، لیکن اس کا یہ معنی نہ سمجھنا ایک موزے میں پھٹن ہے اس کو تو آپ نے اتار کر پاؤں دھو لیا اور دوسرے پر مسح کر لیا، نہیں نہیں، یہ تو آپ ایک ہی وظیفے میں کیا کر رہے ہیں؟ ایک ہی فرض کے اندر مسح اور غسل کو جمع کر رہے ہیں، نہیں، جب ایک پاؤں کو دھونا ہے ایک موزہ اتر گیا تو دوسرے کو بھی پاؤں کو بھی دھونا ہی پڑے گا، غسل اور مسح کو یہاں جمع نہیں کر سکتے۔ تو دلیل سمجھ میں آئی بھئی؟ لِأَنَّ الْخَرْقَ فِي أَحَدِهِمَا لَا يَمْنَعُ قَطْعَ السَّفَرِ بِالْآخَرِ اس لیے کیونکہ ان دونوں موزوں میں سے ایک کے اندر جو پھٹن ہے وہ مانع نہیں ہے سفر طے کرنے سے دوسرے موزے میں، دوسرا پھر بھی کیا بن سکتا ہے؟ مانع بن سکتا ہے، لہٰذا اس کا الگ اعتبار کیا جائے گا۔ بِخِلَافِ النَّجَاسَةِ الْمُتَفَرِّقَةِ بخلاف کس کے؟ نجاستِ متفرقہ کے، الگ الگ نجاست کے، لِأَنَّهُ حَامِلٌ لِلْكُلِّ اس لیے کیونکہ وہ شخص ساری نجاست کو اٹھانے والا ہے۔ بھئی دونوں موزوں میں پھٹن ہے، اس پھٹن کو تو جمع دونوں موزوں کی پھٹن کو تو جمع نہیں کیا جائے گا آپس میں بلکہ ہر موزے کی پھٹن کا الگ اعتبار کیا جائے گا۔ لیکن اگر دونوں موزوں پر نجاست لگی ہوئی ہے پھر اس نجاست کو جمع کیا جائے گا اور آپ پڑھ چکے بھئی کہ وہ نجاست مثلاً اگر وہ نجاستِ غلیظہ ہے اور آپ پڑھ چکے ہیں نجاستِ غلیظہ جو ہے ایک درہم کی مقدار تک معاف ہے اتنی پھیلی ہوئی ہو۔ ہاں اس سے زائد ہے تو وہ معاف نہیں، اس کے اندر نماز جائز نہیں ہے بھئی۔ تو اگر دونوں موزوں کی نجاست کو جمع کیا گیا اور وہ کتنی مقدار بن گئی؟ ایک درہم سے زائد مقدار بن گئی پھیلنے کے اندر، تو پھر اس صورت میں ان موزوں کے اندر نماز جائز نہیں ہو گی بھئی، نماز جائز نہیں ہو گی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو ایک درہم کی مقدار تک معاف ہے، ایک درہم سے زائد معاف نہیں ہے بھئی۔ اس صورت میں نماز اس کے ساتھ جائز نہیں ہے بھئی، آپ پڑھ چکے ہیں۔ تو لہٰذا دونوں موزوں میں نجاست کو تو جمع کیا جائے گا، بھئی جمع کیوں کیا جائے گا؟ اس کا الگ الگ اعتبار کیوں نہیں کرتے؟ کہتے ہیں: اس لیے کیونکہ یہاں اس شخص کا اعتبار کیا جائے گا، ایک موزے پر بھی تھوڑی نجاست، دوسرے پر بھی تھوڑی نجاست، ہاں دونوں کو ملایا تو ایک درہم کی مقدار ہو گئی، تو گویا یہ شخص اتنی نجاست اٹھائے ہوئے ہے اور اتنی نجاست کی صورت میں تو نماز جائز نہیں ہوتی تھی لہٰذا اس کے لیے بھی اس طرح نماز جائز نہیں ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے: بِخِلَافِ النَّجَاسَةِ الْمُتَفَرِّقَةِ بخلاف متفرق یعنی الگ الگ نجاست کے، لِأَنَّهُ حَامِلٌ لِلْكُلِّ اس لیے کیونکہ وہ شخص اس ساری نجاست کو اٹھانے والا ہے، اس ساری نجاست کو اٹھائے ہوئے ہے۔ وَانْكِشَافُ الْعَوْرَةِ نَظِيرُ النَّجَاسَةِ اور عورت، عورت کہتے ہیں وہ چیز جس کا ظاہر کرنا عیب ہو۔ وہ چیز جس کا ظاہر کرنا عیب ہو، اسی لیے اردو میں جو خواتین ہیں ان کو کیا کہتے ہیں؟ عورت کہتے ہیں، کیونکہ ان کا ظاہر کرنا ان کا بے پردہ گھومنا بھی کیا ہے؟ عیب ہے بھئی عیب، یہ ہے ادبی نکتہ بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَانْكِشَافُ الْعَوْرَةِ نَظِيرُ النَّجَاسَةِ اور عورت میں نے بتایا جس کا ظاہر کرنا عیب ہو، یہاں سے یہاں مراد ہے ستر، وہ حصہ بدن کا جس کا ڈھانپنا ضروری ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو عورت کا یعنی ستر کا کھل جانا یہ نجاست کی نظیر ہے۔ کس کی نظیر ہے؟ نجاست کی نظیر ہے، یہ اس کے مثل ہے۔ یعنی جیسے نجاستِ متفرقہ کو جمع کرتے تھے، دونوں موزوں میں بھی نجاست کو کیا کرتے تھے؟ جمع کرتے، اسی طرح انکشافِ عورت کو بھی جمع کیا جائے گا۔ اور اگر سا وہ انکشافِ عورت ربعِ عضو تک پہنچ جائے تو پھر اس صورت میں نماز جائز نہیں ہو گی۔ مثلاً بھئی عورت کے اندر دیکھ لیں عورت جو ہے، عورت کا سارا بدن کیا ہے؟ وہ ستر ہے۔ اب اس کا اس کے کپڑوں میں پھٹن مثلاً کچھ حصہ بازو کا نظر آ رہا ہے، کچھ حصہ پنڈلی کا نظر آ رہا ہے، کچھ حصہ پیٹ کا کچھ دکھائی دیا، ان سب کو جمع کیا جائے گا جیسے نجاست کو جمع کرتے تھے اور اگر یہ چوتھائی عضو تک پہنچ جائے، کسی عضو کے چوتھائی حصے تک یہ پھٹن پہنچ جائے یا انکشافِ عورت تو اس کے لیے اس طرح نماز جائز... اس طرح نماز جائز نہیں ہو گی، نماز نہیں ہو گی بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ انکشافِ عورت نظیر ہے نجاست کی، یعنی جس طرح نجاست کو جمع کرتے تھے انکشافِ عورت کو بھی کیا کیا جائے گا؟ جمع کیا جائے گا۔ چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔