وَكَذَا إِذَا خَافَ فَوْتَ الْوَقْتِ لَوْ تَوَضَّأَ لَمْ يَتَيَمَّمْ وَيَتَوَضَّأُ وَيَقْضِي مَا فَاتَهُ لِأَنَّ الْفَوَاتَ إِلَى خَلَفٍ وَهُوَ الْقَضَاءُ، وَالْمُسَافِرُ إِذَا نَسِيَ الْمَاءَ فِي رَحْلِهِ فَتَيَمَّمَ وَصَلَّى ثُمَّ ذَكَرَ الْمَاءَ لَمْ يُعِدْهَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ، وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُمُ اللهُ تَعَالَى يُعِيدُهَا۔ تیمم سے متعلقہ مسائل چل رہے ہیں۔ گزشتہ سبق میں آپ نے پڑھا تھا کہ اگر نماز جنازہ کا موقع ہے یا اسی طرح عید کی نماز کا وقت ہے اور کوئی شخص بے وضو ہے، اس کے قریب ہی پانی موجود ہے لیکن اسے خوف ہے کہ اگر میں وضو کرنے جاؤں گا اور واپس آؤں گا تو جب تک نماز جنازہ یا وہ عید کی نماز نکل چکی ہوگی۔ تو چونکہ یہ دو چیزیں، یہ ایسی چیزیں ہیں جن کا کوئی بدل اور نائب نہیں۔ نماز جنازہ رہ گئی تو پھر اس کی قضا نہیں کی جاتی، اسی طرح عید کی نماز اگر رہ جائے اس کی بھی کوئی قضا وغیرہ کوئی اس کا بدل نہیں ہے۔ تو لہٰذا اس وقت اس کو عاجز شمار کیا جائے گا، یہ عاجز ہوا پانی کے استعمال سے۔ اور جب عاجز ہو تو شریعت حکم دیتی ہے تیمم کرنے کا تو اس شخص کی طرف بھی یہ حکم متوجہ ہوگا اور یہ تیمم کر کے اس میں شرکت کر سکتا ہے بھئی۔ لیکن جس چیز کا بدل اور نائب موجود ہو وہاں پر پھر تیمم کی اجازت نہیں ہوگی۔ جیسے جمعہ کی نماز ہے اس کا بدل اور نائب موجود، ایک آدمی ہے اس کو خوف ہے کہ اگر میں وضو کروں گا تو میری جمعہ کی نماز نکل جائے گی تو اسے تیمم کی اجازت نہیں ہوگی، کیونکہ جمعہ کی نماز اگر فوت بھی ہوگئی تو اس کے بعد اس کا بدل ظہر کی نماز ہے کہ انسان کیا کرے؟ ظہر کی نماز پڑھ لے۔ اسی طرح عام وقتی نمازیں ہیں، اگر وہ بھی آخری وقت ہے مثلاً پانچ سات منٹ رہ گئے، دس منٹ رہ گئے، ظہر کا یا عصر کا وقت ختم ہونے والا ہے، اب اس شخص کو خوف ہے کہ اگر میں وضو کروں گا تو یہ وقت بھی نکل جائے گا، میری نماز فوت ہو جائے گی تو بھی اسے تیمم کی اجازت نہیں کیونکہ یہاں پر اس نماز کا بدل موجود ہے کہ اگر وقت کے اندر نہیں پڑھ سکا تو بعد میں کیا کر سکتا ہے؟ اس کی قضا کر سکتا ہے بھئی۔ سمجھ میں آئی بات بھئی؟ تو وہی بیان کر رہے ہیں۔ وَكَذَا إِذَا خَافَ فَوْتَ الْوَقْتِ لَوْ تَوَضَّأَ لَمْ يَتَيَمَّمْ وَيَتَوَضَّأُ وَيَقْضِي مَا فَاتَهُ اور اسی طرح جب خوف ہو اسے فَوْتَ الْوَقْتِ وقت کے فوت ہو جانے کا کہ وقت گزر جائے گا، مثلاً جو نماز پڑھنا چاہتا ہے اس کا وقت گزر جائے گا۔ لَوْ تَوَضَّأَ کب خوف ہے یہ اسے؟ لَوْ تَوَضَّأَ اگر یہ وضو کرے۔ تو وضو کرتا ہے پھر فوت ہو جانے کا خوف ہے۔ تو فرما رہے ہیں: لَمْ يَتَيَمَّمْ یہ تیمم نہیں کر سکتا، یہ تیمم نہیں کرے گا، وَيَتَوَضَّأُ وَيَقْضِي مَا فَاتَهُ اور وضو کرے گا اور قضا کرے گا اس کی جو فوت ہو جائے یعنی جو گزر گئی اس کی کیا کر لے بعد میں؟ وقت گزر گیا تو بعد میں قضا کر لے۔ لِأَنَّ الْفَوَاتَ إِلَى خَلَفٍ اسی کیونکہ یہ فوت ہونا، الْفَوَاتَ الف لام آیا، الف لام کے ذریعے کیا کیا جاتا ہے؟ کسی متعین چیز کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔ تو یہ جو فوت ہونا ہے یہ جو وقت کا فوت ہونا تھا، کیونکہ یہ فوت ہونا جو ہے إِلَى خَلَفٍ یہ کس کی طرف ہے؟ نائب کی طرف، یہ تو اس کا نائب موجود ہے۔ تو یہ فوت ہونا نائب کی طرف ہے وَهُوَ الْقَضَاءُ اور وہ قضا ہے۔ وَالْمُسَافِرُ إِذَا نَسِيَ الْمَاءَ فِي رَحْلِهِ فَتَيَمَّمَ وَصَلَّى ثُمَّ ذَكَرَ الْمَاءَ صورت مسئلہ یہ کہ ایک مسافر ہے سفر کر رہا ہے اور اس کے کجاوے میں، کجاوہ جانتے ہیں یا نہیں بھئی؟ رَحْل کہتے ہیں کجاوے کو، رَحْل لفظ آرہا ہے آگے متن میں۔ کجاوہ کہتے ہیں یہ لکڑی وغیرہ کا بنا ہوتا ہے اور اونٹ وغیرہ جانوروں پر رکھتے ہیں اوپر سامان لادنے کے لیے بھئی۔ اس میں دو جانبیں بنی ہوتی ہیں تو ایک طرف بھی سامان وغیرہ رکھ دیتے ہیں اور دوسری طرف بھی۔ تو ایک مسافر ہے اس نے اپنے کجاوے کے اندر پانی رکھا ہوا ہے، اس نے رکھا ہے یا اس کے کہنے پر اس کے کسی ملازم وغیرہ، غلام نے رکھا ہے۔ اب یہ سفر میں ہے، وہاں یہ اس پانی کو بھول گیا، وہ پانی وضو کرنے کے قابل ہے، اتنا پانی ہے اس سے آرام سے کیا کر سکتا ہے؟ وضو کر سکتا ہے، یا باقاعدہ رکھا ہی وضو کے لیے زیادہ پانی ہے۔ لیکن یہ سفر کے دوران بھول گیا اور جنگل میں ہے، نماز کا وقت ہوا، پانی وہاں موجود نہیں، یہ اس پانی کو بھول چکا ہے، اس نے تیمم کر لیا اور تیمم سے نماز پڑھ لی۔ پھر اس کو بعد میں یاد آیا کہ پانی تو وضو کا موجود ہے۔ تیمم بھی کر چکا، وہ نماز بھی پڑھ چکا ہے، تو اب کیا کیا جائے گا؟ کیا اس نماز کا اعادہ کرے گا پھر وضو کر کے یا وہ کافی ہو گئی؟ تو یاد رکھیے طرفین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ دوبارہ وضو کر کے نماز لوٹانے کی ضرورت نہیں۔ وہ تیمم بھی صحیح ہوا اور نماز بھی صحیح ہو گئی، ادا ہو گئی۔ جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، اعادہ کرے گا، وضو کرے اور پھر دوبارہ وہ نماز پڑھے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَالْمُسَافِرُ إِذَا نَسِيَ الْمَاءَ اور مسافر جب بھول گیا پانی کو فِي رَحْلِهِ اپنے کجاوے میں فَتَيَمَّمَ وَصَلَّى تو اس نے تیمم کر لیا اور نماز پڑھ لی ثُمَّ ذَكَرَ الْمَاءَ پھر اس کو پانی یاد آیا لَمْ يُعِدْهَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللهُ تَعَالَى تو اعادہ نہیں کرے گا اس نماز کا امام اعظم ابو حنیفہ اور امام محمد رحمہما اللہ کے نزدیک، وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللهُ يُعِيدُهَا اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کا اعادہ کرے گا اس نماز کا۔ وَالْخِلَافُ فِيمَا إِذَا وَضَعَهُ بِنَفْسِهِ أَوْ وَضَعَهُ غَيْرُهُ بِأَمْرِهِ اور یہ اختلاف جو ہے فِيمَا اس صورت میں ہے إِذَا وَضَعَهُ بِنَفْسِهِ کہ جب اس نے وہ پانی خود رکھا ہو أَوْ وَضَعَهُ غَيْرُهُ بِأَمْرِهِ یا اس کے علاوہ کسی نے رکھا لیکن بِأَمْرِهِ اس کے حکم سے، اس کے کہنے پر۔ یا یہ اختلاف کس وقت ہے؟ یہ جو امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں نماز کا اعادہ کرے گا، طرفین فرماتے ہیں اعادہ نہیں کرے گا، کہتے ہیں یہ اس صورت میں ہے جب یہ وہ جو پانی وضو کے لیے تھا وہ اس نے خود رکھا تھا یا کسی اور نے رکھا تھا لیکن اس کے کہنے پر رکھا تھا۔ اس کے کہنے پر رکھا تھا، اس صورت میں ہے بھئی۔ اگر رکھا ہی کسی اور نے ہے پھر تو مثلاً اس کے کسی ساتھی نے رکھ دیا تھا اس کے لیے، وہ تو پھر اس کو علم ہی نہیں ہے، پتہ ہی نہیں ہے بھئی۔ لہٰذا اس صورت میں بالاتفاق اسے اعادے کی ضرورت نہیں، اس کا تیمم بھی صحیح اور ہاں۔ البتہ اگر خود رکھا تھا یا اس کے کہنے پر کسی نے رکھا تھا اس صورت میں اختلاف ہے جو کہ متن کے اندر آپ نے پڑھا بھئی۔ وَذِكْرُهُ فِي الْوَقْتِ وَبَعْدَهُ سَوَاءٌ اور اس کا یاد آنا، یاد کرنا وقت کے اندر اور وقت کے بعد دونوں برابر ہیں۔ چاہے وقت کے اندر اسے یاد آئے چاہے وقت کے بعد۔ مثلاً ظہر کی نماز کا وقت ہوا تھا اور اسے یاد وہ بھول چکا تھا پانی کو، اس نے تیمم کیا اور نماز پڑھ لی۔ اور پھر اس کو ظہر کے وقت کے اندر ہی یاد آگیا کہ پانی تو موجود ہے۔ یا دوسری صورت یہ کہ ظہر کا وقت گزر گیا عصر کا وقت جب آیا اس وقت اسے یاد آیا کہ پانی موجود ہے وضو کا۔ تو صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلا دیا چاہے وقت اس نماز کا وقت ابھی باقی ہے اس کے اندر ہی اسے یاد آجائے، چاہے نماز کا وقت گزرنے کے بعد آئے یاد دونوں صورتوں میں مسئلہ اسی طرح ہے۔ وقت گزر گیا پھر بھی اعادے کی ضرورت نہیں، وقت کے اندر یاد آجائے پھر بھی اعادے کی ضرورت نہیں۔ یہ معنی ہے: وَذِكْرُهُ فِي الْوَقْتِ وَبَعْدَهُ سَوَاءٌ اور اس کا یاد آنا وقت کے اندر اور وقت کے بعد سَوَاءٌ یہ دونوں برابر ہیں۔ لَهُ أَنَّهُ وَاجِدٌ لِلْمَاءِ لَهُ سے دلیل ذکر ہو رہی ہے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے، انہوں نے کیا فرمایا تھا؟ اعادہ کرے گا۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ أَنَّهُ وَاجِدٌ لِلْمَاءِ کہ یہ شخص پانی کو پانے والا ہے، اور تیمم کرنے کا حکم تو کب دیا گیا ہے؟ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً جب تمہیں پانی نہ ملے تو اس وقت تیمم کی اجازت ہوتی ہے، اور یہ شخص تو پانی کو پانے والا ہے، پانی اس کے پاس موجود ہے، لہٰذا اس کو اعادہ کرنا پڑے گا کہ وضو کرے اور پھر نماز پڑھے۔ فَصَارَ كَمَا إِذَا كَانَ فِي رَحْلِهِ ثَوْبٌ فَنَسِيَهُ تو یہ ہو گیا اس شخص کی طرح کہ جس کے کجاوے میں کپڑا تھا تو وہ اس کو بھول گیا۔ یہ جو پانی کو بھولنے والا ہے یہ اسی شخص کی طرح ہو گیا جس کے کجاوے میں کپڑا تھا اور وہ اس کو بھول گیا۔ صورت یہ کہ ایک شخص ہے اور وہ سفر میں ہے تو اس کے کپڑوں پر نجاست لگ گئی بھئی، نجاست لگ گئی۔ اب اس کے کجاوے میں اور کپڑے موجود ہیں لیکن وہ ان کو بھول گیا کہ وہاں اور بھی کپڑے رکھے ہیں۔ آج کل تو کپڑے بڑے عام ہو گئے، قدیم زمانے میں تو کپڑے ہاتھ سے بنتے تھے اور بڑے مہنگے ہوتے تھے، کم ہی لوگ ہوتے تھے جن کے پاس زیادہ کپڑے ہوتے بھئی، ایک دو کپڑوں میں لوگ گزارا کرتے تھے بھئی۔ تو اب تو اللہ کی نعمتیں اور خوب آسانیاں آ گئیں بھئی۔ تو اس وہ اس کپڑے کو بھول گیا اب ان کپڑوں پر نجاست لگ گئی ہے، کافی زیادہ نجاست لگی ہے تو اس نے کیا کیا؟ ننگے ہی نماز ادا کر لی بھئی۔ ننگے ہی نماز ادا کر لی۔ بعد میں اس کو یاد آیا بھئی، اوہو! کپڑے تو موجود ہیں کجاوے کے اندر۔ تو اس شخص کے لیے اعادے کا حکم ہے۔ اس کو کیا کہا جائے گا؟ کہ وہ کپڑے پہن کر دوبارہ نماز کو لوٹائے، دوبارہ نماز کا اعادہ کرے۔ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ یہ جس شخص نے تیمم کیا تھا پانی کو بھول گیا تھا اس کو گویا وہ قیاس کر رہے ہیں اس شخص پر جو کپڑے کو بھول گیا ہے اور جب اس کے لیے تو کیا حکم ہے؟ اعادے کا حکم ہے تو یہ تیمم والا بھی بالکل اسی کی طرح ہے لہٰذا اس کو بھی کیا حکم دیا جائے گا؟ نماز کے اعادے کا حکم دیا جائے گا۔ تو انہوں نے اس تیمم کرنے والے کو فاقد الثوب پر قیاس کیا۔ فَصَارَ كَمَا إِذَا كَانَ فِي رَحْلِهِ ثَوْبٌ فَنَسِيَهُ تو یہ ہو گیا اس شخص کی طرح جبکہ اس کے کجاوے کے اندر کپڑا ہو فَنَسِيَهُ تو وہ اس کو بھول گیا ہو۔ یہ تو ایک دلیل بھئی امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی، دوسری دلیل: وَلِأَنَّ رَحْلَ الْمُسَافِرِ مَعْدِنٌ لِلْمَاءِ عَادَةً فَيَفْتَرِضُ الطَّلَبُ اور اس لیے کیونکہ مسافر کا جو وہ مسافر کا جو کجاوہ ہوتا ہے مَعْدِنٌ لِلْمَاءِ، معدن کہتے ہیں اصل اور سرچشمہ، محل بھئی، محل یہاں محل کے معنی۔ اس لیے کیونکہ مسافر کا جو کجاوہ ہے وہ پانی کا محل ہوتا ہے عادۃً، پانی کی جگہ ہوتا ہے عادۃً، وہاں عادۃً پانی رکھا جاتا ہے بھئی جب انسان جاتا ہے سفر پر۔ فَيَفْتَرِضُ الطَّلَبُ تو طلب کرنا فرض ہوا بھئی۔ اس شخص پر طلب کرنا فرض۔ بھئی دیکھیے، تیمم جب کوئی شخص کرتا ہے تو تیمم کب تیمم کی اجازت دی ہے شریعت نے؟ جب اس کو پانی نہ ملے اور پانی اول تو اس کو تلاش کرنا چاہیے کہ کہیں ہو سکتا ہے قریب سے پانی مل جائے۔ اگر نہیں ملتا پھر اس کو کیا کرنا چاہیے؟ پھر وہ تیمم کر سکتا ہے۔ تو دیکھو تیمم کرنے والے پر طلب ضروری ہے، اولاً کیا ضروری؟ طلب ضروری ہے، تو یہاں پر اس شخص نے طلب کی ہی نہیں، اس پر تو طلب ضروری تھی کہ پانی کو تلاش کرے اور پانی عموماً کہاں رکھا جاتا ہے؟ کجاوے میں رکھا جاتا ہے تو یہ ذرا ہی تلاش کرتا، ذرا ہی توجہ کرتا تو اس کو آسانی سے مل جاتا۔ تو اس نے بغیر تو طلب اس پر فرض تھی اس نے اس فرض کو چھوڑ دیا ہے تو لہٰذا اس کا تیمم ہی نہ ہوا بھئی۔ یہ معنی ہے: وَلِأَنَّ رَحْلَ الْمُسَافِرِ مَعْدِنٌ لِلْمَاءِ عَادَةً بھئی يَرْمَلُونَ والا قاعدہ جگہ جگہ لگتا چلا جاتا ہے بھئی۔ دیکھو مَعْدِنٌ لِلْمَاءِ، مَعْدِنٌ لِلْمَاءِ نون تنوین آئی آخر میں مَعْدِنٌ کے، وہ نون ساکن کو بھی لام کر کے لام میں ادغام کیا گیا تو کیسے پڑھیں گے؟ مَعْدِنٌ لِلْمَاءِ عَادَةً، اس لیے کیونکہ مسافر کا جو کجاوہ ہوتا ہے وہ پانی کا محل ہوتا ہے عادۃً فَيَفْتَرِضُ الطَّلَبُ تو طلب کرنا فرض ہوا، یعنی پانی کا طلب کرنا فرض ہوگا۔ وَلَهُمَا یہ طرفین کی اب دلیل آگئی۔ طرفین کی دلیل یہ ہے: أَنَّهُ لَا قُدْرَةَ بِدُونِ الْعِلْمِ، وہ فرماتے ہیں کہ بغیر علم کے قدرت نہیں ہو سکتی۔ وَهِيَ الْمُرَادُ بِالْوُجُودِ اور یہی قدرت ہی مراد ہے وجود سے۔ قرآن میں اللہ کیا فرماتے ہیں؟ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً تم پانی کو نہ پاؤ، اس نہ پانے سے کیا مراد ہے؟ کہ انسان پانی کے استعمال پر قادر نہ ہو۔ اسی طرح حدیث میں آیا ہے کہ مٹی جو ہے مسلمان کے لیے طہور ہے اگرچہ دس سال تک ہی کیوں نہ ہو، مَا لَمْ يَجِدِ الْمَاءَ جب تک اسے پانی نہ ملے۔ تو یہاں پر بھی پانی نہ ملنے سے کیا مراد ہے؟ پانی کے وجود، کہ پانی نہ پایا جائے اور وجود سے کیا مراد ہے؟ قادر ہونا، قدرت مراد ہے کہ انسان اس کے استعمال پر قادر نہ ہو، یہ بات گزشتہ سبق میں گزر چکی ہے بھئی۔ تو یہاں پر وجود سے مراد وجود سے مراد قدرت ہے اور قدرت تو بغیر علم کے ہو ہی نہیں سکتی، اور یہاں جب وہ بھول گیا تو بھول گیا تو اسے علم ہی نہیں، جب علم نہیں تو پانی پر قادر نہیں، اور جب پانی پر قدرت نہ ہو تو شریعت نے کیا حکم دیا؟ انسان کیا کر لے؟ تیمم کر لے، اس لیے اس کو تیمم کی اجازت شرعاً اس کے لیے گویا آ چکی اور اب اس نے شرعی طریقے کے مطابق، جو شرعاً حکم تھا کہ تیمم کر کے نماز پڑھو، اس طریقے سے اس نے تیمم کر کے نماز پڑھی ہے لہٰذا اس کو اعادے کا حکم نہیں دیا جائے گا۔ یہ معنی ہے: أَنَّهُ لَا قُدْرَةَ بِدُونِ الْعِلْمِ اس لیے کیونکہ بغیر علم کے قدرت نہیں ہے وَهِيَ الْمُرَادُ بِالْوُجُودِ اور یہی قدرت ہی مراد ہے وجود سے۔ وَمَاءُ الرَّحْلِ مُعَدٌّ جی مَعْدِنٌ ہے آپ کی کتابوں میں؟ مَعْدِنٌ کا لفظ یہاں نہیں ہونا چاہیے بھئی، پچھلے ایک جملے میں آیا تھا، یہ لفظ ہے مُعَدٌّ مُعَدٌّ، تو یہ کتابت کی غلطی ہے اس کو درست کر لیجیے بھئی، مَعْدِنٌ لفظ یہاں نہیں ہے، مُعَدٌّ، مُعَدٌّ کا معنی تیار کیا ہوا، تیار کیا ہوا۔ جی طرفین کی دلیل چل رہی ہے۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے کیا ذکر کیا تھا؟ کہ مسافر کا جو وہ کجاوہ ہوتا ہے وہ پانی کا محل ہوتا ہے لہٰذا اس پر کیا ضروری تھی؟ طلب فرض تھی اور اس نے وہ فرض عمل کیے ہی نہیں، طلب کیے ہی نہیں، ویسے ہی تیمم کر لیا، لہٰذا اس کو کیا کرنا پڑے گا؟ دوبارہ وضو کر کے نماز پڑھنا پڑے گی بھئی۔ اس کا جواب دے رہے ہیں، کہتے ہیں: وَمَاءُ الرَّحْلِ مُعَدٌّ لِلشُّرْبِ لَا لِلِاسْتِعْمَالِ اور جو کجاوے کا پانی ہوتا ہے وہ تیار کیا ہوتا ہے پینے کے لیے نہ کہ استعمال کے لیے، وہ کس لیے رکھا گیا ہوتا ہے؟ ہاں، کجاوے میں جو پانی رکھا جاتا ہے وہ اتنا زیادہ نہیں ہوتا، وہ تو تھوڑی سی مقدار ہوتی ہے صرف پینے کے لیے کہ کہیں پیاس لگے تو انسان اس کو پی لے، وہ استعمال وضو یا غسل کے قابل نہیں ہوتا۔ لہٰذا یہ اس کو دلیل نہیں بنایا جا سکتا۔ تو کہتے ہیں: وَمَاءُ الرَّحْلِ مُعَدٌّ لِلشُّرْبِ لَا لِلِاسْتِعْمَالِ اور کجاوے کا جو پانی ہے اس کو تیار کیا گیا ہوتا ہے پینے کے لیے نہ کہ استعمال کے لیے۔ وَمَسْأَلَةُ الثَّوْبِ عَلَى الِاخْتِلَافِ باقی امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے اس کو قیاس کیا تھا اس کپڑے کے مسئلے پر، کہ یہ جس نے جو پانی کو بھول گیا اور تیمم جس نے کیا یہ کس شخص کی طرح ہو گیا؟ اس شخص کی طرح جو کپڑے کو بھول گیا ہے اور اس نے ننگے ہی نماز ادا کر لی ہے۔ تو جواب اس کا دے رہے ہیں کہ کپڑے کا مسئلہ بھی اختلاف پر ہی ہے، یعنی اس میں بھی طرفین کا امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے اختلاف ہے۔ لہٰذا اگر اس پر امام ابو یوسف رحمہ اللہ قیاس کر بھی لیں، اگر قیاس کر بھی لیں دلیل کس کے خلاف بنا رہے ہیں؟ طرفین کے خلاف، تو طرفین کے نزدیک اس مسئلے کے اندر بھی اس شخص پر جس نے ننگے نماز پڑھی ہے اس پر نماز کا اعادہ نہیں۔ تو اگر اس پر قیاس کر بھی لیں تو بھی امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی یہ دلیل نہیں بن سکتی کیونکہ وہ مسئلہ ان کے نزدیک، اگر اس پر قیاس کر بھی لیں امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک اس کپڑے کو بھولنے والے پر اعادہ ہے، تو لہٰذا تیمم کرنے والے کو اس پر قیاس کریں گے تو تیمم والے پر کیا آئے گا؟ اعادہ آئے گا۔ اور طرفین کے نزدیک کپڑے کو بھولنے والے پر اعادہ نہیں، تو اس پر اگر قیاس کر بھی لیں تو بھی ان کے نزدیک اس پر اعادہ نہیں، لہٰذا اس دلیل کا ان کو فائدہ نہیں بھئی۔ وَمَسْأَلَةُ الثَّوْبِ عَلَى الِاخْتِلَافِ اور کپڑے کا مسئلہ جو ہے وہ اختلاف پر ہے۔ وَلَوْ كَانَ عَلَى الِاتِّفَاقِ فَفَرْضُ السَّتْرِ يَفُوتُ لَا إِلَى خَلَفٍ وَالطَّهَارَةُ بِالْمَاءِ تَفُوتُ إِلَى خَلَفٍ وَهُوَ التَّيَمُّمُ وَلَوْ كَانَ عَلَى الِاتِّفَاقِ اور اگر کپڑے کا مسئلہ اتفاق پر ہو، یعنی اس میں اتفاق ہی کیوں نہ ہو، پھر بھی اس کو اس پر قیاس نہیں کیا جا سکتا۔ اولاً پہلا جواب منعی دیا کہ ہمیں تسلیم ہی نہیں ہے کہ کپڑے کے مسئلے میں طرفین بھی اعادے کا حکم دیتے ہیں۔ دوسرا جواب تسلیمی دے رہے ہیں کہ اگر مان بھی لیا جائے کہ طرفین کیا کرتے ہیں کپڑے کے مسئلے میں اعادے کا حکم دیتے ہیں، اگر اس کو مان بھی لیا جائے کہ مسئلہ اتفاقی ہے پھر بھی اس متیمم کو اس فاقد الثوب پر قیاس نہیں کیا جا سکتا، اس لیے کیونکہ وہاں پر جس نے کپڑے کے بغیر ننگے ہو کر نماز پڑھی تو ستر کا ڈھانپنا تو فرض تھا، تو وہ فرض فوت ہو گیا اور اس کا بدل کوئی نہیں آیا۔ ستر کا ڈھانپنا کیا تھا نماز میں؟ فرض تھا اور وہ ننگے نماز پڑھ رہا ہے تو یہ فرض رہ گیا اور اس کا کوئی بدل آیا؟ بدل نہیں، جبکہ یہاں پر وضو اگر رہ گیا، پانی کو بھولا ہے وضو رہ گیا تو اس کا نائب اور بدل یعنی تیمم آ چکا ہے۔ تو لہٰذا وہاں اس کا نائب اور بدل کوئی نہیں، یہاں ایک چیز کا نائب اور بدل موجود ہے، لہٰذا اس کو اس پر قیاس نہیں کیا جا سکتا۔ اس میں تو اگر ہم مان بھی لیں کہ بالاتفاق اعادہ کرنا پڑے گا وجہ اس کی کیا؟ کیونکہ وہاں پر وہ جو فرض چھوٹ گیا اس کا کوئی بدل نہیں آیا اس لیے وہاں اعادے کا حکم دیا گیا، اور یہاں پر جو فرض وضو رہ گیا تھا اس کا بدل تیمم آ چکا ہے لہٰذا یہاں اعادے کا حکم نہیں دیا جائے گا۔ مسئلہ سمجھ میں آگیا بھئی؟ وَلَوْ كَانَ عَلَى الِاتِّفَاقِ اور اگر وہ مسئلہ اتفاق پر بھی ہو، فَفَرْضُ السَّتْرِ يَفُوتُ لَا إِلَى خَلَفٍ تو ستر ڈھانپنے کا جو فرض ہے وہ فوت ہوتا ہے لَا إِلَى خَلَفٍ بغیر کسی نائب کے، یعنی کسی نائب کی طرف فوت نہیں ہوتا۔ وَالطَّهَارَةُ بِالْمَاءِ تَفُوتُ إِلَى خَلَفٍ یا وَالطَّهَارَةِ پڑھیں بھئی، فَفَرْضُ الطَّهَارَةِ یہ السَّتْرِ پر عطف ہو جائے گا: وَالطَّهَارَةِ بِالْمَاءِ تَفُوتُ إِلَى خَلَفٍ وَهُوَ التَّيَمُّمُ اور طہارت کا فرض جو ہے، طہارت بالماء کا جو فرض ہے تَفُوتُ إِلَى خَلَفٍ یہ کس کی طرف فوت ہوا ہے یہاں پر؟ نائب اور بدل کی طرف، وَهُوَ التَّيَمُّمُ اور وہ کیا ہے؟ تیمم ہے بھئی، تیمم ہے۔ وَلَيْسَ عَلَى الْمُتَيَمِّمِ طَلَبُ الْمَاءِ إِذَا لَمْ يَغْلِبْ عَلَى ظَنِّهِ أَنَّ بِقُرْبِهِ مَاءً اور نہیں ہے تیمم کرنے والے پر پانی کو طلب کرنا جب اس کے گمان پر یہ بات غالب نہ ہو أَنَّ بِقُرْبِهِ مَاءً کہ اس کے قریب ہی پانی ہے۔ بھئی یاد رکھیے ایک شخص جنگل میں جا رہا ہے اور نماز کا وقت آیا اب اس کے پاس پانی موجود نہیں، تو اگر اس شخص کا غالب گمان ہے کہ مجھے یہاں قریب ہی پانی مل جائے گا تو پھر اس کے لیے تیمم جائز نہیں ہے، اولاً طلب کرے تلاش کرے پانی کو بھئی، اور پھر تلاش کے بعد پانی نہ ملے تو اب اس کے لیے تیمم جائز ہوگا۔ تو یہ طلب ضروری ہے اس پر، کس صورت میں؟ جب اس کا غالب گمان ہو کہ پانی قریب مل جائے گا۔ اور اگر اس کا غالب گمان ہے کہ یہاں پانی نہیں ملے گا تو پھر طلب بھی اس سے ساقط ہو گئی بھئی۔ سمجھ میں آئی بات بھئی؟ مسئلہ سمجھ میں آگیا بھئی؟ تو یہی ذکر کر رہے ہیں کہ نہیں ہے تیمم کرنے والے پر پانی کو طلب کرنا جب اس کی غالب رائے یہ نہ ہو کہ اس کے قریب پانی ہے۔ لِأَنَّ الْغَالِبَ عَدَمُ الْمَاءِ فِي الْفَلَوَاتِ اس لیے کیونکہ غالب جو ہے وہ پانی کا نہ ہونا ہے فِي الْفَلَوَاتِ بیابانوں میں۔ بیابانوں، بیابان جہاں پانی، سبزہ وغیرہ، درخت نہ ہو اس کو بیابان کہتے ہیں بھئی۔ اس لیے کیونکہ غالب جو ہے وہ پانی کا نہ ہونا ہے بیابانوں میں، وَلَا دَلِيلَ عَلَى الْوُجُودِ اور پانی کے وجود پر کوئی دلیل بھی نہیں ہے۔ بھئی اس کی غالب رائے بھی کیا ہے؟ پانی نہیں ملے گا، ہاں غالب رائے ہوتی کہ پانی مل جائے گا پھر تو دلیل موجود تھی لہٰذا اس پر کیا ضروری ہو جاتی؟ طلب، لیکن اب غالب رائے ہے کہ پانی نہیں ملے گا، یہاں پر دور دور تک کسی انسان وغیرہ کسی آبادی کا نام و نشان نہیں ہے، کسی کوئی تو یہاں پر جب غالب گمان ہے پانی نہیں ملے گا تو طلب بھی اس سے کیا ہو جائے گی؟ ساقط، کیونکہ دلیل کوئی نہیں ہے طلب کی بھئی۔ وَلَا دَلِيلَ عَلَى الْوُجُودِ اور کوئی دلیل نہیں ہے اس پانی کے وجود پر فَلَمْ يَكُنْ وَاجِدًا تو یہ پانی کو پانے والا نہ ہوا بھئی، تو یہ تیمم کرے گا۔ وَإِنْ غَلَبَ عَلَى ظَنِّهِ أَنَّ هُنَاكَ مَاءً لَمْ يَجُزْ لَهُ أَنْ يَتَيَمَّمَ حَتَّى يَطْلُبَهُ اور اگر یہ اس کے گمان پر یہ بات غالب ہوئی کہ وہاں پانی موجود ہے تو جائز نہیں اس کے لیے تیمم کرنا حَتَّى يَطْلُبَهُ یہاں تک کہ اس پانی کو طلب کر لے، لِأَنَّهُ وَاجِدٌ لِلْمَاءِ نَظَرًا إِلَى الدَّلِيلِ اس لیے کیونکہ یہ شخص پانی کو پانے والا ہے دلیل کی طرف نظر کرتے ہوئے۔ دلیل کیا ہے؟ اس کا غالب گمان ہے کہ پانی مل جائے گا، یہ دلیل ہے۔ تو دلیل کی طرف نظر کرتے ہوئے پانی کو پانے والا ہے تو لہٰذا اس کو پانی کو طلب کرنا چاہیے۔ ثُمَّ پھر کتنی مقدار تلاش کرے پانی کو بھئی؟ کہتے ہیں: ثُمَّ يَطْلُبُ مِقْدَارَ الْغَلْوَةِ وَلَا يَبْلُغُ مِيلًا كَيْ لَا يَنْقَطِعَ عَنْ رُفَقَائِهِ کہتے ہیں اور طلب کرے مِقْدَارَ الْغَلْوَةِ، غلوہ کہتے ہیں ایک تیر پھینکنے کی مقدار، کتنی مقدار؟ تیر پھینکنے کی، بھئی آپ کے پاس تیر کمان موجود ہیں اور آپ پوری قوت سے تیر پھینکیں جتنی دور تک پھینک سکتے ہیں، یہ ہے ایک غلوہ کی مقدار بھئی۔ زیادہ سے زیادہ جتنی دور تک تیر پھینکا جا سکے۔ اور اس کی مقدار لکھی ہے فقہاء نے تین سو سے لے کر چار سو ذراع تک۔ تین سو ذراع سے لے کر چار سو ذراع تک بھئی، یہ ہے غلوہ کی مقدار۔ اور یہ تین سو سے لے کر چار سو ذراع ہیں ذراع بھئی، یعنی شرعی گز، اور ذراع ہوتا ہے ڈیڑھ فٹ کا، اور آج کل جو گز رائج ہیں وہ انگریزی گز وہ تین فٹ کا یعنی دو شرعی گز کے برابر۔ تو تین سو سے لے کر چار سو شرعی گز، یہ کتنے انگریزی گز ہوئے؟ آدھا ہو جائے گا، ڈیڑھ سو سے لے کر دو سو تک، ڈیڑھ سو گز سے لے کر دو سو گز تک کے فاصلے تک اس پر پانی کا طلب کرنا ضروری ہے، اتنا کم از کم اتنا تو تلاش کرے بھئی ڈیڑھ دو سو گز بھئی، جنگل میں ہے بھئی تو یہ تو کوئی اتنا زیادہ فاصلہ نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ثُمَّ يَطْلُبُ مِقْدَارَ الْغَلْوَةِ پھر غلوہ کی مقدار جو ہے وہ طلب کرے پانی کو وَلَا يَبْلُغُ مِيلًا اور ایک میل تک نہ پہنچے، یعنی ایک میل فاصلے تک نہ پہنچے تلاش کرتے کرتے اتنی دور نہ جائے بھئی۔ كَيْ لَا يَنْقَطِعَ عَنْ رُفَقَائِهِ تاکہ کہیں منقطع نہ ہو جائے، جدا نہ ہو جائے عَنْ رُفَقَائِهِ اپنے ساتھیوں سے۔ جنگل ہے بھئی قدیم زمانے میں تو سفر بڑا مشکل تھا تو اگر اب یہ دور تلاش کرنے جائے گا تو ہو سکتا ہے پیچھے ساتھی ہیں یا قافلے والے ہیں وہ نکل جائیں اور پھر بعد میں یہ بڑی مشکل اور تکلیف میں پڑ جائے، تو میل تک نہ پہنچے لیکن کم از کم کتنا تلاش کر لے؟ ایک غلوہ کی مقدار تو تلاش کر لے بھئی۔ اور یہ بھی مسئلہ یاد رکھیے، اگرچہ ابا بلکہ آپ مجھے بتائیے مسئلہ، ایک آدمی ہے جنگل میں جا رہا ہے اور نماز کا وقت ہوا، اب یہ پانی اس کے پاس نہیں ہے، اس کا غالب گمان ہے کہ پانی یہاں قریب نہیں ملے گا چنانچہ اس نے تیمم کر کے نماز پڑھ لی، لیکن اس کے قریب ہی چند گز کے فاصلے پر جو درخت کھڑے تھے ان کے پیچھے اچھا خاصا پانی موجود تھا، یہ نماز پڑھ کر چلا اور چند قدم ہی گیا درختوں کے پیچھے دیکھا کافی سارا پانی موجود ہے۔ اب آپ بتائیے بھئی، نماز ہو گئی یا اس کا اعادہ کرے گا؟ جی؟ ہاں شاباش، نماز اس کی ہو گئی۔ جب پچھلے مسئلے میں آپ نے پڑھا جب خود رکھ کر بھول گیا تھا تو اس صورت میں اعادہ نہیں تھا یہاں تو اسے بالکل علم ہی نہیں ہے بھئی، تو عدمِ علم کی صورت میں عدمِ علم کو کیا شمار کیا جائے گا؟ عدمِ قدرت، کیونکہ علم ہوتا تو قدرت ہوتی پانی پر، تو لہٰذا قدرت نہیں تو اس کا تیمم صحیح اور نماز بھی صحیح، اعادے کی ضرورت نہیں بھئی۔ وَإِنْ كَانَ مَعَ رَفِيقِهِ مَاءٌ طَلَبَ مِنْهُ اور اگر اس کے ساتھی کے پاس پانی ہے طَلَبَ مِنْهُ تو اس سے طلب کرے گا قَبْلَ أَنْ يَتَيَمَّمَ قبل تیمم کرنے کے۔ بھئی سفر میں ہے، اس کے پاس تو پانی نہیں لیکن اس کے ساتھی کے پاس پانی موجود ہے تو اس سے طلب کرے تیمم کرنے سے پہلے، پانی اس سے مانگے۔ مانگے اگر وہ نہ دے تو پھر تیمم کر لے۔ لِعَدَمِ الْمَنْعِ غَالِبًا بوجہ نہ روکنے کے غالباً، اس لیے کیونکہ غالباً اور اکثر کیا ہے پانی کے استعمال سے کوئی کسی کو روکتا نہیں تو اس کو بھی کیا کرنا چاہیے اپنے ساتھی سے پانی کو مانگنا چاہیے تاکہ پانی سے پھر وضو کر لے۔ تو پانی کے اندر لِعَدَمِ الْمَنْعِ غَالِبًا بوجہ روکنے کے نہ ہونے کے غالباً۔ فَإِنْ مَنَعَهُ مِنْهُ يَتَيَمَّمُ اگر وہ اس کو روک دے مِنْهُ اس پانی سے يَتَيَمَّمُ تو کیا کر لے؟ پھر تیمم کر لے لِتَحَقُّقِ الْعَجْزِ عجز کے پائے جانے کی وجہ سے۔ وَلَوْ تَيَمَّمَ قَبْلَ الطَّلَبِ أَجْزَأَهُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللهُ اور اگر اس نے تیمم کر لیا طلب سے پہلے ہی، اس سے مانگا ہی نہیں پانی بلکہ اس سے پہلے ہی کیا کر لیا؟ تیمم کر لیا اور نماز پڑھ لی، أَجْزَأَهُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ تو یہ اس کے لیے کافی ہو جائے گا امام صاحب کے نزدیک۔ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں بغیر مانگے ہی اگر اس نے تیمم کر لیا تو اس کا تیمم کافی ہے، صحیح ہو جائے گا۔ لِأَنَّهُ، دلیل ان کی کہتے ہیں: لِأَنَّهُ لَا يَلْزَمُ الطَّلَبُ مِنْ مِلْكِ الْغَيْرِ اس لیے کیونکہ لازم نہیں ہے طلب کرنا غیر کی ملکیت سے، ایک چیز غیر کی ملکیت میں ہے تو اس سے طلب کرنا لازم نہیں ہے بھئی، وہ غیر کی چیز ہے۔ سمجھ میں آئی بھئی؟ اور جی اور کیونکہ سوال کے اندر، مانگنے کے اندر عزت نفس جو ہے انسان کی گوارا نہیں کرتی کہ غیر سے کوئی چیز مانگے بھئی۔ وَقَالَا لَا يُجْزِيهِ لِأَنَّ الْمَاءَ مَبْذُولٌ عَادَةً صاحبین فرماتے ہیں یہ جائز نہیں یہ اس کے لیے کافی نہیں، کیونکہ پانی جو ہے مَبْذُولٌ عَادَةً وہ عادۃً خرچ کیا جاتا ہے۔ بذل کے کیا معنی ہوتے ہیں؟ خرچ کرنے، بذل خرچ کرنا، یعنی پانی کوئی دوسرے سے مانگے تو پانی خرچ کر دیا جاتا ہے یعنی دے دیا جاتا ہے، تو لہٰذا اس پر طلب ضروری ہے، بغیر طلب کے اگر تیمم کرے گا تو تیمم صحیح نہیں ہے۔ تو صاحبین فرماتے ہیں: لَا يُجْزِيهِ یہ اس کے لیے کافی نہیں لِأَنَّ الْمَاءَ مَبْذُولٌ عَادَةً اس لیے کیونکہ پانی جو ہے وہ عادۃً خرچ کیا جاتا ہے یعنی دے دیا جاتا ہے، تو اس کے اوپر طلب ضروری۔ امام جصاص فرماتے ہیں کہ یہاں اختلاف ذکر ہوا متن کے اندر، لیکن کوئی اختلاف نہیں صاحبین اور امام صاحب میں۔ صاحبین تو فرما رہے ہیں طلب ضروری ہے، امام صاحب فرما رہے ہیں طلب ضروری نہیں۔ تو امام جصاص فرماتے ہیں نہیں کوئی اختلاف نہیں، یہاں غالب گمان کا اعتبار ہے۔ صاحبین کا قول مبنی ہے غالب گمان پر، اگر اس کا غالب گمان ہے تو پھر کیا کر لے؟ مانگ لے، اور امام صاحب کا قول مبنی ہے اس کے کہ جب غالب گمان نہیں ہے تو جب اس کا غالب گمان یہ ہے کہ پانی نہیں دے گا تو پھر امام صاحب کے نزدیک نہ مانگے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو غالب گمان میں مانگنا چاہیے اور غالب گمان ہے کہ نہیں دے گا تو پھر نہ مانگے بھئی۔ وَلَوْ أَبَى أَنْ يُعْطِيَهُ إِلَّا بِثَمَنِ الْمِثْلِ وَعِنْدَهُ ثَمَنُهُ لَا يُجْزِيهِ التَّيَمُّمُ اور اگر اس نے انکار کر دیا کہ اس کو وہ پانی دے، وَلَوْ أَبَى، أَبَى يَأْبَى کا معنی انکار کرنا، اور اگر اس نے ساتھی سے مانگا اور اس نے انکار کر دیا اس کو دینے سے إِلَّا بِثَمَنِ الْمِثْلِ مگر کس کے بدلے؟ ثمنِ مثل کے بدلے، ثمنِ مثل کے عوض میں، کہ پیسوں پر دوں گا تمہیں پانی، مفت نہیں دوں گا۔ وَعِنْدَهُ ثَمَنُهُ اور اس کے پاس اس کے ثمن موجود ہیں، اس کے پاس اتنے پیسے ہیں کیا کر سکتا ہے؟ اس سے پانی خرید سکتا ہے۔ لَا يُجْزِيهِ التَّيَمُّمُ تو اس شخص کے لیے تیمم جائز نہیں لِتَحَقُّقِ الْقُدْرَةِ بوجہ قدرت کے پائے جانے کے، کیونکہ پیسوں سے خرید سکتا ہے جب پیسوں سے خرید سکتا ہے تو یہ پانی کے استعمال پر کیا ہوا؟ قادر ہوا، قدرت ہے اس کو، اور جب قادر ہے تو پھر تیمم کی اجازت نہیں۔ وَلَا يَلْزَمُهُ تَحَمُّلُ الْغَبَنِ الْفَاحِشِ اور لازم نہیں ہے اس پر غبنِ فاحش کو برداشت کرنا۔ بھئی یاد رکھیے صورت یہ، اس نے ساتھی سے یا کسی کے پاس پانی تھا پانی طلب کیا اور اس نے کہا میں پیسوں کے پر دوں گا مفت نہیں دوں گا، تو پھر یا تو وہ اس کو ثمنِ مثل کے بدلے دے گا۔ ثمنِ مثل یعنی اس جیسے پانی کی جو قیمت ہونی چاہیے اس مقام پر، اس نے بھی وہی پیسے مانگے ہیں کوئی زیادہ نہیں مانگے۔ یہ ہے ثمنِ مثل۔ اور دوسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ تھوڑے سے زیادہ مانگ لے، مثلاً اتنا پانی پچاس کا تھا وہ اس سے ساٹھ روپے مانگ لیتا ہے تو تھوڑے سے زیادہ مانگ لیے اس نے۔ تیسری صورت کہ غبنِ فاحش کے ساتھ یعنی پچاس کا پانی ہے وہ پچھتر مانگ لیتا ہے یا سو روپیہ مانگ لیتا ہے تو یہ کیا ہے؟ غبنِ فاحش ہے۔ تو غبن کہتے ہیں اصل میں نقصان، نقصان بھئی۔ غبنِ فاحش کثیر نقصان بھئی، فاحش کا کیا معنی؟ کثیر، کثیر نقصان۔ تو اگر اس کو ثمن میں کثیر نقصان لازم آتا ہے تو پھر اس پر پانی کا خریدنا واجب نہیں۔ لِأَنَّ الضَّرَرَ مُسْقَطٌ اس لیے کیونکہ ضرر جو ہے اس کو ساقط کر دیا گیا ہے، مُسْقَطٌ اسم مفعول کا صیغہ ہے، اس لیے کیونکہ ضرر کو کیا کیا گیا ہے؟ ساقط کر دیا گیا ہے بھئی۔ شریعت کسی پر نقصان کو لازم نہیں کرتی بلکہ نقصان سے بچاتی ہے، تو یہاں پر بھی دیکھیے بھئی اب اگر وہ چیز وہ پانی اس کو غبنِ فاحش کے ساتھ دے رہا ہے تو اس صورت میں شریعت اجازت دیتی ہے کہ غبنِ فاحش کو برداشت کرنے کی ضرورت نہیں، تمہارا پیسوں کا نقصان ہو رہا ہے تم کیا کر سکتے ہو؟ تیمم کر سکتے ہو۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ اب غبنِ فاحش کہتے کس کو ہیں؟ کہتے کس کو ہیں؟ پتہ کیسے چلے گا ہمیں غبنِ فاحش ہے یا نہیں؟ کہتے ہیں تو مختلف تعریفیں کیں بھئی، مختلف۔ امام صاحب سے پوچھا گیا کہ غبنِ فاحش کسے کہتے ہیں؟ تو فرمانے لگے کہ مثلاً ایک درہم کی چیز کوئی تمہیں ڈیڑھ درہم کی دے تو یہ غبنِ فاحش ہے۔ یعنی ڈیڑھ گنا ثمن پہ دے تو یہ کیا ہے؟ غبنِ فاحش ہے۔ بعضوں نے کہا غبنِ فاحش جس میں دگنی قیمت پر دے، ایک چیز مثلاً پچاس کی ہونی چاہیے دوسرا آپ کو سو کی دے رہا ہے یہ کیا ہے؟ غبنِ فاحش ہے۔ بعضوں نے کہا غبنِ فاحش وہ ہے جو قیمت لگانے والوں کی میں سے کسی کی قیمت پہ نہ آتا ہو بھئی۔ بھئی آپ دیکھتے ہیں آپ کوئی چیز ہے مثلاً گاڑی فروخت کرنا چاہتے ہیں آپ بازار لے جاتے ہیں اور جو اس گاڑی کے کاروبار کرنے والے ہیں ان سے قیمت لگواتے ہیں، آپ جتنوں سے بھی قیمت لگوا لیں ہر ایک الگ الگ قیمت لگائے گا لیکن ان میں کوئی زیادہ فرق نہیں ہوگا، قریب قریب ہوں گی، مثلاً ایک نے اگر پانچ لاکھ لگائی ہے دوسرا کتنی؟ پونے پانچ، سوا پانچ، اس کے آس پاس قریب قریب قیمتیں لگائیں گے کیونکہ تاجروں کو اندازہ ہوتا ہے چیزوں کا تو ان کی قیمتیں قریب قریب ہوتی ہیں۔ تو یہ ہیں مقوِّمین، قیمت لگانے والے۔ کون ہیں؟ قیمت لگانے والے۔ تو جو قیمت لگانے والوں میں سے کسی کی قیمت پر نہ ہو، اس سے بڑھ کر ہو وہ ہے غبنِ فاحش۔ اسے کیا کہیں گے؟ غبنِ فاحش کہیں گے۔ مثلاً یہ پانی اس کی اگر قیمت لگوائی جائے کوئی کہے گا یہ پینتالیس کا ہونا چاہیے، کوئی کہے گا یہ سینتالیس کا ہونا چاہیے، کوئی کہے گا یہ باون کا ہونا چاہیے، کوئی کہے گا پچپن کا، کوئی پچاس کہے گا، یہ سارے قریب قریب ہیں۔ اور وہ اس سے بڑھ کر مانگ رہا ہے مثلاً ستر مانگ رہا ہے، بھئی یہ تو کسی قیمت لگانے والے کی قیمت اس کے کے مطابق نہیں ہے، اس کو کیا کہیں گے؟ غبنِ فاحش کہیں گے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَلَا يَلْزَمُهُ تَحَمُّلُ الْغَبَنِ الْفَاحِشِ، غَبَن با کے فتحہ اور با کے سکون دونوں طرح پڑھ سکتے ہیں، الْغَبَنُ الْفَاحِشُ اور الْغَبْنُ الْفَاحِشُ دونوں طرح۔ وَلَا يَلْزَمُهُ تَحَمُّلُ الْغَبَنِ الْفَاحِشِ اور اس لازم نہیں ہے اس شخص پر غبنِ فاحش کو برداشت کرنا لِأَنَّ الضَّرَرَ مُسْقَطٌ اس لیے کیونکہ ضرر جو ہے اس کو ساقط کر دیا گیا ہے۔ وَاللهُ أَعْلَمُ اور اللہ خوب جاننے والے ہیں، صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں کہ ہم نے تو اپنی طرف سے پوری کوشش کی ہے کہ مسائل جو ہیں ان کو آپ کے سامنے تمام شرعی قوانین، دلائل کو مدنظر رکھتے ہوئے لکھیں، لیکن پھر بھی انسان ہے اس سے غلطی ہو سکتی ہے، ہم نے مسائل لکھ دیے اور اللہ ہی خوب جاننے والے ہیں ہر چیز کو بھئی۔ بھئی تیمم کا باب مکمل ہوا اور آپ نے پڑھا کہ عذر کی حالت میں جب پانی کے استعمال پر انسان قادر نہ ہو تو وہ کیا کر سکتا ہے؟ تیمم کر سکتا ہے، تیمم کر سکتا ہے۔ لیکن یہاں ایک قیمتی بات یاد رکھنا کہ یاد رکھیے اگر یہ عذر جو ہے انسانوں کی طرف سے ہو، جس کی وجہ سے پانی انسان استعمال نہیں کر سکتا اور تیمم کر کے نماز پڑھنا پڑی، یہ عذر اگر کس کی طرف سے ہو؟ انسانوں کی طرف سے ہو، مثلاً ایک شخص جیل میں ہے اور جیل کے اندر اب جیل والے اس کو پانی نہیں دیتے تو اس کو تیمم کر کے نمازیں پڑھنا پڑیں تو یہ عذر کس کی طرف سے آیا؟ انسانوں کی طرف سے، انسانوں نے اس تک پانی نہیں پہنچنے دیا اس کو پانی نہیں دیا۔ تو اس صورت میں یاد رکھیے مسئلہ کہ یہ شخص تیمم کر کے نمازیں پڑھتا رہے لیکن یہ عذر انسانوں کی طرف سے آیا ہے لہٰذا بعد میں ان ساری نمازوں کی قضا کرنا پڑے گی۔ اس وقت تیمم کر کے پڑھتا رہے، بعد میں کیا کرے؟ جب پانی پر قادر ہو جائے تو پھر وضو کر کے ان ساری نمازوں کو لوٹانا پڑے گا۔ مسئلہ سمجھ میں آگیا بھئی؟ بَابُ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ یہ باب ہے موزوں پر مسح کے بیان میں۔ خفین بھئی وہ جو چمڑے کے موزے ہوتے ہیں پہنے جاتے ہیں ان کو خفین کہتے ہیں عربی میں، تثنیہ ہے بھئی خُفٌّ واحد ہے اس کا۔ بَابُ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ یہ باب ہے موزوں پر مسح کے بیان میں۔ الْمَسْحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ جَائِزٌ بِالسُّنَّةِ موزوں پر مسح جو ہے وہ جائز ہے بالسنة، کس سے؟ سنت سے بھئی، یعنی حدیث سے۔ حدیث سے اس کا ثبوت ہے، بہت سی احادیث ہیں اس سلسلے میں جن سے موزوں پر مسح کے جواز کا پتہ چلتا ہے کہ موزوں پر مسح کرنا جائز ہے۔ تو موزوں پر مسح کرنا جائز ہے سنت سے، یعنی کس دلیل کیا ہے؟ اس کا پتہ کس سے چلتا ہے؟ سنت یعنی احادیث سے پتہ چلتا ہے، قرآن میں اس کا ذکر نہیں بھئی۔ وَالْأَخْبَارُ فِيهِ مُسْتَفِيضَةٌ اور احادیث جو ہیں اس میں اس سلسلے میں مستفیضہ ہیں، شائع ہیں یعنی عام ہیں یعنی مشہور ہیں۔ احادیث کیا ہیں؟ مشہور ہیں جن سے موزوں پر مسح کے جواز کا پتہ چلتا ہے بھئی۔ بھئی متن میں لفظ آیا: بِالسُّنَّةِ، میں نے آپ کو بتلایا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال، افعال اور تقریرات کے چار نام ہیں: حدیث، اثر، خبر، سنت۔ حدیث کو اثر بھی کہتے ہیں، حدیث ہی کو سنت بھی کہتے ہیں، حدیث ہی کو خبر بھی کہتے ہیں، تو خبر، اثر، سنت، حدیث یہ چار نام ہیں حدیث کے بھئی۔ تو کہتے ہیں موزوں پر مسح کرنا جَائِزٌ بِالسُّنَّةِ کس سے ثابت ہے؟ سنت سے، حدیث سے جائز ہے یعنی اس سے ثابت ہے۔ وَالْأَخْبَارُ فِيهِ مُسْتَفِيضَةٌ یہ اخبار جمع ہے خبر کی اور خبر بھی نام ہے کس چیز کا؟ حدیث کا، اور احادیث اس کے اندر مستفیضہ ہیں، مشہور ہیں بھئی۔ حَتَّى قِيلَ إِنَّ مَنْ لَمْ يَرَهُ كَانَ مُبْتَدِعًا یہاں تک کہ کہا گیا ہے کہ بے شک وہ شخص جو اس کو نہیں اس کا یقین کرتا، یعنی اس کا اعتقاد نہیں رکھتا، موزوں پر مسح کے جواز کا جو شخص عقیدہ نہیں رکھتا كَانَ مُبْتَدِعًا تو وہ بدعتی ہے۔ اہلِ سنت والجماعت میں سے نہیں ہے بلکہ کس میں سے ہے؟ اہلِ بدعت میں سے ہے۔ حَتَّى قِيلَ إِنَّ مَنْ لَمْ يَرَهُ كَانَ مُبْتَدِعًا کہ وہ شخص جو ان کا عقیدہ نہیں رکھتا، جو لَمْ يَرَهُ جو ان کو دیکھتا نہیں، دیکھنے سے مراد رؤیتِ بصری آنکھوں سے دیکھنا مراد نہیں ہے بلکہ رؤیتِ قلبی مراد ہے، اور اس وہ رؤیت بمعنی علم کے ہوتی ہے یقین کے لیے آتی ہے، کس کے لیے؟ یقین کے لیے۔ جو ان کا یقین نہیں رکھتا یعنی جو ان کا اعتقاد نہیں رکھتا، یعنی جو اس کو جائز نہیں سمجھتا۔ تو کہا گیا: إِنَّ مَنْ لَمْ يَرَهُ كَانَ مُبْتَدِعًا جو ان کا جو اس کا اعتقاد نہیں رکھتا كَانَ مُبْتَدِعًا تو وہ بدعتی ہے۔ لَكِنَّ مَنْ رَآهُ ثُمَّ لَمْ يَمْسَحْ آخِذًا بِالْعَزِيمَةِ كَانَ مَأْجُورًا لیکن جو شخص اس کو ایک جو شخص اس کا رَآهُ اس کا اعتقاد رکھتا ہے یعنی اس کو جائز سمجھتا ہے ثُمَّ لَمْ يَمْسَحْ پھر وہ مسح نہیں کرتا آخِذًا بِالْعَزِيمَةِ عزیمت کو پکڑتے ہوئے، عزیمت پر عمل کرتے ہوئے كَانَ مَأْجُورًا تو وہ ماجور ہوگا یعنی اس کو اجر دیا جائے گا، وہ اس کو اجر ملے گا بھئی اللہ کی طرف سے۔ بھئی دیکھیے، جو شخص مسح علی الخفین کو جائز ہی نہیں سمجھتا وہ تو کس میں سے ہے؟ اہلِ سنت والجماعت میں سے ہے ہی نہیں بلکہ اہلِ بدعت میں سے ہے بھئی، اہلِ بدعت میں سے۔ کیونکہ اس کے اندر بڑی بہت زیادہ احادیث ہیں بھئی، بہت سے صحابہ سے اور بہت سی احادیث روایت ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ موزوں پر مسح جائز ہے بھئی، جائز ہے۔ لیکن جو شخص اس کو جائز سمجھتا ہے پھر مسح نہیں کرتا موزوں پر بلکہ عزیمت پر عمل کرتا ہے، عزیمت، جو اصل حکم ہے۔ بھئی ایک ہے عزیمت، ایک ہے رخصت بھئی، ایک ہے اصل حکم اور بعض اوقات ایک چیز کی رخصت مل جاتی ہے شریعت کی طرف سے، تو جو شخص عزیمت پر عمل کرتا ہے یعنی موزوں پر مسح کرنے کے بجائے پاؤں دھوتا ہے تو اس کو اجر ملے گا اللہ کی طرف سے کیونکہ موزوں پر مسح آسان کام تھا، رخصت تھی، اور جبکہ پاؤں کا دھونا وہ تو مشکل کام ہے بھئی، خصوصاً سردی کے اندر یہ آپ دیکھتے ہیں بھئی، تو وہ اس نے چونکہ پاؤں دھونے کی مشقت برداشت کی، مشکل راستے کا انتخاب کیا لہٰذا اس کو اللہ کی طرف سے اجر ملے گا بھئی۔ یہ معنی ہے اس کہنے کا کہ جو اس کو جائز تو سمجھتا ہے لیکن مسح نہیں کرتا عزیمت پر عمل کرتے ہوئے تو وہ ماجور ہوگا کہ اسے اجر ملے گا۔ تو جو انہوں نے کیا کہا؟ کہا گیا ہے کہ جو شخص اس کو جائز نہیں سمجھتا وہ اہلِ بدعت میں سے ہے، اہلِ بدعت میں سے۔ چنانچہ روایات میں آتا ہے بھئی کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ اہلِ سنت والجماعت کسے کہتے ہیں، کون ہیں اہلِ سنت والجماعت؟ تو حضرت امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرمانے لگے جو شیخین کو فضیلت دیتا ہو، ختنین سے محبت رکھتا ہو، اور مسح علی الخفین کو جائز سمجھتا ہو۔ وہ کس میں سے ہے؟ اہلِ سنت۔ اور شیخین کو جو فضیلت دیتا ہے یعنی حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما ان کو باقی صحابہ پر فضیلت دیتا ہے کہ باقی صحابہ سے ان کا درجہ بڑھ کر ہے، اور محبت رکھتا ہے ختنین سے یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جو دو داماد ہیں حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان سے محبت رکھتا ہے، اور موزوں پر مسح کو جائز سمجھتا ہے، یہ ہے اہلِ سنت والجماعت۔ تو امام صاحب نے یہ نشانی بیان فرمائی کس کی؟ اہلِ سنت والجماعت کی بھئی، اہلِ سنت۔ بھئی اہلِ سنت والجماعت یاد رکھیے بھئی، اہلِ سنت وہ لوگ جو سنت پر عمل کرتے ہیں، کس پر عمل کرتے ہیں؟ سنت پر، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بتلائے ہوئے، بھئی ہر چیز سنت ہے فرائض بھی کس میں ہیں؟ بھئی وہ سنتِ اصطلاحی نہیں کہہ رہا، سنت یعنی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرائض پر عمل کیا ہے یا نہیں کیا؟ تو یہ بھی سنت ہے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو وہ فرض کے مقابلے میں صرف سنت جو آئے وہاں یہ وہ مراد نہیں ہے بلکہ جس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمل کیا ہو، اور دین سارا نام ہی سنت کا ہے۔ دین نام ہی کس کا ہے؟ سنت کا ہے یعنی وہ حضور علیہ السلام کے افعال بھئی، اسی میں فرائض بھی آگئے، اسی میں سنتیں بھی آگئیں، اسی میں واجبات وغیرہ بھی آگئے، یہ سارے بھئی۔ تو سمجھ میں آئی بات؟ تو اہلِ سنت وہ ہیں جو سنت پر عمل کرتے ہیں، وَالْجَمَاعَةِ کتنی قیمتی قید ساتھ آ گئی۔ لیکن سنت پر اپنے طریقے سے عمل نہیں کرتے، اس طریقے سے وَالْجَمَاعَةِ جو صحابہ کی جماعت جس طرح عمل کرتی تھی اس طرح عمل کرتے ہیں بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی بھئی؟ صحابہ کی جماعت جس طرح عمل کر کرتی تھی۔ اگر صحابہ کے عمل کو نکال دیں تو پھر تو احادیث سے ان کا معنی ہر شخص اپنی فہم کے مطابق کوئی کچھ معنی کرے گا، کوئی کس طریقے سے عمل کرے گا اور کوئی کس طریقے سے عمل کرے گا۔ تو دین پر عمل ہو سنت پر عمل بھی ہو لیکن کس طریقے سے ہو؟ جس طرح صحابہ نے حضور علیہ السلام سے سیکھا اور آگے پہنچایا اسی طریقے سے عمل ہو بھئی، اسی طریقے سے عمل ہو۔ تو یہ ہے اہلِ سنت والجماعت بھئی، سنت پر عمل کرتے ہیں اور کس طریقے سے کرتے ہیں؟ صحابہ کے بتلائے ہوئے طریقے سے۔ اور یہ جو آپ ہدایہ میں پڑھ رہے ہیں بھئی، ہدایہ میں پڑھ رہے ہیں، یہ کوئی امام صاحب کے سارے کوئی اپنی طرف سے باتیں نہیں کر رہے، آپ دیکھ رہے ہیں امام صاحب، صاحبین وغیرہ کے اقوال صاحبِ ہدایہ ذکر کر رہے ہیں تو یہ وہ سارے یہ وہی طریقے ہیں جو کس سے منقول ہیں؟ صحابہ سے منقول ہیں، حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ وغیرہ کبار جلیل القدر صحابہ جو ہیں جیسا انہوں نے سمجھا اور بیان کیا اسی طرح امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے آگے اس کو بیان کیا بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو یہ دین کا وہی طریقہ ہے بھئی، وہی طریقہ۔ اب اگر کوئی شخص صرف احادیث پہ نظر کرتا ہے، معلوم ہوا اس نے صحابہ کے واسطے کو نکال دیا، احادیث کو بھی دیکھو، حدیث میں کیا آ رہا ہے اور پھر یہ بھی دیکھو صحابہ نے اس کا کیا معنی لیا تھا اور کس طرح صحابہ اور تابعین ان پر اس پر عمل کرتے تھے، انہوں نے کیا سمجھا تھا اس سے؟ تو اس کے مطابق اس پر پھر عمل کیا جائے گا بھئی۔ اپنی فہم میں جو بات آ جائے انسان اس طرح عمل کرنے لگے پھر تو کہیں پر بات کیسی بن جائے گی اور کہیں پر دین کی صورت ہی بدل جائے گی بھئی، بات سمجھ میں آگئی بھئی؟ کیونکہ ایک ہی بات کے بعض اوقات کئی معنی نکل آتے ہیں تو پھر مشکل میں انسان پڑ جائے گا بھئی۔ جی، چلیے بس کریں، بس بھئی: هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔ جی کوئی بات ایسی تو نہیں جو سمجھ میں نہیں آئی؟ جی؟ (طالب علم کا سوال): دیکھو وہ مسئلہ یہاں تو پانی بالکل سامنے اس کے گزرا ہے، وہاں اور سامنے ہونے کے باوجود اس کی نظر نہیں پڑی۔ سامنے ہو پھر تو انسان کی نظر پڑ جاتی ہے۔ تو کیوں نہیں نظر پڑی؟ اس کی اپنی کوتاہی تھی لہٰذا اس عذر کا کوئی اعتبار نہیں۔ دوسری طرف تو پانی اس کے سامنے ہے ہی نہیں، وہ تو رکاوٹ کے پیچھے ہے، اور اس کا بھی غالب گمان یہ ہے یہاں پانی نہیں ملے گا تو یہاں غالب گمان ہی جو ہے اس کو شریعت نے دلیل قرار دیا اور تو یہاں کوئی دلیل ہو نہیں سکتی، غالب گمان کو دیکھا جائے گا بھئی۔ ٹھیک ہے؟ تو اس کو کوتاہی نہیں کہیں گے، اس میں کیا کوتاہی ہے اس کی؟ موقع ہے، آدمی اس کے ذہن نہیں ہے یہاں پانی نہیں مل سکتا۔ (طالب علم کا سوال) جی؟ (طالب علم کا سوال) بھول گیا، بھول گیا مولانا، بھول گیا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اور حدیث میں کیا آیا ہے؟ رُفِعَ عَنْ أُمَّتِي الْخَطَأُ وَالنِّسْيَانُ، یہ اس امت کا خاصہ ہے نسیان وغیرہ کو اٹھا دیا گیا، اس سے جو غلطی ہو وہ معاف ہے، یہاں وہ بھول گیا اور بھولنے میں بالکل علم ہی نہیں ہوتا انسان کے ذہن۔ ہاں اگر وہ صرف اگر وہ صرف اس کا غالب گمان ہے کہ کجاوے میں پانی نہیں ہے اور اس نے نماز پڑھ لی تو پھر بالاتفاق اس کو اعادہ کرنا پڑے گا بھئی۔ بھئی غالب گمان غالب گمان نہیں، مطلب اتنی غالب گمان ہے کجاوے میں نہیں ہے، یہ خیال ہے اور پھر کجاوے میں دیکھا ہی نہیں، نہیں بھئی اتنی یہاں غالب گمان کو نہیں دیکھا جائے گا بلکہ بھول اسی لیے بھولنے کو ذکر کیا متن کے اندر کہ وہ بالکل بھول گیا اسے یاد ہی نہیں ہے، تو اب لہٰذا عدمِ علم ہے اور عدمِ علم ہے تو عدمِ قدرت ہے اور عدمِ قدرت ہے تو وہ عاجز ہوا اور عاجز ہوا تو وہ کیا کر سکتا ہے؟ تیمم کر سکتا ہے بھئی۔ اور دوسری طرف صرف اس کا گمان غالب ہے کہ نہیں ہوگا پانی کجاوے میں، یہاں گمان کا کوئی اعتبار نہیں ہے بھئی، کجاوہ کوئی پاس ہے کوئی دور نہیں جانا پڑے گا، اتنی بھی تکلیف نہیں کرتا غالب گمان پر ہی عمل کر لیتا ہے کہ کجاوے میں پانی شاید نہیں ہے۔ تو بھولنا اور چیز، غالب گمان اور چیز ہے بھئی۔ (طالب علم کا سوال): جی؟ چاروں طرف، بس جس طرف بھی اس کا اندازہ ہے اس طرف کو تلاش کر لے کہ کس طرف مل سکتا ہے اس طرح۔ سمجھ میں آیا؟ غالب گمان کا یہاں اعتبار نہیں ہے، کیونکہ غالب مثلاً غالب گمان کس کو کہتے ہیں؟ ایک خیال ہے کہ کجاوے میں پانی ہے، دوسرا خیال ہے کہ کجاوے میں پانی نہیں لیکن یہ غالب گمان ہے۔ لیکن دوسرا خیال بھی کچھ ہے یا نہیں؟ وہ تھوڑا سا تو ہے، چاہے معمولی سا ہی ہے لیکن ہے تو۔ لہٰذا یہاں اس کو اس کا اعتبار نہیں کیا جائے گا۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ جی چلیے بس بھئی۔